Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 12

Book of Knowledge

Hadith 912–951

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

912

Majma al-Zawaid #912

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ». قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: أَيَّ مَجْلِسٍ يَعْنِي؟ قَالَ: كَانَ قَاصًّا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ كُرْدُوسُ بْنُ قَيْسٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man from the veterans of Badr رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ say: > **"That I should sit in a gathering like this is more beloved to me than freeing four slaves."** (Shuʿbah said: I asked, "What gathering did he mean?" He replied: "It was a gathering of admonition and preaching.")

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس طرح کی محفل میں میرا بیٹھ جانا ، میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔‘‘ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کی مراد کون سی محفل تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : قصہ بیان کرنے ( یعنی وعظ کرنے کی محفل تھی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی کردوس بن قیس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

913

Majma al-Zawaid #913

وَعَنْ كُرْدُوسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ شُعْبَةُ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَأَنْ نُفَصِّلَ الْمُفَصَّلَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا بَابًا». قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: أَيُّ مُفَصَّلٍ؟ قَالَ: الْقَصَصُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ. وَكُرْدُوسٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِيهِ نَظَرٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kurdūs ibn ʿAmr reported: I heard a man from the veterans of Badr—Shuʿbah said: I think he was ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه—narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"That we elucidate the detailed discourses is more beloved to me than such-and-such matters."** (Shuʿbah said: I asked ʿAbd al-Malik, "Which detailed discourse?" He replied: "The admonishing stories.")

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کردوس بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ صحابی حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہوں گے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں مفصل کو وضاحت کے ساتھ بیان کروں ، یہ میرے نزدیک اتنی چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔‘‘ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ( اپنے استاد ) عبدالملک سے دریافت کیا : کون سی مفصل ؟ انہوں نے جواب دیا : قصے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، کردوس نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

914

Majma al-Zawaid #914

وَعَنِ الْعَبَادِلَةِ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْقَاصُّ يَنْتَظِرُ الْمَقْتَ، وَالْمُسْتَمِعُ يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ، وَالتَّاجِرُ يَنْتَظِرُ الرِّزْقَ، وَالْمُحْتَكِرُ يَنْتَظِرُ اللَّعْنَةَ، وَالنَّائِحَةُ وَمَنْ حَوْلِهَا مِنِ امْرَأَةٍ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

The four ʿAbdullāhs—ʿAbdullāh ibn ʿUmar, ʿAbdullāh ibn al-ʿAbbās, ʿAbdullāh ibn al-Zubayr, and ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهم—reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The story-teller awaits detestation, the listener awaits mercy, the honest trader awaits provision, the hoarder awaits a curse, and the wailing woman along with the women surrounding her—upon them is the curse of Allah, the angels, and all mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرات عبادلہ ، یعنی حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم ، یہ حضرات روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قصہ بیان کرنے والا ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے ، سننے والا رحمت کا منتظر ہوتا ہے ، تاجر رزق کا منتظر ہوتا ہے ، ذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنت کا منتظر ہوتا ہے ، نوحہ کرنے والی عورت اور اُس کے اردگرد جتنی عورتیں موجود ہوتی ہیں ، اُن پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبدالرحمان انصاری ہے اس نے عبداللہ بن مجاہد بن جبر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

915

Majma al-Zawaid #915

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «قَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا، لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ، قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ بَلْ أُتَابِعُكَ أَنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: اجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا، وَلَا تُلْحِنِ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ، وَلَا أَلْفَيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ، وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ، فَإِذَا حَدَوْكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbī reported: ʿĀʾishah رضي الله عنها said to Ibn Abī al-Sāʾib, the preacher of the people of Medina: "There are three things concerning which you must comply with me, or else I will certainly oppose you." He said, "What are they, O Mother of the Believers? Rather, I shall obey you." She said: > **"Avoid rhymed prose (sajʿ) in supplication, for indeed the Messenger of Allah ﷺ and his Companions did not use to do that. And preach to the people once every week; if you refuse, then twice; and if you insist, then at most thrice, so that you do not cause the people to grow bored of this Book. And do not let me ever find you approaching people while they are engaged in their conversation and interrupting them; rather, leave them be, and when they seek it from you and ask you for it, then speak to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابوسائب سے تین مرتبہ یہ فرمایا تھا : یا تو تم ان چیزوں کے حوالے سے میری فرمانبرداری کرو ، یا میں تمہیں سزا دوں گی ، تو اس نے کہا : وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اے ام المؤمنین ! میں آپ کی پیروی کروں گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم دعا مانگتے ہوئے مسجع الفاظ سے اجتناب کرو ! کیونکہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ایسا نہیں کیا کرتے تھے ، لوگوں کے سامنے ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کرو ، اگر نہیں مانتے جو دو مرتبہ کر لو ، اگر یہ بھی نہیں مانتے تو تین مرتبہ کر لو ، اور لوگوں کو یہ کتاب لحن کے ساتھ نہ سناؤ اور میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ ، وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور تم ان کی بات چیت ختم کروا دو ، بلکہ انہیں ایسے ہی رہنے دو ، جب وہ تمہیں اس بارے میں کہیں اور تمہیں اس کا حکم دیں ، تو ان سے گفتگو شروع کرو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔

