Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 18

Book of Exegesis

Hadith 11484–11523

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11484

Majma al-Zawaid #11484

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: 1]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ loved the chapter beginning with glorification of the name of the Most High Lord.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس سورت کو پسند کرتے تھے : ’’ اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح بیان کرو ‘ جو سب سے بلند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11485

Majma al-Zawaid #11485

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ لَمْ يَفْرَغْ حَتَّى يُزَمَّلَ مِنَ الْوَحْيِ حَتَّى يَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَوَّلِهِ مَخَافَةَ أَنْ يُغْشَى عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" مَخَافَةَ أَنْ أَنْسَى "". فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى} [الأعلى: 6]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when Jibril عليه السلام would come to the Prophet ﷺ with revelation, the Prophet ﷺ would begin repeating its opening before Jibril finished, fearing it might escape him. Jibril asked him why he did so. > **"I fear that I may forget."** Then Allah, Blessed and Exalted, sent down the verse that He shall teach him so that he shall not forget.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تھے ‘ تو ان کے وحی کو سنا کر فارغ ہونے سے پہلے ‘ نبی اکرم ﷺ اس کے ابتدائی حصے کو دہرانا شروع کر دیتے تھے ‘ اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ آپ کو بھول نہ جائے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس اندیشے کے تحت کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ ہم تمہیں ایسا پڑھائیں گے کہ تم نہیں بھولو گے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11486

Majma al-Zawaid #11486

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاةَ الْعِيدِ، وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى - وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} [الأعلى: 14 - 15]». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he would command the charity of breaking the fast to be paid before the Eid prayer, and would recite the verses about the success of the one who purifies himself, remembers the name of his Lord, and prays.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور یہ آیت تلاوت کرتے تھے : ’’ تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جس نے پاکیزگی کو اختیار کیا اور اپنے پروردگار کے اسم کا ذکر کیا اور نماز ادا کی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

11487

Majma al-Zawaid #11487

وَعَنْ حَصِيلَةَ بِنْتِ وَاثِلَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى - وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} [الأعلى: 14 - 15] قَالَ: إِلْقَاءُ الْقَمْحِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَشْقَرَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Husaylah bint Wathilah reports that she heard her father explain the verses about the success of the one who purifies himself and remembers his Lord and prays as referring to giving wheat before the prayer at the prayer ground on the day of breaking the fast.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصیلہ بنت واثلہ بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ( انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ) ’’ تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا ‘ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتے ہوئے نماز پڑھی ‘‘۔ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد عیدالفطر کے دن نماز کی ادائیگی سے پہلے ‘ عید گاہ میں گندم دینا ( یعنی صدقہ فطر ادا کرنا ) ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اشقر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11488

Majma al-Zawaid #11488

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «{قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى} [الأعلى: 14] قَالَ: "" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَخَلَعَ الْأَنْدَادَ وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ "" {وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى} [الأعلى: 15] قَالَ: "" هِيَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْمُحَافَظَةُ عَلَيْهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبَّادِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ his explanation of the verse about the success of the one who purifies himself and the verse about remembering the name of the Lord and praying. > **"Whoever testifies that there is no deity worthy of worship except Allah, casts off all rivals, and testifies that I am the Messenger of Allah has purified himself. And the remembrance of the name of the Lord with prayer refers to the five prayers and guarding them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ شخص کامیاب ہو گیا ‘ جس نے پاکیزگی اختیار کی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور تمام شریکوں سے لاتعلق ہو جائے ‘ اور یہ گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ( تو ایسا شخص پاکیزگی اختیار کرنے والا شمار ہو گا ) ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اُس نے اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیا اور نماز پڑھی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد ‘ پانچ نمازیں اور ان کو باقاعدگی سے ادا کرنا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن احمد عرزمی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

11489

Majma al-Zawaid #11489

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّ {هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى - صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى} [الأعلى: 18 - 19] قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَانَ كُلُّ هَذَا - أَوْ كَانَ هَذَا - فِي صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when the verses stating that this is in the former scriptures, the scriptures of Ibrahim and Musa, were revealed, the Prophet ﷺ affirmed their presence there. > **"All of this was in the scriptures of Ibrahim and Musa."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک یہ ( تعلیم ‘ یا بات ) پہلے صحیفوں میں ہے ‘ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سب کچھ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ ‘ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11490

Majma al-Zawaid #11490

عَنْ جَابِرٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - {وَلَيَالٍ عَشْرٍ} [الفجر: 2] قَالَ: "" عَشْرُ الْأَضْحَى ""، {وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ} [الفجر: 3] قَالَ: "" الشَّفْعُ: يَوْمُ الْأَضْحَى، وَالْوَتْرُ: يَوْمُ عَرَفَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ his explanation of the ten nights and of the even and the odd. > **"The ten are the ten of sacrifice, the even is the day of sacrifice, and the odd is the day of Arafah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور دس راتوں کی قسم ہے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد ‘ ذوالج کا پہلا عشرہ ہے ۔ ’’ اور جفت کی قسم ہے اور طاق کی قسم ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت سے مراد عیدالاضحی کا دن ہے اور طاق سے مراد ‘ عرفہ کا دن ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام احمد نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عیاش بن عقبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11491

