Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 28 · Chapter 2

Book of Fighting Rebels

Hadith 10439–10471

33 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10439

Majma al-Zawaid #10439

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يُقَسِّمُ، قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: "" «عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ، كَالْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ فِيهَا شَعَرَاتٌ، كَأَنَّهَا سَبَلَةُ سَبُعٍ» "". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَحَضَرْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَحَضَرْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَتَلَهُمْ بِنَهْرَوَانَ. قَالَ: فَالْتَمَسَهُ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ. قَالَ: ثُمَّ وَجَدَهُ بَعْدَ ذَلِكَ تَحْتَ جِدَارٍ عَلَى هَذَا النَّعْتِ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَيُّكُمْ يَعْرِفُ هَذَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَحْنُ نَعْرِفُهُ، هَذَا حَرْقُوسُ، وَأُمُّهُ هَاهُنَا. قَالَ: فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَتْ: مَا أَدْرِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِالرَّبَذَةِ فَغَشِيَنِي شَيْءٌ كَهَيْئَةِ الظُّلْمَةِ، فَحَمَلْتُ مِنْهُ فَوَلَدْتُ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُطَوَّلًا، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id radiya Allahu anhu reported: I attended the Messenger of Allah ﷺ on the day of Hunayn while he divided, then narrated until: > **"Their mark is a man whose hand is like a woman's breast, a lump of flesh with hairs rolling in it like a beast's forelock."** Abu Sa'id said, I witnessed this from the Messenger ﷺ at Hunayn, and witnessed with Ali when he killed them at Nahrawan. Ali sought him and did not find him, then found him after beneath a wall of that description. Ali asked, Which of you knows this. A man said, We know him, this is Harqus, and his mother is here. Ali sent to his mother asking, Who is this. She said, I know not, O Commander of the Faithful, except I grazed sheep in Jahiliyyah at al-Rabadhah when something like darkness covered me, I conceived from it and bore him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا آپ ( غزوہ حنین کا مال غنیمت ) تقسیم کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے آگے چل کر انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ان لوگوں کی مخصوص نشانی ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا وہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہو گا اور اس میں کچھ بال ہوں گے ‘ جیسے وہ کسی درندے کا اگلا حصہ ہوتا ہے ‘‘۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر اس دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ‘ اور پھر میں اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی موجود تھا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو تلاش کیا وہ انہیں نہیں ملا اس کے بعد وہ انہیں ایک دیوار کے نیچے مل گیا اس کا حلیہ اسی طرح کا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں کون شخص اسے جانتا ہے ‘ تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے ہم اسے جانتے ہیں یہ حرقوس ہے اس کی ماں یہاں موجود ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ کون ہے اس نے بتایا : مجھے نہیں معلوم اے امیر المومنین میں زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ بکریاں چرا رہی تھی یہ ربذہ کے مقام کی بات ہے ‘ تو تاریکی کی طرح کی کوئی چیز مجھ پر چھا گئی اور میں اس بچے سے حاملہ ہو گئی اور پھر میں نے اس بچے کو جنم دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

10440

Majma al-Zawaid #10440

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ «أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ، قَالَ عَلِيٌّ: فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، ثَلَاثًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَا إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَنِي بِثَلَاثَةِ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ، هَذَا أَكْبَرُهُمْ، وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ، وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Abi Salih that Abu al-Wadi' Abbad narrated: We headed to Kufah with Ali ibn Abi Talib radiya Allahu anhu, then mentioned the hadith of the defective-handed one. Ali said, By Allah I did not lie nor was lied to, thrice. Ali said: > **"My close friend ﷺ told me of three brothers of the jinn; this is the eldest, the second has a great host, the third has weakness in him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوصالح بیان کرتے ہیں : ابووضی عباد نے انہیں یہ بات بتائی ہے ہم لوگ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جا رہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے مخدج والی روایت ذکر کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے ‘ اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ۔ انہوں نے تین مرتبہ یہ بات کہی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میرے خلیل ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ تین لوگ جنات کے بھائی ہیں ‘ اور یہ ان میں سب سے بڑا ہے ان میں سے دوسرا وہ ہے ‘ جس کے ساتھ بڑا لشکر ہو گا اور تیسرا وہ ہو گا جس میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10441

Majma al-Zawaid #10441

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، قَالَ لِسَعِيدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: مَا لَكَ لَا تَخْرُجُ مَعَ عَلِيٍّ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ مَا قَالَ فِيهِ؟ قَالَ: "" «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» "" قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: إِي وَاللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُهُ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ الْعُزْلَةَ حَتَّى أَجِدَ سَيْفًا يَقْطَعُ الْكَافِرَ، وَيَنْبُو عَنِ الْمُؤْمِنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Sa'd ibn Abi Waqqas: Ammar ibn Yasir radiya Allahu anhu said to Sa'd ibn Abi Waqqas radiya Allahu anhu, Why do you not go out with Ali. Did you not hear the Messenger ﷺ say of him: > **"A people from my ummah will emerge passing through religion as the arrow passes through the target; Ali ibn Abi Talib kills them."** He said it three times. He said, Yes by Allah I heard it, but I prefer seclusion until I find a sword cutting the disbeliever while sparing the believer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا وجہ ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہیں نکلتے ہیں ؟ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو ان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ میری امت میں ایک قوم نکلے گی جو دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘ اور علی بن ابوطالب ان کے ساتھ جنگ کرے گا ( یا ان کو قتل کرے گا ) ‘‘۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں اللہ کی قسم میں نے آپ ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اس وقت تک الگ تھلگ رہوں جب تک میں یہ صورت حال نہیں پاتا کہ تلوار صرف کافر کو کاٹے گی اور مومن سے الگ رہے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوعائشہ ہے ذہبی نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ‘ اور انہوں نے اس کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی ہے ‘ اور یہ بات کہی ہے کہ یہ حدیث منکر ہے ۔

10442

Majma al-Zawaid #10442

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah — meaning Ibn Mas'ud radiya Allahu anhu — reported: > **"The Messenger of Allah ﷺ ordered fighting the oath-breakers, the deviators and the rebels."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ‘ ( عہد یا بیعت ) کو توڑنے والوں ، ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے والوں اور خروج ( یا بغاوت ) کرنے والوں کے ساتھ ‘ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10443

Majma al-Zawaid #10443

وَعَنْ مُحَنَّفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ يَعْلِفُ خَيْلًا لَهُ بِصَعْنَبَى، فَقِلْنَا عِنْدَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جِئْتَ تُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ؟. قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي بِقِتَالِ ثَلَاثَةٍ: النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ»، فَقَدْ قَاتَلْتُ النَّاكِثِينَ، وَقَاتَلْتُ الْقَاسِطِينَ، وَأَنَا مُقَاتِلٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَارِقِينَ بِالسَّعَفَاتِ بِالطُّرُقَاتِ بِالنَّهْرَوَانَاتِ، وَمَا أَدْرِي أَيْنَ هُمْ؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhannaf ibn Sulaym reported: We came to Abu Ayyub al-Ansari radiya Allahu anhu while he fed his horses at Sa'naba, and stayed. I said, O Abu Ayyub, you fought idolaters with the Messenger ﷺ then came to fight Muslims. He said, The Messenger of Allah ﷺ ordered me to fight three: oath-breakers, deviators and rebels. I fought the oath-breakers, fought the deviators, and will fight, Allah willing, the rebels at the palm-branches, roads and Nahrawans, though I know not where they are.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مخنف بن سلیم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ اس وقت اپنے گھوڑے کو چارہ کھلا رہے تھے یہ بصعنبی نامی جگہ کی بات ہے ہم نے ان سے کہا : اے حضرت ابوایوب ! آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مل کر مشرکین کے ساتھ جنگ کی ہے ‘ پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آ گئے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے تین قسم کے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا ‘ ( عہد یا بیعت کو ) توڑنے والوں ، ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے والوں ‘ اور خروج ( یا بغاوت کرنے والوں ) ۔ تو میں نے ( عہد یا بیعت کو ) توڑنے والوں کے ساتھ جنگ کی ‘ میں نے ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے کے ساتھ جنگ کی ‘ اور اب اگر اللہ نے چاہا ‘ تو میں ، خروج ( یا بغاوت کرنے والوں ) کے ساتھ جنگ کروں گا ‘ اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10444

