Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 3 · Chapter 4

Book of Purification

Hadith 1113–1152

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1113

Majma al-Zawaid #1113

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"The tooth-stick (siwāk) is a purification for the mouth and a source of pleasure to the Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مسواک منہ کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے اور پروردگار کو راضی کرنے کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ یہ پہلو ہے کہ عبداللہ بن محمد نامی راوی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1114

Majma al-Zawaid #1114

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ ; فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Adhere to the tooth-stick, for it sweetens the mouth and brings pleasure to the Lord, Blessed and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم پر مسواک کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ منہ کو صاف رکھتی ہے ‘ اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد میں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

1115

Majma al-Zawaid #1115

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ، وَمَجْلَاةٌ لِلْبَصَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السَّقَّاءُ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The tooth-stick is a purification for the mouth, a source of pleasure to the Lord, and a clarifier for the eyesight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ’’ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ‘ اور پروردگار کی رضا مندی کا اور بینائی کو تیز کرنے کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1116

Majma al-Zawaid #1116

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَرِجَالُ الْآخَرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The tooth-stick is a purification for the mouth and a source of pleasure to the Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مسواک ‘ منہ کو پاک کرنے کا ‘ اور پروردگار کی رضا مندی کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن تدلیس کرنے والا ہے ‘ جبکہ دوسری سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1117

Majma al-Zawaid #1117

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Were it not that I would place hardship upon my nation, I would have ordered them to use the tooth-stick with every ablution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت میں اس نے تحدیث کی صراحت کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

1118

Majma al-Zawaid #1118

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ، وَمَعَ كُلِّ وُضُوءٍ بِسِوَاكٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Were it not that I would place hardship upon my nation, I would have ordered them to perform ablution at every prayer, and to use the tooth-stick with every ablution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں انہیں ہر نماز کے ہمراہ وضو کرنے اور ہر وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ‘ اس روایت میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ثقہ اور حسن الحدیث ہے ۔

1119

Majma al-Zawaid #1119

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: - إِنْ كَانَ قَالَهُ -: "" «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ "". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَمَا أَسْتَيْقِظُ، وَقَبْلَ أَنْ آكُلَ وَبَعْدَ مَا آكُلُ - حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ مَا قَالَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Were it not that I would place hardship upon my nation, I would have ordered them to use the tooth-stick with ablution."** Abū Hurayrah said: "Indeed, I began using the tooth-stick before sleeping and after waking up, and before eating and after eating, ever since I heard the Messenger of Allah ﷺ say what he said."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ‘ اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :’’ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں انہیں ہر وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا ‘‘۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں سونے سے پہلے ‘ بیدار ہونے کے بعد ‘ کچھ کھانے سے پہلے ‘ یا کھانے کے بعد مسواک کرتا ہوں ‘ اس کے بعد ‘ کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

1120

Majma al-Zawaid #1120

وَعَنْ قُثَمِ بْنِ تَمَّامٍ - أَوْ تَمَّامِ بْنِ قُثَمٍ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا لَكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا؟ أَلَا تَسَوِّكُونَ؟ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ، قِيلَ فِيهِ: أَنَّهُ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Qutham ibn Tammām (or Tammām ibn Qutham) narrated from his father that he said: We came to the Prophet ﷺ, and he said: > **"Why do you come to me with discolored teeth (qulḥan)? Do you not use the tooth-stick? Were it not that I would place hardship upon my nation, I would have made the tooth-stick obligatory upon them just as I made ablution obligatory upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قثم بن تمام ‘ یا شاید تمام بن قثم ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم ایسے ہی ( یعنی منہ صاف کیے بغیر ) میرے پاس آ گئے ہو ‘ کیا تم لوگ مسواک نہیں کرتے ہو ؟ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں اُن پر مسواک کو لازم قرار دیتا ‘ جس طرح میں نے اُن پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ مجہول ہے ۔

1121

Majma al-Zawaid #1121

وَعَنْ تَمَّامِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا لَكُمْ تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا؟ اسْتَاكُوا فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَاللَّفْظُ لَهُ. وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Tammām ibn al-ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Why do you enter upon me with discolored teeth? Use the tooth-stick! Were it not that I would place hardship upon my nation, I would have commanded them to use the tooth-stick at every purification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تمام بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ تم لوگ میرے پاس ایسے ہی ( یعنی مسواک کیے بغیر ) آ گئے ہو ؟ تم لوگ مسواک کرو ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ‘ تو میں انہیں ہر طہارت ( یعنی وضو ) کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔

1122

Majma al-Zawaid #1122

«وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا يَسْتَاكُونَ فَقَالَ: "" تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا وَلَا تَسْتَاكُونَ. لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ» "". «وَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ السِّوَاكَ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ، وَهُوَ مَجْهُولٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السِّوَاكِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ فِي الصَّلَاةِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās رضي الله عنه narrated: People used to enter upon the Prophet ﷺ without having cleaned their teeth with a tooth-stick, so he said: > **"You enter upon me with discolored teeth and do not use the tooth-stick! Were it not that I would place hardship upon my nation, I would have made the tooth-stick obligatory upon them just as I made ablution obligatory upon them."** And ʿĀʾishah رضي الله عنها said: "The Prophet ﷺ kept mentioning the tooth-stick so constantly that we feared Quranic revelation would descend regarding it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( کچھ ) لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مسواک کیے بغیر حاضر ہوئے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ میرے پاس ویسے ہی آ جاتے ہو ‘ تم مسواک نہیں کرتے ہو ‘ اگر مجھے اپنی امت کے مشقت کا شکار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ‘ تو میں ان پر مسواک کو لازم قرار دیتا ‘ جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا ‘ کہ کہیں اس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے اور وہ مجہول ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اور بھی بہت سی روایات ‘ مسواک کرنے سے متعلق باب میں ‘ اور نماز سے متعلق امور کے بارے میں باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

1123

Majma al-Zawaid #1123

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا تَمَضْمَضَ أَحَدُكُمْ حُطَّ مَا أَصَابَ بِفِيهِ، وَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ حُطَّ مَا أَصَابَ بِوَجْهِهِ، وَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِيَدَيْهِ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أُصُولِ الشَّعْرِ، وَإِذَا غَسَلَ قَدَمَيْهِ حُطَّ مَا أَصَابَ بِرِجْلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عُثْمَانَ فِي بَابِ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you rinses his mouth, whatever sins he committed with his mouth are shed; when he washes his face, whatever he committed with his face is shed; when he washes his hands, whatever he committed with his hands is shed; when he wipes his head, his sins scatter from the roots of his hair; and when he washes his feet, whatever he committed with his feet is shed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص کلی کرتا ہے ‘ تو اُس کے منہ کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو اُس کے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جو اس نے اپنے چہرے کے حوالے سے کئے تھے ‘ جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ‘ تو اس کے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں ‘ جو اُس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے کیے تھے ‘ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ‘ تو اُس کے بالوں کی جڑوں سے اس کی خطائیں گر جاتی ہیں ‘ اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے ‘ تو اس کے وہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں ، جن کا ارتکاب اُس نے اپنے پاؤں کے ذریعے کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ‘‘ والے باب میں آئے گی ۔

