Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 3

Book of Exegesis

Hadith 10884–10923

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10884

Majma al-Zawaid #10884

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً} [البقرة: 274] قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، كَانَتْ عِنْدَهُ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ، فَأَنْفَقَ بِاللَّيْلِ وَاحِدًا، وَبِالنَّهَارِ وَاحِدًا، وَفِي السِّرِّ وَاحِدًا، وَفِي الْعَلَانِيَةِ وَاحِدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ} [البقرة: 281].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said the verse in al-Baqarah about those who spend their wealth by night and day, secretly and openly, was revealed concerning Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه. He possessed four dirhams, so he spent one by night, one by day, one secretly, and one openly.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جو لوگ اپنے اموال رات میں اور دن میں پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتے ہیں “۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس ) فرماتے ہیں : یہ آیت حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ان کے پاس چار درہم تھے انہوں نے ایک درہم رات کے وقت خرچ کر دیا ایک دن کے وقت خرچ کیا ‘ اور ایک پوشیدہ طور پر خرچ کیا ‘ اور ایک علانیہ طور پر خرچ کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن مجاہد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10885

Majma al-Zawaid #10885

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ} [البقرة: 281]: أَنَّهَا آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {آمَنَ الرَّسُولُ} [البقرة: 285].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning the verse in al-Baqarah, fear a Day in which you will be returned to Allah, that it was the last verse revealed to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا جائے گا ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) یہ نبی اکرم پر ﷺ نازل ہونے والی آخری آیت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

10886

Majma al-Zawaid #10886

عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يَقُولُ: أُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِ السُّورَةِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to say: > **"I was given these verses from the end of Surah al-Baqarah from a treasure beneath the Throne; no Prophet before me was given them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے :’’ مجھے سورت بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے عطا کی گئی ہیں یہ مجھ سے پہلے کسی ( اور ) نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے سورت کے آغاز میں گزر چکے ہیں ۔

10887

Majma al-Zawaid #10887

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَوَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالُوا: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ؟ قَالَ: "" هُوَ مَنْ بَرَّتْ يَمِينُهُ وَصَدَقَ لِسَانُهُ، وَعَفَّ فَرْجُهُ وَبَطْنُهُ، فَذَاكَ الرَّاسِخُ فِي الْعِلْمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا} [آل عمران: 8].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Yazid ibn Adam reported that Abu al-Darda, Abu Umamah, Wathilah ibn al-Asqa, and Anas ibn Malik رضي الله عنهم said the Messenger of Allah ﷺ was asked who are those firmly rooted in knowledge. He ﷺ said: > **"He whose oath is dutiful, whose tongue is truthful, whose private parts and stomach are chaste — such is the one firmly rooted in knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن یزید بن آدم بیان کرتے ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے ان حضرات کا یہ بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا ۔ علم میں رسوخ رکھنے والے لوگ کون ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شخص جس کی قسم سچی ہو جس کی زبان سچی ہو جس کی شرمگاہ اور پیٹ پاک دامن ہوں وہ شخص علم میں رسوخ رکھنے والا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور عبداللہ بن یزید نامی راوی ضعیف ہے ۔

10888

Majma al-Zawaid #10888

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ: "" اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ "". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي؟ قَالَ: "" بَلَى، قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ. وَتَأْتِي بَقِيَّةُ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقَدَرِ وَالْأَدْعِيَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18].

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها said the Messenger of Allah ﷺ often said in supplication: > **"O Allah, Turner of hearts, make my heart firm upon Your religion."** She asked, O Messenger of Allah, do hearts really turn. He ﷺ said: > **"Yes. There is no human among the children of Adam except that his heart is between two of the fingers of Allah, Exalted is He. If Allah wills He keeps it upright, and if He wills He causes it to deviate. So we ask Allah our Lord not to cause our hearts to deviate after He has guided us, and we ask Him to grant us mercy from Himself. Indeed He is the Bestower."** She then asked for a supplication for herself, and he ﷺ said: > **"Say: O Allah, Lord of the Prophet, forgive my sin, remove the rancor of my heart, and protect me from misleading trials as long as You keep us alive."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ دعا میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! اے دلوں کو تبدیل کر دینے والے تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ‘‘۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں اللہ کی مخلوق میں سے اولاد آدم میں سے ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے ‘ تو اس کو اس کی جگہ پر برقرار رکھتا ہے ‘ اور اگر چاہے ‘ تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ‘ تو ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے اس کے بعد کہ وہ ہمیں ہدایت دے چکا ہے ‘ اور ہم اس سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کرے بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ‘‘۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے کسی ایسی دعا کے بارے میں تعلیم نہیں دیں گے جو میں اپنی ذات کے لئے کیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھا کرو : ’’ اے اللہ ! اے محمد نبی کے پروردگار تو میرے گناہ کی مغفرت کر دے میرے دل کی سختی کو ختم کر دے اور مجھے جب تک تو زندہ رکھے گا ‘ تو مجھے فتنوں کی گمراہیوں سے بچا کے رکھنا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ طرق تقدیر اور دعاؤں سے متعلق باب میں آگے آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔

