Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 5

Book of Exegesis

Hadith 10964–11003

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10964

Majma al-Zawaid #10964

وَفِي رِوَايَةٍ: لَيَكْسِرُ النَّاقَةَ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

In another narration the weight nearly broke the camel. Asma رضي الله عنها reported the descent of the full surah upon the Prophet ﷺ with such heaviness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اونٹنی ( کی ہڈیاں ) ٹوٹ جاتیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10965

Majma al-Zawaid #10965

وَعَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «نَزَلَتِ {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: 3] يَوْمَ عَرَفَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه said {This day I have perfected for you your religion and completed My favor upon you and approved Islam for you as religion} [Al-Maidah: 3] descended on the day of Arafah while the Messenger ﷺ stood at Arafah on a Friday.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی : ’’ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہو گیا ‘‘۔ ( حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ اس وقت عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے اور یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ بن وجیہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10966

Majma al-Zawaid #10966

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} [المائدة: 3] حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف: 110]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Qays heard Muawiyah ibn Abi Sufyan رضي الله عنه on the pulpit take up {This day I have perfected for you your religion} [Al-Maidah: 3] to its end, stating it descended on Arafah on Friday, then reciting {Whoever hopes for meeting his Lord let him do righteous deeds and associate none in worship of his Lord} [Al-Kahf: 110].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن قیس بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر سنا : انہوں نے اس آیت کو الگ کیا ’’ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ‘‘۔ انہوں نے یہ آیت مکمل تلاوت کی اور پھر یہ بات بیان کی : یہ آیت عرفہ کے دن ‘ جو جمعہ کا دن تھا ‘ نازل ہوئی پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ تو جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری کی توقع رکھتا ہو اسے نیک عمل کرنے چاہیں ‘ اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10967

Majma al-Zawaid #10967

عَنْ قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ} [النساء: 43] فَرَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا وَهُوَ جُنُبٌ لَا يَجِدُ الْمَاءَ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيُصَلِّيَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: "" إِنَّمَا الْخَمْرُ "" وَهُوَ مُرْسَلٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qatadah رضي الله عنه said it reached them that when {nor in janabah except passers through} [An-Nisa: 43] descended, the Prophet of Allah ﷺ licensed the traveler in janabah finding no water to perform tayammum and pray.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور نہ جنبی کے لئے البتہ راستے سے گزرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے مسافر کو اس بات کی رخصت دی کہ جب وہ شخص مسافر ہو اور جنابت کی حالت میں ہو اور اسے پانی نہیں ملتا تو وہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جو آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ضمن میں آئے گی : ’’ بے شک شراب ‘‘ یہ روایت مرسل ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10968

Majma al-Zawaid #10968

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي قَوْلِهِ: {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} [المائدة: 7] يَعْنِي حِينَ بَعَثَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ قَالُوا: آمَنَّا بِالنَّبِيِّ وَبِالْكِتَابِ وَأَقْرَرْنَا بِمَا فِي التَّوْرَاةِ، فَذَكَّرَهُمُ اللَّهُ مِيثَاقَهُ الَّذِي أَقَرُّوا بِهِ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْوَفَاءِ بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {Remember Allah's favor upon you and His covenant which He bound you with when you said: We hear and obey} [Al-Maidah: 7] that it refers to when Allah sent the Prophet ﷺ and revealed the Book, they said we believe in the Prophet and the Book and affirm the Torah, so Allah reminded them of their covenant to fulfill it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اور اس کے اس میثاق کو یاد کرو جو اس نے تمہارے ساتھ طے کیا تھا جب تم نے یہ کہا تھا کہ ہم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ‘ تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک اللہ تعالیٰ سینوں میں موجود چیزوں کا علم رکھنے والا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کیا ‘ اور آپ پر کتاب نازل کی تو ان لوگوں نے کہا : ہم نبی پر اور کتاب پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور اس چیز کا بھی اقرار کرتے ہیں جو تورات میں ذکر ہوئی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ان کا وہ میثاق یاد کروایا ہے جس کا انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے اقرار کیا تھا اور یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کو پورا کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10969

Majma al-Zawaid #10969

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" قُومُوا فَقَاتِلُوا ""، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24] وَلَكِنِ انْطَلِقْ أَنْتَ وَرَبُّكَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّا مَعَكُمْ نُقَاتِلُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ بِالْقِتَالِ، فَرَمَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوْجَبَ هَذَا "" وَقَالُوا حِينَ أَمَرَهُمْ بِالْقِتَالِ»، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd al-Sulami رضي الله عنه reported the Prophet ﷺ told his Companions to rise and fight. They answered yes, O Messenger of Allah, not saying as Banu Israil said to Musa {Go you and your Lord and fight, we sit here} [Al-Maidah: 24], but proceed you and your Lord, O Muhammad, we fight with you. > **"Rise and fight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو اور جنگ کرو تو ان لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا : ’’ تم اور تمہارا پروردگار جاؤ اور تم دونوں لڑائی کرو بے شک ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ‘‘۔ بلکہ اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ بھی تشریف لے چلیں اور آپ کا پروردگار بھی ( حامی و ناصر ہو ) ہم آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو لڑائی کا حکم دیا تو آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے تیر پھینکا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے واجب کر لی ہے جب آپ نے ان لوگوں کو جنگ کا حکم دیا تو ان لوگوں نے یہ کہا ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔

10970

Majma al-Zawaid #10970

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَشْقَى النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: عَاقِرُ نَاقَةِ ثَمُودَ، وَابْنُ آدَمَ الَّذِي قَتَلَ أَخَاهُ، مَا سُفِكَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمٍ إِلَّا لَحِقَهُ مِنْهُ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ». قُلْتُ: سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ الثَّالِثُ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ قَاتِلُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported the Prophet ﷺ said the most wretched of men are three: the hamstringer of Thamud's she-camel, the son of Adam who killed his brother with every blood shed on earth attaching to him as first institutor of killing, and the third lost from the original, apparently the killer of Ali رضي الله عنه. > **"The most wretched of men are three: the hamstringer of Thamud's she-camel, and the son of Adam who killed his brother — no blood is shed on earth except some of it attaches to him, for he was first to institute killing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’ انسانوں میں سب سے زیادہ بد نصیب تین لوگ ہیں قوم ثمود کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص حضرت آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا جس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تھا ‘ کیونکہ روئے زمین پر جو بھی خون بہایا جائے گا اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کے طریقے کا آغاز کیا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ اصل ‘‘ میں تیسری بات ساقط ہے ‘ اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ تیسرا فرد حضرت علی رضی اللہ کا قاتل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

