Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 20

Book of Exegesis

Hadith 11564–11603

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11564

Majma al-Zawaid #11564

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ قَالَ: "" قِيلَ لِي فَقُلْتُ. فَقُولُوا كَمَا قُلْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdillah ibn Masud, may Allah be pleased with him, who reported that the Prophet ﷺ was asked about these two surahs and explained that he had been commanded to recite them, directing others to follow his recitation. > **"It was said to me, so I said it. So say as I said."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے ان دو سورتوں کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ پڑھنے کے لئے کہا گیا ‘ تو میں نے یہ جس طرح پڑھی ہیں ، اُس طرح تم بھی پڑھو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11565

Majma al-Zawaid #11565

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Hudhayfah, may Allah be pleased with him, who heard the Messenger of Allah ﷺ speak about the modes in which the Quran was sent down. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قرآن ‘ سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ بزار اور طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

11566

Majma al-Zawaid #11566

وَبِإِسْنَادِ أَحْمَدَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَقِيتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ، الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْقَاسِي الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ».

EnglishUnverified translation

With the chain of Ahmad, on the authority of Hudhayfah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ met Jibril at Ahjar al-Mira, mentioned that he had been sent to an unlettered community of men, women, boys, girls, and aged persons who had never read a book, and received an answer concerning the modes of the Quran. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی سند کے ساتھ ‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ احجار مراء ‘‘ کے مقام پر ‘ میری ملاقات جبرائیل سے ہوئی ‘ میں نے کہا : اے جبرائیل ! مجھے ایک ایسی اُمت کی طرف بھیجا گیا ہے ‘ جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ، اس میں مرد ہیں ، خواتین ہیں ، بچے ہیں ، بچیاں ہیں ، بڑی عمر کے لوگ ہیں ، جنہوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی ‘ تو جبرائیل نے کہا : بے شک قرآن ‘ سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘‘۔

11567

Majma al-Zawaid #11567

وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَيْضًا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ جِبْرِيلَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ: "" إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ وَإِلَى مَنْ لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ "". قَالَ جِبْرِيلُ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ. فَقَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ. فَقَالَ: اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ. فَقَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ. حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Hudhayfah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ met Jibril at Ahjar al-Mira, mentioned being sent to an unlettered people who had never read a book, and that Jibril conveyed Allah's command, with Mikail repeatedly requesting an increase until the number reached seven. > **"Read the Quran upon one harf. Read upon two ahruf. Read upon seven ahruf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات ’’ احجار مراء ‘‘ کے مقام پر ‘ حضرت جبرائیل سے ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے ایک ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہیں اور ان لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا جنہوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی تو حضرت جبرائیل نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ ایک حرف کے مطابق قرآن پڑھیں حضرت میکائیل نے کہا آپ مزید کے بارے میں کہیئے ( نبی اکرم ﷺ نے یہ کہا ) تو حضرت جبرائیل نے کہا آپ دو حروف پر پڑھ لیں حضرت میکائیل نے کہا آپ مزید کے بارے میں کہیئے ( نبی اکرم ﷺ نے مزید کے بارے میں کہا ) یہاں تک کہ وہ سات حروف تک پہنچ گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11568

Majma al-Zawaid #11568

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ أَصَبْتُمْ، فَلَا تُمَارُوا فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Amr ibn al-As, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about the seven modes of the Quran, the correctness of whichever mode is recited, and the prohibition of disputing about it. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf. Upon whichever harf you recite, you are correct, so do not dispute, for disputation about it is disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ’’ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے تم جس بھی حرف کے مطابق تلاوت کرو گے ٹھیک کرو گے تم بحث کا شکار نہ ہونا ‘ کیونکہ اس کے بارے میں بحث کفر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

11569

Majma al-Zawaid #11569

وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «سَمِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى غَيْرِ هَذَا. فَذَهَبَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آيَةُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ قَرَأَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَكَذَا أُنْزِلَتْ "". وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: أَلَيْسَ هَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" هَكَذَا أُنْزِلَتْ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّ ذَلِكَ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ، وَلَا تُمَارُوا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ أَوْ إِنَّهُ الْكُفْرُ بِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Qays, the freedman of Amr ibn al-As, who reported that Amr heard a man reciting a verse of the Quran, questioned who had taught him, was told it was the Messenger of Allah ﷺ, and said the Messenger of Allah ﷺ had taught it to him differently. Both went to the Messenger of Allah ﷺ, each recited in turn, each recitation was confirmed as revealed, and then a general principle about the seven modes and disputation was stated. > **"Thus it was sent down. Thus it was sent down. This Quran was sent down upon seven ahruf, so whichever of them you recite, you have done correctly, and do not dispute about it, for disputation about it is disbelief, or it is disbelief in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابوقیس بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ‘ تو اس سے دریافت کیا : تمہیں یہ کس نے پڑھائی ہے ؟ اس نے بتایا : اللہ کے رسول نے ‘ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول نے مجھے تو یہ اس سے مختلف طور پر پڑھائی ہے ، پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ان دونوں میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں ‘ فلاں آیت ، پھر ان صاحب نے وہ آیت تلاوت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ‘ پھر دوسرے صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے وہی آیت پڑھی اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ اس طرح نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک یہ قرآن ‘ سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘ تو تم جس بھی قرأت کو کر لو گے ‘ تم درست کرو گے ‘ تم اس کے بارے میں بحث کا شکار نہ ہونا ‘ کیونکہ اس کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایسا کرنا اس کا کفر کرنے کے مترادف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

