Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 29 · Chapter 3

Book of Prescribed Punishments

Hadith 10552–10591

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10552

Majma al-Zawaid #10552

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا وَلَدُ زَنْيَةٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: وَلَا وَلَدُ زَنْيَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابَانُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"The disobedient to parents will not enter Paradise, nor the habitual drinker of wine, nor the one who reminds others of his favors, nor the child of zina."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ ( والدین کا ) نافرمان شخص ، باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص ، احسان جتانے والا شخص اور زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ’’ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابان ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10553

Majma al-Zawaid #10553

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَدْخُلُ وَلَدُ الزِّنَا الْجَنَّةَ، وَلَا شَيْءٌ مِنْ نَسْلِهِ إِلَى سَبْعَةِ آبَاءٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The child of zina will not enter Paradise, nor anything of his offspring up to seven forefathers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اور اس کی نسل میں سے سات پشتوں تک کوئی جنت میں داخل نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ادریس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10554

Majma al-Zawaid #10554

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «وَلَدُ الزِّنَا لَيْسَ عَلَيْهِ مِنْ إِثْمِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ "". ثُمَّ قَرَأَ: "" {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah رضي الله عنها reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"Upon the child of zina there is nothing of the sin of his two parents."** Then he recited: {No bearer of burdens shall bear the burden of another} [Al-Anʿam: 164].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کے ماں باپ کے گناہوں میں سے کوئی چیز لاگو نہیں ہو گی ‘‘۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن جعفر مدائنی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

10555

Majma al-Zawaid #10555

وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْقُرَشِيِّ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، إِنَّ أَهْلَ الطَّفِّ لَا يُؤَدُّونَ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ، فَقَالَ: وَمَا كَانَ؟ قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُ الْأَمِيرَ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ شُرَطَتِهِ فَقَالَ: ابْعَثْ إِلَى عَبْدِ الْقَيْسِ فَسَلْ عَنْ فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيهِمْ، فَرَجَعَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: وَجَدْتُهُ يُغْمَزُ فِي حَسَبِهِ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَبْغِي عَلَى النَّاسِ، إِلَّا وَلَدُ بَغْيٍ، وَإِلَّا مَنْ فِيهِ عِرْقٌ مِنْهُ» "". وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: "" لَا يَسْعَى "" بَدَلَ: "" لَا يَبْغِي "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَأَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Walid al-Qurashi said: I was with Bilal ibn Abi Burdah when a man from ʿAbd al-Qays came and said: May Allah set right the amir; the people of al-Taff do not pay zakah on their wealth. Bilal asked what had happened. The man said he knew it and had informed the amir. Bilal asked from whom he was, and of his name, and wrote to his chief of police to inquire about the man's lineage among ʿAbd al-Qays. The messenger returned and said his lineage was impugned. Bilal said: Allah is Greatest. My father narrated to me from my grandfather Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"None seeks out the faults of people against them except a child of adultery, or one in whom there is a trace of it."** Abu al-Walid narrated "yasʿa" in place of "yabghi."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوولید قرشی بیان کرتے ہیں : میں بلال بن ابوبردہ کے پاس موجود تھا عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے طف کے رہنے والے لوگ اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : پھر کیا ہوا اس نے کہا : آپ یہ بات جانتے ہیں میں نے تو امیر کو اطلاع دی ہے ۔ انہوں نے کہا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اُس نے کہا : عبدالقیس قبیلے سے انہوں نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے اس نے بتایا : فلاں بن فلاں ہے ‘ تو بلال بن ابوبردہ نے اس کے علاقے کے کوتوال کو خط لکھا ‘ اور فرمایا : تم عبدالقیس قبیلے کی طرف کسی کو بھیج کر ان سے فلاں بن فلاں کے بارے میں دریافت کرو کہ ان کے درمیان اُس کا حسب کیسا ہے قاصد واپس آیا تو اس نے بتایا : میں نے یہ چیز پائی کہ اس شخص کے حسب پر نکتہ چینی کی جاتی ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : اللہ اکبر ! میرے والد نے میرے دادا حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ لوگوں کے خلاف ( پوشیدہ امور ) کی تلاش صرف وہ کرے گا ‘ جو زنا کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو یا جس میں اس کا کچھ اثر ہو ‘‘۔ ابو الولید نامی راوی نے لا یبغی کی جگہ لفظ لا یعسی ( یعنی کوشش کرے گا ) کا لفظ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ولید قرشی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10556

Majma al-Zawaid #10556

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَعْدٌ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي "". قَالَ رَجُلٌ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَغَارُ اللَّهُ؟ قَالَ: "" عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ النُّورِ - وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Shurahbil ibn Saʿid ibn Saʿd ibn ʿUbadah reported from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Saʿd is jealous, and I am more jealous than him, and Allah is more jealous than me."** A man asked: Over what is Allah jealous? He ﷺ said: > **"Over a man striving in the path of Allah whose family is betrayed in his absence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شرحبيل بن سعید بن سعد بن عبادہ نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سعد غیور ہے میں اس سے زیادہ غیور ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کسی چیز پر غیور ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس مجاہد کے حوالے سے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو ‘ اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی ( کے ساتھ برائی کرنے کی کوشش کی جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ‘ جو سورہ نور کی تفسیر کے بارے میں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو معشر نجیح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10557

Majma al-Zawaid #10557

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَنِسَاءَ الْغُزَاةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Beware of the women of the warriors."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ غازیوں ( یعنی مجاہدین ) کی خواتین کے بارے میں احتیاط کرو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10558

Majma al-Zawaid #10558

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" «مَنْ قَعَدَ عَلَى فِرَاشِ مُغَيَّبَةٍ قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ ثُعْبَانًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever sits upon the bed of a woman whose husband is absent, Allah will assign a serpent over him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ایسی عورت کے بچھونے پر بیٹھتا ہے ‘ جس کا شوہر موجود نہ ہو ‘ تو قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر اژدھے کو مسلط کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10559

Majma al-Zawaid #10559

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: "" «مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ عَلَى فِرَاشِ الْمُغَيَّبَةِ مَثَلُ الَّذِي نَهَشَهُ أَسْوَدُ مِنْ أَسَاوِدِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr رضي الله عنهما raised it as a prophetic report, saying: > **"The likeness of one who sits upon the bed of an absent woman is like one bitten by a black serpent among the serpents of the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جو شخص ایسی عورت کے بچھونے پر بیٹھتا ہے ‘ جس کا شوہر موجود نہ ہو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ‘ جسے قیامت کے دن سیاہ سانپوں میں سے کوئی سانپ نوچ لے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10560