10971

Majma al-Zawaid #10971

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا} [المائدة: 33] قَالَ: كَانَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهْدٌ وَمِيثَاقٌ، فَنَقَضُوا الْعَهْدَ وَأَفْسَدُوا فِي الْأَرْضِ، فَخَيَّرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُقَتِّلَ وَإِنْ شَاءَ صَلَّبَ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُقَطِّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ، وَأَمَّا النَّفْيُ فَهُوَ الْهَرَبُ فِي الْأَرْضِ، فَإِنْ جَاءَ تَائِبًا فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ قُبِلَ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْخَذْ بِمَا سَلَفَ مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ ابْنَ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger and strive in the land in corruption} [Al-Maidah: 33] that some People of the Book bound by covenant broke it and spread corruption, so Allah gave His Prophet ﷺ choice to kill, crucify, or cut hands and feet oppositely, while banishment is flight in the land, and whoever comes repentant entering Islam is accepted without reckoning for the past.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں ‘ اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بدلہ یہ ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان عہد اور میثاق تھا ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور زمین میں فساد شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان لوگوں کے بارے میں اختیار دیا کہ اگر وہ نبی چاہیں تو انہیں قتل کر دیں اگر چاہیں تو انہیں مصلوب کر دیں اگر چاہیں تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت کٹوا دیں جہاں تک نفی کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد جلا وطن کرنا ہے اگر کوئی شخص توبہ کرتے ہوئے آ جاتا ہے ‘ اور اسلام میں داخل ہو جاتا ہے ‘ تو اس سے یہ چیز قبول کی جائے گی اور اس نے پہلے جو غلطی کی تھی اس حوالے سے اس کا مواخذہ نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علی بن ابوطلحہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10972

Majma al-Zawaid #10972

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: مَا كَانَ فِي الْقُرْآنِ [قَتَّلَ] بِالتَّشْدِيدِ فَهُوَ عَذَابٌ، وَمَا كَانَ قِيلَ بِالتَّخْفِيفِ فَهُوَ رَحْمَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said whatever in the Quran uses the intensified form of killing denotes punishment, and whatever uses the lightened form denotes mercy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قرآن میں جہاں پر بھی لفظ قتل تشدید کے ساتھ ہو ‘ تو اس سے مراد عذاب دینا ہو گا اور جہاں بھی تخفیف کے ساتھ ہو اس سے مراد رحمت ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن ابراہیم مروزی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

10973

Majma al-Zawaid #10973

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ: {إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا} [المائدة: 41] هُمُ الْيَهُودُ، وَزَنَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ، وَقَدْ كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حَكَمَ فِي التَّوْرَاةِ فِي الزِّنَا الرَّجْمَ، فَنَفِسُوا أَنْ يَرْجُمُوهَا [وَقَالُوا: انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمِّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ رُخْصَةٌ، فَاقْبَلُوهَا، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ امْرَأَةً مِنَّا زَنَتْ فَمَا تَقُولُ فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ حُكْمُ اللَّهِ فِي الزَّانِي فِي التَّوْرَاةِ؟ "". فَقَالُوا: دَعْنَا مِنَ التَّوْرَاةِ، فَمَا عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: "" ائْتُونِي بِأَعْلَمِكُمْ بِالتَّوْرَاةِ الَّتِي أُنْزِلَتْ عَلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". فَقَالَ لَهُمْ: "" بِالَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ وَبِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ فَأَنْجَاكُمْ وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ إِلَّا أَخْبَرْتُمُونِي مَا حُكْمُ اللَّهِ فِي التَّوْرَاةِ فِي الزَّانِي؟ ""، فَقَالُوا: حُكْمُ اللَّهِ الرَّجْمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {If you are given this take it, if not beware} [Al-Maidah: 41] that it concerns the Jews when a woman among them committed adultery though the Torah ruled stoning. They begrudged stoning her, hoping for license from Muhammad ﷺ. Asked by them, the Prophet ﷺ asked their Torah's ruling, then summoned their most learned in Musa's Torah, adjuring by Him Who saved them from Pharaoh and parted the sea, until they confessed the ruling is stoning. > **"How is Allah's ruling in the Torah concerning the adulterer?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ( ان لوگوں نے کہا : ) اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو اس کو حاصل کر لینا اور اگر تمہیں نہ دیا جائے تو تم بچ جانا ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ) اس سے مراد یہودی ہیں ان میں سے ایک عورت نے زنا کیا تھا اللہ تعالیٰ نے تورات میں زنا کے بارے میں سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے ‘ تو ان لوگوں نے اس عورت کو سنگسار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ‘ اور یہ کہا : تم لوگ حضرت محمد ( ﷺ ) کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے ان کے پاس کوئی رخصت موجود ہو اگر ہوئی تو تم اس کو قبول کر لینا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے ابوالقاسم ! ہم میں سے ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تورات میں زنا کرنے والے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : آپ تورات کو رہنے دیں آپ یہ بتائیں کہ آپ کے پاس کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے پاس ایسے شخص کو لے کر آؤ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی تورات کا تم میں سے سب سے زیادہ علم رکھتا ہو پھر نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے تم لوگوں کو آل فرعون سے نجات عطا کی تھی اور اس ذات کی قسم جس نے سمندر کو چیر دیا تھا اور تمہیں نجات عطا کی تھی اور فرعون کے ماننے والوں کو ڈبو دیا تھا تم مجھے بتاؤ کہ زنا کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہے ؟ تو ان لوگوں نے کہا : اللہ کا حکم تو سنگسار کرنے کا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور علی بن ابوطلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10974

