Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 30 · Chapter 1

Book of Blood Money

Hadith 10701–10740

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10701

Majma al-Zawaid #10701

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُونُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ إِلَّا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَلَمْ أَجِدْ لِأَبِي الزِّنَادِ ابْنًا اسْمُهُ الْقَاسِمُ، وَإِنَّمَا اسْمُهُ أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ said: > **"The Muslim is the brother of the Muslim. He does not betray him and does not forsake him. They are one hand against others. Their blood is equal, and the least of them strives to grant protection on their behalf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور وہ اسے رسوا نہیں کرتا مسلمان اپنے علاوہ سب کے لئے ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے خون برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ اور ان کی دی ہوئی پناہ کے بارے میں ہر شخص کوشش کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ روایت ابراہیم بن نافع کے حوالے سے صرف قاسم بن ابوزناد نے نقل کی ہے ‘ اور میں نے ابوزناد کا کوئی ایسا بیٹا نہیں پایا جس کا نام قاسم ہو اس راوی کا اصل نام ابوالقاسم بن ابوزنا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

10702

Majma al-Zawaid #10702

عَنْ سُلَيْمِ بْنِ أَسْوَدَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ: "" يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ "". قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sulaym ibn Aswad reports from a man of Banu Yarbu that he came to the Prophet ﷺ and heard him addressing the people, saying: > **"The giving hand is the upper hand. Spend on your mother and your father and your sister and your brother, then the nearest then the nearest."** A man said, O Messenger of Allah, these Banu Thalabah ibn Yarbu harmed so-and-so. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"No, no soul shall wrong another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیم بن اسود نے بنو یربوع سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سنا آپ ان کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : ’’ دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے تم اپنی ماں اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں پر خرچ کرو ) ‘‘ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع انہوں نے فلاں شخص کو نقصان پہنچایا ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار کوئی شخص کسی شخص کے خلاف زیادتی نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10703

Majma al-Zawaid #10703

وَعَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ «كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَجُلًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ ; أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُؤْخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of old Banu Tamim, in the time of Uthman رضي الله عنه, reported from his father that he met the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, write for me a document that I shall not be seized for the crime of another. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That is yours, and for every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب جن کا تعلق بنو تمیم کے پرانے افراد میں سے ہے ۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص کو اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ ان کی ملاقات ( یعنی دوسرے شخص کے والد کی ملاقات ) نبی اکرم ﷺ سے ہوئی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے تحریر لکھ دیں کہ مجھے کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چیز تمہیں حاصل ہے ‘ اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10704

Majma al-Zawaid #10704

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "" «لَا تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah ibn al-Yaman رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said in the Farewell Pilgrimage: > **"Do not turn back after me as disbelievers, striking the necks of one another. No man shall be seized for the crime of his brother, nor for the crime of his father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد دوبارہ کافر ہو کے ایک دوسرے کی گردنیں نہ اڑانے لگ جانا کوئی شخص اپنے بھائی کے جرم میں نہیں پکڑا جائے ۔ گا یا اپنے باپ کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10705

Majma al-Zawaid #10705

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَلَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reports that the Prophet ﷺ said: > **"Do not return after me as disbelievers, some of you striking the necks of others. No man shall be seized for the crime of his father, nor for the crime of his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد دوبارہ کافر ہو کے ایک دوسرے کی گردنیں نہ اڑانے لگ جانا کوئی شخص اپنے باپ کے جرم میں یا اپنے بھائی کے جرم کے بدلے میں نہیں پکڑا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10706

Majma al-Zawaid #10706

وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ; «أَنَّ أَبَاهُ مَالِكًا، وَعَمَّيْهِ عُبَيْدًا وَقَيْسًا بَنِي الْخَشْخَاشِ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْا إِلَيْهِ إِغَارَةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَمِّهِمْ عَلَى النَّاسِ. فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكٍ وَعُبَيْدٍ ; أَنَّكُمْ آمِنُونَ مُسْلِمُونَ بِأَمَانٍ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، لَا تُؤْخَذُونَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِكُمْ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْكُمْ إِلَّا أَيْدِيكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn Abi al-Hurr reports that his father Malik and his uncles Ubayd and Qays, sons of al-Khashkhash, came to the Prophet ﷺ and complained of a raid by a man of their cousins upon the people. The Messenger of Allah ﷺ wrote for them: > **"This is a document from Muhammad, the Messenger of Allah, for Malik and Ubayd. You are secure Muslims, with security for your blood and your property. You shall not be seized for the crime of another, and none shall wrong you except your own hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصین بن ابوحر بیان کرتے ہیں : ان کے والد مالک اور ان کے دو چچاؤں عبید اور قیس یہ سب خشخاش کے بیٹے ہیں یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے چچا زاد سے لوگوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوگوں پر ظلم کیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو مکتوب لکھا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ’’ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ( ﷺ ) کی جانب سے مالک اور عبید کے نام مکتوب ہے تم لوگ ایمان رکھنے والے مسلمان ہو اور تمہاری جانوں اور اموال کو امان حاصل ہے ‘ تو تم اپنے علاوہ کسی اور کے جرم میں نہیں پکڑے جاؤ گے اور کوئی تم پر زیادتی نہیں کرے گا البتہ تم خود جو کرو گے اس کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ روایت مرسل ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10707

Majma al-Zawaid #10707

عَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اشْهَدْ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Ghadiyah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed them on the day of al-Aqabah and said: > **"O people, your blood and your property are sacred to you until the day you meet your Lord, like the sanctity of this day of yours, in this land of yours, in this month of yours. Have I conveyed?"** They said, Yes. He said: > **"O Allah, bear witness. Do not return after me as disbelievers, some of you striking the necks of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوغادیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عقبہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ اے لوگو ! تمہاری جانیں تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اس دن تک کے لئے قابل احترام ہیں جب تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گے اور یہ تمہارے آج کے اس دن کی طرح قابل احترام ہیں جو تمہارے اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں ہے خبردار کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ ہو جا ( پھر آپ نے فرمایا : ) خبردار تم لوگ میرے بعد پھر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ‘‘۔

10708

Majma al-Zawaid #10708

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: بِيَمِينِكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، وَخَطَبَنَا يَوْمَ الْعَقَبَةِ» .... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَهُ طُرُقٌ فِي الْفِتَنِ، وَتَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ، وَطُرُقٌ فِي الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

In one narration the reporter says, I pledged the Messenger of Allah ﷺ and said, with your right hand. He said: > **"Yes."** Then he addressed them on the day of al-Aqabah with the same sermon.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی میں نے عرض کی : دائیں ہاتھ کے ذریعے ( یا آپ کی قسم کے ہمراہ ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں پھر آپ نے عقبہ کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس کے مختلف طرق فتنوں سے متعلق باب میں آئیں گے اس سے پہلے اس کے مختلف طرق حج کے موقع پر خطبوں سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ‘ اور کچھ طرق فتنوں والے باب میں آئیں گے ۔

