Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 28 · Chapter 1

Book of Fighting Rebels

Hadith 10399–10438

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10399

Majma al-Zawaid #10399

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَضَى الصَّلَاةَ، وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ "". فَقَامَ رَجُلٌ، فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهَ وَهَزَّهُ، وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟!. ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ "" فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ، فَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ شَافٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah radiya Allahu anhu reported: The Prophet of Allah ﷺ passed by a man prostrating while on his way to prayer. He completed the prayer and returned to find him still prostrating. The Prophet ﷺ stood and said: > **"Who will kill this man?"** A man rose, bared his arms, drew his sword and brandished it, then said, O Prophet of Allah, may my father and mother be ransom for you, how can I kill a prostrating man who testifies that none is worthy of worship but Allah and that Muhammad is His servant and Messenger. The Prophet ﷺ again said: > **"Who will kill this man?"** Another man rose and said, I will. He bared his forearms, drew his sword and brandished it until his hand trembled, then said, O Prophet of Allah, how can I kill a prostrating man who testifies that none is worthy of worship but Allah and that Muhammad is His servant and Messenger. The Prophet ﷺ said: > **"By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, had you killed him it would have been the first fitnah and the last."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو سجدے کی حالت میں تھا آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے آپ نے نماز ادا کر لی جب آپ واپسی پر اس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت بھی سجدے کی حالت میں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : کون اسے قتل کرے گا ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے اپنی آستینیں چڑھائیں تلوار نکالی اسے لہرایا اور عرض کی ‘ اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ میں ایسے شخص کو کیسے قتل کر سکتا ہوں جو سجدے کی حالت میں ہے ‘ اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کون اسے قتل کرے گا ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ۔ انہوں نے اپنی آستینیں چڑھائیں تلوار کھینچی اسے لہرایا لیکن پھر ان کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اپنے شخص کو کیسے قتل کر سکتا ہوں جو سجدے کی حالت میں ہے ‘ اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم لوگ اسے قتل کر دیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے کسی شافی بیان کے بغیر نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10400

Majma al-Zawaid #10400

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ، حَسَنُ الْهَيْئَةِ، يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ "". قَالَ: فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ: "" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ "". فَذَهَبَ عُمَرُ، فَرَآهُ عَلَى الْحَالِ الَّذِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ، فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ. قَالَ: "" يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ ""، فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ، فَرَجَعَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَرَهُ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فَوْقِهِ، فَاقْتُلُوهُمْ، هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri radiya Allahu anhu reported: Abu Bakr al-Siddiq radiya Allahu anhu came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, I passed by such-and-such a valley and saw a humble man of fine appearance praying. The Prophet ﷺ said to him: > **"Go and kill him."** Abu Bakr went to him, saw him in that state, disliked killing him, and returned to the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ said to Umar radiya Allahu anhu: > **"Go and kill him."** Umar went, saw him as Abu Bakr had seen him, and returned saying, O Messenger of Allah, I saw him praying humbly and disliked killing him. He said: > **"O Ali, go and kill him."** Ali radiya Allahu anhu went but did not find him, and returned saying, O Messenger of Allah, I did not see him. The Prophet ﷺ said: > **"This man and his companions recite the Quran but it does not pass their throats. They pass through the religion as the arrow passes through the target, then never return to it until the arrow returns to its notch. Kill them; they are the worst of creation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گزر فلاں فلاں وادی سے ہوا وہاں ایک خشوع و خضوع والا شخص موجود تھا جس کی ظاہری حالت اچھی تھی وہ نماز ادا کر رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اسے قتل کر دو راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف گئے جب انہوں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا تو اسے قتل کرنے کو ناپسند کیا وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم جاؤ اور اسے قتل کر دو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گئے انہوں نے اس شخص کو اسی حالت میں دیکھا جس حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تھا راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ بھی واپس آ گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے دیکھا کہ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا تو میں نے اسے قتل کرنے کو ناپسند کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے علی تم جاؤ اور اسے قتل کر دو حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے لیکن انہیں وہ شخص نظر نہیں آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس آ گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے وہ نظر نہیں آیا راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک یہ شخص اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے ‘ لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘ اور پھر وہ دین میں واپس اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک تیر کمان میں اپنی جگہ پر واپس نہیں آتا تم ان لوگوں کو قتل کرنا کیونکہ وہ مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10401

Majma al-Zawaid #10401

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجَعَ وَحَطَّ عَنْ رَاحِلَتِهِ عَمَدَ إِلَى مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَجَعَلَ يُصَلِّي فِيهِ، فَيُطِيلُ الصَّلَاةَ حَتَّى جَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرَوْنَ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَيْهِمْ. فَمَرَّ يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا جَاءَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقْبِلًا، قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ "". فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى الْمَجْلِسِ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقُلْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ: لَيْسَ فِي الْقَوْمِ خَيْرٌ مِنِّي؟ "". قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى نَاحِيَةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَخَطَّ خَطًّا بِرِجْلِهِ، ثُمَّ صَفَّ كَعْبَيْهِ فَقَامَ يُصَلِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ؟ "". فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ؟ "" فَقَالَ: وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ؟ "" فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا، وَأَخَذَ السَّيْفَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي فَرَجَعَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ: "" أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَهِبْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى هَذَا فَيَقْتُلُهُ؟ "". قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ لَهُ إِنْ أَدْرَكْتَهُ "". فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقَتَلْتَ الرَّجُلَ؟ "". قَالَ: لَمْ أَدْرِ أَيْنَ سَلَكَ مِنَ الْأَرْضِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ خَرَجَ فِي أُمَّتِي "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ قَتَلْتَهُ - أَوْ قَتَلَهُ - مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي اثْنَانِ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ - يَعْنِي أُمَّتَهُ - سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً "". قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ؟ قَالَ: "" الْجَمَاعَةُ» "". قَالَ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، فَأَيْنَ الْجَمَاعَةُ؟ قَالَ: مَعَ أُمَرَائِكُمْ مَعَ أُمَرَائِكُمْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَيَزِيدُ الرِّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ صَحَّ قَبْلَهُ حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik radiya Allahu anhu reported: In the time of the Messenger of Allah ﷺ there was a man who went on expedition with him. On return he would dismount, head for the mosque of the Messenger, pray at length, until the Companions thought him superior to them. One day he passed while the Messenger ﷺ sat among his Companions. A Companion said, O Messenger of Allah, there is that man. The Prophet ﷺ either sent for him or he came himself. When the Messenger ﷺ saw him approaching he said: > **"By the One in Whose Hand is my soul, between his eyes is a mark of Satan."** When he stopped at the gathering the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Did you say to yourself when you stopped at the gathering, there is none among the people better than me?"** He said, Yes. Then he left for a corner of the mosque, drew a line with his foot, straightened his heels and stood praying. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Which of you will rise to this man and kill him?"** Abu Bakr rose. The Messenger ﷺ asked: > **"Did you kill the man?"** He said, I found him praying and feared him. The Messenger ﷺ said: > **"Which of you will rise to this man and kill him?"** Umar said, I will. He took the sword, found him praying, and returned. The Messenger ﷺ asked Umar: > **"Did you kill the man?"** He said, O Messenger of Allah, I found him praying and feared him. The Messenger ﷺ said: > **"Which of you will rise to this man and kill him?"** Ali said, I will. The Messenger ﷺ said: > **"You, if you find him."** Ali went and did not find him. The Messenger ﷺ asked: > **"Did you kill the man?"** He said, I do not know which way he went in the land. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"This is the first generation to emerge in my ummah. Had you killed him — or had he been killed — no two in my ummah would have differed. Banu Isra'il split into seventy-one sects, and this ummah will split into seventy-two sects, all in the Fire but one."** They asked, O Prophet of Allah, which sect is that. He said: > **"The Jama'ah."** Yazid al-Raqashi asked Anas, O Abu Hamzah, where is the Jama'ah. He said, With your rulers, with your rulers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا جب آپ واپس تشریف لائے ‘ تو وہ شخص اپنی سواری سے اترا اور مسجد نبوی کی طرف گیا اور اس میں نماز ادا کرنے لگا اس نے نماز کو طول دیا ‘ یہاں تک کہ صحابہ کرام یہ سمجھنے لگے کہ اس شخص کو سب لوگوں پر فضیلت حاصل ہے ایک دن وہ شخص گزرا نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے آپ کے کسی صحابی نے آپ کی خدمت میں عرضی کی : یا رسول اللہ ! یہ وہی شخص ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے بلوایا ‘ یا وہ شخص خود اس طرف آ گیا جب نبی اکرم ﷺ نے اسے آتے ہوئے ملاحظہ کیا ‘ تو ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان شیطان کا شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ‘ جب وہ شخص اس محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ‘ تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں پھر وہ شخص چلا گیا وہ مسجد کے ایک کونے میں آیا اس نے اپنے پاؤں کے ذریعے ایک لکیر کھینچی اپنی ایڑیاں درست کیں اور پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جا کر اسے قتل کرے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس کی طرف جائے گا اور اسے قتل کر دے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ انہوں نے تلوار لی انہوں نے اس شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو وہ بھی واپس آ گئے نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو میں اس سے ڈر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کون اٹھ کر اس شخص کی طرف جائے گا اور قتل کر دے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے کر دو گے اگر تم نے اسے پایا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے ، تو انہوں نے اس شخص کو نہیں پایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس شخص کو قتل کر دیا انہوں نے عرض کی : مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ زمین میں کہاں چلا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ میری امت میں خروج کرنے والا پہلا گروہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اگر تم اسے قتل کر دیتے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو میری امت کے دو افراد کے درمیان بھی اختلاف نہیں ہونا تھا بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور یہ امت ( یعنی نبی اکرم ﷺ کی امت ) عنقریب بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی ایک گروہ کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ ایک گروہ کون سا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : الجماعة یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوحمزہ ! جماعت کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے حکمرانوں کے ساتھ تمہارے حکمرانوں کے ساتھ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے یزید رقاشی نامی راوی کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس کی کمزوری توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مستند روایت گزر چکی ہے ۔