Majma al-Zawaid #10974

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ السُّحْتِ قَالَ: الرِّشَا. قِيلَ: فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ: ذَاكَ الْكُفْرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ شَرِيكٍ عَنِ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي الضُّحَى. وَالسَّرِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, asked about suht said it is bribery. Asked if in judgment, he said that is disbelief.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے لفظ ’’ سحت ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : رشوت لینا ان سے دریافت کیا گیا عدالتی فیصلہ کرتے ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ تو کفر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے شریک کی سری کے حوالے سے ابوضحی سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور سری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10975

Majma al-Zawaid #10975

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْزَلَ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44]، وَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ، وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ. قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْزَلَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتِ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى ارْتَضَوْا وَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الْعَزِيزَةُ فِدْيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ فِدْيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ. فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَظْهَرْ، وَلَمْ يُوَطِّئْهُمَا عَلَيْهِ، وَهُمْ فِي الصُّلْحِ، فَقَتَلَتِ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا، فَأَرْسَلَتِ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنِ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ. فَقَالَتِ الذَّلِيلَةُ: وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي خَيْرٍ قَطُّ؟ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ، فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ، فَكَادَتِ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا، فَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهُمْ، ثُمَّ ذَكَرَتِ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضَعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ، وَلَقَدْ صَدَقُوا بِمَا أَعْطَوْنَا هَذَا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبَرُ لَكُمْ رَأْيَهُ، إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ. فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبَرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ} [المائدة: 41] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]، ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا: "" وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ، وَإِيَّاهُمْ عَنَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Allah revealed {Whoever does not judge by what Allah revealed, those are the disbelievers} with the wrongdoers and defiantly disobedient, concerning two Jewish factions, one dominant in Jahiliyyah imposing fifty wasqs for its slain and a hundred for the humbled clan's slain. After the Prophet's ﷺ arrival at Madinah and renewed killing, the humbled refused inequality, war nearly erupted, they agreed to arbitrate the Messenger ﷺ while secretly sending hypocrites to test his view, whereupon Allah revealed {O Messenger, let not those grieve you who hasten to disbelief} [Al-Maidah: 41] to {the defiantly disobedient} [Al-Maidah: 47], specifically about them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے ہیں تو یہی لوگ کافر ہیں ‘‘۔ ( اور پھر فرمایا : ) ’’ یہی لوگ ظالم ہیں ‘‘۔ ( اور پھر فرمایا : ) ” یہی لوگ فاسق ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل کی تھیں زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر غالب آ گیا پھر ان کے درمیان آپس میں یہ طے ہوا اور اس بات پر صلح ہوئی کہ غالب گروہ جس مقتول کو قتل کرے گا ‘ تو اس کی دیت پچاس وسق ہو گی اور مغلوب گروہ جس مقتول کو قتل کرے گا اس کی دیت ایک سو وسق ہو گی وہ لوگ اسی چیز پر کار بند رہے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے ‘ تو دونوں گروہ نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری پر اسی صورت حال پر تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ابھی ریاستی طور پر غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا وہ لوگ صلح کا وقت گزار رہے تھے اس دوران کمتر گروہ کے ایک شخص نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو غالب گروہ نے کمتر گروہ کو یہ پیغام بھیجا کہ تم ایک سو وسق ہماری طرف بھیجوا دو تو کمزور گروہ نے کہا : کیا اس میں کبھی کوئی بھلائی ہو سکتی ہے جبکہ دونوں طرف کے لوگوں کا دین ایک ہے دونوں کا نسب ایک ہے دونوں کا شہر ایک ہے ‘ تو ان میں سے کسی ایک کی دیت دوسرے کی دیت کا نصف ہو گی ہم نے تو تمہیں یہ چیز اس لئے دی تھی کیونکہ ہم تم سے بچنا چاہ رہے تھے اور تم سے خوف زدہ تھے اور جب حضرت محمد ( ﷺ ) تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ ادائیگی نہیں کریں گے ان گروہوں کے درمیان جنگ بھڑکنے والی تھی کہ ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ اپنے درمیان نبی اکرم ﷺ کو ثالث بنا لیتے ہیں پھر غالب گروہ نے یہ بات ذکر کی اور کہا : اللہ کی قسم ! حضرت محمد ( ﷺ ) تمہاری طرف سے جو انہیں دیتے ہیں اس کا دُگنا ان لوگوں کی طرف سے تمہیں نہیں دیں گے اور ان لوگوں نے یہ بات ٹھیک بیان کی ہے کہ انہوں نے ہمارے غلبے اور خوف کی وجہ سے ایسا کیا تھا ‘ تو تمہیں ۔ حضرت محمد ( ﷺ ) کی طرف کسی شخص کو بھجوانا چاہیے جو تمہیں اس بارے میں بتائے کہ ان کی کیا رائے ہے اگر تو وہ وہی فیصلہ دیں گے جو تم چاہتے ہو ‘ تو تم انہیں ثالث بنا لینا اور اگر وہ تمہیں وہ فیصلہ نہیں دیں گے ‘ تو تم اس چیز سے بچ جانا تم انہیں ثالث نہ بنانا ان لوگوں نے کچھ منافقین کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ وہ منافقین ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کی رائے کے بارے میں بتائیں جب وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان لوگوں کے پورے معاملے کے بارے میں اور ان کے ارادے کے بارے میں بتا دیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے رسول ! وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کریں یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے یہ کہا : ہم ایمان لائے انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے یہ بات کہی ‘‘۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے : ’’ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا تو یہی لوگ فاسق ہیں ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم ! حکم نازل ہو گیا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے یہی لوگ مراد لئے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10976

