Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 14

Book of Exegesis

Hadith 11324–11363

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11324

Majma al-Zawaid #11324

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا نَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَاتِ {تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ} [الشورى: 5]. هَكَذَا وَجَدْتُهُ مِنْ غَيْرِ ضَبْطٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: We used to recite this verse: *The heavens almost split from above them* [al-Shūrā: 5].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ’’ قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر کی طرف سے پھٹ جائیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے ضبط کے بغیر یہ روایت اس طرح پائی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11325

Majma al-Zawaid #11325

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «(قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ) عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى (أَجْرًا إِلَّا) أَنْ تُوَادُّوا اللَّهَ وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَى اللَّهِ بِطَاعَتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِيهِمْ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said concerning *Say: I ask you no reward for it* — for the proofs and guidance I brought you — *except* that you love Allah and seek nearness to Allah through obedience to Him: > **"Say: I ask you no reward for what I brought you of proofs and guidance, except that you love Allah and seek nearness to Him through obedience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ پڑھا :’’ تم یہ فرما دو ! میں اس پر تم سے نہیں مانگتا ......‘‘ ۔ یعنی میں تمہارے پاس جو نشانیاں اور ہدایت لے کے آیا ہوں ‘ البتہ صرف یہ ( چاہتا ہوں کہ ) کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو ‘ اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ذریعے اُس کی بارگاہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال میں سے ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11326

Majma al-Zawaid #11326

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ قَرَابَتُكَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ؟ قَالَ: "" عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَابْنَاهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ حَرْبِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّحَّانِ عَنْ حُسَيْنٍ الْأَشْقَرِ عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ وَقَدْ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ وَضَعَّفَهُمْ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When *Say: I ask you no reward except love of the near kin* [al-Shūrā: 23] was revealed, they asked, O Messenger of Allah, who are these kin whose love is obligatory upon us? He ﷺ said: > **"ʿAlī, Fāṭimah and their two sons."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم یہ فرما دو ! میں اس پر تم سے معاوضہ نہیں مانگتا ، البتہ رشتہ داری کے حوالے سے محبت ( چاہتا ہوں ) ‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے یہ رشتہ دار کون ہیں ؟ جن کے ساتھ محبت رکھنا ہم پر واجب ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علی ‘ فاطمہ ‘ اور اُن دونوں کے ‘ دونوں بیٹے ( یعنی حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی ‘ حسین اشقر کے حوالے سے ‘ قیس بن ربیع سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ ان سب کی توثیق کی گئی ہے اور ایک جماعت نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11327

Majma al-Zawaid #11327

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَتِ الْأَنْصَارُ فِيمَا بَيْنَهُمْ: لَوْ جَمَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالًا فَبَسَطَ يَدَهُ لَا يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ أَحَدٌ. فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَجْمَعَ لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] فَخَرَجُوا مُخْتَلِفِينَ، [فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا قَالَ هَذَا لِنُقَاتِلَ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَنَنْصُرَهُمْ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - {أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا} [الشورى: 24] إِلَى قَوْلِهِ {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} [الشورى: 25] فَعَرَضَ لَهُمُ [رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] التَّوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ {وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ} [الشورى: 26]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَزَادَ بَعْدَ (مِنْ فَضْلِهِ): هُمُ الَّذِينَ قَالُوا هَذَا: إِنْ تَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَتَسْتَغْفِرُوهُ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ أَبُو الْيَقْظَانِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ} [الشورى: 30].

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Anṣār said among themselves, If only we gathered wealth for the Messenger of Allah ﷺ so that when he extends his hand none stands between him and it. They came to the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, we wish to gather for you from our wealth. So Allah revealed *Say: I ask you no reward except love of the near kin* [al-Shūrā: 23]. They left disagreeing; some said, Did you not see what the Messenger of Allah ﷺ said? Others said, He said this only that we fight for his household and aid them. So Allah revealed *Or do they say he forged a lie against Allah* [al-Shūrā: 24] until *And He who accepts repentance from His servants* [al-Shūrā: 25]. The Messenger of Allah ﷺ presented repentance to them, until *And He answers those who believe and do righteous deeds and increases them from His bounty* [al-Shūrā: 26].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار نے آپس میں یہ بات کی کہ اگر ہم نبی اکرم ﷺ کے لئے مال اکٹھا کریں تو ( یہ مناسب ہو گا تاکہ ) جب آپ ہاتھ بڑھائیں ، تو آپ کے اور مال کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو ‘ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ آپ کے لئے اپنے اموال جمع کریں ‘ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم یہ فرما دو ! میں اس حوالے سے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ‘ البتہ رشتہ داری کے حوالے سے محبت ( چاہتا ہوں ) ‘‘۔ تو وہ لوگ مختلف گروہوں کی شکل میں نکلے ‘ تو ان میں سے کسی نے کہا : کیا تم نے اس بات کا جائزہ لیا ہے ؟ جو بات نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ‘ تو کسی نے کہا : آپ نے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی ہے ‘ تاکہ ہم آپ کے اہل بیت کی طرف سے لڑائی کریں اور ان لوگوں کی مدد کریں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُس نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اور وہی وہ ذات ہے ‘ جو اپنے بندوں کی ‘ توبہ کو قبول کرتا ہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کے سامنے توبہ پیش کی ‘ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اور وہ اُن لوگوں کی دعائیں قبول کرتا ہے ‘ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ‘ اور انہیں اپنے فضل سے مزید عطا کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ’’ اپنے فضل سے ‘‘ کے بعد یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :’’ یہی وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ........‘‘۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ابویقظان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11328

Majma al-Zawaid #11328

عَنْ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟: "" {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى: 30] وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ: مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ، وَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمُ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْكُمُ الْعُقُوبَةَ» "" بَدَلَ "" عَلَيْهِمْ ""، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī عليه السلام said: Shall I not inform you of the most excellent verse in the Book of Allah, which the Messenger of Allah ﷺ narrated to us: *Whatever calamity befalls you is for what your hands earned, and He pardons much* [al-Shūrā: 30]? And he ﷺ explained to me: > **"O ʿAlī, whatever befalls you of illness, punishment or trial in this world is for what your hands earned. Allah is too Noble to repeat the punishment upon them in the Hereafter, and whatever Allah pardons in this world, Allah is too Forbearing to return to it after His pardon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ‘ سب سے زیادہ فضیلت والی آیت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جس کے بارے میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے : ( وہ یہ آیت ہے : ) ’’ اور تمہیں جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ‘ وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہوتی ہے ‘ اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے ‘‘۔ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اے علی ! میں تمہارے سامنے اس کی وضاحت کرتا ہوں ، تمہیں جو بھی بیماری ‘ یا عقوبت یا آزمائش ‘ دنیا میں لاحق ہوتی ہے تو یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی اس سے زیادہ معزز ہے کہ وہ آخرت میں اُس پر دوبارہ ان لوگوں کو سزا دے ‘ اور جس چیز سے ‘ اللہ تعالیٰ دنیا میں درگزر کر لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بردبار ہے کہ درگزر کرنے کے بعد ‘ وہ دوبارہ ( اُس کے حوالے سے سزا دے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ معزز ہے کہ تم لوگوں کو دوبارہ سزا دے ‘‘۔ یعنی یہاں ’’ ان لوگوں ‘‘ کی جگہ یہ لفظ ’’ تم لوگوں ‘‘ استعمال ہوا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ازہر بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11329

Majma al-Zawaid #11329

عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ {وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ} [الشورى: 27] لِأَنَّهُمْ تَمَنَّوُا الدُّنْيَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Hurayth reported: This verse was revealed concerning the People of Suffa, "And if Allah extended provision for His servants they would transgress in the earth," because they had wished for worldly life.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : یہ آیت ‘ اہل صفہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے رزق کو پھیلا دے ‘ تو وہ زمین میں سرکشی کریں ‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی آرزو کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11330