Majma al-Zawaid #10444

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِئِ: أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، وَنَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ، مَرْجِعَهُ مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قَتْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ؟ حَدِّثْنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ، قَالَتْ: فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ. قَالَ: فَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ، وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ، خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ، فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: حَرُورَاءُ - مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ - وَإِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ، فَقَالُوا: انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ كَسَاكَهُ اللَّهُ، اسْمٌ سَمَّاكَ اللَّهُ بِهِ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دِينِ اللَّهِ، فَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ. فَلَمَّا بَلَغَ عَلِيًّا مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ، وَفَارَقُوهُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا مَنْ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا امْتَلَأَتِ الدَّارُ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ دَعَا بِمُصْحَفِ إِمَامٍ عَظِيمٍ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَصُكَّهُ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: أَيُّهَا الْمُصْحَفُ، حَدِّثِ النَّاسَ. فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَسْأَلُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ مِدَادٌ فِي وَرَقٍ، يَتَكَلَّمُ بِمَا رَأَيْنَا مِنْهُ، فَمَا تُرِيدُ؟. قَالَ: أَصْحَابُكُمْ أُولَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ، يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ "": {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35]. فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْظَمُ حُرْمَةً أَوْ ذِمَّةً مِنْ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ. وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنِّي لَمَّا كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ كَتَبْتُ: عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ «جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "". قَالَ: لَا تَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ: "" وَكَيْفَ نَكْتُبُ؟ "" قَالَ سُهَيْلٌ: اكْتُبْ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَاكْتُبْ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ "" فَقَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُخَالِفْكَ، فَكَتَبَ: "" هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا» "". يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ} [الأحزاب: 21]. فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ، قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَلْيَعْرِفْهُ، فَأَنَا أَعْرِفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، هَذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ: "" قَوْمٌ خَصِمُونَ "". فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ. قَالَ: فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ الْكِتَابَ، فَإِنْ جَاءَ بِالْحَقِّ نَعْرِفُهُ لَنَتَّبِعَنَّهُ، وَإِنْ جَاءَ بِبَاطِلٍ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلٍ، وَلَنَرُدَّنَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ، فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ الْكِتَابَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ، فِيهِمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلِيٌّ عَلَى الْكُوفَةَ. فَبَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ، قَالَ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ، فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ: أَنْ لَا تَسْفِكُوا دَمًا حَرَامًا، أَوْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا، أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّةً، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمُ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ: إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ. فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ شَدَّادٍ، فَقَدْ قَتَلَهُمْ؟ قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ، وَاسْتَحَلُّوا الذِّمَّةَ. فَقَالَتْ: وَاللَّهِ؟ قَالَ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ. قَالَتْ: فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَتَحَدَّثُونَهُ يَقُولُونَ: ذَا الثُّدَيَّةِ؟ مَرَّتَيْنِ. قَالَ: قَدْ رَأَيْتُهُ، وَقُمْتُ مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ فِي الْقَتْلَى فَدَعَا النَّاسَ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ جَاءَ يَقُولُ: رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي. وَلَمْ يَأْتُوا فِيهِ بِثَبْتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَاكَ. قَالَتْ: فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَتْ: فَهَلْ رَأَيْتَهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا، قَالَتْ: أَجَلْ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، يَرْحَمُ اللَّهُ عَلِيًّا، إِنَّهُ كَانَ مِنْ كَلَامِهِ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَيَذْهَبُ أَهْلُ الْعِرَاقِ فَيَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَيَزِيدُونَ فِي الْحَدِيثِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubaydullah ibn Iyad ibn Amr al-Qari: Abdullah ibn Shaddad ibn al-Had came to Aishah radiya Allahu anha while we sat with her, returning from Iraq in the nights Ali ibn Abi Talib radiya Allahu anhu was killed. She asked, O Ibn Shaddad, will you tell me truth about what I ask. Tell me of those Ali killed. He said, Why would I not tell you truth. She said, Tell their story. He said, When Ali corresponded with Mu'awiyah radiya Allahu anhu and the two arbiters judged, eight thousand reciters rebelled, camped at Harura' by Kufah. They blamed him saying, You shed a shirt Allah clothed you, a name Allah named you, then arbitrated men in Allah's religion; no judgment but Allah's. When their blame and parting reached Ali, he ordered a caller that none enter the Commander of the Faithful but a bearer of the Quran. When the house filled with reciters he called for a great master copy, placed it before him, struck it with his hand saying: > **"O Mushaf, speak to the people."** People called, O Commander of the Faithful, what you ask is but ink on paper speaking what we see; what do you want. He said, Those companions of yours who rebelled — between me and them is Allah's Book. Allah says concerning a woman and man, If you fear breach send an arbiter from his folk and an arbiter from her folk, Nisa 35. Is the sanctity of Muhammad's ummah ﷺ greater, or a man and woman. They blamed that when writing Mu'awiyah he wrote Ali ibn Abi Talib. Suhayl ibn Amr once came; the Messenger ﷺ wrote: > **"In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate."** He said, Write not that. He asked: > **"How shall we write?"** Suhayl said, Write, In Your name O Allah. The Messenger ﷺ said: > **"Write, Muhammad is the Messenger of Allah."** He said, Had I known you Allah's Messenger I would not oppose you. So he wrote: > **"This is what Muhammad ibn Abdillah conciliated Quraysh upon."** Allah says in His Book, You have in Allah's Messenger a fine example for whoever hopes in Allah and the Last Day, Ahzab 21. He sent Abdullah ibn Abbas radiya Allahu anhuma to them; I went with him until amid their camp. Ibn al-Kawwa' stood preaching, O bearers of the Quran, this is Abdullah ibn Abbas; whoever knows him not, know him; I know him from Allah's Book, of those revealed about, A disputatious people. Return him to his master and do not debate Allah's Book with him. Their preachers rose saying, By Allah we shall debate the Book with him; if he brings truth we know, we follow; if false, we refute with falsehood and return him to his master. They debated Abdullah ibn Abbas the Book three days; four thousand repented, including Ibn al-Kawwa', until Ali brought them into Kufah. Ali sent to the rest: Our affair and people's you have seen; stand where you will on condition between us you shed no unlawful blood, cut no road, wrong no covenant; if you do, we declare war openly: Allah loves not traitors. Aishah asked, O Ibn Shaddad, so he killed them. He said, By Allah he sent none until they cut roads, shed blood, violated covenant. She said, By Allah. He said, By Allah besides whom none is worthy of worship, so it was. She asked twice about what Iraqis relate, Dhu al-Thudayyah. He said, I saw him, stood with Ali over him among slain; he called people asking: > **"Do you know this?"** Most who came said, I saw him praying in such-and-such mosque, with no firm identification but that. She asked, What did Ali say standing over him as Iraqis claim. He said, I heard him say, Allah and His Messenger spoke truth. She asked, Did you see him say else. He said, O Allah, no. She said, Yes, Allah and His Messenger spoke truth; mercy upon Ali, it was his speech never seeing anything marvelous but saying, Allah and His Messenger spoke truth, while Iraqis go lying upon him and adding to report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عیاض بن عمرو القاری بیان کرتے ہیں : عبدالله بن شداد بن الہاد آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے یہ ان صاحب کے عراق سے واپسی کی بات ہے جن دنوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : اے شداد بن الہاد کے بیٹے میں تم سے جس چیز کے بارے میں دریافت کروں گی کیا تم اس کے بارے میں مجھے سچ بیان کرو گے مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جنہیں ۔ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ‘ تو عبداللہ بن شداد نے کہا : میں کیوں آپ کے ساتھ سچ بیانی نہیں کروں گا ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر تم ان کے بارے میں بتاؤ تو عبدالله بن شداد نے بتایا : جب حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ طے کیا کہ دونوں طرف سے ثالثی مقرر ہو گی تو قرآن کے عالموں میں سے آٹھ ہزار افراد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی اور انہوں نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جس کا نام حروراء تھا یہ کوفہ کے پاس ایک جگہ تھی وہ لوگ وہاں جم گئے ان لوگوں نے کہا : آپ نے وہ قمیص اتار دی ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہنائی تھی اور اس نام کو بھی چھوڑ دیا ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کا رکھا تھا ‘ اور پھر آپ نے آگے جا کے اللہ کے دین میں کسی کو ثالث بنا دیا ہے حالانکہ فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی جو اعتراض انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کیا تھا ‘ اور جس کی بنیاد پر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوئے تھے ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو حکم دیا اس نے اذان دی ( یعنی اعلان کیا ) کہ امیر المومنین کے پاس صرف وہ شخص آئے جو قرآن کا عالم ہو جب قرآن کے عالموں سے گھر بھر گیا تو انہوں نے مصحف منگوایا اور ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا ‘ اور پھر اپنے ہاتھ اس پر پھیر کر یہ کہنے لگے اے مصحف تم لوگوں کو بتاؤ تو لوگوں نے ان سے گزارش کرتے ہوئے کہا : اے امیر المومنین آپ اس سے کس کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ؟ یہ صرف سیاہی ہے ‘ جو ورق پر لگی ہوئی ہے ‘ اور اس کے جو الفاظ ہیں وہ ہم پڑھ لیتے ہیں آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے یہ ساتھی جنہوں نے خروج کیا ہے میرے اور ان کے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں میاں بیوی کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ’’ اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو ‘ تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا ‘‘۔ ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو حضرت محمد ( ﷺ ) کی امت کی حرمت زیادہ ہے یا ایک مرد اور عورت کے معاملے کا احترام زیادہ ہے وہ لوگ مجھ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے معاہدہ تحریر کرتے ہوئے اس میں یہ لکھ دیا ہے کہ علی بن ابوطالب ( اس میں امیر المومنین نہیں لکھا ) تو ایک مرتبہ سہیل بن عمرو ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ لکھوایا : «بسم الله الرحمن الرحیم» اس نے کہا : «بسم الله الرحمن الرحیم» نہ لکھیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : پھر ہم کیا لکھیں سہیل نے کہا : آپ یہ لکھیں «باسمك اللهم» نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لکھو محمد رسول اللہ اس نے کہا : اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو میں نے آپ کی مخالفت نہیں کرنی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ لکھوایا یہ وہ معاہدہ ہے ‘ جو محمد بن عبداللہ قریشی کر رہے ہیں ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ’’ تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے یہ اس شخص کے لئے ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو ‘‘۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کی طرف بھیجا میں بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ گیا ‘ یہاں تک کہ ہم ان کے لشکر کے درمیان میں پہنچ گئے ، تو ابن کواء کھڑا ہوا اس نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا : اے قرآن کے عالمو ! یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جو شخص ان کو نہیں جانتا تو وہ انہیں پہچان لے میں اللہ کی کتاب کے حوالے سے ان سے واقف ہوں یہ وہ فرد ہیں ، جن کے بارے میں اور جن کی قوم کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : ’’ بلکہ وہ جھگڑالو ‘ لوگ ہیں ‘‘ تو تم انہیں ان کے آقا کے پاس واپس بھیج دو اور اللہ کی کتاب کے بارے میں ان کے ساتھ بحث نہ کرو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں کے خطیب کھڑے ہوئے ‘ اور انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ کی کتاب کی بنیاد پر ہم ان کے ساتھ مناظرہ کریں گے اگر یہ ایسا حق لے کر آئے ہوں جو ہمیں سمجھ آ گیا تو ہم ان کی پیروی کریں گے ‘ اور اگر یہ باطل لے کر آئے ہوں گے ‘ تو ہم ان کے باطل کے حوالے سے انہیں قبیح قرار دیں گے ‘ اور انہیں ان کے ساتھی کی طرف ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ) واپس کر دیں گے پھر وہ تین دن تک حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ اللہ کی کتاب کی بنیاد پر بحث کرتے رہے ‘ اور ان میں سے چار ہزار افراد نے رجوع کر لیا ان سب نے توبہ کی تھی ان لوگوں میں ابن کواء بھی شامل بھی تھا ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ انہیں لے کر کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے باقی افراد کی طرف مہم روانہ کی اور فرمایا : ہمارا اور لوگوں کا جو معاملہ ہے وہ تم دیکھ رہے ہو تم جہاں چاہو ٹھہرے رہو ہمارے اور اپنے درمیان یہ طے کر لو کہ تم حرام طور پر کوئی خون نہیں بہاؤ گے راستہ نہیں لوٹو گے ذمہ کی خلاف ورزی نہیں کرو گے اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا ، تو پھر ہم تم پر جنگ مسلط کر دیں گے بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن شداد سے کہا : اے ابن شداد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا تھا ؟ تو عبداللہ بن شداد نے بتایا اللہ کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف جنگی مہم اس وقت تک نہیں بھیجی جب تک انہوں نے لوٹ مار شروع نہیں کر دی اور خون بہانا شروع نہیں کر دیا ‘ اور ذمہ کی خلاف ورزی نہیں شروع کر دی تو سیدہ عائشہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا ہی ہوا تھا ؟ تو عبداللہ بن شداد نے کہا : اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ایسا ہی ہوا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اہل عراق کے بارے میں مجھے ایک اور چیز پتہ چلی ہے کہ وہ آپس میں بات چیت کرتے ہیں ‘ اور یہ کہتے ہیں کہ کوئی ذوثدیہ نام کا شخص بھی تھا تو عبداللہ بن شداد نے بتایا میں نے اسے دیکھا ہے ‘ میں ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقتولین میں اس کے پاس کھڑا ہوا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلایا اور دریافت کیا : کیا تم لوگ اسے پہچانتے ہو ‘ تو زیادہ سے زیادہ یہ بات بتائی گئی کہ ایک شخص نے کہا : میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تھا لوگ اس کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں دے سکے صرف یہی بات پتہ چل سکی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس کھڑے ہوئے تھے ‘ تو انہوں نے کیا کہا تھا وہی جو اہل عراق بیان کرتے ہیں ، تو عبداللہ بن شداد نے کہا : میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم نے انہیں اس کے علاوہ کچھ اور کہتے ہوئے بھی دیکھا تو عبداللہ نے کہا : اللہ جانتا ہے جی نہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ٹھیک ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر رحم کرے یہ ان کا تکیہ کلام تھا کہ جب بھی وہ کوئی حیران کن چیز دیکھتے تھے ‘ تو یہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ‘ اور پھر اہل عراق نے ان کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا شروع کر دی اور اصل بات میں اضافہ شروع کر دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10445