10889

Majma al-Zawaid #10889

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [آل عمران: 18] "" وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدَيْنِ يَا رَبُّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: «{شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} [آل عمران: 18] إِلَى قَوْلِهِ: الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ. قَالَ: "" وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ». وَفِي أَسَانِيدِهِمَا مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-Awwam رضي الله عنه said he heard the Messenger of Allah ﷺ recite the verse in Al Imran, Allah testifies there is no deity but He, and the angels and people of knowledge, upholding justice, there is no deity but He, the Mighty, the Wise. Then he ﷺ said: > **"And I am among the witnesses to that, O my Lord."** In another wording, when he ﷺ recited it he said: > **"And I bear witness that there is no deity but He, the Mighty, the Wise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا : ’’ اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے ‘ اور فرشتے اور اہل علم انصاف پر قائم رہتے ہوئے ( اس بات کی گواہی دیتے ہیں ) کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے ‘‘۔ ( یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور اے میرے پروردگار ! میں بھی اس بات کے گواہوں میں سے ایک ہوں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا : جب آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” غالب اور حکمت والا ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور تو غالب اور حکمت والا ہے ‘‘۔ ان دونوں روایات کی اسناد میں مجہول راوی ہیں ۔

10890

Majma al-Zawaid #10890

وَعَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ قَالَ: «أَتَيْتُ الْكُوفَةَ فِي تِجَارَةٍ فَنَزَلْتُ قَرِيبًا مِنَ الْأَعْمَشِ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أَرَدْتُ أَنْ أَنْحَدِرَ قَامَ فَتَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} [آل عمران: 18 - 19]، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَأَنَا أَشْهَدُ بِمَا شَهِدَ اللَّهُ، وَأَسْتَوْدِعُ اللَّهَ هَذِهِ الشَّهَادَةَ، وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ وَدِيعَةٌ، {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} [آل عمران: 19] قَالَهَا مِرَارًا، قُلْتُ: لَقَدْ سَمِعَ فِيهَا شَيْئًا، فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فَوَدَّعْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تُرَدِّدُ هَذِهِ الْآيَةَ، قَالَ: أَوَمَا بَلَغَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: أَنَا عِنْدَكَ مُنْذُ شَهْرٍ لَمْ تُحَدِّثْنِي، قَالَ: وَاللَّهِ لَا حَدَّثْتُكَ بِهَا سَنَةً، قَالَ: فَأَقَمْتُ سَنَةً، فَكَتَبْتُ عَلَى بَابِهِ، فَلَمَّا مَضَتِ السَّنَةُ قُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، قَدْ مَضَتِ السَّنَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يُجَاءُ بِصَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: عَبْدِي عَهِدَ إِلَيَّ وَأَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَّى الْعَهْدَ، أَدْخِلُوا عَبْدِيَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا} [آل عمران: 83].

EnglishUnverified translation

Ghalib al-Qattan said he came to Kufah for trade and lodged near al-Amash. At night al-Amash rose for tahajjud and repeatedly recited the verses in Al Imran about Allah's testimony of unity and that the religion with Allah is Islam, saying, I bear witness to what Allah has testified to, and I entrust this testimony with Allah as a deposit with Allah. When asked about its merit, al-Amash waited a year then reported from Abu Wail, from Abdullah رضي الله عنه, that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Its companion will be brought on the Day of Resurrection, and Allah the Exalted will say: My servant made a covenant with Me, and I am most entitled to fulfill a covenant. Admit My servant to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

غالب قطان بیان کرتے ہیں : میں تجارت کے سلسلہ میں کوفہ آیا اور اعمش کے گھر کے قریب ایک جگہ پر ٹھہرا جب رات کا وقت ہوا اور میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے تہجد پڑھنا شروع کی وہ یہ آیت تلاوت کرنے لگے : ’’ اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور فرشتے اور اہل علم بھی انصاف پر قائم رہتے ہوئے ( اس بات کی گواہی دیتے ہیں ) کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی دین اسلام ہے ‘‘۔ ( یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ) اعمش نے کہا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے ‘ اور میں یہ گواہی اللہ تعالیٰ کے پاس رکھواتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے پاس پڑی رہے گی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حقیقی دین اسلام ہے یہ کلمات انہوں نے چند مرتبہ کہے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے یہ سوچا کہ انہوں نے اس بارے میں ضرور کوئی حدیث سنی ہوئی ہو گی پھر جب میں ان کے پاس آیا اور ان سے رخصت ہونے لگا ‘ تو میں نے کہا : اے ابومحمد میں نے آپ کو سنا : آپ بار بار یہ آیت پڑھ رہے تھے اعمش نے کہا : کیا تمہارے پاس اس بارے میں کوئی روایت نہیں پہنچی ہے ؟ میں نے کہا : میں تو ایک مہینے سے آپ کے پاس ٹھہرا ہوا ہوں تو آپ نے مجھے تو کوئی حدیث بیان نہیں کی انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں ایک سال تک تمہیں اس بارے میں روایت بیان نہیں کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں ایک سال تک ٹھہرا رہا ایک سال گزرنے کے بعد میں ان کے دروازے پر آیا میں نے کہا : اے ابومحمد ایک سال گزر چکا ہے ۔ انہوں نے بتایا ابووائل نے مجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اس عہد والے شخص کو لایا جائے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا تھا اور میں اس بات کا زیادہ حق دار ہوں کہ میں اس عہد کو پورا کروں تو میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10891

