Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 4

Book of Exegesis

Hadith 10924–10963

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10924

Majma al-Zawaid #10924

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ} [النساء: 36] قَالَ: الْمَرْأَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه explained the verse, and the companion by the side. He said it means the wife.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور پہلو کے ساتھی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد بیوی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10925

Majma al-Zawaid #10925

عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا} [النساء: 36] فَذَكَرَ الْكِبْرَ فَعَظَّمَهُ، فَبَكَى ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""مَا يُبْكِيكَ؟ "". فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَحْسُنَ شِرَاكُ نَعْلِي، قَالَ: "" فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْكِبْرِ بِأَنْ تَحْسُنَ رَاحِلَتُكَ وَرَحْلُكَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ.

EnglishUnverified translation

Thabit ibn Qays ibn Shammas رضي الله عنه said he was with the Messenger of Allah ﷺ when he ﷺ recited the verse, indeed Allah does not love the arrogant boaster, and spoke gravely of arrogance. Thabit wept. The Messenger of Allah ﷺ asked: > **"What makes you weep."** He replied, O Prophet of Allah, I love beauty so much that I even like the strap of my sandal to be handsome. He ﷺ said: > **"You are among the people of Paradise. Arrogance is not that your mount and saddle are handsome. Arrogance is to reject truth and despise people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی :’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا فخر کرنے والا ( خود پسند ) ہو ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے تکبر کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے زیادہ خراب ہونے کو بیان کیا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا تم کس بات پر رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ مجھے تو یہ بات بھی پسند ہے کہ میرے جوتے کا تسمہ بھی اچھا ہونا چاہیے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اہل جنت میں سے ہو ‘ تکبر یہ نہیں ہے کہ تمہاری سواری یا تمہارا پالان اچھا ہو بلکہ تکبر اس شخص کا ہوتا ہے ‘ جو حق سے روگردانی کرے اور لوگوں کو کمتر سمجھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کے والد عبدالرحمن نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10926

Majma al-Zawaid #10926

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ الظَّفَرِيِّ، وَكَانَ مِمَّنْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ بَنِي ظَفَرٍ، فَجَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ الَّتِي فِي مَسْجِدِ بَنِي ظَفَرٍ الْيَوْمَ وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَارِئًا فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اضْطَرَبَ لَحْيَاهُ، فَقَالَ: "" أَيْ رَبِّ، شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Fadalah al-Zafari رضي الله عنه, a Companion of the Prophet ﷺ, said the Messenger of Allah ﷺ came to them in the mosque of Banu Zafar and sat upon the rock there today, with Abdullah ibn Masud, Muadh ibn Jabal, and others رضي الله عنهم. The Prophet ﷺ ordered a reciter who recited until he reached the verse, how will it be when We bring from every nation a witness and bring you as witness over these. The Messenger of Allah ﷺ wept until his beard trembled and said: > **"O my Lord, I witnessed over those among whom I lived, so how about those I never saw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن فضالہ ظفری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنوظفر کی مسجد میں ان لوگوں کے پاس آئے آپ بنوظفر کی مسجد میں موجود اس پتھر پر تشریف فرما ہوئے جو آج بھی موجود ہے آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے قاری کو حکم دیا اس نے تلاوت کرنی شروع کی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچا :’’ اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ کے طور پر لے آئیں گے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی آپ نے ارشاد فرمایا :’’ میں ان پر اس وقت تک گواہ ہوں جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں ، میں ان کا گواہ کیسے بنوں گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10927

Majma al-Zawaid #10927

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] بَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" يَا رَبِّ هَذَا شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ لَبِيبَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Abd al-Rahman ibn Labibah reported from his father, from his grandfather, that when the Messenger of Allah ﷺ recited the verse, how will it be when We bring from every nation a witness and bring you as witness over these, he ﷺ wept and said: > **"O my Lord, this I witnessed over those among whom I lived, so how about those I never saw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن عبدالرحمن بن لبیبہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی :’’ اس وقت کیا عالم ہو گا کہ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ رونے لگے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے میرے پروردگار ! میں ان لوگوں پر گواہ ہوؤں گا جن کے درمیان میں موجود ہوں تو ان کا گواہ کیسے بنوں گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عبدالرحمن بن لبیبہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10928

Majma al-Zawaid #10928

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {لَا تَقُولُوا رَاعِنَا} [البقرة: 104] قَالَ: «كَانُوا يَقُولُونَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاعِنَا سَمْعَكَ، وَإِنَّمَا رَاعِنَا كَقَوْلِكَ عَاطِنَا {وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ} [النساء: 46] لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَقُولُونَ لَا سَمِعْتَ، وَاسْمَعْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا سَمِعْتَ. قَالَ: {وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ} [النساء: 46]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse, do not say raina. He said people used to say to the Prophet ﷺ, lend us your ear, with raina like saying atina. Concerning, and hear, may you not be made to hear, addressed to the Prophet ﷺ, they meant may you not hear. And had they said, we heard and obeyed, and hear, and look upon us, it would have been better for them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم لوگ راعنا نہ کہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے : آپ ہمیں اپنی بات سننے کا موقع دیں اس وقت لفظ راعنا اس طرح ہی تھا ، جس طرح آپ یہ کہیں : عاطنا ’’ آپ سنیں آپ کو سنوایا نہ جائے ‘‘۔ یعنی نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : وہ ( یعنی یہودی ) یہ کہتے تھے آپ نہ سنیں اور وہ یہ نبی اکرم ﷺ کو کہا کرتے تھے کہ آپ نہ سنیں تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی :’’ اگر وہ لوگ یہ کہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ سنیئے اور ہم پر نظر کیجئے تو یہ بات تم لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہونی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حارث ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10929

Majma al-Zawaid #10929

«عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48]. قَالَ: "" إِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي ""، فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا، ثُمَّ نَطَقْنَا بَعْدُ وَرَجَوْنَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَرْبِ بْنِ سُرَيْجٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said they withheld seeking forgiveness for people of major sins until they heard the Messenger of Allah ﷺ recite, indeed Allah does not forgive association with Him but forgives less than that for whom He wills. He ﷺ said: > **"I have reserved my supplication as intercession for the people of major sins of my nation."** So they refrained from much of what was in themselves, then spoke thereafter and hoped.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے ہم کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے رکے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا : ’’ بے شک اللہ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ میں نے اپنی مخصوص دعا کو اپنی امت سے تعلق رکھنے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکبین افراد کی شفاعت کے لئے سنبھال کے رکھ لیا ہے ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) تو پہلے ہم بہت سے امور کے حوالے سے رکے رہتے تھے ‘ بعد میں ہم نے ان کے بارے میں بات چیت کرنا شروع کر دی اور یہ امید رکھی ( کہ ان کی مغفرت ہو جائے گی ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حرب بن سریج کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10930

