Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 2

Book of Exegesis

Hadith 10844–10883

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10844

Majma al-Zawaid #10844

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: {فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 178] قَالَ: كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا قُتِلَ مِنْهُمُ الْقَتِيلُ عَمْدًا لَمْ يَحِلَّ لَهُمْ إِلَّا الْقَوَدُ، وَأُحِلَّ الدِّيَةُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ، فَأُمِرَ هَذَا أَنْ يَتَّبِعَ بِمَعْرُوفٍ، وَأُمِرَ هَذَا أَنْ يُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ، ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} [البقرة: 185].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: Then following with kindness and payment to him with excellence: Among Bani Israil, when one was deliberately killed, only retaliation was lawful for them. Blood money was made lawful for this nation. This one was commanded to follow with kindness, and this one to pay with excellence. That is a lightening from your Lord. > **"Follow with kindness and pay with excellence. That is a lightening from your Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تو معروف طریقے کے ہمراہ پیروی ہو گی اور احسان ( یا بھلائی ) کے ہمراہ اسے ادائیگی کی جائے گی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص جب کسی کو قتل عمد کے طور پر قتل کر دیتا تھا ، تو ان میں صرف قصاص کا حکم تھا اس امت کے لئے دیت کو حلال قرار دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ حکم دیا کہ وہ معروف طریقے سے پیروی کرے گا اور دوسرے شخص کو یہ حکم دیا کہ وہ بھلائی کے ہمراہ ادائیگی کرے گا یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے عطا کردہ تخفیف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی معمری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10845

Majma al-Zawaid #10845

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} [البقرة: 185] وَقَوْلِهِ: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ} [الدخان: 3] فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ فِي رَمَضَانَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ جُمْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أُنْزِلَ عَلَى مَوَاقِعِ النُّجُومِ رَسْلًا فِي الشُّهُورِ وَالْأَيَّامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: 156].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, was asked about His sayings: The month of Ramadan in which the Quran was revealed, and: We sent it down on a blessed night: He said it was sent down in Ramadan on Laylat al-Qadr, the blessed night, all at once, then sent down at the stations of the stars gradually over months and days. > **"It was sent down all at once on Laylat al-Qadr, then gradually over months and days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘‘۔ جبکہ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں نازل کیا ہے ‘‘۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ رمضان میں شب قدر میں نازل کیا گیا جو برکت والی رات ہے اس میں ایک ہی مرتبہ نازل ہوا اور پھر یہ آسمان سے وقفے وقفے سے مختلف مہینوں اور دنوں میں نازل ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10846

Majma al-Zawaid #10846

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: «{الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} [البقرة: 156]. قَالَ: أَخْبَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا سَلَّمَ لِأَمْرِ اللَّهِ وَرَجَعَ، فَاسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ، كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُ خِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ: الصَّلَاةُ مِنَ اللَّهِ، وَالرَّحْمَةُ، وَتَحْقِيقُ سَبِيلِ الْهُدَى. وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنِ اسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جَبَرَ اللَّهُ مُصِيبَتَهُ، وَأَحْسَنَ عُقْبَاهُ، وَجَعَلَ لَهُ خَلَفًا يَرْضَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ} [البقرة: 187].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: Those who, when calamity strikes them, say indeed we belong to Allah and to Him we return, upon them are blessings from their Lord and mercy, and they are guided: Allah informed that when a believing servant submits to Allah's decree and returns, saying the retrieval phrase at calamity, three good traits are written for him: prayer from Allah, mercy, and realization of guidance. The Messenger ﷺ of Allah ﷺ, said, whoever says the retrieval phrase at calamity, Allah will mend his calamity, grant him a good outcome, and give him a replacement he is pleased with. > **"Whoever says the retrieval phrase at calamity, Allah will mend his calamity, grant him a good outcome, and give him a replacement he is pleased with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے ‘ تو وہ یہ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ‘ اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود نازل ہوتا ہے ‘ اور رحمت نازل ہوتی ہے ‘ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ اور مصیبت کے وقت «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھتا ہے ‘ تو اس کے لئے تین قسم کی بھلائیاں نوٹ کر لی جاتی ہیں ‘ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور ہوتا ہے رحمت ہوتی ہے ‘ اور حق کا راستہ واضح ہو جاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص مصیبت کے وقت «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت ( کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناگوار صورتحال کو ) ٹھیک کر دے گا اور اس کو اچھا انجام نصیب کرے گا اور اس ( فوت ہونے والی چیز کی جگہ ) اسے ایسی چیز عطا کرے گا جس سے وہ راضی ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

10847

Majma al-Zawaid #10847

«عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ فِي رَمَضَانَ إِذَا صَامَ الرَّجُلُ فَأَمْسَى فَنَامَ، حَرُمَ عَلَيْهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنَ الْغَدِ. فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ سَمَرَ عِنْدَهُ، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَدْ نَامَتْ، فَأَرَادَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي نِمْتُ، فَقَالَ: مَا نِمْتِ. ثُمَّ وَقَعَ بِهَا، وَصَنَعَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَغَدَا عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ} [البقرة: 187]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَقَدْ ضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195].

EnglishUnverified translation

Kab ibn Malik, may Allah be pleased with him, narrated: In Ramadan, when a man fasted and evening came and he slept, food, drink and women became forbidden until the next breaking. Umar returned one night from the Prophet ﷺ, after conversing late, found his wife asleep, desired her, she said I slept, he said you did not sleep, then he approached her. Kab ibn Malik did likewise. Umar went to the Prophet in the morning and informed him, so Allah revealed: Allah knows you used to betray yourselves, so He turned to you and pardoned you. > **"Allah knows you used to betray yourselves, so He turned to you and pardoned you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رمضان کے مہینے میں پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص روزہ رکھتا تھا اور شام ہو جانے کے بعد سو جاتا تھا ‘ تو اب اس پر کچھ کھانا یا پینا یا عورتوں کے ساتھ قربت کرنا حرام ہو جاتا تھا جب تک وہ اگلے دن افطاری نہیں کر لیتا ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر واپس گئے وہ رات دیر تک نبی اکرم ﷺ کے پاس رہے تھے انہوں نے اپنی اہلیہ کو پایا کہ وہ سو چکی تھیں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ قربت کا ارادہ کیا تو اس خاتون نے کہا : میں تو سو چکی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، لیکن میں تو نہیں سویا تھا پھر انہوں نے اس اہلیہ کے ساتھ قربت کر لی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کا عمل کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم نے اپنی ذات کے بارے میں خیانت کی تھی ، تو اس نے تمہاری توبہ کو قبول کیا ‘ اور تم سے درگزر کیا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے اس راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10848

