Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 15

Book of Exegesis

Hadith 11364–11403

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11364

Majma al-Zawaid #11364

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} [ق: 39] قَالَ: "" قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ صَلَاةُ الْعَصْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir ibn Abdullah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning, "And glorify with praise of your Lord before sunrise and before sunset": > **"Before sunrise is the dawn prayer, and before sunset is the Asr prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے ‘ اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سورج کے طلوع ہونے سے پہلے سے مراد ‘ صبح کی نماز ہے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے مراد ‘ عصر کی نماز ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے اور وہ متروک ہے ۔

11365

Majma al-Zawaid #11365

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: جَاءَ أَصْبَغُ التَّمِيمِيُّ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرْنِي عَنِ (الذَّارِيَاتِ ذَرْوًا) قَالَ: هِيَ الرِّيَاحُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ. «قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ (الْحَامِلَاتِ وِقْرًا) قَالَ: هِيَ السَّحَابُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ (الْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا) قَالَ: هِيَ الْمَلَائِكَةُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ (الْجَارِيَاتِ يُسْرًا) قَالَ: هِيَ السُّفُنُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ مَا قُلْتُهُ». ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ مِائَةً وَجُعِلَ فِي بَيْتٍ، فَلَمَّا بَرَأَ دَعَاهُ فَضَرَبَهُ مِائَةً أُخْرَى، وَحَمَلَهُ عَلَى قَتَبٍ، وَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: امْنَعِ النَّاسَ مِنْ مُجَالَسَتِهِ. فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَتَى أَبَا مُوسَى فَحَلَفَ لَهُ بِالْأَيْمَانِ الْمُغَلَّظَةِ مَا يَجِدُ فِي نَفْسِهِ مِمَّا كَانَ يَجِدُ شَيْئًا، فَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ مَا أَخَالُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، فَخَلِّ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُجَالَسَةِ النَّاسِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Said ibn al-Musayyab said: Asbagh al-Tamimi came to Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه and said, O Commander of the Believers, inform me of, "By those scattering far." He said, they are the winds; had I not heard the Messenger of Allah ﷺ say it I would not say it. He said, inform me of, "And those bearing weight." He said, they are the clouds; had I not heard the Messenger of Allah ﷺ say it I would not say it. He said, inform me of, "And those apportioning command." He said, they are the angels; had I not heard the Messenger of Allah ﷺ say it I would not say it. He said, inform me of, "And those running with ease." He said, they are the ships; had I not heard the Messenger of Allah ﷺ say it I would not say it. Then he ordered him struck a hundred lashes and housed him; when he recovered he called him and struck him another hundred, carried him upon a saddle, and wrote to Abu Musa al-Ashari, prevent people from sitting with him. He remained so until he came to Abu Musa and swore solemn oaths that he found nothing in himself of what he used to find. Abu Musa wrote of that to Umar, and Umar wrote, I think he has spoken truthfully, so leave him to sit with people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : اصبغ تمیمی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : اے امیر المومنین ! آپ مجھے اس آیت کے بارے میں بتائیے : ’’ اور اڑا کر بکھیر دینے والیوں کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد ہوائیں ہیں ‘ اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ‘ تو میں نے یہ بات بیان نہیں کرنی تھی ۔ اس نے کہا : آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے : ” بوجھ اٹھانے والیوں کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد بادل ہیں ‘ اگر یہ بات میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ‘ تو میں نے یہ بات نہیں کہنی تھی ۔ اس نے کہا : آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے :’’ اور کام تقسیم کرنے والوں کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد فرشتے ہیں ‘ اگر میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ‘ تو میں نے یہ بات بیان نہیں کرنی تھی ۔ اس نے کہا : آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے : آرام سے چلنے والیوں کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد کشتیاں ہیں ‘ اگر میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا ‘ تو میں نے یہ بات بیان نہیں کرنی تھی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا اسے ایک سو کوڑے لگائے گئے ‘ پھر ایک گھر میں رکھا گیا ‘ جب وہ ٹھیک ہوا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلوایا پھر اسے ایک سو کوڑے مزید لگوائے اور اسے ایک پالان پر سوار کروایا اور پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف یہ مکتوب بھیجا کہ لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے سے منع کر دو ‘ وہ شخص اسی حالت میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے سامنے بھرپور قسم اٹھائی کہ پہلے اُسے اپنے من میں جو محسوس ہوتا تھا ‘ اب اس طرح کی کوئی بات اس کے من میں نہیں ہے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے غلط بیانی کی ہو گی ‘ تو اب تم اسے لوگوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے دو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11366

Majma al-Zawaid #11366

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ [الَّتِي أُهْلِكُوا فِيهَا] إِلَّا مِثْلَ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ، فَمَرَّتْ بِأَهْلِ الْبَادِيَةِ فَحَمَلَتْ مَوَاشِيَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَهْلُ الْحَاضِرِ قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا، فَأَلْقَتْ أَهْلَ الْبَادِيَةِ وَمَوَاشِيَهُمْ عَلَى أَهْلِ الْحَاضِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah did not release upon Ad of the wind by which they were destroyed except like the place of a ring. It passed by the desert people carrying their livestock and wealth between heaven and earth. When the townspeople saw it they said, this is a cloud bringing us rain. Then it cast the desert people and their livestock upon the townspeople."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے جب قوم عاد پر وہ ہوا بھیجی ‘ جس میں وہ ہلاکت کا شکار ہوئے ‘ تو اس کے صرف اتنے حصے کو کھولا گیا تھا ، جتنی ایک انگوٹھی کی جگہ ہوتی ہے ‘ وہ دیہاتی لوگوں کے پاس سے گزری ‘ تو اس نے ان کے جانور اور اموال ‘ زمین اور آسمان کے درمیان اٹھا لیے ‘ جب شہری لوگوں نے اس ہوا کو دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل ہے جو ہم پر بارش نازل کرے گا تو اس ہوا نے دیہاتی لوگوں کو اور ان کے جانوروں کو شہری لوگوں پر ڈال دیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11367