Majma al-Zawaid #10930

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي ابْنَ أَخٍ لَا يَنْتَهِي عَنْ حَرَامٍ، قَالَ: "" مَا دِينُهُ؟ "". قَالَ: يُوَحِّدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي. قَالَ: "" فَاسْتَوْهِبْ مِنْهُ دِينَهُ، فَإِنْ أَبَى فَابْتَعْهُ مِنْهُ "". فَطَلَبَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْهُ دِينَهُ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وَجَدْتُهُ شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ، فَنَزَلَتْ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub رضي الله عنه said a man came to the Prophet ﷺ and said his nephew persisted in unlawful acts. He ﷺ asked: > **"What is his religion."** He replied, he affirms Allah's unity and prays. He ﷺ said: > **"Then ask him for his religion as a gift, and if he refuses, buy it from him."** The man asked his nephew who refused, and returned saying he found him miserly over his religion. Then the verse was revealed, indeed Allah does not forgive association with Him but forgives less than that for whom He wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرا ایک بھتیجا ہے جو کسی حرام کام کے ارتکاب سے باز نہیں آتا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے بتایا وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہے ‘ اور نماز ادا کرتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اس سے اس کا دین طلب کرو اگر وہ نہ مانے تو تم وہ اس سے خرید لینا اس شخص نے اپنے بھتیجے سے اس کا دین مانگا اس نے انکار کر دیا وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا اس نے عرض کی : میں نے اس کو پایا ہے کہ وہ اپنے دین کے بارے میں لگاؤ رکھتا ہے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10931

Majma al-Zawaid #10931

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَدِمَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ وَكَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ مَكَّةَ، فَحَالَفُوهُمْ عَلَى قِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُمْ: أَنْتُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ الْقَدِيمِ وَالْكِتَابِ الْأَوَّلِ فَأَخْبِرُونَا عَنَّا وَعَنْ مُحَمَّدٍ؟ فَقَالُوا: وَمَا أَنْتُمْ وَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: نَحْنُ نَنْحَرُ الْكَوْمَاءَ، وَنَسْقِي اللَّبَنَ عَلَى الْمَاءِ، وَنَفُكُّ الْعُنَاةَ، وَنَسْقِي الْحَجِيجَ، وَنَصِلُ الْأَرْحَامَ، قَالُوا: فَمَا مُحَمَّدٌ؟ قَالُوا: صُنْبُورٌ قَطَّعَ أَرْحَامَنَا، وَاتَّبَعَهُ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ بَنُو غِفَارَ، قَالُوا: بَلْ أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَهْدَى سَبِيلًا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ} [النساء: 51] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَمَّالُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Huyayy ibn Akhtab and Kab ibn al-Ashraf came to Makkah and allied with them to fight the Messenger of Allah ﷺ. The Makkans asked them as people of ancient knowledge and the first Book to judge between them and Muhammad. They asked about each party; the Makkans described slaughtering noble camels, giving milk over water, freeing captives, watering pilgrims, and upholding kinship, while describing Muhammad ﷺ as cut off without progeny who severed kinship and was followed by thieves of pilgrims from Ghifar. So the two Jews declared them better guided than him. Allah then revealed, have you not seen those given a portion of the Book believing in idols and taghut.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف ‘ مکہ میں قریش کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم ﷺ کے خلاف جنگ کرنے کے بارے میں حلیف ہونے کا معاہدہ کیا اہل مکہ نے ان سے کہا : تم لوگ قدیم علم رکھتے ہو اور کتاب بھی رکھتے ہو جو پہلے والی ہے ‘ تو تم ہمارے بارے میں اور حضرت محمد ( ﷺ ) کے بارے میں بتاؤ ان لوگوں نے دریافت کیا تم لوگ کیا ہو اور حضرت محمد ( ﷺ ) کیا ہیں اہل مکہ نے کہا : ہم لوگ اونچی کوہان والی اونٹنی ذبح کرتے ہیں ‘ اور دودھ کو پانی میں ملا کے لوگوں کو پلاتے ہیں ، اور قیدیوں کو آزاد کرواتے ہیں ‘ اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ‘ اور صلہ رحمی کرتے ہیں ان لوگوں نے دریافت کیا حضرت محمد ( ﷺ ) کیا کرتے ہیں قریش مکہ نے بتایا کہ ان کی اولاد باقی نہیں رہی اور انہوں نے رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا ہے ‘ اور حاجیوں کے چوروں بنو غفار نے ان کی پیروی کر لی ہے ‘ تو حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف نے یہ کہا ہے کہ تم لوگ حضرت محمد ( ﷺ ) کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو اور زیادہ ہدایت والے راستے پر ہو تو اس بارے میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ’’ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ عطا کیا گیا کہ وہ لوگ بتوں اور طاغوت ( یعنی شیطان ) پر ایمان رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یونس بن سلیمان جمال ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10932

Majma al-Zawaid #10932

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَحْنُ النَّاسُ دُونَ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said, we are the people to the exclusion of others, concerning envy toward what Allah granted of His bounty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس آیت میں لوگوں سے مراد ہم لوگ ( یعنی صرف مسلمان ) ہیں باقی لوگ مراد نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10933

Majma al-Zawaid #10933

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قُرِئَ عِنْدَ عُمَرَ «{كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا} [النساء: 56] فَقَالَ عُمَرُ: أَعِدْهَا، فَأَعَادَهَا، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: عِنْدِي تَفْسِيرُهَا: "" يُبَدِّلُ فِي كُلِّ سَاعَةٍ مِائَةَ مَرَّةٍ "". فَقَالَ عُمَرُ: هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَافِعٌ مَوْلَى يُوسُفَ السُّلَمِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said the verse was recited before Umar رضي الله عنه, whenever their skins mature We shall replace them with other skins. Umar asked for repetition, and Muadh ibn Jabal رضي الله عنه said, I have its explanation: > **"It will be changed a hundred times in every hour."** Umar said, thus did I hear from the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی گئی : ’’ جب کبھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ‘ تو ہم انہیں ان کی جگہ بدل کر دوسری کھالیں دے دیں گے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس آیت کو دوبارہ پڑھو پڑھنے والے نے دوبارہ ان کے سامنے پڑھا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس اس کی تفسیر موجود ہے جس میں یہ بات ہے کہ ہر ایک ساعت میں ایک سو مرتبہ ان کی کھال بدلی جائے گی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ہے جو یوسف سلمی کا آزاد کردہ غلام ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10934

Majma al-Zawaid #10934

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ يَقْضِي بَيْنَ الْيَهُودِ فِيمَا يَتَنَافَرُونَ إِلَيْهِ، فَتَنَافَرَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى -: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ} [النساء: 60] إِلَى قَوْلِهِ: {إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا} [النساء: 62]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Abu Barzah al-Aslami judged among Jews in their disputes, then some Muslims brought disputes to him. Allah then revealed, have you not seen those who claim belief in what was revealed to you and before you, wishing to seek judgment from taghut though commanded to disbelieve in it, up to His statement, we intended only goodness and accord.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن تھا ‘ جو یہودیوں کے درمیان ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں فیصلے دیا کرتا تھا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی اپنے باہمی مقدمات اس کی طرف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لے آئے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ اور اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی اور پھر وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس طاغوت ( یعنی شیطان ) کو ثالث بنا لیں حالانکہ انہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ ہمارا ارادہ صرف بھلائی اور باہمی موافقت کا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10935

