Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 13

Book of Knowledge

Hadith 952–992

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

952

Majma al-Zawaid #952

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"The Messenger of Allah ﷺ was born in the Year of the Elephant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی پیدائش عام الفیل میں ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

953

Majma al-Zawaid #953

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ؟ قَالَ: "" عَشَرَةُ قُرُونٍ "". قَالَ: كَمْ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: "" عَشَرَةُ قُرُونٍ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: "" ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه reported that a man asked: "O Messenger of Allah, was Adam a prophet?" He ﷺ replied: **"Yes."** The man asked: "How much time was there between him and Nūḥ?" He ﷺ said: **"Ten centuries."** The man asked: "How much time was there between Nūḥ and Ibrāhīm?" He ﷺ said: **"Ten centuries."** The man asked: "O Messenger of Allah, how many were the Messengers?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three hundred and fifteen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دس صدیوں کا ، اُس نے دریافت کیا : حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : دس صدیوں کا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تین سو پندرہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

954

Majma al-Zawaid #954

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَقَعَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ: "" هَلْ تَعَوَّذْتَ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنِسِ؟ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "" آدَمُ "". قُلْتُ: نَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، مُكَلَّمٌ "". قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "" نُوحٌ، وَبَيْنَهُمَا عَشَرَةُ آبَاءٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: "" خَيْرٌ مَفْرُوضٌ، مَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ مِنْهُ "". قُلْتُ: فَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: "" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ "". قُلْتُ: وَالصِّيَامُ؟ قَالَ: "" الصِّيَامُ جُنَّةٌ. قَالَ اللَّهُ: الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ، وَسِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" أَغْلَاهَا ثَمَنًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. قُلْتُ: وَتَقَدَّمَ أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ وَالْبَزَّارَ فِي بَابِ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported: He came to the Prophet ﷺ while the Messenger of Allah ﷺ was delivering a sermon, and sat down. The Prophet ﷺ said to him: **"Have you sought refuge from the evil of the devils among jinn and mankind?"** I asked: "O Messenger of Allah, who was the first of the Prophets?" He ﷺ replied: **"Adam."** I asked: "Was he a prophet?" He ﷺ said: **"Yes, spoken to directly by Allah."** I asked: "Then who?" He ﷺ said: **"Nūḥ, and between them were ten generations of fathers."** I said: "O Messenger of Allah, tell me about the prayer." He ﷺ said: **"It is a prescribed good; whoever wills may do much of it."** I asked: "And charity?" He ﷺ said: **"Multiplied manifold."** I asked: "And fasting?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Fasting is a shield. Allah has said: 'Fasting is for Me, and I shall reward for it.' By the One in Whose Hand is my soul, the smell of the mouth of a fasting person is more fragrant to Allah than the scent of musk."** I asked: "Which charity is most virtuous?" He ﷺ said: > **"The striving of one of modest means, and charity given secretly to the poor."** I asked: "Which slave is most virtuous to emancipate?" He ﷺ said: > **"The one highest in price and most valued by his owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، وہ بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم نے جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے شیاطین کے شر سے پناہ مانگ لی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ، میں نے دریافت کیا : کیا وہ نبی تھے ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُن کے ساتھ کلام کیا گیا تھا ، میں نے دریافت کیا : پھر کون ( نبی ) تھے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت نوح علیہ السلام ، ان دونوں کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے نماز کے بارے میں بتائیے ! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک بھلائی ہے ، جو لازم قرار دی گئی ہے ، جو شخص چاہے وہ اسے زیادہ حاصل کر سکتا ہے ، میں نے عرض کی : صدقہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ( اس کا اجر و ثواب ) کئی گنا ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : اور روزہ ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : روزہ ڈھال ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تنگدست شخص کا محنت کر کے ( صدقہ کرنا ) یا کسی غریب کو پوشیدہ طور پر ( صدقہ دینا ) میں نے عرض کی : ( آزاد کرنے کے لئے ) کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ امام احمد اور امام بزار نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

955

Majma al-Zawaid #955

وَعَنْ سَعِيدِ - يَعْنِي ابْنَ يَرْبُوعٍ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" أَنَا أَكْبَرُ أَوْ أَنْتَ؟ "" فَقُلْتُ: أَنْتَ أَكْبَرُ وَأَخْيَرُ مِنِّي، وَأَنَا أَقْدَمُ سِنًّا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Yarbūʿ رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ asked him: **"Am I older (greater), or are you?"** He replied: > **"You are greater and far better than me, but I am older in years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : میں بڑا ہوں یا تم ؟ تو میں نے عرض کی : آپ ﷺ مجھ سے بڑے ہیں اور مجھ سے بہتر ہیں ، لیکن عمر میری زیادہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

956

Majma al-Zawaid #956

وَعَنْ دَغْفَلٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Daghfal ibn Ḥanẓalah رضي الله عنه said: > **"The Prophet ﷺ passed away when he was sixty-five years of age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

دغفل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا وصال 65 سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔

957

Majma al-Zawaid #957

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan al-Baṣrī reported: > **"The Prophet ﷺ passed away when he was sixty years of age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : آپ ﷺ کا وصال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ( اپنی مسند میں ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

958

Majma al-Zawaid #958

وَعَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥamzah reported from his father رضي الله عنه: > **"The Prophet ﷺ passed away when he was sixty-three years of age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحمزہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ، تو آپ ﷺ کی عمر 63 برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

959

Majma al-Zawaid #959

وَعَنْ وَاثِلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لَسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ صَالِحَ الْحَدِيثِ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The scriptures of Ibrāhīm were revealed on the first night of Ramaḍān; the Torah was revealed when six nights of Ramaḍān had passed; the Gospel was revealed when thirteen nights of Ramaḍān had passed; and the Qurʾān was revealed when twenty-four nights of Ramaḍān had passed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوئے تھے ، تورات رمضان کے چھ دن گزرنے کے بعد نازل ہوئی تھی ، انجیل رمضان کے تیرہ دن گزرنے کے بعد نازل ہوئی تھی ، قرآن رمضان کے چوبیس دن گزرنے کے بعد نازل ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن داؤد القطان ہے ، جس کو یحیی نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام احمد فرماتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ یہ صالح الحدیث ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