10402

Majma al-Zawaid #10402

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَاجْتِهَادُهُ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِاسْمِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَذْكُرُهُ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ، قُلْنَا: هَا هُوَ ذَا. قَالَ: "" إِنَّكُمْ لَتُخْبِرُونِي عَنْ رَجُلٍ إِنَّ عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ "". فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، هَلْ قُلْتَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَى الْمَجْلِسِ: مَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلُ مِنِّي؟ "" قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ؟ ""، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! أَقْتُلُ رَجُلًا يُصَلِّي، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ؟ فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: "" مَا فَعَلْتَ؟ "". قَالَ: كَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ وَهُوَ يُصَلِّي، وَقَدْ نَهَيْتَ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ. قَالَ عُمَرُ: أَنَا، فَدَخَلَ فَوَجَدَهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَبُو بَكْرٍ أَفْضَلُ مِنِّي. فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْ؟ "" قَالَ: وَجَدْتُهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ. فَقَالَ: "" مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ؟ "". فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا. فَقَالَ: "" أَنْتَ إِنْ أَدْرَكْتَهُ "". قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَهْ "". قَالَ: مَا وَجَدْتُهُ. قَالَ: "" لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي رَجُلَانِ، كَانَ أَوَّلَهُمْ وَآخِرَهُمْ» "". قَالَ مُوسَى: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ: هُوَ الَّذِي قَتَلَهُ عَلِيٌّ، ذُو الثِّدْيَةِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ. وَلَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik radiya Allahu anhu reported: In the time of the Messenger of Allah ﷺ there was a man whose devotion and striving impressed us. We mentioned him by name to the Messenger ﷺ but he did not know him; we described him but he did not know him. While we spoke, the man appeared. We said, there he is. He said: > **"You tell me of a man on whose face is a mark of Satan."** He came, stopped before them without greeting. The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"I adjure you by Allah, did you say when you stopped at the gathering, there is none among the people better than me?"** He said, O Allah, yes. Then he entered to pray. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Who will kill the man?"** Abu Bakr said, I will. He entered, found him standing in prayer, and said, Glory be to Allah, shall I kill a praying man when the Messenger ﷺ forbade killing those who pray. He came out. The Messenger said: > **"What did you do?"** He said, I disliked killing him while praying, and you forbade killing those who pray. Umar said, I will. He entered, found him with face lowered in prostration, and said to himself, Abu Bakr is better than me, and came out. The Messenger ﷺ said: > **"What happened?"** He said, I found him with face lowered and disliked killing him. He said: > **"Who will kill the man?"** Ali said, I will. He said: > **"You, if you reach him."** Ali entered and found he had left, and returned to the Messenger ﷺ. He said: > **"What happened?"** He said, I did not find him. He said: > **"Had he been killed, no two men in my ummah would have differed; he would have been the first of them and the last."** Musa heard Muhammad ibn Ka'b say, he is the one Ali killed, Dhu al-Thudayyah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جس کی عبادت گزاری اور عبادت میں محنت ہمیں اچھی لگتی تھی ہم نے اس کا نام لے کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا ‘ تو نبی کرم ﷺ نے اسے نہیں پہچانا ہم نے اس کا حلیہ بیان کیا ‘ تو آپ نے اسے نہیں پہچانا ابھی ہم اس کا ذکر کر ہی رہے تھے کہ اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا ہم نے عرض کی : وہ یہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا ہے ‘ جس کے چہرے پر شیطان کا داغ ( یا ٹھپہ ) ہے ‘ وہ شخص آیا اور ان حضرات کے پاس ٹھہر گیا اس نے سلام نہیں کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جب تم اس محفل کے پاس آ کر ٹھہرے تھے ‘ تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی مجھ سے زیادہ فضلیت نہیں رکھتا ہے اس نے جواب دیا اللہ جانتا ہے جی ہاں پھر وہ شخص اندر گیا اور نماز ادا کرنے لگا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون اس شخص کو قتل کرے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے ‘ تو انہوں نے اس شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا تو انہوں نے سوچا سبحان اللہ کیا میں نماز ادا کرنے والے شخص کو قتل کر دوں جبکہ نبی اکرم ﷺ نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے وہ باہر آ گئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اس کو قتل کرنے کو ناپسند کیا کیونکہ وہ نماز ادا کر رہا تھا ‘ اور آپ نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا وہ اندر گئے ‘ تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ اس نے پیشانی زمین پر رکھی ہوئی تھی ( یعنی سجدے کی حالت میں تھا ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ( اگر انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ، تو میں بھی نہیں کرتا ) پھر وہ باہر آ گئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے پایا کہ اس نے اپنی پیشانی رکھی ہوئی تھی ، تو میں نے اس کو قتل کرنے کو ناپسند کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون اسے قتل کرے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کر دو گے اگر تم اس تک پہنچ پائے راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ اندر گئے ‘ تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ جا چکا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا بنا ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے نہیں پایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اگر یہ شخص قتل ہو جاتا تو میری امت کے دو آدمیوں میں بھی اختلاف نہیں ہونا تھا یہ ان ( اختلاف کرنے والوں میں ) پہلا اور آخری فرد ہونا تھا ‘‘۔ موسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن کعب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ‘ جس شخص کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا وہ ذو ثدیہ تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال میں سے بعض رجال کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ‘ جو اس سے زیادہ طویل ہے ‘ اور وہ فتنوں سے متعلق باب میں آئے گا ۔

10403

Majma al-Zawaid #10403

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ، فَقَالُوا فِيهِ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" مَنْ يَقْتُلُهُ؟ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ قَدْ خَطَّ عَلَى نَفْسِهِ خُطَّةً وَهُوَ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمَّا رَآهُ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ رَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَقْتُلُهُ؟ "". فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا، فَذَهَبَ فَرَآهُ فِي خَطِّهِ قَائِمًا يُصَلِّي، فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْتُلْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ لَهُ - أَوْ: مَنْ يَقْتُلُهُ -؟ "" فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ، وَلَا أَرَاكَ تُدْرِكُهُ "". فَانْطَلَقَ فَرَآهُ قَدْ ذَهَبَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir radiya Allahu anhu reported: A man passed the Messenger of Allah ﷺ. They spoke of him and praised him. He said: > **"Who will kill him?"** Abu Bakr said, I will. He went, found him praying within a line he had drawn for himself, saw that state, returned and did not kill him. The Prophet ﷺ said: > **"Who will kill him?"** Umar said, I will. He went, saw him standing in prayer in his line, returned and did not kill him. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Who is for him — or, who will kill him?"** Ali said, I will. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You, though I do not think you will reach him."** He set out and found he had gone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا لوگوں نے اس کے بارے میں کوئی بات کی اور اس کی تعریف بیان کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون اسے قتل کرے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ وہ گئے انہوں نے اس شخص کو پایا کہ اس نے اپنے لئے ایک لکیر لگائی ہے ‘ اور وہاں نماز ادا کر رہا ہے جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں دیکھا تو وہ واپس آ گئے ‘ اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون اسے قتل کرے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ وہ گئے انہوں نے اس لکیر کو دیکھا کہ وہ شخص نماز ادا کر رہا ہے ‘ تو وہ واپس آ گئے ‘ اور انہوں نے اسے قتل نہیں کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون اسے سنبھالے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کون اسے قتل کرے گا ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کر دو گے ‘ لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ نہیں خیال کہ تم اس تک پہنچ پاؤ گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے ‘ تو انہوں نے دیکھا کہ وہ شخص جا چکا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10404