Majma al-Zawaid #10560

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَتَعَافَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ فِي الْحُدُودِ مَا لَمْ تُرْفَعْ إِلَى الْحُكَّامِ، فَإِذَا رُفِعَتْ إِلَى الْحُكَّامِ، حُكِمَ بَيْنَهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah — meaning Ibn Masʿud رضي الله عنه — narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Let people pardon one another concerning the hudud so long as they are not raised to the rulers; when they are raised to the rulers, judgment between them is by the Book of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کے درمیان آپس میں حدود والے معاملے کو نمٹا دیا کرو جب تک معاملہ حکام کے سامنے پیش نہیں ہوتا جب یہ حکام کے سامنے پیش ہو جائے ‘ تو پھر وہ حاکم لوگوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرے گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10561

Majma al-Zawaid #10561

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ: «أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً: نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَأَنْ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا "". فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أَوْ مَنْ بَنِي أَسَدٍ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهَا عَنْ أَبِيهَا، وَهَذَا عَنْهَا نَفْسِهَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Yazid ibn Rukanah reported from his maternal aunt, the sister of Masʿud ibn al-ʿAjmaʾ, that her father said to the Messenger of Allah ﷺ concerning the Makhzumiyyah woman who stole a velvet cloak: We will ransom her with forty uqiyyahs. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"That she be purified is better for her."** Then he ordered concerning her and her hand was cut. She was from Banu ʿAbd al-Ashhal, or from Banu Asad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن یزید بن رکانہ بیان کرتے ہیں : ان کی خالہ جو مسعود بن عجماء کی بہن تھی انہوں نے ان صاحب کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ اس خاتون کے والد نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اس مخزومی عورت کے بارے میں گزارش کی جس نے ایک چادر کی چوری کی تھی یہ گزارش کی کہ ہم اس کے بدلے میں فدیہ کے طور پر چالیس اوقیہ دے دیتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس کی تطہیر ہو لینے دو تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس کا تعلق بنو عبداشہل یا شاید بنواسعد سے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ‘ اور یہاں یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے نقل ہوئی ہے ‘ اور باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

10562

Majma al-Zawaid #10562

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ «أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، قَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمِ اللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ الرَّازِيُّ، وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ، فَقَالُوا: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قُلْتُ: وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that Quraysh were troubled by the affair of the Makhzumiyyah woman who stole. They asked who would speak to the Messenger of Allah ﷺ about her, and they spoke to him. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Those before you were destroyed only because when the noble among them stole they left him, and when the weak among them stole they established the hadd upon him. By Allah, had Fatimah bint Muhammad done so, I would have cut off her hand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : قریش ، مخزومی عورت کے معاملے میں پریشانی کا شکار ہو گئے جس نے چوری کی تھی لوگوں نے کہا : اس عورت کے بارے میں اللہ کے رسول کے ساتھ کون بات کرے گا لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سے پہلے کے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں نمایاں حیثیت کا کوئی شخص چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس پر حد جاری کر دیتے تھے اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد نے ( ایسا کیا ہوتا ) تو میں نے اس کا ہاتھ بھی کٹوا دینا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں عمر بن قیس ماصر کے حوالے سے یہ روایت صرف عمرو بن ابوقیس رازی نے نقل کی ہے زہری کے شاگردوں نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی یہ زہری کے حوالے سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

10563

Majma al-Zawaid #10563

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقِيَ الزُّبَيْرُ سَارِقًا فَشَفَعَ فِيهِ فَقِيلَ لَهُ: حَتَّى نُبَلِّغَهُ الْإِمَامَ، فَقَالَ: "" «إِذَا بُلِّغَ الْإِمَامُ فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفَّعَ» "". كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr reported from his father that al-Zubayr رضي الله عنه met a thief and interceded for him. It was said to him: Wait until we bring him to the ruler. He said, as the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When the matter reaches the ruler, may Allah curse the intercessor and the one interceded for."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک چور سے ہوئی ۔ انہوں نے اس چور کے بارے میں سفارش کی ان سے کہا گیا : ہم پہلے حاکم تک اسے پہنچا دیں انہوں نے فرمایا : جب یہ معاملہ حاکم تک پہنچ جائے گا ‘ تو اللہ تعالٰی سفارش کرنے والے اور جس کے سامنے سفارش کی گئی ( یا جس کے بارے میں سفارش کی گئی ) ان پر لعنت کرے ‘‘۔ یا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ انصاری ہے ۔ جسے امام ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور امام حاکم نے اسے ثقہ کہا ہے ‘ اور ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10564

Majma al-Zawaid #10564

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي مُلْكِهِ» "". وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَحْكَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رَجَاءُ بْنُ صُبْحٍ صَاحِبُ السَّقْطِ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whose intercession stands in the way of a hadd from among the hudud of Allah has opposed Allah in His sovereignty."** This has preceded in the Book of Judgments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن رہی ہو ‘ تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں اس کے خلاف کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رجاء بن صبح ہے ‘ جو ’’ صاحب سقط ‘‘ ہے ‘ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

10565

Majma al-Zawaid #10565

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whose intercession stands in the way of a hadd from among the hudud of Allah has opposed Allah in His command."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں رکاوٹ بن رہی ہو ‘ تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر مدینی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10566

Majma al-Zawaid #10566

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ» "". وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْأَحْكَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"Whatever man whose intercession stands in the way of a hadd from among the hudud of Allah remains in the anger of Allah until he withdraws."** The complete version is in the Book of Judgments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جس بھی شخص کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن رہی ہو ایسا شخص مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک وہ اس ( رکاوٹ بننے ) سے الگ نہیں ہو جاتا ‘‘۔ یہ مکمل روایت احکام سے متعلق باب میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10567

