وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ: «حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ بِهَا عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ الْيُمْنَى فَحَفَنَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ، فَتَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَحَمَلَ بِهِمَا مَاءً فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ، وَمَسَحَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَأَدْخَلَ خِنْصَرَهُ فِي دَاخِلِ أُذُنِهِ لِيَبْلُغَ الْمَاءُ، ثُمَّ مَسَحَ رَقَبَتَهُ وَبَاطِنَ لِحْيَتِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءِ الْوَجْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا حَتَّى جَاوَزَ الْمَرْفِقَ، وَغَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَرْفِقَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ ظَاهِرَ أُذُنَيْهِ، وَمَسَحَ رَقَبَتَهُ وَبَاطِنَ لِحْيَتَهُ بِفَضْلِ مَاءِ الرَّأْسِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَخَلَّلَ أَصَابِعَهَا وَجَاوَزَ بِالْمَاءِ الْكَعْبَ، وَرَفَعَ فِي السَّاقِ الْمَاءَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنَ الْمَاءِ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى تَحَدَّرَ مِنْ جَوَانِبِ رَأْسِهِ، وَقَالَ: "" هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ ""، فَدَخَلَ مِحْرَابَهُ، وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ، وَنَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ النَّسَائِيُّ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَفِي سَنَدِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ حَجَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَفِي حَدِيثِ الْبَزَّارِ طُولٌ فِي أَمْرِ الصَّلَاةِ يَأْتِي فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
EnglishUnverified translation
Wāʾil ibn Ḥujar رضي الله عنه said: "I was present with the Messenger of Allah ﷺ when a vessel containing water was brought to him. He poured water onto his right hand three times, then dipped his right hand into the vessel and poured water with it over his left hand three times. He then dipped his right hand, cupped a handful of water, and rinsed his mouth, inhaled water into his nose, and blew it out three times. Next, he placed both palms into the vessel, scooped water with them, and washed his face three times, ran his wet fingers through his beard, wiped the inner contours of his ears, and inserted his little fingers into the ear canals so that the water reached inside. He then wiped his neck and the underside of his beard with the surplus water from his face. He washed his right forearm three times extending beyond the elbow, and washed the left likewise beyond the elbow. He then wiped his head three times, wiped the exterior of his ears, and wiped his neck and the underside of his beard with the surplus water from his head. Then he washed his right foot three times, running water between its toes, extending the water beyond the ankle and up the shin; and did likewise with the left foot. Then he took a handful of water in his right hand and poured it over his head until it cascaded down the sides of his head, and said: > **"This is the completion of ablution."** Then he entered his prayer place, the people aligned in rows behind him, and he looked to his right and to his left..." [The narrator mentioned the rest of the hadith.]
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ‘ ایک برتن لایا گیا ، جس میں پانی تھا ‘ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا ‘ پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا ‘ اور اس کے ذریعے بائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا ‘ پھر اپنے دائیں ہاتھ کو پانی میں ڈال کر چلو میں پانی لیا اور اس کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ‘ ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا ، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کئے ‘ ان میں پانی لیا اور اس کے ذریعے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ‘ پھر آپ نے اپنی داڑھی کا خلال کیا ‘ اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کیا اور اپنی چھوٹی انگلی کان میں داخل کی ‘ تاکہ وہاں تک پانی پہنچ جائے ‘ پھر آپ نے اپنی گردن کا اور داڑھی کے نیچے والے حصے کا ‘ چہرے کے پانی سے بچ جانے والے پانی کے ذریعے مسح کیا ؟ پھر آپ نے اپنا دایاں بازو تین مرتبہ دھویا ‘ یہاں تک کہ کہنی سے اوپر تک دھویا ‘ پھر بایاں بازو اسی طرح کہنی سے اوپر تک دھویا ‘ پھر آپ نے اپنے سر پر تین مرتبہ مسح کیا اور کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا ‘ آپ نے اپنی گردن اور داڑھی کے نیچے والے حصے کا ‘ سر کے پانی سے بچ جانے والے پانی کے ذریعے مسح کیا ، پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں دھویا اور اس کی انگلیوں کا خلال کیا ‘ یہاں تک کہ پانی ٹخنے سے اوپر تک آیا ‘ آپ نے پانی پنڈلی تک ڈالا ‘ پھر اپنے بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ، پھر اپنی دائیں ہتھیلی میں ‘ چلو میں پانی لیا ‘ اور اسے اپنے سر پر ڈال دیا یہاں تک کہ وہ سر کے اطراف سے نیچے آ گیا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ مکمل وضو ہے ، پھر آپ محراب میں داخل ہوئے ‘ لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ‘ آپ نے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا ........ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ یہ حدیث امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالجبار ہے ‘ امام نسائی فرماتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ امام بزار اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے اور وہ ضعیف ہے امام بزار کی نقل کردہ روایت میں نماز کا تذکرہ طوالت کے ساتھ ہے ‘ اور وہ روایت آگے چل کر ’’ نماز کے طریقے “ سے متعلق بات میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