Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 30 · Chapter 3

Book of Blood Money

Hadith 10781–10803

23 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10781

Majma al-Zawaid #10781

وَعَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ: هُمَا سَوَاءٌ إِلَى خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ. وَقَالَ عَلِيٌّ: النِّصْفُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reported that Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said concerning the man and the woman: they are equal up to five camels. Ali, may Allah be pleased with him, said: the woman is half of the man in everything. The first view holds equivalence in minor injuries up to a threshold, the second holds halving throughout. > **"The man and the woman are equal up to five camels. The woman is half in everything."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مرد اور عورت پانچ اونٹوں تک کی ادائیگی میں برابر شمار ہوں گے ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہر چیز کے حوالے سے ( عورت مرد کا ) نصف شمار ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10782

Majma al-Zawaid #10782

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «دِيَةُ الذِّمِّيِّ دِيَةُ الْمُسْلِمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو كُرْزٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهَذَا أَنْكَرُ حَدِيثٍ رَوَاهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said that the diyah of the dhimmi, protected non-Muslim resident, is the diyah of the Muslim. > **"The blood-money of the dhimmi is the blood-money of the Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ذمی کی دیت ‘ مسلمان کی دیت ( کے برابر ) ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوکرز ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور یہ اس کی نقل کردہ سب سے زیادہ منکر حدیث ہے ۔

10783

Majma al-Zawaid #10783

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ دِيَةَ الْمُعَاهَدِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that the diyah of the muahid, covenanted non-Muslim, is half the diyah of the Muslim. > **"The blood-money of the covenanted person is half the blood-money of the Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10784

Majma al-Zawaid #10784

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دِيَةُ الْمُعَاهَدِ مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ. وَقَالَهُ عَلِيٌّ أَيْضًا. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَا مِنْ عَلِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said that the diyah of the muahid is like the diyah of the Muslim, and Ali, may Allah be pleased with him, said the same. This is the reported ijtihad of two Companions equating the two in protection of blood. > **"The blood-money of the covenanted person is like the blood-money of the Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کی مانند ہو گی ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی بات ارشاد فرمائی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے نہ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ‘ اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ۔

10785

Majma al-Zawaid #10785

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دِيَةِ الْجَنِينِ إِذَا كَانَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَضَى بِذَلِكَ فِي امْرَأَةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيِّ. وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, decreed concerning diyah al-janin, blood-money for the fetus when still in its mother's womb, that it be a ghurrah, a fine of a male slave or female slave. He gave this judgment in the case of the wife of Hamal ibn Malik ibn al-Nabighah al-Hudhali. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, also said that there is no shighar, exchange-marriage without dower, in Islam. > **"There is no shighar in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پیٹ میں موجود بچے کی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں موجود ہو ( اور اسی دوران مر جائے ) تو اس میں جرمانے کے طور پر ایک غلام یا کنیز دی جائے گی آپ نے حضرت حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ اسلام میں شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10786

Majma al-Zawaid #10786

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ «شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ». قُلْتُ: حَدِيثُ حَمَلٍ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ مِنْ طَرِيقٍ حَمَلٍ نَفْسِهِ، وَأَخْرَجَتْهُ لِرِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ: أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, was present at the judgment of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, in this matter. Hamal ibn Malik ibn al-Nabighah came and said he had been married to two women, one struck the other with a mistah, flat stick, killing her and her unborn child. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, decreed for her fetus a ghurrah of a slave, and that the killer be subject to retaliation. The report is transmitted through Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, from Umar. > **"I was between two wives, and one struck the other with a stick, killing her and her fetus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس صورت حال کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کے وقت موجود تھے حمل بن مالک بن نابغہ آئے اور بولے میری دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری اور اس کو اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں جرمانے کے طور پر ایک غلام کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا ( کہ عورت کے بدلے میں ) اس کو قتل کر دیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث تینوں ” سنن ‘‘ میں حضرت حمل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی منقول ہے ‘ اور میں نے یہاں اس کو اس لئے نقل کیا ہے کیونکہ اسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کے وقت موجود تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10787

