Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 3 · Chapter 12

Book of Purification

Hadith 1433–1472

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1433

Majma al-Zawaid #1433

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لِرَأْسِكَ؟ "" قَالَ: دَعَوْتَنِي وَأَنَا مَعَ أَهْلِي، فَخِفْتُ أَنْ أَحْتَبِسَ عَلَيْكَ فَعَجِلْتُ، فَقُمْتُ وَصَبَبْتُ عَلَيَّ الْمَاءَ ثُمَّ خَرَجْتُ، فَقَالَ: "" هَلْ كُنْتَ أَنْزَلْتَ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَلَا تَغْتَسِلَنَّ، اغْسِلْ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَزَيْدٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ went looking for a man from the Anṣār and called him. The Anṣārī came out with water dripping from his head. The Messenger of Allah ﷺ said, "What is the matter with your head?" He replied, "You called me while I was with my wife, and fearing that I would delay you, I hurried, stood up, poured water over myself, and came out." He ﷺ asked, "Had you ejaculated?" He said, "No." The Prophet ﷺ said: > **"Whenever you do that, do not take a bath; wash whatever touched the woman from you, and perform ablution as you do for prayer, for water [ghusl] is only necessitated by water [ejaculation]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دروازے پر تشریف لائے ‘ آپ ﷺ نے سلام کیا ‘ وہ شخص اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ‘ اُس نے بیوی کی قربت میں آپ کو سلام کا جواب دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دوسری مرتبہ سلام کیا ‘ تو اُس شخص نے ( سلام کا ) جواب دے دیا ‘ لیکن اُٹھا نہیں ، جب نبی اکرم ﷺ کو اندر آنے کا نہیں کہا گیا ‘ تو آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے ‘ وہ شخص فارغ ہونے سے پہلے اُٹھا اور نبی اکرم ﷺ کو تلاش کرتا ہوا آپ کے پیچھے آیا ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو وہ کھڑا ہوا تھا ‘ ہم اس کے پاس اکٹھے ہو گئے ‘ اس نے اپنے گھر کے پاس موجود ایک ندی میں غسل کیا تھا ‘ جب وہ آیا تو وہ غسل کر چکا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے غسل کر لیا ہے ‘ حالانکہ اس پر غسل واجب نہیں ہوا ہے ‘ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں معذرت کرنے کے لیے آیا ‘ اس نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے غسل کر لیا ‘ حالانکہ تم پر غسل واجب نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرے ‘ اور اُسے انزال نہ ہو ‘ تو غسل لازم نہیں ہو گا ‘‘ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ‘ امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن شعیب کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔

1434

Majma al-Zawaid #1434

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" مَا حَبَسَكَ؟ "" قَالَ: كُنْتُ حِينَ أَتَانِي رَسُولُكَ عَلَى الْمَرْأَةِ، فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: "" وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَغْتَسِلُ مَا لَمْ تُنْزِلْ "". قَالَ: فَكَانَ الْأَنْصَارُ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ sent for a man from the Anṣār, and he was slow in coming. He ﷺ asked, "What kept you?" The man replied, "When your messenger came to me, I was upon my wife, so I stood up and took a bath." He ﷺ said: > **"There was no burden upon you if you did not bathe, as long as you did not ejaculate."** The narrator said: "And the Anṣār used to act upon that."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک انصاری شخص کو طلب کرنے کے لیے تشریف لے گئے ‘ آپ ﷺ نے اُسے بلایا ‘ جب وہ انصاری گھر سے باہر آیا ‘ تو اُس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے سر کو کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : جب آپ نے مجھے بلایا تھا ‘ اس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ تھا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میری وجہ سے آپ کو انتظار نہ کرنا پڑے ‘ میں جلدی سے اُٹھا میں نے اپنے اوپر پانی بہایا اور باہر آ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہیں انزال ہو گیا تھا ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم اس طرح کرو ‘ تو غسل ہرگز نہ کرو ‘ عورت کا جو مواد تمہیں لگ جاتا ہے ‘ اُس کو دھو لو ‘ اور پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو ‘ کیونکہ پانی ‘ پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے زید بن سعد کے حوالے سے ‘ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے نقل کی ہے ‘ ابوسلمہ نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اور زید نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے ‘ میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

1435

Majma al-Zawaid #1435

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ، وَالْأَنْصَارِيُّ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ الثَّانِيَةَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَلَمْ يَقُمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ لَمَّا لَمْ يَأْذَنْ لَهُ. فَقَامَ الْآخَرُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ وَخَرَجَ فِي أَثَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُهُ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، وَاغْتَسَلَ الرَّجُلُ فِي نَهْرٍ إِلَى جَانِبِ دَارِهِ، فَأَقْبَلَ وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدِ اغْتَسَلَ وَمَا وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ ""، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَعْتَذِرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِأَمْرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اغْتَسَلْتَ وَلَمْ يَجِبْ عَلَيْكَ الْغُسْلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَفِي الْبَزَّارِ عَنْهُ: "" «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَأَقْحَطَ فَلَا غُسْلَ» "". وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبٍ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ came to the door of a man from the Anṣār and greeted him with Salām while the Anṣārī was upon his wife. He returned the greeting while upon her. The Prophet ﷺ gave Salām a second time, and he returned it but did not stand up. Then the Prophet ﷺ turned to leave when permission was not granted. The man immediately stood up before finishing, and went out following the footsteps of the Prophet ﷺ seeking him. Abū Hurayrah said: We came to the Prophet ﷺ while he was standing, and we gathered around him. The man had bathed in a stream next to his house, and when he approached having bathed, the Prophet ﷺ said: > **"He has taken a bath while ghusl was not obligatory upon him."** The man came apologizing to the Prophet ﷺ and explained his situation, so the Prophet ﷺ said to him: > **"You took a bath when ghusl was not obligatory upon you."** And in the narration of al-Bazzār: > **"When one of you approaches his wife and does not ejaculate (aqḥaṭa), then no ghusl is required of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دروازے پر تشریف لائے اور سلام کیا ‘ وہ انصاری اس وقت اپنی بیوی کے ساتھ تھا ‘ اس نے اسی حالت میں سلام کا جواب دیا ‘ پھر آپ نے دوسری مرتبہ سلام کیا ‘ اس نے جواب دیا اور اٹھ کر نہ آیا ‘ پھر جب اس نے آپ کو اجازت نہ دی تو آپ واپس تشریف لے گئے ‘ وہ شخص فارغ ہونے سے پہلے اٹھا اور نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں آپ کے پیچھے نکلا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ آپ کھڑے تھے ‘ ہم آپ کے گرد جمع ہو گئے ‘ اس شخص نے اپنے گھر کے پاس والی نہر میں غسل کیا ‘ وہ غسل کر کے آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس نے غسل کیا ہے حالانکہ اس پر غسل واجب نہیں ہوا تھا ‘‘۔ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں معذرت کرتے ہوئے حاضر ہوا اور آپ کو اپنا معاملہ بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے غسل کیا حالانکہ تم پر غسل واجب نہیں ہوا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے ان کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو غسل نہیں ہے ‘‘۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن شعیب کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

