Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 16

Book of Exegesis

Hadith 11404–11443

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11404

Majma al-Zawaid #11404

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ أَرْبَعِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّجَاشِيِّ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدُوا مَعَهُ وَقْعَةَ أُحُدٍ، فَكَانَتْ فِيهِمْ جِرَاحَاتٌ وَلَمْ يُقْتَلْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا رَأَوْا مَا بِالْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْحَاجَةِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ مَيْسَرَةٍ، فَائْذَنْ لَنَا نَجِيءُ بِأَمْوَالِنَا نُوَاسِي بِهَا الْمُسْلِمِينَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهِمْ {الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ} [القصص: 52] الْآيَةَ أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا) فَجَعَلَ لَهُمْ أَجْرَيْنِ قَالَ: (وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ) قَالَ: تِلْكَ النَّفَقَةُ الَّتِي وَاسَوْا بِهَا الْمُسْلِمِينَ، نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ. قَالُوا: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، أَمَّا مَنْ آمَنَ مِنَّا بِكِتَابِكُمْ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكِتَابِكُمْ فَلَهُ أَجْرٌ كَأُجُورِكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ} [الحديد: 28] فَزَادَهُمُ النُّورَ وَالْمَغْفِرَةَ، وَقَالَ: {لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ} [الحديد: 29]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: Forty of the Najashi's companions came to the Prophet ﷺ and fought alongside him at Uhud. They were wounded but none was killed. When they saw the need of the believers, they said, "O Messenger of Allah, we are people of means, so permit us to fetch our wealth and share it with the Muslims." Then Allah revealed concerning them the verse of Al-Qasas, "Those to whom We gave the Book before it believe in it," and, "They will be given their reward twice for their patience," and, "They repel evil with good," meaning the charity with which they aided the Muslims. They then said, "O Muslims, whoever of us believes in your Book has two rewards, and whoever does not believe has one reward like yours." Then Allah revealed Al-Hadid, "O you who believe, fear Allah and believe in His Messenger; He will give you two shares of His mercy and appoint for you a light by which you walk and forgive you," adding light and forgiveness, and, "So that the People of the Book may know they have no power over any of Allah's bounty."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نجاشی کے ساتھیوں میں سے چالیس افراد ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ساتھ غزوہ اُحد میں شریک ہوئے ‘ انہیں زخم لاحق ہوئے ‘ لیکن ان میں سے کوئی بھی شہید نہیں ہوا ‘ جب انہیں اہل ایمان کے ضرورت مند ہونے کا اندازہ ہوا ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم خوشحال لوگ ہیں آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اپنے اموال لے آئیں اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ بھائی چارہ کریں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں ‘‘۔ ( مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اُن کا اجر دو مرتبہ عطا کیا جائے گا اس کی وجہ سے ‘ جو انہوں نے صبر سے کام لیا ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے دگنا اجر مقرر کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ بھلائی کے ذریعے برائی کو پرے کر دیتے ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس سے مراد وہ خرچ ہے ‘ جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا ‘ جب یہ آیت نازل ہوئی ‘ تو انہوں نے کہا : اے مسلمانوں کے گروہ ! ہم میں سے جو شخص تمہاری کتاب پر ایمان لائے گا ‘ اسے دگنا اجر ملے گا اور جو تمہاری کتاب پر ایمان نہیں لائے گا ‘ اسے تم لوگوں کے اُجور کی طرح ایک اجر ملے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور اُس کے رسول پر ایمان رکھو ‘ وہ اپنی رحمت میں سے دو حصے تمہیں عطا کرے گا اور تمہارے لئے نور بنا دے گا ، جس کی مدد سے تم چلو گے اور تمہاری مغفرت کر دے گا ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ’’ مزید نور ‘‘ اور ’’ مغفرت ‘‘ عطا کی ۔ اور اللہ تعالٰی نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کو یہ بات پتہ چل جائے ‘ کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11405

Majma al-Zawaid #11405

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا يَقُولُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: سَامٌ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ يَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ: (لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ)، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ} [المجادلة: 8] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ لِأَنَّ حَمَّادًا سَمِعَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ فِي حَالَةِ الصِّحَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported: The Jews used to say to the Messenger of Allah ﷺ, "Sam upon you," meaning death, and then say among themselves, "Why does Allah not punish us for what we say?" Then Allah revealed: > **"And when they come to you, they greet you with what Allah has not greeted you with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودی ‘ نبی اکرم ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے : سام علیکم ( یعنی آپ کو موت آئے ) پھر وہ دل میں یہ کہتے تھے : ’ ہم جو کہتے ہیں ‘ اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں ‘ تو تمہیں اُن ( نامناسب ) کلمات کے ذریعے سلام کرتے ہیں ، جن ( کلمات ) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام نہیں کیا ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ‘ کیونکہ حماد نے صحت کے دوران عطاء بن سائب سے سماع کیا تھا ۔

11406

Majma al-Zawaid #11406

عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: «وَنَزَلَتْ فِيَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً} [المجادلة: 12] فَقَدَّمْتُ شُعَيْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكَ لَزَهِيدٌ "". فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الْأُخْرَى {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ} [المجادلة: 13] الْآيَةَ كُلَّهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي حَدِيثِ الصَّحِيحِ: نَزَلَ فِي ثَلَاثِ آيَاتٍ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas رضي الله عنه reported: The verse was revealed concerning me, "O you who believe, when you confer privately with the Messenger, offer charity before your private counsel." So I offered a handful of barley, and the Messenger of Allah ﷺ said: > **"You are indeed ascetic."** Then the other verse was revealed, "Are you afraid to offer charities before your private counsel," the whole verse, abrogating it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ اے ایمان والو ! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو ‘ تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو ‘‘ تو میں نے ’ جو ‘ پیش کیے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دنیا سے رغبت ہو ‘ تو دوسری آیت نازل ہوئی : ’’ کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی نذر پیش کرو .......‘‘ یہ مکمل آیت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مکمل حدیث میں نقل کی ہے ‘ جو صحیح حدیث ہے ‘ جس میں یہ مذکور ہے کہ میرے بارے میں تین آیات نازل ہوئی تھیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11407