Majma al-Zawaid #11491

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ فَقَالَ: "" يَوْمَانِ وَلَيْلَةٌ: يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَالْوَتْرُ لَيْلَةُ النَّحْرِ لَيْلَةُ جَمْعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ was asked about the even and the odd and answered with two days and a night. > **"They are two days and a night: the day of Arafah, the day of sacrifice, and the odd is the night of sacrifice, the night of the gathering at Muzdalifah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ سے جفت اور طاق کے بارے میں سوال کیا گیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو دن اور ایک رات ہے ‘ عرفہ کا دن اور قربانی کا دن ‘ اور طاق سے مراد ‘ قربانی کی رات ہے جو مزدلفہ کی رات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ‘ اس میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔

11492

Majma al-Zawaid #11492

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ} [البلد: 1] قَالَ: مَكَّةُ. {وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ} [البلد: 2] قَالَ: مَكَّةُ. وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ قَالَ: آدَمُ. {لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ} [البلد: 4] قَالَ: فِي اعْتِدَالٍ وَانْتِصَابٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained the opening oaths of the chapter of the City: the city is Makkah, the dwelling therein is Makkah, the father is Adam عليه السلام, and the creation of man in toil means in upright and erect form.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ میں اس شہر کی قسم اٹھاتا ہوں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد مکہ ہے ۔ ’’ کہ تم اس شہر میں رہتے ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس سے مراد مکہ ہے ۔ ’’ اور والد اور اس کی اولاد کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس سے مراد ‘ حضرت آدم علیہ السلام ہیں ۔ ’’ تحقیق ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی معتدل صورت حال میں اور سخت صورت حال میں پیدا کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11493

Majma al-Zawaid #11493

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ} [البلد: 1] قَالَ: قَسَمُ الْقَسَمِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning the verse swearing by this city that it is an oath laid upon an oath, an emphatic swearing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” میں اس شہر کی قسم اٹھاتا ہوں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد قسم کی قسم ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11494

Majma al-Zawaid #11494

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - {وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ} [البلد: 10] قَالَ: سَبِيلَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said concerning the verse about guiding man to the two highways that they are the path of good and the path of evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہم نے اُسے دو راستے دکھا دیے ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یعنی بھلائی کا راستہ اور برائی کا راستہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11495

Majma al-Zawaid #11495

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا - فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} [الشمس: 7 - 8] وَقَفَ ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَخَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when the Prophet ﷺ recited the verses swearing by the soul and its fashioning and its inspiration with wickedness and piety, he would pause and supplicate. > **"O Allah, grant my soul its piety. You are its Guardian and the best to purify it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب یہ آیت تلاوت کرتے تھے : ’’ اور نفس کی قسم ہے ! اور جس نے اُسے ٹھیک طور پر بنایا اور اسے اُس کی بدکاری اور پرہیزگاری الہام کی ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب یہ پڑھتے تھے ‘ تو ٹھہر جاتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما ‘ بے شک تو اس کا نگہبان ہے اور اس کا سب سے بہتر تزکیہ کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

11496

Majma al-Zawaid #11496

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى - إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى - وَلَسَوْفَ يَرْضَى} [الليل: 19 - 21] فِي أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ لَمْ يُسَمِّهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said that the closing verses of the chapter of the Night, about the one with no favor to be repaid who spends only seeking the countenance of his Most High Lord and shall surely be pleased, were revealed concerning Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت ‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ اور کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے کہ جس کا بدلہ دیا گیا ہو ‘ اس نے ( وہ کام ) صرف اپنے بلند و برتر پروردگار کی رضا کے حصول کے لئے کیا تھا اور وہ ( یعنی پروردگار ) عنقریب اُس سے راضی ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ امام بزار کے استاد کا نام انہوں نے بیان نہیں کیا ہے ۔

11497

Majma al-Zawaid #11497

عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّهَا، وَكَانَتْ خَادِمَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ جَرْوًا دَخَلَ الْبَيْتَ، وَدَخَلَ تَحْتَ السَّرِيرِ وَمَاتَ، فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيَّامًا لَا يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ. فَقَالَ: "" يَا خَوْلَةُ، مَا حَدَثَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلُ لَا يَأْتِينِي، فَهَلْ حَدَثَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَثٌ؟! "". فَقُلْتُ: مَا أَتَى عَلَيْنَا يَوْمٌ خَيْرٌ مِنْ يَوْمِنَا. فَأَخَذَ بُرْدَهُ فَلَبِسَهُ وَخَرَجَ، فَقُلْتُ: لَوْ هَيَّأْتُ الْبَيْتَ وَكَنَسْتُهُ، فَأَهْوَيْتُ بِالْمِكْنَسَةِ تَحْتَ السَّرِيرِ، فَإِذَا شَيْءٌ تَحْتُ ثَقِيلٌ، فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخْرَجْتُهُ، فَإِذَا جَرْوٌ مَيِّتٌ، فَأَخَذْتُهُ بِيَدِي فَأَلْقَيْتُهُ خَلْفَ الدَّارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُرْعَدُ لِحْيَتُهُ، وَكَانَ إِذَا أَتَى الْوَحْيُ أَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ، فَقَالَ: "" يَا خَوْلَةُ، دَثِّرِينِي "". فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَالضُّحَى - وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى - مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: 1 - 3]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأُمُّ حَفْصٍ لَمْ أَعْرِفْهَا».