10709

Majma al-Zawaid #10709

عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا ; لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قُتِلَ مَظْلُومًا فَتُصِيبُهُ السُّخْطَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «فَعَسَى أَنْ يُقْتَلَ مَظْلُومًا ; فَتَنْزِلَ السُّخْطَةُ عَلَيْهِمْ، فَتُصِيبَهُ مَعَهُمْ» "". وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kharashah ibn al-Hurr, who was among the Companions of the Prophet ﷺ, reports that the Prophet ﷺ said: > **"Let none of you witness a slain man, lest he have been killed unjustly and wrath befall the witness."** In another wording, a man may be killed unjustly and wrath descends upon those present and strikes the witness along with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں وہ نبی اکرم ﷺ یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کوئی بھی شخص کسی کے قتل ہونے کے وقت ہرگز موجود نہ ہو ‘ ہو سکتا ہے کہ اسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ‘ اور پھر اس ( موجود ہونے والے شخص ) تک بھی ناراضگی پہنچ جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ عنقریب ایسا ہو گا کہ کسی شخص کو مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جائے گا اور پھر ان لوگوں پر ناراضنگی نازل ہو گی اور ان لوگوں کے ساتھ اسے بھی لاحق ہو گی ( جو وہاں موجود تھا اگرچہ وہ قتل میں شریک نہیں تھا ) ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10710

Majma al-Zawaid #10710

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ مَوْقِفًا يُقْتَلُ فِيهِ رَجُلٌ ظُلْمًا، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ تَنْزِلُ عَلَى مَنْ حَضَرَهُ ; حَيْثُ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ، وَلَا يَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ مَوْقِفًا يُضْرَبُ فِيهِ رَجُلٌ ظُلْمًا ; فَإِنَّ اللَّعْنَةَ تَنْزِلُ عَلَى مَنْ حَضَرَهُ حِينَ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَسَدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: مَجْهُولٌ، وَمِنْدَلٌ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Let none of you stand in a place where a man is killed unjustly, for curse descends upon whoever is present and does not defend him. And let none of you stand in a place where a man is beaten unjustly, for curse descends upon whoever is present and does not defend him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی بھی شخص ایسی جگہ پر ہرگز نہ ٹھہرے جہاں کسی شخص کو ظلم کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو کیونکہ وہاں موجود لوگوں پر لعنت نازل ہو گی اور وہ ایسی ہو گی کہ جسے وہ پرے نہیں کر سکیں گے اور کوئی بھی شخص ایسی جگہ پر ہرگز نہ ٹھہرے جہاں ظلم کے طور پر کسی شخص کی پٹائی کی جا رہی ہو کیونکہ وہاں موجود لوگوں پر لعنت ہو گی جسے وہ پرے نہیں کر سکیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء ہے ازدی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ایک راوی مندل ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10711

Majma al-Zawaid #10711

عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى إِلَيَّ وِسَادَةً، وَقَالَ: لَوْلَا أَخِي جِبْرِيلُ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ. قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، أَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ: «مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ ; فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rifaah al-Qitbani reports that he entered upon al-Mukhtar, who offered him a cushion and claimed his brother Jibril had just risen from it. Rifaah intended to strike his neck, then remembered a hadith narrated to him by Amr ibn al-Hamiq رضي الله عنه, that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whichever believer grants a believer security for his blood and then kills him, I am free of the killer."** Ibn Majah narrates from the same Companion that such a killer shall carry a banner of treachery on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رفاعہ قتبانی بیان کرتے ہیں : میں مختار کے پاس آیا اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور بولا : اگر میرا بھائی جبریل اس کے پاس سے اٹھ کے ابھی نہ گیا ہوتا تو اسے میں تمہارے لئے رکھ دیتا رفاعہ کہتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑا دوں پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ‘ جو حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو مومن کسی دوسرے مومن کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے اور پھر اسے قتل کر دے ‘ تو میں ایسے قاتل سے لاتعلق ہوؤں گا ‘‘ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ جو شخص کسی شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ‘ تو وہ قیامت کے دن عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10712

Majma al-Zawaid #10712

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَأَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْقَاتِلِ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ كَثِيرَةٍ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn al-Hamiq رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever grants a man security for his blood and then kills him, I am free of the killer, even if the slain man was a disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ‘ تو میں قاتل سے بری الذمہ ہوں اگرچہ قتل ہونے والا شخص کافر ہی کیوں نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے کئی اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور ان میں سے ایک روایت ایسی ہے جس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10713

Majma al-Zawaid #10713

عَنْ رِفَاعَةَ أَنَّ صَاحِبًا لَهُ قَالَ: لَوِ انْطَلَقْنَا إِلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ; فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى نَصْرِ أَهْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقْنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَهْوِي إِلَيْهِ فِي الْخَوَرْنَقِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ سَيْفًا، فَدَعَا بِسَيْفٍ فِي عِلَاقٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَسْرَاجٍ، وَانْتَضَى السَّيْفَ فَجَرَى الْخَاتَمُ إِلَى أَدْنَاهُ ثُمَّ رَجَعَ الْخَاتَمُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ، فَأَخَذَهُ فَجَعَلَهُ فِي إِصْبَعِهِ، فَقُلْتُ: سَاحِرٌ وَاللَّهِ، فَأَهْوَيْتُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ فَذَكَرْتُ كَلِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ فَلَا تَقْتُلْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ وَهُوَ وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ رِفَاعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَارِثِيُّ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ، فَوَهِمَ فِي إِسْنَادِهِ، وَهُوَ هَذَا الْآتِي.

EnglishUnverified translation

Rifaah reports that a companion of his proposed visiting al-Mukhtar ibn Abi Ubayd, who claimed to aid the household of the Prophet ﷺ. They entered upon him at al-Khawarnaq while he sat. He showed them a sword in a sheath with rings, drew it, and a signet moved to its tip then returned to its hilt, and he placed it on his finger. The reporter thought him a sorcerer and reached for the sword hilt, but remembered the word of Sulayman ibn Mushir, from the Prophet ﷺ: > **"When a man grants you security, do not kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رفاعہ قتبانی بیان کرتے ہیں : ان کے ایک ساتھی نے کہا : اگر ہم مختار بن ابوعبید کے پاس جائیں تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کی مدد کرنے کی طرف دعوت دے رہا ہے ہم لوگ وہاں گئے ‘ خورنق ( نامی محل ) میں ‘ اس کے پاس آئے ‘ وہ بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کیا میں تم لوگوں کو تلوار نہ دکھاؤں پھر اس نے ایک تلوار منگوائی جو ایک میان میں تھی ‘ اور اس پر تین تہیں تھیں ‘ اس نے میان میں سے تلوار نکالی ‘ تو انگوٹی چل کر اس کے پاس آئی ، پھر وہ چل کر تلوار کی میان کی طرف گئی ‘ اس نے وہ لی اور اسے اپنی انگلی میں ڈال دیا میں نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ تو جادوگر ہے میں تلوار کے قبضے کی طرف جھکا لیکن پھر مجھے حضرت سلیمان بن مسہر رضی اللہ عنہ کی بات یاد آ گئی ‘ جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص تمہیں امان دیدے ‘ تو تم اسے قتل نہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابومسہر نے حضرت سلیمان بن مسہر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے ‘ اور یہ وہم ہے درست روایت وہ ہے جو سدی اور دیگر حضرات نے رفاعہ کے حوالے سے حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اسے عبداللہ بن میسرہ حارثی واسطی کے حوالے سے ابوعکاشہ کے حوالے سے رفاعہ سے نقل کیا ہے انہیں اس کی سند میں وہم ہوا ہے ‘ اور وہ روایت آگے آ رہی ہے ۔

