Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 29 · Chapter 5

Book of Prescribed Punishments

Hadith 10632–10671

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10632

Majma al-Zawaid #10632

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ «أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا، وَقَدْ أُحْصِنَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُجِمَا». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَكُنْتُ فِي مَنْ رَجَمَهُمَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ فِيهِ: لَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah ibn al-Harith ibn Jaz' (may Allah be pleased with him), that the Jews brought to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) a Jewish man and Jewish woman who had committed zina while both were muḥṣan. The Messenger ordered them stoned, and the narrator said he was among those who stoned them. > **"Stone them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہودی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لے کے آئے جنہوں نے زنا کیا تھا وہ دونوں محصن تھے تو نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت ان دونوں کو سنگسار کر دیا گیا ۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے انہیں سنگسار کرنے ولوں میں شامل تھا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10633

Majma al-Zawaid #10633

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «جَاءَتِ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ "". فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا، فَقَالَ: "" أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا؟ "". فَقَالَا: كَذَلِكَ يَزْعُمُونَ. فَنَاشَدَهُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى: "" كَيْفَ تَجِدُونَ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي تَوْرَاةِ اللَّهِ تَعَالَى؟ "". قَالَا: نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ: إِذَا وُجِدَ الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتٍ فَهِيَ رِيبَةٌ، فِيهَا عُقُوبَةٌ، وَإِذَا وُجِدَ فِي ثَوْبِهَا أَوْ عَلَى بَطْنِهَا فَهِيَ رِيبَةٌ فِيهَا عُقُوبَةٌ. فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ نَظَرُوا إِلَيْهِ مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رَجَمُوهُ، فَقَالَ: "" مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَرْجُمُوهُمَا؟ "". فَقَالَا: ذَهَبَ سُلْطَانُنَا فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا فَأَمَرَ بِرَجْمِهِمَا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَدْ صَحَّحَهَا ابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jabir (may Allah be pleased with him), who said: the Jews brought a man and woman who had committed zina. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) told them to bring their two most learned men, so they brought the two sons of Ṣuriya. He asked whether they were the most learned behind them, and they said so it is claimed. He adjured them by Allah who sent the Torah to Musa about Allah's ruling: they answered that mere seclusion in a house or garment or upon her body is suspicion, riba, with discretionary punishment, 'uquba, but stoning requires four witnesses to penetration like the kohl stick in its case, mil fi mukḥula. Asked why they did not stone, they said their authority had gone and they disliked killing. The Prophet summoned the witnesses, they testified, and he ordered stoning. > **"Bring me the two most learned men among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہودی اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کے آئے جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم اپنے درمیان موجود دو سب سے بڑے عالموں کو میرے پاس لے کے آئے تو لوگ صوریا کے دو بیٹوں کو لے کے آپ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم دونوں اپنے پیچھے موجود افراد سے زیادہ علم رکھتے ہو انہوں نے کہا لوگوں کا یہی سمجھنا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دیا جس نے حضرت موسیٰ پر تورات نازل کی کہ تم دونوں مرد اور عورت ) کے بارے میں اللہ کی تورات میں کیا حکم پاتے ہو ان دونوں نے یہ کہا کہ ہم نے تورات میں یہ حکم پایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ کسی گھر میں پایا جائے تو ایک مشکوک صورت حال ہے اس میں سزا دی جائے گی جب کوئی شخص عورت کے کپڑے میں پایا جائے یا اس کے پیٹ پر پایا جائے تو یہ مشکوک صورت حال ہے تو اس میں سزا دی جائے گی اور جب چار افراد اس بات کی گواہی دیں کہ ان لوگوں نے مرد کو دیکھا ہے کہ جس طرح سرمہ دانی کی سلائی سرمہ دانی میں ڈالی جاتی ہے اس طرح اس نے ( اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے ) تو اسے سنگسار کر دیا جائے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر کیا وجہ ہے تم نے ان دونوں کو سنگسار کیوں نہیں کیا ان دونوں نے کہا ایک تو ہماری حکومت ختم ہو گئی ہے تو ہم نے قتل کرنے کو ناپسند کیا نبی اکرم ﷺ نے گواہوں کو بلوایا ان لوگوں نے گواہی دی تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں ( مرد و عورت ) کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے مجالد کے حوالے سے امام شعبی کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ابن عدی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔

10634

Majma al-Zawaid #10634

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، وَزَيْدَ بْنَ حَسَنٍ يَذْكُرُونَ «أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ فَجَرَ بِغُلَامٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَعْرُوفِ النِّسَبِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: وَيْحَكُمْ أَيْنَ الشُّهُودُ؟ أُحْصِنَ؟ قَالُوا: تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا بَعْدُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: لَوْ دَخَلَ بِهَا لَحَلَّ عَلَيْهِ الرَّجْمُ، فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَدْخُلْ بِأَهْلِهِ فَاجْلِدْهُ الْحَدَّ. فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ الَّذِي ذَكَرَ أَبُو الْحَسَنِ، فَأَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجُلِدَ مِائَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jabir, who heard Salim ibn Abdullah, Aban ibn Uthman, and Zayd ibn Hasan relate: a man who had committed foul sodomy, fujur, with a well-born Qurashi boy was brought to Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him). Uthman demanded witnesses and asked about iḥṣan. They said he had married a woman but not yet consummated with her, dukhul. Ali (may Allah be pleased with them both) told Uthman that consummation would have made stoning due, but without it the man is flogged with the ḥadd. Abu Ayyub (may Allah be pleased with him) testified that he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say what Abu al-Hasan had said, so Uthman ordered one hundred lashes. > **"If he had entered with her, stoning would have become due; since he has not entered with his wife, flog him the ḥadd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جابر نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے سالم بن عبداللہ اور ابان بن عثمان اور زید بن حسن کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ) ان کے پاس ایک ایسے شخص کو لایا گیا جس نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کے ساتھ بدکاری کی تھی جس کا نسب معروف تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو گواہ کہاں ہیں کیا یہ شخص محصن ہے لوگوں نے کہا اس شخص نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی تھی لیکن اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر تو اس نے اس عورت کی رخصتی کروا لی ہوتی تو پھر اسے سنگسار کرنے کی سزا دی جا سکتی تھی لیکن کیونکہ اس نے اپنی بیوی کی رخصتی نہیں کروائی تو اب آپ اسے حد کے کوڑے لگوا دیں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو وہی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو جناب ابوالحسن نے نقل کی ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایک سو کوڑے لگائے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے جس نے سماع کی صراحت کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10635

