وَعَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ «أَنَّهُمُ احْتَفَرُوا بِئْرًا بِالْيَمَنِ فَسَقَطَ فِيهَا الْأَسَدُ، فَأَصْبَحُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَقَعَ رَجُلٌ فِي الْبِئْرِ فَتَعَلَّقَ بِرَجُلٍ فَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ فَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ حَتَّى كَانُوا أَرْبَعَةً فَسَقَطُوا فِي الْبِئْرِ جَمِيعًا فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ، فَتَنَاوَلَهُ رَجُلٌ بِرُمْحِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ لِلْأَوَّلِ: أَنْتَ قَتَلْتَ أَصْحَابَنَا وَعَلَيْكَ دِيَتُهُمْ، فَأَتَى أَصْحَابُهُ فَكَادُوا يَقْتَتِلُونَ، فَقَدِمَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ فَمَنْ رَضِيَ مِنْكُمْ جَازَ عَلَيْهِ رِضَاهُ، وَمَنْ سَخِطَ مِنْكُمْ فَلَا حَقَّ لَهُ حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقْضِيَ بَيْنَكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَاجْمَعُوا مِمَّنْ حَفَرَ الْبِئْرَ مِنَ النَّاسِ رُبُعَ دِيَةٍ وَثُلُثَ دِيَةٍ وَدِيَةً تَامَّةً. لِلْأَوَّلِ رُبُعُ دِيَةٍ لِأَنَّهُ هَلَكَ فَوْقَهُ ثَلَاثَةٌ. وَلِلثَّانِي ثُلُثُ دِيَةٍ لِأَنَّهُ هَلَكَ فَوْقَهُ اثْنَانِ. وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ دِيَةٍ لِأَنَّهُ هَلَكَ فَوْقَهُ وَاحِدٌ. وَلِلْآخِرِ الدِّيَةُ التَّامَّةُ. فَإِنْ رَضِيتُمْ فَهَذَا بَيْنَكُمْ قَضَاءٌ، وَإِنْ لَمْ تَرْضَوْا فَلَا حَقَّ لَكُمْ حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". وَهُوَ جَالِسٌ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى بَيْنَنَا، فَقَالَ: "" كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ؟ "". فَقَصُّوا عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" هُوَ مَا قَضَى بَيْنَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: لَا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: وَلَمْ يَقُلْ عَنْ عَلِيٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
EnglishUnverified translation
Hanash ibn al-Mutamir reports that they dug a well in Yemen and a lion fell in. In the morning they looked at it. A man fell toward the well and clung to a man, who clung to another, who clung to another, until they were four, and all fell in together. The lion wounded them, and a man struck it with his spear and killed it. The people said to the first, you killed our companions and owe their blood-money. The parties nearly fought. Ali رضي الله عنه arrived and said: > **"I shall judge between you. Whoever of you accepts, his acceptance stands, and whoever is displeased has no right until you come to the Messenger of Allah and he judges between you."** They said, Yes. He said, gather from those who dug the well a quarter blood-money, a third, a half, and a full blood-money. For the first a quarter since three perished above him, for the second a third since two perished above him, for the third a half since one perished above him, and for the last the full blood-money. He said: > **"If you accept, this is the judgment between you. If you do not accept, you have no right until you come to the Messenger of Allah."** They came to the Messenger of Allah ﷺ the next year and told him. He said: > **"I shall judge between you, if Allah wills."** He sat at the Station of Ibrahim. A man stood and said Ali had judged between them. He said: > **"How did he judge between you."** They told him, and he said: > **"It is as he judged between you."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حنش بن معتمر بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے یمن میں ایک کنواں کھودا جس میں شیر گر گیا وہ لوگ شیر کو دیکھنے لگے ان میں سے ایک شخص کنویں میں گرنے لگا ‘ تو اس نے دوسرے کو پکڑ لیا دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا تیسرے نے چوتھے کو پکڑ لیا یہاں تک کہ وہ چار افراد ہو گئے اور وہ سب کنویں میں گر گئے شیر نے انہیں زخمی کیا ایک شخص نے اپنا نیزہ شیر کو مار کر اسے قتل کر دیا لوگوں نے پہلے شخص ( کے پسماندگان ) سے کہا : تم نے ہمارے ساتھیوں کو قتل کیا ہے ‘ تو ان کی دیت تم پر لاگو ہو گی پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اس بات پر ان کا جھگڑا ہونے لگا اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ دیتا ہوں تم میں سے جو شخص اس سے راضی ہو گا ، تو اس کی رضامندی کی بنیاد پر اس کو برقرار رکھا جائے گا ‘ اور اگر کوئی شخص اس سے ناراض ہو گا ‘ تو اسے کوئی حق نہیں ہو گا اور اسے پہلے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانا پڑے گا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ تمہارے درمیان اس بارے میں فیصلہ کریں گے لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جن لوگوں نے بھی کنویں کی کھدائی میں حصہ لیا تھا ان افراد سے ان لوگوں نے ایک چوتھائی دیت ایک ‘ ایک تہائی دیت ایک نصف دیت اور ایک مکمل دیت لی پہلے شخص کو ایک چوتھائی دیت دی گئی کیونکہ وہ باقی تین سے پہلے ہلاکت کا شکار ہوا تھا دوسرے کو ایک تہائی دیت دی گئی کیونکہ اس کے اوپر دو افراد تھے تیسرے کو نصف دیت دی گئی کیونکہ اس کے اوپر بھی ایک شخص ہلاکت کا شکار ہوا تھا اور آخری شخص کو مکمل دیت دی گئی اگر تم لوگ اس سے راضی ہو ‘ تو ٹھیک ہے ‘ اور اگر تم راضی نہیں ہو ‘ تو تمہیں کوئی حق نہیں ہے جب تک تم نبی اکرم ﷺ کے پاس نہیں جاتے ۔ وہ لوگ اگلے سال نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں گا اس وقت نبی اکرم ﷺ مقام ابراہیم کے پاس تشریف فرما تھے ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان ایک فیصلہ دے چکے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے تمہارے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے ؟ ان لوگوں نے پوری بات سنائی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فیصلہ وہی ہو گا جو اس نے تمہارے بارے میں دیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آخر میں یہ کہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