Majma al-Zawaid #10404

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَنَانِيرَ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَةً قَبْضَةً، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ، كَأَنَّهُ يُؤَامِرُ أَحَدًا مَنْ يُعْطِي - قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: يُؤَامِرُ أَحَدًا ثُمَّ يُعْطِي - وَرَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَقَالَ: مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" مَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهُ؟ قَالَ: "" لَا "". ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah radiya Allahu anhu reported: Dinars were brought to the Prophet ﷺ. He took handful after handful, then looked to his right as if consulting someone about whom to give to. A black man, shaven-headed, wearing two white garments, with a mark of prostration between his eyes, said, You have not been just in division. The Messenger of Allah ﷺ grew angry and said: > **"Who will be just to you after me?"** They said, O Messenger of Allah, shall we not kill him. He said: > **"No."** Then he said to his Companions: > **"This man and his companions pass through the religion as the arrow passes through the target; they hold nothing of Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ دینار لائے گئے آپ انہیں مٹھی میں بھر بھر کے دیکھنے لگے پھر آپ نے اپنے دائیں طرف دیکھا جیسے آپ کسی شخص کو دینے کے بارے میں سوچ رہے ہوں یہاں عفان نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : کہ آپ کسی شخص کے بارے میں جائزہ لے رہے تھے کہ آپ وہ کس شخص کو دیں اسی دوران ایک سیاہ فام شخص جس کا سر مونڈا ہوا تھا ‘ اور اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے کا نشان موجود تھا اس نے کہا : آپ نے تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام نہیں لیا ۔ نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے آپ نے فرمایا : میرے بعد تمہارے ساتھ کون عدل کرے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : یہ اور اس کے ساتھی دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘ اور ان کا اسلام کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

10405

Majma al-Zawaid #10405

«وَعَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ، فَقُلْنَا لَهُ: هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَلَّمَهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْخُوَيْصِرَةِ، فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجَلْ، فَكَيْفَ رَأَيْتَ؟ "". قَالَ: لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ. قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" وَيْحَكَ، إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي، فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ؟ "". فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهُ؟ قَالَ: "" لَا، دَعُوهُ، فَإِنَّ لَهُ شِيعَةً يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا، ثُمَّ فِي الْقَدَحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، ثُمَّ فِي الْفَوْقِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ سِوَى الْفَرْثِ وَالدَّمِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Miqsam, freedman of Abdullah ibn al-Harith ibn Nawfal, reported: I and Talid ibn Kilab al-Laythi went to Abdullah ibn Amr ibn al-As radiya Allahu anhuma while he circumambulated the House with sandals in hand. We asked, Were you with the Messenger ﷺ when the Tamimi spoke to him on the day of Hunayn. He said, Yes. A man of Banu Tamim called Dhu al-Khuwaysirah came, stood before the Messenger ﷺ while he distributed to people, and said, O Muhammad, I have seen what you did today. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Yes, and how did it seem to you?"** He said, I do not see you were just. The Messenger of Allah ﷺ grew angry then said: > **"Woe to you, if justice is not with me, with whom is it?"** Umar ibn al-Khattab radiya Allahu anhu said, O Messenger of Allah, shall we not kill him. He said: > **"No, leave him. He has followers who delve deep into religion until they exit it as the arrow exits the target. One looks at the head and finds nothing, then at the shaft and finds nothing, then at the notch and finds nothing but dung and blood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن نوفل رضی اللہ عنہ کے غلام مقسم بیان کرتے ہیں : میں اور تلید بن کلاب لیثی ‘ ہم نکلے اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ جو بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے جوتے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے ہم نے ان سے کہا کیا آپ اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے جب غزوہ حنین کے ( مال غنیمت کی تقسیم ) کے دن تمیمی شخص نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں بنو تمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس کا نام ذوالخویصرہ تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ٹھہر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) آپ صبح سے جو کر رہے ہیں وہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے تم نے کیا دیکھا ہے اس نے کہا : آپ کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو اگر عدل میرے پاس نہیں ہو گا ، تو پھر کس کے پاس ہو گا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے ‘ جو دین میں تعمق اختیار کریں گے ‘ یہاں تک کہ وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے آدمی اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے ‘ تو اسے کچھ نظر نہیں آتا پھر آدمی اس کی لکڑی کا جائزہ لیتا ہے ‘ تو کوئی چیز نہیں پائی جاتی ، پھر آدمی تار میں تیر کے لگنے کی جگہ کو دیکھتا ہے ‘ تو اس میں کوئی چیز نہیں پائی جاتی حالانکہ وہ لید اور خون میں سے گزرا ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

10406

Majma al-Zawaid #10406

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَتْنَا بَيْعَةُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأُخْبِرْتُ بِمَقَامٍ يَقُومُهُ نَوْفٌ فَجِئْتُهُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاشْتَدَّ النَّاسُ، عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَلَمَّا رَآهُ نَوْفٌ أَمْسَكَ عَنِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ، كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ "". حَتَّى عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَى عَشْرِ مَرَّاتٍ: "" كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ مِنْهُمْ قُطِعَ، حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ. وَشَهَرٌ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Hawshab reported: When allegiance to Yazid ibn Mu'awiyah reached us I came to Syria. I was told of a station where Nawf spoke, so I came. A man wrapped in a cloak arrived, people crowded, and he was Abdullah ibn Amr ibn al-As radiya Allahu anhuma. When Nawf saw him he stopped speaking. Abdullah ibn Amr said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"People from my ummah will emerge from the east, reciting the Quran but it will not pass their throats. Every time a generation of them emerges it is cut off, every time a generation of them emerges it is cut off."** He counted it more than ten times: > **"Every time a generation of them emerges it is cut off, until the Dajjal emerges among their remnant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : جب یزید بن معاویہ کی بیعت ہمارے پاس آئی ‘ تو میں شام آیا مجھے اس جگہ کے بارے میں بتایا گیا جہاں نوف کھڑے ہوتے تھے میں ان کے پاس آیا اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا لوگوں نے جلدی کی اس شخص کے جسم پر ایک چادر تھی وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے جب نوف نے انہیں دیکھا تو حدیث بیان کرنے سے رک گیا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مشرق کی طرف سے عنقریب میری امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے ‘ جو قرآن کی تلاوت کریں گے ‘ اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ان میں سے جب بھی کوئی گروہ نکلے گا ‘ تو وہ مار دیا جائے گا جب دوسرا گروہ نکلے گا ‘ تو وہ مار دیا جائے گا ‘‘۔ یہاں تک کہ انہوں نے دس سے زیادہ مرتبہ اس چیز کو شمار کروایا کہ جب بھی ان میں سے کوئی گروہ نکلے گا ‘ تو اسے مار دیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ ان کے باقی بچ جانے والے لوگوں میں دجال نکلے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے شہر بن حوشب نامی راوی ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10407