Majma al-Zawaid #10635

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ: الرَّاكِبُ وَالْمَرْكُوبُ، وَالرَّاكِبَةُ وَالْمَرْكُوبَةُ، وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَدَنِيُّ الْحَارِثِيُّ (*) وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayra (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: three are such that their testimony that there is no god but Allah is not accepted: the active and passive male partners in sodomy, rakib and markub, the active and passive female partners, rakiba and markuba, and the unjust ruler, imam ja'ir. > **"Three whose testimony that there is no god but Allah is not accepted: the rider and the ridden, the female rider and the ridden, and the unjust ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین قسم کے لوگ ہیں جن کی یہ گواہی قبول نہیں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( وہ لوگ یہ ہیں ) سوار ہونے والا مرد اور جس پر سوار ہوا جائے سوار ہونے والی عورت اور جس عورت پر سوار ہوا جائے ( یعنی ہم جنسی کا فعل کرنے والے مرد یا عورتیں ) اور ظالم حکمران ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد مدنی حارثی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

10636

Majma al-Zawaid #10636

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ سَبْعَةً مِنْ خَلْقِهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتِهِ "" - وَرَدَّدَ اللَّعْنَةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثَلَاثًا، وَلَعَنَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ لَعْنَةً تَكْفِيهِ - فَقَالَ: "" مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ. مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى شَيْئًا مِنَ الْبَهَائِمِ، مَلْعُونٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ، مَلْعُونٌ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَابْنَتِهَا، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ حُدُودَ الْأَرْضِ، مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحْرِزُ بْنُ هَارُونَ، وَيُقَالُ: مُحَرِّرٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayra (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: Allah has cursed seven of His creation from above His seven heavens, repeating the curse thrice upon one though one curse would suffice each. Cursed is whoever does the act of the people of Lut, repeated thrice; cursed is whoever slaughters for other than Allah; cursed is whoever goes in to an animal, bahima; cursed is whoever disobeys his parents, 'uquq; cursed is whoever joins a woman and her daughter; cursed is whoever alters the boundaries of land; cursed is whoever ascribes himself to other than his patrons, mawali. > **"Cursed is whoever does the act of the people of Lut, cursed is whoever does the act of the people of Lut, cursed is whoever does the act of the people of Lut."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے اور ان میں سے ایک پر تین مرتبہ لعنت کی ہے حالانکہ ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک لعنت ہی کفایت کر جائے اس نے فرمایا ہے وہ شخص ملعون ہے جو قوم لوط کا سا عمل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو قوم لوط کا سا عمل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو قوم لوط کا سا عمل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور کے ساتھ بدکاری کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو عورت اور اس کی بیٹی کو ( صحبت کرنے میں ) جمع کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو زمین کی حدود کو تبدیل کرتا ہے وہ شخص ملعون ہے جو آزاد کرنے والے اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محرز بن ہارون ہے ایک قول کے مطابق ان کا نام محرر ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10637

Majma al-Zawaid #10637

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرْبَعَةٌ يُصْبِحُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ، وَيُمْسُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ "". قُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْمُتَشَبِّهُونَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتُ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، وَالَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ، وَالَّذِي يَأْتِي الرِّجَالَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ هَذَا.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayra (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), who said: four wake in Allah's anger, ghaḍab, and sleep in His displeasure, sakhat. Asked who they are, Messenger of Allah, he named men imitating women, mutashabbihun, women imitating men, mutashabbihat, one who goes in to an animal, and one who goes in to men. > **"The men who imitate women, the women who imitate men, the one who goes in to an animal, and the one who goes in to men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ چار قسم کے لوگ اللہ کے غضب میں صبح کرتے ہیں اور اللہ کی ناراضگی میں شام کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مرد مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین وہ شخص جو کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے اور وہ شخص جو مرد کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل محمد بن سلام خزاعی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے امام بخاری کہتے ہیں اس کی اس حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔

10638

Majma al-Zawaid #10638

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ مُخَنَّثًا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْضُوبَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْفِقُونَهُ بِنِعَالِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" احْذَرُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ عَلَى نِسَائِكُمْ "" فَقَالُوا: أَفَلَا نَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا، إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَفِي كِتَابِ الْأَدَبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him), that an effeminate man, mukhannath, with hands and feet dyed with henna, khiḍab, was brought to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The Companions began striking him with their sandals. The Prophet ordered them to guard their women from him and his fellows. When they asked whether to kill him, he refused, saying he had been forbidden to kill those who pray, muṣallin. > **"Beware of him and his fellows for your women; no, I have been forbidden from killing those who pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہیجڑے کو لایا گیا جس نے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر مہندی لگائی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے اسے جوتوں کے ذریعے مارنا شروع کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اسے اور اس طرح کے دیگر لوگوں کو اپنی خواتین کے پاس جانے سے روکو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جی نہیں مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کتاب الادب میں اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث مذکور ہیں ۔

