Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 13

Book of Exegesis

Hadith 11284–11323

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11284

Majma al-Zawaid #11284

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ مُوسَى رَجُلًا حَيِيًّا، وَإِنَّهُ أَتَى - أَحْسَبُهُ قَالَ: الْمَاءَ - لِيَغْتَسِلَ، فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ وَكَانَ لَا يَكَادُ تَبْدُو عَوْرَتُهُ، فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ: إِنْ مُوسَى آدَرُ وَبِهِ آفَةٌ، يَعْنُونَ أَنَّهُ لَا يَضَعُ ثِيَابَهُ، فَاحْتَمَلَتِ الصَّخْرَةُ ثِيَابَهُ حَتَّى صَارَتْ بِحِذَاءِ مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَظَرُوا إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَحْسَنِ الرِّجَالِ "". أَوْ كَمَا قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا} [الأحزاب: 69]». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Mūsā was a shy man. He came to water to bathe and placed his clothes upon a rock, hardly ever exposing his nakedness. The Children of Israel said: Mūsā is afflicted with a swelling, meaning that is why he does not remove his clothes. So the rock carried his clothes until it stood before the gatherings of the Children of Israel, and they saw Mūsā as the most handsome of men. That is His saying: So Allah cleared him of what they said, and he was honored before Allah."** [al-Aḥzāb: 69]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک شرمیلے آدمی تھے ‘ وہ پانی کے پاس آئے تاکہ اس میں غسل کریں ‘ انہوں نے اپنے کپڑے ( اتار کر ) ایک پتھر پر رکھ دیے ‘ وہ اپنی شرمگاہ ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے ‘ بنی اسرائیل کے لوگ یہ کہتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خصیے پھولے ہوئے ہیں ‘ انہیں بیماری لاحق ہے ‘ ان کا مقصد یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اسی وجہ سے اپنے کپڑے نہیں اتارتے ہیں ‘ اس پتھر نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کپڑے اٹھائے ‘ اور چلتا ہوا بنی اسرائیل کے بیٹھنے کی جگہ کے مد مقابل آ گیا ‘ لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیا کہ وہ خوبصورت ترین فرد ہیں ‘‘۔ یا جس طرح بھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ وہ لوگ جو کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اُس کے حوالے سے اُس ( یعنی موسیٰ ) کو بری ظاہر کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقام رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11285

Majma al-Zawaid #11285

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً ثُمَّ قَالَ: "" عَلَى مَكَانِكُمُ اثْبُتُوا "". ثُمَّ أَتَى الرِّجَالَ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهِ وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ""، ثُمَّ تَخَلَّلَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُنَّ: "" اللَّهُ أَمَرَنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي النِّسَاءِ: "" «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقِينَ اللَّهَ وَأَنْ تَقُلْنَ قَوْلًا سَدِيدًا» ""، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Qays رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer, then said: > **"Remain in your places."** Then he came to the men and said: > **"Indeed Allah has commanded me to command you to fear Allah and to speak upright speech."** Then he went among the women and said to them: > **"Allah has commanded me to command you to fear Allah and to speak upright speech."** This is concerning *O you who believe, fear Allah and speak upright speech* [al-Aḥzāb: 70].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ‘ پھر آپ مردوں کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو یہ حکم دوں کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو ‘ پھر آپ خواتین کے پاس تشریف لے گئے ‘ آپ نے ان سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں یہ حکم دوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور تم سیدھی بات کرو ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے خواتین کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تم خواتین کو یہ حکم دوں کہ تم خواتین اللہ سے ڈرو اور تم خواتین سیدھی بات کرو ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مضطرب الحدیث ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11286

Majma al-Zawaid #11286

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ سَبَأٍ، مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ؟ قَالَ: "" بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَسَكَنَ الشَّامَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرٌ عَرَبًا كُلُّهَا، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that a man asked the Prophet ﷺ about Sabāʾ: Is it a man, a woman, or a land? He ﷺ said: > **"Rather it is a man who fathered ten. Six of them settled in Yemen and four in al-Shām. As for the Yemenis: Madhḥij, Kindah, al-Azd, al-Ashʿariyyūn, Anmār and Ḥimyar — all Arabs. As for the Syrians: Lakhm, Judhām, ʿĀmilah and Ghassān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے ’’ سبا ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کوئی مرد ہے ؟ یا عورت ہے ؟ یا سرزمین ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ مرد ہے ‘ جس کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تھے ‘ ان میں سے چھ نے یمن میں سکونت اختیار کی ‘ اور ان میں سے چار نے شام میں سکونت اختیار کی ‘ جہاں تک یمنی بیٹوں کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں : مذحج ، کنده ، ازد ، اشعریون ، انمار اور حمیر ‘ یہ سب عرب ہیں ، جہاں تک شامی بیٹوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ یہ ہیں لخم ، جذام ، عاملہ اور غسان ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11287

Majma al-Zawaid #11287

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ السُّلَمِيِّ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سَبَأٌ؟ نَبِيٌّ كَانَ أَوِ امْرَأَةٌ؟ قَالَ: "" كَانَ رَجُلًا مِنَ الْعَرَبِ ""، فَقَالَ: مَا وَلَدَ؟ قَالَ: "" وَلَدَ عَشَرَةً، سَكَنَ الْيَمَنَ سِتَّةٌ وَالشَّامَ أَرْبَعَةٌ، فَالَّذِينَ بِالْيَمَنِ كِنْدَةُ وَمَذْحِجٌ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرٌ، وَبِالشَّامِ لَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Ḥuṣayn al-Sulamī رضي الله عنه reported that a man asked, O Messenger of Allah, what is Sabāʾ — a prophet or a woman? He ﷺ said: > **"He was a man from the Arabs."** He asked, What children did he have? He ﷺ said: > **"He fathered ten: six settled in Yemen and four in al-Shām. Those in Yemen: Kindah, Madhḥij, al-Azd, al-Ashʿariyyūn, Anmār and Ḥimyar. In al-Shām: Lakhm, Judhām, ʿĀmilah and Ghassān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن حصین سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سبا سے مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کوئی نبی تھا ؟ یا کوئی عورت ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ عربوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ‘ اس نے دریافت کیا : اس کے کتنے بچے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے بتایا : اس کے دس بچے تھے ‘ جن میں سے چھ نے یمن میں سکونت اختیار کی ‘ اور چار نے شام میں سکونت اختیار کی ‘ جو لوگ یمن میں رہے ‘ ان کے نام یہ ہیں : کندہ ، مذحج ، ازد ، اشعریون ، انمار اور حمیر ‘ اور شام میں جو رہے اُن کے نام یہ ہیں : لخم ، جذام ، عاملہ اور غسان ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد علی بن حسن بن صالح صائغ کا معاملہ مختلف ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