1124

Majma al-Zawaid #1124

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وُضُوئِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ كَفَّيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ لِسَانِهِ وَشَفَتَيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهُ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ وَرَجِلْيَهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ كَهَيْأَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ "". قَالَ: "" فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ اللَّهُ دَرَجَتَهُ، وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرٍ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُمَا ثِقَتَانِ، وَلَا يَقْدَحُ الْكَلَامُ فِيهِمَا.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Ḥawshab narrated: Abū Umāmah رضي الله عنه conveyed to me that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whichever man stands up for his ablution intending prayer, and then washes his palms, every sin falls from his palms with the very first drop. When he rinses his mouth, inhales water into his nose, and blows it out, every sin falls from his tongue and his lips with the first drop. When he washes his face, every sin falls from his hearing and his sight with the first drop. When he washes his arms to the elbows and his feet to the ankles, he is cleansed of every sin, just as he was on the day his mother gave birth to him. Then, if he stands for prayer, Allah elevates his rank; and if he sits, he sits safe [and cleansed of sin]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے اور وہ نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ‘ پھر وہ اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے ‘ تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں میں سے ہر گناہ ( نازل ہو جاتا ‘ یعنی ) نکل جاتا ہے ‘ جب وہ کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے ‘ تو پہلے قطرے کے ساتھ اُس کی زبان اور ہونٹوں سے ہر گناہ نکل جاتا ہے ‘ جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی سماعت اور بصارت سے ہر گناہ نکل جاتا ہے ‘ جب وہ کہنیوں تک اپنے دونوں بازو اور ٹخنوں تک ‘ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو وہ ہر گناہ سے یوں پاک ہو جاتا ہے ‘ جیسے اُس دن تھا ‘ جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ‘ پھر جب وہ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے درجے کو بلند کرتا ہے ‘ اور اگر وہ بیٹھا رہتا ہے ( یعنی اگر وہ نماز ادا نہیں بھی کرتا ) تو وہ ایسی حالت میں بیٹھا ہوتا ہے ‘ کہ وہ سالم ( یعنی گناہوں سے پاک ) ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبدالحمید بن بہرام نے شہر سے نقل کیا ہے ‘ اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں ‘ اور ان دونوں کے بارے میں کیا جانے والا کلام ‘ قدح کا باعث نہیں ہے ۔

1125

Majma al-Zawaid #1125

وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ؛ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ - غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ رِجْلَاهُ، وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ، وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ، وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ "". قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَا أُحْصِيهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مُسْلِمٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِثِقَةٍ وَلَا جَرْحٍ، غَيْرَ أَنَّ الْحَاكِمَ ذَكَرَهُ فِي الْكُنَى، وَقَالَ: رَوَى عَنْهُ أَبُو حَازِمٍ. وَهُنَا رَوَى عَنْهُ أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Muslim narrated: I entered upon Abū Umāmah رضي الله عنه while he was in the mosque, and I said, "O Abū Umāmah, a man narrated to me on your authority that you said: 'I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever performs ablution and does so thoroughly—washing his hands and face, and wiping over his head and ears—then stands up for the obligatory prayer, Allah forgives him on that day for all that his feet walked towards, all that his hands grasped, all that his ears listened to, all that his eyes gazed upon, and whatever evil his inner self whispered."**'" Abū Umāmah said: "By Allah, I heard it from the Prophet of Allah ﷺ more times than I can count!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومسلم بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے جوئیں نکال رہے تھے اور جوؤں کو کنکریوں میں دفن کر دیتے تھے ‘ میں نے کہا : اے حضرت ابوامامہ ! ایک شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے ‘ اپنے دونوں بازؤں اور چہرے کو دھوئے ‘ اپنے سر اور کانوں پر مسح کرے پھر فرض نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑا ہو جائے ‘ تو اللہ تعالی اس شخص کے اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ جن کے لیے وہ اپنے قدموں پر چل کر گیا ‘ جنہیں اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے کیا ‘ جنہیں اس کے کانوں نے سنا ‘ یا جنہیں اس کی آنکھوں نے دیکھا ‘ جو اس نے برا سوچا ( اس کے اس دن کے ‘ ایسے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ) ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے یہ بات اللہ کے نبی کی زبانی اتنی مرتبہ سنی ہے ‘ جسے میں شمار نہیں کر سکتا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ‘ میں نے کسی کو اس راوی کے حالات توثیق یا جرح کے ہمراہ ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ‘ البتہ امام حاکم نے اس کا ذکر کنیت سے متعلق باب میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : ابوحازم نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ جبکہ یہاں جو روایت مذکور ہے ‘ وہ ابان بن عبداللہ نے اس سے نقل کی ہے ‘ ابن ابوحاتم نے بھی اسی طرح اس کا ذکر کیا ہے ۔

1126

Majma al-Zawaid #1126

وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ، فَقَامَ إِلَى وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ، حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ، وَقَامَ إِلَى صِلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ "". قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَيْ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَا مَرَّتَيْنِ، وَلَا ثَلَاثٍ، وَلَا أَرْبَعٍ، وَلَا خَمْسٍ، وَلَا سِتٍّ، وَلَا سَبْعٍ، وَلَا ثَمَانٍ، وَلَا تِسْعٍ، وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ghālib narrated that he met Abū Umāmah رضي الله عنه in Ḥimṣ and questioned him about various matters. Abū Umāmah related to them that he heard the Prophet ﷺ saying: > **"No Muslim servant hears the call to prayer and stands up for his ablution, except that he is forgiven with the very first drop of that water that touches his palm, and according to the number of those drops until he completes his ablution, except that all his past sins are forgiven, and he stands for his prayer while it is an extra reward (nāfilah) for him."** Abū Ghālib said: I asked Abū Umāmah, "Did you hear this directly from the Prophet ﷺ?" He replied: "Yes, by the One Who sent him with the truth as a bearer of glad tidings and a warner—not just once, nor twice, nor thrice, nor four times, nor five, nor six, nor seven, nor eight, nor nine, nor ten, nor twenty times!" and he clapped his hands together.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوغالب بیان کرتے ہیں :’’ حمص ‘‘ میں اُن کی ملاقات حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ انہوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا ‘ تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو مسلمان بندہ نماز کے لئے اذان سن کر وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اس پانی میں سے اس کی ہتھیلی کو جو پہلا قطرہ لگتا ہے اس کے ہمراہ اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ان قطروں کے حساب سے ( اس کی مغفرت ہوتی ہے ) یہاں تک کہ جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے ‘ تو اس کے گزشتہ تمام گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ‘ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ‘ تو وہ اس کے لئے اضافی ( اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے ‘‘۔ ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ خوشخبری سنانے والا ‘ اور ڈرانے والا ‘ بنا کر مبعوث کیا ہے ‘ ایک مرتبہ نہیں ، دو مرتبہ نہیں ، تین مرتبہ نہیں ‘ چار مرتبہ نہیں ، پانچ مرتبہ نہیں ‘ چھ مرتبہ نہیں ‘ سات مرتبہ نہیں ، آٹھ مرتبہ نہیں ‘ نو مرتبہ نہیں ، دس مرتبہ نہیں ‘ دس ( مزید ) مرتبہ ( نہیں ، یعنی اس سے بھی زیادہ مرتبہ ‘ میں نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ) اُنہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر یہ بات کہی تھی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

