Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 30 · Chapter 2

Book of Blood Money

Hadith 10741–10780

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10741

Majma al-Zawaid #10741

وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْقَوَدُ بِالسَّيْفِ، وَلِكُلِّ شَيْءٍ خَطَأٌ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ: "" «لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ» فَقَطْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: > **"Retaliation is with the sword, and for everything else there is mistake."** Ibn Majah narrates only his saying that there is no retaliation except with the sword.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ صرف تلوار والے قتل میں قصاص لیا جائے گا باقی ہر چیز خطا شمار ہو گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے صرف یہ روایت نقل کی ہے :’’ قصاص صرف تلوار کی وجہ سے لیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10742

Majma al-Zawaid #10742

عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Alqamah reports that Ibn Masud رضي الله عنه said the most restrained of people in killing are the people of faith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : لوگوں کو قتل کرنے سے سب سے زیادہ رکنے والے اہل ایمان ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10743

Majma al-Zawaid #10743

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسْتَقَادُ مِنْهُ ثُمَّ يَمُوتُ، قَالَ: تُقْتَصُّ مِنْهُ دِيَتُهُ، ثُمَّ إِنَّهُ يُطْرَحُ مِنْهُ دِيَةُ جُرْحِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said concerning a man retaliated against who then dies, that his blood-money is taken by retaliation, then the blood-money of his wound is deducted from it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جس سے بدلہ لیا جاتا ہے ‘ اور پھر وہ شخص مر جاتا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : اس شخص کی دیت بدلے میں لی جائے گی اور پھر اس زخم کی دیت اس میں سے الگ کر لی جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند منقطع ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10744

Majma al-Zawaid #10744

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دِرْهَمٌ أُعْطِيهِ فِي عَقْلٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِائَةٍ فِي غَيْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ الذَّهَبِيُّ: فِيهِ جَهَالَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A dirham I give toward blood-money is dearer to me than a hundred spent elsewhere."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ درہم جو میں کسی دیت کے سلسلے میں دوں میرے نزدیک اس کے علاوہ کسی اور سلسلے میں ایک سو درہم خرچ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن عبدالاعلیٰ ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : اس میں مجہول ہونا پایا جاتا ہے ۔

10745

Majma al-Zawaid #10745

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَخْرَجَ شَيْئًا مِنْ حَدِّهِ، فَأَصَابَ بِهِ إِنْسَانًا فَهُوَ ضَامِنٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مَالِكٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever brings something out beyond its limit and thereby strikes a man, he is liable."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص کوئی چیز اس کی مخصوص حد سے باہر نکال دے اور پھر اس کے ذریعے کسی انسان کو نقصان پہنچا دے ‘ تو وہ شخص ضامن ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے مالک کی حسن بصری سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔

10746

Majma al-Zawaid #10746

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ الْهُذَلِيُّ مُتَوَارِيًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ وَظَهَرَ النِّدَاءُ ظَهَرَ الْهُذَلِيُّ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَذَبَحَهُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ. فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَقَتَلْتَهُ قَبْلَ النِّدَاءِ أَوْ بَعْدَ النِّدَاءِ؟ "". فَقَالَ: بَعْدَ النِّدَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا مُؤْمِنًا بِكَافِرٍ لَقَتَلْتُهُ، فَأَخْرِجُوا عَقْلَهُ "". فَأَخْرَجُوا عَقْلَهُ، وَكَانَ أَوَّلَ عَقْلٍ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports that a man of Hudhayl killed a man of Khuzaah in ignorance, and the Hudhali remained hidden. On the day of the Conquest, when the proclamation appeared, the Hudhali appeared. A man of Khuzaah met him and slaughtered him as a sheep is slaughtered. The matter was raised to the Prophet ﷺ, who said: > **"Did you kill him before the proclamation or after the proclamation."** He said after the proclamation. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Had I been one to kill a believer for a disbeliever I would have killed him. Bring forth his blood-money."** They brought forth his blood-money, and it was the first blood-money in Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت میں قتل کر دیا پھر ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص چھپ کر زندگی گزارتا رہا فتح مکہ کے موقع پر جب اعلان ہوا ( کہ زمانہ جاہلیت کا ہر قتل کالعدم قرار دیا جاتا ہے ) تو ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا وہ شخص سامنے آ گیا خزانہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کی اس سے ملاقات ہوئی اس نے اسے ذبح کر دیا جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے اسے اعلان ہونے سے پہلے قتل کیا تھا یا اعلان ہونے کے بعد قتل کیا تھا اس نے عرض کی : اعلان ہونے کے بعد کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر میں نے کسی کافر کے بدلے میں کسی مؤمن کو قتل کرنا ہوتا تو میں نے اسے قتل کروا دینا تھا تم لوگ اس کی دیت ادا کرو تو ان لوگوں نے اس کی دیت ادا کی اور یہ اسلام میں پہلی دیت تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام طبرانی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