10639

Majma al-Zawaid #10639

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ، وَقَالَ: "" أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Abbas (may Allah be pleased with him and his father), that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) cursed effeminate men, mukhannathin, and said: expel them from your houses, buyut. > **"Expel them from your houses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ہیجڑوں پر لعنت کی ہے آپ نے فرمایا ہے انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عبدالرحمن کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10640

Majma al-Zawaid #10640

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ «النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ لَعَنَ عَشَرَةً: الْوَاشِمَةَ وَالْمَوْشُومَةَ، وَالسَّالِخَةَ وَجْهَهَا، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَشَاهِدَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَالرَّجُلَ الْمُتَشَبِّهَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةَ الْمُتَشَبِّهَةَ بِالرِّجَالِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ: الْمُتَشَبِّهِينَ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ، وَالسَّالِخَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), that he cursed ten: the woman who tattoos, washima, and the one tattooed, mawshuma, the woman who plucks her face, saliqa, the woman who joins hair, waṣila, and the one joined, mawṣula, the eater of riba and its witness, the withholder of charity, ṣadaqa, the man imitating women, and the woman imitating men. > **"Allah has cursed the tattooer and the tattooed, and those who imitate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے ‘ جسم گودنے والی عورت ‘ گودنے والی عورت ‘ چہرے کے بال نوچنے والی عورت ، نقلی بال لگوانے والی عورت اور لگانے والی عورت اور سود کھانے والا شخص اور اس کا گواہ اور زکوۃ نہ دینے والا شخص اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والا مرد اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورت ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے لیکن اس میں اختصار ہے اس میں صرف مشابہت اختیار کرنے والے مردوں مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں اور ( چہرے کے بال ) نوچنے والی عورت کا ذکر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10641

Majma al-Zawaid #10641

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayra (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: whoever falls upon an animal, bahima, kill him and kill it with him. > **"Whoever falls upon an animal, kill him and kill it with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جانور سے بدفعلی کرے تو اس شخص کو قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10642

Majma al-Zawaid #10642

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا قَطْعَ فِيمَا دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَنَصْرُ بْنُ بَابٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ أَحْمَدُ: مَا كَانَ بِهِ بَأْسٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him and his father), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: there is no amputation, qat', for less than ten dirhams. > **"There is no amputation for less than ten dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دس درہم سے کم ( قیمت والی چیز کی چوری ) پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ‘ اور ایک راوی نصر بن باب ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام احمد کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

10643

Majma al-Zawaid #10643

وَعَنْ عِرَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بِالْمَوْسِمِ يَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي مِجَنٍّ، وَالْبَعِيرُ أَفْضَلُ مِنَ الْمِجَنِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Irak, who heard Marwan at the pilgrimage season, mawsim, say: the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) amputated for a shield, mijann, and a camel is more valuable than a shield. The point is that the threshold was plainly met. > **"The Messenger of Allah amputated for a shield, and a camel is better than a shield."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عراک بیان کرتے ہیں : انہوں نے حج کے موقع پر مروان کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کٹوا دیا تھا اور اونٹ تو ڈھال سے مہنگا ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10644

Majma al-Zawaid #10644

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي دِينَارٍ أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ، وَالْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), who said: the hand is not cut except for a dinar or ten dirhams. This is a suspended ruling, mawquf, of the Companion on the minimum value, niṣab. > **"The hand is not cut except for a dinar or ten dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہاتھ صرف ایک دینار ‘ یا دس درہم ( قیمت والی چیز کی چوری ) پر کاٹا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ موقوف ہے قاسم ابوعبدالرحمن نامی راوی ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10645

Majma al-Zawaid #10645

وَعَنْ زَحْرِ بْنِ رَبِيعَةَ ; أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْقَطْعُ فِي دِينَارٍ أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Zaḥr ibn Rabi'a, that Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) informed him that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: amputation is for a dinar or ten dirhams. > **"Amputation is for a dinar or ten dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زحر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک دینار یا دس درہم ( قیمت والی چیز چوری کرنے ) پر ہاتھ کاٹا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے .

10646

Majma al-Zawaid #10646

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا قَطْعَ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), who said: there is no amputation except for ten dirhams. > **"There is no amputation except for ten dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ صرف ( یعنی کم از کم ) دس درہم ( قیمت والی چیز چوری کرنے ) پر ہاتھ کاٹا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

10647

Majma al-Zawaid #10647

وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلَّا فِي جَحْفَةٍ "". وَقُوِّمَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دِينَارًا أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Umm Ayman (may Allah be pleased with her), who said: the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: the thief is not cut except for a shield, jaḥfa. It was valued in the time of the Messenger at a dinar or ten dirhams. > **"The thief is not cut except for a shield."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چور ( کا ہاتھ ) صرف ڈھال ( یا اس کی قیمت جتنی قیمت والی چیز چوری کرنے ) پر کاٹا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10648

