Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 12

Book of Exegesis

Hadith 11244–11283

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11244

Majma al-Zawaid #11244

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ كُلُّ شَيْءٍ خَلَقُوهُ، يَقُولُ: كُلُّ شَيْءٍ اخْتَلَقُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه used to read: this is naught but the custom of the ancients — everything they contrived — meaning everything they invented.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ آیت پڑھتے تھے : ’’ یہ صرف پہلے لوگوں کے اخلاق ( یا عادات ) ہیں ‘‘۔ اور پھر یہ فرماتے تھے : ہر چیز انہوں نے خود ایجاد کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11245

Majma al-Zawaid #11245

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] صَاحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ: "" يَا آلَ عَبْدِ مَنَافٍ إِنِّي نَذِيرٌ "". فَجَاءَتْهُ قُرَيْشٌ، فَحَذَّرَهُمْ وَأَنْذَرَهُمْ، قَالُوا: تَزْعُمُ أَنَّكَ نَبِيٌّ يُوحَى إِلَيْكَ، وَأَنَّ سُلَيْمَانَ سُخِّرَ لَهُ الرِّيحُ وَالْجِبَالُ، وَأَنَّ مُوسَى سُخِّرَ لَهُ الْبَحْرُ، وَأَنَّ عِيسَى كَانَ يُحْيِي الْمَوْتَى، فَادْعُ اللَّهُ أَنْ يُسَيِّرَ عَنَّا هَذِهِ الْجِبَالَ، وَيُفَجِّرَ لَنَا أَنْهَارًا فَنَتَّخِذَهَا مَحَارِثًا فَنَزْرَعُ وَنَأْكُلُ، وَإِلَّا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَ لَنَا مَوْتَانَا، وَإِلَّا فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُصَيِّرَ هَذِهِ الصَّخْرَةَ الَّتِي تَحْتَكَ ذَهَبًا فَنَنْحِتُ مِنْهَا وَتُغْنِينَا عَنْ رِحْلَةِ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ، فَإِنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّكَ كَهَيْئَتِهِمْ. فَبَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ أَعْطَانِي مَا سَأَلْتُمْ، وَلَوْ شِئْتُ لَكَانَ، وَلَكِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ تَدْخُلُوا بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنَ مُؤْمِنُكُمْ، وَبَيْنَ أَنْ يَكِلَكُمْ إِلَى مَا اخْتَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَتَضِلُّوا عَنْ بَابِ الرَّحْمَةِ وَلَا يُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ، فَاخْتَرْتُ بَابَ الرَّحْمَةِ فَيُؤْمِنُ مُؤْمِنُكُمْ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ ذَلِكَ ثُمَّ كَفَرْتُمْ أَنَّهُ مُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ "". فَنَزَلَتْ {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ} [الإسراء: 59] حَتَّى قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ، وَنَزَلَتْ {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: 31]- الْآيَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عُمَرَ الْأَيْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُمَا الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-ʿAwwām رضي الله عنه said: when warn your nearest kin (26:214) was revealed, the Messenger ﷺ cried out atop Abū Qubays: O family of ʿAbd Manāf, I am a warner. Quraysh came; he warned them. They demanded miracles like Solomon's wind, Moses' sea, Jesus' raising the dead — move mountains, gush rivers, raise our dead, turn this rock to gold. Revelation descended; when lifted he swore he had been granted what they asked if he willed, but chose mercy's door that believers believe — warning if granted then disbelieved they would suffer unmatched punishment. Then was revealed: nothing withheld Us from sending signs but ancients belied them (17:59), and: if a Qur'an moved mountains (13:31). > **"O family of ʿAbd Manāf, I am a warner. By Him in Whose Hand is my soul, I was granted what you asked, but I chose the door of mercy that your believers may believe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! “۔ تو نبی اکرم ﷺ نے جبل ابوقبیس پر کھڑے ہو کر یہ کہا : اے آل عبدمناف ! بے شک میں ڈرانے والا ہوں ، قریش آپ کے پاس آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں تلقین کی اور انہیں ڈرایا ‘ تو ان لوگوں نے کہا : آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ نبی ہیں اور آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے ‘ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا اور پہاڑوں کو مسخر کیا گیا تھا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے سمندر کو مسخر کیا گیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ‘ مردوں کو زندہ کر دیتے تھے ‘ تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ان پہاڑوں کو چلا دے اور ہمارے لئے نہریں بہا دے ‘ تاکہ ہم کھیتی باڑی شروع کریں ‘ ہم کھیتی باڑی کر کے کھایا پیا کریں گے ‘ یا پھر یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے مردوں کو ہمارے لئے زندہ کر دے ‘ یا پھر یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ آپ کے نیچے جو چٹان موجود ہے ‘ وہ سونے کی ہو جائے ‘ تو ہم اس میں سے سونا نکال لیں گے اور پھر ہمیں سردی اور گرمی کے تجارتی قافلوں کی ضرورت نہیں رہے گی ‘ اگر آپ کا یہ کہنا ہے کہ آپ بھی ان لوگوں کی طرح ( نبی ہیں ) اسی دوران نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوئی ‘ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی ‘ تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے درست قدرت میں میری جان ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز عطا کر دی ہے ‘ جو تم کہتے ہو ‘ اگر میں چاہوں تو ایسا ہو سکتا ہے لیکن میرے پروردگار نے مجھے اس بات کے بارے میں اختیار دیا ہے کہ یا تو تم رحمت والے دروازے سے داخل ہو اور تمہارے مومن لوگ ایمان لے آئیں ، یا پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس چیز کے حال پر چھوڑ دے ‘ جسے تم نے اپنے لئے اختیار کیا ہے ‘ ایسی صورت میں تم رحمت کے دروازے سے بھٹک جاؤ گے اور تمہارے مومن لوگ ایمان نہیں لائیں گے ‘ تو میں نے رحمت والے دروازے کو اختیار کر لیا ‘ تاکہ تمہارے مومن لوگ ایمان لے آئیں ‘ اور پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اگر وہ تمہیں یہ چیزیں عطا کر دے اور پھر تم کفر کرو ‘ تو وہ تم لوگوں کو ایسا عذاب دے گا ‘ جو تمام جہانوں میں کسی کو بھی نہیں دے گا “ پھر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے ‘ صرف اس بات نے روکا کہ پہلے لوگوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کو جھٹلایا تھا ‘‘۔ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مزید تین آیات تلاوت کیں اور اس بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی : ’’ اگر یہ قرآن ایسا ہو کہ اس کے ساتھ پہاڑ چلیں ‘ یا اس کے ذریعے زمین کو چیر دیا جائے ‘ یا اس کی وجہ سے مردوں کے ساتھ بات چیت ہونے لگے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالجبار بن عمر ایلی کے حوالے سے عبداللہ بن عطاء بن ابراہیم کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، جمہور نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔

11246

Majma al-Zawaid #11246

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي هَاشِمٍ فَأَجْلَسَهُمْ عَلَى الْبَابِ، وَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ فَأَجْلَسَهُمْ فِي الْبَيْتِ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: "" يَا بَنِي هَاشِمٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَأَوْسِعُوا فِي فِكَاكِ رِقَابِكُمْ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنِّي لَا أُمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَيَا حَفْصَةُ بِنْتَ عُمَرَ وَيَا أُمَّ سَلَمَةَ وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ وَيَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَأَوْسِعُوا فِي فِكَاكِ رِقَابِكُمْ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي "". فَبَكَتْ عَائِشَةُ وَقَالَتْ: أَيْ حِبِّي، هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ يَوْمَ لَا تُغْنِي عَنَّا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: "" نَعَمْ، فِي ثَلَاثِ مَوَاطِنَ يَقُولُ اللَّهُ - تَعَالَى -: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [الأنبياء: 47] فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَعِنْدَ النُّورِ مَنْ شَاءَ أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ نُورَهُ وَمَنْ شَاءَ أَكَنَّهُ فِي الظُّلُمَاتِ يَغُمُّهُ فِيهَا، فَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ مَنْ شَاءَ سَلَّمَهُ وَأَجَازَهُ وَمَنْ شَاءَ كَبْكَبَهُ فِي النَّارِ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيْ حِبِّي، قَدْ عَلِمْتُ الْمَوَازِينَ هِيَ الْكِفَّتَانِ فَيُوضَعُ فِي هَذِهِ فَتُرَجَّحُ إِحْدَاهُمَا وَتَخِفُّ الْأُخْرَى، وَقَدْ عَلِمْنَا مَا النُّورُ وَمَا الظُّلْمَةُ، فَمَا الصِّرَاطُ؟ قَالَ: "" طَرِيقٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ يَجُوزُ النَّاسُ عَلَيْهَا وَهُوَ مِثْلُ حَدِّ الْمُوسَى، وَالْمَلَائِكَةُ صَافَّةٌ يَمِينًا وَشِمَالًا يَخْطَفُونَهُمْ بِالْكَلَالِيبِ مِثْلَ شَوْكِ السَّعْدَانِ وَهُمْ يَقُولُونَ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ، فَمَنْ شَاءَ اللَّهُ سَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ كَبْكَبَهُ فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: when warn your nearest kin (26:214) was revealed, the Messenger ﷺ gathered Banū Hāshim at the door and his wives and household inside, then addressed them: O Banū Hāshim, ransom yourselves from the Fire, liberate your necks, save yourselves from Allah, for I own nothing for you against Allah. Then to his household — ʿĀʾishah, Ḥafṣah, Umm Salamah, Fāṭimah, and Umm al-Zubayr رضي الله عنهن: ransom yourselves, for I avail you nothing. ʿĀʾishah wept asking if a day comes he avails nothing; he named three stations — the just Scales (21:47), the Light, and the Path sharp as a razor's edge with angels snatching by hooks crying Lord save, save. > **"O Banū Hāshim, ransom yourselves from the Fire, for I own nothing for you against Allah. O ʿĀʾishah, Ḥafṣah, Umm Salamah, Fāṭimah — ransom yourselves, for I avail you nothing against Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! ‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے بنو ہاشم کو اکٹھا کیا ‘ آپ نے ان کو دروازے کے باہر بٹھایا ‘ آپ نے اپنے گھر کی خواتین کو اکٹھا کیا اور انہیں گھر کے اندر بٹھایا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے بنو ہاشم ! جہنم سے بچاؤ کے لئے اپنی ذات کا سودا کر لو ‘ اور اپنی گردنوں کو چھٹروانے کے لئے گنجائش اختیار کرو ‘ اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کو آزاد کروا لو ‘ کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ اپنے اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ بنت ابوبکر ! اے حفصہ بنت عمر ! اے ام سلمہ ! اے فاطمہ بنت محمد ! اے ام زبیر ! جو اللہ کے رسول کی پھوپھی ہیں ، تم لوگ جہنم سے بچنے کے لئے اپنے آپ کا سودا کر لو ‘ اور اپنی گردنیں چھڑوانے کے لئے گنجائش اختیار کرو ‘ اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کو محفوظ کروا لو ‘ کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، انہوں نے عرض کی : اے میرے محبوب ! کیا وہ ایسا دن ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ کوئی چیز ہمارے کام نہیں آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تین مقامات پر ایسا ہو گا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ’’ اور ہم قیامت کے دن ‘ ترازو کو انصاف کے ساتھ رکھیں گے ‘‘۔ تو اس وقت ‘ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا ‘ اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے حق میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوؤں گا اور دوسری چیز نور کے وقت ‘ کہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کے نور کو مکمل کر دے گا اور جس کو چاہے گا اس کے نور کو تاریکیوں میں ڈال دے گا ‘ جو اسے ڈھانپ لیں گی ‘ تو میں ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوؤں گا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا اور پل صراط کے قریب ، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ اُسے سلامتی سے گزار دے گا اور جس شخص کے بارے میں وہ چاہے گا اسے جہنم میں گرا دے گا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے میرے محبوب ! میزان کے بارے میں تو مجھے پتہ ہے کہ اس کے دو پلڑے ہوں گے اور ان میں ( نیکیاں اور برائیاں ) رکھی جائیں گی اور ایک پلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا ہلکا ہو گا ‘ اور نور کیا ہے ؟ یہ بھی ہمیں پتہ ہے اور تاریکی کیا ہے ؟ یہ بھی پتہ ہے ‘ لیکن یہ پل کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک راستہ ہے ‘ جس پر سے لوگ گزریں گے اور وہ اُسترے کی دھار کی طرح تیز ہو گا فرشتوں نے اس کے دائیں اور بائیں طرف صفیں بنائی ہوئی ہوں گی اور وہ آنکٹروں کے ذریعے لوگوں کو پکڑیں گے ‘ جو آنکڑے سعدان نامی پھول کے کانٹوں جیسے ہوں گے ‘ اور لوگ یہ کہیں گے : اے ہمارے پرودگار ! سلامتی عطا فرما ! سلامتی عطا فرما ! اُن لوگوں کے دل اُڑے ہوئے ہوں گے ‘ تو جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ وہ سلامت رہے گا اور جس شخص کے بارے میں ‘ اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ وہ شخص اُس میں گر جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔

11247

Majma al-Zawaid #11247

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ} [الشعراء: 219] قَالَ: مِنْ صُلْبِ نَبِيٍّ إِلَى صُلْبِ نَبِيٍّ حَتَّى صِرْتَ نَبِيًّا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning: and your turning among those who prostrate (26:219). From the loin of a prophet to the loin of a prophet until you became a prophet.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تمہارا سجدہ کرنے والوں میں منتقل ہونا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی نبی اکرم ﷺ ایک نبی کی پشت سے ‘ دوسرے نبی کی پشت کی طرف منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ آپ بھی نبی بن گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شبیب بن بشر کا معاملہ مختلف ہے ۔

