«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، فَأَخَذَتْ أُمِّي بِيَدِي فَانْطَلَقَتْ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَّا قَدْ أَتْحَفَتْكَ بِتُحْفَةٍ، وَإِنِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى مَا أُتْحِفُكَ بِهِ إِلَّا ابْنِي هَذَا ; فَخُذْهُ، فَلْيَخْدِمْكَ مَا بَدَا لَكَ. فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا ضَرَبَنِي ضَرْبَةً، وَلَا سَبَّنِي سَبَّةً، وَلَا انْتَهَرَنِي، وَلَا عَبَسَ فِي وَجْهِي، وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَوْصَانِي بِهِ أَنْ قَالَ: "" يَا بُنَيَّ، اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا ""، فَكَانَتْ أُمِّي وَأَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلْنَنِي عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أُخْبِرُهُنَّ بِهِ، وَلَا أُخْبِرُ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدًا أَبَدًا، وَقَالَ: "" يَا بُنَيَّ، عَلَيْكَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ يُحِبُّكَ حَافِظَاكَ، وَيُزَادُ فِي عُمُرِكَ، وَيَا أَنَسُ، بَالِغْ فِي الِاغْسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ "". قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ. وَيَا بُنَيَّ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ. وَيَا بُنَيَّ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ تُصَلِّي ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي. وَيَا أَنَسُ، إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ كَفَّيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ، وَفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ عَنْ جَنْبَيْكَ. وَيَا بُنَيَّ، إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَأَمْكِنْ كُلَّ عُضْوٍ مِنْكَ مَوْضِعَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ. يَا بُنَيَّ إِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ وَكَفَّيْكَ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَا تَنْقُرْ نَقْرَ الدِّيكِ، وَلَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ - أَوْ قَالَ: الثَّعْلَبِ - وَإِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَفِي النَّافِلَةِ لَا فِي الْفَرِيضَةِ. وَيَا بُنَيَّ، إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلَا تَقَعَنَّ عَيْنُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّكَ تَرْجِعُ مَغْفُورًا لَكَ. وَيَا بُنَيَّ، إِذَا دَخَلْتَ مَنْزِلَكَ فَسَلِّمْ عَلَى نَفْسِكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ. وَيَا بُنَيَّ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِي وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ ; فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكَ فِي الْحِسَابِ. يَا بُنَيَّ، إِنِ اتَّبَعْتَ وَصِيَّتِي فَلَا تَكُنْ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَزَادَ: "" «يَا بُنَيَّ، إِذَا خَرَجْتَ مَنْ بَيَّتَكَ فَلَا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا ظَنَنْتَ أَنَّهُ لَهُ الْفَضْلُ عَلَيْكَ. يَا بُنَيَّ، إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي، وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ» "". وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ arrived in Medina when I was eight years old. My mother took me by the hand and went to the Messenger of Allah ﷺ, saying, "O Messenger of Allah, there is no man or woman among the Anṣār except that they have presented you with a gift; I have nothing to give you except this son of mine; take him, and let him serve you as long as you wish." So I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years. He never struck me, never insulted me, never rebuked me, and never frowned at me. The very first instruction he gave me was: > **"O my son, keep my secrets and you will be a true believer."** My mother and the wives of the Prophet ﷺ used to ask me about his secrets, but I never informed them, nor will I ever disclose the secrets of the Messenger of Allah ﷺ to anyone. And he ﷺ said: > **"O my son, perform wuḍūʾ thoroughly and completely; your two guardian angels will love you and your lifespan will be lengthened. O Anas, be thorough when performing ghusl from ritual impurity, for you will emerge from your bath cleansed of every sin and fault."** I asked, "How is thoroughness achieved, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"Moisten the roots of your hair and cleanse the skin. O my son, if you are able to remain in a state of wuḍūʾ at all times, then do so; for whoever is overtaken by death while in a state of wuḍūʾ is granted the reward of martyrdom. O my son, if you are able to remain constantly in prayer, then do so; for the angels send blessings upon you as long as you are praying. O Anas, when you bow (in rukūʿ), place your palms firmly upon your knees, spread your fingers, and keep your elbows away from your sides. O my son, when you raise your head from bowing, let every limb settle in its place; for Allah will not look on the Day of Resurrection at one who does not straighten his spine between his bowing and prostration. O my son, when you