Majma al-Zawaid #10648

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ: خَمْسَةُ دَرَاهِمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو وَاقِدٍ الصَّغِيرُ، قَالَ أَحْمَدُ: مَا أَرَى بِهِ بَأْسًا، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Sa'd, meaning Ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him), that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) amputated for a shield, mijann, whose price was five dirhams. > **"He amputated for a shield."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈھال ( چوری کرنے پر چور کا ہاتھ ) کٹوا دیا تھا ، جس کی قیمت پانچ درہم تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ پانچ درہم تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوواقد صغیر ہے ۔ امام احمد کہتے ہیں : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

10649

Majma al-Zawaid #10649

وَعَنْ عَلِيٍّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي بَيْضَةٍ مِنْ حَدِيدٍ قِيمَتُهَا أَحَدٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ali (may Allah be pleased with him), that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) amputated for an iron egg-shaped helm, bayḍa, whose value was twenty-one dirhams. > **"He amputated for an iron helm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے لوہے کی ڈھال ( چوری کرنے پر چور کا ہاتھ ) کٹوا دیا تھا اس ( ڈھال ) کی قیمت اکیس درہم تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10650

Majma al-Zawaid #10650

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ جَارِيَةً سَرَقَتْ زُكْرَةً مِنْ خَمْرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْلُغْ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ، فَلَمْ يَقْطَعْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَفِيهِ أَبُو حَوْمَلٍ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him and his father), that a slave-girl stole a skin of wine, zukra, in the time of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) worth less than three dirhams, and the Prophet did not have her cut. > **"He did not cut her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک لڑکی نے شراب کا مٹکا ( یا مشکیزہ ) چوری کر لیا اس کی قیمت تین درہم بھی نہیں تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ نہیں کٹوایا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحومل ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔

10651

Majma al-Zawaid #10651

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا قَطْعَ فِي مَاشِيَةٍ إِلَّا مَا وَرَاءَ الزِّرْبِ، وَلَا فِي تَمْرٍ إِلَّا مَا آوَى الْجَرِينُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Umar (may Allah be pleased with him and his father), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: there is no amputation for grazing livestock, mashiya, except what is beyond the pen, zirb, nor for dates, tamr, except what has reached the storehouse, jarin. > **"There is no amputation for livestock except what is beyond the pen, nor for dates except what the storehouse has sheltered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہاتھ کاٹنے کی سزا صرف اس جانور ( کی چوری ) پر دی جائے گی ‘ جو باڑے میں سے ( چوری کیا گیا ہو ) اور اس کھجور ( کی چوری ) پر دی جائے گی ‘ جو گودام میں سے ( چوری کی گئی ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10652

Majma al-Zawaid #10652

وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ;أَنَّ ابْنَ مُقَرِّنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَنَامَ عَلَى فِرَاشٍ سَنَةً؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: 87]. كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَنَمْ عَلَى فِرَاشِكَ، قَالَ: إِنِّي مُوسِرٌ؟ قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً. قَالَ: عَبْدِي سَرَقَ قِبَاءً مِنْ عِنْدِي؟ قَالَ: مَالُكَ سَرَقَ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ - أَيْ لَا قَطْعَ عَلَيْهِ - قَالَ: أَمَتِي زَنَتْ؟ قَالَ: اجْلِدْهَا، قَالَ: إِنَّهَا لَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: إِسْلَامُهَا إِحْصَانُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ هَذَا وَغَيْرِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Hammam ibn al-Harith, that Ibn Muqarrin asked Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): O Abu Abd al-Rahman, I swore not to sleep upon a bed for a year. Abdullah recited the verse, O you who believe, do not forbid the good things Allah has made lawful for you, and told him to expiate his oath, kaffara, and sleep upon his bed. When he said he was wealthy, Abdullah told him to free a slave, raqaba. When he said his slave stole a cloak, qaba, from him, Abdullah said his own wealth had stolen part from part, so no amputation. When he said his slave-girl committed zina, Abdullah told him to flog her; to the plea she was not muḥṣana he answered that her Islam is her iḥṣan. > **"Expiate your oath and sleep upon your bed; her Islam is her iḥṣan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں : ابن مقرن نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ‘ اور کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ میں ایک سال تک اپنے بستر پر نہیں سوؤں گا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : اے ایمان والو ! ان پاکیزہ حلال چیزوں کو حرام قرار نہ دو ‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہیں ‘ اور تم حد سے تجاوز نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ‘‘۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ) تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اپنے بستر پر سو جاؤ انہوں نے کہا : میں خوشحال شخص ہوں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم غلام آزاد کر دو انہوں نے کہا : میرے غلام نے میرے پاس قبا چوری کر لی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے مال کے ایک حصے نے دوسرے کو چوری کر لیا ہے ان کی مراد یہ تھی کہ اس کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جا سکتی ابن مقرن نے کہا : میری کنیز نے زنا کیا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے کوڑے لگاؤ انہوں نے کہا : وہ محصنہ نہیں ہے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا اسلام اس کا احصان ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال اور دیگر روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں .

10653

Majma al-Zawaid #10653

وَعَنْ الْقَاسِمِ قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بِجَارِيَةٍ سَرَقَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ، فَلَمْ يَقْطَعْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Qasim, who said: a slave-girl who had stolen and was not muḥṣana was brought to Abdullah (may Allah be pleased with him), and he did not have her cut. > **"He did not cut her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کنیز ( یا لڑکی ) کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی وہ محصنہ نہیں تھی ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے لیکن اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10654

Majma al-Zawaid #10654

وَعَنْ الْقَاسِمِ أَيْضًا، قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَقَدْ بَنَى سَعْدٌ الْقَصْرَ، وَاتَّخَذَ مَسْجِدًا فِي أَصْحَابِ النَّمِرِ، فَكَانَ يَخْرُجُ إِلَيْهِ فِي الصَّلَوَاتِ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْتَ الْمَالِ، نَقِبَ بَيْتُ الْمَالِ، فَأَخَذَ الرَّجُلَ. فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ لَا تَقْطَعَهُ، وَانْقُلِ الْمَسْجِدَ، وَاجْعَلْ بَيْتَ الْمَالِ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ فِي الْمَسْجِدِ مَنْ يُصَلِّي، فَنَقَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَخَطَّ هَذِهِ الْخُطَّةَ، وَكَانَ الْقَصْرُ الَّذِي بَنَى سَعْدٌ شَاذَرْوَانَ، كَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ، فَنُقِضَ حَتَّى اسْتَوَى مَقَامُ الْإِمَامِ مَعَ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Qasim also, who said: Abdullah, meaning Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), arrived after Sa'd had built the palace and taken a mosque among the companions of al-Namir, going out to it for prayers. When Abdullah took charge of the public treasury, bayt al-mal, it was broken into and he seized the man. He wrote to Umar (may Allah be pleased with him), and Umar wrote back not to cut him, but to move the mosque and place the treasury toward the qibla, since someone praying remains in the mosque. Abdullah moved it and drew this plan. Sa'd's palace had a raised ledge, shadharwan, upon which the imam stood, so Abdullah ordered it demolished until the imam's standing was level with the people. > **"Do not cut him; move the mosque and place the treasury toward the qibla."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم نامی اسی راوی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے قصر بنوایا تھا اور انہوں نے اصحاب نمر کے درمیان مسجد بنائی تھی ، وہ نکل کر اس کی طرف نمازوں کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا نگران مقرر کیا گیا اور بیت المال میں نقب لگی تو انہوں نے ایک شخص کو پکڑ لیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو اور مسجد کو منتقل کر دو اور بیت المال کو قبلہ والی سمت میں کر دو کیونکہ جو شخص نماز ادا کرے گا وہ مسلسل مسجد میں رہے گا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منتقل کر دیا اور وہاں لکیر لگوا دی حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جو محل تعمیر کروایا تھا وہ شاذروان تھا امام اس پر کھڑا ہوتا تھا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اسے توڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ امام لوگوں کے برابر کھڑا ہونے لگا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10655

Majma al-Zawaid #10655

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «سَرَقَ مَمْلُوكٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ وَقَدْ سَرَقَ، فَعَفَا عَنْهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الرَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ. ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الْخَامِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّادِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ، فَقَطَعَ رِجْلَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّامِنَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرْبَعٌ بِأَرْبَعٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Isma (may Allah be pleased with him), who said: a slave stole in the time of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and was brought, and he pardoned him; brought a second time stealing, he pardoned; a third time, he pardoned; a fourth time, he pardoned. Brought a fifth time stealing, he cut his hand; a sixth time, he cut his foot; a seventh time, he cut his hand; an eighth time, he cut his foot. And the Messenger said: four for four. > **"Four for four."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک غلام نے چوری کر لی یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے درگزر کیا پھر دوسری مرتبہ آپ کے سامنے اسے پیش کیا گیا کہ اس نے چوری کی ہے ‘ تو آپ نے پھر اسے معاف کر دیا پھر تیسری مرتبہ اسے آپ کے سامنے لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے درگزر کیا پھر چوتھی مرتبہ اسے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا اس نے چوری کی تھی نبی اکرم ﷺ نے اسے معاف کر دیا پھر پانچویں مرتبہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا پھر چھٹی مرتبہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا ایک پاؤں کٹوا دیا پھر ساتویں مرتبہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا دوسرا ہاتھ کٹوا دیا پھر اسے آٹھویں مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا کہ اس نے چوری کی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا دوسرا پاؤں کٹوا دیا اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چار کے بدلے چار ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10656

Majma al-Zawaid #10656

وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - قَالَ: «كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي أَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ. فَكَأَنَّمَا أَسِفَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ؟ قَالَ: "" وَمَا يَمْنَعُنِي؟ لَا تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ، إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Majid, meaning al-Hanafi, who said: I sat with Abdullah (may Allah be pleased with him), who recalled the first man the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ever cut: a thief was brought and his hand was cut, and the Prophet's face showed sorrow, asaf. Asked if he disliked the cutting, he asked what would prevent him, warned them not to be helpers of Satan against their brother, and taught that when a ḥadd reaches the ruler, imam, he must establish it. Allah is Pardoning and loves pardon, so let them pardon and overlook; do you not love that Allah forgive you, for Allah is Forgiving, Merciful. > **"Do not be helpers of Satan against your brother; it befits the imam when a ḥadd reaches him to establish it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو ماجد حنفی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : اور میں اس شخص کا ذکر کر رہا تھا ، جس کا نبی اکرم ﷺ نے سب سے پہلے ہاتھ کٹوایا تھا ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا ۔ نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک تبدیل ہو گیا ( یعنی آپ اس حوالے سے غمگین تھے ) ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گویا آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے لئے کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنوحکمران کے لئے مناسب یہ ہے : جب کوئی مقدمہ آئے ‘ تو وہ اس کی سزا کو جاری کرے بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے وہ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ( بے شک اس نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

10657

Majma al-Zawaid #10657

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا قَالَ: «فَكَأَنَّمَا أَسِفَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - يَقُولُ: ذُرَّ عَلَيْهِ رَمَادٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from him also: the face of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) showed sorrow, as if ashes, ramad, had been strewn upon it, at the cutting of the thief. > **"His face changed as if ashes had been strewn upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : یوں لگتا تھا جیسے اس پر راکھ ڈال دی گئی ہو ۔

