Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 3 · Chapter 2

Book of Purification

Hadith 1033–1072

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1033

Majma al-Zawaid #1033

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَيَأْمُرُ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ». قَالَ مُعَاذٌ: إِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: يُحْتَمَلُ حَدِيثُهُ فِي الرَّقَائِقِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُذَيْمٍ - وَيُقَالُ ابْنُ حُرَيْثٍ - عَنْ مُعَاذٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported: > **"The Prophet ﷺ used to take meticulous care to protect himself from urine, and he would command his Companions to do so."** Muʿādh added, "Indeed, the majority of the grave's punishment stems from urine."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ( کی عادت تھی کہ ) پیشاب ( کے چھینٹوں ) سے بچتے تھے ‘ اور اپنے اصحاب کو بھی اس کا حکم دیتے تھے ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عام طور پر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ‘ جسے اکثر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام احمد کہتے ہیں : رقائق کے باب میں اس کی حدیث کو قبول کیا جا سکتا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جذیم ہے ‘ جسے ابن حریث بھی کہا جاتا ہے ‘ انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ‘ میں نے کسی کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

1034

Majma al-Zawaid #1034

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اتَّقُوا الْبَوْلَ ; فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ فِي الْقَبْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Beware of urine, for indeed it is the very first matter for which a servant will be called to account in the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : : ’’ پیشاب سے بچو ! کیونکہ قبر میں بندے سے ‘ سب سے پہلے حساب اس حوالے سے لیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1035

Majma al-Zawaid #1035

«وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا، مِمَّ عَذَابُ الْقَبْرِ؟ قَالَ: "" مِنْ أَثَرِ الْبَوْلِ [فَمَنْ أَصَابَهُ بَوْلٌ فَلْيَغْسِلْهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً فَلْيَمْسَحْهُ بِتُرَابٍ طَيِّبٍ]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مَا بَيْنَ ضَعِيفٍ وَمَجْهُولٍ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah bint Saʿd رضي الله عنها narrated: She asked, "O Messenger of Allah, instruct us: from what does the punishment of the grave stem?" He ﷺ replied: > **"From the traces of urine; so whoever is splattered by urine, let him wash it, and if he finds no water, let him wipe it with clean earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں حکم بیان کریں ! قبر کا عذاب کس وجہ سے ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پیشاب کے اثر ( یعنی اس کے چھینٹوں ) کی وجہ سے ‘ اگر کسی کو پیشاب لگ جائے ‘ تو وہ اُس جگہ کو دھو لے ‘ اور اگر اسے پانی نہیں ملتا ‘ تو پاک مٹی کے ذریعے اسے پونچھ لے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف اور مجہول کے درمیان کے راوی ہیں ۔

1036

Majma al-Zawaid #1036

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ قَاعِدًا قَدْ جَافَى بَيْنَ فَخِذَيْهِ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَهُ مِنْ طُولِ الْجُلُوسِ، ثُمَّ جَاءَ قَابِضًا بِيَدِهِ عَلَى ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، فَقَالَ: "" إِنَّ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْبَوْلِ مِنْكُمْ، كَانَ مَعَهُ مِقْرَاضٌ، فَإِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ قَصَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَلَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا - وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَأِ وَالْغَلَطِ، وَيُنَبَّهُ عَلَى غَلَطِهِ فَلَا يَرْجِعُ، وَيَحْتَقِرُ الْحُفَّاظَ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā [al-Ashʿarī] رضي الله عنه narrated: I saw the Messenger of Allah ﷺ urinating while seated, widening the space between his thighs so much that I felt sympathy for him on account of the prolonged sitting. Then he approached, forming the number sixty-three with his fingers, and said: > **"The people of the Children of Israel were far stricter concerning urine than you: a man among them would carry shears, and if any urine touched his garment, he would cut it out."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے ‘ اپنے زانو اتنے کشادہ رکھے ہوئے تھے ‘ کہ اتنی دیر تک اتنی مشقت برداشت کر کے ) آپ کے بیٹھنے کی وجہ سے مجھے پریشانی ہوئی ‘ جب آپ تشریف لائے ‘ تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے تریسٹھ کا نشان بنایا اور پھر ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل سے متعلقہ فرد پیشاب کے بارے میں تم لوگوں سے زیادہ احتیاط کرتے تھے ‘ اُن کے پاس قینچی ہوتی تھی ‘ اگر ان کے کپڑے پر پیشاب لگ جاتا تھا ، تو وہ اسے کاٹ دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں حدیث منقول ہے ‘ جو اس سے مختلف ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے ‘ جو بکثرت خطا اور غلطی کرتا ہے ‘ اُس کی غلطی پر اسے تنبیہ کی جاتی تھی ، لیکن وہ رجوع نہیں کرتا تھا ‘ اور حافظان حدیث کی تحقیر کرتا تھا ۔