Majma al-Zawaid #10848

عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ: كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ، وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ فَأَمْسَكُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ: {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 195]. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Jubayrah ibn al-Dahhak, may Allah be pleased with him, narrated: The Ansar would give charity freely as Allah willed, then a year of drought struck and they withheld. So Allah revealed: Do not cast yourselves with your hands into destruction, and do good, indeed Allah loves the doers of good. > **"Do not cast yourselves with your hands into destruction, and do good, indeed Allah loves the doers of good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجبیرہ بن ضحاک بیان کرتے ہیں : انصار جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ چیز صدقہ کر دیتے تھے اور دے دیتے تھے انہیں قحط سالی لاحق ہوئی تو وہ ایسا کرنے سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اور بھلائی کرو بے شک اللہ تعالیٰ بھلائی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10849

Majma al-Zawaid #10849

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُذْنِبُ الذَّنْبَ فَيَقُولُ: لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِي! فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلَا {تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 195]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ} [البقرة: 197].

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: Do not cast yourselves with your hands into destruction: A man would commit a sin and say Allah will not forgive me. So Allah revealed it along with: Do good, indeed Allah loves the doers of good. > **"Do not cast yourselves with your hands into destruction, and do good, indeed Allah loves the doers of good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو ‘‘۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرتا تھا ، تو یہ کہتا تھا : اللہ تعالیٰ میری مغفرت نہیں کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور بھلائی کرو اور بے شک اللہ تعالیٰ بھلائی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کرتے ہیں ‘ اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10850

Majma al-Zawaid #10850

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: 197] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ "". {فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ} [البقرة: 197]، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: التَّلْبِيَةُ وَالْإِحْرَامُ. (لَا رَفَثَ) قَالَ: غَشْيَانُ النِّسَاءِ. وَلَا فُسُوقَ: السِّبَابُ. وَلَا جِدَالَ: الْمِرَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: Hajj is known months: The Messenger ﷺ of Allah ﷺ, said they are Dhul Qadah and Dhul Hijjah. Regarding: Whoever imposes Hajj therein, Ibn Umar said it means Talbiyah and Ihram. La rafath means intercourse with women. La fusuq means abuse. La jidal means disputing. > **"Dhul Qadah and Dhul Hijjah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ حج کے متعین مہینے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد ذیقعدہ اور ذوالج ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” جو شخص ان مہینوں میں حج کو لازم قرار دے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد تلبیہ پڑھنا اور احرام باندھ لینا ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” تو رفث نہیں ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد عورت کے ساتھ صحبت کرنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور نسوق نہیں ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد بھلا کہنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جدال نہیں ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد جھگڑا کرنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سکن ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10851

Majma al-Zawaid #10851

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «فِي قَوْلِهِ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: 197] قَالَ: "" شَوَّالٌ وَذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ مُخَارِقٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger ﷺ of Allah ﷺ, said regarding His saying: Hajj is known months, they are Shawwal, Dhul Qadah and Dhul Hijjah. > **"They are Shawwal, Dhul Qadah and Dhul Hijjah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ حج کے متعین مہینے ہیں ‘‘ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ( اس سے مراد ) شوال ذیقعدہ اور ذوالج ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن مخارق ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

10852

Majma al-Zawaid #10852

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} [البقرة: 197] قَالَ: "" الرَّفَثُ: الْإِعْرَابُ وَالتَّعَرُّضُ لِلنِّسَاءِ بِالْجِمَاعِ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: جِدَالُ الرَّجُلِ صَاحِبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ، وَكِلَاهُمَا فِيهِ لِينٌ وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, narrated: The Messenger ﷺ of Allah ﷺ, said regarding: No rafath, no fusuq, no jidal in Hajj, that rafath is explicit speech and exposure to women for intercourse, fusuq is sins, and jidal is a man disputing his companion. > **"Rafath is explicit speech and exposure to women for intercourse, fusuq is sins, and jidal is a man disputing his companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تو حج کے دوران رفث یا فسوق یا جدال نہیں ہو گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : رفث سے مراد فحش کلامی ہے ‘ اور عورتوں کے ساتھ صحبت کرنا ہے فسوق سے مراد گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے ‘ اور جدال سے مراد آدمی کا اپنے ساتھی کے ساتھ جھگڑا کرنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے سوار بن محمد بن قریش کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں راویوں میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10853

Majma al-Zawaid #10853

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا رَفَثَ قَالَ: الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ. {وَلَا فُسُوقَ} [البقرة: 197] قَالَ: الْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي. {وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} [البقرة: 197] قَالَ: الْمِرَاءُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ خُصَيْفٌ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: 197].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said: No rafath means intercourse. No fusuq means sins. No jidal in Hajj means disputing. > **"No rafath means intercourse, no fusuq means sins, no jidal means disputing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’ لا رفث ‘‘ سے مراد صحبت کرنا ہے :’’ ولا فسوق ‘‘ وہ فرماتے ہیں : فسوق سے مراد گناہ ہیں :’’ ولا جدال في الحج ‘‘ ۔ وہ فرماتے ہیں : ( یہاں جدال سے مراد ) جھگڑا کرنا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ‘ جسے عجلی اور یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10854

Majma al-Zawaid #10854

عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَوَكَّلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الزَّادِ فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَتَزَوَّدُوا، فَقَالَ: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: 197]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ} [البقرة: 203].

EnglishUnverified translation

Ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with them both, narrated: People used to rely upon one another for provisions, so Allah commanded them to take provisions, saying: Take provisions, indeed the best provision is piety. > **"Take provisions, indeed the best provision is piety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ زاد سفر کے بارے میں ایک دوسرے پر بھروسہ کر لیتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اپنا زادراہ رکھیں اور ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ زادراہ رکھو بے شک سب سے بہتر زاد راہ تقوی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بقال ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10855

Majma al-Zawaid #10855

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: 203] قَالَ: مَغْفُورًا لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ} [البقرة: 207].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, said regarding His saying: Whoever hastens in two days there is no sin upon him, and whoever delays there is no sin upon him: He said it means forgiven. > **"Forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جو شخص دو دن بعد جلدی چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اور جو بعد میں جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10856

Majma al-Zawaid #10856

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ} [البقرة: 207] قَالَ: نَزَلَتْ فِي صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَالَّذِي أَدْرَكَ صُهَيْبًا بِطَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَنَفَرُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً} [البقرة: 213].