11288

Majma al-Zawaid #11288

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُوحِيَ بِأَمْرِهِ تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ، فَإِذَا تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ أَخَذَتِ السَّمَاءَ رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ مِنْ خَوْفِ اللَّهِ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ صَعِقُوا وَخَرُّوا سُجَّدًا، فَيَكُونُ أَوَّلُهُمْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ جِبْرِيلَ، فَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ مِنْ وَحْيِهِ بِمَا أَرَادَ فَيَنْتَهِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَى الْمَلَائِكَةِ، كُلَّمَا مَرَّ بِسَمَاءٍ سَأَلَهُ أَهْلُهَا: مَاذَا قَالَ رَبُّنَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَقُولُ كُلُّهُمْ مِثْلَ مَا قَالَ جِبْرِيلُ، فَيَنْتَهِي بِهِ جِبْرِيلُ حَيْثُ أُمِرَ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ بِغَيْرِ [قَادِحٍ مُعَيَّنٍ]، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Nawwās ibn Samʿān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When Allah intends to reveal a matter, He speaks the revelation. When He speaks it, the heaven is seized with violent trembling from fear of Allah. When its people hear it they fall unconscious and prostrate. The first to raise his head is Jibrīl عليه السلام. Allah addresses him from His revelation with what He wills. Jibrīl passes with it over the angels; whenever he passes a heaven its people ask, What did our Lord say, O Jibrīl? He says: The truth, and He is the Most High, the Most Great. They all repeat what Jibrīl said. Then Jibrīl carries it to where he was commanded in heaven and earth."** This is concerning *They said: The truth, and He is the Most High, the Most Great* [Sabāʾ: 23].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ کسی حکم کے بارے میں وحی نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے ‘ تو جب وہ وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے ‘ تو آسمان پر شدید کپکپی طاری ہوتی ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے ‘ جب آسمان والے اس کو سنتے ہیں ، تو وہ سجدے میں گر جاتے ہیں ، حضرت جبرائیل علیہ السلام ان میں سے سب سے پہلے سر اٹھاتے ہیں ، پھر اللہ تعالٰی اپنی وحی کے حوالے سے ان سے جو چاہتا ہے ‘ وہ کلام کرتا ہے ‘ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے لے کر فرشتوں کے پاس آتے ہیں ‘ وہ جس بھی آسمان سے گزرتے ہیں ، تو اس آسمان والے اُن سے دریافت کرتے ہیں : اے حضرت جبرائیل ! ہمارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں : وہ بات حق ہے اور وہ پروردگار بلند و برتر ( اور ) بڑا ہے ‘ تو تمام فرشتے وہی بات کہتے ہیں ، جو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہی ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس حکم کو لے کر وہاں آ جاتے ہیں ‘ جہاں کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا ہو ‘ خواہ اُس کا تعلق زمین سے ہو ‘ یا آسمان سے ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اس کے بارے میں کسی متعین قدح کے بغیر کلام کیا گیا ہے اور قدح کرنے والے کا نام بھی بیان نہیں کیا گیا ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11289

Majma al-Zawaid #11289

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «{فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ} [فاطر: 32] قَالَ: الَّذِينَ سَبَقُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا، وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ، ثُمَّ هُمُ الَّذِينَ يَتَلَقَّاهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِرَحْمَتِهِ فَهُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ - الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ} [فاطر: 34 - 35]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَهِيَ هَذِهِ إِنْ كَانَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ سَمِعَ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَإِنَّهُ تَابِعِيٌّ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say concerning *Among them is one wronging himself, among them is one moderate, and among them is one foremost in good deeds by Allah's permission* [Fāṭir: 32]: > **"Those who are foremost are those who enter Paradise without reckoning. As for the moderate, they are those judged with an easy reckoning. As for those who wronged themselves, they are detained long in the gathering, then Allah meets them with His mercy. They are those who will say: Praise be to Allah who has removed sorrow from us; indeed our Lord is Forgiving, Appreciative — who has settled us in the abode of permanence by His bounty; no toil touches us therein nor weariness."** [Fāṭir: 34-35]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ ان میں سے کچھ لوگ ‘ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ‘ اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ‘ اور ان میں سے کچھ لوگ ‘ اللہ کے اذن کے تحت بھلائی میں سبقت لے جانے والے ہیں ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے ‘ جو سبقت لے جانے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ‘ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے ‘ جو میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ‘ تو یہ وہ لوگ ہیں ‘ جن سے معمولی سا حساب لیا جائے گا ‘ اور جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے ‘ جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ‘ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ یہ میدان محشر میں موجود رہیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ان سے ملاقات کرے گا اور یہی وہ لوگ ہیں جو یہ کہیں گے : ’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ‘ بے شک ہمارا پروردگار مغفرت کرنے والا ‘ شکر کو قبول کرنے والا ہے ‘ جس نے اپنے فضل کے تحت ‘ قیام کی جگہ کو ہمارے لئے حلال قرار دیا ‘ جہاں ہمیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی اور کوئی شور غوغا نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور وہ یہی روایت ہے ‘ اگر علی بن عبداللہ ازدی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ‘ ویسے وہ شخص تابعی ہے ۔

11290

Majma al-Zawaid #11290

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ عَنِ الشَّامِيِّ نَفْسِهِ أَنَّهُ دَخَلَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ] وَقَالَ: اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَصِلْ وَحْدَتِي وَائْتِنِي بِرَجُلٍ صَالِحٍ تَنْفَعُنِي بِهِ. فَإِذَا رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ قَالَ الشَّامِيُّ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَبُو الدَّرْدَاءِ، مَا هَاجَكَ عَلَى مَا أَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ بِدُعَائِهِ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِدُعَائِكَ مِنْكَ، أَفَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا أُتْحِفُكَ بِهِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ""، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتٍ أَوْ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِاخْتِصَارٍ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ وَمَنْ قَبْلَهُ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ رَجُلٌ غَيْرُ مُسَمًّى.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn ʿAbdillāh al-Azdī reported from a Syrian that he entered the Mosque of the Messenger of Allah ﷺ, prayed two rakʿahs, and said, O Allah, comfort my loneliness, have mercy on my estrangement, join my solitude, and bring me a righteous man to benefit me. A man sat beside him. When he finished, the Syrian asked, Who are you? He said, Abū al-Dardāʾ. Why did you do what I saw? So he informed him of his supplication. He said, If you are truthful, I am happier with your supplication than you. Shall I not narrate to you a hadith as a gift? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Allah said: Then We caused to inherit the Book those We chose from Our servants. As for those who are foremost, they are those who enter Paradise without reckoning."** Then he mentioned the like of the preceding hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن عبدالله ازدی نے ‘ شامی نامی راوی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں داخل ہوئے اور وہاں انہوں نے دو رکعت ادا کیں اور یہ دعا کی :’’ اے اللہ ! میری وحشت میں غمخوار دیدے ‘ میری غریب الوطنی پر رحم فرما ‘ اور میرے اکیلے پن کے ساتھ کسی کو ملا دے اور مجھے ایسا نیک شخص عطا فرما دے ‘ جس کے ذریعے تو مجھے نفع دے ‘‘۔ تو اُس شخص کے پہلو میں ایک صاحب موجود تھے ‘ جب وہ شخص دعا کر کے فارغ ہوا ‘ تو اس شامی نے کہا : آپ کون ہیں ؟ تو ان صاحب نے کہا : ابودرداء ‘ انہوں نے کہا : میں نے جو چیز دیکھی ہے تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو انہوں نے اپنی دعا کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : اگر تم سچے ہو ‘ تو میں تمہاری دعا کے حوالے سے تم سے زیادہ سعادت مند ہوں ، کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں ؟ جو میں تمہیں تحفے کے طور پر دوں گا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ پھر ہم نے کتاب کا وارث اُن لوگوں کو بنایا ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا تھا ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) وہ لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ........‘‘۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ کہا ہے : یہ اعمش کے حوالے سے ثابت ‘ یا ابوثابت سے منقول ہے : ’’ ایک شخص مسجد میں ، یعنی مسجد دمشق میں داخل ہوا .......‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بھی کچھ منقول ہے اور اس میں ایک راوی ثابت بن عبید ہے ‘ اس سے پہلے کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