Majma al-Zawaid #10407

«وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ قَالَ: كَانَ صَاحِبٌ لِي يُحَدِّثُنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي شَأْنِ الْخَوَارِجِ، فَحَجَجْتُ، فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَقُلْتُ: إِنَّكَ بَقِيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ عِنْدَكَ عِلْمًا، إِنَّ نَاسًا يَطْعَنُونَ عَلَى أُمَرَائِهِمْ، وَيَشْهَدُونَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ، قَالَ: عَلَى أُولَئِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ. أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسِقَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، فَجَعَلَ يُقَسِّمُهَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَئِنْ كَانَ اللَّهُ أَمَرَكَ بِالْعَدْلِ، فَلَمْ تَعْدِلْ. فَقَالَ: "" وَيْلَكَ، فَمَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي؟ "". فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ فِي أُمَّتِي أَشْبَاهَ هَذَا، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، فَإِنْ خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِنْ خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ "" قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Wassaj reported: A friend narrated to me about Abdullah ibn Amr concerning the Khawarij. I performed Hajj and met Abdullah ibn Amr, saying, You remain of the Companions of the Messenger ﷺ and Allah gave you knowledge; people revile their rulers and testify to their misguidance. He said, Upon them is the curse of Allah, the angels and all people. A vessel of gold or silver was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he divided it among his Companions. A desert man stood and said, O Muhammad, if Allah commanded you to be just, you were not just. He said: > **"Woe to you, who will be just to you after me?"** When he turned away the Messenger of Allah ﷺ said: > **"In my ummah are likenesses of this man. They recite the Quran but it does not pass their throats. If they rebel, kill them, then if they rebel, kill them."** He said that three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقبہ بن وساج بیان کرتے ہیں : میرے ایک ساتھی نے مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خوارج کے بارے میں حدیث بیان کی ہے میں حج کے لئے گیا میری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے کہا : آپ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے باقی رہ جانے والے افراد میں سے ایک ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم سے نوازا ہے کچھ لوگ اپنے حکمرانوں پر طعن کرتے ہیں ‘ اور ان کے بارے میں گمراہی کی گواہی دیتے ہیں ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو نبی اکرم ﷺ کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تھیلا لایا گیا آپ نے اسے اپنے اصحاب کے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا ‘ تو ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور بولا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) اللہ تعالیٰ نے آپ کو عدل کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اور آپ پھر بھی عدل سے کام نہیں لے رہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو میرے بعد تمہارے ساتھ کون عدل کرے گا ؟ جب وہ شخص واپس چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میری امت میں اس جیسے لوگ ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے ‘ لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اگر وہ خروج کریں تو تم انہیں قتل کر دینا پھر اگر وہ خروج کریں تو تم انہیں قتل کر دینا ‘‘۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10408

Majma al-Zawaid #10408

وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: «كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ، فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ. قَالَ: أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَرَأَتْ عَيْنَايَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَنَانِيرَ يُقَسِّمُهَا، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ، مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ يَمِينِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ مُنْذُ الْيَوْمِ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ: "" وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي "" قَالَهَا ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: "" يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ - كَانَ هَذَا مِنْهُمْ - هَدْيُهُمْ هَكَذَا، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ "". وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ "" سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ "" قَالَهَا ثَلَاثًا "" شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ "" قَالَهَا ثَلَاثًا». وَقَالَ حَمَّادٌ: "" لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ "".

EnglishUnverified translation

Sharik ibn Shihab reported: I wished to meet a Companion of the Messenger of Allah ﷺ to narrate to me about the Khawarij. I met Abu Barzah radiya Allahu anhu on the day of Arafah among his companions and said, O Abu Barzah, narrate what you heard the Messenger ﷺ say about the Khawarij. He said, I narrate what my ears heard and my eyes saw. Dinars were brought to the Messenger of Allah ﷺ for division. With him was a black man, shaven hair, in two white garments, with a prostration mark between his eyes. He approached the Messenger ﷺ from the front but he gave him nothing, from the right but he gave him nothing, then from behind but he gave him nothing. He said, By Allah, O Muhammad, you have not been just in division today. The Messenger of Allah ﷺ grew severely angry then said: > **"By Allah, you will find none after me more just to you than me."** He said it three times. Then he said: > **"Men will emerge from the east — this man was as it were of them — their guidance thus. They recite the Quran but it does not pass their throats. They pass through religion as the arrow passes through the target and do not return to it."** He placed his hand on his chest: > **"Their mark is shaving. They will keep emerging until the last of them emerges. When you see them, kill them."** He said it three times: > **"The worst of creation and creatures."** He said it three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریک بن شہاب بیان کرتے ہیں میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی صاحب سے ملوں جو مجھے خوارج کے بارے میں کوئی حدیث بیان کریں ایک مرتبہ عرفہ کے دن میری ملاقات حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے میں نے کہا : اے حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کو خوارج کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو ‘ تو انہوں نے جواب دیا : میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں گا ‘ جو میرے کانوں نے سنی ہے ‘ اور میری آنکھیں اس وقت دیکھ رہی تھیں نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ دینا رلائے گئے آپ نے انہیں تقسیم کرنا شروع کیا آپ کے پاس ایک سیاہ فام شخص موجود تھا جس کے بال مونڈے ہوئے تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدے کا نشان موجود تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا وہ سامنے کی طرف سے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا پھر وہ دائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا پھر وہ پیچھے کی طرف سے آپ کی طرف آیا تو آپ نے اسے کچھ نہیں دیا اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) اللہ کی قسم آج آپ نے تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام نہیں لیا تو نبی اکرم ﷺ شدید غصے میں آ گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم تم میرے بعد کسی ایسے شخص کو نہیں پاؤ گے ‘ جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ عادل ہو یہ کلمات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے یہ بھی ان میں سے ایک لگتا ہے ان کی ظاہری ہیئت اس کی مانند ہو گی وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے پھر وہ دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے پھر نبی اکرم ﷺ نے ( یا راوی صحابی نے ) اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ( اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ان کی مخصوص نشانی سر مونڈوانا ہو گی وہ مسلسل دین سے نکلتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی دین سے نکل جائے گا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( اور پھر فرمایا : ) وہ خلق اور خلیقہ ( یعنی ہر قسم کی ساری مخلوق ) میں بدترین ہوں گے یہ بات بھی نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہاں حماد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ اس ( دین ) میں واپس نہیں آئیں گے ‘‘۔

10409

Majma al-Zawaid #10409

وَفِي رِوَايَةٍ: "" لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الدَّجَّالِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَالْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another version: > **"They will keep emerging until the last of them emerges with the Dajjal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ وہ مسلسل نکلتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ ان کے آخری افراد دجال کے ساتھ نکلیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور ازرق بن قیس نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10410

Majma al-Zawaid #10410

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ - وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ -: "" إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ فَيَدْأَبُونَ حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمُ النَّاسُ، وَتُعْجِبَهُمْ أَنْفُسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas radiya Allahu anhu reported, though he did not hear it directly: > **"Among you are a people who worship and exert themselves until people admire them and they admire themselves. They pass through religion as the arrow passes through the target."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میں نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات نہیں سنی ہے ( آپ نے فرمایا : ) ’’ تمہارے درمیان کچھ لوگ ہوں گے ‘ جو عبادت کرتے ہوئے اتنا اہتمام کریں گے کہ لوگوں کو وہ اچھا لگے گا اور وہ خود پسندی کا شکار بھی ہوں گے وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ‘ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10411

Majma al-Zawaid #10411

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ "". قَالَ يَزِيدُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: "" يُحَقِّرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ، كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "". فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرُ، وَأَنَا أَسْمَعُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar radiya Allahu anhuma reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There will emerge from my ummah a people of evil deeds. They recite the Quran but it does not pass their throats. One of you will belittle his own deed beside theirs. They kill the people of Islam. When they emerge, kill them, then when they emerge, kill them, then when they emerge, kill them. Glad tidings to whoever kills them and to whoever they kill. Every time a generation of them rises, Allah the Mighty cuts it off."** The Messenger of Allah ﷺ repeated that twenty times or more while I listened.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کے اعمال برے ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے ‘ لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ‘ یزید کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے عمل کو ان لوگوں کے عمل کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا وہ لوگ اہل اسلام کو قتل کریں گے جب وہ خروج کریں گے ‘ تو تم انہیں قتل کرنا پھر اگر وہ نکلیں گے ‘ تو تم انہیں قتل کرنا ، پھر اگر وہ نکلیں گے ‘ تو تم انہیں قتل کرنا کیونکہ جو شخص انہیں قتل کرے گا اس کے لئے مبارک باد ہے ‘ اور جس شخص کو وہ قتل کریں گے اس کے لئے بھی مبارکباد ہے جب بھی ان میں سے کوئی گروہ نکلے گا اللہ تعالیٰ اسے ختم کروا دے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بیس مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ دہرائی اور میں یہ بات سن رہا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

10412

Majma al-Zawaid #10412

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سَيَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْقُرْآنَ كَشُرْبِهِمُ اللَّبَنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir radiya Allahu anhu reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"People from my ummah will emerge who drink the Quran as they drink milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رحمۃ اللہ علیہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے ‘ جو قرآن کو یوں پئیں گے ‘ جس طرح دودھ پیتے ہیں ( یعنی بکثرت اس کی تلاوت کریں گے ) ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10413