10747

Majma al-Zawaid #10747

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ: «لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ أَبِي الْجَنُوبِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maqil ibn Yasar رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The Muslims are one hand against others. Their blood is equal. No believer shall be killed for a disbeliever, nor one under covenant while in his covenant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے علاوہ ( لوگوں ) کے لئے مسلمان ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے مال برابر کی حیثیت رکھتے ہیں کسی مؤمن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور کسی ذمی کو اس کے عہد کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور کسی ذمی کو اس کے عبد کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ابوجنوب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10748

Majma al-Zawaid #10748

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَجَدْتُ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابَيْنِ: "" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا مَنْ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا "". وَفِي الْأَجْرِِ الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَالِكِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها said she found in the hilt of the sword of the Messenger of Allah ﷺ two writings: > **"The most insolent of people are one who strikes other than his striker, and a man who kills other than his killer, and a man who claims kinship with other than his benefactors. Whoever does that has disbelieved in Allah and His Messenger. Allah shall not accept from him any obligatory or voluntary deed."** And concerning recompense: > **"The believers, their blood and their property are equal, and the least of them strives to grant protection on their behalf. No Muslim shall be killed for a disbeliever, nor one under covenant while in his covenant. People of two religions do not inherit from one another. A woman shall not be married together with her paternal aunt nor with her maternal aunt. There is no prayer after Asr until the sun sets, and a woman shall not travel three nights with other than a close male relative."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی تلوار کے دستے میں ، دو تحریریں پائی تھیں ‘ ( جن میں یہ تحریر تھا : ) ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ سرکشی کرنے والا شخص وہ ہے جو اپنے مارنے والے کے علاوہ کسی اور کو مارے یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرے اور وہ شخص جو اپنے حقیقی آقا کے بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولا ، قائم کرے جو شخص ایسا کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کا کفر کرنے والا شمار ہو گا اللہ تعالیٰ اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور اجر کے اعتبار سے تمام اہل ایمان کی جانیں اور مال برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ اور ان کی دی ہوئی پناہ کے بارے میں ان کا ہر فرد کوشش کرے گا کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں یا کسی ذمی کو اس کے ذمہ کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی اور عورت تین راتوں کا سفر محرم کے بغیر نہیں کرے گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مالک بن ابورجال کا معاملہ مختلف ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور کسی نے بھی اسے ضعیف نہیں کہا ہے ۔

10749

Majma al-Zawaid #10749

عَنْ أَبَانِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ خَطَبَ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ وَضَعَ كُلَّ دَمٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْمُبَارَكِ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aban ibn Said ibn al-As رضي الله عنه addressed and said that the Messenger of Allah ﷺ annulled every blood-claim of ignorance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے زمانہ جاہلیت کے ہر خون کو کالعدم قرار دے دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اس میں پورا واقعہ منقول ہے امام بزار کی سند ضعیف ہے امام طبرانی کے استاد علی بن مبارک صنعانی نے اسے یزید بن مبارک سے نقل کیا ہے ‘ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10750

Majma al-Zawaid #10750

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُتْرَكُ مُفَرَّجٌ فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى يُضَمَّ إِلَى قَبِيلَةٍ» "". قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ: وَلَا يُتْرَكُ مُفَرَّجٌ فِي الْإِسْلَامِ. قِيلَ: هُوَ الْقَتِيلُ يُوجَدُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ لَا يَكُونُ قَرِيبًا مِنْ قَرْيَةٍ ; فَإِنَّهُ يُودَى مِنْ بَيْتِ الْمَالِ، وَلَا يُطَلُّ دَمُهُ، وَيُرْوَى بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf al-Muzani رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: > **"No exposed slain man shall be left in Islam until he is joined to a tribe."** Ibn al-Athir says in al-Nihayah that it means a slain man found in empty land far from a village; his blood-money is paid from the public treasury and his blood is not void.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام میں کسی کھلے شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا یہاں تک کہ اسے کسی قبیلے کی طرف ضم کر دیا جائے گا ‘‘۔ ابن اثیر نے کتاب ’’ النہایہ ‘‘ میں یہ بات تحریر کی ہے : اسلام میں کسی کھلے شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا اس سے مراد وہ مقتول ہے جو کسی بے آب و گیاہ جگہ پر پایا جاتا ہے اس جگہ کے آس پاس کوئی بستی نہیں ہوتی تو بیت المال میں سے اس مقتول کی دیت ادا کی جائے گی اور اس کے خون کو رائیگاں قرار نہیں دیا جائے گا یہ لفظ ’’ ح ‘‘ سے بھی روایت کیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10751

Majma al-Zawaid #10751

عَنْ رَجُلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ، فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ تِسْعِينَ عَامًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man reports that the Prophet ﷺ said: > **"There shall be a people under covenant. Whoever kills a man of them shall not smell the scent of Paradise, though its scent is found from a journey of ninety years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جنہیں عہد دیا گیا ہو گا ‘ تو جو شخص ان میں سے کسی فرد کو قتل کر دے وہ شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ اس کی خوشبو نوے سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10752

Majma al-Zawaid #10752

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" «خَمْسِمِائَةِ عَامٍ» "".