Majma al-Zawaid #10891

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «{وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا} [آل عمران: 83] "" أَمَّا مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ فَالْمَلَائِكَةُ، وَأَمَّا مَنْ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ وُلِدَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا كَرْهًا فَمَنْ أُتِيَ بِهِ مِنْ سَبَايَا الْأُمَمِ فِي السَّلَاسِلِ وَالْأَغْلَالِ، يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَصِّنٍ الْعُكَّاشِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ concerning the verse in Al Imran, to Him submits whoever is in the heavens and earth, willingly or unwillingly. > **"As for those in the heavens, they are the angels. As for those on earth, they are those born upon Islam. As for unwillingly, they are the captives of nations brought in chains and fetters, driven toward Paradise while they dislike it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اُسی کی فرمانبرداری اختیار کیے ہوئے ہے ہر وہ فرد جو آسمانوں میں ہے ‘ اور جو زمین میں ہے ‘ اپنی خوشی کے ساتھ یا مجبوری کے عالم میں ( یعنی ہر حال میں ) ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) جو آسمانوں میں ہے اس سے مراد فرشتے ہیں ‘ اور جو زمین میں ہے اس سے مراد وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوتے ہیں جہاں تک مجبوری والے لوگوں کا تعلق ہے ‘ تو یہ وہ ہیں ‘ جو مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے قیدی ہوں گے انہیں بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جائے گا اور جنت کی طرف لے جایا جائے گا حالانکہ وہ اس حوالے سے مجبور ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

10892

Majma al-Zawaid #10892

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَضَرَتْنِي هَذِهِ الْآيَةُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92]، فَذَكَرْتُ مَا أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ مُرْجَانَةَ، جَارِيَةٍ لِي رُومِيَّةٍ. فَقَالَ: هِيَ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ، فَلَوْ أَنِّي أَعُودُ فِي شَيْءٍ جَعَلْتُهُ لِلَّهِ لَنَكَحْتُهَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: 102].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما said the verse came to his mind, you shall not attain righteousness until you spend from what you love. He considered what Allah had granted him and found nothing dearer to him than Marjanah, his Roman slave-girl. So he declared her free for the sake of Allah, adding that were he to take back anything he had made for Allah he would have married her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے اس آیت کا خیال آیا :’’ تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس چیز میں سے خرچ نہیں کرتے جس سے تم محبت رکھتے ہو ‘‘۔ پھر میں نے ان چیزوں کا جائزہ لیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہیں تو مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو میرے نزدیک مجانہ نامی میری رومی کنیز سے زیادہ محبوب ہو ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اگر میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر آزاد قرار دینے والی کسی چیز کو واپس لینا ہوتا تو میں اس کنیز کے ساتھ نکاح کر لیتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10893

Majma al-Zawaid #10893

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: 102]. قَالَ: أَنْ يُطَاعَ فَلَا يُعْصَى، وَأَنْ يُشْكَرَ فَلَا يُكْفَرَ، وَأَنْ يُذْكَرَ فَلَا يُنْسَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالْآخَرُ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا} [آل عمران: 103].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه explained the verse in Al Imran, fear Allah His true fear. He said it means that He is obeyed and not disobeyed, thanked and not denied, remembered and not forgotten.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالٰی سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : اس کی یوں اطاعت کی جائے کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے اس کا یوں شکر کیا جائے کہ اس کی ناشکری نہ کی جائے اور اسے یوں یاد کیا جائے کہ اسے بھلایا نہ جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور دوسری کے رجال ضعیف ہیں ۔

10894

Majma al-Zawaid #10894

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا} [آل عمران: 103] قَالَ: الْقُرْآنُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه explained the verse in Al Imran, hold firmly all together to the rope of Allah. He said it means the Quran.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد قرآن ہے ۔

10895

Majma al-Zawaid #10895

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: حَبْلُ اللَّهِ: الْجَمَاعَةُ. وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالثَّانِي مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

In another report concerning the same verse, hold to the rope of Allah, he said the rope of Allah means the united community.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے یہ فرمایا : اللہ کی رسی سے مراد جماعت ہے ۔ پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور دوسری روایت سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔

10896

Majma al-Zawaid #10896

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ هَذَا الصِّرَاطَ مُحْتَضَرٌ تَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ، يَقُولُونَ: يَا عِبَادَ اللَّهِ، هَذَا الطَّرِيقُ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ، قَالَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ كِتَابُ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ} [آل عمران: 101].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said this path is attended, devils attend it calling, O servants of Allah, this is the way. Hold to the rope of Allah, for the straight path is the Book of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ راستہ سامنے موجود ہے جس میں شیاطین موجود ہوتے ہیں ‘ اور وہ یہ کہتے ہیں : اے اللہ کے بندو ! تم اس راستے پر آ جاؤ تو تم لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کے رکھو کیونکہ سیدھا راستہ اللہ کی کتاب ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10897