916

Majma al-Zawaid #916

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا حَدَّثْتُمُ النَّاسَ فَلَا تُحَدِّثُوهُمْ بِمَا يُفْزِعُهُمْ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ كَامِلٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: عِنْدَهُ عَجَائِبُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdām ibn Maʿdīkarib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you speak to the people, do not narrate to them that which terrifies them or burdens them heavily."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تم لوگوں کے ساتھ گفتگو کرو تو ان کے ساتھ ایسی گفتگو نہ کرو جو انہیں پریشان کر دے اور ان پر گراں گزرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن کامل ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں : اس نے عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں ، ابن حبان اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

917

Majma al-Zawaid #917

وَعَنِ الْأَعْمَشِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ مَرَّ بِرَجُلٍ يُذَكِّرُ قَوْمًا فَقَالَ: يَا مُذَكِّرُ، لَا تُقَنِّطِ النَّاسَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَكِنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Aʿmash reported that Ibn Masʿūd رضي الله عنه passed by a man admonishing a group of people, so he said: > **"O exhorter, do not cause the people to despair of Allah's mercy!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعمش بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو ایک قوم کو وعظ و نصیحت کر رہا تھا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے نصیحت کرنے والے شخص ! تم لوگوں کو مایوسی کا شکار نہ کرنا !۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

918

Majma al-Zawaid #918

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا تَمَلُّوا النَّاسَ، فَيَمَلُّوا الذِّكْرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Do not bore the people, lest they grow weary of the remembrance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگوں کو اُکتاہٹ کا شکار نہ کرو ! ورنہ وہ نصیحت سے اُکتا جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند صحیح ہے ۔

919

Majma al-Zawaid #919

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ; فَإِنَّهُ كَانَ فِيهِمُ الْعَجَائِبُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي وَكِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Narrate from the Children of Israel, for indeed among them were wondrous events."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بنی اسرائیل کے حوالے سے بات بیان کر دو ، کیونکہ ان میں حیران کن چیزیں ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد جعفر بن محمد بن ابووکیع کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

920

Majma al-Zawaid #920

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَا يَقُومُ إِلَّا لِعِظَمِ الصَّلَاةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه said: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to narrate to us about the Children of Israel for the greater part of the night, not rising except for the majesty and importance of the prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کے زیادہ تر حصے میں ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں باتیں بیان کیں اور آپ ﷺ ( وہ گفتگو ختم کر کے ) صرف اس لئے اٹھ گئے ، کیونکہ نماز ادا کرنی تھی ۔ یہ روایت امام بزار اور امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند صحیح ہے ۔

921

Majma al-Zawaid #921

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ دَاوُدَ، فَمَا فَتَنُوا وَلَا بَدَّلُوا، وَلَقَدْ مَكَثَ أَصْحَابُ الْمَسِيحِ عَلَى هَدْيِهِ وَسُنَّتِهِ مِائَتَيْ سَنَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said to his companions: > **"Indeed, Allah took the soul of Dāwūd (David) عليه السلام, and his followers neither succumbed to tribulation nor altered their religion; and the companions of al-Masīḥ (Jesus) عليه السلام remained upon his guidance and sunnah for two hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو وفات دی ، تو وہ لوگ کسی آزمائش کا شکار نہیں ہوئے ، اور انہوں نے ( اپنے دین میں ) کوئی تبدیلی نہیں کی ، اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار ، دو سو سال تک اُن کی ہدایت اور سنت پر گامزن رہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

922

Majma al-Zawaid #922

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ وَالزَّهْوَ ; فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ غَلَا كَثِيرٌ مِنْهُمْ، حَتَّى كَانَتِ الْمَرْأَةُ الْقَصِيرَةُ تَتَّخِذُ خُفَّيْنِ مِنْ خَشَبٍ تَحْشُوهُمَا، ثُمَّ تُدْخِلُ فِيهِمَا رِجْلَيْهَا، ثُمَّ تَعْمِدُ إِلَى الْمَرْأَةِ الطَّوِيلَةِ فَتَمْشِي مَعَهَا، فَإِذَا هِيَ قَدْ سَاوَتْ بِهَا [أَوْ] كَانَتْ أَطْوَلَ مِنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: وَلَهُ نُسْخَةٌ فِيهَا مَنَاكِيرُ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Beware of religious excess and vain pride, for many among the Children of Israel indulged in excess, to the extent that a short woman would take two wooden shoes, pad them, insert her feet into them, and then deliberately walk beside a tall woman so that she would appear equal in height to her, or even taller than her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم غلو اور نمائش سے بچ کے رہو ! کیونکہ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگوں نے غلو کیا ، یہاں تک کہ ایک چھوٹے قد کی عورت نے لکڑی کے موزے بنوائے ، اور پھر ان میں پاؤں داخل کیے ، پھر وہ ایک طویل القامت عورت کے پاس گئی اور اس کے ساتھ چلنے لگی ، تو وہ اس کے برابر ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس سے زیادہ طویل لگ رہی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر ہے ، جسے ابن ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی فرماتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے ایک نسخہ منقول ہے جس میں منکر روایات ہیں ۔