Majma al-Zawaid #11330

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ} [الزخرف: 44] قَالَ: شَرَفٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained Allah's saying, "And indeed it is a remembrance for you and your people": It means honor for you and your people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور یہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے ذکر ہے ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے شرف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے بکر بن سہل کے حوالے سے ‘ عبداللہ بن صالح سے نقل کی ہے ‘ ان دونوں کو ثقہ قرار دیا گیا ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11331

Majma al-Zawaid #11331

عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عَقِيلٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ عَلِمْتُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَطُّ، فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا، أَوْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَيَسْأَلُوا عَنْهَا، ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا، فَلَمَّا قَامَ تَلَاوَمْنَا أَلَّا سَأَلْنَاهُ عَنْهَا قَالَ: فَقُلْتُ: أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا. فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ، فَلَا تَدْرِي عَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا، أَوْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا، أَخْبِرْنِي عَنْهَا. قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِقُرَيْشٍ: "" إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ "". وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ وَمَا يَقُولُ مُحَمَّدٌ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا، فَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا يَقُولُونَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ} [الزخرف: 57] قُلْتُ: مَا يَصُدُّونَ؟ قَالَ: يَضِجُّونَ {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: 61] قَالَ: خُرُوجُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّهُ لَكَآلِهَتِهِمْ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Yahya, freedman of Ibn Aqil al-Ansari, reported: Ibn Abbas رضي الله عنهما said, I know a verse of the Quran about which no one ever asked me, and I do not know whether people knew it and did not ask, or did not notice it so as to ask. Then he began speaking to us, and when he rose we blamed one another for not asking him about it. I said, I will take care of it when he comes tomorrow. The next day I said, O Ibn Abbas, yesterday you mentioned a verse none ever asked you about, and you did not know whether people knew it or did not notice it; inform me of it. He said, Yes. The Messenger of Allah ﷺ said to Quraysh: > **"There is none worshipped besides Allah in whom there is any good."** Quraysh knew that the Christians worship Isa ibn Maryam عليه السلام, and knew what Muhammad ﷺ said about him, so they said, O Muhammad, do you not claim that Isa son of Maryam was a prophet and a righteous servant among Allah's servants; if you are truthful then their gods must be as they say. Then Allah revealed, "And when the son of Maryam is cited as an example, your people cry out," I asked, what is yasiddun. He said, they clamor. And, "And indeed he is knowledge of the Hour." He said, it is the coming forth of Isa ibn Maryam عليه السلام before the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابویحیی ‘ جو ابن عقیل انصاری کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں قرآن کی ایک آیت کے بارے میں جانتا ہوں جس کے بارے میں ‘ کبھی مجھ سے کسی نے نہیں دریافت نہیں کیا ، مجھے نہیں معلوم ‘ کہ کیا لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ ہے ‘ اور انہوں نے اس وجہ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا ؟ یا پھر لوگوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ اس کے بارے میں دریافت کرتے ‘ پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے ساتھ بات چیت شروع کر دی ، جب وہ اُٹھ کے چلے گئے ‘ تو ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی کہ ہم نے اُن سے اُس آیت کے بارے میں کیوں نہیں دریافت کیا ، پھر میں نے یہ سوچا کہ کل جب وہ آئیں گے ‘ تو میں اس حوالے سے کوشش کروں گا ‘ جب اگلے دن وہ شریف لائے ‘ تو میں نے کہا : اے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ! آپ نے کل قرآن کی ایک آیت کا ذکر کیا تھا ، جس کے بارے میں آپ سے کبھی کسی شخص نے دریافت نہیں کیا ، تو آپ کو یہ نہیں معلوم ‘ کہ کیا لوگوں کو اس آیت کا علم ہے اور انہوں نے اس وجہ سے اُس کے بارے میں دریافت نہیں کیا ‘ یا لوگوں کو اُس کی سمجھ ہی نہیں ہے ؟ تو آپ مجھے اُس آیت کے بارے میں بتائیں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے قریش سے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ‘ جس کسی کی بھی عبادت کی جاتی ہے ‘ اُن میں سے کسی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ‘‘۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں ‘ اور حضرت محمد ﷺ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ) جو کہتے تھے ‘ ( اس کا بھی قریش کو علم تھا ) تو قریش نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! کیا آپ کا یہ نہیں کہنا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نہیں ہیں ، اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے ہیں ‘ اگر آپ سچے ہیں ‘ تو اُن کے معبود بھی اُسی طرح ہونے چاہیں ‘ جس طرح وہ لوگ کہتے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی ، تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے ‘ ہنسنے لگتے ہیں ‘‘ رادی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : لفظ ” یصدون ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یعنی وہ چیخ و پکار کرتے ہیں ۔ ’’ اور بے شک وہ قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانی ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تشریف لائیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اگر آپ سچے ہیں ‘ تو پھر تو یہ ان کے معبودوں کی مانند ہوں گے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ یہ خراب حافظے کا مالک ہے امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11332

Majma al-Zawaid #11332

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ فِي السَّمَاءِ بَابَانِ، بَابٌ يَدْخُلُ عَمَلُهُ وَبَابٌ يَخْرُجُ فِيهِ عَمَلُهُ وَكَلَامُهُ، فَإِذَا مَاتَ فَقَدَاهُ وَبَكَيَا عَلَيْهِ ""، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ (فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ)، فَذَكَرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْمَلُونَ عَلَى الْأَرْضِ عَمَلًا صَالِحًا يَبْكِي عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَصْعَدْ لَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ مِنْ كَلَامِهِمْ وَلَا عَمَلِهِمْ كَلَامٌ طَيِّبٌ وَلَا عَمَلٌ صَالِحٌ فَيَفْقِدُهُمْ فَيَبْكِيَ عَلَيْهِمْ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ: > **"There is no servant except that he has two gates in heaven, a gate through which his work enters and a gate through which his work and speech go out. When he dies they miss him and weep over him."** Then he recited, "So heaven and earth did not weep over them." He explained that they used to do no righteous work on earth over which it would weep for them, and no good speech or righteous work of theirs ascended to heaven that would miss them and weep over them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو بھی بندہ ہے ‘ اس کے لئے آسمان میں دو دروازے ہیں ‘ ایک دروازے سے اُس کا عمل داخل ہوتا ہے اور ایک دروازے میں سے اس کا عمل اور اس کا کلام باہر آتا ہے ‘ جب وہ شخص مر جاتا ہے ‘ تو وہ دونوں اُس کو غیر موجود پاتے ہیں ‘ اور اس پر روتے ہیں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ تو ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین .......‘‘۔ پھر آپ نے یہ بات ذکر کی کہ وہ لوگ زمین پر کوئی نیک عمل کرتے ہی نہیں تھے کہ ( زمین ) اُن پر روتی اور نہ ہی آسمان کی طرف ان کے کلام ‘ یا اُن کے عمل میں سے کوئی پاکیزہ کلام ‘ یا نیک عمل اوپر جاتا تھا کہ آسمان اُن کو غیر موجود پا کر ان پر روتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11333

Majma al-Zawaid #11333

عَنِ الضَّحَّاكِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَذَابَ فِضَّةً مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الْمُهْلِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Dahhak reported: Ibn Masud رضي الله عنه melted silver from the treasury, then sent to the people of the mosque and said, whoever wishes to look at al-muhl, let him look at this.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں سے چاندی لے کر اسے پگھلایا اور پھر اہل مسجد کی طرف بھجوا کر فرمایا : جو شخص ’’ مہل ‘‘ کو دیکھنا چاہتا ہو ‘ تو وہ اسے دیکھ لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11334

Majma al-Zawaid #11334

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةً مِنَ الْ (حم)، يَعْنِي الْأَحْقَافَ، قَالَ: وَكَانَتِ السُّورَةُ إِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ آيَةً سُمِّيَتْ ثَلَاثِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ taught me to recite a sura from the Ha-Mim family, meaning Al-Ahqaf. A sura with more than thirty verses used to be called thirty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے سورت ’’ حم “ یعنی سورت ’’ احقاف ‘‘ پڑھائی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب کسی سورت کی آیات ‘ تیس سے زیادہ ہوتی تھیں ، تو اُس کو ’’ ثلاثین ‘‘ کا نام دے دیا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