1127

Majma al-Zawaid #1127

وَلَهُ فِي الصَّغِيرِ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ كَفَّرْتُ بِهِ مَا عَمِلَتْ يَدَاهُ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَفَّرْتُ عَنْهُ مَا نَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ، وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَفَّرَ بِهِ مَا سَمِعَتْ أُذُنَاهُ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ كَفَّرْتُ عَنْهُ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ قَدَمَاهُ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهِيَ فَضِيلَةٌ» "". وَأَبُو غَالِبٍ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لِأَبِي غَالِبٍ وَصَحَّحَ لَهُ أَيْضًا. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقٍ صَحِيحَةٍ، وَزَادَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْوُضُوءُ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهُ ثُمَّ تَصِيرُ الصَّلَاةُ نَافِلَةً ""، وَرَوَاهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ صَحِيحَةٍ، وَزَادَ: "" إِذَا تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ "".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه also narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the Muslim performs ablution and washes his hands, I expiate through it what his hands have committed; when he washes his face, I expiate from him what his eyes have looked upon; when he wipes his head, it expiates what his ears have heard; and when he washes his feet, I expiate from him what his feet have walked toward. Then he stands up for prayer, and it becomes an added virtue for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان ( صحابی یعنی حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے ’’ معجم صغیر ‘‘ میں یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب مسلمان وضو کرتے ہوئے اپنے ہاتھ دھوتا ہے ‘ تو یہ چیز اُس کے ان ( گناہوں ) کا کفارہ بن جاتی ہے ‘ جو عمل اس کے ہاتھ نے کیا تھا اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو یہ چیز ان امور کا کفارہ بن جاتی ہے ‘ جس کی طرف اُس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ‘ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ‘ تو یہ چیز اس کے ان امور کا کفارہ بن جاتی ہے ‘ جس کو اس کے کانوں نے سنا تھا اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ‘ تو یہ چیز اس شخص کے ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ‘ جن کی طرف وہ اپنے قدموں کے ذریعے چل کر گیا تھا ‘ پھر جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ‘ تو وہ ( یعنی نماز ) اُس کے لیے فضیلت کا باعث ہوتی ہے ۔ ابوغالب سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ‘ امام ترمذی نے ابوغالب کے حوالے سے منقول روایت کو حسن قرار دیا ہے ‘ انہوں نے اس کے حوالے سے منقول ایک روایت کو ’’ صحیح ‘‘ بھی قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک ’’ صحیح ‘‘ سند کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وضو اس کے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور پھر نماز اس کے لیے نفل ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے ‘‘۔ انہوں نے یہی روایت ایک اور ’’ صحیح ‘‘ سند کے ساتھ بھی نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب وہ اس طرح وضو کرے ‘ جس طرح اُسے حکم دیا گیا ہے ‘‘.........

1128

Majma al-Zawaid #1128

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، فَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When a Muslim man performs ablution, his sins depart from his hearing, his sight, his hands, and his feet; and if he sits, he sits forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب مسلمان شخص وضو کرتا ہے ‘ تو اس کی سماعت ‘ بصارت ‘ دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں اور اگر وہ بیٹھا رہے ( یعنی وضو کرنے کے بعد ‘ نماز ادا نہ بھی کرے ) تو وہ ایسی حالت میں بیٹھتا ہے کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ۔

1129

Majma al-Zawaid #1129

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ فِي حَدِيثٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، وَيُمَضْمِضُ فَاهُ، وَيَتَوَضَّأُ كَمَا أُمِرَ - إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مَا نَطَقَ بِهِ فَمُهُ، وَمَا مَسَّ بِيَدِهِ، وَمَا مَشَى إِلَيْهِ، حَتَّى إِنَّ الْخَطَايَا لَتَحَادَرُ مِنْ أَطْرَافِهِ، ثُمَّ هُوَ إِذَا مَشَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً وَأُخْرَى تُمْحِي سَيِّئَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَقِيطٌ أَبُو الْمُشَاوِرِ، رَوَى عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَرَوَى عَنْهُ الْجَرِيرِيُّ وَقُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالَفُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated in a hadith traced directly to the Prophet ﷺ that he said: > **"No Muslim performs ablution, washing his hands, rinsing his mouth, and performing ablution as he was commanded, except that Allah sheds from him whatever sins he committed on that day—what his mouth uttered, what his hand touched, and what he walked toward—until his errors slide off from the extremities of his limbs. Then, when he walks to the mosque, one foot records a good deed while the other erases a bad deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر ‘ یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے اور اپنے ہاتھ دھوتا ہے اور منہ میں کلی کرتا ہے اور اس طرح وضو کرتا ہے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے ان تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ‘ جس کا ارتکاب اس نے اس دن میں کیا تھا ‘ جسے وہ منہ کے ذریعے بولا تھا ‘ یہ جو اس نے ہاتھ کے ذریعے مس کیا تھا ‘ یا جس کی طرف وہ چل کے گیا تھا ‘ یہاں تک کہ اس کے اطراف کے گناہ گر جاتے ہیں ‘ اور پر جب وہ پیدل چل کر ‘ مسجد کی طرف جاتا ہے ‘ تو ایک قدم نیکی نوٹ کرواتا ہے ‘ اور دوسرا گناہ مٹا دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لقیط ابومشاور ہے ‘ جس نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ‘ اور اس سے جریری اور قرہ بن خالد نے روایت نقل کی ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے ‘ اور اس کے برخلاف روایات نقل کی گئی ہیں ۔

