Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 11

Book of Exegesis

Hadith 11204–11243

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11204

Majma al-Zawaid #11204

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ} [النور: 15] وَذَلِكَ حِينَ خَاضُوا فِي أَمْرِ عَائِشَةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: سَمِعْتُ فُلَانًا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ يَقُولُ: يَرْوِيهِ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، سَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ وَسَمِعْتُ مِنْ فُلَانٍ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ يَعْنِي بِأَلْسِنَتِكُمْ، يَعْنِي مَنْ قَذَفَهَا مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ يَعْنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ الَّذِي قُلْتُمْ مِنَ الْقَذْفِ حَقٌّ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا يَعْنِي وَتَحْسَبُونَ أَنَّ الْقَذْفَ ذَنْبٌ هَيِّنٌ وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ يَعْنِي فِي الزُّورِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَرَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: when you received it upon your tongues (24:15) — when they indulged over ʿĀʾishah, one saying I heard so-and-so say such. One narrates from another — I heard from so-and-so — saying with mouths, with tongues, what you know not to be true, reckoning accusation light while with Allah it is grave falsehood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب تم اپنی زبانوں کے ذریعے اسے پھیلا رہے تھے ‘‘۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں معاملہ پھیل گیا تھا اور کوئی شخص یہ کہتا تھا : میں نے فلاں کو یہ ‘ یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ کہ جب تم اپنی زبانوں کے ذریعے اسے پھیلا رہے تھے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم ایک دوسرے کو اسے روایت کر رہے تھے کہ میں نے فلاں سے سنا ہے ‘ اور میں نے فلاں سے سنا ہے ‘ اور تم اپنے منہ کے ذریعے کہہ رہے تھے ‘‘۔ یعنی اپنی زبانوں کے ذریعے یہ کہہ رہے تھے ‘ یعنی وہ شخص جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ’’ وہ چیز جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگ یہ نہیں جانتے تھے تم لوگ جو الزام لگا رہے ہو وہ حق ہے ؟ اور تم لوگ اسے ہلکا گمان کر رہے تھے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگ یہ سمجھتے تھے جھوٹا الزام لگانا معمولی گناہ ہے ’’ اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہے ‘‘۔ یعنی جھوٹا الزام لگانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ مجاہد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11205

Majma al-Zawaid #11205

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ} [النور: 12] يَعْنِي الْقَذْفَ [أَلَا "" قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا ""] قُلْتُمْ مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا يَعْنِي الْقَذْفَ وَلَمْ تَرَ أَعْيُنُنَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ يَعْنِي أَلَا قُلْتُمْ مِثْلَ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَذَلِكَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ مَنْ قَالَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ قَالَ: سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ، وَالْبُهْتَانُ: الَّذِي يَبْهَتُ فَيَقُولُ مَا لَمْ يَكُنْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: why, when you heard it (24:12) — the accusation — did you not say: it is not for us to speak of this, glory be to You, this is great slander. Why did you not speak as Saʿd ibn Muʿādh al-Anṣārī رضي الله عنه spoke upon hearing it: glory be to You, this is great slander — a lie that stuns its hearer, asserting what never was.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا ‘‘۔ یعنی جھوٹے الزام کو سنا ‘ تو تم نے یہ کیوں نہیں کہا :’’ کہ تم کہتے ہمیں یہ حق نہیں ہے ‘‘۔ یعنی تم یہ کہتے کہ ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے :’’ کہ ہم اس کے بارے میں بات کریں ‘‘۔ یعنی زنا کے الزام کے بارے میں بات کریں جب کہ ہماری آنکھوں نے دیکھا بھی کچھ نہیں ہے :’’ تو ہر عیب سے پاک ہے یہ بڑا بہتان ہے ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم لوگوں نے اس طرح کیوں نہیں کہا جس طرح سعد بن معاذ انصاری نے کہا تھا ، اس کی صورت یوں ہوئی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب یہ قول سنا ‘ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کسی نے کہا تھا ‘ تو انہوں نے کہا : تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک یہ بڑا بہتان ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) بہتان اس چیز کو کہتے ہیں : جسے سننے والا مبہوت ہو جائے اور یہ کہے : یہ نہیں ہو سکتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11206

Majma al-Zawaid #11206

وَبِسَنَدِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا} [النور: 17] يَعْنِي الْقَذْفَ.

EnglishUnverified translation

With the same chain, Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: Allah admonishes you never to return to the like of it (24:17) — meaning accusation of adultery.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے حوالے سے منقول ہے :’’ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ تم دوبارہ کبھی ایسا نہ کرنا ‘‘۔ یعنی زنا کا الزام نہ لگانا ۔

11207

Majma al-Zawaid #11207

وَبِسَنَدِهِ عَنْهُ إِنَّ الَّذِينَ يَعْنِي بَيْنَ قَذْفِ عَائِشَةَ {يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ} [النور: 19] يَعْنِي أَنْ تَفْشُوَ وَيَظْهَرَ الزِّنَا فِي الَّذِينَ آمَنُوا يَعْنِي صَفْوَانَ وَعَائِشَةَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يَعْنِي وَجِيعٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَكَانَ عَذَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فِي الدُّنْيَا الْجَلْدَ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابَ النَّارِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ. وَرَوَى نَحْوَ هَذَا عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ، وَرَوَى بَعْضَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

With the same chain from him رحمه الله concerning: those, meaning between the accusation of ʿĀʾishah, who love scandal to spread (24:19) — that adultery spread and appear among those who believed, meaning Ṣafwān and ʿĀʾishah رضي الله عنهما. For them is painful punishment in this world and the next: Ibn Ubayy's punishment in this world was flogging, in the next the Fire; and Allah knows while you know not.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ’’ بے شک وہ لوگ ‘‘۔ یعنی جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ’’ وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ برائی پھلیے ‘‘۔ یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ زنا پھیلے اور ظاہر ہو ’’ ان لوگوں میں جو ایمان لائے ‘‘۔ یعنی حضرت صفوان رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ’’ ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ‘‘۔ یعنی تکلیف دہ عذاب ہے ۔’’ دنیا میں اور آخرت میں تو عبداللہ بن ابی کا دنیا میں عذاب یہ ہے کہ اسے کوڑے لگائے گئے اور آخرت میں یہ عذاب ہو گا کہ اسے جہنم میں عذاب دیا جائے گا ’’ اور اللہ تعالیٰ علم رکھتا ہے ‘ اور تم علم نہیں رکھتے ہو ‘‘۔ اس کی مانند روایت قتادہ کے حوالے سے عمدہ سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے ۔ انہوں نے اس کا کچھ حصہ مجاہد کے حوالے سے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اور ان دونوں روایات میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

