وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ. قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ. قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ؟ "" قَالُوا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ. قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: "" أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ""، فَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: "" لِيُخَفِّفَنَّ عَنْهُمَا "". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، حَتَّى مَتَى هُمَا يُعَذَّبَانِ؟ قَالَ: "" غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ "". قَالَ: "" وَلَوْلَا تَمَزُّعُ قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ [بْنِ عَلِيٍّ] الْأَلْهَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Umāmah رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ went out on a scorching hot day toward Baqīʿ al-Gharqad. The people were walking behind him, and when he heard the sound of their sandals, it weighed upon his soul, so he sat down until he let them precede him so that no pride might enter his heart. When he reached Baqīʿ al-Gharqad, there were two graves wherein two men had just been buried. The Prophet ﷺ halted and asked, "Whom did you bury here today?" They said, "So-and-so and so-and-so." They asked, "O Prophet of Allah, what is the matter?" He replied: > **"As for one of them, he did not protect himself from urine; and as for the other, he used to spread malicious gossip."** He then took a fresh palm branch, split it, and placed it upon the two graves. They asked, "O Prophet of Allah, why did you do that?" He said: > **"So that their punishment may be alleviated."** They asked, "O Prophet of Allah, until when will they be punished?" He said: > **"It is an unseen matter known only to Allah. Were it not for the wavering of your hearts and your excessive talking, you would surely hear what I hear."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شدید گرم دن میں ‘ نبی اکرم ’’ بقیع غرقد ‘‘ کی طرف تشریف لے گئے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے چلنے لگے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے قدموں کی آہٹ سنی ‘ تو آپ کو یہ چیز ناگوار گزری آپ تشریف فرما ہو گئے ‘ یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے سے آگے گزرنے دیا ‘ تاکہ آپ کے من میں تکبر کے حوالے سے کچھ واقع نہ ہو ‘ جب آپ ’’ بقیع غرقد ‘‘ کے پاس سے گزرے ‘ تو وہاں دو قبریں موجود تھیں ، جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ وہاں ٹھہر گئے ‘ آپ نے دریافت کیا : یہاں تم نے آج کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں کو اور فلاں کو ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا ‘ اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک تر شاخ لی ‘ اُس کے دو حصے کیے ‘ اور وہ ان دونوں قبروں پر لگا دیے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تاکہ ان دونوں ( کے عذاب میں ) تخفیف رہے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا غیب ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے دلوں میں خیالات کا تنوع اور تمہارا زیادہ بات چیت کرنا نہ ہوتا ‘ تو تم لوگ بھی وہ چیز سنتے ‘ جو میں سن رہا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید بن علی الہانی نے قاسم سے نقل کیا ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