1037

Majma al-Zawaid #1037

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ وَهَذَا لَفْظُهُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith ibn Jazʾ رضي الله عنه reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade anyone from cleaning himself with a bone, animal dung, or charcoal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ہڈی ‘ یا مینگنی یا کوئلے کے ذریعے استنجاء کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1038

Majma al-Zawaid #1038

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "" أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ ""، فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَمَرَّ بِي يَمْشِي، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا، وَأَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضِ بِرَازٍ، فَإِذَا رِجَالٌ طِوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرِّمَاحُ، مُسْتَذْفِرِي ثِيَابَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا تُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا، فَقَالَ لِيَ: "" اقْعُدْ فِي وَسَطِهِ ""، فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ كُنْتُ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ، وَمَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَتَلَا قُرْآنًا رَفِيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي، فَقَالَ لِيَ: "" الْحَقْ ""، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقَالَ لِيَ: "" الْتَفِتْ فَانْظُرْ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ؟ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا، فَخَفَّضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَنَظَّمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "" رُشْدُ أُولَئِكَ مِنِّي، وَفْدُ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ، سَأَلُونِيَ الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ "". قَالَ الزُّبَيْرُ: فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ بَقِيَّةَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-ʿAwwām رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ led us in the Fajr prayer in the mosque of Madīnah. When he finished, he asked, "Which of you will accompany me to the delegation of the jinn tonight?" The people remained silent and no one spoke. He asked this three times. Then he walked past me, took me by my hand, and I walked along with him until all the mountains of Madīnah disappeared from our sight, and we reached an open, barren land. Suddenly, there were tall men resembling spears, tucking their garments between their legs. When I saw them, a severe trembling overcame me such that my legs could barely support me out of terror. When we drew near them, the Messenger of Allah ﷺ drew a line in the ground with his big toe and said to me, "Sit in the middle of it." When I sat down, all the fear and doubt I had been experiencing departed from me. The Prophet ﷺ went forward between me and them, reciting the Qur’an in an elevated voice until dawn broke. Then he approached, passed by me, and said, "Follow." I began walking with him, and before we had gone far, he said to me, "Turn and look: do you see anyone where those beings were?" I replied, "O Messenger of Allah, I see a vast multitude of dark figures." The Messenger of Allah ﷺ bowed his head toward the earth, joined a bone to a piece of animal dung, threw it toward them, and said: > **"This is guidance from me for them: they are a delegation from a people—the delegation of Naṣībīn. They asked me for sustenance, so I assigned to them every bone and animal dung."** Al-Zubayr added, "Therefore, it is never permissible for anyone to clean himself with a bone or animal dung."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی مسجد میں ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ‘ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : آج رات کون میرے ساتھ جنات کے وفد سے ملاقات کے لیے جائے گا ؟ تو حاضرین خاموش رہے ‘ ان میں سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ میرے پاس سے گزرے ‘ تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ‘ یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے اور ہم کھلی جگہ پر آ گئے ‘ وہاں نیزوں کی طرح کے طویل القامت افراد موجود تھے جنہوں نے اپنے کپڑے دونوں ٹانگوں کے درمیان کیے ہوئے تھے ‘ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی ‘ یہاں تک کہ خوف کی شدت کی وجہ سے میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، جب ہم اُن لوگوں کے قریب پہنچے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں کے انگھوٹھے کے ذریعے زمین پر میرے لیے لکیر لگا دی ‘ آپ نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے درمیان میں بیٹھ جاؤ ! جب میں بیٹھ گیا ‘ تم مجھے جو بھی پریشانی لاحق تھی ‘ وہ سب ختم ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ میرے اور ( ان ) لوگوں کے درمیان تشریف لے گئے ‘ صبح صادق ہونے تک آپ بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کرتے رہے ‘ پھر آپ واپس تشریف لائے ‘ جب آپ میرے پاس پہنچے ‘ تو آپ نے فرمایا : میرے ساتھ آ جاؤ ! میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ‘ ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے ‘ کہ آپ نے ارشاد فرمایا : مڑ کر دیکھو ! جہاں وہ لوگ موجود تھے ‘ وہاں تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہاں بہت سے افراد محسوس ہو رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا ‘ پھر آپ نے ایک ہڈی کو مینگنی کے ساتھ لگایا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ میری طرف سے اُن لوگوں کی رہنمائی ہے ‘ یہ ایک قوم کا وفد تھا یہ ’’ نصیبین ‘‘ کا وفد تھا ‘ انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ‘ تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی کو اُن کے لیے ( زاد راہ کے طور پر ) مقرر کر دیا ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اب ہمیشہ کے لیے ‘ کسی کے لیے بھی ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کرنا حلال نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ‘ بقیہ کے علاوہ اس میں اور کوئی ( ضعف نہیں ہے ) اور اس نے بھی تحدیث کی صراحت کی ہے ۔