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever kills a covenanted soul shall not smell the scent of Paradise, though its scent is found from a journey of five hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ’’ پانچ سو سال ‘‘ کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔

10753

Majma al-Zawaid #10753

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مِائَةِ عَامٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In one narration: > **"A hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک سو سال ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن علاف ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10754

Majma al-Zawaid #10754

وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ يَخْفِرُ ذِمَّتِي كُنْتُ خَصْمَهُ، وَمَنْ خَاصَمْتُهُ خَصَمْتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jundab رضي الله عنه reports that it reached him that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever betrays my protection, I shall be his adversary, and whomever I oppose, I shall overcome."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے گا میں اس کا مقابل فریق ہوؤں گا اور میں جس کا مقابل فریق ہوؤں گا اس کا ( بھرپور ) مقابلہ کروں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10755

Majma al-Zawaid #10755

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَ، وَلَا يُتِمُّ شَهْرَانِ، وَمَنْ أَخْفَرَ بِذِمَّةٍ لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no contagion, no Safar omen, no Hamah, nor two completed months, and whoever breaches a covenant shall not smell the scent of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ ( بیماری کے ) متعدی ہونے یا صفر کے ( منحوس ہونے ) یا ہام کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ اور دو مہینے مکمل نہیں ہوتے اور جو شخص ذمہ کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ‘ جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10756

Majma al-Zawaid #10756

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَلِّلِ بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever kills a covenanted soul without its right shall not smell the scent of Paradise, though the scent of Paradise is found from a journey of a hundred years."** Al-Tirmidhi and Ibn Majah narrate it with seventy years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص ناحق طور پر کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ جنت کی خوشبو ایک سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ستر سال کی مسافت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد احمد بن قاسم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال الفتہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف معلل بن نفیل کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10757

Majma al-Zawaid #10757

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ «أَنَّ أُنَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَاقُوهَا، وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُؤْمِنًا. فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ، فَأُخِذُوا فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما reports that people raided the camels of the Prophet ﷺ and drove them off, apostatized from Islam, and killed the believing shepherd of the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ sent after them. They were seized, and their hands and feet were cut off and their eyes were branded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں پر حملہ کیا ‘ اور انہیں ہانک کر لے گئے وہ لوگ اسلام چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا جو ایک مومن تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے پیچھے لوگوں کو روانہ کیا ان لوگوں نے انہیں پکڑ لیا ان قاتلوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10758

Majma al-Zawaid #10758

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: يَسَارٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَأَعْتَقَهُ وَبَعَثَهُ فِي لِقَاحٍ لَهُ بِالْحَرَّةِ، فَكَانَ بِهَا فَأَظْهَرَ قَوْمٌ الْإِسْلَامَ مِنْ عُرَيْنَةَ مِنَ الْيَمَنِ، وَجَاؤُوا وَهُمْ مَرْضَى مَوْعُوكُونَ قَدْ عَظُمَتْ بُطُونُهُمْ. فَبَعَثَ بِهِمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى يَسَارٍ وَكَانُوا يَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ حَتَّى انْطَوَتْ بُطُونُهُمْ، ثُمَّ عَدَوْا عَلَى يَسَارٍ فَذَبَحُوهُ، وَجَعَلُوا الشَّوْكَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ طَرَدُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ خَيْلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَمِيرُهُمْ كُرْزُ بْنُ مَالِكٍ الْفِهْرِيُّ، فَلَحِقَهُمْ فَجَاءَ بِهِمْ إِلَيْهِ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ had a servant called Yasar. He saw him pray well, freed him, and sent him among his milch-camels at al-Harrah. People of Uraynah from Yemen professed Islam outwardly and came sick with fever and swollen bellies. The Prophet ﷺ sent them to Yasar. They drank camel milk until their bellies healed. Then they attacked Yasar and slaughtered him, placed thorns in his eyes, and drove off the camels. The Prophet ﷺ sent horsemen of the Muslims after them under Kurz ibn Jabir al-Fihri. He overtook them and brought them. Their hands and feet were cut off and their eyes were branded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا ایک غلام تھا ، جس کا نام یسار تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے دیکھا کہ وہ اچھے طریقے سے نماز ادا کرتا ہے ‘ تو آپ نے اسے آزاد کر دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے پتھریلی زمین پر موجود اپنی اونٹنیوں میں اسے بھیجوا دیا وہ شخص وہاں رہا یمن کے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کر لیا جب وہ لوگ آئے ‘ تو وہ بیمار ہو گئے انہیں بخار ہو گیا ان کے پیٹ بڑھ گئے نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو بیسار کے پاس بھجوا دیا وہ لوگ وہاں اونٹوں کا دودھ پیتے تھے ‘ یہاں تک کہ ان کے پیٹ ٹھیک ہو گئے پھر انہوں نے بیسار پر حملہ کر کے اسے ذبح کر دیا اور اس کی آنکھوں میں کانٹے پھیر دیے پھر اونٹوں کو کھولا اور لے گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے پیچھے گھڑ سواروں کو بھیجا ان کے امیر حضرت کرز بن جابر فہری رضی اللہ عنہ تھے وہ ان لوگوں تک پہنچ گئے اور ان لوگوں کو پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لے آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10759