Majma al-Zawaid #10935

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَضَى لِلزُّبَيْرِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ. فَنَزَلَتْ: {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ} [النساء: 65]- الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها said al-Zubayr رضي الله عنه disputed with a man before the Messenger of Allah ﷺ, who judged for al-Zubayr. The man remarked he judged for him only because he is his aunt's son. Then the verse was revealed, no, by your Lord, they shall not believe.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہو گیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو اس شخص نے کہا : انہوں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں اس لئے فیصلہ دیا ہے کیونکہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پھوپھی زاد ہیں تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے رب کی قسم ! یہ لوگ جو اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10936

Majma al-Zawaid #10936

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ حَتَّى إِنِّي لَأَذْكُرُكَ، فَلَوْلَا أَنِّي أَجِيءُ فَأَنْظُرُ إِلَيْكَ ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تَخْرُجُ، فَأَذْكُرُ أَنِّي إِنْ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ صِرْتُ دُونَكَ فِي الْمَنْزِلَةِ، فَيَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيَّ، وَأُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الدَّرَجَةِ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ} [النساء: 69]- الْآيَةَ. فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَاهَا عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said a man came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, I love you so much that I remember you, and were I not to come and look at you I feel my soul would depart. Then I recall that if I enter Paradise I shall be below you in rank, and that distresses me, and I wish to be with you in rank. The Messenger of Allah ﷺ gave no reply, so Allah revealed, whoever obeys Allah and the Messenger shall be with those Allah favored among Prophets. The Messenger of Allah ﷺ then called him and recited it to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں یہاں تک کہ میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اگر میں آ کے آپ کو نہ دیکھوں تو مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے میری جان نکل جائے گی پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں جنت میں داخل ہوا تو میر مرتبہ تو آپ کے مرتبے سے کم ہو گا ‘ تو یہ بات مجھ پر گراں گزری مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں آپ کے ساتھ ایک ہی درجہ میں ہوؤں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب ارشاد نہیں فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جن کا تعلق انبیاء سے ہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

10937

Majma al-Zawaid #10937

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي [وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي]، وَإِنَّكَ لَأَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي، وَإِنِّي لَأَكُونُ فِي الْبَيْتِ فَأَذْكُرُكَ فَمَا أَصْبِرُ حَتَّى آتِيَ فَأَنْظُرَ إِلَيْكَ، وَإِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ، عَرَفْتُ أَنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَأَنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ خَشِيتُ أَنْ لَا أَرَاكَ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذِهِ الْآيَةِ {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ} [النساء: 69]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَابِدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها said a man came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, you are dearer to me than myself, my family, my wealth, and my child. When I am at home and remember you I cannot be patient until I come and look at you. When I recall my death and yours, I know that when you enter Paradise you will be raised with the Prophets, while if I enter I fear I shall not see you. The Prophet ﷺ gave no reply until Jibril عليه السلام descended with the verse, whoever obeys Allah and the Messenger shall be with those Allah favored among Prophets, the truthful, the martyrs, and the righteous.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے نزدیک میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ‘ اور آپ میرے نزدیک میرے اہل خانہ اور میرے مال سے زیادہ محبوب ہیں آپ میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب ہیں میں گھر میں ہوتا ہوں پھر آپ کی یاد مجھے آتی ہے ‘ تو مجھے صبر نہیں آتا یہاں تک کہ میں آ کر آپ کی زیارت کر لیتا ہوں پھر مجھے یہ خیال آیا کہ میں بھی مر جاؤں گا اور آپ کا بھی انتقال ہو جائے گا یہ تو مجھے پتہ ہے کہ آپ جنت میں تشریف لے جائیں گے اور آپ کا مرتبہ انبیاء کے ساتھ بلند ہو گا اور جب میں جنت میں داخل ہوؤں گا ‘ تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ پھر میں آپ کی زیارت نہیں کر سکوں گا نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے : ’’ اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام کیا جن کا تعلق انبیاء صدیقین شہد ، اور صالحین سے ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عمر ان عابدی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10938

Majma al-Zawaid #10938

عَنِ الْحَسَنِ {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا} [النساء: 86] لَأَهْلِ الْإِسْلَامِ، أَوْ رُدُّوهَا عَلَى أَهْلِ الشِّرْكِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan رحمه الله explained the verse, when you are greeted with a greeting, greet with better than it. He said this applies to people of Islam, while return it applies to people of polytheism.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری فرماتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے زیادہ بہتر طریقے سے سلام کا جواب دو ‘‘۔ ( حسن بصری فرماتے ہیں : ) اس سے مراد یہ ہے : اہل اسلام کے ساتھ ایسا کرو ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یا تم اس کو لوٹا دو ‘‘۔ حسن بصری کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : اہل شرک کو ویسا ہی جواب دو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10939

Majma al-Zawaid #10939

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ قَومًا مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ، فَأَسْلَمُوا، وَأَصَابَهُمْ وَبَاءُ الْمَدِينَةِ حُمَّاهَا، فَأُرْكِسُوا فَخَرَجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَقْبَلَهُمْ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ - يَعْنِي أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُمْ: مَا لَكُمْ رَجَعْتُمْ؟ قَالُوا: أَصَابَنَا وَبَاءُ الْمَدِينَةِ فَاجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ. فَقَالَ: مَا لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَافَقُوا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَمْ يُنَافِقُوا هُمْ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: 88]- الْآيَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه said some Arabs came to the Messenger of Allah ﷺ in Madinah, embraced Islam, then suffered Madinah's fever, apostatized and left. Some Companions met them and asked why they returned; they said Madinah's climate did not suit them. The Companions said, is there not a good example for you in the Messenger of Allah ﷺ. Some said they turned hypocrite, others said they remained Muslims. Then Allah revealed, what is with you that you are two groups concerning the hypocrites, while Allah cast them back for what they earned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عربوں سے تعلق رکھنے والی ایک قوم کے لوگ مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اسلام قبول کر لیا مدینہ منورہ کی وباء نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا وہ بخار کا شکار ہو گئے انہیں واپس بھیج دیا گیا وہ مدینہ منورہ سے نکلے وہاں ان کا سامنا کچھ صحابہ کرام سے ہوا ان لوگوں نے ان سے دریافت کیا تم لوگ واپس کیوں آ گئے ہو ان لوگوں نے بتایا کہ مدینہ منورہ کی وباء نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا مدینہ منورہ کی آب و ہوا ہمیں موافق نہیں آئی تو انہوں نے کہا : کیا تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے ؟ ان میں سے کسی نے کہا : یہ لوگ منافق ہو گئے ہیں کسی نے کہا : یہ منافق نہیں ہوئے ہیں یہ مسلمان ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ کیا وجہ ہے کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کیے ہوئے اعمال کے بدلے میں انہیں اوندھا کر دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ‘ اور ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10940