EnglishUnverified translation

Hafs ibn Maysarah al-Qurashi reports from his mother, from her mother, who had served the Messenger of Allah ﷺ, that a puppy entered the house, crept beneath the bed, and died there. Revelation was withheld for some days, and the Prophet ﷺ asked his servant Khawlah what had happened in his house that Jibril did not come to him. She answered that no day had passed upon them better than their present day. He took his cloak and went out. She then thought to tidy the house and sweep, and sweeping beneath the bed she felt something heavy there and kept at it until she drew it out, and it was the dead puppy. She took it in her hand and cast it behind the house. When the Messenger of Allah ﷺ returned, his beard trembling as it would when revelation came to him, he asked to be covered, and Allah the Mighty and Majestic sent down the opening verses of the chapter of the Morning Light. > **"O Khawlah, what has happened in the house of the Messenger of Allah that Jibril does not come to me? Has anything new happened in the house of the Messenger of Allah? Cover me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حفص بن میسرہ قرشی بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے ‘ اپنی والدہ کے حوالے سے یہ روایت مجھے بیان کی ہے : اُن کی والدہ نبی اکرم ﷺ کی خادمہ تھیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ایک ( کتے کا ) پلا گھر میں داخل ہوا ‘ اور پلنگ کے نیچے چلا گیا ‘ اور وہاں مر گیا نبی اکرم ﷺ کو کچھ دن ایسے گزر گئے کہ آپ پر اس دوران وحی نازل نہیں ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے خولہ ! تم اس بات کا جائزہ لو کہ اللہ کے رسول کے گھر میں ایسی کیا بات ہوئی ہے کہ جس کی وجہ سے جبرائیل میرے پاس نہیں آیا ‘ کیا اللہ کے رسول کے گھر میں کوئی نئی چیز سامنے آئی ہے ؟ میں نے عرض کی : ہمارے اس دن سے زیادہ بہتر دن تو ہم پر کبھی نہیں آیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر اوڑھی اور تشریف لے گئے ‘ میں نے سوچا اگر میں گھر میں جھاڑو دوں ‘ اور جھاڑو پلنگ کے نیچے بھی دوں تو مناسب ہو گا ‘ جب میں نے جھاڑو دیا تو اس کے نیچے کوئی بوجھل چیز تھی ‘ میں مسلسل جھاڑو دیتی رہی ‘ یہاں تک کہ میں نے اسے باہر نکالا ‘ تو وہ مردہ پلا تھا ‘ میں نے اُسے اپنے ہاتھ کے ذریعے پکڑا اور اُسے دیوار کے پار پھینک دیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ تو آپ کی داڑھی مبارک پر کپکپی طاری تھی ‘ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خولہ ! مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور چاشت کے وقت کی قسم ہے ‘ اور رات کی قسم ہے ‘ جب وہ پھیل جائے ‘ نہ تو تمہارے پروردگار نے تمہیں چھوڑا ہے ‘ اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ام حفص نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11498

Majma al-Zawaid #11498

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا هُوَ مَفْتُوحٌ عَلَى أُمَّتِهِ [مِنْ بَعْدِهِ] كُفْرًا كُفْرًا، فَسُرَّ بِذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} [الضحى: 5] فَأَعْطَاهُ اللَّهُ - تَعَالَى - فِي الْجَنَّةِ أَلْفَ قَصْرٍ، فِي كُلِّ قَصْرٍ مَا يَنْبَغِي لَهُ مِنَ الْوِلْدَانِ وَالْخَدَمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ،

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that there was displayed before the Messenger of Allah ﷺ what would be opened for his community after him, conquest upon conquest, and he rejoiced at it. Then Allah the Mighty and Majestic sent down the verse promising that his Lord shall give him until he is pleased, and Allah the Exalted shall grant him in Paradise a thousand palaces, in each palace youths and servants as befits him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے وہ چیزیں پیش کی گئیں ، جو آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے کشادہ کر دی جائیں گی ‘ وہ ایک ‘ ایک کر کے پیش کی گئیں ، نبی اکرم ﷺ اس سے خوش ہوئے ‘ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ’’ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو جنت میں ایک ہزار محلات عطا کرے گا ‘ جن میں سے ہر ایک محل میں جتنے خدام اور بچے ‘ آپ چاہیں گے وہ آپ کو ملیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

11499

Majma al-Zawaid #11499

وَفِي رِوَايَةٍ فِيهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ مَفْتُوحٌ لِأُمَّتِي بَعْدِي فَسَرَّنِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى} [الضحى: 4]». فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said what would be opened for his community after him had been displayed to him and had pleased him, whereupon Allah the Exalted sent down the verse that the Hereafter is better for him than the first, followed by the like of the preceding report. > **"What will be opened for my community after me was displayed to me and it pleased me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے سامنے وہ چیزیں پیش کی گئیں ، جو میرے بعد میری امت کے لئے کشادہ کر دی جائیں گی ‘ مجھے یہ چیز اچھی لگی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور آخرت ‘ تمہارے لئے پہلی سے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی معاویہ بن ابوعباس ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور معجم کبیر کی سند حسن ہے ۔