Majma al-Zawaid #10567

وَعَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالُوا: إِنَّهُ قَدْ سَرَقَ جَمَلًا، فَقَالَ: مَا أَرَاكَ سَرَقْتَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ لَكَ؟ قَالَ: بَلَى قَدْ سَرَقْتُ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ يَا قُنْبُرُ، فَشُدَّ أَصَابِعَهُ، وَأَوْقِدِ النَّارَ وَادْعُ الْجَزَّارَ يَقْطَعْهُ، ثُمَّ انْتَظِرْ حَتَّى أَجِيءَ لَكَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ: سَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا. فَتَرَكَهُ. قَالُوا لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لِمَ تَرَكْتَهُ، وَقَدْ أَقَرَّ لَكَ؟ قَالَ: أَخَذْتُهُ بِقَوْلِهِ وَأَتْرُكُهُ بِقَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، ثُمَّ بَكَى فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِمَ تَبْكِي؟ قَالَ: "" فَكَيْفَ لَا أَبْكِي، وَأُمَّتِي تُقْطَعُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا عَفَوْتَ عَنْهُ؟ قَالَ: "" ذَاكَ سُلْطَانُ سُوءٍ الَّذِي يَعْفُو عَنِ الْحُدُودِ، وَلَكِنْ تَعَافَوْا بَيْنَكُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَأَبُو مَطَرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ وَلَكِنَّ الرَّاوِيَ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Matar said: I saw ʿAli رضي الله عنه when a man was brought to him and it was said he had stolen a camel. ʿAli said: I do not think you stole? He said: Yes. ʿAli said: Perhaps it was confused for you? He insisted he had stolen. ʿAli said: O Qunbur, take him, bind his fingers, kindle a fire, and call the butcher to cut him, then wait until I come to you. When ʿAli came he asked: Did you steal? He said: No. So ʿAli left him. They asked: O Commander of the Faithful, why did you leave him when he had confessed to you? He said: I seized him by his word and I release him by his word. Then ʿAli said: A man who had stolen was brought to the Messenger of Allah ﷺ, and he ordered his cutting, then he wept. It was asked: O Messenger of Allah, why do you weep? He said: > **"How can I not weep, when my ummah is being cut among you?"** They said: O Messenger of Allah, would you not pardon him? He said: > **"That is an evil ruler who pardons concerning the hudud; but pardon one another among yourselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومطر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ۔ لوگوں نے بتایا : اس نے ایک اونٹ چوری کیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے بارے میں میری یہ رائے نہیں ہے کہ تم نے چوری کی ہو گی ؟ اس نے کہا : جی ہاں ( میں نے چوری کی ہے ) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہو سکتا ہے تمہیں کوئی شبہ لاحق ہو گیا ہو ۔ اس نے کہا : جی نہیں ! میں نے چوری کی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے قنبر ! تم اسے لے جاؤ اور اس کی انگلیاں باندھ دو اور آگ جلا دو اور قصائی کو بلا لو ‘ جو اس کو کاٹ دے پھر تم انتظار کرنا ‘ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم نے چوری کی ہے ؟ تو اس نے کہا : جی نہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ لوگوں نے ان سے کہا : اے امیر المومنین ! آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ہے ؟ جبکہ وہ آپ کے سامنے اقرار کر چکا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس کے قول کی بنیاد پر اسے پکڑا تھا ‘ اور اس کے قول کی بنیاد پر اسے چھوڑ دیا ہے ‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ‘ جس نے چوری کی تھی ۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ‘ پھر آپ رو پڑے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں کیوں نہ روؤں ‘ جبکہ میری امت کے ایک فرد ( کے ہاتھ ) کو تمہارے درمیان کاٹا جا رہا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اس سے درگزر کیوں نہیں کیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا شخص برا حکمران ہو گا ‘ جو حدود کے معاملے میں درگزر کرے تاہم تم آپس میں اسے معاف کر دیا کرو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ابومطر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اور اس سے روایت کرنے والے شخص سے بھی میں واقف نہیں ہوں ۔

10568

Majma al-Zawaid #10568

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ سَبَّ الْأَنْبِيَاءَ قُتِلَ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي جُلِدَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ رَمَاهُ النَّسَائِيُّ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

ʿAli — meaning Ibn Abi Talib رضي الله عنه — narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever insults the Prophets is killed, and whoever insults my Companions is flogged."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص انبیاء کرام کو برا کہے اسے قتل کر دیا جائے گا اور جو شخص میرے اصحاب کو برا کہے اسے کوڑے لگائے جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد عبیداللہ بن محمد عمری کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جس پر امام نسائی نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔

10569

Majma al-Zawaid #10569

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، يُقَالُ لَهُ: الْمَنْدَقُونُ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَهُ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَدْ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ. فَقَالَ عَرَفَةُ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَكُونَ الْعُهُودُ وَالْمَوَاثِيقُ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، فَيَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ إِلَّا أَنْ يَأْتُونَا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: صَدَقْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿAlqamah reported that ʿArfah ibn al-Harith رضي الله عنه — who had companionship and fought with ʿIkrimah ibn Abi Jahl in Yemen during the Riddah — was passed by a Christian from Egypt called al-Mandaqun. ʿArfah invited him to Islam, but the Christian mentioned the Prophet ﷺ and reviled him. The matter was raised to ʿAmr ibn al-ʿAs, who summoned them and said: We have given them a covenant. ʿArfah said: Allah forbid that covenants should mean they harm us concerning Allah and His Messenger. We covenanted only to leave them and their churches alone so they may say therein what they wish, not to burden them beyond capacity, to fight on their behalf, and to leave them to their own laws unless they come to us, in which case we judge between them by what Allah revealed. ʿAmr ibn al-ʿAs said: > **"You have spoken the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کعب بن علقمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ انہوں نے حضرت عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر یمن میں مرتدین کے ساتھ جنگ کی تھی ایک مرتبہ مصر سے تعلق رکھنے والا ایک عیسائی ان کے پاس سے گزرا ‘ جس کا نام مندقون تھا ۔ انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی اس عیسائی نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی یہ معاملہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم ان لوگوں کو عہد دے چکے ہیں کہ تو حضرت عرفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ یہ عہد اور میثاق اس چیز کے بارے میں ہو کہ وہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں اذیت پہنچائیں ہم نے انہیں عہد اس چیز کا دیا ہے کہ ہم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے وہ اپنی عبادت گاہوں میں جو مناسب سمجھیں کریں اور انہیں کسی ایسی چیز کا پابند نہیں کریں گے ، جس کی ان میں طاقت نہ ہو ‘ اور ہم ان کی خاطر جنگ کریں گے ‘ اور ان کے اور ان کے مذہبی احکام کے بارے میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے ‘ البتہ جب وہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے ‘ تو ہم ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ دیں گے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ‘ تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10570