923

Majma al-Zawaid #923

عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ ; فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ أَضَلُّوا أَنْفُسَهُمْ، إِمَّا أَنْ يُحَدِّثُوكُمْ بِصِدْقٍ فَتُكَذِّبُونَهُمْ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Zaʿrāʾ reported: ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"Do not ask the People of the Scripture about anything, for they will never guide you when they have already led themselves astray. Otherwise, they may tell you something true and you would deny it, or they may tell you something false and you would believe it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزعراء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو ! کیونکہ وہ تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے ، وہ تو خود گمراہ ہیں ، یا تو یہ ہو گا کہ وہ تمہیں کوئی سچی بات بتائیں گے اور تم ان کی تکذیب کر دو گے ، یا یہ ہو گا کہ وہ تمہیں کوئی جھوٹی بات بتائیں گے ، اور تم ان کی تصدیق کر دو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

924

Majma al-Zawaid #924

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا فَاتَّبَعُوهُ، وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the Children of Israel wrote a book and followed it, abandoning the Torah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بنی اسرائیل نے ایک کتاب لکھی ، اور پھر وہ لوگ اُس کی پیروی کرنے لگے اور انہوں نے تورات کو ترک کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

925

Majma al-Zawaid #925

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ ذَلِكَ الْخَطَّ عَلِمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَبِي الصَّبَاحِ: مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ، وَأَبُو الصَّبَاحِ مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"There was a Prophet among the Prophets who used to draw lines (divinely revealed geomancy). So whosesoever line coincides with his line, then he has attained knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ انبیاء میں سے ایک نبی لکیر لگایا کرتے تھے ( یعنی علم رمل کے ذریعے حساب لگاتے تھے ، اب کے زمانے میں ) اگر کسی کی لکیر ( یعنی حساب لگانے کا طریقہ ) اُن کی لکیر کے مطابق ہو ، تو اسے علم ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزاز نے اپنے استاد ابوصباح محمد بن لیث سے روایت کی ہے اور ابوصباح محمد بن لیث کا تذکرہ ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں یہ غلطی بھی کرتا ہے ( اور یہ دوسرے راویوں سے ) مختلف بھی نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

926

Majma al-Zawaid #926

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - («{أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ: "" الْخَطُّ»). رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported—Sufyān said: "I know it to be only from the Prophet ﷺ"—regarding the verse: *{...or a remnant of knowledge}* [al-Aḥqāf: 4]: The Prophet ﷺ said: > **"It is the drawing of lines (al-khaṭṭ)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہو گی ( قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ یا علم کا بقیہ حصہ ۔‘‘ اس سے مراد لکیر لگانا ( یعنی علم رمل ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

927

Majma al-Zawaid #927

وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْخَطِّ، فَقَالَ: "" هُوَ أَثَارَةٌ مِنْ عِلْمٍ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the drawing of lines in the sand (al-khaṭṭ), and he ﷺ said: > **"It is a remnant of knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے لکیر لگانے ( یعنی علم رمل ) کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ علم کے بقیہ حصے میں شامل ہے ( جس کا ذکر قرآن میں ہے ) ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

928

Majma al-Zawaid #928

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا قَالَ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ: جَوْدَةُ الْخَطِّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said regarding the saying of Allah Mighty and Majestic: *{...or a remnant of knowledge}* [al-Aḥqāf: 4]: > **"It refers to the excellence of script and penmanship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں : ’’ یا علم کا بقیہ حصہ ۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد عمدہ خط ہے ۔

929

Majma al-Zawaid #929

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْبَاطِ، بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Learn enough of your lineages to maintain your ties of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ اپنے نسب کا علم حاصل کرو ، تاکہ اس کے ذریعے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابواسباط بشر بن رافع ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

930

Majma al-Zawaid #930

وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ خَارِجَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAlāʾ ibn Khārijah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Learn enough of your lineages to maintain your ties of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علاء بن خارجہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ اپنے انساب کا علم حاصل کرو ، تاکہ اس کے ذریعے اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ‘‘....... اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ پوری روایت صلہ رحمی کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

931

Majma al-Zawaid #931

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ: أَنَّهُ «قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْأَمْرِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، مَنْ أَبُونَا؟ قَالَ: "" آدَمُ "". قَالَ: مَنْ أُمُّنَا؟ قَالَ: "" حَوَّاءُ "". قَالَ: مَنْ أَبُو الْجِنِّ؟ قَالَ: "" إِبْلِيسُ "". قَالَ: فَمَنْ أُمُّهُمْ؟ قَالَ: "" امْرَأَتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ، وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn al-Ḥakam رضي الله عنه narrated: He came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I wish to ask you about a matter concerning which I will never ask anyone after you: Who is our father?" He ﷺ replied, **"Adam."** He asked: "Who is our mother?" He ﷺ replied, **"Ḥawwāʾ (Eve)."** He asked: "Who is the progenitor of the jinn?" He ﷺ replied, **"Iblīs."** He asked: "Then who is their mother?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"His wife."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں ، آپ ﷺ کے بعد میں کسی سے اس بارے میں سوال نہیں کروں گا ، ہمارے باپ ( یعنی بنی نوع انسان کے جدامجد ) کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ، انہوں نے دریافت کیا : ہماری ماں کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سیدہ حواء رضی اللہ عنہا ، انہوں نے دریافت کیا : جنات کا جدامجد کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابلیس ، انہوں نے دریافت کیا : اُن کی ماں کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُس کی بیوی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، جسے امام بخاری اور امام احمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