11500

Majma al-Zawaid #11500

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ كَانَ الْعُسْرُ فِي جُحْرٍ لَدَخَلَ عَلَيْهِ الْيُسْرُ حَتَّى يُخْرِجَهُ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا} [الشرح: 6]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that were hardship to enter a hole, ease would enter after it until it expelled it, and then he recited the verse that with hardship comes ease. > **"Were hardship to be in a hole, ease would come upon it until it expelled it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تنگی کسی بل میں داخل ہو ‘ تو آسانی اس کے پاس آ جائے گی ‘ یہاں تک کہ اُسے نکال دے گی ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11501

Majma al-Zawaid #11501

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا، فَنَظَرَ إِلَى جُحْرٍ بِحِيَالِ وَجْهِهِ فَقَالَ: "" لَوْ كَانَتِ الْعُسْرَةُ تَجِيءُ حَتَّى تَدْخُلَ هَذَا الْجُحْرَ لَجَاءَتِ الْيُسْرَةُ حَتَّى تُخْرِجَهَا "". ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا} [الشرح: 5 - 6]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ شُرَيْحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that he saw the Messenger of Allah ﷺ seated, looking toward a burrow before his face, and saying that were hardship to come until it entered that burrow, ease would come until it expelled it. Then he recited the two verses that with hardship comes ease, with hardship comes ease. > **"Were hardship to come until it entered this burrow, ease would come until it expelled it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ‘ آپ نے اپنے سامنے موجود ایک بل کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’ اگر تنگی آ کر اس بل میں داخل ہو جائے ‘ تو آسانی آئے گی اور اسے نکال دے گی ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے ‘ بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11502

Majma al-Zawaid #11502

عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ: كَانَ أَبُو مُوسَى يُقْرِئُنَا، فَيُجْلِسُنَا حِلَقًا حِلَقًا، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَإِذَا قَرَأَ هَذِهِ السُّورَةَ {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] قَالَ: هَذِهِ الْآيَةُ أَوَّلُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Raja al-Utaridi reports that Abu Musa رضي الله عنه would teach them the Quran, seating them in circles, wearing two white garments. When he recited the chapter commanding reading in the name of the Lord who created, he said that this was the first chapter sent down upon Muhammad ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے ‘ وہ ہمیں حلقوں کی شکل میں بٹھا لیتے تھے ان کے جسم پر دو سفید کپڑے تھے ‘ جب انہوں نے یہ سورت پڑھی : ’’ تم اپنے پروردگار کے نام سے پڑھو ! جس نے پیدا کیا ہے .......‘‘۔ تو حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ آیت حضرت محمد ﷺ پر سب سے پہلے نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11503

Majma al-Zawaid #11503

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: لَئِنْ عَادَ مُحَمَّدٌ يُصَلِّي إِلَى الْقِبْلَةِ لَأَقْتُلَنَّهُ، فَعَادَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] إِلَى قَوْلِهِ {فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ - سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ} [العلق: 17 - 18] فَلَمَّا قِيلَ لِأَبِي جَهْلٍ إِنَّهُ عَادَ، قَالَ: لَقَدْ حِيلَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ لَوْ تَحَرَّكَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْوَشَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that Abu Jahl declared that if Muhammad returned to praying toward the qiblah he would surely kill him. When he returned to prayer, Allah the Mighty and Majestic sent down the opening of the chapter of the Clot down to the verses commanding him to call his assembly while He shall call the guards. When it was said to Abu Jahl that he had returned, he claimed a barrier had come between him and the Prophet. Ibn Abbas swore by Allah that had he moved, the angels would have seized him while the people looked on.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا : اب اگر حضرت محمد ( ﷺ ) نے دوبارہ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ‘ تو میں انہیں ضرور قتل کر دوں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ نماز ادا کی تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم اپنے پروردگار کے نام کے ہمراہ پڑھو ‘ جس نے پیدا کیا ہے ........‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لے ‘ ہم اپنے سپاہیوں کو بلا لیں گے ‘‘۔ جب ابوجہل کو یہ بات کہی گئی کہ حضرت محمد ( ﷺ ) نے تو دوبارہ ایسا کر لیا ہے ‘ تو اس نے کہا : میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ آ گئی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ یہ حرکت کرتا تو فرشتوں نے اُسے پکڑ لینا تھا اور لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سہل بن وشاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11504

Majma al-Zawaid #11504

وَلِابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَحْمَدَ قَالَ: «مَرَّ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ؟ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرَ نَادِيًا مِنِّي. قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: {فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ} [العلق: 17]». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ بِالْعَذَابِ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that Abu Jahl passed by and said he had forbidden the Prophet ﷺ, who rebuked him. Abu Jahl boasted that none had a greater assembly than he, whereupon Jibril عليه السلام spoke the verse commanding him to call his assembly. Ibn Abbas swore by Allah that had he called his assembly, the stern guards would have seized him with punishment. Part of the report occurs in the sound collection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد نے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ابوجہل گزرا اور بولا : کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُسے ڈانٹا ‘ تو اس نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ مجھے ڈانٹ نہیں سکتے ‘ اللہ کی قسم ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ یہاں مجھ سے زیادہ ساتھی اور کسی کے نہیں ہیں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے کہا :’’ وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لے ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لیتا ، تو فرشتوں نے عذاب کے ہمراہ اسے پکڑ لینا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں ‘ اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11505