11570

Majma al-Zawaid #11570

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ. قَالَ: فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَقَرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: "" أَحْسَنْتَ "". قَالَ: فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عُمَرُ، إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا أَوْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Talhah, may Allah be pleased with him, who reported that a man recited before Umar, may Allah be pleased with him, who objected, but the man said he had recited before the Messenger of Allah ﷺ without objection. Both gathered before the Messenger of Allah ﷺ, one recited before the Prophet ﷺ and was praised, Umar felt unease, and the Prophet ﷺ addressed Umar with a principle about the correctness of the Quran and its limits. > **"You have done well. O Umar, the whole Quran is correct so long as mercy is not made punishment or punishment mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں تلاوت کی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے اس پر اعتراض کیا ‘ اس نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کو پڑھا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں کروائی راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ دونوں صاحبان ، نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے ‘ تو ان دونوں میں سے ایک نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کی تلاوت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم نے ٹھیک تلاوت کی ہے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس حوالے سے الجھن محسوس ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عمر ! بے شک قرآن پورے کا پورا ٹھیک ہے ‘ جب تک مغفرت کو عذاب ‘ یا عذاب کو مغفرت نہ بنا دیا جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11571

Majma al-Zawaid #11571

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ. قَالَ مِيكَائِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اسْتَزِدْهُ، فَاسْتَزَادَهُ. قَالَ: اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ. قَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ، فَاسْتَزَادَهُ. قَالَ: اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ. قَالَ مِيكَائِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اسْتَزِدْهُ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ. قَالَ: كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ يَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ، نَحْوُ قَوْلِكَ: تَعَالَ وَأَقْبِلْ، وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ، وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَاذْهَبْ وَأَدْبِرْ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ تُوبِعَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, who reported that Jibril, peace be upon him, addressed Muhammad ﷺ about reciting upon one harf, that Mikail repeatedly asked for an increase until seven ahruf were reached, and that every mode was described as healing and sufficient within a stated limit, with synonymous expressions given as illustration. > **"Read the Quran upon one harf. Read upon two ahruf. Read upon three ahruf. Read upon seven ahruf. Each is healing and sufficient so long as a verse of punishment is not sealed with mercy, nor mercy with punishment, like your saying: come and approach, hasten and go, hurry and quicken."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے حضرت محمد ! آپ قرآن کو ایک حرف کے مطابق پڑھیں تو حضرت میکائیل نے کہا : آپ مزید کے بارے میں کہیے ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں مزید کے بارے میں کہا ‘ تو حضرت جبرائیل نے کہا : آپ اس کو دو حروف کے مطابق پڑھ لیں ، حضرت میکائیل نے کہا : آپ مزید کے بارے میں کہیے ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں مزید کے بارے میں کہا ‘ تو انہوں نے کہا : آپ تین حروف کے مطابق پڑھ لیں ، حضرت میکائیل نے کہا : آپ مزید کے بارے میں کہیے ‘ یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ( یا حضرت جبرائیل نے ) ارشاد فرمایا : سب کافی و شافی ہیں ، جب تک عذاب سے متعلق آیت کو رحمت ‘ یا رحمت سے متعلق آیت کو عذاب والی نہ بنا دیا جائے ‘ جیسے آپ کا یہ کہنا : تعال ‘ یا اقبل ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ تم آ جاؤ ) یا ھلم یا اذہب ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ چلے جاؤ ) یا اسرع ‘ اور اعجل ( دونوں کا مطلب یہی ہے کہ تم جلدی کرو ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے لفظ ’’ اذہب اور ادبر ‘‘ ( یعنی تم چلے جاؤ ) نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اس کی متابعت کی گئی ہے امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11572