Majma al-Zawaid #10759

وَعَنْ جَرِيرٍ «أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تُقْطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَأَنْ تُسْمَلَ أَعْيُنُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reports that people of Uraynah raided the milch-camels of the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ commanded that their hands and feet be cut off and their eyes be branded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی اونٹنیوں پر حملہ کیا ۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10760

Majma al-Zawaid #10760

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَهْدَرَهَا النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ حَكَمَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيِّ بِالْوَهْمِ، وَقَدْ خَالَفَهُ أَصْحَابُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، فَرَوَوْهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَهُوَ الصَّوَابُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that in the time of the Messenger of Allah ﷺ a man bit the hand of a man, who pulled away his tooth. The Prophet ﷺ voided it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹا دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا تو پہلے شخص کے دانت گر گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان دانتوں کو رائیگاں قرار دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ امام طبرانی نے سعید بن عمرو اشعثی نامی راوی پر وہم کا حکم عائد کیا ہے ابن عیینہ کے دوسرے شاگردوں نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کو ابن عیینہ کے حوالے سے عمرو کے حوالے سے عطاء کے حوالے سے حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ‘ اور یہی درست ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

10761

Majma al-Zawaid #10761

عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ فُقِئَتْ عَيْنُهُ، فَقَالَ: "" مَنْ ضَرَبَكَ؟ ""، فَقَالَ: أَعْوَرُ بَنِي فُلَانٍ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: "" أَنْتَ فَقَأْتَ عَيْنَ هَذَا؟ "". قَالَ: نَعَمْ، فَقَضَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالدِّيَةِ، وَقَالَ: "" لَا نَفْقَأُ عَيْنَهُ فَنَدَعُهُ غَيْرَ بَصِيرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ismah رضي الله عنه reports that a man whose eye had been gouged came to the Messenger of Allah ﷺ. He said: > **"Who struck you."** He said, the one-eyed man of Banu so-and-so. He summoned him and said: > **"Did you gouge the eye of this man."** He said yes. The Messenger of Allah ﷺ judged blood-money against him and said: > **"We shall not gouge his eye and leave him sightless."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کی آنکھ پھوڑ دی گئی تھی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا تمہیں کس نے مارا ہے اس نے بتایا : بنوفلاں کے کانے شخص نے نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو بلوایا وہ شخص آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اس کی آنکھ پھوڑی ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے اس کے خلاف دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا آپ نے فرمایا : ہم اس کی آنکھ نہیں پھوڑیں گے کہ اسے یوں کر دیں کہ یہ دیکھ ہی نہ سکے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10762

Majma al-Zawaid #10762

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ لَهُدِرَتْ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ، فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whichever man lifts a veil and inserts his gaze before permission is given has committed a punishable encroachment he was not permitted. Had a man gouged his eye, it would be void. Had a man passed a door with no veil and seen the private affairs of its people, there is no sin upon him. The sin is only upon the household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص پردہ ہٹائے اور اجازت ملنے سے پہلے اپنی نگاہ ( گھر میں ) داخل کر دے ‘ تو اس نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر گھر والا شخص اس کی آنکھ پھوڑ دے ‘ تو وہ آنکھ رائیگاں جائے گی اور اگر کوئی شخص ایسے دروازے سے گزرے جس پر پردہ نہ ہو اور وہ اس کے اہلِ خانہ کی پوشیدہ چیز دیکھ لے تو اس پر کوئی خطا نہیں ہو گی کیونکہ غلطی گھر والوں کی ہے ‘‘۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے وہ حسن الحدیث ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10763

Majma al-Zawaid #10763

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنِ اطَّلَعَ مِنْ سُتْرَةٍ إِلَى قَوْمٍ فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ فَهُوَ هَدَرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا حَكِيمُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، وَفِي الْأُخْرَى: لَيْثُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، وَكِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever peeps through a curtain at a people and his eye is gouged, it is void."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی قوم کی پردے کی چیز کو جھانک کر دیکھے اور پھر اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو وہ رائیگاں جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کی سند میں ایک راوی حکیم بن ابوحکیم ہے ‘ اور دوسری میں ایک راوی لیث بن ابوحکیم ہے ان دونوں نے اسے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10764