960

Majma al-Zawaid #960

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «أَنْزَلَ اللَّهُ صُحُفَ إِبْرَاهِيمَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ عَلَى مُوسَى لِسِتٍّ خَلَوْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الزَّبُورُ عَلَى دَاوُدَ فِي إِحْدَى عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما said: > **"Allah revealed the scriptures of Ibrāhīm on the first night that passed of Ramaḍān; the Torah was revealed to Mūsā when six nights of Ramaḍān had passed; the Psalms (al-Zabūr) were revealed to Dāwūd on the eleventh night that passed of Ramaḍān; and the Qurʾān was revealed to Muḥammad ﷺ when twenty-four nights of Ramaḍān had passed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات گزرنے کے بعد نازل کئے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات رمضان کی چھ راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی ، حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور رمضان کی گیارہ راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی اور حضرت محمد ﷺ پر قرآن رمضان کی چوبیس راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

961

Majma al-Zawaid #961

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ وَمِنْكُمْ عَيْنٌ تَطْرِفُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The companions of the Prophet ﷺ recounted to us that the Prophet ﷺ said: > **"One hundred years will not arrive from the Hijrah with any blinking eye remaining alive from among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہجرت کے بعد 100 سال گزرنے پر تم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

962

Majma al-Zawaid #962

وَعَنْ نُعَيْمُ بْنُ دَجَاجَةَ قَالَ: «دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: لَا يَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ، وَاللَّهِ إِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nuʿaym ibn Dajājah reported: Abū Masʿūd ʿUqbah ibn ʿAmr al-Anṣārī came to ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنهما. ʿAlī said to him: "Are you the one who says: 'A hundred years will not come with any blinking eye remaining upon the earth'? Indeed, the Messenger of Allah ﷺ only said: > **'A hundred years will not pass over the people with any blinking eye remaining upon the earth from among those who are alive today.'** By Allah, the ease and prosperity of this Ummah will only come after a hundred years!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا : آپ ہی نے یہ بات بیان کی ہے کہ 100 سال گزرنے پر روئے زمین پر موجود کوئی آنکھ جھپکے گی نہیں ( یعنی کوئی زندہ نہیں رہے گا ) حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایک سو سال گزرنے پر ‘ لوگوں میں سے آج جو زندہ ہے ‘ اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ‘‘۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! ایک سو سال گزرنے کے بعد اس اُمت میں سہولت ( یا فراخی ) آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے ( اپنی ‘ اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

963

Majma al-Zawaid #963

وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ إِذْ جَاءَ أَبُو مَسْعُودٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قَدْ جَاءَ فَرُّوخُ فَجَلَسَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّكَ تُفْتِي النَّاسَ؟ قَالَ: أَجَلْ، وَأُخْبِرُهُمُ [السَّاعَةَ] أَنَّ الْآخَرَ شَرٌّ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي، هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ» ""، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ، وَأَخْطَأْتَ فِي أَوَّلِ فُتْيَاكَ، إِنَّمَا قَالَ ذَاكَ لِمَنْ حَضَرَهُ يَوْمَئِذٍ، هَلِ الرَّخَاءُ إِلَّا بَعْدَ الْمِائَةِ؟. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Nuʿaym ibn Dajājah narrated: I was sitting with ʿAlī رضي الله عنه when Abū Masʿūd arrived. ʿAlī said, "Farrukh has arrived," and he sat down. ʿAlī said, "Do you issue verdicts to the people?" He replied, "Yes, and I inform them that the later times will be worse." ʿAlī said, "Then tell me, did you hear anything from him ﷺ?" He said, "Yes, I heard him say: **'A hundred years will not pass over the people with any blinking eye remaining upon the earth.'**" ʿAlī said: "You have completely missed the mark and erred in your very first verdict! He ﷺ only said that concerning those who were present with him on that day. For is prosperity to be expected except after the hundred years?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں : میں ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ اسی دوران حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فروخ آ گیا ہے ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو حکم بیان کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں انہیں وقت کے بارے میں بتاتا ہوں ‘ کہ بعد والا وقت زیادہ برا ہو گا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم مجھے بتاؤ ! کیا تم نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک سو سال گزرنے کے بعد روئے زمین پر کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا ‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ( مفہوم سمجھنے میں ) غلطی کی ہے اور تم نے اپنے پہلے فتوی میں غلطی کی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ اُس وقت وہاں موجود تھے ( ایک سو سال گزرنے کے بعد اُن میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا ‘ نبی اکرم ﷺ کی امت کے لیے ) سہولت ‘ تو ایک سو سال کے بعد ہی آئے گی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

964

Majma al-Zawaid #964

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ أَجْرَأُ النَّاسِ عَلَى مَسْأَلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْرَابُ، وَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى فَأَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ، وَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ وَمَرَّ بِهِ سَعْدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا عُمِّرَ حَتَّى يَأْكُلَ عُمْرَهُ، لَمْ يَبْقَ مِنْكُمْ عَيْنٌ تَطْرِفُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. قُلْتُ: لِأَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ: «إِنْ يَعِشْ هَذَا حَتَّى يَسْتَكْمِلَ عُمْرَهُ لَمْ يَمُتْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَبْيَنُ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The most daring of people in questioning the Messenger of Allah ﷺ were the Bedouins. A Bedouin came to him and said: "O Messenger of Allah, when is the Hour?" The Prophet ﷺ did not give him any answer until he entered the mosque and performed a brief prayer. Then the Prophet ﷺ turned to them and said, **"Where is the one who asked about the Hour?"** Just then, a young boy named Saʿd passed by him, and the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If this boy lives to consume his natural lifespan, not a blinking eye among you will remain alive."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ جرات کا مظاہرہ دیہاتی لوگ کیا کرتے تھے ‘ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا ‘ اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ‘ آپ ﷺ مسجد تشریف لائے ‘ آپ ﷺ نے مختصر نماز ادا کی ‘ پھر آپ دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ آپ کے پاس سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ گزرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اس شخص کی طبعی عمر ہوئی ‘ تو تم لوگوں میں سے کوئی بھی ( اُس وقت تک ) زندہ نہیں رہے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے :’’ اگر یہ زندہ رہا ‘ یہاں تک کہ اس کی طبعی عمر مکمل ہوئی ‘ تو اس کے مرنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت زیادہ واضح ہے ‘ اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

