وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ فِي الْقُرْآنِ لَآيَتَيْنِ، مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا ثُمَّ تَلَاهُمَا وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ. فَسَأَلُوهُ عَنْهُمَا فَلَمْ يُخْبِرْهُمْ. فَقَالَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: قُمْ بِنَا، وَقَامَا إِلَى الْمَنْزِلِ، فَأَخَذَ الْمُصْحَفَ فَتَصَفَّحْنَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاهُمَا، ثُمَّ أَخَذَا فِي سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110] فَقَالَا: هَذِهِ وَاحِدَةٌ. ثُمَّ تَصَفَّحَا آلَ عِمْرَانَ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [آل عمران: 135]. قَالَا: هَذِهِ أُخْرَى. ثُمَّ طَبَّقَا الْمُصْحَفَ، ثُمَّ أَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَا: هُمَا هَاتَانِ الْآيَتَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.
EnglishUnverified translation
Ibrahim reported that Abdullah رضي الله عنه said in the Quran are two verses: no servant sins then recites them and seeks Allah's forgiveness except He forgives him. Asked which they were, he did not inform them. Alqamah and al-Aswad رحمهما الله rose to the house, took the mushaf, leafed through al-Baqarah without finding them, then through al-Nisa until they reached, whoever does evil or wrongs himself then seeks Allah's forgiveness shall find Allah Forgiving, Merciful, and said, this is one. Then they leafed through Al Imran until they reached, those who when they commit indecency or wrong themselves remember Allah and seek forgiveness for their sins, and none forgives sins but Allah, and do not persist knowingly, and said, this is the other. They closed the mushaf, returned to Abdullah and asked, are these the two verses. He said, yes.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک قرآن میں دو آیات ایسی ہیں کہ جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر وہ ان دونوں آیات کی تلاوت کر لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو اس کی مغفرت ہو جائے گی لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان دونوں آیات کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے بارے میں نہیں بتایا علقمہ اور اسودان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : تم ہمارے ساتھ اٹھ کر چلو اور وہ دونوں اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے انہوں نے قرآن مجید کھولا اور اس کے صفحے پلٹنے شروع کیے انہوں نے سورت بقرہ دیکھی پھر ان دونوں نے کہا : ہمیں اس میں وہ آیات نظر نہیں آئی ہیں ۔ پھر انہوں نے سورت نساء دیکھی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے : ’’ اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کر لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا ‘‘۔ تو انہوں نے کہا : یہ ایک آیت ہو گئی ، پھر انہوں نے سورت آل عمران کے صفحات الٹنے شروع کیے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پہنچے : ’’ جب وہ کوئی برائی کر لیں یا اپنے اوپر ظلم کر لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں ‘ اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں تو گناہوں کی مغفرت صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے ان لوگوں نے جو کیا ہو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے جبکہ وہ علم رکھتے ہوں ‘‘۔ تو ان دونوں نے کہا : یہ دوسری آیت ہو گئی ، پھر ان دونوں نے قرآن مجید بند کیا پھر وہ دونوں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان دونوں نے کہا : وہ دو آیات یہ والی ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے البتہ ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