11335

Majma al-Zawaid #11335

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ: "" الْخَطُّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَلَفْظُهُ: «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْخَطِّ فَقَالَ: "" هُوَ أَثَارَةٌ مِنْ عِلْمٍ»

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ concerning, "Or a remnant of knowledge": > **"It is writing."** In another wording, he was asked about writing and said it is a remnant of knowledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یا علم کا بقیہ حصہ ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد ‘ خط ( یعنی تحریر کرنا ) ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ سے یہ بات منقول ہے کہ آپ ﷺ سے خط کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ نے فرمایا : یہ علم کے بقایا جات میں سے ہے ۔

11336

Majma al-Zawaid #11336

وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْأَوْسَطِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ: جَوْدَةُ الْخَطِّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ لِلْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration in Al-Awsat, Ibn Abbas رضي الله عنهما explained His saying, "Or a remnant of knowledge": It means excellence in handwriting.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معجم اوسط کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یا علم کا بقیہ حصہ ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد عمدگی سے لکھنا ہے ۔ امام احمد کے مرفوع حدیث کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

11337

Majma al-Zawaid #11337

«عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[يَوْمًا] وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ يَوْمَ عِيدِهِمْ، فَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْكُمْ يَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يَحُطُّ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي عَلَيْهِ ""، فَأَسْكَتُوا، فَمَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: "" أَبَيْتُمْ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا الْحَاشِرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَأَنَا الْمُقَفَّى آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ "". ثُمَّ انْصَرَفَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى [أَنَّنَا] كِدْنَا أَنْ نَخْرُجَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ، فَقَالَ: كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ. فَأَقْبَلَ، فَقَالَ ذَاكَ الرَّجُلُ: أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونِي مِنْكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ فِينَا رَجُلًا كَانَ أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَا أَفْقَهَ مِنْكَ وَلَا مِنْ أَبِيكَ قَبْلَكَ وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ. قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ. قَالُوا: كَذَبْتَ، ثُمَّ رَدُّوا عَلَيْهِ [وَقَالُوا فِيهِ] شَرًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَذَبْتُمْ لَنْ نَقْبَلَ مِنْكُمْ قَوْلَكُمْ "". قَالَ: فَخَرَجْنَا وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا وَابْنُ سَلَامٍ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [الأحقاف: 10]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا} [الأحقاف: 24] مَذْكُورٌ فِي سُورَةِ الذَّارِيَاتِ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik al-Ashjai رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ went out one day, I with him, until we entered the Jews' synagogue on their festival day. They disliked our entering upon them. The Messenger of Allah ﷺ said to them: > **"O company of Jews, show me twelve men among you who will testify that there is no deity but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah; Allah will remove from every Jew under the sky's surface the anger upon him."** They fell silent and none answered him. He repeated it and none answered, then a third time and none answered. He said: > **"You refuse; by Allah, I am the Gatherer, I am the Last, I am the Follower, whether you believe or deny."** Then he turned away with me until we were about to leave, when a man called from behind him, wait, O Muhammad. He came forward and said, O company of Jews, what kind of man do you know me to be among you. They said, by Allah, we know none among us more learned in Allah's Book nor more understanding than you, nor than your father before you, nor your grandfather before your father. He said, I bear witness by Allah that he is Allah's prophet whom you find in the Torah. They said, you lie, then rejected him and spoke evil of him. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You have lied; we will not accept your word."** We left, three of us: the Messenger of Allah ﷺ, myself, and Ibn Salam. Then Allah revealed, "Say, have you considered, if it is from Allah and you disbelieve in it, while a witness from the Children of Israel testifies to its like and believes, while you are arrogant; indeed Allah does not guide the wrongdoers."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ‘ میں آپ کے ساتھ تھا ، ہم لوگ یہودیوں کی ایک عبادت گاہ میں داخل ہوئے ‘ یہ ان لوگوں کے عید کے دن کی بات ہے ‘ ان لوگوں کو ہمارا ان کے پاس جانا اچھا نہیں لگا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! تم اپنے میں سے بارہ افراد مجھے دکھاؤ ‘ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، تو آسمان کی چھت کے نیچے ہر یہودی پر جو غضب نازل ہوا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے گا ‘ تو وہ لوگ خاموش رہے ‘ ان میں سے کسی نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات ان کے سامنے دہرائی تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ اپنی بات بیان کی ‘ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ نہیں مانتے ‘ تو اللہ کی قسم ! میں حاشر ہوں ‘ میں عاقب ہوں ، میں مقفی ہوں ، خواہ تم لوگ ایمان لاؤ ‘ یا تم لوگ تکذیب کرو ! پر نبی اکرم ﷺ مڑ گئے ‘ میں آپ کے ساتھ تھا ، قریب تھا کہ ہم وہاں سے باہر نکل آتے ‘ آپ کے پیچھے سے ایک شخص نے پکار کر کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! رک جائیں ، پھر وہ شخص آگے آیا ، پھر اس شخص نے کہا : اے یہودیوں کے گروہ ! تم اپنے میں سے مجھے کیسا فرد جانتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمیں اپنے درمیان ایسے کسی فرد کا علم نہیں ہے ‘ جو اللہ کی کتاب ( یعنی تورات ) کے بارے میں آپ سے زیادہ علم اور آپ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو ‘ اور آپ سے پہلے آپ کے والد سے زیادہ علم رکھتا ہو ‘ اور آپ کے والد سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ علم رکھتا ہو ‘ تو اس شخص نے کہا : میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ یہ اللہ کے نبی ہیں ، جن کا ذکر تم لوگ تورات میں پاتے ہو ‘ تو ان لوگوں نے کہا : تم جھوٹ کہہ رہے ہو ‘ پھر اُن لوگوں نے ان صاحب کی بات مسترد کر دی ‘ اُن کے بارے میں بری باتیں کیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے جھوٹ بولا ہے ‘ ہم تم سے تمہارا قول قبول نہیں کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم تین افراد وہاں سے نکلے ‘ نبی اکرم ﷺ تھے اور میں تھا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ تم فرما دو ! کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم لوگوں نے اس کا کفر کیا ہو ‘ اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک گواہ نے اس کے بارے میں گواہی دے دی ہو ‘ اور وہ ایمان لے آئے ‘ اور تم لوگ تکبر ( کرتے ہوئے انکار ) کرو ‘ تو بے شک اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11338

Majma al-Zawaid #11338

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ} [الأحقاف: 15] قَالَ: ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ، وَهُوَ الَّذِي رُفِعَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ يَزِيدَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ} [الأحقاف: 29].

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained Allah's saying, "Until when he reaches his full strength": It is thirty-three years, and it is the age at which Isa ibn Maryam عليه السلام was raised up.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یہاں تک کہ وہ جوانی کی عمر تک پہنچ گیا ........‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد تینتیس سال کی عمر ہے اور یہ وہ عمر ہے ‘ جس میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اٹھا لیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن یزید ہے ‘ جسے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11339

Majma al-Zawaid #11339

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ} [الأحقاف: 29] الْآيَةَ، قَالَ: كَانُوا تِسْعَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ، فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained, "And when We turned toward you a company of jinn listening to the Quran": They were nine persons from Nasibin, and the Messenger of Allah ﷺ made them messengers to their people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب ہم نے جنات کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا کہ جب وہ قرآن کو غور سے سن رہے تھے ......‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نصیبین کے رہنے والے ’’ نو ‘‘ جنات تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کو ان کی قوم کی طرف نمائندہ بنا کے بھیجا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

11340

Majma al-Zawaid #11340

«وَلِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْأَوْسَطِ قَالَ: صُرِفَتِ الْجِنُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتَيْنِ، وَكَانَ أَشْرَافُ الْجِنِّ بِنَصِيبِينَ»

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said in Al-Awsat: The jinn were turned toward the Messenger of Allah ﷺ twice, and the nobles of the jinn were at Nasibin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ‘ معجم اوسط میں یہ بات منقول ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : جنات کو نبی اکرم ﷺ کی طرف دو مرتبہ متوجہ کیا گیا ‘ اور جنات کے معززین ’’ نصیبین ‘‘ میں رہتے تھے ۔

11341

Majma al-Zawaid #11341

وَلَهُ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا: «أَنَّ الْجِنَّ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَوْهُ وَهُوَ بِنَخْلَةَ».