1039

Majma al-Zawaid #1039

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَقَالَ: "" إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ - خَمْسَةَ عَشَرَ، بَنُو إِخْوَةٍ، وَبَنُو عَمٍّ، - يَأْتُونِيَ اللَّيْلَةَ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ""، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ، فَجَعَلَ لِي خَطًّا ثُمَّ أَجْلَسَنِي، وَقَالَ: لَا تَخْرُجَنَّ مِنْ هَذَا. فَبِتُّ فِيهِ حَتَّى أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ السَّحَرِ وَفِي يَدِهِ عَظْمٌ حَائِلٌ وَرَوْثَةٌ وَحُمَمَةٌ، فَقَالَ: "" إِذَا أَتَيْتَ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَنْجِ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا "". قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ حَيْثُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبْتُ، فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ سَبْعِينَ بَعِيرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَلِعَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ asked me to accompany him one night, saying: > **"A group of fifteen jinn—cousins and nephew-brothers to one another—are coming to me tonight so that I may recite the Qur’an to them."** I set out with him to the place he intended. He drew a line for me, made me sit down, and said, "Do not step outside of this." I stayed within it throughout the night until the Messenger of Allah ﷺ returned to me at dawn, holding an old dry bone, animal dung, and charcoal in his hand, and he said: > **"When you go to relieve yourself, do not clean yourself with any of these."** ʿAbdullāh said: When morning arrived, I said to myself, "I must see where the Messenger of Allah ﷺ had been." So I went there and saw a clearing large enough for seventy camels.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے آنے کے لیے کہا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا پندرہ جنات کا گروہ ‘ جو ایک دوسرے کے چچازاد اور بھتیجے لگتے ہیں ‘ وہ آج رات میرے پاس آئیں گے ‘ اور میں ان کے سامنے قرآن پڑھوں گا ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس جگہ کی طرف گیا ‘ جہاں آپ جانا چاہتے تھے ‘ آپ نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھے بیٹھنے کے لیے کہا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس سے باہر نہیں جانا ، میں رات بھر وہیں موجود رہا ‘ یہاں تک کہ سحری کے قریب نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ‘ آپ کے دست مبارک میں ہڈی تھی مینگنی تھی اور کوئلہ تھا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ ‘ تو ان ( تین چیزوں ) میں سے کسی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگلے دن صبح میں نے سوچا ‘ نبی اکرم ﷺ جہاں تشریف لے گئے تھے ‘ میں اس جگہ کا جائزہ لوں گا میں وہاں گیا ‘ تو میں نے ستر اونٹوں کی جگہ دیکھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ‘ ائمہ یعنی امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین اور عبدالملک بن شعیب بن لیث نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں .

1040

Majma al-Zawaid #1040

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: أَهْرَقْتُ الْمَاءَ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: أَبُولُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"None of you should say: 'I poured out water' [meaning urination], but rather let him say: 'I am urinating.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کوئی بھی شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ میں نے پانی بہایا ہے ‘ اُس کو یہ کہنا چاہیے : میں نے پیشاب کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن بن عنبسہ ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1041

Majma al-Zawaid #1041

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ، إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَمَا تَرَى أَنَّ السَّمَاوَاتِ سَبْعٌ، وَالْأَرَضِينَ سَبْعٌ، وَالطَّوَافَ سَبْعٌ» "". وَذَكَرَ أَشْيَاءَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: "" وَالْجِمَارَ ""، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"When one of you cleanses himself with stones, let him use an odd number; indeed, Allah is Witr (One) and loves what is odd. Do you not see that the heavens are seven, the earths are seven, and the circumambulation (Ṭawāf) is seven?"** He mentioned several other things as well.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( استنجاء کرتے ہوئے ) جب کوئی شخص ڈھیلے استعمال کرے ‘ تو اسے طاق تعداد میں انہیں استعمال کرنا چاہیے ‘ بے شک اللہ تعالیٰ طاق ہے ‘ اور وہ طاق کو پسند کرتا ہے ‘ کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان سات ہیں ‘ اور زمینیں سات ہیں ‘ اور طواف کے چکر سات ہوتے ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) انہوں نے اور بھی کچھ چیزوں کا ذکر کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں رحمۃ اللہ علیہ ” والجمار ‘‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