Majma al-Zawaid #10897

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ} [آل عمران: 101] قَالَ: كَانَ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ يَتَحَدَّثُونَ إِذَا ذَكَرُوا أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ، فَغَضِبُوا حَتَّى كَانَ بَيْنَهُمْ حَرْبٌ، فَأَخَذُوا السِّلَاحَ، وَمَشَى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَزَلَتْ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ} [آل عمران: 101] إِلَى قَوْلِهِ: {فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا} [آل عمران: 103]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: 110].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse in Al Imran, how can you disbelieve while the verses of Allah are recited to you and His Messenger is among you. He said Aws and Khazraj were recalling pre-Islamic days, became angry until war nearly broke out, seized weapons and advanced toward one another. Then the verse was revealed down to His statement, and He rescued you from it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تم وہ لوگ ہو کہ تمہارے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں ‘ اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اوس اور خزرج قبیلے کے لوگ زمانہ جاہلیت کے حالات کا تذکرہ کر رہے تھے اس دوران وہ لوگ مشتعل ہو گئے یہاں تک کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہونے لگی یہاں تک کہ انہوں نے ہتھیار پکڑ لئے اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور تم لوگ کیسے کفر کر سکتے ہو جبکہ تم پر اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ اور تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابولیث ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10898

Majma al-Zawaid #10898

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ} [آل عمران: 110]، قَالَ: هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَيْسُوا سَوَاءً} [آل عمران: 113].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse, you are the best nation brought forth for people, enjoining good and forbidding wrong. He said they are those who emigrated with Muhammad ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور تم برائی سے منع کرتے ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10899

Majma al-Zawaid #10899

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، وَثَعْلَبَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَأَسَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْ أَسْلَمَ مِنْ يَهُودَ، فَآمَنُوا وَصَدَّقُوا وَرَغِبُوا فِي الْإِسْلَامِ، قَالَتْ أَحْبَارُ يَهُودَ أَهْلُ الْكُفْرِ: مَا آمَنَ بِمُحَمَّدٍ وَلَا تَبِعَهُ إِلَّا شِرَارُنَا، وَلَوْ كَانُوا مِنْ خِيَارِنَا مَا تَرَكُوا دِينَ آبَائِهِمْ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِ: {لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ} [آل عمران: 113]، إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {مِنَ الصَّالِحِينَ} [آل عمران: 114]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ} [آل عمران: 118].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said when Abdullah ibn Salam, Thalabah ibn Shubah, Asad ibn Ubayd, and other Jews embraced Islam, believed, affirmed, and desired Islam, the unbelieving rabbis said none believed in Muhammad except our worst; had they been among our best they would not have left their fathers' religion. So Allah revealed concerning that, they are not alike, from the People of the Book, up to His statement, among the righteous.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور حضرت ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسد بن عبید رضی اللہ عنہ اور یہودیوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے اسلام قبول کر لیا وہ ایمان لے آئے انہوں نے تصدیق کر دی اور اسلام میں رغبت ظاہر کی تو یہودیوں کے علماء نے یہ کہا : یہ اہل کفر ہیں ۔ حضرت محمد ( ﷺ ) پر جو لوگ بھی ایمان لائے اور جنہوں نے ان کی پیروی کی وہ ہمارے برے لوگ تھے اگر وہ ہمارے بہترین لوگوں میں سے ہوتے تو اپنے آبا ؤ اجداد کا دین ترک نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگ برابر نہیں ہیں ‘‘۔ یہ آیت یہاں سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے : ’’ نیک لوگوں میں سے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10900

Majma al-Zawaid #10900

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ} [آل عمران: 118]، قَالَ: هُمُ الْخَوَارِجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {مُسَوِّمِينَ} [آل عمران: 125].

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning the verse in Al Imran, O you who believe, do not take intimate associates besides yourselves, they will spare you no ruin, hatred has appeared from their mouths and what their breasts conceal is greater. > **"They are the Khawarij."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ایمان والو ! تم اپنے علاوہ ( کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد ) کو راز دار نہ بناؤ کیونکہ وہ لوگ تمہارے بارے میں فتنہ انگیزی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے اور وہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ تمہیں تکلیف لاحق ہو ان کے منہ سے بغض ظاہر ہو جاتا ہے ‘ اور جو ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے وہ زیادہ بڑا ہے ہم نے تمہارے لئے واضح آیات بیان کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یا حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اس سے مراد خوارج ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

10901

Majma al-Zawaid #10901

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «فِي قَوْلِهِ: {مُسَوِّمِينَ} [آل عمران: 125]، قَالَ: "" مُعَلَّمِينَ، وَكَانَتْ سِيمَا الْمَلَائِكَةِ يَوْمَ بَدْرٍ عَمَائِمَ سُودًا، وَيَوْمَ أُحُدٍ عَمَائِمَ حُمْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ حَبِيبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ} [آل عمران: 133].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said the Messenger of Allah ﷺ said concerning His statement, marked: > **"Marked means distinguished. The insignia of the angels on the day of Badr was black turbans, and on the day of Uhud red turbans."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جن پر نشان لگایا گیا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : ان پر نشان لگایا گیا اور غزوہ بدر کے موقع پر فرشتوں کی مخصوص نشانی سیاہ عمانے تھے اور غزوہ احد کے موقع پر ان کی مخصوص نشانی سرخ عمامے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالقدوس بن حبیب ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10902

Majma al-Zawaid #10902

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ: {وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ} [آل عمران: 133]؟ قَالَ: فَأَيْنَ النَّارُ؟ قَالَ: "" أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ كَانَ ثُمَّ لَيْسَ شَيْءٌ "". فَأَيْنَ النَّهَارُ؟ قَالَ: "" حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ "". قَالَ: "" فَكَذَلِكَ النَّارُ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ} [آل عمران: 146].