Majma al-Zawaid #10413

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ أَثِبَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir radiya Allahu anhu reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Most of the hypocrites of my ummah are its reciters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے زیادہ تر منافق اس کے قاری ( یعنی قرآن کے عالم یا حافظ ) ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ اور ثبت ہیں ۔

10414

Majma al-Zawaid #10414

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr radiya Allahu anhu reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Most of the hypocrites of my ummah are its reciters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کے زیادہ تر منافق ، اس کے قاری ( یعنی قرآن کے عالم یا حافظ ) ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اسی طرح امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

10415

Majma al-Zawaid #10415

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ismah radiya Allahu anhu reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Most of the hypocrites of my ummah are its reciters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کے زیادہ تر منافق اس کے قاری ( قرآن کے عالم یا حافظ ) ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10416

Majma al-Zawaid #10416

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّهُ كَائِنٌ فِيكُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعٌ "". حَتَّى ذَكَرَ عِشْرِينَ مَرَّةً وَزِيَادَةً: "" حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ يَخْرُجُ مَعَ الدَّجَّالِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr radiya Allahu anhu reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There will be among you a people reciting the Quran but it will not pass their throats. Every time a generation of them rises it is cut off."** He mentioned it more than twenty times: > **"Until the last of them emerges with the Dajjal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمہارے درمیان ایک قوم آئے گی جو قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا جب ان میں سے کوئی ایک گروہ سامنے آئے گا ‘ تو وہ کاٹ دیا جائے گا ‘‘۔ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے بیس مرتبہ سے زیادہ یہ بات ذکر کی اور فرمایا : ” یہاں تک کہ ان میں سے آخری لوگ دجال کے ساتھ نکلیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

10417

Majma al-Zawaid #10417

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ حَتَّى يَكُونَ مَعَ بَقِيَّتِهِمُ الدَّجَّالُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

From Abdullah ibn Amr radiya Allahu anhuma: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"People will emerge from the east reciting the Quran but it will not pass their throats. Every time a generation is cut off another rises, until the Dajjal is with their remnant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ نکلیں گے وہ قرآن پڑھیں گے وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا جب ان میں سے ایک گروہ ( یا نسل ) ختم ہو جائے گی تو دوسرا گروہ قتل ہو جائے گا ‘ یہاں تک کہ ان کے بقیہ افراد دجال کے ساتھ ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

10418

Majma al-Zawaid #10418

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مَجْزُوزُ الرَّأْسِ - أَوْ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ - قَالَ: مَا عَدَلْتَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ أَنَا؟ "". قَالَ: فَغَفَلَ عَنِ الرَّجُلِ، فَذَهَبَ، فَقَالَ: "" أَيْنَ الرَّجُلُ؟ "". فَطُلِبَ فَلَمْ يُدْرَكْ، فَقَالَ: "" إِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ سِيمَاهُمْ سِيمَا هَذَا، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، يَنْظُرُ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، يَنْظُرُ فِي فَوْقِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Wathilah radiya Allahu anhu reported: On the day of Hunayn a man with clipped or shaven head came to the Messenger of Allah ﷺ and said, You were not just. The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Who will be just if I am not just?"** Attention turned from the man and he left. He said: > **"Where is the man?"** He was sought but not found. He said: > **"There will emerge in my ummah a people whose mark is like his. They pass through religion as the arrow passes through the target. One looks at its shaft and sees nothing, at its binding and sees nothing, at its head and sees nothing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا جس کا سر مونڈا ہوا تھا اس نے کہا : آپ نے عدل سے کام نہیں لیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر میں عدل نہیں کروں گا ‘ تو پھر کون عدل کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی توجہ اس شخص سے ہٹ گئی اور وہ شخص چلا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہے لوگوں نے اسے تلاش کیا لیکن وہ اس تک نہیں پہنچ پائے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن کی مخصوص نشانی اس کے جیسی ہو گی ( یعنی وہ سر مونڈواتے ہوں گے ) وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اگر آدمی تیر کی لکڑی کا جائزہ لے ‘ تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ‘ اگر وہ اس کے پروں کو دیکھے ‘ تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ‘ اگر وہ اس کے فوق کو دیکھے تو اسے کچھ نظر نہیں آتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10419

Majma al-Zawaid #10419

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصَرِيِّ: إِنَّ الصُّرَيْمَ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ بِالْبِدَارِ - قَرْيَةٍ بِالْبَصْرَةِ - وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ، مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَوَلَدُهُ وَجَارِيَتُهُ، فَقَالَ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسْأَلُهُ عَنْ حَالِنَا وَأَمْرِنَا وَمَخْرَجِنَا؟ فَقَالُوا: بَلَى. فَانْصَرَفُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا: أَلَا تُخْبِرُنَا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَمَّا فِيكُمْ بِأَعْيَانِكُمْ فَلَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فَوْقِهِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ، شَرُّ قَتْلَى أَظَلَّتْهُمُ السَّمَاءُ وَأَقَلَّتْهُمُ الْأَرْضُ، كِلَابُ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْكَلَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي لَهُ حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Abi al-Hasan al-Basri reported that al-Suraym met Abdullah ibn Khabbab radiya Allahu anhuma at al-Bidar, a village of Basrah, while he headed toward Ali radiya Allahu anhu at Kufah with wife, child and slave-girl. They said, Here is a man of the Companions of Muhammad ﷺ; shall we ask him about our state, affair and emergence. They said, Yes. They turned to him saying, Will you tell us whether you heard anything from the Messenger of Allah ﷺ about us. He said, As for you specifically, no, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"After me there will be a people reciting the Quran but it will not pass their throats. They pass through religion then never return to it until the arrow returns to its notch. Glad tidings to whoever kills them and to whoever they kill. The worst slain under heaven's shade and earth's surface, dogs of Hellfire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بن ابوالحسن بصری بیان کرتے ہیں : صریم کی ملاقات ’’ بدار ‘‘ کے مقام پر عبداللہ بن خباب سے ہوئی یہ بصرہ کی ایک بستی ہے وہ صاحب اس وقت کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف جا رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بچے اور کنیز بھی تھے انہوں نے کہا : یہ اللہ کے رسول کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ہیں ہمیں ان سے اپنی حالت اپنے معاملے اور اپنے نکلنے کے بارے میں دریافت کرنا چاہیے لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے وہ لوگ ان کی طرف چلے گئے انہوں نے کہا : کیا آپ ہمیں بتائیں گے نہیں کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کو ہمارے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ۔ انہوں نے فرمایا : جہاں تک بطور خاص تمہارے بارے میں کا تعلق ہے وہ تو نہیں سنا لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے ‘ جو قرآن کی تلاوت کریں گے وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے نکل جائیں گے ‘ اور پھر وہ دوبارہ اس میں اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک تیر اپنے نکلنے کی جگہ تک واپس نہیں آتا اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ‘ جو انہیں قتل کرے گا اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ۔ جسے وہ لوگ قتل کریں گے وہ ( یعنی خوارج ) آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر موجود بدترین مقتول ہوں گے ‘ اور جہنم کے کتے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر کلاعی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

10420

Majma al-Zawaid #10420

وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ، ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، لَا يَتَجَاوَزُ تَرَاقِيَهُمْ، أَلَا إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالطَّبَرَانِيُّ رَوَاهُ أَيْضًا، وَكَذَلِكَ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Muslim ibn Abi Bakrah reported, when asked whether he heard anything about the Khawarij: I heard my father Abu Bakrah radiya Allahu anhu say from the Prophet ﷺ: > **"Soon there will emerge from my ummah peoples severe and sharp, their tongues fluent with the Quran but it will not pass their throats. When you see them, kill them, when you see them, kill them; rewarded is their killer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے سوال کیا : کیا آپ نے خوارج کے بارے میں کوئی بات سنی ہے ۔ انہوں نے بتایا : میں نے اپنے والد حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ خبردار ! عنقریب میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے ‘ جو سخت اور تیز ہوں گے ‘ اُن کی زبانیں قرآن کے حوالے سے بلیغ ( یا تیز ہوں گی اور وہ قرآن اُن کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ‘ خبردار ! جب تم انہیں دیکھو تو انہیں مار دینا ‘ جب تم انہیں دیکھو ‘ تو انہیں مار دینا ‘ کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کو اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ‘ اور اسی طرح امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

