وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ سُرِّيَّتِهِ، بَيْتَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَوَجَدَتْهَا مَعَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي بَيْتِي مِنْ بَيْنِ بُيُوتِ نِسَائِكَ؟ قَالَ: "" فَإِنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ أَنْ أَمَسَّهَا يَا حَفْصَةُ وَاكْتُمِي هَذَا عَلَيَّ "". فَخَرَجَتْ حَتَّى أَتَتْ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، أَلَا أُبَشِّرُكِ؟ قَالَتْ: بِمَاذَا؟ قَالَتْ: وَجَدْتُ مَارِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي بَيْتِي مِنْ بَيْنِ بُيُوتِ نِسَائِكَ؟ وَكَانَ أَوَّلُ السُّرُورِ أَنْ حَرَّمَهَا عَلَى نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: "" يَا حَفْصَةُ، أَلَا أُبَشِّرُكِ "". فَقُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَعْلَمَنِي: "" أَنَّ أَبَاكِ يَلِي الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِي، وَأَنَّ أَبِي يَلِيهِ بَعْدَ أَبِيكِ ""، وَقَدِ اسْتَكْتَمَنِي ذَلِكَ فَاكْتُمِيهِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] أَيْ مِنْ مَارِيَةَ {تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [التحريم: 1] أَيْ لِمَا كَانَ مِنْكَ {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ - وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: 2 - 3] يَعْنِي حَفْصَةَ {فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ} [التحريم: 3] يَعْنِي عَائِشَةَ {وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ} [التحريم: 3] يَعْنِي بِالْقُرْآنِ {عَرَّفَ بَعْضَهُ} [التحريم: 3] عَرَّفَ حَفْصَةَ مَا أَظْهَرَ مِنْ أَمْرِ مَارِيَةَ {وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ} [التحريم: 3] عَنْ مَا أَخْبَرَتْ بِهِ مِنْ أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يُبْدِهِ عَلَيْهَا {فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ} [التحريم: 3] ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهَا يُعَاتِبُهَا فَقَالَ {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ {وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ - عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا} [التحريم: 4 - 5] فَوَعَدَهُ مِنَ الثَّيِّبَاتِ آسِيَةَ بِنْتَ مُزَاحِمٍ امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ وَأُخْتَ نُوحٍ، وَمِنَ الْأَبْكَارِ مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَأُخْتَ مُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ وَخَبَرُهُ سَاقِطٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Hurayra رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ entered with Mariya the Copt, his concubine, into the house of Hafsa bint Umar رضي الله عنها. She found her with him and said, "O Messenger of Allah, in my house apart from the houses of your wives?" He said: > **"She is forbidden for me to touch, O Hafsa, and conceal this from me."** She went out to Aisha and said, "O daughter of Abu Bakr, shall I not give you glad tidings?" She said, "What?" She said, "I found Mariya with the Messenger of Allah ﷺ in my house, and I said, 'O Messenger of Allah, in my house apart from the houses of your wives?' The first joy was that he forbade her for himself. Then he said to me, 'O Hafsa, shall I not give you glad tidings?' I said, 'Yes, may my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah.' He informed me that your father will assume authority after me and that my father will assume it after your father, and he asked me to keep it secret, so keep it secret." Then Allah revealed, "O Prophet, why do you prohibit what Allah made lawful for you," meaning Mariya, "seeking the pleasure of your wives, and Allah is Forgiving, Merciful," for what came from you, "Allah has ordained for you the dissolution of your oaths, and Allah is your Protector, and He is the Knowing, the Wise. And when the Prophet confided a statement to one of his wives," meaning Hafsa, "then when she informed of it," meaning Aisha, "and Allah exposed it to him," meaning through the Quran, "he made known part of it," he informed Hafsa of what was exposed concerning Mariya, "and turned away from part," concerning what she had disclosed about Abu Bakr and Umar, and did not reveal it to her, "then when he informed her of it she said, 'Who informed you of this?' He said, 'The Knowing, the Aware informed me.'" Then he turned to her reproaching her with, "If you two repent to Allah, for your hearts have inclined," to the end of the passage.