932

Majma al-Zawaid #932

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «وَلَدُ نُوحٍ: سَامُ وَحَامُ وَيَافِثُ، فَوَلَدَ سَامُ الْعَرَبَ وَفَارِسَ وَالرُّومَ وَالْخَيْرُ فِيهِمْ، وَوَلَدَ يَافِثُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالتُّرْكَ وَالصَّقَالِبَةَ وَلَا خَيْرَ فِيهِمْ، وَوَلَدَ حَامُ الْقِبْطَ وَالْبَرْبَرَ وَالسُّودَانَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ عَنْ أَبِيهِ. فَمُحَمَّدٌ: وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَدُوقٌ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ. وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، فَقَالَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ. وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: مُقَارَبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The sons of Nūḥ (Noah) عليه السلام were Sām, Ḥām, and Yāfith. Sām fathered the Arabs, the Persians, and the Romans—and goodness is among them; Yāfith fathered Gog and Magog (Yaʾjūj and Maʾjūj), the Turks, and the Slavs—and there is no goodness in them; and Ḥām fathered the Copts, the Berbers, and the Sudanese."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد یہ ہے : سام ، حام اور یافث ، سام کی اولاد اہل عرب ، اہل فارس اور اہل روم ہیں ، اور بھلائی ان میں ہے ، یافث کی اولاد یاجوج ماجوج ، ترک اور صقالبہ ہیں ، ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جبکہ حام کی اولاد قبطی ، بربر اور سیاہ فام لوگ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ، جس نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے ، محمد نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں یہ صدوق ہے ، یحیی بن معین اور امام بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، یزید بن سنان نامی راوی کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کا محل صدق ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ، یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

933

Majma al-Zawaid #933

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وَلَدَ نُوحٌ ثَلَاثَةً: فَسَامُ أَبُو الْعَرَبِ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشَةِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn and Samurah ibn Jundub رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Nūḥ fathered three sons: Sām is the father of the Arabs, Ḥām is the father of the Abyssinians, and Yāfith is the father of the Romans."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے ، سام ، عربوں کے جدامجد ہیں ، حام ، حبشیوں کے جدامجد ہیں اور یافث ، رومیوں کے جدامجد ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

934

Majma al-Zawaid #934

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَعَدُّ بْنُ عَدْنَانَ بْنِ [أُدِّ بْنِ] أُدَدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ بَراءِ بْنِ أَعْرَاقِ الثَّرَى "". قَالَتْ: ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَهْلَكَ عَادًا وَثَمُودًا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ ""، فَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ: مَعَدٌّ مَعَدٌّ، وَعَدْنَانُ عَدْنَانُ، وَأُدَدٌ أُدَدٌ، وَزَيْدُ بْنُ هُمَيْسَعِ، وَبَرَاءٌ: تِبْتٌ، وَأَعْرَاقُ الثَّرَى، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها, the wife of the Prophet ﷺ, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Maʿadd ibn ʿAdnān ibn Udd ibn Udad ibn Zayd ibn Barāʾ ibn Aʿrāq al-Tharā."** She said: Then the Messenger of Allah ﷺ would recite: > **"{...and [He destroyed] ʿĀd and Thamūd and the companions of the Rass and many generations between them} [al-Furqān: 38]—none knows them except Allah."** Umm Salamah used to say: "Maʿadd is Maʿadd, ʿAdnān is ʿAdnān, Udad is Udad, Zayd is Humaysaʿ, Barāʾ is Nabt, and Aʿrāq al-Tharā is Ismāʿīl son of Ibrāhīm عليهما السلام."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ معد بن عدنان بن ادّ بن اُد بن زید بن براء بن اعراق الثرى ۔‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ، قوم ثمود کو ، اصحاب رس کو اور اُن کے درمیان اور بھی بہت سے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کیا ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : معد ، معد اور عدنان ، عدنان اور اُدد ، ادد اور زید بن ہمیسع اور براء ، تبت اور اعراق الثریٰ ، اسماعیل بن ابراہیم ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کی اولاد میں سے ہے ، امام بخاری اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

935

Majma al-Zawaid #935

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَقَامَ نَسَبُ النَّاسِ إِلَى مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: > **"The lineage of the people is soundly and reliably established up to Maʿadd ibn ʿAdnān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں کا نسب معد بن عدنان تک ٹھیک رہتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