10658

Majma al-Zawaid #10658

وَفِي رِوَايَةٍ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ أَخِي، وَقَدْ سَرَقَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ: امْرَأَةٌ سَرَقَتْ، فَقُطِعَتْ يَدُهَا، ... فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ الْمَرْأَةِ، وَأَبُو مَاجِدٍ الْحَنَفِيُّ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration: a man brought his nephew to Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) for theft, and Abdullah said: you know the first ḥadd in Islam was a woman who stole, and her hand was cut. Then he related the like of the preceding account. > **"The first ḥadd in Islam was a woman who stole, and her hand was cut."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بھتیجے کو لے کر آیا اور بولا یہ میرا بھتیجا ہے ‘ اور اس نے چوری کی ہے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات جانتے ہو کہ اسلام میں جو پہلی حد جاری ہوئی تھی وہ ایک عورت پر جاری ہوئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا ........ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ‘ اور امام ابویعلیٰ نے صرف عورت والی روایت نقل کی ہے ابوماجد حنفی نامی راوی ضعیف ہے ۔

10659

Majma al-Zawaid #10659

وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ بِابْنِ أَخٍ لَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ سَكْرَانَ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ هَذَا سَكْرَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: تَرْتِرُوهُ مَزْمِزُوهُ وَاسْتَنْكِهُوهُ. قَالَ: فَتَرْتَرُوهُ وَمَزْمَزُوهُ وَاسْتَنْكَهُوهُ، فَوُجِدَ مِنْهُ رِيحُ الشَّرَابِ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى السِّجْنِ ثُمَّ أَخْرَجَهُ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَوْطٍ فَدُقَّتْ ثَمَرَتُهُ حَتَّى أَحْنَتْ لَهُ مُخْفَقَةً ثُمَّ قَالَ لِلْجَلَّادِ: اجْلِدْهُ وَأَرْجِعْ يَدَكَ وَأَعْطِ كُلَّ عُضْوٍ حَقَّهُ. فَضَرَبَهُ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ أَوْجَعَهُ، وَجَعَلَهُ فِي قَبَاءٍ وَسَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصٍ وَسَرَاوِيلَ، ثُمَّ قَالَ: بِئْسَ وَاللَّهِ وَالِي الْيَتِيمِ، مَا أَدَّبْتَ فَأَحْسَنْتَ الْأَدَبَ، وَلَا سَتَرْتَ الْخِزْيَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ ابْنُ أَخِي أَجِدُ لَهُ مِنَ اللَّوْعَةِ مَا أَجِدُ لِوَلَدِي!! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ يُحِبُّ الْعَفْوَ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ. ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُطِعَ مِنَ الْأَنْصَارِ - أَوْ: فِي الْأَنْصَارِ - فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا سَرَقَ». - فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ. وَأَبُو مَاجِدٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Majid al-Hanafi, who said: a man brought his drunken nephew to Abdullah (may Allah be pleased with him), saying he found him drunk, sukran. Abdullah told them to shake him, tartir, rouse him, mazmiz, and smell him, istinkah. They did so and found the smell of drink. Abdullah ordered him to prison, brought him out next day, ordered a whip whose fruit was beaten until lightened, mukhaffafa, and told the executioner to flog with restrained hand giving each limb its due, striking painfully but not brutally, while the man wore cloak and trousers, qaba and sarawil. Then Abdullah rebuked the uncle as an evil guardian of the orphan, neither disciplining well nor covering shame. When the uncle pleaded love like for his own child, Abdullah said Allah loves pardon, yet a ruler brought a ḥadd must establish it. Then he related from the Messenger (peace and blessings of Allah be upon him) that the first Muslim cut among the Ansar was accused of theft. > **"Shake him, rouse him, and smell him; flog him and restrain your hand, giving each limb its due."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے بھتیجے کو لے کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا وہ بھتیجا نشے کی حالت میں تھا اس شخص نے بتایا میں نے اسے نشے کی حالت میں پایا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے حرکت دو تاکہ اسے ہوش آئے ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے ہلایا جلایا اسے حرکت دی اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے پھر اگلے دن اسے وہاں سے نکالا گیا پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک چھڑی تیار کرنے کا حکم دیا اس کا پھل اتار لیا گیا یہاں تک کہ وہ ہلکی ہو گئی ‘ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جلاد سے کہا : تم اسے کوڑے لگاؤ اور اپنا ہاتھ کھینچ کے رکھنا اور ہر عضو کو اس کا حق دینا تو اس جلاد نے اسے ایسے مارا کہ جو زیادہ تکلیف دہ نہیں تھا لیکن تکلیف دہ تھا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے قبا اور شلوار پہنائے رکھی تھی یا قمیص اور شلوار تھی پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے چچا سے کہا : اللہ کی قسم ! تم یتیم کے برے والی ہو تم نے اس کی تربیت کرتے ہوئے اچھی تربیت بھی نہیں کی اور اس رسوائی کی بات کی پردہ پوشی بھی نہیں کی اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن یہ میرا بھتیجا ہے میں اس کے لئے وہی محبت محسوس کرتا ہوں جو اپنی اولاد کے لئے کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لیکن والی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی حد کا مقدمہ آئے اور وہ اس کو جاری نہ کرے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کی انہوں نے فرمایا : مسلمانوں میں سے پہلا شخص جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس کا تعلق انصار سے تھا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے ..... اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جو پہلے گزر چکی ہے ۔ ابو ماجد نامی راوی ضعیف ہے ۔