Majma al-Zawaid #11505

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا جُمْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أُنْزِلَ نُجُومًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Quran was sent down on the Night of Decree in the month of Ramadan to the lowest heaven all at once, and then sent down thereafter in portions.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں قرآن مجید رمضان کے مہینے میں ‘ شب قدر میں ‘ ایک ساتھ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوا تھا ‘ اور پھر وہاں سے مختلف حصوں کی شکل میں نازل ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11506

Majma al-Zawaid #11506

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} [القدر: 1] قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً حَتَّى وُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَنَزَّلَهُ جِبْرِيلُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَوَابِ كَلَامِ الْعِبَادِ وَأَعْمَالِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning the verse about sending down on the Night of Decree that the Quran was sent down all at once until it was placed in the House of Might in the lowest heaven, and Jibril brought it down upon Muhammad ﷺ in answer to the speech and deeds of men.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قرآن ایک ساتھ نازل ہوا تھا ‘ یہاں تک کہ اسے آسمان دنیا میں بیت العزت میں رکھ دیا گیا ‘ اور پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام لوگوں کے کلام اور ان کے اعمال کے جواب کے حساب سے ‘ اس کو لے کر حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوتے رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11507

Majma al-Zawaid #11507

عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَيُحَدِّثُنَا، قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ، وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Waqid al-Laythi رضي الله عنه reports that they would come to the Prophet ﷺ when revelation descended and he would inform them of it, and that one day he conveyed a divine word about wealth sent down for prayer and charity and the hunger of man for more. > **"Allah the Mighty and Majestic said: We sent down wealth for the establishment of prayer and the giving of charity. Were the son of Adam to have a valley, he would love to have a second to it, and were he to have two valleys, he would love to have a third to them. Nothing fills the belly of the son of Adam except dust, then Allah turns to whoever repents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی ، پھر ہم آپ کے پاس آتے تھے تو آپ ہمیں اس بارے میں بتایا کرتے تھے ‘ ایک دن آپ نے ہم سے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مال کو نازل کیا ہے اور اگر کسی انسان کے پاس ( مال کی ) ایک وادی ہو ‘ تو وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دوسری بھی ہو ‘ اور اگر اس کے پاس دو ہوں ‘ تو وہ یہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس ان دونوں کے ساتھ تیسری بھی ہو ‘ انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11508

Majma al-Zawaid #11508

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ". قَالَ: فَقَرَأَ عَلَيَّ: " {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ - رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً - فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ - وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ} [البينة: 1 - 4]. إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرَ الْمُشْرِكَةِ وَلَا الْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، وَمَنْ يَفْعَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ ". قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ قَرَأَ آيَاتٍ بَعْدَهَا، ثُمَّ قَرَأَ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَسَأَلَ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ". قَالَ: ثُمَّ خَتَمَ مَا بَقِيَ مِنَ السُّورَةِ»،

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaab رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said Allah had commanded him to recite before him, and then recited before him the opening verses of the chapter of the Clear Proof, explaining that the true religion with Allah is the upright way, free of association, Judaism and Christianity, and that no good deed shall be denied, followed by further verses and the parable of the valleys of wealth, and then the remainder of the chapter. > **"Allah has commanded me to recite to you: Those who disbelieved among the People of the Book and the polytheists would not desist until the clear proof came to them, a messenger from Allah reciting purified pages wherein are upright writings. The religion with Allah is the upright way, neither associating nor Jewish nor Christian, and whoever does good shall never be denied it. Were the son of Adam to have two valleys of wealth, he would ask for a third, and nothing fills the belly of the son of Adam except dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے ‘ میں تمہارے سامنے تلاوت کروں ‘ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے سامنے ( یہ آیات ) تلاوت کیں : ’’ اہل کتاب میں سے کفر کرنے والے لوگ اور مشرکین الگ ہونے والے نہ تھے ‘ یہاں تک کہ اُن کے پاس واضح نشانی آ گئی ( اور وہ نشانی ) اللہ کی طرف سے آنے والا رسول ہے ‘ جو پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے ‘ جن میں مستحکم احکام ہیں اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ‘ وہ تفرقہ کا شکار اُس کے بعد ہوئے ‘ جب اُن کے پاس واضح نشانی آ گئی ‘‘۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین وہ ہے ‘ جو باطل سے الگ ہو ‘ جس میں شرک نہ ہو ‘ جو یہودیت نہ ہو ‘ عیسائیت نہ ہو ‘ جو شخص بھلائی کرے گا ‘ تو اس بھلائی کا انکار نہیں کیا جائے گا ۔ شعبہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے مختلف باتیں بیان کیں ، پھر یہ کلمات پڑھے : ’’ اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں ‘ تو وہ تیسری مانگے گا ‘ انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے باقی رہ جانے والی سورت کی بھی تلاوت کی ۔

