Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 15

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10366–10398

33 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10366

Majma al-Zawaid #10366

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَمَثَّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَبْ لِي بِنْتَ بُقَيْلَةَ، فَقَالَ: "" هِيَ لَكَ "". فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَخُوهَا، فَقَالَ: أَتَبِيعُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاحْتَكِمْ مَا شِئْتَ. قَالَ: بِأَلْفِ دِرْهَمٍ. قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا بِأَلْفٍ. قَالُوا لَهُ: لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا. قَالَ: وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ؟!». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَلَهُ طَرِيقٌ مِنْ حَدِيثِ صَاحِبِ الْقِصَّةِ فِي قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ.

EnglishUnverified translation

'Adi ibn Hatim radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Al-Hirah was displayed to me like dogs' fangs, and you shall conquer it."** A man stood and said, "O Messenger of Allah, grant me the daughter of Buqaylah." He said: > **"She is yours."** They gave her to him. Her brother came and said, "Will you sell her?" He said, "Yes." He said, "Decide what you will." He said, "For a thousand dirhams." He said, "I take her for a thousand." They said to him, "Had you said thirty thousand." He said, "Is there a number greater than a thousand?!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حیرہ کو میرے سامنے کتوں کے دانتوں کی شکل میں پیش کیا گیا تم عنقریب اسے فتح کر لو گے ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی ان لوگوں نے ( جب وہ شہر فتح ہوا ) تو وہ عورت ان صاحب کو دے دی اس عورت کے بھائی آئے اور کہا کہ کیا تم اسے فروخت کرو گے اس نے کہا : ٹھیک ہے ۔ انہوں نے کہا : پھر تم جو چاہو وہ طے کر دو اس نے کہا : ایک ہزار درہم ‘ اس کے بھائی نے کہا : میں ایک ہزار درہم کے عوض میں اسے لیتا ہوں لوگوں نے ان صاحب سے کہا اگر تم تیس ہزار درہم بھی کہہ دیتے تو انہوں نے دیدیئے تھے ۔ انہوں نے کہا : کیا ایک ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہوتا ہے ‘‘ ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ‘ جو مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں اس قصہ والے فرد سے منقول حدیث ہے ۔

10367

Majma al-Zawaid #10367

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقُلْتُ لَهُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمُ الرُّومُ، وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ "". فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَلَمْ أَزْجُرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا؟!». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mustawrid said: While I was with 'Amr ibn al-'As, I said to him: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The most severe against you are Rome, and their destruction is only with the Hour."** 'Amr said to him, "Did I not forbid you from the like of this?!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگوں کے خلاف سب سے زیادہ سخت رومی ہوں گے کیونکہ ان کی ہلاکت قیامت کے قریب ہو گی ‘‘ تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کیا میں نے تمہیں اس طرح کی بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10368

Majma al-Zawaid #10368

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ: كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ، وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ، يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ، وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "" قَالَهَا ثَلَاثًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Khath'am said: We were with the Prophet ﷺ in the Tabuk campaign. One night he stood and his companions gathered to him. He said: > **"Indeed Allah has given me tonight the two treasures: the treasure of Persia and Rome, and aided me with kings, the kings of Himyar, the red kings. There is no king but Allah. They come taking from Allah's wealth and fighting in Allah's way."** He said it three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ایک رات آپ ٹھہر گئے آپ کے اصحاب آپ کے گرد اکٹھے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آن رات اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خزانے عطا کیے ہیں اہل فارس کا خزانہ اور اہل روم کا خزانہ اور اس نے دو بادشاہوں کے ذریعے میری مدد کی ہے حمیر کے دو سرخ بادشاہوں کے ذریعے اور بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے وہ لوگ آئیں گے ‘ اور اللہ کے مال میں سے لیں گے ‘ اور اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہمام شعبانی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10369

