Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 21

Book of Exegesis

Hadith 11604–11643

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11604

Majma al-Zawaid #11604

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يُقْرَأُ هَذَا الْحَرْفُ: ""وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عُتِيًّا"" أَوْ عُسِيًّا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, who said he had memorized the whole Sunnah but did not know how a particular word about reaching extreme old age should be read, whether with one consonant or another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے پوری سنت کو یاد رکھا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ قرآن میں یہ حرف کیسے پڑھا جائے گا : «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عَتِيًّا» پڑھا جائے گا یا اس کو «عسیا» پڑھا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11605

Majma al-Zawaid #11605

وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ الْقُرْآنَ، فَلَمْ يَأْخُذْ عَلَيَّ إِلَّا حَرْفَيْنِ، قُلْتُ: ""وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ""، قَالَ: ""وَكُلٌّ آتَوْهُ دَاخِرِينَ"". وَقُلْتُ: ""حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا"" قَالَ: ""وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا"". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Tamim ibn Hadlam, may Allah be pleased with him, who read the whole Quran before Abdillah and was corrected in only two letters: in the verse about all coming to Him in humility, and in the verse about the messengers despairing and thinking they had been denied, where Abdillah affirmed the passive intensive form.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تمیم بن حذلم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پورا قرآن پڑھا ‘ انہوں نے صرف دو مقام پر میری غلطی نکالی ‘ میں نے پڑھا تھا : «وَكُلٌّ آتَوُهُ دَاخِرِينَ» تو انہوں نے کہا : «وَكُلُّ أَتَوْهُ دَاخِرِین» میں نے یہ پڑھا تھا : «حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا» تو انہوں نے پڑھا : «وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا» . یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11606

Majma al-Zawaid #11606

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ: ""بَلْ عَجِبْتُ وَيَسْخَرُونَ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdillah, may Allah be pleased with him, who recited the verse about wonder and mockery with the first-person form for wondering.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی : «بَلْ عَجِبْتُ وَيَسْخَرُونَ» یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اور اس کی سند منقطع ہے ۔

11607

Majma al-Zawaid #11607

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ ""بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ، وَهُوَ قَارِئٌ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: قِرَاءَتُهُ شَاذَّةٌ، وَفِيهَا مَا يُنْكَرُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَاصِمٌ مِنْ أَبِي بَكْرَةَ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, who reported that the Prophet ﷺ recited the verse about the signs coming and being denied and met with arrogance with feminine address. > **"Yes indeed, My signs came to you, but you denied them and were arrogant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جی ہاں ! بلکہ تمہارے پاس میری آیات آ گئیں اور تم نے اُن کی تکذیب کی اور تم نے تکبر کیا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے اور وہ قرآن کا عالم ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی قرأت شاذ ہوتی ہے اور اس کی قرات میں منکر چیزیں ہیں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ‘ اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ عاصم نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11608

Majma al-Zawaid #11608

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ: ""عَلَى رَفَارِفَ خُضْرٍ وَعَبَاقِرِيَّ حِسَانٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمٌ الْجَحْدَرِيُّ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, who reported that the Prophet ﷺ used to recite the verse about reclining with the wording indicating green cushions and fair carpets. > **"Upon green cushions and fair carpets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ آیات پڑھا کرتے تھے : یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم جحدری ہے ‘ جس کے بارے میں کلام ‘ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے ۔

11609

Majma al-Zawaid #11609

وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ: ""وَالنَّخْلَ بَاصِقَاتٍ"" بِالصَّادِّ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرِهِ بِالسِّينِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صُبَيْحٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Qutbah ibn Malik, may Allah be pleased with him, who heard the Prophet ﷺ reciting the verse about tall palm trees with the letter sad. > **"And tall palm trees."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا :’’ «وَالنَّخْلَ باصقات» ‘ یعنی یہ ’’ ص ‘‘ کے ساتھ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ لفظ ’’ صحیح ‘‘ میں اور دیگر کتابوں میں ” س “ کے ساتھ ( یعنی «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ» ) مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ اپنے استاد عبیداللہ بن محمد بن صبیح کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11610

Majma al-Zawaid #11610

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ: ""فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, who reported that the Prophet ﷺ recited the verse in Surah al-Waqiah about rest and fragrance. > **"Rest and fragrance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی «فروخ وَرَيْحَانَ» یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11611

Majma al-Zawaid #11611

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ الْوَاقِعَةِ، فَلَمَّا بَلَغْتُ ""فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ"" قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ عُمَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, who recited Surah al-Waqiah before the Messenger of Allah ﷺ, and when he reached the verse about rest and fragrance, the Messenger of Allah ﷺ addressed him by name in correction. > **"O Ibn Umar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے سورت واقعہ پڑھی ‘ جب میں اس مقام پر پہنچا ’’ «فَروخ و ریحان» “ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ” اے ابن عمر ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جو اس سے پہلے والی روایت کی ہے .

11612

Majma al-Zawaid #11612

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ ""فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, who reported that the Prophet ﷺ recited the verse about drinking like the intensely thirsty camel. > **"Drinking the drink of the intensely thirsty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر بنا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ملی تنظیم نے یہ آیت تلاوت کی : «فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيم» ‘‘۔ ’’ وہ یوں پیں گے ‘ جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

11613

Majma al-Zawaid #11613

وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ""وَأَقْوَمُ قِيلًا"" قَالَ: وَأَصْدَقُ. فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تُقْرَأُ: وَأَقْوَمُ، فَقَالَ: أَقْوَمُ وَأَصْدَقُ وَاحِدٌ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَصْوَبُ قِيلًا، وَقَالَ: إِنَّ أَقْوَمَ وَأَصْوَبَ، وَأَهْيَأَ، وَأَشْبَاهَ هَذَا وَاحِدٌ، وَلَمْ يَقُلِ الْأَعْمَشُ سَمِعْتُ أَنَسًا، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي سُوَرِهَا.