Majma al-Zawaid #11407

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ، قَدْ كَانَ يَقْلِصُ مِنْهُ الظِّلُّ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ "". قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَاهُ، قَالَ: عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ؟ قَالَ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ. فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِمْ، فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَا فَعَلُوا. وَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ} [المجادلة: 18]» إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا حَتَّى تَجَاوَزَ عَنْهُمْ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ was sitting in the shade of his chamber, the shade barely covering him, and said to his Companions: > **"A man will come to you looking at you with the two eyes of Satan, so when you see him do not speak to him."** A blue-eyed man then came. When the Prophet ﷺ saw him he called him and said: > **"Why do you and your companions revile me?"** The man said, "Stay as you are until I bring them to you." He went and brought them, and they swore by Allah that they had neither said nor done anything. Then Allah revealed, "On the Day Allah resurrects them all, they will swear to Him as they swear to you," to the end of the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے ‘ اُس کا سایہ آپ پر پورا نہیں آ رہا تھا ‘ آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس ایک شخص آئے گا ‘ جو شیطان کی آنکھوں کے ساتھ تمہاری طرف دیکھے گا ‘ جب تم اسے دیکھو تو اس کے ساتھ بات چیت نہ کرنا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس دوران نیلی آنکھوں والا ایک شخص آیا جب نبی اکرم ﷺ نے اسے ملاحظہ فرمایا ‘ تو اسے بلایا اور آپ نے فرمایا : تم اور تمہارے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہو ؟ اس نے کہا : جہاں آپ ہیں ‘ وہیں رہیں ، میں آپ کے پاس اُن کو لے کر آتا ہوں ‘ پھر وہ شخص گیا اور ان لوگوں کو لے کر آیا ‘ تو ان لوگوں نے اللہ کے نام پر حلف اٹھا کر یہ بات کہی کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی اور کوئی ایسا کام نہیں کیا ‘ اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ جب اللہ تعالیٰ ‘ ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اُسی طرح حلف اٹھائیں گے ‘ جس طرح وہ تمہارے سامنے حلف اٹھاتے ہیں ........‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ انہوں نے اللہ کے نام پر حلف اُٹھا کر یہ کہنا شروع کیا کہ انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور کوئی کام نہیں کیا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے درگزر کیا ........‘‘ باقی روایت حسب سابق ہے ۔

11408

Majma al-Zawaid #11408

فِي رِوَايَةٍ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ "". قَالَ: فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَامَ تَسُبُّنِي أَوْ تَشْتُمُنِي أَوْ نَحْوَ هَذَا؟ قَالَ: وَجَعَلَ يَحْلِفُ. قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ {وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} [المجادلة: 14] وَالْآيَةُ الْأُخْرَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the Prophet ﷺ said: > **"A man will enter upon you looking with the two eyes of Satan."** A blue-eyed man entered and said, "O Muhammad, on what basis do you insult me?" or words to that effect, and began swearing. Then the verse of Al-Mujadila was revealed, "And they swear to falsehood while they know," and the other verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا ‘ جو شیطان کی آنکھوں کے ذریعے دیکھے گا ‘ راوی کہتے ہیں : تو نیلی آنکھوں والا ایک شخص آیا اور بولا : اے حضرت محمد ! آپ کس بنیاد پر مجھے برا کہتے ہیں ‘ اور مجھ پر تنقید کرتے ہیں ؟ یا اس کی مانند کوئی کلمات کہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس نے حلف اٹھانا شروع کر دیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو سورت مجادلہ کی یہ آیت نازل ہوئی : ’’ وہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے ‘ جھوٹا حلف اٹھاتے ہیں ‘‘۔ اور دوسری آیت بھی نازل ہوئی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11409

Majma al-Zawaid #11409

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «رَخَّصَ فِي قَطْعِ النَّخْلِ، ثُمَّ شَدَّدَ عَلَيْهِمْ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْنَا إِثْمٌ فِيمَا قَطَعْنَا أَوْ فِيمَا تَرَكْنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ} [الحشر: 5]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported: Permission was given to cut the date-palms, then it was made strict upon them. They came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, is there sin upon us for what we cut or for what we left?" Then Allah revealed: > **"Whatever you cut of the palms or left standing upon their roots was by Allah's permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھجور کے درخت کاٹنے کی اجازت دی اور اس حوالے سے انہیں ( نہ کاٹنے کی ) سخت تاکید کی ‘ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے جو درخت کاٹے ہیں ، کیا ان کے حوالے سے ہمیں گناہ ہو گا ‘ یا جو چھوڑ دیے ہیں ، اُن کے حوالے سے گناہ ہو گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم نے جو بھی کھجور کے درخت کاٹے ہیں ‘ یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا ہے ‘ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11410

Majma al-Zawaid #11410

عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَسَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} [الحشر: 9] وَإِنِّي امْرُؤٌ مَا قَدَرْتُ عَلَى أَنْ يَخْرُجَ مِنِّي شَيْءٌ، وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ أَصَابَتْنِي هَذِهِ الْآيَةُ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ذَكَرْتَ الْبُخْلَ وَبِئْسَ الشَّيْءُ الْبُخْلُ، وَأَمَّا مَا ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ فَلَيْسَ مَا قُلْتَ، ذَاكَ أَنْ تَعْمَدَ إِلَى مَالِ غَيْرِكَ - أَوْ قَالَ: أَخِيكَ - فَتَأْكُلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad ibn Hilal reported: A man came to Abdullah ibn Masud رضي الله عنه and asked about the verse, "Whoever is protected from the shuhh of his soul, they are the successful." The man said, "I am one from whom nothing can come out, and I fear this verse applies to me." Ibn Masud said, "You mention miserliness, and miserliness is an evil thing, but what Allah mentions in the Quran is not what you say. It is that you turn to the wealth of another, or he said your brother, and consume it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اُن سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا : ’’ اور جس شخص کو نفس کے بخل سے بچا لیا گیا ، تو یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں ‘‘۔ اس شخص نے کہا : میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ میری طرف سے کوئی چیز جائے اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس آیت کا حکم مجھ پر بھی لاگو ہو گا ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے بخل کا ذکر کیا ہے اور بخل ایک بری چیز ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا قرآن میں ذکر کیا ہے ‘ وہ یہ چیز نہیں ہے ‘ جو تم نے بیان کی ہے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ تم کسی دوسرے کے مال ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے بھائی کے مال کی طرف جاؤ اور اُسے کھا لو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11411

Majma al-Zawaid #11411

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ، وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ} [الممتحنة: 8] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported: Qutaylah bint al-Uzza of Bani Malik ibn Hisl came to her daughter Asma bint Abi Bakr رضي الله عنها with gifts of lizards, cheese, and ghee, while she was a polytheist. Asma refused to accept her gift or admit her into her house. Aisha asked the Prophet ﷺ about it, and Allah revealed, "Allah does not forbid you concerning those who did not fight you for religion," to the end of the verse. So he commanded her to accept her gift and admit her into her house.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عزی بن عبداسعد ‘ جن کا تعلق بنو مالک بن حسل سے ہے ‘ وہ اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس تحائف لے کر آئیں ، جن میں گوہ تھی ، پنیر تھا اور گھی تھا ‘ وہ خاتون مشرک تھیں ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اُن کے تحائف قبول کرنے اور انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اللہ تعالیٰ ‘ اُن لوگوں کے حوالے سے تمہیں منع نہیں کرتا ، جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کے بارے میں ‘ تمہارے ساتھ جنگ نہیں کی .......‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ اس خاتون کے تحائف قبول کر لیں اور انہیں اپنے گھر میں آنے دیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11412

