Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 3 · Chapter 1

Book of Purification

Hadith 993–1032

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

993

Majma al-Zawaid #993

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْهَبُ لِحَاجَتِهِ إِلَى الْمُغَمَّسِ». قَالَ نَافِعٌ: نَحْوَ مِيلَيْنِ مِنْ مَكَّةَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to go out to al-Mughammas to relieve himself."** Nāfiʿ added, "It is approximately two miles from Makkah."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے مغمس چلے جاتے تھے ۔ نافع بیان کرتے ہیں : یہ مکہ سے تقریبا دو میل کے فاصلے پر ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے راویوں میں سے ایک ہیں ۔

994

Majma al-Zawaid #994

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ، فَانْطَلَقَ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَبِسَ أَحَدَ خُفَّيْهِ، فَجَاءَ طَائِرٌ أَخْضَرُ، فَأَخَذَ الْخُفَّ الْآخَرَ فَارْتَفَعَ بِهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ، فَخَرَجَ مِنْهُ أَسْوَدُ سَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَرَامَةٌ أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِهَا ""، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: Whenever the Messenger of Allah ﷺ intended to relieve himself, he would go far away. One day he set out to relieve himself, then performed ablution and put on one of his leather socks (khuff). A green bird suddenly flew down, seized the other sock, soared into the sky with it, and dropped it, whereupon a black venomous snake fell out from inside it. The Messenger of Allah ﷺ remarked, "This is an honor with which Allah has blessed me." Then the Messenger of Allah ﷺ supplicated: > **"O Allah, I seek refuge in You from the evil of whatever crawls upon its belly, from the evil of whatever walks upon two legs, and from the evil of whatever walks upon four."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب قضائے حاجت کرنا ہوتی ‘ تو آپ ﷺ دور تشریف لے جایا کرتے تھے ‘ ایک مرتبہ آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ( اس سے فراغت کے بعد ) آپ ﷺ نے وضو کیا اور ایک موزہ پہن لیا اسی دوران ایک سبز پرندہ آیا ‘ اس نے وہ دوسرا موزہ پکڑ لیا اور اسے لے کر اڑ گیا ‘ پھر اس نے وہ موزہ پھینک دیا ‘ تو اس میں سے سیاہ سانپ نما چیز نکلی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کرامت ہے ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے میری عزت افزائی کی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : ’’ اے اللہ ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ جو پیٹ کے بل چلتی ہے ‘ اور اس کے شر سے بھی ‘ جو دو ٹانگوں پر چلتی ہے ‘ اور اس کے شر سے بھی جو چار ٹانگوں پر چلتی ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ‘ جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔

995

Majma al-Zawaid #995

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ - وَكَانَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ يَبْعُدُ - فَأَتَيْتُهُ بِأَدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَانْطَلَقَ، فَسَمِعْتُ خُصُومَةَ رِجَالٍ وَلَغَطًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا، فَجَاءَ، فَقَالَ: "" بِلَالٌ؟ "" قُلْتُ: بِلَالٌ. قَالَ: "" أَمَعَكَ مَاءٌ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَصَبْتَ ""، فَأَخَذَهُ مِنِّي فَتَوَضَّأَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ عِنْدَكَ خُصُومَةَ رِجَالٍ وَلَغَطًا مَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْ أَلْسِنَتِهِمْ. قَالَ: "" اخْتَصَمَ عِنْدِيَ الْجِنُّ الْمُسْلِمُونَ وَالْجِنُّ الْمُشْرِكُونَ، سَأَلُونِي أَنْ أُسْكِنَهُمْ، فَأَسْكَنْتُ الْمُسْلِمِينَ الْجَلْسَ، وَأَسْكَنْتُ الْمُشْرِكِينَ الْغَوْرَ» "". قُلْتُ لِكَثِيرٍ: مَا الْجَلْسُ؟ وَمَا الْغَوْرُ؟ قَالَ: الْجَلْسُ: الْقُرَى وَالْجِبَالُ، وَالْغَوْرُ: مَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالْبِحَارِ. قَالَ كَثِيرٌ: مَا رَأَيْنَا أَحَدًا أُصِيبَ بِالْجَلْسِ إِلَّا سَلِمَ، وَلَا أُصِيبَ أَحَدٌ بِالْغَوْرِ إِلَّا لَمْ يَكَدْ يَسْلَمُ. قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فَقَطْ. وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Bilāl ibn al-Ḥārith رضي الله عنه narrated: We set out with the Messenger of Allah ﷺ on one of his journeys. He went out to relieve himself—and whenever he went to relieve himself, he would go to a distant place. I brought him a vessel of water and followed him, but then I heard men disputing with clamor and noise such as I had never heard before. When he returned, he said, "Is that Bilāl?" I replied, "It is Bilāl." He asked, "Do you have water with you?" I replied, "Yes." He said, "You did well." He took it from me and performed ablution. I said, "O Messenger of Allah, I heard near you men disputing and shouting in clamor, and I could not understand anyone from their languages." He ﷺ said: > **"The Muslim jinn and the polytheist jinn were disputing before me; they asked me to designate dwellings for them, so I settled the Muslims in al-Jals (the uplands, villages, and mountains) and settled the polytheists in al-Ghawr (the lowlands between the mountains and the sea)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ‘ آپ ﷺ قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے ‘ آپ قضائے حاجت کے لئے دور تشریف لے جایا کرتے تھے ‘ میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پاس آیا ‘ آپ گئے ہوئے تھے ‘ میں نے کچھ لوگوں کے بحث کرنے اور شور و غوغا کی آواز سنی ‘ میں نے اس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ‘ جب آپ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : تم بلال ہو ؟ میں نے عرض کی میں بلال ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کہ تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ‘ پھر آپ نے مجھ سے پانی لیا اور وضو کیا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے پاس کچھ لوگوں کے بحث کرنے اور شور و غوغا کی آوازیں سنی تھیں ‘ میں نے ان کی زبان کسی سے نہیں سنی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان اور مشرکین جنات میرے پاس بحث کر رہے تھے ‘ انہوں نے یہ درخواست کی کہ میں ان کی رہائش کے لیے جگہ کا تعین کر دوں ‘ تو میں نے مسلمانوں کے لیے ’’ جلس “ کا تعین کر دیا اور مشرکین کے لیے ’’ غور ‘‘ کا تعین کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ( اپنے استاد ) کثیر سے دریافت کیا : جلس سے کیا مراد ہے ؟ اور ’’ غور ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا :’’ جلس ‘‘ سے مراد بستیاں اور پہاڑ ہیں ‘ اور ’’ غور ‘‘ سے مراد پہاڑوں اور سمندروں کے درمیان کی جگہ ہے ۔ کثیر کہتے ہیں : ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جس بھی شخص کو ’’ جلس ‘‘ میں کوئی نقصان پہنچتا ہے وہ سلامت رہتا ہے ‘ اور جس کو ’’ غور ‘‘ میں نقصان پہنچتا ہے ‘ وہ کم ہی سلامت رہتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : جب نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے ‘ تو دور چلے جاتے تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے ‘ اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ‘ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