965

Majma al-Zawaid #965

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا تَأْتِي الْمِائَةُ وَعَلَى ظَهْرِهَا أَحَدٌ بَاقٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَتَابِعَيْهِ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي شِمْرٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، رَوَى عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ بْنُ سَوَادٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Sufyān ibn Wahb al-Khawlānī رضي الله عنه narrated: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"A hundred years will not arrive with anyone remaining upon the surface of the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ ایک سو سال گزرنے تک روئے زمین پر کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس روایت کے راوی سعید بن ابوشمر کا ذکر این ابوحاتم نے کیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : انہوں نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے ‘ اور ان سے ابوبکر بن سواد نے روایت نقل کی ہے ‘ حالانکہ ان سے عبدالرحمن بن شریح نے روایت نقل کی ہے ‘ اور کسی نے ان کو ضعیف قرار نہیں دیا ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

966

Majma al-Zawaid #966

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ - رَفَعَهُ مُعَاوِيَةُ مَرَّةً، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أُخْرَى -: «أَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ، وَإِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ; فَعِنْدَ ذَلِكَ تُفْتَحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ». قُلْتُ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَدْ عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ فِي الْمَلَاحِمِ، وَلَمْ أَجِدْهُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Thaʿlabah al-Khushanī رضي الله عنه reported—sometimes raised to the Prophet ﷺ and sometimes stopped with the narrator: > **"Indeed, Allah Exalted will not fail to grant this Ummah a respite of half a day (five hundred years); and when you see the Levant become the banquet table of a single man and his household, then at that time Constantinople shall be conquered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : معاویہ نامی راوی نے ایک مرتبہ اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ اور ایک مرتبہ اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ( بلکہ موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو نصف دن ( یعنی پانچ سو سال ) سے عاجز نہیں کرے گا اور جب تم شام کو دیکھو کہ وہ آدمی اور اُس کے اہل بیت کا دستر خوان ہو ‘ تو اس وقت قسطنطنیہ فتح ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے اور یہ کہا ہے : یہ روایت جنگوں سے متعلق باب میں ہے ‘ لیکن مجھے اس کتاب میں یہ روایت نہیں ملی ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ‘ اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

967

Majma al-Zawaid #967

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ: الْقَضَاءُ فِي مِائَةٍ - يَعْنُونَ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ تَكُونُ الْقِيَامَةُ - فَقَالَ الْمِقْدَامُ: قَدْ أَكْثَرْتُمْ، لَنْ يُعْجِزَ اللَّهُ أَنْ يُؤَخِّرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ نِصْفَ يَوْمٍ؛ يَعْنِي خَمْسَمِائَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn Rāshid reported: I heard al-Miqdām ibn Maʿdīkarib رضي الله عنه, the companion of the Messenger of Allah ﷺ, when most people were saying: "The final decree will be at one hundred"—meaning that the Day of Resurrection would occur at one hundred years. So al-Miqdām said: > **"You have exaggerated! Allah will never fail to grant this Ummah a delay of half a day—meaning five hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن راشد بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو سنا : اکثر لوگوں کا یہ کہنا تھا : سو سال میں فیصلہ آ جائے گا ‘ یعنی 100 ہجری میں قیامت آ جائے گی ‘ تو حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے زیادہ ہی کر دیا ہے ‘ ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو نصف دن کا وقت بھی نہ دے ‘ اُن کی مراد 500 سال تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

968

Majma al-Zawaid #968

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَنْقَضِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَيْنٌ تَطْرِفُ». وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - رِيحًا يَبْعَثُهَا عِنْدَ رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ، فَيَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"One hundred years will not expire with any blinking eye remaining alive."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک سو سال گزرنے پر کوئی آنکھ نہیں جھپکے گی ( یعنی کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا ) ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ایک سو سال گزرنے پر ‘ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا اور اُس کے ذریعے ) ہر مؤمن کی روح قبض کر لے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

970

Majma al-Zawaid #970

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ «أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، انَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ نَفْسٌ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ فَيَعْبَأُ اللَّهُ بِهَا شَيْئًا». قُلْتُ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا. وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ - وَهُوَ ضَعِيفٌ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ صَخْرٍ، وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported: They were with the Messenger of Allah ﷺ during the expedition of Tabūk, and he ﷺ said: > **"O people! Indeed, there is no soul alive today upon whom a hundred years will pass such that Allah will reckon anything of him (i.e., none of this generation will remain alive)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آج جو لوگ زندہ ہیں ، اُن میں سے کسی پر بھی ایک سو سال گزرنے کا وقت نہیں آئے گا ‘ اللہ تعالیٰ کو اس کے حوالے سے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہی روایت امام بزار نے ‘ اس سے زیادہ طویل روایت کے درمیان میں بیان کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اُس نے اسے عبداللہ بن قدامہ بن صخر سے روایت کیا ہے ‘ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون ہے ؟

971

Majma al-Zawaid #971

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: أَدْرَكْتُ ثَمَانِيَ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ بِكَلِمَةٍ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ، وَشُيُوخُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl ʿĀmir ibn Wāthilah رضي الله عنه said: > **"I witnessed eight years of the life of the Messenger of Allah ﷺ, and I was born in the year of the Battle of Uḥud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں ، میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن ولید بن عبداللہ بن جمیع ہے ‘ ابن عدی نے اس کا ذکر ’’ کتاب الکامل ‘‘ میں کیا ہے ، لیکن اُس کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ‘ امام احمد نے اس سے روایت نقل کی ہے اور اس کے شیوخ ، ثقہ ہیں ۔

