«عَنِ الْحَارِثِ بْنِ ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَقْرَرْتُ بِهِ وَدَخَلْتُ فِيهِ، وَدَعَانِي إِلَى الزَّكَاةِ فَأَقْرَرْتُ بِهَا، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْجِعُ إِلَى قَوْمِي فَأَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَدَاءِ الزَّكَاةِ، فَمَنِ اسْتَجَابَ لِي جَمَعْتُ زَكَاتَهُ، فَيُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَسُولًا لِإِبَّانِ كَذَا وَكَذَا لِيَأْتِيَكَ مَا جَمَعْتُ مِنَ الزَّكَاةِ. فَلَمَّا جَمَعَ الْحَارِثُ الزَّكَاةَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لَهُ، وَبَلَغَ الْإِبَّانَ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ احْتَبَسَ الرَّسُولُ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَظَنَّ الْحَارِثُ أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ سَخْطَةٌ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا سَرَوَاتِ قَوْمِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ وَقَّتَ [لِي] وَقْتًا يُرْسِلُ إِلَيَّ رَسُولَهُ لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الزَّكَاةِ، وَلَيْسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُلْفُ، وَلَا أَرَى حَبْسَ رَسُولِهِ إِلَّا مِنْ سَخْطَةٍ كَانَتْ، فَانْطَلِقُوا فَنَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ [إِلَى الْحَارِثِ] لِيَقْبِضَ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِمَّا جَمَعَ مِنَ الزَّكَاةِ، فَلَمَّا أَنَّ سَارَ الْوَلِيدُ حَتَّى بَلَغَ بَعْضَ الطَّرِيقِ فَرَقَ فَرَجَعَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: [يَا رَسُولَ اللَّهِ] إِنَّ الْحَارِثَ مَنَعَنِي الزَّكَاةَ وَأَرَادَ قَتْلِي. فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَعْثَ إِلَى الْحَارِثِ، فَأَقْبَلَ الْحَارِثُ بِأَصْحَابِهِ، إِذِ اسْتَقْبَلَ الْبَعْثَ وَفَصَلَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَقِيَهُمُ الْحَارِثُ، فَقَالُوا: هَذَا الْحَارِثُ، فَلَمَّا غَشِيَهُمْ قَالَ لَهُمْ: إِلَى مَنْ بُعِثْتُمْ؟ قَالُوا: إِلَيْكَ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَ إِلَيْكَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَزَعَمَ أَنَّكَ مَنَعْتَهُ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَهُ، قَالَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ الْبَتَّةَ وَلَا أَتَانِي. فَلَمَّا دَخَلَ الْحَارِثُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنَعْتَ الزَّكَاةَ وَأَرَدْتَ قَتْلَ رَسُولِي؟ ""، قَالَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُهُ بَتَّةً، وَلَا أَتَانِي، وَمَا احْتَبَسْتُ إِلَّا حِينَ احْتَبَسَ عَلَيَّ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ كَانَتْ سَخْطَةً مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْحُجُرَاتُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6] إِلَى هَذَا الْمَكَانِ {فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [الحجرات: 8]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ سِرَارٍ بَدَلَ ضِرَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Harith ibn Dirar al-Khuzai رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and he invited me to Islam, so I affirmed it and entered it, and invited me to zakat, so I affirmed it. I said, O Messenger of Allah, I shall return to my people and call them to Islam and payment of zakat; whoever responds I shall gather his zakat, and you send a messenger to me at such-and-such time to receive what I gathered. When Harith gathered the zakat and the appointed time the Messenger ﷺ intended to send arrived, the messenger was withheld and did not come. Harith thought some anger from Allah and His Messenger had occurred, so he called the chiefs of his people and said, the Messenger ﷺ fixed a time to send his messenger to collect what I hold, and breaking promise is not of him; I see his messenger's detention only as some anger, so let us go to the Messenger ﷺ. Meanwhile the Messenger of Allah ﷺ sent Al-Walid ibn Uqba to Harith to collect the gathered zakat. When Walid set out partway he became frightened and returned, came to the Messenger ﷺ and said, Harith withheld zakat and sought to kill me. The Messenger ﷺ dispatched a force to Harith. Harith came forward with his companions, met the force outside Medina, and they said, this is Harith. When he reached them he said, to whom were you sent. They said, to you. He asked why. They said, the Messenger ﷺ sent Walid to you and he claimed you withheld zakat and sought to kill him. He said, no, by the One who sent Muhammad with truth, I never saw him at all nor did he come to me. When Harith entered upon the Messenger ﷺ, he said: > **"Did you withhold zakat and seek to kill my messenger?"