996

Majma al-Zawaid #996

«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَبَوَّأُ لِبَوْلِهِ كَمَا يَتَبَوَّأُ لِمَنْزِلِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ بْنِ دُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to seek out a suitable, soft spot for his urination just as he would seek out a suitable place for his encampment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ( کا یہ معمول تھا ‘ کہ آپ ) پیشاب کرنے کے لیے جگہ مخصوص کرتے تھے ‘ جس طرح آپ پڑاؤ کرنے کے لیے جگہ مخصوص کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اسے یحیی بن عبید نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ‘ میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

997

Majma al-Zawaid #997

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «اتَّقَوُا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ "". قِيلَ: مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ، أَوْ فِي طَرِيقٍ، أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: I heard the Prophet ﷺ say: > **"Beware of the three acts that incur curses."** It was said, "What are the acts that incur curses, O Messenger of Allah?" He ﷺ replied: > **"That one of you sits [to relieve himself] in shade sought for shelter, or in a walkway, or in a pool of collected water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لعنت کا باعث بننے والی تین جگہوں سے بچ کے رہو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! لعنت کا باعث بننے والی جگہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس سائے میں بیٹھا جاتا ہے ‘ اس جگہ تم میں سے کوئی ایک بیٹھ کر ( قضائے حاجت کرے ) یا راستے میں کرے یا پانی پھوٹنے کی جگہ پر کرے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ( جو ضعیف ہے ) اور ایک ایسا راوی ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

998

Majma al-Zawaid #998

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الْجَارِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade urinating in flowing water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ کہ بہتے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

999

Majma al-Zawaid #999

وَعَنْ بَكْرِ بْنِ مَاعِزٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُنْقَعُ بَوْلٌ فِي طَسْتٍ فِي الْبَيْتِ ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ بَوْلٌ مُنْتَقَعٌ، وَلَا تَبُولَنَّ فِي مُغْتَسَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Bakr ibn Māʿiz narrated: I heard ʿAbdullāh ibn Yazīd رضي الله عنه narrate that the Prophet ﷺ said: > **"Urine must not be left standing in a basin within the house, for the angels do not enter a house wherein urine is left standing; and do not ever urinate in your place of bathing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بکر بن ماعز بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ گھر میں کسی برتن میں پیشاب نہ کیا جائے ‘ کیونکہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں ، جس میں برتن میں پیشاب پڑا ہو ‘ اور تم اپنے غسل کی جگہ پر ہرگز پیشاب نہ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

1000

Majma al-Zawaid #1000

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَخَلَّى الرَّجُلُ تَحْتَ شَجَرَةٍ مُثْمِرَةٍ، وَنَهَى أَنْ يَتَخَلَّى عَلَى ضَفَّةِ نَهْرٍ جَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي الْكَبِيرِ الشَّطْرُ الْأَخِيرُ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade that a person relieve himself beneath a fruit-bearing tree, and he forbade relieving oneself on the bank of a flowing river."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی پھل دار درخت کے نیچے قضائے حاجت کرے ‘ آپ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ بہتی ہوئی نہر کے کنارے پر قضائے حاجت کی جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ معجم کبیر میں اس کا آخری نصف حصہ منقول ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

1001

Majma al-Zawaid #1001

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعَنَتُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn Asīd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever harms the Muslims in their pathways, their curse becomes incumbent upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص مسلمانوں کو اُن کے راستے میں اذیت پہنچائے ( یعنی اُن کے راستے میں قضائے حاجت کر دے ) تو ایسے شخص پر ان لوگوں کی لعنت واجب ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