Majma al-Zawaid #11412

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ} [الممتحنة: 10] قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَّفَهَا عُمَرُ بِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ رَغْبَةً بِأَرْضٍ عَنْ أَرْضٍ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتِ الْتِمَاسَ دُنْيَا، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported concerning Allah's saying, "When the believing women come to you as emigrants, test them; Allah knows best their faith": When a woman came to the Prophet ﷺ, Umar رضي الله عنه would make her swear by Allah that she had not left out of desire to move from one land to another, by Allah that she had not left seeking worldly gain, and by Allah that she had left only out of love for Allah and His Messenger.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب مومن خواتین ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں ‘ تو تم اُن کا امتحان ہو ! اللہ تعالیٰ اُن کے ایمان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ( ایسی کوئی خاتون ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس سے اللہ کے نام کا حلف لیتے تھے کہ وہ محض ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے لئے نہیں آئی ہے اور اللہ کی قسم ! وہ کسی دنیاوی مقصد کے حصول کے لئے نہیں آئی ‘ اللہ کی قسم ! وہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی خاطر ( اپنے علاقے سے ) نکلی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11413

Majma al-Zawaid #11413

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ قَالَ: «هَاجَرَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فِي الْهُدْنَةِ، فَخَرَجَ أَخَوَاهَا عُمَارَةُ وَالْوَلِيدُ ابْنَا عُقْبَةَ حَتَّى قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَلَّمَاهُ فِي أُمِّ كُلْثُومٍ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَيْهِمَا، فَنَقَضَ اللَّهُ الْعَهْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، خَاصَّةً فِي النِّسَاءِ، وَمَنَعَهُنَّ أَنْ يُرْدَدْنَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - آيَةَ الِامْتِحَانِ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Ahmad رضي الله عنه reported: Umm Kulthum bint Uqba ibn Abi Muayt emigrated during the truce. Her two brothers, Umara and al-Walid, sons of Uqba, came to the Messenger of Allah ﷺ and spoke to him about returning her to them. Then Allah annulled the treaty between him and the polytheists specifically regarding women, forbidding that they be returned to the polytheists, and Allah revealed the verse of examination.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواحمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومعیط ‘ جنگ کے بعد مصالحت کے عرصے کے دوران ‘ ہجرت کر کے آئی ‘ تو اُس کے دو بھائی عمارہ اور ولید ‘ جو دونوں عقبہ کے بیٹے ہیں ‘ وہ دونوں بھی نکلے اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے ام کلثوم کے بارے میں ‘ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کی کہ نبی اکرم ﷺ اس خاتون کو ان دونوں کو واپس کر دیں ، تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور مشرکین کے درمیان خواتین کے بارے میں عہد کو کالعدم قرار دیا اور خواتین کے بارے میں اس بات سے منع کر دیا کہ انہیں مشرکین کی طرف واپس بھیجا جائے ، پھر اللہ تعالیٰ نے امتحان کے حکم سے متعلق آیات نازل کیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11414

Majma al-Zawaid #11414

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «{وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَ: "" النَّوْحُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported from the Prophet ﷺ concerning, "Nor disobey you in what is right": > **"It is wailing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس سے مراد نوحہ کرنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11415

Majma al-Zawaid #11415

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ نُوحٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «أَدْرَكْتُ عَجُوزًا لَنَا كَانَتْ فِيمَنْ بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا، فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَنُحْ. قَالَتِ الْعَجُوزُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نَاسًا كَانُوا قَدْ أَسْعَدُونِي عَلَى مُصِيبَةٍ أَصَابَتْنِي، وَإِنَّهُمْ أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُسْعِدَهُمْ. ثُمَّ إِنَّهَا أَتَتْهُ فَبَايَعَتْهُ وَقَالَتْ: هُوَ الْمَعْرُوفُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Musab ibn Nuh al-Ansari reported: I knew an old woman of ours who was among those who pledged allegiance to the Prophet ﷺ. She said, "We came to him one day and he took our pledge that we would not wail." The old woman said, "O Messenger of Allah, some people had helped me upon a calamity that befell me, and a calamity has now befallen them, and I wish to help them." Then she came to him and pledged allegiance to him. She said, "This is the right conduct of which Allah says, 'Nor disobey you in what is right.'"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن نوح انصاری بیان کرتے ہیں میں نے اپنے خاندان کی ایک بوڑھی خاتون کو پایا جو ان خواتین سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ ہم خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی اکرم ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگوں نے ایک مصیبت واقع ہونے پر میرا ساتھ دیا تھا اب انہیں ایک مصیبت لاحق ہوئی ہے میں یہ چاہتی ہوں کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں پھر وہ بعد میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے آپ کی بیعت کر لی اس خاتون نے یہ بات بتائی کہ یہ وہ معروف ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے : ’’ اور وہ معروف کے بارے میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11416

Majma al-Zawaid #11416

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ} [الممتحنة: 13] فَلَا يُؤْمِنُوا بِهَا وَلَا يُؤْجَرُوا: [هَذَا] الْكَافِرُ إِذَا مَاتَ وَعَايَنَ ثَوَابَهُ وَاطَّلَعَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reported concerning His saying, "O you who believe, do not befriend a people with whom Allah is angry; they have despaired of the Hereafter": They do not believe in it nor are rewarded for it. This is the disbeliever who, when he dies and beholds his recompense and looks upon it, despairs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ایمان والو ! تم اس قوم کو اپنا دوست نہ بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا وہ آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) یعنی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اس سے مراد وہ کافر شخص ہے کہ جب وہ مر جائے تو وہ اپنے ثواب ( یعنی انجام اور بدلے ) کو دیکھتا ہے اور اس پر مطلع ہو جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعد بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11417

Majma al-Zawaid #11417

عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: {إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} [الجمعة: 9] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ قَرَأْتُهَا "" فَاسْعَوْا "" سَعَيْتُ حَتَّى يَسْقُطَ رِدَائِي. وَكَانَ يَقْرَؤُهَا (فَامْضُوا). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim reported: Abdullah ibn Masud رضي الله عنه recited, "When the call is made for prayer on Friday, hasten to the remembrance of Allah." Abdullah said, "Had I read it as 'run,' I would run until my cloak fell." And he used to recite it as "famdu," meaning proceed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی سے جاؤ ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں اس آیت کو یوں پڑھوں کہ تم دوڑ کے جاؤ تو میں اتنا تیزی سے چل کے جاؤں گا کہ میری چادر گر جائے گی راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ الفاظ پڑھتے تھے :’’ تم جاؤ ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

11418

Majma al-Zawaid #11418

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: فِي جُزْءِ ابْنِ مَسْعُودٍ - فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ - وَهُوَ كَقَوْلِهِ {إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى} [الليل: 4]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qatada reported: In the section of Ibn Masud it is "famdu ila dhikr Allah," proceed to the remembrance of Allah, and it is like His saying, "Indeed your striving is diverse."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جزء میں یہ الفاظ ہیں : اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ‘‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مانند ہے : ’’ بے شک تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور قتادہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے تا ہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