1130

Majma al-Zawaid #1130

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا تَوَضَّأَ الْمُسْلِمُ ذَهَبَ الْإِثْمُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرَجِلَيْهِ "" قَالَ: فَجَاءَ أَبُو طَيْبَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُنَا هَذَا، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ؟ فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي حَدَّثَنَا، فَقَالَ رَجُلٌ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَزَادَ فِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى طُهْرٍ، ثُمَّ يَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ - إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: "" مَنْ بَاتَ طَاهِرًا عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ ""، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِيمَنْ يَبِيتُ عَلَى طَهَارَةٍ بَعْدَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When a Muslim performs ablution, sin departs from his hearing, his sight, his hands, and his feet."** The narrator said: Then Abū Ṭaybah came while he was narrating this to us and asked, "What is he narrating to you?" So we mentioned to him what he had narrated to us. Thereupon, a man said: "I heard ʿAmr ibn ʿAbasah narrate from the Messenger of Allah ﷺ," adding to it: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"No Muslim goes to sleep in a state of ritual purity, then awakens during the night and mentions Allah and asks Allah for any good from the good of this world and the Hereafter, except that Allah grants it to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب مسلمان وضو کرتا ہے ‘ تو اُس کی سماعت ‘ اس کی بصارت ‘ اس کے دونوں ہاتھوں اور اس کے دونوں پاؤں سے گناہ رخصت ہو جاتے ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مکتبہ ابوطیبہ آئے ‘ جو ہمیں یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : یہ تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ تو ہم نے انہیں اس حدیث کے بارے میں بتایا ‘ جو انہوں نے ہمیں بیان کی تھی ، تو ایک شخص نے یہ کہا : میں نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ‘ انہوں نے اس میں یہ چیز زائد نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ‘ اور پھر رات کے دوران کسی وقت بیدار ہو کر ‘ اللہ کا ذکر کرتا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی جس بھی بھلائی کو مانگتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ وہ ( بھلائی ) اُس شخص کو عطا کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص باوضو حالت میں ‘ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات بسر کرتا ہے ‘‘........ اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ‘ اس کے بعد آ رہی ہے ‘ جو اُس شخص کے بارے میں ہے ‘ جو باوضو حالت میں رات گزارتا ہے ۔

1131

Majma al-Zawaid #1131

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ قَعَدْتَ مَغْفُورًا لَكَ (فَإِنْ كُنْتَ تُصَلِّي كَانَتْ لَكَ فَضِيلَةٌ). فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ يُصَلِّي تَكُونُ لَهُ نَافِلَةٌ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةٌ وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا؟ كَيْفَ تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةٌ وَأَجْرٌ؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ. وَلَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ، ذَكَرْتُهَا فِي الْخَصَائِصِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: > **"When you apply the water of purification to its proper places, you sit down forgiven; and if you pray, it is an added virtue for you."** A man asked, "O Abū Umāmah, what do you think if he stands up and prays: is it considered a surplus voluntary deed (nāfilah) for him?" He replied: "No, a voluntary deed as a pure surplus was uniquely for the Prophet ﷺ. How could it be a surplus for an ordinary person when he constantly strives amidst sins and errors? Rather, it is an added virtue and a reward for him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( یا انہوں نے یہ روایت بیان کی : ) جب تم صحیح طرح سے وضو کرتے ہو ‘ تو تم ایسی حالت میں ہو جاتے ہو ‘ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ‘ اور اگر تم نماز ادا کرتے ہو ‘ تو یہ تمہارے لئے فضیلت ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہو گی ۔ ایک شخص بولا : اے حضرت ابوامامہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر وہ شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے ‘ تو کیا یہ اُس کے لیے نفل ہو گی ( یعنی اس کو نفل کہا جا سکتا ہے ؟ ) ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! یہ نفل نبی اکرم ﷺ کے لئے تھی ‘ یہ آدمی کے لئے نفل کیسے ہو سکتی ہے ؟ جبکہ انسان گناہوں اور خطاؤں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے ‘ یہ اس کیلئے کیسے فضیلت اور اجر ہو سکتی ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ‘ جسے امام احمد نے نقل کیا ہے ‘ میں نے وہ روایت ’’ نبوت کی علامات سے متعلق خصوصیات ‘‘ والے باب میں ذکر کی ہے ۔

1132

Majma al-Zawaid #1132

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَذَّنَ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ. قَالَ: فَدَعَا عُثْمَانُ بِطَهُورٍ فَتَطَهَّرَ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ - كُفِّرْتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ "" فَاسْتَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ أَرْبَعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَحَدِيثُ عُثْمَانَ فِي الصَّحِيحِ نَحْوُهُ وَمَعْنَاهُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

A man from the people of Madinah narrated: The caller to prayer proclaimed the call for the ʿAṣr prayer. ʿUthmān رضي الله عنه called for water of purification, purified himself, and then said: "I heard the Prophet ﷺ say: > **"Whoever performs ablution as he was commanded and prays as he was commanded, his sins are expiated from him."**" He then sought the testimony of four Companions of the Messenger of Allah ﷺ to confirm this, and they all bore witness to that on the authority of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : مؤذن نے عصر کی نماز کے لئے اذان دی ‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگوا کر وضو کیا ‘ اور پھر یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اسی طرح وضو کرے ‘ جس طرح اسے حکم دیا گیا ‘ اور اسی طرح نماز ادا کرے ، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے ‘ تو اس شخص کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں ‘‘۔ پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے حوالے سے چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے گواہی طلب کی ‘ تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس بات کی گواہی دی ( کہ آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ) .

1133

Majma al-Zawaid #1133

«وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهَرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ: "" أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي "". فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوُضُوءٍ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ، (وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ) وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه called for water: he rinsed his mouth, inhaled water into his nose and expelled it, then washed his face three times, washed his arms three times, wiped his head and the tops of his feet, and then smiled and laughed. He said to his companions: "Will you not ask me what made me laugh?" They asked: "What made you laugh, O Commander of the Faithful?" He said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution just as I have performed ablution, then he smiled and laughed, saying: 'Will you not ask me what made me laugh?' They asked: 'What made you laugh, O Messenger of Allah?' He ﷺ replied: > **"Indeed, when the servant calls for ablution water and washes his face, Allah sheds from him every error he committed with his face; and when he washes his arms, it is likewise; when he wipes his head, it is likewise; and when he purifies his feet, it is likewise."**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی ‘ ناک میں پانی ڈالا ‘ اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ‘ دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا ‘ اپنے سر اور پاؤں کے اوپر والے حصے کا مسح کیا ( شاید انہوں نے اس وقت موزے پہنے ہوئے تھے ) پھر وہ ہنس پڑے ‘ اُنہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ساتھیوں نے دریافت کیا : اے امیرالمومنین ! آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( ایک مرتبہ ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ‘ کہ آپ ﷺ نے اُسی طرح وضو کیا ، جس طرح میں نے کیا ہے ‘ پھر آپ ﷺ ہنس پڑے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی بندہ وضو کے لیے پانی منگواتا ہے ‘ اور پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام خطائیں ختم کر دیتا ہے جن کا تعلق اس کے چہرے سے ہو ‘ جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ‘ تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ‘ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ‘ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ‘ تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ‘‘۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