Majma al-Zawaid #10445

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ. قَالَ: قُلْتُ: فِيمَ فَارَقُوهُ؟ وَفِيمَ اسْتَحَلُّوهُ؟ وَفِيمَ دَعَاهُمْ؟ وَبِمَ اسْتَحَلَّ دِمَاءَهُمْ؟ قَالَ: إِنَّهُ لَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ فِي أَهْلِ الشَّامِ بِصِفِّينَ، اعْتَصَمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِجَبَلٍ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَرْسِلْ إِلَيْهِ بِالْمُصْحَفِ فَلَا وَاللَّهِ لَا نَرُدُّهُ عَلَيْكَ. قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ يَحْمِلُهُ يُنَادِي: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ} [آل عمران: 23] ... الْآيَةَ. قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، أَنَا أَوْلَى بِهِ مِنْكُمْ. فَجَاءَتِ الْخَوَارِجُ، وَكُنَّا نُسَمِّيهِمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ، وَجَاءُوا بِأَسْيَافِهِمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا نَمْشِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟. فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، «لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا قَاتَلْنَا، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ: "" بَلَى "". قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: "" بَلَى "". قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ: "" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا "". فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ قَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا. قَالَ: فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ بِالْفَتْحِ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ، فَأَقْرَأَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَفَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ، وَرَجَعَ النَّاسُ»، ثُمَّ إِنَّهُمْ خَرَجُوا بِحَرُورَاءَ - أُولَئِكَ الْعِصَابَةُ مِنَ الْخَوَارِجِ بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ يَنْشُدُهُمُ اللَّهَ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ. فَأَتَاهُمْ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَأَنْشَدَهُمْ، وَقَالَ: عَلَامَ تُقَاتِلُونَ خَلِيفَتَكُمْ؟ قَالُوا: مَخَافَةَ الْفِتْنَةِ. قَالَ: فَلَا تُعَجِّلُوا ضَلَالَةَ الْعَامِ مَخَافَةَ فِتْنَةِ عَامٍ قَابِلٍ. فَرَجَعُوا وَقَالُوا: نَسِيرُ عَلَى مَا جِئْنَا، فَإِنْ قَبِلَ عَلِيٌّ الْقَضِيَّةَ قَاتَلْنَا عَلَى مَا قَاتَلْنَا يَوْمَ صِفِّينَ، وَإِنْ نَقَضَهَا قَاتَلْنَا مَعَهُ. فَسَارُوا حَتَّى بَلَغُوا النَّهْرَوَانِ. فَافْتَرَقَتْ مِنْهُمْ فِرْقَةٌ، فَجَعَلُوا يَهْدُونَ النَّاسَ لَيْلًا، قَالَ أَصْحَابُهُمْ: وَيْلَكُمْ مَا عَلَى هَذَا فَارَقْنَا عَلِيًّا، فَبَلَغَ عَلِيًّا أَمْرُهُمْ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ، نَسِيرُ إِلَى أَهْلِ الشَّامِ أَمْ نَرْجِعُ إِلَى هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خُلِّفُوا إِلَى ذَرَارِيِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلْ نَرْجِعُ فَذَكَرَ أَمْرَهُمْ، فَحَدَّثَ عَنْهُمْ بِمَا قَالَ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ فَرِقَةً تَخْرُجُ عِنْدَ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ، تَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ "". فَسَارُوا حَتَّى الْتَقَوْا بِالنَّهْرَوَانِ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، فَجَعَلَتْ خَيْلُ عَلِيٍّ لَا تَقِفُ لَهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِي فَوَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَجْزِيكُمْ، وَإِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِلَّهِ، فَلَا يَكُونَنَّ هَذَا فِعَالَكُمْ، فَحَمَلَ النَّاسُ حَمْلَةً وَاحِدَةً، فَانْجَلَتِ الْخَيْلُ عَنْهُمْ وَهُمْ مُنْكَبُّونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ. فَقَامَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: اطْلُبُوا الرَّجُلَ الَّذِي فِيهِمْ، فَطَلَبَ النَّاسُ الرَّجُلَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: غَرَّنَا ابْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ إِخْوَانِنَا حَتَّى قَتَلْنَاهُمْ. قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: فَدَعَا بِدَابَّتِهِ فَرَكِبَهَا فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى وَهْدَةً فِيهَا قَتْلَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَجَعَلَ يَجُرُّ بِأَرْجُلِهِمْ حَتَّى وَجَدَ الرَّجُلَ تَحْتَهُمْ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: اللَّهُ أَكْبَرُ. وَفَرِحَ، وَفَرِحَ النَّاسُ وَرَجَعُوا. وَقَالَ عَلِيٌّ: لَا أَغْزُو الْعَامَ. وَرَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ، وَقُتِلَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَاسْتُخْلِفَ الْحَسَنُ، وَسَارَ سِيرَةَ أَبِيهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِالْبَيْعَةِ إِلَى مُعَاوِيَةَ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Habib ibn Abi Thabit from Abu Wa'il: I asked him about those Ali killed. In what did they part from him, deem him lawful, call them, deem their blood lawful. He said, When slaughter intensified among Syrians at Siffin, he and companions clung to a hill. Amr ibn al-As said, Send him the Mushaf; by Allah we shall not turn it back. A man came bearing it calling, Between us and you is Allah's Book, Have you not seen those given a portion of the Book, Al Imran 23, to the verse. Ali said, Yes, between us and you is Allah's Book; I am worthier of it than you. Then came the Khawarij, then called Qurra', swords on shoulders, saying, O Commander of the Faithful, shall we not march to those until Allah judges between us. Sahl ibn Hunayf rose saying, O people, accuse yourselves. We were with the Messenger of Allah ﷺ at Hudaybiyah; had we seen fighting we would fight, in the truce between the Messenger ﷺ and idolaters. Umar ibn al-Khattab came saying, O Messenger of Allah, are we not upon truth and they upon falsehood. He said: > **"Yes."** He said, Are not our slain in Paradise and theirs in Fire. He said: > **"Yes."** He said, Why concede lowliness in religion and return before Allah judges between us. He said: > **"O son of al-Khattab, I am Allah's Messenger and He will never forsake me."** Umar went unpatiently in anger to Abu Bakr asking, O Abu Bakr, are we not upon truth and they upon falsehood. He said, Yes. Are not our slain in Paradise and theirs in Fire. He said, Yes. Why concede lowliness in religion before Allah judges between us. He said, O son of al-Khattab, he is Allah's Messenger and Allah will never forsake him. Then the Quran of victory descended upon Muhammad; he sent to Umar and recited. He asked, O Messenger of Allah, is it victory. He said: > **"Yes."** His soul settled and he returned, people returned. Then they exited at Harura', that band of Khawarij over ten thousand. Ali sent imploring them by Allah; they refused. Sa'sa'ah ibn Sawhan came imploring, saying, Why fight your caliph. They said, Fear of fitnah. He said, Hasten not this year's misguidance fearing next year's fitnah. They returned saying, We march as we came; if Ali accepts the case we fight as at Siffin, if he breaks we fight with him. They marched to Nahrawan. A faction split raiding people by night. Their companions said, Woe, not for this did we part from Ali. When it reached Ali he preached asking, What deem you, march to Syrians or return to those left among your offspring. They said, Return. He mentioned their affair, narrating about them what the Messenger ﷺ said: > **"A sect emerges at people's division; the nearer to truth of the two parties kills them. Their mark is a man among them whose hand is like a woman's breast."** They marched meeting at Nahrawan, fighting fiercely; Ali's cavalry would not stand. Ali said, O people, if you fight for me, by Allah I have no reward for you; if for Allah, let not this be your conduct. People charged together; cavalry scattered from them fallen on faces. Ali rose saying, Seek the man among them. People sought but found him not, until some said, Ibn Abi Talib deceived us of our brothers till we killed them. Ali's eye teared; he called his mount, rode to a hollow with slain piled, dragged them by legs till found the man beneath. They told him; Ali said, Allah is Greatest. He rejoiced, people rejoiced and returned. Ali said, I campaign not this year. He returned to Kufah, was killed mercy upon him; al-Hasan succeeded upon his father's conduct, then sent allegiance to Mu'awiyah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبیب بن ابوثابت ابووائل کے بارے میں یہ بات ذکر کی ہے میں نے ان سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا : جنہیں ‘ حضرت علی رضی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے دریافت کیا : وہ لوگ کس وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوئے تھے کس وجہ سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خون کو حلال قرار دیا تھا ‘ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس بات کی دعوت دی تھی اور کس بنیاد پر ان کے خون کو حلال قرار دیا تھا ، تو ابووائل نے بتایا : جب صفین کے مقام پر اہل شام کے ساتھ جنگ شدید ہو گئی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کی پناہ لی تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف کو بھیجیں اللہ کی قسم ہم اس کے علاوہ کسی اور صورت میں نہیں بچ سکتے راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص قرآن مجید کو اٹھا کر آیا اور اس نے پکار کر کہا ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ دے گی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ دیا گیا ‘‘۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی اور میں اس کی پیروی کرنے کا تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں پھر خوارج آئے ہم انہیں قاری صاحبان کہا کرتے تھے انہوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھی ہوئی تھیں انہوں نے کہا : اے امیر المؤمنین کیا ہم اس قوم کی طرف چل کر نہ جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو سہل بن حنیف کھڑے ہوئے ‘ اور بولے اے لوگو تم اپنے آپ کو غلط قرار دو حدیبیہ کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو جنگ کر سکتے تھے اور یہ وہ صلح ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ‘ اور وہ باطل پر نہیں ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا ہمارے مقتولین جنت میں نہیں ہیں ‘ اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین کے حوالے سے کمزوری ظاہر کریں ہم واپس جاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اور وہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے لیکن انہیں غصے پر قابو نہیں آیا تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ اور بولے اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین کے معاملے میں کمزوری دکھائیں ہمیں تو یہ کرنا چاہیے ( کہ جنگ کریں ) تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے خطاب کے صاحبزادے ! وہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ پر سورہ فتح نازل ہو گئی آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ان کے سامنے یہ سورت پڑھی انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ فتح ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں تو اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تسلی ہوئی پھر نبی اکرم ﷺ بھی واپس چلے گئے ‘ اور لوگ بھی واپس چلے گئے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) ان خوارج نے حروراء کے مقام پر پڑاؤ کیا یہ دس ہزار سے کچھ زیادہ لوگ تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں اللہ کا واسطہ دیا لیکن انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانی پھر صعصعہ بن صوحان گئے ‘ اور انہیں واسطہ دیا ‘ اور یہ کہا کہ تم لوگ کس بنیاد پر اپنے خلیفہ کے ساتھ لڑنا چاہ رہے ہو انہوں نے جواب دیا : فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تو صعصعہ نے کہا : اگلے سال پیش آنے والے فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تم اس سال گمراہی کا شکار نہ ہو ‘ تو وہ لوگ واپس چلے گئے انہوں نے کہا : ہم جس بنیاد پر آئے ہیں اس پر چلتے رہیں گے اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ قبول کر لیا تو ہم اس اصول پر جنگ کریں گے ، جس پر ہم نے جنگ صفین میں جنگ کی تھی اور اگر انہوں نے اسے توڑ دیا ، تو ہم ان کے ساتھ مل کر لڑائی کریں گے پھر وہ لوگ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ نہروان پہنچ گئے وہاں وہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو گئے ‘ اور انہوں نے رات کے وقت لوگوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ہم اس کام کے لئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الگ نہیں ہوئے تھے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو ہمیں اہل شام کی طرف جانا چاہیے یا ان لوگوں کی طرف جانا چاہیے جنہیں تم اپنے بال بچوں میں اپنے پیچھے چھوڑ جاؤ گے ‘ تو لوگوں نے کہا : ہمیں واپس چلے جانا چاہیے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا معاملہ ذکر کیا ان کے بارے میں حدیث بیان کی جو نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا : ’’ لوگوں کے درمیان اختلاف کے وقت ایک فرقہ ظہور پذیر ہو گا جسے وہ گروہ قتل کرے گا ‘ جو دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہو گا اور ان لوگوں کی مخصوص علامت ان میں موجود ایک فرد ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا ‘‘۔ پھر وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ‘ اور نہروان کے مقام پر ان کی خوارج کے ساتھ جنگ ہوئی شدید لڑائی ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لشکر مسلسل پیش قدمی کرتا رہا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو اگر تم میری خاطر جنگ کر رہے ہو ‘ تو اللہ کی قسم میرے پاس تمہیں جزا کے طور پر دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ‘ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی خاطر جنگ کر رہے ہو ‘ تو پھر تمہارا یہ طرز عمل نہیں ہونا چاہیے پھر لوگوں نے ایک ہی مرتبہ حملہ کیا اور ان لوگوں کے گھڑسوار پسپا ہو گئے ‘ اور وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ اور انہوں نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے درمیان اس شخص کو تلاش کرو لوگوں نے اس شخص کو تلاش کیا لیکن انہیں وہ نہیں ملا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے ‘ جو ہمارے بھائیوں کے حوالے سے ہے ‘ جس کی وجہ سے ہم نے انہیں قتل کر دیا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے انہوں نے اپنی سواری منگوائی اس پر سوار ہوئے ‘ اور روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ وہ ایک نشیبی جگہ پر آئے جہاں مقتولین پڑے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے تھے ان کی ٹانگیں کھینچی جانے لگیں ‘ یہاں تک کہ ان کے نیچے سے وہ شخص مل گیا لوگوں نے اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : «اللہ اکبر» حضرت علی رضی اللہ عنہ خوش ہو گئے ‘ اور لوگ بھی خوش ہو گئے ‘ اور لوگوں نے رجوع کر لیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سال میں جنگ نہیں کروں گا ، پھر وہ واپس کوفہ آ گئے ‘ اور پھر وہاں وہ شہید ہو گئے اس کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے انہوں نے بھی اپنے والد کا طرز عمل اختیار کیا اور پھر انہوں نے خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10446

