وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "" أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ ""، فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَمَرَّ بِي يَمْشِي، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا، وَأَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضِ بِرَازٍ، فَإِذَا رِجَالٌ طِوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرِّمَاحُ، مُسْتَذْفِرِي ثِيَابَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا تُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا، فَقَالَ لِيَ: "" اقْعُدْ فِي وَسَطِهِ ""، فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ كُنْتُ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ، وَمَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَتَلَا قُرْآنًا رَفِيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي، فَقَالَ لِيَ: "" الْحَقْ ""، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقَالَ لِيَ: "" الْتَفِتْ فَانْظُرْ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ؟ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا، فَخَفَّضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَنَظَّمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "" رُشْدُ أُولَئِكَ مِنِّي، وَفْدُ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ، سَأَلُونِيَ الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ "". قَالَ الزُّبَيْرُ: فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ بَقِيَّةَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ.
EnglishUnverified translation
Al-Zubayr ibn al-ʿAwwām رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ led us in the Fajr prayer in the mosque of Madīnah. When he finished, he asked, "Which of you will accompany me to the delegation of the jinn tonight?" The people remained silent and no one spoke. He asked this three times. Then he walked past me, took me by my hand, and I walked along with him until all the mountains of Madīnah disappeared from our sight, and we reached an open, barren land. Suddenly, there were tall men resembling spears, tucking their garments between their legs. When I saw them, a severe trembling overcame me such that my legs could barely support me out of terror. When we drew near them, the Messenger of Allah ﷺ drew a line in the ground with his big toe and said to me, "Sit in the middle of it." When I sat down, all the fear and doubt I had been experiencing departed from me. The Prophet ﷺ went forward between me and them, reciting the Qur’an in an elevated voice until dawn broke. Then he approached, passed by me, and said, "Follow." I began walking with him, and before we had gone far, he said to me, "Turn and look: do you see anyone where those beings were?" I replied, "O Messenger of Allah, I see a vast multitude of dark figures." The Messenger of Allah ﷺ bowed his head toward the earth, joined a bone to a piece of animal dung, threw it toward them, and said: > **"This is guidance from me for them: they are a delegation from a people—the delegation of Naṣībīn. They asked me for sustenance, so I assigned to them every bone and animal dung."** Al-Zubayr added, "Therefore, it is never permissible for anyone to clean himself with a bone or animal dung."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی مسجد میں ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ‘ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : آج رات کون میرے ساتھ جنات کے وفد سے ملاقات کے لیے جائے گا ؟ تو حاضرین خاموش رہے ‘ ان میں سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ میرے پاس سے گزرے ‘ تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ‘ یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے اور ہم کھلی جگہ پر آ گئے ‘ وہاں نیزوں کی طرح کے طویل القامت افراد موجود تھے جنہوں نے اپنے کپڑے دونوں ٹانگوں کے درمیان کیے ہوئے تھے ‘ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی ‘ یہاں تک کہ خوف کی شدت کی وجہ سے میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، جب ہم اُن لوگوں کے قریب پہنچے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں کے انگھوٹھے کے ذریعے زمین پر میرے لیے لکیر لگا دی ‘ آپ نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے درمیان میں بیٹھ جاؤ ! جب میں بیٹھ گیا ‘ تم مجھے جو بھی پریشانی لاحق تھی ‘ وہ سب ختم ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ میرے اور ( ان ) لوگوں کے درمیان تشریف لے گئے ‘ صبح صادق ہونے تک آپ بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کرتے رہے ‘ پھر آپ واپس تشریف لائے ‘ جب آپ میرے پاس پہنچے ‘ تو آپ نے فرمایا : میرے ساتھ آ جاؤ ! میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ‘ ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے ‘ کہ آپ نے ارشاد فرمایا : مڑ کر دیکھو ! جہاں وہ لوگ موجود تھے ‘ وہاں تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہاں بہت سے افراد محسوس ہو رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا ‘ پھر آپ نے ایک ہڈی کو مینگنی کے ساتھ لگایا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ میری طرف سے اُن لوگوں کی رہنمائی ہے ‘ یہ ایک قوم کا وفد تھا یہ ’’ نصیبین ‘‘ کا وفد تھا ‘ انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ‘ تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی کو اُن کے لیے ( زاد راہ کے طور پر ) مقرر کر دیا ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اب ہمیشہ کے لیے ‘ کسی کے لیے بھی ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کرنا حلال نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ‘ بقیہ کے علاوہ اس میں اور کوئی ( ضعف نہیں ہے ) اور اس نے بھی تحدیث کی صراحت کی ہے ۔