11419

Majma al-Zawaid #11419

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَ دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ يَبِيعُ سِلْعَةً لَهُ، فَمَا بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَّا نَفَرٌ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: 11]- الْآيَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: The Prophet ﷺ was delivering the sermon on Friday when Dihya ibn Khalifa arrived selling his goods. Nearly all in the mosque left except a few, while the Prophet ﷺ was standing. Then Allah revealed, "When they saw trade or amusement they dispersed toward it and left you standing."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اسی دوران دحیہ بن خلیفہ اپنا سامان فروخت کرنے کے لئے ( منڈی میں ) آ گیا تو مسجد میں موجود افراد چلے گئے صرف کچھ افراد باقی رہ گئے اور نبی اکرم ﷺ ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی ‘ تو اس کی طرف جلدی سے چلے گئے اور تمہیں قیام کی حالت میں چھوڑ گئے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11420

Majma al-Zawaid #11420

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ [فَمَرَّ الرَّسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -] فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: {لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: 8] فَأَتَيْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَحَلَفَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ بِاللَّهِ مَا تَكَلَّمَ بِهَذَا. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ الْغُلَامُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ. فَجَاءَ سَعْدٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي، فَقَالَ: هَذَا حَدَّثَنِي [قَالَ:] فَانْتَهَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ. فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَكَيْتُ، وَقُلْتُ: [إِيْ] وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ النُّورَ [وَالنُّبُوَّةَ] لَقَدْ قَالَهُ. قَالَ: وَانْصَرَفَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ وَعَزَّ - {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ} [المنافقون: 1] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه reported: I was sitting with Abdullah ibn Ubayy when the Messenger ﷺ passed with some of his Companions, and Abdullah ibn Ubayy said, "If we return to Medina, the mightiest will surely expel the humblest." I went to Sad ibn Ubada and informed him, and he went to the Prophet ﷺ and mentioned it to him. The Messenger of Allah ﷺ sent for Abdullah ibn Ubayy, who swore by Allah that he had not said it. The Messenger of Allah ﷺ looked at Sad ibn Ubada, and Sad said, "O Messenger of Allah, the boy Zayd ibn Arqam informed me of it." Then Sad came, took my hand, and set out with me, saying, "This is what he reported to me." Abdullah ibn Ubayy scolded me. We came to the Messenger of Allah ﷺ and I wept and said, "Yes, by the One who sent down the light upon you, he indeed said it." The Messenger of Allah ﷺ turned away from him, and Allah revealed, "When the hypocrites come to you," to the end of the sura.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عبداللہ بن اُبی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن اُبی نے کہا : ’’ جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو غلبے والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو پیغام بھیج کر بلوایا تو عبداللہ بن اُبی نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ حلف اٹھایا کہ میں نے یہ بات نہیں کی ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس لڑکے زید بن ارقم نے مجھے اس بارے میں بتایا ہے پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر چلے گئے اور بولے اس نے مجھے یہ بات بتائی ہے راوی کہتے ہیں عبداللہ بن اُبی نے مجھے ڈانٹا ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں رونے لگ پڑا میں نے عرض کی جی ہاں اس ذات کی قسم جس نے آپ پر نور اور نبوۃ کو نازل کیا ہے اس شخص نے یہ بات کہی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب منافقین تمہارے پاس آئیں ........‘‘ یہ سورت کے آخرت تک ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11421

Majma al-Zawaid #11421

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّخِذُوا تَقْوَى اللَّهِ تِجَارَةً يَأْتِكُمُ الرِّزْقُ بِلَا بِضَاعَةٍ وَلَا تِجَارَةٍ "". ثُمَّ قَرَأَ {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: 2]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"O people, take the fear of Allah as merchandise; provision will come to you without goods or trade."** Then he recited, "Whoever fears Allah, He appoints for him a way out and provides for him from where he does not expect."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے لوگو ! اللہ کے تقوی کو تجارت کے طور پر اختیا کرو ‘ وہ کسی سامان اور تجارت کے بغیر تمہارے پاس رزق آئے گا ‘‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا کرے گا ‘ جو اس کے گمان میں نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11422

Majma al-Zawaid #11422

وَعَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتَقَوَّضَ إِلَيْهِمَا خَلْقُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ جَلَسُوا إِلَيْنَا إِلَّا لِيَسْمَعُوا مِنَّا خَيْرًا، فَإِمَّا أَنْ تُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأُصَدِّقَكَ، وَإِمَّا أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَتُصَدِّقَنِي، فَقَالَ: حَدِّثْنَا أَبَا عَائِشَةَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ ". قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ وَأَمْرٌ وَنَهْيٌ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} [النحل: 90] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَفْوِيضًا {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: 2]؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَحًا {يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} [الزمر: 53] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Duha reported: Masruq and Shutayr ibn Shakl gathered in the mosque, and the circles of the mosque drew toward them. Masruq said, "I do not see these people sitting with us except to hear good from us. Either you narrate from Abdullah and I confirm you, or I narrate from Abdullah and you confirm me." He said, "Narrate to us, Abu Aisha." Masruq said, "I heard Abdullah ibn Masud say: The two eyes commit adultery, the two feet commit adultery, the two hands commit adultery, and the private part confirms it or denies it." He said, "Yes, and I too heard it." He said, "Did you hear Abdullah ibn Masud say: The most comprehensive verse in the Quran concerning lawful, unlawful, command, and prohibition is, 'Indeed Allah commands justice, excellence, and giving to kin, and forbids indecency and wrongdoing,' to the end of the verse?" He said, "Yes, and I too heard it." He said, "Did you hear Abdullah ibn Masud say: The greatest verse in Allah's Book in entrusting affairs to Him is, 'Whoever fears Allah, He appoints for him a way out and provides for him from where he does not expect'?" He said, "Yes, and I too heard it." He said, "Did you hear Abdullah ibn Masud say: The most joyful verse in the Quran is, 'O My servants who transgressed against themselves, do not despair of Allah's mercy,' to the end of the verse?" He said, "Yes, and I too heard it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوضحی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے تو مسجد کے حلقے اٹھ کر ان دونوں کی طرف آ گئے مسروق نے کہا میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ ہمارے پاس صرف اس لئے آ کے بیٹھے ہیں تاکہ ہم سے کوئی بھلائی کی بات سنیں تو یا تو تم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کر دوں گا یا میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم میری تصدیق کر دینا تو انہوں نے کہا : اے ابوعائشہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے تو مسروق نے بتایا میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا اس کی تکذیب کرتی ہے ‘‘۔ تو شتیر نے کہا جی ہاں میں نے بھی ان کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حلال ‘ حرام ، امر اور نہی کے حوالے سے قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے ‘ احسان کرنے ‘ قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور فحش چیزوں اور منکر چیزوں سے منع کرتا ہے ........‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ان کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ پھر انہوں نے فرمایا : کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کہ تفویض کے اعتبار سے ‘ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت یہ ہے : ’’ اور جو شخص ‘ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے ‘ جہاں کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا ‘‘۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : خوشی کے حوالے سے قرآن کی سب سے زبردست آیت یہ ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو .......‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ۔