Majma al-Zawaid #10787

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى .... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَكَانَتْ حُبْلَى، قَالَتْ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ: إِنَّهَا كَانَتْ حُبْلَى، وَأَلْقَتْ جَنِينًا. قَالَ: فَخَافَ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ أَنْ يُضَمِّنَهُمْ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَسَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ؟! "". فَقَضَى فِي الْجَنِينِ غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: هَذِهِ الطَّرِيقُ أَحَادِيثُهَا صَالِحَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا جَمَاعَةٌ، وَالْحَدِيثُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَابْنِ مَاجَهْ دُونَ ذِكْرِ: سَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that two women of Hudhayl, one killed the other, and the slain woman was pregnant. The aqilah, paternal kin liable for blood-money, of the slain woman reported that she was pregnant and had cast a dead fetus. The aqilah of the killer feared liability and protested that the fetus had neither drunk nor eaten nor cried out nor raised its voice at birth. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, rebuked their rhymed pleading and decreed for the fetus a ghurrah of a male slave or female slave. > **"Is this the rhymed prose of the Jahiliyyah?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا ...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں وہ آگے چل کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ قتل ہونے والی عورت حاملہ تھی مقتول عورت کے خاندان والوں نے یہ بات بتائی کہ یہ عورت حاملہ تھی اور اس کے پیٹ سے بچہ مردہ پیدا ہوا ہے قتل کرنے والی عورت کے خاندان کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم ﷺ ان پر دیت کی ادائیگی لازم قرار نہ دے دیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بچے نے تو کچھ پیا نہیں کچھ کھایا نہیں چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا یہ زمانہ جاہلیت کی مسجع گفتگو کی جا رہی ہے پھر آپ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مجالد بن سعید کے حوالے سے امام شعبی سے نقل کی ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس طریق کی روایات صالح ہوتی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں مجالد نامی راوی کو ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے جس میں زمانہ جاہلیت کی سجع ہونے کے الفاظ نہیں ہیں ۔