Majma al-Zawaid #10976

عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} [المائدة: 54] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُمْ قَوْمُ هَذَا "". يَعْنِي أَبَا مُوسَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Iyad al-Ashari رضي الله عنه said when {Allah will bring a people He loves and who love Him} [Al-Maidah: 54] descended, the Messenger ﷺ said they are the people of this man, meaning Abu Musa. > **"They are the people of this man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عیاض اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : تو عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت رکھتا ہو گا اور وہ لوگ اس سے محبت رکھتے ہوں گے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ اس کی قوم کے ہیں نبی اکرم ﷺ کی مراد حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10977

Majma al-Zawaid #10977

وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} [المائدة: 54] قَالَ: "" هُمْ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ مِنَ الْيَمَنِ، ثُمَّ مِنْ كِنْدَةَ، ثُمَّ مِنَ السَّكُونِ، ثُمَّ مِنَ التَّجِيبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه said the Messenger ﷺ was asked about {Allah will bring a people He loves and who love Him} [Al-Maidah: 54] and said they are these, a people from Yemen, then from Kindah, then from al-Sakun, then from al-Tajib. > **"They are these, a people from Yemen, then from Kindah, then from al-Sakun, then from al-Tajib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا کہ وہ جو ان سے محبت رکھتا ہو گا ‘ اور وہ لوگ اس سے محبت رکھتے ہوں گے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ یمن سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو کندہ سے تعلق رکھتے ہوں گے سکون سے تعلق رکھتے ہوں گے اور تجیب سے تعلق رکھتے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

10978

Majma al-Zawaid #10978

عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «وَقَفَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَائِلٌ، وَهُوَ رَاكِعٌ فِي تَطَوُّعٍ، فَنَزَعَ خَاتَمَهُ فَأَعْطَاهُ السَّائِلَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلَمَهُ بِذَلِكَ، فَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ} [المائدة: 55] فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ammar ibn Yasir رضي الله عنه said a beggar stood over Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه bowing in voluntary prayer, who removed his ring and gave it. When the Messenger ﷺ was informed, {Your ally is only Allah and His Messenger and those who believe, who establish prayer and give zakah while bowing} [Al-Maidah: 55] descended. He recited it then declared allegiance to Ali with supplication for his allies and against his enemies. > **"Whoever I am his master, Ali is his master. O Allah, ally whoever allies him and oppose whoever opposes him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سائل حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑا ہوا اور وہ اس وقت نفل ادا کر رہے تھے اور رکوع کی حالت میں تھے انہوں نے اپنی انگوٹھی اتاری اور اس سائل کو دے دی وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک تمہارا ولی ‘ اللہ تعالیٰ ہے ‘ اور اس کا رسول ہے بے شک وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ اور زکوۃ ادا کرتے ہیں جبکہ وہ رکوع کی حالت میں ہوتے ہیں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میں جس کا محبوب ہوں علی بھی اس کا محبوب ہے اے اللہ ! تو اس سے محبت رکھنا جو اس سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھنا جو اس سے دشمنی رکھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10979

Majma al-Zawaid #10979

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ النَّبَّاشُ بْنُ قَيْسٍ: إِنَّ رَبَّكَ بَخِيلٌ لَا يُنْفِقُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ {وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ} [المائدة: 64]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said a Jew called al-Nabbash ibn Qays said your Lord is miserly not spending, so Allah revealed {The Jews said: Allah's hand is chained. Chained are their hands and cursed for what they said. Rather His two hands are outstretched, He spends as He wills} [Al-Maidah: 64].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام نباش بن قیس تھا اس نے یہ کہا : تمہارا پروردگار بخیل ہے وہ خرچ نہیں کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ یہودی یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ان ( یہودیوں ) کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ اور انہوں نے جو بات کہی ہے اس کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے بلکہ اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں ‘ اور وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10980

Majma al-Zawaid #10980

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «كَانَ عَبَّاسٌ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَنْ يَحْرُسُهُ، فَلَمَّا نَزَلَتْ {وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} {وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [المائدة: 67] تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَرَسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه said Abbas, uncle of the Messenger ﷺ, was among his guards until {And Allah will protect you from the people} [Al-Maidah: 67] descended, whereupon the Messenger ﷺ abandoned the guard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے چچا ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کیا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور اللہ تعالیٰ تمہیں لوگوں سے بچا کے رکھے گا ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس حفاظت کو ترک کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10981

Majma al-Zawaid #10981

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحْرَسُ، وَكَانَ يُرْسِلُ مَعَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ كُلَّ يَوْمٍ رِجَالًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ [يَحْرُسُونَهُ] حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} [المائدة: 67]. فَأَرَادَ عَمُّهُ أَنْ يُرْسِلَ مَعَهُ مَنْ يَحْرُسُهُ فَقَالَ: "" يَا عَمِّ إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَصَمَنِي مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said the Prophet ﷺ was guarded, his uncle Abu Talib sending Hashimite men daily until {O Messenger, convey what was revealed to you from your Lord... and Allah will protect you from the people} [Al-Maidah: 67] descended. When his uncle would send guards he said Allah had protected him from jinn and men. > **"O uncle, Allah has protected me from jinn and men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کی جاتی تھی آپ کے چچا جناب ابوطالب آپ کے ساتھ روزانہ بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو بھیجتے تھے جو آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اے رسول ! اس چیز کی تبلیغ کر دو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تم نے اس کی رسالت کی تبلیغ نہیں کی اللہ تعالیٰ تمہیں لوگوں سے بچا کے رکھے گا ‘‘۔ اس کے بعد آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ حفاظتی لوگوں کو بھیجنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے چچا اللہ تعالیٰ نے مجھے جنات اور انسانوں سے محفوظ رکھ کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبدالرحمن ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10982