Majma al-Zawaid #10446

وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَمْرِ النَّاسِ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَشَغَلَ عَلِيًّا مَا كَانَ فِيهِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، فَقَالَ كُلَيْبٌ: قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: كُنْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا - قَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ - فَمَرَرْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا قِبَلَكُمْ يُقَالُ لَهُمْ: الْحَرُورِيَّةُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: فِي مَكَانٍ يُقَالُ لَهُ حَرُورَاءُ؟ قَالَ: قَالَ: فَسُمُّوا بِذَلِكَ الْحَرُورِيَّةَ. فَقَالَتْ: طُوبَى لِمَنْ شَهِدَ هَلَكَتَهُمْ. قَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَاءَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ لَأَخْبَرَكُمْ خَبَرَهُمْ. فَمِنْ ثَمَّ جِئْتُ أَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَفَرَغَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُسْتَأْذِنُ؟ فَقَامَ عَلَيْهِ فَقَصَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَصَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَأَهَلَّ عَلِيٌّ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ، قَالَ: فَقَالَ لِي: "" يَا عَلِيُّ، كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمٌ يَخْرُجُونَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا "". وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ: "" وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ - أَوْ تَرَاقِيَهُمْ - يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ» "". ثُمَّ قَالَ: أَنْشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَحَدَّثَكُمْ أَنَّهُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَذَهَبْتُمْ فَالْتَمَسْتُمُوهُ حَتَّى جِئْتُمْ بِهِ تَسْحَبُونَهُ كَمَا نَعَتَ لَكُمْ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ، رِجَالٌ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Kulayb ibn Shihab reported: I sat with Ali radiya Allahu anhu while busy with people's affairs. A travel-clad man came saying, O Commander of the Faithful, but Ali remained occupied. Kulayb asked, What is your matter. He said, I performed Hajj or Umrah, passed Aishah radiya Allahu anha who asked, Who are those who rebelled toward you called Haruriyyah. I said, From a place called Harura', hence named. She said, Glad tidings to whoever witnesses their destruction; by Allah, if Ibn Abi Talib wished he could tell you their report. So I came asking. When Ali finished he asked, Where is the seeker of leave. He stood recounting as before. Ali thrice proclaimed Allah's greatness then said, I was with the Messenger of Allah ﷺ with none but Aishah present, and he said to me: > **"O Ali, how will you be with a people emerging in such-and-such place."** motioning east with his hand: > **"They recite the Quran but it will not pass their throats — or collarbones. They pass out of Islam as the arrow passes through the target. Among them a defective-handed man whose hand is like an Abyssinian woman's breast."** Then he adjured those present whether he had told them he was among them; they said yes; whether they went seeking and dragged him as described; then said thrice, Allah and His Messenger spoke truth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ لوگوں کے معاملات میں مصروف تھے اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا جس کے جسم پر سفر کا لباس تھا اس نے کہا : اے امیر المومنین لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ دیگر امور کی طرف متوجہ رہے ‘ اور اس کی طرف توجہ نہیں دی کلیب بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ‘ تو اس نے بتایا : میں حج کے سلسلے میں یا عمرے کے سلسلے میں گیا ہوا تھا راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں سمجھ آئی کہ اس نے کیا کہا ہے اس نے بتایا : میرا گزر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا : وہ لوگ کون ہیں ، جنہوں نے تمہاری طرف خروج کیا ہے جنہیں حروریہ کہا جاتا ہے ‘ تو میں نے بتایا : وہ ایک جگہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام حروراء ہے ‘ اور اس حوالے سے ان کا نام حروریہ رکھا گیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ‘ جو انہیں ہلاک کرنے میں شریک ہوتا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا اللہ کی قسم اگر ابن ابوطالب چاہیں ، تو میں تم لوگوں کو ان کے حالات کے بارے میں بتا سکتی ہوں ۔ ( اس شخص نے کہا : ) تو اسی وجہ سے میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : اجازت لینے والا شخص کہاں ہے وہ شخص ان کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے پورا واقعہ بیان کیا جو اس نے میرے سامنے بیان کیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ «لا الہ الا اللہ» پڑھا اور پھر یہ کہا کہ میں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور آپ کے پاس موجود نہیں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے علی ! اس وقت تم کیا کرو گے کہ جب فلاں جگہ پر کچھ لوگ نکلیں گے نبی اکرم ﷺ نے مشرق کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے ‘ لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ان لوگوں میں ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ نامکمل ہو گا اس کا ہاتھ حبشی عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا ‘‘۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں نے تم لوگوں سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ وہ شخص ان لوگوں میں ہو گا لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم لوگ گئے تھے تم نے اسے تلاش کیا تھا پھر تم اسے گھسیٹتے ہوئے لے کر آئے تھے اور وہ ویسا ہی تھا جیسے میں نے تمہارے سامنے بیان کیا تھا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں امام بزار نے یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔

10447

Majma al-Zawaid #10447

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ الْخَوَارِجَ، وَسَأَلَتْ مَنْ قَتَلَهُمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ النَّهْرِ - فَقَالُوا: عَلِيٌّ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَقْتُلُهُمْ خِيَارُ أُمَّتِي، وَهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ قِصَّةٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah radiya Allahu anha mentioned the Khawarij asking who killed them — the people of the river. They said, Ali. She said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The best of my ummah kill them, and they are the worst of my ummah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے خوارج کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے دریافت کیا : کس نے انہیں قتل کیا ہے ‘ تو لوگوں نے بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ان لوگوں کو میری امت کے بہترین لوگ قتل کریں گے ‘ اور وہ لوگ ( یعنی خوارج ) میری امت کے بدترین لوگ ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ جس میں پورا واقعہ منقول ہے ۔

10448

Majma al-Zawaid #10448

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَنْ قَتَلَ ذَا الثُّدَيَّةِ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Aishah radiya Allahu anha asked, Who killed Dhu al-Thudayyah, Ali ibn Abi Talib radiya Allahu anhu. They said, Yes. She said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"A people will emerge reciting the Quran but it will not pass their throats. They pass through religion as the arrow passes through the target. Their mark is a defective-handed man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : ذوثدیہ کو کس نے قتل کیا تھا ؟ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کچھ لوگ نکلیں گے ‘ جو قرآن پڑھیں گے ‘ لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘ اور ان کی مخصوص نشانی ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ نا مکمل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

10449

Majma al-Zawaid #10449

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَقَدْ عَلِمَ أُولُو الْعِلْمِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ. فَسَأَلُوهَا أَنَّ أَصْحَابَ ذِي الثُّدَيَّةِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ أَصْحَابَ النَّهْرَوَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali radiya Allahu anhu said, Those of knowledge from the family of Muhammad and Aishah bint Abi Bakr radiya Allahu anha know that the companions of Dhu al-Thudayyah are cursed upon the tongue of the unlettered Prophet ﷺ; in another version, the people of Nahrawan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت محمد ( ﷺ ) کی آل سے تعلق رکھنے والے صاحبان علم اور سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما یہ بات جانتے ہیں کہ ذوثدیہ کے ساتھیوں کو نبی امی ﷺ کی زبانی ملعون قرار دیا گیا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نہروان والے لوگوں کو ( امی نبی ﷺ کی زبانی ملعون قرار دیا گیا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

10450

Majma al-Zawaid #10450

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَتِ الْحَرُورِيَّةُ وَكَانُوا عَلَى حِدَتِهِمْ، قُلْتُ لِعَلِيٍّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ عَنِ الصَّلَاةِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَأُكَلِّمُهُمْ، قَالَ: إِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَيْكَ. قُلْتُ: كَلَّا إِنَّ شَاءَ اللَّهُ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا قَدَرْتُ عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ الْيَمَانِيَّةِ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ وَهُمْ قَائِلُونَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ أَرَ قَوْمًا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ، أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا ثِفَنُ الْإِبِلِ، وَوُجُوهُهُمْ مُعْلَنَةٌ مِنْ آثَارِ السُّجُودِ، فَدَخَلْتُ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَصْحَابِ رِسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ الْوَحْيُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُحَدِّثُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُحَدِّثَنَّهُ. قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَا تَنْقِمُونَ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَتَنِهِ، وَأَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ؟ قَالُوا: نَنْقِمُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: 57]. قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالُوا: قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، لَئِنْ كَانُوا كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّتْ أَمْوَالُهُمْ، وَإِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ لَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ دِمَاؤُهُمْ. قَالَ: قُلْتُ: وَمَاذَا؟ قَالُوا: وَمَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ. قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ الْمُحْكَمِ، وَحَدَّثْتُكُمْ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَا تُنْكِرُونَ أَتَرْجِعُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: قُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: 95]. إِلَى قَوْلِهِ: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95]، وَقَالَ فِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: 35]. أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، أَفَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ أَحَقُّ أَمْ فِي أَرْنَبٍ ثَمَنُهَا رُبُعُ دِرْهَمٍ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ، وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ. قَالَ: أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: إِنَّهُ قَتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ؟ أَمْ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا تَسْتَحِلُّونَ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَقَدْ كَفَرْتُمْ. وَإِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِأُمِّكُمْ فَقَدْ كَفَرْتُمْ، وَخَرَجْتُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ ; إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: 6] وَأَنْتُمْ تَتَرَدَّدُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ، فَاخْتَارُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ، أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ; «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا، فَقَالَ: "" اكْتُبْ: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَقَالَ: "" وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ». وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ، أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. فَرَجَعَ مِنْهُمْ عِشْرُونَ أَلْفًا، وَبَقِيَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ فَقُتِلُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِبَعْضِهِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas radiya Allahu anhuma reported: When Haruriyyah seceded apart, I told Ali radiya Allahu anhu, O Commander of the Faithful, delay prayer that I may go speak to them. He said, I fear them for you. I said, No, Allah willing. I wore my best Yamani garments, entered at midday rest upon a people never seen more striving, hands like camel knees, faces marked from prostration. They welcomed, O Ibn Abbas, what brings you. I said, I come to speak of the Companions of the Messenger ﷺ; revelation descended and they know its interpretation. Some said, Speak not to him; others said, We shall speak. I asked, What do you blame upon the cousin of the Messenger ﷺ, his son-in-law, first believer, with the Companions with him. They said, Three things. I asked, What. They said, First he arbitrated men in Allah's religion while Allah says, Judgment is but Allah's, An'am 57. I asked, What else. They said, He fought but took no captives nor spoils; if disbelievers their wealth was lawful, if believers their blood unlawful. I asked, What else. They said, He erased himself from Commander of the Faithful; if not their commander then commander of disbelievers. I said, If I recite decisive Book and narrate your Prophet's Sunnah ﷺ undeniable, will you return. They said, Yes. I said, As for arbitrating men, Allah says, O believers kill no game in pilgrim sanctity, Ma'idah 95, to, judged by two just men among you, Ma'idah 95, and concerning spouses, If you fear breach send an arbiter from his folk and an arbiter from hers, Nisa 35. I adjure you by Allah, is men's judgment in blood, lives and reconciliation worthier, or concerning a rabbit worth quarter dirham. They said, O Allah, in sparing blood and reconciliation. I said, Are you out of this. They said, O Allah, yes. As for fighting without captives or spoils, would you enslave your mother or deem lawful from her what from others; you have disbelieved. If you claim she is not your mother you disbelieved and exited Islam; Allah says, The Prophet is nearer to believers than themselves and his wives their mothers, Ahzab 6. You waver between two misguidances; choose. Are you out of this. They said, O Allah, yes. As for erasing Commander of the Faithful, the Messenger ﷺ at Hudaybiyah called Quraysh to write a document, saying: > **"Write: This is what Muhammad the Messenger of Allah conciliated upon."** They said, By Allah had we known you Allah's Messenger we would not bar you nor fight you; write Muhammad ibn Abdillah. He said: > **"By Allah I am Allah's Messenger though you belie me. Write, O Ali: Muhammad ibn Abdillah."** The Messenger ﷺ was better than Ali. Are you out of this. They said, O Allah, yes. Twenty thousand returned; four thousand remained and were killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حروریہ نے علیحدگی اختیار کی اور وہ الگ ہو گئے ‘ تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اے امیر المومنین آپ نماز میں ذرا تاخیر کریں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس سے ہو آؤں اور ان سے بات چیت کروں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دیں میں نے کہا : اگر اللہ نے چاہا تو ایسا نہیں ہو گا پھر میں نے اپنے پاس موجود سب سے عمدہ یمانی لباس پہنا اور میں ان لوگوں کے پاس گیا اس وقت وہ لوگ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے میں ان لوگوں کے پاس آیا میں نے اس طرح کے محنتی لوگ کبھی نہیں دیکھے ان کے ہاتھ ‘ اونٹ کے سخت نشان کی طرح تھے ‘ اور ان کے چہروں پر سجدوں کے نشانات تھے میں داخل ہوا تو انہوں نے کہا : اے ابن عباس آپ کو خوش آمدید ہے آپ کس سلسلے میں آئے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ اللہ کے رسول کے اصحاب کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے آیا ہوں وحی نازل ہو چکی ہے ‘ اور اس کے مفہوم کے بارے میں یہ لوگ زیادہ بہتر جانتے ہیں ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا کہ تم لوگ ان کے ساتھ بات نہ کرو اور کچھ نے کہا : ہم ان کے ساتھ ضرور بات کریں گے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا : تم لوگ مجھے بتاؤ کہ تمہیں اللہ کے رسول کے چچازاد اور ان کے داماد پر کیا اعتراض ہے ‘ جو سب سے پہلے ان پر ایمان لائے تھے اور پھر اللہ کے رسول کے اصحاب بھی ان کے ساتھ ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہمیں ان پر تین اعتراضات ہیں میں نے دریافت کیا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں انسانوں کو ثالث مقرر کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ حکم صرف اللہ کا ہو گا ‘‘۔ میں نے دریافت کیا : اور کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : انہوں نے جنگ کی لیکن دشمن کو قیدی نہیں بنایا اور اس کے مال کو غنیمت شمار نہیں کیا اگر دوسرے گروہ کے لوگ کافر تھے ‘ تو ان کے اموال بھی حلال ہونے چاہیے تھے اور اگر وہ مومن تھے ‘ تو ان کے خون بھی ان پر حرام ہونے چاہیے تھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے دریافت کیا : اور کیا اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات سے امیر المومنین کا لفظ مٹا دیا تھا اگر وہ امیرالمومنین نہیں ہیں ، تو پھر وہ امیرالکافرین ہوں گے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر میں تمہارے سامنے اللہ کی محکم کتاب کی آیات تلاوت کروں اور تمہیں تمہارے نبی کی وہ سنت بیان کروں ‘ جس کا تم انکار نہ کر سکو ‘ تو کیا تم رجوع کر لو گے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں انسانوں کو حکم مقرر کیا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اے ایمان والو جب تم احرام کی حالت میں ہو ‘ تو تم شکار کو نہ مارو ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اس کے بارے میں تم میں سے دو عادل لوگ فیصلہ دیں ‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں یہ فرمایا ہے :’’ اگر تم لوگوں کو ان کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو ‘ تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو ‘‘۔ ( پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ لوگوں کی جانوں اور خون کے بارے میں انسانوں کو ثالث مقرر کرنا تاکہ لوگوں کے درمیان بہتری ہو یہ زیادہ حق رکھتا ہے یا ایک خرگوش کے بارے میں ثالث مقرر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے ‘ جس کی قیمت چار درہم ہو گی لوگوں نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ لوگوں کی جان کو محفوظ کرنا اور ان کے درمیان صلح کرنا یہ زیادہ حق رکھتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے اس اعتراض کا جواب پیش کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا : اللہ جانتا ہے جی ہاں ۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے قتل کیا اور قیدی نہیں بنایا اور مال کو غنیمت قرار نہیں دیا ‘ تو کیا تم لوگ اپنی ماں کو قیدی بناؤ گے یا ان کے حوالے سے اس چیز کو حلال قرار دو گے ‘ جس چیز کو تم ان کے علاوہ دیگر خواتین کے حوالے سے حلال قرار دیتے ہو اگر تم ایسا کرو گے ‘ تو تم کفر کے مرتکب ہو گے ‘ اور اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ تمہاری ماں نہیں ہے ‘ تو بھی تم کفر کے مرتکب ہو گے ‘ اور اسلام سے نکل جاؤ گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ نبی ‘ مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب ہیں ‘ اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں ‘‘۔ تو تم لوگ دو قسم کی گمراہیوں کے درمیان لڑھکتے پھرو گے ان دونوں میں سے جسے تم چاہو اختیار کر لو کیا میں نے اس اعتراض کا جواب دے دیا : انہوں نے کہا : اللہ جانتا ہے ۔ جی ہاں ! ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کے لئے لفظ امیر المومنین مٹوا دیا تھا تو حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے قریش کو یہ دعوت دی کہ آپ ان کے اور اپنے درمیان معاہدہ تحریر کر لیتے ہیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : تم یہ تحریر کرو کہ یہ وہ معاہدہ ہے ‘ جو اللہ کے رسول حضرت محمد ( ﷺ ) کر رہے ہیں تو مشرکین نے کہا : اللہ کی قسم اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو ہم نے آپ کو بیت اللہ تک جانے سے نہیں روکنا تھا ‘ اور آپ کے ساتھ جنگ نہیں کرنی تھی اور آپ یہ لکھیں کہ محمد بن عبداللہ ( یہ معاہدہ کر رہے ہیں ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم لوگ مجھے جھٹلاتے ہو : اے علی ! تم یہ لکھو محمد بن عبدالله ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : ) کیا اللہ کے رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتے تھے ؟ کیا میں نے اس اعتراض کا جواب بھی دے دیا ؟ ان لوگوں نے کہا : اللہ جانتا ہے جی ہاں راوی بیان کرتے ہیں : تو ان میں سے بیس ہزار افراد نے رجوع کر لیا اور چار ہزار افراد اپنے مسلک پر باقی رہے ‘ اور پھر وہ قتل ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10451