Majma al-Zawaid #10369

وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ وَعَلَيْنَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ حَسَنَةَ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعِيَاضٌ - وَلَيْسَ عِيَاضٌ هَذَا الَّذِي حَدَّثَ سِمَاكًا -. قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ: فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ: إِنَّهُ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ، وَاسْتَمْدَدْنَاهُ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا: إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا، وَأَحْضَرُ جُنْدًا: [اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ]، فَاسْتَنْصِرُوهُ ; فَإِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نُصِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي هَذَا فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي. قَالَ: فَقَاتَلْنَاهُمْ فَقَتَلْنَاهُمْ وَهَزَمْنَاهُمْ أَرْبَعَةَ فَرَاسِخَ. قَالَ: وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرْنَا، فَأَشَارَ عَلَيْنَا عِيَاضٌ أَنْ نُعْطِيَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشَرَةً. قَالَ: وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَنْ يُرَاهِنِّي؟ فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ؟ قَالَ: فَسَبَقَهُ فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرِيٍّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Iyad al-Ash'ari said: I witnessed Yarmuk under five commanders: Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah, Yazid ibn Abi Sufyan, Ibn Hasanah, Khalid ibn al-Walid, and 'Iyad — not the 'Iyad who narrated to Simak. 'Umar said, "When fighting befalls you, Abu 'Ubaydah is over you." We wrote to him: death has surged toward us, seeking reinforcements. He wrote to us: "Your letter seeking my aid has come to me. I guide you to One mightier in aid and nearer in soldiers: Allah. Seek His aid, for Muhammad ﷺ was aided on Badr with fewer than your number. When this letter of mine reaches you, fight them and do not refer back to me." We fought them, killed them, routed them four farsakhs. We gained wealth and consulted; 'Iyad advised us to give ten for every head. Abu 'Ubaydah said, "Who will race me?" A youth said, "I will, if you will not be angry?" He outran him; I saw Abu 'Ubaydah's two braids bouncing behind him on a bare horse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عیاض اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یرموک میں شریک ہوا ہوں پانچ افراد ہمارے امیر تھے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ حضرت جریر بن ابوسفیان رضی الله عنہ حضرت ابن حسنہ رضی الله عنہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عیاض رضی اللہ عنہ یہ حضرت عیاض رضی اللہ عنہ وہ نہیں ہیں ‘ جنہوں نے سماک کو یہ حدیث بیان کی ہے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب لڑائی ہو ‘ تو تمہارے امیر ابوعبیدہ ہوں گے راوی کہتے ہیں : ہم نے انہیں خط لکھا کہ موت ہماری طرف بہہ کر آ رہی ہے ہم نے ان سے مدد مانگی تھی تو انہوں نے ہمیں جوابی خط میں لکھا کہ تمہارا مکتوب میرے پاس آیا جس میں تم نے مجھ سے امداد مانگی ہے ‘ اور میں تمہاری طرف وہ چیز بھیج رہا ہوں جو مدد کرنے میں زیادہ غلبے والا ہے ‘ اور لڑائی میں زیادہ حاضر ہونے والا ہے ‘ اور وہ اللہ تعالیٰ ہے تم لوگ اس سے مدد مانگو کیونکہ جب حضرت محمد ( ﷺ ) کی غزوہ بدر کے موقع پر مدد کی گئی تھی تو مسلمانوں کی تعداد تم لوگوں سے کم تھی جب میرا مکتوب تمہارے پاس آئے ‘ تو تم دشمن سے لڑنا اور دوبارہ میری طرف رجوع نہ کرنا راوی کہتے ہیں : ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا ہم نے انہیں قتل کر کے انہیں چار فرسخ تک پسپا کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں اموال حاصل ہوئے ان اموال کے بارے میں ہم نے باہمی طور پر مشورہ کیا ، تو حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ مشورہ دیا کہ ہم ہر فرد کی طرف سے دس ادا کریں راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کون میرے ساتھ گھڑ دوڑ کا مقابلہ کرے گا تو ایک نوجوان نے کہا : میں اگر آپ غصہ نہ کریں راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے آگے نکل گیا اور میں نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بال اڑتے ہوئے جا رہے تھے اور وہ اس نوجوان کے پیچھے اپنے گھوڑے کی برہنہ پشت پر سوار تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10370