Majma al-Zawaid #10570

«وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آذَتْهُ فِيهِ، وَشَتَمَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مُشْرِكَةً، فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا. فَقَامَ بَنُوهَا فَصَاحُوا، وَقَالُوا: قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا، أَفَتُقْتَلُ أُمُّنَا؟ وَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءٌ وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ، فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا، ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: "" أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" وَلِمَ؟ "" قَالَ: إِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ فَسَمَّوْا غَيْرَ قَاتِلِهَا، فَأَخْبَرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ وَأَهْدَرَ دَمَهَا قَالُوا سَمْعًا وَطَاعَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ تَابِعِيَّيْنِ أَحَدُهُمَا ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr ibn Umayyah رضي الله عنه had a sister who, when he went out to the Prophet ﷺ, harmed him concerning the Prophet and insulted the Prophet ﷺ, and she was a polytheist. One day he concealed a sword for her, came to her, placed it upon her, and killed her. Her sons rose crying: We know who killed her — is our mother to be killed, when there are people whose fathers and mothers are polytheists? When ʿUmayr feared they would kill one other than her killer, he went to the Prophet ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ asked: > **"Did you kill your sister?"** He said: Yes. He asked: > **"And why?"** He said: She used to harm me concerning you. The Prophet ﷺ sent for her sons, questioned them, and they named one other than her killer. The Prophet ﷺ informed them of ʿUmayr and declared her blood void. They said: Hearing and obeying.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی ایک بہن تھی جب وہ صاحب نکل کر نبی اکرم ﷺ کی طرف چلے گئے ‘ تو اس عورت نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اذیت پہنچانا شروع کیا اور نبی اکرم ﷺ کو برا کہنا شروع کیا کیونکہ وہ عورت مشرک تھی ایک دن انہوں نے تلوار اٹھائی پھر وہ اس عورت کے پاس آئے انہوں نے وہ تلوار اس عورت پر رکھ کر اسے قتل کر دیا اس عورت کے بچے کھڑے ہوئے ‘ اور چیخنے لگے انہوں نے کہا : ہمیں پتہ ہے ‘ جس نے اس کو قتل کیا ہے آپ نے ہماری والدہ کو قتل کرنا تھا حالانکہ یہ دوسرے لوگ بھی ہیں ، جن کے باپ اور مائیں مشرک ہیں ( ان میں سے تو کسی نے اپنے رشتے دار کو قتل نہیں کیا ) جب حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس عورت کے اصل قاتل کی بجائے کسی اور کو وہ لوگ قتل کر دیں گے ‘ تو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ‘ اور آپ کو اس بارے میں بتایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں انہوں نے عرض کی : وہ آپ کی ذات کے حوالے سے مجھے اذیت دیتی تھی نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا : تو ان لوگوں نے اصل قاتل کی بجائے کسی اور کا نام لیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا اور اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا ‘ تو اس عورت کے بیٹوں نے کہا : ہم اس حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو تابعین کے حوالے سے نقل کی ہے جن میں سے ایک ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10571

Majma al-Zawaid #10571

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ أَبْغَضَ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَنْ آمَنَ ثُمَّ كَفَرَ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Indeed the most hateful of creation to Allah, Mighty and Majestic, is one who believed and then disbelieved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے ‘ جو ایمان لائے اور پھر کافر ہو جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ۔ جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10572

Majma al-Zawaid #10572

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever changes his religion, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

10573

Majma al-Zawaid #10573

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever changes his religion, kill him."** Muʿawiyah ibn Haydah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever changes his religion, kill him. Allah does not accept the repentance of a servant who disbelieves after his Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنے دین کو تبدیل کر لے اسے قتل کر دو اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا ‘ جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10574

Majma al-Zawaid #10574

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿIsmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever changes his religion, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ( اسلام کو چھوڑ کر ) اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10575

Majma al-Zawaid #10575

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: "" «إِنَّ هَذِهِ الْقَرْيَةَ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - لَا يَصْلُحُ فِيهَا قِبْلَتَانِ فَأَيُّمَا نَصْرَانِيٌّ أَسْلَمَ ثُمَّ تَنَصَّرَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Thawban reported that the Messenger of Allah ﷺ said in his sermon: > **"This town — meaning Madinah — is not fit for two qiblas therein; whichever Christian embraces Islam then returns to Christianity, strike his neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اس بستی میں ( نبی اکرم ﷺ کی مراد مدینہ منورہ تھا ) دو قبلے ہونا مناسب نہیں ہیں ، تو جو بھی عیسائی مسلمان ہو ‘ اور پھر وہ دوبارہ عیسائیت اختیار کر لے ‘ تو تم اس کی گردن اڑا دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10576

Majma al-Zawaid #10576

وَعَنْ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُمَا إِلَى الْيَمَنِ، وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ. قَالَ: فَجَاءَ مُعَاذٌ إِلَى أَبِي مُوسَى يَزُورُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوَثَّقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا أَخِي، أَوَبُعِثْنَا نُعَذِّبُ النَّاسَ، إِنَّمَا بُعِثْنَا نُعَلِّمُهُمْ دِينَهُمْ، وَنَأْمُرُهُمْ بِمَا يَنْفَعُهُمْ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ. فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَحْرِقَهُ بِالنَّارِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ لَنَا عِنْدَهُ بَقِيَّةً، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَبْرَحُ أَبَدًا، قَالَ: فَأُتِيَ بِحَطَبٍ فَأَلْهَبَ فِيهِ النَّارَ وَكَتَّفَهُ وَطَرَحَهُ. قُلْتُ: لَهُمَا فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa and Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ sent them to Yemen and ordered them to teach people the Qurʾan. Muʿadh came visiting Abu Musa and found with him a man bound in iron. Muʿadh said: O my brother, were we sent to punish people? We were sent to teach them their religion and command them to what benefits them. Abu Musa said: He embraced Islam then disbelieved. Muʿadh said: > **"By the One Who sent Muhammad with the truth, I will not move until I burn him with fire."** Abu Musa said there remained something with him, but Muʿadh swore he would not move. Firewood was brought, fire kindled, the man bound and cast in.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں حضرات کو یمن بھیجا اور ان دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آئے ‘ تو ان کے پاس ایک شخص کو لوہے کی زنجیر میں بندھا ہوا پایا ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھائی ! کیا ہمیں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو عذاب دیں ہمیں تو اس لئے بھیجا گیا ہے ‘ تاکہ ہم لوگوں کو دین کی تعلیم دیں ، اور انہیں اس چیز کے بارے میں حکم دیں جو چیز انہیں فائدہ دیتی ہے ‘ تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ شخص پہلے مسلمان ہوا تھا ‘ اور پھر کافر ہو گیا ہے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد ( ﷺ ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس وقت تک نہیں ہلوں گا ‘ جب تک میں اسے آگ میں نہیں جلا دیتا ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمارا اس کے پاس بقیہ ہے ؟ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر لکڑیاں لائی گئیں ‘ اور ان میں آگ لگائی گئی ۔ انہوں نے اس کا کندھا پکڑا اور اسے آگ میں ڈال دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10577