Majma al-Zawaid #10451

وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ: لَمَّا فَارَقَتِ الْخَوَارِجُ عَلِيًّا خَرَجَ فِي طَلَبِهِمْ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى عَسْكَرِ الْقَوْمِ، وَإِذَا لَهُمْ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَإِذَا فِيهِمْ أَصْحَابُ الثَّفِنَاتِ، وَأَصْحَابُ الْبَرَانِسِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ دَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شِدَّةٌ، فَتَنَحَّيْتُ فَرَكَزْتُ رُمْحِي، وَنَزَلْتُ عَنْ فَرَسِي، وَوَضَعْتُ بُرْنُسِي، فَنَثَرْتُ عَلَيْهِ دِرْعِي، وَأَخَذْتُ بِمِقْوَدِ فَرَسِي، فَقُمْتُ أُصَلِّي إِلَى رُمْحِي، وَأَنَا أَقُولُ فِي صَلَاتِي: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ قِتَالُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَكَ طَاعَةً فَأْذَنْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كَانَ مَعْصِيَةً فَأَرِنِي بَرَاءَتَكَ. قَالَ: فَإِنَّا كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا حَاذَانِي، قَالَ: تَعَوَّذْ بِاللَّهِ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ يَا جُنْدَبُ مِنْ شَرِّ الشَّكِّ، فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَيْهِ، وَنَزَلَ فَقَامَ يُصَلِّي، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَى بِرْذَوْنٍ يَقْرُبُ بِهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ. قَالَ: مَا قَطَعُوهُ؟ قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ. ثُمَّ جَاءَ آخَرُ أَرْفَعُ مِنْهُ فِي الْجَرْيِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مَا تَشَاءُ؟ قَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ، فَذَهَبُوا، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ عَلِيٌّ: مَا قَطَعُوهُ. ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَحْضِرُ بِفَرَسِهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مَا تَشَاءُ؟ قَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ، قَالَ: مَا قَطَعُوهُ وَلَا يَقْطَعُوهُ، وَلَيُقْتَلُنَّ دُونَهُ، عَهْدٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قُمْتُ فَأَمْسَكْتُ لَهُ بِالرِّكَابِ، فَرَكِبَ فَرَسَهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى دِرْعِي فَلَبِسْتُهَا، وَإِلَى قَوْسِي فَعَلَّقْتُهَا، وَخَرَجْتُ أُسَايِرُهُ. فَقَالَ لِي: يَا جُنْدَبُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَبْعَثُ إِلَيْهِمْ رَجُلًا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ، يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ رَبِّهِمْ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ، فَلَا يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ حَتَّى يَرْشُقُوهُ بِالنَّبْلِ، يَا جُنْدَبُ، أَمَا إِنَّهُ لَا يُقْتَلُ مِنَّا عَشَرَةٌ، وَلَا يَنْجُو مِنْهُمْ عَشَرَةٌ. فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَهُمْ فِي مُعَسْكَرِهِمُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ لَمْ يَبْرَحُوا، فَنَادَى عَلِيٌّ فِي أَصْحَابِهِ فَصَفَّهُمْ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَّ مِنْ رَأْسِهِ ذَا إِلَى رَأْسِهِ ذَا مَرَّتَيْنِ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ يَأْخُذُ هَذَا الْمُصْحَفَ، فَيَمْشِي بِهِ إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ رَبِّهِمْ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ، وَهُوَ مَقْتُولٌ وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ إِلَّا شَابٌّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ حَدَاثَةَ سِنِّهِ، قَالَ لَهُ: ارْجِعْ إِلَى مَوْقِفِكَ. ثُمَّ نَادَى الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِ إِلَّا ذَلِكَ الشَّابُّ. ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِ إِلَّا ذَلِكَ الشَّابُّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: خُذْ، فَأَخَذَ الْمُصْحَفَ، فَقَالَ لَهُ: أَمَا إِنَّكَ مَقْتُولٌ، وَلَسْتَ مُقْبِلًا عَلَيْنَا بِوَجْهِكَ حَتَّى يَرْشُقُوكَ بِالنَّبْلِ. فَخَرَجَ الشَّابُّ بِالْمُصْحَفِ إِلَى الْقَوْمِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُونَ قَامُوا وَنَشَّبُوا الْفَتَى قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ، قَالَ: فَرَمَاهُ إِنْسَانٌ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَعَدَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: دُونَكُمُ الْقَوْمُ، قَالَ جُنْدَبٌ: فَقَتَلْتُ بِكَفِّي هَذِهِ بَعْدَ مَا دَخَلَنِي مَا كَانَ دَخَلَنِي ثَمَانِيَةً، قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ الظُّهْرَ، وَمَا قُتِلَ مِنَّا عَشَرَةٌ، وَلَا نَجَا مِنْهُمْ عَشَرَةٌ كَمَا قَالَ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي السابِعَةِ، عَنْ جُنْدَبٍ، وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا السَّابِعَةِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jundab radiya Allahu anhu reported: When the Khawarij parted from Ali, he went seeking them and we with him, reaching their camp with a hum like bees from Quran recital, men of calloused knees and hooded cloaks. Awe entered me; I withdrew, planted my spear, dismounted, laid cap and coat, held my horse's rein, praying toward my spear: O Allah, if fighting them is obedience permit me, if disobedience show me innocence. Then Ali ibn Abi Talib came on the Messenger's mule ﷺ; abreast he said, Seek Allah's refuge from evil of doubt, O Jundab. I hastened; he dismounted praying when a rider approached asking, O Commander of the Faithful, have you need regarding the people. What. They crossed the river. He said, They did not cross. I said, Glory be to Allah. Another swifter came repeating; I said, Allah is Greatest. Ali said, They did not cross. A third galloping came repeating; he said, They did not cross nor shall, but shall be killed short of it, a covenant from Allah and His Messenger. I said, Allah is Greatest. I held his stirrup; he mounted his horse; I donned coat, hung bow, marching beside. He told me, O Jundab, I shall send a man reciting the Mushaf calling to Allah's Book and his Prophet's Sunnah ﷺ, and he shall not return facing us until showered with arrows. O Jundab, not ten of us shall be killed nor ten of them spared. We reached them unmoved in camp. Ali arrayed companions, walked the line twice asking, Who takes this Mushaf to them calling to Allah's Book and his Prophet's Sunnah, to be killed with Paradise. None answered but a youth of Banu Amir ibn Sa'sa'ah. Seeing his youth Ali said, Return to your post. He called second, third; only the youth emerged. Ali said, Take. He took; Ali said, You shall be killed and not return facing us until showered with arrows. The youth went; within hearing they rose wounding him before return; a man shot; he turned facing us and sat. Ali said, Upon the people. Jundab said, With this hand I killed eight before Zuhr after my earlier awe; not ten of us killed nor ten of them spared, as he said.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے ان کے ساتھ ہم بھی روانہ ہوئے ہم دشمن کے لشکر کے پاس پہنچ گئے قرآن کی تلاوت کی آواز یوں آ رہی تھی جس طرح شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے ان کے درمیان وہ لوگ بھی تھے جن کی جلد پر سخت نشان ( یا گٹھے ) تھے ‘ کچھ برانس والے ( یعنی عبادت گزار ) تھے ‘ جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو مجھے اس حوالے سے الجھن کا احساس ہوا میں ایک طرف ہٹ گیا میں نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیا اپنے گھوڑے سے اتر آیا اور اپنی ٹوپی اتار دی اس پر اپنی ذرہ رکھ دی میں نے اپنے گھوڑے کی چھڑی کو پکڑا اور نیزے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگا میں نماز کے دوران یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ اگر ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا تیری اطاعت ہے ‘ تو مجھے اس کی اجازت دے اور اگر یہ معصیت ہے ‘ تو مجھے لاتعلقی موقع فراہم کر راوی کہتے ہیں : ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے خچر پر سوار ہو کر تشریف لائے جب وہ میرے مد مقابل آئے ‘ تو انہوں نے فرمایا : تم اللہ کی پناہ مانگو تم اللہ کی پناہ مانگو اے جندب شک کے شر سے ( پناہ مانگو ) میں دوڑتا ہوا ان کی طرف گیا وہ سواری سے نیچے اترے اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے اسی دوران ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور بولا : اے امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا بات ہے اس نے کہا : آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا ہوا اس نے کہا : انہوں نے نہر کاٹ دی ہے ( یا پار کر لی ہے ) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا ۔ انہوں نے اسے پار کر لیا ہے میں نے کہا : سبحان اللہ پھر اس کے بعد ایک اور شخص آیا جس کی آواز زیادہ اونچی تھی اس نے کہا : اے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ۔ اس نے کہا : کیا آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے اس نے بتایا : ان لوگوں نے نہر پار کر لی ہے ‘ اور وہ چلے گئے ہیں میں نے کہا : «اللہ اکبر» حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ اسے پار نہیں کر سکتے پھر ایک اور شخص اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا آیا اور بولا : اے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے کہا : آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے بتایا : ان لوگوں نے نہر پار کر لی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ اسے پار نہیں کر سکتے ہیں ‘ اور نہ ہی اسے آگے کر سکیں گے وہ اس سے پہلے ہی قتل ہو جائیں گے یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عہد ہے میں نے کہا : «اللہ اکبر» پھر میں اٹھا میں نے ان کے لئے رکاب کو پکڑا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوے میں اپنی ذرہ کی طرف واپس آیا میں نے اسے پہنا میں نے اپنی کمان لی اور اسے لٹکایا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوا نکلا انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے جندب میں نے کہا : اے امیر المومنین میں حاضر ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ‘ تو ان کی طرف ایک شخص کو بھیجوں گا ‘ جو قرآن پڑھے گا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دے گا ‘ جو ان کا پروردگار اور ان کے نبی کی سنت کی طرف دعوت دے گا اور وہ ہماری طرف رخ نہیں کریں گے ‘ یہاں تک کہ اس شخص کو نیزوں کے ذریعے زخمی کر دیں گے ۔ اے جندب ! ہماری طرف سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوں گے ‘ اور ان کی طرف سے دس آدمی بھی نہیں بچیں گے راوی کہتے ہیں : ہم لوگ ان تک پہنچ گئے وہ لوگ اپنے لشکر میں موجود تھے جس میں پہلے تھے اور وہ اسی حالت میں تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب میں آواز بلند کی اور ان لوگوں کی صفیں بنوائیں پھر وہ صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آئے ایسا انہوں نے دو مرتبہ کیا وہ یہ کہہ رہے تھے کون شخص یہ قرآن لے کر ان لوگوں کی طرف جائے گا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف جو ان کا پروردگار ہے ‘ اور ان کے نبی کی سنت کی طرف دعوت دے گا وہ شخص قتل ہو جائے گا اور اسے جنت مل جائے گی کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جواب نہیں دیا بنو عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے انہیں جواب دیا : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کم عمری ملاحظہ کی تو اس سے فرمایا : تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ یہی اعلان کیا ، تو کوئی نکل کر ان کی طرف نہیں آیا صرف وہی نوجوان آیا پھر انہوں نے تیسری مرتبہ اعلان کیا ، تو صرف وہی نوجوان نکل کر ان کی طرف آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم یہ لو ! اس نے مصحف لیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم قتل ہو جاؤ گے ‘ اور تم ہمارے پاس واپس نہیں آؤ گے وہ لوگ تمہیں نیزوں کے ذریعے زخمی کر دیں گے ( یا قتل کر دیں گے ) وہ نوجوان قرآن مجید لے کر دشمن کی طرف گیا جب وہ ان کے اتنا قریب ہوا جہاں وہ اس کی آواز سن سکتے تھے ‘ تو وہ کھڑا ہوا اس نوجوان کے واپس آنے سے پہلے ان لوگوں نے اس پر تیر اندازی کی ایک شخص نے اسے تیر مارا اس نوجوان نے ہماری طرف رخ کیا اور بیٹھ گیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ان پر حملہ کر دو حضرت جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پہلے ان لوگوں کے بارے میں میرے ذہن میں جو بھی خیال آیا تھا اس کے بعد یہ حال ہوا کہ میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آٹھ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے قتل کر دیا ‘ اور ہم میں سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوئے ‘ اور ان میں سے دس آدمی بھی نہیں بچے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسابعہ کے حوالے سے حضرت جندب سے نقل کی ہے میں ابوسابعہ سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10452