Majma al-Zawaid #10370

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ أُمَرَاءَ عَلَى الشَّامِ، فَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ عَلَى جُنْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri said: After the death of the Messenger of Allah ﷺ, Abu Bakr sent commanders over Sham, placing Khalid ibn Sa'id over an army.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امراء کو شام بھیجا تو آپ نے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر مقرر کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ زہری نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10371

Majma al-Zawaid #10371

وَعَنْ خُبَيْبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، وَعِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ أُصِيبُوا يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، فَدَعَا الْحَارِثُ بِشَرَابٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عِكْرِمَةُ، فَقَالَ: ادْفَعُوهُ إِلَى عِكْرِمَةَ، فَدُفِعَ إِلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: ادْفَعُوهُ إِلَى عَيَّاشٍ، فَمَا وَصَلَ إِلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا، وَمَا ذَاقُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَخُبَيْبٌ لَمْ يُدْرِكِ الْيَرْمُوكَ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Khubayb ibn Abi Thabit: al-Harith ibn Hisham, 'Ikrimah ibn Abi Jahl, and 'Ayyash ibn Abi Rabi'ah were struck down on Yarmuk day. Al-Harith called for drink. 'Ikrimah looked at him and said, "Hand it to 'Ikrimah." It was handed to him. 'Ayyash ibn Abi Rabi'ah looked at him, and 'Ikrimah said, "Hand it to 'Ayyash." It reached none of them before they all died, without tasting it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خبیب بن ابوثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ حضرت عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ اور حضرت عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ جنگ یرموک میں شدید زخمی ہو چکے تھے حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا عکرمہ اس ( پانی ) کی طرف دیکھ رہے تھے ‘ تو انہوں نے کہا : یہ پہلے عکرمہ کو دے دو دینے والے نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا تو حضرت عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھ رہے تھے ‘ تو حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ عیاش کو دے دو وہ پانی ان میں سے کسی تک نہیں پہنچا ، یہاں تک کہ ان تینوں کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے اس پانی کو چکھا بھی نہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے حبیب نامی راوی نے جنگ یرموک کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10372

Majma al-Zawaid #10372

وَعَنْ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ ابْنَةَ عَمِّ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَتَلَتْ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ تِسْعَةً مِنَ الرُّومِ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhajir ibn Dinar: Asma' bint Yazid ibn al-Sakan, cousin of Mu'adh ibn Jabal, killed nine Romans on Yarmuk day with a tent-pole.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مہاجر بن بیان کرتے ہیں : دینار سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بنت یزید بن سکن ، جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی چچا زاد تھیں جنگ یرموک کے موقع پر انہوں نے خیمے کی لکڑی کے ذریعے نو رومیوں کو قتل کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10373

Majma al-Zawaid #10373

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَجُلًا يَقُولُ: أَيْنَ الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُونَ فِي الْآخِرَةِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أُولَئِكَ ذَهَبُوا، أَصْحَابُ الْجَابِيَةِ. اشْتَرَطَ خَمْسُمِائَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ لَا يَرْجِعُوا حَتَّى يُقْتَلُوا، فَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَقُتِلُوا، إِلَّا مُخْبِرًا عَنْهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Wa'il said: 'Abdullah — that is Ibn Mas'ud radiya Allahu anhu — heard a man say, "Where are the ascetics in this world, desirers of the Hereafter?" 'Abdullah said, "Those are gone — the companions of al-Jabiyah. Five hundred Muslims stipulated they would not return until killed. They shaved their heads, met the enemy, and were killed, save one to report of them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے اور آخرت سے رغبت رکھنے والے لوگ کہاں ہیں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ لوگ تو چلے گئے ہیں یہ جابیہ والے لوگ تھے پانچ سو مسلمانوں نے یہ طے کیا تھا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ‘ یہاں تک کہ شہید ہو جائیں گے انہوں نے اپنے سر مونڈ لئے تھے دشمن کا سامنا کیا تھا ‘ اور سب شہید ہو گئے تھے صرف وہ شخص بچا تھا جس نے ان کے بارے میں خبر دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے وہ بکثرت غلطی کرنے والا شخص ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10374