11291

Majma al-Zawaid #11291

«وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} [فاطر: 32] قَالَ: "" السَّابِقُ بِالْخَيْرَاتِ وَالْمُقْتَصِدُ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَالظَّالِمُ لِنَفْسِهِ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ، فَإِنْ كَانَ هُوَ ثَابِتَ بْنَ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ كَمَا تَقَّدَمَ عِنْدَ أَحْمَدَ فَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say concerning *Among them is one wronging himself, among them is one moderate, and among them is one foremost in good deeds* [Fāṭir: 32]: > **"The foremost in good and the moderate enter Paradise without reckoning, while the wrongdoer is judged with an easy reckoning and then enters Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ اور ان میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ‘ اور ان میں سے کچھ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ‘ اور ان میں سے کچھ بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے اور میانہ روی اختیار کرنے والے لوگ ‘ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ‘ اور اپنے اوپر ظلم کرنے والوں سے معمولی سا حساب لیا جائے گا ‘ اور پھر انہیں بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اعمش کے حوالے سے ایک شخص سے نقل کی ہے ‘ جس کا نام انہوں نے بیان کیا تھا ‘ اگر وہ ثابت بن عمیر انصاری ہے ‘ جیسا کہ امام احمد کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے ‘ تو پھر امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11292

Majma al-Zawaid #11292

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُمَّتِي ثَلَاثَةُ أَثْلَاثٍ فَثُلُثٌ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَثُلُثٌ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَثُلُثٌ يُمَحَّصُونَ وَيُكْشَفُونَ ثُمَّ تَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ: وَجَدْنَاهُمْ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، فَيَقُولُ: صَدَقُوا، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا، أَدْخِلُوهُمُ الْجَنَّةَ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، وَاحْمِلُوا خَطَايَاهُمْ عَلَى أَهْلِ التَّكْذِيبِ فَهِيَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ: {وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ} [العنكبوت: 13] وَتَصْدِيقُهَا فِي الَّتِي ذُكِرَ فِيهَا الْمَلَائِكَةُ، قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا} [فاطر: 32] فَجَعَلَهُمْ ثَلَاثَةَ أَفْوَاجٍ وَهُمْ أَصْنَافٌ كُلُّهُمْ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ فَهَذَا الَّذِي يُكْشَفُ وَيُمَحَّصُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَهُوَ الَّذِي يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ فَهُوَ الَّذِي يَلِجُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ بِإِذْنِ اللَّهِ يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمْ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مَنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ {وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ - الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ - وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا كَذَلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ} [فاطر: 34 - 36]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"My nation is in three thirds: a third enter Paradise without reckoning, a third are judged with an easy reckoning then enter Paradise, and a third are sifted and examined. Then the angels come and say: We found them saying, There is no deity but Allah alone. He says: They have spoken truly; there is no deity but I. Admit them to Paradise by their saying, There is no deity but Allah alone, and lay their sins upon the deniers. That is His saying: And they shall surely bear their burdens and other burdens with their burdens [al-ʿAnkabūt: 13]. Its confirmation is where the angels are mentioned. Allah said: Then We caused to inherit the Book those We chose from Our servants [Fāṭir: 32]. So He made them three groups: among them the self-wronger — he who is examined and sifted; among them the moderate — he who is judged easily; among them the foremost in good — he who enters Paradise without reckoning or punishment, by Allah's permission. They all enter it together, unseparated, adorned therein with bracelets of gold and pearl, their garments therein of silk. And they will say: Praise be to Allah who removed sorrow from us; indeed our Lord is Forgiving, Appreciative — who settled us in the abode of permanence by His bounty. But those who disbelieve, for them is the Fire of Hell; no decree of death for them nor lightening of its torment. Thus We recompense every ingrate."** [Fāṭir: 34-36]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت تین قسم کی ہو گی ‘ ایک تہائی لوگ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے ‘ ایک تہائی لوگوں سے معمولی حساب لیا جائے گا ، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ‘ اور ایک تہائی لوگ وہ ہوں گے جن کی تحقیق اور تفتیش کی جائے گی ‘ پھر فرشتے آئیں گے ‘ اور یہ کہیں گے : کہ ہم نے ان لوگوں کو پایا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی ایک معبود ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ لوگ کیا کہتے ہیں ‘ میرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تم لوگ انہیں جنت میں داخل کر دو ! جو ان کے یہ کہنے کی وجہ سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ صرف وہی معبود ہے اور تم لوگ اُن کی خطائیں ، جھٹلانے والوں کے ذمہ ڈال دو ‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو اسی بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے : ’’ اور وہ لوگ ضرور اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور ( ان کے ) اپنے بوجھ کے ہمراہ مزید بوجھ بھی ہو گا ‘‘۔ اور اس کی تصدیق اس چیز میں ہوتی ہے ‘ جس میں فرشتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ’’ پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو کر دیا ‘ جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تین حصوں میں بنا دے گا اور وہ حصے یہ ہوں گے : ’’ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ‘ جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ‘‘ تو یہ وہ قسم ہے جن سے تحقیق اور تفتیش کی جائے گی ۔’’ اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ‘‘۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جن سے آسانی سے حساب لیا جائے گا ۔ ’’ اور ان میں سے کچھ لوگ ‘ بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ‘‘۔ تو یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ’’ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ‘‘۔ یعنی وہ سب لوگ ‘ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت جنت میں داخل ہوں گے ‘ اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اس ( جنت ) میں انہیں سونے اور موتیوں سے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے اور اُس ( جنت ) میں ان کا لباس ریشم کا ہو گا اور وہ یہ کہیں گے : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ہے ‘ بے شک ہمارا پروردگار ‘ مغفرت کرنے والا اور شکر کو قبول کرنے والا ہے ‘ جس نے اپنے فضل کے تحت ( دائمی ) قیام کے مقام میں ، ہمیں ٹھہرایا ہے جہاں ہمیں کوئی تھکاوٹ اور تکلیف لاحق نہیں ہو گی ‘ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہو گی اُن کے بارے میں فیصلہ نہیں دیا جائے گا کہ وہ مر جائیں ، اور اُن کے عذاب میں تخفیف بھی نہیں ہو گی ‘ اسی طرح ہم ہر منکر کو جزا دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11293

Majma al-Zawaid #11293

«وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ} [فاطر: 32]- الْآيَةَ وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كُلُّهُمْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ recited *Among them is one wronging himself and among them is one moderate* [Fāṭir: 32], and said: > **"All of them are from this nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان میں سے کچھ لوگ ‘ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان سب لوگوں کا تعلق ‘ اس امت سے ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