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه said a man came to the Messenger of Allah ﷺ and asked about His statement, and a Paradise whose expanse is the heavens and earth. He asked, then where is Hellfire. He ﷺ said: > **"Consider the night: it was, then there is nothing of it. So where is the day."** The man replied, where Allah wills. He ﷺ said: > **"So too the Fire is where Allah wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اس نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ’’ اور جنت جس کی چوڑائی آسمان اور زمین جتنی ہے ‘‘۔ اس شخص نے دریافت کیا تو پھر جہنم کہاں ہو گی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے یہ ہوتی ہے ‘ اور پھر نہیں ہوتی ہے جب ہوتی ہے ‘ تو دن کہاں جاتا ہے ‘ تو اس نے کہا : جہاں اللہ کو منظور ہوتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسی طرح جہنم بھی وہاں ہو گی جہاں اللہ کو منظور ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10903

Majma al-Zawaid #10903

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ {وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ} [آل عمران: 146]، قَالَ: أُلُوفٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه explained the verse, and how many a Prophet fought alongside whom were many devotees. He said they numbered in the thousands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور کتنے ہی نبی ایسے ہیں جن کے ساتھ بہت سے اللہ والوں نے جنگ میں حصہ لیا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔

10904

Majma al-Zawaid #10904

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى نَزَلَتْ فِينَا يَوْمَ أُحُدٍ: {مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [آل عمران: 152]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - تَقَدَّمَ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ - وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said he had not thought any Companion of the Messenger of Allah ﷺ desired this world, until there was revealed concerning them on the day of Uhud, among you are those who desire this world and among you are those who desire the Hereafter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلے میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی شخص دنیا بھی چاہتا ہو گا یہاں تک کہ غزوہ اُحد کے موقع پر ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو دنیا چاہتے ہیں ‘ اور کچھ وہ لوگ ہیں جو آخرت چاہتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے غزوۂ احد سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

10905

Majma al-Zawaid #10905

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا} [آل عمران: 154] قَالَ: أُلْقِيَ عَلَيْنَا النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه explained the verse, then He sent down upon you after grief security in slumber. He said slumber was cast upon them on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالٰی ہے : ) ’’ پھر اس نے پریشانی کے بعد تم پر اونگھ کی شکل میں امان نازل کر دی ‘‘۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ہم پر اونگھ طاری کر دی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10906

Majma al-Zawaid #10906

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: النُّعَاسُ أَمَنَةً - عِنْدَ الْقِتَالِ - مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, said slumber granting security during fighting is from Allah, Exalted is He, while slumber during prayer is from Satan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ کے وقت جو اونگھ آئے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی امان ہوتی ہے اور نماز کے دوران آنے والی اونگھ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ کہا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10907

Majma al-Zawaid #10907

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ} [آل عمران: 161]. قَالَ: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَّهِمَهُ أَصْحَابُهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse, it is not for a Prophet to commit breach of trust. He said it means it is not for a Prophet that his Companions accuse him of suspicion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے ساتھی اس پر تہمت عائد کریں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10908

Majma al-Zawaid #10908

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا فَرُدَّتْ رَايَتُهُ، ثُمَّ بَعَثَ فَرُدَّتْ، ثُمَّ بَعَثَ فَرُدَّتْ بِغُلُولِ رَأْسِ غَزَالٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَزَلَتْ: {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ} [آل عمران: 161]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said the Prophet ﷺ sent an army whose banner was turned back, then sent again and it was turned back, then sent again and it returned having misappropriated the golden head of a young gazelle. Then the verse was revealed, it is not for a Prophet to commit breach of trust.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا وہ واپس آ گیا پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا وہ واپس آ گیا پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا ‘ اور وہ واپس آئے ‘ تو انہوں نے سونے سے بنا ہوا ‘ ہرن کے بچے کے سر کی خیانت کی تھی ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے .......‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10909

Majma al-Zawaid #10909

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} [آل عمران: 169]، إِلَى يُرْزَقُونَ، قَالَ: أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ كَطَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ. فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا أَلَسْنَا نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا؟ قَالَ: ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا أَلَسْنَا نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا؟ قَالَ: ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ؟ قَالُوا: تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلَ فِي سَبِيلِكَ فَنُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى. قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَهُ أَسَانِيدُ أُخَرُ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Masruq said they asked Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, about the verse, do not think those killed in the path of Allah are dead, up to they are provided for. He said the souls of martyrs are with Allah like green birds with lamps suspended from the Throne, roaming in Paradise wherever they wish. Their Lord looked upon them and said: > **"Do you desire anything so I may increase it for you."** They replied, Our Lord, do we not roam in Paradise wherever we wish. He looked upon them a second time and a third time with the same question, until they said, return our souls to our bodies so we may fight in Your path and be killed once more. Then He remained silent toward them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا اور جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا گیا انہیں مردہ ہرگز شمار نہ کرو ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” انہیں رزق دیا جاتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ شہداء کی ارواح ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سبز پرندوں کی مانند ہوتی ہیں ان کے لئے عرش کے ساتھ قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر فرماتا ہے : کیا تمہیں مزید کسی چیز کی خواہش ہے تاکہ وہ میں تمہیں دے دوں ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں جا سکتے ہیں پھر پروردگار ان کی طرف دوسری مرتبہ متوجہ ہو کر دریافت کرتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے کہ میں وہ تمہیں مزید دے دوں ؟ وہ عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار کیا ہم جنت میں جہاں چاہیں وہاں جا نہیں سکتے ہیں پھر تیسری مرتبہ پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے جو میں تمہیں مزید دوں ؟ تو وہ عرض کرتے ہیں تو ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم تیری بارگاہ میں جہاد کریں اور ہمیں پھر قتل کر دیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں : تو پروردگار ان کے حوالے سے خاموش ہو جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس کی کچھ دیگر ضعیف اسانید بھی ہیں ۔