Majma al-Zawaid #10982

عَنْ سَلْمَانَ «وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا} [المائدة: 82]) قَالَ: الرُّهْبَانُ الَّذِينَ فِي الصَّوَامِعِ. قَالَ سَلْمَانُ: نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا} [المائدة: 82]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَنُصَيْرُ بْنُ زِيَادٍ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه asked about {That is because among them are priests and monks} [Al-Maidah: 82] said the monks are those in cells, and that this verse descended upon the Messenger ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اس کی وجہ یہ ہے ‘ ان میں علماء بھی ہیں ‘ اور راہب بھی ہیں ‘‘۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : راہبوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو گرجا گھروں میں ( عبادت گزار لوگ ) ہوتے ہیں ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اس کی وجہ یہ ہے ‘ ان لوگوں میں علماء بھی ہیں ‘ اور راہب بھی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ حمانی ہے ‘ اور ایک راوی نصیر بن زیاد ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

10983

Majma al-Zawaid #10983

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي «قَوْلِهِ: {وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ} [المائدة: 83] قَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا نَوَّاتِينَ - يَعْنِي مَلَّاحِينَ - قَدِمُوا مَعَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا قَرَأَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ آمَنُوا وَفَاضَتْ أَعْيُنُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَعَلَّكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَى أَرْضِكُمُ انْتَقَلْتُمْ عَنْ دِينِكُمْ ""، قَالُوا: لَنْ نَنْقَلِبَ عَنْ دِينِنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ فِي قَوْلِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ بِنَحْوِهِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ، وَفِي مَنَاقِبِ النَّجَاشِيِّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {When they hear what was revealed to the Messenger you see their eyes overflow with tears} [Al-Maidah: 83] they were sailors arriving with Jafar ibn Abi Talib from Abyssinia. When the Messenger ﷺ recited Quran they believed and wept. He asked if returning home they might abandon religion, they swore never to turn back, so Allah revealed this about their saying. > **"Perhaps when you return to your land you will turn away from your religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب انہوں نے وہ چیز سنی جو رسول کی طرف نازل کی گئی ہے ‘ تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ ان سے آنسو جاری ہو گئے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس سے مراد وہ ملاح لوگ ہیں جو حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حبشہ سے آئے تھے جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی تو وہ لوگ ایمان لے آئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہو سکتا ہے کہ جب تم اپنی سرزمین کی طرف واپس جاؤ تو تم اپنے دین کو چھوڑ دو تو ان لوگوں نے کہا : ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑیں گے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے قول کے بارے میں یہ آیت نازل کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ہیں اس کی مانند حدیث غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ‘ اور نجاشی سے متعلق باب میں بھی آئے گی ۔

10984

Majma al-Zawaid #10984

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} [المائدة: 83]) قَالَ: مَعَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتِهِ، فَإِنَّهُمْ شَهِدُوا لَهُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَشَهِدَ لِلرُّسُلِ أَنَّهُمْ قَدْ بَلَّغُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {Our Lord, we believe, so record us with the witnesses} [Al-Maidah: 83] that it means with Muhammad ﷺ and his nation, who bore witness he conveyed and he bore witness the messengers conveyed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ( انہوں نے کہا : ) اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں تو ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ نوٹ فرما لے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں : یہاں گواہی دینے والوں سے مراد یہ ہے : حضرت محمد ( ﷺ ) اور ان کی امت کے ساتھ نوٹ فرما لے کیونکہ ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ گواہی دی کہ آپ نے تبلیغ کر دی ہے ‘ اور انہوں نے رسولوں کے بارے میں یہ گواہی دی کہ انہوں نے تبلیغ کر دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10985

Majma al-Zawaid #10985

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فِي قَبِيلَتَيْنِ مِنْ قَبَائِلِ الْأَنْصَارِ شَرِبُوا حَتَّى إِذَا ثَمِلُوا، عَبَثَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ، فَلَمَّا صَحَوْا جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى الْأَثَرَ بِوَجْهِهِ وَبِرَأْسِهِ وَبِلِحْيَتِهِ يَقُولُ: فَعَلَ هَذَا أَخِي فُلَانٌ، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ بِي رَؤُوفًا رَحِيمًا مَا فَعَلَ هَذَا بِي. وَقَالَ: كَانُوا إِخْوَةً لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ضَغَائِنُ، فَوَقَعَتْ فِي قُلُوبِهِمُ الضَّغَائِنُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: 90 - 91]. فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ: هِيَ رِجْسٌ، وَهِيَ فِي بَطْنِ فُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَفُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى -: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: 93]- الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَشْرِبَةِ نَحْوُ هَذَا فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said wine prohibition descended concerning two Ansari clans who drank till drunk and jested harmfully, awaking with marks on face, head and beard accusing brothers though brotherly without malice, then malice entered hearts. So Allah revealed {Wine, gambling, idols and divining arrows are filth of Satan's work, avoid them... will you desist} [Al-Maidah: 90-91]. When objectors cited martyrs of Badr and Uhud with it in their bellies, Allah revealed {No blame upon those who believe and do good for what they tasted} [Al-Maidah: 93].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : شراب کی حرمت کا حکم انصار کے قبائل میں سے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوا انہوں نے شراب پی جب وہ نشے میں دھت ہو گئے تو ایک دوسرے کے ساتھ فضول حرکتیں کرنے لگے جب انہیں ہوش آیا ‘ تو ایک شخص نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر اور سر پر اور داڑھی پر نشان موجود ہیں تو اس نے کہا : میرے فلاں بھائی نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے بارے میں مہربان اور رحم کرنے والا ہوتا تو وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : وہ آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے دلوں میں کوئی دشمنی نہیں تھی لیکن پھر ان کے دلوں میں اختلافات آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے عمل سے تعلق رکھنے والی ناپاک چیزیں ہیں تو تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے حوالے سے تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے ‘ تو کیا تم ( شراب اور جوئے وغیرہ سے ) باز آنے والے ہو ‘‘۔ تو کچھ لوگوں نے یہ کہا : یہ تو نا پاک چیز ہے ‘ اور یہ فلاں شخص کے پیٹ میں بھی موجود تھی جو غزوہ بدر کے دن شہید ہو گیا تھا اور فلاں شخص کے پیٹ میں بھی موجود تھی ‘ جو فلاں غزوہ کے موقع پر شہید ہو گیا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا جو وہ پہلے کھا چکے ہوں .......‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے مشروبات سے متعلق باب میں اس نوعیت کی حدیث شراب کی حرمت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