1002

Majma al-Zawaid #1002

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ، يُوشِكُ أَنْ تُفْتِيَنَا فِي الْخِرَاءِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ: "" اتَّقَوُا اللَّعَّانِينَ "" - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn reported: A man said to Abū Hurayrah رضي الله عنه, "You have given us religious rulings on everything, and you are nearly ready to give us rulings even about defecation!" Thereupon Abū Hurayrah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever discharges his feces upon a path among the paths of the Muslims, upon him is the curse of Allah, the angels, and all of mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے ہر چیز کے بارے میں ہمیں حکم بیان کر دیا ہے ‘ قریب ہے کہ آپ ہمیں قضائے حاجت کے بارے میں بھی کوئی حکم بیان کر دیں گے ‘ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مسلمانوں کے کسی راستے میں قضائے حاجت کرتا ہے ‘ اُس پر ‘ اللہ تعالیٰ ‘ فرشتوں اور انسانوں ‘ سب کی لعنت ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اُن کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث منقول ہیں :’’ لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو ! ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو انصاری ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں .

1003

Majma al-Zawaid #1003

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: يُكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ ; لِأَنَّ الْوَسْوَاسَ يَعْرِضُ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه said: > **"It is disliked for a man to urinate in his bathing place, because obsessive misgivings (waswās) arise from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آدمی کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ اپنے غسل کی جگہ پر پیشاب کرے ‘ کیونکہ اس طرح اُسے وسوسے لاحق ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1004

Majma al-Zawaid #1004

«عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَ قَوْمَهُ وَعَلَّمَهُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَوْمًا وَهُوَ كَأَنَّهُ يَلْعَبُ: مَا بَقِيَ لِسُرَاقَةَ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَكُمْ كَيْفَ التَّغَوُّطُ. قَالَ سُرَاقَةُ: إِذَا ذَهَبْتُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَاتَّقُوا الْمَجَالِسَ عَلَى الظِّلِّ وَالطَّرَائِقِ، خُذُوا النَّبَلَ، وَاسْتَنْشِبُوا عَلَى سُوقِكُمْ، وَاسْتَجْمِرُوا، وَأَوْتِرُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Surāqah ibn Mālik ibn Juʿshum رضي الله عنه narrated: Whenever he returned from the Messenger of Allah ﷺ, he would teach and instruct his people. One day, a man said to him playfully in jest, "Nothing remains for Surāqah except to teach you how to defecate!" Surāqah replied: > **"When you go out to relieve yourselves, avoid sitting in the shade or in pathways; take cleansing stones with you, lean firmly upon your shins [and left side], cleanse yourselves with stones, and use an odd number."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ( اپنے علاقے میں واپس ) تشریف لائے ‘ تو انہوں نے اپنی قوم کو باتیں بتائیں ‘ اور انہیں ( شرعی احکام کی ) تعلیم دی ‘ ایک دن ایک شخص نے اُن کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہا : سراقہ کا اب بس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہیں یہ تعلیم دے کہ پاخانہ کیسے کرنا ہے ؟ تو حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ ‘ تو سائے ‘ یا راستے میں بیٹھنے سے بچو ‘ پھر استعمال کرو اور طاق تعداد میں استعمال کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

1005

Majma al-Zawaid #1005

«وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ. قَالَ: إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا - وَأَحْسَبُهُ قَالَ: - وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah narrated: A man from the polytheists said to ʿAbdullāh [ibn Masʿūd] رضي الله عنه, "I believe your companion has taught you everything, even teaching you how to relieve yourselves!" ʿAbdullāh replied, "Even if you say so mockingly, he has indeed taught us: > **"Not to face the Qiblah with our private parts, not to clean ourselves with our right hands, not to clean ourselves with dung, not to clean ourselves with bone, and not to clean ourselves with fewer than three stones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ کے آقا کے بارے میں ‘ میں یہ گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے تمہیں ہر چیز کی تعلیم دی ہے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے ‘ کہ قضائے حاجت کے لیے تم نے کیسے جانا ہے ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم مذاق اُڑا رہے ہو ( تو میں تمہیں بتاتا ہوں ) انہوں نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم نے اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں کرنا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا تھا اور ہم نے اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء نہیں کرنا ہے اور ہم نے مینگنی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے ‘ اور ہم نے ہڈی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے ‘ اور ہم نے تین سے کم پتھروں کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1006

Majma al-Zawaid #1006

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا وَضَعُوا ثِيَابَهُمْ - أَنْ يَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The barrier between the eyes of the jinn and the private parts of the children of Adam when they take off their garments is to say: 'Bismillāh' (In the name of Allah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جنات کی آنکھوں اور بنی نوع انسان کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یوں ہو سکتا ہے کہ جب انسان کپڑے کو ہٹانے لگے ‘ تو بسم اللہ پڑھ لے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے ‘ جسے امام بخاری اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1007

Majma al-Zawaid #1007

«عَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ، فَانْضَمَّتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ أَمَرَهُمَا، فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَلَكِنَّ طُرُقَهُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ عَلَى خِلَافٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Siyābah رضي الله عنه narrated: > **"I was with the Prophet ﷺ on one of his journeys when he intended to relieve himself. He commanded two small palm saplings, and they came together until one joined the other [to screen him]. Then, when he had finished, he commanded them, and they returned to the places where they had grown."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک سفر میں ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ‘ آپ نے قضائے حاجت کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو آپ نے دو درختوں کو حکم دیا ‘ تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے ( قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد ) آپ نے انہیں حکم دیا ‘ تو وہ دونوں اپنی ‘ اپنی جگہ پر واپس چلے گئے ‘ جہاں وہ اگے تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ‘ اس کے مختلف طرق ، نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گے ‘ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