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj said regarding His saying: Among people is one who sells himself seeking Allah's pleasure: It was revealed about Suhayb ibn Sinan and Abu Dharr, and the one who met Suhayb on the road to Madinah, Qunfudh ibn Umayr ibn Judan. > **"It was revealed about Suhayb ibn Sinan and Abu Dharr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کی خاطر اپنے آپ کا سودا کر لیا ‘‘۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں : یہ حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور ان صاحب کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مدینہ منورہ کے راستے میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئے تھے اور قنفذ بن عمیر بن جدعان ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ابن جریج تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10857

Majma al-Zawaid #10857

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً} [البقرة: 213] قَالَ: عَلَى الْإِسْلَامِ كُلُّهُمْ. وَقَالَ الْكَلْبِيُّ: يَعْنِي عَلَى الْكُفْرِ كُلُّهُمْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: Mankind was one nation: They were all upon Islam. Al-Kalbi said it means they were all upon disbelief. > **"They were all upon Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ پہلے لوگ ایک امت تھے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : پہلے سب لوگ اسلام کے پیرو کار تھے ۔ کلبی فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : پہلے سب لوگ کفر پر عمل پیرا تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10858

Majma al-Zawaid #10858

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ آدَمَ وَنُوحٍ عَشَرَةُ قُرُونٍ كُلُّهُمْ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الْحَقِّ، قَالَ: فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، قَالَ: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً} [البقرة: 213]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ} [البقرة: 217]. تَقَدَّمَ حَدِيثُ هَذِهِ الْآيَةِ فِي أَوَاخِرِ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ فِي أَبْوَابِ الْبُعُوثِ وَالسَّرَايَا. قَوْلُهُ تَعَالَى {وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ} [البقرة: 219].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, narrated: Between Adam and Nuh were ten generations, all upon a law of truth. When Allah sent the Prophet ﷺ, and revealed His Book, He said: Mankind was one nation. > **"Between Adam and Nuh were ten generations, all upon a law of truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس صدیاں تھیں اور وہ سب لوگ حق کی شریعت پر گامزن رہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالٰی نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث کیا ‘ اور اپنی کتاب نازل کی تو پھر لوگ ایک امت ہو گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن نعمان ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات یہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : ( وہ تم سے حرمت والے مہینے میں قتال کے بارے میں سوال کرتے ہیں ) سے متعلق حدیث مغازی اور سیر کے آخر میں بعوث اور سرایا کے ابواب میں گزر چکی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ( اور وہ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں )

10859

Majma al-Zawaid #10859

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ} [البقرة: 219] قَالَ: الْفَضْلُ عَلَى الْعِيَالِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ} [البقرة: 222] وَقَوْلُهُ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ} [البقرة: 223].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said regarding: They ask you what they spend, say al-Afw: It means surplus beyond dependents. > **"Surplus beyond dependents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ( اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ) ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تو تم فرما دو : عفو ( کو ) ‘‘۔ تم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : اپنے زیر کفالت لوگوں سے جو بچ جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10860

Majma al-Zawaid #10860

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ} [البقرة: 223] رُخْصَةً فِي إِتْيَانِ الدُّبُرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ حَافِظٌ، وَقَالَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, narrated: The verse: Your wives are a tilth for you, was revealed to the Messenger of Allah ﷺ, as a permission for approaching from behind in the front passage. > **"Your wives are a tilth for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں ‘‘۔ تو یہ پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کی رخصت تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے وہ حافظ ہے امام دارقطنی نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے وہ اتنے پائے کا نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10861

Majma al-Zawaid #10861

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «أَبَعَرَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَبْعَرَ فُلَانٌ امْرَأَتَهُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ} [البقرة: 223]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ الْحَارِثِ بْنِ سُرَيْجٍ الْبَقَّالِ وَهُوَ ضَعِيفٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said, may Allah be pleased with him, narrated: A man turned his wife over in the time of the Messenger of Allah ﷺ, and people said so-and-so turned his wife over. So Allah revealed: Your wives are a tilth for you, so come to your tilth as you wish. > **"Your wives are a tilth for you, so come to your tilth as you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ ‘ اس کو الٹا کر کے صحبت کی ‘ تو لوگوں نے کہا : فلاں شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کو الٹا کر کے صحبت کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد حارث بن سریج بقال کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف اور کذاب ہے ۔

10862

Majma al-Zawaid #10862

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ} [البقرة: 223]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, narrated: A man approached his wife in her back passage in the time of the Messenger of Allah ﷺ, and people disapproved. So Allah revealed: Your wives are a tilth for you. > **"Your wives are a tilth for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کی لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور اکثر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10863

Majma al-Zawaid #10863

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. فَقَالَ: "" وَمَا أَهْلَكَكَ؟ "". قَالَ: حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، قَالَ: فَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةُ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223] أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الْحَيْضَةَ وَالدُّبُرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, narrated: Umar came to the Messenger of Allah ﷺ, saying, O Messenger of Allah, I am ruined. He asked, what ruined you. He said, I turned my saddle last night. The Prophet gave no reply until revelation came: Your wives are a tilth for you, so come to your tilth as you wish, meaning approach from front or back, but avoid menstruation and the back passage. > **"Your wives are a tilth for you, so come to your tilth as you wish. Approach from front or back, but avoid menstruation and the back passage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں کسی چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : گزشتہ رات میں نے اپنے پالان کو تبدیل کر دیا ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا راوی بیان کرتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف یہ وحی نازل کی : ’’ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ ‘‘۔ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے ) کہ تم آگے کی طرف سے آؤ یا پیچھے کی طرف سے آؤ لیکن حیض کی حالت یا پچھلی شرمگاہ سے بچ کے رہنا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10864