10986

Majma al-Zawaid #10986

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالَتِ الْيَهُودُ: أَلَيْسَ إِخْوَانُكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا كَانُوا يَشْرَبُونَهَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: 93]. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَقِيلَ لِي: أَنْتَ مِنْهُمْ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, said when wine prohibition descended the Jews asked about brothers who died drinking it, so Allah revealed {No blame upon those who believe and do good for what they tasted} [Al-Maidah: 93]. The Messenger ﷺ said it was said to him: you are of them. > **"It was said to me: you are of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے کہا : کیا تمہارے وہ بھائی جو فوت ہو چکے ہیں تو کیا وہ شراب نہیں پیا کرتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ تو انہوں نے جو کچھ کھایا ہے اس کے حوالے سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو مجھ سے کہا گیا : تم ان میں سے ایک ہو ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10987

Majma al-Zawaid #10987

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة: 90] قَالَ: هِيَ فِي التَّوْرَاةِ: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْزَلَ الْحَقَّ لِيُذْهِبَ بِهِ الْبَاطِلَ، وَيُبْطِلَ بِهِ اللَّعِبَ وَالْكِنَّارَاتِ وَالزَّمَّارَاتِ وَالزِّفْنَ وَالْمَعَازِفَ وَالْمَزَاهِرَ وَالسِّعْرَ، وَأَقْسَمَ رَبِّي بِيَمِينٍ لَا يَشْرَبُهَا عَبْدٌ بَعْدَ مَا حَرَّمْتُهَا إِلَّا أَعْطَشَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَدَعُهَا بَعْدَ مَا حَرَّمْتُهَا إِلَّا سَقَيْتُهُ بِحَظِيرِ الْقُدْسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثٍ صَحِيحٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا} [الأحزاب: 45]، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما said this Quranic verse {O you who believe, wine, gambling, idols and divining arrows are filth of Satan's work} [Al-Maidah: 90] is in the Torah: Allah sent truth to remove falsehood and nullify play, lutes, flutes, dancing, instruments and poetry, swearing none drinks after prohibition but He will thirst him on Resurrection, and none abandons it after prohibition but He will quench him at the holy enclosure.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت قرآن میں موجود ہے ۔ ’’ اے ایمان والو ! بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے عمل سے تعلق رکھنے والی ناپاک چیزیں ہیں تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت تورات میں بھی تھی اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل کیا تاکہ اس کے ذریعے باطل کو ختم کر دے اور اس کے ذریعے لعب ، کنارات ( طنبورہ یا کھیلنے کی لکڑیاں ) مزامیر ، رقص ، آلات موسیقی ‘ شاعری کو کالعدم قرار دے دیں اور میرے پروردگار نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں نے جب ان کو حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد جو بھی بندہ اس کو پیئے گا ‘ تو میں اس کو پیاسا رکھوں گا اور جب میں نے اسے حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد جو بھی بندہ اسے ترک کیے رکھے گا ۔ میں اسے حظیرة القدس میں سے پلاؤں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے صحیح حدیث کے آخر میں نقل کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ بے شک ہم نے تمہیں گواہ بنا کے بھیجا ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10988

Majma al-Zawaid #10988

عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: «كَانَ قَتْلُ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا غَيَّرْتَ يَا أَبَا عَامِرٍ ""، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105]، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" أَيْنَ ذَهَبْتُمْ؟ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَلَفْظُهُ عَنْ أَبِي عَامِرٍ «أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ شَيْءٌ، فَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَبَسَكَ؟ "". قَالَ: قَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105]، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ». وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِعَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Amir al-Ashari رضي الله عنه said after a killing among them at Awtas the Messenger ﷺ reproached him, he recited {O you who believe, upon you is yourselves, he who strays harms you not once guided} [Al-Maidah: 105]. The Messenger ﷺ angered asking where they went, explaining it means the disbelievers who stray harm not when guided. > **"Where have you gone? It is only: O you who believe, upon you is yourselves, he who strays among the disbelievers harms you not once guided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں میں سے ایک شخص اوطاس میں قتل ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے ابوعامر ! کیا تم نے اسے تبدیل نہیں کیا ؟ حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کی : ’’ اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جب تم ہدایت یافتہ ہو ‘ تو جو گمراہ ہو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کہاں جا رہے رہو ؟ اس سے مراد یہ ہے : اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے کفار میں سے جو شخص گمراہ ہو جائے وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ان کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں : حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں میں کوئی چیز تھی جس کی وجہ سے وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس نہیں آ سکے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا تم لوگوں کو کس چیز نے روکا ؟ وہ کہتے ہیں : میں نے یہ آیت تلاوت کر دی : ’’ اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جب تم ہدایت یافتہ ہو جو گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا ‘‘۔ تو نبی اکرم سر ﷺ نے ان سے فرمایا : کفار سے تعلق رکھنے والا جو گمراہ ہو وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں البتہ میں نے علی بن مدرک کے صحابہ کرام میں سے کسی ایک سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔

10989

Majma al-Zawaid #10989

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى {عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [المائدة: 105] قَالَ: لَيْسَ أَوَانُهَا هَذَا، قُولُوهَا مَا قُبِلَتْ مِنْكُمْ، فَإِذَا رُدَّتْ عَلَيْكُمْ فَعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said concerning {Upon you is yourselves} [Al-Maidah: 105] its time is not this; enjoin while accepted, and when rejected then upon you is yourselves, he who strays harms you not.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ اس کا وقت نہیں ہے ‘ تم وہ بات کہو تم سے جو بات قبول کر لی جاتی ہے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ اگر وہ مسترد کر دی جاتی ہے ‘ تو تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جو شخص گمراہ ہو ‘ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ حسن بصری نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

10990

Majma al-Zawaid #10990

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «{كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} [المائدة: 117]: مَا كُنْتُ فِيهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reported the Prophet ﷺ explained {I was witness over them as long as I remained among them} [Al-Maidah: 117] to mean while he was among them. > **"As long as I was among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) یعنی جب تک میں ان میں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10991