Majma al-Zawaid #10577

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَقْرَؤُونَ شَيْئًا لَمْ يُنَزِّلْهُ اللَّهُ: الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا، الْخَابِزَاتُ خَبْزًا، وَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا، اللَّاقِمَاتُ لَقْمًا. قَالَ: فَقَدَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ ابْنَ النَّوَّاحَةِ إِمَامَهُمْ، فَقَتَلَهُ وَاسْتَكْثَرَ الْبَقِيَّةَ، فَقَالَ: لَا أَجْزَرَهُمُ الْيَوْمَ الشَّيْطَانُ، سَيِّرُوهُمْ إِلَى الشَّامِ حَتَّى يَرْزُقَهُمُ اللَّهُ تَوْبَةً أَوْ يُفْنِيَهُمُ الطَّاعُونُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim said: A man came to Ibn Masʿud رضي الله عنه and said: I passed a mosque of Banu Hanifah and heard them reciting what Allah never revealed: "The grinders grinding, the bakers baking, the kneaders kneading, the morsel-makers morseling." Ibn Masʿud brought forth Ibn al-Nawwahah, their imam, and killed him, but deemed the rest too many. He said: > **"I will not hand them over to Satan today; march them to Sham until Allah grants them repentance or the plague annihilates them."** Then the narrator mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : میں بنو حنیفہ کی مساجد میں سے ایک مسجد کے پاس سے گزرا ‘ تو میں نے انہیں ایسی چیز کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ‘ جو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں کی یا وہ لوگ وہ چیز قرآن کے طور پر پڑھ رہے تھے ) ۔ ’’ آٹا پیسنے والیاں اور روٹی پکانے والیاں اور آٹا گوندھنے والیاں اور لقمے بنانے والیاں “۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے امام ابن نواحہ کے پاس آئے ‘ اور انہوں نے اسے قتل کر دیا باقی لوگ کیونکہ زیادہ تھے ‘ تو انہوں نے فرمایا : آج میں ان لوگوں کو شیطان کے حوالے نہیں کروں گا ، تم ان کو شام کی طرف بھیج دو ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں ‘ توبہ نصیب کر دے گا یا طاعون انہیں فنا کر دے گا ......... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10578

Majma al-Zawaid #10578

وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنْ هَاهُنَا أُنَاسًا يَقْرَؤُونَ قِرَاءَةَ مُسَيْلِمَةَ، فَرَدَّهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ تَرَكْتُهُمُ الْآنَ فِي دَارٍ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْمُصْحَفَ لَعِنْدَهُمْ. فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ مَعَهُ، فَقَالَ: ائْتِ بِهِمْ. فَلَمَّا أَتَى بِهِمْ، قَالَ: مَا هَذَا؟ بَعْدَمَا اسْتَفَاضَ الْإِسْلَامُ؟ فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَنَتُوبُ إِلَيْهِ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ هُوَ الْكَذَّابُ الْمُفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَاسْتَتَابَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ، وَإِنَّهُمْ لَقَرِيبٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا. وَأَبَى ابْنُ النَّوَّاحَةِ أَنْ يَتُوبَ، فَأَمَرَ بِهِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ، وَأَمَرَ أَنْ يَأْخُذَ رَأْسَهُ فَيُلْقِيَهُ فِي حِجْرِ أُمِّهِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: فَلَقِيتُ شَيْخًا مِنْهُمْ كَبِيرًا بَعْدَ ذَلِكَ بِالشَّامِ، فَقَالَ لِي: رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ، وَاللَّهِ لَوْ قَتَلَنَا يَوْمَئِذٍ لَدَخَلْنَا النَّارَ كُلُّنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ بَيْنَ الْقَاسِمِ وَجَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim said: A man came to ʿAbdullah — meaning Ibn Masʿud رضي الله عنه — and said: O Abu ʿAbd al-Rahman, here are people reciting the recitation of Musaylimah. ʿAbdullah sent him back. After some time the man returned and swore he had just left them in a house with that codex among them. ʿAbdullah commanded Qarazah ibn Kaʿb to march with the people and bring them. When brought, ʿAbdullah asked: What is this, after Islam has spread? They said: O Abu ʿAbd al-Rahman, we seek Allah's forgiveness, repent to Him, and testify that Musaylimah is the liar who fabricated against Allah and His Messenger. ʿAbdullah sought their repentance and marched them to Sham — nearly eighty men. Ibn al-Nawwahah refused to repent, so Qarazah ibn Kaʿb by order took him to the market, struck his neck, and ordered his head be cast into his mother's lap. ʿAbd al-Rahman ibn ʿAbdullah said: I later met an elder of them in Sham who told me: > **"May Allah have mercy upon your father; by Allah, had he killed us that day, we would all have entered the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ‘ اور انہیں یہ بتایا : اے ابوعبدالرحمن ! یہاں کچھ لوگ ہیں جو مسیلمہ کی قرأت کی تلاوت کرتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو واپس بھیج دیا ‘ جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ‘ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے ‘ تو اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! اس ذات کی قسم ! جس کے نام پر میں حلف اٹھا رہا ہوں ۔ میں ان لوگوں کو ابھی ایک گھر میں چھوڑ کے آیا ہوں ‘ اور وہ مصحف ان لوگوں کے پاس موجود ہے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا ‘ وہ لوگوں کو ساتھ لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ان کے پاس پہنچو ! جب وہ ان کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ کیا اسلام کے پھیل جانے کے بعد ایسا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ‘ اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ‘ اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب ہے ‘ اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے توبہ کروائی اور انہیں شام بھجوا دیا ۔ وہ تقریباً اسی کے قریب افراد تھے ۔ ابن نواحہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا وہ اسے لے کر بازار آئے ‘ اور انہوں نے اس کی گردن اڑا دی پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا سر پکڑ کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دیا جائے ۔ عبدالرحمن بن عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : بعد میں شام میں ان میں سے ایک بوڑھے شخص سے میری ملاقات ہوئی ‘ تو اس نے مجھ سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے والد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ۔ اللہ کی قسم ! اگر وہ اس دن ہمیں قتل کروا دیتے ‘ تو ہم سب نے جہنم میں داخل ہو جانا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم اور ان کے دادا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اس کی سند منقطع ہے ۔