11208

Majma al-Zawaid #11208

وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: {يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا} [النور: 17] قَالَ: يَنْهَاكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid رحمه الله said concerning: Allah admonishes you never to return to the like of it (24:17): He forbids you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ تم دوبارہ کبھی ایسا نہ کرنا ‘‘ ( مجاہد کہتے ہیں : ) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ( اس بات سے ) منع کرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11209

Majma al-Zawaid #11209

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ} [النور: 21] يَعْنِي تَزْيِينَ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ يَعْنِي تَزْيِينَ الشَّيْطَانِ {فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ} [النور: 21] يَعْنِي بِالْمَعَاصِي وَالْمُنْكَرِ مَا لَا يُعْرَفُ مِثْلُ مَا قِيلَ لِعَائِشَةَ {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ} [النور: 21] يَعْنِي نِعْمَتَهُ {مَا زَكَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا} [النور: 21] مَا صَلُحَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا {وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ} [النور: 21] يَعْنِي يُصْلِحُ مَنْ يَشَاءُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: O believers, follow not Satan's footsteps (24:21) — his beautification; whoever follows it, he enjoins indecency — sins — and the repudiated, like what was said of ʿĀʾishah. Were it not for Allah's bounty — His blessing — none of you would ever be purified — rectified — but Allah purifies — rectifies — whom He wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے ایمان والو ! تم شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان نے جس چیز کو آراستہ کیا ہے ( اس کی پیروی نہ کرو ) ۔ ’’ اور جو شخص شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرے گا ‘‘ یعنی شیطان کی آراستہ کی ہوئی چیز کی پیروی کرے گا ۔ ’’ تو بے شک وہ برائی کا حکم دیتا ہے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ گناہوں کا حکم دیتا ہے ’’ اور منکر کا ‘‘ یعنی جسے معروف نہیں کہا جا سکتا ، جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایک بات کہی گئی ۔ ’’ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہو ‘‘ یعنی اُس کی نعمت نہ ہو ۔ ’’ تو تم میں سے کبھی کوئی پاک نہ ہو ‘‘ یعنی تم میں سے کوئی شخص کبھی کسی کے حوالے سے نیک نہ ہو ۔ ’’ لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے ‘‘ یعنی جسے چاہتا ہے ، بہتر کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11210

Majma al-Zawaid #11210

وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} [النور: 22] قَالَ: أَبُو بَكْرٍ حَلَفَ أَنْ لَا يَنْفَعَ يَتِيمًا كَانَ فِي حَجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: وَهُوَ مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَشَاعَ ذَلِكَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى أَنَا أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي، وَأَكُونَ لِلْيَتَامَى خَيْرَ مَا كُنْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْهُ ضَعِيفٍ. وَرَوَى نَحْوَهُ عَنْ قَتَادَةَ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، وَرَوَى نَحْوَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَبِي بَكْرٍ: "" أَلَا تُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكَ؟ ""، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" فَاعْفُ وَاصْفَحْ ""، قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ وَصَفَحْتُ، لَا أَمْنَعُهُ مَعْرُوفًا بَعْدَ الْيَوْمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid رحمه الله said concerning: let not those of bounty and means swear (24:22). Abū Bakr رضي الله عنه swore to benefit no more an orphan under his care — Misṭaḥ ibn Uthāthah, who spread it. When was revealed: do you not love that Allah forgive you, Abū Bakr said: yes, I love Allah to forgive me, and I shall be better to orphans. In another narration the Prophet ﷺ asked him this, commanded pardon, and he pardoned, vowing never to withhold kindness. > **"Do you not love that Allah forgive you? Then pardon and overlook."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم میں سے فضیلت والے اور گنجائش والے لوگ یہ قسم نہ اُٹھائیں “ مجاہد بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنے زیر پرورش یتیم شخص کو کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے ۔ عبدالملک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : وہ صاحب حضرت مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھے ‘ جنہوں نے اس بات کو پھیلایا تھا ‘ جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ؟“ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کرے اور اب میں یتیموں کے حق میں پہلے سے زیادہ بہتر ہو جاؤں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے جو سند ضعیف ہے ‘ اور اس کی مانند ایک روایت قتادہ کے حوالے سے بھی نقل کی ہے ، جس کی سند عمدہ ہے ‘ اس کی مانند روایت انہوں نے سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو ! تو انہوں نے عرض کی : میں نے معاف کیا اور درگزر سے کام لیا ‘ اب میں آج کے بعد ‘ اُس کے ساتھ کی جانے والی کوئی بھلائی نہیں روکوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11211

Majma al-Zawaid #11211

وَعَنْ خُصَيْفٍ قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَيُّمَا أَشَدُّ الزِّنَا أَوِ الْقَذْفُ قَذْفُ الْمُحْصَنَةِ؟ قَالَ: الزِّنَا، قُلْتُ: اللَّهُ يَقُولُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ} [النور: 23] قَالَ: إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي شَأْنِ عَائِشَةَ خَاصَّةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Khuṣayf رحمه الله said: I asked Saʿīd ibn Jubayr which is graver, adultery or accusing a chaste woman? He said adultery. I cited: those who accuse chaste, heedless, believing women (24:23). He replied: this was revealed specifically concerning ʿĀʾishah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خصیف بیان کرتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر سے دریافت کیا : کون سا گناہ زیادہ برا ہے ؟ زنا کرنا یا پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگانا ؟ انہوں نے کہا : زنا کرنا ‘ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے : ’’ بے شک وہ لوگ جو پاکدامن غافل مومن خواتین پر زنا کا الزام لگاتے ہیں ........‘‘۔ تو سعید بن جبیر نے کہا : یہ حکم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11212

Majma al-Zawaid #11212

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ: «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَاصَّةً {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ} [النور: 23] الْآيَةَ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥāk ibn Muzāḥim رحمه الله said: this verse — those who accuse chaste, heedless, believing women (24:23) — was revealed specifically concerning the wives of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں یہ آیت نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے بارے میں بطور خاص نازل ہوئی تھی : ’’ بے شک وہ لوگ ‘ جو پاکدامن غافل مومن خواتین پر الزام لگاتے ہیں ........ ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11213