1134

Majma al-Zawaid #1134

وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَا أَدْرِي كَمْ حَدَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَزْوَاجًا وَأَفْرَادًا، قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، فَيَغْسِلُ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَسِيلَ الْمَاءُ عَلَى ذَقْنِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى يَسِيلَ الْمَاءُ عَلَى مِرْفَقَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى يَسِيلَ الْمَاءُ مِنْ كَعْبَيْهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي - إِلَّا غَفَرَ لَهُ اللَّهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذَنْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فَقَالَ: عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِمَارَةَ، وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَوَهِمَ فِي اسْمِهِ، وَالصَّوَابُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ. وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Thaʿlabah ibn ʿAbbād narrated from his father رضي الله عنه, who said: "I do not know how many times the Messenger of Allah ﷺ narrated this to him, whether in pairs or odd numbers; he ﷺ said: > **"No servant performs ablution, perfecting his ablution, washing his face until water flows over his chin, then washing his arms until water flows over his elbows, then washing his feet until water flows from his ankles, and then stands up and prays, except that Allah forgives him all his past sins."**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثعلبہ بن عباد ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : مجھے نہیں معلوم ‘ نبی اکرم ﷺ نے کتنی مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی ہے ؟ طاق تعداد میں ‘ یا جفت تعداد میں ؟ آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی بندہ وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے اور اپنے چہرے کو دھوئے ‘ یہاں تک کہ پانی اس کی ٹھوڑی پر بہہ جائے ‘ پھر وہ دونوں بازو دھوئے ‘ یہاں تک کہ پانی اس کی کہنیوں پر بہہ جائے ‘ پھر وہ اپنے پاؤں دھوئے ‘ یہاں تک کہ پانی اس کے ٹخنوں پر بہہ جائے ‘ پھر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے اس روایت کو ایک اور سند کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ اور یہ فرمایا ہے : یہ ثعلبہ بن عمارہ سے منقول ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اسحاق دبری نے اسے ‘ اسی طرح امام عبدالرزاق کے حوالے سے نقل کیا ہے اور راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا ہے ‘ کیونکہ درست نام ’’ ثعلبہ بن عباد ہے ‘ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1135

Majma al-Zawaid #1135

وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يَقُولُ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ، فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ، فَيَتَوَضَّأُ ; فَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي فَهُوَ لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ فِيهِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ ""، وَزَادَ: "" رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمْ مِنَ اللَّيْلِ "" فَذَكَرَهُ، وَلَهُ سَنَدَانِ عِنْدَهُمَا، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUshshānah al-Maʿāfirī reported that he heard ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه say: "I shall not attribute anything to the Messenger of Allah ﷺ today that he did not say; I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"A man from my nation rises at night, wrestling with his soul to purify himself while knots are tied upon him. He performs ablution: when he washes his hands, a knot is untied; when he washes his face, a knot is untied; when he wipes his head, a knot is untied; and when he washes his feet, a knot is untied. Then the Lord, Mighty and Majestic, says to those beyond the veil: 'Look at this servant of Mine wrestling with his soul; whatever My servant asks of Me, it is his.'"**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عشانہ معافری بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر : کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نبی اکرم ْﷺ کے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان نہیں کروں گا ‘ جو آپ ﷺ نے ارشاد نہ فرمائی ہو ‘ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ میری امت کے دو افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اُٹھتا ہے اور خود کو طہارت کے لیے تیار کرتا ہے ‘ اُس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ‘ وہ وضو کرتا ہے ‘ جب وہ ہاتھ پر وضو کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ بازو پر وضو کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ سر پر مسح کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ اپنے پاؤں پر وضو کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ حجاب کے پیچھے سے پروردگار ( فرشتوں سے ) یہ فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو ! جو اپنے آپ کو ( میری عبادت کے لیے ) تیار کر رہا ہے ‘ میرا یہ بندہ مجھ سے جو مانگے گا ‘ وہ اسے ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے ‘ جو میں نے نہ کہی ہو ‘ تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ‘‘ انہوں نے یہ الفاظ بھی زائد نقل کئے ہیں : ’’ میری اُمت سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اٹھتا ہے ‘‘........ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ ان دونوں حضرات ( یعنی امام احمد اور امام طبرانی ) نے اس روایت کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

1136

Majma al-Zawaid #1136

وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ - أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ - قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: "" جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ "" - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: "" فَإِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ، وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ». قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَذْكُرْ مَسْحَ الرَّأْسِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Murrah ibn Kaʿb (or Kaʿb ibn Murrah) رضي الله عنه narrated: I asked the Messenger of Allah ﷺ, "Which part of the night is most readily heard [for prayers to be answered]?" He replied: "The depth of the latter part of the night." He then mentioned the narration until he said: > **"When the servant performs ablution and washes his hands, his errors tumble down from his hands; when he washes his face, his errors tumble down from his face; when he washes his arms, his errors tumble down from his arms; and when he washes his feet, his errors tumble down from his feet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ ‘ یا شاید حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : رات کے کون سے حصے میں دعا جلدی قبول ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : رات کا آخری نصف حصہ ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ وضو کرتے ہوئے ہاتھ دھوتا ہے ‘ تو اس کے ہاتھوں سے اس کے گناہ گر جاتے ہیں ‘ جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو اس کے چہرے سے گناہ گر جاتے ہیں ، جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ‘ تو اس کے بازو سے اس کے گناہ گر جاتے ہیں ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ‘ تو اس کے پاؤں سے ‘ اس کے گناہ گر جاتے ہیں ‘‘۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : اس حدیث میں انہوں نے سر پر مسح کرنے کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1137