1008

Majma al-Zawaid #1008

عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنْتَ رَسُولٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ: لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ، وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعْرَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"You are an emissary to the people of Makkah, so say: 'Indeed, the Messenger of Allah ﷺ sends you greetings of peace and commands you with three things: do not swear by other than Allah; when you relieve yourselves, do not face the Qiblah nor turn your backs to it; and do not clean yourselves with bone or animal dung.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اہل مکہ کی طرف پیغام رساں ہو ! تم یہ بتا دینا : بے شک اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام کہا ہے ‘ اور تمہیں تین باتوں کا حکم دیا ہے ‘ تم لوگ غیر اللہ کے نام پر حلف نہ اٹھانا ‘ جب تم قضائے حاجت کرو ‘ تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرنا اور پیٹھ نہ کرنا ‘ اور تم ہڈی کے ذریعے ‘ یا مینگنی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1009

Majma al-Zawaid #1009

وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

A man from the Anṣār reported from his father رضي الله عنه: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade us from facing either of the two Qiblahs (Makkah or Jerusalem) while urinating or defecating."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم پیشاب ‘ یا پاخانہ کرتے ہوئے ‘ دونوں قبلوں ( میں سے کسی ) کی طرف رخ کریں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

1010

Majma al-Zawaid #1010

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْعَجْلَانِيَّ حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُسْتَقْبَلَ شَيْءٌ مِنَ الْقِبْلَتَيْنِ فِي الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Nāfiʿ reported that ʿAbdullāh ibn ʿAmr al-ʿAjlānī narrated to ʿAbdullāh ibn ʿUmar from his father [ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb] رضي الله عنه: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade facing either of the two Qiblahs when defecating or urinating."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن عمرو عجلانی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنے ( یا شاید ان کے ) والد کے حوالے سے یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پیشاب ‘ یا پاخانہ کرتے ہوئے ‘ دونوں کے قبلوں میں سے کسی کی طرف رخ کیا جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1011

Majma al-Zawaid #1011

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you goes to relieve himself, he should neither face the Qiblah nor turn his back to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے ‘ تو وہ قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1012

Majma al-Zawaid #1012

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ». قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى النَّسْخِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith ibn Jazʾ al-Zubaydī رضي الله عنه reported: > **"I saw the Messenger of Allah ﷺ urinating while facing the Qiblah, and I was the first one to relate that to the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ اور میں نے لوگوں کو اس بارے میں سب سے پہلے بیان کیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان صحابی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے : کہ یہ صحابی وہ پہلے شخص ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس چیز سے منع کرتے ہوئے سنا ‘ تو یہ چیز اس کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1013

Majma al-Zawaid #1013

«وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ بَعْدَ النَّهْيِ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه reported: > **"I saw the Prophet ﷺ facing the Qiblah after the prohibition while defecating or urinating."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( قبلہ کی طرف رخ کر کے ) پاخانہ یا پیشاب کرنے کی ممانعت کے بعد ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو قبلہ کی طرف رخ کر کے ( پیشاب کرتے ہوئے ) دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے .

1014

Majma al-Zawaid #1014

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَمْ يَسْتَدْبِرْهَا فِي الْغَائِطِ - كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمُحِيَ عَنْهُ سَيِّئَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ وَشَيْخَ شَيْخِهِ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever neither faces the Qiblah nor turns his back toward it while defecating, a good deed will be recorded for him and an evil deed will be erased from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کریم نے ارشاد فرمایا ہے :’’ جو شخص پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ نہیں کرتا اور پیٹھ نہیں کرتا ‘ اُس کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ امام طبرانی کے استاد اور ان کے استاد کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ‘ ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

1015

Majma al-Zawaid #1015

عَنْ عُمَرَ قَالَ: مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar [ibn al-Khaṭṭāb] رضي الله عنه said: > **"I have never urinated while standing since I embraced Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ‘ کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

1016

Majma al-Zawaid #1016

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ قَائِمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported: > **"He saw the Messenger of Allah ﷺ urinating while standing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد بن ابوحازم ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

1017

Majma al-Zawaid #1017

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: بَيْنَا سَعْدٌ يَبُولُ قَائِمًا إِذِ اتَّكَأَ فَمَاتَ، قَتَلَتْهُ الْجِنُّ فَقَالُوا: نَحْنُ قَتَلْنَا سَيِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَهْ قَدْ رَمَيْنَاهُ بِسَهْمَيْنِ فَلَمْ نُخْطِئْ فُؤَادَهْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sīrīn narrated: While Saʿd [ibn ʿUbādah] رضي الله عنه was urinating standing, he leaned over and died. The jinn had struck him, and they chanted: > **"We killed the chieftain of the Khazraj, Saʿd ibn ʿUbādah; we shot him with two arrows and did not miss his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے تھے ‘ اسی دوران انہوں نے سہارا لیا اور انتقال کر گئے ‘ انہیں جنات نے قتل کیا تھا ‘ ان جنات نے یہ کہا : ہم نے خزرج قبیلے کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا ہے ‘ ہم نے انہیں دو تیر مارے ‘ جو سیدھے اُن کے دل پر لگے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ابن سیرین نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

