وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ، فَقَامَ إِلَى وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ، حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ، وَقَامَ إِلَى صِلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ "". قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَيْ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَا مَرَّتَيْنِ، وَلَا ثَلَاثٍ، وَلَا أَرْبَعٍ، وَلَا خَمْسٍ، وَلَا سِتٍّ، وَلَا سَبْعٍ، وَلَا ثَمَانٍ، وَلَا تِسْعٍ، وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
EnglishUnverified translation
Abū Ghālib narrated that he met Abū Umāmah رضي الله عنه in Ḥimṣ and questioned him about various matters. Abū Umāmah related to them that he heard the Prophet ﷺ saying: > **"No Muslim servant hears the call to prayer and stands up for his ablution, except that he is forgiven with the very first drop of that water that touches his palm, and according to the number of those drops until he completes his ablution, except that all his past sins are forgiven, and he stands for his prayer while it is an extra reward (nāfilah) for him."** Abū Ghālib said: I asked Abū Umāmah, "Did you hear this directly from the Prophet ﷺ?" He replied: "Yes, by the One Who sent him with the truth as a bearer of glad tidings and a warner—not just once, nor twice, nor thrice, nor four times, nor five, nor six, nor seven, nor eight, nor nine, nor ten, nor twenty times!" and he clapped his hands together.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوغالب بیان کرتے ہیں :’’ حمص ‘‘ میں اُن کی ملاقات حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ انہوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیا ‘ تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو مسلمان بندہ نماز کے لئے اذان سن کر وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اس پانی میں سے اس کی ہتھیلی کو جو پہلا قطرہ لگتا ہے اس کے ہمراہ اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ان قطروں کے حساب سے ( اس کی مغفرت ہوتی ہے ) یہاں تک کہ جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے ‘ تو اس کے گزشتہ تمام گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ‘ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ‘ تو وہ اس کے لئے اضافی ( اجر و ثواب کے حصول کا باعث ) ہوتی ہے ‘‘۔ ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ خوشخبری سنانے والا ‘ اور ڈرانے والا ‘ بنا کر مبعوث کیا ہے ‘ ایک مرتبہ نہیں ، دو مرتبہ نہیں ، تین مرتبہ نہیں ‘ چار مرتبہ نہیں ، پانچ مرتبہ نہیں ‘ چھ مرتبہ نہیں ‘ سات مرتبہ نہیں ، آٹھ مرتبہ نہیں ‘ نو مرتبہ نہیں ، دس مرتبہ نہیں ‘ دس ( مزید ) مرتبہ ( نہیں ، یعنی اس سے بھی زیادہ مرتبہ ‘ میں نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ) اُنہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر یہ بات کہی تھی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