وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ بِابْنِ أَخٍ لَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ سَكْرَانَ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ هَذَا سَكْرَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: تَرْتِرُوهُ مَزْمِزُوهُ وَاسْتَنْكِهُوهُ. قَالَ: فَتَرْتَرُوهُ وَمَزْمَزُوهُ وَاسْتَنْكَهُوهُ، فَوُجِدَ مِنْهُ رِيحُ الشَّرَابِ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى السِّجْنِ ثُمَّ أَخْرَجَهُ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَوْطٍ فَدُقَّتْ ثَمَرَتُهُ حَتَّى أَحْنَتْ لَهُ مُخْفَقَةً ثُمَّ قَالَ لِلْجَلَّادِ: اجْلِدْهُ وَأَرْجِعْ يَدَكَ وَأَعْطِ كُلَّ عُضْوٍ حَقَّهُ. فَضَرَبَهُ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ أَوْجَعَهُ، وَجَعَلَهُ فِي قَبَاءٍ وَسَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصٍ وَسَرَاوِيلَ، ثُمَّ قَالَ: بِئْسَ وَاللَّهِ وَالِي الْيَتِيمِ، مَا أَدَّبْتَ فَأَحْسَنْتَ الْأَدَبَ، وَلَا سَتَرْتَ الْخِزْيَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ ابْنُ أَخِي أَجِدُ لَهُ مِنَ اللَّوْعَةِ مَا أَجِدُ لِوَلَدِي!! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ يُحِبُّ الْعَفْوَ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ. ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُطِعَ مِنَ الْأَنْصَارِ - أَوْ: فِي الْأَنْصَارِ - فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا سَرَقَ». - فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ. وَأَبُو مَاجِدٍ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
On the authority of Abu Majid al-Hanafi, who said: a man brought his drunken nephew to Abdullah (may Allah be pleased with him), saying he found him drunk, sukran. Abdullah told them to shake him, tartir, rouse him, mazmiz, and smell him, istinkah. They did so and found the smell of drink. Abdullah ordered him to prison, brought him out next day, ordered a whip whose fruit was beaten until lightened, mukhaffafa, and told the executioner to flog with restrained hand giving each limb its due, striking painfully but not brutally, while the man wore cloak and trousers, qaba and sarawil. Then Abdullah rebuked the uncle as an evil guardian of the orphan, neither disciplining well nor covering shame. When the uncle pleaded love like for his own child, Abdullah said Allah loves pardon, yet a ruler brought a ḥadd must establish it. Then he related from the Messenger (peace and blessings of Allah be upon him) that the first Muslim cut among the Ansar was accused of theft. > **"Shake him, rouse him, and smell him; flog him and restrain your hand, giving each limb its due."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے بھتیجے کو لے کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا وہ بھتیجا نشے کی حالت میں تھا اس شخص نے بتایا میں نے اسے نشے کی حالت میں پایا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے حرکت دو تاکہ اسے ہوش آئے ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے ہلایا جلایا اسے حرکت دی اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے پھر اگلے دن اسے وہاں سے نکالا گیا پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک چھڑی تیار کرنے کا حکم دیا اس کا پھل اتار لیا گیا یہاں تک کہ وہ ہلکی ہو گئی ‘ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جلاد سے کہا : تم اسے کوڑے لگاؤ اور اپنا ہاتھ کھینچ کے رکھنا اور ہر عضو کو اس کا حق دینا تو اس جلاد نے اسے ایسے مارا کہ جو زیادہ تکلیف دہ نہیں تھا لیکن تکلیف دہ تھا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے قبا اور شلوار پہنائے رکھی تھی یا قمیص اور شلوار تھی پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے چچا سے کہا : اللہ کی قسم ! تم یتیم کے برے والی ہو تم نے اس کی تربیت کرتے ہوئے اچھی تربیت بھی نہیں کی اور اس رسوائی کی بات کی پردہ پوشی بھی نہیں کی اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن یہ میرا بھتیجا ہے میں اس کے لئے وہی محبت محسوس کرتا ہوں جو اپنی اولاد کے لئے کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لیکن والی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی حد کا مقدمہ آئے اور وہ اس کو جاری نہ کرے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کی انہوں نے فرمایا : مسلمانوں میں سے پہلا شخص جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس کا تعلق انصار سے تھا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے ..... اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جو پہلے گزر چکی ہے ۔ ابو ماجد نامی راوی ضعیف ہے ۔