10910

Majma al-Zawaid #10910

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ حَمْزَةُ وَأَصْحَابُهُ بِأُحُدٍ قَالُوا: لَيْتَ مَنْ خَلْفَنَا عَلِمُوا مَا أَعْطَانَا اللَّهُ مِنَ الثَّوَابِ، لِيَكُونَ أَجْرَأَ لَهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أُعْلِمُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} [آل عمران: 169] الْآيَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Jubayr رحمه الله said when Hamzah رضي الله عنه and his companions were struck at Uhud they said, would that those behind us knew what reward Allah granted us, so they would be bolder. Allah said, I shall inform them, and revealed, do not think those killed in the path of Allah are dead.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : جب غزوہ اُحد کے موقع پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے تو انہوں نے کہا : کاش ہمارے پیچھے والے لوگ یہ بات جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا اجر و ثواب عطا کیا ہے ؟ تاکہ وہ اس کے حصول کے لئے زیادہ جرات کرتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں ان لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا گیا ہو تم انہیں مردہ ہرگز گمان نہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یہ روایت مرسل ہے ۔

10911

Majma al-Zawaid #10911

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِهِ: {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: يُطَوَّقُ شُجَاعًا أَقْرَعَ بِفِيهِ زَبِيبَتَانِ، يَنْقُرُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ؟! فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, explained the verse, what they withheld shall be collared upon them on the Day of Resurrection. He said he will be collared with a bald serpent with two spots over its mouth, pecking at his head. The man will say, what is between me and you. It will reply: > **"I am your wealth which you withheld."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ انہوں نے جس چیز کے بارے میں بخل کیا اس چیز کو عنقریب قیامت کے دن ان کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انہیں گنجا سانپ طوق کے طور پر پہنایا جائے گا جس کے منہ پر دو نقطے ہوں گے وہ اس کے سر پر دانت مارے گا ‘ تو وہ شخص یہ کہے گا : میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ وہ جواب دے گا : میں تمہارا وہ مال ہوں جس کے بارے میں تم نے بخل کیا تھا ۔

10912

Majma al-Zawaid #10912

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَنْقُرُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180]. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another report from Abdullah رضي الله عنه, whoever possesses wealth and does not pay its zakah will be collared on the Day of Resurrection with a bald serpent pecking his head, saying: > **"I am your wealth over which you were miserly."** This is the meaning of, what they withheld shall be collared upon them on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت جو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ہے اس کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں : جس شخص کا مال ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے گنجے سانپ کی شکل میں اس کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا وہ اس کے سر پر دانت مارے گا اور یہ کہے گا ۔ میں تمہارا وہ مال ہوں جس کے حوالے سے تم بخل کیا کرتے تھے ۔ ( اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ) ’’ وہ جس چیز کے بارے میں بخل کرتے تھے قیامت کے دن وہ چیز انہیں طوق کے طور پر پہنا دی جائے گی ‘‘۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ‘ اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

10913

Majma al-Zawaid #10913

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتْ قُرَيْشٌ الْيَهُودَ، فَقَالُوا: بِمَا جَاءَكُمْ مُوسَى، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: عَصَاهُ وَيَدُهُ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ. وَأَتَوُا النَّصَارَى فَقَالُوا: كَيْفَ كَانَ عِيسَى، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى. فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا، [فَدَعَا رَبَّهُ] فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: 190]. "" فَلْيَتَفَكَّرُوا فِيهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Quraysh went to the Jews and asked what miracles Musa عليه السلام brought; they said his staff and his shining white hand. They went to the Christians and asked about Isa عليه السلام; they said he healed the blind and leper and revived the dead. Then they came to the Prophet ﷺ and asked him to invoke his Lord to turn Safa into gold for them. He supplicated, and the verse was revealed, indeed in the creation of heavens and earth and alternation of night and day are signs for people of understanding. Let them reflect upon it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش یہودیوں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : حضرت موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا چیز ( یعنی معجزات ) لے کر آئے تھے ؟ یہودیوں نے بتایا ان کا عصا تھا اور ان کا روشن ہاتھ تھا ‘ جو دیکھنے والے کو روشن لگتا تھا پھر قریش عیسائیوں کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کیا عالم تھا انہوں نے بتایا کہ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے پھر قریش نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے یہ دعا کریں کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے پروردگار سے دعا کی تو یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اختلاف میں عقل مند لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) یعنی ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس میں غور و فکر کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10914

Majma al-Zawaid #10914

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ} [آل عمران: 191]، قَالَ: إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَائِمًا فَقَاعِدًا وَإِلَّا فَمُضْطَجِعًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه explained the verse, those who remember Allah standing, sitting, and upon their sides. He said if one cannot pray standing, then sitting, and if not, then reclining.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ جو قیام کی حالت میں اور بیٹھنے کی حالت میں اور اپنے پہلو کے بل ( لیٹنے کی حالت میں ) اللہ کا ذکر کرتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھے گا اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ لیٹ کر نماز ادا کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند منقطع ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10915