1018

Majma al-Zawaid #1018

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَبُولُ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: إِنِّي لَأَجِدُ فِي ظَهْرِي شَيْئًا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فَنَاحَتِ الْجِنُّ، فَقَالُوا: نَحْنُ قَتَلْنَا سَيِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَهْ وَرَمَيْنَاهُ بِسَهُمٍ فَلَمْ يُخْطِ فُؤَادَهْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدًا أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Qatādah narrated: Saʿd ibn ʿUbādah رضي الله عنه stood up to urinate, then returned and said, "Indeed, I feel something in my back." It was not long before he passed away. Thereupon the jinn lamented, chanting: > **"We killed the chieftain of the Khazraj, Saʿd ibn ʿUbādah; and we shot him with an arrow and it did not miss his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہو کر پیشاب کیا ‘ جب واپس آئے تو بولے : مجھے اپنی پشت میں کوئی چیز محسوس ہو رہی ہے ‘ کچھ دن کے بعد ان کا انتقال ہو گیا ‘ تو جنات نے ان کا نوحہ کرتے ہوئے یہ کہا : ہم نے خزرج قبیلے کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ہے ‘ ہم نے انہیں تیر مارا ‘ جو سیدھا اُن کے دل پر لگا ۔ : یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ قتادہ نے بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

1019

Majma al-Zawaid #1019

«عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ، قِيلَ فِيهِ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported: > **"Whenever the Prophet ﷺ intended to relieve himself, he would not raise his garment until he drew close to the ground."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کرنے لگتے تھے ‘ تو کپڑا اُس وقت تک نہیں اٹھاتے تھے ‘ جب تک زمین کے قریب نہیں ہو جاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبیداللہ عجلی ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔

1020

Majma al-Zawaid #1020

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَجُلٌ كَالْمُسْتَهْزِئِ: أَمَا عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَخْرَءُونَ؟ قَالَ: بَلَى، وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ، لَقَدْ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَكَّأَ عَلَى الْيُسْرَى، وَأَنْ نَنْصِبَ الْيُمْنَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

A man from Banū Mudlij reported from his father: Surāqah ibn Mālik ibn Juʿshum رضي الله عنه returned from the Prophet ﷺ and said, "The Messenger of Allah ﷺ taught us such-and-such." A man said mockingly, "Did he even teach you how to defecate?" Surāqah replied, "Yes, by the One Who sent him with the truth! > **"He commanded us to lean upon the left [foot] and keep the right [foot] upright."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ( اپنی قوم میں ) واپس آئے ‘ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ان باتوں کی تعلیم دی ہے ‘ تو ایک شخص نے مذاق اڑانے کے طور پر یہ کہا : کیا انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ تم لوگوں نے قضائے حاجت کیسے کرنی ہے ؟ تو حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس ذات کی قسم ! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ انہوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے ( کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے ) ہم بائیں پاؤں پر وزن ڈالیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

1021

Majma al-Zawaid #1021

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَخْرُجُ اثْنَانِ إِلَى الْغَائِطِ، فَيَجْلِسَانِ يَتَحَدَّثَانِ كَاشِفِينَ عَوْرَتَهُمَا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Two persons must not go out together to defecate, sitting and conversing while exposing their private parts, for indeed Allah, Mighty and Majestic, detests that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ جب دو آدمی قضائے حاجت کے لیے جائیں ‘ اور وہ دونوں بیٹھ جائیں ، تو اپنی شرم گاہیں بے پردہ کرنے کے بعد وہ دونوں بات چیت نہ کریں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1022

Majma al-Zawaid #1022

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الضَّحِكِ مِنَ الضَّرْطَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ مَنَاكِيرُ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade laughing at passing wind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے آواز کے ساتھ ہوا خارج کرنے پر ‘ ہنسنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عصمہ نصیبی ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : اس سے منکر روایات منقول ہیں ۔

1023

Majma al-Zawaid #1023

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَقَالَ: "" إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، كَانَ أَحَدُهَا لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ "". فَدَعَا بِجَرِيدَةٍ رَطْبَةٍ، كَسَرَهَا، فَوَضَعَ عَلَى هَذَا وَعَلَى هَذَا وَقَالَ: "" لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا حَتَّى يَيْبَسَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْوَكِيعِيَّ الْمِصْرِيَّ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي عَذَابِ الْقَبْرِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated: The Prophet ﷺ passed by two graves whose occupants were being punished, so he said: > **"Indeed, they are being punished, and they are not being punished for something difficult to avoid: one of them did not protect himself from urine [splatters], while the other used to spread malicious gossip (namīmah)."** He then called for a fresh palm branch, snapped it in two, placed a piece on this grave and on that grave, and said: > **"May it lighten their punishment as long as they do not dry up."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا ‘ جنہیں ( یعنی جن میں مدفون افراد کو ) عذاب ہو رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ‘ اور ان دونوں کو کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ہے ( یعنی وہ کوئی ایسا کام نہیں تھا ، جس سے بچنا مشکل ہوتا ) ان میں سے ایک پیشاب سے بچتا نہیں تھا ‘ اور دوسرا چغلی کیا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن احمد بن جعفر وکیعی مصری کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں اُن سے واقف نہیں ہوں ۔ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث ‘ قبر کے عذاب سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