Majma al-Zawaid #11213

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ النُّورِ فَفَسَّرَهَا حَتَّى أَتَى هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: 23] قَالَ: هَذِهِ فِي شَأْنِ عَائِشَةَ وَأَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ تَوْبَةً، وَجَعَلَ لِمَنْ رَمَى امْرَأَةً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ مِنْ غَيْرِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّوْبَةَ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ - إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 4 - 5] فَجَعَلَ لِمَنْ قَذَفَ امْرَأَةً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ التَّوْبَةَ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ قَذَفَ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوْبَةً، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ. فَهَمَّ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ يَقُومَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَيُقَبِّلَ رَأْسَهُ لِحُسْنِ مَا فَسَّرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَهُوَ أَمْثَلُهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما read Sūrat al-Nūr with commentary until: those who accuse chaste, heedless, believing women are cursed in this world and the next, with great punishment (24:23). He said: this is concerning ʿĀʾishah and the Prophet's ﷺ wives — no repentance assigned for their accuser — while whoever accuses other believing women may repent, as in: save those who repent thereafter and reform (24:5). Some rose to kiss his head for the excellence of his exposition.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے سورت نور کی تلاوت کی اور اس کی تفسیر کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے : ’’ بے شک وہ لوگ جو پاکدامن غافل مؤمن خواتین پر الزام لگاتے ہیں ان لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے بارے میں ہے ‘ جو شخص ایسا کرے گا ‘ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی ‘ لیکن جو شخص مومن خواتین میں سے کسی عورت پر الزام لگاتا ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے علاوہ ہو ‘ تو اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لے کر آتے ‘ تم انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا ‘ یہی لوگ فاسق ہیں ‘ البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور اصلاح کریں ‘ بے شک اللہ تعامل مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومن عورت پر الزام لگانے والے کے لئے توبہ کا حق مقرر کیا ہے ‘ لیکن جو شخص نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے ‘ کسی خاتون پر الزام لگائے ‘ اُس کے لئے توبہ کو مقرر نہیں کیا ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ ان لوگوں پر دنیا میں اور آخرت میں لعنت کی گئی ‘ اور ان لوگوں کے لئے عظیم عذاب ہو گا ‘‘۔ تو حاضرین میں سے ایک صاحب اُٹھ کر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان کے سر کو بوسہ دیا ‘ جو اس کی عمدہ تفسیر کی وجہ سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس کی ایک سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور یہ اس کی مانند ہے ۔

11214

Majma al-Zawaid #11214

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ} [النور: 23] يَعْنِي إِنَّ الَّذِينَ يَقْذِفُونَ بِالزِّنَا، يَعْنِي: لِفُرُوجِهِنَّ عَفَائِفَ، الْغَافِلَاتِ يَعْنِي: عَنِ الْفَوَاحِشِ، يَعْنِي: عَائِشَةَ، الْمُؤْمِنَاتِ يَعْنِي: الصَّادِقَاتِ، ""لُعِنُوا "" جُلِدُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَعْنِي: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنَ سَلُولَ يُعَذَّبُ بِالنَّارِ لِأَنَّهُ مُنَافِقٌ، وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ قَالَ: جَلَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ وَمِسْطَحًا وَحَمْنَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، كُلَّ وَاحِدٍ ثَمَانِينَ جَلْدَةً فِي قَذْفِ عَائِشَةَ، ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ رَأْسِ الْمُنَافِقِينَ مَاتَ عَلَى نِفَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: those who accuse chaste women (24:23) — charging chastity with adultery; the heedless of indecency, meaning ʿĀʾishah; the truthful believers; cursed — flogged in this world, while Ibn Ubayy is tormented in the Fire as a hypocrite. The Prophet ﷺ flogged Ḥassān, Ibn Ubayy, Misṭaḥ, and Ḥamnah رضي الله عنهم eighty each for accusing ʿĀʾishah; all repented thereafter except Ibn Ubayy, chief of hypocrites, who died in hypocrisy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں ......‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ زنا کا الزام لگاتے ہیں ‘ ان خواتین پر ‘ جو اپنی شرمگاہوں کے حوالے سے پاکیزہ ہوتی ہیں ، یعنی پاکدامن ہوتی ہیں ‘ ’’ جو غافل ہوں ‘‘۔ یعنی برائیوں سے غافل ہوں ‘ اس سے مراد سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں ’’ جو مومن ہوں ‘‘۔ یعنی تصدیق کرنے والی ہوں ’’ ان لوگوں پر لعنت کی گئی ہے ‘‘۔ یعنی ان کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے ’’ دنیا میں اور آخرت میں ‘‘۔ اس سے مراد عبداللہ بن اُبی بن سلول ہے کہ جسے آخرت میں آگ کا عذاب دیا جائے گا کیونکہ وہ منافق ہے ’’ اور ان لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن ابی اور حضرت مسطح رضی اللہ عنہ اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ان میں سے ہر ایک کو اسی کوڑے لگوائے تھے ‘ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی وجہ سے تھے ‘ اُس کے بعد عبداللہ بن ابی ‘ جو منافقین کا سردار تھا ‘ اس کے علاوہ باقی سب نے توبہ کر لی تھی اور وہ اپنے نفاق پر ہی مرا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11215

Majma al-Zawaid #11215

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَيَقُولُ: {يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ} [النور: 25]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ ذَكْوَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Ḥaydah رضي الله عنه said: I saw the Messenger of Allah ﷺ wipe his hand upon his thigh reciting: that Day Allah will pay them in full their true recompense, and they will know Allah is the Manifest Truth (24:25). > **"That Day Allah will pay them in full their true recompense, and they will know Allah is the Manifest Truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے زانوں پر ہاتھ پھیرا اور ارشاد فرمایا : ’’ اس دن ‘ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے اعمال کی پوری ‘ پوری جزا دے گا ‘ جس کے وہ حق دار ہیں ‘ اور وہ یہ بات جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور ( حق کو ) واضح کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عون بن ذکوان ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ وہ کہتے ہیں یہ غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11216

Majma al-Zawaid #11216

وَعَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ {يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ} [النور: 25] أَهْلَ الْحَقِّ حَقَّهُمْ وَأَهْلَ الْبَاطِلِ بَاطِلَهُمْ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah رحمه الله said concerning: that Day Allah will pay them in full their true recompense (24:25) — the people of truth their truth and the people of falsehood their falsehood — and they will know Allah is the Manifest Truth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اس دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کا پورا بدلہ حق کے مطابق دے گا ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل حق کو ان کے حق کے حساب دے گا اور اہل باطل کو ان کے باطل کے حساب سے بدلہ دے گا ۔ ’’ اور وہ لوگ یہ بات جان لیں گے کہ بے شک اللہ تعالیٰ حق ہے اور وہ حق کو واضح کرنے والا ہے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ واضح طور پر عادل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