EnglishUnverified translation

Also from him in Al-Awsat: The jinn who came to the Messenger of Allah ﷺ came to him while he was at Nakhlah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے معجم اوسط میں ‘ یہ روایت بھی منقول ہے : جب جنات نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ‘ تو وہ آپ کے پاس اُس وقت آئے تھے ‘ جب آپ کھجوروں کے باغ میں موجود تھے ۔

11342

Majma al-Zawaid #11342

وَلِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَزَّارِ: كَانَتْ أَشْرَافُ الْجِنِّ بِالْمَوْصِلِ. فَأَمَّا إِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ فَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْأَوْسَطِ فِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ أَيْضًا فِيهِمَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said in Al-Bazzar: The nobles of the jinn were at Mosul.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ‘ مسند بزار میں یہ بات منقول ہے : جنات کے معززین ’’ موصل ‘‘ میں موجود تھے ۔ جہاں تک معجم اوسط میں ‘ امام طبرانی کی سند کا تعلق ہے ‘ تو اس میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے اور معجم اوسط کی دو اسناد میں سے ایک میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ دوسری سند اور امام بزار کی سند ‘ ان دونوں میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ متروک ہے ۔

11343

Majma al-Zawaid #11343

وَعَنْ زِرٍّ - يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ - {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا} [الأحقاف: 29] قَالَ: صَهْ، قَالَ: فَكَانُوا سَبْعَةً، أَحَدُهُمْ زَوْبَعَةُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zirr ibn Hubaysh explained, "And when We turned toward you a company of jinn listening to the Quran, and when they attended it they said, listen quietly": It means be silent. They were seven, one of them Zawbaa.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب ہم نے جنات کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا ‘ تو وہ قرآن غور سے سننے لگے ‘ جب وہ وہاں پہنچے ‘ تو انہوں نے کہا : تم لوگ خاموش رہو ! ‘‘ یعنی انہوں نے کہا : تم چپ رہو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ سات افراد تھے ‘ جن میں سے ایک ذوبعہ تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11344

Majma al-Zawaid #11344

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ} [الفتح: 4] قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا صَدَّقُوا زَادَهُمُ الْحَجَّ، فَلَمَّا صَدَّقُوا زَادَهُمُ الْجِهَادَ، ثُمَّ أَكْمَلَ لَهُمْ دِينَهُمْ فَقَالَ: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: 3] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَوْثَقُ إِيمَانِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ [أَهْلُ] الْأَرْضِ [وَأَصْدَقُهُ وَأَكْمَلُهُ] شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قِيلَ فِيهِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَقَدْ ضُعِّفَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما explained His saying, "That they may increase in faith along with their faith": Allah sent His Prophet ﷺ with testimony that there is no deity but Allah. When they affirmed it, He added Hajj; when they affirmed it, He added jihad; then He completed their religion for them and said, "This day I have perfected for you your religion and completed upon you My favor and approved Islam for you as religion." Ibn Abbas said, the firmest, truest, most complete faith of heaven's and earth's people is testimony that there is no deity but Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تا کہ اُن لوگوں کے ایمان کے ہمراہ ‘ ایمان میں اضافہ ہو جائے .....‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کی گواہی کے ہمراہ مبعوث کیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ جب ان لوگوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے حج کا مزید حکم دیا ‘ جب ان لوگوں نے اس کی بھی تصدیق کر دی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جہاد کا مزید حکم دیا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے ان کے دین ( کے احکام ) کو مکمل کر دیا اور یہ ارشاد فرمایا : ’’ آج کے دن ‘ میں نے تم لوگوں کے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ‘ اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا ‘ اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہو گیا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو زمین والوں اور آسمان والوں میں سے ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ مکمل ( عمل ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے ‘ یہ ثقہ اور مامون ہے ‘ ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔

11345

Majma al-Zawaid #11345

«عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي لَوَاضِعٌ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِي إِذْ أَمَرَ بِالْقِتَالِ، إِذْ جَاءَ أَعْمَى فَقَالَ: كَيْفَ بِي وَأَنَا ذَاهِبُ الْبَصَرِ؟ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ} [الفتح: 17]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit رضي الله عنه said: I used to write for the Messenger of Allah ﷺ, with the pen upon my ear, when he ordered fighting. A blind man came and said, what of me, while my sight is gone. Then was revealed, "There is no harm upon the blind."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے لئے ( قرآن مجید کی ) کتابت کرتا تھا اور میں نے اپنا قلم اپنے کان پر رکھا ہوا تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے جہاد ( کے حکم سے متعلق آیت تحریر کرنے ) کا حکم دیا ‘ اُسی دوران ایک نابینا شخص آیا ‘ اس نے عرض کی : میرا کیا بنے گا ؟ جبکہ میری بینائی رخصت ہو چکی ہے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ نابینا شخص پر کوئی حرج نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11346

Majma al-Zawaid #11346

عَنْ أَبِي جُمُعَةَ الْأَنْصَارِيِّ جُنَيْدِ بْنِ سَبْعٍ قَالَ: قَاتَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلَ النَّهَارِ كَافِرًا، وَقَاتَلْتُ مَعَهُ آخِرَ النَّهَارِ مُسْلِمًا، وَكُنَّا ثَلَاثَةَ رِجَالٍ وَتِسْعَ نِسْوَةٍ وَفِينَا نَزَلَتْ {وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ} [الفتح: 25]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Juma al-Ansari, Junayd ibn Sabu رضي الله عنه, said: I fought the Prophet ﷺ in the first part of the day as a disbeliever, and fought with him in the last part of the day as a Muslim. We were three men and nine women, and concerning us was revealed, "Were it not for believing men and believing women."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجمعہ انصاری جنید بن سبع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کافر ہونے کے عالم میں ‘ دن کے ابتدائی حصے میں نبی اکرم ﷺ کے خلاف جنگ کی ‘ اور دن کے آخری حصے میں مسلمان ہونے کے طور پر ‘ آپ کے ساتھ مل کر جنگ کی ‘ ہم تین افراد تھے اور نو خواتین تھیں ، ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اگر مومن مرد اور مومن خواتین نہ ہوتے ......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

11347

Majma al-Zawaid #11347

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: 29] قَالَ: "" النُّورُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ explained Allah's saying, "Their mark is upon their faces from the trace of prostration": > **"It is light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان کی مخصوص نشانی ‘ ان کے چہروں پر موجود سجدے کا نشان ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس سے مراد قیامت کے دن نور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رؤاد بن جراح ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے .

11348

Majma al-Zawaid #11348

وَعَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِذْ جَاءَ الزُّبَيْرُ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَفِي وَجْهِهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ الزُّبَيْرُ، قَالَ: لَقَدْ أَفْسَدَ هَذَا وَجْهَهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا هِيَ السِّيمَاءِ الَّتِي سَمَّاهَا اللَّهُ، وَلَقَدْ صَلَّيْتُ عَلَى وَجْهِي مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً مَا أَثَّرَ السُّجُودُ بَيْنَ عَيْنَيَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Juayd ibn Abd al-Rahman said: I was with Al-Saib ibn Yazid when Al-Zubayr ibn Suhayl ibn Abd al-Rahman ibn Awf came with a mark of prostration on his face. When he saw him he said, who is this. It was said, Al-Zubayr. He said, he has ruined his face. By Allah, this is not the mark Allah named. I have prayed upon my face for eighty years and prostration has left no mark between my eyes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جعید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں سائب بن یزید کے پاس موجود تھا ‘ اسی دوران زبیر بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف تشریف لائے ‘ ان کے چہرے پر سجدے کا نشان موجود تھا ‘ جب سائب نے انہیں دیکھا تو دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہیں بتایا گیا یہ زبیر ہیں ‘ تو انہوں نے فرمایا : اس نے اپنے چہرے کو خراب کر لیا ہے ‘ اللہ کی قسم ! جس نشان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ‘ اُس سے مراد یہ والا نشان نہیں ہے ‘ میں اسی سال سے نماز پڑھ رہا ہوں ، لیکن میری دونوں آنکھوں کے درمیان تو کوئی نشان نہیں بنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11349

Majma al-Zawaid #11349

«عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ إِلَّا كَأَخِي السِّرَارِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه said: When this verse was revealed, "O you who believe, do not raise your voices above the voice of the Prophet," I said, O Messenger of Allah, by Allah I will not speak to you except as one speaking confidentially.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو ‘ نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ‘‘۔ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اب میں آپ کے ساتھ جب بھی بات کروں گا ‘ تو یوں کروں گا ‘ جیسے سرگوشی میں بات کی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمرو احمسی ہے اور وہ متروک ہے ‘ عجلی نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11350

Majma al-Zawaid #11350

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنْ يَكُ نَبِيًّا فَنَحْنُ أَسْعَدُ النَّاسِ بِهِ، وَإِنْ يَكُ مَلِكًا عِشْنَا فِي جَنَابِهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالُوا، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى حَجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلُوا يُنَادُونَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} [الحجرات: 4] فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُذُنِي فَقَالَ: "" لَقَدْ صَدَّقَ اللَّهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ رَاشِدٍ الطُّفَاوِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه said: Some Arabs came and said, come with us to this man; if he is a prophet we shall be the most fortunate of people by him, and if he is a king we shall live under his protection. I went to the Prophet ﷺ and informed him of what they said. Then they came to the Prophet's chambers calling, O Muhammad, O Muhammad. Allah revealed, "Indeed those who call you from behind the chambers, most of them do not understand." The Messenger of Allah ﷺ took my ear and said: > **"Allah has confirmed your word, O Zayd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ عرب لوگ آئے انہوں نے یہ کہا : تم ہمارے ساتھ ان صاحب کے پاس چلو ‘ اگر یہ نبی ہوئے ‘ تو ہم ان کے حوالے سے سب سے زیادہ سعادت مند لوگ بن جائیں گے اور اگر وہ بادشاہ ہوئے تو ہم ان کے سائے میں آرام سے رہیں گے ‘ تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ جو انہوں نے کہا تھا ‘ پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے حجروں کے پاس آئے اور بلند آواز میں کہنے لگے : اے حضرت محمد ! اے حضرت محمد ! تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک وہ لوگ جو حجروں کے باہر سے تمہیں پکارتے ہیں ‘ اُن میں سے زیادہ تر لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے میرے کان پکڑے اور ارشاد فرمایا : اے زید ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے قول کی تصدیق کر دی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن راشد طفاوی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11351

Majma al-Zawaid #11351

«وَعَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنْ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي لَشَيْنٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَاكُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ» "". كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ أَبُو سَلَمَةَ سَمِعَ مِنَ الْأَقْرَعِ، وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ كَإِسْنَادِ أَحْمَدَ الْآخَرِ.

EnglishUnverified translation

Al-Aqra ibn Habis called the Messenger of Allah ﷺ from behind the chambers, saying, O Messenger of Allah, but he did not answer him. He said, O Muhammad, my praise is adornment and my blame is disgrace. The Messenger of Allah ﷺ said, as Abu Salama narrated: > **"That is Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اقرع بن حابس کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُس نے حجروں کے باہر سے نبی اکرم ﷺ کو پکارا اور بولا : یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ‘ اُس نے کہا : اے محمد ! میری بیان کی ہوئی تعریف ‘ زینت کا باعث ہے اور میری بیان کی ہوئی مذمت ‘ بے عزتی کا باعث ہے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ بات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ( مخصوص ) ہے ۔ جس طرح ابوسلمہ نامی راوی نے بیان کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اگر ابوسلمہ نامی راوی نے اقرع بن حابس نامی راوی سے سماع کیا ہو ‘ ورنہ یہ روایت مرسل شمار ہو گی ، جس طرح امام احمد کی دوسری روایت کی سند ہے ۔