Majma al-Zawaid #10374

عَنْ عُرْوَةَ فِي مَنْ قُتِلَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ بِأَجْنَادِينَ: مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ مَنَافٍ: أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمِ بْنِ هُصَيْصٍ: تَمِيمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، وَجُنْدَبُ بْنُ حَمَمَةَ الدَّوْسِيُّ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ: عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: حَجَّاجُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: الْحَارِثُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنُ قَيْسٍ. وَمِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ: نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ .. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ عُرْوَةَ: ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah, concerning those killed at Ajnadayn: Of Quraysh, then of Banu 'Abd Shams ibn Manaf: Aban ibn Sa'id ibn al-'As. Of Quraysh, then of Banu Sahm ibn Husays: Tamim ibn al-Harith ibn Qays, and Jundab ibn Hamamah al-Dawsi, ally of Banu Umayyah ibn 'Abd Shams. Of Quraysh, then of Banu Umayyah: 'Amr ibn Sa'id ibn al-'As. Of Quraysh, then of Banu Sahm: Hajjaj ibn al-Harith ibn Qays. Of Quraysh, then of Banu Sahm: al-Harith ibn al-Harith ibn Qays. Of Quraysh, then of Banu Sahm: Sa'id ibn al-Harith ibn Qays. Of Banu 'Adi ibn Ka'b: Nu'aym ibn 'Abdillah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے یوم اجنادین میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : قریش کی شاخ بنو عبدمناف سے تعلق رکھنے والے حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی الله عنہ قریش کی شاخ بنوسہم بن ہصیص سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم بن حارث بن قیس اور حضرت جندب بن حممہ دوسی رضی اللہ عنہ جو بنوامیہ بن عبد شمس کے حلیف تھے ۔ قریش کی شاخ بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عمرو بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنوسہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حجاج بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں عروہ کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10375

Majma al-Zawaid #10375

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ: مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: تَمِيمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنُ قَيْسٍ، وَجُنْدُبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَمْحَمَةَ الدَّوْسِيُّ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ. مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: حَجَّاجُ بْنُ الْحَارِثِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: الْحَارِثُ بْنُ أَبِي قَارِبٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, in naming those martyred at Ajnadayn: Of Quraysh, then of Banu Sahm: Tamim ibn al-Harith ibn Qays, and Jundab ibn 'Amr ibn Hamhamah al-Dawsi, ally of Banu Umayyah ibn 'Abd Shams. Of Quraysh, then of Banu Sahm: Hajjaj ibn al-Harith. Of Quraysh, then of Banu Sahm: al-Harith ibn Abi Qarib. Of Quraysh, then of Banu Sahm: Sa'id ibn al-Harith ibn Qays.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے یوم اجنادین میں جام شہادت کرنے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ اور حضرت جندب بن عمرو بن حممہ روسی رضی اللہ عنہ جو بنوامیہ بن عبد شمس کے حلیف تھے قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حجاج بن حارث رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن ابوقارب رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن حارث بن قیس رضی اللہ عنہ انہوں نے یہ تمام روایات ایک سند کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10376

Majma al-Zawaid #10376

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أَجْنَادِينَ: مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: حَجَّاجُ بْنُ الْحَارِثِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَهْمٍ: الْحَارِثُ بْنُ الْحَارِثِ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, in naming those martyred at Ajnadayn: Of Quraysh, then of Banu Sahm: Hajjaj ibn al-Harith. Of Quraysh, then of Banu Sahm: al-Harith ibn al-Harith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے یوم اجنادین میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حجاج بن حارث رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن حارث رضی اللہ عنہ ۔ امام طبرانی نے ان دونوں کا ذکر ایک سند کے ساتھ کیا ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