EnglishUnverified translation

From al-Amash, who heard Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, explain the words about most upright speech to mean most truthful. When told that it is read as most upright, he replied that most upright and most truthful are one and the same.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ «وَ أَقْوَمُ قِيلًا » ‘‘ انہوں نے فرمایا : ” واصدق ‘‘ بھی ہو سکتا ہے ‘ اُن سے کہا گیا : آپ تو ’’ واقوم ‘‘ پڑھتے ہیں ‘ انہوں نے فرمایا :’’ اقوم ‘‘ اور ’’ «اصدق» “ ایک ہی مطلب رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ «و اصوب قیلا » “ انہوں نے یہ فرمایا کہ اقوم ، اصوب ، احیا اور اس جیسے دیگر الفاظ ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں اور اس میں اعمش نے یہ بات نہیں کہی ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو سنا ‘ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ‘ اس متعلقہ سورت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

11614

Majma al-Zawaid #11614

عَنْ سَالِمِ بْنِ مَرْوَانَ كَانَ يُرْسِلُ إِلَى حَفْصَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الْمُصْحَفِ الَّذِي نُسِخَ مِنْهُ الْقُرْآنُ، فَتَأْبَى حَفْصَةُ أَنْ تُعْطِيَهُ إِيَّاهُ، فَلَمَّا دَفَنَّا حَفْصَةَ أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ: أَرْسِلْ إِلَيَّ بِذَلِكَ الْمُصْحَفِ. فَأَرْسَلَهُ إِلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Salim ibn Marwan, who used to send to Hafsah, may Allah be pleased with her, asking for the mushaf from which the Quran had been copied, but she refused to give it to him. After her burial, Marwan sent to Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, requesting that mushaf, and he sent it to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بیان کرتے ہیں : مروان نے ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا اور اُن سے اس قرآن مجید کو مانگا ، جس میں سے قرآن کے نسخے نقل کیے گئے تھے ‘ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ قرآن اُسے دینے سے انکار کر دیا ‘ جب ہم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو دفن کر دیا ‘ تو مروان نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ مصحف اُس کو بھجوا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11615

Majma al-Zawaid #11615

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَرَأَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ سُورَةً أَقْرَأَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَا يَقْرَآنِ بِهَا، فَقَامَا ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّيَانِ بِهَا، فَلَمْ يَقْدِرَا مِنْهَا عَلَى حَرْفٍ، فَأَصْبَحَا غَادِيَيْنِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا مِمَّا نُسِخَ وَأُنْسِيَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي غَيْرِ هَذَا الْبَابِ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, who reported that two men of the Ansar sought to recite a surah taught to them by the Messenger of Allah ﷺ which they used to recite, but one night when they stood praying with it they could not recall a single letter of it. In the morning they came to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned it to him, and he informed them of its status. > **"It is among what was abrogated and caused to be forgotten."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے وہ سورت پڑھنی چاہی ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے انہیں سکھائی تھی ‘ وہ دونوں اس کی تلاوت کیا کرتے تھے ‘ ایک رات وہ نماز میں اسے پڑھنے لگے ‘ تو وہ اس کے کسی حرف کو بھی پڑھنے پر قادر نہ ہو سکے ‘ اگلے دن وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو آپ نے فرمایا : یہ ان میں سے ہے ‘ جسے منسوخ کر دیا گیا اور بھلا دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس سے پہلے یہ اس کے علاوہ باب میں بھی گزر چکی ہے اور اس روایت پر کلام بھی گزر چکا ہے .

11616

Majma al-Zawaid #11616

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: أَمَّنَا أُمَيَّةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ بِخُرَاسَانَ، فَقَرَأَ بِهَا مِنَ السُّورَتَيْنِ: إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ. قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي سُورَةِ لَمْ يَكُنْ.

EnglishUnverified translation

From Abu Ishaq, who reported that Umayyah ibn Abdillah ibn Khalid ibn Usayd led them in prayer in Khurasan and recited from the two surahs containing the words about seeking help and seeking forgiveness, after which the narrator mentioned the rest of the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : اُمیہ بن عبداللہ بن خالد بن اُسید نے خراسان میں ‘ ہماری امامت کی اور وہاں دو سورتیں پڑھیں کہ ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ....... اس کے بعد راوی نے پوری روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ! اس سے پہلے ‘ اس کے علاوہ ‘ ایک روایت ’’ سورت بینہ ‘‘ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

11617

Majma al-Zawaid #11617

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَقُولُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَلَا سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، وَلَا سُورَةَ النِّسَاءِ، وَكَذَلِكَ الْقُرْآنُ كُلُّهُ، وَلَكِنَّ السُّورَةَ الَّتِي تُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةَ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، وَكَذَلِكَ الْقُرْآنُ كُلُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade saying Surah al-Baqarah, Surah Al Imran, or Surah al-Nisa in that form, extending the ruling to the whole Quran, and instead instructed naming each surah by what is mentioned in it. > **"Do not say Surah al-Baqarah, nor Surah Al Imran, nor Surah al-Nisa, and likewise the whole Quran. Rather say: the surah in which the cow is mentioned, and the surah in which Al Imran is mentioned, and likewise the whole Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ سورت بقره یا سورت آل عمران یا سورت نساء نہ کہو ! پورا قرآن ( یعنی اس کا حکم ) اسی طرح ہے ، لیکن تم یہ کہو کہ وہ سورت ‘ جس میں گائے کا ذکر ہے ‘ وہ سورت جس میں آل عمران کا ذکر ہے ‘ اسی طرح پورے قرآن کا حکم ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔

11618

Majma al-Zawaid #11618

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «فُصِلَ الْقُرْآنُ مِنَ الذِّكْرِ، فَوُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَجَعَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَتْلُوهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَتِّلُهُ تَرْتِيلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي سُورَةِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, who reported that the Quran was separated from the Remembrance, placed in the House of Might in the lowest heaven, and Jibril, peace be upon him, then conveyed it to the Prophet ﷺ in measured recitation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوح محفوظ سے قرآن کو الگ کیا گیا اور اُسے آسمان دنیا میں ’’ بیت العزت ‘‘ میں رکھ دیا گیا اور پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے تھوڑا ‘ تھوڑا لا کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے تلاوت کرتے رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سورت قدر سے متعلق باب میں ‘ اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔

11619

Majma al-Zawaid #11619

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يُمْلِي عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Umm Salamah, may Allah be pleased with her, who reported that Jibril, peace be upon him, used to dictate to the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کو املاء کروایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

11620

Majma al-Zawaid #11620

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي ثَلَاثَةِ أَمْكِنَةٍ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ، وَالشَّامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Umamah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about the three places in which the Quran was sent down. > **"The Quran was sent down in three places: Makkah, Madinah, and Sham."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قرآن تین مقامات پر نازل ہوا ہے ‘ مکہ ‘ مدینہ اور شام ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11621

Majma al-Zawaid #11621

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: نَزَلَ الْمُفَصَّلُ بِمَكَّةَ، فَمَكَثْنَا حِجَجًا نَقْرَأُ لَا يَنْزِلُ غَيْرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Masud, may Allah be pleased with him, who said that the Mufassal was sent down at Makkah and that they remained for years reciting it with nothing else coming down.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مفصل سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں اور ہم ایک عرصہ تک اُنہیں ہی پڑھتے رہے ‘ اُن کے علاوہ کچھ نازل نہیں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11622

Majma al-Zawaid #11622

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَحْفَظُ مُنَافِقٌ سُوَرَ ""بَرَاءَةٌ""، وَيس، وَالدُّخَانِ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ali, that is Ibn Abu Talib, may Allah be pleased with him, who reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning four surahs that no hypocrite memorizes. > **"No hypocrite memorizes the surahs of Baraah, Ya Sin, al-Dukhan, and Amma yatasaalun."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی منافق ، سورت توبہ ‘ سورت یسین ‘ صورت دخان اور سورت نباء حفظ نہیں کر سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے اور وہ متروک ہے ۔

11623

Majma al-Zawaid #11623

عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَكْرَهُ التَّفْسِيرَ فِي الْقُرْآنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Masruq, who reported that Ibn Masud, may Allah be pleased with him, used to dislike explanatory commentary within the Quran.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن میں تفسیری الفاظ لکھنے کو ناپسند کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11624

Majma al-Zawaid #11624

وَعَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: جَرِّدُوا الْقُرْآنَ، لَا تَلْبِسُوا بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي الزَّعْرَاءِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ، وَغَيْرُهُ: لَا يُتَابَعُ فِي حَدِيثِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ، وَغَيْرِهِ فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ فِي مَعْنَى هَذَا.

EnglishUnverified translation

From Abu al-Zara, who reported that Abdillah, may Allah be pleased with him, said to keep the Quran unadorned and not to clothe it with what is not part of it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزعراء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کو الگ رکھو ‘ اس میں وہ چیز نہ ملاؤ ‘ جو اس میں سے نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام بخاری اور دیگر حضرات کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات سے منقول ، قرآن کو لکھنے سے متعلق حدیث ‘ علم سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ‘ جو اسی مفہوم کی ہے ۔

11625

Majma al-Zawaid #11625

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمِئِينَ، وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Wathilah ibn al-Asqa, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about what he was given in place of the Tawrah, the Zabur, and the Injil, and about being favored with the Mufassal. > **"I was given the Seven in place of the Tawrah, I was given the Miin in place of the Zabur, I was given the Mathani in place of the Injil, and I was favored with the Mufassal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے تورات کی جگہ سات ( سورتیں ) عطا کی گئی ہیں ‘ زبور کی جگہ دو سو ( آیات والی سورتیں ) عطا کی گئی ہیں اور مجھے انجیل کی جگہ ’’ مثانی ‘‘ عطا کی گئیں اور مفصل کے حوالے سے مجھے فضیلت دی گئی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

11626

Majma al-Zawaid #11626

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَعْطَانِي رَبِّي السَّبْعَ الطُّوَلَ مَكَانَ التَّوْرَاةِ، وَالْمِئِينَ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَيُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Umamah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about what his Lord had granted him in place of the Tawrah and the Injil, and about being favored with the Mufassal. > **"My Lord gave me the Seven Long surahs in place of the Tawrah, and the Miin in place of the Injil, and I was favored with the Mufassal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میرے پروردگار نے مجھے تورات کی جگہ سات طویل ( سورتیں ) عطا کی ہیں اور انجیل کی جگہ دو سو ( آیتوں والی سورتیں ) عطا کی ہیں اور مفصل سورتوں کے حوالے سے مجھے فضیلت دی گئی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی حدیث کو معتبر قرار دیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11627

Majma al-Zawaid #11627

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِي إِهَابٍ، ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَفَسَّرَهُ بَعْضُ رُوَاةِ أَبِي يَعْلَى بِأَنَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ فَهُوَ شَرٌّ مِنَ الْخِنْزِيرِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about the Quran placed in a skin and then cast into fire, stating that it would not burn. > **"If the Quran were placed in a skin and then cast into fire, it would not burn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اس قرآن کو ‘ اگر کسی چمڑے میں ڈالا جائے اور پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے ‘ تو وہ نہیں جلے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ‘ ابویعلیٰ کے بعض راویوں نے اس کی یہ وضاحت کی ہے : اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص قرآن کا علم حاصل کرنے کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو ‘ تو وہ خنریر سے بھی زیادہ برا ہے ۔