11217

Majma al-Zawaid #11217

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ يَوْمَئِذٍ فِي الْآخِرَةِ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ حِسَابَهُمُ الْعَدْلَ لَا يَظْلِمُهُمْ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ يَعْنِي الْعَدْلَ الْمُبِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said: that Day — in the Hereafter — Allah will pay them in full their true recompense (24:25) — their just reckoning, wronging them not — and they will know Allah is the Manifest Truth — the Manifest Just.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں :’’ اس دن ‘‘ یعنی آخرت میں ’’ اللہ تعالیٰ ان کو ان کا بدلہ حق کے مطابق دے گا ‘‘۔ یعنی ان کا حساب عدل کے مطابق کرے گا وہ ان پر ظلم نہیں کرے گا ۔ ’’ اور وہ لوگ یہ بات جان لیں گے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہی حق مبین ہے ‘‘۔ یعنی واضح طور پر عادل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11218

Majma al-Zawaid #11218

وَبِسَنَدِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينِ} [النور: 26] يَعْنِي السَّيِّئَ مِنَ الْكَلَامِ قَذْفَ عَائِشَةَ وَنَحْوَهُ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، يَعْنِي الَّذِينَ قَذَفُوهَا، وَالْخَبِيثُونَ يَعْنِي مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ لِلْخَبِيثَاتِ يَعْنِي السَّيِّئَ مِنَ الْكَلَامِ لِأَنَّهُ يَلِيقُ بِهِمُ الْكَلَامُ السَّيِّئُ. ثُمَّ قَالَ وَالطَّيِّبَاتُ يَعْنِي الْحَسَنَ مِنَ الْكَلَامِ لِأَنَّهُ يَلِيقُ بِهِمُ الْكَلَامُ الْحَسَنُ.

EnglishUnverified translation

With the same chain, Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: evil words for evil people (24:26) — foul speech, as the accusation of ʿĀʾishah and the like, belongs to evil men and women who uttered it; evil people deserve evil speech, for it befits them. Then: good words — fine speech befits the good, for it befits them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس سند کے ساتھ سعید بن جبیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ( وہ فرماتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ خبیثات خبیثوں کے لئے ‘‘۔ اس سے مراد بری بات کرنے والے لوگ ہیں ‘ جیسے وہ لوگ جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی ‘ تو خبیث مردوں اور عورتوں کے لئے یہ حکم آیا ہے یعنی وہ جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا تھا اور خبیث لوگ یعنی مردوں اور خواتین سے تعلق رکھنے والے خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے ہیں ‘ یعنی برے کلام کے لئے ہیں ‘ کیونکہ برا کلام کرنا ان لوگوں کے لائق ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : طیبات یعنی پاکیزہ کلام پاکیزہ لوگوں کے لئے یعنی مردوں اور خواتین کے لئے ہے ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے مومن مردوں اور مومن خواتین کے بارے میں بھلائی کا گمان کیا اور طیب لوگ یعنی مردوں اور خواتین سے تعلق رکھنے والے لوگ ‘ طیب چیزوں یعنی عمدہ کلام کے لئے ہیں ، کیونکہ ان لوگوں کے لائق صرف اچھا کلام ہے اور وہ لوگ ہی اچھے کلام کے لائق ہیں ۔

11219

Majma al-Zawaid #11219

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ} [النور: 26] قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَائِشَةَ حِينَ رَمَاهَا الْمُنَافِقُ بِالْبُهْتَانِ وَالْفِرْيَةِ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ هُوَ خَبِيثًا فَكَانَ هُوَ أَوْلَى بِأَنْ تَكُونَ لَهُ الْخَبِيثَةُ وَيَكُونَ لَهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَيِّبًا وَكَانَ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ لَهُ الطَّيِّبَةُ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ الطَّيِّبَةَ وَكَانَتْ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ لَهَا الطَّيِّبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Zayd ibn Aslam رحمه الله said concerning: evil women for evil men, evil men for evil women; good women for good men, good men for good women (24:26). It was revealed over ʿĀʾishah when the hypocrite accused her with slander, and Allah cleared her. Ibn Ubayy was evil, most deserving of the evil one; the Messenger ﷺ was good, most deserving of the good one; ʿĀʾishah رضي الله عنها was good, most deserving of the good one.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن زید بن اسلم ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد ‘ خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں ‘ پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں ‘‘۔ عبدالرحمن بن زید بیان کرتے ہیں یہ آیت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جب منافقین نے ان پر الزام اور بہتان لگایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لا تعلق ہونے کا اظہار کیا اور عبداللہ بن ابی ایک خبیث شخص تھا ، وہ اس بات کا زیادہ حق دار تھا کہ خبیث چیز اس کے لئے مخصوص ہو اور وہ خبیث چیز کے لئے مخصوص ہو اور نبی اکرم ﷺ پاکیزہ تھے اور آپ کی شان کے لائق یہ تھا کہ آپ کے لئے پاکیزہ ( بیوی ) ہو ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پاکیزہ تھیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کی زیادہ حق دار تھیں کہ ان کے لئے پاکیزہ ( شوہر ) ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال عبدالرحمن بن زید بن اسلم تک ثقہ ہیں ۔

11220

Majma al-Zawaid #11220

وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينِ} [النور: 26] قَالَ: الْخَبِيثَاتُ مِنَ الْكَلَامِ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ النَّاسِ وَالْخَبِيثُونَ مِنَ النَّاسِ لِلْخَبِيثَاتِ مِنَ الْكَلَامِ، وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ الْكَلَامِ لِلطَّيِّبِينَ مِنَ النَّاسِ وَالطَّيِّبُونَ مِنَ النَّاسِ لِلطَّيِّبَاتِ مِنَ الْكَلَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ هَذَا ثِقَاتٌ. 11221 وَزَادَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: فَالْقَوْلُ الْحَسَنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْقَوْلُ السَّيِّئُ لِلْكَافِرِينَ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid رحمه الله said concerning: evil words for evil people (24:26). Evil speech belongs to evil people and evil people to evil speech; good speech to good people and good people to good speech. In the other narration: fine speech belongs to believers and foul speech to disbelievers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ خبیثات خبیثوں کے لئے ہیں ......‘‘ ۔ مجاہد کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ خبیث کلام ‘ خبیث لوگوں کے لئے مخصوص ہے اور خبیث لوگ ‘ خبیث کلام کے لئے مخصوص ہیں اور پاکیزہ کلام ‘ پاکیزہ لوگوں کے لئے مخصوص ہے اور پاکیزہ لوگ ‘ پاکیزہ لوگوں کے لئے مخصوص ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

11221

Majma al-Zawaid #11221

وَزَادَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: فَالْقَوْلُ الْحَسَنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْقَوْلُ السَّيِّئُ لِلْكَافِرِينَ.