1436

Majma al-Zawaid #1436

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَذَكَرَ كَلَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَقْحَطَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَكْسَلَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَبَا إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيَّ ; فَإِنَّهُ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ called a man from the Anṣār, and he was slow to come out. When he emerged, he stated his excuse, so the Prophet ﷺ said: > **"When one of you does not ejaculate (aqḥaṭa) or feels languor without emission (aksala), no ghusl is incumbent upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا ‘ اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ‘ پھر وہ باہر آیا اور اس نے کلام ( یعنی تاخیر کی وجہ کو ) ذکر کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص کو انزال نہ ہوا ہو ‘ تو اس پر غسل ( لازم ) نہیں ہو گا ‘ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف ابواسرائیل ملائی کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے ‘ بعض حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1437

Majma al-Zawaid #1437

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا لَمْ نُنْزِلُ لَمْ نَغْتَسِلْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا ابْنِ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ يُدَلِّسُ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd ibn Rifāʿah reported that his father رضي الله عنه said: > **"We used to do that in the era of the Messenger of Allah ﷺ: if we did not ejaculate, we would not perform ghusl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن رفاعہ ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے ‘ کہ جب ہمیں انزال نہیں ہوتا تھا ، تو ہم غسل بھی نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے ۔

1438

Majma al-Zawaid #1438

وَعَنْ بَعْضِ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ وَخَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ فَاغْتَسَلْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا عَلَيْكَ، الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ "". قَالَ رَافِعٌ: ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغُسْلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: عَنْ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

One of the sons of Rāfiʿ ibn Khadīj reported from Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه, who said: The Messenger of Allah ﷺ called out to me while I was upon my wife. I stood up before ejaculating, took a bath, and went out to the Messenger of Allah ﷺ. I informed him, saying, "You called me while I was upon my wife, so I got up before ejaculating and took a bath." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"No blame upon you; water [ghusl] is only necessitated by water [ejaculation]."** Rāfiʿ added: > **"Thereafter, the Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform ghusl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ‘ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ بیان منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا میں اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا ، میں اُٹھ گیا ، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ، میں نے غسل کیا ‘ اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ‘ میں نے آپ کو بتایا کہ جب آپ نے مجھے بلایا تھا ‘ اُس وقت میں اپنی بیوی کے قریب تھا ‘ میں اُٹھ گیا ‘ ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا ‘ اور میں نے غسل کر لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر کوئی گناہ نہیں ہونا تھا ‘ کیونکہ پانی ‘ پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایسی صورتحال میں غسل کرنے کا حکم دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : یہ سہل بن رافع کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے منقول ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

1439

Majma al-Zawaid #1439

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ - وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ. قَالَ: أَعْجِلْ عَلَيَّ بِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ، أَوْ لَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْيِكَ؟! قَالَ: مَا فَعَلْتُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: أَيُّ عُمُومَتِكَ؟ قَالَ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ. فَالْتَفَتَ عُمَرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - إِلَيَّ فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: سَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ. قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ، إِلَّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقَالَا: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - قَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَعْنِي تَغَيَّظَ - ثُمَّ قَالَ: لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: ثُمَّ أَفَاضُوا فِي الْعَزْلِ، فَقَالُوا: لَا بَأْسَ، فَسَارَّ رَجُلٌ صَاحِبَهُ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمُنَاجَاةُ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى. فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّهَا لَا تَكُونُ مَوْءُودَةً حَتَّى تَمُرَّ بِسَبْعِ تَارَاتٍ ; قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ - ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ} [المؤمنون: 12 - 13] إِلَى قَوْلِهِ: {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: 14]. قَالَ: فَتَفَرَّقُوا عَلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Rifāʿah ibn Rāfiʿ رضي الله عنه—who was a participant of the Pledge of al-ʿAqabah and the Battle of Badr—said: I was with ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه when it was said to him, "Zayd ibn Thābit is issuing fatwas to people in the mosque based on his personal opinion regarding one who has intercourse without ejaculating." ʿUmar said, "Bring him to me at once!" When he was brought, ʿUmar said, "O enemy of his own soul, have you reached the point of issuing fatwas to people in the Mosque of the Messenger of Allah ﷺ based on your personal opinion?!" Zayd replied, "I did not do so; rather, my uncles narrated to me from the Messenger of Allah ﷺ." ʿUmar asked, "Which of your uncles?" He answered, "Ubayy ibn Kaʿb, Abū Ayyūb, and Rifāʿah ibn Rāfiʿ." ʿUmar turned to me and asked, "What is this young man saying?" I said, "We used to do that in the era of the Messenger of Allah ﷺ." ʿUmar asked, "Did you ask the Messenger of Allah ﷺ about it?" I said, "We simply used to do it during his time." ʿUmar then gathered the people [Companions], and they all initially agreed that "water is only from water," except ʿAlī ibn Abī Ṭālib and Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنهما, who both said: "When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl becomes obligatory." ʿAlī said, "O Commander of the Believers, the most knowledgeable of people concerning this matter are the wives of the Prophet ﷺ." So ʿUmar sent an inquiry to Ḥafṣah رضي الله عنها, and she replied, "I have no knowledge of that." Then he sent to ʿĀʾishah رضي الله عنها, who said: > **"When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl becomes obligatory."** Upon this, ʿUmar became furious and declared: > **"Let it not reach me that anyone engages in intercourse without performing ghusl except that I shall severely punish him!"** The narrator added: Then they discussed coitus interruptus (al-ʿazl), and they considered it permissible. A man whispered to his companion, so ʿAlī asked, "What is this whispering?" One of them said, "He claims that it is the minor burying alive of infants (al-mawʾūdah al-ṣughrā)." ʿAlī said: > **"It cannot be considered burying alive until it passes through seven stages: Allah, the Mighty and Majestic, said: {And certainly did We create man from an extract of clay. Then We placed him as a sperm-drop in a firm lodging...} up to His words: {...so blessed is Allah, the Best of creators.} [al-Muʾminūn: 12-14]."** So the Companions dispersed having agreed with the verdict of ʿAlī ibn Abī Ṭālib that there is no harm in coitus interruptus.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ‘ جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ‘ جب انہیں یہ بتایا گیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کو یہ فتوی دیتے ہیں ، جو اُن کی اپنی رائے کی بنیاد پر ہے کہ جو شخص صحبت کرے اور اسے انزال نہ ہو ‘ تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے جلدی سے میرے پاس لاؤ ، انہیں لایا گیا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم اللہ کے رسول کی مسجد میں ‘ اپنی رائے کی بنیاد پر لوگوں کو فتوی دیتے ہو ؟ انہوں نے کہا : میں نے ایسا نہیں کیا ‘ میرے چچاؤں نے ‘ اللہ کے رسول ﷺ کے حوالے سے مجھے حدیث بیان کی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ دریافت کیا : تمہارے کون سے چچا نے ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ‘ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : یہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے ؟ میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا ؟ تو حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ نے یہی کہا کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کیا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اکٹھا کیا ، تو لوگوں کو اس بات پر اتفاق تھا کہ غسل صرف منی کے خروج کی وجہ سے لازم ہوتا ہے ‘ صرف حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا ‘ ان دونوں حضرات کا یہ کہنا تھا : کہ جب شرمگاہ ‘ شرمگاہ سے مل جائے ‘ تو غسل واجب ہو جاتا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امیر المومنین ! اس مسئلے کے بارے میں سب سے زیادہ علم ‘ نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے پاس ہو گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ‘ تو انہوں نے فرمایا : مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ‘ تو انہوں نے فرمایا : جب شرمگاہ ‘ شرمگاہ سے مل جائے ‘ تو غسل واجب ہو جائے گا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غصے کا اظہار کیا ‘ اور ارشاد فرمایا : اب اگر مجھے کسی کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ اُس نے ایسا کیا ہے ‘ تو میں اُسے سزا دوں گا ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ‘ ویسے وہ ثقہ ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر ان لوگوں نے غزل کے بارے میں گفتگو شروع کی ‘ تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ ایک شخص نے سرگوشی میں اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی بات چیت کی ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا : یہ کہہ رہا ہے : یہ تو چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : زندہ درگور کرنا ‘ یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُس پر سات مراحل نہیں گزر جاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا ‘ پھر ہم نے اسے ایک مضبوط جگہ پر نطفہ کی شکل میں رکھ دیا ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سب لوگ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق قائل ہو کر منتشر ہوئے ‘ کہ اس ( یعنی عزل کرنے ) میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