11628

Majma al-Zawaid #11628

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ جُمِعَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ مَا أَحْرَقَتْهُ النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ismah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about the Quran gathered in a skin and the effect of fire upon it. > **"If the Quran were gathered in a skin, fire would not burn it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اگر قرآن کو کسی چمڑے میں رکھا جائے ‘ تو آگ اُسے نہیں جلائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11629

Majma al-Zawaid #11629

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"If the Quran were in a skin, the Fire would not touch it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو ‘ تو آگ اُسے نہیں چھوئے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔

11630

Majma al-Zawaid #11630

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ الْقُرْآنَ غِنًى لَا فَقْرَ بَعْدَهُ، وَلَا غِنَى دُونَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانٍ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed the Quran is a richness after which there is no poverty, and there is no richness apart from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قرآن ایسی خوشحالی ہے کہ اس کے بعد غربت نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی خوشحالی نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11631

Majma al-Zawaid #11631

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْقُرْآنُ لَا فَقْرَ بَعْدَهُ، وَلَا غِنَى دُونَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Quran: there is no poverty after it, and no richness apart from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قرآن کے بعد کوئی غربت نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی خوشحالی نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11632

Majma al-Zawaid #11632

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَكَأَنَّمَا اسْتُدْرِجَتِ النُّبُوَّةُ بَيْنَ جَنْبَيْهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُوحَى إِلَيْهِ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَرَأَى أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِمَّا أُعْطِيَ فَقَدْ عَظَّمَ مَا صَغَّرَ اللَّهُ، وَصَغَّرَ مَا عَظَّمَ اللَّهُ، وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِحَامِلِ الْقُرْآنِ أَنْ يَسْفَهَ فِيمَنْ يَسْفَهُ، أَوْ يَغْضَبَ فِيمَنْ يَغْضَبُ، أَوْ يَحْتَدَّ فِيمَنْ يَحْتَدُّ، وَلَكِنْ يَعْفُو، وَيَصْفَحُ لِفَضْلِ الْقُرْآنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him and his father, from the Messenger of Allah ﷺ: > **"Whoever recites the Quran, it is as if prophethood has been enfolded between his two sides, except that no revelation comes to him. And whoever recites the Quran and then considers that anyone has been given something better than what he has been given has magnified what Allah deemed small and belittled what Allah deemed great. And it does not befit the bearer of the Quran to act foolishly with those who act foolishly, nor to grow angry with those who grow angry, nor to rage with those who rage; rather he should pardon and overlook, out of honour for the Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتا ہے ‘ تو گویا اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان نبوت ( کے فیوض و برکات ڈال دیے جاتے ہیں ) البتہ یہ ہے کہ اُس کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور پھر یہ سمجھتا ہے کہ جو نعمت اُسے دی گئی ہے ‘ کسی اور کے پاس ‘ اُس سے زیادہ فضیلت والی نعمت ہے ‘ تو اس نے اس چیز کو عظیم قرار دیا ‘ جسے اللہ نے چھوٹا قرار دیا ہے ‘ اور اس چیز کو چھوٹا قرار دیا ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت والا قرار دیا ہے ‘ قرآن کے عالم کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ دوسروں کی طرح بے وقوفی کا مظاہرہ کرے ‘ یا دوسروں کی طرح غضب کا مظاہرہ کرے ‘ یا کسی معاملے میں غصے کا اظہار کرے ‘ بلکہ اسے معاف کر دینا چاہیے اور درگزر سے کام لینا چاہیئے ‘ ایسا قرآن کی فضیلت کی وجہ سے کرنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

11633

Majma al-Zawaid #11633

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ "". قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: "" تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ غَيَابَتَانِ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ. وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبْرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ، فَيَقُولُ: أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ. فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا، فَيَقُولَانِ: بِمَ كُسِينَا هَذَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ. ثُمَّ يُقَالُ: اقْرَأْ، وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ، وَغُرَفِهَا. فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ حَدْرًا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, said: I was sitting with the Prophet ﷺ and I heard him say: > **"Learn Al-Baqarah, for taking it is blessing and leaving it is regret, and the idle sorcerers cannot withstand it."** Buraydah said: Then he fell silent for a while, then he said: > **"Learn Al-Baqarah and Āl ʿImrān, for they are the two radiant ones. They will shade their companion on the Day of Resurrection as though they were two clouds, or two canopies, or two flocks of birds in ranks. And indeed the Quran will meet its companion on the Day of Resurrection when his grave is opened for him, in the form of a pale man, and it will say: Do you know me? He will say: I do not know you. It will say: I am your companion, the Quran, who kept you thirsty in the midday heat and kept your night awake. And indeed every trader is behind his trade, and today you are beyond every trade. So dominion will be given to him in his right hand and eternity in his left, and the crown of dignity will be placed upon his head, and his two parents will be clothed with two garments to which the world cannot compare. They will say: For what have we been clothed with this? It will be said: For your child's taking of the Quran. Then it will be said: Recite and ascend through the steps of Paradise and its chambers. So he will continue ascending as long as he recites, whether swiftly or with measured recitation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ تم لوگ سورت بقرہ سیکھو ! کیونکہ اس کو سیکھنا برکت ہے اور اس کو چھوڑ دینا حسرت ہے اور باطل لوگ ( یا جادوگر ) اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ کچھ دیر خاموش رہے ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ سورت بقرہ اور سورت آل عمران سیکھو ! کیونکہ یہ دونوں دو بادل ہیں ، جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے پر سایہ کیے ہوئے ہوں گے ‘ یوں جیسے یہ دونوں بادل ہوتے ہیں ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) یا یہ صف باندھے ہوئے پرندوں کی دو قطاریں ہیں ، قیامت کے دن قرآن اپنے پڑھنے والے سے ملے گا ‘ جب اس شخص کو اس کی قبر سے اُٹھایا جائے گا قرآن ایک خوبصورت شکل والے شخص کی شکل میں اس کو ملے گا ‘ اور کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ، قرآن کہے گا : میں تمہارا ساتھی وہ قرآن ہوں کہ میں نے تمہیں گرمیوں میں پیاسا رکھا اور رات کو جگائے رکھا ‘ جبکہ ہر شخص اپنی تجارت میں مصروف تھا ‘ اور آج تم ہر قسم کی تجارت سے الگ ہو ‘ پھر بادشاہی اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی ‘ اور ہمیشہ رہنا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ‘ اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا ‘ اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ ان دونوں حلوں کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہو سکتی ‘ وہ دونوں کہیں گے : ہمیں یہ کس وجہ سے پہنائے گئے ہیں ؟ تو انہیں بتایا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ‘ پھر ( اس شخص سے ) یہ کہا جائے گا : تم تلاوت شروع کرو اور جنت کے درجات اور بالا خانوں پر چڑھنا شروع کرو ‘ تو جب تک وہ تلاوت کرتا رہے گا ‘ وہ مسلسل چڑھتا رہے گا ، خواہ وہ تیزی سے تلاوت کرے یا ٹھہر ‘ ٹھہر کے کرے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11634