Majma al-Zawaid #10915

عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَوْمًا تَأَجَّجُ أَفْوَاهُهُمْ نَارًا "". فَقِيلَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا} [النساء: 10].» رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Barzah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah will raise on the Day of Resurrection a people whose mouths blaze with fire."** It was asked, who are they, O Messenger of Allah. He ﷺ said: > **"Have you not seen that Allah says: Indeed those who consume the wealth of orphans unjustly only consume fire in their bellies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو بھیجے گا وہ اپنے منہ میں آگ ڈالنا شروع کریں گے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ وہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک وہ لوگ جو یتیموں کے اموال ظلم کے طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

10916

Majma al-Zawaid #10916

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: 15] قَالَ: كُنْ يُحْبَسْنَ فِي الْبُيُوتِ فَإِنْ مَاتَتْ مَاتَتْ، وَإِنْ عَاشَتْ عَاشَتْ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ} [النور: 2]. وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْحُدُودِ، فَمَنْ عَمِلَ شَيْئًا جُلِدَ وَأُرْسِلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَى الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُنْ يُحْبَسْنَ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَمُتْنَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ وَنَزَلَتِ الْحُدُودُ نَسَخَتْهَا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse in al-Nisa concerning women who commit indecency. He said they were confined in houses; if she died she died, if she lived she lived, until the verse in Surah al-Nur was revealed, flog each of them one hundred lashes, and the chapter of prescribed punishments came down. Whoever did such an act was flogged and released. This abrogated confinement.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تمہاری عورتوں میں سے جو برائی کا ارتکاب کرے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ایسی خواتین کو گھروں میں پابند کر دیا جاتا تھا اگر وہ مرتی تھیں تو مر جاتی تھیں اگر زندہ رہتی تھیں تو زندہ رہتی تھیں یہاں تک کہ وہ آیت نازل ہوئی ‘ جو سورت نور میں ہے : ’’ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ، ان میں سے ہر ایک کو ایک سو کوڑے لگاؤ ‘‘۔ اور سورت حدود نازل ہو گئی تو جو شخص ایسا کوئی عمل کرتا تھا اسے کوڑے لگائے جاتے تھے اور پھر چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایسی خواتین کو مرتے دم تک گھروں میں پابند رکھا جاتا تھا جب سورت نور نازل ہو گئی اور حدود کا حکم نازل ہو گیا تو اس نے اسے منسوخ کر دیا . اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن اسحاق بن موسیٰ انصاری کا معاملہ ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔ پابند رکھا جاتا تھا جب سورت نور نازل ہوگئی اور حدود کا حکم نازل ہو گیا تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن اسحاق بن موسیٰ انصاری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

10917

Majma al-Zawaid #10917

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا حَبْسَ بَعْدَ سُورَةِ النِّسَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said when Surah al-Nisa was revealed the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no confinement after Surah al-Nisa."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب سورت نساء نازل ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سورت نساء کے بعد ( گھر میں ) محبوس رکھنے کا حکم نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10918

Majma al-Zawaid #10918

عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: «تُوُفِّيَ أَبُو قَيْسٍ مِنْ صَالِحِي الْأَنْصَارِ، فَخَطَبَ ابْنُهُ قَيْسٌ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: أَنَا أَعُدُّكَ وَلَدًا وَأَنْتَ مِنْ صَالِحِي قَوْمِكَ، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْتَأْمِرُهُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا قَيْسٍ تُوُفِّيَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: خَيْرًا، قَالَتْ: وَإِنَّ ابْنَهُ قَيْسًا خَطَبَنِي، وَهُوَ مِنْ صَالِحِي قَوْمِهِ، وَإِنَّمَا كُنْتُ أَعُدُّهُ وَلَدًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْجِعِي إِلَى بَيْتِكِ "". فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 22].» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

A man of the Ansar said Abu Qays, among the righteous Ansar, died, and his son Qays proposed to his widow. She replied, I count you as a son and you are among the righteous of your people, but I shall consult the Messenger of Allah ﷺ. She came to him ﷺ and told him of the death and proposal. He ﷺ spoke kindly to her then said: > **"Return to your house."** Then the verse was revealed, do not marry those women whom your fathers married.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ابوقیس کا انتقال ہو گیا وہ انصار کے نیک لوگوں میں سے ایک تھے ان کے بیٹے قیس نے ان کی اہلیہ کو شادی کا پیغام بھیجا تو اس نے کہا : میں تو تمہیں اپنا بیٹا شمار کرتی تھی اور تم اپنی قوم کے نیک افراد میں سے ایک ہو البتہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے اس بارے میں دریافت کر لیتی ہوں پھر وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : ابوقیس کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے بھلائی کے کلمات ارشاد فرمائے اس خاتون نے بتایا کہ اس کے بیٹے قیس نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے ‘ اور وہ اپنی قوم کے نیک افراد میں سے ایک ہیں ‘ اور میں تو انہیں بیٹا ہی سمجھتی ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : تم اپنے گھر واپس چلی جاؤ پھر یہ آیت نازل ہو گئی : ’’ تم ان کے ساتھ نکاح نہ کرو جن خواتین کے ساتھ تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہیں ۔