11294

Majma al-Zawaid #11294

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ - تَعَالَى - {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ} [فاطر: 32]- الْآيَةَ؟ قَالَتْ: أَمَّا السَّابِقُ فَقَدْ مَضَى فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدَ لَهُ بِالْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْمُقْتَصِدُ فَمَنِ اتَّبَعَ آثَارَهُمْ فَعَمِلَ مِثْلَ أَعْمَالِهِمْ حَتَّى يَلْحَقَ بِهِمْ، وَأَمَّا الظَّالِمُ لِنَفْسِهِ فَمِثْلِي وَمِثَلُكَ وَمَنِ اتَّبَعَنَا، وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn Ṣuhbān said: I asked ʿĀʾishah رضي الله عنها about *Then We caused to inherit the Book those We chose from Our servants; among them is one wronging himself, among them is one moderate, and among them is one foremost in good deeds by Allah's permission* [Fāṭir: 32]. She said: As for the foremost, they passed in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ and he bore witness to Paradise for them. As for the moderate, they are those who follow their traces and act like them until joining them. As for the self-wronger, he is like me and you and those who follow us — yet all of them are in Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقبہ بن صہبان بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گزارش کی ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ’’ پھر ہم نے کتاب کا وارث ‘ اُن لوگوں کو بنا دیا ‘ جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا ‘ ان میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ‘ ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ‘ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کے حکم کے تحت بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جہاں تک سبقت لے جانے والوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں گزر چکے ہیں اور نبی اکرم ﷺ نے اُن کے حق میں جنت کی گواہی دی ہے ۔ جہاں تک میانہ روی اختیار کرنے والوں کا تعلق ہے تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو ان حضرات کی پیروی کریں گے اور اُن کے اعمال کی مانند عمل کر کے اُن لوگوں کے ساتھ مل جائیں گے ۔ اور جہاں تک اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ میرے تمہارے جیسے اور ہمارے پیرو کار قسم کے لوگ ہیں ، لیکن یہ سب جنت میں جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔

11295

Majma al-Zawaid #11295

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نُودِيَ: أَيْنَ أَبْنَاءُ السِّتِّينَ؟ وَهُوَ الْعُمْرُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهِ: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَخْزُومِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the Day of Resurrection comes, it will be called out: Where are the sons of sixty? And that is the age concerning which Allah said: Did We not give you life long enough that whoever would remember might remember therein."** [Fāṭir: 37]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قیامت کا دن آئے گا ‘ تو یہ پکار کر کہا جائے گا : ساٹھ سال کی عمر کے لوگ کہاں ہیں ؟‘‘ یہ وہ عمر ہے ، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کر لے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن فضل مخزومی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11296

Majma al-Zawaid #11296

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنْ كَادَ الْجُعَلُ لَيَهْلِكُ فِي جُحْرِهِ بِذُنُوبِ بَنِي آدَمَ، ثُمَّ قَرَأَ {وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ} [فاطر: 45]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The beetle nearly perishes in its hole due to the sins of the children of Adam. Then he recited *And if Allah were to seize people for what they earn, He would leave no creature upon its back* [Fāṭir: 45].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ جعل ‘‘ ( نامی کیڑا ‘ یا پتنگا ) اپنے بل کے اندر ‘ انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے ‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے ‘ لوگوں کا مواخذہ کرنے لگے ‘ تو وہ روئے زمین پر کسی چوپائے کو نہ چھوڑے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11297

Majma al-Zawaid #11297

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَرَأَ يس فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ غُفِرَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever recites Yā-Sīn in a day and night, seeking the Face of Allah, is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے دن یا رات میں ( یعنی روزانہ ) سورت یسین پڑھ لے اس کی مغفرت ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11298

Majma al-Zawaid #11298

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ دَامَ عَلَى قِرَاءَةِ يس كُلَّ لَيْلَةٍ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ شَهِيدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُوسَى الْأَزْدِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ يس فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever persists in reciting Yā-Sīn every night and then dies, dies as a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص روزانہ رات کے وقت باقاعدگی سے سورت یسین پڑھتا رہے ‘ جب وہ مرے گا تو وہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن موسیٰ ازدی ہے اور وہ کذاب ہے ۔ اس سے پہلے سورت بقرہ سے متعلق باب میں سورت یسین کی فضلیت سے متعلق حدیث گزر چکی ہے ۔

11299

Majma al-Zawaid #11299

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتِ الْأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَزَلَتْ {وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ} [يس: 12] فَثَبَتُوا فِي مَنَازِلِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Anṣār lived far from the mosque and wished to move nearer to it. Then *And We record what they send forth and their traces* [Yā-Sīn: 12] was revealed, so they remained in their homes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ’’ کچھ انصار کے گھر مسجد سے دور تھے ان لوگوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ اور ہم اس چیز کو نوٹ کر رہے ہیں جو وہ پہلے بھیج چکے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں ( یا جو ان کے قدموں کے نشانات ہیں ) ‘‘۔ تو وہ لوگ اپنی جگہوں پر ہی مقیم رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11300

Majma al-Zawaid #11300

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ، فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ - تَعَالَى - {سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ} [يس: 58] قَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ لَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَيَبْقَى نُورُهُ فِي دِيَارِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"While the people of Paradise are in their bliss, a light shines upon them. They raise their heads, and behold their Lord, Blessed and Exalted, has looked upon them. He says: Peace be upon you, O people of Paradise. That is His saying: Peace — a word from a Merciful Lord. He looks to them and they look to Him, turning to no other bliss while they gaze at Him, and His light remains in their dwellings."** [Yā-Sīn: 58]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اہل جنت ‘ اپنی نعمتوں میں موجود ہوں گے ‘ اسی دوران ایک نور ان کے سامنے آئے گا ‘ وہ سر اٹھائیں گے تو ان کا پروردگار ان سے مخاطب ہو گا اور فرمائے گا : اے اہل جنت ! تم پر سلامتی نازل ہو ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے سلام کہا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پروردگار ان کی طرف دیکھے گا اور وہ پروردگار کی طرف دیکھیں گے ‘ اس وقت وہ کسی بھی نعمت کی طرف توجہ نہیں دیں گے ‘ جب تک وہ پروردگار کو دیکھتے رہیں گے اور پروردگار کا نور ان کے علاقوں میں باقی رہے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11301

Majma al-Zawaid #11301

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {وَالصَّافَّاتِ صَفًّا} [الصافات: 1] قَالَ: الْمَلَائِكَةُ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا قَالَ: الْمَلَائِكَةُ {فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا} [الصافات: 3] قَالَ: الْمَلَائِكَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said concerning *By those ranged in ranks* [al-Ṣāffāt: 1]: They are the angels. *By those driving sternly*: They are the angels. *By those reciting remembrance* [al-Ṣāffāt: 3]: They are the angels.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشادی باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور صف بنانے والوں کی قسم ہے ‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد فرشتے ہیں ۔ ’’ اور ڈانٹنے والوں کی قسم ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد فرشتے ہیں ۔ ’’ اور ذکر کی تلاوت کرنے والے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس سے مراد فرشتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11302