Majma al-Zawaid #10864

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ} [البقرة: 223] فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, narrated: This verse: Your wives are a tilth for you, was revealed about some Ansar who came to the Prophet ﷺ, and asked him. The Messenger ﷺ said, approach her in any manner when it is in the front passage. > **"Approach her in any manner when it is in the front passage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں ‘‘۔ یہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کسی بھی حالت میں عورت کے پاس جا سکتے ہو جبکہ صحبت اگلی شرمگاہ میں ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ہمیں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

10865

Majma al-Zawaid #10865

وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة: 222] فَقَالُوا: إِنَّ الْيَهُودَ قَالُوا: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ. وَكَانَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَا يَدَعْنَ أَزْوَاجَهُنَّ يَأْتُونَهُنَّ مِنْ أَدْبَارِهِنَّ، فَجَاؤُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ إِتْيَانِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: 222] حَتَّى الْأَطْهَارِ {فَإِذَا تَطَهَّرْنَ} [البقرة: 222] الِاغْتِسَالَ {فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 222] إِنَّمَا الْحَرْثُ مِنْ حَيْثُ الْوَلَدُ». قُلْتُ: رَوَاهُ مُسْلِمٌ - بِاخْتِصَارٍ - رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرْدُوَانِيُّ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. قَوْلُهُ تَعَالَى: {أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} [البقرة: 237].

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, narrated from the Messenger of Allah ﷺ, regarding His saying: They ask you about menstruation, say it is harm, so keep away from women in menstruation: People said the Jews claimed whoever approaches his wife from behind will have a cross-eyed child. The Ansari women would not let husbands approach them from behind. They came to the Messenger and asked about approaching a menstruating wife, so Allah revealed the verses on menstruation until purification by washing, then: Come to them as Allah commanded, indeed Allah loves the repentant and the purified, and: Your wives are a tilth for you, so come as you wish, meaning tilth is where a child is produced. > **"Tilth is only where a child is produced."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندگی ہے ‘ اور تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو ‘‘۔ لوگوں نے بتایا کہ یہودی یہ کہتے ہیں : جو شخص پچھلی طرف سے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے ‘ تو اس کا بیٹا بھینگا ہوتا ہے ‘ تو انصار کی خوتین اپنے شوہروں کو اپنی پچھلی طرف سے صحبت نہیں کرنے دیتی تھیں وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو : وہ گندگی ہے ‘ اور حیض کے دوران تم لوگ عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک نہیں ہو جاتیں ( راوی کہتے ہیں : یعنی جب تک وہ طہر کی حالت میں نہیں آ جاتی ہیں اور جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں ( راوی کہتے ہیں : یعنی جب وہ غسل کر لیں ) تو تم ان کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ صحبت کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ‘ اور اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) کھیت سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پیدائش ممکن ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام مسلم نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن یزید قردوانی ہے اس کے بیٹے کے علاوہ کسی اور نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10866

Majma al-Zawaid #10866

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «{الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ} [البقرة: 237]: الزَّوْجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: 238].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, narrated from the Prophet ﷺ: He said regarding: The one in whose hand is the marriage tie, it is the husband. > **"The one in whose hand is the marriage tie is the husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ وہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اس سے مراد شوہر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ( نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور فرمانبردار بن کر کھڑے رہو )

10867

Majma al-Zawaid #10867

عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي عَهْدِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي بِهَا فَأُمْلِهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُهَا جِئْتُهَا بِالْوَرَقَةِ الَّتِي أَكْتُبُهَا فِيهَا، فَقَالَتْ: اكْتُبْ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Rafi, freedman of Umar ibn al-Khattab, narrated: He used to write copies of the Quran in the time of the wives of the Prophet ﷺ. Hafsah, may Allah be pleased with her, asked him to write a copy, saying when you reach this verse of al-Baqarah do not write it until you bring it to me so I dictate as I memorized from the Messenger. When he reached it he brought the sheet, and she said, write: Guard the prayers and the middle prayer, the Asr prayer, and stand for Allah devoutly. > **"Guard the prayers and the middle prayer, the Asr prayer, and stand for Allah devoutly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن رافع ، جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے زمانے میں وہ قرآن مجید لکھا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے قرآن مجید لکھوایا اور یہ بات ارشاد فرمائی کہ جب تم سورت بقرہ کی اس آیت پر پہنچو تو اسے اس وقت تک تحریر نہ کرنا جب تک پہلے میرے پاس تحریر نہیں لے آتے ‘ میں وہ تمہیں املاء کرواؤں گی جس طرح میں نے یہ آیت نبی اکرم ﷺ کی زبانی سن کر یاد رکھی ہے راوی بیان کرتے ہیں : جب میں اس مخصوص مقام پر پہنچا تو میں وہ ورقہ لے کر آیا جس میں ‘ میں نے وہ آیت تحریر کرنی تھی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم یہ لکھو : ’’ نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان نماز کی ( جس سے مراد ) عصر کی نماز ہے ‘ اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10868

Majma al-Zawaid #10868

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «كُلُّ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُذْكَرُ فِيهِ الْقُنُوتُ فَهُوَ الطَّاعَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ، وَفِي رِجَالِ الْأَوْسَطِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, narrated from the Messenger of Allah ﷺ: He said every place in the Quran where qunut is mentioned means obedience. > **"Every place in the Quran where qunut is mentioned means obedience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ قرآن میں جس بھی مقام پر قنوت کا ذکر ہو گا اس سے مراد فرمانبرداری ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد اور امام ابویعلیٰ کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو ضعیف ہے لیکن اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے معجم اوسط کے رجال میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10869

Majma al-Zawaid #10869

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: 238] قَالَ: كَانُوا يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ، يَجِيءُ خَادِمُ الرَّجُلِ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيُكَلِّمُهُ بَحَاجَتِهِ، فَنُهُوا عَنِ الْكَلَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا} [البقرة: 245].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: And stand for Allah devoutly: They used to speak in prayer; a man's servant would come while he prayed and he would speak to him about his need, so they were forbidden from speech. > **"They were forbidden from speech in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ نماز کے دوران بات چیت کر لیا کرتے تھے کسی شخص کا خادم اس شخص کے پاس آتا تھا وہ شخص اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا تھا ‘ تو وہ اس خادم کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیتا تھا ، تو لوگوں کو ( نماز کے دوران ) کلام کرنے سے منع کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10870

Majma al-Zawaid #10870

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا} [البقرة: 245] قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ "". قَالَ: فَإِنِّي أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطًا فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ. ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ، وَفِيهِ أُمُّ الدَّحْدَاحِ فِي عِيَالِهَا فَنَادَاهَا: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ، قَالَتْ: لَبَّيْكَ، قَالَ: اخْرُجِي ; فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطًا فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 248].