Majma al-Zawaid #10452

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ مَوْلَى عَلِيٍّ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ عَلِيٍّ عَلَى النَّهْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، قَالَ: اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، وَأَمَرَ أَنْ يُوضَعَ عَلَى كُلِّ قَتِيلٍ قَصَبَةٌ، فَوَجَدُوهُ فِي وَهْدَةٍ فِي مُنْتَقَعِ مَاءٍ، رَجُلٌ أَسْوَدُ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فِي مَوْضِعِ يَدِهِ كَهَيْئَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ. فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَسَمِعَ أَحَدَ ابْنَيْهِ - إِمَّا الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ - يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرَاحَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَذِهِ الْعِصَابَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ثَلَاثَةٌ، لَكَانَ أَحَدُهُمْ عَلَى رَأْيِ هَؤُلَاءِ، إِنَّهُمْ لَفِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ، وَأَرْحَامِ النِّسَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Ja'far al-Farra', freedman of Ali, reported: I witnessed with Ali at the river. When finished killing them he said, Seek the defective-handed. They sought but found him not, and he ordered a reed placed on each slain. They found him in a hollow in stagnant water, a black man of foul odor, in place of his hand like a breast with hairs. When he saw him he said, Allah and His Messenger spoke truth. He heard one of his two sons — al-Hasan or al-Husayn — say, Praise to Allah who relieved Muhammad's ummah ﷺ of this band. Ali said, Had but three of Muhammad's ummah ﷺ remained, one would be upon their view; they are in men's loins and women's wombs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے غلام ابوجعفر فراء بیان کرتے ہیں : میں نہر کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا جب وہ ان لوگوں کو قتل کر کے فارغ ہوئے ‘ تو انہوں نے فرمایا : اس شخص کو تلاش کرو جس کا ایک ہاتھ نا مکمل ہو لوگوں نے انہیں تلاش کیا ‘ تو وہ انہیں ملا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دیا کہ ہر مقتول پر چھری رکھی جائے ‘ تو وہ شخص انہیں ایک نشیبی جگہ پر پانی کے قریب انہیں مل گیا وہ ایک سیاہ فام شخص تھا جس کی ظاہری حالت بدبودار تھی اور اس کے ایک ہاتھ کی جگہ چھاتی کی مانند تھی جس پر کچھ بال تھے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا تو ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں میں سے کسی شاید حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو یا شاید حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے سنا ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے حضرت محمد ( ﷺ ) کی امت کو اس گروہ سے نجات عطا کر دی ہے ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر حضرت محمد ( ﷺ ) کی امت میں سے صرف تین افراد باقی رہ جائیں تو ان میں سے کوئی ایک شخص ان لوگوں کے مسلک پر ہو گا اور یہ لوگ ابھی مردوں کی پشتوں میں اور عورتوں کے رحموں میں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10453

Majma al-Zawaid #10453

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُدَيْسٍ الْبَلَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَخْرُجُ أُنَاسٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُقْتَلُونَ بِجَبَلِ لُبْنَانَ أَوْ بِجَبَلِ الْخَلِيلِ». قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: فَقُتِلَ ابْنُ عُدَيْسٍ بِجَبَلِ لُبْنَانَ أَوْ بِجَبَلِ الْخَلِيلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ، وَقَدْ ضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Udays al-Balawi radiya Allahu anhu reported: I heard the Prophet ﷺ say: > **"People will emerge passing through religion as the arrow passes through the target. They shall be killed at Mount Lebanon — or Mount Khalil."** Ibn Lahi'ah said, Ibn Udays was killed at Mount Lebanon or Mount Khalil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عدیس بلوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ کچھ لوگ نکلیں گے ‘ جو دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے انہیں جبل لبان ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جبل خلیل کے پاس قتل کیا جائے گا ‘‘۔ ابن لہیعہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن عدیس کو جبل لبان یا شاید جبل کے خلیل کے پاس شہید کیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ مقارب الحال ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث یا صحیح ہوتی ہے ۔

10454

Majma al-Zawaid #10454

عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ عَشِيَّةَ جُمُعَةٍ وَعَلِيٌّ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَامُوا فِي نَوَاحِي الْمَسْجِدِ يَحْكُمُونَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ: كَلِمَةُ حَقٍّ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ، حُكْمَ اللَّهِ أَنْتَظِرُ فِيكُمْ، أَحْكُمُ فِيكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْسِمُ بَيْنَكُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَا نَمْنَعُكُمْ مِنْ هَذَا الْمَسْجِدِ أَنْ تُصَلُّوا فِيهِ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُونَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kathir ibn Namir reported: I entered Kufah mosque Friday evening while Ali preached; they stood in mosque corners chanting arbitration. He gestured with his hand then said, A word of truth sought for falsehood. I await Allah's judgment among you; I judge you by Allah's Book and His Messenger's Sunnah ﷺ, divide equally, bar you not from this mosque praying while your hands are with ours, and fight you not until you fight us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن نمر بیان کرتے ہیں : جمعہ کی شام میں مسجد کوفہ میں داخل ہوا ‘ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ‘ اور لوگ مسجد کے نواحی حصوں میں بھی کھڑے ہوئے تھے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے یہ اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : ’’ بات ٹھیک ہے ‘ لیکن اُس کے ذریعے باطل مراد لیا جا رہا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا حکم میں تمہارے درمیان جاری کرنا چاہتا ہوں ‘ اور میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ دوں گا ‘ اور میں تمہارے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کروں گا ‘ میں تم لوگوں کو اس مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہیں روکوں گا ‘ جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ رہیں گے ‘ اور ہم تمہارے ساتھ اُس وقت تک جنگ نہیں کریں گے ‘ جب تک تم ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرو گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10455