Majma al-Zawaid #10940

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُسْلِمُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ وَهُمْ مُشْرِكُونَ فِي سَرِيَّةٍ أَوْ غَزَاةٍ فَيُعْتِقُ الَّذِي يُصِيبُهُ رَقَبَةً، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ} [النساء: 92]، قَالَ: هُوَ الرَّجُلُ يَكُونُ مُعَاهَدًا، وَيَكُونُ قَوْمُهُ أَهْلَ عَهْدٍ، فَيُسَلِّمُ إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ، وَيُعْتِقُ الَّذِي أَصَابَهُ رَقَبَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse, if he is from an enemy people while he is a believer, then freeing a believing slave. He said a man would come to the Prophet ﷺ, accept Islam, then return to his polytheist people and be killed in a raid, so his killer must free a slave. Concerning, if he is from a people with whom you have a covenant, it refers to a covenanted man whose people hold a treaty, so blood-money is paid to them and his killer frees a slave.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اگر اس شخص کا تعلق تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ شخص مومن ہو ‘ تو ایسی صورت میں ایک مؤمن گردن کو آزاد کرنا ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آتا تھا اور اسلام قبول کر لیتا تھا ‘ تو پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلا جاتا تھا وہ لوگ مشرک ہوتے تھے اور مسلمان کسی جنگی مہم یا لڑائی کے دوران اس شخص کو بھی قتل کر دیتے تھے ‘ تو جس شخص نے اسے قتل کیا ہوتا تھا وہ غلام آزاد کرتا تھا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اگر اس شخص کا تعلق اس قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ شخص ہے جو ذمی ہو اور اس کی قوم کے ساتھ عہد کیا گیا ہو تو ان لوگوں کو دیت ادا کی جائے گی اور جس شخص نے اسے قتل کیا ہے وہ غلام آزاد کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا .

10941

Majma al-Zawaid #10941

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93]، قَالَ: "" إِنْ جَازَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning His statement, whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell: > **"If He recompenses him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے ‘ تو اس کا بدلہ جہنم ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ نے اسے بدلہ دیا ( تو وہ جہنم میں جائے گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10942

Majma al-Zawaid #10942

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ: «بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِضَمٍ، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمٍ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيُّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ، مَعَهُ مَتِيعٌ وَوَطْبٌ مِنْ لَبَنٍ، فَلَمْا مَرَّ بِنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، وَأَخَذَ بِعِيرَهُ وَمَتِيعَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ نَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا} [النساء: 94]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Hadrad رضي الله عنه said the Messenger of Allah ﷺ sent them to Idam with Abu Qatadah al-Harith ibn Ribi and Muhallim ibn Jaththamah رضي الله عنهم. At the valley of Idam, Amir ibn al-Adbat al-Ashjai passed on his camel with provisions and milk, greeted them, but they held back from him while Muhallim attacked and killed him over a prior quarrel, taking his camel and goods. When they returned and informed the Messenger of Allah ﷺ, the Quran was revealed concerning them, O you who believe, when you travel in Allah's path verify, and do not say to one who offers you peace you are not a believer, seeking worldly gain, for with Allah are many spoils, thus were you before and Allah favored you, so verify, indeed Allah is aware of what you do.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حدرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں ’’ اضم ‘‘ کی طرف بھیجا میں کچھ مسلمانوں سمیت روانہ ہوا ان لوگوں میں حضرت ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ اور حضرت محلم بن جثامہ بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم لوگ نکلے جب ہم ’’ اضم ‘‘ کے نشیبی حصے میں پہنچے تو عامر بن اضبط اشجعی ہمارے پاس سے گزرا وہ اپنی سواری پر سوار تھا اور اس کے پاس سامان تھا اور دودھ کا برتن تھا جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو اس نے ہمیں سلام کیا ہم اس سے رک گئے لیکن محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا جو کسی ایسی چیز کی وجہ سے تھا ‘ جو ان دونوں کے درمیان تھی انہوں نے اس شخص کا اونٹ اور اس کا ساز و سامان لے لیا جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا ہمارے بارے میں قرآن کا یہ حکم نازل ہوا : ’’ اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جس شخص نے تمہیں سلام کیا ہو تم اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ مومن نہیں ہے تم دنیاوی زندگی کا سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا تو تم تحقیق کر لیا کرو بے شک تم لوگ جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے باخبر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10943

Majma al-Zawaid #10943

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فِيهَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، فَلَمَّا وَجَدُوا الْقَوْمَ وَجَدُوهُمْ قَدْ تَفَرَّقُوا، وَبَقِيَ رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ لَمْ يَبْرَحْ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ الْمِقْدَادُ فَقَتَلَهُ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: أَقَتَلْتَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَجُلًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَتَلَهُ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ: "" ادْعُ لِيَ الْمِقْدَادَ، يَا مِقْدَادُ أَقَتَلْتَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَيْفَ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غَدًا؟ "". قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ} [النساء: 94] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْمِقْدَادِ: "" كَانَ رَجُلًا مُؤْمِنًا يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ فَقَتَلْتَهُ، وَكَذَلِكَ كُنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said the Messenger of Allah ﷺ sent a detachment including al-Miqdad ibn al-Aswad رضي الله عنه. They found the enemy dispersed except one wealthy man who declared, I bear witness there is no deity but Allah. Al-Miqdad attacked and killed him. A Companion protested that he killed a man professing unity and would report it to the Prophet ﷺ. When they returned the Prophet ﷺ summoned al-Miqdad and said: > **"O Miqdad, did you kill a man who says there is no deity but Allah. How will you fare with there is no deity but Allah tomorrow."** Then Allah revealed the verse about verifying when traveling in Allah's path. The Messenger of Allah ﷺ said to al-Miqdad: > **"He was a believer concealing his faith among disbelievers, then he declared it and you killed him. Likewise you once concealed your faith in Makkah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی اس میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جب وہ دشمن تک پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ ادھر ادھر بکھر چکے ہیں ‘ اور ایک شخص باقی رہ گیا ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے وہ نہیں گیا تھا اس شخص نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے ان سے کہا : کیا تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ضرور کروں گا جب وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور پھر بھی حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مقداد کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! اے مقداد ! کیا تم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جو «لا الہ الا اللہ» پڑھ رہا تھا کل «لا الہ الا اللہ» کے مقابلے میں تمہاری دلیل کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کہے تو تم ( اس کو ) یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو تم لوگ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرنا چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمت ہے پہلے تم بھی اسی طرح تھے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : وہ ایک مومن شخص تھا ‘ جو کفار کی قوم کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا پھر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کر دیا تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا حالانکہ اس سے پہلے تم بھی مکہ میں اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے رہتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