10788

Majma al-Zawaid #10788

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ لَهُ امْرَأَتَانِ: إِحْدَاهُمَا هُذَلِيَّةٌ، وَالْأُخْرَى عَامِرِيَّةٌ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ بَطْنَ الْعَامِرِيَّةِ بِعَمُودِ خِبَاءٍ أَوْ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهَا أَخٌ لَهَا، يُقَالُ لَهُ: عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ، فَلَمَّا قَصُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِصَّةَ، قَالَ: "" دُوهُ "". فَقَالَ عِمْرَانُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَدِي مَا لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، مِثْلُ هَذَا يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعْنِي مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ، فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، أَوْ خَمْسُمِائَةٍ، أَوْ فَرَسٌ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِائَةُ شَاةٍ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ، وَهُمْ أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ، قَالَ: "" أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا "". قَالَ: مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ؟ قَالَ: "" يَا حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ "". وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتٍ لِهُذَيْلٍ وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ: "" اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ "". فَفَعَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِيهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Malih al-Hudhali reported from his father that among them was Hamal ibn Malik ibn al-Nabighah, who had two wives, one Hudhali and one Amiri. The Hudhali wife struck the belly of the Amiri wife with a tent-pole, causing her to miscarry a dead fetus. The striker was brought to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, with her brother Imran ibn Uwaymir. When the story was told, he ordered payment of its diyah. Imran objected that they should pay for one who neither ate nor drank nor cried out, arguing such blood is void. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, dismissed Bedouin rajaz verse, and fixed a ghurrah of a slave or slave-girl, or five hundred camels, or a horse, or one hundred twenty sheep. When the man argued her two sons, chiefs of the clan, should bear the aql, the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, ruled the brother is more entitled to bear it for his sister than her sons, and since the man had nothing, told Hamal, then in charge of Hudhayl charities and husband of the woman and father of the slain fetus, to take one hundred twenty sheep from Hudhayl charities under his hand, which he did. > **"Keep away from me the rajaz of the Bedouins. For it there is a ghurrah of a slave or slave-girl, or five hundred, or a horse, or one hundred twenty sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح ہذلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کا نام حمل بن مالک بن نابغہ تھا اس کی دو بیویاں تھیں جن میں سے ایک ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری بنو عامر سے تعلق رکھتی تھی ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت نے عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے پیٹ پر خیمے کی لکڑی کے ذریعے ضرب لگائی تو دوسری عورت نے مردہ بچے کو جنم دیا حمل بن مالک ضرب لگانے والی عورت کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے اس عورت کے ساتھ اس عورت کا بھائی بھی تھا ‘ جس کا نام عمران بن عویمر تھا جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی دیت دو تو عمران بن عویمر نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم اس کی دیت دیں گے جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کے رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتیوں کی سی لفاظی مجھ سے دور رکھو ! اس میں غلام یا کنیز کو ادا کرنا لازم ہو گا یا پانچ سو ( اونٹ ادا کیے جائیں ) یا ایک گھوڑا یا ایک سو بیس بکریاں ادا کی جائیں گی ‘‘۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس عورت کے دو بیٹے ہیں ‘ اور وہ دونوں قبیلے کے سردار ہیں ‘ اور وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے دیت ادا کریں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کی اولاد کے مقابلے میں تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرو ۔ اس شخص نے عرض کی : میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں دیت کے طور پر ادا کر سکوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے حمل بن مالک راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب ان دنوں ہذیل قبیلے کے صدقات کے نگران تھے اور وہ اس عورت کے شوہر اور عورت کے پیٹ میں موجود مقتول بچے کے والد بھی تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے پاس موجود ہذیل قبیلے کے صدقات میں سے ایک سو بکریاں حاصل کر لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے جس کو امام ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10789

Majma al-Zawaid #10789

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَتْ فِينَا امْرَأَتَانِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا، وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، فَقَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَرْأَةِ بِالْعَقْلِ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ بِفَرَسٍ، أَوْ بَعِيرَيْنِ مِنَ الْإِبِلِ، أَوْ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَاتِلَةِ: كَيْفَ نَعْقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَسَجَّاعَةٌ أَنْتَ؟ "". وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Malih reported from his father, a Companion of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, that two women quarreled and one struck the other with a staff, killing her and what was in her womb. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, decreed for the woman the aql, full blood-money, and for the fetus a ghurrah of a slave or slave-girl, or a horse, or two camels, or a stated number of sheep. A man of the killer's kin objected how they should pay for one who neither ate nor drank nor cried out, claiming such blood is void. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, rebuked him, and decreed the woman's inheritance for her husband and child and the aql upon the asabah, male kin, of the killer. > **"Are you speaking in rhymed prose?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے : ہمارے درمیان دو خواتین تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کے اسے قتل کر دیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی قتل کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے عورت کے بارے میں دیت کی ادائیگی کا اور بچے کے بارے میں ایک غلام یا کنیز یا ایک گھوڑے یا دو اونٹوں یا اتنی اتنی بکریوں کی ادائیگی لازم ہونے کا فیصلہ دیا تو قتل کرنے والی عورت کے خاندان میں سے ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم اس ( بچے ) کی دیت کیسے دیں جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم مسجع گفتگو کر رہے ہو ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا کہ عورت کی میراث اس کے شوہر کو ملے گی اور عورت کے بچے کی میراث بھی اسے ملے گی اور دیت کی ادائیگی عورت کے عصبہ لوگوں پر لازم ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10790