Majma al-Zawaid #11634

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ، وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا، وَإِنَّ لُبَابَ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ، وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَتَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ الْجَوْفُ الَّذِي فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said: Everything has a hump, and the hump of the Quran is Sūrah Al-Baqarah. And indeed everything has a core, and the core of the Quran is the Mufaṣṣal. And indeed the devils leave the house in which Sūrah Al-Baqarah is recited. And indeed the smallest of houses is the hollow interior in which there is nothing of the Book of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ‘ قرآن کی چوٹی سورت بقرہ ہے ‘ اور ہر چیز کا ایک دروازہ ہوتا ہے اور قرآن کا دروازہ ‘ مفصل ( سورتیں ) ہیں ‘ اور شیاطین اُس گھر سے نکل جاتے ہیں ، جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے اور سب سے زیادہ چھوٹا گھر وہ ہے ‘ جس میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11635

Majma al-Zawaid #11635

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَعْلِيمِ الْقُرْآنِ، وَحَثَّنَا عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" إِنَّ الْقُرْآنَ يَأْتِي أَهْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحْوَجَ مَا كَانُوا إِلَيْهِ، فَيَقُولُ لِلْمُسْلِمِ: تَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّ، وَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَكَ الَّذِي كَانَ يَسْحَبُكَ، وَيُدْنِيكَ. فَيَقُولُ: لَعَلَّكَ الْقُرْآنُ. فَيَقْدَمُ بِهِ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ السَّكِينَةُ، وَيُنْشَرُ عَلَى أَبَوَيْهِ حُلَّتَانِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا، أَضْعَافًا، فَيَقُولَانِ: لِأَيِّ شَيْءٍ كُسِينَا هَذَا وَلَمْ تَبْلُغْهُ أَعْمَالُنَا؟ فَيَقُولُ: هَذَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Umāmah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to learn the Quran and urged us toward it, and he said: > **"Indeed the Quran will come to its people on the Day of Resurrection when they are most in need of it. It will say to the Muslim: Do you know me? He will say: Who are you? It will say: I am the one whom you used to love, and whom you disliked to part from, the one who used to draw you along and keep you close. He will say: Perhaps you are the Quran. So it will proceed with him to his Lord, mighty and majestic, and he will be given dominion in his right hand and eternity in his left, and tranquillity will be placed upon his head, and his two parents will be laden with two garments to which the world cannot compare, manifold. They will say: For what have we been clothed with this when our deeds did not reach it? He will say: This is for your child's taking of the Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں قرآن سیکھنے کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ قرآن ‘ قیامت کے دن ‘ اپنے پڑھنے والے شخص کے پاس اُس وقت آئے گا کہ جب اُسے سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہو گی ‘ وہ مسلمان شخص سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ مسلمان شخص کہے گا : تم کون ہو ؟ وہ کہے گا : میں وہ ہوں ، جس سے تم محبت رکھتے تھے ‘ اور جس کے بارے میں تم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ تم سے جدا ہو ‘ یہ وہ ہے ‘ جو تمہیں اٹھاتا تھا اور تمہارے ساتھ ہوتا تھا ، تو مسلمان کہے گا : شاید تم قرآن ہو ‘ پھر قرآن اُس کو ساتھ لے کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آئے گا ‘ تو اُس شخص کے دائیں ہاتھ بادشاہی اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ رہنا دیا جائے گا اور اس کے سر پر سکینت کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ پوری دنیا اُن کی قیمت نہیں بن سکتی ، خواہ وہ کئی گنا ہو جائے ‘ وہ دونوں کہیں گے : یہ ہمیں کیوں پہنائے گئے ہیں ؟ جبکہ ہمارے اعمال ‘ تو اس مقام تک نہیں پہنچتے ہیں ، تو پروردگار فرمائے گا : یہ تمہارے بچے کے قرآن سیکھنے کی وجہ سے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ‘ ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ ‘ اُس کی تعریف بیان کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11636