10714

Majma al-Zawaid #10714

وَعَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْبَجَلِيَّ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقَالَ لَهُ الْمُخْتَارُ: انْصَرَفَ عَنِّي جِبْرِيلُ آنِفًا، قَالَ رِفَاعَةُ: فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَفَاعَةُ بْنُ صُرَدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَلَا يَقْتُلْهُ» "". قَالَ رِفَاعَةُ: وَقَدْ كُنْتُ أَمَّنْتُهُ عَلَى دَمِهِ، فَلَوْلَا ذَلِكَ لَحَزَزْتُ رَأْسَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَحَكَمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْسَرَةَ بِالْوَهْمِ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Ukkashah reports that Rifaah al-Bajali entered upon al-Mukhtar ibn Abi Ubayd, and al-Mukhtar said Jibril had just left him. Rifaah remembered a hadith narrated by Rifaah ibn Surad, that the Prophet ﷺ said: > **"Whichever man grants a man security for his blood, let him not kill him."** Rifaah said he had already granted al-Mukhtar security for his blood, and were it not for that he would have severed his head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعکاشہ بیان کرتے ہیں : رفاعہ بجلی مختار بن ابوعبید کے پاس آئے مختار نے ان سے کہا : ابھی جبریل میرے پاس سے اٹھ کے گئے ہیں رفاعہ کہتے ہیں : مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ‘ جو حضرت رفاعہ بن صرد رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دیدے ‘ تو وہ اسے قتل نہ کرے ‘‘۔ رفاعہ کہتے ہیں : میں مختار کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے چکا تھا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں نے اس کا سر اڑا دینا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے عبداللہ بن میسرہ پر یہ حکم عائد کیا ہے کہ اسے اس روایت میں وہم ہوا ہے ۔

10715

Majma al-Zawaid #10715

وَعَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever grants a man security and then kills him, Hell becomes due for him, even if the slain man was a disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص کسی کو امان دیدے اور پھر اسے قتل کر دے ‘ تو اس شخص کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے اگرچہ قتل ہونے والا شخص کافر ہی کیوں نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن احمد واسطی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10716

Majma al-Zawaid #10716

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، وَمَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى تَضْعِيفِهِ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لَهُ حَدِيثًا.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever claims kinship with other than his patrons, upon him is the curse of Allah and His wrath on the Day of Resurrection. Allah shall not accept from him any obligatory or voluntary deed. Whoever kills other than his killer, upon him is the curse of Allah and His wrath on the Day of Resurrection. Allah shall not accept from him any obligatory or voluntary deed. Whoever innovates an evil or shelters an innovator, upon him is the curse of Allah and His wrath on the Day of Resurrection. Allah shall not accept from him any obligatory or voluntary deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے موالی کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے قیامت کے دن اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب نازل ہو گا اللہ تعالیٰ اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور جو شخص اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی اس شخص پر لعنت اور اس کا غضب نازل ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے قیامت کے دن اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب نازل ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ترندی نے اس کی نقل کردہ ایک حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

10717

Majma al-Zawaid #10717

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ يُقَاتِلُ عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً، فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever fights under a banner, fighting for partisanship or aiding partisanship, his killing is that of ignorance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے جنگ کرے اور وہ عصبیت کی بنیاد پر جنگ کرے یا عصبیت کی مدد کرے تو اس کی لڑائی جاہلیت کی لڑائی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10718

Majma al-Zawaid #10718

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رَمْيًا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ عَصًا أَوْ سَوْطٍ، عَقْلُهُ عَقْلُ خَطَأٍ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَمْزَةُ النَّصِيبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever is killed in blind commotion, struck among them with a stone or a stick or a whip, his blood-money is that of mistake. Whoever is killed deliberately, it is retaliation. Whoever stands between it and justice, upon him is the curse of Allah and His wrath. Allah shall not accept from him any obligatory or voluntary deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی اجتماعی جھگڑے کے دوران پتھر یا عصا یا لاٹھی لگنے سے مر جائے ‘ تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی اور جس شخص کو عمد کے طور پر قتل کیا جائے تو اس میں قصاص لازم ہو گا جو شخص اس بارے میں رکاوٹ بنے گا اس پر اللہ تعالی کی لعنت اور اس کا غضب نازل ہو گا اللہ تعالٰی اس شخص کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ نصیبی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10719

Majma al-Zawaid #10719

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْعَمْدُ قَوَدٌ، وَالْخَطَأُ دِيَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Hazm رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: > **"Deliberate killing is retaliation, and mistaken killing is blood-money."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ قتل عمد میں قصاص لازم ہو گا اور قتل خطا میں دیت لازم ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابوالفضل ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے .

10720

Majma al-Zawaid #10720

وَعَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ الْعَمْدَ السِّلَاحُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ وَالصَّحَابَةِ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه and Ibn Masud رضي الله عنه said that deliberate killing is that done with a weapon.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ( یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : ) قتل عمد وہ ہے جو ہتھیار کے ذریعے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عبدالکریم جزری اور صحابہ کرام کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ‘ تاہم اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10721

Majma al-Zawaid #10721

وَبِسَنَدِهِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ شِبْهَ الْعَمْدِ الْحَجَرُ وَالْعَصَا.

EnglishUnverified translation

With the same chain, Ali رضي الله عنه and Ibn Masud رضي الله عنه said that quasi-deliberate killing is with a stone and a stick.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ( یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : ) ’’ شبہ عمد وہ ہے جو پتھر یا عصا کے ذریعے ہو ‘‘۔

10722

Majma al-Zawaid #10722

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ; أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: شِبْهُ الْعَمْدِ الْحَجَرُ وَالْعَصَا وَالسَّوْطُ وَالدَّفْعَةُ، وَكُلُّ شَيْءٍ عَمَدْتَهُ بِهِ، فَفِيهِ التَّغْلِيظُ فِي الدِّيَةِ، وَالْخَطَأُ أَنْ يَرْمِيَ شَيْئًا فَيُخْطِئَ بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Abd al-Rahman ibn Abi Layla reports that Ibn Masud رضي الله عنه said quasi-deliberate killing is with a stone and a stick and a whip and a shove, and in everything deliberately intended there is aggravated blood-money. Mistake is that a man throws something and it strikes wrongly.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ شبہ عمد پتھر یا عصا یا کوڑے یا دھکا دینے کے ذریعے ہوتا ہے ‘ اور ہر وہ چیز جس میں تم نے عمد کیا تھا اس میں دیت مغلظہ لازم ہو گی اور قتل خطا یہ ہے : کسی نے کوئی چیز پھینکی اور وہ غلطی سے ( مقتول کو ) لگ گئی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن ابولیلی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ابن ابولیلی تک اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10723

Majma al-Zawaid #10723

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: «اخْتَلَفَتْ سُيُوفُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَمَانِ أَبِي حُذَيْفَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَتَلُوهُ، وَلَا يَعْرِفُونَهُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَدِيَهُ، فَتَصَدَّقَ حُذَيْفَةُ بِدِيَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mahmud ibn Labid رضي الله عنه reports that on the day of Uhud the swords of the Muslims clashed over al-Yaman, the father of Hudhayfah, and killed him without recognizing him. The Messenger of Allah ﷺ wished to pay his blood-money, so Hudhayfah رضي الله عنه gave his blood-money as charity to the Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرائیں جس کے نتیجے میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حضرت والد یمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے لیکن یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کس کی تلوار لگنے سے ایسا ہوا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی دیت دینے کا ارادہ کیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ان کی دیت معاف کر دی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ‘ اور ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10724