1042

Majma al-Zawaid #1042

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا» "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» "". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ، وَرِجَالٌ "" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ "" ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you cleanses himself with stones, let him cleanse with three."** And in another narration: > **"When one of you defecates, let him wipe three times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص ڈھیلے استعمال کرے ‘ تو اسے تین ڈھیلے استعمال کرنے چاہیے ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب کوئی شخص پاخانہ کرے ‘ تو اسے تین مرتبہ پونچھنا چاہیے ‘‘۔ یہ دونوں روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور ’’ جب کوئی شخص ڈھیلے استعمال کرے ‘‘ والی روایت کے راوی ثقہ ہیں ۔

1043

Majma al-Zawaid #1043

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اكْتَحَلَ اكْتَحَلَ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ وِتْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported: > **"Whenever the Messenger of Allah ﷺ applied kohl, he applied it an odd number of times; and whenever he cleansed himself with stones, he cleansed an odd number of times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سرمہ لگاتے تھے ‘ تو طاق تعداد میں لگاتے تھے اور جب ڈھیلے استعمال کرتے تھے ‘ تو طاق تعداد میں استعمال کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1044

Majma al-Zawaid #1044

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسَحْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَإِنَّ ذَلِكَ كَافِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ أَبَا شُعَيْبٍ صَاحِبَ أَبِي أَيُّوبَ لَمْ أَرَ فِيهِ تَعْدِيلًا وَلَا جَرْحًا.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb al-Anṣārī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When one of you defecates, let him wipe with three stones, for indeed that is sufficient for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص پاخانہ کرے ‘ تو اسے تین پتھروں کے ذریعے ( اپنی شرمگاہ کو ) صاف کرنا چاہیے ‘ یہ چیز اس کے لئے کفایت کر جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھی ( یعنی شاگرد ) ابوشعیب کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں نے اُن کے بارے میں کوئی تعدیل یا جرح نہیں دیکھی ہے .

1045

Majma al-Zawaid #1045

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported in a marfūʿ narration that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever cleanses himself with stones, let him cleanse with three."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر ‘ یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص ڈھیلے استعمال کرے ‘ وہ تین استعمال کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے سفیان ثوری اور شعبہ نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

1046

Majma al-Zawaid #1046

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اسْتَجْمَرْتُمْ فَأَوْتِرُوا، وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَاسْتَنْثِرُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn ʿAbdillāh رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you cleanse yourselves with stones, make it an odd number; and when you perform ablution, blow the water out from your nose."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تم ڈھیلے استعمال کرو ‘ تو طاق تعداد میں کرو ‘ اور جب تم وضو کرو ‘ تو ناک میں پانی ڈال لیا کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے .

1047

Majma al-Zawaid #1047

وَعَنِ السَّائِبِ أَبِي خَلَّادٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَمْسَحْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib Abū Khallād رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"When one of you enters the privy [to relieve himself], let him wipe with three stones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب ابوخلاد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو ‘ تو اُسے تین پتھروں کے ذریعے ( شرمگاہ کو ) پونچھ لینا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن جعد ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1048

Majma al-Zawaid #1048

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ: "" أَوَ لَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ: حَجَرَانِ لِلصَّفْحَتَيْنِ، وَحَجَرٌ لِلْمَسْرُبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: إِنَّهُ حَفِظَ الْمُوَطَّأَ فِي حَيَاةِ مَالِكٍ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ was asked concerning istinjāʾ (cleansing after relieving oneself), and he said: > **"Can one of you not find three stones: two stones for the buttocks and one stone for the anal passage?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے پاکیزگی حاصل کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کسی ایک کو تین پتھر نہیں ملتے ‘ دو پتھر اطراف کے لئے ہوں اور ایک پتھر پاخانہ کے خروج کے مقام کے لیے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عقیق بن یعقوب زبیری ہے ‘ امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : اس نے امام مالک کی زندگی میں ’’ موطا ‘‘ حفظ کر لی تھی ۔