11509

Majma al-Zawaid #11509

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: «لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا، وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا»، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. قُلْتُ: فِي التِّرْمِذِيِّ بَعْضُهُ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ، وَفِيهِ عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، وَثَّقَهُ قَوْمُ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration from Ubayy ibn Kaab رضي الله عنه, the Messenger of Allah ﷺ said Allah the Blessed and Exalted had commanded him to recite the Quran before him, and he mentioned the like of the preceding report, with the parable of a man given valley after valley yet asking for more. Part of it occurs in the collection of al-Tirmidhi and part in the sound collection. > **"Allah the Blessed and Exalted has commanded me to recite the Quran to you. Were the son of Adam to ask for a valley of wealth and be given it, he would ask for a second, and were he to ask for a second and be given it, he would ask for a third."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ........‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت کی ذکر کی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اگر انسان ‘ مال کی ایک وادی مانگے اور وہ اُسے دیدی جائے ‘ تو وہ دوسری مانگے گا ‘ اگر وہ دوسری اسے دیدی جائے ‘ تو وہ تیسری مانگے گا ‘‘۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ترمذی میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ جسے ایک قوم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11510

Majma al-Zawaid #11510

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً، وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى، هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ: كَمْ مَالُكَ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "". فَقَالَ عُمَرُ: مَا هَذَا؟ قُلْتُ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ. قَالَ: فَمُرَّ بِنَا إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ أُبَيٌّ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَفَأَثْبَتَّهَا فِي الْمُصْحَفِ؟ قَالَ: نَعَمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that a man came to Umar رضي الله عنه asking for aid, and Umar looked him over from head to foot for signs of hardship, then asked about his wealth. The man answered forty camels, whereupon Ibn Abbas declared the truth of Allah and His Messenger with the parable of two valleys of gold and a third sought, and of dust filling the belly, and of repentance accepted. Umar asked its source, and Ibn Abbas traced it to Ubayy, whom they then visited. Ubayy confirmed that the Messenger of Allah ﷺ had taught him thus, and affirmed that it be established in the codex. > **"Were the son of Adam to have two valleys of gold, he would seek a third. Nothing fills the belly of the son of Adam except dust, and Allah turns to whoever repents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ( مال وغیرہ ) مانگا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا سر سے لے کر پاؤں تک بغور جائزہ لیا کہ کیا اس پر غربت کے آثار دکھائی دیتے ہیں ؟ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تمہارے پاس کتنا مال ہے ؟ اس نے جواب دیا : چالیس اونٹ ہیں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ( نبی اکرم ْﷺ نے فرمایا ہے : ) ’’ اگر انسان کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں ‘ تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا ‘ انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ اسی طرح پڑھایا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیں ساتھ لے کر حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ‘ اور دریافت کیا : یہ کیا کہتا ہے ؟ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے ، پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا میں اسے مصحف میں نوٹ کر لوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11511

Majma al-Zawaid #11511

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ، قَالَ مِسْعَرٌ: يَعْنِي السَّنَةَ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: فَمَا زَالَ يَنْسُبُهُ حَتَّى عَرِفَهُ، فَإِذَا هُوَ مُوسِرٌ، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ وَوَادِيَيْنِ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ. قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِ عُمَرَ: ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that a man came to Umar saying drought had consumed them. Umar asked his tribe and kept tracing his lineage until he recognized him as a man of means, and then spoke the parable of one valley and two valleys and the third sought, and of dust and repentance. > **"Were the son of Adam to have a valley and two valleys, he would seek a third to them. Nothing fills the belly of the son of Adam except dust, then Allah turns to whoever repents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : قحط سالی نے ہمیں نگل لیا ہے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کی شناخت جانتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ اس کو پہچان گئے تو وہ شخص خوشحال تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ اگر انسان کے پاس ایک ‘ یا دو وادیاں ہوں ‘ تو وہ تیسری ساتھ ملانا چاہے گا ‘ انسان کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کر لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ‘ تا ہم اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ جو شخص توبہ کر لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

11512

Majma al-Zawaid #11512

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «نَزَلَتْ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا} [الزلزلة: 1] وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَاعِدٌ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ "". فَقَالَ: أَبْكَتْنِي هَذِهِ السُّورَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ أَنَّكُمْ لَا تُخْطِئُونَ وَلَا تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ - تَعَالَى - أُمَّةً مِنْ بَعْدِكُمْ يُخْطِئُونَ وَيُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the verse of the quaking of the earth was revealed while Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه sat nearby, and Abu Bakr wept. The Messenger of Allah ﷺ asked him what made him weep, and he answered that this chapter had made him weep, whereupon the Prophet ﷺ spoke of error, sin and forgiveness. > **"What makes you weep, O Abu Bakr? Were you never to err and never to sin, Allah the Exalted would surely create a nation after you who would err and sin, and He would forgive them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی :’’ جب زمین میں زبردست قسم کا زلزلہ آئے گا ‘‘۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس سورت نے مجھے زلا دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اگر تم لوگ خطا نہ کرو اور گناہ نہ کرو ‘ تو اللہ تعالیٰ تمہارے بعد ایسی امت پیدا کر دے گا جو خطا کریں گے اور گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ بن معافری ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11513