1440

Majma al-Zawaid #1440

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl becomes obligatory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب شرمگاه ‘ شرمگاہ سے مل جائے ‘ تو غسل واجب ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1441

Majma al-Zawaid #1441

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ مِنَ الْجِمَاعِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَعَمَّا يَحِلُّ مِنَ الْحَائِضِ. فَقَالَ مُعَاذٌ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "" إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَتَوَشَّحَ بِهِ، وَأَمَّا مَا يَحِلُّ مِنَ الْحَائِضِ فَإِنَّهُ يَحِلُّ مِنْهَا مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَاسْتِعْفَافُهُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ قِصَّةَ الْحَائِضِ، وَرِجَالُ أَبِي دَاوُدَ فِيهِمْ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ، وَإِسْنَادُ هَذَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿĀʾidh said: A man asked Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه about what obligates ghusl from sexual intercourse, about praying in a single garment, and about what is lawful with a menstruating wife. Muʿādh said: I asked the Messenger of Allah ﷺ concerning that, and he said: > **"When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl becomes obligatory. As for praying in a single garment, wrap it across your shoulders (tawashshaḥ bihi). And as for what is lawful with a menstruating woman, whatever is above the waist-wrapper (izār) is lawful, though abstaining even from that is more virtuous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : صحبت کرنے کے حوالے سے کون سی چیز غسل کو واجب کرتی ہے ؟ ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کا حکم کیا ہے ؟ اور حیض والی عورت کے ساتھ کس حد تک تعلق جائز ہے ؟ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تھا : تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب شرمگاہ ‘ شرمگاہ سے مل جائے ‘ تو غسل واجب ہو جاتا ہے ‘ جہاں تک ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کا تعلق ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے توشیح کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کی تھی ، جہاں تک حیض والی عورت کے ساتھ قربت کا تعلق ہے ‘ تو تہبند سے اوپر والے حصے کے ساتھ تعلق رکھنا جائز ہے ، لیکن اس سے بھی بچ کے رہنا ‘ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابوداؤد نے اس میں سے حیض والی عورت کا واقعہ ذکر کیا ہے ‘ امام ابوداؤد کے رجال میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے کی وجہ سے ضعیف ہے ‘ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

1442

Majma al-Zawaid #1442

وَعَنِ ابْنِ السِّمْطِ قَالَ: سَمِعَتْ بِلَالًا يَقُولُ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا خَالَطْتُ أَهْلِي فَاخْتَلَعْنَا وَلَمْ أُمْنِ، أَغْتَسِلُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَعَ أَهْلِي فَلَمْ أُمْنِ، فَاغْتَسَلْنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْوَسَاوِسِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Simṭ said: I heard Bilāl رضي الله عنه saying: I asked, "O Messenger of Allah, when I have relations with my wife and we separate without my having ejaculated, do I take a bath?" He ﷺ replied: > **"Yes. I have done that with my wife without ejaculating, and we both took a bath."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سمط بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب میں اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرتا ہوں ، لیکن انزال سے پہلے ہم الگ ہو جاتے ہیں ، تو کیا میں غسل کروں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں کبھی میں بھی اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرتا ہوں اور مجھے انزال نہیں ہوتا ، لیکن ہم غسل کر لیتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی وساوسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1443

Majma al-Zawaid #1443

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنِ الْقَاسِمِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl (ritual bath) becomes obligatory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب شرمگاہ ‘ شرمگاہ سے مل جائے ‘ تو غسل واجب ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے جعفر بن زبیر نے قاسم سے نقل کیا ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

1444

Majma al-Zawaid #1444

وَعَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ، قَالُوا: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, ʿAbdullāh ibn Masʿūd, and ʿĀʾishah رضي الله عنهم said: > **"When the circumcised part passes the circumcised part, ghusl becomes obligatory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : ’’ جب شرمگاہ ‘ شرمگاہ سے مل جائے ، تو غسل واجب ہو جاتا ہے ‘‘۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1445

Majma al-Zawaid #1445

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ الْمَرْأَةَ فَلَا يُمَنِي. قَالَ: أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنَ الْمَرْأَةِ اغْتَسَلْتُ. قَالَ: سُفْيَانُ وَالْجَمَاعَةُ عَلَى الْغُسْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm al-Nakhaʿī reported: ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه was asked about a man who has intercourse with his wife but does not ejaculate. He replied: > **"As for me, whenever I do that with my wife, I perform ghusl."** Sufyān said: And the consensus of scholars is that ghusl is obligatory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ جو عورت کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا ‘ تو انہوں نے فرمایا : مجھے جب اپنی اہلیہ کے ساتھ اس طرح کی صورتحال درپیش ہوتی ہے ‘ تو میں غسل کر لیتا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سفیان اور اہل علم کی ایک جماعت غسل ( لازم ہونے ) کی قائل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

1446

Majma al-Zawaid #1446

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا احْتَلَمَ نَبِيٌّ قَطُّ، إِنَّمَا الِاحْتِلَامُ مِنَ الشَّيْطَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"No prophet ever experienced a wet dream; nocturnal emission is only from Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کسی بھی نبی کو کبھی احتلام نہیں ہوا ‘ کیونکہ احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