Majma al-Zawaid #10455

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، هَلْ تَدْرِي كَيْفَ حُكْمُ اللَّهِ فِي مَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ "". قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" لَا يُجْهَزُ عَلَى جَرِيحِهَا، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهَا، وَلَا يُطْلَبُ هَارِبُهَا، وَلَا يُطْلَبُ فَيْؤُهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: وَفِيهِ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar radiya Allahu anhuma: the Prophet ﷺ said: > **"O son of Umm Abd, do you know Allah's ruling on rebels of this ummah?"** He said, Allah and His Messenger know best. He said: > **"Their wounded are not finished, their captive not killed, their fugitive not pursued, their spoils not sought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے ابن ام عبد ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اس امت میں سے جو بغاوت کرے گا ؟ اس کے بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کے زخمیوں کی تیار داری نہیں کی جائے گی اُن کے قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اُن کے بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا ‘ اور اُن کا مال غنیمت تقسیم نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے ‘ اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔

10456

Majma al-Zawaid #10456

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ «أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ جَبْهَتِهِ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، فَنَبَتَتْ شَعْرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهْلَبَةُ الْفَرَسِ». وَشَبَّ الْغُلَامُ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ ; فَسَقَطَتِ الشَّعْرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ، فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ: أَلَمْ تَرَ إِلَى بَرَكَةِ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ؟ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ، فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الشَّعْرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reported that a boy was born in the Messenger's time ﷺ; brought to the Prophet ﷺ, he took his forehead skin praying blessing, and a hair grew like a horse's forelock. The boy grew; in Khawarij times he loved them, and the hair fell from his forehead. His father bound and confined him fearing joining them. They entered admonishing, Did you not see blessing of the Messenger's supplication ﷺ fall from your forehead. They persisted till he renounced their view; Allah restored the hair after, and he repented.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا بیٹا پیدا ہوا وہ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی پیشانی کی جلد کو پکڑا اور پھر اس کے لئے دعائے برکت کی تو اس کی پیشانی پر کچھ بال یوں اگ گئے جیسے گھوڑے کی گردن پر ہوتے ہیں پھر وہ لڑکا بڑا ہو گیا جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوارج سے محبت رکھنے لگا ‘ تو اس کی پیشانی سے وہ بال گر گئے اس کے باپ نے اسے پکڑا اور اسے قید کر دیا اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لڑکا خوارج کے ساتھ جا کے نہ ملے راوی کہتے ہیں : ہم اس کے پاس گئے ہم نے اسے وعظ ونصیحت کی ہم نے جو اسے باتیں کیں اس میں ہم نے یہ بھی کہا کہ کیا تم نے اس بات پے غور نہیں کیا کہ اللہ کے رسول کی دعا کی برکت تمہارے چہرے سے گر گئی ہے ہم مسلسل اسے تلقین کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس کی پیشانی پر دوبارہ بال لوٹا دیے جب اس نے توبہ کر لی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10457

Majma al-Zawaid #10457

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الْحَسَنِ وَجَارِيَةٌ تَحُتُّ شَيْئًا مِنْ حِنَّاءٍ عَنْ أَظَافِرِهِ فَجَاءَتْهُ أَضْبَارَةٌ مِنْ كُتُبٍ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، هَاتِي الْمِخْضَبَ، فَصَبَّ فِيهِ مَاءً، وَأَلْقَى الْكُتُبَ فِي الْمَاءِ، فَلَمْ يَفْتَحْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مِمَّنْ هَذِهِ الْكُتُبُ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ قَوْمٍ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى حَقٍّ، وَلَا يَقْصُرُونَ عَنْ بَاطِلٍ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَخْشَاهُمْ عَلَى نَفْسِي، وَلَكِنِّي أَخْشَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، وَأَشَارَ إِلَى الْحُسَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn al-Asamm reported: I went out with al-Hasan radiya Allahu anhu while a slave-girl scraped henna from his nails. A bundle of letters came. He said, O girl, bring the basin; pour water. He cast the letters in water, opening none nor looking. I asked, O Abu Muhammad, from whom. He said, From Iraqis, a people returning to no truth nor falling short of falsehood. I fear them not for myself, but fear them for him, pointing to al-Husayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن اصم بیان کرتے ہیں : میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا اس وقت ایک لڑکی ان کے ناخنوں سے مہندی کھرچ رہی تھی ان کے پاس تحریروں کا ایک گٹھہ آیا تو انہوں نے فرمایا : اے لڑکی بڑا برتن لاؤ اور اس میں پانی ڈال کے لاؤ پھر انہوں نے وہ تحریریں پانی میں ڈلوا دیں انہوں نے اس میں سے کسی کو کھولا بھی نہیں ، اور اس کو دیکھا بھی نہیں میں نے کہا : اے ابومحمد یہ تحریریں کن کی طرف سے ہیں انہوں نے جواب دیا : اہل عراق کی طرف سے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اہل حق کی طرف رجوع نہیں کرتے ہیں ‘ اور باطل میں کمی نہیں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کے حوالے سے ان کی طرف سے اندیشہ نہیں ہے لیکن مجھے اس کے حوالے سے ان لوگوں سے اندیشہ ہے ۔ امام حسن نے امام حسین کی طرف سے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن حکیم بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10458

Majma al-Zawaid #10458

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «فِيكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ، وَكَذَلِكَ أَحَادِيثُ فِي مَنْ يُقَاتِلُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri radiya Allahu anhu reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ and he said: > **"Among you is one who fights for interpretation of the Quran as I fought for its revelation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ نے ارشاد فرمایا :’’ تمہارے درمیان وہ شخص ہے ‘ جو قرآن کی تاویل کی بنیاد پر جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول کی بنیاد پر جنگ کی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک اور طریق ہے ‘ جو اس سے زیادہ طویل ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا اور اسی طرح کچھ احادیث وہ ہیں جو ان لوگوں کے بارے میں ہیں ، جن کے ساتھ وہ جنگ کریں گے ۔

10459

Majma al-Zawaid #10459

«عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنَّ الْعَصَبِيَّةَ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ، غَيْرَ قَوْلِهِ: «أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: "" لَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqa' radiya Allahu anhu reported: I asked the Prophet ﷺ, Is it partisanship for a man to love his people. He said: > **"No, but partisanship is for a man to aid his people in wrongdoing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا یہ چیز عصبیت میں شامل ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم کے بارے میں اپنی قوم کی مدد کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ کیا یہ چیز عصبیت میں شامل ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے آپ نے فرمایا : جی نہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر شامی ہے ۔ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10460

Majma al-Zawaid #10460

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas radiya Allahu anhuma from the Prophet ﷺ: > **"Whoever is killed defending his right is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ظلم کی بنیاد پر قتل ہو جائے وہ شہید ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10461

Majma al-Zawaid #10461

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «نِعْمَ الْمَنِيَّةُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ دُونَ حَقِّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَذَكَرَ فِيهِ قِصَّةً، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعْدٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr ibn Hafs: Sa'd ibn Abi Waqqas radiya Allahu anhu said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Fine is the death for a man to die for his right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اچھی موت یہ ہے کہ آدمی اپنے حق ( کی حفاظت کرتے ہوئے ) مر جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں پورا واقعہ نقل کیا ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوبکر بن حفص نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

10462

Majma al-Zawaid #10462

وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn Ali radiya Allahu anhuma reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is killed for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10463

Majma al-Zawaid #10463

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Abi Waqqas radiya Allahu anhu reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is killed for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند عمدہ ہے ۔

10464

Majma al-Zawaid #10464

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، قِيلَ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah radiya Allahu anhuma reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is killed for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن حیان رقی ہے یہ بات کہی گئی ہے یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔

10465

Majma al-Zawaid #10465

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبَّادِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah — meaning Ibn Mas'ud radiya Allahu anhu — reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is killed for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن محمد بن محاربی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عباد بن احمد عرزمی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10466

Majma al-Zawaid #10466

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمَقْتُولُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas radiya Allahu anhu from the Prophet ﷺ: > **"The slain for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہونے والا شخص شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10467

Majma al-Zawaid #10467

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ عَنْهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَحْدَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr radiya Allahu anhuma and Abdullah ibn Kurayz: the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is killed for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عامر بن کریظ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہو جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ امام طبرانی نے ان دونوں حضرات کے حوالے سے یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے صرف حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ امام بزار نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10468

Majma al-Zawaid #10468

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمَقْتُولُ دُونَ مَالِهِ شَهِيدٌ، وَالْمَقْتُولُ دُونَ أَهْلِهِ شَهِيدٌ، وَالْمَقْتُولُ دُونَ نَفْسِهِ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas radiya Allahu anhuma: the Prophet ﷺ said: > **"The slain for his property is a martyr, the slain for his family is a martyr, the slain for himself is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہونے والا شہید ہے اپنے اہل خانہ کی حفاظت کی خاطر قتل ہونے والا شہید ہے اپنی جان کی خاطر قتل ہونے والا شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10469

Majma al-Zawaid #10469

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws radiya Allahu anhu reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever wrongfully takes a span of land is collared with seven earths, and whoever is killed for his property is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بالشت بھر زمین ظلم کے طور پر لے گا اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کی خاطر قتل ہو جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10470

Majma al-Zawaid #10470

وَعَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ سَائِلٌ: إِنْ عَدَا عَلَيَّ عَادٍ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَإِنْ أَبَى؟ فَأَمَرَهُ بِقِتَالِهِ، قَالَ: فَكَيْفَ بِنَا؟ قَالَ: "" إِنْ قَتَلَكَ فَأَنْتَ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ قَتَلْتَهُ فَهُوَ فِي النَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Quhayd ibn Mutarrif al-Ghifari radiya Allahu anhu: a questioner asked the Messenger of Allah ﷺ, If an aggressor attacks me. He ordered him to forbid him thrice. He asked, If he refuses. He ordered fighting him. He asked, How fare we. He said: > **"If he kills you, you are in Paradise, and if you kill him, he is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قہید بن مطرف غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا : اگر کوئی زیادتی کرنے والا میرے خلاف زیادتی کرتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ اسے یہ حکم دیا کہ وہ اس شخص کو روکے گا اس نے عرض کی : اگر وہ شخص نہیں مانتا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ لڑے اس شخص نے دریافت کیا : پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے تمہیں قتل کر دیا ‘ تو تم جنت میں جاؤ گے ‘ اور اگر تم نے اسے قتل کر دیا ‘ تو وہ جہنم میں جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10471

Majma al-Zawaid #10471

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الدَّارُ حَرَمٌ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْكَ حَرَمَكَ فَاقْتُلْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ السُّلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit radiya Allahu anhu: the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The house is sanctuary; whoever enters your sanctuary against you, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ گھر حرم ہوتا ہے ‘ جو شخص تمہارے حرم میں ( اجازت کے بغیر ) داخل ہو جائے تم اسے قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر سلمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