10660

Majma al-Zawaid #10660

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا، قَالَ قَوْمُهَا: فَنَحْنُ نَفْدِيهَا - يَعْنِي أَهْلَهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اقْطَعُوا يَدَهَا "". فَقَالُوا: نَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِمِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ "" اقْطَعُوا يَدَهَا "" فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ "" فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: {فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ} [المائدة: 39]»، إِلَى آخَرِ الْآيَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him and his father), that a woman stole in the time of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). Her victims brought her, her kin offered ransom, fidya, but the Messenger said: cut her hand. They offered five hundred dinars as ransom, he again said: cut her hand. Her right hand was cut. She asked, Messenger of Allah, is there repentance, tawba, for me. He said: yes, today you are from your sin as on the day your mother bore you. Then Allah revealed in Surat al-Ma'ida: whoever repents after his wrongdoing and reforms, Allah turns to him. > **"Cut her hand; yes, today you are from your sin as on the day your mother bore you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک عورت نے چوری کر لی وہ لوگ اسے لے کر آئے جن کے ہاں اس عورت نے چوری کی تھی انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اس عورت نے ہمارے ہاں چوری کی ہے عورت کی قوم نے کہا : ہم اس کا فدیہ دے دیتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو لوگوں نے کہا : ہم اس کے فدیے میں پانچ سو دینار دیدیتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو اس عورت کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اس عورت نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں تم اپنے اس گناہ کے حوالے سے اس طرح ہو گئی ہو جیسے اس دن تھی جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے سورت مائدہ میں یہ آیت نازل کی : ’’ جو شخص ظلم کرنے کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے .......‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10661

Majma al-Zawaid #10661

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ، وَوَضَعَ خَمِيصَةً لَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، فَأَتَى سَارِقٌ فَسَرَقَهَا، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ لَهُ. قَالَ: "" فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn Abbas (may Allah be pleased with him and his father), that Safwan ibn Umayya came to Madina, slept in the mosque with his wrap, khamiṣa, under his head. A thief stole it and was brought to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), who ordered cutting. Safwan said, Messenger of Allah, it is his. The Prophet replied: why not before you brought him to me. > **"Why not before you brought him to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : صفوان بن امیہ مدینہ منورہ آئے اور وہ مسجد میں سو گئے انہوں نے اپنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھی ایک چور آیا اور اس کو چوری کر لیا وہ اس کو پکڑ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس لے آئے نبی اکرم ﷺ نے اس چور کے بارے میں حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو صفوان نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ چادر اس کی ہوئی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10662

Majma al-Zawaid #10662

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَارِقٍ قَالُوا: سَرَقَ. قَالَ: "" مَا إِخَالُهُ سَرَقَ "". قَالَ: بَلَى قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ "". فَذُهِبَ بِهِ فَقُطِعَ ثُمَّ حُسِمَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تُبْ إِلَى اللَّهِ "". فَقَالَ: تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ: "" تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ. أَوِ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ الْقُرَشِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abu Hurayra (may Allah be pleased with him), that a thief was brought to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). They said he stole. He said: I do not think he stole. The man admitted, yes, Messenger of Allah, I did. He said: take him and cut him, then cauterize him, ḥasm, then bring him to me. They cut and cauterized him and brought him. He said: repent to Allah. The man said: I repent to Allah. He said: Allah has turned to you. > **"Take him and cut him, then cauterize him, then bring him to me; repent to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور کو لایا گیا لوگوں نے بتایا اس نے چوری کی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو گی اس نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! میں نے چوری کی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے داغ لگوا دینا پھر اسے میرے پاس لے کر آنا اسے لے جایا گیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر اسے داغ لگوا دیا گیا ( تاکہ خون بہنا بند ہو جائے ) پھر اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اس نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ قبول کرتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے اللہ ! تو اس کی توبہ قبول فرما لے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد احمد بن ابان قرشی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10663

Majma al-Zawaid #10663

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ - أَوِ الْحَارِثِ - قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: طَالَمَا حَرَصَ عَلَى الْإِمَارَةِ، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلِصٍّ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَقِيلَ: إِنَّهُ سَرَقَ، فَقَالَ: "" اقْطَعُوهُ». ثُمَّ جِيءَ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَقَدْ قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكَ شَيْئًا إِلَّا مَا قَضَى فِيكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أَمَرَ بِقَتْلِكَ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْلَمَ بِكَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ أُغَيْلِمَةً مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ أَنَا فِيهِمْ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ. فَأَمَّرْنَاهُ عَلَيْنَا فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ فَقَتَلْنَاهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِيُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Muhammad ibn Hatib, or al-Harith, who mentioned Ibn al-Zubayr's long eagerness for leadership, imara. Asked why, he said: a robber, liṣṣ, was brought to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), who ordered killing; told it was theft, he said: cut him. Later, after his extremities, qawa'im, were cut, he was brought to Abu Bakr (may Allah be pleased with him), who said he finds for him only what the Messenger had decreed the day he ordered his killing, for he knew him best. Abu Bakr ordered some youths of the Muhajirun, among them the narrator, to kill him. Ibn al-Zubayr said: make me your commander, amir, so they did, and they took him to al-Baqi' and killed him. > **"Cut him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد حاطب یا شاید محمد بن حارث بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ذکر کی کہ انہیں طویل عرصے سے حکمرانی کی خواہش تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا اس کی وجہ کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا عرض کی گئی : اس نے چوری کی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اس چور کو اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اس کے تمام اعضا کاٹے جا چکے تھے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے لئے مجھے کوئی چیز نہیں ملتی صرف وہ چیز ملتی ہے جو نبی اکرم ﷺ نے تمہارے بارے میں اس دن فیصلہ دیا تھا جب آپ نے تمہیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ تمہارے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کے بیٹوں میں سے تعلق رکھنے والے کچھ نو جوانوں کو اس کو قتل کرنے کا حکم دیا میں ان لوگوں میں شامل تھا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا : تم اپنے پر مجھے امیر بنا دو تو ہم نے انہیں اپنے پر امیر بنا لیا پھر اس چور کو لے کر بقیع کی طرف گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ میں نے یوسف بن یعقوب کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کی روایت نہیں پائی ہے .