10377

Majma al-Zawaid #10377

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ. عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ [عَنْ أَبِيهِ قُرَّةَ] قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْقَادِسِيَّةِ بَعَثَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى صَاحِبِ فَارِسَ، فَقَالَ: ابْعَثُوا مَعِي عَشَرَةً فَشَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ جَحْفَةً، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَوْهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: أَلْقُوا إِلَيَّ بُرْنُسًا فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ الْعِلْجُ: إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ، قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي حَمَلَكُمْ عَلَى الْجِيئَةِ إِلَيْنَا، أَنْتُمْ قَوْمٌ لَا تَجِدُونَ فِي بِلَادِكُمْ مِنَ الطَّعَامِ مَا تَشْبَعُونَ مِنْهُ، فَخُذُوا نُعْطِيكُمْ مِنَ الطَّعَامِ حَاجَتَكُمْ، فَإِنَّا قَوْمٌ مَجُوسٌ، وَإِنَّا نَكْرَهُ قَتْلَكُمْ، وَإِنَّكُمْ تُنَجِّسُونَ عَلَيْنَا أَرْضَنَا. فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: وَاللَّهِ مَا ذَاكَ جَاءَ بِنَا، وَلَكِنَّا كُنَّا قَوْمًا نَعْبُدُ الْحِجَارَةَ وَالْأَوْثَانَ فَإِذَا رَأَيْنَا حَجَرًا أَحْسَنَ مِنْ حَجَرٍ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا غَيْرَهُ، وَلَا نَعْرِفُ رَبًّا، حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِنَا، فَدَعَانَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَاتَّبَعْنَاهُ، وَلَمْ نَجِئْ لِطَعَامٍ، وَأَمَرَنَا بِقِتَالِ عَدُوِّنَا مِمَّنْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ، وَلَمْ نَجِئْ لِطَعَامٍ، وَلَكِنَّا جِئْنَا نَقْتُلُ مُقَاتِلَتَكُمْ، وَنَسْبِي ذَرَارِيَّكُمْ. فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الطَّعَامِ، فَإِنَّا كُنَّا لَعَمْرِي مَا نَجِدُ مِنَ الطَّعَامِ مَا نَشْبَعُ مِنْهُ، وَرُبَّمَا لَمْ نَجِدْ رِيًّا مِنَ الْمَاءِ أَحْيَانًا، فَجِئْنَا إِلَى أَرْضِكُمْ هَذِهِ، فَوَجَدْنَا طَعَامًا كَثِيرًا، فَلَا وَاللَّهِ لَا نَبْرَحُهَا حَتَّى تَكُونَ لَنَا أَوْ لَكُمْ. قَالَ الْعِلْجُ بِالْفَارِسِيَّةِ: صَدَقَ، وَأَنْتَ تُفْقَأُ عَيْنُكَ غَدًا - بِالْفَارِسِيَّةِ - فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ مِنَ الْغَدِ. أَصَابَتْهُ نُشَّابَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani said: al-Harith ibn Hisham al-Makhzumi was martyred at Yarmuk. Mu'awiyah ibn Qurrah, from his father Qurrah, said: On Qadisiyyah day, al-Mughirah ibn Shu'bah sent to the Persian commander, saying, "Send ten with me." He tightened his garments, took a leather shield, and went until they came to him. He said to the people, "Throw me a cloak," and sat upon it. The foreigner said, "You Arabs — I know what brought you to us. You are a people who find no food in your land to satisfy you. Take, we shall give you food you need. We are Magians and dislike killing you, and you defile our land." Al-Mughirah said, "By Allah, that is not what brought us. We were a people who worshipped stones and idols; when we saw a stone better than a stone we cast it and took another, knowing no Lord, until