Majma al-Zawaid #10790

وَعَنْ عُوَيْمِرٍ قَالَ: «كَانَتْ أُخْتِي مُلَيْكَةُ وَامْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَفِيفٍ بِنْتُ مَسْرُوحٍ تَحْتَ حَمَلِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَضَرَبَتْ أُمُّ عَفِيفٍ مُلَيْكَةَ بِمِسْطَحِ بَيْتِهَا، وَهِيَ حَامِلٌ فَقَتَلَتْهَا وَذَا بَطْنِهَا. فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا بِالدِّيَةِ، وَفِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدٍ، فَقَالَ أَخُوهَا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْرُوحٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَغْرَمُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ؟. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Uwaymir reported that his sister Mulaykah and a woman of their clan, Umm Afif bint Masruh, were both under Hamal ibn al-Nabighah in marriage. Umm Afif, who was not pregnant, struck the pregnant Mulaykah with the mistah of her house, killing her and her fetus. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, decreed diyah for her and a ghurrah of a slave or young slave for her fetus. Her brother Ala ibn Masruh objected whether one should pay for one who neither ate nor drank nor spoke nor cried at birth, claiming such blood is void. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, asked if this was rhyming like the rhyming of the Jahiliyyah. > **"Is it rhyming like the rhyming of the Jahiliyyah?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عویمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری بہن ملیکہ اور ہمارے خاندان کی ایک عورت ام عفیف بنت مسروح ‘ یہ حمل بن نابغہ کی بیویاں تھیں اُم عفیف نے ملیکہ کو اپنے گھر میں موجود ایک لکڑی ماری ملیکہ حاملہ تھی اس کے نتیجے میں وہ قتل ہو گئی اور اس کے پیٹ میں بچہ بھی موجود تھا ( وہ بھی مارا گیا ) تو نبی اکرم ﷺ نے اس ( عورت کے بارے ) میں دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کے بارے میں ایک غلام یا لڑکے ( یعنی غلام کے بچے یا کنیز ) کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تو اس عورت کے بھائی علاء بن مسروح نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس ( بچے ) کا تاوان دیا جائے گا جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ بولا نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا یہ زمانہ جاہلیت کی سجع گفتگو کی طرح سجع کی جا رہی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10791

Majma al-Zawaid #10791

عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: «كَتَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عَقُولَةً، ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ: «عَقْلُ الْأَخِ دُونَ الْوَلَدِ».

EnglishUnverified translation

Abu al-Zubayr heard Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them both, say that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, imposed the uqul, shares of blood-money, upon every batn, clan subdivision, then decreed that it is not lawful for the mawla, freedman, of a Muslim to take another as patron without his permission. This joins aqilah responsibility with preservation of wala, clientage. > **"It is not lawful for the freedman of a Muslim man to take another as patron without his permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ’’ نبی اکرم ﷺ نے ہر ایک بطن ( یعنی قبیلے کی ذیلی شاخ ) پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی تھی پھر آپ نے یہ طے کیا کہ یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی شخص کا آزاد کردہ غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے ابوملیح کے حوالے سے ان کے والد سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ‘ اور اس میں یہ بات مذکور ہے کہ ( عورت کی طرف سے ) دیت بھائی ادا کرے گا بیٹا ادا نہیں کرے گا ۔

10792

Majma al-Zawaid #10792

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «كُلُّ بَنِي أُنْثَى فَإِنَّ عَصَبَتَهُمْ لِأَبِيهِمْ، مَا خَلَا بَنِي فَاطِمَةَ ; فَإِنِّي أَنَا عَصَبَتُهُمْ، وَأَنَا أَبُوهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْمَنَاقِبِ، وَحَدِيثٌ آخَرُ فِي الْفَرَائِضِ.