1447

Majma al-Zawaid #1447

وَعَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ أَنَّهَا «قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahlah bint Suhayl رضي الله عنها reported: She asked, "O Messenger of Allah, must one of us perform ghusl if she experiences a wet dream?" The Messenger of Allah ﷺ replied: > **"Yes, if she sees traces of fluid."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم عورتوں میں سے کسی ایک کو اگر احتلام ہو جائے ‘ تو کیا وہ غسل کرے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان دیکھے ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1448

Majma al-Zawaid #1448

وَعَنْهَا أَنَّهَا «سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَصْنَعُ الشَّيْءَ تَعْطِفُ بِهِ زَوْجَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا، وَلَا خَلَاقَ فِي الْآخِرَةِ "". قَالَتْ: أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي مَنَامِهَا الِاحْتِلَامَ، أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahlah bint Suhayl رضي الله عنها reported that she asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman who uses a charm to turn her husband's affection toward her. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is merely a worldly gratification, and she will have no share of reward in the Hereafter."** She then asked, "What is your ruling if a woman sees a wet dream in her sleep—must she perform ghusl?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"If she sees fluid, let her perform ghusl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس خاتون کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا ‘ جو کوئی ایسا کام کرتی ہے ‘ جس کے ذریعے وہ اپنے شوہر کو حرام کر لے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ دنیاوی فائدہ ہے ‘ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا ، اس خاتون نے عرض کی : ایسی عورت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو خواب میں احتلام دیکھتی ہے ‘ کیا وہ غسل کرے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان دیکھے گی ) تو وہ غسل کرے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1449

Majma al-Zawaid #1449

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported: Umm Sulaym رضي الله عنها—the mother of Anas ibn Mālik رضي الله عنه—asked the Prophet ﷺ, saying, "O Messenger of Allah, does a woman see what a man sees in a dream?" The Messenger of Allah ﷺ said to her: > **"If a woman sees that and discharges fluid, let her perform ghusl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ ‘ جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر عورت بھی وہ چیز دیکھے ‘ جو مرد دیکھتا ہے ( یعنی اگر عورت کو احتلام ہو جائے ‘ تو کیا حکم ہے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب عورت وہ چیز دیکھے اور اُسے انزال ہو جائے ‘ تو اُسے غسل کرنا چاہیے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ایلی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، محمد بن سعد نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

1450

Majma al-Zawaid #1450

وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: «كَانَتْ مُجَاوِرَةً أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّ زَوْجَهَا جَامَعَهَا فِي الْمَنَامِ، أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، وَإِنَّا أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا أُشْكِلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ، عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ "". فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَأَنَّى يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا؟ هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ.

EnglishUnverified translation

Isḥāq ibn ʿAbdillāh ibn Abī Ṭalḥah reported from his grandmother Umm Sulaym رضي الله عنها: She was a neighbor of Umm Salamah رضي الله عنها, the wife of the Prophet ﷺ. Umm Sulaym asked: "O Messenger of Allah, what is your view if a woman dreams that her husband has intercourse with her—must she perform ghusl?" Umm Salamah رضي الله عنها said, "May your hands be dusted with earth, O Umm Sulaym! You have disgraced the women before the Messenger of Allah ﷺ!" Umm Sulaym responded, "Indeed, Allah is not shy of the truth, and for us to ask the Prophet ﷺ concerning that which is obscure to us is better than remaining in darkness regarding it." The Prophet ﷺ said: > **"Rather, may your hands be dusted with earth, O Umm Salamah! Ghusl is obligatory upon her if she finds fluid."** Umm Salamah said, "O Messenger of Allah, does a woman have fluid?" The Prophet ﷺ said: > **"Then from where else does her child resemble her? Women are indeed the full counterparts of men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ ‘ اپنی دادی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پڑوس میں رہتی تھیں ‘ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی عورت خواب میں یہ دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر رہا ہے ‘ تو کیا وہ عورت غسل کرے گی ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے ام سلیم ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ‘ تم نے اللہ کے رسول کے سامنے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے ‘ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا ہے ، ہمیں جس معاملے میں الجھن درپیش ہوتی ہے ‘ اُس کے بارے میں ‘ ہم اللہ کے رسول سے سوال کر لیں ‘ یہ اس سے بہتر ہے کہ ہم اُس کے حوالے سے اندھیرے میں رہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ام سلمہ ! بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ‘ ایسی عورت پر غسل لازم ہو گا ‘ جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان ) پاتی ہے ‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا عورت کا بھی پانی ( یعنی احتلام کا مواد ) ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر اُس ( عورت ) کا بچہ کس وجہ سے اُس سے مشابہت رکھتا ہے ؟ یہ عورتیں بھی مردوں کی طرح ہوتی ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ یہ ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ اسحاق نامی راوی نے سیدہ ام سلیم سے سماع نہیں کیا ہے ۔

1451

Majma al-Zawaid #1451

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ، هَلْ عَلَيْهَا غُسْلٌ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ، إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: كَانَ يَكْذِبُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: I asked the Messenger of Allah ﷺ about a woman who has a wet dream: "Is ghusl obligatory upon her?" He ﷺ replied: > **"Yes, if she finds fluid, let her perform ghusl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا : جسے احتلام ہو جاتا ہے ‘ کیا اس پر غسل لازم ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان ) دیکھے ‘ تو اُسے غسل کرنا چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ‘ ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ جھوٹ بولتا ہے ۔

1452

Majma al-Zawaid #1452

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سَأَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: "" إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فُلَانَةُ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعِيهَا، فَإِنَّ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَسْأَلْنَ عَنِ الْفِقْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّفَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ: إِنَّهُ مُدَلِّسٌ فَقَطْ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: A woman from the Anṣār asked the Prophet ﷺ about a woman who sees in her sleep what a man sees. He ﷺ said: > **"If she sees that, let her perform ghusl."** ʿĀʾishah رضي الله عنها said, "O so-and-so, you have embarrassed the women!" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Leave her be, for indeed the women of the Anṣār are not prevented by shyness from inquiring about understanding the religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی اکرم ﷺ سے ‘ ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا ‘ جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے ‘ جو مرد دیکھتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب عورت یہ چیز دیکھے ‘ تو اُسے غسل کرنا چاہیئے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے فلانہ ! تم نے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے رہنے دو ! انصار کی خواتین دینی احکام کے بارے میں سوال کرتی ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید طفاوی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ صرف تدلیس کرتا ہے ‘ اور یہ روایت بھی اُس نے ’’ عنعنہ ‘‘ کے طور پر نقل کی ہے ۔

1453

Majma al-Zawaid #1453

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ أَنْزَلَتْ كَمَا يُنْزِلُ الرَّجُلُ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ، وَإِنْ لَمْ تُنْزِلْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about a woman who sees in her sleep what a man sees. The Prophet ﷺ said: > **"If she discharges fluid just as a man discharges, then ghusl is obligatory upon her; but if she does not discharge, then nothing is required of her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا : جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے ‘ جو مرد دیکھتا ہے ‘ اور اس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اسے اسی طرح انزال ہو جاتا ہے ‘ جس طرح مرد کو انزال ہوتا ہے ‘ تو اُس پر غسل واجب ہو گا ؟ اور اگر اُسے انزال نہیں ہوتا ‘ تو اُس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ یہ ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالله بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1454