10421

Majma al-Zawaid #10421

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَنَائِمَ هَوَازِنَ، قَامَ رَجُلٌ قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقُومُ فَأَقْتُلُ هَذَا الْمُنَافِقَ؟ قَالَ: "" مَعَاذَ اللَّهِ، أَتَتَسَامَعُ الْأُمَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir radiya Allahu anhu reported: When the Messenger of Allah ﷺ divided the spoils of Hawazin, a man stood. The report continues until Umar stood and said, O Messenger of Allah, shall I rise and kill this hypocrite. He said: > **"Allah forbid; shall nations say Muhammad kills his companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے ہوازن کا مال غنیمت تقسیم کیا ‘ تو ایک شخص کھڑا ہوا راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اٹھ کر اس منافق کو قتل نہ کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو یہ کہتے پھریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

10422

Majma al-Zawaid #10422

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ، فَخَطَبَ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، وَكَانَ مَنْ أَقْرَأِ النَّاسِ. فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Malik ibn Mulayl al-Sulayhi reported: I sat near the pulpit on Friday. Muhammad ibn Abi Hudhayfah emerged, mounted the pulpit, preached, then recited a surah of the Quran, being among the best reciters. Uqbah ibn Amir radiya Allahu anhu said, Allah and His Messenger spoke truth; I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Men will surely recite the Quran but it will not pass their throats. They pass through religion as the arrow passes through the target."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن ملیل سلیحی بیان کرتے ہیں : جمعہ کے دن میں منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا محمد بن ابوحذیفہ نکلا اور منبر پر کھڑا ہو گیا اس نے خطبہ دینا شروع کیا پھر اس نے لوگوں کے سامنے قرآن کی کوئی سورت تلاوت کی اور وہ سب سے عمدہ تلاوت کرتا تھا تو حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کچھ ایسے لوگ ضرور قرآن پڑھیں گے کہ وہ قرآن ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

10423

Majma al-Zawaid #10423

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «تَكُونُ خَلَفٌ بَعْدَ السِّتِّينَ أَضَاعُوا الصَّلَوَاتِ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا، ثُمَّ يَكُونُ خَلَفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ». قَالَ بَشِيرٌ: فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ: مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri radiya Allahu anhu reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There will be successors after sixty who waste prayers and follow desires, and soon meet error. Then successors reciting the Quran but it will not pass their throats. The Quran is read by three: believer, hypocrite and sinner."** Bashir asked al-Walid, Who are the three. He said, The hypocrite disbelieves in it, the sinner earns a living by it, and the believer believes in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ساٹھ ( سال ) کے بعد ایسے لوگ آئیں گے ‘ جو نماز ضائع کریں گے نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے ‘ اور وہ عنقریب جہنم میں پہنچ جائیں گے پھر ایسے لوگ آئیں گے ‘ جو قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا قرآن تین قسم کے لوگ پڑھیں گے مومن ، منافق اور فاجر ‘‘۔ بشیر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے ولید سے دریافت کیا : ان تین قسم کے لوگوں سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : منافق سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو اس کا انکار کرتا ہو فاجر سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو اس کا معاوضہ کھاتا ہو ‘ اور مومن سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ۔

10424

Majma al-Zawaid #10424

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ali radiya Allahu anhu reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"In the last age a people will recite the Quran but it will not pass their throats. They pass out of Islam as the arrow passes through the target; fighting them is binding on every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے ‘ جو قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے ان کے ساتھ جنگ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” ان کے ساتھ جنگ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10425

Majma al-Zawaid #10425

وَعَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: لَا يَغُرَّنَّكَ هَؤُلَاءِ، إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ الْيَوْمَ، وَيَتَجَالَدُونَ بِالسُّيُوفِ غَدًا، ثُمَّ قَالَ: ائْتِنِي بِنَفَرٍ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَلْيَكُونُوا شُيُوخًا. فَأَتَيْتُهُ بِنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ، وَأَتَيْتُهُ بِمِرْدَاسِ بْنِ بِلَالٍ، وَبِنَفَرٍ مَعَهُمَا، سِتَّةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَى جُنْدَبٍ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَثَلُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ الْمِصْبَاحِ الَّذِي يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ، وَمَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ بَطْنُهُ، فَلَا يُدْخِلْ بَطْنَهُ إِلَّا طَيِّبًا، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ فَلْيَفْعَلْ» "".

EnglishUnverified translation

Safwan ibn Muhriz from Jundab ibn Abdillah radiya Allahu anhu: He passed people reciting the Quran and said, Let them not deceive you; today they recite the Quran, tomorrow they clash with swords. Then he said, Bring me a group of Quran reciters, and let them be elders. He was brought Nafi' ibn al-Azraq, Mirdas ibn Bilal, and others with them, six or eight. When they entered Jundab said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The likeness of one who teaches people good and forgets himself is the lamp giving light to people while burning itself. Whoever shows off his deed to people, Allah exposes him. Know the first of you to putrefy when dead is the belly, so admit only the pure into the belly. Whoever can let not even a handful of blood stand between him and Paradise, let him do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفوان بن محرز نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو قرآن پڑھ رہے تھے ‘ تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں یہ لوگ آج قرآن پڑھ رہے ہیں ‘ اور کل تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں گے پھر انہوں نے فرمایا : میرے پاس قرآن پڑھنے والے کچھ لوگوں کو لے کر آؤ اور وہ بڑی عمر کے لوگ ہونے چاہیں راوی کہتے ہیں : تو میں نافع بن ازرق کو ان کے پاس لے کر آیا اور مرداس بن بلال کو ان کے پاس لے کر آیا اور ان دونوں کے ساتھ کچھ اور لوگوں کو لے کر آیا جو چھ یا آٹھ افراد تھے جب ہم حضرت جندب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ‘ اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اس کی مثال چراغ کی مانند ہے جو لوگوں کے لئے روشنی کرتا ہے ‘ اور اپنے آپ کو جلا دیتا ہے ‘ اور جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے دکھاوا کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ‘ تم یہ بات جان لو کہ جب کوئی شخص مر جاتا ہے ‘ تو سب سے پہلے اس کے وجود میں سے پیٹ بدبودار ہوتا ہے ‘ تو آدمی کو اپنے پیٹ میں صرف پاکیزہ چیز داخل کرنی چاہیے تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون بھی رکاوٹ نہ بنے تو اسے ایسا کرنا چاہیے ‘‘۔

10426

Majma al-Zawaid #10426

وَفِي رِوَايَةٍ: فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ، فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْمَعُ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ قَوْمًا أَحَقَّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا: لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَفِي الْأُخْرَى عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَلْبِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another version: the people spoke of commanding good and forbidding evil while he listened silently, then said, I never saw like today a people more deserving of salvation, if they are truthful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگوں نے بات چیت شروع کی انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کیا ‘ تو حضرت جندب رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ کر ان کی باتیں سنتے رہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی قوم نہیں دیکھی جو نجات کی زیادہ حق دار ہو اگر یہ لوگ سچے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ مدلس ہے جبکہ دوسری میں ایک راوی علی بن سلیمان کلبی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

10427

Majma al-Zawaid #10427

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يُوشِكُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ قَوْمٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَشْرَبُونَهُ كَشُرْبِهِمُ الْمَاءَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ "". ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى حَلْقِهِ، فَقَالَ: "" لَا يُجَاوِزُ هَاهُنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud radiya Allahu anhu from the Messenger of Allah ﷺ: > **"Soon a people will recite the Quran but it will not pass their throats. They drink it as they drink water but it will not pass their throats."** Then he placed his hand on his throat and said: > **"It will not pass here."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ اسے یوں پئیں گے ‘ جس طرح وہ پانی پیتے ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ( یا راوی نے ) اپنا ہاتھ اپنے حلق پر رکھ کر یہ ارشاد فرمایا : ’’ وہ یہاں سے آگے نہیں جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن ادریس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10428

Majma al-Zawaid #10428

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas radiya Allahu anhuma reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Groups of my ummah will surely recite the Quran and pass out of Islam as the arrow passes through the target."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے کچھ ضرور قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10429