Majma al-Zawaid #10724

«عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ، فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، ثُمَّ تَعَلَّقَ بِآخَرَ حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً، فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ. فَقَامَ أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآَخَرِ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتُلُوهُ، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ، إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ، وَإِلَّا حَجَرَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَكُونَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَقَّ لَهُ. اجْمَعُوا لِي مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ، رُبُعَ الدِّيَةِ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ لِأَنَّهُ هَلَكَ مِنْ فَوْقِهِ، وَالثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَالثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا. فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: "" أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ "". وَاحْتَبَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen. They came to people who had dug a pit-trap for a lion. While they crowded around it pushing one another, a man fell and clung to another, who clung to another, until four fell in. The lion wounded them, a man with a spear killed the lion, and all four died of their wounds. The kin of the first rose against the kin of the next with weapons. Ali عليه السلام came upon them and said: > **"Do you wish to fight while the Messenger of Allah is alive. I shall judge between you. If you accept, it is the judgment, otherwise restrain one another until you come to the Messenger of Allah and he judges between you. Whoever transgresses after that has no right. Gather for me from the tribes that dug the well a quarter, a third, a half, and a full blood-money. For the first a quarter, for the second a third, for the third a half."** They refused to accept. They came to the Prophet ﷺ as he stood by the Station of Ibrahim and told him the story. He said: > **"I shall judge between you."** He sat gathered in his cloak. A man said Ali had already judged among them. They told him, and the Messenger of Allah ﷺ confirmed the judgment of Ali.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یمن بھیجا میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس آیا جنہوں نے شیر کے لئے گڑھا تیار کیا تھا ۔ ابھی وہ وہاں موجود تھے کہ اسی دوران وہ ایک دوسرے کو پرے کرنے لگے ان میں سے ایک شخص ( گڑھے میں گرنے لگا ۔ اس نے دوسرے کو پکڑ لیا دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا یہاں تک کہ چار افراد اس میں سے گر گئے شیر نے آ کے ان کو زخمی کیا تو باقی لوگوں میں سے ایک نے نیزہ پکڑا اور شیر کو مار دیا وہ چاروں لوگ اس شیر کے زخمی کرنے کی وجہ سے مر گئے پہلے شخص کے پسماندگان دوسرے شخص کے پسماندگان کے پاس آئے اور انہوں نے ہتھیار نکال لئے تاکہ اسے قتل کر دیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے یہ اس واقعہ کے فوراً بعد کی بات ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم ایک دوسرے کو قتل کر دو حالانکہ نبی اکرم ﷺ تمہارے درمیان زندہ ہیں میں تم لوگوں کو فیصلہ دیتا ہوں اگر تم لوگ اس سے راضی ہو گئے تو یہی فیصلہ شمار ہو گا ورنہ پھر تم ایک دوسرے کو تصرف سے روک دینا اور پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس جانا نبی اکرم ﷺ تمہارے درمیان فیصلہ کریں گے کیونکہ اس کے علاوہ اس کی کوئی صورت نہیں ہے جن قبائل کے لوگ اس گڑھے کو کھودنے میں شریک تھے تم ان سے ایک ‘ ایک چوتھی دیت ایک ‘ ایک تہائی دیت ایک ‘ ایک نصف دیت اور ایک مکمل دیت جمع کر کے مجھے دو پہلے شخص کو ایک چوتھائی دیت ملے گی کیونکہ اس نے اپنے اوپر والے شخص کو ہلاکت کا شکار کیا ۔ دوسرے کو ایک تہائی دیت ملے گی تیسرے کو نصف دیت ملے گی ان لوگوں نے اس بات سے راضی ہونے سے انکار کر دیا پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ اس وقت مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں پھر آپ احتباء کے طور پر تشریف فرما ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فیصلہ دیا ہے پھر انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا ۔

10725

Majma al-Zawaid #10725

وَفِي رِوَايَةٍ: وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حَنَشٌ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In one narration, the fourth shall have the full blood-money.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : چوتھے شخص کو مکمل دیت ملے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حنش ہے ‘ جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10726