10944

Majma al-Zawaid #10944

عَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ دَامَ بَصَرُهُ، مَفْتُوحَةً عَيْنَاهُ، وَفَرَغَ سَمْعُهُ وَقَلْبُهُ لِمَا يَأْتِيهِ مِنَ اللَّهِ، قَالَ: فَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ. قَالَ: فَقَالَ لِلْكَاتِبِ: "" اكْتُبْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". قَالَ: فَقَامَ الْأَعْمَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا ذَنْبُنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ؟ فَقُلْنَا لِلْأَعْمَى: إِنَّهُ يَنْزِلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَافَ أَنْ يَكُونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي أَمْرِهِ، فَبَقِيَ قَائِمًا يَقُولُ: أَعُوذُ بِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْكَاتِبِ: اكْتُبْ {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95]. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَبَقِيَ قَائِمًا يَقُولُ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ»، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Falatan ibn Asim رضي الله عنه said they were with the Prophet ﷺ when revelation descended; his gaze fixed, eyes open, hearing and heart devoted to what came from Allah, which they recognized. He ﷺ told the scribe: > **"Write: Not equal are those who remain among believers and those who strive in Allah's path."** A blind man stood and asked, O Messenger of Allah, what is our fault in what Allah sent down. Fearing something about him had descended, he stood repeating, I seek refuge from the anger of the Messenger of Allah. The Prophet ﷺ told the scribe: > **"Write: Except those with disability."** In another wording he stood saying, I repent to Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل کی جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کی آنکھیں کھلی رہتی تھی اور آپ کی سماعت اور توجہ اسی کی طرف مبذول رہتی تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا ہوتا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں آپ کی کیفیت سے پتہ چل جاتا تھا ( کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے لکھنے والے سے یہ ارشاد فرمایا : تم یہ یکھو : ’’ اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے ( یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے والے ) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک نابینا صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا کیا قصور ہے اس بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ہم نے اس نابینا شخص سے کہا : نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے اس شخص کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں اس کے بارے میں کوئی چیز نازل نہ ہو جائے وہ مسلسل کھڑا رہا اور یہ کہتا رہا کہ میں اللہ کے رسول کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے لکھنے والے سے فرمایا : تم یہ لکھو : ’’ ( بیٹھے رہ جانے والے یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے والے وہ لوگ ) جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی نے بھی اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ شخص کھڑا ہوا یہی کہتا رہا : ’’ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ‘‘۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

10945

Majma al-Zawaid #10945

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95] قَالَ: هُمْ قَوْمٌ كَانُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَغْزُونَ مَعَهُ لَأَسْقَامٍ وَأَمْرَاضٍ وَأَوْجَاعٍ، وَآخَرُونَ أَصِحَّاءُ لَا يَغْزُونَ مَعَهُ، فَكَانَ الْمَرْضَى فِي عُذْرٍ مِنَ الْأَصِحَّاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse, not equal are those who remain among believers, except those with disability. He said they were people in the time of the Messenger of Allah ﷺ who did not campaign with him due to illnesses and pains, alongside healthy others who also stayed back, so the sick were excused unlike the healthy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے ( یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے والے ) وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ وہ لوگ تھے جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں موجود تھے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ نہیں لیا اس کی وجہ کوئی بیماری کوئی مرض کوئی تکلیف تھی اسی طرح کچھ اور لوگ بھی تھے جو تندرست تھے ‘ لیکن انہوں نے بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ نہیں لیا تو تندرست لوگوں کے مقابلے میں بیمار لوگ معذور ہونے کی حالت میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

10946

Majma al-Zawaid #10946

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: اللَّهُمَّ إِنِّي ضَرِيرٌ فَرَخِّصْ لِي. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95] فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابَتِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه said when the verse was revealed, not equal are those who remain among believers and those who strive in Allah's path, Ibn Umm Maktum رضي الله عنه came and asked, O Messenger of Allah, is there no license for me. The Prophet ﷺ said no. Ibn Umm Maktum supplicated, O Allah, I am blind so grant me license. Then Allah revealed, except those with disability, and the Messenger of Allah ﷺ ordered it written.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں ‘‘۔ تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے لیے کوئی رخصت نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بینائی رخصت ہو چکی ہے ‘ تو مجھے رخصت عطا فرما دیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ’’ جنہیں کوئی ضرر نہ ہو ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس کو تحریر کرنے کا حکم دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10947

Majma al-Zawaid #10947

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} [النساء: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: كَانَ قَوْمٌ بِمَكَّةَ قَدْ أَسْلَمُوا، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ كَرِهُوا أَنْ يُهَاجِرُوا وَخَافُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} [النساء: 97] إِلَى قَوْلِهِ {إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ} [النساء: 98]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said when the verse was revealed, indeed those whom angels take while wronging themselves, some people in Makkah had accepted Islam but disliked emigrating after the Messenger of Allah ﷺ emigrated to Madinah out of fear. Allah then revealed it down to His statement, except the oppressed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے اس حالت میں موت دیتے ہیں کہ جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں .......‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مکہ میں کچھ لوگ تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو ان لوگوں نے ہجرت کرنے کو ناپسند کیا ‘ اور وہ خوف زدہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے ایسی حالت میں موت دیتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ‘‘....... یہ آیت یہاں تک ہے :’’ البتہ کمزوروں کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10948

Majma al-Zawaid #10948

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «كَانَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ أَسْلَمُوا، وَكَانُوا مُسْتَخِفِّينَ بِالْإِسْلَامِ، فَلَمَّا خَرَجَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى بَدْرٍ أَخْرَجُوهُمْ مُكْرَهِينَ، فَأُصِيبَ بَعْضُهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: أَصْحَابُنَا هَؤُلَاءِ مُسْلِمُونَ أَخْرَجُوهُمْ مُكْرَهِينَ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُمْ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ} [النساء: 97]- الْآيَةَ. فَكَتَبَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ بِمَكَّةَ بِهَذِهِ الْآيَةِ، فَخَرَجُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُشْرِكُونَ وَعَلَى خُرُوجِهِمْ، فَلَحِقُوهُمْ فَرَدُّوهُمْ، فَرَجَعُوا مَعَهُمْ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ} [العنكبوت: 10]. فَكَتَبَ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ فَحَزِنُوا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [النحل: 110] فَكَتَبُوا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ». قُلْتُ: رَوَى الْبُخَارِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said some Makkans had accepted Islam secretly; when polytheists marched to Badr they forced them out, and some were struck down with the polytheists. Muslims said they were Muslim brothers forced out, so seek forgiveness for them, and the verse was revealed, indeed those whom angels take while wronging themselves. Muslims wrote this verse to those remaining in Makkah, who set out but were overtaken on the road and turned back by polytheists. Then the verse was revealed, among people are those who say we believe in Allah, but when harmed in Allah's path they treat human trial like Allah's punishment. Muslims wrote that to them and they grieved, then the verse was revealed, then indeed your Lord to those who emigrated after trial, strove and persevered, your Lord after that is Forgiving, Merciful. They wrote that to them as well.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے اور وہ اپنا سلام چھپائے ہوئے تھے جب مشرکین نکل کر بدر کی طرف آئے ‘ تو مشرکین ان لوگوں کو بھی زبردستی اپنے ساتھ لے آئے ان میں سے کچھ لوگ غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین کے ساتھ مارے گئے مسلمانوں نے کہا : ہمارے یہ ساتھی ، تو مسلمان تھے اور انہیں وہ لوگ زبردستی لے کر آئے تھے ‘ تو تم لوگ ان کے بارے میں دعائے مغفرت کرو تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے ایسی حالت میں وفات دیتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ‘‘۔ تو مسلمانوں نے یہ آیت تحریر کر کے اس طبقے سے تعلق رکھنے والے مکہ میں موجود باقی افراد کی طرف بھیج دی وہ لوگ نکلے راستے میں کسی مقام پر مشرکین ان پر اور ان کے نکلنے پر غالب آ گئے وہ ان تک پہنچے اور انہیں واپس لے گئے وہ لوگ ان مشرکین کے ساتھ واپس چلے گئے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ لوگوں میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں : ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب انہیں اللہ کی راہ میں اذیت پہنچائی جاتی ہے ‘ تو وہ لوگوں کی طرف سے آنے والی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی مانند قرار دے دیتے ہیں ‘‘۔ مسلمانوں نے پھر یہ آیت لکھ کر ان کی طرف بھیجوا دی وہ لوگ اس سے غمگین ہو گئے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ پھر بے شک تمہارا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے آزمائش کا شکار ہونے کے بعد ہجرت کی اور پھر جہاد کیا ‘ اور صبر سے کام لیا تو بے شک تمہارا پروردگار اس کے بعد مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ تو مسلمانوں نے ان کی طرف یہ آیت بھی تحریر کر کے بھجوا دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام بخاری نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن شریک کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے .

10949

Majma al-Zawaid #10949

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «خَرَجَ ضَمْرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ: احْمِلُونِي فَأَخْرِجُونِي مِنْ أَرْضِ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَاتَ فِي الطَّرِيقِ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ الْوَحْيُ: {وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ} [الفاتحة: 100 - 32267] حَتَّى بَلَغَ: {وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 100]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Damrah ibn Jundub رضي الله عنه left his house emigrating and told his family, carry me out of polytheist land to the Messenger of Allah ﷺ. He died on the road before reaching the Prophet ﷺ, so revelation descended, whoever leaves his house emigrating to Allah and His Messenger then death overtakes him, up to, and Allah is Forgiving, Merciful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے ہجرت کرنے کے لئے نکلے انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا : تم مجھے سوار کروا دو اور مجھے مشرکین کی سرزمین سے نکلوا دو تاکہ میں اللہ کے رسول کی طرف چلا جاؤں تو نبی اکرم ﷺ تک پہنچنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا تو اس بارے میں یہ وحی نازل ہوئی : ’’ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے اور پھر اسے موت آ جائے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10950

Majma al-Zawaid #10950

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ تَرَكَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ قَامَ وَتَرَكَ نَعْلَيْهِ، فَأَخَذْتُ رَكْوَةً مِنْ مَاءٍ فَأَدْرَكْتُهُ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْضِ حَاجَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَكُنْ لَكَ حَاجَةٌ؟ قَالَ: "" بَلَى، وَلَكِنْ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110]، وَقَدْ كَانَتْ شَقَّتْ عَلَيَّ الْآيَةُ الَّتِي قَبْلَهَا: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَشِّرَ أَصْحَابِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ غُفِرَ لَهُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، ثُمَّ ثَلَّثْتُ، قَالَ: "" عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ "". فَأَنَا رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَضْرِبُ أَنْفَهُ بِإِصْبَعِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reported from the Prophet of Allah ﷺ that when he ﷺ sat with them and wished to rise he would leave his sandals or garment. Once he rose leaving his sandals, and Abu al-Darda followed with water but he ﷺ returned without relieving himself. Asked about his need, he ﷺ said: > **"Yes, but a comer from my Lord came to me with: Whoever does evil or wrongs himself then seeks Allah's forgiveness shall find Allah Forgiving, Merciful. The previous verse, whoever does evil shall be recompensed for it, had weighed upon me, so I wished to give my Companions glad tidings."** Abu al-Darda asked, O Messenger of Allah, even if he committed adultery and theft then sought forgiveness, will he be forgiven. He ﷺ said: > **"Yes."** He repeated thrice, and he ﷺ said: > **"Despite the nose of Abu al-Darda."** The narrator later saw Abu al-Darda touching his nose with his finger.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ تشریف فرما ہوئے ‘ تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے ، پھر آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا ‘ اور اپنے جوتے وہیں چھوڑ دیے یا اپنے جسم پر موجود کوئی اضافی لباس وہیں چھوڑ دیا آپ اٹھے اور آپ نے جوتے وہیں چھوڑ دیے پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ لیا میں آپ کے پاس آیا لیکن آپ ایسے ہی واپس آ گئے آپ نے قضائے حاجت نہیں کی تھی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو قضائے حاجت کی ضرورت نہیں تھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں لیکن میرے پروردگار کی طرف سے فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے یہ آیت پڑھی : ’’ اور جو شخص کوئی برا کام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس سے پہلے والی آیت مجھ پر گراں تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے ساتھیوں کو خوشخبری سنا دوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس شخص نے زنا کیا ہو اگرچہ اس نے چوری کی ہو پھر بھی وہ مغفرت مانگے ‘ تو اس کی مغفرت ہو جائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میں نے تین مرتبہ یہی دہرائی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ( اس کے باوجود بھی ایسا ہو گا ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی ناک پر انگلی لگایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن اسماعیل ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10951

Majma al-Zawaid #10951

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا أَذْنَبَ أَصْبَحَ عَلَى بَابِهِ مَكْتُوبٌ: أَذْنَبْتُ كَذَا وَكَذَا، وَكَفَّارَتُهُ كَذَا مِنَ الْعَمَلِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَتَكَاثَرَهُ أَنْ يَعْمَلَهُ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: مَا أُحِبُّ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَعْطَانَا ذَلِكَ مَكَانَ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ سِيرِينَ مَا أَظُنُّهُ سَمِعَ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said when a man of the Children of Israel sinned, by morning it was written on his door, you committed such and such, and its expiation is such an act, perhaps to make him deem it grave and perform it. Ibn Masud said he would not love that Allah had given them that instead of this verse, whoever does evil or wrongs himself then seeks Allah's forgiveness shall find Allah Forgiving, Merciful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص جب کسی گناہ کا ارتکاب کرتا تھا ‘ تو اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوتا تھا کہ تم نے اس ‘ اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے ‘ اور اس کا کفارہ ‘ یہ والا عمل کرنا ہے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ شخص اپنے گناہ کو بڑا سمجھے اور وہ عمل کر لے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی جگہ ہمیں یہی صورت حال عطا کی ہوتی اور وہ آیت یہ ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابن سیرین کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

10952

Majma al-Zawaid #10952

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَآيَتَيْنِ، مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَرَأَهُمَا وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ} [آل عمران: 135]، {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said in the Book of Allah are two verses: no servant commits a sin then recites them and seeks Allah's forgiveness except He forgives him: those who when they commit indecency or wrong themselves remember Allah and seek forgiveness for their sins, and none forgives sins but Allah; and whoever does evil or wrongs himself then seeks Allah's forgiveness shall find Allah Forgiving, Merciful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی کتاب میں دو آیات ایسی ہیں کہ جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر ان دونوں کو پڑھ لے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ( پہلی آیت یہ ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ کہ جب وہ کسی برائی کا ارتکاب کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ‘ اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں تو اللہ کے علاوہ اور کون گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے ‘‘۔ ( دوسری آیت یہ ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10953