Majma al-Zawaid #1137

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ رَأَيْتَ؟ وَمَنْ لَمْ تَرَ؟ قَالَ: "" مَنْ رَأَيْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الطَّهُورِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no one from my nation except that I will recognize him on the Day of Resurrection."** They asked: "O Messenger of Allah, both those you have seen and those you have not seen?" He ﷺ replied: > **"Both those I have seen and those I have not seen: radiant with white blazes on their foreheads and luminous marks on their limbs from the traces of ablution (ghurran muḥajjalīn)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن ‘ میں اپنی امت کے ہر ایک فرد کو پہچان لوں گا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کو بھی جسے آپ نے دیکھا ہے ‘ اور اُس کو بھی ‘ جسے آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جسے میں نے دیکھا ہے اور جسے میں نے نہیں دیکھا ہے ( دونوں قسم کے افراد کو میں پہچان لوں گا ) کیونکہ وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1138

Majma al-Zawaid #1138

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ نَهْرٍ يُغْتَسَلُ مِنْهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا عَسَى أَنْ يُبْقِينَ عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ؟ يَقُومُ إِلَى الْوُضُوءِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَسَّ بِهَا يَدَيْهِ، وَيُمَضْمِضُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَتْ بِهَا عَيْنَاهُ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ سَمِعَتْ بِهَا أُذُنَاهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْ بِهَا قَدَمَاهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"The likeness of my nation is that of a river in which one bathes five times a day: what dirt could possibly remain upon him? A person rises for ablution and washes his hands, and every error he touched with his hands scatters; he rinses his mouth, and every error his tongue uttered scatters; then he washes his face, and every error his eyes gazed upon scatters; then he wipes his head, and every error his ears listened to scatters; then he washes his feet, and every error his feet walked toward scatters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری اُمت کی مثال نہر کی مانند ہے ، جس میں پانچ مرتبہ غسل کیا جاتا ہے ‘ تو ایسے شخص پر کوئی میل باقی نہیں رہے گا ( اسی طرح میری امت کا کوئی شخص ) وضو کے لیے اٹھتا ہے اور دونوں ہاتھ دھوتا ہے ‘ تو اس کا ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ‘ جس کو اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے چھوا تھا ‘ جب وہ کلی کرتا ہے ‘ تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس کی زبان نے کلام کیا تھا ، پھر وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ‘ جس کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ‘ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ‘ جسے اُس کے کانوں نے سنا تھا ، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ‘ تو ہر وہ گناہ گر جاتا ہے ‘ جس کی طرف اُس کے پاؤں چل کر گئے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1139

Majma al-Zawaid #1139

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْخَصْلَةَ الصَّالِحَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ، فَيُصْلِحُ اللَّهُ بِهَا عَمَلَهُ كُلَّهُ، وَطَهُورُ الرَّجُلِ لِصَلَاتِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ بِطَهُورِهِ ذُنُوبَهُ، وَتَبْقَى صَلَاتَهُ لَهُ نَافِلَةً» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed, a righteous trait may exist in a man, and through it Allah sets right all of his deeds; and a man's purification for his prayer—Allah expiates his sins through his purification, and his prayer remains for him as a surplus reward (nāfilah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی نیک عادت ‘ جو کسی شخص میں موجود ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس عادت کی وجہ سے اس شخص کے پورے عمل کو ٹھیک کر دیتا ہے ‘ اور آدمی کا نماز کے لیے وضو کرنا ‘ اللہ تعالیٰ اس کے وضو کرنے کی وجہ سے اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ‘ اور اس شخص کی نماز اس کے لیے نفل ( یعنی اضافی اجر و ثواب کے حصول کے باعث ) کے طور پر ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ہے ‘ جسے ابوزرعہ اور ابن حبان نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

1140

Majma al-Zawaid #1140

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَأَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "" هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، لَيْسَ لِأَحَدٍ ذَلِكَ غَيْرُهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْبَعْثِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"I am the first to be granted permission to prostrate on the Day of Resurrection, and I am the first to raise his head. I will look before me and recognize my nation from among all nations, and likewise behind me, to my right, and to my left."** A man asked: "O Messenger of Allah, how will you recognize your nation from among all the nations from the time of Noah until your nation?" He ﷺ replied: > **"They will have radiant white blazes on their foreheads and luminous marks on their limbs from the traces of ablution—a distinction belonging to no one besides them; I will recognize them by their records being given in their right hands; and I will recognize them by their offspring rushing before them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ میں وہ پہلا شخص ہوؤں گا ‘ جسے قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی ‘ اور میں وہ پہلا شخص ہوؤں گا ‘ جو اپنا سر ( قیامت کے دن سجدہ سے ) اٹھائے گا ‘ میں اپنے سامنے دیکھوں گا ‘ تو تمام امتوں کے درمیان ‘ اپنی امت کو پہچان لوں گا ‘ میرے پیچھے بھی اسی طرح ہو گا ، میرے دائیں طرف بھی اسی طرح ہو گا ‘ میرے بائیں طرف بھی اسی طرح ہو گا ( یعنی دیگر تمام امتوں کے درمیان ‘ میں اپنی امت کے افراد کو پہچان لوں گا ) ایک صاحب نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر ‘ اپنی امت تک کی دیگر تمام امتوں کے درمیان ‘ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وضو کے اثر کی وجہ سے ‘ وہ لوگ روشن اور چمکدار ہوں گے ‘ یہ نشانی اُن کے علاوہ کسی اور کی نہیں ہو گی ‘ میں انہیں پہچان لوں گا ‘ کہ اُن کے نامہ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں ہونگے ‘ اور میں انہیں پہچان لوں گا کہ اُن کے بچے اُن کے آگے بھاگ رہے ہوں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس روایت کے اور طرق بھی ہیں ‘ جو آگے چل کر ’’ دوبارہ زندہ کیے جانے ‘‘ سے متعلق باب میں آئیں گے ۔

1141

Majma al-Zawaid #1141

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "" غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعَرَبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated: They asked, "O Messenger of Allah, how will you recognize those you have not seen of your nation?" He ﷺ said: > **"[They will be] radiant with white blazes on their foreheads and luminous marks on their limbs from ablution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے اپنی امت کے جن افراد کو نہیں دیکھا آپ ﷺ اُنہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کی وجہ سے روشن اور چمکدار ( پیشانیوں کے مالک ) ہونگے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عربی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

1142

Majma al-Zawaid #1142

«وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "" غُرًّا "". أَحْسَبُهُ قَالَ: "" مُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated: It was said, "O Messenger of Allah, how will you recognize those of your nation whom you have not seen?" He ﷺ said: > **"[They will have] white blazes—" and I believe he added: "—and luminous marks on their limbs from the traces of ablution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ اُس شخص کو کیسے پہچانیں گے ؟ اپنی امت کے جس شخص کو آپ ﷺ نے نہ دیکھا ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چمک کی وجہ سے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وضو کے آثار کی وجہ سے ‘ وہ روشن ہونگے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