Majma al-Zawaid #1454

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ عَنِ التَّعَرِّي، فَاسْتَحْيُوا مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ الَّذِينَ لَا يُفَارِقُونَكُمْ إِلَّا عِنْدَ ثَلَاثِ حَالَاتٍ: الْغَائِطُ وَالْجَنَابَةُ وَالْغُسْلُ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ بِالْعَرَاءِ فَلْيَسْتَتِرْ بِثَوْبِهِ، أَوْ بِجَذْمَةِ حَائِطٍ، أَوْ بِبَعِيرِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَيِّنٌ. قُلْتُ: جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ بَقِيَّةُ رِجَالِهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah forbids you from being naked; so be shy before the angels of Allah who never part from you except during three states: when relieving oneself, during sexual intimacy (janābah), and when bathing. Therefore, whenever one of you bathes in the open, let him screen himself with his garment, behind a remnant of a wall, or behind his camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں برہنہ ہونے سے منع کرتا ہے ‘ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فرشتوں سے حیاء کرو ‘ جو تم سے جدا نہیں ہوتے ہیں ، صرف تین صورتوں میں جدا ہوتے ہیں ‘ پاخانہ کے وقت ‘ جنابت کی حالت میں ‘ اور غسل کے وقت ‘ جب کوئی شخص کھلی جگہ پر غسل کرنے لگے ‘ تو اسے کپڑے کے ذریعے پردہ کر لینا چاہیے ‘ یا دیوار کی ‘ یا اپنے اونٹ کی اوٹ میں ہو جانا چاہیے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ‘ یہ صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جعفر بن سلیمان نامی راوی کمزور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جعفر بن سلیمان ’’ صحیح ‘‘ کے رجال میں سے ایک ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کا بھی یہی معاملہ ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

1455

Majma al-Zawaid #1455

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَعَرِّ الْمَرْءُ عِنْدَ أَرْبَعَةِ خِصَالٍ: إِذَا نَامَ مُسْتَلْقِيًا، وَإِذَا نَامَ وَحْدَهُ، وَإِذَا نَامَ فِي مِلْحَفَةٍ مُعَصْفَرَةٍ، وَإِذَا اغْتَسَلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَسِلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A person becomes exposed in four situations: when sleeping flat on his back, when sleeping completely alone, when sleeping in a saffron-dyed blanket, and when bathing in an open expanse of land. Whoever is able should not bathe in an open field; but if he must do so, let him draw a line on the ground."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی چار صورتوں میں عاری ( یعنی فرشتوں سے الگ ہو جاتا ہے ) جب وہ چیت لیٹ کر سو جائے ‘ جب وہ اکیلا ہو جائے ‘ جب وہ معصفر لحاف میں سو جائے ‘ یا جب وہ کھلی جگہ پر غسل کرے ، جو شخص استطاعت رکھتا ہو ‘ وہ کھلی جگہ پر غسل نہ کرے ‘ اگر اس نے ضرور ایسا کرنا ہو ‘ تو وہ زمین پر لکیر لگا لے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

1456

Majma al-Zawaid #1456

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ: "" اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ commanded ʿAlī رضي الله عنه, who prepared bathwater for him. The Prophet ﷺ then handed him a garment and said: > **"Screen me and turn your back toward me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، تو انہوں نے آپ کے لئے غسل کا پانی رکھا ، پھر آپ ﷺ نے انہیں کپڑا دیا اور فرمایا : اس کے ذریعے میرے لیے پردہ کر دو ‘ اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1457

Majma al-Zawaid #1457

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: «نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَأَتَيْتُهُ، فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ. قَالَتْ: إِنِّي لِأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ. قَالَتْ: فَسَتَرَهُ أَبُو ذَرٍّ، ثُمَّ سَتَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا ذَرٍّ فَاغْتَسَلَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِصَّةِ أَبِي ذَرٍّ، وَسَتْرِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْآخَرِ.

EnglishUnverified translation

Umm Hāniʾ رضي الله عنها reported: On the Day of the Conquest of Mecca, the Messenger of Allah ﷺ camped in the upper region of Mecca and I came to him. Abū Dharr رضي الله عنه brought a large bowl containing water—I could even see traces of dough in it. > **"Abū Dharr screened the Messenger of Allah ﷺ while he bathed, and then the Prophet ﷺ screened Abū Dharr while he bathed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ مکہ کے بالائی علاقے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے ‘ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بڑا برتن لے کر آئے ، جس میں پانی موجود تھا ، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اس میں آٹے کا نشان دیکھا ‘ وہ بیان کرتی ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے پردہ کیا ، پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لئے پردہ کیا ‘ تو انہوں نے بھی غسل کر لیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح “ کے رجال ہیں ‘ یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں ہے ‘ اور یہ نہیں ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے لئے پردہ کیا تھا .

1458

Majma al-Zawaid #1458

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, whenever Mūsā ibn ʿImrān (Moses) عليه السلام wished to enter the water, he would not cast off his garment until he had concealed his private parts beneath the water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب پانی میں داخل ہوتے تھے ‘ تو اپنے کپڑے اس وقت تک نہیں اتارتے تھے ‘ جب تک ان کی شرمگاہ پانی میں چھپ نہیں جاتی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ علی بن زید نامی راوی سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

1459

Majma al-Zawaid #1459

«وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَأَخَذَ حِفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهِ وَجْهِي، وَقَالَ: "" وَرَاءَكِ أَيْ لَكَاعُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zaynab bint Abī Salamah رضي الله عنها reported: She entered upon the Messenger of Allah ﷺ while he was performing ghusl. He took a handful of water, splashed it toward my face, and said: > **"Stay back, O little girl!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ اس وقت غسل کر رہے تھے ‘ آپ نے چلو میں پانی لے کر میرے چہرے پر مارا اور فرمایا : پیچھے چلے جاؤ اے لڑکی ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم وسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ۔

1460

Majma al-Zawaid #1460

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْتَسِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ، وَمَا رَأَى عَوْرَتَهُ أَحَدٌ قَطُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to bathe behind partitions, and no one ever saw his nakedness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دیواروں کے پیچھے غسل کرتے تھے اور کسی نے کبھی آپ کی شرمگاہ نہیں دیکھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ‘ جو عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