Majma al-Zawaid #11572

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ، وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ: "" إِنَّ أُمَّتُكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ ""، وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: "" إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبَةً عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Hudhayfah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ met Jibril at Ahjar al-Mira and that Jibril conveyed guidance about the community reciting upon seven ahruf, about holding to what one learned, and, in the wording of Ibn Mahdi, about the weak and not shifting away out of dislike. > **"Your community will recite the Quran upon seven ahruf, so whoever among them recites upon a harf should recite as he learned and not turn away from it. Among your community are the weak, so whoever recites upon a harf should not move to another out of dislike for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات ‘ حضرت جبرائیل سے ہوئی ‘ آپ اس وقت ’’ احجار مراء ‘‘ کے مقام پر تھے ‘ حضرت جبرائیل نے کہا : آپ کی امت قرآن کو سات حروف پر تلاوت کرے گی ‘ ان میں سے جو شخص ، جس بھی حرف کے مطابق تلاوت سیکھے گا ‘ وہ اس کے مطابق تلاوت کرے ‘ جس کی اس نے تعلیم حاصل کی ہے اور اس کو نہ چھوڑے ۔ ابن مہدی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں ، تو جو شخص ایک مخصوص حرف کے مطابق تلاوت سیکھے ‘ تو وہ اس کو چھوڑ کر دوسری کی طرف منتقل نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

11573

Majma al-Zawaid #11573

وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ «أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ هَذَا: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْآخَرُ: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَسَأَلَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu al-Juhaym, may Allah be pleased with him, who reported that two men differed over a verse of the Quran, each claiming to have received it from the Messenger of Allah ﷺ, and that they asked the Prophet ﷺ, who gave them a ruling about the modes and about disputing. > **"The Quran is recited upon seven ahruf, so do not dispute about the Quran, for disputation about the Quran is disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں کے درمیان قرآن کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ‘ ایک نے کہا : میں نے یہ آیت خود نبی اکرم ﷺ سے سیکھی ہے ‘ دوسرے نے کہا : میں نے بھی یہ نبی اکرم ﷺ سے سیکھی ہے ‘ ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ قرآن کو سات حروف پر پڑھا جا سکتا ہے ‘ تو تم لوگ قرآن کے بارے میں اختلاف کا شکار نہ ہو ‘ کیونکہ قرآن میں اختلاف کرنا ( یا بحث کرنا ) کفر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11574

Majma al-Zawaid #11574

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَمَا عَرَفْتُمْ فَاعْمَلُوا بِهِ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرَدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ»،

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, who reported from the Prophet ﷺ a statement about the seven modes, repeated three times, concerning disputation, followed by instruction about acting upon what is known and referring back what is unknown to one who knows it. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf. Disputation about the Quran is disbelief. What you know of it, act upon it, and what you do not know of it, refer it back to one who knows it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور قرآن کے بارے میں اختلاف کرنا ( یا بحث کرنا ) کفر ہے ‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ جب تم اس کا علم حاصل کر لو ‘ تو اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تم نا واقف ہو ‘ اُس کا حکم ‘ اس کے عالم فرد کی طرف لوٹا دو ‘‘۔

11575

Majma al-Zawaid #11575

وَفِي رِوَايَةٍ «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "" عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ. وَعَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «عُرِضَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ». قَالَ: فَيَرَوْنَ أَنَّ قِرَاءَتَنَا هِيَ الْأَخِيرَةُ، فَلَا أَدْرِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ، أَوْ غَيْرِهِ - يَعْنِي فَيَرَوْنَ أَنَّ قِرَاءَتَنَا -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, in one narration describing the seven modes with paired divine attributes, and on the authority of Samurah, may Allah be pleased with him, who reported that the Quran was presented before the Messenger of Allah ﷺ three times, with the narrator adding that people considered their own recitation to be the final one, while expressing uncertainty whether that remark belonged to the hadith itself. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf: Knowing, Wise, Forgiving, Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ( جیسے ) علم رکھنے والا ‘ حکمت والا ۔ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ۔ یہ تمام روایات دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کے سامنے تین مرتبہ قرآن پڑھا گیا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہماری قرات ہی آخری قرأت ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ان کی روایت کے یہ الفاظ حدیث کا حصہ ہیں ‘ یا نہیں ہیں ؟ یعنی یہ الفاظ :’’ کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری قرأت ہی “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11576

Majma al-Zawaid #11576

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ».

EnglishUnverified translation

On the authority of Samurah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about the modes upon which the Quran was sent down. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قرآن ‘ سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘‘۔

11577

Majma al-Zawaid #11577

وَفِي رِوَايَةٍ «ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration from the same authority, the number of modes was mentioned differently, stating three instead of seven. > **"Upon three ahruf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ تین حروف .......‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال اور امام طبرانی کی دو میں سے ایک سند کے رجال اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11578

Majma al-Zawaid #11578

وَعَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ - يَعْنِي سَيَّارَ بْنَ سَلَامَةَ - قَالَ: «بَلَغَنَا أَنَّ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ يَوْمًا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: أُذَكِّرُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ "". لَمَّا قَامَ، فَقَامُوا حَتَّى لَمْ يُحْصَوْا، فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ "". فَقَالَ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: وَأَنَا أَشْهَدُ مَعَهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