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی کنیز سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ‘ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے گھر میں لے گئے ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اُس خاتون کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پایا ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی دیگر تمام ازواج کے گھروں کو چھوڑ کر ‘ مرے گھر میں ( اسے لانا تھا ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ مجھ پر حرام ہے کہ اب میں اس کے قریب جاؤں ‘ اے حفصہ ! تم یہ بات پوشیدہ رکھنا ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نکلیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور بولیں : اے ابوبکر کی صاحبزادی ! کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے گھر میں ‘ ماریہ کے ساتھ پایا ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی تمام دیگر ازواج کے گھروں کو چھوڑ کر میرے گھر میں ( اس کو لانا تھا ) تو پہلی خوشی کی بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے حفصہ ! کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بتایا کہ آپ کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) والد میرے بعد حکمران بنیں گے اور میرے والد ( یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ) والد آپ کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ) والد کے بعد حکمران بنیں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات چھپا کے رکھنے کو کہا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ‘‘۔ اس سے مراد سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ ’’ تم اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘ یعنی اس حوالے سے ‘ جو تمہاری طرف سے ہوا ۔ ’’ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے یہ مقرر کیا ہے کہ تم اپنی قسموں کو ( کفارہ دے کر ) توڑ سکتے ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے اور وہ علم رکھنے والا حکمت رکھنے والا ہے ‘ اور جب نبی نے اپنی ایک زوجہ کے ساتھ راز داری کی ایک بات کی .......‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہ بات کی ۔ ’’ اور جب اُس خاتون نے وہ بات بتا دی ‘‘ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ بات بتا دی ۔ ’’ اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی کو بتا دیا ‘‘ یعنی قرآن کے ذریعے بتا دیا ۔ ’’ تو اس نبی نے اس بات کا کچھ حصہ جتایا ‘‘ یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات جتائی جو انہوں نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بات ظاہر کی تھی ۔ ’’ اور اس نبی نے کچھ ( باتوں کے ) حوالے سے اعراض کیا ‘‘ یعنی اس چیز کے بارے میں جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بتایا ‘ تو نبی نے یہ بات ان کے سامنے ظاہر نہیں کی ۔ ” جب نبی نے اس خاتون کو یہ بات بتائی ‘ تو اس خاتون نے دریافت کیا : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے ؟ تو نبی نے کہا : مجھے علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے یہ بات بتائی ہے ‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی خطاب کر کے اس پر عتاب کیا اور فرمایا : ’’ اگر تم دونوں ‘ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو ( تو یہ مناسب ہو گا ) کیونکہ تم دونوں کے دل جھک گئے تھے اور اگر تم دونوں اس بارے میں مل جاتی ہو ‘ تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور جبرائیل بھی اور نیک مومنین بھی .......‘‘۔ اس سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ’’ اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر وہ نبی تمہیں طلاق دیدے تو اللہ تعالیٰ اس نبی کو بدلے میں ‘ تم سے زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دے ، جو مسلمان ہوں ، مومن ہوں ‘ فرمانبردار ہوں ، توبہ کرنے والی ہوں ، عبادت گزار ہوں ‘ روزہ دار ہوں ، ثیبہ ہوں اور کنواریاں ہوں ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ( اس میں ثیبہ خواتین میں ، فرعون کی اہلیہ آسیہ بنت مزاحم اور حضرت نوح علیہ السلام کی بہن شامل ہیں ‘ اور کنواری خواتین میں سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن شامل ہیں ، جو آخرت میں نبی اکرم ﷺ کی زوجہ بنیں گی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں موسیٰ بن جعفر بن ابوکثیر کے حوالے سے ان کے چچا سے نقل کی ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں یہ مجہول ہے اور اس کی نقل کردہ روایت ساقط ہے ۔