10579

Majma al-Zawaid #10579

وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّ عَلِيًّا بَلَغَهُ أَنَّ قَوْمًا بِالْبَصْرَةِ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأَمَالَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامَ جُمْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَبَوْا، فَحَفَرَ عَلَيْهِمْ حَفِيرَةً ثُمَّ قَامَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: لَأَمْلَأَنَّكِ شَحْمًا وَلَحْمًا، ثُمَّ أُتِيَ بِهِمْ فَضَرَبَ أَعْنَاقَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَفِيرَةِ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمُ الْحَطَبَ فَأَحْرَقَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ اتَّبَعْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ حَوْلِي قَوْمًا جُهَّالًا، وَلَكِنِّي إِذَا سَمِعْتَنِي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ اللُّؤْلُؤِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Suwayd ibn Ghaflah reported that ʿAli رضي الله عنه learned that people in Basrah had apostatized. He sent provisions to them for two weeks, then called them to Islam and they refused. He dug a pit for them, stood over it, and said: > **"I shall surely fill you with fat and flesh."** Then they were brought, their necks struck, cast into the pit, firewood cast over them and burned. Then ʿAli said: Allah and His Messenger spoke the truth. Suwayd followed him when he left and asked about his saying. ʿAli replied: Woe to you, around me are ignorant people; when you hear me say the Messenger of Allah ﷺ said, then falling from heaven is dearer to me than to attribute to the Messenger of Allah ﷺ what he did not say.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ بصرہ میں کچھ لوگ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا وہ دو ہفتوں تک انہیں اناج بھیجتے رہے پھر انہوں نے ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دی انہوں نے وہ نہیں مانی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے لئے گڑھا کھدایا اور پھر ان کے سرہانے کھڑے ہوئے اور فرمایا میں تمہیں چربی اور گوشت سے بھر دوں گا پھر ان لوگوں کو لایا گیا اور ان کی گردنیں اڑائیں اور انہں گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر ان پر لکڑیاں ڈال دی گئیں اور انہیں جلا دیا گیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں جب وہ واپس مڑے تو میں ان کے پیچھے گیا میں نے کہا میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے تو انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو میرے اردگرد جاہل لوگ موجود تھے جب تم نے مجھے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ہے تو میں آسمان سے گر جاؤں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کوئی ایسی بات منصوب کروں جو آپ نے ارشاد نہ فرمائی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن زیاد لؤلؤی ہے اور وہ متروک ہے ۔

10580

Majma al-Zawaid #10580

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «ارْتَدَّ نَبْهَانُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ أَمْكِنِّي مِنْ نَبْهَانَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ "". فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِنَبْهَانَ قَدْ أُخِذَ، فَجُعِلَ فِي عُنُقِهِ حَبْلٌ أَسْوَدُ، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّيْفَ بِيَمِينِهِ، وَالْحَبْلَ بِشِمَالِهِ لِيَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمَطْتَ عَنْكَ؟ قَالَ: فَدْفَعَ السَّيْفَ إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: "" اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ "". فَانْطَلَقَ بِهِ، فَضَحِكَ نَبْهَانُ، فَقَالَ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ فَخَلَّى عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمَرْزُبَانِ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَرَهُ فِي الْمِيزَانِ وَلَا غَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه said: Nabhan apostatized three times, so the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Allah, grant me power over Nabhan with a black rope upon his neck."** He turned and there was Nabhan seized with a black rope on his neck. They brought him to the Prophet ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ took the sword in his right hand and the rope in his left to kill him. A man of the Ansar said: O Messenger of Allah, would you step aside from it? So he handed the sword to a man and said: > **"Go and strike his neck."** As he was taken, Nabhan laughed and said: Would you kill a man who testifies there is no deity but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah? So he was released.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبہان نامی شخص تین مرتبہ مرتد ہوا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو مجھے نبہان پر اس طرح قابو دے کہ اس کا گردن میں سیاہ رسی ہو نبی اکرم ﷺ نے توجہ کی تو سامنے سے نبہان آ رہا تھا اسے پکڑا گیا تھا اور اس کے گلے میں سیاہ رسی ڈالی گئی تھی لوگ اسے لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک میں تلوار پکڑی اور بائیں ہاتھ رسی پکڑی تاکہ اسے قتل کر دیں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے خود سے دور کر دیں تو یہ مناسب ہو گا نبی اکرم ﷺ نے وہ تلوار اس شخص کو پکڑا دی اور فرمایا تم جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو وہ اسے لے کے جانے لگا تو نبہان ہنسنے لگا اس نے کہا کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں تو اسے چھوڑ دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن مرزبان کا معاملہ مختلف ہے میزان الاعتدال یا اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں ان کا ذکر نہیں دیکھا ہے ۔

10581

Majma al-Zawaid #10581

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَتَابَ رَجُلًا ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ sought the repentance of a man who apostatized from Islam four times. > **"The Messenger of Allah ﷺ sought his repentance four times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے شخص سے چار مرتبہ توبہ کروائی تھی جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے جس کے جھوٹ کے حوالے سے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

10582

Majma al-Zawaid #10582

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ خَالَفَ دِينُهُ، دِينَ الْإِسْلَامِ، فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ "". وَقَالَ: "" إِنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ; فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ شَيْئًا فَيُقَامَ عَلَيْهِ حَدُّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas رضي الله عنهما reported from the Messenger of Allah ﷺ that he said: > **"Whose religion departs from the religion of Islam, strike his neck."** And he said: > **"If he testifies there is no deity but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah, there is no way against him, unless he commits something for which its hadd is established upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ’’ جو شخص اپنے دین یعنی اسلام کو چھوڑ دے اس کی گردن اڑا دو اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں تو پھر اسے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اگر وہ کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کو اس کی سزا دی جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرنی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10583