11248

Majma al-Zawaid #11248

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُعَلِّمَكَ آيَةً مِنْ سُورَةٍ لَمْ تَنْزِلْ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي غَيْرَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ "". فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَلَغَ أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ: "" بِأَيِّ شَيْءٍ تَسْتَفْتِحُ صَلَاتَكَ وَقِرَاءَتَكَ؟ ""، قُلْتُ: بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ: "" هِيَ هِيَ ""، ثُمَّ أَخْرَجَ رِجْلَهُ الْأُخْرَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: the Messenger of Allah ﷺ said: do not leave the mosque until I teach you a verse from a sūrah none received before me save Sulaymān ibn Dāwūd عليهما السلام. At the threshold he asked with what he opens prayer and recitation; he said: with In the Name of Allah, the Merciful, the Compassionate. He said: it is it — then stepped out. > **"Do not leave the mosque until I teach you a verse none received before me save Sulaymān. With what do you open your prayer? It is it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے ‘ میں تمہیں ایک سورت کی ایک آیت تعلیم دوں گا ‘ جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوئی صرف حضرت سلیمان علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لے جانے لگے ‘ یہاں تک کہ آپ دروازے کی چوکھٹ تک پہنچ گئے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی نماز اور تلاوت کا آغاز کس کے ذریعے کرتے ہو ؟ میں نے عرض کی : «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کے ذریعے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ یہی ہے ‘ وہ یہی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دوسرا پاؤں بھی باہر نکال لیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11249

Majma al-Zawaid #11249

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى قَالَ: هُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [اصْطَفَاهُمُ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning: peace upon His servants whom He chose. They are the Companions of Muḥammad ﷺ, whom Allah chose for His Prophet.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اس کے ان بندوں پر سلام ہو ‘ جنہیں اس نے منتخب کیا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس سے مراد نبی اکرم ﷺ کے اصحاب ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے منتخب کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حکم بن زہیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

11250

Majma al-Zawaid #11250

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَأَلْتُ جِبْرِيلَ: أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: أَكْمَلَهُمَا وَأَتَمَّهُمَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْحَاكِمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: the Messenger of Allah ﷺ said: I asked Jibrīl عليه السلام which of the two terms Mūsā fulfilled; he said: the more complete and perfect of them. > **"I asked Jibrīl which of the two terms Mūsā fulfilled; he said: the more complete and perfect."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دو مدتوں میں سے کون سی مکمل کی تھی ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ جو زیادہ مکمل اور زیادہ پوری تھی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حاکم بن ابان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا ۔

11251

Majma al-Zawaid #11251

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ: أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: "" أَبَرَّهُمَا وَأَوْفَاهُمَا "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَمَّا أَرَادَ مُوسَى فِرَاقَ شُعَيْبٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ - أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَسْأَلَ أَبَاهَا أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ غَنَمِهِ مَا يَعِيشُونَ بِهِ، فَأَعْطَاهَا مَا وَلَدَتْ غَنَمُهُ فِي ذَلِكَ الْعَامِ مِنْ قَالَبِ لَوْنٍ "". قَالَ: "" فَمَا مَرَّتْ شَاةٌ إِلَّا ضَرَبَ مُوسَى جَنْبَهَا بِعَصَاهُ فَوَلَدَتْ قَوَالِبَ أَلْوَانِهَا كُلِّهَا وَوَلَدَتْ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ، كُلُّ شَاةٍ لَيْسَ فِيهَا فَشُوشٌ وَلَا ضَبُوبٌ وَلَا كَمْشَةٌ تَفُوتُ الْكَفَّ وَلَا ثَعُولٌ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَقَايَا مِنْهَا وَهِيَ السَّامِرِيَّةُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" فَلَمَّا وَرَدَتِ الْغَنَمُ الْحَوْضَ وَقَفَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِزَاءِ الْحَوْضِ فَلَمْ يَصْدُرْ مِنْهَا شَيْءٌ إِلَّا ضَرَبَ جَنْبَهَا، فَحَمَلَتْ فَنَتَجَتْ كُلُّهَا قَوَالِبَ لَوْنٍ وَاحِدٍ لَيْسَ فِيهَا فَشُوشٌ وَلَا ضَبُوبٌ وَلَا ثَعُولٌ وَلَا كَمْشَةٌ تَفُوتُ الْكَفَّ، فَإِنِ افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ وَجَدْتُمْ بَقَايَا مِنْهَا فَاتَّخِذُوهَا وَهِيَ السَّامِرِيَّةُ "". قَالَ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ: قَالَ: الْفَشُوشُ: الَّتِي يَنْفُشُ لَبَنُهَا عِنْدَ الْحَلْبِ، وَالضَّبُوبُ: الَّتِي يَضِبُّ ضَرْعُهَا عِنْدَ الْحَلْبِ، وَالْكَمْشَةُ: الَّتِي تَعْتَاصُ عِنْدَ الْحَلْبِ. وَفِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn al-Nuddar رضي الله عنه reported: the Messenger ﷺ was asked which term Mūsā fulfilled; he said: the most pious and complete. When Mūsā عليه السلام would part from Shuʿayb عليه السلام, his wife asked her father for sheep to live by; he granted what his sheep bore that year of altered color. Mūsā struck each ewe's side with his staff, all bore altered colors — thirty-two — with no defective milker among them. He ﷺ said: when you conquer Syria you will find their remnants — the Sāmiriyyah. > **"The most pious and complete of them. When you conquer Syria you will find their remnants — the Sāmiriyyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو زیادہ نیکی والی اور زیادہ پوری ہونے والی تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام سے رخصت ہونے کا ارادہ کیا ‘ تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے یہ کہا : کہ وہ اپنے والد سے یہ فرمائش کریں کہ ان کے والد اپنی بکریوں میں سے کچھ بکریاں دے دیں ، جن کے ذریعے ان کی گزر بسر ہو سکے ‘ تو حضرت شعیب علیہ السلام نے اس خاتون کو یہ چیز عطا کی کہ اس سال ان کی بکریاں جن ایسی بکریوں کو جنم دیں گی جن کی رنگت ( ان کی بکریوں کی ماؤں ) سے مختلف ہو ‘ وہ بکریاں انہیں مل جائیں گی ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جو بھی بکری پاس سے گزرتی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام ، اس کے پہلو پر اپنا عصا مارتے تھے ‘ تو وہ مختلف رنگ والی بکری کو جنم دیتی تھی ‘ انہوں نے بتیس بچوں کو جنم دیا ‘ ان میں سے کوئی بھی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ‘ یا ضبوب ‘ یا کمشہ ‘ جو تھیلی کو فوت کر دے ‘ یا ثعول ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ شام فتح کرو گے ‘ تو وہاں تمہیں اُن بکریوں کی بقایا جات مل جائیں گی اور وہ سامریہ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ بکریاں حوض پر آئیں ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام حوض کے مقابل کھڑے ہو گئے اور ان میں سے جو بھی بکری وہاں سے واپس جاتی تھی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پہلو پر مارتے تھے اور وہ حاملہ ہو جاتی تھی اور پھر ان تمام بکریوں نے ایسے بچوں کو جنم دیا جن کی رنگت ان کی ماؤں سے مختلف تھی ‘ ان میں سے کوئی بھی بکری ایسی نہیں تھی ، جو فشوش ‘ یا ضبوب ‘ یا ثعول ہو ‘ یا کمشہ ہو ‘ جو ہتھیلی کو فوت کر دے ‘ جب تم لوگ شام فتح کرو گے ‘ تو تمہیں ان کی بقایا جات مل جائیں گی ، تم انہیں حاصل کرنا ‘ وہ سامریہ ہیں ‘‘۔ یحیی بن بکیر کہتے ہیں : فشوش اس کو کہتے ہیں ، جس کے تھن کا سوراخ بڑا ہو اور اس کا دودھ ٹپکتا رہے ‘ ضبوب اس کو کہتے ہیں : جو دودھ دوہنے کے وقت اپنے تھن کو سکیڑ لے ‘ کمشہ اس کو کہتے ہیں : جو دودھ دوہنے کے وقت دشوار کر دے ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ‘ ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11252