Majma al-Zawaid #10726

وَعَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ «أَنَّهُمُ احْتَفَرُوا بِئْرًا بِالْيَمَنِ فَسَقَطَ فِيهَا الْأَسَدُ، فَأَصْبَحُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَقَعَ رَجُلٌ فِي الْبِئْرِ فَتَعَلَّقَ بِرَجُلٍ فَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ فَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ حَتَّى كَانُوا أَرْبَعَةً فَسَقَطُوا فِي الْبِئْرِ جَمِيعًا فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ، فَتَنَاوَلَهُ رَجُلٌ بِرُمْحِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ لِلْأَوَّلِ: أَنْتَ قَتَلْتَ أَصْحَابَنَا وَعَلَيْكَ دِيَتُهُمْ، فَأَتَى أَصْحَابُهُ فَكَادُوا يَقْتَتِلُونَ، فَقَدِمَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ فَمَنْ رَضِيَ مِنْكُمْ جَازَ عَلَيْهِ رِضَاهُ، وَمَنْ سَخِطَ مِنْكُمْ فَلَا حَقَّ لَهُ حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقْضِيَ بَيْنَكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَاجْمَعُوا مِمَّنْ حَفَرَ الْبِئْرَ مِنَ النَّاسِ رُبُعَ دِيَةٍ وَثُلُثَ دِيَةٍ وَدِيَةً تَامَّةً. لِلْأَوَّلِ رُبُعُ دِيَةٍ لِأَنَّهُ هَلَكَ فَوْقَهُ ثَلَاثَةٌ. وَلِلثَّانِي ثُلُثُ دِيَةٍ لِأَنَّهُ هَلَكَ فَوْقَهُ اثْنَانِ. وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ دِيَةٍ لِأَنَّهُ هَلَكَ فَوْقَهُ وَاحِدٌ. وَلِلْآخِرِ الدِّيَةُ التَّامَّةُ. فَإِنْ رَضِيتُمْ فَهَذَا بَيْنَكُمْ قَضَاءٌ، وَإِنْ لَمْ تَرْضَوْا فَلَا حَقَّ لَكُمْ حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". وَهُوَ جَالِسٌ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى بَيْنَنَا، فَقَالَ: "" كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟ "". فَقَصُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" هُوَ مَا قَضَى بَيْنَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: وَلَمْ يَقُلْ عَنْ عَلِيٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Hanash ibn al-Mutamir reports that they dug a well in Yemen and a lion fell in. In the morning they looked at it. A man fell toward the well and clung to a man, who clung to another, who clung to another, until they were four, and all fell in together. The lion wounded them, and a man struck it with his spear and killed it. The people said to the first, you killed our companions and owe their blood-money. The parties nearly fought. Ali رضي الله عنه arrived and said: > **"I shall judge between you. Whoever of you accepts, his acceptance stands, and whoever is displeased has no right until you come to the Messenger of Allah and he judges between you."** They said, Yes. He said, gather from those who dug the well a quarter blood-money, a third, a half, and a full blood-money. For the first a quarter since three perished above him, for the second a third since two perished above him, for the third a half since one perished above him, and for the last the full blood-money. He said: > **"If you accept, this is the judgment between you. If you do not accept, you have no right until you come to the Messenger of Allah."** They came to the Messenger of Allah ﷺ the next year and told him. He said: > **"I shall judge between you, if Allah wills."** He sat at the Station of Ibrahim. A man stood and said Ali had judged between them. He said: > **"How did he judge between you."** They told him, and he said: > **"It is as he judged between you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حنش بن معتمر بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے یمن میں ایک کنواں کھودا جس میں شیر گر گیا وہ لوگ شیر کو دیکھنے لگے ان میں سے ایک شخص کنویں میں گرنے لگا ‘ تو اس نے دوسرے کو پکڑ لیا دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا تیسرے نے چوتھے کو پکڑ لیا یہاں تک کہ وہ چار افراد ہو گئے اور وہ سب کنویں میں گر گئے شیر نے انہیں زخمی کیا ایک شخص نے اپنا نیزہ شیر کو مار کر اسے قتل کر دیا لوگوں نے پہلے شخص ( کے پسماندگان ) سے کہا : تم نے ہمارے ساتھیوں کو قتل کیا ہے ‘ تو ان کی دیت تم پر لاگو ہو گی پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اس بات پر ان کا جھگڑا ہونے لگا اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ دیتا ہوں تم میں سے جو شخص اس سے راضی ہو گا ، تو اس کی رضامندی کی بنیاد پر اس کو برقرار رکھا جائے گا ‘ اور اگر کوئی شخص اس سے ناراض ہو گا ‘ تو اسے کوئی حق نہیں ہو گا اور اسے پہلے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانا پڑے گا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ تمہارے درمیان اس بارے میں فیصلہ کریں گے لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جن لوگوں نے بھی کنویں کی کھدائی میں حصہ لیا تھا ان افراد سے ان لوگوں نے ایک چوتھائی دیت ایک ‘ ایک تہائی دیت ایک نصف دیت اور ایک مکمل دیت لی پہلے شخص کو ایک چوتھائی دیت دی گئی کیونکہ وہ باقی تین سے پہلے ہلاکت کا شکار ہوا تھا دوسرے کو ایک تہائی دیت دی گئی کیونکہ اس کے اوپر دو افراد تھے تیسرے کو نصف دیت دی گئی کیونکہ اس کے اوپر بھی ایک شخص ہلاکت کا شکار ہوا تھا اور آخری شخص کو مکمل دیت دی گئی اگر تم لوگ اس سے راضی ہو ‘ تو ٹھیک ہے ‘ اور اگر تم راضی نہیں ہو ‘ تو تمہیں کوئی حق نہیں ہے جب تک تم نبی اکرم ﷺ کے پاس نہیں جاتے ۔ وہ لوگ اگلے سال نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں گا اس وقت نبی اکرم ﷺ مقام ابراہیم کے پاس تشریف فرما تھے ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان ایک فیصلہ دے چکے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے تمہارے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے ؟ ان لوگوں نے پوری بات سنائی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فیصلہ وہی ہو گا جو اس نے تمہارے بارے میں دیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آخر میں یہ کہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

10727

Majma al-Zawaid #10727

عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: «رَمَى رَجُلٌ أَخًا لَهُ فَقَتَلَهُ فَفَرَّ، فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَقَادَنَا مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mirdas ibn Urwah reports that a man shot his brother and killed him, then fled. They found him with Abu Bakr رضي الله عنه and brought him to the Messenger of Allah ﷺ, who granted them retaliation against him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مرداس بن عروہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے بھائی کو تیر مار کر اسے قتل کر دیا پھر وہ بھاگ کھڑا ہوا ہم نے اسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پایا ہم اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس سے بدلہ دلوایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10728

Majma al-Zawaid #10728

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُقَادَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ forbade retaliation upon a slave against two men.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ دو آدمیوں کے مقابلے میں کسی غلام سے بدلہ لیا جائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10729

Majma al-Zawaid #10729

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي، فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ فَرْجِي فَقَالَ لَهَا عُمَرُ: هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَاعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ عُمَرُ: عَلَيَّ بِهِ. فَلَمَّا أَتَى عُمَرَ الرَّجُلُ، قَالَ: أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِهَا، قَالَ: رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَاعْتَرَفَتْ لَكَ بِهِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ «أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ» "" لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ. فَبَرَّزَهُ فَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ ثُمَّ قَالَ: اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ، وَأَنْتِ مُوَلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، «أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ حُرِّقَ بِالنَّارِ أَوْ مُثِّلَ بِهِ، فَهُوَ حُرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عِيسَى الْقُرَشِيُّ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَبَيَّضَ لَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that a slavegirl came to Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه and said her master accused her and seated her upon fire until her private part burned. Umar asked whether he saw it upon her or she confessed to him, and she said no to both. Umar summoned him and said, do you punish with the punishment of Allah. The man said he suspected her of misconduct without sight or confession. Umar said, by Him in whose hand is my soul, were it not that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"No slave shall be retaliated against his master, nor a child against his father."** I would have granted her retaliation against you. Then he brought him forth and struck him one hundred lashes, and said to her, go, you are free for the sake of Allah, a freedwoman of Allah and His Messenger. He said, I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever is burned with fire or mutilated is free, and he is the freedman of Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک لڑکی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی میرے مالک نے مجھ پر تہمت عائد کی ‘ اور اس نے مجھے آگ پر بٹھا دیا جس کے نتیجے میں میری شرمگاہ جل گئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کنیز سے فرمایا : کیا اس نے تمہیں کچھ کرتے ہوئے دیکھا تھا اس نے کہا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کے سامنے کسی جرم کا اعتراف کیا تھا اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے میرے پاس لایا جائے اس شخص کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم اللہ کے عذاب کی طرح عذاب دیتے ہو اس نے عرض کی : اے امیر المومنین میں نے اس کی ذات کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا اس نے تمہارے سامنے اعتراف کیا تھا اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : ’’ غلام کو اس کے مالک سے اور بچے کو اس کے باپ سے بدلہ نہیں دلوایا جائے گا ‘‘۔ تو میں نے اس عورت کو تم سے بدلہ دلوانا تھا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے لوگوں کے سامنے لے کر آئے اور اسے ایک سو کوڑے لگوائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( کنیز سے فرمایا : ) تم جاؤ ! تم اللہ کی ذات کی خاطر آزاد ہو اور تم اللہ اور اس کے رسول کی آزاد کی ہوئی کنیز ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جسے آگ کے ذریعے جلایا جائے یا جس کا مثلہ کیا جائے تو وہ آزاد شمار ہو گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ شمار ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عیسیٰ قرشی ہے جس کا ذکر امام ذہبی نے ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ‘ اور انہوں نے اس راوی کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے ۔ انہوں نے اس کے حالات نقل کیے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10730