Allah sent us a Messenger from ourselves. He called us to Islam and we followed him. We did not come for food. He commanded us to fight our enemy who abandoned Islam. We did not come for food, but we came to kill your fighters and take your offspring captive." "As for the food you mentioned, by my life we indeed found no food to satisfy us, sometimes not even water to quench us. We came to this land of yours and found abundant food. By Allah, we shall not leave it until it is ours or yours." The foreigner said in Persian, "He spoke truth — and your eye will be gouged tomorrow," in Persian. His eye was gouged the next day; an arrow struck it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معایہ بن قرہ نے اپنے والد حضرت قرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ’’ جنگ قادسیہ کے موقع پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فارس کے حکمران کو پیغام بھیجا ( کہ وہ اس کو ملنا چاہتے ہیں ) پھر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے ساتھ دس آدمیوں کو بھیجو انہوں نے اپنا لباس پہنا اپنے ساتھ ڈھال رکھی اور پھر روانہ ہو گئے ‘ یہاں تک کہ فارس کے حکمران کے پاس آئے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا میرے لئے برلس ڈال دو پھر وہ اس پر تشریف فرما ہوئے اہل ایران کے سردار نے کہا : تم عرب لوگ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ کس وجہ سے ہماری طرف آئے ہو تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اپنے علاقوں میں کھانے کے لئے اتنا کچھ نہیں ملتا کہ جس سے تم سیر ہو سکو تو تم آؤ ہم تمہیں تمہاری ضرورت کے مطابق اناج دے دیتے ہیں کیونکہ ہم مجوس لوگ ہیں ہم تمہیں قتل کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ‘ اور تم نے ہمارے پاس آ کر ہماری سرزمین کو خراب کر دیا ہے ‘ تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ہم اس وجہ سے نہیں آئے ہیں ہم ایسے لوگ تھے کہ ہم پتھروں کی اور بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے جب ہم کوئی پتھر دوسرے پتھر سے زیادہ بہتر دیکھتے تھے ‘ تو پہلے والے کو پھینک دیتے تھے اور دوسرے والے کو لے لیتے تھے ہمیں اپنے پروردگار کی معرفت ہی نہیں تھی ، یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف رسول کو مبعوث کیا جو ہم میں سے ہی تھے انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے ان کی پیروی کی ہم اناج لینے کے لئے نہیں آئے ہیں ہمارے دشمنوں میں سے جو شخص اسلام کو ترک کرتا ہے ہمیں اس کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہم اناج کی خاطر نہیں آئے ہیں ہم تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں ، اور تمہارے بال بچوں کو قیدی بنانے کے لئے آئے ہیں جہاں تک تم نے اناج کا ذکر کیا ہے ‘ تو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ہمیں وہ اتنا نہیں ملتا کہ جس کے ذریعے ہم سیر ہو جائیں اور بعض اوقات ہمیں تسلی بخش پانی بھی نہیں ملتا اب ہم تمہاری سرزمین کی طرف آئے ہیں یہاں ہمیں بہت سا اناج ملتا ہے ‘ تو اللہ کی قسم ہم اس وقت تک یہاں رہیں گے جب تک یہ زمین یا تمہاری نہیں ہو جاتی یا ہماری نہیں ہو جاتی تو ایرانیوں کے سردار نے فارسی میں کہا اس نے سچ کہا ہے پھر اس نے فارسی میں کہا کل تمہاری آنکھ پھوٹ جائے گی تو اگلے دن ان کی آنکھ پھوٹ گئی تھی اسے تیر لگا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10378

