عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: «رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - جَالِسًا بِالْمَقَاعِدِ يَتَوَضَّأُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَوَقَفَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ لَمْ يَتَكَلَّمُ حَتَّى يَقُولَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ مَجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
EnglishUnverified translation
ʿAbd al-Raḥmān ibn al-Baylamānī reported: I saw ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه sitting at the stone benches performing ablution. A man passed by him and greeted him with peace, but he did not return the greeting until he had finished his ablution. Then he entered the mosque, stood by the man, and said, "Nothing prevented me from returning your greeting except that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'Whoever performs ablution, washing his hands, then rinsing his mouth three times, sniffing water into his nostrils three times, washing his face three times, washing his arms up to the elbows, wiping his head, and then washing his feet, and thereafter does not speak until he says: "I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah alone, without partner, and that Muḥammad is His slave and His Messenger" — he will be forgiven whatever occurred between the two ablutions.'"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبدالرحمان بن بیلمانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ‘ وہ مقاعد میں بیٹھے ہوئے تھے اور وضو کر رہے تھے ایک شخص اُن کے پاس سے گزرا ‘ اُس نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے اسے جواب نہیں دیا ‘ وہ وضو کر کے فارغ ہوئے اور مسجد میں آئے تو اس شخص کے پاس آ کر رک گئے اور بولے : میں نے تمہیں جواب صرف اس لیے نہیں دیا کیونکہ میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے ‘ دونوں ہاتھ دھوئے اور پھر تین مرتبہ کلی کرے ‘ تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے ‘ اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھوئے ‘ دونوں بازوں کو کہنیوں تک دھوئے ‘ اپنے سر کا مسح کرے ‘ اور دونوں پاؤں دھوئے اور پھر کلام کرنے سے پہلے یہ پڑھ لے : ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ وہی ایک معبود ہے ‘ اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو اُس شخص کے دو وضوؤں کے درمیان ( کے گناہوں ) کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