11423

Majma al-Zawaid #11423

وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ شُتَيْرًا هُوَ الَّذِي حَدَّثَ وَقَالَ فِيهِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ أَعْظَمَ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255]، قَالَ مَسْرُوقٌ: صَدَقْتَ. وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, Shutayr was the one who narrated, saying, "Abdullah ibn Masud reported to us that the greatest verse in the Book of Allah is, 'Allah, there is no deity but He, the Living, the Sustainer.'" Masruq said, "You spoke the truth." The rest is similar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : شتیر نے یہ بات بیان کی تھی اور اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ کہا : اللہ کی کتاب میں موجود سب سے عظیم آیت یہ ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی معبود ہے اور وہ حی اور قیوم ہے ‘‘ تو مسروق نے کہا آپ نے سچ کہا ہے ....... باقی روایت حسب سابق ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11424

Majma al-Zawaid #11424

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي سُرِّيَّتِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ آدَمَ الْأَصْغَرِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported concerning, "O Prophet, why do you prohibit what Allah made lawful for you": This verse was revealed concerning his concubine.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دیا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں یہ آیت نبی اکرم ﷺ کی کنیز ( سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی تھی ) ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بشر بن آدم اصغر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11425

Majma al-Zawaid #11425

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ سُرِّيَّتِهِ، بَيْتَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَوَجَدَتْهَا مَعَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي بَيْتِي مِنْ بَيْنِ بُيُوتِ نِسَائِكَ؟ قَالَ: "" فَإِنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ أَنْ أَمَسَّهَا يَا حَفْصَةُ وَاكْتُمِي هَذَا عَلَيَّ "". فَخَرَجَتْ حَتَّى أَتَتْ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، أَلَا أُبَشِّرُكِ؟ قَالَتْ: بِمَاذَا؟ قَالَتْ: وَجَدْتُ مَارِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي بَيْتِي مِنْ بَيْنِ بُيُوتِ نِسَائِكَ؟ وَكَانَ أَوَّلُ السُّرُورِ أَنْ حَرَّمَهَا عَلَى نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: "" يَا حَفْصَةُ، أَلَا أُبَشِّرُكِ "". فَقُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَعْلَمَنِي: "" أَنَّ أَبَاكِ يَلِي الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِي، وَأَنَّ أَبِي يَلِيهِ بَعْدَ أَبِيكِ ""، وَقَدِ اسْتَكْتَمَنِي ذَلِكَ فَاكْتُمِيهِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] أَيْ مِنْ مَارِيَةَ {تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [التحريم: 1] أَيْ لِمَا كَانَ مِنْكَ {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ - وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: 2 - 3] يَعْنِي حَفْصَةَ {فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ} [التحريم: 3] يَعْنِي عَائِشَةَ {وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ} [التحريم: 3] يَعْنِي بِالْقُرْآنِ {عَرَّفَ بَعْضَهُ} [التحريم: 3] عَرَّفَ حَفْصَةَ مَا أَظْهَرَ مِنْ أَمْرِ مَارِيَةَ {وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ} [التحريم: 3] عَنْ مَا أَخْبَرَتْ بِهِ مِنْ أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يُبْدِهِ عَلَيْهَا {فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ} [التحريم: 3] ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهَا يُعَاتِبُهَا فَقَالَ {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ {وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ - عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا} [التحريم: 4 - 5] فَوَعَدَهُ مِنَ الثَّيِّبَاتِ آسِيَةَ بِنْتَ مُزَاحِمٍ امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ وَأُخْتَ نُوحٍ، وَمِنَ الْأَبْكَارِ مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَأُخْتَ مُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ وَخَبَرُهُ سَاقِطٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ entered with Mariya the Copt, his concubine, into the house of Hafsa bint Umar رضي الله عنها. She found her with him and said, "O Messenger of Allah, in my house apart from the houses of your wives?" He said: > **"She is forbidden for me to touch, O Hafsa, and conceal this from me."** She went out to Aisha and said, "O daughter of Abu Bakr, shall I not give you glad tidings?" She said, "What?" She said, "I found Mariya with the Messenger of Allah ﷺ in my house, and I said, 'O Messenger of Allah, in my house apart from the houses of your wives?' The first joy was that he forbade her for himself. Then he said to me, 'O Hafsa, shall I not give you glad tidings?' I said, 'Yes, may my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah.' He informed me that your father will assume authority after me and that my father will assume it after your father, and he asked me to keep it secret, so keep it secret." Then Allah revealed, "O Prophet, why do you prohibit what Allah made lawful for you," meaning Mariya, "seeking the pleasure of your wives, and Allah is Forgiving, Merciful," for what came from you, "Allah has ordained for you the dissolution of your oaths, and Allah is your Protector, and He is the Knowing, the Wise. And when the Prophet confided a statement to one of his wives," meaning Hafsa, "then when she informed of it," meaning Aisha, "and Allah exposed it to him," meaning through the Quran, "he made known part of it," he informed Hafsa of what was exposed concerning Mariya, "and turned away from part," concerning what she had disclosed about Abu Bakr and Umar, and did not reveal it to her, "then when he informed her of it she said, 'Who informed you of this?' He said, 'The Knowing, the Aware informed me.'" Then he turned to her reproaching her with, "If you two repent to Allah, for your hearts have inclined," to the end of the passage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی کنیز سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ‘ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے گھر میں لے گئے ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اُس خاتون کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پایا ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی دیگر تمام ازواج کے گھروں کو چھوڑ کر ‘ مرے گھر میں ( اسے لانا تھا ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ مجھ پر حرام ہے کہ اب میں اس کے قریب جاؤں ‘ اے حفصہ ! تم یہ بات پوشیدہ رکھنا ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نکلیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور بولیں : اے ابوبکر کی صاحبزادی ! کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے گھر میں ‘ ماریہ کے ساتھ پایا ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی تمام دیگر ازواج کے گھروں کو چھوڑ کر میرے گھر میں ( اس کو لانا تھا ) تو پہلی خوشی کی بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے حفصہ ! کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بتایا کہ آپ کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) والد میرے بعد حکمران بنیں گے اور میرے والد ( یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ) والد آپ کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ) والد کے بعد حکمران بنیں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات چھپا کے رکھنے کو کہا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ‘‘۔ اس سے مراد سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ ’’ تم اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘ یعنی اس حوالے سے ‘ جو تمہاری طرف سے ہوا ۔ ’’ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے یہ مقرر کیا ہے کہ تم اپنی قسموں کو ( کفارہ دے کر ) توڑ سکتے ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے اور وہ علم رکھنے والا حکمت رکھنے والا ہے ‘ اور جب نبی نے اپنی ایک زوجہ کے ساتھ راز داری کی ایک بات کی .......‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہ بات کی ۔ ’’ اور جب اُس خاتون نے وہ بات بتا دی ‘‘ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ بات بتا دی ۔ ’’ اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی کو بتا دیا ‘‘ یعنی قرآن کے ذریعے بتا دیا ۔ ’’ تو اس نبی نے اس بات کا کچھ حصہ جتایا ‘‘ یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات جتائی جو انہوں نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بات ظاہر کی تھی ۔ ’’ اور اس نبی نے کچھ ( باتوں کے ) حوالے سے اعراض کیا ‘‘ یعنی اس چیز کے بارے میں جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بتایا ‘ تو نبی نے یہ بات ان کے سامنے ظاہر نہیں کی ۔ ” جب نبی نے اس خاتون کو یہ بات بتائی ‘ تو اس خاتون نے دریافت کیا : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے ؟ تو نبی نے کہا : مجھے علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے یہ بات بتائی ہے ‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی خطاب کر کے اس پر عتاب کیا اور فرمایا : ’’ اگر تم دونوں ‘ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو ( تو یہ مناسب ہو گا ) کیونکہ تم دونوں کے دل جھک گئے تھے اور اگر تم دونوں اس بارے میں مل جاتی ہو ‘ تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور جبرائیل بھی اور نیک مومنین بھی .......‘‘۔ اس سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ’’ اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر وہ نبی تمہیں طلاق دیدے تو اللہ تعالیٰ اس نبی کو بدلے میں ‘ تم سے زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دے ، جو مسلمان ہوں ، مومن ہوں ‘ فرمانبردار ہوں ، توبہ کرنے والی ہوں ، عبادت گزار ہوں ‘ روزہ دار ہوں ، ثیبہ ہوں اور کنواریاں ہوں ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ( اس میں ثیبہ خواتین میں ، فرعون کی اہلیہ آسیہ بنت مزاحم اور حضرت نوح علیہ السلام کی بہن شامل ہیں ‘ اور کنواری خواتین میں سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن شامل ہیں ، جو آخرت میں نبی اکرم ﷺ کی زوجہ بنیں گی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں موسیٰ بن جعفر بن ابوکثیر کے حوالے سے ان کے چچا سے نقل کی ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں یہ مجہول ہے اور اس کی نقل کردہ روایت ساقط ہے ۔

