وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ أَخَذْتَ الشَّيْطَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ، ضَمَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرَ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهُ فِي غُرْفَةٍ لِي، فَكُنْتُ أَجِدُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ نُقْصَانًا، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" هُوَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ فَارْصُدْهُ "". قَالَ: فَرَصَدْتُهُ لَيْلًا، فَلَمَّا ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ، أَقْبَلَ عَلَى صُورَةِ الْفِيلِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ دَخَلَ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ عَلَى غَيْرِ صُورَتِهِ، فَدَنَا مِنَ التَّمْرِ فَجَعَلَ يَلْتَقِمُهُ، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَتَوَسَّطْتُهُ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا عَدُوَّ اللَّهِ، وَثَبْتَ إِلَى تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَخَذْتَهُ، وَكَانُوا أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَفْضَحُكَ. فَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ. فَغَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ "". فَقُلْتُ: عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ. قَالَ: "" إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ "". فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُخْبِرَهُ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي: "" أَيْنَ مُعَاذٌ؟ "". فَقَالَ لِي: "" يَا مُعَاذُ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ "". فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: "" إِنَّهُ عَائِدٌ فَارْصُدْهُ "". فَرَصَدْتُهُ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَصَنَعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، عَاهَدْتَنِي مَرَّتَيْنِ وَهَذِهِ الثَّالِثَةُ، لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَفْضَحُكَ. فَقَالَ: إِنِّي شَيْطَانٌ ذُو عِيَالٍ، وَمَا أَتَيْتُكَ إِلَّا مِنْ نَصِيبِينَ، وَلَوْ أَصَبْتُ شَيْئًا دُونَهُ مَا أَتَيْتُكَ، وَلَقَدْ كُنَّا فِي مَدِينَتِكُمْ هَذِهِ حَتَّى بُعِثَ صَاحِبُكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَتَانِ أَنْفَرَتْنَا مِنْهَا، فَوَقَعْنَا بِنَصِيبِينَ، وَلَا يُقْرَآنِ فِي بَيْتٍ إِلَّا لَمْ يَلِجْ فِيهِ الشَّيْطَانُ ثَلَاثًا، فَإِنْ خَلَّيْتَ سَبِيلِي عَلَّمْتُكَهُمَا، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ، وَخَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ: آمَنَ الرَّسُولُ، إِلَى آخِرِهَا. فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ ثُمَّ غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُخْبِرَهُ، فَإِذَا مُنَادِيهِ يُنَادِي: "" أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ؟ "". فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ، قَالَ لِي: "" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ "". قُلْتُ: عَاهَدَنِي أَنْ لَا يَعُودَ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ الْخَبِيثُ وَهُوَ كَذُوبٌ "". قَالَ: فَكُنْتُ أَقْرَؤُهُمَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا أَجِدُ فِيهِ نُقْصَانًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ وَهُوَ صَدُوقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ كَمَا قَالَ الذَّهَبِيُّ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
EnglishUnverified translation
Buraydah, may Allah be pleased with him, narrated: It reached him that Muadh ibn Jabal seized Satan in the time of the Messenger of Allah ﷺ. He went to Muadh and asked. Muadh said yes, the Messenger entrusted charity dates to him, he placed them in his room, found daily decrease, and complained. The Messenger ﷺ said, it is Satan's work, so watch for him. He watched at night; after part of the night one came in the form of an elephant, then entered through the door crack in another form, approached the dates and began stuffing them. Muadh tightened his clothes, seized him, testified there is none worshipped but Allah and Muhammad is His servant and Messenger, and said, O enemy of Allah, you pounced upon charity dates more deserving for others, I will raise you to the Messenger to disgrace you. He pledged not to return. In the morning the Messenger asked, what did your captive do. Muadh said he pledged not to return. He said, he will return, so watch. The second night the same happened and Muadh released him on pledge. The next morning the crier called where is Muadh. The Messenger ﷺ again said he will return. The third night the same happened, and Muadh said, O enemy of Allah, you pledged twice and this