Majma al-Zawaid #11636

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ أَنَا الَّذِي كُنْتُ أُسْهِرُ لَيْلَكَ، وَأُظْمِئُ هَوَاجِرَكَ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ، وَأَنَا لَكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تَاجِرٍ. فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، فَيَقُولَانِ: يَا رَبِّ، أَنَّى لَنَا هَذَا؟ فَيُقَالُ لَهُمَا: بِتَعْلِيمِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Quran will come on the Day of Resurrection like a pale man, saying to its companion: Do you know me? I am the one who kept your night awake and kept you thirsty in the midday heat. And indeed every trader is behind his trade, and I am for you today beyond every trader. So he will be given dominion in his right hand and eternity in his left, and the crown of dignity will be placed upon his head, and his two parents will be clothed with two garments to which the world and all it contains cannot compare. They will say: O Lord, whence is this for us? It will be said to them: For your child's teaching of the Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ‘ قرآن ایک حسین و جمیل شخص کی شکل میں آئے گا اور اپنے پڑھنے والے سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ میں وہ ہوں ‘ جو رات کو تمہیں جگایا کرتا تھا اور دن کے وقت تمہیں پیاسا رکھتا تھا ‘ ہر تاجر اپنی تجارت سے دور ہو چکا ہے اور آج میں تمہارے کام آؤں گا ‘ تو اس شخص کے دائیں ہاتھ میں بادشاہی دی جائے گی اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ رہنا دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے ماں باپ کو دو حلے پہنائے جائیں گے کہ دنیا اور اس میں موجود سب چیزیں اُن کی قیمت نہیں ہو سکتیں ‘ وہ دونوں عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ ہمیں کیوں دیے گئے ہیں ؟ تو ان سے کہا جائے گا : کیونکہ تم نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی تھی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالعزیز حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11637

Majma al-Zawaid #11637

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، وَمَاتَ فِي الْجَمَاعَةِ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ، وَالْحُكَّامِ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَهُوَ يَنْفَلِتُ مِنْهُ لَا يَدَعُهُ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا عَلَيْهِ لَا يَسْتَطِيعُهُ، وَلَا يَدَعُهُ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ أَشْرَافِ أَهْلِهِ، فُضِّلُوا عَلَى الْخَلَائِقِ كَمَا فُضِّلَتِ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطُّيُورِ، وَكَمَا فُضِّلَتْ عَيْنٌ فِي مَرْجٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا، وَيُنَادِي مُنَادٍ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا لَا تُلْهِيهِمْ رِعْيَةُ الْأَنْعَامِ عَنْ تِلَاوَةِ كِتَابِي؟ فَيَقُومُونَ، فَيُلْبَسُ أَحَدُهُمْ تَاجَ الْكَرَامَةِ، وَيُعْطَى الْفَوْزَ بِيَمِينِهِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ، فَإِنْ كَانَ أَبَوَاهُ مُسْلِمَيْنِ كُسِيَا حُلَّةً خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، فَيَقُولَانِ: أَنَّى هَذَا لَنَا؟ فَيُقَالُ: بِمَا كَانَ وَلَدُكُمَا يَقْرَأُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ هُشَيْمٌ خَيْرًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Muʿādh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, from the Messenger of Allah ﷺ who said: > **"Whoever recites the Quran and acts upon what is in it, and dies within the community, Allah will raise him on the Day of Resurrection with the scribes and the rulers. And whoever recites the Quran while it slips away from him and he does not abandon it, he has his reward twice. And whoever is eager for it but cannot master it and does not abandon it, Allah will raise him on the Day of Resurrection with the nobles of his people, favoured over creation as eagles are favoured over all other birds, and as a spring in a meadow is favoured over what surrounds it. And a caller will call: Where are those whom tending livestock did not distract from reciting My Book? So they will stand, and each of them will be clothed with the crown of honour, and triumph will be given in his right hand and eternity in his left. And if his two parents are Muslims they will be clothed with a garment better than the world and all it contains. They will say: Whence is this for us? It will be said: For what your child used to recite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہتے ہوئے مر جاتا ہے تو قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اسے سٹیروں اور حکام کے ہمراہ اٹھائے گا اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے ‘ اور وہ اُس سے نہیں پڑھا جاتا ہے اور وہ اُسے نہیں چھوڑتا ، تو اسے دگنا اجر ملے گا اور جو شخص اس کو سیکھنے کے حوالے سے حرص رکھتا ہو ‘ وہ نہ اس کو سیکھ سکتا ہو اور نہ اسے چھوڑتا ہو ‘ تو قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنے معزز بندوں میں زندہ کرے گا ‘ جنہیں دیگر تمام مخلوق پر وہ فضیلت حاصل ہو گی جو نسور کو دیگر تمام پرندوں پر حاصل ہوتی ہے ‘ جس طرح کسی چراگاہ میں موجود چشمے کو اس کے اردگرد جگہ پر حاصل ہوتی ہے پھر ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ لوگ کہاں ہیں ؟ کہ جانوروں کی دیکھ بھال ‘ اُنہیں میری کتاب کی تلاوت سے غافل نہیں کرتی تھی وہ لوگ کھڑے ہوں گے ‘ اُن میں سے ہر ایک کے سر پر کرامت کا تاج رکھا جائے گا اور کامیابی اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی اور ہمیشہ رہنا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ‘ اگر اس کے ماں باپ مسلمان ہوں گے ‘ تو انہیں ایسا حلہ پہنایا جائے گا ‘ جو دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہو گا ‘ وہ کہیں گے : یہ ہمیں کیوں دیا جا رہا ہے ؟ تو ان سے کہا جائے گا : کیونکہ تمہارا بچہ ‘ قرآن کا عالم تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ‘ ہشیم نے بھلائی کے ہمراہ اُس کی تعریف بیان کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11638