Majma al-Zawaid #11367

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا مِثْلَ مَوْضِعِ الْخَاتَمِ، أُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ فَحَمَلَتِ الْبَدْوَ إِلَى الْحَضَرِ، فَلَمَّا رَآهَا أَهْلُ الْحَضَرِ قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا مُسْتَقْبِلُ أَوْدِيَتِنَا. وَكَانَ أَهْلُ الْبَوَادِي فِيهَا، فَأُلْقِيَ أَهْلُ الْبَادِيَةِ عَلَى أَهْلِ الْحَاضِرِ حَتَّى هَلَكُوا "". قَالَ: "" عَتَتْ عَلَى خُزَّانِهَا حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ خِلَالِ الْأَبْوَابِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah did not release upon Ad of the wind except like the place of a ring. It was sent upon them carrying the desert folk to the settled folk. When the settled folk saw it they said, this is a cloud bringing us rain, coming toward our valleys, while the desert people were in it, and the desert people were cast upon the settled people until they perished. It rebelled against its keepers until it came out through the openings of the gates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر جو ہوا بھیجی تھی ‘ وہ صرف اتنی جگہ تھی ، جتنی انگوٹھی جتنی جگہ ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ ہوا بھیجی اس نے دیہاتی لوگوں کو اٹھایا اور شہر کی طرف لے آئی ‘ جب شہر والوں نے اس کو دیکھا ‘ تو انہوں نے کہا : یہ تو بادل لگتا ہے ‘ جو ہم پر بارش کرے گا ‘ جو ہماری وادیوں کی طرف آ رہا ہے ‘ اور اس ہوا میں دیہاتی لوگ تھے ‘ تو اس ہوا نے دیہاتی لوگوں کو شہری لوگوں پر ڈال دیا یہاں تک کہ وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ہوا نے اپنے نگران فرشتوں کی نافرمانی کی ‘ یہاں تک کہ وہ دروازوں کے درمیان میں سے نکل آئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11368

Majma al-Zawaid #11368

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فِي السَّمَاءِ يُقَالُ لَهُ الصُّرَاحُ، عَلَى مِثْلِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ بِحِيَالِهِ، لَوْ سَقَطَ لَسَقَطَ عَلَيْهِ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لِمَ يَرَوْنَهُ قَطُّ، وَإِنَّ لَهُ فِي السَّمَاءِ حُرْمَةً عَلَى قَدْرِ حُرْمَةِ مَكَّةَ "". قَالَ: "" وَيَدْخُلُ الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلِكٍ لَا يَدْخُلُونَهُ أَبَدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ أَبُو حُذَيْفَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Frequented House is in heaven, called Al-Surah, upon the likeness of the Sacred House facing it; were it to fall it would fall upon it. Seventy thousand angels enter it every day never having seen it before, and it has sanctity in heaven equal to Makkah's sanctity. Seventy thousand angels enter the Frequented House every day never to return to it again."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بیت المعمور آسمان میں ہے اسے ’’ صراح ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ ’’ بیت الحرام ‘‘ کے بالکل مد مقابل ہے اگر وہ گرے ‘ تو اس کے اوپر آ کے گرے گا ‘ اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، جنہوں نے پہلے اُسے کبھی نہیں دیکھا ہوتا اور آسمان میں اس کو وہی احترام حاصل ہے ‘ جس طرح ملکہ کو ( روئے زمین پر ) احترام حاصل ہے ‘‘۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ‘ اور وہ دوبارہ اس میں کبھی داخل نہیں ہو پائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن بشر ابوحذیفہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11369

Majma al-Zawaid #11369

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْجَنَّةَ سَأَلَ عَنْ أَبَوَيْهِ وَزَوْجَتِهِ وَوَلَدِهِ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَبْلُغُوا دَرَجَتَكَ وَعَمَلَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ لِي وَلَهُمْ، فَيُؤْمَرُ بِإِلْحَاقِهِمْ "". وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ} [الطور: 21] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"When a man enters Paradise he asks about his parents, wife and children. It is said, they did not reach your rank and work. He says, O Lord, I worked for myself and for them. Then command is given to join them with him."** And Ibn Abbas recited, "And those who believed and their offspring followed them in faith," the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب آدمی جنت میں داخل ہو جائے گا ‘ تو وہ اپنے ماں باپ اپنی بیوی بچوں کے بارے میں دریافت کرے گا تو اسے بتایا جائے گا : کہ وہ تمہارے درجہ اور تمہارے عمل تک نہیں پہنچ سکے ‘ تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے لئے اور ان لوگوں کے لئے عمل کیا تھا ، تو حکم دیا جائے گا کہ ان لوگوں کو اس کے ساتھ ملا دیا جائے ۔ پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ ان کی پیروی کی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن غزوان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11370

Majma al-Zawaid #11370

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ ذُرِّيَّةَ الْمُؤْمِنِ إِلَيْهِ فِي دَرَجَتِهِ وَإِنْ كَانُوا دُونَهُ فِي الْعَمَلِ لِتَقَرَّ بِهِمْ عَيْنُهُ ""، ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ} [الطور: 21] الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: "" وَمَا نَقَصْنَا الْآبَاءَ بِمَا أَعْطَيْنَا الْبَنِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما raised to the Prophet ﷺ: > **"Indeed Allah raises the believer's offspring to him in his rank, though they are below him in work, so that his eye is cooled by them."** Then he recited, "And those who believed and their offspring followed them," the verse, then said, "And We did not diminish the fathers by what We gave the sons."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالٰی مومن کی اولاد کو ‘ اس کے درجہ میں اس کے پاس بلند کر کے لائے گا ‘ اگرچہ اس اولاد کا مرتبہ عمل کے اعتبار سے مومن سے کم ہو گا ‘ اس کی وجہ یہ ہو گی ‘ تاکہ اس کے ذریعے اس مومن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی ذریت نے ایمان کے ہمراہ اُن کی پیروی کی ‘‘۔ پھر آپ نے فرمایا : ’’ ہم بیٹوں کو جو دیں گے ‘ اس کی وجہ سے آباء میں کوئی کمی نہیں کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11371

Majma al-Zawaid #11371

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {دَنَا فَتَدَلَّى} [النجم: 8] قَالَ: هُوَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَنَا فَتَدَلَّى إِلَى رَبِّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "Then he drew near and came down": It is Muhammad ﷺ who drew near and came down to his Lord.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ پھر وہ قریب ہوا ‘ اور مزید قریب ہوا ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، جو قریب ہوئے اور پھر اپنے پروردگار کے قریب تر ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

11372

Majma al-Zawaid #11372

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى} [النجم: 9] قَالَ: الْقَابُ: الْقَيْدُ، وَالْقَوْسَيْنِ: الذِّرَاعَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained His saying, "And he was at a distance of two bows or nearer": Al-qab means the shackle, and al-qawsayn means the two forearms.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تو وہ کمان کے دو کناروں کی مانند ‘ یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : لفظ ’’ قاب ‘‘ سے مراد ‘ قید ( یعنی ہتھکڑی ) ہے اور ’’ قوسین ‘‘ سے مراد ‘ دونوں کلائیاں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے .