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, narrated: When was revealed: Who is it that will lend Allah a good loan, Abu al-Dahdah said, O Messenger of Allah, does Allah seek a loan from us. He said, yes, O Abu al-Dahdah. He said, I have lent my Lord a garden with six hundred date palms. Then he walked to the garden where Umm al-Dahdah was with his family, called her, she answered, and he said, come out, for I have lent my Lord a garden with six hundred date palms. > **"Yes, O Abu al-Dahdah. I have lent my Lord a garden with six hundred date palms. Come out, for I have lent my Lord a garden with six hundred date palms."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کون ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے ‘‘۔ حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ہم سے قرض طلب کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں اے ابودحداح انہوں نے عرض کی : تو میں اپنے پروردگار کو وہ باغ قرض کے طور پر دیتا ہوں جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں پھر وہ چلتے ہوئے اس باغ کی طرف آئے اس باغ میں اُم دحداح اپنے بال بچوں سمیت موجود تھیں ان صاحب نے اس خاتون کو مخاطب کر کے کہا : اے ام دحداح اس خاتون نے جواب دیا : میں حاضر ہوں انہوں نے کہا : تم اس باغ سے نکل جاؤ کیونکہ میں نے اپنے پروردگار کو یہ باغ قرض کے طور پر دے دیا ہے جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10871

Majma al-Zawaid #10871

عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «السَّكِينَةُ رِيحٌ حَجُوجٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255].

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, narrated from the Prophet ﷺ: He said al-Sakinah is a restraining wind. > **"Al-Sakinah is a restraining wind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سکینت سے مراد ‘ رکاوٹ بننے والی ہوا تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10872

Majma al-Zawaid #10872

عَنْ أُبَيٍّ - يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ: «أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْظَمُ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَرَدَّدَهَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ. فَقَالَ: "" لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ، وَتُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab, may Allah be pleased with him, narrated: The Prophet ﷺ, asked him which verse in the Book of Allah is greatest. He said Allah and His Messenger know best. He repeated it, then Ubayy said Ayat al-Kursi. He said, let knowledge delight you, O Abu al-Mundhir, by the One in Whose Hand is my soul, it has a tongue and two lips sanctifying the Sovereign near the leg of the Throne. > **"Let knowledge delight you, O Abu al-Mundhir. By the One in Whose Hand is my soul, it has a tongue and two lips sanctifying the Sovereign near the leg of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا اللہ کی کتاب میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے چند مرتبہ یہ سوال دہرایا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آیت الکرسی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالمنذر تمہیں اس بات کا علم مبارک ہو ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں جن کے ذریعے یہ عرش کے پائے کے پاس پروردگار کی پاکی بیان کرتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10873

Majma al-Zawaid #10873

وَعَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ النَّاسَ حَتَّى يُكْثِرَ، فَيَصْعَدُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ فَيُحَدِّثُ النَّاسَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ "". قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255]. قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ. أَوْ قَالَ مَوْضِعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَهَا بَيْنَ كَتِفَيَّ. قَالَ: "" يَهْنِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Salil narrated: A Companion would narrate abundantly to people, then climbed a roof to narrate. He said the Messenger of Allah ﷺ, asked, which verse in the Quran is greatest. A man said: Allah, none is worshipped but He, the Living, the Sustainer. He placed his hand between my shoulders until I felt its coolness between my breasts, or between my breasts until I felt it between my shoulders, and said, delight, O Abu al-Mundhir. > **"Which verse in the Quran is greatest? Delight, O Abu al-Mundhir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے بکثرت احادیث بیان کیں پھر وہ گھر کی چھت پر چڑھ گئے اور لوگوں کو حدیث بیان کرنے لگے انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : «الله لا إلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» ( یعنی آیت الکرسی ) وہ صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے کے درمیان میں رکھا یہاں تک کہ اپنے کندھوں کے درمیان میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالمنذر تمہیں مبارک ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10874

Majma al-Zawaid #10874

وَعَنِ الْأَسْقَعِ الْبَكْرِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ} [البقرة: 255] "". حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Asqa al-Bakri, may Allah be pleased with him, narrated: The Prophet ﷺ, came to them in the Suffah of the Muhajirun, and a man asked which verse in the Quran is greatest. The Prophet said: Allah, none is worshipped but He, the Living, the Sustainer, no slumber nor sleep overtakes Him, until the verse ended. > **"Allah, none is worshipped but He, the Living, the Sustainer, no slumber nor sleep overtakes Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسقع بکری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مہاجرین کے چبوترے پر ان لوگوں کے پاس آئے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا قرآن میں موجود کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : «الله لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ» ۔’’ اللہ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور وہ زندہ ہے ‘ اور بذات خود قائم ہے اسے نہ اونگھ آتی ہے ‘ اور نہ نیند آتی ہے ‘‘۔ یہاں تک کہ آپ نے یہ پوری آیت تلاوت کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10875