Majma al-Zawaid #10764

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَجُلٍ طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِدْنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَعْجَلْ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ "" فَأَبَى الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْتَقِيدَ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ، فَعَرِجَ الْمُسْتَقِيدُ، وَبَرَأَ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ، فَأَتَى الْمُسْتَقِيدُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَرِجْتُ وَبَرَأَ صَاحِبِي؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" أَلَمْ آمُرْكَ أَنْ لَا تَسْتَقِيدَ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ فَعَصَيْتَنِي، فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ وَبَطَلَ جُرْحُكَ "". ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ الرَّجُلَ الَّذِي عَرِجَ مَنْ كَانَ بِهِ جُرْحٌ أَنْ لَا يَسْتَقِيدَ حَتَّى يَبْرَأَ مِنْ جِرَاحَتِهِ، فَإِذَا بَرِأَتْ جِرَاحَتُهُ اسْتَقَادَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ judged concerning a man who stabbed a man with a horn in his leg. The wounded man said, O Messenger of Allah, grant me retaliation. The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Do not hasten until your wound heals."** The man refused anything but immediate retaliation. The Messenger of Allah ﷺ granted him retaliation. The retaliator became lame and the retaliated one healed. The retaliator came to the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, I am lame and my fellow is healed. The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Did I not command you not to seek retaliation until your wound heals, and you disobeyed me. May Allah keep you far, and your wound is void."** Then after that, the Messenger of Allah ﷺ commanded that whoever bore a wound shall not seek retaliation until healed from his wound, and when healed he may retaliate.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا تھا ، جس نے دوسرے شخص کی ٹانگ پر سینگ مار کر اسے زخمی کر دیا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم جلدی نہ کرو جب تک تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا اس شخص نے یہ بات نہیں مانی اور بدلہ لینے پر اصرار کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے دوسرے شخص سے بدلہ دلوایا پھر بدلہ لینے والا شخص لنگڑا ہو گیا اور جس سے بدلہ لیا گیا تھا وہ ٹھیک ہو گیا بدلہ لینے والا شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں لنگڑا ہو گیا ہوں اور دوسرا شخص ٹھیک ہو گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں یہ ہدایت نہیں کی تھی کہ تم اس وقت تک بدلہ نہ لو جب تک تم تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا ؟ تم نے میری بات نہیں مانی اب اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے تمہارا زخم باطل ہو گیا ہے پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے معاملے کے بعد جو لنگڑا ہو گیا تھا یہ حکم دیا کہ جس شخص کو زخم لاحق ہو ‘ تو وہ اس وقت تک بدلہ نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا جب اس کا زخم ٹھیک ہو جائے گا ‘ پھر وہ بدلہ لے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10765

Majma al-Zawaid #10765

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ طَعَنَ رَجُلًا عَلَى فَخِذِهِ بِقَرْنٍ فَقَالَ الَّذِي طُعِنَتْ فَخِذُهُ: أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَاوِهَا وَاسْتَأْنِ بِهَا حَتَّى تَنْظُرَ إِلَى مَا تَصِيرُ "". فَقَالَ: أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَبِسَتْ رِجْلُ الَّذِي اسْتَقَادَ، وَبَرِئَ الَّذِي يَسْتَقِيدُ مِنْهُ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دِيَتَهَا».

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that a case was brought to the Messenger of Allah ﷺ of a man who stabbed a man in the thigh with a horn. The wounded man said, grant me retaliation, O Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Treat it and wait with it until you see what it becomes."** He repeated the demand twice more with the same reply. Then the Messenger of Allah ﷺ granted him retaliation. The leg of the retaliator withered and the retaliated one healed, so the Messenger of Allah ﷺ voided its blood-money.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک مقدمہ پیش کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے زانوں پر ( کسی جانور کا ) سینگ مارا تھا ، جس شخص کو چوٹ لگی تھی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس زخم کا علاج کرو اور اس کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرو تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ کیا صورت حال سامنے آتی ہے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم ﷺ نے پھر اس کی مانند بات ارشاد فرمائی اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بدلہ دلوایئے نبی اکرم ﷺ نے اسے بدلہ دلوایا جس شخص نے بدلہ لیا تھا اس کی ٹانگ سوکھ گئی اور جس شخص سے بدلہ لیا گیا تھا اس کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی دیت کو رائیگاں قرار دیا ۔

10766

Majma al-Zawaid #10766

وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ: " «دَاوِهَا " وَأَجِّلْهُ سَنَةً».

EnglishUnverified translation

In one narration he said: > **"Treat it and delay him a year."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس کا علاج کرو اور دوسرے فریق کو ایک سال کی مہلت دو .

10767

Majma al-Zawaid #10767

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَنَّ رَجُلًا جُرِحَ فَنَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُسْتَقَادَ مِنَ الْجَارِحِ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ». رَوَى الْأَوَّلَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَمِنْ قَوْلِي، وَفِي رِوَايَةٍ رَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In one narration, a man was wounded and the Prophet ﷺ forbade retaliation against the wounder until the wounded heals.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص نے دوسرے شخص کو زخمی کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ زخمی کرنے والے شخص سے بدلہ لیا جائے جب تک زخمی ہونے والا شخص تندرست نہیں ہو جاتا ۔ امام طبرانی نے پہلی روایت معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور ایک روایت انہوں نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن نمران ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10768