From Abu al-Minhal, that is Sayyar ibn Salamah, who reported that it reached him that Uthman, may Allah be pleased with him, stood one day upon the minbar, adjured by Allah anyone who had heard the Prophet ﷺ speak about the seven modes and their sufficiency to stand, whereupon so many stood that they could not be counted and bore witness to it, and Uthman added his own testimony with them. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf, all of them healing and sufficient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومنہال سیار بن سلامہ بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب منبر پر موجود تھے تو انہوں نے یہ فرمایا : کہ میں اُس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، جس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘ جن میں سے ہر ایک کافی و شافی ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ کھڑے ہوئے تھے کہ اسی دوران اتنے لوگ کھڑے ہو گئے کہ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا تھا اور ان لوگوں نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک کافی و شافی ہے ‘‘۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں کے ساتھ میں بھی ( اس بات کے حوالے سے ) گواہ ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ‘ کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

11579

Majma al-Zawaid #11579

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ "". وَنَهَى أَنْ يَسْتَلْقِيَ الرَّجُلُ - أَحْسَبُهُ قَالَ - فِي الْمَسْجِدِ وَيَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ «لِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهَا بَطْنٌ وَظَهْرٌ»، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ آخِرِهِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ. وَرِوَايَةُ الْبَزَّارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ فِي آخِرِهَا: لَمْ يَرْوِ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، قُلْتُ: وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ إِنَّمَا رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، فَإِنْ كَانَ هُوَ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ، فَرِجَالُ الْبَزَّارِ أَيْضًا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdillah, that is Ibn Masud, may Allah be pleased with him, who reported that the Prophet ﷺ spoke about the seven modes and about every verse having an outer and an inner aspect, and forbade a man to recline in the mosque placing one foot over the other, with the narrator expressing slight uncertainty about the exact wording of the place. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf, and for every verse of it there is an outer aspect and an inner aspect."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور اس کی ہر آیت کا ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک باطنی پہلو ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ آدمی چٹ لیٹے ‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مسجد میں ‘ اور ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ‘ ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس کے ہر حرف کا ایک باطنی پہلو ہے اور ایک ظاہری پہلو ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کے آخری حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام بزار کی روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ محمد بن عجلان کے حوالے سے ابواسحاق سے منقول ہے اس کے آخر میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ محمد بن عجلان نے ابراہیم ہجری کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : محمد بن عجلان نے ابواسحاق سبعیی سے روایات نقل کی ہیں اگر تو اس سے مراد ابواسحاق سبعیی ہے ‘ تو پھر امام بزار کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

11580

Majma al-Zawaid #11580

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أَقْرَأَنَاهُ، وَقَالَ: "" إِنَّهُ أُنْزِلَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَلَا تُحَاجُّوا فِيهِ، فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ كُلُّهُ، فَاقْرَءُوهُ كَالَّذِي أُقْرِئْتُمُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: «لَا تُجَافُوا عَنْهُ» بَدَلَ «وَلَا تُحَاجُّوا فِيهِ»، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ مُخْتَصَرَةٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Samurah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ used to command reciting the Quran as he had taught it and explained that it had been sent down upon three modes, describing it as wholly blessed and directing adherence to what was taught without contention. > **"It was sent down upon three ahruf, so do not contend about it, for it is all blessed, so recite it as you were taught it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم قرآن اس طرح پڑھیں ، جس طرح آپ نے ہمیں قرآن پڑھنا سکھایا ہے ‘ آپ یہ فرماتے تھے : ’’ یہ تین حروف پر نازل ہوا ہے ‘ تم اس کے بارے میں اختلاف نہ کرو ‘ کیونکہ یہ پورے کا پورا ‘ برکت والا ہے ‘ تم اسے اسی طرح پڑھو ‘ جس طرح تمہیں پڑھنا سکھایا گیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ تم اس سے الگ نہ ہو ‘‘ انہوں نے ” تم اس کے بارے میں بحث نہ کرو ‘‘ کی جگہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں ‘ ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس کا ایک طریق گزر چکا ہے ‘ جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور وہ روایت مختصر ہے ۔

11581

Majma al-Zawaid #11581

وَعَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ: «فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْمَصَاحِفِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ، وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ. فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ] عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ - أَوْ قَالَ: عَلَى حُرُوفٍ - وَإِنَّ الْكِتَابَ قَبْلَهُ كَانَ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ حَسَّانَ الْعَامِرِيُّ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Fulfulah al-Jufi, who hastened with others to Abdillah concerning the copies of the mushaf, entered upon him, and heard from one of the company that they had come not as visitors but because a report had alarmed them. Abdillah then explained that the Quran came down to their Prophet ﷺ through seven gates upon seven ahruf, while the Book before it used to come down through one gate upon one harf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فلفلہ جعفی بیان کرتے ہیں : میں بھی اُن لوگوں میں شامل تھا ‘ جو قرآن کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوئے تھے اور اس حوالے سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ جب ہم ان کے پاس آئے ‘ تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ ہم آپ کے پاس ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں ‘ بلکہ ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں یہ اطلاع ملی ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : یہ قرآن تمہارے نبی پر سات ابواب سے سات حروف پر نازل ہوا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور اس سے پہلے کی ( ہر الہامی ) کتاب ‘ ایک دروازے سے ‘ ایک حروف کے مطابق نازل ہوتی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں اس کے علاوہ روایت منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن حسان عامری ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح نہیں کی اور اس کی توثیق نہیں کی ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11582