Majma al-Zawaid #10875

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ أَخَذْتَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ، ضَمَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرَ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهُ فِي غُرْفَةٍ لِي، فَكُنْتُ أَجِدُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ نُقْصَانًا، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" هُوَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ فَارْصُدْهُ "". قَالَ: فَرَصَدْتُهُ لَيْلًا، فَلَمَّا ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ، أَقْبَلَ عَلَى صُورَةِ الْفِيلِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ دَخَلَ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ عَلَى غَيْرِ صُورَتِهِ، فَدَنَا مِنَ التَّمْرِ فَجَعَلَ يَلْتَقِمُهُ، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَتَوَسَّطْتُهُ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا عَدُوَّ اللَّهِ، وَثَبْتَ إِلَى تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتَهُ، وَكَانُوا أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَفْضَحُكَ. فَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ. فَغَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ "". فَقُلْتُ: عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ. قَالَ: "" إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ "". فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُخْبِرَهُ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي: "" أَيْنَ مُعَاذٌ؟ "". فَقَالَ لِي: "" يَا مُعَاذُ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ "". فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: "" إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ "". فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، عَاهَدْتَنِي مَرَّتَيْنِ وَهَذِهِ الثَّالِثَةُ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَفْضَحُكَ. فَقَالَ: إِنِّي شَيْطَانٌ ذُو عِيَالٍ، وَمَا أَتَيْتُكَ إِلَّا مِنْ نَصِيبِينَ، وَلَوْ أَصَبْتُ شَيْئًا دُونَهُ مَا أَتَيْتُكَ، وَلَقَدْ كُنَّا فِي مَدِينَتِكُمْ هَذِهِ حَتَّى بُعِثَ صَاحِبُكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَتَانِ أَنْفَرَتْنَا مِنْهَا، فَوَقَعْنَا بِنَصِيبِينَ، وَلَا يُقْرَآنِ فِي بَيْتٍ إِلَّا لَمْ يَلِجْ فِيهِ الشَّيْطَانُ ثَلَاثًا، فَإِنْ خَلَّيْتَ سَبِيلِي عَلَّمْتُكَهُمَا، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ، وَخَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ: آمَنَ الرَّسُولُ، إِلَى آخِرِهَا. فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُخْبِرَهُ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي: "" أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ؟ "". فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ، قَالَ لِي: "" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ "". قُلْتُ: عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ الْخَبِيثُ وَهُوَ كَذُوبٌ "". قَالَ: فَكُنْتُ أَقْرَؤُهُمَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا أَجِدُ فِيهِ نُقْصَانًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ صَدُوقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ كَمَا قَالَ الذَّهَبِيُّ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, narrated: It reached him that Muadh ibn Jabal seized Satan in the time of the Messenger of Allah ﷺ. He went to Muadh and asked. Muadh said yes, the Messenger entrusted charity dates to him, he placed them in his room, found daily decrease, and complained. The Messenger ﷺ said, it is Satan's work, so watch for him. He watched at night; after part of the night one came in the form of an elephant, then entered through the door crack in another form, approached the dates and began stuffing them. Muadh tightened his clothes, seized him, testified there is none worshipped but Allah and Muhammad is His servant and Messenger, and said, O enemy of Allah, you pounced upon charity dates more deserving for others, I will raise you to the Messenger to disgrace you. He pledged not to return. In the morning the Messenger asked, what did your captive do. Muadh said he pledged not to return. He said, he will return, so watch. The second night the same happened and Muadh released him on pledge. The next morning the crier called where is Muadh. The Messenger ﷺ again said he will return. The third night the same happened, and Muadh said, O enemy of Allah, you pledged twice and this is third, I will raise you to disgrace you. He said, I am a devil with dependents, I came only from Nasibayn, had I found anything else I would not have come. We were in this city until your companion was sent, then two verses descended driving us out to Nasibayn. They are not recited in a house except Satan does not enter it for three nights. If you free me I will teach them. Muadh agreed. He said, Ayat al-Kursi and the seal of al-Baqarah from The Messenger ﷺ believes to its end. Muadh freed him, informed the Messenger in the morning, and the Messenger said, the wicked one spoke truthfully though he is a liar. Thereafter Muadh recited them and found no decrease. > **"It is Satan's work, so watch for him. What did your captive do? He will return, so watch. The wicked one spoke truthfully though he is a liar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے شیطان کو پکڑ لیا تھا میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے دریافت کیا مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں شیطان کو پکڑ لیا تھا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کی کھجوریں میرے حوالے کیں میں نے انہیں اپنے گودام میں رکھ لیا میں نے دیکھا کہ ان میں روزانہ کمی ہونے لگی ہے میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : یہ شیطان کا کام ہے تم اس کی گھات میں رہنا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رات کے وقت میں اس کی گھات میں رہا جب رات کا ایک حصہ گزر گیا تو وہ ہاتھی کی شکل میں آیا جب وہ دروازے کے پاس پہنچا تو اپنی شکل تبدیل کر کے دروازے میں موجود درز سے اندر داخل ہو گیا وہ کھجوروں کے قریب ہوا اور انہیں ڈالنے لگا میں نے اسے اپنے کپڑے کے ذریعے باندھ دیا اور میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ ﷺ کے دشمن تم صدقہ کی کھجوروں کے پاس آئے انہیں لے رہے ہو حالانکہ لوگ ان کے بارے میں تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں میں تمہیں ضرور نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کروں گا اور وہ تمہیں رسوائی کا شکار کریں گے ‘ تو اس نے مجھ سے یہ عہد کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا ‘ پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس نے مجھ سے یہ طے کیا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ دوبارہ ایسا کرے گا ۔ تم اس کی گھات میں رہنا دوسری رات میں اس کی گھات میں رہا پھر اس نے ایسا ہی کیا ‘ اور میں نے بھی ویسا ہی کیا تو پھر اس نے میرے ساتھ یہ عہد کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا ‘ تو میں نے اسے چھوڑ دیا پھر اگلے دن میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کو اس بارے میں بتاؤں تو وہاں ایک شخص یہ اعلان کر رہا تھا معاذ کہاں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے معاذ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ پھر آئے گا ۔ تم اس کی گھات میں رہنا میں تیسری رات اس کی گھات میں رہا اس نے پھر ویسا ہی کیا میں نے بھی ویسا ہی کیا میں نے کہا : اے اللہ کے دشمن تم نے دو مرتبہ مجھ سے پہلے عہد کیا تھا اور اب یہ تیسری مرتبہ ہے اب میں تمہیں ضرور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا اور وہ تمہیں رسوائی کا شکار کریں گے اس نے کہا : میں ایک ایسا شیطان ہوں جو بال بچے دار ہے ‘ اور میں نصیبین سے تمہارے پاس آیا ہوں ‘ اگر اس سے پہلے مجھے کوئی چیز مل جاتی تو میں تمہارے پاس نہ آتا پہلے ہم لوگ تمہارے اس شہر میں ہوتے تھے یہاں تک کہ تمہارے آقا کو مبعوث کیا گیا اور جب ان پر دو آیات نازل ہوئیں تو ان دونوں آیات نے ہمیں یہاں سے جلا وطن کر دیا ۔ اور ہم نصیبین چلے گئے یہ دونوں آیات جس بھی گھر میں پڑھی جائیں گی شیطان تین دن تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اگر تم میرا راستہ چھوڑ دیتے ہو ‘ تو میں تمہیں ان دو آیات کی تعلیم دے دیتا ہوں میں نے کہا : ٹھیک ہے اس نے کہا : ایک آیت الکرسی ہے ‘ اور دوسری سورت بقرہ کی آخری آیات ہیں جو آمن الرسول سے لے کر سورت کے آخر تک ہیں ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اسے چھوڑ دیا اگلے دن میں صبح نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں تو وہاں ایک منادی یہ اعلان کر رہا تھا کہ معاذ بن جبل کہاں ہے ؟ جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے قیدی کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کی : اس نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ اب وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور پھر اس نے جو بات بیان کی تھی میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس خبیث نے سچ کہا ہے ویسے وہ جھوٹا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس کے بعد میں ان دونوں آیات کی تلاوت کر لیتا ہوں اور پھر مجھے کبھی ان کھجوروں میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ انشاءاللہ صدوق ہو گا جیسا کہ امام ذہبی نے یہ بات بیان کی ہے ابن ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10876