Majma al-Zawaid #11513

وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْفَرَزْدَقِ «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ عَلَيْهِ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ - وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 7 - 8] قَالَ: حَسْبِي، لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَمُتَّصِلًا، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sasasah ibn Muawiyah, the uncle of al-Farazdaq, reports that he came to the Prophet ﷺ, who recited before him the verses that whoever does an atom's weight of good shall see it and whoever does an atom's weight of evil shall see it. He answered that this was sufficient for him and that he cared not if he heard nothing else.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ ‘ جو فرزدق کے چچا ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ‘ وہ اُس ( کا اجر و ثواب ) دیکھ لے گا ‘ اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ ( اُس کا بدلہ ) دیکھ لے گا ‘‘۔ تو حضرت صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے لئے یہ کافی ہے ‘ میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں سنتا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ اور ’’ متصل ‘‘ ( یعنی دونوں طرح ) سے نقل کی ہے ‘ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11514

Majma al-Zawaid #11514

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «بَيْنَمَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَأْكُلُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ} [الزلزلة: 7] وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَرَاءٍ مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ شَرٍّ؟ فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، أَرَأَيْتَ مَا تَرَى فِي الدُّنْيَا مِمَّا تَكْرَهُ فَبِمَثَاقِيلِ الشَّرِّ، وَيُدَّخَرُ لَكَ مَثَاقِيلُ الْخَيْرِ حَتَّى تُوَفَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ الْوَشَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that Abu Bakr al-Siddiq was eating with the Prophet ﷺ when the verses of the atom's weight of good and evil were revealed, and Abu Bakr withdrew his hand and asked whether he would truly see every speck of evil he had done. The Prophet ﷺ answered that worldly hardships reckon against evil specks while good specks are stored until full payment on the Day of Resurrection. > **"O Abu Bakr, what you see in this world of what you dislike reckons for the specks of evil, and the specks of good are stored up for you until you are paid them in full on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ‘ اسی دوران یہ آیت آپ پر نازل ہوئی : ’’ اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ‘ وہ اُس ( کا اجر و ثواب ) دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا ‘ وہ ( اُس کا بدلہ ) دیکھ لے گا ‘‘۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کھینچ لیا ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ذرے کے وزن جتنی جو برائی کی ہو گی کیا میں اس کا بدلہ بھی دیکھوں گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تم دنیا میں جو ( ناگوار ) چیز ( یا صورتحال ) دیکھتے ہو ‘ جو تمہیں بری لگتی ہے ‘ تو وہ برائی کے وزن کے حساب سے ( یعنی برائی کا بدلہ ) ہو گی ‘ اور تمہارے لئے بھلائی کا وزن ذخیرہ کر لیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ قیامت کے دن تمہیں اُس کا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وشاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11515

Majma al-Zawaid #11515

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْلًا فَأَشْهَرَتْ شَهْرًا لَا يَأْتِيهِ مِنْهَا خَبَرٌ، فَنَزَلَتْ {وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا} [العاديات: 1] ضَبَحَتْ بِأَرْجُلِهَا {فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا} [العاديات: 2] قَدَحَتْ بِحَوَافِرِهَا الْحِجَارَةَ فَأَوْرَتْ نَارًا {فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا} [العاديات: 3] صَبَّحَتِ الْقَوْمَ بِغَارَةٍ {فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا} [العاديات: 4] أَثَارَتْ بِحَوَافِرِهَا التُّرَابَ {فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا} [العاديات: 5] قَالَ: صَبَّحَتِ الْقَوْمَ جَمْعًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ dispatched horsemen who remained a month without news, whereupon the chapter of the charging steeds was revealed. He explained their panting with their legs, their striking fire from stones with their hooves, their morning raid upon the enemy, their raising of dust with their hooves, and their penetrating into the gathered host at dawn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کچھ گھڑ سوار بھیجے ایک مہینہ گزر گیا ، لیکن ان کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں آئی ، تو یہ سورت نازل ہوئی : ’’ ان کی قسم ہے ‘ جو دوڑتے ہیں اور ان کے سینے سے آواز نکلتی ہے ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ) یعنی ان کے پاؤں سے آواز نکلتی ہے ۔ ’’ جو پاؤں مار کر پتھروں میں سے آگ نکالتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی اپنے پاؤں پتھروں پر مارتے ہیں ، تو اس سے چنگاریاں لپکتی ہیں ۔ ’’ اور صبح کے وقت حملہ کرنے والوں کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی وہ صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے ہیں ۔ ’’ پھر وہ غبار اڑاتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی وہ اپنے پاؤں کے ذریعے مٹی اڑاتے ہیں ۔ ’’ اور پھر وہ دشمن کے درمیان گھس جاتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی دشمن اکٹھا ہو چکا ہوتا ہے ( یا وہ دشمن کے درمیان گھس جاتے ہیں ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن جمیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11516

Majma al-Zawaid #11516

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذُكِرَ عِنْدَهُ (الْكَنُودُ)، فَقَالَ: "" الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ وَيَضْرِبُ عَبْدَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي الْآخَرِ مِنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the ingrate was mentioned before the Prophet ﷺ, who described him by solitary eating, withholding of aid, and beating of his servant. > **"He is the one who eats alone, withholds his help, and beats his servant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کے سامنے لفظ ” کنود ‘‘ ( ناشکرا ) ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس سے مراد ‘ وہ شخص ہے ‘ جو اکیلا کھانا کھاتا ہے اور پیالے کو ( یعنی لوگوں کو کھانا کھلانے کو ) روکتا ہے اور اپنے غلام کو مارتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف ہے اور دوسری میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11517