1049

Majma al-Zawaid #1049

«وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ: "" إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ؟ قَالَ: إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah reported: A man from the polytheists said to ʿAbdullāh [ibn Masʿūd] رضي الله عنه, "I believe your companion has taught you everything, even teaching you how to relieve yourselves!" ʿAbdullāh replied, "Even if you say so mockingly, he has indeed taught us: > **"Not to face the Qiblah with our private parts, not to clean ourselves with our right hands, not to clean ourselves with animal dung, not to clean ourselves with bone, and not to clean ourselves with fewer than three stones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے یوں لگتا ہے کہ آپ کے آقا نے آپ لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے آپ لوگوں کو یہ بھی تعلیم دی ہے کہ آپ نے قضاء حاجت کے لیے کیسے جاتا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم مذاق اڑانا چاہ رہے ہو ( تو میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں ) کہ انہوں نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے ( کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے ) ہماری شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں ہونا چاہیے ( راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ انہوں نے یہ بھی بیان کیا تھا : ) کہ ہم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجاء نہ کریں ‘ ہم مینگنی کے ذریعے استنجاء نہ کریں ‘ ہم ہڈی کے ذریعے استنجاء نہ کریں ‘ اور ہم تین پتھروں سے کم کے ذریعے استنجاء نہ کریں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1050

Majma al-Zawaid #1050

وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، فَإِذَا اسْتَجْمَرْتُمْ فَأَوْتِرُوا» "". وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ، مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah is Witr (One) and loves what is odd; so when you cleanse yourselves with stones, make it an odd number."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابویعلیٰ نے ‘ اُن کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ وتر ہے ‘ اور وہ وتر ( طاق ) کو پسند کرتا ہے ‘ جب تم ڈھیلے استعمال کرو ‘ تو طاق تعداد میں استعمال کرو ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی احمد بن عمران اخلسی ہے اور وہ متروک ہے ۔

1051

Majma al-Zawaid #1051

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: مَا كَانُوا يَغْسِلُونَ اسْتَاهَهُمْ بِالْمَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ يُنْسَبُ إِلَى التَّخْلِيطِ وَالْغَلَطِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما said: > **"They did not use to wash their private parts with water [relying instead upon stones]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : پہلے لوگ ( قضائے حاجت کے بعد ) اپنی شرمگاہ پانی کے ذریعے دھویا نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن اس کی نسبت اختلاط کا شکار ہونے اور غلطی کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔

1052

Majma al-Zawaid #1052

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ بَالَ، فَمَسَحَ ذَكَرَهُ بِالتُّرَابِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: هَكَذَا عُلِّمْنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه urinated, then wiped his penis with earth, turned to us, and said: > **"Thus were we taught."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے پیشاب کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو مٹی کے ذریعے پونچھ لیا ‘ پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہو کر بولے : ہمیں اسی طرح کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی روح بن جناح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1053

Majma al-Zawaid #1053

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءَ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فَسَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ الزُّهْرِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا، وَهُوَ الَّذِي أَشَارَ بِجَلْدِ مَالِكٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: When this verse was revealed concerning the people of Qubāʾ: {"Within it are men who love to purify themselves; and Allah loves those who purify themselves"} [al-Tawbah: 108], the Messenger of Allah ﷺ asked them [concerning their practice], and they said: > **"We follow stones with water [for purification]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اس ( مسجد ) میں ایسے لوگ ہیں ‘ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کریں ‘ اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں سے ( اُن کے معمول کے بارے میں ) دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا : ( قضائے حاجت کے بعد ) پتھر استعمال کرنے کے بعد ‘ ہم پانی بھی استعمال کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز بن عمر زہری ہے ‘ جسے امام بخاری ‘ امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور یہ وہی شخص ہے ‘ جس نے امام مالک کو کوڑے لگانے کا مشورہ دیا تھا .

1054

Majma al-Zawaid #1054

«عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟ "" قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ، فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿUwaym ibn Sāʿidah رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ came to them at the mosque of Qubāʾ and said: > **"Indeed, Allah, Blessed and Exalted is He, has praised you excellently regarding purification in the account of your mosque. What is this purification that you perform?"** They said, "By Allah, O Messenger of Allah, we know nothing other than that we had Jewish neighbors who used to wash their rears after defecation, so we washed as they washed."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کرتے ہوئے ‘ طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف فرمائی ہے ‘ تو طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے جس کو تم اختیار کرتے ہو ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہمیں کسی مخصوص چیز کا علم نہیں ہے ‘ البتہ یہ ہے کہ ہمارے کچھ یہودی پڑوسی ہیں ‘ وہ پاخانہ کرنے کے بعد اپنی شرم گاہوں کو ( پانی کے ذریعے ) دھوتے ہیں ، تو جس طرح وہ دھوتے ہیں ، اسی طرح ہم بھی دھو لیتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے اپنی تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ‘ جسے امام مالک ‘ یحییٰ بن معین اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