11373

Majma al-Zawaid #11373

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى} [النجم: 16] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَأَيْتُهَا حَتَّى اسْتَثْبَتُّهَا، ثُمَّ حَالَ دُونَهَا فِرَاشُ الذَّهَبِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ explained, "When there covered the Lote Tree what covered": > **"I saw it until I examined it closely, then golden moths came between me and it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب سدرہ کو اس چیز نے ڈھانپ لیا ‘ جس نے اس کو ڈھانپا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اسے دیکھا ‘ یہاں تک کہ اس کا بغور جائزہ لیا ‘ اور پھر اس سے پہلے سونے کے پتنگے رکاوٹ بن گئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11374

Majma al-Zawaid #11374

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ رَبَّكَ. فَدَعَا رَبَّهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيُشِيرُ، فَلَمَّا رَآهُ صَعِقَ فَأَتَاهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكِرْمَانِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَإِدْرِيسُ ابْنُ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ يَكْتُبُ حَدِيثَهُ فِي الرِّقَاقِ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said: The Prophet ﷺ asked Jibril عليه السلام to see him in his true form. He said: > **"Supplicate your Lord."** So he supplicated his Lord, and he rose upon him from the east, rising and pointing. When he saw him he fell unconscious, then he came to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے یہ کہا : کہ آپ انہیں اصل شکل و صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ اپنے پروردگار سے دعا کریں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے پروردگار سے دعا کی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام مشرق کی طرف سے آپ کے سامنے آئے ‘ وہ بلند ہو کے چل رہے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا ‘ تو آپ گر پڑے پھر وہ آپ کے پاس آئے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن حسن کرمانی سے نقل کی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ادریس ‘ جو وہب بن منبہ کا نواسہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث کو ‘ دلوں کو نرم کرنے والے موضوعات کے بارے میں نوٹ کیا جائے گا ‘ جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات کہی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11375

Majma al-Zawaid #11375

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[قَدْ] رَأَى رَبَّهُ. قَالَ عِكْرِمَةُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} [الأنعام: 103]؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُمَّ لَكَ، إِنَّمَا ذَلِكَ إِذَا تَجَلَّى بِكَيْفِيَّةٍ لَمْ يَقُمْ لَهُ بَصَرٌ. قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said, Muhammad ﷺ saw his Lord. Ikrima said, O Abu Abbas, does not Allah say, "Sights do not grasp Him while He grasps sights." Ibn Abbas said, may you be bereft of your mother, that is only when He manifests in a manner no sight can withstand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کا دیدار کیا ہے ۔ عکرمہ نے کہا : اے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے ؟ ’’ بصارت ‘ اُس کا ادراک نہیں کر سکتی ‘ اور وہ بصارت کا ادراک کر سکتا ہے ‘‘۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ‘ مراد یہ ہے کہ جب وہ اپنی مخصوص کیفیت کے حوالے سے تجلی کرتا ہے ‘ تو اُس کے سامنے نگاہ ٹھہر نہیں سکتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان کے حوالے سے ایک حدیث ‘ امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔

11376

Majma al-Zawaid #11376

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِيمَا يَحْسَبُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بِمَكَّةَ، فَقَرَأَ سُورَةَ وَالنَّجْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى} [النجم: 19] فَجَرَى عَلَى لِسَانِهِ: تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى الشَّفَاعَةُ مِنْهُمْ تُرْتَجَى. قَالَ: فَسَمِعَ بِذَلِكَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَسُرُّوا بِذَلِكَ، فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ} [الحج: 52]». رَوَاهُ [الْبَزَّارُ] وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ إِلَى قَوْلِهِ (عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ) يَوْمِ بَدْرٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ فِي سُورَةِ الْحَجِّ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا، وَلَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما, as reckoned by Said ibn Jubayr, reported: The Prophet ﷺ was in Makkah and recited Surah Al-Najm until he reached, "Have you considered Al-Lat and Al-Uzza and Manat the third other." There ran upon his tongue: those are the high cranes whose intercession is hoped for. The Makkan polytheists heard it and rejoiced, and it weighed heavily upon the Messenger of Allah ﷺ. Then Allah revealed, "And We did not send before you any messenger or prophet but that when he recited, Satan cast into his recitation; then Allah abolishes what Satan casts, then Allah confirms His verses."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر کے بیان کے مطابق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں موجود تھے ‘ آپ نے سورت نجم کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچے : ’’ کیا تم نے لات اور عزی کے بارے میں غور کیا ہے اور منات کے بارے میں ‘ جو تیسری ہے ‘‘۔ تو وہاں یہ آواز آئی : «تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى الشَّفَاعَةُ مِنْهُمْ تُرْتَجِي» راوی بیان کرتے ہیں : اہل مکہ کے مشرکین نے یہ بات سنی ‘ تو وہ اس پر خوش ہوئے ‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ پر گراں گزری ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور ہم نے تم سے پہلے ‘ جس بھی نبی اور رسول کو مبعوث کیا ‘ جب اس نے تلاوت کی ‘ تو شیطان نے اس کی تلاوت کے درمیان رخنہ ڈالا ‘ تو شیطان کی ڈالی ہوئی چیز کو اللہ تعالیٰ ختم کر دیتا ہے اور پھر اپنی آیات کو مضبوط کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ برباد کرنے والے دن کا عذاب ‘‘۔ اس سے مراد غزوہ بدر کا دن ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے : میرے علم کے مطابق یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے ‘ اس سے پہلے سورت حج میں ایک ’’ مرسل ‘‘ روایت گزر چکی ہے جو اس سے زیادہ طویل ہے ‘ لیکن سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔

11377

Majma al-Zawaid #11377

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [قَالَ] أَنَّ الْعُزَّى كَانَتْ بِبَطْنِ نَخْلَةَ، وَأَنَّ اللَّاتَ كَانَتْ بِالطَّائِفِ، وَأَنَّ مَنَاةَ كَانَتْ بِقُدَيْدٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: بَطْنُ نَخْلَةَ هُوَ بُسْتَانُ بَنِي عَامِرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said: Al-Uzza was at the belly of Nakhlah, Al-Lat was at Taif, and Manat was at Qudayd. Ali ibn al-Jad said, the belly of Nakhlah is the orchard of Banu Amir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عزی نامی بت ’ بطن نخلہ ‘ کے نشیبی حصے میں تھا اور لات “ نامی بت ’’ طائف ‘‘ میں تھا اور منات نامی بت ’’ قدید ‘‘ میں تھا ۔ علی بن جعد کہتے ہیں : بطن نخلہ ‘‘ بنو عامر کا باغ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے .

11378

Majma al-Zawaid #11378

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ} [النجم: 32] قَالَ: اللَّمَّةُ مِنَ الزِّنَا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا» " رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "Those who avoid grave sins and shameful acts except lamam": Lamam is a brush with adultery. Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Allah, if You forgive, forgive plentifully; and which servant of Yours has not brushed sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائی سے اجتناب کرتے ہیں البتہ گناہوں کے پاس جا کے رکنے کا معاملہ مختلف ہے ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ زنا کے پاس جا کے رک جانا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا :’’ اے اللہ ! اگر تو مغفرت کرتا ہے ‘ تو بھرپور مغفرت کر دے ‘ تیرا کونسا بندہ ایسا ہے جس نے گناہ کی خواہش نہ کی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11379

Majma al-Zawaid #11379

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ} [النجم: 32] قَالَ: أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ} [المائدة: 72]، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ} [يوسف: 87]، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ - لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ: {فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ} [الأعراف: 99]، وَمِنْهَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - جَعَلَ الْعَاقَّ جَبَّارًا شَقِيًّا، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: {فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93] الْآيَةَ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 10]، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} [الأنفال: 16]، وَأَكْلُ الرِّبَا لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} [البقرة: 275]، وَالسِّحْرُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ، وَالزِّنَا لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا} [الفرقان: 68]، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ الْفَاجِرَةُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] الْآيَةَ، وَالْغُلُولُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 161]، وَمَنْعُ الزَّكَاةِ الْمَفْرُوضَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ} [التوبة: 35]، وَشَهَادَةُ الزُّورِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ} [البقرة: 283]، وَشُرْبُ الْخَمْرِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَدَلَ بِهَا الْأَوْثَانَ، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُتَعَمِّدًا أَوْ شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ لِأَنَّ الرَّسُولَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ»، وَنَقْضُ الْعَهْدِ، وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. عَزَّ وَجَلَّ - لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ: {فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ} [الأعراف: 99]، وَمِنْهَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - جَعَلَ الْعَاقَّ جَبَّارًا شَقِيًّا، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: {فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93] الْآيَةَ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 10]، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} [الأنفال: 16]، وَأَكْلُ الرِّبَا لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} [البقرة: 275]، وَالسِّحْرُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ، وَالزِّنَا لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا} [الفرقان: 68]، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ الْفَاجِرَةُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] الْآيَةَ، وَالْغُلُولُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 161]، وَمَنْعُ الزَّكَاةِ الْمَفْرُوضَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ} [التوبة: 35]، وَشَهَادَةُ الزُّورِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ} [البقرة: 283]، وَشُرْبُ الْخَمْرِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَدَلَ بِهَا الْأَوْثَانَ، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُتَعَمِّدًا أَوْ شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ لِأَنَّ الرَّسُولَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ»، وَنَقْضُ الْعَهْدِ، وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained His saying, "Those who avoid grave sins and shameful acts": The greatest of grave sins is associating with Allah, for Allah says, "Whoever associates with Allah, Allah has forbidden him Paradise." And despair of Allah's mercy, for Allah says, "None despairs of Allah's mercy except the disbelieving people." And security from Allah's plan, for Allah says, "None feels secure from Allah's plan except the losing people." Among them is disobedience to parents, for Allah made the disobedient overbearing, wretched. And killing the soul Allah forbade except by right, for Allah says, "His recompense is Hell." And slandering chaste women, for Allah says, they are cursed in this world and the Hereafter and for them is great punishment. And consuming the orphan's wealth, for Allah says, "They only consume fire in their bellies and shall roast in blaze." And fleeing from battle, for Allah says, "Whoever turns his back to them that day, except maneuvering for combat or joining a band, has returned with anger from Allah and his refuge is Hell." And consuming usury, for Allah says, "Those who consume usury stand only as one stands whom Satan has confounded by touch." And sorcery, for Allah says, they knew whoever purchased it has no share in the Hereafter. And adultery, for Allah says, "Whoever does that meets punishment, multiplied for him on the Resurrection Day, abiding therein humbled." And the immersing wicked oath, for Allah says, "Indeed those who purchase with Allah's covenant and their oaths a small price." And misappropriation, for Allah says, "Whoever misappropriates shall bring what he misappropriated on the Resurrection Day." And withholding obligatory zakat, for Allah says, "Their foreheads shall be branded therewith." And false testimony, for Allah says, "Whoever conceals it, his heart is sinful." And drinking wine, for Allah equated it with idols. And deliberately abandoning prayer or anything Allah obligated, for the Messenger ﷺ says: > **"Whoever abandons prayer deliberately, the protection of Allah and His Messenger is free of him."** And breaking covenants and severing kinship.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائیوں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سب سے بڑا کبیرہ گناہ ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ ( کسی کو ) شریک ٹھہرائے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا ‘‘۔ ( ایک اور کبیرہ گناہ ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہو سکتے ہیں ‘‘۔ ( ایک اور کبیرہ گناہ ) اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے خود کو محفوظ سمجھنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے صرف خسارہ پانے والے لوگ ہی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ‘‘۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ) ایک والدین کی نافرمانی کرنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نافرمان شخص کو متکبر اور بدنصیب قرار دیا ہے ۔ اسی طرح اس جان کو قتل کرنا ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ‘ البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تو اُس کا بدلہ جہنم ہے ‘‘ ایک کبیرہ گناہ ) پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگانا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ان لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ‘‘۔ ( اسی طرح ایک کبیرہ گناہ ) یتیم کا مال کھانا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور عنقریب وہ جہنم تک پہنچ جائیں گے ‘‘۔ ( ان میں سے ایک کبیرہ گناہ ) میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : اور جو شخص اس دن پیٹھ پھیر دے گا ‘ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو جنگ کے لئے کوئی داؤ کھیل رہا ہو ‘ یا اپنے کسی لشکر سے ملنا چاہتا ہو ‘ تو ( پیٹھ پھیرنے والا شخص ) حقیقی طور پر ‘ اللہ کے غضب کے ساتھ واپس جائے گا ‘ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور وہ برا ٹھکانہ ہے ‘‘۔ ( اور ایک کبیرہ گناہ ) سود کھانا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو لوگ سود کھاتے ہیں ‘ وہ یوں کھڑے ہوں گے ‘ جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ‘ جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو ‘‘۔ ( اور ایک کبیرہ گناہ ) جادو کرنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس کا علم وہ لوگ حاصل کرتے تھے ‘ جو اس کے عوض میں وہ چیز خریدتے تھے ‘ جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ‘‘۔ ( اور ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) زنا کرنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور جو شخص یہ کام کرے گا ‘ وہ سزا پائے گا اور اس کے لئے قیامت کے دن عذاب کو دگنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں رسوا ہو کر رہے گا ‘‘۔ ( کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) جھوٹی قسم اٹھانا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک وہ لوگ ‘ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں ‘ تھوڑی قیمت خریدتے ہیں ‘‘۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) خیانت کرنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اُس چیز کو لے کر آئے گا ‘ جو اس نے خیانت کے طور پر لی تھی ‘‘۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) فرض زکوۃ ادا نہ کرنا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تو اس کے ذریعے ان کی پیشانیوں کو داغا جائے گا ‘‘۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) جھوٹی گواہی دینا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اس کو چھپائے گا ‘ تو اس کا دل گنہگار ہو گا ‘‘۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) شراب نوشی ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بتوں کی عبادت کے برابر قرار دیا ہے ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) نماز کو ‘ یا اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ‘ کسی بھی فرض کو جان بوجھ کر ترک کرنا ہے ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دے ‘ اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘‘۔ ( اور کبیرہ گناہوں میں ) عہد شکنی کرنا اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا بھی شامل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

