وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ أَيْضًا قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ "". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ ""، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ ""، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" اجْلِسْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ ""، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ ""، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّنْ نَحْنُ؟ قَالَ: "" أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ، النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ». فَقَالَ عَمْرٌو: فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى كَانَ أَيَّامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَبَعَثَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَرْقَى الْمِنْبَرَ، فَتَذْكُرَ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ، عَلَى أَنْ أُطْعِمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتِي؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: نَعَمْ. فَنَادَى بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، وَجَاءَ عَمْرٌو يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ، أَلَا إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ دَعَانِي عَلَى أَنْ أَرْقَى الْمِنْبَرَ، فَأَذْكُرَ أَنَّ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ، أَلَا: إِنَّا بَنُو الشَّيْخِ الْهَجَّانِ الْأَزْهَرِ ... قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرِ النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِيهِ عَنْكَ يَا غُدَرُ، ثَلَاثًا، قَالَ: هُوَ مَا رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاتَّبَعَهُ ابْنُهُ زُهَيْرٌ فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَةِ، مَا كَانَ عَلَيْكَ إِذَا أَطَعْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَطْعَمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتَهُ؟ فَأَنْشَأَ يَقُولُ: لَوْ قَدْ أَطَعْتُكَ يَا زُهَيْرُ كَسَوْتَنِي ... فِي النَّاسِ ضَاحِيَةً رِدَاءَ شَنَارِ قَحْطَانُ وَالِدُنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ ... وَأَبُو خُزَيْمَةَ خِنْدَفُ بْنُ نِزَارِ أَضَلَالُ لَيْلٍ سَاقِطٍ أَوْرَاقُهُ ... فِي النَّاسِ أَعْذَرُ أَمْ ضَلَالُ نَهَارِ أَنَبِيعُ وَالِدَنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ ... بِأَبِي مَعَاشِرَ غَائِبٍ مُتَوَارِ تِلْكَ التِّجَارَةُ لَا نَبُوءُ بِمِثْلِهَا ... ذَهَبٌ يُبَاعُ بِآنِكٍ وَإِبَارِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَلْهَاثُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: حَدِيثُهُ عَنْ آبَائِهِ لَا يَصِحُّ. وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ آبَائِهِ.
EnglishUnverified translation
ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī رضي الله عنه narrated: While we were in the presence of the Prophet ﷺ, he said, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr ibn Murrah stood up, so the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** He sat down. Then he ﷺ repeated, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr stood up, and the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** Then he ﷺ said a third time, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr stood up, and the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** He asked: "O Messenger of Allah, from whom are we?" The Prophet ﷺ said: > **"You are from Quḍāʿah ibn Mālik ibn Ḥimyar—the well-known and undeniable lineage."** ʿAmr said: "I concealed this hadith until the days of Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān, who sent for me and said: 'Would you ascend the pulpit and state that Quḍāʿah is the son of Maʿadd ibn ʿAdnān, in exchange for which I will grant you the revenues of the two Iraqs (Kufa and Basra) and Egypt for as long as I live?' ʿAmr replied: 'Yes.' The call for congregational prayer was proclaimed, and the people assembled. ʿAmr came, stepping over the necks of the people, until he ascended the pulpit. He praised and glorified Allah, and then said: 'O people! Whoever knows me knows me, and whoever does not know me, I am ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī. Behold! Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān summoned me to mount the pulpit and claim that Quḍāʿah is the son of Maʿadd ibn ʿAdnān. Truly: *We are the sons of the noble, radiant elder,* *Quḍāʿah ibn Mālik ibn Ḥimyar,* *The well-known lineage, not to be denied!*' He then descended, and Muʿāwiyah said to him three times: 'Away with you, O treacherous one!' ʿAmr replied: 'It is as you saw, O Commander of the Faithful.' His son Zuhayr followed him and said: 'O my father, what harm would there have been for you had you obeyed the Commander of the Faithful and received the revenues of the two Iraqs and Egypt for his lifetime?' Thereupon ʿAmr recited: > **'Had I obeyed you, O Zuhayr, you would have clothed me among the people in broad daylight with a garment of shame! Qaḥṭān is our father to whom we trace our name, and the father of Khuzaymah is Khindif ibn Nizār. Is wandering in the darkness of night whose leaves fall excused among people, or wandering in the broad daylight? Shall we sell our father unto whom we are called in exchange for a father of strange clans, absent and hidden? That is a bargain the like of which we will never accept—pure gold being sold for lead and mere needles!'**"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو شخص ’’ معد ‘‘ سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہاں ’’ معد “ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! اُس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : یہاں ’’ معد ‘‘ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ قضاعہ بن مالک بن حمیر ( کی اولاد ) سے تعلق رکھتے ہو ، جو ایک معروف نسب ہے ، منکر نہیں ہے ۔ حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ روایت چھپا کے رکھی ، یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور بولے : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا تذکرہ کرو ! اس کے بدلے میں ، میں تمہیں زندگی بھر عراقین ( دو عراق ، یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج ادا کرتا رہوں گا ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ٹھیک ہے تو یہ اعلان کیا گیا : لوگ جمع ہو جائیں ، لوگ جمع ہو گئے ، حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آئے اور منبر پر چڑھ گئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگوں کے گروہ ! جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو مجھے جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عمرو بن مرہ جہنی ہوں ، معاویہ بن ابوسفیان نے مجھے بلوایا ، تاکہ میں منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا ذکر کروں : بے شک ہم چمکدار اور روشن بزرگ کی اولاد ہیں ، جو قضاعہ بن مالک بن حمیر ہے ، جو ایک معروف نسب ہے اور منکر نہیں ہے ۔ پھر وہ منبر سے نیچے آ گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے وعدہ خلاف ! یہ کیا کیا ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ۔ تو حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ وہی چیز ہے جو آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے ، اے امیرالمؤمنین ! تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے زہیر ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا : اے ابا جان ! آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، اگر آپ امیرالمومنین کی بات مان لیں ، وہ آپ کو دونوں عراقوں ( یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج زندگی بھر دیتے رہیں گے ، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : اے زہیر ! اگر میں تمہاری بات مان لوں تو تم نے لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے مجھے عار کی چادر اوڑھا دی ہے ۔ ہمارا جدامجد قحطان ہے جس کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور ابوخزیمہ خندف بن نزار ہے ۔ کیا تاریک رات میں لوگوں کے درمیان اپنے پتے گرانے والا زیادہ معذور شمار ہو گا ، یا دن میں ایسا کرنے والا ( زیادہ معذور شمار ہو گا ) ۔ جس باپ کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ، کیا ہم اسے مختلف گروہوں کے جدامجد کے عوض میں فروخت کر دیں جو پوشیدہ اور چھپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا سودا ہو گا ، جیسے سونے کو ڈھیلوں اور پتھروں کے عوض میں فروخت کر دیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دلہاث بن داؤد ہے ، ازدی فرماتے ہیں : اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ مستند نہیں ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) یہ حدیث بھی اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