Majma al-Zawaid #10876

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ - «وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا: بِئْرُ بُضَاعَةَ قَدْ بَصَقَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهِيَ يُبَشَّرُ بِهَا وَيُتَيَمَّنُ بِهَا - قَالَ: فَلَمَّا قَطَعَ أَبُو أُسِيدٍ تَمْرَ حَائِطِهِ جَعَلَهُ فِي غُرْفَةٍ، فَكَانَتِ الْغُولُ تُخَالِفُهُ إِلَى مَشْرُبَتِهِ فَتَسْرِقُ تَمْرَهُ وَتُفْسِدُهُ عَلَيْهِ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تِلْكَ الْغُولُ يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَاسْتَمِعْ عَلَيْهَا، فَإِذَا سَمِعْتَ اقْتِحَامَهَا فَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتِ الْغُولُ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، أَعْفِنِي أَنْ تُكَلِّفَنِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُعْطِيكَ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا أُخَالِفَكَ إِلَى بَيْتِكَ، وَلَا أَسْرِقَ تَمْرَكَ، وَأَدُلَّكَ عَلَى آيَةٍ تَقْرَؤُهَا فِي بَيْتِكَ فَلَا تُخَالَفُ إِلَى أَهْلِكَ، وَتَقْرَؤُهَا عَلَى إِنَائِكَ فَلَا نَكْشِفُ غِطَاءَهُ. فَأَعْطَتْهُ الْمَوْثِقَ الَّذِي رَضِيَ بِهِ مِنْهَا، فَقَالَتْ: الْآيَةُ الَّتِي أَدُلُّكَ عَلَيْهَا هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ. ثُمَّ حَكَّتْ اسْتَهَا تَضْرِطُ. فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ حَيْثُ وَلَّتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَتْ وَهَى كَذُوبٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Hamzah ibn Abi Usayd narrated from his father from his grandfather Abu Usayd al-Saidi al-Khazraji, may Allah be pleased with him: He had a well in Madinah called Bir Budaah in which the Prophet ﷺ, had spat, so it was blessed. When Abu Usayd harvested his garden dates he placed them in a room, but a ghul would come to his storeroom stealing and spoiling them. He complained to the Messenger who said, it is the ghul, O Abu Usayd, listen for her, and when you hear her intrusion say, in the Name of Allah, answer the Messenger of Allah. She said, O Abu Usayd, excuse me from being made to go to the Messenger, and I will give you a pledge by Allah never to come to your house nor steal your dates, and guide you to a verse to recite in your house so none comes to your family, and over your vessel so none uncovers it. He accepted the pledge. She said the verse is Ayat al-Kursi, then passed wind. He came to the Prophet and told the story, and the Prophet said, she spoke truthfully though she is a liar. > **"In the Name of Allah, answer the Messenger of Allah. She spoke truthfully though she is a liar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن حمزہ بن ابواسید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت ابواسید ساعدی خزرجی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں مدینہ منورہ میں ان کا ایک کنواں تھا ، جس کا نام بئر بضاعہ تھا اس میں نبی اکرم ﷺ نے اپنا لعاب دہن ڈالا تھا ‘ تو وہ نبی اکرم ﷺ کے لعاب دہن کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرتے تھے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابواسید نے اپنے باغ کی کھجوریں اتار لیں تو انہیں ایک گودام میں رکھ دیا تو غول ( یعنی ایک ہوائی چیز ) ان کے گودام میں آ جاتی تھی اور کھجوریں چوری کر لیتی تھی اور انہیں خراب کر رہی تھی انہوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابواسید وہ غول ہے تم اس کی آہٹ غور سے سننا جب تم اس کے آنے کے بارے میں سنو تو تم یہ پڑھنا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ تم اللہ کے رسول کی بات کا جواب دو ( انہوں نے ایسا ہی کیا ) تو اس غول نے یہ کہا : اے ابواسید تم مجھے اس چیز سے معاف رکھو کہ تم مجھے اس تکلیف کا شکار کرو کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤں میں تمہیں اللہ کے نام پر یہ عہد دیتی ہوں کہ اب دوبارہ تمہارے گھر میں نہیں آؤں گی اور تمہاری کھجوروں کو چوری نہیں کروں گی اور میں ایک آیت کے بارے میں تمہاری رہنمائی کرتی ہوں کہ تم انہیں اپنے گھر میں وہ پڑھ لیا کرو تو ہم ( شیاطین ) تمہارے اہل خانہ کے پاس نہیں آئیں گے اگر تم اسے اپنے برتن پر پڑھ لو گے ‘ تو ہم اس ڈھانپے ہوئے برتن کو کھول نہیں سکیں گے پھر اس غول نے ان صحابی کے ساتھ یہ عہد کیا جس سے وہ راضی ہو گئے اس غول نے بتایا کہ وہ آیت جس کے بارے میں ‘ میں نے تمہاری رہنمائی کرنی تھی وہ آیت الکرسی ہے ‘ اور پھر اس کی پچھلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہونے کی آواز آئی جب وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ویسے تو وہ جھوٹی ہے لیکن اس نے یہ بات سچ بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ اور اس میں سے بعض راوی ضعیف ہیں ۔

