وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي هَاشِمٍ فَأَجْلَسَهُمْ عَلَى الْبَابِ، وَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ فَأَجْلَسَهُمْ فِي الْبَيْتِ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: "" يَا بَنِي هَاشِمٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَأَوْسِعُوا فِي فِكَاكِ رِقَابِكُمْ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنِّي لَا أُمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَيَا حَفْصَةُ بِنْتَ عُمَرَ وَيَا أُمَّ سَلَمَةَ وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ وَيَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَأَوْسِعُوا فِي فِكَاكِ رِقَابِكُمْ، وَافْتَكُّوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي "". فَبَكَتْ عَائِشَةُ وَقَالَتْ: أَيْ حِبِّي، هَلْ يَكُونُ ذَلِكَ يَوْمَ لَا تُغْنِي عَنَّا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ: "" نَعَمْ، فِي ثَلَاثِ مَوَاطِنَ يَقُولُ اللَّهُ - تَعَالَى -: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [الأنبياء: 47] فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَعِنْدَ النُّورِ مَنْ شَاءَ أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ نُورَهُ وَمَنْ شَاءَ أَكَنَّهُ فِي الظُّلُمَاتِ يَغُمُّهُ فِيهَا، فَلَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، وَعِنْدَ الصِّرَاطِ مَنْ شَاءَ سَلَّمَهُ وَأَجَازَهُ وَمَنْ شَاءَ كَبْكَبَهُ فِي النَّارِ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيْ حِبِّي، قَدْ عَلِمْتُ الْمَوَازِينَ هِيَ الْكِفَّتَانِ فَيُوضَعُ فِي هَذِهِ فَتُرَجَّحُ إِحْدَاهُمَا وَتَخِفُّ الْأُخْرَى، وَقَدْ عَلِمْنَا مَا النُّورُ وَمَا الظُّلْمَةُ، فَمَا الصِّرَاطُ؟ قَالَ: "" طَرِيقٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ يَجُوزُ النَّاسُ عَلَيْهَا وَهُوَ مِثْلُ حَدِّ الْمُوسَى، وَالْمَلَائِكَةُ صَافَّةٌ يَمِينًا وَشِمَالًا يَخْطَفُونَهُمْ بِالْكَلَالِيبِ مِثْلَ شَوْكِ السَّعْدَانِ وَهُمْ يَقُولُونَ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ، فَمَنْ شَاءَ اللَّهُ سَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ كَبْكَبَهُ فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Umāmah رضي الله عنه said: when warn your nearest kin (26:214) was revealed, the Messenger ﷺ gathered Banū Hāshim at the door and his wives and household inside, then addressed them: O Banū Hāshim, ransom yourselves from the Fire, liberate your necks, save yourselves from Allah, for I own nothing for you against Allah. Then to his household — ʿĀʾishah, Ḥafṣah, Umm Salamah, Fāṭimah, and Umm al-Zubayr رضي الله عنهن: ransom yourselves, for I avail you nothing. ʿĀʾishah wept asking if a day comes he avails nothing; he named three stations — the just Scales (21:47), the Light, and the Path sharp as a razor's edge with angels snatching by hooks crying Lord save, save. > **"O Banū Hāshim, ransom yourselves from the Fire, for I own nothing for you against Allah. O ʿĀʾishah, Ḥafṣah, Umm Salamah, Fāṭimah — ransom yourselves, for I avail you nothing against Allah."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ ! ‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے بنو ہاشم کو اکٹھا کیا ‘ آپ نے ان کو دروازے کے باہر بٹھایا ‘ آپ نے اپنے گھر کی خواتین کو اکٹھا کیا اور انہیں گھر کے اندر بٹھایا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے بنو ہاشم ! جہنم سے بچاؤ کے لئے اپنی ذات کا سودا کر لو ‘ اور اپنی گردنوں کو چھٹروانے کے لئے گنجائش اختیار کرو ‘ اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کو آزاد کروا لو ‘ کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ اپنے اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ بنت ابوبکر ! اے حفصہ بنت عمر ! اے ام سلمہ ! اے فاطمہ بنت محمد ! اے ام زبیر ! جو اللہ کے رسول کی پھوپھی ہیں ، تم لوگ جہنم سے بچنے کے لئے اپنے آپ کا سودا کر لو ‘ اور اپنی گردنیں چھڑوانے کے لئے گنجائش اختیار کرو ‘ اور اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کو محفوظ کروا لو ‘ کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، انہوں نے عرض کی : اے میرے محبوب ! کیا وہ ایسا دن ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ کوئی چیز ہمارے کام نہیں آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تین مقامات پر ایسا ہو گا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ’’ اور ہم قیامت کے دن ‘ ترازو کو انصاف کے ساتھ رکھیں گے ‘‘۔ تو اس وقت ‘ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ‘ تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا ‘ اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے حق میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوؤں گا اور دوسری چیز نور کے وقت ‘ کہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کے نور کو مکمل کر دے گا اور جس کو چاہے گا اس کے نور کو تاریکیوں میں ڈال دے گا ‘ جو اسے ڈھانپ لیں گی ‘ تو میں ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوؤں گا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکوں گا اور پل صراط کے قریب ، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ اُسے سلامتی سے گزار دے گا اور جس شخص کے بارے میں وہ چاہے گا اسے جہنم میں گرا دے گا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے میرے محبوب ! میزان کے بارے میں تو مجھے پتہ ہے کہ اس کے دو پلڑے ہوں گے اور ان میں ( نیکیاں اور برائیاں ) رکھی جائیں گی اور ایک پلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا ہلکا ہو گا ‘ اور نور کیا ہے ؟ یہ بھی ہمیں پتہ ہے اور تاریکی کیا ہے ؟ یہ بھی پتہ ہے ‘ لیکن یہ پل کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جنت اور جہنم کے درمیان ایک راستہ ہے ‘ جس پر سے لوگ گزریں گے اور وہ اُسترے کی دھار کی طرح تیز ہو گا فرشتوں نے اس کے دائیں اور بائیں طرف صفیں بنائی ہوئی ہوں گی اور وہ آنکٹروں کے ذریعے لوگوں کو پکڑیں گے ‘ جو آنکڑے سعدان نامی پھول کے کانٹوں جیسے ہوں گے ‘ اور لوگ یہ کہیں گے : اے ہمارے پرودگار ! سلامتی عطا فرما ! سلامتی عطا فرما ! اُن لوگوں کے دل اُڑے ہوئے ہوں گے ‘ تو جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ وہ سلامت رہے گا اور جس شخص کے بارے میں ‘ اللہ تعالیٰ چاہے گا ‘ وہ شخص اُس میں گر جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