EnglishUnverified translation

Umar, may Allah be pleased with him, said he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that all sons of a woman trace their asabah, agnatic kinship, to their father, except the sons of Fatimah, may Allah be pleased with her, for he himself is their asabah and their father. > **"All sons of a woman, their asabah is through their father, except the sons of Fatimah, for I am their asabah and I am their father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر عورت کے بیٹوں کا عصبہ ان کے باپ کی طرف سے ہو گا صرف فاطمہ کے بیٹوں کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں ان کا عصبہ ہوں اور میں ان کا باپ ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن مہران ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ اس کا ایک طریق مناقب سے متعلق باب میں آئے گا اور ایک اور حدیث فرائض سے متعلق باب میں آئے گی ۔

10793

Majma al-Zawaid #10793

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَجْعَلُوا عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْ قَوْلِ مُعْتَرِفٍ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said not to impose anything upon the aqilah, kin liable for blood-money, merely on the word of one who confesses. > **"Do not place upon the aqilah anything on the basis of the statement of one who confesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اعتراف کرنے والے شخص کے قول کے حوالے سے تم عاقلہ پر کوئی ادائیگی لازم قرار نہ دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10794

Majma al-Zawaid #10794

عَنْ عَائِذِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: «قَالَ سَمِيرُ بْنُ زُهَيْرٍ الْجِسْرِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَخِي سَلَمَةَ بْنَ زُهَيْرٍ خَرَجَ يُهَاجِرُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَلَقِيَهُ رِعَاءُ رِكَابِكَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَقَتَلُوهُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَقَدْ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ دَمٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: وَجَدْنَاهُ يَسُوقُ رِكَابَكَ، فَأَرَدْنَا أَخْذَهُ فَامْتَنَعَ مِنَّا، فَقَتَلْنَاهُ، فَلَا أَدْرِي: هَلْ حَلَّفَهُمْ أَوْ صَدَّقَهُمْ؟. غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ سَأَلَهُ عَنْ إِسْلَامِ أَخِيهِ فَلَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً، فَعَقَلَ لَهُ حُرْمَةَ الشَّهْرِ خَمْسِينَ مِنَ الْإِبِلِ. قَالَ: فَبَقِيَّةُ الْإِبِلِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ نَعَمٍ وَأَعْظَمُهُ بَرَكَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Aidh ibn Said reported that Samir ibn Zuhayr al-Jisri said to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, that his brother Salamah ibn Zuhayr had set out migrating to Allah and His Messenger, but camel-herdsmen of Banu Ghifar met and killed him in the sacred month, with an old Jahili blood-feud between them. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, summoned them and questioned them. They said they found him driving his camels, sought to seize him, he resisted, and they killed him. The narrator did not recall whether he put them under oath or accepted their word, but he asked about the brother's Islam and found no proof, so he paid for him fifty camels for the hurmah, sanctity, of the month. The remainder of the camels in his house proved the finest and most blessed of livestock. > **"O Messenger of Allah, my brother Salamah set out migrating to Allah and His Messenger, but herdsmen of Banu Ghifar killed him in the sacred month."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عائذ بن سعید بیان کرتے ہیں : حضرت سمیر بن زہیر جسری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا بھائی سلمہ بن زہیر ‘ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلا تھا بنو غفار سے تعلق رکھنے والے آپ کی سواریوں کے چرواہے اس سے ملے اور انہوں نے حرمت والے مہینے میں اس کو قتل کر دیا کیونکہ ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے قتل کا مقدمہ چلا آ رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو بلوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس شخص کو پایا تھا کہ وہ آپ کی سواریوں کو ہانک کر لے جا رہا تھا ہم نے اسے پکڑنا چاہا وہ ہمارے قابو میں نہیں آیا ‘ تو ہم نے اسے قتل کر دیا راوی بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے حلف لیا تھا یا ویسے ہی ان کی بات کو سچ سمجھ لیا البتہ نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب سے ان کے بھائی کے اسلام کے بارے میں دریافت کیا ‘ اور اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا تو نبی اکرم ﷺ نے حرمت والے مہینے کی حرمت کے حوالے سے انہیں پچاس اونٹ دیت کے طور پر دیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ اونٹ ان کے گھر میں موجود تمام اونٹوں سے زیادہ فضیلت رکھتے تھے اور زیادہ برکت والے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10795