Majma al-Zawaid #10768

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «تَرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُتَوَافِزُونَ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ فَتَّشَ عَنْ جَائِفَةٍ أَوْ مُنَقِّلَةٍ إِلَّا عَمْرُو بْنُ عُمَيْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْجِرَاحَاتِ فِي الدِّيَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ left them while they hastened, and none of them examined a penetrating or bone-displacing wound except Amr ibn Umayr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ‘ جب ہمیں چھوڑا ( یعنی جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے ) تو ہم لوگ زیادہ تر سفر میں رہتے تھے ‘ اور جائفہ یا منقلہ زخم کی تفتیش ہم میں سے صرف عمرو بن عمیر ہی کر سکتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بقال ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : زخموں کے بارے میں کچھ احادیث دیتوں سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

10769

Majma al-Zawaid #10769

عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فِي الْأَنْفِ إِذَا اسْتَوْعَبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ عَشْرٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umar رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"For the nose when its amputation is complete, the full blood-money. For the eye fifty, for the hand fifty, for the leg fifty, for a penetrating wound a third of a life, for a bone-displacing wound fifteen, for a bone-exposing wound five, for a tooth five, and for every finger thereof ten and ten."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب ناک کو مکمل طور پر کاٹ دیا جائے ‘ تو اس میں پوری دیت کی ادائیگی لازم ہو گی آنکھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی ہاتھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی ٹانگ ( یا پاؤں ) میں پچاس کی ادائیگی لازم ہو گی جائفہ زخم میں جان کی دیت کا ایک تہائی حصہ لازم ہو گا منقلہ زخم میں پندرہ کی ادائیگی لازم ہو گی موضحہ میں پانچ کی ادائیگی لازم ہو گی دانت میں پانچ کی ادائیگی لازم ہو گی ہر ایک انگلی میں دس دس کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10770

Majma al-Zawaid #10770

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى فِي دِيَةِ الْعُظْمَى الْمُغَلَّظَةِ بِثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ judged in the aggravated major blood-money thirty hiqqah, thirty jadhaah, twenty daughters of labun, and twenty male sons of labun.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ تیس حقہ تیس جذعہ بیس بنت لبون اور بیس بنو لبون مذکر کی ادائیگی کی جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحییٰ نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10771

Majma al-Zawaid #10771

وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ: «وَقَضَى - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً. وَقَضَى فِي الدِّيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ». ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ، فَقَوَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِبِلَ الدِّيَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابُ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ. قَالَ: فَزَادَ ثُلُثُ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ. قَالَ: فَتَمَّتِ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا. قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ، وَلَا الذَّهَبَ، وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ فِي الْعَدْلُ فِي أَمْوَالِهِمْ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي الْأَحْكَامِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah رضي الله عنه reports that he, meaning the Prophet ﷺ, judged in the major aggravated blood-money thirty daughters of labun, thirty hiqqah, and forty pregnant camels. And in the minor blood-money thirty daughters of labun, thirty hiqqah, twenty daughters of makhad, and twenty male sons of makhad. After the death of the Messenger of Allah ﷺ camels rose in price and silver fell, so Umar رضي الله عنه valued camel blood-money at six thousand dirhams, an ounce for each camel. Then camels rose and silver fell, so Umar added two thousand, two ounces for each camel. Then camels rose and dirhams fell, so Umar completed it at twelve thousand, three ounces for each camel. A third of blood-money is added in the sacred month, and another third in the sacred land. Thus the blood-money of the two sanctuaries reached twenty thousand. It was said that from desert folk their livestock is taken without burdening them with silver or gold, and from every people justice is taken in their wealth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ تیس بنت لبون تیس حقہ اور چالیس خلفہ ادا کیے جائیں گے ۔ جب کہ چھوٹی دیت میں انہوں نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ تیس بنت لبون تیس حقہ بیس بنت مخاض اور بیس بنو مخاض مذکر ادا کیے جائیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں اور درہموں کی قیمتیں کم ہو گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹ کی دیت کو چھ ہزار درہم کے برابر قرار دیا جس میں ہر ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ کا حساب بنتا تھا ۔ پھر اونٹوں کی قیمت زیادہ ہو گئی اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دو ہزار درہم کا اضافہ کر دیا جو ہر اونٹ کے لئے دو اوقیہ کا حساب بنتا ہے پھر اونٹوں کی قیمتیں اور زیادہ ہو گئیں اور درہم کی قیمت کم ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل بارہ ہزار کر دیا جس میں ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیہ بنتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حرمت والے مہینے میں ایک تہائی دیت اضافی ہو گی اور بلد حرام ( حرمت والے شہر ) میں مزید ایک تہائی زیادہ ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : حرمین کی دیت مکمل بیس ہزار ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ دیہاتی علاقوں کے لوگوں سے ان کے جانور وصول کیے جائیں گے ان کو چاندی یا سونے ( درہم یا دینار ) کی شکل میں ادائیگی کا پابند نہیں کیا جائے گا اور ہر قوم سے انصاف کے مطابق ان کے مخصوص مال میں سے وصولی کی جائے گی ۔ یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اضافی روایات نقل کی ہیں ‘ اور یہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو کتاب الاحکام میں پہلے گزر چکی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10772

