وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «كَانَتِ الدِّيَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ: أَرْبَعَةُ أَسْنَانٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ». حَتَّى كَانَ عُمَرُ وَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُونَ الْإِبِلَ، فَتُقَوَّمُ الْإِبِلُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ: قَوِّمُوا الْإِبِلَ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا، فَكَانَتْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ: قَوِّمُوا الْإِبِلَ فَقُوِّمَتْ ثَلَاثَ أَوَاقٍ، فَكَانَتِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَجَعَلَ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ كُلُّ حُلَّةٍ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ، وَعَلَى أَهْلِ الضَّأْنِ أَلْفَ ضَائِنَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَعِزِ أَلْفَيْ مَاعِزَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Saib ibn Yazid رضي الله عنه reports that blood-money in the time of the Messenger of Allah ﷺ was one hundred camels of four ages: twenty-five hiqqah, twenty-five jadhaah, twenty-five daughters of makhad, and twenty-five daughters of labun. In the time of Umar, when the garrison towns were founded, Umar said not all people own camels. Camels were valued an ounce each, four thousand dirhams. Then camels rose, so Umar said value them an ounce and a half, six thousand dirhams. Then camels rose, so Umar said value them, and they were valued three ounces, twelve thousand. He imposed upon silver folk twelve thousand, upon camel folk one hundred camels, upon gold folk one thousand dinars, upon cloth folk two hundred garments each worth five dinars, upon sheep folk one thousand sheep, upon goat folk two thousand goats, and upon cattle folk two hundred cows.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں دیت ایک سو اونٹ ہوتی تھی جو چار مختلف قسموں کی عمروں کے ہوتے تھے پچیس حقہ ہوتے تھے پچیس جذعہ ہوتے تھے پچیس بنت مخاض ہوتی تھیں اور پچیس بنت لبون ہوتی تھیں ۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا اور سلطنت پھیل گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سب کے پاس اونٹ نہیں ہوتے ہیں تو ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ مقرر کی گئی اور اس اعتبار سے دیت چار ہزار درہم قرار پائی ۔ پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹ کی قیمت کا تعین کرو اور وہ ڈیڑھ اوقیہ کرو تو اس اعتبار سے قیمت چھ ہزار درہم ہو گئی ، پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹوں کی قیمت کا تعین کرو تو ان کی قیمت تین اوقیہ مقرر کی گئی تو دیت بارہ ہزار درہم ہو گئی تو چاندی والوں پر بارہ ہزار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اونٹ والوں پر ایک سو اونٹوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور سونے کی شکل میں ادائیگی کرنے والوں پر ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور کپڑا تیار کرنے والوں پر دو سو حلوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی جن میں سے ہر ایک حلہ پانچ دینار کا ہو اور بھیڑ والوں پر ایک ہزار بھیڑوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور گائے والوں پر دو سو گائیوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ‘ اور ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