1055

Majma al-Zawaid #1055

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: 108] بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ فَقَالَ: "" مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي أَثْنَى اللَّهُ عَلَيْكُمْ؟ "" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ، أَوْ قَالَ: مَقْعَدَتَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ هَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: When this verse was revealed: {"Within it are men who love to purify themselves"} [al-Tawbah: 108], the Prophet ﷺ sent for ʿUwaym ibn Sāʿidah رضي الله عنه and asked: > **"What is this purification for which Allah has praised you?"** They said, "O Messenger of Allah, not a single man or woman among us comes out after defecating except that they wash their private part [or rear]." The Prophet ﷺ said: > **"It is precisely this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اس ( مسجد ) میں ایسے لوگ ہیں ‘ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا : طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے ؟ جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ‘ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ‘ جو بھی مرد یا عورت پاخانہ کرتا ہے ‘ تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے ‘ یہاں ایک لفظ راوی نے مختلف نقل کیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُس کی وجہ یہی ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ‘ البتہ یہ ہے کہ ابن اسحق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔

1056

Majma al-Zawaid #1056

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا قَبْلَكَ أَهْلَ كِتَابٍ، وَإِنَّا نُؤْمَرُ بِغَسْلِ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ رَضِيَ عَنْكُمْ، وَأَثْنَى عَلَيْكُمْ، وَأَحَبَّكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَامٌ الطَّوِيلُ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Salām رضي الله عنه said: "O Messenger of Allah, before your coming we were People of the Scripture, and we were commanded to wash after defecating and urinating." The Prophet ﷺ said: > **"Indeed, Allah has become pleased with you, has praised you, and has loved you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سے پہلے ہم اہل کتاب تھے ‘ ہمیں ( پاخانہ اور پیشاب کے بعد ) شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا تھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے راضی ہو گیا ، اُس نے تمہاری تعریف کی اور اُس نے تم سے محبت کا اظہار کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

1057

Majma al-Zawaid #1057

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، فَقَامَ عَلَى بَابِهِ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ، فَمَا طَهُورَكُمْ؟ "" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ كِتَابٍ، وَنَجِدُ الِاسْتِنْجَاءَ عَلَيْنَا بِالْمَاءِ، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ الْيَوْمَ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ، فَقَالَ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَلَكِنَّهُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَيَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdillāh ibn Salām reported from his father [ʿAbdullāh ibn Salām] رضي الله عنه: The Messenger of Allah ﷺ came to the mosque founded upon piety—the mosque of Qubāʾ—stood at its entrance, and said: > **"Indeed, Allah has praised you excellently regarding purification. What is your manner of purification?"** We said, "O Messenger of Allah, we were People of the Scripture, and we found cleansing with water enjoined upon us, and we still practice it today." He ﷺ said: > **"Indeed, Allah, Mighty and Majestic, has praised you excellently regarding purification, saying: {'Within it are men who love to purify themselves; and Allah loves those who purify themselves'} [al-Tawbah: 108]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن سلام ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس مسجد میں یعنی مسجد قباء میں تشریف لائے ، جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ‘ آپ اس کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے ‘ تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے تو طہارت کے حصول کے لیے تم لوگوں کا طریقہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم اہل کتاب تھے ‘ تو پانی کے ذریعے استنجاء کرنا اپنے اوپر لازم قرار دیتے تھے ‘ اور اب بھی ہم ایسا ہی کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طہارت کے حوالے سے ‘ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اُس میں ایسے لوگ ہیں ، جو اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے کو پسند کرتے ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ جس کے بارے میں محدثین نے اختلاف کیا ہے ‘ تاہم امام احمد ‘ یحییٰ بن معین ‘ ابوزرعہ اور یعقوب بن شیبہ نے اسے ثقہ قرار دیا .

1058

Majma al-Zawaid #1058

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «لَقَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا - يَعْنِي قُبَاءَ - فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ خَيْرًا، أَفَلَا تُخْبِرُونِي؟ "" قَالَ: يَعْنِي قَوْلَهُ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108]. قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ - يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ، كَمَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdillāh ibn Salām narrated: The Messenger of Allah ﷺ came to us—meaning at Qubāʾ—and said: > **"Indeed, Allah, Mighty and Majestic, has praised you with good regarding purification; will you not inform me?"** He meant Allah's saying: {"Within it are men who love to purify themselves; and Allah loves those who purify themselves"} [al-Tawbah: 108]. They said: > **"O Messenger of Allah, we find it prescribed for us in the Torah"—meaning cleansing with water.**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ ﷺ قباء تشریف لائے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ‘ کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گے ؟ ( کہ تم لوگوں کا طہارت کا مخصوص طریقہ کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد ‘ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا : ’’ اُس میں ایسے افراد ہیں ‘ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ‘ اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم نے اس چیز کو پایا تھا ‘ کہ تورات میں اسے ہم پر لازم قرار دیا گیا ۔ ان لوگوں کی مراد ‘ پانی کے ذریعے استنجاء کرنا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ محمد بن عبداللہ بن سلام کے حوالے سے نقل ہے ‘ انہوں نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ یہ ان کے والد ( حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے منقول ہے ‘ جیسا کہ امام طبرانی نے نقل کیا ہے ‘ اس روایت کی سند میں شہر نامی راوی ہے ( جو ضعیف ہے ) ۔