Majma al-Zawaid #11582

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَا سَمَّاهُ لَنَا قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الدِّينِ، وَالْفِقْهِ، وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ، وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ، فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ، وَمَنْ قَرَأَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ اعْجَلْ وَحَيَّ هَلًا». قُلْتُ: رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Abd al-Rahman ibn Abis, who reported from an unnamed man of Hamdan among the companions of Abdillah that when Abdillah intended to go to Madinah he gathered his companions, expressed hope about their superiority in religion, understanding, and knowledge of the Quran, described the Quran as without discrepancy, never worn out, and never rendered stale by much repetition, and instructed each to hold to the harf he had learned and to what the Messenger of Allah ﷺ had taught, warning that denial of one verse is denial of all, and illustrating synonymous expressions of hastening.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عابس بیان کرتے ہیں : ہمدان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ‘ جن کا تعلق حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے ہے ‘ انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی راوی بیان کرتے ہیں عبدالرحمن نے ان صاحب کا نام بیان نہیں کیا ‘ وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ دین ‘ اس کی سمجھ بوجھ اور قرآن کے علم کے حوالے سے ‘ تم لوگوں کی صورت حال ‘ مسلمانوں کے لشکروں میں سے ‘ سب سے بہتر ہے اور اس قرآن میں اختلاف نہیں پایا جاتا ‘ اور یہ پرانا نہیں ہوتا اور بکثرت پڑھنے کی وجہ سے یہ بوسیدہ نہیں ہوتا ‘ جو شخص ایک طریقے کے مطابق اس کو پڑھے ‘ تو وہ اس سے منہ پھیرتے ہوئے ‘ اس کو نہ چھوڑے ‘ اور جو شخص ان حروف میں سے کوئی چیز پڑھے ‘ جن کی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے دی ہے ‘ تو وہ اُس سے منہ پھیرتے ہوئے ‘ اس کو نہ چھوڑے ‘ کیونکہ جو شخص اس کی ایک آیت کا انکار کرے گا ‘ وہ اس کے پورے وجود ) کا انکار کرنے کے مترادف ہو گا اور تمہارا کسی دوسرے شخص کو یہ کہنے کی مانند ہو گا ’’ اعجل ، حی ، ھلا ( یعنی آ جاؤ ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11583

Majma al-Zawaid #11583

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «إِنَّ الْكُتُبَ كَانَتْ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ: حَلَالٌ، وَحَرَامٌ، وَمُحْكَمٌ، وَمُتَشَابِهٌ، وَضَرْبُ أَمْثَالٍ، وَأَمْرٌ، وَزَجْرٌ. فَأَحِلَّ حَلَالَهُ، وَحَرِّمْ حَرَامَهُ، وَاعْمَلْ بِمُحْكَمِهِ، وَقِفْ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ، وَاعْتَبِرْ أَمْثَالَهُ، فَإِنَّ كُلًّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Umar ibn Abu Salamah, may Allah be pleased with him, who reported that the Prophet ﷺ said to Abdillah ibn Masud, may Allah be pleased with him, that earlier books came down from heaven through one gate while the Quran came down through seven gates upon seven ahruf, comprising the lawful, the unlawful, the decisive, the ambiguous, parables, command, and prohibition, and then gave him instruction about declaring lawful, declaring unlawful, acting, pausing, and reflecting, since all is from Allah and only people of understanding take heed. > **"Books used to come down from heaven through one gate, and the Quran was sent down through seven gates upon seven ahruf: lawful, unlawful, decisive, ambiguous, striking of parables, command, and prohibition. So declare its lawful lawful, declare its unlawful unlawful, act upon its decisive verses, pause at its ambiguous ones, and take heed from its parables, for all of it is from Allah, and none takes heed except people of understanding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ بے شک ( دوسری الہامی ) کتابیں ، آسمان سے ایک ہی دروازے سے نازل ہوئی ہیں اور قرآن سات دروازوں سے سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘ حلال ‘ حرام ‘ محکم ‘ متشابہ ‘ مثالیں بیان کرنا ، امر اور زجر ( کسی بات سے روکنا ) تو تم اس کے حلال کو حلال قرار دو ‘ اس کے حرام کو حرام سمجھو ‘ اس کے محکم پر عمل کرو ‘ اس کے متشابہ پر خاموش ہو جاؤ ‘ اس کی مثالوں سے نصیحت حاصل کرو ‘ کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ‘ اور صرف عقل مند لوگ ہی ( اس سے ) نصیحت حاصل کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن مطر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