Majma al-Zawaid #11252

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ: أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: "" أَوْفَاهُمَا وَأَبَرُّهُمَا "". قَالَ: "" وَإِنْ سُئِلْتَ أَيُّ الْمَرْأَتَيْنِ تَزَوَّجَ؟ فَقُلِ: الصُّغْرَى مِنْهُمَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَيَأْتِي فِي ذِكْرِ مُوسَى الْكَلِيمِ هُوَ وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported: the Messenger ﷺ was asked which term Mūsā fulfilled; he said: the most complete and pious. And if asked which of the two women he married, say: the younger of them. > **"The most complete and pious of them. If asked which woman he married, say: the younger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : حضرت موسیٰ ﷺ نے دو قسم کی مدتوں میں سے کونسی مدت پوری تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو زیادہ پوری ہونے والی اور زیادہ نیکی والی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم سے یہ سوال کیا جائے کہ دونوں خواتین میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شادی کس کے ساتھ ہوئی تھی ؟ تو تم یہ کہنا کہ جو اُن دونوں میں کم عمر تھیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ‘ امام طبرانی نے یہ روایت معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ جو اس سے زیادہ طویل روایت ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے ذکر میں یہ روایت آگے آئے گی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ حدیث بھی انہوں نے ذکر کی ہے ۔

11253

Majma al-Zawaid #11253

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَفَعَهُ إِلَى «النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا أَهْلَكَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَوْمًا بِعَذَابٍ مِنَ السَّمَاءِ وَلَا مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا بَعْدَ مُوسَى ""، ثُمَّ قَرَأَ: {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى} [القصص: 43]». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا وَلَفْظُهُ "" «مَا أَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمًا قَطُّ بِعَذَابٍ مِنَ السَّمَاءِ وَلَا مِنَ الْأَرْضِ إِلَّا بَعْدَ مَا أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ» "" يَعْنِي مَا مُسِخَتْ قَرْيَةٌ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه raised to the Prophet ﷺ: Allah did not destroy a people by punishment from heaven or earth save after Mūsā. Then he recited: We gave Mūsā the Book after We destroyed the former generations (28:43) — meaning no village was transformed after the Torah. > **"Allah did not destroy a people by punishment from heaven or earth save after Mūsā."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے آسمان ‘ یا زمین سے نازل ہونے والے عذاب کے ذریعے کسی بھی قوم کو ہلاک نہیں کیا ، مگر یہ کہ حضرت موسی علیہ السلام کے بعد ایسا ہوا ‘‘۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی ‘ اس کے بعد کہ ہم پہلی قوموں کو ہلاک کر چکے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے موقوف اور مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اس نے کسی قوم کو آسمان یا زمین سے آنے والے عذاب کے ذریعے ہلاک نہیں کیا ‘ مگر یہ کہ تورات نازل ہونے کے بعد ایسا ہوا ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی بستی کو مسخ نہیں کیا گیا ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11254

Majma al-Zawaid #11254

عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: قَالُوا سَاحِرَانِ تَظَاهَرَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaym ibn ʿĀmir said: I heard ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reciting this verse as *sāḥirāni taẓāharā* — two magicians supporting one another — in reference to Mūsā and Hārūn عليهما السلام.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا : ’’ ان لوگوں نے یہ کہا : یہ دو جادو ہیں ، جو ایک دوسرے کی موافقت کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ‘ جسے امام احمد اور جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ دحیم نے اسے ثقہ کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11255

Majma al-Zawaid #11255

عَنْ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي عَشَرَةِ رَهْطٍ أَنَا أَحَدُهُمْ {وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ} [القصص: 51]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا مُتَّصِلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَهُوَ هَذَا، وَالْآخَرُ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Rifāʿah al-Quraẓī رضي الله عنه said: This verse was revealed concerning ten men, and I am one of them: *And We have conveyed the Word to them that they might remember* [al-Qaṣaṣ: 51].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت دس افراد کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جن میں سے ایک ’’ میں ‘‘ بھی ہوں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہم نے اُن لوگوں کے لئے قول ( قرآن ) نازل کیا ‘ تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کی سند متصل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور وہ یہ والی روایت ہے ‘ جبکہ دوسری روایت سند کے اعتبار سے ’’ منقطع ‘‘ ہے ۔

11256

Majma al-Zawaid #11256

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ {إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ} [القصص: 85] قَالَ: مَعَادُهُ آخِرَتُهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAlī Abū Jaʿfar said: I asked Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه about the saying of Allah, *Indeed He who imposed the Qurʾān upon you will return you to a place of return* [al-Qaṣaṣ: 85]. He said: His return is his Hereafter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام باقر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک وہ ذات ‘ جس نے تم پر قرآن نازل کیا ہے ‘ وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ کی طرف ‘ واپس کر دے گا ‘‘ تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کے لوٹنے کی جگہ سے مراد ‘ آپ ﷺ کی آخرت ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11257

Majma al-Zawaid #11257

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ} [القصص: 85] قَالَ: مَعَادُكَ إِلَى الْجَنَّةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning *Indeed He who imposed the Qurʾān upon you will return you to a place of return* [al-Qaṣaṣ: 85]: Your place of return is Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک وہ ذات ‘ جس نے تم پر قرآن نازل کیا ہے ‘ وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ کی طرف ‘ واپس کر دے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ( اس سے مراد یہ ہے کہ ) تمہارے لوٹنے کی جگہ ” جنت ‘‘ ہے ۔

11258

Majma al-Zawaid #11258

وَفِي رِوَايَةٍ: إِلَى مَعَادٍ قَالَ: الْمَوْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خُصَيْفٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما concerning *to a place of return*: It means death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوٹنے کی جگہ ‘‘ سے مراد ‘ موت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خصیف کا معاملہ مختلف ہے ‘ ویسے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11259

Majma al-Zawaid #11259

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ، فَقَالَ: "" سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ قَالَ: أَرَى أَبَا صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: A man came to the Prophet ﷺ and said, So-and-so prays at night, but in the morning he steals. He ﷺ said: > **"What you mention will soon forbid him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : فلاں شخص رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ‘ لیکن صبح ہو ‘ تو وہ چوری کر لیتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ( نماز ) اُس شخص کو اس چیز سے روک دے گی جو تم بیان کر رہے ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ اعمش نے یہ کہا ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسے ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔

11260

Majma al-Zawaid #11260

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" الْبِضْعُ مَا بَيْنَ السَّبْعِ إِلَى الْعَشَرَةِ "". قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ "" الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ قَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ: كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ وَكَانَ ثِقَةً. قُلْتُ: وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Al-biḍʿ is between seven and ten."** This explains the word *biḍʿa sinīn* in Sūrat al-Rūm.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ لفظ ‘‘ بضع ‘‘ سات سے لے کر دس تک کے درمیان کے لئے استعمال ہوتا ہے ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ لفظ ’’ بضع ‘‘ دس سے کم کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ‘ سعید بن منصور کہتے ہیں : امام مالک اس سے راضی تھے ‘ یہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

11261

Majma al-Zawaid #11261

وَعَنْ نِيَارِ بْنِ مُكْرَمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْبِضْعُ مَا بَيْنَ الثَّلَاثِ إِلَى التِّسْعِ» "". قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Niyār ibn Mukram رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Al-biḍʿ is between three and nine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نیار بن مکرم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لفظ ’’ بضع ‘‘ تین سے لے کر نو تک کے لئے استعمال ہوتا ہے ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ایک حدیث نقل کی ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

11262

Majma al-Zawaid #11262

عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: خَاصَمَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: تَجِدُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ: فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ، الْمَغْرِبَ، وَحِينَ تُصْبِحُونَ، الصُّبْحَ، وَعَشِيًّا، الْعَصْرَ، وَحِينَ تُظْهِرُونَ، الظُّهْرَ، وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ قَالَ: صَلَاةُ الْعِشَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Razīn said: Nāfiʿ ibn al-Azraq disputed with Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما, asking, Do you find the five prayers in the Book of Allah? He said: Yes. Then he recited to him: *So glorify Allah when you enter evening* — this is Maghrib; *and when you enter morning* — this is Fajr; *and in the late afternoon* — this is ʿAṣr; *and when you enter noon* — this is Ẓuhr; and *after the ʿIshāʾ prayer* — this is ʿIshāʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورزین بیان کرتے ہیں : نافع بن ازرق نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بحث کرتے ہوئے یہ کہا : کہ کیا آپ پانچ نمازوں کا حکم اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں :’’ تم اللہ کی پاکی بیان کرو ! جب تم شام کرتے ہو ‘‘۔ اس سے مراد مغرب ہے ۔ ’’ اور جب صبح کرتے ہو ‘‘۔ اس سے مراد صبح کی نماز ہے ۔ اور شام کے وقت ۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے ۔ اور جب تم دوپہر کرتے ہو ‘‘۔ اس سے مراد ظہر کی نماز ہے ’’ اور عشاء کی نماز کے بعد ‘‘ تو یہاں عشاء کی نماز کا ذکر آ گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11263

Majma al-Zawaid #11263

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: ({اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا} [الروم: 48]) يَقُولُ: قِطَعًا بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ. فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ مِنْ بَيْنِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning *Allah is He who sends the winds, stirring cloud, then spreading it in the sky as He wills and making it fragments* [al-Rūm: 48]: *Kisafan* means pieces, one above another. *And you see the rain emerging from within it* means emerging from between it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ وہ ہے ‘ جو ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘ تو وہ بادل کو لے کر چلتی ہیں اور پھر وہ اس ( بادل ) کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے ‘ جیسے وہ چاہتا ہے اور اسے ’’ کسف “ بنا دیتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں :’’ یہاں کسف ‘‘ سے مراد ‘ ایسے ٹکڑے ہیں ، جو ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم بارش کو دیکھتے ہو کہ اس کے ” خلال ‘‘ میں سے نکلتی ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی اس میں سے نکلتی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11264

Majma al-Zawaid #11264

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْعِلْمِ فِيمَا بَثَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كِتَابِ الْعِلْمِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Five are known only to Allah: Indeed with Allah is knowledge of the Hour, He sends down rain, He knows what is in the wombs, no soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in which land it will die. Indeed Allah is Knowing, Aware."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ پانچ چیزیں ایسی ہیں ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ( جن کا ذکر اس آیت میں ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور رحم میں جو کچھ ہے ‘ وہ اس کے بارے میں جانتا ہے ‘ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون کی سرزمین پر مرے گا ‘ بے شک اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا خبر رکھنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے ’’ کتاب العلم ‘‘ میں ، علم کو پھیلانے سے متعلق باب میں ‘ اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

11265

Majma al-Zawaid #11265

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «{تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا} [السجدة: 16]. قَالَ: "" قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَشَهْرٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ recited *Their sides forsake their beds, calling upon their Lord in fear and hope* [al-Sajdah: 16], and said: > **"It is the standing of the servant at night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا ( یعنی آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ‘ اور وہ خوف اور امید کے عالم میں ‘ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس سے مراد بندے کا رات کے وقت قیام کرنا ( یعنی نوافل ادا کرنا ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور شہر نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11266

Majma al-Zawaid #11266

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدة: 16] الْآيَةَ كُنَّا نَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلُّونَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدة: 16]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilāl رضي الله عنه said: When this verse was revealed, *Their sides forsake their beds* [al-Sajdah: 16], we were sitting in a gathering while some Companions of the Prophet ﷺ prayed voluntary prayer from Maghrib until ʿIshāʾ, and this verse was revealed concerning them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ‘‘ تو ہم ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب ‘ مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک ( نفل ) نماز ادا کرتے رہے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11267

Majma al-Zawaid #11267

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ لِلَّذِينِ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَإِنَّهُ لَفِي الْقُرْآنِ {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: It is written in the Torah that for those whose sides forsake their beds there is what no eye has seen, no ear has heard, and what has never occurred to a human heart. And in the Qurʾān it is: *No soul knows what is hidden for them of comfort of eyes* [al-Sajdah: 17].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تورات میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ لوگ جن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ان کے لئے وہ چیزیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہیں کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں ان کے بارے میں خیال نہیں بھی آیا ہو گا اور قرآن میں اس بارے میں یہ الفاظ ہیں : ’’ کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کے حوالے سے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11268

Majma al-Zawaid #11268

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِهِ: {وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ} [السجدة: 21] قَالَ: مَنْ يَبْقَى مِنْهُمْ أَوْ يَتُوبُ فَيَرْجِعُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said concerning *And We shall surely make them taste the nearer punishment before the greater punishment, that they may return* [al-Sajdah: 21]: It refers to those among them who remain, or who repent and return.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہم انہیں ( آخرت کے ) بڑے عذاب سے پہلے قریبی ( یعنی دنیاوی ) عذاب ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ لوگ رجوع کر لیں ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ ان میں سے باقی رہ گئے ہیں یا پھر یہ ہے کہ وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعد بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11269