10919

Majma al-Zawaid #10919

عَنْ رَزِينٍ الْجُرْجَانِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 24]. قَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا. فَسَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ، وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَسْأَلُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «نَزَلَتْ يَوْمَ خَيْبَرَ، لَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَرْأَةَ مِنْهُنَّ قَالَتْ: إِنَّ لِي زَوْجًا. فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 24] الْآيَةَ». يَعْنِي: السَّبِيَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ تُصَابُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ: صَدَقَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرَزِينٌ الْجُرْجَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Razin al-Jurjani said he asked Said ibn Jubayr رحمه الله about the verse, married women, and he had no knowledge of it. He asked al-Dahhak ibn Muzahim, who testified he heard Said ask Ibn Abbas رضي الله عنهما about it. Ibn Abbas said it was revealed on the day of Khaybar when the Messenger of Allah ﷺ conquered it and Muslims found women of the People of the Book with husbands; when a man wished such a woman she would say, I have a husband. The Messenger of Allah ﷺ was asked, and Allah revealed, married women, meaning a captive from polytheists taken is lawful without harm. When this was mentioned to Said ibn Jubayr he said, he spoke truthfully.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رزین جرجانی بیان کرتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا : ’’ عورتوں میں سے شوہروں والیاں ‘‘۔ انہوں نے فرمایا : مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے میں نے ضحاک بن مزاحم سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ اور ان کے سامنے سعید بن جبیر کا جواب ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے انہیں اس آیت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے سنا ہے ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا : یہ غزوہ خیبر کے موقع پر نازل ہوئی تھی جب نبی اکرم ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا تو مسلمانوں کو اہل کتاب کی ایسی خواتین ملیں جن کے شوہر موجود تھے جب کوئی مسلمان ایسی کسی عورت کے ساتھ صحبت کرنے لگتا تھا ، تو وہ عورت یہ کہہ دیتی تھی میرا تو شوہر موجود ہے جب نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ عورتوں میں سے شوہروں والیاں ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : مشرکین سے تعلق رکھنے والی قیدی عورتوں کے ساتھ صحبت کی جا سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے کہا : انہوں نے ( یعنی ضحاک بن مزاحم نے ) سچ کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور رزین جرجانی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10920

Majma al-Zawaid #10920

وَعَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24]، قَالَ عَلِيٌّ: الْمُشْرِكَاتُ إِذَا سُبِينَ حَلَّتْ لَهُ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: الْمُشْرِكَاتُ وَالْمُسْلِمَاتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه and Ibn Masud رضي الله عنه explained the verse, married women except those your right hands possess. Ali said polytheist women when captured become lawful to him, while Ibn Masud said both polytheist and Muslim women are covered by the ruling.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور عورتوں میں سے شوہروں والیاں ‘ البتہ ان کا معاملہ مختلف ہے جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مشرک عورتوں کو جب قیدی بنا لیا جائے تو ایسی عورت آدمی کے لئے حلال ہو جائے گی ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس بارے میں مشرک اور مسلمان خواتین ( دونوں کا حکم برابر ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10921

Majma al-Zawaid #10921

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: 29]، قَالَ: إِنَّهَا مُحْكَمَةٌ مَا نُسِخَتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه explained the verse, O you who believe, do not consume your wealth among yourselves unjustly except through mutually agreeable trade. He said it is decisive and was never abrogated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ایمان والو ! تم ایک دوسرے کے اموال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ البتہ تمہاری باہمی رضا مندی کے ساتھ جو تجارت کے طور پر ہو اس کا حکم مختلف ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت محکم ہے ‘ اور یہ منسوخ نہیں ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10922

Majma al-Zawaid #10922

عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمْ نَرَ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ رَبِّنَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ لَهُ مِنْ كُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ، إِنْ تَجَاوَزَ لَنَا عَنْ مَا دُونَ الْكَبَائِرِ، يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا} [النساء: 31]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْجَلْدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said they had seen nothing like what reached them from their Lord, Blessed and Exalted is He, then they did not forsake for Him family and wealth, for He overlooked for them what is lesser than major sins. Allah says, if you avoid the major sins you are forbidden, We shall expiate your misdeeds and admit you to a noble entrance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہمیں اپنے پروردگار کی طرف سے جو احکام ملے ہیں ‘ ہم نے ان کی مانند کوئی چیز نہیں دیکھی ، پھر ہم نے اس کے لیے اپنے اہل خانہ اور مال کو بھی نہیں چھوڑا ‘ اور اس نے ہم سے ان ( گناہوں ) کے حوالے سے بھی تجاوز کیا ہے ‘ جو کبیرہ سے کم ہوتے ہیں : اُس نے یہ ارشاد فرمایا ہے : اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے ‘ تو ہم تمہاری برائیوں کو تم سے ختم کر دیں گے اور تمہیں عزت والے ٹھکانے میں داخل کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جلد بن ایوب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10923

Majma al-Zawaid #10923

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ، يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ قَالَ: مَا بَيْنَ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى رَأْسِ ثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَبْوَابُ الْكَبَائِرِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, was asked about major sins. He said they are what lies between the beginning of Surah al-Nisa up to about thirty verses.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں دریافت کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : یہ وہ ہیں جو سورت نساء کے آغاز سے لے کر تیسری آیت تک بیان ہوئے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان کے آخر میں کبیرہ گناہوں سے متعلق ابواب گزر چکے ہیں ۔