972

Majma al-Zawaid #972

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا غُلَامٌ أَحْمِلُ اللَّحْمَ مِنَ السَّهْلِ إِلَى الْجَبَلِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرَوَاهُ مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثًا فِي: أَنَّ الدَّجَّالَ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَلَا أَدْرِي أَرَادَ لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ هَذَا وَحْدَهُ أَوْ جَمِيعِ حَدِيثِهِ، وَالْآخَرُ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه said: > **"The Prophet ﷺ was commissioned when I was a young boy carrying meat from the plain up to the mountain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مبعوث ہوئے تھے ‘ میں اُس وقت لڑکا تھا ‘ اور نیچے سے گوشت اُٹھا کر پہاڑ پر لے جایا کرتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اسے مہدی بن عمران نے روایت کیا ہے ‘ امام بخاری فرماتے ہیں : حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل کرنے میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی ہے انہوں نے اس کے حوالے سے وہ حدیث نقل کی ہے ‘ جن میں یہ مذکور ہے : دجال ‘ ابن صیاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : مجھے نہیں معلوم کہ امام بخاری کی مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کہ صرف اُس ایک حدیث کے حوالے سے اس کی سماعت نہیں کی گئی ہے ‘ یا ان کی مراد اس راوی کی نقل کردہ تمام حدیث ہیں ‘ دوسرا راوی خالد بن ابویحیی ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

973

Majma al-Zawaid #973

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: أَدْرَكْتُ ثَمَانِيَ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ وُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ: قَالَ أَبِي: قَدِمَ عَلَيْنَا ثَابِتٌ الْكُوفَةَ، فَنَزَلَ مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَسَمِعْنَا مِنْهُ أَحَادِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه said: > **"I witnessed eight years of the life of the Messenger of Allah ﷺ, and I was born in the year of Uḥud."** ʿAbdullāh ibn Aḥmad said: My father said: "Thābit came to us in Kufa and stayed in the city of Abū Jaʿfar, so I and Yaḥyā ibn Maʿīn went to him and heard ahadith from him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں ‘ میں غزوہ اُحد کے سال پیدا ہوا تھا ۔ امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں : میرے والد فرماتے ہیں : ثابت ہمارے پاس کوفہ آئے تھے ‘ وہ ( عباسی خلیفہ ) ابوجعفر ( منصور ) کے آباد کیے ہوئے شہر میں ٹھہرے تھے ‘ میں اور یحیی بن معین گئے تھے ‘ اور ہم نے اُن سے احادیث کا سماع کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

974

Majma al-Zawaid #974

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ: «قُلْتُ لِعَبْدِ خَيْرٍ: كَمْ أَتَى عَلَيْكَ؟ قَالَ: عِشْرُونَ وَمِائَةُ سَنَةٍ. قُلْتُ: هَلْ تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا بِبِلَادِ الْيَمَنِ، فَجَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى خَيْرٍ وَاسِعٍ، فَكَانَ أَبِي مِمَّنْ خَرَجَ وَأَنَا غُلَامٌ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبِي قَالَ لِأُمِّي: مُرِي بِهَذِهِ الْقِدْرِ فَلْتُرَاقَ لِلْكِلَابِ ; فَإِنَّا قَدْ أَسْلَمْنَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي كَثِيرٌ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالتَّارِيخِ وَغَيْرِهِ فِي أَوَاخِرِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn Salʿ reported: I asked ʿAbd Khayr: "How old are you?" He replied: "One hundred and twenty years." I asked: "Do you remember anything from the pre-Islamic days of ignorance?" He replied: > **"Yes. We were in our lands in Yemen when the letter of the Messenger of Allah ﷺ came to us, inviting the people to vast goodness. My father was among those who went forth to meet him while I was a young boy. When my father returned, he said to my mother: 'Order this cooking pot to be spilled out for the dogs, for indeed we have embraced Islam!'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن سلع بیان کرتے ہیں : میں نے عبدخیر سے دریافت کیا : آپ کی عمر کتنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : 120 سال ‘ میں نے دریافت کیا : کیا آپ کو زمانہ جاہلیت کی کوئی چیز یاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ہم یمن میں اپنے علاقے میں تھے ‘ ہمارے پاس اللہ کے رسول کا مکتوب آیا ‘ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایک کشادہ بھلائی کی طرف دعوت دی تھی ‘ میرے والد بھی جانے والوں میں شامل تھے ‘ میں ان دنوں لڑکا تھا ‘ جب میرے والد واپس آئے ‘ تو انہوں نے میری والدہ سے کہا : تم ہنڈیا کے بارے میں ہدایت کرو ‘ کہ اُس کا کھانا کتوں کے آگے ڈال دیا جائے ‘ کیونکہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ایسی بہت سی روایات ‘ جو تاریخ اور دیگر امور سے متعلق ہیں ‘ وہ صحابہ کرام کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئیں گی ۔

975

Majma al-Zawaid #975

قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنِّي لَأَحْسَبُ الرَّجُلَ يَنْسَى الْعِلْمَ كَمَا يَعْلَمُهُ لِلْخَطِيئَةِ يَعْمَلُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Indeed, I believe that a man forgets knowledge that he once knew on account of a sin that he commits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو شخص علم کو بھول جاتا ہے ‘ اُس کی مثال اُس شخص کے مانند ہے ‘ جو کسی غلطی کے ارتکاب کے لیے اس علم کو سیکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