936

Majma al-Zawaid #936

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ؟ أَرْجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ. قَالَ: "" بَلْ هُوَ رَجُلٌ، وُلِدَ لَهُ عَشَرَةٌ، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَسَكَنَ الشَّامَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارُ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي سُورَةِ سَبَأٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: A man asked the Prophet ﷺ about Sabaʾ: "What was he? A man, a woman, or a land?" The Prophet ﷺ replied: > **"Rather, he was a man to whom ten sons were born: six of them settled in Yemen, and four settled in al-Shām (the Levant). As for the Yemenis, they are Madhḥij, Kindah, al-Azd, al-Ashʿariyyūn, Anmār, and Ḥimyar—all of them pure Arabs. As for the Levantines, they are Lakhm, Judhām, ʿĀmilah, and Ghassān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سبا کے بارے میں دریافت کیا : کہ وہ کیا ہے ؟ کیا وہ مرد ہے ؟ یا عورت ہے ؟ یا کوئی جگہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ مرد ہے ، جس کے دس بچے ہوئے تھے ، جن میں سے چھ یمن میں رہائش پذیر ہوئے اور ان میں سے چار شام میں رہائش پذیر ہوئے ، یمن میں رہنے والوں کے نام یہ ہیں : مذحج ، کندہ ، ازد ، اشعریون ، انمار اور حمیر عرب سبھی لوگ ، شامیوں کے نام یہ ہیں ، لخم ، جذام ، عاملہ اور غسان ۔ یہ روایت امام احمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یزید بن حصین کی نقل کردہ روایت آگے آئے گی ، جو سورہ سہا سے متعلق باب کے ضمن میں آئے گی ، اور وہ اس روایت سے زیادہ مستند ہے ۔

937

Majma al-Zawaid #937

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ ""، فَقُمْتُ فَقَالَ: "" اقْعُدْ ""، فَصَنَعَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ فَيَقُولُ: "" اقْعُدْ ""، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قُلْتُ: "" مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ "" قَالَ: "" أَنْتُمْ - مَعْشَرَ قُضَاعَةَ - مِنْ حِمْيَرَ». قَالَ عَمْرٌو: فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ عِنْدُهُ طُرُقٌ، فَفِي بَعْضِهَا: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّنْ نَحْنُ؟ قَالَ: "" أَنْتُمْ مِنَ الْيَدِ الطَّلِيقَةِ وَاللُّقْمَةِ الْهَنِيَّةِ؛ مِنْ حِمْيَرَ». وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī رضي الله عنه narrated: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** So I stood up, but he ﷺ said, **"Sit down."** He did that three times; each time I stood up and he said, **"Sit down."** When it was the third time, I asked: "From whom are we, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You—O gathering of Quḍāʿah—are from Ḥimyar."** ʿAmr said: "I kept this hadith concealed for twenty years."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہاں جو شخص ” معد “ سے تعلق رکھتا ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں کھڑا ہو گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہو جاتا اور آپ ﷺ یہ فرما دیتے : تم بیٹھ جاؤ ! جب تیسری مرتبہ ایسا ہوا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ( نسبی ) تعلق کس سے ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے قضاعہ قبیلے کے افراد ! تم لوگ ’’ حمیر ‘‘ سے تعلق رکھتے ہو ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ میں نے بیس سال تک یہ حدیث چھپا کے رکھی ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے ( اپنی اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کے مختلف طرق نقل کئے ہیں ، جن میں سے ایک میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ( نسبی ) تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا تعلق پھیلے ہوئے ہاتھ اور سیر کرنے والے لقمے ( شاید اس سے مراد مہمان نواز اور سخی ہونا ہے ) ’’ حمیر ‘‘ سے ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