11426

Majma al-Zawaid #11426

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ عِنْدَ سَوْدَةَ الْعَسَلَ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا. ثُمَّ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا. فَقَالَ: "" أَرَاهُ مِنْ شَرَابٍ شَرِبْتُهُ عِنْدَ سَوْدَةَ، وَاللَّهِ لَا أَشْرَبُهُ "". فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ used to drink honey at Sawda's. He entered upon Aisha, who said, "I notice an odor from you." Then he entered upon Hafsa, who said, "I notice an odor from you." He said: > **"I think it is from a drink I drank at Sawda's. By Allah, I shall not drink it again."** Then the verse was revealed, "O Prophet, why do you prohibit what Allah made lawful for you."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ‘ تو انہوں نے عرض کی مجھے آپ سے بو محسوس ہو رہی ہے پھر آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہ عرض کی کہ مجھے آپ سے بو محسوس ہو رہی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا یہ خیال ہے یہ اس مشروب کی وجہ سے ہے ‘ جو میں نے سودہ کے ہاں پیا تھا ‘ اللہ کی قسم ! میں اب اُسے نہیں پیوں گا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اے نبی ! تم اُس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ........‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11427

Majma al-Zawaid #11427

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] قَالَ: صَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reported from the Prophet ﷺ concerning Allah's saying, "For Allah is his Protector, and Jibril, and the righteous of the believers": > **"The righteous of the believers are Abu Bakr and Umar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور جبرائیل اور نیک مومنین بھی .......‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نیک مومنین میں ‘ ابوبکر اور عمر بھی شامل ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زیدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

11428

Majma al-Zawaid #11428

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ} [التحريم: 6] قَالَ: حِجَارَةٌ مِنْ كِبْرِيتٍ يَجْعَلُهَا اللَّهُ عِنْدَهُ كَيْفَ شَاءَ وَمَتَى شَاءَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reported concerning His saying, "Whose fuel is men and stones": They are stones of brimstone which Allah places with Him as He wills and when He wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ پتھر کبریت کا ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس رکھا ہے جیسے اس نے چاہا اور جب تک اس نے چاہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11429

Majma al-Zawaid #11429

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوَدِدْتُ أَنَّهَا فِي قَلْبِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي ""، يَعْنِي (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I wish it were in the heart of every person of my nation,"** meaning, "Blessed is He in whose Hand is dominion."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میری یہ خواہش ہے کہ میری امت کے ہر ایک فرد کو یہ زبانی یاد ہو ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد سورت ملک تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11430

Majma al-Zawaid #11430

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هِيَ إِلَّا ثَلَاثُونَ آيَةً، خَاصَمَتْ عَنْ صَاحِبِهَا حَتَّى أَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ، وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is a sura of the Quran, only thirty verses, which disputed on behalf of its companion until it admitted him into Paradise, and it is the sura Tabarak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قرآن کی ایک سورت ہے جو تیس آیات پر مشتمل ہے وہ اپنے پڑھنے والے شخص کے بارے میں جھگڑا کرے گی اور وہ اسے جنت میں داخل کروا دے گی اور وہ سورت ملک ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11431

Majma al-Zawaid #11431

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَانِعَةَ، وَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، سُورَةٌ مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلِهِ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reported: In the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ we used to call it al-Maniah, the Preventer. It is a sura in the Book of Allah; whoever recites it in his night has done much and well.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم اس سورت کو ( قبر کے عذاب سے ) ’’ رکاوٹ بننے والی ‘‘ کا نام دیتے تھے اور یہ اللہ کی کتاب میں موجود ایک سورت ہے جو شخص رات کے وقت اسے پڑھ لے گا تو وہ بکثرت ( تلاوت کرے گا ) اور عمدہ کام کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11432

