عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعَلْمُ، وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ "" وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} [المائدة: 101]. قَالَ: وَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ، وَاتَّقَيْنَا ذَلِكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ فَاعْتَمَّ بِهِ. قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَتَهُ خَارِجَةً عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ. قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ، وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا، وَعَلَّمْنَاهَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ. قَالَ: فَقَالَ: "" أَيْ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا مِنْهَا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ ذَهَابُ حَمَلَتِهِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ أَصَحُّ ; لِأَنَّ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيَّ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَهُوَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ مِنْ طُرُقٍ فِي بَعْضِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ صَدُوقٌ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَلَيْسَ مِمَّنْ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
EnglishUnverified translation
Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه narrated: During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah ﷺ stood up, with al-Faḍl ibn ʿAbbās riding behind him on a brownish camel, and said: > **"O people! Take of knowledge before knowledge is seized, and before it is lifted up!"** Allah Mighty and Majestic had revealed: *{O you who have believed, do not ask about things which, if they are shown to you, will distress you; but if you ask about them while the Qurʾān is being revealed, they will be shown to you. Allah has pardoned that, and Allah is Forgiving and Forbearing}* [al-Māʾidah: 101]. We had come to dislike questioning him excessively and were cautious after Allah revealed this to His Prophet ﷺ. So we went to a Bedouin and gave him a cloak as a gift, which he wrapped around his head as a turban—until I saw its fringe hanging over his right eyebrow. We said to him: "Ask the Prophet ﷺ." So he said: "O Prophet of Allah, how will knowledge be lifted from us when the copies of the Book (al-Maṣāḥif) are among us, and we have learned what is in them and taught them to our wives, our children, and our servants?" The Prophet ﷺ raised his head, and redness covered his face out of anger. Then he ﷺ said: > **"Woe to you! May your mother be bereaved of you! Here are the Jews and the Christians, having their scriptures among them, yet they do not adhere to a single letter of what their prophets brought them! Behold, indeed the departure of knowledge is the departure of its bearers!"** He ﷺ repeated this three times.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ آپ ﷺ نے سواری پر اپنے پیچھے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا ہوا تھا ، آپ ﷺ ایک خاکستری رنگ کے اونٹ پر سوار تھے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! علم حاصل کر لو ! اس سے پہلے کہ علم کو قبض کر لیا جائے اور اس سے پہلے کے اسے اٹھا لیا جائے ‘ اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی ہے : ’’ اے ایمان والو ! تم اُن چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو ‘ کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں ‘ تو یہ تمہیں برا لگے ‘ اگر تم ان کے بارے میں اُس وقت سوال کرتے ہو ‘ جب قرآن نازل ہو رہا ہو ‘ تو وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں گی ‘ اللہ تعالیٰ اُس سے درگزر کرے ‘ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ‘ بردبار ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ویسے بھی آپ ﷺ سے زیادہ سوال کرنے کو ناپسند کرتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل کر دی ‘ تو ہم احتیاط کرنے لگے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دیہاتی کے پاس آئے ‘ ہم نے اُسے ایک چادر دی اس نے وہ عمامہ کے طور پر باندھ لی ‘ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس چادر کا حاشیہ اُس شخص کے دائیں ابرو سے نکل رہا تھا ، پھر ہم نے اُس سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ سے سوال کرو ! اس نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اے اللہ کے نبی ! ہم میں سے علم کو کیسے اٹھا لیا جائے گا ؟ جبکہ ہمارے درمیان قرآن مجید موجود ہے اور اس میں جو کچھ مذکور ہے ُ‘ ہم نے اُس کا علم حاصل کیا ہے اور ہم نے اُس کی تعلیم اپنے بیوی بچوں ‘ اور خدمت گزاروں کو دی ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سر مبارک اٹھایا ‘ غصے کی وجہ سے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے شخص ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان بھی اُن کی مقدس کتابیں موجود تھیں ، اُن کے انبیاء ان کے پاس جو کلام لے کر آئے تھے ‘ اُن لوگوں نے اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیا ‘ یاد رکھنا ؟ علم کی رخصتی سے مراد اس کو اٹھانے والے ( علماء کی ) رخصتی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ تاہم امام طبرانی کی سند زیادہ مستند ہے ‘ کیونکہ امام احمد کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ‘ امام طبرانی نے اسے مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے ‘ ان میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ وہ تدلیس کرنے والا صدوق شخص ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ‘ وہ اُن افراد میں سے نہیں ہے ‘ جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