Majma al-Zawaid #10772

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «كَانَتِ الدِّيَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ: أَرْبَعَةُ أَسْنَانٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ». حَتَّى كَانَ عُمَرُ وَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُونَ الْإِبِلَ، فَتُقَوَّمُ الْإِبِلُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ: قَوِّمُوا الْإِبِلَ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا، فَكَانَتْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ: قَوِّمُوا الْإِبِلَ فَقُوِّمَتْ ثَلَاثَ أَوَاقٍ، فَكَانَتِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَجَعَلَ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ كُلُّ حُلَّةٍ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ، وَعَلَى أَهْلِ الضَّأْنِ أَلْفَ ضَائِنَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَعِزِ أَلْفَيْ مَاعِزَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Saib ibn Yazid رضي الله عنه reports that blood-money in the time of the Messenger of Allah ﷺ was one hundred camels of four ages: twenty-five hiqqah, twenty-five jadhaah, twenty-five daughters of makhad, and twenty-five daughters of labun. In the time of Umar, when the garrison towns were founded, Umar said not all people own camels. Camels were valued an ounce each, four thousand dirhams. Then camels rose, so Umar said value them an ounce and a half, six thousand dirhams. Then camels rose, so Umar said value them, and they were valued three ounces, twelve thousand. He imposed upon silver folk twelve thousand, upon camel folk one hundred camels, upon gold folk one thousand dinars, upon cloth folk two hundred garments each worth five dinars, upon sheep folk one thousand sheep, upon goat folk two thousand goats, and upon cattle folk two hundred cows.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں دیت ایک سو اونٹ ہوتی تھی جو چار مختلف قسموں کی عمروں کے ہوتے تھے پچیس حقہ ہوتے تھے پچیس جذعہ ہوتے تھے پچیس بنت مخاض ہوتی تھیں اور پچیس بنت لبون ہوتی تھیں ۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا اور سلطنت پھیل گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سب کے پاس اونٹ نہیں ہوتے ہیں تو ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ مقرر کی گئی اور اس اعتبار سے دیت چار ہزار درہم قرار پائی ۔ پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹ کی قیمت کا تعین کرو اور وہ ڈیڑھ اوقیہ کرو تو اس اعتبار سے قیمت چھ ہزار درہم ہو گئی ، پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹوں کی قیمت کا تعین کرو تو ان کی قیمت تین اوقیہ مقرر کی گئی تو دیت بارہ ہزار درہم ہو گئی تو چاندی والوں پر بارہ ہزار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اونٹ والوں پر ایک سو اونٹوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور سونے کی شکل میں ادائیگی کرنے والوں پر ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور کپڑا تیار کرنے والوں پر دو سو حلوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی جن میں سے ہر ایک حلہ پانچ دینار کا ہو اور بھیڑ والوں پر ایک ہزار بھیڑوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور گائے والوں پر دو سو گائیوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ‘ اور ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

10773

Majma al-Zawaid #10773

وَعَنْ الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ عَلَى الْمَغَانِمِ، فَأَصَابَ رَجُلًا بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ مُنَقِّلَةً، فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shifa Umm Sulayman رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ employed Abu Jahm ibn Hudhayfah over spoils. He struck a man with his bow and made a bone-displacing wound. The Messenger of Allah ﷺ judged therein fifteen portions.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلیمان شفاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مال غنیمت کا عامل مقرر کیا انہوں نے ایک شخص کو کمان ماری اور اسے منقلہ زخم لگا دیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس میں پندرہ حصوں کی ادائیگی لازم قرار دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10774

Majma al-Zawaid #10774

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «لَمْ يَقْضِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ثَلَاثَ قَضِيَّاتٍ فِي الْآمَّةِ، وَالْمُنَقِّلَةِ، وَالْمُوضِحَةِ: فِي الْآمَّةِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسًا. وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ judged only three wound cases: for the skull-penetrating wound thirty-three, for the bone-displacing wound fifteen, and for the bone-exposing wound five. And the Messenger of Allah ﷺ judged in the eye of a beast a fourth of its price.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صرف تین فیصلے دیے ہیں آمہ نامی زخم منقلہ نامی زخم اور موضحہ نامی زخم آمہ زخم میں تینتیس اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی منقلہ میں پندرہ اونٹوں کی ادائیگی لازم ہو گی اور موضحہ میں پانچ کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے جانور کی آنکھ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ جانور کی قیمت کا ایک چوتھائی حصہ ادا کرنا لازم ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10775

Majma al-Zawaid #10775

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا، وَفِي الْيَدِ بِخَمْسِينَ فَرِيضَةً. قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ "" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ "" فَقَطْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ judged in fingers ten and ten, and in the hand fifty portions. In al-Sahih only the saying that fingers are equal is narrated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انگلیوں میں دس دس اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے اور ہاتھ میں پچاس اونٹوں کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس صحابی کے حوالے سے صرف انگلیوں کے بارے میں حکم منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10776