Majma al-Zawaid #11432

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «يُؤْتَى بِالرَّجُلِ فِي قَبْرِهِ، فَتُؤْتَى رِجْلَاهُ فَتَقُولَانِ: لَيْسَ لَكَ عَلَى مَا قَبَلْنَا سَبِيلٌ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا سُورَةَ الْمُلْكِ. ثُمَّ يُؤْتَى جَوْفُهُ فَيَقُولُ: لَيْسَ لَكَ عَلَيَّ سَبِيلٌ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ الْمُلْكِ [ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: لَيْسَ لَكُمْ عَلَى مَنْ قِبَلِي سَبِيلٌ كَانَ يَقْرَأُ فِي سُورَةِ]». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَهِيَ الْمَانِعَةُ، تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ، وَهِيَ فِي التَّوْرَاةِ، هَذِهِ السُّورَةُ الْمُلْكُ، مَنْ قَرَأَهَا فِي لَيْلِهِ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reported: A man is approached in his grave. His feet are approached and they say, "You have no way against what is before us; he used to recite Surat al-Mulk over us." Then his belly is approached and it says, "You have no way against me; he used to recite Surat al-Mulk within me." Then he is approached from his head and it says, "You have no way against what is before me; he used to recite Surat al-Mulk." Abdullah said, "So it is al-Maniah; it prevents the punishment of the grave. In the Torah it is Surat al-Mulk; whoever recites it in his night has done much and well."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قبر میں آدمی کے پاس دو فرشتے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں اس طرف سے اس کے پاس جانے کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ یہ شخص سورت ملک پڑھا کرتا تھا پھر وہ پیٹ کی طرف سے آتے ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ میرے پاس آنے کے لئے تمہارے پاس راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا پھر وہ سر کی طرف سے آتا ہے تو کہتا ہے میری طرف آنے کے لئے تمہارے پاس راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو یہ رکاوٹ بننے والی سورت ہے جو قبر کے عذاب کو روک دیتی ہے اور تورات میں یہ سورت ملک تھی جو شخص رات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے وہ بکثرت اور پاکیزہ کام کرتا ہے ۔

11433

Majma al-Zawaid #11433

وَفِي رِوَايَةٍ «مَاتَ رَجُلٌ، فَجَاءَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَجَلَسُوا عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ: لَا سَبِيلَ لَكُمْ عَلَيْهِ، قَدْ كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْمُلْكِ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration: A man died and the angels of punishment came and sat at his head. He said, "You have no way against him; he used to recite Surat al-Mulk." The rest is similar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص مر گیا عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے اور اس کے سرہانے بیٹھے تو اس نے کہا تم اس تک نہیں جا سکتے کیونکہ یہ سورت ملک پڑھا کرتا تھا ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11434

Majma al-Zawaid #11434

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ وَالْحُوتُ. قَالَ: مَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: كُلَّ شَيْءٍ كَائِنٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". ثُمَّ قَرَأَ "" ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ "" الْقَلَمِ» فَالنُّونُ: الْحُوتُ، وَالْقَلَمُ: الْقَلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: لَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قُلْتُ: وَمُؤَمَّلُ ثِقَةٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The first things Allah created were the Pen and the Fish. It said, 'What shall I write?' He said, 'Everything that will be until the Day of Resurrection.'"** Then he recited, "Nun, by the Pen and what they inscribe." So Nun is the Fish and the Pen is the Pen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم اور مچھلی کو پیدا کیا ، قلم نے دریافت کیا : میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہر وہ چیز جو قیامت کے دن تک ہو گی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ ن ‘ اور قلم کی قسم ہے ‘ اور جو وہ ( فرشتے ) لکھتے ہیں ‘‘۔ تو ’ ن ‘ سے مراد ‘ مچھلی ہے اور قلم سے مراد قلم ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں حماد بن زید کے حوالے سے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر صرف مؤمل بن اسماعیل نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں مؤمل نامی راوی ثقہ ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرتا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11435

Majma al-Zawaid #11435

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْعُتُلِّ الزَّنِيمِ، قَالَ: "" هُوَ الشَّدِيدُ الْخُلُقِ الْمُصَحِّحُ الْأَكُولُ الشَّرُوبُ الْوَاجِدُ لِلطَّعَامِ وَالشَّرَابِ الظَّلُومُ لِلنَّاسِ رَحِيبُ الْجَوْفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرٌ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ لَيْسَ لَهُ صُحْبَةٌ عَلَى الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Ghanm reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the utull zanim, and said: > **"He is harsh in character, bulky, a great eater and drinker, finding food and drink in plenty, oppressive to people, wide in the belly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے ’’ عتل ‘ زنیم “ کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ نے فرمایا : اس سے مراد ایسا شخص ہے جو انتہائی بد اخلاق ہو ‘ بہت زیادہ کھانے پینے والا ہو ‘ جسے بہت زیادہ کھانا پینا میسر ہو ‘ وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہو اور اُس کا پیٹ کھلا ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور صحیح روایت کے مطابق حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔

11436

Majma al-Zawaid #11436

عَنْ أَبِي مُوسَى «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ} [القلم: 42] قَالَ: "" عَنْ نُورٍ عَظِيمٍ يَخِرُّونَ لَهُ سُجَّدًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَقَالَ فِيهِ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning, "The Day the shin is uncovered": > **"It is a great light before which they fall prostrate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک عظیم نور ہو گا ( جس سے پردہ ہٹایا جائے گا ) تو لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر جائیں گے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن جناح ہے جسے دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ انہوں نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے یہ ثقہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11437

Majma al-Zawaid #11437

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {حُسُومًا} [الحاقة: 7] قَالَ: مُتَتَابِعَاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: 75]، تَقَدَّمَ فِي سُورَةِ الْوَاقِعَةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reported concerning His saying, "husuman": It means consecutive days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ حسوما ‘‘ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس کا مطلب ہے کہ مسلسل ایسا ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11438

Majma al-Zawaid #11438

عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ «أَنَّهُمْ بَيْنَا هُمْ يَطُوفُونَ بِالطَّاغِيَةِ إِذْ سَمِعُوا مُتَكَلِّمًا وَهُوَ يَقُولُ: {وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ} [الحاقة: 44 - 46] فَفَزِعْنَا لِذَلِكَ، فَقُلْنَا: مَا هَذَا الْكَلَامُ الَّذِي لَا نَعْرِفُهُ؟ فَنَظَرْنَا فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْطَلِقًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ السَّائِبُ بْنُ يَسَارٍ الطَّائِفِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Amir al-Suwai reported: While they were circumambulating the idol they heard a speaker saying, "Had he forged against Us any sayings, We would have seized him by the right, then cut from him the life-vein." We were alarmed at that and said, "What is this speech we do not know?" Then we looked and found the Prophet ﷺ going along.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن عامر سوائی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ وہ لوگ طاغیہ کا طواف کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے کسی بولنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اور اگر وہ ہماری طرف کوئی ایک بات جھوٹ کے طور پر منسوب کر دیتا ‘ تو ہم نے اسے پوری قوت کے ساتھ پکڑ لینا تھا اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دینی تھی ‘‘۔ ہم اس بات پر گھبرا گئے ‘ ہم نے کہا : یہ کوئی ایسا کلام نہیں ہے ‘ جس سے ہم واقف نہ ہوں ‘ پھر ہم نے دیکھا تو وہ نبی اکرم ﷺ تھے ‘ جو تشریف لے جا رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سائب بن یسار طائفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11439

Majma al-Zawaid #11439

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ} [المعارج: 8] كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ. وَفِي قَوْلِهِ: (آنَاءَ اللَّيْلِ) قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported concerning, "The Day the sky becomes like al-muhl": It is like the dregs of oil. And concerning His saying about the hours of the night, he said, "The middle of the night."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس دن آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جیسے زیتون کے تیل کا تلچھٹ ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے فرمان : ” آنای الليل ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد ‘ رات کا درمیانی حصہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11440