Majma al-Zawaid #11269

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ أَجْرَمَ: مَنِ اعْتَقَدَ لِوَاءً فِي غَيْرِ حَقٍّ، أَوْ عَقَّ وَالِدَيْهِ، أَوْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ فَقَدْ أَجْرَمَ، يَقُولُ اللَّهُ: {إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ} [السجدة: 22]») "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Three deeds, whoever does them has committed a crime: whoever raises a banner without right, whoever disobeys his parents, or whoever walks with a tyrant has committed a crime. Allah says: Indeed We shall take retribution from the criminals."** [al-Sajdah: 22]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ تین کام ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص انہیں کرتا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ناحق طور پر جھنڈا باندھے یا اپنے والدین کی نافرمانی کرے یا وہ ظالم کے ساتھ چل کر جائے تو وہ جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک ہم جرم کرنے والوں سے انتقام لینے والے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11270

Majma al-Zawaid #11270

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ: {وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ} [السجدة: 23] قَالَ: "" جَعَلَ مُوسَى هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ""، وَفِي قَوْلِهِ: {فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ} [السجدة: 23] قَالَ: "" مِنْ لِقَاءِ مُوسَى رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ concerning *And We made him a guidance for the Children of Israel* [al-Sajdah: 23]: > **"He made Mūsā a guidance for the Children of Israel."** And concerning *So be not in doubt of meeting Him*: > **"Of Mūsā meeting his Lord, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا گیا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اور تم اُس کے ملنے کے بارے میں شک کا شکار نہ ہونا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے کے بارے میں ( شک کا شکار نہ ہونا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11271

Majma al-Zawaid #11271

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ عَلَى قَوْمِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: Allah took the covenant of the prophets over their peoples, concerning *And when We took from the prophets their covenant* [al-Aḥzāb: 7].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے ان کی قوم کے حوالے سے میثاق لیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11272

Majma al-Zawaid #11272

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي مَنَاقِبِ أَهْلِ الْبَيْتِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه said: This verse, *Allah intends only to remove impurity from you, O people of the Household, and to purify you thoroughly* [al-Aḥzāb: 33], was revealed concerning the Messenger of Allah ﷺ, ʿAlī, Fāṭimah, al-Ḥasan and al-Ḥusayn رضي الله عنهم.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت ! وہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک و صاف کر دے ‘‘۔ یہ آیت نبی اکرم ﷺ حضرت علی رضی الله عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق اہل بیت کے مناقب سے متعلق باب میں آئیں گے ۔

11273

Majma al-Zawaid #11273

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتِ النِّسَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَالُهُ يَذْكُرُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَذْكُرُ الْمُؤْمِنَاتِ؟ فَنَزَلَتْ {إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [الأحزاب: 35]»). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَابُوسُ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The women said, O Messenger of Allah, why are believing men mentioned while believing women are not mentioned? So this was revealed: *Indeed the Muslim men and Muslim women, and the believing men and believing women* [al-Aḥzāb: 35].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں خواتین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا معاملہ ہے کہ مومن مردوں کا ذکر ہو جاتا ہے لیکن مومن خواتین کا ذکر نہیں ہوتا ؟ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ‘ اور مومن مرد اور مومن عورتیں .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11274

Majma al-Zawaid #11274

عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ: {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 37] وَهُوَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْإِسْلَامِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ} [الأحزاب: 37] قَالَ: كَانَ يُخْفِي فِي نَفْسِهِ وَدَّ أَنَّهُ طَلَّقَهَا. قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: مَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ آيَةٌ كَانْتَ عَلَيْهِ أَشَدَّ مِنْهَا قَوْلُهُ: {وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ} [الأحزاب: 37] وَلَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَهَا {وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ} [الأحزاب: 37] قَالَ: خَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَةَ النَّاسِ {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا} [الأحزاب: 37] فَلَمَّا طَلَّقَهَا زَيْدٌ زَوَّجْنَاكَهَا قَالَ: فَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَمَّا أَنْتُنَّ فَزَوَّجَكُنَّ آبَاؤُكُنَّ وَأَمَّا أَنَا فَزَوَّجَنِي ذُو الْعَرْشِ {وَاتَّقِ اللَّهَ} [الأحزاب: 37] قَالَ: جَعَلَ يَقُولُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا قَدِ اشْتَدَّ عَلَيَّ خُلُقُهَا وَإِنِّي مُطَلِّقٌ هَذِهِ الْمَرْأَةَ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَالَ لَهُ زَيْدٌ ذَلِكَ قَالَ لَهُ: {أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ} [الأحزاب: 37]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatādah said concerning *When you said to him upon whom Allah bestowed favor and upon whom you bestowed favor* [al-Aḥzāb: 37]: He is Zayd ibn Ḥārithah رضي الله عنه; Allah favored him with Islam and the Messenger of Allah ﷺ favored him by freeing him. His saying *Keep your wife and fear Allah, while you concealed within yourself what Allah would reveal* means he concealed his wish that Zayd would divorce her. Al-Ḥasan said: No verse was harder upon him than *while you concealed within yourself*; had the Messenger of Allah ﷺ concealed anything of revelation he would have concealed it. *And you feared people while Allah is more worthy that you fear Him* means he feared people's talk. *When Zayd had concluded from her* means when Zayd divorced her, *We married her to you*. Zaynab bint Jaḥsh رضي الله عنها used to boast over the wives of the Prophet ﷺ: Your fathers married you, while the Lord of the Throne married me. When Zayd said, O Prophet of Allah, her character is hard upon me and I shall divorce her, the Prophet ﷺ said to him: *Keep your wife and fear Allah*.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب تم نے اس شخص سے یہ کہا جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ہے اور تم نے بھی اس پر انعام کیا ہے ‘‘ اس سے مراد ‘ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام کیا تھا کہ انہیں اسلام کی توفیق دی اور تم نے ان پر یہ انعام کیا کہ اللہ کے رسول نے انہیں آزاد کیا تھا ( تم نے اسے یہ کہا : جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہیں : ) ’’ تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو ! اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تم اپنے من میں وہ چیز چھپا رہے تھے ‘ جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا ‘‘۔ قتادہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے من میں یہ بات چھپائی ہوئی تھی کہ آپ کی یہ خواہش تھی کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ اس خاتون کو طلاق دے دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حسن نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ پر کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی ، جو آپ کے لئے اس سے زیادہ دشوار ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنے من میں وہ چیز چھپا رہے تھے .......‘‘ اگر نبی اکرم ﷺ نے وحی میں سے کوئی چیز چھپانی ہوتی ‘ تو آپ اس آیت کو چھپا لیتے : ’’ اور تم لوگوں سے اندیشہ رکھتے ہو ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو ‘‘۔ حسن کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو لوگوں کی بات کے بارے میں اندیشہ تھا ۔ ’’ اور جب زید نے اس خاتون کے حوالے سے فیصلہ کر لیا ‘‘۔ یعنی جب حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو طلاق دے دی ۔’’ تو ہم نے تمہاری شادی ‘‘ اُس خاتون کے ساتھ کروا دی ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اس حوالے سے نبی اکرم ﷺ کی دیگر ازواج کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کرتی تھیں : تمہاری شادیاں ‘ تو تمہارے باپ داداؤں نے کروائی ہیں میری شادی عرش والی ذات نے کروائی ہے ۔ ’’ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے یہ گزارش کی تھی کہ اے اللہ کے نبی ! اس خاتون کے اخلاق میرے لئے دشواری کا باعث بن رہے ہیں ‘ اور میں اس خاتون کو طلاق دینا چاہتا ہوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا ، جب حضرت زید رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں یہ گزارش کی تھی :’’ کہ تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایسے رجال کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جن میں سے بعض صحیح کے رجال ہیں ۔