EnglishUnverified translation

In the other narration he added: fine speech belongs to the believers and foul speech belongs to the disbelievers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ’’ تو اچھی بات مومنین کے لئے مخصوص ہے اور بری بات کافروں کے لئے مخصوص ہے ‘‘۔

11222

Majma al-Zawaid #11222

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ} [النور: 26] يَقُولُ: الْخَبِيثَاتُ مِنَ الْقَوْلِ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْخَبِيثُونَ مِنَ الرِّجَالِ لِلْخَبِيثَاتِ مِنَ الْقَوْلِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ يَقُولُ: وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ الْقَوْلِ لِلطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ، نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ قَالُوا فِي زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالُوا مِنَ الْبُهْتَانِ، وَيُقَالُ: الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ: الْأَعْمَالُ الْخَبِيثَةُ تَكُونُ لِلْخَبِيثِينَ، وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ الْأَعْمَالِ تَكُونُ لِلطَّيِّبِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَكُلُّ إِسْنَادٍ مِنْهَا فِيهِ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاهُ مَوْقُوفًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَى نَحْوَهُ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning: evil women for evil men (24:26). Evil speech belongs to evil men and evil men to evil speech; good speech to good men. It was revealed over those who uttered slander about the Prophet's ﷺ wife. It is also said: evil deeds belong to evil people, and good deeds to good people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ’’ خبیث چیزیں ‘ خبیث لوگوں کے لئے مخصوص ہیں اور خبیث لوگ ‘ خبیث چیزوں کے لئے مخصوص ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یعنی خبیث قول ‘ خبیث مردوں کے لئے مخصوص ہے اور خبیث لوگ ‘ خبیث اقوال کے لئے مخصوص ہیں ۔ ’’ اور پاکیزہ چیزیں ‘ پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی پاکیزہ قول ‘ پاکیزہ لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ کے بارے میں بہتان لگایا تھا تو یہ بات کہی گئی کہ خبیث باتیں ‘ خبیث لوگوں کے لئے ہیں ‘ یعنی خبیث اعمال بھی خبیث لوگوں کے لئے ہوں گے ‘ اور پاکیزہ اعمال پاکیزہ لوگوں کے لئے ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ہر ایک سند میں ایسا ضعیف راوی موجود ہے جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے یہ روایت سعید بن جبیر پر موقوف روایت کے طور پر دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اس کی مانند روایت ضحاک بن مزاحم کے حوالے سے نقل کی ہے جس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11223

Majma al-Zawaid #11223

وَعَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ} [النور: 26] مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah رحمه الله said concerning: evil for evil and evil for evil (24:26) — in word and deed; and good for good and good for good — in word and deed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بیان کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ خبیث چیزیں ‘ خبیث لوگوں کے لئے اور خبیث لوگ ‘ خبیث چیزوں کے لئے مخصوص ہیں ‘‘۔ قتادہ کہتے ہیں : اس سے مراد قول اور عمل ہے ’’ اور پاکیزہ چیزیں ‘ پاکیزہ لوگوں کے لئے اور پاکیزہ لوگ ‘ پاکیزہ چیزوں کے لئے مخصوص ہیں ‘‘۔ قتادہ کہتے ہیں : اس سے مراد بھی قول اور عمل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

11224

Majma al-Zawaid #11224

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ قَالَ: «لَمَّا خَاضَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَائِشَةَ قَالَتْ: فَجِئْتُ وَأَنَا أَنْتَفِضُ مِنْ غَيْرِ حُمَّى، فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ مَا يَقُولُ النَّاسُ؟ ""، فَقَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْتَذِرُ مِنْ شَيْءٍ قَالُوهُ حَتَّى يَنْزِلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً مِنْ سُورَةِ النُّورِ. ثُمَّ قَرَأَ الْحُكْمَ حَتَّى بَلَغَ {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ} [النور: 26] قَالَ: فَالْخَبِيثَاتُ مِنَ النِّسَاءِ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْخَبِيثُونَ مِنَ الرِّجَالِ لِلْخَبِيثَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ النِّسَاءِ لِلطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالطَّيِّبُونَ مِنَ الرِّجَالِ لِلطَّيِّبَاتِ مِنَ النِّسَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِنْ كَانَ سُلَيْمَانُ الْمُبْهَمُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥakam ibn ʿUtaybah رحمه الله said: when people indulged over ʿĀʾishah, the Messenger ﷺ sent for her. She came trembling without fever. He asked what people were saying; she swore by Him who sent him with truth she would offer no excuse until her vindication descended from heaven. Allah revealed fifteen verses of Sūrat al-Nūr. Then he read to: evil women for evil men and good for good (24:26) — evil women for evil men, and good women for good men. > **"O ʿĀʾishah, what are the people saying?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکم بن عتیبہ بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں بات چیت شروع کی ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم ﷺ نے پیغام بھیجا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں آئی اور مجھے بخار نہیں تھا ، لیکن میں اضطراب کا شکار تھی ( یا کپکپا رہی تھی ) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عائشہ ! لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کے حوالے سے میں کوئی عذر پیش نہیں کروں گی ‘ جب تک آسمان سے میرے لاتعلق ہونے کا حکم نازل نہیں ہوتا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں سورت نور کی پندرہ آیات نازل کیں ، پھر حکم نامی راوی نے یہ آیات تلاوت کیں ‘ یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچے : ’’ خبیث عورتیں ‘ خبیث مردوں کے لئے اور خبیث مرد ‘ خبیث عورتوں کے لئے اور پاکیزہ عورتیں ، پاکیزہ مردوں کے لئے اور پاکیزہ مرد ‘ پاکیزہ عورتوں کے لئے مخصوص ہیں ‘‘۔ حکم بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ خبیث عورتیں ‘ خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد ‘ خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد ‘ پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد ‘ پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اگر تو سلیمان نامی راوی جو مبہم ہے ‘ وہ سلیمان بن عبدالرحمن دمشقی ہے ‘ تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ۔