Majma al-Zawaid #10730

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: «أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ مَعَ غُلَامٍ لَهُ جَارِيَةً لَهُ، فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ؟ "". قَالَ: زِنْبَاعٌ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ "". فَقَالَ: كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبْدِ: "" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَوْلَى مَنْ أَنَا؟ فَقَالَ: "" مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ "" فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُسْلِمِينَ». فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، تَجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عَيَالِكَ، فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ، فَقَالَ: وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: مِصْرَ فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا. قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِتْقِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As رضي الله عنهما reports that Zinba Abu Rawh found his slavegirl with his male slave, so he cut off his nose and mutilated him. The slave came to the Prophet ﷺ, who asked: > **"Who did this to you."** He said Zinba. The Prophet ﷺ summoned him and said: > **"What carried you to this."** He mentioned the conduct of the slave. The Prophet ﷺ said to the slave: > **"Go, for you are free."** The slave asked, O Messenger of Allah, whose freedman am I. He said: > **"A freedman of Allah and His Messenger."** The Messenger of Allah ﷺ commended him to the Muslims. After the death of the Messenger of Allah ﷺ he came to Abu Bakr رضي الله عنه invoking the bequest of the Messenger of Allah ﷺ, and Abu Bakr granted maintenance for him and his dependents until Abu Bakr died. Then under Umar رضي الله عنه he asked the same, and Umar asked where he wished to go. He said Egypt, so Umar wrote to the governor of Egypt to grant him land to live from.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زنباع ابوروح نے اپنے غلام کے ساتھ اپنی کنیز کو پایا تو اپنے غلام کی ناک کاٹ دی اور اس کی شرمگاہ کاٹ دی وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے اس غلام نے بتایا کہ زنباع نے نبی اکرم ﷺ نے زنباع کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا اس نے بتایا کہ اس غلام نے یہ یہ جرم کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے غلام سے فرمایا : تم جاؤ تم آزاد ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس کا آزاد کردہ غلام شمار ہوؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کے آزاد کردہ شمار ہو گے پھر نبی اکرم ﷺ نے اس غلام کے بارے میں مسلمانوں کو تلقین کی جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو وہ غلام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کے مطابق کچھ کیجئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں خرچ ملے گا تمہارے گھر والوں کو خرچ ملے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا خرچ مقرر کیا یہاں تک کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا اللہ کے رسول کی وصیت کے بارے میں ( آپ کیا کریں گے ) ۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا : میں مصر جانا چاہتا ہوں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کے نام خط لکھا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جہاں سے وہ کھا پی سکے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غلام آزاد کرنے سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ۔

10731

Majma al-Zawaid #10731

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «رَغَّبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجِهَادِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَاجْتَمَعُوا عَلَيْهِ حَتَّى غَمُّوهُ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرِيدَةٌ قَدْ نُزِعَ سِلَاهَا، وَبَقِيَتْ سِلَاءَةٌ لَمْ يَفْطِنْ بِهَا، فَقَالَ: "" أَخِّرُوا عَنِّي - هَكَذَا - فَقَدْ غَمَمْتُمُونِي "". فَأَصَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَطْنَ رَجُلٍ فَأَدْمَى الرَّجُلَ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: هَذَا فِعْلُ نَبِيِّكَ، فَكَيْفَ بِالنَّاسِ؟ فَسَمِعَهُ عُمَرُ، فَقَالَ: انْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كَانَ هُوَ أَصَابَكَ لَيُعْطِيَنَّكَ الْحَقَّ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ لَأُرْغِمَنَّكَ بِعَمَاءٍ مِنْكَ حَتَّى تُحْدِثَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: انْطَلِقْ بِسَلَامٍ، فَلَسْتُ أُرِيدُ أَنْ أَنْطَلِقَ مَعَكَ، قَالَ: مَا أَنَا بِوَادِعِكَ. فَانْطَلَقَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَصَبْتَهُ، وَأَدْمَيْتَ بَطْنَهُ، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَحَقًّا أَنَا أَصَبْتُهُ؟ "". قَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: "" هَلْ رَأَى ذَلِكَ أَحَدٌ؟ "". قَالَ: قَدْ كَانَ هَاهُنَا نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ "". "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْهَدُ بِشِهَادَةِ رَجُلٍ رَأَى ذَلِكَ إِلَّا أَخْبَرَنِي "" فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ دَمَيْتَهُ وَلَمْ تُرْدِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُذْ لِمَا أَصَبْتُكَ مَالًا وَانْطَلِقْ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَهَبْ لِي ذَلِكَ "". قَالَ: لَا أَفْعَلُ، قَالَ: "" فَتُرِيدُ مَاذَا؟ "" قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَسَتَقِيدَ مِنْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "". فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: اخْرُجْ مِنْ وَسَطِ هَؤُلَاءِ، فَخَرَجَ مِنْ وَسَطِهِمْ، وَأَمْكَنَ الرَّجُلَ مِنَ الْجَرِيدَةِ ; لِيَسْتَقِيدَ مِنْهُ، فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ، فَجَاءَ عُمَرُ لِيُمْسِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَلْفِهِ، فَقَالَ: "" أَرِحْنَا عَثَرْتَ بِنَعْلِكَ وَانْكَسَرَتْ أَسْنَانُكَ "". فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ لِيَطْعَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى الْجَرِيدَةَ، وَقَبَّلَ سُرَّتَهُ وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا أَرَدْتُ لِكَيْمَا نَقْمَعُ الْجَبَّارِينَ مِنْ بَعْدِكَ. فَقَالَ عُمَرُ: لَأَنْتَ أَوْثَقُ عَمَلًا مِنِّي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ urged jihad one day and the people crowded over him until they pressed him. In the hand of the Messenger of Allah ﷺ was a palm-stalk stripped of thorns except one overlooked thorn. He said: > **"Move back from me like this, for you have pressed me."** The stalk struck a man's belly and drew blood. The man went out saying, this is the deed of your Prophet, so how should others behave. Umar رضي الله عنه heard him and said, go to the Prophet ﷺ. If he struck you he will give you your right, and if you lied I shall humiliate you. The man refused to go, but Umar brought him to the Prophet of Allah ﷺ and said he claims you struck him and drew blood from his belly. The Prophet ﷺ said: > **"Is it true that I struck you."** The man said, yes, O Prophet of Allah. He said: > **"Did anyone see that."** Muslims said, O Messenger of Allah, you drew his blood without intending it. The Prophet ﷺ said: > **"Take wealth for what I caused you and go."** He said no. He said: > **"Then grant it to me."** He said he would not. He said: > **"Then what do you want."** He said, I wish to retaliate against you, O Prophet of Allah. The Prophet ﷺ said: > **"Yes."** The man said, come out from among them. He came out and gave the man the stalk to retaliate. The man uncovered his belly, then kissed it and said, I forgive, hoping for intercession thereby. The Prophet ﷺ praised him and gave him compensation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے جہاد کے بارے میں ترغیب دی تو لوگ آپ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے یہاں تک کہ بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے پتے وغیرہ اتار لیے گئے تھے اور صرف چھڑی باقی تھی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھ سے پیچھے ہو جاؤ تم لوگوں نے مجھے ڈھانپ لیا ہے اس دوران نبی اکرم ﷺ کی چھڑی کسی شخص کے پیٹ پر لگی اور اس شخص کا خون نکل آیا ، تو وہ شخص یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ یہ تمہارے نبی کا طرز عمل ہے ‘ تو لوگوں کا کیا حال ہو گا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی تو انہوں نے فرمایا : تم نبی اکرم ﷺ کے پاس چلو اگر انہوں نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے ‘ تو وہ تمہیں حق دیں گے اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہو گا تو میں تمہارے عمامے کے ساتھ تمہیں گھسیٹوں گا یہاں تک کہ تم اصل بات بیان کرو اس شخص نے کہا : تم آرام سے چلو میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے اسے تکلیف پہنچائی ہے جس کے نتیجے اس کے پیٹ سے خون نکلنے لگا ہے آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ میں نے اسے تکلیف پہنچائی ہے اس شخص نے کہا : جی ہاں اے اللہ کے نبی ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کسی نے یہ بات دیکھی ہے راوی بیان کرتے ہیں : ہم بہت سے مسلمان موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ میں ایک شخص کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں گا جس نے ایسا دیکھا ہو اگر کسی نے دیکھا ہے ‘ تو وہ مجھے اس بارے میں بتائے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی وجہ سے اس کا خون نکل آیا تھا حالانکہ آپ نے اسے تکلیف پہنچانے کا ارادہ نہیں کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے جو تمہیں تکلیف پہنچائی ہے تم اس کے بدلے میں مال لے لو اور چلے جاؤ اس نے کہا : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اسے میری خاطر چھوڑ دو اس نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا پھر تم کیا چاہتے ہو اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے بدلہ لینا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ ان لوگوں کے درمیان سے باہر آ جائیں نبی اکرم ﷺ ان لوگوں سے باہر آ گئے آپ نے اس شخص کو وہ چھڑی دی تاکہ وہ اس کے ذریعے آپ سے بدلہ لے اور خود اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تاکہ نبی اکرم ﷺ کو پیچھے سے روکیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہمیں چھوڑ دو تمہارے جوتے کو ٹھوکر لگے اور تمہارے دانت ٹوٹ جائیں جب وہ شخص چبھونے کے لئے قریب ہوا تو اس نے چھڑی رکھ دی اور نبی اکرم ﷺ کی ناف کا بوسہ لیا اور بولا اے اللہ کے نبی ! میرا یہی ارادہ تھا تاکہ آپ کے بعد میں ظالم حکمرانوں کا قلع قمع کر دوں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا عمل میرے مقابلے میں زیادہ قابل وثوق ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10732