1461

Majma al-Zawaid #1461

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْتَسِلُ يَصُبُّ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: "" أَتَغْتَسِلُونَ وَلَا تَسْتَتِرُونَ؟! وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَى أَنْ تَكُونُوا خَلَفَ الشَّرِّ - يَعْنِي الْخَلَفَ الَّذِي يَكُونُ فِيهِمُ الشَّرُّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿĀmir ibn Rabīʿah reported from his father, ʿĀmir ibn Rabīʿah رضي الله عنه: He came upon us while we were bathing, pouring water over one another, and said: > **"Do you bathe without screening yourselves?! By Allah, I truly fear that you may be the evil successor generation—meaning the generation in whom evil resides."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ‘ اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ ہم لوگ اکٹھے غسل کر رہے تھے ‘ اور ایک دوسرے پر پانی ڈال رہے تھے ‘ انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ پردہ کیے بغیر غسل کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم میرے بعد میں آنے والے برے لوگ ہو گے ‘ اُن کی مراد یہ تھی کہ ایسے بعد میں آنے والے لوگ ہو جن میں برائی پائی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1462

Majma al-Zawaid #1462

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْظُرَ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي سَتْرِ الْعَوْرَةِ فِي الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade a man from looking at the nakedness (ʿawrah) of his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی شرمگاہ کی طرف دیکھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نماز کے دوران پردہ پوشی کے بارے میں احادیث آگے آئیں گی ۔

1463

Majma al-Zawaid #1463

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَعِنْدَ الْعَتَمَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَرَائِطَةُ أُمُّ وَلَدِ أَنَسٍ لَا تُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: > **"He disliked bathing at midday and at the onset of late night (ʿatamah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نصف النہار کے وقت اور شام کے وقت غسل کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ رائطہ نامی خاتون حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ’’ ام ولد ‘‘ ہے ‘ اُس کی شناخت نہیں ہو سکی .

1464

Majma al-Zawaid #1464

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ؟ قَالَ: مُدٌّ. قَالَ: كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْغُسْلِ؟ قَالَ: صَاعٌ. قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا يَكْفِينِي. قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ وَعَلَى غَيْرِهِ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِيمَا يُجْزِئُ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: A man asked, "How much water is sufficient for me for wuḍūʾ?" He said, "A mudd." The man asked, "How much water is sufficient for me for ghusl?" He replied, "A ṣāʿ." The man said, "That is not enough for me." Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"May you be bereft of your mother! It was sufficient for one who was far better than you—the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے دریافت کیا : میرے لئے وضو کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ایک مد ‘ اُس شخص نے دریافت کیا : میرے غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کر جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا : ایک صاع ‘ اُس شخص نے کہا : یہ تو میرے لئے کافی نہیں ہو گا ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ‘ یہ پانی اُن کے لیے کفایت کر جاتا تھا ‘ جو تم سے بہتر تھے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اُس پر کلام پہلے گزر چکا ہے ‘ اور دیگر احادیث بھی پہلے گزر چکی ہیں ، جو اس باب میں ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : کہ وضو اور غسل کے لئے کتنا پانی کفایت کرتا ہے ؟

1465

Majma al-Zawaid #1465

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُبُّ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا. قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ. قَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ used to pour water over his head three times with his hand. A man said, "Indeed, my hair is very thick." Abū Hurayrah رضي الله عنه replied: > **"The hair of the Messenger of Allah ﷺ was thicker than yours and purer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتے تھے ‘ ایک شخص نے کہا : میرے بال تو بہت زیادہ ہیں ، تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کے بال تم سے زیادہ تھے ‘ اور زیادہ پاکیزہ تھے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

1466

Majma al-Zawaid #1466

«وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ: إِنِّي كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ شَعْرًا وَأَطْيَبَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ تَضْعِيفًا لَيِّنًا.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه was asked by a man about performing ghusl from ritual impurity. He replied, "Three (handfuls)." The man said, "I have abundant hair." Abū Saʿīd رضي الله عنه said: > **"The Messenger of Allah ﷺ had more hair than you and was far purer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے اُن سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : تین ‘ اس نے کہا : میرے بال زیادہ ہیں ‘ تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے بال زیادہ تھے اور زیادہ پاکیزہ تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ‘ اسے یحیی بن معین نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جو ایک کمزور تضعیف ہے ۔

1467

Majma al-Zawaid #1467

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ سَأَلُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوا لَهُ: إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَعَنِ الرَّجُلِ مَا يَصْلُحُ لَهُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا. فَقَالَ: أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ؟ لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ، فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ، وَقَالَ فِيهِ: الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ فِي الْحَائِضِ: لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، عَنْ عَمْرٍو.

EnglishUnverified translation

A man from among the delegation who questioned ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported: They said to him, "We have come to ask you about three matters: a man's voluntary prayer in his house, ghusl from ritual impurity, and what is lawful for a man with his wife when she is menstruating." ʿUmar said, "Are you sorcerers? You have asked me about things that no one has asked me about since I asked the Messenger of Allah ﷺ about them! He ﷺ said: > **'A man's voluntary prayer in his house is light; so whoever wishes, let him illuminate his home.' And concerning ghusl, he said: 'For ghusl from ritual impurity, he washes his private parts, performs wuḍūʾ, and then pours water over his head three times.' And concerning the menstruating woman, he said: 'He is permitted whatever is above the waist-sheet (izār).'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان افراد میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا ، اُن لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا : ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کریں ‘ یہ کہ آدمی کا اپنے گھر میں نقل نماز ادا کرنا ‘ غسل جنابت ‘ اور جب عورت حیض کی حالت میں ہو ‘ تو مرد اس کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھ سکتا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جادوگر ہو ؟ جب سے میں نے ان چیزوں کے بارے میں ‘ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا ‘ اُس کے بعد کبھی کسی نے ‘ اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا ‘ اور اب تم نے مجھ سے ( ان امور کے بارے میں ) سوال کیا ہے ، پھر انہوں نے بتایا : آدمی کا اپنے گھر میں نفل ادا کرنا نور ہے ‘ اب جو شخص چاہے ‘ وہ اپنے گھر کو نورانی کر دے ‘ اس روایت میں انہوں نے یہ فرمایا : غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی شرمگاہ دھوئے گا ‘ وضو کرے گا ‘ اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالے گا ، حیض والی عورت کے بارے میں انہوں نے یہ فرمایا : تہ بند سے اوپر ‘ اُس کے ساتھ تعلق رکھا جا سکتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس میں سے ’’ گھر میں نماز ادا کرنے ‘‘ کا واقعہ روایت کیا ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح ایک شخص کے حوالے سے ‘ عمرو سے نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے اُس شخص کا نام بیان نہیں کیا ہے .