Majma al-Zawaid #11638

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُمَثَّلُ لَهُ الْقُرْآنُ، قَدْ كَانَ يُضَيِّعُ فَرَائِضَهُ، وَيَتَعَدَّى حُدُودَهُ، وَيُخَالِفُ طَاعَتَهُ، وَيَرْكَبُ مَعَاصِيَهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، حَمَّلْتَ آيَاتِي بِئْسَ حَامِلٍ، تَعَدَّى حُدُودِي وَضَيَّعَ فَرَائِضِي وَتَرَكَ طَاعَتِي، وَرَكِبَ مَعْصِيَتِي، فَمَا يَزَالُ عَلَيْهِ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ: فَشَأْنَكَ بِهِ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَمَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى مِنْخَرِهِ فِي النَّارِ. وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ قَدْ كَانَ يَحْفَظُ حُدُودَهُ، وَيَعْمَلُ بِفَرَائِضِهِ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَتِهِ، وَيَجْتَنِبُ مَعْصِيَتَهُ فَيَصِيرُ خَصْمًا دُونَهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، حَمَّلْتَ آيَاتِي خَيْرَ حَامِلٍ، اتَّقَى حُدُودِي، وَعَمِلَ بِفَرَائِضِي، وَاتَّبَعَ طَاعَتِي، وَاجْتَنَبَ مَعْصِيَتِي، فَلَا يَزَالُ لَهُ بِالْحُجَجِ حَتَّى يُقَالَ: فَشَأْنَكَ بِهِ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ، فَمَا يَزَالُ لَهُ حَتَّى يَكْسُوَهُ حُلَّةَ الْإِسْتَبْرَقِ، وَيَضَعَ عَلَيْهِ تَاجَ الْمُلْكِ، وَيَسْقِيَهُ بِكَأْسِ الْمُلْكِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him and his father, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"A man will be brought on the Day of Resurrection and the Quran will be presented to him, though he had neglected its obligations, transgressed its limits, opposed its obedience, and committed its prohibitions. So it will say: O Lord, You entrusted Your verses to a miserable bearer; he transgressed my limits, neglected my obligations, abandoned my obedience, and committed disobedience to me. So it will keep presenting proofs against him until it is said: Then deal with him as you wish. So it will take him by his hand and will not part from him until it casts him headlong upon his nostrils into the Fire. And a man will be brought who had guarded its limits, acted upon its obligations, acted in its obedience, and avoided its disobedience, so it will become a defender on his behalf. It will say: O Lord, You entrusted Your verses to an excellent bearer; he observed my limits out of piety, acted upon my obligations, followed my obedience, and avoided disobedience to me. So it will keep presenting proofs for him until it is said: Then deal with him as you wish. So it will take him by his hand and remain with him until it clothes him with a garment of brocade, places upon him the crown of dominion, and gives him drink from the cup of dominion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قیامت کے دن ‘ ایک شخص کو لایا جائے گا ‘ قرآن کو اس کے سامنے انسانی شکل میں لایا جائے گا ‘ یہ وہ شخص ہو گا ‘ جو قرآن کو ضائع کرتا تھا اور اس کی حدود کو پامال کرتا تھا اور اس کی اطاعت ( کے احکام ) کی مخالفت کرتا تھا اور اس کے بیان کردہ گناہوں کا مرتکب ہوتا تھا ‘ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میری آیات کا علم ایک ایسے شخص کو عطا کیا ، جس نے میری حدود کی خلاف ورزی کی ‘ میرے فرائض کو ضائع کیا ، میری اطاعت کو ترک دیا ‘ میری معصیت کا ارتکاب کیا ، پھر قرآن مسلسل اُس شخص کے خلاف دلائل دیتا رہے گا ‘ یہاں تک کہ کہا جائے گا : تم اسے سنبھالو ! تو قرآن اس شخص کا ہاتھ پکڑے گا اور اس سے اُس وقت تک جدا نہیں ہو گا ‘ جب تک اُسے نتھنوں کے بل جہنم میں نہیں ڈال دے گا ، پھر ایک شخص کو لایا جائے گا ‘ جو قرآن کی حدود کی حفاظت کرتا تھا ‘ اس کے فرائض پر عمل کرتا تھا ، اس کی حدود پر عمل کرتا تھا ، اس کی معصیت سے اجتناب کرتا تھا ‘ تو قرآن اس کی طرف سے بحث کرنے والا ہو جائے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے میری آیات کا علم بہتر شخص کو دیا تھا ، جس نے میری حدود کے حوالے سے میری پرہیز گاری اختیار کی ‘ میرے فرائض پر عمل کیا ‘ میری اطاعت کی پیروی کی ‘ میری معصیت سے اجتناب کیا ، پھر قرآن مسلسل اس کے حق میں دلائل دیتا رہے گا ‘ یہاں تک کہ کہا جائے گا : تم اسے سنبھالو ! تو قرآن اس شخص کا ہاتھ پکڑے گا اور مسلسل اس کے ساتھ رہے گا ‘ یہاں تک کہ اس کو استبرق سے بنا ہوا حلہ پہنائے گا اور اس پر بادشاہی کا تاج رکھوائے گا اور بادشاہی کے جام میں اُسے پینے کے لئے دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ مدلس ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11639

Majma al-Zawaid #11639

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ تَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ اسْتَقْبَلَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَضْحَكُ فِي وَجْهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Umāmah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever learns a verse from the Book of Allah, it will meet him on the Day of Resurrection smiling in his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ‘ اللہ کی کتاب کی ایک آیت کا علم حاصل کرے گا ‘ وہ آیت قیامت کے دن مسکراتی ہوئی ‘ اُس کا استقبال کرے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں

11640

Majma al-Zawaid #11640

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَشْرَافُ أُمَّتِي حَمَلَةُ الْقُرْآنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُرْجَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him and his father, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The nobles of my Ummah are the bearers of the Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میری امت کے سب سے زیادہ معزز لوگ ‘ قرآن کے عالم ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن سعید جرجانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11641

Majma al-Zawaid #11641

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Al-Ḥusayn ibn ʿAlī, may Allah be pleased with him and his father, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The bearers of the Quran are the chiefs of the people of Paradise on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن قرآن کے عالم ‘ اہل جنت کے معززین ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن سعید مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11642