10877

Majma al-Zawaid #10877

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَلَسَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي مَسْجِدِ الْأَعْظَمِ فَرَآهُمَا النَّاسُ فَتَحَوَّلُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ شُتَيْرٌ لِمَسْرُوقٍ: إِنَّمَا تَحَوَّلَ هَؤُلَاءِ إِلَيْنَا لِنُحَدِّثَهُمْ، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ وَأُصَدِّقَكَ، وَإِمَّا أَنَّ أُحَدِّثَ وَتُصَدِّقَنِي، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: حَدِّثْ وَأُصَدِّقُكَ، فَقَالَ شُتَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنْ أَعْظَمَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. فَقَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ. قُلْتُ: وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi narrated: Masruq and Shutayr ibn Shakl sat in the great mosque, people gathered to them. Shutayr said to Masruq, they came for us to narrate, so either you narrate and I confirm, or I narrate and you confirm. Masruq said, narrate and I will confirm. Shutayr said, Abdullah ibn Masud narrated to us that the greatest verse in the Book of Allah is: Allah, none is worshipped but He, the Living, the Sustainer, to the end of the verse. Masruq said, you spoke truthfully. > **"The greatest verse in the Book of Allah is: Allah, none is worshipped but He, the Living, the Sustainer. You spoke truthfully."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل بڑی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے انہیں دیکھا ‘ تو اٹھ کر ان کی طرف آ گئے شتیر نے مسروق سے کہا : یہ لوگ اٹھ کر ہماری طرف اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم ان کے سامنے کوئی حدیث بیان کریں ‘ یا تو آپ بیان کر دیں میں آپ کی بات کی تصدیق کروں گا یا پھر میں بیان کر دیتا ہوں اور آپ میری بات کی تصدیق کر دیں تو مسروق نے کہا : آپ بیان کر دیں میں آپ کی بات کی تصدیق کر دوں گا ‘ تو شتیر نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : اللہ کی کتاب میں موجود سب سے عظیم آیت «الله لا اله الا هو الحی القیوم» ہے ‘ اور یہ آیت کے آخر تک ہے ‘‘۔ مسروق نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت سورت طلاق میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10878

Majma al-Zawaid #10878

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ} [البقرة: 255] قَالَ: مَوْضِعُ الْقَدَمَيْنِ، وَلَا يُقَدِّرُ قَدْرَ عَرْشِهِ إِلَّا اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا} [البقرة: 257].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said regarding His saying: His Kursi extends over the heavens and the earth: It is the place of the Feet, and none estimates the measure of His Throne except Allah. > **"It is the place of the Feet, and none estimates the measure of His Throne except Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد پاؤں رکھنے کی جگہ ہے اس کے عرش کی مقدار کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10879

Majma al-Zawaid #10879

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} [البقرة: 257] قَالَ: هُمْ قَوْمٌ كَانُوا كَفَرُوا بِعِيسَى وَآمَنُوا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ} [البقرة: 257] هُمْ قَوْمٌ آمَنُوا بِعِيسَى فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ كَفَرُوا بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَمْ يَتَسَنَّهْ} [البقرة: 259].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the verse in al-Baqarah about Allah being the Guardian of those who believe, bringing them from darkness to light, and the following verse about the allies of disbelievers being taghut. He said the first refers to a people who had disbelieved in Isa عليه السلام then believed in Muhammad ﷺ, and the second refers to a people who believed in Isa عليه السلام but disbelieved in Muhammad ﷺ when he was sent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا ولی ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ قوم ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا ‘ اور پھر حضرت محمد ( ﷺ ) پر ایمان لے آئے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے ولی طاغوت ہیں جو انہیں نور سے نکال کر تاریکی کی طرف لے جاتے ہیں ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) بیان کرتے ہیں : اس سے مراد وہ قوم ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائی اور جب حضرت محمد ( ﷺ ) کو مبعوث کیا گیا تو ان لوگوں نے آپ ( ﷺ ) کا انکار کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10880

Majma al-Zawaid #10880

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ} [البقرة: 259]، قَالَ: لَمْ يَتَغَيَّرْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ} [البقرة: 266].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the statement in al-Baqarah, look at your food and drink, it has not rotted. He said it means it had not changed or decayed with the passage of time.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم اپنے کھانے اور اپنے مشروب کی طرف دیکھو وہ خراب نہیں ہوئے ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) یعنی وہ متغیر نہیں ہوئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10881

Majma al-Zawaid #10881

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ} [البقرة: 266] قَالَ: الْإِعْصَارُ: الرِّيحُ الشَّدِيدُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ} [البقرة: 272].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the phrase in al-Baqarah about a whirlwind containing fire which burned the garden. He said al-isar means a violent, severe wind.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اعصار جس میں آگ ہو گی اور وہ جلا دے گی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” اعصار ‘‘ سے مراد تیز ہوا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

10882

Majma al-Zawaid #10882

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانُوا أَنْ يَرْضَخُوا لِأَنْسَابِهِمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَسَأَلُوا فَرُخِّصَ لَهُمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ} [البقرة: 272]، إِلَى قَوْلِهِ: {وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ} [البقرة: 272]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً} [البقرة: 274].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said the Companions disliked giving charity to their polytheist relatives, so they asked about it and permission was granted. Then the verse in al-Baqarah was revealed, guidance is not upon you but Allah guides whom He wills, and whatever good you spend is for yourselves, up to His statement, and you shall not be wronged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اپنے نسب مشرکین کے ساتھ ملائیں ان لوگوں نے اس بارے میں دریافت کیا انہیں اس بارے میں رخصت دے دی گئی اور یہ آیت نازل ہوئی : ان کو ہدایت دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے ‘ اور تم جو بھی بھلائی کرو گے تو اپنی ذات کے لئے کرو گے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10883

Majma al-Zawaid #10883

عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ: {الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً} [البقرة: 274] أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي نَفَقَاتِ الْخَيْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفَانِ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Abdullah ibn Urayb رضي الله عنه reported from his father, from his grandfather, from the Prophet ﷺ concerning the verse in al-Baqarah about those who spend their wealth by night and day, secretly and openly. > **"It was revealed concerning spending on horses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن عبداللہ بن عریب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بات نقل کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی :’’ وہ لوگ جو اپنے اموال ‘ رات میں اور دن میں ‘ پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر خرچ کرتے ہیں .........‘‘ یہ آیت گھوڑوں پر خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے یزید بن عبداللہ اور اس کا والد یہ دونوں معروف نہیں ہیں ۔