1468

Majma al-Zawaid #1468

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ: «جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ ثَلَاثٍ. قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالُوا: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا، مَا هِيَ؟ وَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ حَائِضًا؟ وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ. فَقَالَ: أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ. قَالَ: أَفَكَهَنَةٌ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ ثَلَاثٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَكُمْ، فَقَالَ: أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا فَنُورٌ، فَنَوِّرْ بَيْتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ. وَأَمَّا الْحَائِضُ فَلَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَلَيْسَ لَكَ مَا تَحْتَهُ. وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتُفْرِغُ بِيَمِينِكَ عَلَى شِمَالِكَ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَكَ فِي الْإِنَاءِ فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ وَمَا أَصَابَكَ، ثُمَّ تَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُفْرِغُ عَلَى رَأْسِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، تُدَلِّكُ رَأْسَكَ كُلَّ مَرَّةٍ». وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، فَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr, the freed slave of ʿUmar, reported: A group from the people of Iraq came to ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه. He asked, "What brought you?" They said, "We came to ask you about three things: a man's voluntary prayer in his home—what is it? What is lawful for a man with his wife while she is menstruating? And about ghusl from ritual impurity." ʿUmar asked, "Are you sorcerers?" They replied, "No, by Allah, O Commander of the Faithful, we are not sorcerers." He asked, "Are you soothsayers?" They replied, "No." He said, "You have asked me about three matters that no one has asked me about since I asked the Messenger of Allah ﷺ before you." He then narrated that the Prophet ﷺ said: > **"As for a man's voluntary prayer in his house, it is light, so illuminate your home as much as you are able. As for the menstruating wife, you are permitted whatever is above the waist-sheet (izār), and you are not permitted what is beneath it. And as for ghusl from ritual impurity: you pour water with your right hand onto your left, then place your hand into the vessel and wash your private parts and whatever impurities have afflicted you; then perform wuḍūʾ just as you do for prayer; then pour water over your head three times, rubbing your head each time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم اوسط میں عاصم بن عمرو بجلی کے حوالے سے حضرت عمر کے غلام عمیر کا یہ بیان نقل کیا ہے :’’ عراق سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ ہم آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کریں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ اُن لوگوں نے کہا : آدمی کا اپنے گھر میں نفل ادا کرنا ‘ یہ کیا ہے ؟ اور آدمی کے لیے اپنی حیض والی بیوی کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھنا جائز ہے ؟ اور غسل جنابت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جادوگر ہو ؟ انہوں نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! اے امیرالمومنین ! ہم جادوگر نہیں ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر کیا تم لوگ کاہن ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے کہ جب میں نے نبی اکرم ﷺ سے اُن کے بارے میں سوال کیا تھا ‘ اُس کے بعد سے لے کر ‘ اب تک تم سے پہلے کسی اور نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا : جہاں تک آدمی کے گھر میں نفل ادا کرنے کا تعلق ہے ‘ تو یہ نور ہے ‘ تم سے جہاں تک ہو سکے ‘ اپنے گھر کو نورانی کرو ‘ جہاں تک حیض والی عورت کے مسئلے کا تعلق ہے ‘ تو تہبند سے اوپر کا حصہ تمہارے لیے جائز ہے ‘ اس سے نیچے والا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ‘ جہاں تک غسل جنابت کا تعلق ہے ‘ تو تم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالو ‘ پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرو ‘ اور اپنی شرمگاہ کو ‘ اور جو مواد تمہیں لگا ہے ‘ اُسے دھو لو ‘ پھر تم نماز کے وضو کی طرح وضو کرو ‘ پھر تم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالو ‘ اور ہر مرتبہ اپنے سر کو مل لو ! یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ امام احمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ‘ البتہ اس میں ایک شخص ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، تو وہ مجہول ہے .

1469

Majma al-Zawaid #1469

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَمَا يَكْفِينَا مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: "" أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: The delegation of Thaqīf said, "O Messenger of Allah, our land is a cold land; what is sufficient for us for ghusl from ritual impurity?" The Messenger of Allah ﷺ replied: > **"As for me, I pour water over my head three times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثقیف قبیلے کے وفد نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا علاقہ ‘ ٹھنڈا علاقہ ہے ‘ تو غسل جنابت میں ہمارے لیے کیا چیز کفایت کرے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہا دیتا ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح “ کے رجال ہیں ۔

