وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ لَهُ امْرَأَتَانِ: إِحْدَاهُمَا هُذَلِيَّةٌ، وَالْأُخْرَى عَامِرِيَّةٌ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ بَطْنَ الْعَامِرِيَّةِ بِعَمُودِ خِبَاءٍ أَوْ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهَا أَخٌ لَهَا، يُقَالُ لَهُ: عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ، فَلَمَّا قَصُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِصَّةَ، قَالَ: "" دُوهُ "". فَقَالَ عِمْرَانُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَدِي مَا لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، مِثْلُ هَذَا يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعْنِي مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ، فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، أَوْ خَمْسُمِائَةٍ، أَوْ فَرَسٌ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِائَةُ شَاةٍ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ، وَهُمْ أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ، قَالَ: "" أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا "". قَالَ: مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ؟ قَالَ: "" يَا حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ "". وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتٍ لِهُذَيْلٍ وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ: "" اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ "". فَفَعَلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِيهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abu al-Malih al-Hudhali reported from his father that among them was Hamal ibn Malik ibn al-Nabighah, who had two wives, one Hudhali and one Amiri. The Hudhali wife struck the belly of the Amiri wife with a tent-pole, causing her to miscarry a dead fetus. The striker was brought to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, with her brother Imran ibn Uwaymir. When the story was told, he ordered payment of its diyah. Imran objected that they should pay for one who neither ate nor drank nor cried out, arguing such blood is void. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, dismissed Bedouin rajaz verse, and fixed a ghurrah of a slave or slave-girl, or five hundred camels, or a horse, or one hundred twenty sheep. When the man argued her two sons, chiefs of the clan, should bear the aql, the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, ruled the brother is more entitled to bear it for his sister than her sons, and since the man had nothing, told Hamal, then in charge of Hudhayl charities and husband of the woman and father of the slain fetus, to take one hundred twenty sheep from Hudhayl charities under his hand, which he did. > **"Keep away from me the rajaz of the Bedouins. For it there is a ghurrah of a slave or slave-girl, or five hundred, or a horse, or one hundred twenty sheep."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوملیح ہذلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کا نام حمل بن مالک بن نابغہ تھا اس کی دو بیویاں تھیں جن میں سے ایک ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری بنو عامر سے تعلق رکھتی تھی ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت نے عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے پیٹ پر خیمے کی لکڑی کے ذریعے ضرب لگائی تو دوسری عورت نے مردہ بچے کو جنم دیا حمل بن مالک ضرب لگانے والی عورت کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے اس عورت کے ساتھ اس عورت کا بھائی بھی تھا ‘ جس کا نام عمران بن عویمر تھا جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی دیت دو تو عمران بن عویمر نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم اس کی دیت دیں گے جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کے رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتیوں کی سی لفاظی مجھ سے دور رکھو ! اس میں غلام یا کنیز کو ادا کرنا لازم ہو گا یا پانچ سو ( اونٹ ادا کیے جائیں ) یا ایک گھوڑا یا ایک سو بیس بکریاں ادا کی جائیں گی ‘‘۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس عورت کے دو بیٹے ہیں ‘ اور وہ دونوں قبیلے کے سردار ہیں ‘ اور وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے دیت ادا کریں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کی اولاد کے مقابلے میں تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرو ۔ اس شخص نے عرض کی : میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں دیت کے طور پر ادا کر سکوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے حمل بن مالک راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب ان دنوں ہذیل قبیلے کے صدقات کے نگران تھے اور وہ اس عورت کے شوہر اور عورت کے پیٹ میں موجود مقتول بچے کے والد بھی تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے پاس موجود ہذیل قبیلے کے صدقات میں سے ایک سو بکریاں حاصل کر لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے جس کو امام ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