is third, I will raise you to disgrace you. He said, I am a devil with dependents, I came only from Nasibayn, had I found anything else I would not have come. We were in this city until your companion was sent, then two verses descended driving us out to Nasibayn. They are not recited in a house except Satan does not enter it for three nights. If you free me I will teach them. Muadh agreed. He said, Ayat al-Kursi and the seal of al-Baqarah from The Messenger ﷺ believes to its end. Muadh freed him, informed the Messenger in the morning, and the Messenger said, the wicked one spoke truthfully though he is a liar. Thereafter Muadh recited them and found no decrease. > **"It is Satan's work, so watch for him. What did your captive do? He will return, so watch. The wicked one spoke truthfully though he is a liar."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے شیطان کو پکڑ لیا تھا میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے دریافت کیا مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں شیطان کو پکڑ لیا تھا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کی کھجوریں میرے حوالے کیں میں نے انہیں اپنے گودام میں رکھ لیا میں نے دیکھا کہ ان میں روزانہ کمی ہونے لگی ہے میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : یہ شیطان کا کام ہے تم اس کی گھات میں رہنا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رات کے وقت میں اس کی گھات میں رہا جب رات کا ایک حصہ گزر گیا تو وہ ہاتھی کی شکل میں آیا جب وہ دروازے کے پاس پہنچا تو اپنی شکل تبدیل کر کے دروازے میں موجود درز سے اندر داخل ہو گیا وہ کھجوروں کے قریب ہوا اور انہیں ڈالنے لگا میں نے اسے اپنے کپڑے کے ذریعے باندھ دیا اور میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ ﷺ کے دشمن تم صدقہ کی کھجوروں کے پاس آئے انہیں لے رہے ہو حالانکہ لوگ ان کے بارے میں تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں میں تمہیں ضرور نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کروں گا اور وہ تمہیں رسوائی کا شکار کریں گے ‘ تو اس نے مجھ سے یہ عہد کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا ‘ پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس نے مجھ سے یہ طے کیا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ دوبارہ ایسا کرے گا ۔ تم اس کی گھات میں رہنا دوسری رات میں اس کی گھات میں رہا پھر اس نے ایسا ہی کیا ‘ اور میں نے بھی ویسا ہی کیا تو پھر اس نے میرے ساتھ یہ عہد کیا کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا ‘ تو میں نے اسے چھوڑ دیا پھر اگلے دن میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کو اس بارے میں بتاؤں تو وہاں ایک شخص یہ اعلان کر رہا تھا معاذ کہاں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے معاذ تمہارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ پھر آئے گا ۔ تم اس کی گھات میں رہنا میں تیسری رات اس کی گھات میں رہا اس نے پھر ویسا ہی کیا میں نے بھی ویسا ہی کیا میں نے کہا : اے اللہ کے دشمن تم نے دو مرتبہ مجھ سے پہلے عہد کیا تھا اور اب یہ تیسری مرتبہ ہے اب میں تمہیں ضرور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا اور وہ تمہیں رسوائی کا شکار کریں گے اس نے کہا : میں ایک ایسا شیطان ہوں جو بال بچے دار ہے ‘ اور میں نصیبین سے تمہارے پاس آیا ہوں ‘ اگر اس سے پہلے مجھے کوئی چیز مل جاتی تو میں تمہارے پاس نہ آتا پہلے ہم لوگ تمہارے اس شہر میں ہوتے تھے یہاں تک کہ تمہارے آقا کو مبعوث کیا گیا اور جب ان پر دو آیات نازل ہوئیں تو ان دونوں آیات نے ہمیں یہاں سے جلا وطن کر دیا ۔ اور ہم نصیبین چلے گئے یہ دونوں آیات جس بھی گھر میں پڑھی جائیں گی شیطان تین دن تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا اگر تم میرا راستہ چھوڑ دیتے ہو ‘ تو میں تمہیں ان دو آیات کی تعلیم دے دیتا ہوں میں نے کہا : ٹھیک ہے اس نے کہا : ایک آیت الکرسی ہے ‘ اور دوسری سورت بقرہ کی آخری آیات ہیں جو آمن الرسول سے لے کر سورت کے آخر تک ہیں ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اسے چھوڑ دیا اگلے دن میں صبح نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں تو وہاں ایک منادی یہ اعلان کر رہا تھا کہ معاذ بن جبل کہاں ہے ؟ جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے قیدی کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کی : اس نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ اب وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور پھر اس نے جو بات بیان کی تھی میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس خبیث نے سچ کہا ہے ویسے وہ جھوٹا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس کے بعد میں ان دونوں آیات کی تلاوت کر لیتا ہوں اور پھر مجھے کبھی ان کھجوروں میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ انشاءاللہ صدوق ہو گا جیسا کہ امام ذہبی نے یہ بات بیان کی ہے ابن ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