11352

Majma al-Zawaid #11352

«عَنِ الْحَارِثِ بْنِ ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَقْرَرْتُ بِهِ وَدَخَلْتُ فِيهِ، وَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّكَاةِ. فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهُ، وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا سَرَوَاتِ قَوْمِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ وَقَّتَ [لِي] وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الزَّكَاةِ، وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُلْفُ، وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ، فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ [إِلَى الْحَارِثِ] لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ، فَلَمَّا أَنَّ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرَقَ فَرَجَعَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: [يَا رَسُولَ اللَّهِ] إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي. فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ، فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ، إِذِ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَقِيَهُمُ الْحَارِثُ، فَقَالُوا: هَذَا الْحَارِثُ، فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ: إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ؟ قَالُوا: إِلَيْكَ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ، قَالَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ الْبَتَّةَ وَلَا أَتَانِي. فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي؟ ""، قَالَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً، وَلَا أَتَانِي، وَمَا احْتَبَسْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6] إِلَى هَذَا الْمَكَانِ {فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [الحجرات: 8]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ سِرَارٍ بَدَلَ ضِرَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Harith ibn Dirar al-Khuzai رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and he invited me to Islam, so I affirmed it and entered it, and invited me to zakat, so I affirmed it. I said, O Messenger of Allah, I shall return to my people and call them to Islam and payment of zakat; whoever responds I shall gather his zakat, and you send a messenger to me at such-and-such time to receive what I gathered. When Harith gathered the zakat and the appointed time the Messenger ﷺ intended to send arrived, the messenger was withheld and did not come. Harith thought some anger from Allah and His Messenger had occurred, so he called the chiefs of his people and said, the Messenger ﷺ fixed a time to send his messenger to collect what I hold, and breaking promise is not of him; I see his messenger's detention only as some anger, so let us go to the Messenger ﷺ. Meanwhile the Messenger of Allah ﷺ sent Al-Walid ibn Uqba to Harith to collect the gathered zakat. When Walid set out partway he became frightened and returned, came to the Messenger ﷺ and said, Harith withheld zakat and sought to kill me. The Messenger ﷺ dispatched a force to Harith. Harith came forward with his companions, met the force outside Medina, and they said, this is Harith. When he reached them he said, to whom were you sent. They said, to you. He asked why. They said, the Messenger ﷺ sent Walid to you and he claimed you withheld zakat and sought to kill him. He said, no, by the One who sent Muhammad with truth, I never saw him at all nor did he come to me. When Harith entered upon the Messenger ﷺ, he said: > **"Did you withhold zakat and seek to kill my messenger?"** He said, no, by the One who sent you with truth, I never saw him at all nor did he come to me; I held back only when your messenger was withheld from me, fearing anger from Allah and His Messenger. Then were revealed the verses of Al-Hujurat, "O you who believe, if a corrupt one comes to you with news, verify, lest you strike a people in ignorance and become regretful over what you did," up to "favor from Allah and blessing, and Allah is Knowing."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ‘ میں نے اس کا اقرار کر لیا اور اسلام میں داخل ہو گیا ‘ آپ نے مجھے زکوۃ کی دعوت دی ، میں نے اس کا اقرار کر لیا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی قوم کی طرف واپس جا کر انہیں اسلام کی طرف اور زکوۃ کی ادائیگی کی طرف دعوت دوں ؟ جو شخص میری دعوت قبول کر لے گا ‘ میں اس کی زکوۃ اکٹھی کروں گا اور پھر نبی اکرم ﷺ اتنے عرصے کے بعد اپنے قاصد کو ‘ میرے پاس بھیج دیں ، تو جب حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے ‘ ان لوگوں سے زکوۃ جمع کر لی ‘ اور وہ وقت آ گیا ‘ جس میں نبی اکرم ﷺ نے ‘ اپنے قاصد کو ان لوگوں کی طرف بھیجنا ہے ‘ تو وہ قاصد وہاں نہیں آیا ‘ حضرت حارث رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید ان کے بارے میں ‘ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی ناراضگی سامنے آئی ہے تو انہوں نے اپنی قوم کے معززین کو بلوایا اور ان سے کہا : اللہ کے رسول نے میرے ساتھ ایک وقت طے کیا تھا کہ جس میں آپ اپنے قاصد کو میرے پاس بھیجیں گے ‘ تاکہ وہ میرے پاس موجود زکوۃ کو وصول کر لے ‘ تو اللہ کے رسول کی طرف سے تو وعدہ خلافی نہیں ہو سکتی ، میں یہ سجھتا ہوں کہ وہ قاصد کیونکہ نہیں آیا ہے ‘ تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی ناراضگی ہے ‘ تو تم لوگ چلو ! ہم اللہ کے رسول کے پاس جاتے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو حارث کی طرف بھیجا ‘ تاکہ وہ ان سے ان کے پاس موجود جمع شدہ زکوۃ لے لیں جب ولید روانہ ہوئے اور راستے میں کسی جگہ پر پہنچے ‘ تو انہیں کچھ خیال آیا وہ واپس آئے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حارث نے مجھے زکوۃ نہیں دی ‘ اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حارث کی طرف ایک جنگی مہم بھیجی ‘ اسی دوران حارث اپنے ساتھیوں کو لے کر آ رہے تھے ‘ ان کا اس مہم سے سامنا ہوا ‘ یہ مدینہ منورہ سے باہر کی بات ہے ‘ جب حارث کا ان لوگوں سے سامنا ہوا ‘ تو ان لوگوں نے کہا : یہ تو حارث ہے ‘ جب وہ ان کے پاس پہنچ گئے ‘ تو حارث نے ان سے دریافت کیا : تم لوگوں کو کس کی طرف بھیجا گیا ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : تمہاری طرف ‘ حارث نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ان لوگوں نے بتایا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو تمہاری طرف بھیجا تھا ‘ اُس کا یہ کہنا ہے کہ تم نے اسے زکوۃ بھی نہیں دی اور تم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا ‘ تو حارث نے کہا : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں نے تو اُسے دیکھا بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے ‘ جب حارث ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے زکوۃ بھی نہیں دی اور میرے قاصد کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا ؟ حارث نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں نے تو اسے سرے سے دیکھا ہی نہیں ‘ اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے جب اللہ کے رسول کا قاصد متعین وقت تک میرے پاس نہیں آیا ‘ تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو راوی بیان کرتے ہیں : تو اس بارے میں سورت حجرات کی یہ آیات نازل ہوئیں : ’’ اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ‘ تو تم تحقیق کر لیا کرو ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیے ہوئے پر نادم ہو ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل اور نعمت ‘ اور اللہ تعالیٰ علم والا ‘ حکمت والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے حارث بن ضرار کی جگہ لفظ حارث بن سرار نقل کیا ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

11353

Majma al-Zawaid #11353

«وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ: بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ يُصَدِّقُ أَمْوَالَنَا، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَّا، وَذَلِكَ بَعْدَ وَقْعَةِ الْمُرَيْسِيعِ، فَرَجَعَ، فَرَكِبْتُ فِي أَثَرِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُ قَوْمًا فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ، أَخَذُوا اللِّبَاسَ وَمَنَعُوا الصَّدَقَةَ. فَلَمْ يُغَيِّرِ [ذَلِكَ] النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ} [الحجرات: 6] الْآيَةَ. فَأَتَى الْمُصْطَلِقُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَثَرَ الْوَلِيدِ بِطَائِفَةٍ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ يَسُوقُونَهَا وَبِنَفَقَاتٍ يَحْمِلُونَهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ وَأَنَّهُمْ خَرَجُوا يَطْلُبُونَ الْوَلِيدَ بِصَدَقَاتِهِمْ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَدَفَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ مَعَهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِكَ فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ، وَكُنَّا نَتَلَقَّاهُ فَبَلَغَنَا رَجْعَتُهُ فَخِفْنَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنْ سُخْطٍ عَلَيْنَا، وَعَرَضُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَشْتَرُوا مِنْهُ مَا بَقِيَ، وَقَبِلَ مِنْهُمُ الْفَرَائِضَ وَقَالَ: " ارْجِعُوا بِنَفَقَاتِكُمْ، لَا نَبِيعُ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَاتِ حَتَّى نَقْبِضَهُ ". فَرَجَعُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ، وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَنْ يَقْبِضُ بَقِيَّةَ صَدَقَاتِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Alqama ibn Najiya رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ sent us Al-Walid ibn Uqba ibn Abi Muayt to collect our wealth after the battle of Muraysi. He traveled until near us, then returned. I rode after him. He came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, I came to a people in their ignorance; they took up arms and withheld charity. The Prophet ﷺ did nothing until was revealed, "O you who believe, if a corrupt one comes to you with news." Then the Mustaliq came after Walid to the Prophet ﷺ with a portion of their charities driving them and provisions carrying them. They told him they had gone out seeking Walid with their charities but did not find him, and handed over what they had, saying, O Messenger of Allah, we heard of your envoy's departure and rejoiced and went to meet him; when we heard of his return we feared it was from anger against us. They offered that he buy from them what remained. He accepted the obligations from them and said: > **"Return with your provisions; we do not sell anything of charity until we take possession of it."** So they returned to their families, and he sent to them one to collect the rest of their charities.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علقمہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کو ہماری طرف بھیجا ‘ تاکہ وہ ہمارے اموال کی زکوۃ وصول کرے ‘ وہ روانہ ہوا جب وہ ہمارے قریب پہنچا تو واپس چلا گیا ‘ یہ غزوہ مریسیع کے بعد کی بات ہے ‘ میں سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسی قوم کے پاس گیا ‘ جو ابھی بھی زمانہ جاہلیت کے سے ہیں ‘ انہوں نے لباس لے لیا اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کیا تھا کہ اس حوالے سے یہ آیت نازل ہو گئی : ’’ اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے .......‘‘۔ پھر بنو مصطلق کے لوگ ولید کے پیچھے اپنے صدقات کے جانور وغیرہ ہانک کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیگر چیزیں بھی تھیں جو ان پر لادے ہوئی تھیں ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ کہ وہ لوگ ولید کی تلاش میں اپنے صدقات لے کر نکلے تھے ‘ انہیں ولید نہیں ملے ‘ تو وہ چیزیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے کر دیں ، جو ان کے پاس تھیں ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ آپ کا نمائندہ روانہ ہو گیا ہے ، ہم اس بات سے خوش تھے ہم اس سے مانا چاہتے تھے ‘ لیکن ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ واپس چلا گیا ہے ‘ تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ ہم پر کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو ‘ پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات پیش کی کہ نبی اکرم ﷺ باقی رہ جانے والی چیزیں ان سے خرید لیں اور جو زکوۃ ہے ‘ وہ ان سے وصول کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے اخراجات کی چیزیں واپس لے جاؤ ‘ ہم صدقات میں سے کوئی چیز اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے ‘ جب تک اسے قبضے میں نہیں لے لیتے ‘ تو وہ لوگ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس چلے گئے اور ان کے صدقات کے بقایا جات میں سے جو چیزیں تھیں ‘ وہ نبی اکرم ﷺ نے اُن کی طرف بھیجوا دیں .