Majma al-Zawaid #10795

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ثَلَاثٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَزُوِّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَمْ شَاءَ: مَنْ أَدَّى دَيْنًا خَفِيًّا، وَعَفَا عَنْ قَاتِلِهِ، وَقَرَأَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرَ مَرَّاتٍ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ "". فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ: أَوْ إِحْدَاهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَوْ إِحْدَاهُنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that three deeds, whoever brings them with faith enters Paradise by whichever gate he wishes and is married to as many of the hur al-in, wide-eyed maidens, as he wishes: paying a hidden debt, pardoning his killer, and reading Qul Huwa Allahu Ahad ten times after every prescribed prayer. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, asked if even one of them suffices, and he replied that even one suffices. > **"Three deeds: whoever brings them with faith enters through whichever gate of Paradise he wishes. Or even one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں کر لے گا وہ جنت کے جس بھی دروازے میں سے چاہے گا جنت میں داخل ہو جائے گا اور جتنی حورعین کے ساتھ چاہے گا اتنی کے ساتھ اس کی شادی کروا دی جائے گی جو شخص خفیہ ( یا پوشیده ) قرض کو ادا کر دے جو شخص اپنے قاتل کو معاف کر دے اور جو شخص ہر فرض نماز کے بعد سورت اخلاص پڑھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر کوئی ان میں سے ایک کام کرے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی ان میں سے کوئی ایک کام کرے ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن نبہان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10796

Majma al-Zawaid #10796

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ كَانَتْ فِيهِ وَاحِدَةٌ زَوَّجَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ يَعْنِي أَمَانَةً خَفِيَّةً شَهِيَّةً، فَأَدَّاهَا مَخَافَةَ اللَّهِ، أَوْ رَجُلٌ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ، أَوْ رَجُلٌ قَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever possesses one quality, Allah will marry him to the hur al-in: one who holds a hidden desirable trust and renders it from fear of Allah, or a man who pardons his killer, or a man who reads Qul Huwa Allahu Ahad after every prayer. > **"Whoever has one of them, Allah will marry him to the hur al-in."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : جس شخص میں ( آگے آنے والی تین خوبیوں میں سے کوئی ایک بھی خوبی ہو گی ‘ اللہ تعالیٰ اس کی شادی حورعین کے ساتھ کر دے گا ، جس شخص میں وہ موجود ہو ‘ یعنی ایسی امانت جو خفیہ بھی ہو اور آدمی کو اس میں دلچپسی بھی ہو ‘ اور وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ادا کر دے ‘ یا کوئی شخص ‘ اپنے قاتل کو معاف کر دے یا کوئی شخص ہر نماز کے بعد سورت اخلاص پڑھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10797

Majma al-Zawaid #10797

وَعَنْ ابْنِ الصَّامِتِ - يَعْنِي عُبَادَةَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ تَصَدَّقَ مِنْ جَسَدِهِ بِشَيْءٍ، كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِلَفْظِ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ أُعْطِيَ بِقَدْرِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ». وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Samit, meaning Ubadah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever gives charity of his body, meaning forgoes retaliation for injury, Allah expiates for him sins to that measure. In another wording, whoever gives charity of anything of his body is granted reward to the measure of his charity. > **"Whoever gives charity of his body for an injury, Allah expiates for him to the measure of his sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو اپنے جسم کے حوالے سے کوئی چیز صدقہ کر دے ( یعنی زیادتی کرنے والے کو معاف کر دے ) تو اسی حساب سے اس کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ ختم کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ جو شخص اپنے جسم کے حوالے سے کوئی چیز صدقہ کر دے ‘ تو جتنا اس نے صدقہ کیا ہے اسی حساب سے اسے ( مغفرت ) عطا کر دی جاتی ہے ‘‘۔ مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10798