10664

Majma al-Zawaid #10664

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ «سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْخِلْسَةِ وَالنُّهْبَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ

EnglishUnverified translation

On the authority of Zayd ibn Khalid al-Juhani (may Allah be pleased with him), that he heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbid snatching, khilsa, and plunder, nuhba. These are open seizure, not secret theft, so no amputation but prohibition and liability. > **"He forbade snatching and plunder."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اچک لینے اور لوٹ لینے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

10665

Majma al-Zawaid #10665

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: " وَالْمُثْلَةِ " بَدَلَ: " النُّهْبَةِ ". وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

In a narration from him: the word mutilation, muthla, appears instead of plunder, nuhba. Its chain contains an unnamed man. > **"He forbade snatching and mutilation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں ’’ لوٹ لینے ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ مثلہ کرنا ‘‘ مذکور ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

10666

Majma al-Zawaid #10666

عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ - وَيُقَالُ: مُخْبِرٌ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Shuraḥbil ibn Aws (may Allah be pleased with him), who was among the Companions of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: whoever drinks wine, khamr, flog him; if he returns, flog him; if he returns, kill him. > **"Whoever drinks wine, flog him; if he returns, flog him; if he returns, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شرحبیل بن اوس رضی اللہ عنہ جو صحابہ کرام میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ اگر وہ دوبارہ پیئے تو اسے دوبارہ لگاؤ اگر وہ پھر پیئے تو اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن محمد ہے ‘ اور اسے مخبر کہا جاتا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10667

Majma al-Zawaid #10667

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فِي الْخَمْرِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الْخَمْرِ: "" إِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Yazid ibn Abi Kabsha, who heard a Companion of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) relate to Abd al-Malik ibn Marwan concerning wine: the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said concerning wine: if he drinks it, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns a fourth time, kill him. > **"If he drinks it, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns a fourth time, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوکبشہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے صحابہ کرام کے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کو ‘ عبدالملک بن مروان کو شراب نوشی کے بارے میں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ نے شراب کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے :’’ اگر آدمی اسے پی لے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ دوبارہ ایسا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ‘ اگر وہ پھر دوبارہ ایسا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اگر وہ چوتھی مرتبہ پھر ایسا کرے تو اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے یزید بن ابوکبشہ کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں .

10668

Majma al-Zawaid #10668

وَعَنْ جَرِيرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِاللَّهِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jarir, meaning Ibn Abdullah (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: whoever drinks wine, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns a fourth time, kill him. > **"Whoever drinks wine, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns a fourth time, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبدالله رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ دوبارہ ایسے کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ‘ اگر وہ پھر ایسا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرے تو اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزیداؤدی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے .

10669

Majma al-Zawaid #10669

وَعَنْ الشَّرِيدِ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمُ الْخَمْرَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Sharid (may Allah be pleased with him), who said: I heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) say: when one of you drinks wine, strike him; if he returns, strike him; then if he returns, strike him; then if he returns a fourth time, kill him. > **"When one of you drinks wine, strike him; if he returns, strike him; then if he returns, strike him; then if he returns a fourth time, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص شراب پی لے تو تم اس کی پٹائی کرو پھر اگر وہ ایسا کرے تو تم اس کی پٹائی کرو پھر اگر وہ ایسا کرے تو تم اس کی پٹائی کرو پھر اگر وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرے تو اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عتبہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10670

Majma al-Zawaid #10670

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ» "". قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: ائْتُونِي بِرَجُلٍ شَرِبَ الْخَمْرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَكُمْ عَلَيَّ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him and his father), that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: whoever drinks wine, flog him; then if he drinks, flog him; then if he drinks, flog him; then if he drinks a fourth time, kill him. Abdullah used to say: bring me a man who has drunk thrice, and I guarantee to strike his neck. > **"Whoever drinks wine, flog him; then if he drinks, flog him; then if he drinks, flog him; then if he drinks a fourth time, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ شراب پیئے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ شراب پیئے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کر دو ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : میرے پاس ایسے شخص کو لے کر آؤ جو تین مرتبہ شراب پی چکا ہو تو تمہیں میری طرف سے یہ چیز حاصل ہو گی کہ میں اس کی گردن اڑوا دوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ‘ اور اس طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10671

Majma al-Zawaid #10671

وَعَنْ غُضَيْفٍ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا شَرِبَ الرَّجُلُ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ghuḍayf, meaning Ibn al-Harith (may Allah be pleased with him), who said: I heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) say: when a man drinks wine, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, kill him. > **"When a man drinks wine, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, flog him; then if he returns, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کوئی شخص شراب پیئے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ ایسا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ ایسا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ پھر اگر وہ ایسا کرے تو اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