Majma al-Zawaid #10429

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، قَالَ: مَا فَعَلَ وَالِدُكَ؟ قُلْتُ: قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ، قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ، لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" كِلَابُ النَّارِ» "". قُلْتُ: الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَوِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا؟ قَالَ: بَلِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا. قُلْتُ: فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ، وَيَفْعَلُ؟ فَتَنَاوَلَ بِيَدِي فَغَمَزَهَا غَمْزَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ جُمْهَانَ، عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، فَإِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَائْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ، فَلَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ. قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ "". فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَحْمَدَ فِي كَيْفِيَّةِ النُّصْحِ لِلْأَئِمَةِ فِي الْخِلَافَةِ بِأَسَانِيدَ،، وَأَحَدُهَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Jumhan reported: I came to Abdullah ibn Abi Awfa radiya Allahu anhu when his sight was veiled, greeted him. He asked, Who are you. I said, Sa'id ibn Jumhan. He asked, What became of your father. I said, The Azariqah killed him. He said, May Allah curse the Azariqah, may Allah curse the Azariqah. Then he said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Dogs of Hellfire."** I asked, The Azariqah alone or all Khawarij. He said, All Khawarij. I said, The ruler wrongs people and does such-and-such. He took my hand, squeezed hard, then said, O Ibn Jumhan, hold to the great multitude. If the ruler hears from you, go to him in his house and tell him what you know; if he accepts, well, else leave him, for you know no more than he.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن ابوعوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی میں نے انہیں سلام کیا ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے جواب دیا : میں سعید بن جمہان ہوں ۔ انہوں نے دریافت کیا : تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے بتایا : ازارقہ نے انہیں قتل کر دیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہ جہنم کے کتے ہیں ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : صرف ازارقہ یہ ہیں یا تمام خوارج ایسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : بلکہ تمام خوارج ( جہنم کے کتے ہیں ) ۔ میں نے کہا : حاکم وقت اگر لوگوں پر ظلم کرتا ہے ‘ اور ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ( تو کیا وہ بھی اس میں شامل ہو گا ؟ ) تو انہوں نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور پھر زور سے ٹہوکہ دے کر پھر فرمایا : اے ابن جمہان تم پر سواد اعظم کے ساتھ رہنا لازم ہے اگر سلطان تمہاری بات سنتا ہے ‘ تو تم اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اپنے علم کے مطابق اسے بتا دو اگر وہ تمہاری بات قبول کر لیتا ہے ‘ تو ٹھیک ہے ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو تم اس سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں ہو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف خوارج کے جہنم کے کتے ہونے والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے امام احمد کی نقل کردہ ایک حدیث گزر چکی ہے ‘ جو خلافت کے بارے میں حکمرانوں کی خیرخواہی کی کیفیت کے بارے میں ہے یہ مختلف اسانید کے ساتھ نقل ہوئی ہے جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔

10430

Majma al-Zawaid #10430

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا: "" يُوشِكُ أَنْ يَجِيءَ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ "". ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: "" إِنَّهُمْ سَيَخْرُجُونَ بِأَرْضِ قَوْمِكَ يَا يَمَامِيُّ يُقَاتِلُونَ بَيْنَ الْأَنْهَارِ "". قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا بِهَا مِنْ أَنْهَارٍ. قَالَ: "" إِنَّهَا سَتَكُونُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Talq ibn Ali radiya Allahu anhu reported: While we were with the Messenger of Allah ﷺ he said to us: > **"Soon a people will come reciting the Quran but it will not pass their throats. They pass through religion as the arrow passes through the target. Glad tidings to whoever kills them and to whoever they kill."** Then he turned to me and said: > **"They will emerge in your people's land, O Yamami, fighting between rivers."** I said, At the cost of father and mother, there are no rivers there. He said: > **"There will be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ نے ہم سے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ‘ جو قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ‘ جو انہیں قتل کرے گا اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ‘ جسے وہ قتل کریں گے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے ‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ لوگ عنقریب تمہاری قوم کی سرزمین سے نکلیں گے اے یمامی اور وہ لوگ نہروں کے درمیان جنگ کریں گے میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہاں تو نہریں نہیں ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہاں عنقریب ہوں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے علی بن یحیی بن اسماعیل کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ‘ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

10431

Majma al-Zawaid #10431

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَأَقْتُلَنَّ الْعَمَالِقَةَ فِي كَتِيبَةٍ "". فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ محمد بْنُ مسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas radiya Allahu anhuma: the Prophet ﷺ said: > **"I will surely slay the Amalekites in a battalion."** Jibril alayhi al-salam said to him, And Ali ibn Abi Talib.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں عنقریب عمالقہ کو ایک لشکر میں قتل کروں گا ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ بن کہیل ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10432

Majma al-Zawaid #10432

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ} [آل عمران: 118]. قَالَ: "" هُمُ الْخَوَارِجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah radiya Allahu anhu from the Prophet ﷺ about His saying, O believers take no intimates besides yourselves causing you no harm in corruption, loving your hardship, hatred shown from mouths and what breasts hide greater, We clarified signs if you reason, Al Imran 118. He said: > **"They are the Khawarij."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ’’ اے ایمان والو ! تم اپنے علاوہ ( کسی اور مذہب کے پیروکار ) کو راز دار نہ بناؤ ‘ وہ تمہارے لیے فتنہ ( پیدا کرنے کی کوشش میں ) کوئی کوتاہی نہیں کریں گے ‘ وہ تمہیں تنگی میں مبتلا ( دیکھنا ) چاہتے ہیں ‘ ان کے مونہوں سے بغض ( یا دشمنی ) ظاہر ہو چکا ہے ‘ اور جس کو ان کے سینوں نے پوشیدہ رکھا ہے وہ بغض ) زیادہ بڑا ہے ‘ ہم نے تمہارے سامنے نشانیاں بیان کر دی ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو ‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا : یہ خوارج ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10433

Majma al-Zawaid #10433

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِذَا خَرَجَ عَلَيْكُمْ خَارِجٌ، وَأَنْتُمْ مَعَ رَجُلٍ جَمِيعًا، يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَا الْمُسْلِمِينَ وَيُفَرِّقَ جَمْعَهُمْ، فَاقْتُلُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umayr al-Ashja'i radiya Allahu anhu reported: I heard the Prophet ﷺ say: > **"If a rebel emerges against you while you are united under one man, seeking to split the staff of Muslims and divide their gathering, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمیر اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جب تمہارے سامنے کوئی شخص خروج کرے اور تم لوگ کسی حکمران کے پیچھے اکٹھے ہو ‘ اور وہ شخص یہ چاہتا ہو کہ مسلمانوں کے عصا کو چیر دے اور ان کی جمعیت کو منتشر کر دے تو تم اس شخص کو قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10434

Majma al-Zawaid #10434

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا، لَظَنَنْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كُنْتُمْ عَلَى جَمَاعَةٍ فَجَاءَ مَنْ يُفَرِّقُ جَمَاعَتَكُمْ، وَيَشُقُّ عَصَاكُمْ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: الْعَبَّاسُ بْنُ عَوْسَجَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Surayh al-Ashja'i radiya Allahu anhu said: I narrate only what my ears heard and my heart retained from the Messenger of Allah ﷺ, had I heard it but once or twice or thrice or four or five or six or seven times I would still narrate it. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you are united and one comes to divide your gathering and split your staff, kill him, whoever among people he be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن صریح اشجعی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث بیان نہ کروں جو میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے اسے نبی اکرم ﷺ سے سن کر محفوظ رکھا اگر میں نے یہ حدیث نبی اکرم ﷺ کی زبانی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یا چار مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا چھ مرتبہ یا سات مرتبہ نہ سنی ہوتی تو میرا یہ اندازہ تھا کہ میں نے اس کو بیان نہیں کرنا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم ایک جماعت کی شکل میں ہو ‘ اور پھر وہ شخص آ جائے جو تمہاری جماعت کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہے ‘ اور تمہارے عصا کو چیرنا چاہئے ‘ تو تم اسے قتل کر دو ! خواہ وہ تم میں سے کوئی بھی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن عوسجہ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

10435

Majma al-Zawaid #10435

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «اقْتُلُوا الْفَذَّ مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُتَيَّمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah radiya Allahu anhu reported: Abu Bakr radiya Allahu anhu said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Kill the lone dissenter, whoever among people he be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ الگ ہونے والے کو قتل کر دو ! خواہ وہ جو بھی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن مقیم ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10436