Majma al-Zawaid #10732

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: «طَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فِي بَطْنِهِ إِمَّا بِقَضِيبٍ وَإِمَّا بِسِوَاكٍ، فَقَالَ: أَوْجَعْتَنِي فَأَقِدْنِي، فَأَعْطَاهُ الْعُودَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ، فَقَالَ: "" اسْتَقِدْ "". فَقَبَّلَ بَطْنَهُ، ثُمَّ قَالَ: بَلْ أَعْفُو لَعَلَّكَ أَنْ تَشْفَعَ لِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Jubayr al-Khuzai رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ poked a man in the belly with a rod or a siwak. The man said, you hurt me, grant me retaliation. He gave him the stick and said: > **"Take retaliation."** The man kissed his belly and said, rather I forgive, that you may intercede for me thereby on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جبیر خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے پیٹ میں کوئی چیز چبھوئی جو چھڑی تھی یا شاید مسواک تھی اس نے کہا : آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے آپ مجھے بدلہ دیئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے وہ چھڑی اسے دی جو آپ کے پاس تھی اور آپ نے فرمایا : تم بدلہ لے لو اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پیٹ پر بوسہ دیا اور پھر عرض کی : میں درگزر کرتا ہوں تاکہ آپ اس کی وجہ سے قیامت کے دن میری شفاعت کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10733

Majma al-Zawaid #10733

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: لَطَمَ ابْنُ عَمِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَجُلًا مِنَّا، فَخَاصَمَهُ عَمُّهُ إِلَى خَالِدٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ لِوُجُوهِكُمْ فَضْلًا عَلَى وُجُوهِنَا إِلَّا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: اقْتَصَّ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ أَخِيهِ: الْطِمْ، فَلَمَّا رَفَعَ يَدَهُ، قَالَ: دَعْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Shihab reports that the cousin of Khalid ibn al-Walid slapped a man of theirs. His uncle disputed with him to Khalid and said, O company of Quraysh, Allah did not give your faces merit over ours except by what Allah favored His Prophet ﷺ with. Khalid ibn al-Walid رضي الله عنه said, retaliate. The man told his nephew, slap back. When he raised his hand, the uncle said, leave it for Allah Almighty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چچا زاد نے ہم میں سے کسی ایک کو تھپڑ مار دیا اس شخص کا چچا اپنا مقدمہ لے کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا اے قریش کے گروہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے چہروں کو ہمارے چہروں پر فضیلت نہیں دی ہے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو صرف اپنے نبی کے حوالے سے فضیلت دی ہے ‘ تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بدلہ لے لو اس شخص نے اپنے بھتیجے سے کہا : تم بھی تھپڑ مارو جب اس شخص نے اپنا ہاتھ بلند کیا تو اس شخص نے کہا : اسے اللہ کی خاطر چھوڑ دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10734

Majma al-Zawaid #10734

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «وُجِدَ قَتِيلٌ أَوْ مَيِّتٌ بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَرَعَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَيُّهُمَا كَانَ أَقْرَبَ فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى أَحَدِهِمَا بِشِبْرٍ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهُ عَلَى الَّذِي كَانَ أَقْرَبَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said رضي الله عنه reports that a slain man, or a dead man, was found between two villages. The Messenger of Allah ﷺ commanded measuring between the two villages to see which was nearer. He was found nearer to one by a span, and the reporter said it is as if he still looks at the span of the Messenger of Allah ﷺ. He assigned liability upon the nearer one.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو بستیوں کے درمیان ایک شخص مقتول ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میت کے طور پر پایا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا دونوں بستیوں کے درمیان پیمائش کی گئی کہ وہ شخص کون سی بستی کے زیادہ قریب ہے ‘ تو وہ ان دونوں بستیوں میں سے ایک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا راوی بیان کرتے ہیں : گویا میں اس وقت بھی نبی اکرم ﷺ کی بالشت کی طرف دیکھ رہا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا معاملہ ان لوگوں کے خلاف قرار دیا جس ( بستی ) کے وہ زیادہ قریب تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10735

Majma al-Zawaid #10735

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الدَّمِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَذَلِكَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُقِدَ تَحْتَ اللَّيْلِ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا: إِنَّ صَاحِبَنَا يَتَشَخَّطُ فِي دَمِهِ. فَقَالَ: "" تَعْرِفُونَ قَاتِلَهُ؟ "". قَالُوا: لَا، إِلَّا أَنَّ قَتَلَتْهُ يَهُودُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا فَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ، ثُمَّ خُذُوا مِنْهُمُ الدِّيَةَ "". فَفَعَلُوا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَامِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه reports that qasamah in blood occurred on the day of Khaybar. A man of the Ansar among the Companions of the Prophet ﷺ was missing by night. The Ansar came and said their companion lay weltering in his blood. He said: > **"Do you know his killer."** They said no, except that the Jews killed him. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Choose fifty men of them to swear by Allah their strongest oaths, then take the blood-money from them."** They did so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر ایک قتل کے بارے میں قسامت ہوئی تھی اس کی صورت یوں ہوئی کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب رات کے وقت غیر موجود پائے گئے انصار آئے اور انہوں نے بتایا کہ ہمارا ساتھی خون میں لت پت ( مقتول ) ملا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ اس کے قاتل سے واقف ہو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں البتہ یہودیوں نے انہیں قتل کیا ہو گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ ان میں سے پچاس افراد کو منتخب کرو وہ اللہ کے نام پر یہ قسم اٹھائیں اور پھر تم ان سے دیت وصول کر لینا تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یامین ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10736