11380

Majma al-Zawaid #11380

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ} [النجم: 61] قَالَ: كَانُوا يَمُرُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَامِخِينَ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْعِجْلِ كَيْفَ يَخْطِرُ شَامِخًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، لَكِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "While you are samidun": They would pass by the Prophet ﷺ strutting arrogantly; have you not seen how the calf struts haughtily.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم لوگ کھیل ( یعنی غفلت ) میں ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : وہ لوگ ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ‘ تکبر کرتے ہوئے گزرتے تھے ‘ کیا تم نے بچھڑے کو نہیں دیکھا ‘ کہ وہ کیسے تکبر کے ساتھ حرکت کرتا ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن مزاحم ہے ‘ جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں تاہم اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11381

Majma al-Zawaid #11381

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ} [النجم: 61] قَالَ: الْغِنَاءُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "While you are samidun": It means singing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم لوگ کھیل ( یعنی غفلت میں ہو ) ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد گانا بجانا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11382

Majma al-Zawaid #11382

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ} [النجم: 61] قَالَ: مُعْرِضُونَ لَاهُونَ. [عَنْهُ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "While you are samidun": Turned away, heedless.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم لوگ کھیل ( یعنی غفلت میں ہو ) ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے تم لوگ منہ پھیرے ہوئے ہو اور اس سے غافل ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11383

Majma al-Zawaid #11383

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 47 - 49] إِلَّا فِي أَهْلِ الْقَدَرِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما said: This verse was revealed only concerning the people of qadar, "Indeed the criminals are in error and madness, the Day they are dragged in Fire upon their faces: taste the touch of Saqar. Indeed everything We created with measure."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت صرف قدریہ فرقہ کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ’’ بے شک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی میں ہیں ‘ جس دن انہیں جہنم میں منہ کے بل ڈالا جائے گا اور ( یہ کہا جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو مخصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یونس بن حارث ہے ‘ اسے یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11384

Majma al-Zawaid #11384

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْقَدَرِيَّةِ {يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ (48) إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ (49)} [القمر: 48، 49]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said: This verse was revealed concerning the Qadariyya, "The Day they are dragged in Fire upon their faces: taste the touch of Saqar. Indeed everything We created with measure."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت قدریہ فرقے کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس دن انہیں جہنم میں منہ کے بل ڈالا جائے گا اور ( یہ کہا جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو مخصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11385

Majma al-Zawaid #11385

وَعَنْ زُرَارَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «{ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 48 - 49] قَالَ: "" نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Zurarah reported from the Prophet ﷺ concerning, "Taste the touch of Saqar. Indeed everything We created with measure": > **"It was revealed concerning people of my nation at the end of time who deny Allah's decree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زرارہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یہ کہا جائے گا : ) تم جہنم کی تپش کا مزہ چکھو ! بے شک ہم نے ہر چیز کو خصوص حساب کے مطابق پیدا کیا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ آیت میری امت کے کچھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ جو بعد کے زمانے میں آئیں گے ‘ جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو جھٹلائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11386

Majma al-Zawaid #11386

عَنْ أَسْمَاءَ - يَعْنِي بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ، وَالْمُشْرِكُونَ يَسْمَعُونَ {فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ} [الرحمن: 13]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr رضي الله عنها said: I heard the Messenger of Allah ﷺ praying toward the Corner before he proclaimed what he was commanded, while the polytheists listened, "So which of your Lord's favors do you deny."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ‘ آپ ﷺ اُس وقت ’’ رکن ‘‘ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے ‘ یہ اُس سے پہلے کی بات ہے کہ آپ کو جو حکم دیا گیا تھا آپ اس کا اعلانیہ اظہار کرتے ‘ مشرکین سن رہے تھے ( آپ یہ تلاوت کر رہے تھے : ) ’’ اور تم لوگ اپنے پروردگار کی کون ‘ کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11387

Majma al-Zawaid #11387

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ سُورَةَ الرَّحْمَنِ عَلَى أَصْحَابِهِ فَسَكَتُوا، فَقَالَ: "" لَقَدْ كَانَ الْجِنُّ أَحْسَنَ رَدًّا مِنْكُمْ، كُلَّمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِمْ {فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ} [الرحمن: 13] قَالُوا: لَا بِشَيْءٍ مِنْ آلَائِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرَّاسِبِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ recited Surah Al-Rahman to his Companions and they fell silent, so he said: > **"The jinn responded better than you. Whenever I recited to them, 'So which of your Lord's favors do you deny,' they said, 'We deny nothing of Your favors, our Lord; to You belongs praise.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے سامنے سورت رحمن تلاوت کی ‘ وہ لوگ خاموش رہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی بہ نسبت جنات نے زیادہ اچھا رد عمل دیا تھا ، میں نے اُن کے سامنے جب بھی یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور تم اپنے پروردگار کی کون ‘ کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ‘‘۔ تو انہوں نے یہی کہا : اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری نعمتوں میں سے کوئی چیز نہیں جھٹلا سکتے اور ہر طرح کی حمد ‘ تیرے لئے مخصوص ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمرو بن مالک راسبی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں .

11388

Majma al-Zawaid #11388

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنِيبٍ قَالَ: تَلَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [الرحمن: 29]، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ الشَّأْنُ؟ قَالَ: "" أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَيُفَرِّجَ كَرْبًا وَيَرْفَعَ قَوْمًا وَيَضَعَ آخَرِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Munib رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ recited to us, "Every day He is engaged." We said, O Messenger of Allah, what is that engagement. He said: > **"That He forgives a sin, relieves a distress, raises a people and lowers others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن منیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ ہر روز ایک کام میں ہوتا ہے ‘‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کام کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ ( کام ) یہ ہے کہ وہ گناہ کی مغفرت کر دے ، پریشانی کو ختم کر دے ‘ کسی قوم کو بلندی عطا کر دے ‘ دوسروں کو پستی عطا کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11389

Majma al-Zawaid #11389

وَرَوَى الْبَزَّارُ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ "" «وَيُجِيبَ دَاعِيًا» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْلِهِ "" «وَيُجِيبَ دَاعِيًا» ""، وَفِيهِ الْوَزِيرُ بْنُ صُبَيْحٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Bazzar narrated like it from Abu al-Darda رضي الله عنه with the addition: > **"And answers a supplicant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار نے ‘ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور وہ دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ وہ دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی وزیر بن صبیح ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