Majma al-Zawaid #11302

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَبْسَ يُونُسَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْحُوتِ أَنْ لَا تَخْدِشَنَّ لَهُ لَحْمًا وَلَا تَكْسِرَنَّ لَهُ عَظْمًا، فَأَخَذَهُ ثُمَّ أَهْوَى بِهِ إِلَى مَسْكَنِهِ فِي الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْتَهَى بِهِ إِلَى أَسْفَلِ الْبَحْرِ سَمِعَ يُونُسُ حِسًّا فَقَالَ فِي نَفْسِهِ: مَا هَذَا؟ فَأَوْحَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَيْهِ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ: إِنَّ هَذَا تَسْبِيحُ دَوَابِّ الْأَرْضِ، فَسَبَّحَ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ، فَسَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ تَسْبِيحَهُ فَقَالُوا: رَبَّنَا إِنَّا نَسْمَعُ صَوْتًا ضَعِيفًا بِأَرْضِ غُرْبَةٍ، فَقَالَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: ذَلِكَ عَبْدِي يُونُسُ، عَصَانِي فَحَبَسْتُهُ فِي بَطْنِ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالُوا: الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي كَانَ يَصْعَدُ إِلَيْكَ مِنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عَمَلٌ صَالِحٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَشَفَعُوا لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ الْحُوتَ فَقَذَفَهُ فِي السَّاحِلِ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَهُوَ سَقِيمٌ} [الصافات: 145]» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"When Allah intended to confine Yūnus in the belly of the fish, He revealed to the fish: Do not scratch his flesh nor break his bone. It took him down to its dwelling in the sea. When it reached the depths, Yūnus heard a sound and wondered within himself, What is this? So Allah revealed to him while in the belly of the fish: This is the glorification of the creatures of the earth. So he glorified while in the belly of the fish. The angels heard his glorification and said, Our Lord, we hear a faint voice in a strange land. He said: That is My servant Yūnus; he disobeyed Me so I confined him in the belly of the fish in the sea. They said, The righteous servant from whom righteous deeds ascended to You day and night? He said: Yes. So they interceded for him, and He commanded the fish, which cast him upon the shore, as Allah said: While he was ill."** [al-Ṣāffāt: 145]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف یہ وحی کی کہ تم نے اس کے گوشت کو نوچنا نہیں ہے ‘ اور اس کی ہڈی کو توڑنا نہیں ہے ‘ مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو لیا اور پھر انہیں ساتھ لے کر سمندر میں اپنی رہائشی جگہ تک پہنچ گئی ‘ جب وہ سمندر کے نیچے والے حصے تک پہنچ گئی ‘ اور حضرت یونس علیہ السلام کو وہاں ایک آواز محسوس ہوئی ‘ تو انہوں نے دل میں سوچا کہ یہ کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی نازل کی ‘ جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے کہ یہ زمین کے چوپایوں کی تسبیح ہے تو حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں موجود رہنے کے دوران تسبیح بیان کی ‘ جب فرشتوں نے اُن کی تسبیح سنی ‘ تو انہوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں زمین کے دور دراز کے حصے میں ‘ ایک کمزوری سی آواز آ رہی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ میرا بندہ یونس ہے ‘ جس نے میری بات نہیں مانی ‘ تو میں نے اسے مچھلی کے پیٹ میں سمندر میں ڈال دیا ہے ‘ فرشتوں نے کہا : وہ تو ایک نیک آدمی تھے ‘ جن کی طرف سے روزانہ تیری بارگاہ میں نیک عمل آیا کرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر فرشتوں نے اس موقع پر حضرت یونس علیہ السلام کے لئے سفارش کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا ‘ تو اس نے انہیں ساحل پر ڈال دیا ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور وہ بیمار تھا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے بعض اصحاب کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جن کا نام انہوں نے بیان نہیں کیا ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11303

Majma al-Zawaid #11303

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ لَسَمَاءً مَا فِيهَا مَوْضِعُ شِبْرٍ إِلَّا وَعَلَيْهِ جَبْهَةُ مَلَكٍ أَوْ قَدَمَاهُ قَائِمًا ثُمَّ قَرَأَ {وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ} [الصافات: 165]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: In the seven heavens there is no heaven wherein there is a handspan without the forehead of an angel or his feet standing. Then he recited *And indeed we are those ranged, and indeed we are those who glorify* [al-Ṣāffāt: 165-166].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سات آسمانوں میں سے کسی بھی آسمان میں ‘ بالشت بھر جگہ بھی خالی نہیں ہے ‘ ہر جگہ پر یا تو کسی فرشتے کی پیشانی ہے ‘ یا اس کے پاؤں ہیں اور وہ کھڑا ہوا ( عبادت کر رہا ہے ) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک ہم صف بنانے والے ہیں ‘ بے شک ہم تسبیح پڑھنے والے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11304

Majma al-Zawaid #11304

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - {وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ} [ص: 23] قَالَ: مَا زَادَ دَاوُدُ عَلَى أَنْ قَالَ: أَكْفِلْنِيهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said concerning *And he overcame me in speech* [Ṣād: 23]: Dāwūd عليه السلام added nothing beyond saying, Entrust her to me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور وہ بات چیت کے دوران مجھ پر غلبہ پا لیتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام نے صرف یہ کلمات کہے تھے : ’’ کہ تم اس کو میرے سپرد کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11305

Majma al-Zawaid #11305

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَمُرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَمَا أَدْرِي مَا هِيَ الْعَشِيُّ وَالْإِشْرَاقُ، حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئِ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَا بِوَضُوءٍ بِجَفْنَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الضُّحَى فَقَالَ: "" يَا أُمَّ هَانِئٍ هِيَ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: I used to pass this verse without knowing what *the evening and the ishrāq* meant, until Umm Hāniʾ bint Abī Ṭālib رضي الله عنها narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her, called for ablution water in a bowl as though I see the trace of dough in it, performed ablution, then stood and prayed the forenoon prayer, and said: > **"O Umm Hāniʾ, this is the prayer of ishrāq."** This is concerning *They glorified with him in the evening and at sunrise* [Ṣād: 18].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں یہ آیت پڑھا کرتا تھا ، لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ شام اور اشراق سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث بیان کی : ( فتح مکہ کے موقع پر ) نبی اكرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے ‘ آپ نے وضو کا پانی منگوایا ‘ جو ایک ایسے برتن میں آیا ‘ جس میں آٹے کا نشان موجود تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا ، پھر آپ نے چاشت کی نماز ادا کی ، پھر ارشاد فرمایا : اے ام ہانی ! یہ نماز اشراق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11306

Majma al-Zawaid #11306

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - {فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ} [ص: 33] قَالَ: "" قَطَعَ سُوقَهَا وَأَعْنَاقَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning *So he began striking their legs and necks* [Ṣād: 33]: > **"He cut their legs and necks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ’’ تو اس نے اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنی شروع کر دیں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یہاں آیت میں استعمال ہونے والے لفظ ’’ مسیح ‘‘ سے مراد ) یہ ہے کہ اُس نے ان کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11307