1059

Majma al-Zawaid #1059

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَهْلَ قُبَاءَ، مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي قَدْ خُصِّصْتُمْ بِهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108]. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ يَخْرُجُ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O people of Qubāʾ, what is this purification with which you have been specifically honored in this verse: {'Within it are men who love to purify themselves; and Allah loves those who purify themselves'} [al-Tawbah: 108]?"** They replied, "O Messenger of Allah, none of us comes out after defecating except that he washes his rear."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ اے اہل قباء ! طہارت کے حصول کا وہ مخصوص طریقہ کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے اس آیت میں بطور خاص تمہارا ذکر کیا گیا ہے : ’’ اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ‘ اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے جو بھی شخص پاخانہ کرتا ہے ‘ تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی شہر نامی راوی ہے ۔

1060

Majma al-Zawaid #1060

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رِجَالٌ مِنَّا إِذَا خَرَجُوا مِنَ الْغَائِطِ يَغْسِلُونَ أَثَرَ الْغَائِطِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: 108]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thābit رضي الله عنه reported: > **"Men from among us used to wash off the traces of excrement after defecating, so this verse was revealed regarding them: {'Within it are men who love to purify themselves'} [al-Tawbah: 108]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمارے لوگ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے ‘ تو اس کے بعد پاخانے کے اثر کو دھو لیتے تھے ‘ اُن لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

1061

Majma al-Zawaid #1061

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ فِيهِمْ - عَزَّ وَجَلَّ - {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108]؟) "" قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ دُونَ قَوْلِهِ: "" وَكَانُوا لَا يَنَامُونَ اللَّيْلَ كُلَّهُ "".

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb [al-Anṣārī] رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ asked: > **"Who are those concerning whom Allah, Mighty and Majestic, said: {'Within it are men who love to purify themselves; and Allah loves those who purify themselves'} [al-Tawbah: 108]?"** He ﷺ said: > **"They used to cleanse themselves with water, and they would not sleep through the entire night [spending parts of it in prayer]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ لوگ کون ہیں ؟ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ‘ جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘ انہوں نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو پانی کے ذریعے استنجاء کرتے ہیں اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور وہ ساری رات سوئے نہیں رہتے ہیں ‘‘۔

1062

Majma al-Zawaid #1062

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «غَسْلُ الْمَرْأَةِ قُبُلَهَا مِنَ السُّنَّةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ عَنْعَنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: > **"A woman washing her anterior private part [after urination] is from the Sunnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : عورت کا ( پیشاب کرنے کے بعد ) اپنی اگلی شرمگاہ کو دھونا سنت ( کے حکم سے ثابت ) ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے یہ روایت ’’ عنعنہ ‘‘ کے ساتھ نقل کی ہے ۔

1063

Majma al-Zawaid #1063

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفَضْلِهِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ: "" لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: One of the wives of the Prophet ﷺ performed ghusl from ritual impurity (janābah), and the Prophet ﷺ began performing ablution with the water left over from it. She mentioned that to him, whereupon he said: > **"Indeed, nothing renders water impure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے ‘ ایک خاتون نے غسل جنابت کیا ‘ اُن کے بچائے ہوئے پانی کے ذریعے نبی اکرم ﷺ وضو کرنے لگے ‘ تو اس خاتون نے آپ ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی ( کہ یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پانی کو ‘ کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اُسے کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

1064

Majma al-Zawaid #1064

وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: أَنَّى تَوَضَّأْتُ مِنْ هَذَا. فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَقَالَ: "" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ». وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: The Prophet ﷺ intended to perform ablution, so one of his wives said to him, "I have already performed ablution from this water." Yet he performed ablution from it and said: > **"Indeed, nothing renders water impure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار نے ‘ اُن کے حوالے سے ‘ نبی اکرم نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے : آپ وضو کرنے لگے ‘ تو آپ کی ازواج میں سے ایک خاتون نے آپ کی خدمت میں عرض کی ‘ اس ( پانی ) کے ذریعے میں نے بھی وضو کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس پانی سے وضو کر لیا اور ارشاد فرمایا : پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