11390

Majma al-Zawaid #11390

أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46]، فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّانِيَةَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46]، فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّالِثَةَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46]، فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ، وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَلَفْظُهُ: «عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ، وَخَرَجَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَهُمَا يُرِيدَانِ الْمَسْجِدَ، وَعَمْرٌو خَلْفَهُ وَهُوَ يَقُولُ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46]، فَقَالَ عَمْرٌو: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ فَكَرَّرَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنَّ رَغِمَ أَنْفُكَ يَا عَمْرُو، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ يَا عَمْرُو، مَا قُلْتُ لَكَ إِلَّا مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ، فَقَالَ: "" وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُكَ يَا عُوَيْمِرُ» ""، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه heard the Prophet ﷺ saying upon the pulpit, "And for whoever feared his Lord's standing are two gardens." I said, even if he commits adultery and steals, O Messenger of Allah. The Prophet ﷺ said it a second time, "And for whoever feared his Lord's standing are two gardens." I said, even if he commits adultery and steals. He said it a third time, then said: > **"Yes, even if Abu al-Darda's nose is rubbed in dust."** In another wording, Amr ibn al-Aswad left his house with Abu al-Darda toward the mosque, Abu al-Darda reciting the verse. Amr asked, even if he commits adultery and steals. He repeated it twice or thrice, then said, yes, even if your nose is rubbed in dust, O Amr. Perhaps you find something in yourself, O Amr; I said to you only what the Messenger of Allah ﷺ said to me, "even if your nose is rubbed in dust, O Uwaymir."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ منبر پر یہ آیت پڑھ رہے تھے : ’’ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ‘ اس کے لئے دو جنتیں ہیں ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو ‘ اگرچہ اس نے چوری کی ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے دوسری مرتبہ یہ آیت پڑھی : ’’ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ‘ اس کے لئے دو جنتیں ہیں ‘‘۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اُس نے زنا کیا ہو ‘ اگرچہ اس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہ آیت پڑھی : ’’ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ‘ اس کے لئے دو جنتیں ہیں ‘‘۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس نے زنا کیا ہو ‘ اگرچہ اس نے چوری کی ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے ( یعنی اُسے کتنا ہی برا کیوں نہ لگے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ روایت کے الفاظ یہ ہیں : عمرو بن اسود کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اپنے گھر سے نکلے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی گھر سے نکلے ‘ یہ دونوں حضرات مسجد کی طرف جا رہے تھے ‘ عمرو ‘ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ یہ پڑھ رہے تھے : ’’ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ‘ اس کے لئے دو جنتیں ہیں ‘‘۔ تو عمرو نے دریافت کیا : اگرچہ اس شخص نے زنا کیا ہو اگرچہ اس نے چوری کی ہو ؟ تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دو یا تین مرتبہ اس آیت کو دہرایا ‘ پھر انہوں نے کہا : جی ہاں ! اگرچہ تمہاری ناک خاک آلود ہو ! اے عمرو ! پھر انہوں نے فرمایا : شاید اے عمرو ! تمہیں اپنے ذہن میں کچھ الجھن محسوس ہو ‘ میں نے تمہیں وہی بات کہی ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے عویمر ! اگرچہ تمہاری ناک خاک آلود ہو ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11391

Majma al-Zawaid #11391

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الْمَرْجَانُ: الْخَرَزُ الْأَحْمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said: Al-marjan is red beads.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مرجان ‘ سرخ رنگ کا قیمتی پتھر ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11392

Majma al-Zawaid #11392

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {مُدْهَامَّتَانِ} [الرحمن: 64]، فَقَالَ: "" خَضْرَاوَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was asked about Allah's saying, "Two dark green": > **"Two green."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ مدهامتان ‘‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ دونوں سبز رنگ کی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔

11393

Majma al-Zawaid #11393

عَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَسْرَعَ إِلَيْكَ الشَّيْبُ؟ قَالَ: "" شَيَّبَتْنِي الْوَاقِعَةُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr رضي الله عنه said, I said, O Messenger of Allah, gray hair has hastened upon you. He said: > **"Al-Waqia, Amma yatasaalun, and When the sun is folded have made me gray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بال تیزی سے سفید ہو رہے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سورت واقعہ ‘ سورت عم ینساءلون اور سورت تکویر نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11394

Majma al-Zawaid #11394

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: 13] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَنَزَلَتْ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: 39]. رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ بَيَّاعِ الْمُلَاءِ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه said: When was revealed, "A multitude from the former and a few from the later," it weighed upon the Muslims. Then was revealed, "A multitude from the former and a multitude from the later."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ پہلے والوں میں سے ایک گروہ ‘ اور بعد والوں میں سے تھوڑے سے لوگ ‘‘۔ تو یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی : ’’ پہلے والوں میں سے ایک گروہ ‘ اور بعد والوں میں سے ایک گروہ ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے محمد بیاع کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11395

Majma al-Zawaid #11395

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ - وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: 39 - 40] قَالَ: "" جَمِيعُهُمَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakra رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning, "A multitude from the former and a multitude from the later": > **"Both of them are from this nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ’’ پہلے والوں میں سے ایک گروہ اور بعد والوں میں سے ایک گروہ ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ دونوں گروہ اس امت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ۔