976

Majma al-Zawaid #976

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعَلْمُ، وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ "" وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} [المائدة: 101]. قَالَ: وَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ، وَاتَّقَيْنَا ذَلِكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ فَاعْتَمَّ بِهِ. قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَتَهُ خَارِجَةً عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ. قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ، وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا، وَعَلَّمْنَاهَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ. قَالَ: فَقَالَ: "" أَيْ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا مِنْهَا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ ذَهَابُ حَمَلَتِهِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ أَصَحُّ ; لِأَنَّ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيَّ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَهُوَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ مِنْ طُرُقٍ فِي بَعْضِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ صَدُوقٌ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَلَيْسَ مِمَّنْ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه narrated: During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah ﷺ stood up, with al-Faḍl ibn ʿAbbās riding behind him on a brownish camel, and said: > **"O people! Take of knowledge before knowledge is seized, and before it is lifted up!"** Allah Mighty and Majestic had revealed: *{O you who have believed, do not ask about things which, if they are shown to you, will distress you; but if you ask about them while the Qurʾān is being revealed, they will be shown to you. Allah has pardoned that, and Allah is Forgiving and Forbearing}* [al-Māʾidah: 101]. We had come to dislike questioning him excessively and were cautious after Allah revealed this to His Prophet ﷺ. So we went to a Bedouin and gave him a cloak as a gift, which he wrapped around his head as a turban—until I saw its fringe hanging over his right eyebrow. We said to him: "Ask the Prophet ﷺ." So he said: "O Prophet of Allah, how will knowledge be lifted from us when the copies of the Book (al-Maṣāḥif) are among us, and we have learned what is in them and taught them to our wives, our children, and our servants?" The Prophet ﷺ raised his head, and redness covered his face out of anger. Then he ﷺ said: > **"Woe to you! May your mother be bereaved of you! Here are the Jews and the Christians, having their scriptures among them, yet they do not adhere to a single letter of what their prophets brought them! Behold, indeed the departure of knowledge is the departure of its bearers!"** He ﷺ repeated this three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ آپ ﷺ نے سواری پر اپنے پیچھے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا ہوا تھا ، آپ ﷺ ایک خاکستری رنگ کے اونٹ پر سوار تھے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! علم حاصل کر لو ! اس سے پہلے کہ علم کو قبض کر لیا جائے اور اس سے پہلے کے اسے اٹھا لیا جائے ‘ اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی ہے : ’’ اے ایمان والو ! تم اُن چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو ‘ کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں ‘ تو یہ تمہیں برا لگے ‘ اگر تم ان کے بارے میں اُس وقت سوال کرتے ہو ‘ جب قرآن نازل ہو رہا ہو ‘ تو وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں گی ‘ اللہ تعالیٰ اُس سے درگزر کرے ‘ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ‘ بردبار ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ویسے بھی آپ ﷺ سے زیادہ سوال کرنے کو ناپسند کرتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل کر دی ‘ تو ہم احتیاط کرنے لگے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دیہاتی کے پاس آئے ‘ ہم نے اُسے ایک چادر دی اس نے وہ عمامہ کے طور پر باندھ لی ‘ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس چادر کا حاشیہ اُس شخص کے دائیں ابرو سے نکل رہا تھا ، پھر ہم نے اُس سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ سے سوال کرو ! اس نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اے اللہ کے نبی ! ہم میں سے علم کو کیسے اٹھا لیا جائے گا ؟ جبکہ ہمارے درمیان قرآن مجید موجود ہے اور اس میں جو کچھ مذکور ہے ُ‘ ہم نے اُس کا علم حاصل کیا ہے اور ہم نے اُس کی تعلیم اپنے بیوی بچوں ‘ اور خدمت گزاروں کو دی ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سر مبارک اٹھایا ‘ غصے کی وجہ سے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے شخص ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان بھی اُن کی مقدس کتابیں موجود تھیں ، اُن کے انبیاء ان کے پاس جو کلام لے کر آئے تھے ‘ اُن لوگوں نے اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیا ‘ یاد رکھنا ؟ علم کی رخصتی سے مراد اس کو اٹھانے والے ( علماء کی ) رخصتی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ تاہم امام طبرانی کی سند زیادہ مستند ہے ‘ کیونکہ امام احمد کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ‘ امام طبرانی نے اسے مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے ‘ ان میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ وہ تدلیس کرنے والا صدوق شخص ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ‘ وہ اُن افراد میں سے نہیں ہے ‘ جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

977

Majma al-Zawaid #977

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُوشِكُ بِالْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ "" فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي وَأُمِّي، وَكَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ قَدْ قَرَأْنَاهُ وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ بْنَ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَؤُلَاءِ الْيَهُودُ عِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ، فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ؟ إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ يَذْهَبُ بِالْعِلْمِ رَفْعًا يَرْفَعُهُ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِحَمَلَتِهِ - أَحْسَبُهُ - وَلَا يَذْهَبُ عَالِمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا كَانَ ثُغْرَةً فِي الْإِسْلَامِ لَا تُسَدُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ سِنَانٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مُسْهِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ مُؤَذِّنُ أَهْلِ حِمْصَ، وَكَانَ ثِقَةً مَرْضِيًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The time is near when knowledge will be lifted."** He repeated it three times. Ziyād ibn Labīd said: "O Prophet of Allah, may my father and mother be sacrificed for you! How will knowledge be lifted from us when this is the Book of Allah, which we recite and which our children recite to their children?" The Messenger of Allah ﷺ turned to him and said: > **"May your mother be bereaved of you, O Ziyād ibn Labīd! I used to count you among the scholars of Medina! Are not the Torah and the Gospel with these Jews, yet what did it avail them? Indeed, Allah does not take away knowledge by snatching it away; rather, He takes it away through the passing of its bearers. And no scholar departs from this Ummah except that a breach is made in Islam that cannot be sealed until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عنقریب ایسا ہو گا کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی ‘ تو حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہم سے علم کو کیسے اٹھایا جائے گا ؟ جبکہ یہ اللہ کی کتاب موجود ہے جسے ہم نے پڑھا ہے اور ہمارے بال بچے اپنے بال بچوں کو یہ پڑھائیں گے ‘ تو نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے زیاد بن لبید ! تمہاری ماں تمہیں روئے ‘ میں تمہیں مدینہ کے سمجھدار افراد میں سے ایک شمار کرتا تھا ، کیا ان یہودیوں کے پاس تورات اور انجیل نہیں تھی ؟ تو وہ ان کے کس کام آئی ‘ بے شک اللہ تعالیٰ علم کو یوں رخصت نہیں کرے گا کہ وہ اس کو اُٹھا لے گا ‘ بلکہ وہ اس کے حاملین ( یعنی علماء ) کو رخصت کر دے گا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’ جب بھی اس امت کا کوئی عالم رخصت ہو گا ‘ تو اسلام میں سوراخ ہو جائے گا ‘ جو قیامت کے دن تک بند نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سعد بن سنان ہے ‘ جس کو امام بخاری ‘ یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ البتہ ابومسہر کہتے ہیں : صدقہ بن خالد نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ‘ وہ کہتے ہیں : اہل حمص کے مؤذن ابومہدی سعید بن سنان نے مجھے حدیث بیان کی ‘ جو ایک ثقہ اور پسندیدہ شخص ہیں ۔

