Majma al-Zawaid #11204
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} [النور: 15] وَذَلِكَ حِينَ خَاضُوا فِي أَمْرِ عَائِشَةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: سَمِعْتُ فُلَانًا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ يَقُولُ: يَرْوِيهِ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، سَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ وَسَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ يَعْنِي بِأَلْسِنَتِكُمْ، يَعْنِي مَنْ قَذَفَهَا مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ يَعْنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ الَّذِي قُلْتُمْ مِنَ الْقَذْفِ حَقٌّ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا يَعْنِي وَتَحْسَبُونَ أَنَّ الْقَذْفَ ذَنْبٌ هَيِّنٌ وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ يَعْنِي فِي الزُّورِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَرَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: when you received it upon your tongues (24:15) — when they indulged over ʿĀʾishah, one saying I heard so-and-so say such. One narrates from another — I heard from so-and-so — saying with mouths, with tongues, what you know not to be true, reckoning accusation light while with Allah it is grave falsehood.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب تم اپنی زبانوں کے ذریعے اسے پھیلا رہے تھے ‘‘۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں معاملہ پھیل گیا تھا اور کوئی شخص یہ کہتا تھا : میں نے فلاں کو یہ ‘ یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ کہ جب تم اپنی زبانوں کے ذریعے اسے پھیلا رہے تھے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم ایک دوسرے کو اسے روایت کر رہے تھے کہ میں نے فلاں سے سنا ہے ‘ اور میں نے فلاں سے سنا ہے ‘ اور تم اپنے منہ کے ذریعے کہہ رہے تھے ‘‘۔ یعنی اپنی زبانوں کے ذریعے یہ کہہ رہے تھے ‘ یعنی وہ شخص جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ’’ وہ چیز جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگ یہ نہیں جانتے تھے تم لوگ جو الزام لگا رہے ہو وہ حق ہے ؟ اور تم لوگ اسے ہلکا گمان کر رہے تھے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگ یہ سمجھتے تھے جھوٹا الزام لگانا معمولی گناہ ہے ’’ اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہے ‘‘۔ یعنی جھوٹا الزام لگانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ مجاہد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