Majma al-Zawaid #10436

وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: «كُنْتُ بِدِمَشْقَ زَمَنَ عَبْدِ الْمَلِكِ،، فَأُتِيَ بِرُءُوسِ الْخَوَارِجِ فَنُصِبَتْ عَلَى أَعْوَادٍ، فَجِئْتُ لِأَنْظُرَ هَلْ فِيهَا أَحَدٌ أَعْرِفُهُ؟ فَإِذَا أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَهَا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْأَعْوَادِ، فَقَالَ: "" كِلَابُ النَّارِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "" شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَمَنْ قَتَلُوهُ خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ» "" قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ اسْتَبْكَى، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: كَانُوا عَلَى دِينِنَا، ثُمَّ ذَكَرْتُ مَا هُمْ صَائِرُونَ إِلَيْهِ غَدًا. قُلْتُ أَشَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَمْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى السَّبْعِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، أَمَا تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ: {يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ} [آل عمران: 106]، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ: {وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [آل عمران: 107]. ثُمَّ قَالَ: اخْتَلَفَ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، سَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَاخْتَلَفَ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، إِحْدَى وَسَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَتَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ. فَقُلْنَا: انْعَتْهُمْ لَنَا، قَالَ: السَّوَادُ الْأَعْظَمُ. قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالتِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ghalib reported: I was at Damascus in the time of Abd al-Malik when heads of the Khawarij were brought and set on poles. I came to see if any I knew was there, and Abu Umamah radiya Allahu anhu was beside them. I drew near, looked at the poles, and he said three times: > **"Dogs of Hellfire."** > **"The worst slain under heaven's canopy, and those they kill the best slain under heaven's canopy."** He said it three times, then wept. I asked, O Abu Umamah, what makes you weep. He said, They were upon our religion, then I remembered what they face tomorrow. I asked, Is this your opinion or something heard from the Messenger ﷺ. He said, Had I not heard it from the Messenger ﷺ but once or twice or thrice up to seven times, I would not narrate it to you. Have you not read in Al Imran, On the day faces whiten and faces blacken, Al Imran 106, to, As for those whose faces whiten, in Allah's mercy abiding, Al Imran 107. Then he said, Jews differed into seventy-one sects, seventy in Fire one in Paradise; Christians into seventy-two, seventy-one in Fire one in Paradise; this ummah differs into seventy-three, seventy-two in Fire one in Paradise. We asked, Describe them. He said, The great multitude.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوغالب بیان کرتے ہیں : عبدالملک کے زمانے میں ‘ میں دمشق میں موجود تھا وہاں خوارج کے سر لائے گئے ‘ اور انہیں لکڑیوں پر لٹکا دیا گیا میں جائزہ لینے کے لئے آیا کہ کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے ‘ جس سے میں واقف ہوں تو ان کے پاس حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے میں ان کے قریب ہو گیا میں نے ان لکڑیوں کی طرف دیکھا تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ جہنم کے کتے ہیں انہوں نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر کہا یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین لوگ ہیں ‘ اور جسے انہوں نے قتل کیا ہو وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے سب سے بہتر لوگ ہیں یہ بات بھی انہوں نے تین مرتبہ کہی پھر وہ رونے لگے میں نے کہا : اے ابوامامہ آپ کیوں رو رہے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ لوگ پہلے ہمارے دین پر تھے ‘ تو مجھے یہ خیال آ گیا کہ پھر یہ لوگ کس طرف چلے گئے میں نے کہا : کیا یہ کوئی ایسی بات ہے ‘ جو آپ اپنی رائے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں یا یہ کوئی ایسی بات ہے ‘ جس کے بارے میں آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی بات سنی ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ انہوں نے سات مرتبہ کا ذکر کر کے انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم ﷺ سے ( یہ بات اتنی مرتبہ ) نہ سنی ہوتی تو میں نے تمہیں یہ بیان نہیں کرنی تھی کیا تم نے سورہ آل عمران میں موجود یہ آیت نہیں پڑھی ہے : ’’ اس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے ‘ اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے : ’’ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کے چہرے سفید ہوں گے ‘ تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے ‘ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی یہودیوں نے اختلاف کیا اور پھر وہ اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے ‘ اور ایک جنت میں جائے گا عیسائیوں نے اختلاف کیا اور وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے اکہتر فرقے جہنم میں جائیں گے ‘ اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے ‘ اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا ہم نے کہا : آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں تو انہوں نے جواب دیا : سواد اعظم ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ‘ اور امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10437

Majma al-Zawaid #10437

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْفَرَزْدَقِ فِي السِّجْنِ، فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ: لَا أَنْجَاهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْ مَالِكِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ إِنْ لَمْ أَكُنِ انْطَلَقْتُ أَمْشِي بِمَكَّةَ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَسَأَلْتُهُمَا، فَقُلْتُ: إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ، وَإِنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَيْنَا يَقْتُلُونَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَأْمَنُ مَنْ سِوَاهُمْ. فَقَالَا لِي - وَإِلَّا لَا أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْ مَالِكِ بْنِ الْمُنْذِرِ -: سَمِعْنَا خَلِيلَنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ قَتَلَهُمْ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ - أَوْ شَهِيدِينَ - وَمَنْ قَتَلُوهُ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Yazid al-Huna'i reported: I was with al-Farazdaq in prison. Al-Farazdaq said, May Allah not save him from Malik ibn al-Mundhir ibn al-Jarud if I did not walk in Makkah meeting Abu Hurayrah and Abu Sa'id al-Khudri radiya Allahu anhuma. I asked them, I am of the east; people emerge against us killing whoever says none is worthy of worship but Allah while sparing others. They told me — else may Allah not save me from Malik ibn al-Mundhir — We heard our close friend ﷺ say: > **"Whoever kills them has the reward of one martyr — or two martyrs — and whoever they kill has the reward of a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن یزید ہنائی بیان کرتے ہیں : میں قید میں فرزدق کے ساتھ تھا فرزدق نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کو مالک بن منذر بن جارود سے نجات عطا نہ کرے اگر میں پیدل چل کر مکہ نہ گیا ہوتا ‘ میری ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان دونوں سے سوال کیا میں نے کہا : میں مشرقی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں کچھ لوگ نکل کر ہمارے سامنے آئے ‘ اور انہوں نے «لا الہ الا اللہ» پڑھنے والوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور ان کے علاوہ لوگوں کو محفوظ قرار دیا ‘ تو ان دونوں حضرات نے مجھے یہ بتایا : جی نہیں ! ( فرزدق نے کہا : ) اللہ تعالیٰ مجھے مالک بن منذر سے نجات عطا نہ کرے ( اگر میں نے یہ بات نہ سنی ہو ) ان دونوں نے بتایا : ہم نے اپنے خلیل ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص انہیں قتل کرے گا اسے ایک شہید ( راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو شہیدوں کا اجر ملے گا اور جس شخص کو وہ لوگ قتل کریں گے اسے شہید کا اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10438

Majma al-Zawaid #10438

عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ - يَعْنِي ذَا الثُّدَيَّةِ - الَّذِي يُوجَدُ مَعَ أَهْلِ النَّهْرَوَانِ - فَقَالَ: "" «شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ، يَحْتَدِرُهُ رَجُلٌ مِنْ بُجَيْلَةَ، يُقَالُ لَهُ: الْأَشْهَبُ أَوِ ابْنُ الْأَشْهَبِ، عَلَامَةٌ فِي قَوْمٍ ظَلَمَةٍ» "". قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ حِينَ حَدَّثَ: جَاءَ بِهِ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ بُجَيْلَةَ. فَقَالَ: أَرَاهُ مَنْ دُهْنٍ. يُقَالُ لَهُ: الْأَشْهَبُ أَوِ ابْنُ الْأَشْهَبِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Malik — meaning Ibn Abi Waqqas radiya Allahu anhu — heard the Prophet ﷺ mention Dhu al-Thudayyah found with the people of Nahrawan, saying: > **"A devil of the hollow, brought down by a man of Bajilah called al-Ashhab or Ibn al-Ashhab, a sign among an unjust people."** Sufyan said Ammar al-Duhni when narrating said, A man of us of Bajilah brought him; I think from Duhn, called al-Ashhab or Ibn al-Ashhab.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص ﷺ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا ذکر کیا یعنی ذوثدیہ کا ذکر کیا جو اہل نہروان کے ساتھ پایا گیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : پہاڑ کی کھوہ میں موجود شیطان ‘ جسے بجیلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اوپر سے نیچے کی طرف سے لے کر آئے گا اس شخص کا نام اشہب ہو گا ( راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن اشہب ہو گا اور وہ تاریک قوم میں علامت ہو گا ۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : عمار دہنی نے جب یہ بات بیان کی تو یہ بتایا : ہمارے بجیلہ قبیلے میں سے ایک شخص اسے لے کر آیا تھا راوی کہتا ہے میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ دہن سے تھا ‘ اُسے اشہب یا ابن اشہب کہا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