978

Majma al-Zawaid #978

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" هَذَا أَوَانُ يُرْفَعُ الْعِلْمُ "" فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - يُقَالُ لَهُ: زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ""، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ: كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا. وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ: قَالَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ: فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ؟ يُرْفَعُ الْخُشُوعُ، لَا تَرَى خَاشِعًا.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik al-Ashjaʿī رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ looked toward the sky and said: > **"This is the time when knowledge will be lifted."** A man from the Anṣār named Ziyād ibn Labīd said to him: "O Messenger of Allah, how, when it has been firmly established and hearts have preserved it?" The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"I used to consider you among the most understanding of the people of Medina!"** Then he ﷺ mentioned the misguidance of the Jews and Christians despite the Book of Allah in their hands. Jubayr ibn Nufayr said: I met Shaddād ibn Aws رضي الله عنه and related to him the hadith of ʿAwf, whereupon he said: "ʿAwf spoke the truth. Shall I not inform you of the very first part of that to be lifted? It is humility (khushūʿ), until you will not see a single humble person."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : یہ وہ وقت ہے جس میں علم کو اٹھا لیا جائے گا ‘ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام زیاد بن لبید تھا ‘ انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ جبکہ وہ ( یعنی علم ) مضبوط ہو گا اور دلوں نے اُسے محفوظ رکھا ہو گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : میں تو تمہیں اہل مدینہ کے سمجھدار افراد میں سے ایک شمار کرتا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہودی اور عیسائی بھی گمراہی کا شکار ہو گئے تھے ‘ حالانکہ اللہ کی کتاب ان کے درمیان موجود تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ، عبدالملک بن شعیب فرماتے ہیں : وہ ثقہ اور مامون ہے ‘ باقی لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : میری ملاقات حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ میں نے انہیں حضرت عوف کی نقل کردہ روایت سنائی ‘ تو انہوں نے فرمایا : حضرت عوف نے سچ بیان کیا ہے ‘ کیا میں تمہیں ( اُٹھا لی جانے والی ) سب سے پہلی چیز کے بارے میں بتاؤں ؟ ( سب سے پہلے ) خشوع کو اٹھا لیا جائے گا ، تمہیں خشوع والا ( کوئی بھی شخص ) نظر نہیں آئے گا ۔

979

Majma al-Zawaid #979

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يُوشِكُ الْعِلْمُ أَنْ يُخْتَلَسَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُونَ مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ ""، فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ: وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا الْعِلْمُ وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ وَأَقْرَأْنَاهُ أَبْنَاءَنَا؟ فَقَالَ: "" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَابْنَ لَبِيدٍ، هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ بِأَيْدِي الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مَا يَرْفَعُونَ بِهَا رَأْسًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Waḥshī ibn Ḥarb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The time is near when knowledge will be snatched away from the people until they will not be able to retain any part of it."** Ziyād ibn Labīd said: "How will knowledge be snatched from us when we have recited the Qurʾān and taught our children to recite it?" The Prophet ﷺ said: > **"May your mother be bereaved of you, O Ibn Labīd! Here are the Torah and the Gospel in the hands of the Jews and Christians, yet they pay no regard to them whatsoever!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب ایسا ہو گا کہ لوگوں سے علم کو اُچک لیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ وہ لوگ اُس کی کسی بھی چیز پر قدرت نہیں رکھیں گے حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم سے علم کو کیسے اُچک لیا جائے گا ؟ جبکہ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں ‘ اور ہم نے اپنے بچوں کو بھی یہ پڑھایا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لبید کے صاحبزادے ! یہ تورات اور انجیل ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس بھی موجود تھیں ، لیکن اُنہوں نے سر اُٹھا کر بھی ( ان کی طرف ) نہیں دیکھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ۔

980

Majma al-Zawaid #980

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ [الْعِلْمَ بِقَبْضِ] الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَ الْعُلَمَاءُ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah does not seize knowledge by wresting it away from the people; rather, He seizes knowledge by taking away the scholars. When the scholars are gone, the people will take ignorant leaders as heads. They will be questioned and will issue verdicts without knowledge, thus straying and leading others astray from the right path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا ‘ کہ اسے لوگوں سے الگ کر لے گا ‘ بلکہ وہ علماء کو قبض کرنے کے ذریعے علم کو قبض کر لے گا ‘ جب علماء رخصت ہو جائیں گے ‘ تو لوگ ( جاہلوں کو ) پیشوا بنا لیں گے ‘ جب اُن سے مسائل دریافت کیے جائیں گے ‘ تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجود فتوی دیں گے ‘ تو وہ خود بھی سیدھے راستے سے گمراہ ہو جائیں گے اور ( لوگوں کو بھی ) گمراہ کر دیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے ‘ جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

981

Majma al-Zawaid #981

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنْكُمْ - بَعْدَ مَا أَعْطَاكُمُوهُ - انْتِزَاعًا، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ، وَيَبْقَى جُهَّالٌ فَيُسْأَلُونَ، فَيُفْتُونَ، فَيُضِلُّونَ وَيَضِلُّونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah does not wrest knowledge away from you after having bestowed it upon you; rather, He takes the scholars along with their knowledge, and ignorant people will remain. They will be questioned, and they will issue verdicts, thereby leading others astray and going astray themselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو یہ علم دینے کے بعد ‘ اسے تم سے الگ نہیں کرے گا ، لیکن وہ علماء کو ان کے علم سمیت قبض کر لے گا ، پھر جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے ‘ اُن سے مسائل دریافت کیے جائیں گے ‘ وہ فتوی دیں گے اور گمراہ کریں گے ‘ اور خود بھی گمراہ ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