Majma al-Zawaid #10736

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حِجَازًا بَيْنَ النَّاسِ، فَكَانَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ أَثِمَ فِيهَا، أُرِيَ عُقُوبَةً مِنَ اللَّهِ يُنَكِّلُ بِهَا عَنِ الْجَرْأَةِ عَلَى الْمَحَارِمِ، فَكَانُوا يَتَوَرَّعُونَ عَنْ أَيْمَانِ الصَّبْرِ وَيَخَافُونَهَا. فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ هُمْ أَهْيَبَ لَهَا، لِمَا عَلَّمَهُمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو حَارِثَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْ مُحَيِّصَةَ، فَأَنْكَرَتِ الْيَهُودُ. فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَهُودَ لِقَسَامَتِهِمْ، لِأَنَّهُمُ الَّذِينَ ادَّعَوُا الدَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا كَبِيرًا مَنْ قَتَلَهُ. فَنَكَلَتْ يَهُودُ عَنِ الْأَيْمَانِ. فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي حَارِثَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ غِيلَةً، وَيَسْتَحِقُّونَ بِذَلِكَ الَّذِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ الَّذِي قَتَلَ صَاحِبَهُمْ، فَنَكَلَتْ بَنُو حَارِثَةَ عَنِ الْأَيْمَانِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، وَفِي دِيَارِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that qasamah in ignorance was a restraint between people. Whoever swore a binding oath falsely and sinned therein was shown a punishment from Allah deterring boldness toward sacred things, so they feared binding oaths. When Allah sent Muhammad ﷺ with qasamah, the Muslims feared it more for what they had learned. The Messenger of Allah ﷺ judged with qasamah between two clans of the Ansar called Banu Harithah, for the Jews had killed Muhayyisah and the Jews denied it. The Prophet ﷺ called the Jews to qasamah since they claimed the blood, and commanded them that fifty leading men swear fifty oaths as to who killed him. The Jews refused the oaths. Then the Messenger of Allah ﷺ called Banu Harithah and commanded them that fifty men swear fifty oaths that the Jews killed him treacherously, thereby establishing their claim against the accused. Banu Harithah also refused the oaths. When the Messenger of Allah ﷺ saw that, he imposed his blood-money upon the Jews, since he was found among them and in their dwellings.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں قسامت لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہوتی تھی اس میں ہوتا یہ تھا کہ جب کوئی شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھاتا تھا اور اس قسم اٹھانے میں گناہ گار ہوتا تھا ‘ تو یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ اب اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی جس کے ذریعے اسے اس بات کی سزا دی جائے گی کہ اس نے حرمت والے کام کے حوالے سے جرات کی ہے ‘ تو وہ لوگ جھوٹی قسم اٹھانے سے پرہیز کرتے تھے اور اس سے خوف زدہ رہتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قسامت کے حکم کے ہمراہ مبعوث کیا ( یعنی آپ کو اس بارے میں حکم دیا ) تو مسلمان اس سے زیادہ خوف زدہ ہو گئے کیونکہ وہ اس بات سے واقف تھے نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے دو گروہوں کے درمیان قسامت کا فیصلہ دیا ان لوگوں کو بنو حارثہ کہا جاتا تھا اس کی صورت یوں ہوئی کہ یہودیوں نے حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا اور یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے قسامت کے لئے یہودیوں کو بلوایا کیونکہ ان لوگوں نے خون کا دعوی کیا تھا اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پچاس افراد قسم اٹھائیں پچاس بڑے افراد اس قتل کے حوالے سے قسم اٹھائیں گے یہودیوں نے قسم اٹھانے سے انکار کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے بنو حارثہ کو بلوایا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ پچاس افراد قسمیں اٹھائیں جو پچاس افراد اٹھائیں گے کہ یہودیوں نے انہیں دھوکے کے ساتھ قتل کیا ہے ‘ اور اس کے نتیجے میں وہ اس کے حق دار ہو جائیں گے جو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو یہودیوں نے قتل کیا ہے ۔ تو بنو حارثہ نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دیا جب نبی اکرم ﷺ نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو آپ نے اس مقتول کی دیت کی ادائیگی یہودیوں پر لازم قرار دی کیونکہ وہ مقتول ان لوگوں کے درمیان اور ان کے علاقے میں پایا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10737

Majma al-Zawaid #10737

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَتِ الْقَسَامَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتَكُونَ أَكَفَّ لِلنَّاسِ عَنِ الدِّمَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزَّبِيدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ وَأَغْرَبَ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ مُوسَى بْنُ عِيسَى الزَّبِيدِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that qasamah was from the affair of ignorance, and the Messenger of Allah ﷺ confirmed it to restrain people from bloodshed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قسامت زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتی ہے نبی اکرم ﷺ نے اسے برقرار رکھا ہے کیونکہ اس طرح قتل و غارت گری کو لوگوں کے لئے روکا جا سکتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یوسف زبیدی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : بعض اوقات یہ غلطی کر جاتا ہے ‘ اور غریب روایت نقل کرتا ہے اس روایت میں امام طبرانی کے استاد موسیٰ بن عیسیٰ زبیدی ہیں میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10738

Majma al-Zawaid #10738

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَافِدٍ ; «أَنَّ الْيَمِينَ فِي الدَّمِ قَدْ كَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَارِيَةَ الْعَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Wafid reports that the oath in blood existed in the time of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن وافد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قتل کے بارے میں قسم اٹھانے کا رواج نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں بھی تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالمالک بن ساریہ عکی کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن وافد رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10739

Majma al-Zawaid #10739

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً مَصْلِيَّةً، فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ: "" أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ الشَّاةُ أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ "". فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ مِنْهَا. فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا: "" مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ؟ "" قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ، إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، وَإِنْ كُنْتَ مَلَكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ. فَأَمَرَ بِهَا فَقُتِلَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ وَغَيْرِهَا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that a Jewish woman gifted the Prophet ﷺ a roasted sheep. He ate from it, then said: > **"This sheep has told me that it is poisoned."** Bishr ibn al-Bara died from it. He sent to her: > **"What carried you to what you did."** She said she wished to know: if you were a prophet it would not harm you, and if you were a king she would relieve people of you. He commanded concerning her and she was killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی عورت نے نبی اکرم ﷺ کو بھنی ہوئی بکری کا گوشت پیش کیا آپ نے اس میں سے کھا لیا پھر آپ نے فرمایا : اس بکری نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے اس کے کھانے کی وجہ سے حضرت بشر بن براہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو پیغام بھیج کر ( بلوا کر دریافت کیا ) تم نے ایسا کیوں کیا اس نے یہ بتایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے تاکہ مجھے یہ پتہ چل جائے کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر آپ بادشاہ ہوئے تو میں آپ سے لوگوں کو نجات دلوا دوں گی نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا تو اسے قتل کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو نبوۃ کی علامات سے متعلق باب اور دیگر ابواب میں آئیں گے ۔

10740

Majma al-Zawaid #10740

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مُعَاذٍ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no retaliation except with the sword."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قصاص صرف تلوار کے ذریعے لیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعاذ سلیمان بن ارقم ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