Majma al-Zawaid #11440

عَنِ الْقَاسِمِ وَالْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَا: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - يُكْثِرُ ذِكْرَ الصَّلَاةِ فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ: {الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ - وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ} [المؤمنون: 23 - 9] قَالَ: ذَاكَ لِمَوَاقِيتِهَا. قَالُوا: مَا كُنَّا نَرَاهُ إِلَّا تَرَكَهَا. قَالَ: فَإِنَّ تَرْكَهَا الْكُفْرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سَعْدٍ وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعَا مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim and al-Hasan ibn Sad reported: It was said to Abdullah, "Allah mentions prayer abundantly in the Quran: 'Those who are constant upon their prayer,' and, 'Those who guard their prayers.'" He said, "That refers to its appointed times." They said, "We thought it meant only abandoning it." He said, "Abandoning it is disbelief."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم اور حسن بن سعد بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نماز کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ لوگ جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھتے ہیں ‘‘۔ ’’ اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں مخصوص اوقات میں ادا کرتے ہیں لوگوں نے کہا ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اُسے چھوڑ دیتے ہیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دینا تو کفر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے حسن بن سعد اور قاسم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11441

Majma al-Zawaid #11441

عَنْ كُرْدُوسٍ أَبِي السَّائِبِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ أَبِي أُرِيدُ مَكَّةَ، وَذَاكَ أَوَّلُ مَا ذُكِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآوَيْنَا إِلَى صَاحِبِ غَنَمٍ، فَلَمَّا انْتَصَفَ اللَّيْلُ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ حَمَلًا مِنْ غَنَمِهِ، فَوَثَبَ الرَّاعِي فَقَالَ: يَا عَامِرَ الْوَادِي جَارَكَ. فَسَمِعْنَا صَوْتًا لَا نَدْرِي صَاحِبَهُ: يَا سَرْحَانُ أَرْسِلْهُ. قَالَ: فَأَتَى الْحَمَلُ يَشْتَدُّ مَا بِهِ كَدْمَةٌ حَتَّى دَخَلَ فِي الْغَنَمِ. قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ {وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ} [الجن: 6] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kardus Abu al-Saib reported: I set out with my father intending Mecca, when mention of the Prophet ﷺ had first appeared. We sheltered with a shepherd. At midnight a wolf came and seized a lamb from his flock. The shepherd sprang up and said, "O amir of the valley, your neighbor." We heard a voice whose speaker we did not know, "O Sirhan, release it." The lamb came running with no bite upon it until it entered the flock. And there was revealed to the Prophet ﷺ at Medina, "There were men of mankind who sought refuge with men of the jinn," the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کردوس ابوسائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نکلا ‘ میرا مکہ جانے کا ارادہ تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب پہلی مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا ذکر سنا گیا تھا ہم ایک بکریوں والے صاحب کے پاس آئے جب نصف رات کا وقت ہوا تو ایک بھیڑیا آیا اور اس نے بکریوں پر حملہ کیا تو وہ چرواہا اٹھ کر گیا اور بولا اے وادی کو آباد کرنے والے تمہارا پڑوسی ہمیں ایک آواز سنائی دی لیکن ہمیں بولنے والا نظر نہیں آیا اس نے کہا : اے سرحان ! اسے چھوڑ دو ! پھر وہ بکری دوڑتی ہوئی آئی اور اس پر کاٹنے کا کوئی نشان نہیں تھا یہاں تک کہ وہ دوسری بکریوں میں شامل ہو گئی راوی بیان کرتے ہیں تو مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی :’’ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کی پناہ لیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11442

Majma al-Zawaid #11442

عَنْ عِكْرِمَةَ وَغَيْرِهِ «نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ قَالَ: بِنَخْلَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ {كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا} [الجن: 19]. قَالَ سُفْيَانُ: اللِّبَدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ [كاللِّبَدِ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضِهِ]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ikrima and others reported: A company of the jinn listened to the Quran at Nakhla while the Messenger of Allah ﷺ was praying the last Isha, "They almost crowded upon him in multitudes." Sufyan said, "Libad means some upon others, like felted wool piled together."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : ’’ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو غور سے سنا .......‘‘ عکرمہ بیان کرتے ہیں : یہ ایک باغ کی بات ہے ‘ نبی اکرم ﷺ عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے ۔ ’’ قریب ہے کہ وہ اس کے پاس ہجوم کی شکل میں ہو جائیں “۔ سفیان کہتے ہیں : لفظ ’’ لبد ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں ، جس طرح لبید کی شکل میں چیز ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11443

Majma al-Zawaid #11443

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ فِي دَارِ النَّدْوَةِ، فَقَالَتْ: سَمُّوا هَذَا الرَّجُلَ اسْمًا يَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ. قَالُوا: كَاهِنٌ. قَالُوا: لَيْسَ بِكَاهِنٍ. قَالُوا: مَجْنُونٌ. قَالُوا: لَيْسَ بِمَجْنُونٍ. قَالُوا: سَاحِرٌ. قَالُوا: لَيْسَ بِسَاحِرٍ. فَتَفَرَّقَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى ذَلِكَ. فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَزَمَّلَ فِي ثِيَابِهِ وَتَدَثَّرَ فِيهَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ - يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} [المدثر: 1]». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: قَالُوا: يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَبِيبِ وَحَبِيبِهِ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي سُورَةِ الْمُدَّثِّرِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported: Quraysh gathered in Dar al-Nadwa and said, "Name this man a name that turns people from him." Some said soothsayer. They said, "He is no soothsayer." Some said madman. They said, "He is no madman." Some said magician. They said, "He is no magician." The polytheists dispersed upon that. When it reached the Prophet ﷺ, he wrapped himself in his garments and covered himself, and Jibril came to him and said, "O you wrapped up, O you enshrouded."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش دارالندوہ میں اکٹھے ہوئے اور بولے : ان صاحب کو کوئی ایسا نام دو کہ جس کی وجہ سے لوگ ان سے دور ہو جائیں ، تو ان لوگوں نے کہا : کاہن کہہ دیتے ہیں تو دوسروں نے کہا کہ وہ کاہن نہیں ہیں ، کچھ نے کہا : مجنون کہہ دیتے ہیں ، کچھ نے کہا : یہ مجنون بھی نہیں ہیں ، کچھ نے کہا : جادوگر کہہ دیتے ہیں ‘ انہوں نے کہا : یہ جادوگر بھی نہیں ہیں ‘ پھر مشرکین اسی صورت حال پر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ‘ جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اپنی چادر کو لیا اور اسے اوڑھ لیا ‘ حضرت جبرائیل آپ کے پاس آئے اور بولے : «يَأَيُّهَا الْمُزمِلُ - يَأَيُّهَا الْمُدَّثِر» یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : کہ دوست اور دوست کے درمیان علیحدگی ہو گئی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سورت مدثر کی تفسیر میں آئے گی ۔