11225

Majma al-Zawaid #11225

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ «أُولَئِكَ يَعْنِي الطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ [يَعْنِي: مِمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَاذِفُونَ الَّذِينَ قَذَفُوا عَائِشَةَ: هُمْ بَرَاءٌ مِنَ الْكَلَامِ السَّيِّءِ، ثُمَّ قَالَ] لَهُمْ مَغْفِرَةٌ يَعْنِي لِذُنُوبِهِمْ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ يَعْنِي حَسَنًا فِي الْجَنَّةِ. فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُ عَائِشَةَ ضَمَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى نَفْسِهِ وَهِيَ مِنْ أَزْوَاجِهِ فِي الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr رحمه الله said concerning: those — the good men — are cleared of what they say (24:26) — what the accusers who accused ʿĀʾishah say; they are free of foul speech. For them is forgiveness for sins and noble provision — good in Paradise. When ʿĀʾishah's vindication descended, the Messenger ﷺ drew her to himself; she is among his wives in Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ ‘‘ یعنی پاکیزہ مرد ’’ اس چیز سے لاتعلق ہیں جو وہ کہتے ہیں ‘‘ یعنی الزام لگانے والے لوگ جو کہتے ہیں ، جنہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا ‘ تو وہ پاکیزہ لوگ اس برے کلام سے لاتعلق ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ’’ ان لوگوں کے لئے مغفرت ہے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے گناہوں کی مغفرت ہے اور انہیں معزز رزق عطا کیا جائے گا یعنی جنت میں اچھائی عطا کی جائے گی جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لاتعلق ہونے کا حکم نازل ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ جنت میں بھی آپ کی ازواج میں سے ایک ہوں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11226

Majma al-Zawaid #11226

وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} [النور: 26] فَمَنْ كَانَ طَيِّبًا فَهُوَ مُبَرَّأٌ مِنْ كُلِّ قَوْلٍ خَبِيثٍ يَقُولُهُ بِمَغْفِرَةِ اللَّهِ لَهُ، وَمَنْ كَانَ خَبِيثًا فَهُوَ مُبَرَّأٌ مِنْ كُلِّ قَوْلٍ صَالِحٍ قَالَهُ يَرُدُّهُ اللَّهُ عَلَيْهِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid رحمه الله said concerning: those are cleared of what they say (24:26). Whoever is good is cleared of every foul word by Allah's forgiveness; whoever is evil is cleared of every righteous word — Allah returns it to him, unaccepted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ‘ جو وہ ( دوسرے لوگ ) کہتے ہیں ‘‘ ( مجاہد کہتے ہیں : ) تو جو شخص پاکیزہ ہو گا وہ ہر خبیث بات سے لاتعلق ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اسے نصیب ہو گی اور جو شخص خبیث ہو گا وہ ہر اچھی بات سے لاتعلق ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کو لوٹا دے گا اور اُس سے اچھی بات قبول نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11227

Majma al-Zawaid #11227

وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} [النور: 26] وَذَلِكَ أَنَّهُمْ مَا قَالَ الْكَافِرُ مِنْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ فَهِيَ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَمَا قَالَ الْمُؤْمِنُ مِنْ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ فَهِيَ لِلْكَافِرِينَ، بَرِيءٌ كُلٌّ مِمَّا لَيْسَ لَهُ بِحَقٍّ مِنَ الْكَلَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid رحمه الله said concerning: those are cleared of what they say (24:26). Whatever good word a disbeliever utters belongs to believers; whatever foul word a believer utters belongs to disbelievers — each cleared of speech not rightfully his.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ، جو وہ ( دوسرے لوگ ) کہتے ہیں ‘‘۔ مجاہد کہتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر جو پاکیزہ بات کہے گا وہ مومنین کے لئے مخصوص ہو گی اور مومن جو بری بات کہے گا وہ کافروں کے لئے مخصوص ہو گی اور ان میں سے ہر ایک اُس چیز سے لاتعلق شمار ہو گا جو کلام کے حوالے سے اس کا مخصوص حق نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی ایک اور ضعیف سند بھی ہے ۔

11228

Majma al-Zawaid #11228

وَعَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ {أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} [النور: 26] قَالَ: مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ مَغْفِرَةٌ لِذُنُوبِهِمْ وَهِيَ الْجَنَّةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qatādah رحمه الله said concerning: those are cleared of what they say (24:26) — in word and deed. For them is forgiveness and noble provision — forgiveness of sins, which is Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ اس چیز سے لاتعلق ہیں ، جو وہ ( دوسرے لوگ ) کہتے ہیں ‘‘ قتادہ کہتے ہیں : اس چیز کا تعلق قول اور عمل سے ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) اور ان لوگوں کے لئے مغفرت اور معزز رزق ہے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اور انہیں معزز رزق عطا کیا جائے گا ‘ جو جنت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11229

Majma al-Zawaid #11229

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ {أُولَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} [النور: 26] قَالَ: هَاهُنَا بَرِئَتْ عَائِشَةُ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Zayd ibn Aslam رحمه الله said concerning: those are cleared of what they say (24:26). Here ʿĀʾishah was cleared — for them is forgiveness and noble provision.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن زید بن اسلم ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ اس سے لاتعلق ہیں جو وہ ( دوسرے لوگ ) بیان کرتے ہیں ‘‘ عبدالرحمن کہتے ہیں : یہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا لاتعلق ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان لوگوں کے لئے مغفرت ہے اور معزز رزق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11230

Majma al-Zawaid #11230

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ} [النور: 31] قَالَ: الزِّينَةُ السِّوَارُ وَالدُّمْلُجُ وَالْخَلْخَالُ وَالْقُرْطُ وَالْأُذُنُ وَالْقِلَادَةُ وَمَا ظَهَرَ مِنْهَا عَلَى الثِّيَابِ وَالْجِلْبِيبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ مُطَوِّلًا وَمُخْتَصِرًا وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh — Ibn Masʿūd رضي الله عنه — said concerning: display not their adornment (24:31). Adornment is bracelet, armlet, anklet, earring, ear ornament, necklace, and what shows thereof over clothes and cloak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور وہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : زینت سے مراد ‘ کنگن ، دملج ( کنگن نما زیور ) پازیب اور بالی ‘ اذن ( یعنی کان کا زیور ) ہار اور اس کے علاوہ وہ چیز ہے ‘ جو کپڑوں اور چادر سے ظاہر ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اسے طویل اور مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ان دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11231

Majma al-Zawaid #11231

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ جَارِيَةٌ تَزْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا حُرِّمَ الزِّنَا [قَالَ: أَلَا تَزَنِينَ] قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أَزْنِي أَبَدًا. فَنَزَلَتْ {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: 33]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: Ibn Ubayy had a slave girl who committed adultery in Jāhiliyyah. When adultery was forbidden, he demanded she continue; she swore by Allah never to commit it again. Then was revealed: compel not your slave girls to prostitution (24:33).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عبداللہ بن ابی کی ایک کنیز تھی ، جو زمانہ جاہلیت میں زنا کیا کرتی تھی ‘ جب زنا کو حرام قرار دے دیا گیا ‘ تو عبداللہ نے اس سے کہا : تم زنا کیوں نہیں کرتی ہو ؟ اس نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم اب میں کبھی زنا نہیں کروں گی تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ تم اپنی کنیزوں کو گناہ پر مجبور نہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11232