11354

Majma al-Zawaid #11354

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ عَلْقَمَةَ أَيْضًا: أَنَّهُ كَانَ فِي بَنِي عَبْدِ الْمُصْطَلِقِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَمْرِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" انْصَرِفُوا غَيْرَ مَحْبُوسِينَ وَلَا مَحْصُورِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration also from Alqama, concerning the delegation of Banu Abd al-Mustaliq to the Messenger of Allah ﷺ in the affair of Al-Walid ibn Uqba, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Depart, neither detained nor confined."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : علقمہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ کے معاملے میں بنو مصطلق کا جو وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ‘ وہ اُس میں شامل تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا :’’ تم لوگ واپس چلے جاؤ ! ایسی حالت میں کہ نہ تمہیں محسوس کیا گیا ہو ‘ اور نہ ہی تمہیں محصور کیا گیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اُسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11355

Majma al-Zawaid #11355

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ إِلَى بَنِي وَلِيعَةَ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ شَحْنَاءُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ اسْتَقْبَلُوهُ لِيَنْظُرُوا مَا فِي نَفْسِهِ، فَخَشِيَ الْقَوْمَ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ بَنِي وَلِيعَةَ أَرَادُوا قَتْلِي وَمَنَعُونِي الصَّدَقَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ بَنِي وَلِيعَةَ الَّذِي قَالَ الْوَلِيدُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ كَذَبَ الْوَلِيدُ، وَلَكِنْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ شَحْنَاءُ فَخَشِينَا أَنْ يُعَاقِبَنَا بِالَّذِي كَانَ بَيْنَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا كَنَفْسِي، يَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَيَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ وَهُوَ هَذَا ""، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى كَتِفِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْوَلِيدِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ} [الحجرات: 6] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ التَّمِيمِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ sent Al-Walid ibn Uqba to Banu Walia, between whom there was hatred in pre-Islamic times. When he reached them they came out to meet him to see what was in his heart, so he feared the people and returned to the Messenger ﷺ saying, Banu Walia sought to kill me and withheld charity. When what Walid said reached them, they came to the Messenger ﷺ and said, O Messenger of Allah, Walid lied; there was old hatred between us and him, and we feared he would punish us for it. The Messenger of Allah ﷺ had said: > **"Banu Walia shall desist, or I shall send to them a man like myself, who will kill their fighters and take captive their offspring, and it is this one."** Then he struck with his hand upon the shoulder of Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه. And Allah revealed concerning Walid, "O you who believe, if a corrupt one comes to you with news," the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو بنو ولیعہ کی طرف بھیجا ان لوگوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی ‘ جب بنو ولیعہ کو اس بات کا پتہ چلا ‘ تو انہوں نے ولید بن عقبہ کا استقبال کیا ‘ تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ اس کے من میں کیا ہے ؟ تو ولید ان لوگوں سے ڈر گیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس گیا اور بولا : بنو ولیعہ نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے اور مجھے زکوۃ دینے سے انکار بھی کر دیا ہے ‘ جب بنو ولیعہ کو اس بات کا پتہ چلا ‘ جو ولید نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے کی تھی ، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولید نے غلط بیانی کی ہے ‘ ہمارے اور اس کے درمیان زمانہ جاہلیت میں دشمنی چلی آ رہی تھی ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ہمارے درمیان جو پہلے کی دشمنی ہے ، کہیں یہ اس حوالے سے ہمیں نقصان نہ پہنچائے ‘ ( اس سے پہلے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ یا تو بنو ولیعہ باز آ جائیں گے ‘ یا میں ان لوگوں کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا ‘ جو میری مانند ہو گا ‘ وہ ان کے جنگجو لوگوں کو قتل کر دے گا اور بال بچوں کو قیدی بنا لے گا اور وہ یہ شخص ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے کندھے پر مارا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت ولید کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص ‘ کوئی اطلاع لے کر تمہارے پاس آئے .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس تمیمی ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11356

Majma al-Zawaid #11356

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهَا فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِيمَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ صَلَّى عِنْدِي فِي بَيْتِي تِلْكَ الرَّكْعَتَيْنِ، مَا صَلَّاهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ».

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported: The Prophet ﷺ returned to her house and prayed in it two rakas after Asr. Aisha sent to Umm Salama asking, what is this prayer the Prophet ﷺ prayed in your house. She said, the Prophet ﷺ used to pray two rakas after Zuhr. The delegation of Banu Mustaliq came concerning what their collector Walid ibn Uqba had done with them, and kept excusing themselves to the Prophet ﷺ until the caller came summoning him to Asr prayer. He prayed the obligatory prayer, then prayed with me in my house those two rakas, which he had prayed neither before nor after.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اُن کے گھر واپس تشریف لائے ‘ آپ نے عصر کے بعد ان کے گھر میں دو رکعت ادا کیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ کون سی نماز تھی ؟ جو نبی اکرم ﷺ نے آپ کے گھر میں ادا کی ہے ‘ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : نبی اکرم ﷺ ظہر کے بعد دو رکعت ( سنتیں ) ادا کیا کرتے تھے ‘ بنو مصطلق کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور عامل ( یعنی زکوۃ کی وصولی کے نگران شخص ) ولید بن عقبہ نے ان کے ساتھ جو کیا تھا ‘ اُس سلسلے میں وہ لوگ حاضر ہوئے تھے ‘ اور وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے سامنے مسلسل معذرت پیش کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ مؤذن آیا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو عصر کی نماز کے لئے بلا لیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرض نماز ادا کر لی ‘ پھر آپ نے میرے گھر میں ‘ میرے ہاں وہ دو رکعت ادا کیں ( جو آپ ظہر کے بعد ادا نہیں کر پائے تھے ) آپ نے اُس سے پہلے ‘ یا اُس کے بعد یہ دو رکعت کبھی ادا نہیں کی ہیں ۔

