وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ يَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ "" فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ: "" اجْلِسْ "" فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ: "" وَمَا حَدُّكَ؟ "". قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْعَبَّاسُ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: "" انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ "". وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْلِدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا "". فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ صَاحِبَتُكَ؟ "". قَالَ: فُلَانَةٌ - امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي بَكْرٍ - فَأُتِيَ بِهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ، مَا أَعْرِفُهُ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيئَةٌ، وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ شَهِدَ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا حَدًّا وَإِلَّا جَلَدْنَاكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي مَنْ يَشْهَدُ. فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿAbbas رضي الله عنهما said: While the Messenger of Allah ﷺ addressed people on Friday, a man of Banu Layth ibn Bakr ibn ʿAbd Manah ibn Kinanah came stepping over people until he drew near and said: O Messenger of Allah, establish the hadd upon me. The Prophet ﷺ said: > **"Sit down."** He sat, then stood a second time and a third, and the Prophet ﷺ said the same. He asked: > **"And what is your hadd?"** The man said: I approached a forbidden woman. The Prophet ﷺ said to men among his Companions — among them ʿAli ibn Abi Talib, al-ʿAbbas, Zayd ibn Harithah, and ʿUthman ibn ʿAffan رضي الله عنهم: > **"Take him and flog him one hundred lashes."** The Laythi had never married. They asked: O Messenger of Allah, will you not flog the woman with whom he sinned? The Prophet ﷺ said: > **"Bring him to me after flogging."** When brought, the Prophet ﷺ asked: > **"Who is your companion?"** He named a woman of Banu Bakr. She was brought and questioned, but said: By Allah he lies; I do not know him, I am innocent of what he says, and Allah is witness to what I say. The Prophet ﷺ said: > **"Who testifies that you sinned with her? She denies. If you have witnesses, I shall flog her with the hadd; otherwise I shall flog you with the hadd of slander."** He said: O Messenger of Allah, I have none to testify. So he ordered him flogged eighty for slander.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے بنولیث بن بکر بن عبدمناد بن کنانہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوگوں کی گردنیں پھیلانگتا ہوا آپ کے پاس آ گیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر حد قائم کیجئے نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا پھر وہ دوسری مرتبہ کھڑا ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ پھر وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی مانند ارشاد فرمایا آپ نے دریافت کیا تمہاری حد کیا ہے اس نے بتایا میں نے حرام طور پر ایک عورت کے ساتھ صحبت کی ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب سے فرمایا ان اصحاب میں حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اسے ساتھ لے جاؤ اور اسے ایک سو کوڑے لگاؤ اس لیثی شخص نے بھی شادی نہیں کی تھی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس عورت کو کوڑے نہیں لگوائیں گے جس کے ساتھ اس نے زنا کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پہلے اسے کوڑے لگا کے میرے پاس لے کے آؤ جب اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا تم نے کس کے ساتھ ایسا کیا تھا اس نے بنو بکر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا نام لے کے کہا کہ فلاں عورت کے ساتھ اس عورت کو لایا گیا نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا اللہ کی قسم یہ جھوٹ بول رہا ہے میں اسے نہیں جانتی ہوں اور اس نے جو الزام لگایا ہے میں اس سے لاتعلق ہوں اور میں جو کہہ رہی ہوں اس بات پر گواہ اللہ تعالیٰ ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کون شخص اس بات کی گواہی دے گا کہ تم نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے یہ تو انکار کر رہی ہے اگر تمہارے پاس گواہ ہیں تو ہم اس عورت کو حد کے طور پر کوڑے لگائیں گے ورنہ ہم تمہیں زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی وجہ سے کوڑے لگائیں گے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے حق میں گواہی کون دے گا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو زنا کا الزام لگانے کی حد میں اسی کوڑے لگائے گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