11396

Majma al-Zawaid #11396

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَحُورٌ عِينٌ} [الواقعة: 22] قَالَ: "" حُورٌ: بِيضٌ، عِينٌ: ضِخَامُ الْعُيُونِ، شُفْرُ الْحَوْرَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النُّسُورِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ} [الواقعة: 23] قَالَ: "" صَفَاؤُهُنَّ صَفَاءُ الدُّرِّ الَّذِي فِي الْأَصْدَافِ الَّذِي لَمْ تَمَسَّهُ الْأَيْدِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - (فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ) قَالَ: "" خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ حِسَانُ الْوُجُوهِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ} [الصافات: 49] قَالَ: "" رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي رَأَيْتِ فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ وَهُوَ الْغِرْقِئُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {عُرُبًا أَتْرَابًا} [الواقعة: 37] قَالَ: "" هُنَّ اللَّوَاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ رُمْصًا شُمْطًا، خَلَقَهُنَّ اللَّهُ بَعْدَ الْكِبَرِ فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى، عُرُبًا مُتَعَشِّقَاتٍ مُتَحَبِّبَاتٍ، أَتْرَابًا عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ؟ قَالَ: "" بَلْ نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَبِمَا ذَاكَ؟ قَالَ: "" بِصَلَاتِهِنَّ وَصِيَامِهِنَّ وَعِبَادَتِهِنَّ اللَّهَ، أَلْبَسَ اللَّهُ وُجُوهَهُنَّ النُّورَ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ، بِيضُ الْأَلْوَانِ، خُضْرُ الثِّيَابِ، صُفْرُ الْحُلِيِّ، مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ، وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ، يَقُلْنَ: أَلَا وَنَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا، طُوبَى لِمَنْ كُنَّ لَهُ وَكَانَ لَنَا "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ، ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا، مَنْ يَكُونُ زَوْجَهَا؟ قَالَ: "" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، إِنَّهَا تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها said, I said, O Messenger of Allah, inform me of Allah's saying, "And wide-eyed houris." He said: > **"Hur means white, een means huge-eyed, the eyelash of the houri like an eagle's wing."** I said, inform me of, "Like hidden pearls." He said, their purity is like the pearl in shells untouched by hands. I said, inform me of, "In them good, beautiful." He said, good in character, beautiful in face. I said, inform me of, "As though they were sheltered eggs." He said, their delicacy like the skin you see inside the egg next to the shell. I said, inform me of, "Loving, contemporaries." He said, they are those taken in this world old, bleary, gray-haired; Allah creates them after old age as virgins, loving, affectionate, contemporaries of one birth. I said, O Messenger of Allah, are worldly women superior or the houris. He said: > **"Worldly women are superior to the houris as the outer garment is superior to the lining."** I said, why. He said, by their prayer, fasting and worship of Allah. Allah clothes their faces with light, their bodies with silk, white in color, green in garments, yellow in ornaments, their censers pearls, their combs gold. They say, we are eternal never to die, we are blissful never to suffer, we are resident never to depart, we are pleased never to anger; blessed is he for whom we are and who is for us. I said, O Messenger of Allah, a woman among us marries two, three or four husbands then dies and enters Paradise with them entering with her; who is her husband. He said: > **"O Umm Salama, she is given choice and chooses the best of them in character, saying, O Lord, this was best in character in this world, so marry me to him. O Umm Salama, good character has taken the good of this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ اور خوبصورت بڑی آنکھوں والی حوریں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حور سے مراد یہ ہے کہ وہ گوری چٹی ہوں گی ‘ اور عین سے مراد یہ ہے کہ ان کی آنکھیں بڑی ہوں گی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ وہ چھپا کے رکھے گئے موتیوں کی مانند ہوں گی “۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کی عمدگی صاف موتی کی طرح ہو گی ‘ جو صدف کے اندر ہوتا ہے ‘ جسے ہاتھ نہ لگے ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ ان میں اچھی عادات اور خوبصورت چہروں والی ( حوریں ) ہوں گی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یعنی ان کے اخلاق بہتر ہوں گے اور چہرے خوبصورت ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ یوں جیسے وہ چھپا کے رکھے گئے انڈے ہوں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اتنی باریک ہوں گی ، جیسے وہ جلد باریک ہوتی ہے ‘ جسے تم انڈے کے اندرونی حصے میں جھلی کے ساتھ ملا ہوا دیکھتی ہو ‘ اور وہ غرقی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ محبت کرنے والی اور ایک جتنی عمر کی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ خواتین ہیں جو دنیا میں جب وفات پائیں گی ‘ تو بوڑھی ہو چکی ہوں گی اور اللہ تعالٰی ان کے بڑھاپے کے بعد جب انہیں بنائے گا ‘ تو انہیں کنواری بنا دے گا ‘ لفظ عرب کا مطلب یہ ہے کہ وہ عشق اور محبت کرنے والی ہوں گی اور لفظ اتراب کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی عمر کی ( یعنی نوجوان ) ہوں گی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دنیا کی خواتین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ‘ یا حورعین ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ دنیا کی خواتین حورعین پر وہی فضیلت رکھتی ہیں ، جو لباس کے بیرونی حصے کو اندرونی حصے پر فضیلت حاصل ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی وجہ ان خواتین کی نماز ‘ اُن کے روزے ‘ اور اُن کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُن کے چہروں پر نور ڈال دے گا ‘ اُن کے جسموں پر ریشم ڈالے گا ‘ اُن کے رنگ سفید ہوں گے کپڑے سبز ہوں گے ‘ زیور زرد ( یعنی سونے ) کے ہوں گے ‘ اُن کی انگیٹھیاں قیمتی پتھروں کی ہوں گی اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ‘ اور وہ یہ کہیں گی : خبردار ! ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی ، ہم نعمتوں والی ہیں ، ہم کبھی پرانی نہیں ہوں گی ہم مقیم رہنے والی ہیں ، ہم کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ، ہم راضی رہنے والی ہیں ، ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی ‘ اُس شخص کے لئے مبارک باد ہے کہ ہم جس کے لئے ہوں گی اور جو ہمارے لئے ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی عورت دنیا میں ‘ دو یا تین ‘ یا چار افراد کے ساتھ ( یکے بعد دیگرے ) شادی کرتی ہے ‘ پھر وہ فوت ہو جاتی ہے اور جنت میں داخل ہوتی ہے اور اس کے سابقہ شوہر بھی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، تو جنت میں اس کا شوہر کون ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اے ام سلمہ ! اس عورت کو اختیار دیا جائے گا ‘ تو وہ عورت اُس ( شوہر ) کو اختیار کرے گی ، جس کا اخلاق اُن سب میں سے اچھا ہو گا ‘ وہ عرض کرے گی : اے میرے پروردگار ! دنیا میں یہ شخص سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک تھا ، تو اس کے ساتھ میری شادی کروا دے ‘ اے ام سلمہ ! اچھے اخلاق ‘ دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لے گئے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے ‘ جسے ابوحاتم اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

11397

Majma al-Zawaid #11397

«وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: {إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً - فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا - عُرُبًا} [الواقعة: 35 - 37] قَالَ: "" مِنَ الثَّيِّبِ وَغَيْرِ الثَّيِّبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَحَدِيثُ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn Yazid al-Jufi رضي الله عنه said, I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting, "Indeed We created them anew, and made them virgins, loving": > **"From the previously married and the unmarried."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ بے شک ہم نے انہیں عمدہ طور پر پیدا کیا ہے اور انہیں کنواری بنایا ہے ‘ جو محبت کرنے والی ہیں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( خواہ وہ دنیا میں ) ثیبہ ہوں یا ثیبہ نہ ہوں ( یعنی وہ آخرت میں کنواری ہی ہوں گی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ حضرت عتبہ بن رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ‘ جنت کی صفت سے متعلق باب میں ہو گی .