Majma al-Zawaid #10776

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: الْعَيْنَانِ سَوَاءٌ، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ، وَالْيَدَانِ سَوَاءٌ، وَالرِّجْلَانِ سَوَاءٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud, may Allah be pleased with him, stated concerning diyah, blood-money for injury: both eyes are equal, all fingers are equal, all teeth are equal, both hands are equal, and both feet are equal. That is, each member of a pair carries the same valuation, with the full diyah distributed equally over the pair. > **"Both eyes are equal, fingers are equal, teeth are equal, both hands are equal, and both feet are equal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دونوں آنکھیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں تمام دانت برابر کی حیثیت رکھتے ہیں دونوں ہاتھ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں دونوں پاؤں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ امام شعبی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10777

Majma al-Zawaid #10777

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: كُلُّ زَوْجَيْنِ فَفِيهِمَا الدِّيَةُ، وَكُلُّ وَاحِدٍ فَفِيهِ الدِّيَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Alqamah ibn Qays reported that Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, said: for every paired organ of the body, the full diyah lies in the two together, and for every single unpaired organ, the full diyah lies in it alone. This establishes the principle of diyah for zawjayn, paired limbs, and for wahid, solitary organs. > **"For every pair, in the two is the blood-money, and for every single organ, in it is the blood-money."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( جسم کا ) ہر وہ ( عضو ) جو جوڑے کی شکل میں ہو ‘ تو ان دونوں میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی اور ان میں سے ہر ایک میں مکمل دیت کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10778

Majma al-Zawaid #10778

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَقِيتُ عُمَرَ وَهُوَ بِالْمَوْسِمِ فَنَادَيْتُهُ مِنْ وَرَاءِ الْفُسْطَاطِ: أَلَا إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ الْجُرْمِيَّ، وَابْنَ أُخْتٍ لَنَا عَانٍ فِي بَنِي فُلَانٍ، وَقَدْ عَرَضْنَا عَلَيْهِ فَرِيضَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ جَانِبَ الْفُسْطَاطِ، وَقَالَ: أَتَعْرِفُ صَاحِبَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، هُوَ ذَاكَ. قَالَ: انْطَلِقَا بِهِ حَتَّى تُنَفِّذَ قَضِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ الْقَضِيَّةَ أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asim ibn Kulayb reported from his father that he met Umar, may Allah be pleased with him, at the seasonal gathering at Mina. He called out from behind the tent that he was so-and-so al-Jurmi and that a nephew of theirs was held captive among such-and-such tribe, and that they had offered them the faridah, obligatory compensation, of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. Umar lifted the side of the tent and asked if he knew his man, and when he confirmed it, ordered that they proceed with him so that the qadiyyah, judicial decision, of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, be carried out. The narrator added that they used to relate that the decreed compensation was four camels. > **"Do you know your man? Take him with you both so that the decision of the Messenger of Allah is carried out."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن کلیب نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میری ملاقات حج کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے خیمے کے پیچھے سے پکار کر کہا : خبردار ! میں فلاں بن فلاں جرمی ہوں اور ہمارا بھانجا ، فلاں شخص کے پاس قید ہے ‘ ہم نے اسے نبی اکرم ﷺ کا مقرر کردہ فریضہ پیش کیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیمے کا کونہ اٹھایا اور بولے کیا تم اپنے متعلقہ فرد کو جانتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں وہ وہاں ہیں تو انہوں نے فرمایا : پھر تم دونوں اس کو لے کر آؤ تاکہ ہم نبی اکرم ﷺ کے فیصلے کو نافذ کریں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ وہ ادائیگی چار اونٹوں کی تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10779

Majma al-Zawaid #10779

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: شِبْهُ الْعَمْدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said concerning shibh al-amd, quasi-intentional homicide: twenty-five hiqqah, camels in their fourth year, twenty-five jadhaah, camels in their fifth year, twenty-five bint makhad, young she-camels, and twenty-five bint labun, she-camels in their third year. This makes one hundred camels in graded ages. > **"Quasi-intentional killing requires twenty-five hiqqah, twenty-five jadhaah, twenty-five bint makhad, and twenty-five bint labun."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : شبہ عمد میں پچیس حقہ پچیس جذعہ پچیس بنت مخاض اور پچیس بنت لبون ادا کیے جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ‘ اور ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10780

Majma al-Zawaid #10780

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: فِي الْخَطَأِ عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ ابْنَةَ لَبُونٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim al-Nakhai reported that Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said concerning al-khata, accidental killing: twenty hiqqah, twenty jadhaah, twenty bint makhad, twenty ibn makhad, young male camels, and twenty bint labun. This totals one hundred camels divided into five equal age-groups. > **"For accidental killing: twenty hiqqah, twenty jadhaah, twenty bint makhad, twenty ibn makhad, and twenty bint labun."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے ’’ قتل خطاء میں بیس حقہ بیس جذعہ بیس بنت مخاض بیس ابن مخاض بیس بنت لبون ادا کیے جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