prostrate, settle your forehead and palms firmly upon the ground; do not peck like a rooster, and do not squat like a dog—or he said: like a fox. Beware of glancing around in prayer, for glancing around in prayer brings ruin; if it is unavoidable, let it be in voluntary prayer, not in the obligatory prayer. O my son, when you leave your house, do not let your gaze fall upon anyone of the people of the Qiblah without greeting them with Salām, for you will return with your sins forgiven. O my son, when you enter your house, greet yourself and your family with Salām. O my son, if you are able to reach morning and evening without harboring deceit or malice in your heart toward anyone, then do so, for that will ease your reckoning. O my son, if you heed my counsel, nothing will be dearer to you than death."** And in the narration of al-Ṭabarānī: > **"O my son, when you leave your house, let not your eyes fall upon anyone of the people of the Qiblah except that you deem him superior to you. O my son, that is from my Sunnah; and whoever revives my Sunnah has loved me, and whoever loves me will be with me in Paradise."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ‘ اُس وقت میں آٹھ سال کا تھا ‘ میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انصار سے تعلق رکھنے والے ہر مرد اور ہر عورت نے آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کیا ہے ‘ میں آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کرنے کی قدرت نہیں رکھتی ‘ البتہ میرا یہ بیٹا ہے ‘ آپ اسے ( خادم کے طور پر ) رکھ لیں ‘ جب تک آپ کو مناسب لگے گا ‘ یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے دس سال ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کی ‘ آپ نے کبھی مجھے مارا نہیں ، کبھی برا نہیں کہا ، کبھی مجھے جھڑکا نہیں ، کبھی میرے سامنے ماتھے پر بل نہیں ڈالے ‘ آپ ﷺ نے مجھے سب سے پہلے جو تلقین کی وہ یہ تھی کہ آپ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے ’’ ستر ‘‘ کو چھپا کے رکھنا ‘ تم مومن ہو جاؤ گے ‘ پھر میری والدہ اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج ‘ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے ’’ ستر ‘‘ کے بارے میں دریافت کرتی تھیں ، تو میں انہیں اس بارے میں نہیں بتاتا تھا ، اور نبی اکرم ﷺ کے ’’ ستر ‘‘ کے بارے میں ، میں کبھی کسی کو نہیں بتاؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم پر لازم ہے کہ اچھی طرح وضو کرو ‘ تمہارے دونوں محافظ فرشتے تم سے محبت رکھیں گے ‘ تمہاری عمر لمبی ہو گی ‘ اور اے انس ! غسل جنابت میں مبالغہ کرنا ‘ کیونکہ جب تم غسل خانے سے نکلو گے ‘ تو تم پر کوئی گناہ اور کوئی خطاء نہیں ہو گی ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مبالغہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بالوں کی جڑوں کو تر کرنا ‘ اور جلد کو صاف کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم ہمیشہ با وضو رہنا ‘ کیونکہ جس شخص کو ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ باوضو ہو ‘ تو اُسے شہادت کا مرتبہ دیا جائے گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم نفل نماز ادا کرتے رہنا ، کیونکہ جب تک تم نماز ادا کرتے رہو گے ‘ فرشتے تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے ۔ اے انس ! جب تم رکوع کرو ‘ تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر جما کے رکھنا ‘ اپنی کہنیاں کشادہ رکھنا ‘ اپنے بازؤں کو پہلو سے دور رکھنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم رکوع سے سر اٹھاؤ ‘ تو اپنے ہر ایک عضو کو اس کی مخصوص جگہ پر ٹھہرا دینا ‘ کیونکہ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ‘ جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم سجدہ کرو ‘ تو اپنی پیشانی اور اپنی ہتھیلیاں زمین پر جما کے رکھنا ، تم مرغ کے ٹھونگا مارنے کی طرح ٹھونگے نہ مارنا ‘ اور تم کتے ۔ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - لومڑی کی طرح ’’ اقعاء ‘‘ کے طور پر نہ بیٹھنا ‘ اور نماز کے دوران ادھر ادھر نہ دیکھنا ‘ کیونکہ نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت کا باعث ہے ‘ اگر اُس کے بغیر چارہ نہ ہو ‘ تو نفل نماز میں ایسا کر لینا ، فرض میں ایسا نہ کرنا ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ‘ تو تمہاری نظر اہل قبلہ میں سے ‘ جس شخص پر بھی پڑے ‘ تم اُسے سلام کرنا ‘ جب تم واپس آؤ گے ‘ تو تمہاری مغفرت ہو چکی ہو گی ۔ اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر میں داخل ہو ‘ تو اپنے اوپر ‘ اور اپنے اہل خانہ پر ‘ سلام بھیجنا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم ایسی حالت میں صبح و شام کرنا ‘ کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کھوٹ ‘ یا کینہ نہ ہو ‘ اس طرح تمہارے لیے حساب دینا آسان ہو گا ۔ اے میرے بیٹے ! اگر تم نے میری ہدایت کی پیروی کی ‘ تو تمہارے نزدیک کوئی بھی چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : اے میرے بیٹے ! جب تم اپنے گھر سے نکلو ‘ تو تمہاری نگاہ اہل قبلہ میں سے ‘ جس شخص پر بھی پڑے ‘ تو تم بھی گمان کرنا کہ وہ تم پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اے میرے بیٹے ! یہ چیز میری سنت ہے ‘ اور جو شخص میری سنت کا احیاء کرے گا ‘ وہ مجھ سے محبت رکھے گا ‘ اور جو شخص مجھ سے محبت رکھے گا ‘ وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن ابویزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