11275

Majma al-Zawaid #11275

عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْنَبَ وَهِيَ بِنْتُ عَمَّتِهِ وَهُوَ يُرِيدُهَا لِزَيْدٍ، فَظَنَّتْ أَنَّهُ يُرِيدُهَا لِنَفْسِهِ فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ يُرِيدُهَا لِزَيْدٍ أَبَتْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ} [الأحزاب: 36] فَرَضِيَتْ وَسَلَّمَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatādah said: The Prophet ﷺ proposed to Zaynab رضي الله عنها, daughter of his paternal aunt, intending her for Zayd. She thought he intended her for himself; when she learned he intended her for Zayd, she refused. Then Allah revealed *It is not for a believing man or woman, when Allah and His Messenger decree a matter, to have choice in their affair* [al-Aḥzāb: 36]. So she accepted and submitted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا ‘ جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، نبی اکرم ﷺ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرنا چاہتے تھے ‘ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا یہ سمجھیں کہ نبی اکرم ﷺ خود ان کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں جب انہیں اس بات کا پتہ چلا کہ نبی اکرم ﷺ اُن کی شادی حضرت زید رضی اللہ عنہ سے کروانا چاہ رہے ہیں ، تو انہوں نے انکار کر دیا ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لئے یہ اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ، کسی معاملے کے بارے فیصلہ دے دیں ‘ تو انہیں اپنے بارے میں ( کسی کو قبول نہ کرنے ) کا اختیار ہو ‘‘۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس بات سے راضی ہو گئیں اور انہوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11276

Majma al-Zawaid #11276

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ {وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا} [الأحزاب: 38] مِنْ سُنَّتِهِ فِي دَاوُدَ وَالْمَرْأَةِ وَالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَيْنَبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj said concerning *And the command of Allah is a decree already ordained* [al-Aḥzāb: 38]: This is from His way concerning Dāwūd عليه السلام and the woman, and concerning the Prophet ﷺ and Zaynab رضي الله عنها.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج نے ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اللہ تعالیٰ کا حکم ایک ایسا فیصلہ ہے ‘ جو پورا ہو چکا ہے ‘‘ ابن جریج کہتے ہیں : اس کے حکم میں یہ بات بھی شامل ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام اور ایک خاتون کے بارے میں حکم تھا ‘ اور جو نبی اکرم ﷺ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں حکم تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11277

Majma al-Zawaid #11277

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} [الأحزاب: 45] دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - وَمُعَاذًا، وَقَدْ كَانَ أَمَرَهُمَا أَنْ يَخْرُجَا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "" انْطَلِقَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، فَإِنَّهُ قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا} [الأحزاب: 45] [عَلَى أُمَّتِكَ] (وَمُبَشِّرًا) بِالْجَنَّةِ (وَنَذِيرًا) مِنَ النَّارِ {وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ} [الأحزاب: 46] إِلَى شِهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ {بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا} [الأحزاب: 46] بِالْقُرْآنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When *O Prophet, indeed We have sent you as a witness, a bearer of glad tidings and a warner* [al-Aḥzāb: 45] was revealed, the Prophet ﷺ called ʿAlī رضي الله عنه and Muʿādh رضي الله عنه, whom he had ordered to go to Yemen, and said: > **"Go forth, give glad tidings and do not repel, make easy and do not make difficult. For there has been revealed to me: O Prophet, indeed We have sent you as a witness over your nation, and a bearer of glad tidings of Paradise, and a warner of the Fire, and a caller to Allah — to the testimony that there is no deity but Allah — by His permission, and as an illuminating lamp by the Qurʾān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اے نبی ! بے شک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا ‘ آپ نے ان دونوں حضرات کو یہ حکم دیا کہ وہ دونوں یمن چلے جائیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں روانہ ہو جاؤ ! تم دونوں خوشخبری سنانا ‘ تم دونوں متنفر نہ کرنا ‘ تم دونوں آسانی فراہم کرنا ‘ تم دونوں تنگی کا شکار نہ کرنا ‘ کیونکہ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے : ’’ اے نبی ! بے شک ہم نے تمہیں گواہ بنا کر بھیجا ہے .......‘‘۔ یعنی تم اپنی امت کے بارے میں گواہ ہو ۔ ’’ خوشخبری سنانے والا ‘‘۔ یعنی جنت کے بارے میں ۔ ’’ اور ڈرانے والا ‘‘۔ یعنی جہنم سے ۔ ’’ اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا ‘‘۔ یعنی اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دینے والا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ ’’ اس کے حکم کے ساتھ اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ‘‘۔ یہاں حکم کے ساتھ ‘ سے مراد قرآن کے ساتھ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11278

Majma al-Zawaid #11278

«عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فِي قَوْلِهِ: {وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ} [الأحزاب: 50] أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ الْأَزْدِيَّةَ الَّتِي وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn al-Ḥusayn said concerning *And a believing woman if she offers herself to the Prophet* [al-Aḥzāb: 50]: She is Umm Sharīk al-Azdiyyah رضي الله عنها, who offered herself to the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اگر کوئی مومن عورت ‘ اپنا آپ نبی کے لئے ہبہ کر دے ‘‘ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام شریک ازدیہ رضی اللہ عنہا نے اپنا آپ ‘ نبی اکرم ﷺ کے لئے ہبہ کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11279