Majma al-Zawaid #11307

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «وُلِدَ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ وَلَدٌ فَقَالَ لِلشَّيَاطِينِ: أَيْنَ نُوَارِيهِ مِنَ الْمَوْتِ؟ فَقَالُوا: نَذْهَبُ بِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: يَصِلُ إِلَيْهِ الْمَوْتُ، قَالُوا: فَإِلَى الْمَغْرِبِ، قَالَ: يَصِلُ إِلَيْهِ الْمَوْتُ، قَالُوا: إِلَى الْبِحَارِ، قَالَ: يَصِلُ إِلَيْهِ، قَالُوا: نَضَعُهُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَنَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ: يَا ابْنَ دَاوُدَ، إِنِّي أُمِرْتُ بِقَبْضِ نَسَمَةٍ طَلَبْتُهَا بِالْمُشْرِقِ فَلَمْ أُصِبْهَا، فَطَلَبْتُهَا فِي الْمَغْرِبِ فَلَمْ أُصِبْهَا، فَطَلَبْتُهَا فِي الْبِحَارِ وَطَلَبْتُهَا فِي تُخُومِ الْأَرْضِ فَلَمْ أُصِبْهَا، فَبَيْنَا أَنَا أَصْعَدُ إِذْ أَصَبْتُهَا فَقَبَضْتُهَا وَجَاءَ جَسَدُهُ حَتَّى وَقَعَ عَلَى كُرْسِيِّهِ، فَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ} [ص: 34]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَابْنُهُ كَثِيرٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A son was born to Sulaymān ibn Dāwūd عليهما السلام, so he said to the devils: Where shall we hide him from death? They said: Let us take him to the east. He said: Death will reach him. They said: To the west. He said: Death will reach him. They said: To the seas. He said: It will reach him. They said: Let us place him between heaven and earth. Then the Angel of Death descended and said, O son of Dāwūd, I was commanded to seize a soul; I sought it in the east and found it not, in the west and found it not, in the seas and the ends of the earth and found it not. While ascending I found it, so I seized it. Its body came until it fell upon his throne. That is the saying of Allah: And We tried Sulaymān and placed upon his throne a body; then he turned."** [Ṣād: 34]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ‘ انہوں نے شیاطین ( یعنی جنات ) سے فرمایا : ہم اسے موت سے بچانے کے لئے کہاں چھپائیں ؟ تو انہوں نے کہا : ہم اسے مشرق کی طرف لے جاتے ہیں ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا : موت اس تک پہنچ جائے گی ‘ انہوں نے کہا : پھر مغرب کی طرف لے جاتے ہیں ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : موت اس تک پہنچ جائے گی انہوں نے کہا : پھر سمندر کی طرف لے جاتے ہیں ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا : موت اس تک پہنچ جائے گی ‘ انہوں نے کہا : ہم اسے آسمان اور زمین کے درمیان رکھ دیتے ہیں ، ملک الموت ‘ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت داؤد علیہ السلام کے صاحبزادے ! مجھے ایک جان کو قبض کرنے کا حکم ملا ‘ میں نے اسے مشرق میں تلاش کیا ‘ وہ مجھے نہیں ملی ، میں نے اسے مغرب میں تلاش کیا ‘ وہ مجھے نہیں ملی ‘ میں نے اسے سمندروں میں تلاش کیا اور اسے زمین کے گوشوں میں تلاش کیا ، لیکن وہ مجھے نہیں ملی ، پھر میں واپس اوپر جا رہا تھا ‘ تو وہ ( جان ) مجھے مل گئی ، تو میں نے اُس کو قبض کر لیا پھر وہ اس کا جسم لے کر آئے اور اس جسم کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر ڈال دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہ مراد ہے : ’’ اور ہم نے سلیمان کو آزمائش کا شکار کیا اور اس کے تخت پر جسم ڈال دیا ، پھر اُس نے رجوع کیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ‘ جو بصری کا شاگرد ہے اور وہ متروک ہے ‘ اس کا بیٹا کثیر بھی ضعیف ہے ۔

11308

Majma al-Zawaid #11308

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - (رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ) قَالَ: الرُّخَاءُ: الْمُطِيعَةُ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {حَيْثُ أَصَابَ} [ص: 36] حَيْثُ أَرَادَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning *Gentle wherever it struck*: *Rukhāʾ* means obedient, and *wherever it struck* [Ṣād: 36] means wherever he intended.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ’’ نرمی کے ساتھ ( وہ ہوا چلتی تھی ) جہاں وہ جانا چاہتا تھا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یہاں ” رخاء ‘‘ سے مراد فرمانبردار ہونا ہے ۔ جہاں تک آیت کے ان الفاظ کا تعلق ہے ’’ حیث اصاب ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ جہاں کا وہ ارادہ کرتا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11309

Majma al-Zawaid #11309

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - {قَالُوا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ} [ص: 61] قَالَ: أَفَاعِيَ وَحَيَّاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said concerning *Our Lord, whoever brought this upon us, increase him double punishment in the Fire* [Ṣād: 61]: They are vipers and serpents.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! جس نے یہ ( کفر ‘ یا عذاب ) ہمارے سامنے کیا تھا ، تو اسے جہنم میں دگنا عذاب ‘ زیادہ طور پر دینا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد چھوٹے اور بڑے سانپ ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11310

Majma al-Zawaid #11310

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ غَشِيَتْنَا بُرْهَةٌ مِنْ دَهْرِنَا وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِينَا وَفِي أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ قَبْلِنَا {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 30] الْآيَةَ، قُلْنَا: كَيْفَ نَخْتَصِمُ وَنَبِيُّنَا وَاحِدٌ وَكِتَابُنَا وَاحِدٌ؟ حَتَّى رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَضْرِبُ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ فَعَرَفْتُ أَنَّهَا فِينَا نَزَلَتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: For a time we thought this verse was revealed concerning us and the People of the Book before us: *Indeed you will die and indeed they will die; then on the Day of Resurrection you will dispute before your Lord* [al-Zumar: 30-31]. We said, How shall we dispute when our Prophet is one and our Book is one? Until I saw some of us striking the faces of others with the sword, and I knew it was revealed concerning us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عرصے تک ہم یہی سمجھتے رہے اور یہی سوچتے رہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ جو ہم سے پہلے تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک تم بھی میت ہو اور وہ لوگ بھی میت ہیں ‘ اور پھر قیامت کے دن تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ‘ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے ‘‘۔ ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ ہم کیسے جھگڑا کریں گے ؟ جبکہ ہمارا نبی ایک ہے ‘ اور ہماری کتاب ایک ہے ‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ صورت حال دیکھی کہ ہم میں سے لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے کے آ گئے ‘ تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11311

Majma al-Zawaid #11311

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 30] قَالَ الزُّبَيْرُ: أَفَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ لَيُكَرَّرُ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ ""، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said: When *Indeed you will die and indeed they will die; then on the Day of Resurrection you will dispute before your Lord* [al-Zumar: 30-31] was revealed to the Messenger of Allah ﷺ, al-Zubayr asked, Will what occurred between us in this world be repeated for us? He ﷺ said: > **"Yes, it shall be repeated until every possessor of a right is given his right."** Al-Zubayr said, By Allah, then the matter is severe.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی : ’’ بے شک تم میت ہو اور وہ بھی میت ہیں ، پھر بے شک تم لوگ قیامت کے دن ‘ اللہ کی بارگاہ میں ‘ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے ‘‘۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو ( اختلافی ) چیز پائی جاتی ہے ‘ وہ ہم پر دوبارہ آئے گی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ( اختلافی چیز ) تم پر دوبارہ آئے گی ‘ یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے گا ‘ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! پھر تو معاملہ بہت مشکل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11312

Majma al-Zawaid #11312

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا} [الزمر: 42] قَالَ: تَلْتَقِي أَرْوَاحُ الْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ [فِي الْمَنَامِ] فَيَتَسَاءَلُونَ بَيْنَهُمْ، فَيُمْسِكُ اللَّهُ أَرْوَاحَ الْمَوْتَى وَيُرْسِلُ أَرْوَاحَ الْأَحْيَاءِ إِلَى أَجْسَادِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning *Allah takes souls at their death* [al-Zumar: 42]: The souls of the living and the dead meet in sleep and question one another; Allah withholds the souls of the dead and sends the souls of the living back to their bodies.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ جانوں کو موت دیتا ہے ‘ جب اُن کی موت کا وقت آتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : خواب میں زندہ لوگوں اور مردوں کی ارواح ملتی ہیں ، وہ ایک دوسرے سے سوال جواب کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ مردوں کی ارواح کو روک لیتا ہے ‘ اور زندہ لوگوں کی ارواح کو اُن کے اجسام کی طرف واپس کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11313

Majma al-Zawaid #11313

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53]، فَقَالَ رَجُلٌ: وَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: "" «إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, freedman of the Messenger of Allah ﷺ, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"I would not love to have the world and all within it in exchange for this verse: O My servants who have transgressed against themselves, despair not of the mercy of Allah; indeed Allah forgives all sins; indeed He is the Forgiving, the Merciful."** [al-Zumar: 53] A man asked, Even one who associated partners? The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Except one who associated partners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اس آیت کے مقابلے میں ‘ یہ پسند نہیں ہے کہ دنیا اور اس میں موجود سب کچھ مجھے مل جاتا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘ بے شک وہ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ ایک صاحب نے عرض کی : اور جو شخص شرک کرے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو شرک کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو شرک کرے ‘‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