1024

Majma al-Zawaid #1024

وَعَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْثُرْ ذَكَرَهُ ثَلَاثًا "". قَالَ زَمْعَةُ: "" مَرَّةً؛ فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ: "" فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ يَزْدَادَ، تُكُلِّمَ فِيهِ أَنَّهُ مَجْهُولٌ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

ʿĪsā ibn Yazdād narrated from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you urinates, let him shake his penis three times."** Zamʿah said, "Once is sufficient."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسی بن یزداد ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص پیشاب کرے ‘ تو وہ اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ جھاڑ دے ‘‘۔ زمعہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ کر لے ‘ یہ اُس کے لیے کفایت کر جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : یہ اُس کے لئے کفایت کر جائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن یزداد ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے کہ وہ مجہول ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

1025

Majma al-Zawaid #1025

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي النَّمِيمَةِ، وَمَرَّ بِرَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فِي الْبَوْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، ضَعَّفُوهُ، إِلَّا أَنَّ أَبَا حَاتِمٍ قَالَ: صَالِحٌ، وَلَيْسَ بِالْمَتِينِ. وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: عَامَّةُ مَا رَوَاهُ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas [ibn Mālik] رضي الله عنه reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ passed by a man being punished in his grave on account of malicious gossip, and he passed by another man being punished in his grave on account of urine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ‘ جسے چغلی کرنے کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا اور ایک شخص کے پاس سے ہوا جسے اس کی قبر میں پیشاب کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ‘ جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ صرف امام ابوحاتم یہ کہتے ہیں : یہ صالح ہے لیکن متین نہیں ہے ‘ ابن عدی فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ زیادہ تر روایات کی متابعت دوسرے راویوں نے کی ہے ۔

1026

Majma al-Zawaid #1026

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَامَّةُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ، فَاسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Most of the punishment of the grave is due to urine, so purify and protect yourselves from urine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عام طور پر قبر کا عذاب ‘ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ تو تم لوگ پیشاب سے بچو ! “۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے ‘ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

1027

Majma al-Zawaid #1027

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ إِذْ أَتَى عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: "" إِنَّ صَاحِبَيْ هَذَيْنِ الْقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَأْتِيَانِي بِجَرِيدَةٍ "". قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَوَضَعَ فِي هَذَا الْقَبْرِ وَاحِدَةً، وَفِي ذَا الْقَبْرِ وَاحِدَةً. قَالَ: "" لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَتَا رَطْبَتَيْنِ إِنَّهُمَا يُعَذِّبَانِ بِغَيْرِ كَبِيرٍ: الْغِيبَةُ، وَالْبَوْلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ، وَهَذَا لَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ، وَقَالَ أَحْمَدُ: "" وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، وَبَلَى، وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ "". وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه narrated: While the Prophet ﷺ was walking between me and another man, he came upon two graves and said, "The dwellers of these two graves are being punished; bring me a palm branch." Abū Bakrah said: My companion and I raced, and I brought him a palm branch. He split it into two halves, placing one upon this grave and one upon that grave, and said: > **"May their punishment be lightened as long as these two remain fresh. Indeed, they are being punished for matters that were not difficult to avoid: backbiting (ghībah) and urine [splatters]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے ‘ اور ایک اور شخص کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے ‘ آپ دو قبروں کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں قبروں کے افراد کو عذاب ہو رہا ہے ‘ تم دونوں میرے پاس کوئی شاخ لے کر آؤ ! حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اور میرے ساتھی نے سبقت کرنے کی کوشش کی ‘ میں آپ کے پاس شاخ لے آیا ‘ تو آپ نے اُسے دو حصوں میں تقسیم کیا ‘ اور ایک حصہ ‘ ایک قبر پر رکھ دیا اور دوسرا ‘ دوسری قبر پر رکھ دیا ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں ( شاخیں ) خشک نہیں ہوں گی ‘ ان دونوں افراد کے عذاب میں تخفیف رہے گی ‘ ان دونوں کو کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ( یعنی وہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے ‘ جس سے بچنا مشکل ہو ‘ وہ دو گناہ یہ ہیں : ) غیبت کرنا اور پیشاب ( کے چھینٹوں سے نہ بچنا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ یہ امام احمد نے بھی نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی کی نقل کردہ ہیں ‘ امام احمد کے الفاظ یہ ہیں :’’ ان دونوں کو کسی بڑے ( گناہ ) کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ‘ جی ہاں ! ان دونوں کو غیبت کرنے اور پیشاب ( کے چھینٹوں سے نہ بچنے ) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے .

1028

Majma al-Zawaid #1028

«وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْبَوْلِ، فَقَالَ: "" إِذَا مَسَّكُمْ شَيْءٌ فَاغْسِلُوهُ ; فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ مِنْهُ عَذَابَ الْقَبْرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah [ibn al-Ṣāmit] رضي الله عنه narrated: We asked the Messenger of Allah ﷺ about urine, and he said: > **"If any of it touches you, wash it off; for indeed, I consider that punishment of the grave stems from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ سے پیشاب کے بارے میں سوال کیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب وہ تمہیں لگ جائے ‘ تو تم اُس جگہ کو دھو لو ! کیونکہ میرا یہ خیال ہے کہ اس کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی .

1029

Majma al-Zawaid #1029

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ. قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ. قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ. قَالَ: فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ؟ "" قَالُوا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ. قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: "" أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ""، فَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: "" لِيُخَفِّفَنَّ عَنْهُمَا "". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، حَتَّى مَتَى هُمَا يُعَذَّبَانِ؟ قَالَ: "" غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ "". قَالَ: "" وَلَوْلَا تَمَزُّعُ قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ [بْنِ عَلِيٍّ] الْأَلْهَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ went out on a scorching hot day toward Baqīʿ al-Gharqad. The people were walking behind him, and when he heard the sound of their sandals, it weighed upon his soul, so he sat down until he let them precede him so that no pride might enter his heart. When he reached Baqīʿ al-Gharqad, there were two graves wherein two men had just been buried. The Prophet ﷺ halted and asked, "Whom did you bury here today?" They said, "So-and-so and so-and-so." They asked, "O Prophet of Allah, what is the matter?" He replied: > **"As for one of them, he did not protect himself from urine; and as for the other, he used to spread malicious gossip."** He then took a fresh palm branch, split it, and placed it upon the two graves. They asked, "O Prophet of Allah, why did you do that?" He said: > **"So that their punishment may be alleviated."** They asked, "O Prophet of Allah, until when will they be punished?" He said: > **"It is an unseen matter known only to Allah. Were it not for the wavering of your hearts and your excessive talking, you would surely hear what I hear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شدید گرم دن میں ‘ نبی اکرم ’’ بقیع غرقد ‘‘ کی طرف تشریف لے گئے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے چلنے لگے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے قدموں کی آہٹ سنی ‘ تو آپ کو یہ چیز ناگوار گزری آپ تشریف فرما ہو گئے ‘ یہاں تک کہ لوگوں کو اپنے سے آگے گزرنے دیا ‘ تاکہ آپ کے من میں تکبر کے حوالے سے کچھ واقع نہ ہو ‘ جب آپ ’’ بقیع غرقد ‘‘ کے پاس سے گزرے ‘ تو وہاں دو قبریں موجود تھیں ، جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ وہاں ٹھہر گئے ‘ آپ نے دریافت کیا : یہاں تم نے آج کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : فلاں کو اور فلاں کو ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا ‘ اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک تر شاخ لی ‘ اُس کے دو حصے کیے ‘ اور وہ ان دونوں قبروں پر لگا دیے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تاکہ ان دونوں ( کے عذاب میں ) تخفیف رہے ‘ لوگوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا غیب ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے دلوں میں خیالات کا تنوع اور تمہارا زیادہ بات چیت کرنا نہ ہوتا ‘ تو تم لوگ بھی وہ چیز سنتے ‘ جو میں سن رہا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید بن علی الہانی نے قاسم سے نقل کیا ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

1030

Majma al-Zawaid #1030

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَبْرَيْنِ لِبَنِي النَّجَّارِ يُعَذَّبَانِ بِالنَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ، فَأَخَذَ سَعَفَةً فَشَقَّهَا، فَوَضَعَ عَلَى هَذَا الْقَبْرِ شِقًّا، وَعَلَى هَذَا الْقَبْرِ شِقًّا، وَقَالَ: "" لَا يَزَالُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا دَامَتَا رَطْبَتَيْنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas [ibn Mālik] رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ passed by two graves belonging to Banū al-Najjār whose occupants were being punished for malicious gossip and urine. He took a palm leaf stalk, split it, and placed one half upon this grave and the other half upon that grave, saying: > **"Their punishment will continue to be lightened as long as these two remain fresh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر بنو نجار ( سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ) دو قبروں کے پاس سے ہوا ، جنہیں چغلی کرنے اور پیشاب کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ایک شاخ لی اُسے دو حصوں میں تقسیم کیا ‘ ایک حصہ ‘ ایک قبر پر رکھ دیا ‘ اور دوسرا حصہ ‘ دوسری قبر پر رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں ( شاخیں ) تر رہیں گی ‘ اس وقت تک ان دونوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1031

Majma al-Zawaid #1031

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ يَوْمًا بِقُبُورٍ وَمَعَهُ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَشَقَّهَا بِاثْنَتَيْنِ، وَوَضَعَ وَاحِدَةً عَلَى قَبْرٍ، وَالْأُخْرَى عَلَى قَبْرٍ آخَرَ، ثُمَّ مَضَى، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: "" أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يُعَذَّبُ فِي النَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَتَّقِي مِنَ الْبَوْلِ، فَلَنْ يُعَذَّبَا مَا دَامَتْ هَذِهِ رَطْبَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: One day, the Messenger of Allah ﷺ passed by some graves carrying a fresh palm stalk. He split it into two, placed one on a grave and the other on another grave, and then walked on. We asked, "O Messenger of Allah, why did you do that?" He ﷺ replied: > **"As for one of them, he was being punished for malicious gossip; and as for the other, he did not take precautions against urine. They will not be punished as long as these remain fresh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ کا گزر کچھ قبور کے پاس سے ہوا ‘ آپ کے پاس ایک شاخ موجود تھی ، آپ نے اُسے دو حصوں میں تقسیم کیا ‘ ایک حصہ ‘ ایک قبر پر رکھ دیا ‘ اور دوسرا حصہ ‘ دوسری قبر پر رکھ دیا ، پھر آپ تشریف لے گئے ‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں میں سے ایک شخص کو چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا ‘ اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا ‘ جب تک یہ دونوں ( شاخیں ) تر رہیں گی ان دونوں کو عذاب نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے .

1032

Majma al-Zawaid #1032

وَعَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ الْأَصْبَحِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «أَرْبَعَةٌ يُؤْذُونَ أَهْلَ النَّارِ عَلَى مَا بِهِمْ مِنَ الْأَذَى، يَسْعَوْنَ بَيْنَ الْحَمِيمِ وَالْجَحِيمِ، يَدْعُونَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ. يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ قَدْ آذَوْنَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ "" قَالَ: "" فَرَجُلٌ مُغْلَقٌ عَلَيْهِ تَابُوتٌ مِنْ جَمْرٍ وَرَجُلٌ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ، وَرَجُلٌ يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا، وَرَجُلٌ يَأْكُلُ لَحْمَهُ "". قَالَ: "" فَيُقَالُ لِصَاحِبِ التَّابُوتِ: مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ "". قَالَ: "" فَيَقُولُ: إِنَّ الْأَبْعَدَ مَاتَ وَفِي عُنُقِهِ أَمْوَالُ النَّاسِ مَا يَجِدُ لَهَا قَضَاءً أَوْ وَفَاءً، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ: مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ فَقَالَ: إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ لَا يُبَالِي أَيْنَ أَصَابَ الْبَوْلُ مِنْهُ لَا يَغْسِلُهُ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي يَسِيلُ فُوهُ قَيْحًا وَدَمًا: مَا بَالُ الْأَبْعَدِ قَدْ آذَانَا عَلَى مَا بِنَا مِنَ الْأَذَى؟ فَيَقُولُ: إِنَّ الْأَبْعَدَ كَانَ يَأْكُلُ لَحْمَ النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ هَكَذَا فِي الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Shufayy ibn Mātiʿ al-Aṣbaḥī narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are four persons who inflict additional torment upon the inhabitants of the Fire beyond the torment they already endure; they rush back and forth between scalding water and Hellfire, crying out in ruin and destruction. The dwellers of Hell say to one another, 'What is the matter with these individuals that they torment us on top of our existing anguish?' One of them is locked inside a coffin of glowing embers; another drags his bowels behind him; another has pus and blood gushing from his mouth; and another eats his own flesh. It is said concerning the man in the coffin, 'What was the matter with this wretched soul that he torments us on top of our anguish?' It will be answered, 'Indeed, this wretched soul died while bearing debts of people's wealth, finding no way to settle or fulfill them.' Then it is said concerning the one dragging his bowels, 'What was the matter with this wretched soul that he torments us on top of our anguish?' He will answer, 'Indeed, this wretched soul did not care where urine splattered on him, and he would never wash it off.' Then it is said concerning the one whose mouth gushes with pus and blood, 'What was the matter with this wretched soul that he torments us on top of our anguish?' He will answer, 'Indeed, this wretched soul used to eat the flesh of people [through backbiting and slander].'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شفی بن ماتع اصبحی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا :’’ چار قسم کے افراد ایسے ہیں ‘ جو اہل جہنم کو پہلے سے لاحق تکلیف کے ہمراہ ‘ مزید اذیت پہنچائیں گے ‘ وہ حمیم اور جحیم کے درمیان بھاگتے پھریں گے اور تباہی و بربادی کا واویلا کریں گے ‘ اہل جہنم ایک دوسرے سے کہیں گے : ہم پہلے ہی اذیت کا شکار تھے ‘ انہوں نے ہمیں مزید اذیت کا شکار کر دیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک شخص ایسا ہو گا ‘ جو انگارے سے بنے ہوئے تابوت میں بند ہو گا ‘ ایک شخص ایسا ہو گا ‘ جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا ‘ ایک شخص ایسا ہو گا جس کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا اور ایک شخص ایسا ہو گا جو اپنا گوشت کھا رہا ہو گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تابوت والے شخص سے یہ کہا جائے گا : اس بیچارے کا کیا معاملہ ہے ؟ جس نے ہمیں پہلے سے لاحق تکلیف کے ہمراہ ‘ مزید اذیت پہنچائی ہے ‘ تو وہ شخص یہ کہے گا : اس بیچارے کا جب انتقال ہوا تھا ‘ تو اس کے ذمہ لوگوں کے اموال تھے ‘ جن کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تھی ( پھر جہنمی لوگ ) اس شخص سے یہ کہیں گے : جو اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہو گا اس بیچارے کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ اس نے ہمیں پہلے سے لاحق اذیت کے ہمراہ ‘ مزید اذیت پہنچائی ہے ‘ تو وہ کہے گا : یہ بیچارہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ اس کو کہاں پیشاب لگ رہا ہے ‘ وہ اس کو دھوتا نہیں تھا ، پھر جس شخص کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہا ہو گا ‘ اس سے کہا جائے گا : اس بے چارے کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے ہمیں پہلے سے موجود اذیت کے ہمراہ ‘ مزید اذیت پہنچائی ہے ‘ تو وہ کہے گا : یہ بیچارہ لوگوں کا گوشت کھایا کرتا تھا ( یعنی اُن کی غیبت اور چغلی کیا کرتا تھا ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے جس اصل کا سماع کیا گیا اس میں یہ اسی طرح مذکور ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