Majma al-Zawaid #10583

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ حِينَ أَرْسَلَهُ إِلَى الْيَمَنِ: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ فَادْعُهُ، فَإِنْ تَابَ فَاقْبَلْ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَتُبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ. وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ فَادْعُهَا، فَإِنْ تَابَتْ فَاقْبَلْ مِنْهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَاسْتَتِبْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، قَالَ مَكْحُولٌ: عَنِ ابْنٍ لِأَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿadh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to him when he sent him to Yemen: > **"Whatever man apostatizes from Islam, invite him; if he repents, accept it from him, and if he does not repent, strike his neck. And whatever woman apostatizes from Islam, invite her; if she repents, accept it from her, and if she refuses, keep seeking her repentance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ جب انہیں یمن بھیجنے لگے تو آپ نے ان سے فرمایا :’’ جو شخص اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو جائے تم اسے دعوت دو اگر وہ توبہ قبول کر لے تو اس سے توبہ کو قبول کر لو اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اس کی گردن اڑا دو اور جو عورت اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو جائے تم اسے دعوت دو اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لو اور اگر وہ نہیں مانتی تو اس سے توبہ کرواتے رہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے مکحول نے یہ کہا یہ ابوطلحہ یعمری کے بیٹے کے حوالے سے منقول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10584

Majma al-Zawaid #10584

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: مَا لِمَنِ افْتَتَنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ: {يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} [الزمر: 53]. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْهِجْرَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: We used to say: What repentance is there for one tempted who abandons his religion after his Islam and knowledge? Then Allah revealed concerning them: {O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah} [Az-Zumar: 53]. Then he mentioned the hadith, which has preceded in the Book of Hijrah. > **"O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ہم یہ بات کہا کرتے تھے اس شخص کو کیا ملے گا جو توبہ کی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے جبکہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد اور اس کی معرفت کے بعد اپنے دین کو ترک کر چکا ہو تو ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تم لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس سے پہلے یہ حدیث ہجرت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔

10585

Majma al-Zawaid #10585

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِحْصَانُ إِحْصَانَانِ: إِحْصَانُ عَفَافٍ، وَإِحْصَانُ نِكَاحٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Ihsan is of two kinds: the ihsan of chastity, and the ihsan of marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ احصان دو قسم کے ہوتے ہیں ایک احصان پاکدامنی کا ہوتا ہے اور ایک احصان نکاح کا ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔

10586

Majma al-Zawaid #10586

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَوْمٌ مِنْ إِمَامٍ عَادِلٍ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً، وَحَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ بِحَقِّهِ أَزْكَى مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ زُرَيْقُ بْنُ السَّخْتِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"A day under a just imam is better than worship of sixty years, and a hadd established in the land in its right is more purifying than rain for forty mornings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عادل حکمران کی طرف سے ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے زیادہ بہتر ہے اور زمین میں ایک حد کا قائم ہو جانا زمین کے حق میں چالیس دن تک بارش ہونے سے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی زریق بن سحت ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

10587

Majma al-Zawaid #10587

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: 15]. قَالَ: كُنَّ يُحْبَسْنَ فِي الْبُيُوتِ فَإِذَا مَاتَتْ مَاتَتْ، وَإِنْ عَاشَتْ عَاشَتْ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي النُّورِ: {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ} [النور: 2]. وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْحُدُودِ فَمَنْ عَمِلَ شَيْئًا جُلِدَ وَأُرْسِلَ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي سُورَةِ النُّورِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas رضي الله عنهما said concerning His saying {As for those of your women who commit indecency} [An-Nisaʾ: 15]: They used to be confined in houses; if she died, she died, and if she lived, she lived — until this verse in An-Nur was revealed: {The adulteress and the adulterer, flog each of them one hundred lashes} [An-Nur: 2]. Then the chapter of hudud was revealed, so whoever did anything was flogged and released. > **"The adulteress and the adulterer, flog each of them one hundred lashes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تمہاری عورتوں میں سے جو برائی کا ارتکاب کرتی ہیں ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں پہلے ان عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا جاتا تھا اگر کوئی مر جاتی تھی تو مر جاتی تھی زندہ رہتی تھی تو زندہ رہتی تھی یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی جو سورت نور میں ہے ’’ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ ‘‘ پھر حدود کے حکم سے متعلق حکم نازل ہو گیا تو جو شخص کوئی عمل کرتا تھا اسے کوڑے لگائے جاتے تھے اور چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عبداللہ بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث سورت نور میں آگے آئے گی ۔

10588

Majma al-Zawaid #10588

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ: «نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: 15] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ، وَنَحْنُ حَوْلَهُ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَعْرَضَ عَنَّا، وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ، وَكُرِبَ لِذَلِكَ. فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ، قَالَ: "" خُذُوا عَنِّي "". قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ». قَالَ الْحَسَنُ: فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا؟ قَالَ: "" فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ، جُلِدُوا مِائَةً وَجُزَّتْ رُؤُوسُهُمَا "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Samit رضي الله عنه said: There was revealed upon the Messenger of Allah ﷺ: {As for those of your women who commit indecency} [An-Nisaʾ: 15] to the end of the verse, and the Messenger of Allah ﷺ acted accordingly with them. While the Messenger of Allah ﷺ sat with us around him — when revelation descended he turned away from us and we turned away from him, his face changed color and he was distressed — then when revelation was lifted he said: > **"Take from me. Allah has made a way for them: the virgin with the virgin — one hundred lashes and exile for a year; the married with the married — one hundred lashes, then stoning."** Al-Hasan said: I do not know if it is part of the hadith or not, that he said: > **"If they testify they were found in one blanket without witnessing intercourse, they are flogged one hundred and their heads shaved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ’’ نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ’’ تمہاری عورتوں میں سے جو برائی کا ارتکاب کریں ‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے نبی اکرم ﷺ نے ان خواتین کے ساتھ ایسا ہی کیا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ہم آپ کے ارد گرد تھے جب آپ پر وحی نازل نازل ہوتی تھی تو آپ ہماری طرف سے توجہ ہٹا لیتے تھے اور ہم بھی آپ کو مخاطب نہیں کرتے تھے آپ کے چہرہ مبارک کی حالت تبدیل ہو جاتی تھی اور آپ کو اس سے دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب وحی کی کیفیت ختم ہو گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا مجھ سے حکم حاصل کر لو ہم نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسی خواتین کے لئے حکم مقرر کر دیا ہے اگر کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ زنا کرے تو اسے ایک سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اگر شادی شدہ شخص شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے تو انہیں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر سنگسار کیا جائے گا ‘‘۔ حسن نامی راوی کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ کیا یہ روایت کا حصہ ہے یا نہیں ہے آپ نے فرمایا : ’’ اگر لوگ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ دونوں ایک لحاف میں پائے گئے ہیں اور ان کی صحبت کے بارے میں گواہی نہیں دیتے تو پھر انہیں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ان کے سر مونڈوا دیے جائیں گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10589

Majma al-Zawaid #10589

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ أَخْطَأَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا ذَكَرَ.

