وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجَعَ وَحَطَّ عَنْ رَاحِلَتِهِ عَمَدَ إِلَى مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَجَعَلَ يُصَلِّي فِيهِ، فَيُطِيلُ الصَّلَاةَ حَتَّى جَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرَوْنَ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَيْهِمْ. فَمَرَّ يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا جَاءَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقْبِلًا، قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ "". فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى الْمَجْلِسِ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقُلْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ: لَيْسَ فِي الْقَوْمِ خَيْرٌ مِنِّي؟ "". قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى نَاحِيَةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَخَطَّ خَطًّا بِرِجْلِهِ، ثُمَّ صَفَّ كَعْبَيْهِ فَقَامَ يُصَلِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ؟ "". فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ؟ "" فَقَالَ: وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ؟ "" فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا، وَأَخَذَ السَّيْفَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي فَرَجَعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ: "" أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ؟ "". قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ لَهُ إِنْ أَدْرَكْتَهُ "". فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ؟ "". قَالَ: لَمْ أَدْرِ أَيْنَ سَلَكَ مِنَ الْأَرْضِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ خَرَجَ فِي أُمَّتِي "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ قَتَلْتَهُ - أَوْ قَتَلَهُ - مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي اثْنَانِ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ - يَعْنِي أُمَّتَهُ - سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً "". قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ؟ قَالَ: "" الْجَمَاعَةُ» "". قَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، فَأَيْنَ الْجَمَاعَةُ؟ قَالَ: مَعَ أُمَرَائِكُمْ مَعَ أُمَرَائِكُمْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَيَزِيدُ الرِّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ صَحَّ قَبْلَهُ حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Malik radiya Allahu anhu reported: In the time of the Messenger of Allah ﷺ there was a man who went on expedition with him. On return he would dismount, head for the mosque of the Messenger, pray at length, until the Companions thought him superior to them. One day he passed while the Messenger ﷺ sat among his Companions. A Companion said, O Messenger of Allah, there is that man. The Prophet ﷺ either sent for him or he came himself. When the Messenger ﷺ saw him approaching he said: > **"By the One in Whose Hand is my soul, between his eyes is a mark of Satan."** When he stopped at the gathering the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Did you say to yourself when you stopped at the gathering, there is none among the people better than me?"** He said, Yes. Then he left for a corner of the mosque, drew a line with his foot, straightened his heels and stood praying. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Which of you will rise to this man and kill him?"** Abu Bakr rose. The Messenger ﷺ asked: > **"Did you kill the man?"** He said, I found him praying and feared him. The Messenger ﷺ said: > **"Which of you will rise to this man and kill him?"** Umar said, I will. He took the sword, found him praying, and returned. The Messenger ﷺ asked Umar: > **"Did you kill the man?"** He said, O Messenger of Allah, I found him praying and feared him. The Messenger ﷺ said: > **"Which of you will rise to this man and kill him?"** Ali said, I will. The Messenger ﷺ said: > **"You, if you find him."** Ali went and did not find him. The Messenger ﷺ asked: > **"Did you kill the man?"** He said, I do not know which way he went in the land. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"This is the first generation to emerge in my ummah. Had you killed him — or had he been killed — no two in my ummah would have differed. Banu Isra'il split into seventy-one sects, and this ummah will split into seventy-two sects, all in the Fire but one."** They asked, O Prophet of Allah, which sect is that. He said: > **"The Jama'ah."** Yazid al-Raqashi asked Anas, O Abu Hamzah, where is the Jama'ah. He said, With your rulers, with your rulers.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا جب آپ واپس تشریف لائے ‘ تو وہ شخص اپنی سواری سے اترا اور مسجد نبوی کی طرف گیا اور اس میں نماز ادا کرنے لگا اس نے نماز کو طول دیا ‘ یہاں تک کہ صحابہ کرام یہ سمجھنے لگے کہ اس شخص کو سب لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ایک دن وہ شخص گزرا نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے آپ کے کسی صحابی نے آپ کی خدمت میں عرضی کی : یا رسول اللہ ! یہ وہی شخص ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے بلوایا ‘ یا وہ شخص خود اس طرف آ گیا جب نبی اکرم ﷺ نے اسے آتے ہوئے ملاحظہ کیا ‘ تو ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان شیطان کا شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ‘ جب وہ شخص اس محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ‘ تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں پھر وہ شخص چلا گیا وہ مسجد کے ایک کونے میں آیا اس نے اپنے پاؤں کے ذریعے ایک لکیر کھینچی اپنی ایڑیاں درست کیں اور پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جا کر اسے قتل کرے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جائے گا اور اسے قتل کر دے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ انہوں نے تلوار لی انہوں نے اس شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو وہ بھی واپس آ گئے نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس شخص کی طرف جائے گا اور قتل کر دے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے کر دو گے اگر تم نے اسے پایا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو نہیں پایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ زمین میں کہاں چلا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ میری امت میں خروج کرنے والا پہلا گروہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اگر تم اسے قتل کر دیتے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو میری امت کے دو افراد کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہونا تھا بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ امت ( یعنی نبی اکرم ﷺ کی امت ) عنقریب بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی ایک گروہ کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ ایک گروہ کون سا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : الجماعة یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوحمزہ ! جماعت کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے حکمرانوں کے ساتھ تمہارے حکمرانوں کے ساتھ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے یزید رقاشی نامی راوی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی کمزوری توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مستند روایت گزر چکی ہے ۔