11584

Majma al-Zawaid #11584

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَيْسَ مِنْهُ حَرْفٌ إِلَّا لَهُ حَدٌّ، وَلِكُلِّ حَدٍّ مَطْلَعٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdillah, that is Ibn Masud, may Allah be pleased with him, who said that no letter of this Quran is without a limit, and for every limit there is a point of ascent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ بے شک اس قرآن کے ‘ ہر ایک حرف کی مخصوص حد ہے اور ہر حد کا ایک مطلع ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

11585

Majma al-Zawaid #11585

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَمِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke about the seven modes and about disputation concerning the Quran. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf, and disputation about the Quran is disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قرآن ‘ سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘ اور قرآن کے بارے میں بحث ( یا اختلاف ) کرنا کفر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11586

Majma al-Zawaid #11586

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Said, may Allah be pleased with him, who reported that the Messenger of Allah ﷺ described the modes of the Quran and their sufficiency. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf, all of them healing and sufficient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور یہ پورے کا پورا ‘ شافی و کافی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11587

Majma al-Zawaid #11587

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ قَالَ: «أَتَى مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَلَكَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ. فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ. فَمَا زَالَ يَسْتَزِيدُهُ حَتَّى قَالَ: اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Sulayman ibn Surad, may Allah be pleased with him, who reported that two angels came to Muhammad ﷺ, one said to recite upon one harf, the other kept asking for an increase, and the increase continued until seven was reached. > **"Recite the Quran upon one harf. Increase him. Recite upon seven ahruf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت محمد ﷺ کے پاس دو فرشتے آئے ان میں سے ایک نے کہا : کہ آپ قرآن ایک حرف کے مطابق پڑھیں ، تو دوسرے فرشتے نے کہا : آپ اس کو مزید کے لیے کہیں ، تو آپ مسلسل مزید دینے کے لئے کہتے رہے ‘ یہاں تک کہ اس فرشتے نے کہا : آپ سات حروف کے مطابق پڑھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11588

Majma al-Zawaid #11588

وَعَنْ زَيْدٍ الْقَصَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَحَدَّثَنَا سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَقْرَأَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سُورَةً، وَأَقْرَأَنِيهَا زَيْدٌ، وَأَقْرَأَنِيهَا أَبِي، فَاخْتَلَفَتْ قِرَاءَتُهُمْ، فَقِرَاءَةُ أَيِّهِمْ آخُذُ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[وَعَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - جَنْبَهُ] فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: لِيَقْرَأْ كُلُّ إِنْسَانٍ كَمَا عَلِمَ، فَكُلٌّ حَسَنٌ جَمِيلٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ قِرْطَاسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

From Zayd al-Qassar, from Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, with whom people were sitting in the mosque when he narrated at length and then reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ, said that Abdillah ibn Masud, Zayd, and Ubayy had each taught him the same surah with differing recitations, and asked whose recitation to adopt. The Messenger of Allah ﷺ remained silent while Ali, may Allah be pleased with him, was at his side, and Ali instructed that every person should recite as he had learned, for all of it is good and beautiful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید قصار ‘ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ہم ان کے ساتھ مسجد میں موجود تھے انہوں نے ہمیں کچھ دیر احادیث بیان کیں ، پھر انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک سورت سکھائی ہے ‘ وہی سورت ‘ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے پڑھائی ہے ‘ وہی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے پڑھائی ہے تو ان کی قرأت کے درمیان اختلاف ہے ‘ تو میں اُن میں سے کس کی قرأت کو اختیار کروں ؟ تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پہلو میں موجود تھے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ ہر انسان کو اس طرح پڑھنا چاہیے ، جس طرح اُسے سکھایا گیا ہو ‘ یہ سب اچھا اور خوبصورت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن قرطاس ہے اور وہ متروک ہے ۔

11589

Majma al-Zawaid #11589

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أُنْزِلَ الْقُرْآنُ [مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ] عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, who stated that the Quran was sent down through seven gates upon seven modes, all of them healing and sufficient.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ قرآن ‘ سات دروازوں سے ‘ سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ‘ یہ پورے کا پورا ‘ شافی و کافی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11590

Majma al-Zawaid #11590

وَعَنْ أُمِّ أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، أَيَّهَا قَرَأْتَ أَصَبْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Umm Ayyub, may Allah be pleased with her, who reported from the Prophet ﷺ concerning the seven modes and the correctness of whichever one is recited. > **"The Quran was sent down upon seven ahruf; whichever of them you recite, you are correct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام ایوب رضی اللہ عنہا ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ قرآن ‘ سات حروف پر نازل ہوا ہے ‘ تم جس کے مطابق تلاوت کرو گے ‘ ٹھیک کرو گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11591