Majma al-Zawaid #11642

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: «بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدًا إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا مِنْهُمْ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَمَكَثَ أَيَّامًا لَمْ يَسِرْ، فَلَقِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْهُمْ، فَقَالَ: "" يَا فُلَانُ، مَالَكَ؟ أَمَا انْطَلَقْتَ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِيرُنَا يَشْتَكِي رِجْلَهُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَثَ عَلَيْهِ ""بِسْمِ اللَّهِ، وَبِاللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا فِيهَا "" سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُؤَمِّرُهُ عَلَيْنَا وَهُوَ أَصْغَرُنَا؟ فَذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِرَاءَتَهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ الشَّيْخُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَتَوَسَّدَ فَلَا أَقُومَ بِهِ لَتَعَلَّمْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَعَلَّمْهُ، فَإِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ كَجِرَابٍ مَلَأْتَهُ مِسْكًا ثُمَّ رَبَطْتَ عَلَى فِيهِ فَإِنْ فَتَحْتَ فَاحَ عَلَيْهِ رِيحُ الْمِسْكِ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ كَانَ مِسْكًا مَوْضُوعًا، كَذَلِكَ مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا قَرَأْتَهُ أَوَكَانَ فِي صَدْرِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: فِي أَحَادِيثِ ابْنِهِ عَنْهُ مَنَاكِيرُ. قُلْتُ: لَيْسَ هَذَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِهِ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān, may Allah be pleased with him, said: The Prophet ﷺ sent a delegation to Yemen and appointed over them a commander from among them who was the youngest of them. Days passed and they did not set out. The Prophet ﷺ met a man from among them and said to him: > **"O so-and-so, what is the matter with you? Have you not departed?"** He said: O Messenger of Allah, our commander complains of pain in his leg. So the Prophet ﷺ came to him and breathed upon him, saying seven times: > **"In the name of Allah, and by Allah, I seek refuge in the might of Allah and His power from the evil of what is in it."** So the man was healed. Then an elder said to him: O Messenger of Allah, will you appoint him over us when he is the youngest of us? So the Prophet ﷺ mentioned his recitation of the Quran. The elder said: O Messenger of Allah, were it not that I fear I would lie back upon it and not uphold it by standing with it, I would have learned it. So the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Learn it, for indeed the parable of the Quran is like a sack you filled with musk and then tied its mouth. If you open it, the scent of musk spreads from it, and if you leave it, it remains musk laid aside. Likewise is the parable of the Quran when you recite it or when it is in your breast."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ‘ ایک وفد یمن کی طرف بھیجا اور ان میں سے ایک شخص کو ان کا امیر بنا دیا جو عمر میں ان لوگوں سے کم تھا ، کچھ دن گزر گئے ‘ لیکن وہ لوگ روانہ نہیں ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ کی ملاقات اُن میں سے ایک شخص سے ہوئی ‘ تو آپ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا وجہ ہے تم لوگ گئے کیوں نہیں ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے امیر کی ٹانگ میں تکلیف کی شکایت تھی ، نبی اکرم ﷺ اس امیر کے پاس آئے ‘ اس کو دم کیا ‘ اور یہ پڑھا : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ ‘ میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں ‘ اُس چیز کے شر سے ‘ جو اس میں موجود ہے ‘‘۔ یہ کلمات آپ نے سات مرتبہ پڑھے ‘ تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا ‘ اس عمر رسیدہ شخص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اسے ہمارا امیر مقرر کر رہے ہیں ؟ جبکہ یہ عمر میں ہم سب سے کم ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے قرآن کے عالم ہونے کا ذکر کیا ‘ تو اُس عمر رسیدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ خوف نہ ہوتا کہ میں اس کو سیکھنے کے باوجود سویا رہوں گا ‘ اور اس کو قیام کی حالت میں ‘ اس کی تلاوت نہیں کر پاؤں گا ‘ تو میں بھی اس کو سیکھ لیتا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا : ’’ تم اس کو سیکھو ! کیونکہ قرآن کی مثال اس مشکیزے کی مانند ہے ‘ جس میں تم مشک بھر لیتے ہو اور اس کے منہ کو بند کر دیتے ہو ‘ اگر تم اس کو کھولو گے ‘ تو مشک کی خوشبو پھیلے گی اور اگر تم اسے چھوڑ دو گے ‘ تو مشک رکھی ہوئی تو ہے ‘ قرآن کی مثال بھی اسی طرح ہے کہ جب تم اسے پڑھو ‘ یا وہ تمہارے سینے میں موجود ہو ( تو دونوں صورتیں ہی بہتر ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ‘ وہ کہتے ہیں : اس کے بیٹے نے اس سے جو احادیث نقل کی ہیں ‘ وہ منکر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ ان روایات میں سے ایک نہیں ہے ‘ جو اس کے بیٹے نے اس سے نقل کی ہیں ۔

11643

Majma al-Zawaid #11643

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ نَبَتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَكْمَلَهُ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيهِ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ؟». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Muʿādh ibn Anas, may Allah be pleased with him, from the Messenger of Allah ﷺ that he said: > **"Whoever says: Glory be to Allah the Magnificent, a seedling is planted for him in Paradise. And whoever recites the Quran and completes it and acts upon what is in it, his two parents will be clothed with a crown more beautiful than the light of the sun in houses of this world, were it in them. Then what do you think of the one who acted upon it himself?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص ’’ «سبحان اللہ العظیم» ‘‘ پڑھتا ہے ‘ اس کے لئے جنت میں پودا لگا دیا جاتا ہے ‘ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اسے مکمل پڑھتا ہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا ہے ‘ تو اس کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا ‘ جو اس سے زیادہ روشن ہو گا ، جتنی دنیا کے کسی گھر میں سورج کی روشنی ہوتی ہے ‘ اگر وہ روشنی اس گھر میں ہو ‘ تو اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ جو خود قرآن پر عمل کرتا ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