عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ صَنَعَ لِقُرَيْشٍ طَعَامًا، فَلَمَّا أَكَلُوا قَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: سَاحِرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِسَاحِرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَاهِنٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِكَاهِنٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: شَاعِرٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِشَاعِرٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سِحْرٌ يُؤْثَرُ. [وَأُجْمِعَ قَوْلُهُمْ عَلَى أَنَّهُ سِحْرٌ يُؤْثَرُ] فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَزِنَ وَقَنَّعَ رَأْسَهُ وَتَدَثَّرَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ - قُمْ فَأَنْذِرْ - وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ - وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ - وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ - وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ - وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ} [المدثر: 1 - 7]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: Al-Walid ibn al-Mughira prepared food for Quraysh. When they ate he said, "What do you say about this man?" Some said magician, some said he is no magician, some said soothsayer, some said he is no soothsayer, some said poet, some said he is no poet, some said transmitted magic. Their word united upon it being transmitted magic. When it reached the Prophet ﷺ he grieved, covered his head, and wrapped himself. Then Allah revealed, "O you enshrouded, arise and warn, magnify your Lord, purify your garments, abandon the idols, do not confer favor seeking more, and be patient for your Lord."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ولید بن مغیرہ نے قریش کے لئے کھانا تیار کیا جب انہوں نے کھانا کھا لیا تو ولید نے کہا تم لوگ ان صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ کسی نے کہا وہ جادوگر ہیں کسی نے کہا وہ جادوگر نہیں ہیں کسی نے کہا وہ کاہن ہیں کسی نے کہا وہ کاہن نہیں ہیں کسی نے کہا وہ شاعر ہیں کسی نے کہا وہ شاعر نہیں ہیں کسی نے کہا : یہ جادو ہے جو نقل ہو رہا ہے پھر ان سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ جادو ہے جو نقل ہو رہا ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو آپ غمگین ہو گئے ‘ آپ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ اے چادر اوڑھنے والے ! تم اُٹھو اور تم ( لوگوں کو ) ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور بتوں سے الگ رہو اور ( اس مقصد کے تحت ) احسان نہ کرو ‘ کہ تم کثرت کے طلبگار ہو اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