وَعَنِ الْأَسْلَعِ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: «كُنْتُ أُرَحِّلُ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرِّحْلَةَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُرَحِّلَ نَاقَتَهُ وَأَنَا جُنُبٌ، وَخَشِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ أَوْ أَمْرَضَ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَحَّلَهَا، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "" يَا أَسْلَعُ، مَا لِي أَرَى رَاحِلَتَكَ تَغَيَّرَتْ؟ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أُرَحِّلْهَا، رَحَّلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ: "" وَلِمَ؟ "" قُلْتُ: إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَخَشِيتُ الْقُرَّ عَلَى نَفْسِي فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُرَحِّلَهَا، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا، فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً فَاغْتَسَلْتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: 43] إِلَى {إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: 43]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ ذُرَيْقٍ. قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ.
EnglishUnverified translation
Al-Aslaʿ ibn Sharīk رضي الله عنه said: I used to saddle the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ. On a bitter cold night, I incurred major ritual impurity (janābah) while the Messenger of Allah ﷺ intended to set out. I disliked saddling his she-camel while in a state of janābah, yet I feared that if I bathed with cold water I might die or fall ill. Therefore, I asked a man from the Anṣār to saddle it. I then heated stones to warm some water, performed ghusl, and caught up with the Messenger of Allah ﷺ and his Companions. He ﷺ said, "O Aslaʿ, why do I see the saddling of your mount has changed?" I replied, "O Messenger of Allah, I did not saddle it; a man from the Anṣār saddled it." He asked, "And why?" I said, "I incurred major impurity and feared the severe cold for myself, so I asked him to saddle it, and I heated stones to warm water and bathed." Thereupon Allah, the Mighty and Majestic, revealed: > **"{O you who have believed, do not approach prayer while you are intoxicated... [up to His words:] Indeed, Allah is ever Pardoning and Forgiving.}" [al-Nisāʾ: 43]**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی پر رکھنے کے لیے پالان تیار کیا کرتا تھا ‘ ایک سرد رات میں مجھے جنابت لاحق ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے روانگی کا ارادہ کیا ‘ تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی اونٹنی کا پالان تیار کروں ‘ جبکہ میں جنابت کی حالت میں ہوؤں ، مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا ‘ کہ اگر میں ٹھنڈے پانی کے ساتھ غسل کر لیتا ہوں ‘ تو میں مر جاؤں گا ‘ یا بیمار ہو جاؤں گا ‘ میں نے انصار سے تعلق رکھنے والے ‘ ایک شخص کو یہ ہدایت کی ‘ تو اُس نے نبی اکرم ﷺ کے لیے پالان تیار کر دیا ‘ میں نے پتھر رکھے ‘ اُن کے ذریعے پانی گرم کیا ، غسل کیا اور پھر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ آ کر مل گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اسلع کیا وجہ ہے ؟ مجھے تمہارا تیار کیا ہوا پالان کچھ مختلف لگ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے تیار نہیں کیا ہے ‘ انصار سے تعلق رکھنے والے ‘ ایک شخص نے اسے تیار کیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی ، مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوا ‘ تو میں نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ پالان تیار کر دے ‘ پھر میں نے پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور اس کے ذریعہ غسل کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی :’’ اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو ‘ تو نماز کے قریب نہ جاؤ ! ‘‘....... یہ آیت یہاں تک ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مغفرت کرنے والا ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ذریق ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