Majma al-Zawaid #10953

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ فِي الْقُرْآنِ لَآيَتَيْنِ، مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا ثُمَّ تَلَاهُمَا وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ. فَسَأَلُوهُ عَنْهُمَا فَلَمْ يُخْبِرْهُمْ. فَقَالَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: قُمْ بِنَا، وَقَامَا إِلَى الْمَنْزِلِ، فَأَخَذَ الْمُصْحَفَ فَتَصَفَّحْنَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاهُمَا، ثُمَّ أَخَذَا فِي سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110] فَقَالَا: هَذِهِ وَاحِدَةٌ. ثُمَّ تَصَفَّحَا آلَ عِمْرَانَ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى قَوْلِهِ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [آل عمران: 135]. قَالَا: هَذِهِ أُخْرَى. ثُمَّ طَبَّقَا الْمُصْحَفَ، ثُمَّ أَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَا: هُمَا هَاتَانِ الْآيَتَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim reported that Abdullah رضي الله عنه said in the Quran are two verses: no servant sins then recites them and seeks Allah's forgiveness except He forgives him. Asked which they were, he did not inform them. Alqamah and al-Aswad رحمهما الله rose to the house, took the mushaf, leafed through al-Baqarah without finding them, then through al-Nisa until they reached, whoever does evil or wrongs himself then seeks Allah's forgiveness shall find Allah Forgiving, Merciful, and said, this is one. Then they leafed through Al Imran until they reached, those who when they commit indecency or wrong themselves remember Allah and seek forgiveness for their sins, and none forgives sins but Allah, and do not persist knowingly, and said, this is the other. They closed the mushaf, returned to Abdullah and asked, are these the two verses. He said, yes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک قرآن میں دو آیات ایسی ہیں کہ جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر وہ ان دونوں آیات کی تلاوت کر لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو اس کی مغفرت ہو جائے گی لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان دونوں آیات کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے بارے میں نہیں بتایا علقمہ اور اسودان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : تم ہمارے ساتھ اٹھ کر چلو اور وہ دونوں اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے انہوں نے قرآن مجید کھولا اور اس کے صفحے پلٹنے شروع کیے انہوں نے سورت بقرہ دیکھی پھر ان دونوں نے کہا : ہمیں اس میں وہ آیات نظر نہیں آئی ہیں ۔ پھر انہوں نے سورت نساء دیکھی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے : ’’ اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کر لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا ‘‘۔ تو انہوں نے کہا : یہ ایک آیت ہو گئی ، پھر انہوں نے سورت آل عمران کے صفحات الٹنے شروع کیے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پہنچے : ’’ جب وہ کوئی برائی کر لیں یا اپنے اوپر ظلم کر لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں ‘ اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں تو گناہوں کی مغفرت صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے ان لوگوں نے جو کیا ہو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے جبکہ وہ علم رکھتے ہوں ‘‘۔ تو ان دونوں نے کہا : یہ دوسری آیت ہو گئی ، پھر ان دونوں نے قرآن مجید بند کیا پھر وہ دونوں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان دونوں نے کہا : وہ دو آیات یہ والی ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے البتہ ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10954

Majma al-Zawaid #10954

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّ فِي النِّسَاءِ لَخَمْسَ آيَاتٍ، مَا يَسُرُّنِي بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْعُلَمَاءَ إِذَا مَرُّوا بِهَا يَعْرِفُونَهَا: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا} [النساء: 31]، وَقَوْلُهُ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40] وَ {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] الْآيَةَ، {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا} [النساء: 64]، {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said that in Surat al-Nisa there are five verses dearer to him than the world and all it contains, well known to scholars: avoidance of major sins bringing expiation and noble entry, Allah not wronging even an atom's weight and multiplying good, Allah forgiving all but shirk, acceptance of those who come seeking forgiveness with the Messenger's intercession, and whoever does evil then seeks forgiveness finding Allah Forgiving, Merciful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورت نساء میں پانچ آیات ایسی ہیں کہ ان کے بدلے میں مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ مجھے دنیا و مافیہا مل جائے اور میں یہ بات جانتا ہوں کہ علماء ( یا اہل علم ) جب ان آیات کو پڑھتے ہیں تو وہ ان کو پہچان لیتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے ‘ تو ہم تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دیں گے اور تمہیں عزت والے ٹھکانے میں داخل کریں گے ‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا ظلم نہیں کرے گا اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دُگنا کر دے گا اور اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا ‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب وہ لوگ اپنے اور پر ظلم کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں اور رسول بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا پائیں گے ‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’ اور جو شخص برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10955

Majma al-Zawaid #10955

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: {إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا} [النساء: 117] قَالَ: مَعَ كُلِّ صَنَمٍ جِنِّيَّتُهُ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab رضي الله عنه said concerning His saying {They call upon nothing besides Him but females} [An-Nisa: 117] that with every idol is its female jinn companion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کو چھوڑ کر صرف مؤنث چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ‘‘۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہر بت کے ساتھ اس کی جنتی ( یعنی مؤنث جن ) ہوتی ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10956

Majma al-Zawaid #10956

عَنْ آمِنَةَ أَنَّهَا «سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِهِ: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: 123] قُلْتُ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، هَذِهِ مُبَايَعَةُ اللَّهِ الْعَبْدَ لِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ، حَتَّى الْبِضَاعَةِ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ، حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَمِينَةُ لَمْ أَعْرِفْهَا.

EnglishUnverified translation

Aminah asked Aishah رضي الله عنها, wife of the Messenger ﷺ, about His saying {Whoever does evil will be recompensed for it} [An-Nisa: 123]. Aishah said none had asked her since she asked the Messenger ﷺ, who explained it as Allah's reckoning of the servant through fever, mishap, thorn-prick, even lost goods causing alarm then found, until the believer emerges from sins as purified as red gold from the furnace. > **"O Aishah, this is Allah's reckoning of the servant for what befalls him of fever, mishap, and thorn, even goods placed in his sleeve then lost causing alarm then found in his side, until the believer emerges from his sins as red gold emerges from the furnace."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

آمنہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ‘ ان سے اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ‘‘۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا ہے اس کے بعد کبھی کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ اے عائشہ ! یہ اللہ تعالیٰ کا بندے کے ساتھ لین دین ہے اللہ تعالیٰ بندے کو بخار تکلیف کانٹا لگنے جیسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ سامان جو اس نے اپنی آستین میں رکھا ہوتا ہے ‘ اور پھر اسے غیر موجود پاتا ہے ‘ اور اس کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے ‘ اور پھر وہ سامان اسے اپنے پہلو میں مل جاتا ہے ( تو اللہ تعالیٰ ان سب کی وجہ سے مؤمن کی مغفرت کر دیتا ہے ) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں کے حوالے سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے بھٹی میں سے سرخ ڈلی نکلتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امینہ نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10957

Majma al-Zawaid #10957

وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: 123] قَالَ: إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ مَا عَمِلْنَا؟ هَلَكْنَا إِذًا. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" نَعَمْ، يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُ فِي الدُّنْيَا مِنْ مُصِيبَتِهِ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ». قُلْتُ: لَهَا فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها, wife of the Prophet ﷺ, reported a man reciting {Whoever does evil will be recompensed for it} [An-Nisa: 123] asking if all deeds bring recompense then are we ruined. When this reached the Messenger ﷺ he affirmed it, explaining the believer is recompensed in this world through bodily affliction and harm. > **"Yes, the believer is recompensed for it in this world, through affliction in his body and what harms him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا ‘‘۔ اس شخص نے کہا : اگر ہمیں ہمارے کیے ہوئے ہر عمل کا بدلہ دیا جائے گا ‘ تو پھر تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جی ہاں مومن کو دنیا میں اس کا بدلہ دے دیا جائے گا جو اس کے جسم میں لاحق ہونے والی مصیبت ( بیماری یا تکلیف ) کی شکل میں ہو گا جو اسے اذیت دیتی ہو گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10958