EnglishUnverified translation

Qabisah ibn Hurayth reported from Salamah ibn al-Muhabbiq رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Take from me, take from me. Allah has made a way for them: the virgin with the virgin — one hundred lashes and exile for a year; the married with the married — one hundred lashes and stoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن حریث نے حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ مجھ سے حکم حاصل کر لو مجھ سے حکم حاصل کر لو اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کے لئے حکم بیان کر دیا ہے کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ زنا کرے گا تو ایک سو کوڑوں کی سزا ہو گی اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اگر شادی شدہ شخص شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے گا تو ایک سو کوڑوں کی سزا ہو گی اور سنگسار کرنا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دلہم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن اس نے اس حدیث میں غلطی کی ہے جیسا کہ یہ بات ذکر کی گئی ہے ۔

10590

Majma al-Zawaid #10590

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَمْرُهُمَا سُنَّةٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ stoned, and Abu Bakr and ʿUmar stoned, and their command is sunnah. > **"The Messenger of Allah ﷺ stoned, and Abu Bakr and ʿUmar stoned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رجم کروایا تھا اور ان حضرات ( یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کا حکم سنت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10591

Majma al-Zawaid #10591

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ - وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَخَذَهُ كَهَيْئَةِ السُّبَاتِ - فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْيُ اسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَ لَهُنَّ سَبِيلًا، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ "". فَقَالَ أُنَاسٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: يَا أَبَا ثَابِتٍ، قَدْ نَزَلَتِ الْحُدُودُ، أَرَأَيْتَكَ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلًا كَيْفَ كُنْتَ صَانِعًا؟ قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يَسْكُنَا. فَأَنَا أَذْهَبُ فَأَجْمَعُ أَرْبَعَةً فَإِلَى ذَلِكَ قَدْ قَضَى الْخَائِبُ حَاجَتَهُ، فَأَنْطَلِقُ ثُمَّ أَجِيءُ فَأَقُولُ رَأَيْتُ فُلَانًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَيَجْلِدُونِي وَلَا يَقْبَلُونَ لِي شَهَادَةً أَبَدًا، فَضَحِكَ الْقَوْمُ. وَاجْتَمَعُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ إِلَى أَبِي ثَابِتٍ؟ قُلْنَا لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا "". ثُمَّ قَالَ: "" لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِيهِ السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَشَدُّ النَّاسِ غَيْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"" هُوَ شَدِيدُ الْغَيْرَةِ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرَةً مِنِّي، وَلِذَلِكَ جَعَلَ الْحُدُودَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَأُنْكِرَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذِهِ الطَّرِيقِ فَقَطْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي سُورَةِ النُّورِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Samit رضي الله عنه said: When the verse of stoning was revealed to the Messenger of Allah ﷺ while among his Companions — when revelation descended it seized him like slumber, then when it ended he sat upright and said: > **"Indeed Allah, Mighty and Majestic, has made a way for them: the married with the married — one hundred lashes and stoning; the virgin with the virgin — one hundred lashes and exile for a year."** Some said to Saʿd ibn ʿUbadah: O Abu Thabit, the hudud have been revealed; what if you found a man with your wife? He said: I would strike them with the sword until they are still. Am I to gather four witnesses while the wretch finishes his need, then return saying I saw such-and-such, only to be flogged and my testimony never accepted? The people laughed and gathered before the Messenger of Allah ﷺ, reporting Saʿd's words. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The sword suffices as a witness."** Then he said: > **"Were it not that I fear the intoxicated and the jealous would follow suit in it."** They said he is the most jealous of men. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"He is severely jealous, and I am more jealous than him, and Allah is more jealous than me; for that reason He ordained the hudud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ پر رجم سے متعلق حکم پر آیت نازل ہوئی تو آپ اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ پر نیند کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی ‘ جب وحی ختم ہو جاتی تھی تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے تھے آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے حکم بیان کر دیا ہے اگر شادی شده مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے گا تو اسے ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے اور اگر کنوارہ شخص کنواری لڑکی کے ساتھ زنا کرے گا تو انہیں ایک سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کر دیا جائے گا کچھ لوگوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابوثابت حدود کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاتے ہیں تو آپ کیا کریں گے انہوں نے فرمایا : میں اسے تلوار ماروں گا یہاں تک کہ وہ دونوں ٹھنڈے ہو جائیں کیا میں جا کر چار آدمی جمع کروں گا اتنی دیر میں تو وہ شخص اپنی حاجت پوری کر کے چلا جائے گا اور پھر میں آؤں گا اور یہ کہوں گا کہ میں نے فلاں شخص کو اس اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو لوگ مجھے کوڑے لگائیں گے اور میری گواہی کبھی قبول نہیں کریں گے تو لوگ ہنس پڑے پھر لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں دیکھا ہم نے ان سے یہ یہ بات کہی اور انہوں نے جواب میں یہ یہ کچھ کہا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا گواہ ہونے کے لئے تلوار کافی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ مدحوش شخص یا تیز مزاج والے لوگ یکے بعد دیگر ( یہی حرکت کرنے لگیں گے ) لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سب سے زیادہ غصہ پایا جاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شدید غصے والا ہوں اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے اس لئے اس نے حدود کا حکم مقرر کیا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دلہم ہے اور وہ ثقہ ہے انہوں نے اس سند کے حوالے سے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سورت نور میں آگے آئے گی ۔