** He said, no, by the One who sent you with truth, I never saw him at all nor did he come to me; I held back only when your messenger was withheld from me, fearing anger from Allah and His Messenger. Then were revealed the verses of Al-Hujurat, "O you who believe, if a corrupt one comes to you with news, verify, lest you strike a people in ignorance and become regretful over what you did," up to "favor from Allah and blessing, and Allah is Knowing."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت حارث بن ضرار خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی ‘ میں نے اس کا اقرار کر لیا اور اسلام میں داخل ہو گیا ‘ آپ نے مجھے زکوۃ کی دعوت دی ، میں نے اس کا اقرار کر لیا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی قوم کی طرف واپس جا کر انہیں اسلام کی طرف اور زکوۃ کی ادائیگی کی طرف دعوت دوں ؟ جو شخص میری دعوت قبول کر لے گا ‘ میں اس کی زکوۃ اکٹھی کروں گا اور پھر نبی اکرم ﷺ اتنے عرصے کے بعد اپنے قاصد کو ‘ میرے پاس بھیج دیں ، تو جب حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے ‘ ان لوگوں سے زکوۃ جمع کر لی ‘ اور وہ وقت آ گیا ‘ جس میں نبی اکرم ﷺ نے ‘ اپنے قاصد کو ان لوگوں کی طرف بھیجنا ہے ‘ تو وہ قاصد وہاں نہیں آیا ‘ حضرت حارث رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید ان کے بارے میں ‘ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی ناراضگی سامنے آئی ہے تو انہوں نے اپنی قوم کے معززین کو بلوایا اور ان سے کہا : اللہ کے رسول نے میرے ساتھ ایک وقت طے کیا تھا کہ جس میں آپ اپنے قاصد کو میرے پاس بھیجیں گے ‘ تاکہ وہ میرے پاس موجود زکوۃ کو وصول کر لے ‘ تو اللہ کے رسول کی طرف سے تو وعدہ خلافی نہیں ہو سکتی ، میں یہ سجھتا ہوں کہ وہ قاصد کیونکہ نہیں آیا ہے ‘ تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی ناراضگی ہے ‘ تو تم لوگ چلو ! ہم اللہ کے رسول کے پاس جاتے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو حارث کی طرف بھیجا ‘ تاکہ وہ ان سے ان کے پاس موجود جمع شدہ زکوۃ لے لیں جب ولید روانہ ہوئے اور راستے میں کسی جگہ پر پہنچے ‘ تو انہیں کچھ خیال آیا وہ واپس آئے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حارث نے مجھے زکوۃ نہیں دی ‘ اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حارث کی طرف ایک جنگی مہم بھیجی ‘ اسی دوران حارث اپنے ساتھیوں کو لے کر آ رہے تھے ‘ ان کا اس مہم سے سامنا ہوا ‘ یہ مدینہ منورہ سے باہر کی بات ہے ‘ جب حارث کا ان لوگوں سے سامنا ہوا ‘ تو ان لوگوں نے کہا : یہ تو حارث ہے ‘ جب وہ ان کے پاس پہنچ گئے ‘ تو حارث نے ان سے دریافت کیا : تم لوگوں کو کس کی طرف بھیجا گیا ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : تمہاری طرف ‘ حارث نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ان لوگوں نے بتایا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ولید بن عقبہ کو تمہاری طرف بھیجا تھا ‘ اُس کا یہ کہنا ہے کہ تم نے اسے زکوۃ بھی نہیں دی اور تم نے اسے قتل کرنے کا ارادہ بھی کیا ‘ تو حارث نے کہا : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں نے تو اُسے دیکھا بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے ‘ جب حارث ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے زکوۃ بھی نہیں دی اور میرے قاصد کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا ؟ حارث نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں نے تو اسے سرے سے دیکھا ہی نہیں ‘ اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ہے جب اللہ کے رسول کا قاصد متعین وقت تک میرے پاس نہیں آیا ‘ تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ ہو راوی بیان کرتے ہیں : تو اس بارے میں سورت حجرات کی یہ آیات نازل ہوئیں : ’’ اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق شخص تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے ‘ تو تم تحقیق کر لیا کرو ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیے ہوئے پر نادم ہو ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل اور نعمت ‘ اور اللہ تعالیٰ علم والا ‘ حکمت والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے حارث بن ضرار کی جگہ لفظ حارث بن سرار نقل کیا ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