Majma al-Zawaid #11232

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ جَارِيَةٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ يُقَالُ لَهَا مُعَاذَةُ يُكْرِهُهَا عَلَى الزِّنَا، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ نَزَلَتْ {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: 33] إِلَى قَوْلِهِ {فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور: 33]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: Ibn Ubayy had a slave girl called Muʿādhah whom he compelled to adultery. When Islam came, was revealed: compel not your slave girls to prostitution (24:33) to: Allah after their compulsion is Forgiving, Merciful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عبداللہ بن ابی کی ایک کنیز تھی جس کا نام ’’ معاذہ ‘‘ تھا ‘ عبداللہ بن ابی اسے زنا کرنے پر مجبور کرتا تھا ‘ جب اسلام آ گیا ‘ تو یہ حکم نازل ہوا : ’’ تم اپنی کنیزوں کو گناہ پر مجبور نہ کرو ‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ ان کے مجبور ہونے کے بعد ‘ مغفرت کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج لخمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

11233

Majma al-Zawaid #11233

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ {كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ} [النور: 35] قَالَ: جَوْفُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، الزُّجَاجَةُ قَلْبُهُ، وَالْمِصْبَاحُ النُّورُ الَّذِي فِي قَلْبِهِ تُوقَدُ {مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ} [النور: 35] الشَّجَرَةُ إِبْرَاهِيمُ {زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ} [النور: 35] لَا يَهُودِيَّةٍ وَلَا نَصْرَانِيَّةٍ، {[ثُمَّ قَرَأَ "" مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا ""] وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [آل عمران: 67]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما said concerning: as a niche wherein is a lamp (24:35). The niche is the breast of Muḥammad ﷺ, the glass his heart, the lamp the light in his heart, kindled from a blessed tree — Ibrāhīm عليه السلام — an olive neither eastern nor western — neither Jewish nor Christian — as in: Ibrāhīm was neither Jew nor Christian but upright Muslim (3:67).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ طاق کی مانند ہے ‘ جس میں چراغ موجود ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد ‘ حضرت محمد ﷺ کا سینہ مبارک ہے ‘ اور شیشے سے مراد ‘ آپ کا قلب مبارک ہے اور چراغ سے مراد ‘ وہ نور ہے ‘ جو آپ کے قلب مبارک میں موجود ہے ۔ ’’ اسے مبارک درخت سے جلایا گیا ہے ‘‘ یہاں درخت سے مراد ‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ’’ جو زیتون کا ہے ‘ نہ مشرقی ہے ‘ نہ مغربی ہے ‘‘ یعنی نہ یہودی ہے ‘ نہ عیسائی ہے ‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی :’’ ابراہیم یہودی ‘ یا عیسائی نہیں تھا ‘ بلکہ وہ راہ راست پر چلنے والا مسلمان تھا اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی وازع ہے اور وہ متروک ہے ۔

11234

Majma al-Zawaid #11234

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَى نَاسًا مِنْ أَهْلِ السُّوقِ سَمِعُوا الْأَذَانَ فَتَرَكُوا أَمْتِعَتَهُمْ وَقَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ} [النور: 37]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه saw market people hear the adhān, abandon their wares, and rise to prayer, and said: these are those of whom Allah said: neither trade nor sale diverts them from remembrance of Allah (24:37).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ انہوں نے بازار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے جیسے ہی اذان سنی ‘ تو اپنا ساز و سامان چھوڑ دیا اور بولے : نماز کی طرف چلو ! تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ’’ وہ لوگ کہ تجارت اور خرید و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

11235

Majma al-Zawaid #11235

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانُوا تُجَّارًا لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ النَّكْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: they were merchants whom neither trade nor sale diverted from remembrance of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں وہ ( یعنی صحابہ کرام ) ایسے لوگ تھے جو تجارت کرتے تھے ‘ لیکن تجارت اور خرید و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت نکری ہے اور وہ متروک ہے ۔

11236

Majma al-Zawaid #11236

قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ} [النور: 60]. قَالَ: الرِّدَاءُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَلَمْ أَكْتُبْ قَائِلَهُ وَلَا إِسْنَادَهُ.

EnglishUnverified translation

Concerning: no blame upon them to lay aside their garments (24:60), he said: the outer cloak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وہ فرماتے ہیں : ( یہاں کپڑوں سے مراد ) چادر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے لیکن اس کا قائل کون ہے ؟ اور اس کی سند کیا ہے ؟ یہ میں نے نوٹ نہیں کیا تھا ۔

11237

Majma al-Zawaid #11237

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ، وَآوَتْهُمُ الْأَنْصَارُ، رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ فَنَزَلَتْ {لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ} [النور: 55] الْآيَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه said: when the Prophet ﷺ and his Companions came to Madinah and the Anṣār sheltered them, the Arabs aimed at them with a single bow. Then was revealed: He will surely establish them in the earth (24:55).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب مدینہ منورہ آئے اور انصار نے ان حضرات کو پناہ دی ‘ تو تمام عرب اُن کے خلاف متحد ہو گئے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ وہ ضرور ان لوگوں کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11238

Majma al-Zawaid #11238

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَرْغَبُونَ فِي النَّفِيرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَدْفَعُونَ مَفَاتِيحَهُمْ إِلَى ضُمَنَائِهِمْ وَيَقُولُونَ لَهُمْ: قَدْ أَحْلَلْنَا لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِمَّا أَحْبَبْتُمْ، فَكَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَنَا، إِنَّهُمْ أَذِنُوا عَنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ} [النور: 61] إِلَى قَوْلِهِ أَوْ {مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ} [النور: 61]». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: Muslims wished to march with the Messenger ﷺ, entrusting keys to guardians and permitting them to eat as they liked; the guardians deemed it unlawful without willing consent. Then Allah revealed: no blame on the blind, the lame, the sick, nor yourselves to eat from your houses, your fathers', mothers', brothers', sisters', uncles', aunts', maternal uncles', maternal aunts' (24:61) to: or what you hold keys to.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پہلے مسلمان اس بات کی خواہش رکھتے تھے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوں ‘ وہ جاتے ہوئے اپنی چابیاں اپنے ضامن لوگوں کے حوالے کر دیتے تھے ‘ اور ان سے یہ کہتے تھے : کہ ہم تمہارے لئے یہ بات حلال قرار دیتے ہیں کہ تم جو چاہو وہ کھا لو ‘ تو وہ لوگ یہ کہتے تھے : ہمارے لئے یہ حلال نہیں ہے ‘ جبکہ انہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ یہ اجازت نہیں دی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اور نابینا شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے ‘ لنگڑے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور بیمار پر کوئی گناہ نہیں ہے ‘ اور تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر تم اپنے گھروں میں سے ‘ یا اپنے باپ دادا کے گھروں میں سے ‘ یا اپنی ماؤں کے گھروں میں سے ‘ یا اپنے بھائیوں کے گھروں میں سے ‘ یا اپنی بہنوں کے گھروں میں سے ‘ یا اپنے چچاؤں کے گھروں میں سے ‘ یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں میں سے ‘ یا اپنے ماموؤں کے گھروں میں سے ‘ یا اپنی خالاؤں کے گھروں میں سے .......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ یا وہ جن کی چابی کے تم مالک ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11239

