وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَاتِلِ حَمْزَةَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: يَا مُحَمَّدُ كَيْفَ تَدْعُونِي وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ مَنْ قَتَلَ أَوْ أَشْرَكَ أَوْ زَنَى (يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا) وَأَنَا صَنَعْتُ ذَلِكَ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الفرقان: 70] فَقَالَ وَحْشِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا شَرْطٌ شَدِيدٌ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَلَعَلِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى هَذَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] فَقَالَ وَحْشِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا أَرَى بَعْدَ مَشِيئَةٍ فَلَا أَدْرِي يُغْفَرُ لِي أَمْ لَا؟ فَهَلْ غَيْرُ هَذَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] قَالَ وَحْشِيٌّ: هَذَا نَعَمْ، فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصَبْنَا مَا أَصَابَ وَحْشِيٌّ؟ قَالَ: "" هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبْيَنُ بْنُ سُفْيَانَ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ sent to Waḥshī ibn Ḥarb, killer of Ḥamzah رضي الله عنه, inviting him to Islam. He replied, O Muḥammad, how do you invite me while you claim that whoever kills, associates partners, or commits adultery shall meet punishment, multiplied for him on the Day of Resurrection wherein he abides humiliated — and I have done that? Is there any concession for me? So Allah revealed *Except whoever repents, believes and does righteous work — Allah will change their evils into good, and Allah is Forgiving, Merciful* [al-Furqān: 70]. Waḥshī said, O Muḥammad, this is a hard condition — except whoever repents and believes and does righteous work — perhaps I cannot do it. So Allah revealed *Indeed Allah does not forgive association with Him, but forgives less than that for whom He wills* [al-Nisāʾ: 48]. Waḥshī said, O Muḥammad, this depends upon His will; I know not whether I am forgiven. Is there other than this? So Allah revealed *O My servants who have transgressed against themselves, despair not of the mercy of Allah; indeed Allah forgives all sins* [al-Zumar: 53]. Waḥshī said, This is good — and he embraced Islam. The people asked, O Messenger of Allah, we committed what Waḥshī committed? He ﷺ said: > **"It is for the Muslims generally."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور اسے اسلام کی دعوت دی یہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ‘ تو وحشی نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ مجھے کیسے دعوت دے رہے ہیں ؟ جبکہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ جو شخص قتل کرے ‘ یا شرک کرے ‘ یا زنا کرے ‘ تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور قیامت کے دن اسے دگنا عذاب دیا جائے گا ‘ اور وہ رسوا ہو کر اس میں رہے گا ‘ میں نے تو یہ کام کیے ہوئے ہیں تو کیا آپ میرے لئے کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کر لے ‘ تو اللہ تعالٰی اُن لوگوں کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ تو وحشی نے عرض کی : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! یہ تو مشکل شرط ہے کہ جو شخص توبہ کر لے ‘ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے گا ‘ اس کا معاملہ مختلف ہے ‘ ہو سکتا ہے کہ میں یہ کام نہ کر سکوں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے ‘ وہ اُس کے علاوہ جس کی چاہے گا ‘ مغفرت کر دے گا ‘‘۔ تو وحشی نے عرض کی : اے حضرت محمد ( ﷺ ) میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہ چیز بھی اللہ کی مشیت کے بعد ہی ہے ‘ تو مجھے کیا پتہ کہ وہ میری مغفرت کرے گا ‘ یا نہیں کرے گا ؟ کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘ بے شک وہ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ تو وحشی نے کہا : یہ ٹھیک ہے ‘ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے بھی اسی طرح کے کاموں کا ارتکاب کیا ہے ‘ جن کا ارتکاب وحشی نے کیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ حکم مسلمانوں کے لئے عمومی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابین بن سفیان ہے ‘ جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