Majma al-Zawaid #11517

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} [التكاثر: 1] فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ {لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ، فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ؟ قَالَ: "" إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mahmud ibn Labid رضي الله عنه reports that when the chapter of rivalry in increase was revealed and recited down to the verse that you shall surely be questioned that day about blessing, the people asked about which blessing they would be questioned, possessing only dates and water, with swords upon their necks and the enemy present. He answered that it would come to be. > **"That shall surely come to be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب یہ سورت نازل ہوئی :’’ کثرت کی طلب تمہیں غافل کر دے گی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ اس مقام تک پہنچے :’’ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا ‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ ہمارے پاس تو یہ دو قسم کی چیزیں ہوتی ہیں ، کھجور اور پانی ‘ ہماری تلواریں ہماری گردنوں میں ہوتی ہیں ، دشمن سامنے موجود ہے ‘ تو پھر ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ( نعمتیں ‘ تمہیں ) عنقریب مل جائیں گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور اس کی نقل کردہ حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے کیونکہ اس کا حافظہ خراب ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11518

Majma al-Zawaid #11518

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8] قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ؟ قَالَ: "" أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reports that when the verse that you shall surely be questioned that day about blessing was revealed, al-Zubayr ibn al-Awwam asked which blessing they would be questioned about when they had only water and dates. He answered that it would come to be. > **"It shall surely come to be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا ‘‘۔ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے عرض کی ! یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ ہمارے پاس تو یہ دو چیزیں ہیں ‘ پانی اور کھجور ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ( نعمتیں ، تمہارے پاس ) عنقریب آ جائیں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11519

Majma al-Zawaid #11519

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ سُيُوفُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا؟ قَالَ»، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Hasan reports that when the verse that you shall surely be questioned that day about blessing was revealed, the people asked which blessing they would be questioned about with swords upon their shoulders, and then the narrator mentioned the rest of the report. > **"About which blessing shall we be questioned?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ پھر اُس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا ‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ جبکہ ہماری تلواریں ‘ ہمارے کندھوں پر ہیں ......‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

11520

Majma al-Zawaid #11520

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «{لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ} [قريش: 1 - 2] وَيْحَكُمْ يَا قُرَيْشُ، اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي أَطْعَمَكُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَكُمْ مِنْ خَوْفٍ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَيْلُ أُمِّكُمْ يَا قُرَيْشُ، لِإِيلَافِكُمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ "". وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid رضي الله عنها reports from the Prophet ﷺ concerning the verses of the accustomed security of Quraysh in their winter and summer journeys that he called them to worship the Lord who fed them against hunger and secured them against fear. > **"Woe to you, O Quraysh. Worship your Lord who fed you against hunger and secured you against fear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ قریش کی رغبت کی وجہ سے ‘ سردی اور گرمی کے ( تجارتی ) سفر میں اُن کی رغبت ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اے قریش ! تمہارا ستیاناس ہو ‘ تم اس پروردگار کی عبادت کرو ‘ جو بھوک کے عالم میں تمہیں کھانے کے لئے دیتا ہے اور خوف سے تمہیں امان دیتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ‘ ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تمہاری ماں برباد ہو جائے ‘ اے قریش ! تمہاری رغبت ‘ جو سردیوں اور گرمیوں کے ( تجارتی ) سفر کے بارے میں ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوزیاد قداح اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11521

Majma al-Zawaid #11521

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كُنَّا نَعُدُّ الْمَاعُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّلْوَ وَالْفَأْسَ وَالْقِدْرَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ: وَالْفَأْسُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that in the time of the Messenger of Allah ﷺ they counted small kindness as the bucket, the axe and the cooking pot. Part of the report was narrated by Abu Dawud without mention of the axe.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم ڈول اور کلہاڑی کو ’’ ماعون ‘‘ شمار کیا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے لفظ ’’ فاس ‘‘ نقل نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11522

Majma al-Zawaid #11522

وَعَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ لَنَا أُمُّ عَطِيَّةَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا نَمْنَعَ الْمَاعُونَ، قُلْتُ: وَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَتْ: مَا يَتَعَاطَاهُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ». وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Hafsah bint Sirin reports that Umm Atiyyah said the Messenger of Allah ﷺ commanded them not to withhold small kindness, and when asked what small kindness meant, she explained it as what people commonly pass among themselves. > **"Do not withhold small kindness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ حفصہ بنت سیرین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع کیا تھا کہ ہم معمولی چیز روکیں ، میں نے دریافت کیا : معمولی چیز سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ چیز ‘ جو لوگ عام طور پر ایک دوسرے کو دے دیتے ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11523

Majma al-Zawaid #11523

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ} [الماعون: 7] قَالَ: الْعَارِيَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning the verse about withholding small kindness that it means the loan of things for use.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور وہ لوگ معمولی چیز نہیں دیتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اس سے مراد عارضی استعمال کے لئے وہ چیز دینا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