Majma al-Zawaid #10958

وَعَنْ حَيَّانَ بْنِ بِسْطَامٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَمَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَصْلُوبٌ فَقَالَ: رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا خُبَيْبٍ، سَمِعْتُ أَبَاكَ - يَعْنِي الزُّبَيْرَ - يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمِ بْنِ حَيَّانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hayyan ibn Bistam said he was with Ibn Umar رضي الله عنهما when they passed Abdullah ibn al-Zubayr crucified. Ibn Umar invoked mercy upon him as Abu Khubayb, recalling his father al-Zubayr رضي الله عنه reporting the Messenger ﷺ said whoever does evil is recompensed for it in this world. > **"Whoever does evil will be recompensed for it in this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حیان بن بسطام بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ان کا گزر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جنہیں سولی پر لٹکا دیا گیا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابوخبیب اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے میں نے آپ کے والد یعنی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) یعنی دنیا میں ایسا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیم بن حیان ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10959

Majma al-Zawaid #10959

عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: لَمْ يُكَلِّمِ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا، فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا كَافِرٌ، قَرَأْتُ عَلَى الْأَعْمَشِ، وَقَرَأَ الْأَعْمَشُ عَلَى يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، وَقَرَأَ يَحْيَى بْنُ وَثَّابٍ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، «وَقَرَأَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا} [النساء: 164]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَالَّذِي وَجَدْتُهُ رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالنُّسْخَةُ سَقِيمَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdul-Jabbar ibn Abdullah reported a man came to Abu Bakr ibn Ayyash denying Allah spoke to Musa in speech. He declared such a one a disbeliever, tracing his recitation through al-Amash, Yahya ibn Waththab, Abu Abd al-Rahman, Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه, who recited before the Messenger ﷺ: {And Allah spoke to Musa in speech} [An-Nisa: 164].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالجبار بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ابوبکر بن عیاش کے پاس آیا اور بولا : میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام نہیں کیا تھا ‘ تو ابوبکر بن عیاش نے کہا : وہ شخص کافر ہو گا میں نے اعمش کے سامنے یہ تلاوت کی ہے اعمش نے یحیی بن وثاب کے سامنے تلاوت کی تھی یحییٰ بن وثاب نے ابوعبدالرحمن کے سامنے تلاوت کی تھی اور ابوعبدالرحمن نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی تھی : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے ساتھ کلام کیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے عبدالجبار بن عبداللہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ جس شخص کو میں نے ابوبکر بن عیاش کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے پایا ہے وہ احمد بن عبدالجبار بن میمون ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور وہ نسخہ بھی سقیم ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے .

10960

Majma al-Zawaid #10960

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ} [النساء: 173] قَالَ: "" أُجُورَهُمْ: يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ، الشَّفَاعَةَ لِمَنْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ مِمَّنْ صَنَعَ إِلَيْهِمُ الْمَعْرُوفَ فِي الدُّنْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ فَقَالَ: أَتَى بِخَبَرٍ مُنْكَرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reported the Messenger ﷺ explained His saying {He will pay them their wages and increase them of His bounty} [An-Nisa: 173] as entry into Paradise, with increase meaning intercession for those condemned to Fire among such as had done kindness to them in this world. > **"Their wages: He will admit them to Paradise, and increase them of His bounty: intercession for whomever Fire became due, among those who had done kindness to them in this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تو وہ ( یعنی اللہ تعالیٰ ) انہیں ان کا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا کرے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ان کا اجر یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کر دے گا اور اپنے فضل سے مزید یہ عطا کرے گا کہ وہ اس شخص کی شفاعت کریں گے جس کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو گی ایسا شخص جس نے دنیا میں ان لوگوں کے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ کندی ہے ‘ جسے امام ذہبی نے اپنی طرف سے ضعیف قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : اس نے منکر روایت نقل کی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10961

Majma al-Zawaid #10961

عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «نَزَلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ بِحُذَيْفَةَ، وَإِذَا رَأْسُ نَاقَةِ حُذَيْفَةَ عِنْدَ مُؤْتَزَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَّاهَا إِيَّاهُ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَقَّاهَا إِيَّاهُ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - نَظَرَ عُمَرُ فِي الْكَلَالَةِ، فَدَعَا حُذَيْفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْهَا، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: لَقَدْ لَقَّانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَّيْتُكَ كَمَا لَقَّانِي، وَاللَّهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، وَوَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا أَبَدًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah رضي الله عنه said the verse of Kalalah descended upon the Prophet ﷺ during a journey. The Prophet halted with Hudhayfah's camel-head near his waist, taught it to Hudhayfah, who taught it to Umar رضي الله عنه. In Umar's caliphate when he examined Kalalah and summoned Hudhayfah, Hudhayfah swore he conveyed exactly as taught, truthfully, adding nothing ever.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران نبی اکرم ﷺ پر کلالہ کے حکم سے متعلق آیات نازل ہوئیں آپ رک گئے آپ کے سامنے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ آئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کا سر ‘ نبی اکرم ﷺ کی کمر کے قریب تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سکھائی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا ‘ تو انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نظر آئے انہوں نے وہ آیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سکھا دی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کلالہ کے مسئلہ کا جائزہ لیا تو انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے یہ آیت سکھائی تھی اور جس طرح آپ ﷺ نے مجھے سکھائی تھی اسی طرح میں نے تمہیں سکھا دی اللہ کی قسم ! میں سچا ہوں اور اللہ کی قسم ! میں اس میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں البتہ ابوعبیدہ بن حذیفہ کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

10962

Majma al-Zawaid #10962

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةُ الْمَائِدَةِ، وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَحْمِلَهُ فَنَزَلَ عَنْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما said Surat al-Maidah was sent down upon the Messenger ﷺ while he rode his mount, which could not bear him so he dismounted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پر سورت مائدہ نازل ہوئی آپ اس وقت اپنی سواری پر سوار تھے ‘ تو وہ سواری یہ استطاعت نہیں رکھ سکی کہ وہ آپ کا بوجھ برداشت کرے تو نبی اکرم ﷺ اس سے نیچے اتر آئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10963

Majma al-Zawaid #10963

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: «إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ، نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ نَزَلَتِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا، فَكَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا تَدُقُّ عَضُدَ النَّاقَةِ».

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid رضي الله عنها said she held the halter of al-Adba, the she-camel of the Messenger ﷺ, when all of al-Maidah descended, nearly breaking the camel's foreleg from its weight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی عضباء کی لگام پکڑی ہوئی تھی جب پوری سورت مائدہ نازل ہوئی تو اس کے بوجھ کی وجہ سے اونٹنی کا کندھا ٹوٹنے کے قریب تھا ۔