Majma al-Zawaid #11279

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ الْبَدَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: بَادِلْنِي امْرَأَتَكَ وَأُبَادِلُكَ امْرَأَتِي. أَيْ تَنْزِلُ لِي عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِي. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ} [الأحزاب: 52] قَالَ: فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَأَيْنَ الِاسْتِئْذَانُ؟ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ إِلَى جَنْبِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ""، قَالَ: أَفَلَا أَنْزِلُ لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ؟ قَالَ: "" يَا عُيَيْنَةُ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ "". قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهَا -: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: "" أَحْمَقُ مُطَاعٌ وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لَسَيِّدُ قَوْمِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: In Jāhiliyyah, wife-exchange meant a man saying to another, Exchange your wife with me for my wife — you leave yours for me and I leave mine for you. So Allah revealed *Nor that you exchange them for other wives, even if their beauty pleases you* [al-Aḥzāb: 52]. ʿUyaynah ibn Ḥiṣn entered upon the Messenger of Allah ﷺ while ʿĀʾishah رضي الله عنها was with him, without permission. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Where is seeking permission?"** He said, O Messenger of Allah, by Allah I have never sought permission from any man of Muḍar since I grew up. Then he asked, Who is this fair-skinned woman beside you? He ﷺ said: > **"This is ʿĀʾishah, Mother of the Believers."** He said, Shall I not leave for you the most beautiful in character? He ﷺ said: > **"O ʿUyaynah, Allah, Blessed and Exalted, has forbidden that."** When he left, ʿĀʾishah asked, Who is this? He ﷺ said: > **"A foolish man who is obeyed, yet as you see he is the chief of his people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے شخص سے یہ کہتا تھا کہ تم اپنی بیوی میرے ساتھ بدلوا لو ‘ میں اپنی بیوی تمہارے ساتھ بدلوا لیتا ہوں ‘ یعنی تم میری خاطر اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لو اور میں تمہاری خاطر اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہوں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اور نہ ہی یہ درست ہے کہ تم ان ازواج کی جگہ دوسری بیویاں بدل کر ( اپنے عقد میں لو ) اگرچہ ان کی خوبصورتی تمہیں اچھی لگے ‘‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ عیینہ بن حصن فزاری ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں ، وہ اجازت لئے بغیر اندر آ گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم نے اجازت کیوں نہیں لی ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! جب سے میں بڑا ہوا ہوں ، میں نے کبھی مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے اندر آنے کی اجازت نہیں لی ‘ پھر اس نے دریافت کیا : آپ کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ عائشہ ہے ‘ جو اہل ایمان کی ماں ہے ‘ تو اس نے کہا : کیا میں آپ کی خاطر ایسی خاتون سے علیحدگی اختیار نہ کر لوں جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عیینہ ! اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو حرام قرار دے دیا ہے ‘ جب وہ شخص چلا گیا ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یہ کون تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ایک احمق شخص تھا ، جس کی پیروی کی جاتی ہے اور تم نے جو اس کی صورت حال دیکھی ہے ‘ اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11280

Majma al-Zawaid #11280

«عَنْ زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: لَوْ مُتْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلُّهُنَّ كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ؟ قَالَ: وَمَا يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لِقَوْلِهِ {لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ} [الأحزاب: 52] قَالَ: إِنَّمَا أُحِلَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَرْبٌ مِنَ النِّسَاءِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَزَادَ: كَذَا رَأَيْتُ فِي ثِقَاتِ ابْنِ حِبَّانَ زِيَادٌ أَبُو يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ يَرْوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ فَهُوَ ثِقَةٌ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ziyād al-Anṣārī said: I asked Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه, If all the wives of the Prophet ﷺ had died, would it be lawful for him to marry? He asked, What would forbid him that? I said, His saying *No women are lawful for you after this* [al-Aḥzāb: 52]. He said: Only a certain class of women was made lawful for the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد انصاری بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اگر نبی اکرم ﷺ کی تمام ازواج انتقال کر جاتیں ، تو نبی اکرم ﷺ کے لئے شادی کرنا جائز ہوتا ؟ انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کے لئے یہ حرام کیوں ہو گا ؟ میں نے کہا : اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ’’ اس کے بعد تمہارے لئے دیگر خواتین حلال نہیں ہیں .......‘‘۔ تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے مخصوص قسم کی خواتین کو حلال قرار دیا ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور زیاد نامی راوی کا ذکر میں نے ابن حبان کی کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں دیکھا ہے ‘ وہ زیاد ابویحیی انصاری ہے ‘ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات نقل کی ہیں ، اگر تو یہ وہی شخص ہے تو پھر یہ ثقہ ہے ‘ اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ‘ اور ایک راوی محمد بن ابوموسی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11281

Majma al-Zawaid #11281

«عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَعْبٍ، فَمَرَّ عُمَرُ فَدَعَاهُ فَأَكَلَ، فَأَصَابَتْ إِصْبَعُهُ إِصْبَعِي، فَقَالَ: حِسَّ أَوْ أَوْهُ، لَوْ أَطَاعَ فِيكُنَّ مَا رَأَتْكُنَّ عَيْنٌ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: I was eating with the Prophet ﷺ from one bowl when ʿUmar passed by. He called him and he ate; his finger touched my finger, and he said, O how sensitive — if you were obeyed concerning them, no eye would ever see you. Then the verse of hijab was revealed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک پیالے میں کھا رہی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی دعوت دی ‘ وہ بھی کھانے لگے ‘ تو ان کی انگلی میری انگلی کے ساتھ مس ہو گئی ، تو انہوں نے فرمایا : ارے ! یا انہوں نے کہا : اف ! اگر میری بات تم خواتین کے بارے میں مانی جاتی ‘ تو کسی آنکھ نے تم خواتین کو نہیں دیکھنا تھا ، تو حجاب ( کے حکم ) سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ موسیٰ بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11282

Majma al-Zawaid #11282

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: When the verse of hijab was revealed, I came to enter as I used to enter, but the Messenger of Allah ﷺ said to me: > **"Remain behind, O my son."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حجاب کے حکم سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ، تو میں آیا ‘ میں پہلے کی طرح اندر داخل ہونے لگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اب تم باہر ہی رہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلم علوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11283

Majma al-Zawaid #11283

«عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ} [الأحزاب: 56] قَالَ: "" إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْمَكْتُومِ، وَلَوْلَا أَنَّكُمْ سَأَلْتُمُونِي عَنْهُ مَا أَخْبَرْتُكُمْ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَكَّلَ بِي مَلَكَيْنِ لَا أُذْكَرُ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَيُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا قَالَ ذَانِكَ الْمَلَكَانِ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، وَقَالَ اللَّهُ وَمَلَائِكَتُهُ جَوَابًا لِذَيْنِكَ الْمَلَكَيْنِ: آمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَطَّافٍ وَهُوَ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كِتَابِ الْأَدْعِيَةِ وَتَقَدَّمَ بَعْضُهَا فِي الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan ibn ʿAlī رضي الله عنهما said: They asked, O Messenger of Allah, what of the saying of Allah, *Indeed Allah and His angels send blessings upon the Prophet* [al-Aḥzāb: 56]? He ﷺ said: > **"This is among the concealed matters; had you not asked me I would not have informed you. Indeed Allah has entrusted me with two angels: I am never mentioned before a Muslim servant who then sends blessings upon me except that those two angels say, May Allah forgive you, and Allah and His angels say in answer to them: Āmīn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ‘ آپ کا کیا فرمان ہے ؟ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر ‘ رحمت نازل کرتے ہیں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چیز پوشیدہ امور میں سے ہے ‘ اگر تم نے مجھ سے اس کے بارے میں دریافت نہ کیا ہوتا ‘ تو میں نے تمہیں نہیں بتانا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ دو فرشتے مقرر کیے ہیں ‘ جب بھی کسی مسلمان شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے ‘ تو وہ دونوں فرشتے یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تمہاری بھی مغفرت کرے ‘ تو اللہ تعالی اور اس کے فرشتے ‘ ان دونوں فرشتوں کے جواب میں آمین کہتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ بن خطاف ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے سے متعلق ‘ بقیہ احادیث دعاؤں سے متعلق کتاب میں آئیں گی ‘ ان میں سے کچھ احادیث نماز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