Majma al-Zawaid #10991

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نَزَلَتْ عَلَيَّ سُورَةُ الْأَنْعَامِ جُمْلَةً وَاحِدَةً، يُشَيِّعُهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، لَهُمْ زَجَلٌ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported the Messenger ﷺ said Surat al-Anam descended upon him all at once, escorted by seventy thousand angels with loud glorification and praise. > **"Surat al-Anam descended upon me all at once, escorted by seventy thousand angels, with loud glorification and praise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھ پر سورت انعام ایک ساتھ نازل ہوئی ہے ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ آئے تھے اور ( ان کی ) تسبیح اور تحمید کی آواز گونج رہی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10992

Majma al-Zawaid #10992

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْعَامِ وَمَعَهَا مَوْكِبٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَسُدُّ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ، لَهُمْ زَجَلٌ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ تَرْتَجُّ ""، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْسٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported the Messenger ﷺ said Surat al-Anam descended with a host of angels filling between horizons with loud glorification and sanctification, the earth trembling, while the Messenger ﷺ repeated glory to Allah the Magnificent. > **"Glory be to Allah the Magnificent, glory be to Allah the Magnificent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سورت انعام نازل ہوئی اس کے ساتھ فرشتوں کا ایک گروہ تھا ، جس نے زمین و آسمان کے درمیان کی جگہ کو بھرا ہوا تھا ان کی تسبیح و تقدیس کی آواز گونج رہی تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( وہ یہ پڑھ رہے تھے : ) ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے جو عظمت والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عبداللہ بن عرس کے حوالے سے احمد بن محمد بن ابوبکر سالمی سے نقل کی ہے ‘ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10993

Majma al-Zawaid #10993

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: «نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْعَامِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُمْلَةً وَاحِدَةً إِنْ كَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا لَتَكْسِرُ عَظْمَ النَّاقَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid رضي الله عنها said Surat al-Anam descended upon the Prophet ﷺ all at once, nearly breaking the camel's bone from its weight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم سی بیڈ پر سورت انعام پوری ایک ساتھ نازل ہوئی تھی اور اس کے بوجھ کی وجہ سے قریب تھا کہ اونٹنی کی ہڈی ٹوٹ جاتی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10994

Majma al-Zawaid #10994

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ} [الأنعام: 26]، نَزَلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ، كَانَ يَنْهَى عَنْ أَذَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَنْأَى عَنِ اتِّبَاعِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {They forbid from it and keep away from it} [Al-Anam: 26] it descended about Abu Talib, who forbade harming the Prophet ﷺ yet kept away from following him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور وہ لوگ ( نبی ) سے روکتے ہیں ‘ اور اس ( نبی ) سے دور رہتے ہیں ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ) یہ آیت جناب ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچانے سے منع کرتے تھے اور خود ان کی پیروی سے دو رہتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا کہ جبکہ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10995

Majma al-Zawaid #10995

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: فَإِنَّهُمْ لَا يُكْذِبُونَكَ مُخَفَّفَةً، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَقْرَؤُونَهَا، قَالَ: لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ لَا يَكُونَ رَسُولًا، وَلَا عَلَى أَنْ لَا يَكُونَ الْقُرْآنُ قُرْآنًا، فَأَمَّا أَنْ يُكْذِبُوكَ بِأَلْسِنَتِهِمْ فَهُمْ يُكَذِّبُونَكَ، وَذَاكَ الْإِكْذَابُ وَذَاكَ التَّكْذِيبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {They do not deny you} read lightly, as they recited it, meaning they cannot undo his being Messenger nor the Quran being Quran, though with tongues they deny — that is the denial.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : یہ آیت یوں پڑھی جائے گی فانہم لا یکذ بونک یعنی تخفیف کے ساتھ پڑھی جائے گی وہ لوگ اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یعنی وہ لوگ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ نبی اکرم ﷺ رسول نہ ہوں ‘ اور نہ ہی وہ اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ قرآن قرآن نہ ہو لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے آپ کا اکذاب کرتے ہیں ، تو وہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں ‘ یہ اکذاب ہے ‘ اور وہ تکذیب ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10996

Majma al-Zawaid #10996

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الْعَبْدَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ "". ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ} [الأنعام: 44]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ {فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الأنعام: 45].

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reported the Prophet ﷺ said when you see Allah granting the servant in this world what he loves despite sins, it is gradual seizure, then reciting {When they forgot what they were reminded of We opened upon them doors of all things until rejoicing in what given We seized them suddenly, confounded} [Al-Anam: 44]. > **"When you see Allah granting the servant in this world what he loves despite his sins, it is only gradual seizure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو کہ وہ کسی بندے کو دنیا میں اس کے گناہوں کے باوجود اس کی پسندیدہ چیزیں عطا کرتا ہے ‘ تو یہ چیز استدراج ہو گی پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ’’ جب وہ اس چیز کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی ، تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ لوگ اس چیز سے خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھی اور پھر ہم نے اچانک ان پر گرفت کی تو اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تو اس قوم کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘‘۔

10997

Majma al-Zawaid #10997

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَبَّابٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَرَضِيتَ بِهَؤُلَاءِ؟ فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ {وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ} [الأنعام: 51] إِلَى قَوْلِهِ: {وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ} [الأنعام: 58]. (1) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا؟ لَوْ طَرَدْتَ هَؤُلَاءِ لَاتَّبَعْنَاكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ} [الأنعام: 52] إِلَى قَوْلِهِ: {أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ} [الأنعام: 53]». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُرْدُوسٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said Quraysh chiefs passed the Messenger ﷺ with Khabbab, Suhayb, Bilal and Ammar رضي الله عنهم asking is he pleased with these, or asking are these whom Allah favored among us demanding expulsion for their following. So Quran descended {Warn with it those who fear gathering to their Lord} [Al-Anam: 51] to {Allah knows the wrongdoers}, and {Expel not those who call their Lord morning and evening} [Al-Anam: 52] to {Is not Allah knowing of the grateful} [Al-Anam: 53].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس حضرت خباب رضی اللہ عنہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ موجود تھے ان مشرکین نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) کیا آپ ان لوگوں سے راضی ہیں تو ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ اور اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈارؤ جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے پروردگار کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائے گا ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تا ہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ان لوگوں نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) کیا یہ وہ لوگ ہیں کہ ہمارے درمیان میں سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا ہے اگر آپ ان لوگوں کو پرے کر دیں تو ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم ان لوگوں کو پرے نہ کرے جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبات کرتے ہیں ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ کہ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف کردوس نامی راوی راوی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10998