1143

Majma al-Zawaid #1143

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي: مَنْ يَرْعَى لَنَا إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقُ فَنَقْتَبِسُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَعَلِّي مَغْبُونٌ، أَيَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَحَضَرْتُ يَوْمًا، فَسَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ تَقَدَّمَ، وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه said: "I arrived among twelve mounted men until we dismounted before the Messenger of Allah ﷺ. My companions said, 'Who will tend to our camels while the rest of us go and learn from the Messenger of Allah ﷺ, and when he returns, we will impart to him what we heard?' I said, 'I will.' Then I said to myself, 'Perhaps I am at a loss: shall my companions hear from the Messenger of Allah ﷺ what I do not hear?' So one day I attended [his gathering], and I heard a man saying: The Prophet of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs a complete ablution and then stands for prayer shall be freed from his sins just as he was on the day his mother gave birth to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بارہ افراد سمیت آیا ‘ یہاں تک کہ ہم نبی اکرم ﷺ ( کے شہر مبارک ) میں حاضر ہوئے میرے ساتھیوں نے کہا : کون شخص اونٹوں کی دیکھ بھال کرے گا ؟ تاکہ ہم جا کر نبی اکرم ﷺ سے استفادہ کریں ‘ جب ہم واپس آئیں گے ‘ تو اُسے وہ بتا دیں گے ‘ جو ہم نے نبی اکرم ﷺ سے سنا تھا ‘ میں نے کہا : میں ایسا کروں گا ‘ پھر میں نے بعد میں سوچا ‘ اس حوالے سے میں تو نقصان میں رہوں گا ‘ کیونکہ میرے ساتھی جو بات سن لیں گے ‘ وہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے نہیں سنی ہو گی ‘ ایک دن میری موجودگی میں ‘ میں نے ایک شخص کو سنا ‘ وہ بیان کر رہا تھا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص پورا وضو کرے اور پھر نماز کے لیے کھڑا ہو جائے ‘ تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جاتا ہے ‘ جیسے اُس دن تھا ‘ جب اُس کی والدہ نے اُسے جنم دیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ مکمل روایت کتاب الایمان میں گزر چکی ہے اور اس روایت پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔

1144

Majma al-Zawaid #1144

وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الطَّهُورِ فَقَالَ: "" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُمَضْمِضُ فَاهُ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِلِسَانِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَلَا يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَلَا يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ إِلَّا كَانَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَقَدْ جَمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Lubābah ibn ʿAbd al-Mundhir رضي الله عنه said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ concerning purification (ablution), and he said: > **"No Muslim rinses his mouth except that Allah forgives him every sin committed by his tongue that day; nor does he wash his hands except that Allah forgives him whatever his hands committed that day; nor does he wipe his head except that he becomes [as free of sins] as on the day his mother gave birth to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے طہارت حاصل کرنے ( یعنی وضو کے ) کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو مسلمان ( وضو کرتے ہوئے ) اپنا منہ دھوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے ہر اس گناہ کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ جس کا ارتکاب اس شخص نے اس دن میں ‘ اپنی زبان کے ذریعے کیا ہو اور جب آدمی اپنے بازو دھوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ جن کا ارتکاب اس کے ہاتھوں نے کیا ہو ‘ اور جب وہ اپنے سر پر مسح کرتا ہے ( تو گناہوں سے پاک ہونے کے حوالے سے ) وہ اُس دن کی مانند ہو جاتا ہے ‘ جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1145

Majma al-Zawaid #1145

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، فَيُمَضْمِضُ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ، وَلَا يَسْتَنْشِقُ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ وَجَدَ رِيحَهَا بِأَنْفِهِ، وَلَا يَغْسِلُ وَجْهَهُ إِلَّا تَنَاثَرَ مِنْ عَيْنَيْهِ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِهِمَا، وَلَا يَغْسِلُ شَيْئًا مِنْ يَدَيْهِ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ بَطَشَ بِهَا، وَلَا يَغْسِلُ شَيْئًا مِنْ رِجْلَيْهِ إِلَّا خَرَجَ مَعَ قَطْرِ الْمَاءِ كُلُّ سَيِّئَةٍ مَشَى بِهِمَا إِلَيْهَا، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَسَنَةٌ، وَمُحِيَ بِهَا عَنْهُ سَيِّئَةٌ، حَتَّى يَأْتِيَ مَقَامَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No Muslim performs ablution for prayer and rinses his mouth except that every misdeed spoken by his tongue departs with the drops of water; nor does he inhale water into his nose except that every misdeed whose scent he sensed with his nose departs with the drops of water; nor does he wash his face except that every misdeed he looked upon with his eyes scatters from his eyes with the drops of water; nor does he wash any part of his arms except that every misdeed struck by them departs with the drops of water; nor does he wash any part of his feet except that every misdeed he walked toward with them departs with the drops of water. Then, when he departs for the mosque, a good deed is recorded for him for every step he takes, and an evil deed is erased from him, until he arrives at his place of standing [for prayer]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو مسلمان نماز کے لیے وضو کرتا ہے ‘ تو جب وہ کلی کرتا ہے ‘ تو پانی کے قطروں کے ساتھ اس کا ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس کی زبان نے کلام کیا تھا ‘ جب وہ ناک میں پانی ڈالتا ہے ‘ تو پانی کے قطروں کے ساتھ اس کا ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی بو کو اس نے اپنی ناک کے ذریعے محسوس کیا تھا ‘ جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ‘ تو پانی کے قطروں کے ہمراہ اس کی آنکھوں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ‘ جس کی طرف اس نے ان دونوں آنکھوں کے ذریعے دیکھا تھا ‘ جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے ‘ تو پانی کے قطروں کے ہمراہ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ‘ جس کو اس نے ہاتھ کے ذریعے پکڑا تھا ‘ جب وہ پاؤں دھوتا ہے ‘ تو پانی کے قطروں کے ہمراہ ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے ‘ جس کی طرف وہ اپنے پاؤں کے ذریعے چل کر گیا تھا ‘ پھر جب وہ مسجد کی طرف جاتا ہے ‘ تو ہر ایک قدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ‘ اور اس کے ایک گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ پر پہنچ جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ یہ ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1146