Majma al-Zawaid #11239

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فِي خَاتِمَةِ سُورَةِ النُّورِ وَهُوَ جَاعِلُ إِصْبَعَيْهِ تَحْتَ عَيْنَيْهِ يَقُولُ: بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ. قُلْتُ: هَكَذَا وَقَعَ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَةً شَاذَّةً، وَإِلَّا فَالتِّلَاوَةُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه said: I saw the Messenger ﷺ recite this verse at the end of Sūrat al-Nūr, placing his fingers beneath his eyes, saying: with all things Seeing — though the recitation is with all things Knowing. > **"With all things Seeing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے سورت نور کی یہ آخری آیت تلاوت کی ‘ آپ نے اس وقت اپنی انگلیاں آنکھوں کے نیچے رکھی ہوئی تھیں اور آپ یہ پڑھ رہے تھے : ’’ وہ ہر شے کو دیکھنے والا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : روایت میں اسی طرح واقع ہوا ہے ‘ اگرچہ یہ ایک شاذ قرأت ہے ‘ ورنہ اصل تلاوت یہ ہے : ’’ وہ ہر شے کے بارے میں علم رکھنے والا ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11240

Majma al-Zawaid #11240

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِنِينَ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ} [الفرقان: 68] الْآيَةَ، ثُمَّ نَزَلَتْ {إِلَّا مَنْ تَابَ} [الفرقان: 70] فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرِحَ فَرَحًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ بِهَا وَبِ ""إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: for years in the Messenger's ﷺ era we recited: those who invoke not another god with Allah, nor kill the soul Allah forbade save by right, nor commit adultery (25:68). Then was revealed: save him who repents (25:70). I never saw the Prophet ﷺ rejoice more intensely than at it and at: We granted you a manifest victory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم نے کئی سال تک نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ‘ اس آیت کی تلاوت کی ہے :’’ اور وہ لوگ ‘ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں ‘ اور کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرتے ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ‘ البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے ہیں ‘‘۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو توبہ کر لے ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا ‘ جتنا خوش آپ اس آیت کے نزول پر ہوئے تھے ‘ اور جتنا خوش آپ «إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا» ( بے شک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کر دی ہے ) کے نزول پر ہوئے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے علی بن زید کی یوسف بن مہران سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ‘ ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11241

Majma al-Zawaid #11241

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ: {وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْكُوفِيُّ الْأَحْوَلُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh — Ibn Masʿūd رضي الله عنه — reported that the Prophet ﷺ recited: whoever does that shall meet athāman (25:68). > **"Whoever does that shall meet athāman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جو شخص ایسا کرے گا ‘ وہ گناہ کی سزا پائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی احمد بن یحیی کوفی احول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11242

Majma al-Zawaid #11242

عَنْ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَقْرَأَ عَلَيْنَا طسم الْمِائَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هِيَ مَعِي، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ مَنْ أَخَذَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ. فَأَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Maʿdīkarib said: we came to ʿAbdullāh — Ibn Masʿūd رضي الله عنه — asking him to recite Ṭā-Sīn-Mīm of two hundred verses. He said: it is not with me; take it from him who took it from the Messenger ﷺ — Khabbāb ibn al-Aratt رضي الله عنه. So we went to Khabbāb and he recited it to us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معدیکرب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان کے سامنے یہ درخواست کی کہ وہ ہمارے سامنے ’’ طسم ‘‘ جو دو سو آیات والی ہے اُسے پڑھیں تو انہوں نے فرمایا : وہ مجھے نہیں آتی تم لوگ ان کے پاس جاؤ جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ سیکھی ہے اور وہ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ہیں ‘ راوی کہتے ہیں : ہم حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ہمارے سامنے یہ سورت تلاوت کی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔

11243

Majma al-Zawaid #11243

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ} [هود: 105] وَنَحْوِ هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَحْرِصُ أَنْ يُؤْمِنَ جَمِيعُ النَّاسِ وَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْهُدَى، فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنَّهُ لَا يُؤْمِنُ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ اللَّهِ السَّعَادَةُ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ، وَلَا يَضِلُّ إِلَّا مَنْ سَبَقَ لَهُ مِنَ اللَّهِ الشَّقَاءُ فِي الذِّكْرِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ} [الشعراء: 3 - 4]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قِيلَ: لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنْ هَذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ} [الشعراء: 137].

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said concerning: among them wretched and blessed, and the like in the Qur'an. The Messenger ﷺ was eager that all people believe and pledge him upon guidance, so Allah informed him only he believes for whom happiness preceded in the first Decree, and only he strays for whom wretchedness preceded. Then Allah said to His Prophet ﷺ: perhaps you will destroy yourself that they believe not — if We willed We would send a sign from heaven before which their necks bow (26:3-4).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم میں کچھ لوگ بد نصیب اور ( کچھ ) خوش نصیب ہیں ‘‘۔ اور اس طرح کی دیگر سورتوں کے بارے میں ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی شدید خواہش تھی کہ تمام لوگ مومن ہو جاتے اور ہدایت پر آپ کی بیعت کر لیتے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات آپ کو بتائی کہ صرف وہ شخص مومن ہو گا ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ’’ ذکر ‘‘ میں سعادت مندی طے ہو چکی ہے اور صرف وہ شخص گمراہ ہو گا ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ’’ ذکر ‘‘ میں ‘ بدنصیبی طے ہو چکی ہو ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے یہ فرمایا : ’’ شاید تم اپنے آپ کو اس بات پر ہلکان کر لو گے کہ وہ لوگ مومن نہیں ہوتے “ ’’ اگر ہم چاہیں ‘ تو ان لوگوں پر آسمان سے آیت نازل کر سکتے ہیں ، تو ان لوگوں کی گردنیں اس ( نشانی ) کے لئے جھکی ہوئی ہوں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ علی بن ابوطلحہ نے ‘ ایک قول کے مطابق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