938

Majma al-Zawaid #938

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ أَيْضًا قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ "". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ ""، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ ""، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" اجْلِسْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ ""، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ ""، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّنْ نَحْنُ؟ قَالَ: "" أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ، النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ». فَقَالَ عَمْرٌو: فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى كَانَ أَيَّامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَبَعَثَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَرْقَى الْمِنْبَرَ، فَتَذْكُرَ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ، عَلَى أَنْ أُطْعِمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتِي؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: نَعَمْ. فَنَادَى بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، وَجَاءَ عَمْرٌو يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ، أَلَا إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ دَعَانِي عَلَى أَنْ أَرْقَى الْمِنْبَرَ، فَأَذْكُرَ أَنَّ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ، أَلَا: إِنَّا بَنُو الشَّيْخِ الْهَجَّانِ الْأَزْهَرِ ... قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرِ النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِيهِ عَنْكَ يَا غُدَرُ، ثَلَاثًا، قَالَ: هُوَ مَا رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاتَّبَعَهُ ابْنُهُ زُهَيْرٌ فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَةِ، مَا كَانَ عَلَيْكَ إِذَا أَطَعْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَطْعَمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتَهُ؟ فَأَنْشَأَ يَقُولُ: لَوْ قَدْ أَطَعْتُكَ يَا زُهَيْرُ كَسَوْتَنِي ... فِي النَّاسِ ضَاحِيَةً رِدَاءَ شَنَارِ قَحْطَانُ وَالِدُنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ ... وَأَبُو خُزَيْمَةَ خِنْدَفُ بْنُ نِزَارِ أَضَلَالُ لَيْلٍ سَاقِطٍ أَوْرَاقُهُ ... فِي النَّاسِ أَعْذَرُ أَمْ ضَلَالُ نَهَارِ أَنَبِيعُ وَالِدَنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ ... بِأَبِي مَعَاشِرَ غَائِبٍ مُتَوَارِ تِلْكَ التِّجَارَةُ لَا نَبُوءُ بِمِثْلِهَا ... ذَهَبٌ يُبَاعُ بِآنِكٍ وَإِبَارِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَلْهَاثُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: حَدِيثُهُ عَنْ آبَائِهِ لَا يَصِحُّ. وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ آبَائِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī رضي الله عنه narrated: While we were in the presence of the Prophet ﷺ, he said, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr ibn Murrah stood up, so the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** He sat down. Then he ﷺ repeated, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr stood up, and the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** Then he ﷺ said a third time, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr stood up, and the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** He asked: "O Messenger of Allah, from whom are we?" The Prophet ﷺ said: > **"You are from Quḍāʿah ibn Mālik ibn Ḥimyar—the well-known and undeniable lineage."** ʿAmr said: "I concealed this hadith until the days of Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān, who sent for me and said: 'Would you ascend the pulpit and state that Quḍāʿah is the son of Maʿadd ibn ʿAdnān, in exchange for which I will grant you the revenues of the two Iraqs (Kufa and Basra) and Egypt for as long as I live?' ʿAmr replied: 'Yes.' The call for congregational prayer was proclaimed, and the people assembled. ʿAmr came, stepping over the necks of the people, until he ascended the pulpit. He praised and glorified Allah, and then said: 'O people! Whoever knows me knows me, and whoever does not know me, I am ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī. Behold! Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān summoned me to mount the pulpit and claim that Quḍāʿah is the son of Maʿadd ibn ʿAdnān. Truly: *We are the sons of the noble, radiant elder,* *Quḍāʿah ibn Mālik ibn Ḥimyar,* *The well-known lineage, not to be denied!*' He then descended, and Muʿāwiyah said to him three times: 'Away with you, O treacherous one!' ʿAmr replied: 'It is as you saw, O Commander of the Faithful.' His son Zuhayr followed him and said: 'O my father, what harm would there have been for you had you obeyed the Commander of the Faithful and received the revenues of the two Iraqs and Egypt for his lifetime?' Thereupon ʿAmr recited: > **'Had I obeyed you, O Zuhayr, you would have clothed me among the people in broad daylight with a garment of shame! Qaḥṭān is our father to whom we trace our name, and the father of Khuzaymah is Khindif ibn Nizār. Is wandering in the darkness of night whose leaves fall excused among people, or wandering in the broad daylight? Shall we sell our father unto whom we are called in exchange for a father of strange clans, absent and hidden? That is a bargain the like of which we will never accept—pure gold being sold for lead and mere needles!'**"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو شخص ’’ معد ‘‘ سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہاں ’’ معد “ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! اُس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : یہاں ’’ معد ‘‘ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ قضاعہ بن مالک بن حمیر ( کی اولاد ) سے تعلق رکھتے ہو ، جو ایک معروف نسب ہے ، منکر نہیں ہے ۔ حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ روایت چھپا کے رکھی ، یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور بولے : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا تذکرہ کرو ! اس کے بدلے میں ، میں تمہیں زندگی بھر عراقین ( دو عراق ، یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج ادا کرتا رہوں گا ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ٹھیک ہے تو یہ اعلان کیا گیا : لوگ جمع ہو جائیں ، لوگ جمع ہو گئے ، حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آئے اور منبر پر چڑھ گئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگوں کے گروہ ! جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو مجھے جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عمرو بن مرہ جہنی ہوں ، معاویہ بن ابوسفیان نے مجھے بلوایا ، تاکہ میں منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا ذکر کروں : بے شک ہم چمکدار اور روشن بزرگ کی اولاد ہیں ، جو قضاعہ بن مالک بن حمیر ہے ، جو ایک معروف نسب ہے اور منکر نہیں ہے ۔ پھر وہ منبر سے نیچے آ گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے وعدہ خلاف ! یہ کیا کیا ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ۔ تو حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ وہی چیز ہے جو آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے ، اے امیرالمؤمنین ! تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے زہیر ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا : اے ابا جان ! آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، اگر آپ امیرالمومنین کی بات مان لیں ، وہ آپ کو دونوں عراقوں ( یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج زندگی بھر دیتے رہیں گے ، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : اے زہیر ! اگر میں تمہاری بات مان لوں تو تم نے لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے مجھے عار کی چادر اوڑھا دی ہے ۔ ہمارا جدامجد قحطان ہے جس کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور ابوخزیمہ خندف بن نزار ہے ۔ کیا تاریک رات میں لوگوں کے درمیان اپنے پتے گرانے والا زیادہ معذور شمار ہو گا ، یا دن میں ایسا کرنے والا ( زیادہ معذور شمار ہو گا ) ۔ جس باپ کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ، کیا ہم اسے مختلف گروہوں کے جدامجد کے عوض میں فروخت کر دیں جو پوشیدہ اور چھپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا سودا ہو گا ، جیسے سونے کو ڈھیلوں اور پتھروں کے عوض میں فروخت کر دیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دلہاث بن داؤد ہے ، ازدی فرماتے ہیں : اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ مستند نہیں ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) یہ حدیث بھی اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔

939

Majma al-Zawaid #939

وَعَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «حَضَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ ""، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ "" حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُضَاعَةُ مِنْ حِمْيَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ وَالِدَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Rabīʿ ibn Sabrah reported from his father رضي الله عنه, who said: I was present with the Prophet ﷺ when he said, **"Whoever is here from Maʿadd, let him stand up."** ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī stood up, and the Prophet ﷺ said to him, **"Sit down."** He did that three times, and then the Prophet ﷺ said: > **"Quḍāʿah is from Ḥimyar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیع بن سبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، جب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہاں ’’ معد ‘‘ ( کی اولاد ) سے تعلق رکھنے والا جو فرد موجود ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قضاعہ کا تعلق حمیر سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوعبید دراوردی کا معاملہ مختلف ہے ، جو عبدالعزیز کے والد ہیں ، میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

940

Majma al-Zawaid #940

وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا فِي غَنَمٍ لِي أَرْعَاهَا، فَتَرَكْتُهَا ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: تُبَايِعُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" مِمَّنْ أَنْتَ؟ "" فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ: أَبَيْعَةُ هِجْرَةٍ أَوْ بَيْعَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ؟ "" فَقُلْتُ: بَيْعَةُ هِجْرَةٍ، فَبَايَعَنِي. ثُمَّ قَالَ يَوْمًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ "" فَقُمْتُ فَقَالَ: "" اقْعُدْ "" ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ "" فَقُمْتُ فَقَالَ: "" اقْعُدْ "" ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةُ فَقُمْتُ، فَقَالَ: "" اقْعُدْ "" فَقُلْتُ: مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَشَيْخُهُ مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUshshānah reported: I heard ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه say while upon the pulpit: "The Messenger of Allah ﷺ arrived in Medina while I was tending sheep belonging to me. I left them and went to him, saying: 'Will you accept my pledge of allegiance, O Messenger of Allah?' He ﷺ asked, **'From whom are you?'** I informed him, and the Messenger of Allah ﷺ said, **'Which is more beloved to you: the pledge of migration (Hijrah) or the pledge of a desert-dweller (Bedouin)?'** I said, 'The pledge of migration,' and so he took my pledge. Then one day, the Messenger of Allah ﷺ said, **'Whoever is here from Maʿadd, let him stand up.'** I stood up, and he said, **'Sit down.'** Then he said, **'Whoever is here from Maʿadd, let him stand up.'** I stood up, and he said, **'Sit down.'** Then he said it a third time, so I stood up, and he said, **'Sit down.'** I asked: 'From whom are we, O Messenger of Allah?' The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You are from Quḍāʿah ibn Mālik ibn Ḥimyar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعشانہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ’’ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ، میں اُس وقت اپنی بکریاں چرا رہا تھا ، میں نے بکریوں کو چھوڑا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ مجھ سے بیعت لیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کون سے خاندان سے ہے ؟ میں نے آپ ﷺ کو بتایا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون سی چیز تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ کیا ہجرت کی بیعت ؟ یا دیہاتی رہنے کی بیعت ؟ میں نے عرض کی : ہجرت کی بیعت ، آپ ﷺ نے مجھ سے بیعت لے لی ، ایک دن نبی اکرم ﷺ اللہ نے ارشاد فرمایا : یہاں معد ( کی اولاد ) سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو میں کھڑا ہو گیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا : یہاں جو شخص معد سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، میں کھڑا ہو گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے یہی بات ارشاد فرمائی ، تو میں کھڑا ہو گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم قضاعه بن مالک بن حمیر سے تعلق رکھتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُن کا استاد معروف بن سوید ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

941

Majma al-Zawaid #941

وَعَنِ الْجَفْشِيشِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: «جَاءَ قَوْمٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَنْتَ مِنَّا وَادَّعَوْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا، نَحْنُ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي كَثِيرٌ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالْأَنْسَابِ وَالْوَفَيَاتِ وَالْأَسْمَاءِ وَالْكُنَى فِي أَوَاخِرِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

EnglishUnverified translation

Al-Jafshīsh al-Kindī رضي الله عنه narrated: A delegation from Kindah came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "You are one of us," claiming him as their kin. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"We do not trace our ancestry through our mother, nor do we disown our father; we are the sons of al-Naḍr ibn Kinānah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جفشیش کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کندہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُنہوں نے کہا : آپ ہمارے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، انہوں نے یہ دعویٰ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم اپنی ماں کی طرف نسب کی نسبت نہیں کرتے اور اپنے باپ کی نفی نہیں کرتے ہیں ، ہم نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابوحاتم اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نسب ، وفات ، اسماء اور کنیت سے متعلق بہت کی روایات ’’ مناقب صحابہ ‘‘ سے متعلق باب کے آخر میں آگے آئیں گی ۔

942

Majma al-Zawaid #942

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «حَلِيفٌ مِنْهُمْ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"An ally of a people is one of them, the freed slave of a people is one of them, and the son of a people's sister is one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حلیف بھی ( قوم کے ) لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے ، آزاد کردہ غلام بھی اُن میں سے ایک ہوتا ہے ، قوم کا بھانجا بھی ان کا ایک فرد ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” واقدی “ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