1470

Majma al-Zawaid #1470

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، فَأَخَذَتْ أُمِّي بِيَدِي فَانْطَلَقَتْ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَّا قَدْ أَتْحَفَتْكَ بِتُحْفَةٍ، وَإِنِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى مَا أُتْحِفُكَ بِهِ إِلَّا ابْنِي هَذَا ; فَخُذْهُ، فَلْيَخْدِمْكَ مَا بَدَا لَكَ. فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا ضَرَبَنِي ضَرْبَةً، وَلَا سَبَّنِي سَبَّةً، وَلَا انْتَهَرَنِي، وَلَا عَبَسَ فِي وَجْهِي، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَوْصَانِي بِهِ أَنْ قَالَ: "" يَا بُنَيَّ، اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا ""، فَكَانَتْ أُمِّي وَأَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلْنَنِي عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أُخْبِرُهُنَّ بِهِ، وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدًا أَبَدًا، وَقَالَ: "" يَا بُنَيَّ، عَلَيْكَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ يُحِبُّكَ حَافِظَاكَ، وَيُزَادُ فِي عُمُرِكَ، وَيَا أَنَسُ، بَالِغْ فِي الِاغْسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ "". قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ. وَيَا بُنَيَّ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ. وَيَا بُنَيَّ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ تُصَلِّي ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي. وَيَا أَنَسُ، إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ كَفَّيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ عَنْ جَنْبَيْكَ. وَيَا بُنَيَّ، إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَأَمْكِنْ كُلَّ عُضْوٍ مِنْكَ مَوْضِعَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ. يَا بُنَيَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ وَكَفَّيْكَ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرَ الدِّيكِ، وَلَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ - أَوْ قَالَ: الثَّعْلَبِ - وَإِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَفِي النَّافِلَةِ لَا فِي الْفَرِيضَةِ. وَيَا بُنَيَّ، إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلَا تَقَعَنَّ عَيْنُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّكَ تَرْجِعُ مَغْفُورًا لَكَ. وَيَا بُنَيَّ، إِذَا دَخَلْتَ مَنْزِلَكَ فَسَلِّمْ عَلَى نَفْسِكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ. وَيَا بُنَيَّ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِي وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ ; فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكَ فِي الْحِسَابِ. يَا بُنَيَّ، إِنِ اتَّبَعْتَ وَصِيَّتِي فَلَا تَكُنْ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَزَادَ: "" «يَا بُنَيَّ، إِذَا خَرَجْتَ مَنْ بَيَّتَكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا ظَنَنْتَ أَنَّهُ لَهُ الْفَضْلُ عَلَيْكَ. يَا بُنَيَّ، إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي، وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ» "". وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ arrived in Medina when I was eight years old. My mother took me by the hand and went to the Messenger of Allah ﷺ, saying, "O Messenger of Allah, there is no man or woman among the Anṣār except that they have presented you with a gift; I have nothing to give you except this son of mine; take him, and let him serve you as long as you wish." So I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years. He never struck me, never insulted me, never rebuked me, and never frowned at me. The very first instruction he gave me was: > **"O my son, keep my secrets and you will be a true believer."** My mother and the wives of the Prophet ﷺ used to ask me about his secrets, but I never informed them, nor will I ever disclose the secrets of the Messenger of Allah ﷺ to anyone. And he ﷺ said: > **"O my son, perform wuḍūʾ thoroughly and completely; your two guardian angels will love you and your lifespan will be lengthened. O Anas, be thorough when performing ghusl from ritual impurity, for you will emerge from your bath cleansed of every sin and fault."** I asked, "How is thoroughness achieved, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"Moisten the roots of your hair and cleanse the skin. O my son, if you are able to remain in a state of wuḍūʾ at all times, then do so; for whoever is overtaken by death while in a state of wuḍūʾ is granted the reward of martyrdom. O my son, if you are able to remain constantly in prayer, then do so; for the angels send blessings upon you as long as you are praying. O Anas, when you bow (in rukūʿ), place your palms firmly upon your knees, spread your fingers, and keep your elbows away from your sides. O my son, when you raise your head from bowing, let every limb settle in its place; for Allah will not look on the Day of Resurrection at one who does not straighten his spine between his bowing and prostration. O my son, when you prostrate, settle your forehead and palms firmly upon the ground; do not peck like a rooster, and do not squat like a dog—or he said: like a fox. Beware of glancing around in prayer, for glancing around in prayer brings ruin; if it is unavoidable, let it be in voluntary prayer, not in the obligatory prayer. O my son, when you leave your house, do not let your gaze fall upon anyone of the people of the Qiblah without greeting them with Salām, for you will return with your sins forgiven. O my son, when you enter your house, greet yourself and your family with Salām. O my son, if you are able to reach morning and evening without harboring deceit or malice in your heart toward anyone, then do so, for that will ease your reckoning. O my son, if you heed my counsel, nothing will be dearer to you than death."** And in the narration of al-Ṭabarānī: > **"O my son, when you leave your house, let not your eyes fall upon anyone of the people of the Qiblah except that you deem him superior to you. O my son, that is from my Sunnah; and whoever revives my Sunnah has loved me, and whoever loves me will be with me in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ‘ اُس وقت میں آٹھ سال کا تھا ‘ میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انصار سے تعلق رکھنے والے ہر مرد اور ہر عورت نے آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کیا ہے ‘ میں آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کرنے کی قدرت نہیں رکھتی ‘ البتہ میرا یہ بیٹا ہے ‘ آپ اسے ( خادم کے طور پر ) رکھ لیں ‘ جب تک آپ کو مناسب لگے گا ‘ یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے دس سال ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی ‘ آپ نے کبھی مجھے مارا نہیں ، کبھی برا نہیں کہا ، کبھی مجھے جھڑکا نہیں ، کبھی میرے سامنے ماتھے پر بل نہیں ڈالے ‘ آپ ﷺ نے مجھے سب سے پہلے جو تلقین کی وہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے ’’ ستر ‘‘ کو چھپا کے رکھنا ‘ تم مومن ہو جاؤ گے ‘ پھر میری والدہ اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج ‘ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے ’’ ستر ‘‘ کے بارے میں دریافت کرتی تھیں ، تو میں انہیں اس بارے میں نہیں بتاتا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ کے ’’ ستر ‘‘ کے بارے میں ، میں کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم پر لازم ہے کہ اچھی طرح وضو کرو ‘ تمہارے دونوں محافظ فرشتے تم سے محبت رکھیں گے ‘ تمہاری عمر لمبی ہو گی ‘ اور اے انس ! غسل جنابت میں مبالغہ کرنا ‘ کیونکہ جب تم غسل خانے سے نکلو گے ‘ تو تم پر کوئی گناہ اور کوئی خطاء نہیں ہو گی ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مبالغہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بالوں کی جڑوں کو تر کرنا ‘ اور جلد کو صاف کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم ہمیشہ با وضو رہنا ‘ کیونکہ جس شخص کو ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ باوضو ہو ‘ تو اُسے شہادت کا مرتبہ دیا جائے گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم نفل نماز ادا کرتے رہنا ، کیونکہ جب تک تم نماز ادا کرتے رہو گے ‘ فرشتے تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے ۔ اے انس ! جب تم رکوع کرو ‘ تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھنا ‘ اپنی کہنیاں کشادہ رکھنا ‘ اپنے بازؤں کو پہلو سے دور رکھنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم رکوع سے سر اٹھاؤ ‘ تو اپنے ہر ایک عضو کو اس کی مخصوص جگہ پر ٹھہرا دینا ‘ کیونکہ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ‘ جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم سجدہ کرو ‘ تو اپنی پیشانی اور اپنی ہتھیلیاں زمین پر جما کے رکھنا ، تم مرغ کے ٹھونگا مارنے کی طرح ٹھونگے نہ مارنا ‘ اور تم کتے ۔ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - لومڑی کی طرح ’’ اقعاء ‘‘ کے طور پر نہ بیٹھنا ‘ اور نماز کے دوران ادھر ادھر نہ دیکھنا ‘ کیونکہ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت کا باعث ہے ‘ اگر اُس کے بغیر چارہ نہ ہو ‘ تو نفل نماز میں ایسا کر لینا ، فرض میں ایسا نہ کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ‘ تو تمہاری نظر اہل قبلہ میں سے ‘ جس شخص پر بھی پڑے ‘ تم اُسے سلام کرنا ‘ جب تم واپس آؤ گے ‘ تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہو گی ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں داخل ہو ‘ تو اپنے اوپر ‘ اور اپنے اہل خانہ پر ‘ سلام بھیجنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم ایسی حالت میں صبح و شام کرنا ‘ کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کھوٹ ‘ یا کینہ نہ ہو ‘ اس طرح تمہارے لیے حساب دینا آسان ہو گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم نے میری ہدایت کی پیروی کی ‘ تو تمہارے نزدیک کوئی بھی چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ‘ تو تمہاری نگاہ اہل قبلہ میں سے ‘ جس شخص پر بھی پڑے ‘ تو تم بھی گمان کرنا کہ وہ تم پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! یہ چیز میری سنت ہے ‘ اور جو شخص میری سنت کا احیاء کرے گا ‘ وہ مجھ سے محبت رکھے گا ‘ اور جو شخص مجھ سے محبت رکھے گا ‘ وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1471

Majma al-Zawaid #1471

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَكْفِي مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ سِتَّةُ أَمْدَادٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ كُلُّهُمُ: الْبُخَارِيُّ، وَيَحْيَى وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، وَالنَّسَائِيُّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Six mudds of water are sufficient for ghusl from ritual impurity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غسل جنابت کے لیے چھ مد کفایت کر جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ‘ جسے تمام محدثین نے ”ضعیف “ قرار دیا ہے ‘ امام بخاری نے ‘ اور دو میں سے ایک روایت کے مطابق ، یحییٰ بن معین نے ‘ اور امام نسائی نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ جبکہ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

1472

Majma al-Zawaid #1472

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْفَنَّادِ، وَقَالَ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: > **"The Prophet ﷺ used to perform wuḍūʾ with a mudd of water and perform ghusl with a ṣāʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک مد ( پانی ) کے ذریعے وضو کر لیتے تھے ‘ اور ایک صاع کے ذریعے غسل کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن سلیمان فناد سے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