11314

Majma al-Zawaid #11314

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَاتِلِ حَمْزَةَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: يَا مُحَمَّدُ كَيْفَ تَدْعُونِي وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ مَنْ قَتَلَ أَوْ أَشْرَكَ أَوْ زَنَى (يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا) وَأَنَا صَنَعْتُ ذَلِكَ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الفرقان: 70] فَقَالَ وَحْشِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا شَرْطٌ شَدِيدٌ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَلَعَلِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى هَذَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] فَقَالَ وَحْشِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا أَرَى بَعْدَ مَشِيئَةٍ فَلَا أَدْرِي يُغْفَرُ لِي أَمْ لَا؟ فَهَلْ غَيْرُ هَذَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] قَالَ وَحْشِيٌّ: هَذَا نَعَمْ، فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصَبْنَا مَا أَصَابَ وَحْشِيٌّ؟ قَالَ: "" هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبْيَنُ بْنُ سُفْيَانَ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ sent to Waḥshī ibn Ḥarb, killer of Ḥamzah رضي الله عنه, inviting him to Islam. He replied, O Muḥammad, how do you invite me while you claim that whoever kills, associates partners, or commits adultery shall meet punishment, multiplied for him on the Day of Resurrection wherein he abides humiliated — and I have done that? Is there any concession for me? So Allah revealed *Except whoever repents, believes and does righteous work — Allah will change their evils into good, and Allah is Forgiving, Merciful* [al-Furqān: 70]. Waḥshī said, O Muḥammad, this is a hard condition — except whoever repents and believes and does righteous work — perhaps I cannot do it. So Allah revealed *Indeed Allah does not forgive association with Him, but forgives less than that for whom He wills* [al-Nisāʾ: 48]. Waḥshī said, O Muḥammad, this depends upon His will; I know not whether I am forgiven. Is there other than this? So Allah revealed *O My servants who have transgressed against themselves, despair not of the mercy of Allah; indeed Allah forgives all sins* [al-Zumar: 53]. Waḥshī said, This is good — and he embraced Islam. The people asked, O Messenger of Allah, we committed what Waḥshī committed? He ﷺ said: > **"It is for the Muslims generally."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور اسے اسلام کی دعوت دی یہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ‘ تو وحشی نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ مجھے کیسے دعوت دے رہے ہیں ؟ جبکہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ جو شخص قتل کرے ‘ یا شرک کرے ‘ یا زنا کرے ‘ تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور قیامت کے دن اسے دگنا عذاب دیا جائے گا ‘ اور وہ رسوا ہو کر اس میں رہے گا ‘ میں نے تو یہ کام کیے ہوئے ہیں تو کیا آپ میرے لئے کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کر لے ‘ تو اللہ تعالٰی اُن لوگوں کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ تو وحشی نے عرض کی : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! یہ تو مشکل شرط ہے کہ جو شخص توبہ کر لے ‘ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے گا ‘ اس کا معاملہ مختلف ہے ‘ ہو سکتا ہے کہ میں یہ کام نہ کر سکوں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے ‘ وہ اُس کے علاوہ جس کی چاہے گا ‘ مغفرت کر دے گا ‘‘۔ تو وحشی نے عرض کی : اے حضرت محمد ( ﷺ ) میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ یہ چیز بھی اللہ کی مشیت کے بعد ہی ہے ‘ تو مجھے کیا پتہ کہ وہ میری مغفرت کرے گا ‘ یا نہیں کرے گا ؟ کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘ بے شک وہ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ تو وحشی نے کہا : یہ ٹھیک ہے ‘ پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے بھی اسی طرح کے کاموں کا ارتکاب کیا ہے ‘ جن کا ارتکاب وحشی نے کیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ حکم مسلمانوں کے لئے عمومی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابین بن سفیان ہے ‘ جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

11315

Majma al-Zawaid #11315

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ مَا لِمَنِ افْتَتَنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} [الزمر: 53]، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَدْ تَقَّدَمَ بِطُولِهِ فِي الْمَغَازِي وَالْهِجْرَةِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ. قُلْتُ: وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: We used to say there is no repentance for one tempted who abandons his religion after Islam and knowledge. Then Allah revealed concerning them *O My servants who have transgressed against themselves, despair not of the mercy of Allah* [al-Zumar: 53].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم پہلے یہ سمجھا کرتے تھے کہ جو شخص آزمائش کا شکار ہو جائے ‘ اس کے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہو گی ، یعنی جب اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اور اسلام کی معرفت کے بعد ‘ اپنے دین کو ترک کر دیا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو اس سے پہلے مغازی اور ہجرت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ‘ ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سورت طلاق میں ہے ۔

11316

Majma al-Zawaid #11316

«عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ: {بَلَى قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ} [الزمر: 59] عَلَى الْجَرِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting *Yes, My signs came to you but you denied them, were arrogant and were among the disbelievers* [al-Zumar: 59] with lowering of the final vowel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا : ’’ جی ہاں ! تمہارے پاس میری نشانیاں آئیں اور تم نے انہیں جھٹلا دیا اور تم نے تکبر کیا اور تم کفر کرنے والوں میں سے تھے ‘‘۔ یعنی نبی اکرم ﷺ نے اسے ’’ جز ‘‘ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11317

Majma al-Zawaid #11317

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: "" إِنِّي قَارِئٌ عَلَيْكُمْ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الزُّمَرِ، فَمَنْ بَكَى مِنْكُمْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "". فَقَرَأَهَا مِنْ عِنْدِ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} [الزمر: 67] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ. فَمِنَّا مَنْ بَكَى وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَبْكِ، فَقَالَ الَّذِينَ لَمْ يَبْكُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جَهِدْنَا أَنْ نَبْكِيَ فَلَمْ نَبْكِ، فَقَالَ: "" إِنِّي سَأَقْرَؤُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ لَمْ يَبْكِ يَتَبَاكَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said to a group of his Companions: > **"I shall recite to you verses from the end of Sūrat al-Zumar; whoever among you weeps, Paradise becomes obligatory for him."** So he recited from *And they did not esteem Allah His true esteem* [al-Zumar: 67] to the end of the sūrah. Some of us wept and some did not. Those who did not weep said, O Messenger of Allah, we strove to weep but could not. He ﷺ said: > **"I shall recite it to you; whoever cannot weep should feign weeping."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں تمہارے سامنے سورت زمر کی آخری آیات تلاوت کرنے لگا ہوں ‘ تم میں سے جو شخص یہ پڑھے گا ‘ اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ‘ اس وقت نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور انہوں نے ‘ اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی ‘ جو اس کی قدر کرنے کا حق تھا ‘‘۔ یہاں سے لے کر سورت کے آخر تک ‘ اس کو تلاوت کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ رو پڑے اور ہم میں سے کچھ لوگ نہیں روئے تو جو لوگ نہیں روئے تھے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے تو پوری کوشش کی کہ روئیں ، لیکن ہمیں رونا نہیں آیا ‘ تو نبی اکریم ﷺ نے فرمایا : میں اسے دوبارہ تمہارے سامنے پڑھوں گا ‘ تو جس شخص کو رونا نہ آئے ‘ وہ رونے جیسی شکل بنا لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ متروک ہے ۔