Majma al-Zawaid #10378

وَعَنْ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَنَحْنُ مَعَ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ فَلَا تَفِرُّوا، وَإِذَا غَنِمْتُمْ فَلَا تَغُلُّوا. فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ، قَالَ النُّعْمَانُ: أَمْهِلُوا الْقَوْمَ، وَذَلِكَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَصْعَدَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْتَنْصِرَ، فَقَاتَلَهُمْ، فَانْقَضَّ النُّعْمَانُ، فَقَالَ: سَجُّونِي ثَوْبًا، وَأَقْبِلُوا عَلَى عَدُوِّكُمْ، وَلَا أَهُولَنَّكُمْ. قَالَ: فَأَقْبَلْنَا عَلَيْهِمْ فَفَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا، وَأَتَى عُمَرَ الْخَبَرُ أَنَّهُ أُصِيبَ النُّعْمَانُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَرِجَالٌ لَا نَعْرِفُهُمْ. قَالَ: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَعْرِفُهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Salt said: 'Umar radiya Allahu anhu wrote to us while we were with al-Nu'man ibn Muqarrin al-Muzani: > **"When you meet the enemy, do not flee; when you gain spoils, do not steal."** When we met the enemy, al-Nu'man said, "Grant the people time — it is Friday — until the Commander of the Faithful ascends and seeks aid." He fought them. Al-Nu'man was struck and said, "Cover me with a garment, turn to your enemy, and let me not alarm you." We turned upon them and Allah granted us victory. News reached 'Umar that al-Nu'man and so-and-so were struck, and men we do not know. He said, "But Allah knows them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصلت بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خط لکھا ہم اس وقت حضرت نعمان مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے فرمایا : جب تم دشمن کا سامنا کرو تو فرار نہ ہونا اور جب تمہیں مال غنیمت حاصل ہو ‘ تو خیانت نہ کرنا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے دشمن کا سامنا کیا ، تو حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں کو مہلت دو راوی کہتے ہیں : یہ جمعہ کے دن کی بات تھی ( حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت تک مہلت دو ) جب تک امیر المومنین منبر پر بیٹھ کر مدد کی دعا نہیں کرتے پھر تم ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرنا جب حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دینا اور دشمن پر حملہ آور ہو جانا اور میری وجہ سے پریشان نہ ہونا راوی کہتے ہیں تو ہم نے دشمن پر حملہ کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب کر دی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اطلاع ملی کہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے فلاں صاحب شہید ہو گئے فلاں صاحب شہید ہو گئے ہیں ‘ اور ایسے لوگ شہید ہوئے ہیں ، جن سے ہم واقف نہیں ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