982

Majma al-Zawaid #982

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَقْبِضُ اللَّهُ الْعُلَمَاءَ، وَيَقْبِضُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ، فَيَنْشَأُ أَحْدَاثٌ يَنْزُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَيَكُونُ الشَّيْخُ فِيهِمْ يُسْتَضْعَفُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ، وَالْحَجَّاجُ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ، وَأَبُوهُ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah will seize the scholars and seize knowledge along with them, whereupon immature youths will emerge, contending recklessly with one another, and among them the elder will be deemed weak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ علماء کو قبض کر لے گا ‘ اور اُن کے ساتھ علم کو بھی قبض کر لے گا ‘ پھر کم عمر لوگ سامنے آئیں گے ‘ جو ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے اور اُن کے درمیان عمر رسیدہ شخص کو کمزور سمجھا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے حجاج بن رشدین بن سعد نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ‘ حجاج کو ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ کسی نے بھی اُسے ثقہ قرار نہیں دیا ‘ اُس کے باپ سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ‘ تاہم زیادہ تر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

983

Majma al-Zawaid #983

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا بَعْدَ أَنْ يُؤْتِيَهُمْ إِيَّاهُ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ، فَكُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ، حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ فَيَضِلُّوا وَيُضِلُّوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، هُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ اللَّيْثِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah Blessed and Exalted does not wrest knowledge away from the people after having granted it to them; rather, He takes away the scholars. Whenever a scholar departs, he departs with what he possesses of knowledge, until none remain except those who do not know, and so they go astray and lead others astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کو دینے کے بعد ‘ اُسے لوگوں سے یوں الگ نہیں کرے گا ‘ کہ الگ ہی کر دے ‘ بلکہ وہ علماء کو رخصت کر دے گا ‘ جب بھی کوئی عالم رخصت ہو گا ‘ تو اُس کے ساتھ اس کا علم بھی رخصت ہو جائے گا ‘ یہاں تک کہ کوئی ایسا شخص نہیں بچے گا ‘ جو علم رکھتا ہو ‘ پھر لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ‘ وہ ضعیف ہے ، عبدالملک بن سعید بن لیث نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

984

Majma al-Zawaid #984

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَفَعَتْهُ - قَالَ: "" «مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، لَا تُسَدُّ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ الْبَزَّارُ: يَرْوِي أَحَادِيثَ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا. وَهَذَا مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported as a prophetic saying: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The death of a scholar is a breach in Islam that cannot be sealed so long as night and day alternate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ’’ مرفوع حدیث ‘‘ کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ عالم کی موت ایسا شگاف ہے ‘ جو وقت گزرنے کے ساتھ بھی پر نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے محمد بن عبدالملک نے زہری سے روایت کیا ہے ‘ امام بزار فرماتے ہیں : یہ شخص ایسی احادیث روایت کرتا ہے ‘ جن کی متابعت نہیں کی جاتی اور یہ حدیث بھی اُن میں سے ایک ہے ۔

985

Majma al-Zawaid #985

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: «حَضَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ قَبْلَ ذَهَابِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: كَيْفَ يَذْهَبُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَاهُ وَعَلَّمْنَاهُ أَبْنَاءَنَا؟ فَغَضِبَ. قَالَ: "" أَوَلَيْسَ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ فِي يَدِ أَهْلِ الْكِتَابِ؟ فَهَلْ أَغْنَى عَنْهُمْ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣafwān ibn ʿAssāl رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ urged the pursuit of knowledge before its departure. A man asked: "How will it depart when we have learned it and taught it to our children?" The Prophet ﷺ became angry and said: > **"Are not the Torah and the Gospel in the hands of the People of the Scripture? Did it avail them anything?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی ترغیب دی کہ علم کے رخصت ہونے سے پہلے علم حاصل کر لیا جائے ‘ ایک صاحب بولے : وہ کیسے رخصت ہو گا ؟ جبکہ ہم نے اس کو سیکھا ہے اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اہل کتاب کے پاس تورات اور انجیل نہیں تھیں ‘ تو کیا یہ چیز اُن کے کسی کام آئی ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

986

Majma al-Zawaid #986

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لَا تُجْبَرُ، وَثُلْمَةٌ لَا تُسَدُّ وَهُوَ نَجْمٌ طُمِسَ، وَمَوْتُ قَبِيلَةٍ أَيْسَرُ لِي مِنْ مَوْتِ عَالِمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ أَيْمَنَ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَالِحٍ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The death of a scholar is a calamity that cannot be mended and a breach that cannot be sealed; he is a star that has been extinguished. Indeed, the death of an entire tribe is easier for me to bear than the death of a single scholar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عالم کی موت ایسی مصیبت ہے ‘ جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور ایسا شگاف ہے ‘ جسے بند نہیں کیا جا سکتا ‘ وہ اک ستارہ تھا ‘ جو بجھ گیا ‘ میرے نزدیک پورے قبیلے کا مر جانا ‘ ایک عالم کی موت سے زیادہ آسان ( یعنی ہلکی مصیبت ) ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ایمن ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ اسماعیل بن صالح کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔

987

Majma al-Zawaid #987

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ، يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَإِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ يَضِلَّ الْهُدَاةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The Prophet ﷺ said: > **"Indeed, the likeness of the scholars is like that of the stars in the heaven by which guidance is sought in the darkness of the land and the sea; when the stars are extinguished, those who seek guidance are soon to go astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ علماء کی مثال ‘ آسمان میں موجود ستاروں کی مانند ہے ‘ جن کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جب ستارے بجھ جائیں ‘ تو جو لوگ سیدھے راستے پر ہوں ‘ اُن کے بھی گمراہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ عالم اور طالب علم کی فضیلت سے متعلق باب میں ‘ اس روایت پر کلام پہلے گزر چکا ہے ۔