11318

Majma al-Zawaid #11318

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ {غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ} [غافر: 3] قَالَ: (غَافِرُ الذَّنْبِ) لِمَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (وَقَابِلُ التَّوْبِ) لِمَنْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (شَدِيدُ الْعِقَابِ) لِمَنْ لَا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (ذِي الطُّولِ) ذِي الْغِنَى (لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ) كَانَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ لَا يُوَحِّدُونَهُ فَوَحَّدَ نَفْسَهُ (إِلَيْهِ الْمَصِيرُ) مَصِيرُ مَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، وَمَصِيرُ مَنْ لَا يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيُدْخِلُهُ النَّارَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said concerning *Forgiver of sin, Acceptor of repentance, Severe in punishment, Owner of bounty; there is no deity but He; to Him is the return* [Ghāfir: 3]: Forgiver of sin for whoever says there is no deity but Allah; Acceptor of repentance for whoever says it; Severe in punishment for whoever says it not; Owner of bounty and riches; *There is no deity but He* — the disbelievers of Quraysh did not affirm His Oneness, so He affirmed it Himself; *To Him is the return* — the return of whoever says it, admitting him to Paradise, and the return of whoever says it not, admitting him to Hell.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ گناہ کی مغفرت کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا اور زبردست سزا دینے والا ‘ اور خوشحالی والا ‘ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور اسی کی طرف لوٹایا جانا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہاں گناہ کے مغفرت کرنے والے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کے گناہ کی مغفرت کرے گا ‘ جو «لا الہ الا اللہ» پڑھتا ہو ‘ اور توبہ قبول کرنے والا ‘ اس کے لئے ہے ‘ جو یہ کہے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور شدید عذاب دینے والا ہے ‘ اس کے لئے ہے ‘ جو «لا الہ الا اللہ» نہ پڑھے اور ’’ ذی الطول ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ وہ خوشحالی والا ہے ‘ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ کیونکہ کفار قریش اس کی وحدانیت کا اعتراف نہیں کرتے تھے ‘ تو اس نے خود اپنی وحدانیت کا اظہار کیا اُسی کی طرف لوٹنا ہے ‘ یعنی اس شخص نے بھی لوٹنا ہے جو «لا الہ الا اللہ» پڑھ لے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کر دے گا ‘ اور اس نے بھی لوٹنا ہے ‘ جو «لا الہ الا اللہ» نہیں پڑھے گا اور اللہ تعالیٰ اُسے جہنم میں داخل کر دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11319

Majma al-Zawaid #11319

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ {يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ} [غافر: 19] إِذَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا تُرِيدُ الْخِيَانَةَ أَمْ لَا؟ {وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ} [غافر: 19] إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهَا أَتَزْنِي بِهَا أَمْ لَا؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّتِي تَلِيهَا؟ {وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ} [غافر: 20] قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَجْزِيَ بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ وَبِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ {إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} [غافر: 20]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبَّوَيْهِ وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning *He knows the treachery of the eyes*: When you look at her, do you intend betrayal or not? *And what breasts conceal*: When you gain power over her, would you commit adultery with her or not? Shall I not inform you of what follows? *And Allah judges with truth*: He can reward good with good and evil with evil. *Indeed Allah is the Hearing, the Seeing* [Ghāfir: 19-20].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ آنکھوں کی خیانت جانتا ہے ‘‘۔ یعنی جب تم اُس کی طرف دیکھو ‘ تو کیا تمہارا خیانت کرنے کا ارادہ ہے یا نہیں ہے ؟ ’’ اور جو چیز ( ان کے ) سینے چھپاتے ہیں ‘‘۔ یعنی جب تم اس پر قدرت رکھو گے ‘ تو کیا تم اس کے ساتھ زنا کرو گے ‘ یا نہیں کرو گے ؟ اور کیا میں تمہیں اُس کے بعد والی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ’’ اور اللہ تعالیٰ حق کے مطابق فیصلہ دیتا ہے ‘‘۔ یعنی وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اچھائی کا بدلہ ‘ اچھائی کے ساتھ دے اور برائی کا بدلہ برائی کے ساتھ دے ۔ ’’ بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن احمد بن شبویہ ہے اور وہ مستور ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11320

Majma al-Zawaid #11320

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - {رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ} [غافر: 11] قَالَ: هِيَ مِثْلُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ {وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} [البقرة: 28]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said concerning *Our Lord, You caused us to die twice and gave us life twice* [Ghāfir: 11]: It is like that in Sūrat al-Baqarah: *You were dead and He gave you life, then He causes you to die, then gives you life, then to Him you return* [al-Baqarah: 28].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ تو نے ہمیں زندگی دی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ سورت بقرہ میں موجود ‘ اس آیت کی مانند ہے : ’’ تم لوگ پہلے مردہ تھے ‘ تو اُس نے تمہیں زندگی دی ‘ پھر وہ تمہیں موت دے گا ، پھر وہ تمہیں زندگی دے گا ، پھر تمہیں اُسی کی طرف لوٹا دیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11321

Majma al-Zawaid #11321

عَنْ عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - {مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ} [غافر: 78] قَالَ: بَعْثُ اللَّهُ عَبْدًا حَبَشِيًّا نَبِيًّا وَهُوَ مِمَّنْ لَمْ يَقُصَّ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه said concerning *Among them are those whose stories We related to you, and among them are those whose stories We did not relate to you* [Ghāfir: 78]: Allah sent an Abyssinian servant as a prophet, and he is among those He did not relate to Muḥammad ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان میں کچھ وہ ہیں ، جن کے واقعات ‘ ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں ‘ اُن میں کچھ وہ ہیں ، جن کے واقعات تمہارے سامنے بیان نہیں کیے ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی شخص کو نبی بنا کر مبعوث کیا تھا اور وہ نبی ان افراد میں سے ہیں ، جن کے واقعات حضرت محمد ﷺ کے سامنے بیان نہیں کیے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11322

Majma al-Zawaid #11322

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ} [فصلت: 19] قَالَ: يُحْشَرُ أَوَّلُهُمْ عَلَى آخِرِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning *And the day the enemies of Allah are gathered to the Fire, driven in ranks* [Fuṣṣilat: 19]: Their first shall be gathered with their last.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جس دن ‘ اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا اور انہیں روک ‘ روک کر چلایا جائے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اُن کے پہلے افراد کو ‘ آخری والوں کے ساتھ اکٹھا کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11323

Majma al-Zawaid #11323

«عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {حم عسق} [الشورى: 1] فَقَالَ: "" يَا مَيْمُونَةُ، [أَتَقْرَئِينَ (حم عسق)] لَقَدْ نَسِيتُ مَا بَيْنَ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا "". قَالَتْ: فَقَرَأْتُهَا، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ recited *Ḥā-Mīm-ʿAyn-Sīn-Qāf* [al-Shūrā: 1], then said: > **"O Maymūnah, do you recite Ḥā-Mīm-ʿAyn-Sīn-Qāf? I had forgotten what is between its beginning and end."** So she recited it, and the Messenger of Allah ﷺ recited it with her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی :’’ حم عسق ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے میمونہ ! کیا تم نے ’’ حم عسق ‘‘ یاد کی ہوئی ہے ؟ مجھے یہ شروع سے لے کر آخر تک بھلا دی گئی ہے ‘ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں : میں نے اُسے پڑھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُسے پڑھ لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدوس کا معاملہ مختلف ہے ۔