11398

Majma al-Zawaid #11398

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ} [الواقعة: 27] .. {وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ} [الواقعة: 41]، فَقَبَضَ بِيَدَيْهِ قَبْضَتَيْنِ، فَقَالَ: "" هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَهَذِهِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: وَهُوَ أَقْرَبُ عِنْدِي إِلَى الصِّدْقِ مِنْهُ إِلَى الضَّعْفِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ recited, "And the companions of the right," and, "And the companions of the left," then closed two handfuls with his hands and said: > **"This is in Paradise and I do not care, and this is in Fire and I do not care."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور دائیں طرف والے لوگ ‘‘ ’’ اور بائیں طرف والے لوگ ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کیں اور ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : ) ’’ یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ غنوی ہے ابن عدی کہتے ہیں میرے نزدیک یہ ضعیف ہونے کی بہ نسبت سچا ہونے کے زیادہ قریب ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ حسن نامی راوی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11399

Majma al-Zawaid #11399

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْفُرُشِ الْمَرْفُوعَةِ، قَالَ: "" لَوْ طُرِحَ فِرَاشٌ مِنْ أَعْلَاهَا لَهَوَى إِلَى قَرَارِهَا مِائَةَ خَرِيفٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the raised couches. He said: > **"Were a couch thrown from its top it would fall to its bottom in a hundred autumns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے بلند بچھونوں کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر کسی بچھونے کو اس کے اوپری حصے سے نیچے کی طرف لایا جائے ‘ تو وہ نیچے والے حصے تک ایک سو سال میں پہنچے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر حنفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11400

Majma al-Zawaid #11400

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: 75] قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً [وَاحِدَةً] إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ نَزَلَ نُجُومًا بَعْدُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "So I swear by the settings of the stars": The Quran descended whole at once to the lowest heaven, then descended in portions afterward to the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور میں ستاروں کے ڈوبنے کے مقامات کی قسم اٹھاتا ہوں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : قرآن ، آسمان دنیا کی طرف ایک ہی مرتبہ نازل ہو گیا تھا ، اور پھر اس کے بعد ‘ مختلف حصوں کی شکل میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی طرف نازل ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

11401

Majma al-Zawaid #11401

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نَزَلَتْ سُورَةُ الْحَدِيدِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ اللَّهُ الْحَدِيدَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ»، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي الْحِجَامَةِ فِي الطِّبِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Surah Al-Hadid was revealed on Tuesday, and Allah created iron on Tuesday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سورت حدید ‘ منگل کے دن نازل ہوئی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ نے منگل کے دن لوہے کو پیدا کیا تھا ‘‘۔ اس سے پہلے طب سے متعلق کتاب میں ‘ پچھنے لگوانے والے باب میں ‘ مکمل روایت گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11402

Majma al-Zawaid #11402

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَقَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الْعَنَانُ وَرَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الرَّقِيعُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "". ثُمَّ قَالَ: "" مَا الَّذِي فَوْقَهَا؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" سَمَاءٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "". حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الْعَرْشُ "". ثُمَّ قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ "". ثُمَّ قَالَ: [أَتَدْرُونَ] مَا هَذِهِ تَحْتَكُمْ؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَرْضٌ، تَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَرْضٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُمَا؟ "". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ "". حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَاضِينَ، ثُمَّ قَالَ: "" وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ دَلَّيْتُمْ [أَحَدَكُمْ] بِحَبْلٍ [إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ] لَهَبَطَ ""، ثُمَّ قَرَأَ {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الحديد: 3]. قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ وَالْأَرْضِ الْأُخْرَى خَمْسَ مِائَةِ عَامٍ، وَهُنَا سَبْعُ مِائَةٍ، فَقَالَ فِي آخِرِهِ: "" لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه said, while we were with the Messenger of Allah ﷺ a cloud passed, and he said: > **"Do you know what this is?"** We said, Allah and His Messenger know best. He said, the clouds and waterers of the earth, which Allah drives to those of His servants who neither thank Him nor invoke Him. Do you know what is above you. We said, Allah and His Messenger know best. He said, the Raqi, a restrained wave and guarded roof; do you know how far between you and it. We said, Allah and His Messenger know best. He said, five hundred years' journey. Then, what is above it. We said, Allah and His Messenger know best. He said, another heaven; do you know how far between you and it. We said, Allah and His Messenger know best. He said, five hundred years' journey, until he counted seven heavens. Then, do you know what is above that. We said, Allah and His Messenger know best. He said, the Throne. Do you know how far between it and the seventh heaven. We said, Allah and His Messenger know best. He said, five hundred years' journey. Then, do you know what is beneath you. We said, Allah and His Messenger know best. He said, earth; do you know what is beneath it. We said, Allah and His Messenger know best. He said, another earth; do you know how far between them. We said, Allah and His Messenger know best. He said, seven hundred years' journey, until he counted seven earths. Then he said: > **"By Allah, were you to lower one of you with a rope to the lowest seventh earth, it would descend."** Then he recited, "He is the First and the Last, the Manifest and the Hidden, and He knows all things."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ اسی دوران ایک بادل وہاں سے گزرا ‘ آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ عنان ہے اور زمین کو سیراب کرنے والا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف بھیجا ہے ‘ اس کے بندوں میں سے جو اس کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے ‘ کیا تم لوگ جانتے ہؤ ‘ ان ( بادلوں ) کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : رقیع ہے ‘ جو ایک مکفوف موج ہے اور ایک محفوظ چھت ہے ‘ کیا تم جانتے ہو کہ تم لوگوں کے اور اُس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دوسرا آسمان ہے ‘ کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ‘ یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان شمار کروائے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ‘ اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عرش ہے ‘ پھر آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ کہ اُس ( عرش ) کے اور ساتویں آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پانچ سو سال کی مسافت کا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : زمین ہے ‘ کیا تم لوگ جانتے ہو ‘ اس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک اور زمین ہے ‘ کیا تم جانتے ہو ‘ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سات سو سال کی مسافت کا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے سات زمینیں شمار کروائیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر تم میں سے کوئی ایک شخص ‘ ساتویں زمین تک کوئی رسی لٹکائے ‘ تو وہ وہیں پہنچے گی ‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ہے : ’’ وہی اول ہے ‘ آخر ہے ‘ ظاہر ہے ‘ باطن ہے ‘ اور وہ ہر شے کے بارے میں علم رکھنے والا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘ اور یہاں یہ ذکر ہے ‘ کہ سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ‘ اور ان کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اگر تم رسی لٹکاؤ گے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ پر ہی جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11403

Majma al-Zawaid #11403

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِسْلَامِهِمْ وَبَيْنَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُعَاتِبُهُمُ اللَّهُ بِهَا إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ {وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ} [الحديد: 16]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported that Ibn Masud رضي الله عنه informed him: There were only four years between their Islam and the revelation of this verse by which Allah reproached them, "And let them not be like those given the Book before, whose term grew long so their hearts hardened, and many of them are corrupt."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ ان لوگوں کے اسلام قبول کرنے اور اس آیت کے نازل ہونے کے درمیان ‘ صرف چار سال کا فرق ہے ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں پر عتاب کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور وہ اُن لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں ، جنہیں پہلے کتاب دی گئی اور جب طویل وقت ہو گیا ، تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے لوگ نافرمان ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابن مدینی نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