988

Majma al-Zawaid #988

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَكْثُرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، وَيُرْفَعُ الْعِلْمُ ""، فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: "" يُرْفَعُ الْعِلْمُ "" - قَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ يُنْزَعُ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، وَلَكِنْ تَذْهَبُ الْعُلَمَاءُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَ عُمَرَ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Tribulations will increase, turmoil and bloodshed will proliferate, and knowledge will be lifted."** When ʿUmar heard Abū Hurayrah saying "knowledge will be lifted," ʿUmar رضي الله عنه said: > **"Indeed, it is not wrested from the chests of men, but rather the scholars depart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ فتنے بکثرت ہو جائیں گے ‘ ہرج بکثرت ہو گا اور علم کو اٹھا لیا جائے گا ‘‘۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُسے لوگوں کے سینے سے الگ نہیں کیا جائے گا ‘ بلکہ علماء رخصت ہو جائیں گے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ یہ ’’ صحیح ‘‘ میں بھی منقول ہے ، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے بغیر ہے ‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

989

Majma al-Zawaid #989

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى شَرِيعَةٍ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهِمْ ثَلَاثٌ: مَا لَمْ يُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْهُمْ، وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ، وَيَظْهَرْ فِيهِمُ الصَّقَّارُونَ "". قِيلَ: وَمَنِ الصَّقَّارُونَ أَوِ الصَّقَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بَشَرٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمُ التَّلَاعُنُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَزَبَّانُ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"This Ummah will continue to be upright upon an established path (Sharīʿah) so long as three things do not appear among them: so long as knowledge is not seized from them, illegitimate offspring do not multiply among them, and the Saqqārūn do not appear among them."** It was said: "And who are the Saqqārūn, O Messenger of Allah?" He ﷺ said: > **"People who will be at the end of time, whose greeting among themselves is mutual cursing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ امت مسلسل شریعت پر گامزن رہے گی ‘ جب تک ان کے درمیان تین چیزیں ظاہر نہیں ہوں گی ‘ جب تک ان سے علم کو قبض نہیں کر لیا جاتا ‘ اور ان کے درمیان حنث کی اولاد زیادہ نہیں ہوتی اور ان کے درمیان ’’ صقارون ‘‘ ظاہر نہیں ہوتے ‘ عرض کی گئی : ” صقارون ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ یا رسول اللہ ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ ایسے لوگ ہیں ‘ جو آخری زمانے میں ہوں گے ‘ اور ان لوگوں کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ یہ ہو گا کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ( اپنی ’’ مسند ‘‘ میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو راوی ابن لہیعہ اور زبان ہیں ‘ یہ دونوں ضعیف ہیں ‘ ان کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔

990

Majma al-Zawaid #990

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: تَدْرُونَ كَيْفَ يَنْقُصُ الْإِسْلَامُ؟ قَالُوا: كَمَا يَنْقُصُ صَبْغُ الثَّوْبِ، وَكَمَا يَنْقُصُ سِمَنُ الدَّابَّةِ، وَكَمَا يَنْقُصُ الدِّرْهَمُ مِنْ طُولِ الْخِبَاءِ. قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْهُ، وَأَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ مَوْتُ أَوْ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه asked: "Do you know how Islam diminishes?" They replied: "Just as the dye of a garment fades, and just as the fatness of a riding beast dwindles, and just as a silver dirham wears away from long keeping in a purse." Ibn Masʿūd said: > **"Indeed, that is part of it, but greater than all of that is the death and departure of the scholars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ اسلام کیسے کم ہو گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جس طرح کپڑے کا رنگ کم ہو جاتا ہے ‘ یا جس طرح جانور کا موٹاپا کم ہو جاتا ہے ‘ یا جس طرح طویل استعمال کے بعد درہم کم ہو جاتا ہے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بھی اس میں سے ہے ، لیکن ان سب سے بڑی بات علماء کی موت ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) علماء کی رخصتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

991

Majma al-Zawaid #991

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: شَهِدْتُ جِنَازَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَلَمَّا دُفِنَ فِي قَبْرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا هَؤُلَاءِ، مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ كَيْفَ ذَهَابُ الْعِلْمِ فَهَكَذَا ذَهَابُ الْعِلْمِ. أَيْمُ اللَّهِ، لَقَدْ ذَهَبَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ. قَالَ سَعِيدٌ: وَالْقَائِلُ: لَقَدْ ذَهَبَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn al-Musayyab said: I attended the funeral of Zayd ibn Thābit رضي الله عنه. When he was buried in his grave, Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"O people! Whoever is pleased to know how knowledge departs, this is how knowledge departs! By Allah, an abundance of knowledge has departed this day!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب فرماتے ہیں : میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا ‘ جب انہیں قبر میں دفن کر دیا گیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے لوگو ! جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اُسے یہ پتہ چل جائے کہ علم کیسے رخصت ہوتا ہے ؟ تو علم اس طرح رخصت ہو گا ‘ اللہ کی قسم ! آج بہت سا علم رخصت ہو گیا ۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں : کہنے والا یہ بھی کہے گا : آج بہت سا علم رخصت ہو گیا ‘ اُن کی مراد ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

992

Majma al-Zawaid #992

وَعَنْهُ قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟ هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الْأَرْضِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ يَأْتِي فِي سُورَةِ سَأَلَ، وَفِيهِ قَابُوسٌ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ. وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْفَرَائِضِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"Do you know what the departure of knowledge is? It is the departure of the scholars from the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ علم کے رخصت ہونے سے مراد کیا ہے ؟ وہ زمین سے علماء کا رخصت ہو جانا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک حدیث میں نقل کی ہے ‘ جو آگے چل کر ” سورہ سال ‘‘ سے متعلق باب میں آئے گی ‘ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ فرائض ‘‘ ( یعنی وراثت ) سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