1065

Majma al-Zawaid #1065

وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Nothing renders water impure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ پانی کو ‘ کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1066

Majma al-Zawaid #1066

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said: > **"Nothing renders water impure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ پانی کو ‘ کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

1067

Majma al-Zawaid #1067

وَعَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādhah reported: I asked ʿĀʾishah رضي الله عنها regarding performing ghusl from ritual impurity (janābah) [using leftover water], and she replied: > **"Indeed, nothing renders water impure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاذہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جنابت کے بعد کے غسل کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

1068

Majma al-Zawaid #1068

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «لَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ شَيْءٌ إِلَّا مَا غَيَّرَ رِيحَهُ أَوْ طَعْمَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ - وَلَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: "" إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ وَطَعْمِهِ وَلَوْنِهِ "" - وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Nothing renders water impure except that which alters its odor or its taste."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ‘ البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اس کی بو ‘ یا ذائقہ کو تبدیل کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام ابن ماجہ نے اُس صحابی کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اُس کی بو یا ذائقے ‘ یا رنگ پر غالب آ جائے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

1069

Majma al-Zawaid #1069

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Water is not made impure by anything."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

1070

Majma al-Zawaid #1070

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَمَرَنَا «رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَتَوَضَّأَ بِالْمَاءِ مَا لَمْ يَأْجَنِ الْمَاءُ؛ يَخْضَرُّ أَوْ يَصَفَرُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَبَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform ablution with water as long as it has not become stale and discolored—turning green or yellow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ایسے پانی کے ذریعے وضو کر لیں ، جو متغیر ہو کر سبز ‘ یا زردنہ ہوا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ خالد بن معدان نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اور بقیہ بن ولید نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ۔

1071

Majma al-Zawaid #1071

«عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْوُضُوءُ مِنْ جَرٍّ جَدِيدٍ مُخَمَّرٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مِنَ الْمَطَاهِرِ؟ فَقَالَ: "" لَا، بَلْ مِنَ الْمَطَاهِرِ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ "". قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ إِلَى الْمَطَاهِرِ، فَيُؤْتَى بِالْمَاءِ فَيَشْرَبُهُ، يَرْجُو بَرَكَةَ أَيْدِي الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ثِقَةٌ، يُنْسَبُ إِلَى الْإِرْجَاءِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: I asked, "O Messenger of Allah, is performing ablution from a new, covered earthen jar more beloved to you, or from common ablution vessels (al-maṭāhir)?" The Messenger of Allah ﷺ replied: > **"No, rather from the common ablution vessels; indeed, the religion of Allah is upright and accommodating (al-Ḥanīfiyyah al-Samḥah)."** He [Ibn ʿUmar] added: "And the Messenger of Allah ﷺ would send for water from the common ablution vessels, and it would be brought to him and he would drink from it, seeking the blessings of the Muslims' hands."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ڈھانپے ہوئے نئے مٹکے کے ذریعے وضو کرنا آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ‘ یا طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے ( وضو کرنا ‘ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ) بے شک اللہ تعالیٰ کا دین ‘ درست اور آسان ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ طہارت کا برتن منگوایا کرتے تھے ‘ اس میں پانی لایا جاتا تھا ، تو آپ اس پانی کو پیتے تھے آپ مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت کی امید رکھتے ( ہوئے ایسا کرتے ) تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ عبدالعزیز بن ابورواد نامی راوی ثقہ ہے اس کی نسبت ’’ ارجاء ‘‘ کی طرف کی گئی ہے ۔

1072

Majma al-Zawaid #1072

«عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَسْخَنْتُ مَاءً فِي الشَّمْسِ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَتَوَضَّأَ بِهِ، فَقَالَ: "" لَا تَفْعَلِي يَا عَائِشَةُ ; فَإِنَّهُ يُورِّثُ الْبَيَاضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ. وَقَالَ - أَيِ الطَّبَرَانِيُّ -: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: قَدْ رَوَيْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated: "I heated some water in the sun and brought it to the Prophet ﷺ so that he might perform ablution with it. Thereupon, he said: > **"Do not do that, O ʿĀʾishah, for it causes vitiligo (al-bayaḍ)."**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے دھوپ میں پانی گرم کیا ‘ میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ‘ تاکہ آپ اس کے ذریعے وضو کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم ایسا نہ کرو ‘ کیونکہ اس کے نتیجے میں سفیدی ( یعنی برص کا مرض ) پیدا ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ‘ وہ یعنی امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ہم یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے طور پر نقل کر چکے ہیں ۔