11357

Majma al-Zawaid #11357

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ نَزَلَ فِي بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِيمَا صَنَعَ بِهِمْ عَامِلُهُمُ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: 6] الْآيَةَ، قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَيْهِمْ يُصَدِّقُ أَمْوَالَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ أَقْبَلَ رَكْبٌ مِنْهُمْ، فَقَالُوا: نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْمِلُهُ. فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ ظَنَّ أَنَّهُمْ سَارُوا إِلَيْهِ لِيَقْتُلُوهُ، فَرَجَعَ فَقَالَ: إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مَنَعُوا صَدَقَاتِهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، وَصَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الصَّفِّ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ انْصَرَفُوا فَقَالُوا: إِنَّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، سَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ يُصَدِّقُ أَمْوَالَنَا فَسُرِرْنَا بِذَلِكَ وَقَرَّتْ بِهِ أَعْيُنُنَا، وَأَرَدْنَا أَنْ نَلْقَاهُ وَنَسِيرَ مَعَ رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْنَا أَنَّهُ رَجَعَ، فَحَسِبْنَا أَنْ يَكُونَ رَدَّهُ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ عَلَيْنَا، فَلَمْ يَزَالُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ مَا يَتَعَلَّقُ بِالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama رضي الله عنها reported that there was revealed concerning Banu Mustaliq, regarding what their collector Walid ibn Uqba did with them, "O you who believe, if a corrupt one comes to you with news, verify": The Prophet ﷺ had sent him to them to collect their wealth. When they heard of him a party rode out saying, we shall travel with the Messenger's messenger and carry him. When he heard that he thought they rode out to kill him, so he returned and said, O Messenger of Allah, Banu Mustaliq withheld their charities. The people came on until Medina, lined behind the Messenger of Allah ﷺ in prayer, and when he finished they said, we seek refuge in Allah from Allah's anger and His Messenger's anger. O Messenger of Allah, we heard of your envoy to collect our wealth and rejoiced and our eyes were cooled; we wished to meet him and travel with him, then heard he returned, so we thought his return was from anger of Allah and His Messenger upon us. They kept excusing themselves to the Prophet ﷺ until this verse was revealed concerning them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ آیت بنو مصطلق کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جو ان کے زکوۃ کی وصولی کے نگران ‘ ولید بن عقبہ کے ‘ اُن لوگوں کے ساتھ طرز عمل کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ایمان والو ! اگر کوئی فاسق شخص کوئی اطلاع لے کر تمہارے پاس آئے تو تم تحقیق کر لیا کرو ‘‘۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا ‘ تاکہ وہ ان لوگوں کے اموال کی زكوة وصول کرے ‘ جب ان لوگوں نے اس کی آمد کے بارے میں سنا ‘ تو کچھ شہسوار آ گئے ان لوگوں نے کہا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے بھیجے ہوئے فرد کے ساتھ سفر کریں گے اور اس کو سواری فراہم کریں گے ‘ جب ولید نے ( ان کی آمد کی آواز ) سنی ‘ تو وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ لوگ اس کے پاس اسے قتل کرنے کے لئے آ رہے ہیں ، تو وہ واپس چلا گیا ‘ اس نے بتایا : یا رسول اللہ ! کہ بنو مصطلق کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے ‘ اس قوم کے لوگ مدینہ منورہ آ گئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے ایک صف بنا لی ( اور نماز ادا کی ) جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کی ، تو وہ لوگ بھی نماز ختم کر کے آئے اور انہوں نے عرض کی : ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے ‘ اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ‘ یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے نمائندے کے بارے میں پتہ چلا کہ جس کو آپ نے بھجوایا ہے ‘ وہ ہمارے اموال کی زکوۃ وصول کرے گا ‘ تو ہم اس بات پر خوش ہوئے اور اس حوالے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں ، ہم نے اس سے ملنے کا ارادہ کیا ‘ تاکہ ہم اللہ کے رسول کے نمائندے کے ساتھ چلیں ، تو ہمیں یہ پتہ چلا کہ وہ واپس چلا گیا ہے ، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ شاید اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر کسی غضب کی وجہ سے یہ واپسی ہوئی ہے ‘ پھر وہ لوگ مسلسل نبی اکرم ﷺ کے سامنے معذرت پیش کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے صرف وہ حصہ منقول ہے ‘ جو عصر کے بعد دو رکعت ادا کرنے سے متعلق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11358

Majma al-Zawaid #11358

وَعَنْ مُجَاهِدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ مُصَدِّقًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ [بْنُ مُحَمَّدِ] بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reported: The Prophet ﷺ sent Al-Walid ibn Uqba ibn Abi Muayt to Banu Mustaliq as collector.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کو بنو مصطلق کی طرف زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11359

Majma al-Zawaid #11359

عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ، فَكَانَ إِذَا دَعَاهُ بِلَقَبِهِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَبِيرَةَ نَفْسِهِ، وَهُنَا عَنْهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Jubayra ibn al-Dahhak reported from his uncles: The Messenger of Allah ﷺ came to Medina, and there was none among us except he had one or two nicknames. When one was called by it we said, O Messenger of Allah, he dislikes it. Then Allah revealed, "Nor insult one another with nicknames," to the end of the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو جبیرہ بن ضحاک ‘ اپنے چچاؤں کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ اس وقت ہم میں سے ہر ایک شخص کا کوئی ایک لقب ‘ یا دو لقب ( یعنی برے نام ) ہوتے تھے ‘ جب کوئی شخص اُسے بلاتا تھا ‘ تو اس نام کے حوالے سے بلاتا تھا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ سنن ‘‘ میں حضرت ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کے طور پر مذکور ہے اور یہاں یہ ان کے حوالے سے ‘ ان کے چچاؤں سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں .

11360

Majma al-Zawaid #11360

«وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ قَالَ: كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِلَقَبِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Dahhak ibn Abi Jubayra رضي الله عنه said: They had nicknames in pre-Islamic times. The Messenger of Allah ﷺ called a man by his nickname, so it was said, O Messenger of Allah, he dislikes it. Then Allah revealed, "Nor insult one another with nicknames," to the end of the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضحاک بن ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت اُن کے برے نام ہوتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو اس کے لقب ( یعنی برے نام ) کے حوالے سے بلایا ‘ تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! شخص اس ( نام ) کو ناپسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور تم ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو .......‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11361

Majma al-Zawaid #11361

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى «أَنَّ نَاسًا مِنَ الْعَرَبِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْلَمْنَا وَلَمْ نُقَاتِلْكَ وَقَاتَلَتْكَ بَنُو فُلَانٍ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا} [الحجرات: 17] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Awfa رضي الله عنه reported that some Arabs said, O Messenger of Allah, we embraced Islam and did not fight you, while such-and-such tribe fought you. Then Allah revealed, "They remind you of favor that they embraced Islam," the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ عرب لوگوں نے یہ کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے ‘ ہم آپ کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے ‘ بنوفلاں آپ کے ساتھ جنگ کریں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ لوگ تم پر یہ احسان جتلاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ........‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ مدلس ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11362

Majma al-Zawaid #11362

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" افْتَخَرَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: يَا رَبِّ، يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي، أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعْتِ كُلَّ شَيْءٍ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا. فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ "" قَالَ: "" وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَأْتِيَهَا اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهَا [فَتَزْوِي] فَتَقُولُ: قَدْنِي قَدْنِي. وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ مُحَالًا عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، لِأَنَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ رَوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Paradise and Hell boasted. Hell said, O Lord, the tyrants, arrogant, kings and nobles shall enter me. Paradise said, the weak, poor and needy shall enter me. Allah said to Hell, you are My punishment, I afflict through you whom I will. And He said to Paradise, you are My mercy, encompassing all things, and each of you shall have its fill. Its people shall be cast into Hell and it will say, is there more. Again they shall be cast and it will say, is there more, until Allah comes to it and places His foot upon it and it contracts and says, enough, enough. As for Paradise, there shall remain in it what Allah wills to remain, and Allah shall create for it whatever creation He wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جنت اور جہنم نے ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کا اظہار کیا ‘ جہنم نے کہا : اے میرے پروردگار ! جابر ‘ متکبر بادشاہ اور معززین مجھ میں داخل ہوں گے ‘ جنت نے کہا : کمزور ‘ غریب اور مسکین لوگ مجھ میں داخل ہوں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا : تم میرا عذاب ہو ‘ میں تمہارے ذریعے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا ‘ اور جنت سے یہ فرمایا : تم میری رحمت ہو ‘ جو ہر چیز سے وسیع ہے ‘ اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھرا جائے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ جہنم میں اُس کے اہل افراد کو ڈالے گا ‘ تو وہ دریافت کرے گی : کیا اور ہیں ؟ اللہ تعالیٰ پھر اس میں ( لوگوں کو ) ڈالے گا : تو وہ دریافت کرے گی : کیا اور ہیں ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے پاس آئے گا اور اپنا قدم اُس پر رکھ دے گا ‘ تو وہ بل کھانے لگے گی اور کہے گی : بس ! بس ! جہاں تک جنت کا تعلق ہے ‘ تو جتنے لوگ ‘ اللہ کو منظور ہو گا ‘ اس میں رہیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جتنی مخلوق کو چاہے گا ‘ پیدا کرے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ‘ جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کی طرف منسوب ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ کیونکہ حماد بن سلمہ نے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے عطاء بن سائب سے روایات نقل کی تھیں ۔

11363

Majma al-Zawaid #11363

عَنْ أَنَسٍ فِي قَوْلِهِ {وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ} [ق: 35] قَالَ: يَتَجَلَّى لَهُمْ كُلَّ جُمُعَةٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه explained His saying, "And with Us is more": He manifests Himself to them every Friday.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہمارے پاس مزید ( نعمتیں ‘ یا ایک مخصوص نعمت ) ہے ‘‘۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ ہر جمعہ کے دن اُن لوگوں کے سامنے تجلی فرمائے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