وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ أَمِيرٌ فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً، كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ أَمْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ؟ قَالَ: إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ، وَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَخْطَأْتُ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ، فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ». ثُمَّ غَدَوْا مِنَ الْغَدِ فَقَالُوا: نَرْكَبُ فَنَنْظُرُ وَنَعْتَبِرُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ قَفْرٍ، قَدْ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَرَضُوا وَبَقِيَتْ خَاوِيَةً عَلَى عُرُوشِهَا، فَقَالُوا: أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ؟ قَالَ: مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا، هَؤُلَاءِ أَهْلُ دِيَارٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ، إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ، وَالْبَغْيَ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ. وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْيَدُ وَاللِّسَانُ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
EnglishUnverified translation
Sahl ibn Abi Umamah reported that he and his father visited Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) in the time of Umar ibn Abd al-Aziz, when Anas was a governor, and Anas prayed a light prayer, as though the prayer of a traveler or close to it. When he finished, Sahl's father said, "May Allah have mercy on you, was that the prescribed prayer or something voluntary you prayed?" Anas said, "It was the prescribed prayer, and it is the prayer of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him); I missed nothing of it except something I forgot." He said the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do not be hard upon yourselves, lest hardship be imposed upon you. For a people were hard upon themselves, so Allah imposed hardship upon them; those are their remnants in the monasteries and cloisters — a monasticism they invented which We did not prescribe for them."** The next morning they said, "Shall we ride out to look and reflect?" He said, "Yes." So they all rode until they came upon deserted cloisters whose people had perished and vanished, left empty upon their roofs. They asked, "Do you know these dwellings?" He said, "How well I know them and their people. These are the people of dwellings whom rebellion and envy destroyed. Envy extinguishes the light of good deeds, and rebellion either confirms that or belies it. The eye commits adultery, as do the palm, the foot, the hand, and the tongue, and the private part either confirms that or belies it."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سہل بن ابوامامہ بیان کرتے ہیں : وہ اور ان کے والد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے کی بات ہے وہ امیر تھے انہوں نے مختصر نماز پڑھائی یوں جیسے مسافر کی نماز ہو یا اس کے قریب کی نماز پڑھائی جب انہوں نے سلام پھیر دیا ‘ تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے کیا آپ نے فرض نماز ادا کی ہے یا آپ نے کوئی نفل نماز ادا کی ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ فرض نماز تھی اور یہ اللہ کے رسول کی نماز تھی میں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی اس کے بارے میں بھول کا شکار ہوا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم اپنے اوپر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی مسلط کر دی ان لوگوں کے بقایا ( افراد ) گرجا گھروں اور عبادت خانوں میں باقی ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا وہ ہم نے ان پر لازم نہیں کی تھی ‘‘۔ پھر جب اگلا دن آیا تو لوگوں نے کہا : اب ہم سوار ہو کر جائزہ لیں گے ‘ اور تحقیق کریں گے انہوں نے کہا : ٹھیک ہے پھر وہ سب لوگ سوار ہو گئے ‘ تو وہاں ایک ویرانہ تھا ‘ جہاں آبادی ختم ہو چکی تھی اور صرف کھنڈرات باقی رہ گئے تھے ‘ لوگوں نے کہا : کیا آپ اس جگہ کو پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس جگہ اور یہاں کے رہنے والوں سے مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہے ‘ یہ اس علاقے کے لوگ ہیں ، جنہیں زنا اور حسد نے ہلاکت کا شکار کر دیا ‘ بے شک حسد ‘ نیکیوں کو بجھا دیتا ہے ‘ اور سرکشی ‘ اس کی تصدیق کرتی ہے ‘ یا اس کی تکذیب کرتی ہے ‘ آنکھ زنا کرتی ہے ‘ ہتھیلی ‘ پاؤں ‘ ہاتھ اور زبان ( زنا کرتے ہیں ) اور شرمگاہ اُن کی تصدیق کرتی ہے یا اس کو جھٹلا دیتی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سعید بن عبدالرحمن بن ابوعمياء کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