Majma al-Zawaid #11591

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: "" قُلُوبُنَا غُلَّفٌ "" مُثْقَلَةٌ أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ، كَيْفَ بِمُعَلِّمٍ، وَإِنَّمَا قُلُوبُنَا أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ، أَيْ: أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, who used to recite the phrase about hearts being wrapped with emphasis, explaining it to mean heavy vessels of wisdom, and questioning how one who is a teacher could be otherwise when hearts are vessels of wisdom.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ الفاظ یوں پڑھتے :’’ قلوبنا غلف ‘‘ یعنی ’ شد ‘ کے ساتھ پڑھتے تھے یعنی یہ حکمت کے برتن ہیں ، یعنی ان کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے ‘ جبکہ ہمارے دل حکمت کے برتن ہیں ‘ یعنی حکمت کے برتن ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔

11592

Majma al-Zawaid #11592

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَرَأَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ سُورَةً أَقْرَأَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَا يَقْرَآنِهَا، فَقَامَا ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّيَانِ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا مِمَّا نُسِخَ أَوْ أُنْسِيَ فَالْهُوا عَنْهَا». وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَقْرَأُ: ""مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِيهَا "" بِضَمِّ النُّونِ مُخَفَّفَةً خَفِيفَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, who reported that two men of the Ansar recited a surah taught to them by the Messenger of Allah ﷺ and stood one night praying with it, whereupon the Messenger of Allah ﷺ told them it was among what had been abrogated or caused to be forgotten and that they should turn away from it. The narrator also noted the recitation of al-Zuhri with lightening and nominative form in the verse about abrogation and causing to forget. > **"It is among what was abrogated or caused to be forgotten, so turn away from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ایک سورت پڑھی ‘ وہ سورت نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو سکھائی تھی ‘ وہ دونوں اُس کو پڑھ رہے تھے ‘ ایک رات وہ دونوں نماز ادا کر رہے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ان میں سے ہے ‘ جسے نسخ کر دیا گیا ہے ‘ یا جسے بھلا دیا گیا ‘ تو تم دونوں اس سے غافل ہو جاؤ گے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : زہری اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے :’’ ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں ‘ یا اُسے بھلا دیتے ہیں ‘‘ یعنی ’’ ان ‘‘ پر پیش پڑھتے تھے اور اُسے تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔

11593

Majma al-Zawaid #11593

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي عَهْدِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي بِهَا فَأُمْلِيَهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُهَا جِئْتُهَا بِالْوَرَقَةِ الَّتِي أَكْتُبُهَا فِيهَا، فَقَالَتْ: اكْتُبْ: "" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى) وَصَلَاةِ الْعَصْرِ (وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ) "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Amr ibn Rafi, the freedman of Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, who used to write copies of the mushaf in the time of the wives of the Prophet ﷺ. He reported that Hafsah, may Allah be pleased with her, asked him to write a mushaf for her, instructed him not to write the verse of Surah al-Baqarah about prayers until he brought her the sheet so she could dictate it as she had memorized it from the Messenger of Allah ﷺ, and when he brought it she dictated it with an explicit mention of the Asr prayer alongside the middle prayer and standing devoutly for Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام عمرو بن رافع بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے زمانہ میں قرآن مجید لکھا کرتے تھے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے قرآن مجید لکھوایا اور یہ فرمایا : جب تم سورت بقرہ کی اس آیت پر پہنچو گے ‘ تو اسے تم اس وقت تک نہ لکھنا ‘ جب تک تم پہلے میرے پاس نہیں لے آتے ‘ میں یہ تمہیں اُس طرح املا کرواؤں گی ، جس طرح میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سن کر یہ یاد رکھی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : جب میں اُس مقام پر پہنچا ‘ تو میں وہ ورقہ لے کے آیا ، جس میں ‘ میں نے وہ آیت لکھنی تھی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم یہ لکھو : ’’ تم نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور عصر کی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے ساتھ کھڑے رہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11594

Majma al-Zawaid #11594

وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكِنَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا: ""الْحَيُّ الْقَيَّامُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو خَالِدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Khalid al-Kinani, from Ibn Masud, may Allah be pleased with him, who used to recite the divine names in Ayat al-Kursi with the form indicating the Ever-Living, the Sustainer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو خالد کنانی ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ اس کو یوں پڑھتے تھے : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوخالد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11595

Majma al-Zawaid #11595

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ: ""وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ"" بِنَصْبِ النَّفْسِ، وَرَفْعِ الْعَيْنِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ: نَصْبِ النَّفْسِ، وَرَفْعِ الْعَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, who reported that the Prophet ﷺ recited the verse about what was decreed for them therein, life for life and eye for eye, pronouncing the word for life in the accusative and the word for eye in the nominative. > **"And We decreed for them therein: life for life, and the eye for the eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور ہم نے اس کتاب میں ‘ اُن پر یہ لازم قرار دیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ‘ اور آنکھ کا بدلہ آنکھ ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : یعنی اس میں نبی اکرم ﷺ نے لفظ ’’ نفس ‘‘ پر ’’ زبر ‘‘ پڑھی اور لفظ ’’ عین ‘‘ پر پیش پڑھی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : لفظ ’’ نفس ‘‘ پر ’’ زبر ‘‘ پڑھی اور لفظ ’’ عین ‘‘ پر ’’ پیش ‘‘ پڑھی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعلی بن یزید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے .

11596

Majma al-Zawaid #11596

وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنْدِيِّ قَالَ: «كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُقْرِئُ رَجُلًا، فَقَرَأَ الرَّجُلُ: "" {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: 60] "" مُرْسَلَةً. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: مَا هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَيْفَ أَقْرَأَكَهَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا: "" {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: 60] "" فَمَدِّدُوهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Masud ibn Yazid al-Kindi, who reported that Ibn Masud, may Allah be pleased with him, was teaching a man to recite, and the man read the verse about charities being for the poor and needy without prolongation. Ibn Masud told him that the Messenger of Allah ﷺ had not taught it to him in that manner, and when asked how he had been taught, he recited it with prolongation and instructed that it be prolonged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسعود بن یزید کندی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو پڑھا رہے تھے ‘ اُس شخص نے یہ آیت پڑھی :’’ بے شک صدقات ‘ غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہیں ‘‘۔ یعنی اس نے اسے ” مرسل ‘‘ طور پر پڑھا ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے مجھے یہ اس طرح نہیں پڑھائی ہے ‘ اس نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! انہوں نے آپ کو یہ کیسے پڑھائی ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے مجھے یوں پڑھائی ہے : ’’ بے شک صدقات ، غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہیں .......‘‘۔ اور پھر انہوں نے اُسے کھینچا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11597

Majma al-Zawaid #11597

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: ""مَجْرَاهَا وَمَرْسَاهَا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdillah, that is Ibn Masud, may Allah be pleased with him, who used to recite the verse about the ship with the wording for its course and its anchorage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے : «مجراها وَمَرْسَاهَا» یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11598

Majma al-Zawaid #11598

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ""إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الْأَزْرَقِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Aishah, may Allah be pleased with her, who reported that the Messenger of Allah ﷺ recited the verse about Nuh's son with the meaning that he was an act not righteous. > **"Indeed, he is an act not righteous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس آیت کو یوں پڑھا : ’’ بے شک یہ ایسا عمل ہے ‘ جو نیک نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن ازرق ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11599

Majma al-Zawaid #11599

وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْنَا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ: (هِيتَ لَكَ) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا (هَيْتَ لَكَ) إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَنْ أَقْرَأَ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Shaqiq, who reported that in the presence of Abdillah they read the verse of seduction with one vocalization, whereupon Abdillah corrected them to another vocalization, said they had already asked about it, and stated that to recite as he was taught was dearer to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں : ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ‘ ہم نے یہ پڑھا :’’ «ھیت لک» “ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! ’’ «هَيْتَ لَک» ‘‘ پڑھو ‘ ہم نے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں اس طرح پڑھوں جس طرح مجھے تعلیم دی گئی ہے یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11600

Majma al-Zawaid #11600

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ""وَمِنْ عِنْدِهِ عُلِمَ الْكِتَابُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, who reported that the Messenger of Allah ﷺ recited the verse about the one with whom is knowledge of the Book. > **"And from Him is knowledge of the Book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔

11601

Majma al-Zawaid #11601

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَرَأَ: ""أَيْنَمَا يُوَجَّهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdillah, that is Ibn Masud, may Allah be pleased with him, who recited the verse about the dependent one with the meaning that wherever he is directed, he brings no good.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی : ’’ اس کا رُخ جس طرف بھی کیا جائے ‘ وہ بھلائی نہیں لائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11602

Majma al-Zawaid #11602

وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَقْرَأُ: ""وَقَضَى رَبُّكَ أَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From al-Amash, who reported that Abdillah ibn Masud, may Allah be pleased with him, used to recite the verse about the decree of the Lord with the wording that He decreed that they worship none but Him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے :’’ اور تمہارے پروردگار نے یہ طے کیا ہے کہ تم لوگ صرف اُسی کی عبادت کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند منقطع ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11603

Majma al-Zawaid #11603

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ (فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ)». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، عَنْ شَيْخِهِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيِّ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, who reported that the Prophet ﷺ recited the verse about the setting of the sun with the wording indicating a muddy spring. > **"In a muddy spring."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : «فی عَيْنٍ حَمِئۃ» ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں ‘ اپنے استاد ولید بن عباس مصری کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