943

Majma al-Zawaid #943

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ غِيَاثُ بْنُ حَرْبٍ، ضَعَّفَهُ الْفَلَّاسُ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said: > **"The son of a people's sister is one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ قوم کا بھانجا ، ان کا ایک فرد ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی غیاث بن حرب ہے ، جسے فلاس نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

944

Majma al-Zawaid #944

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَوَالِينَا مِنَّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ، وَيُقَالُ: مَسْلَمَةُ بْنُ سَالِمٍ، ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Our freed slaves are from us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہمارے آزاد کردہ غلام بھی ہمارے فرد ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن سالم ہے ، ایک قول کے مطابق اس کا نام مسلمہ بن سالم ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

945

Majma al-Zawaid #945

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ: حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ، فَاسْتَبَّا يَوْمًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا حَبَشِيُّ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا قِبْطِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَقُولَا هَكَذَا، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ had two freed slaves: an Abyssinian and a Copt. One day, they exchanged harsh words, and one of them said: "O Abyssinian!" while the other said: "O Copt!" Thereupon, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not say such things! You two are simply two men from the family of Muḥammad ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے دو غلام تھے ، ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا ، ایک مرتبہ دونوں میں تکرار ہو گئی ، تو اُن میں سے ایک نے کہا : اے حبشی ! اور دوسرے نے کہا : اے قبطی ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس طرح نہ کہو ! تم دونوں ایسے افراد ہو ، جو ( حضرت ) محمد ( ﷺ ) کے خاندان سے تعلق رکھتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

946

Majma al-Zawaid #946

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمًا لِقُرَيْشٍ: «هَلْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِنْكُمْ؟ "" قَالُوا: ابْنُ أُخْتِنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ. قَالَ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ [وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عُتْبَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُتْبَةَ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عُتْبَةَ وَلَا إِبْرَاهِيمَ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn Ghazwān رضي الله عنه narrated: One day, the Messenger of Allah ﷺ asked Quraysh: **"Is there anyone among you who does not belong to you?"** They replied: "Our sister's son, ʿUtbah ibn Ghazwān." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The son of a people's sister is one of them [and the ally of a people is one of them]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے قریش سے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد موجود ہے جو تم میں سے نہ ہو ؟ اُنہوں نے عرض کی : ہمارا ایک بھانجا عتبہ بن غزوان ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قوم کا بھانجا ، ان کا ایک فرد ہوتا ہے ( اور قوم کا حلیف ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت عتبہ بن ابراہیم بن عتبہ بن غزوان نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو عتبہ ( بن ابراہیم ) یا ابراہیم ( بن عتبہ بن غزوان ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

947

Majma al-Zawaid #947

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The son of a people's sister is one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قوم کا بھانجا اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

948

Majma al-Zawaid #948

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ التَّارِيخُ فِي السَّنَةِ الَّتِي قَدِمَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَفِيهَا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"The Islamic calendar commenced in the year the Prophet ﷺ arrived in Medina, and in that same year ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما was born."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تاریخ ( یعنی ہجری تقویم ) کا آغاز اس سال سے ہوا ، جس سال نبی اکرم ﷺ ( ہجرت کر کے ) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ، اُسی سال میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عباد مکی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔

949

Majma al-Zawaid #949

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَتُوُفِّيَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ فِيهِ: وَفَتَحَ بَدْرًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} [المائدة: 3]. وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: > **"The Prophet ﷺ was born on a Monday, commissioned as a Prophet on a Monday, departed migrating from Mecca to Medina on a Monday, entered Medina on a Monday, passed away on a Monday, and placed the Black Stone into position on a Monday."** In another addition: > **"And he triumphed at Badr on a Monday, and Sūrat al-Māʾidah was revealed on a Monday: *{This day I have perfected for you your religion...}* [al-Māʾidah: 3]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے ، پیر کے دن آپ ﷺ کو نبوت ملی ، پیر کے دن آپ ﷺ ہجرت کرنے کے لیے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ، پیر کے دن آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے ، پیر کے دن آپ کا وصال ہوا ، آپ ﷺ نے حجر اسود پیر کے دن اٹھایا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ’’ آپ ﷺ نے غزوہ بدر میں پیر کے دن کامیابی حاصل کی ، سورہ مائدہ کی یہ آیت پیر کے دن نازل ہوئی : ’’ آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ‘‘....... الخ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور وہ صحیح کے راویوں میں سے ہیں ۔

950

Majma al-Zawaid #950

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Jarīr ibn ʿAbdillāh رضي الله عنه narrated: > **"The Messenger of Allah ﷺ passed away at the age of sixty-three, Abū Bakr passed away at the age of sixty-three, and ʿUmar was martyred at the age of sixty-three."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا وصال تریسٹھ برس کی عمر میں ہوا تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ برس کی عمر میں ہوا ، اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اُس وقت وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن بحر ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔

951

Majma al-Zawaid #951

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: > **"The Prophet ﷺ passed away when he was sixty-five years of age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