Majma al-Zawaid #10798

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُجْرَحُ فِي نَفْسِهِ جِرَاحَةً، فَيَتَصَدَّقُ بِهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, said he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that no man is wounded in his person and then gives it as charity, meaning forgives it, except that Allah, Blessed and Exalted, expiates for him the like of what he gave. > **"There is no man wounded in his person who then forgives it except that Allah expiates for him the like of what he forgave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کو کوئی زخم لگایا گیا ہو اور وہ اس کو صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو جتنا اس نے صدقہ کیا ہے اس حساب سے اللہ تعالٰی اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ‘‘۔

10799

Majma al-Zawaid #10799

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أُصِيبَ فِي جَسَدِهِ بِشَيْءٍ فَتَرَكَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، كَانَ كَفَّارَةً لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

A man among the Companions of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, reported that he said whoever is afflicted in his body with any injury and leaves it for Allah, Mighty and Majestic, it becomes an expiation for him. > **"Whoever is afflicted in his body with anything and leaves it for Allah, it is an expiation for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ’’ جس شخص کو جسم میں کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اسے چھوڑ دے ‘ تو یہ چیز اس کے لئے کفارہ بن جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ‘ اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

10800

Majma al-Zawaid #10800

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «هَشَّمَ رَجُلٌ فَمَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ مُعَاوِيَةَ، فَأُعْطِيَ دِيَتَهُ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ حَتَّى أُعْطِيَ ثَلَاثًا. فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ أَوْ دُونَهُ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ تَصَدَّقَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Adi ibn Thabit reported that in the time of Muawiyah, may Allah be pleased with him, a man smashed the mouth of another man. He was offered his diyah but refused to accept until he was given threefold. A man present said he had heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that whoever gives charity of blood or less than it, meaning forgoes it, it becomes expiation for him from the day he was born until the day he forgave. > **"Whoever gives charity of blood or less than it, it is an expiation for him from the day he was born until the day he gave charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ایک شخص نے دوسرے شخص کے منہ کو توڑ دیا ( یا زخمی کر دیا ) اسے اس کی دیت دی گئی تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ اسے تین دیے گئے تو اس شخص نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص خون یا اس سے کم چیز صدقہ کر دے ( یعنی معاف کر دے ) تو یہ اس شخص کے لئے اس کی پیدائش کے دن سے لے کر جس دن اس نے صدقہ کیا ہے ( یعنی معاف کیا ہے ) اس دن تک کے لئے ( تمام گناہوں کا ) کفارہ بن جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن ظبیان کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10801