Majma al-Zawaid #10998

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي بَعْضِ أَبْيَاتِهِ {وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ} [الكهف: 28]، خَرَجَ يَلْتَمِسُ، فَوَجَدَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، مِنْهُمْ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَحَافِ الْجِلْدِ وَذُو الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَلَمَّا رَآهُمْ جَلَسَ مَعَهُمْ فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ أَمَرَنِي أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ ذَكَرَ الطَّبَرَانِيُّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فِي الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

Abdur-Rahman ibn Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه said {Be patient with those who call their Lord morning and evening} [Al-Kahf: 28] descended upon the Prophet ﷺ in one of his chambers. He went seeking, found people remembering Allah, disheveled, worn skin, single garment, sat with them praising Allah Who placed in his nation those commanded to keep patience with. > **"Praise be to Allah Who placed in my nation those I was commanded to keep patience with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی آپ اس وقت اپنے کسی گھر میں موجود تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ تلاش میں نکلے تو آپ نے کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پایا ان میں سے ایسے لوگ بھی تھے کہ کسی کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے کسی کی جلد پر کچھ نہیں تھا کسی نے ایک کپڑا پہنا ہوا تھا جب نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو ملاحظہ فرمایا تو آپ ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے ہیں کہ جن کے بارے میں مجھے اس نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی نے عبدالرحمن نامی راوی کا ذکر صحابہ کرام میں کیا ہے ۔

10999

Majma al-Zawaid #10999

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ} [الأنعام: 65]- الْآيَةَ قَالَ: هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ، فَمَضَتِ اثْنَتَانِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، فَأُلْبِسُوا شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، وَبَقِيَتِ اثْنَتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ: الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَالظَّاهِرُ أَنَّ مِنْ قَوْلِهِ: فَمَضَتِ اثْنَتَانِ؛ إِلَى آخِرِهِ مِنْ قَوْلِ رَفِيعٍ، فَإِنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لَمْ يَتَأَخَّرْ إِلَى زَمَنِ الْفِتْنَةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي كِتَابِ الْفِتَنِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab رضي الله عنه said concerning {Say: He is Able to send punishment from above you} [Al-Anam: 65] they are four, all punishment, all inevitable. Two passed twenty-five years after the Messenger ﷺ with factional strife tasting each other's might, two remain inevitable: swallowing and stoning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم یہ فرما دو کہ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے اوپر کی طرف سے تم پر عذاب بھیج دے ‘‘۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ چار قسم کے عذاب ہیں ‘ اور یہ سب عذاب ہیں یہ سب لازمی طور پر واقع ہوں گے ان میں سے دو نبی اکرم ﷺ کے بعد واقع ہو چکے ہیں جو پچیس سالوں میں ہوئے ہیں لوگ ایک دوسرے تقسیم ہو گئے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے اور باقی دو بھی لازمی طور پر واقع ہوں گے زمین میں دھنسایا جانا اور پتھر مارے جانا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بظاہر یہ لگتا ہے کہ روایت کے یہ الفاظ ( اس میں سے دو نشانیاں گزر چکی ہیں اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے کلمات رفع نامی راوی کے قول ہے کیونکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فتنے کے زمانے تک زندہ نہیں رہے تھے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی باقی احادیث کتاب الفتن میں باقی آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

11000

Majma al-Zawaid #11000

عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: مُسْتَوْدَعُهَا فِي الدُّنْيَا، وَمُسْتَقَرُّهَا فِي الرَّحِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim said Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, said its repository is in this world and its resting place in the womb.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ودیعت کے طور پر رکھوانے کی جگہ دنیا ہے ‘ اور ٹھہرنے کی جگہ سے مراد ( ماں کا ) رحم ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابراہیم نخعی نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

11001

Majma al-Zawaid #11001

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ} [الأنعام: 98]) قَالَ: الْمُسْتَقَرُّ الرَّحِمُ، وَالْمُسْتَوْدَعُ الْأَرْضُ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim from Ibn Masud رضي الله عنه said concerning {resting place and repository} [Al-Anam: 98] the resting place is the womb and the repository the earth where one dies.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ’’ ٹھہرنے کی جگہ اور ودیعت کے طور پر رکھوانے کی جگہ ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ٹھہرنے کی جگہ سے مراد رحم ہے ‘ اور ودیعت کے طور پر ٹھہرنے سے وہ زمین ہے جس میں آدمی فوت ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11002

Majma al-Zawaid #11002

عَنْ عَمْرِو بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: دَارَسْتَ تَلَوْتَ خَاصَمْتَ جَادَلْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Kaysan heard Ibn Abbas رضي الله عنهما say darasta means you recited, contended, disputed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن کیسان بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ۔ لفظ ’’ دارست ‘‘ کا مطلب تم نے تلاوت کی ‘ تم نے جھگڑا کیا تم نے جدال کیا ( یعنی اس نے یہ مراد ہو سکتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11003

Majma al-Zawaid #11003

عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ: {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] قَالَ: كَانُوا يُعْطُونَ مَنِ اعْتَرَاهُمْ شَيْئًا سِوَى الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said concerning {Give its due on harvest day} [Al-Anam: 141] they gave whoever came to them something beyond charity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ ‘ اس شخص کو صدقہ کے علاوہ ‘ کوئی چیز دیدیتے تھے ‘ جو اُن سے کوئی چیز مانگ لیتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