Majma al-Zawaid #1146

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ بَاتَ طَاهِرًا بَاتَ فِي شِعَارِهِ مَلَكٌ، فَلَا يَسْتَيْقِظُ مِنْ لَيْلٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ كَمَا بَاتَ طَاهِرًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ. وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْعَبَّاسُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: يَرْوِي عَنْ عَطَاءٍ، وَسَاقَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ. قُلْتُ: قَدْ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ عَنْ عَطَاءٍ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، كَذَلِكَ هُوَ عِنْدَ الْبَزَّارِ، وَأَرْجُو أَنَّهُ حَسَنُ الْإِسْنَادِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ فِيمَنْ يَبِيتُ طَاهِرًا فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا، وَلَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «طَهِّرُوا هَذِهِ الْأَجْسَادَ طَهَّرَكُمُ اللَّهُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ عَبْدٌ يَبِيتُ طَاهِرًا إِلَّا بَاتَ مَعَهُ مَلَكٌ فِي شِعَارِهِ، لَا يَنْقَلِبُ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِكَ ; فَإِنَّهُ بَاتَ طَاهِرًا» "".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever spends the night in a state of purity, an angel spends the night within his undergarment. He does not awaken at any hour of the night except that the angel supplicates: 'O Allah, forgive Your servant, as he spent the night in a state of purity.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص باوضو حالت میں رات گزارتا ہے ‘ تو اس کے لحاف میں ایک فرشتہ بھی رات بھر رہتا ہے ‘ وہ شخص رات میں جس وقت بھی بیدار ہوتا ہے ‘ تو فرشتہ یہ کہتا ہے : اے اللہ ! تو اپنے بندے کی مغفرت کر دے ‘ کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی میمون بن زید ہے ‘ امام ذہبی فرماتے ہیں : ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عباس بن عقبہ ہے ‘ امام ذہبی فرماتے ہیں : اس نے عطاء سے روایات نقل کی ہیں ‘ انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے اور یہ بات بیان کی ہے : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت سلیمان احول نے عطاء سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ’’ صحیح ‘‘ کے رجال میں سے ایک ہیں ‘ امام بزار نے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ‘ تو مجھے یہ امید ہے کہ یہ سند کے حوالے سے ’’ حسن ‘‘ ہو گی ‘ اس سے پہلے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے ‘ جو اس شخص کے بارے میں ہے ‘ جو باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ‘ اور یہ حدیث اس سے پہلے والے باب میں گزری ہے ‘ امام طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے جسموں کو پاک رکھا ! اللہ تعالیٰ تمہیں پاک کر دے گا ، جو شخص باوضو حالت میں رات بسر کرتا ہے ‘ تو اس کے ہمراہ اس کے لحاف میں ایک فرشتہ رات گزارتا ہے ‘ وہ شخص رات میں جس وقت بھی اٹھتا ہے ( یا پہلو بدلتا ہے ) تو وہ فرشتہ یہ کہتا ہے : اے اللہ ! تو اپنے بندے کی مغفرت کر دے ! کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے ‘‘۔

1147

Majma al-Zawaid #1147

عَنْ أَبِي الْجَنُوبِ قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ فَقَالَ: مَهْ يَا أَبَا الْجَنُوبِ، فَإِنِّي رَأَيْتُ عُمَرَ يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ، فَقَالَ: مَهْ يَا أَبَا الْحَسَنِ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَقِي مَاءً لِوُضُوئِهِ، فَبَادَرْتُهُ أَسْتَقِي لَهُ فَقَالَ: "" مَهْ يَا عُمَرُ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُشْرِكَنِي فِي طَهُورِي أَحَدٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو الْجَنُوبِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Janūb said: "I saw ʿAlī [ibn Abī Ṭālib] رضي الله عنه drawing water for his ablution, so I hastened to draw it for him. He said: 'Refrain, O Abū al-Janūb! For indeed, I saw ʿUmar [ibn al-Khaṭṭāb] drawing water for his ablution, and I hastened to draw it for him. He said: 'Refrain, O Abū al-Ḥasan! For indeed, I saw the Messenger of Allah ﷺ drawing water for his ablution, and I hastened to draw it for him, whereupon he ﷺ said: > **"Refrain, O ʿUmar! Indeed, I dislike having anyone share with me in my purification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو جنوب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی لیا ‘ میں لپک کر ان کی طرف گیا ‘ تاکہ انہیں وضو کروا دوں ‘ تو انہوں نے فرمایا : اے ابوجنوب ! رک جاؤ ! ایک مرتبہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کے لیے پانی لیا ‘ میں انہیں وضو کروانے کے لیے آگے ہوا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اے ابوالحسن ! رک جاؤ ! ( انہوں نے یہ بتایا : ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ وضو کرنے لگے ہیں ، میں آپ کو وضو کروانے کے لیے آگے ہوا ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے عمر ! رک جاؤ ‘ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں ‘ کہ میرے وضو میں کوئی میرا شریک ہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔

1148

Majma al-Zawaid #1148

«وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ لِلْمَغِيبِ وَمَعِي كُوزٌ مِنْ مَاءٍ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ وَقَعَدْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ، فَوَضَّأْتُهُ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه said: > **"I went out with the Messenger of Allah ﷺ when the sun had set—or when it turned yellow nearing sunset—and I had with me a pitcher of water. The Messenger of Allah ﷺ went to relieve himself, and I sat waiting for him until he returned, and I helped him perform ablution..."** [The narrator mentioned the rest of the hadith.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اُس وقت نکلا ‘ جب سورج غروب ہو گیا تھا ‘ یا غروب ہونے کے قریب تھا ‘ میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا ‘ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ‘ میں آپ کے انتظار میں رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ واپس تشریف لائے ‘ تو میں نے آپ ﷺ کو وضو کروایا ...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1149

Majma al-Zawaid #1149

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ سِنَانٍ عَنْ أَنَسٍ، وَعَنْهُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah does not accept charity from misappropriated spoils, nor prayer without purification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ حرام مال سے صدقہ ‘ اور وضو کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابن سنان نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور اس سے یزید بن ابوحبیب نے نقل کیا ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابن سنان کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

1150

Majma al-Zawaid #1150

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ إِلَّا بِطَهُورٍ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَرَّانِيُّ، قِيلَ فِيهِ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-ʿAwwām رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No prayer is accepted except with purification, and no charity from misappropriated spoils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وضو کے بغیر نماز ‘ اور حرام مال میں سے دیا جانے والا صدقہ قبول نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی وہب بن حفص حرانی ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ کذاب ہے ۔

1151

Majma al-Zawaid #1151

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طَهُورٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْقُرْدُوَانِيُّ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah does not accept charity from misappropriated spoils, nor prayer without purification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ حرام مال سے صدقہ ‘ اور وضو کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن یزید قردوانی ہے ‘ اس کے حوالے سے اس کے بیٹے محمد کے علاوہ کسی اور نے روایت نقل نہیں کی ہے .

1152

Majma al-Zawaid #1152

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طَهُورٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: "I heard the Prophet ﷺ say: > **"Allah does not accept a prayer without purification, nor charity from misappropriated spoils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو ‘ اور حرام مال میں سے ( دیے جانے والے ) صدقے کو قبول نہیں کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن احمد عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