Majma al-Zawaid #10801

«وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ أَخَاهُ قَيْسَ بْنَ مَعْبَدٍ وَجَارِيَةَ بْنَ ظَفَرٍ اقْتَتَلَا فِي مَرْعًى كَانَ بَيْنَهُمَا، فَضَرَبَهُ جَارِيَةُ ضَرْبَةً، وَضَرَبَهُ قَيْسٌ ضَرْبَةً، فَأَبَتَّ يَدَهُ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا. قَالَ يَزِيدُ: فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَصَّا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَبْ لِي يَدَهُ تَأْتِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْضَاءَ سَلِيمَةً "". فَأَبَى، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ادْعُهُ "" ثُمَّ قَالَ لِي: "" يَا يَزِيدُ هَبْ لِي عَقْلَهَا "". قَالَ: قُلْتُ: هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي الدِّيَةَ، وَقَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ "". وَقَالَ لِجَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ: "" خُذْهَا "". فَأَخَذَهَا يَزِيدُ فَكُنَّا نَعْرِفُ الْبَرَكَةَ فِينَا بِدَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Mabad reported that his brother Qays ibn Mabad and Jariyah ibn Zafar quarreled over a shared pasture. Jariyah struck him and Qays struck him, severing his hand. They disputed to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. Yazid said they went until they came to him and told the story. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, told the injured man to gift him his hand so that it would come to him white and sound on the Day of Resurrection, but he refused. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, told them to leave him, then said to Yazid to gift him its aql, compensation. Yazid said it is yours, O Messenger of Allah. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, called him, gave him the diyah, said may Allah bless you, and told Jariyah ibn Zafar to take it. Yazid took it, and they recognized blessing in themselves through the supplication of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Gift me his hand, and it will come to you on the Day of Resurrection white and sound."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن معبد بیان کرتے ہیں : ان کے بھائی قیس بن معبد اور جاریہ بن ظفر کے درمیان ایک چراگاہ کے بارے میں جھگڑا ہو گیا جو ان دونوں کے درمیان تھی ، تو انہوں نے یعنی جاریہ بن ظفر نے انہیں ایک ضرب لگائی اور قیس نے جاریہ کو ایک ضرب لگائی تو ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا ان دونوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا یزید نے کہا : ہم نکلے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ان دونوں نے پورا واقعہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیان کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا : تم اپنا ہاتھ اس کو ہبہ کر دو ( یعنی اس کو یہ زیادتی معاف کر دو ) قیامت کے دن وہ ہاتھ تمہارے پاس صحیح و سالم اور سفید ہو کر آئے گا ان صاحب نے یہ بات نہیں مانی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے یزید تم اس کی دیت مجھے ہبہ کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ وہ آپ کی ہوئی پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھے دیت دی آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے پھر آپ نے جاریہ بن ظفر سے فرمایا : تم اسے لے لو تو یزید نے وہ لے لی تو ہم نبی اکرم ﷺ کی دعا کی برکت اس میں جان لیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10802

Majma al-Zawaid #10802

عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رُفِعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا، فَجَاءَ أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَقَدْ عَفَا أَحَدُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: مَا تَقُولُ؟ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَرَى أَنَّهُ قَدْ أُحْرِزَ مِنَ الْقَتْلِ، قَالَ: فَضَرَبَ عَلَى كَتِفِهِ، وَقَالَ: كَنِيفٌ مُلِئَ عِلْمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنْ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ وَلَا ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Qatadah reported that a man who had killed another was brought before Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him. The heirs of the slain came, and one of them had pardoned. Umar asked Ibn Masud, may Allah be pleased with him, beside him what he held. Ibn Masud said he held that the killer was now protected from execution. Umar struck his shoulder and said he was a vessel filled with knowledge. > **"I hold that he is now protected from execution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص کا مقدمہ پیش کیا گیا جس نے ایک شخص کو قتل کیا تھا مقتول کے ورثاء آئے ان میں سے ایک نے معاف کر دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اس بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں موجود تھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب ( قاتل کو ) قتل نہیں کیا جا سکتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور بولے : یہ علم سے بھرا ہوا برتن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ قتادہ نامی نے نہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ‘ اور نہ ہی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔

10803

Majma al-Zawaid #10803

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «السَّائِبَةُ جُبَارٌ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" السَّائِمَةُ "" مَكَانَ: "" السَّائِبَةُ "". وَنَقَلَهَا الْإِمَامُ أَحْمَدُ عَنْ خَلَفٍ وَلَمْ يَرْوِهَا، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that the saibah, stray beast causing injury, is jubar, void of liability, the well is jubar, the mine is jubar, and in rikaz, buried treasure, is the fifth. In one transmission the word is saimah, pasturing livestock, in place of saibah. > **"The stray animal is void of liability, the well is void of liability, the mine is void of liability, and in buried treasure is the fifth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سائبہ ( جانور کے مارنے سے مرنے والا ) رائیگاں جاتا ہے گڑھے میں گر کر مرنے والا رائیگاں جاتا ہے معدنیات میں گر کر مرنے والا رائیگاں جاتا ہے ‘ اور مدفون مال میں خمس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے لفظ سائبہ کی جگہ لفظ سائمہ نقل کیا ہے یہ روایت امام احمد نے خلف کے حوالے سے نقل کی ہے حالانکہ انہوں نے یہ روایت نقل نہیں کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