10379

Majma al-Zawaid #10379

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ شَاوَرَ الْهُرْمُزَانَ فِي أَصْبَهَانَ وَفَارِسَ وَأَذْرَبِيجَانَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَصْبَهَانُ الرَّأْسُ، وَفَارِسُ وَأَذْرَبِيجَانُ الْجَنَاحَانِ، فَإِنْ قَطَعْتَ أَحَدَ الْجَنَاحَيْنِ ثَارَ الرَّأْسُ بِالْجَنَاحِ الْآخَرِ، وَإِنْ قَطَعْتَ الرَّأْسَ وَقَعَ الْجَنَاحَانِ فَابْدَأْ بِالرَّأْسِ. فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ يُصَلِّي فَانْتَظَرَهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْتَعْمِلُكَ، فَقَالَ: أَمَّا جَابِيًا فَلَا، وَأَمَا غَازِيًا فَنَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّكَ غَازٍ. فَسَرَّحَهُمْ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنْ يَمُدُّوهُ وَيَلْحَقُوا بِهِ فِيهِمْ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَالْأَشْعَثُ، وَعَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، فَأَتَاهُمُ النُّعْمَانُ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ نَهْرٌ. فَبَعَثَ إِلَيْهِمُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَسُولًا، وَمَلِكُهُمْ ذُو الْجَنَاحَيْنِ فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: مَا تَرَوْنَ أَجْلِسُ لَهُ فِي هَيْئَةِ الْحَرْبِ أَوْ فِي هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ؟ فَقَالُوا: اقْعُدْ لَهُ فِي هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ. فَجَلَسَ لَهُ عَلَى هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ عَلَى سَرِيرٍ وَوَضَعَ التَّاجَ عَلَى رَأْسِهِ، وَحَوْلَهُ سِمَاطَانِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الدِّيبَاجِ وَالْقِرَطَةُ وَالْأَسْوِرَةُ، فَأَخَذَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَضَعُ بَصَرَهُ، وَبِيَدِهِ الرُّمْحُ وَالتُّرْسُ، وَالنَّاسُ حَوْلَهُ عَلَى سِمَاطَيْنِ عَلَى بِسَاطٍ لَهُ، فَجَعَلَ يَطْعَنُهُ بِرُمْحِهِ يَخْرِقُهُ لِكَيْ يَتَطَيَّرُونَ. فَقَالَ لَهُ ذُو الْجَنَاحَيْنِ: إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ أَصَابَكُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَإِذَا شِئْتُمْ مِرْنَاكُمْ، وَرَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ؟ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّا كُنَّا مَعْشَرَ الْعَرَبِ نَأْكُلُ الْجِيَفَ وَالْمَيْتَةِ، وَكَانَ النَّاسُ يَطَئُونَا وَلَا نَطَؤُهُمْ، فَابْتَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا فِي شَرَفٍ مِنَّا، أَوْسَطَنَا حَسَبًا، وَأَصْدَقَنَا حَدِيثًا، وَإِنَّهُ وَعَدَنَا أَنَّا هَاهُنَا سَيُفْتَحُ عَلَيْنَا، فَقَدْ وَجَدْنَا جَمِيعَ مَا وَعَدَنَا حَقًّا، وَإِنِّي أَرَى هُنَا بِزَّةً وَهَيْئَةً مَا أَرَى أَنَّ مَنْ بَعْدِي بِذَاهِبِينَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَقَالَتْ لِي نَفْسِي: لَوْ جَمَعْتَ جَرَامِيزَكَ، فَوَثَبْتُ وَثْبَةً فَجَلَسْتُ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَزَجَرُوهُ وَوَطِئُوهُ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ أَنَا اسْتَحْمَقْتُ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُفْعَلُ بِالرُّسُلِ، وَلَا نَفْعَلُ هَذَا بِرُسُلِكُمْ إِذَا أَتَوْنَا. فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ قَطَعْنَا إِلَيْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ قَطَعْتُمْ إِلَيْنَا؟ فَقُلْتُ: بَلْ نَقْطَعُ إِلَيْكُمْ، فَقَطَعْنَا إِلَيْهِمْ فَصَافَفْنَاهُمْ، فَسَلْسَلُوا كُلَّ سَبْعَةٍ فِي سِلْسِلَةٍ، وَكُلَّ خَمْسَةٍ فِي سِلْسِلَةٍ ; لِئَلَّا يَفِرُّوا. قَالَ: فَرَامُونَا حَتَّى أَسْرَعُوا فِينَا، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِلنُّعْمَانِ: إِنَّ الْقَوْمَ أَسْرَعُوا فِينَا فَاحْمِلْ، قَالَ: إِنَّكَ ذُو مَنَاقِبَ، وَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَمْ نُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ. فَقَالَ النُّعْمَانُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اهْتَزُّوا، فَأَمَّا الْهِزَّةُ الْأُولَى فَلْيَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَلْيَنْظُرِ الرَّجُلُ فِي سِلَاحِهِ وَشِسْعِهِ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَإِنِّي حَامِلٌ فَاحْمِلُوا، وَإِنْ قُتِلَ أَحَدٌ فَلَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَإِنْ قُتِلْتُ فَلَا تَلْوُوا عَلَيَّ، وَإِنِّي دَاعِي اللَّهَ بِدَعْوَتِي فَعَزَمْتُ عَلَى كُلِّ امْرِئٍ مِنْكُمْ لَمَّا أَمَّنَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقِ النُّعْمَانَ الْيَوْمَ شَهَادَةً بِنَصْرِ الْمُسْلِمِينَ، وَافْتَحْ عَلَيْهِمْ، فَأَمَّنَ الْقَوْمُ. وَهَزَّ لِوَاءَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ حَمَلَ، وَكَانَ أَوَّلَ صَرِيعٍ، فَمَرَرْتُ بِهِ فَذَكَرْتُ عَزْمَتَهُ فَلَمْ أَلْوِ عَلَيْهِ، وَأَعْلَمْتُ مَكَانَهُ، فَكَانَ إِذَا قَتَلْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ شُغِلَ عَنَّا أَصْحَابُهُ يَجُرُّونَهُ، وَوَقَعَ ذُو الْجَنَاحَيْنِ مِنْ بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ فَانْشَقَّ بَطْنُهُ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَأَتَيْتُ مَكَانَ النُّعْمَانِ وَبِهِ رَمَقٌ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، اكْتُبُوا بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، وَفَاضَتْ نَفْسُهُ، فَاجْتَمَعُوا إِلَى الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: فَأَتَيْنَا أُمَّ وَلَدِهِ، فَقُلْنَا: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكِ عَهْدًا؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا سَفَطًا فِيهِ كِتَابٌ، فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ: إِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ، وَإِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ، وَإِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ. قَالَ حَمَّادٌ: فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ، فَسَأَلَ عَنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قَالَ: مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ قُلْتُ: قُتِلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَآخَرُونَ لَا نَعْرِفُهُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَنَا لَا أَعْلَمُهُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُهُمْ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى قَوْلِهِ: فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ. رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ma'qil ibn Yasar: 'Umar consulted al-Hurmuzan about Isbahan, Persia, and Adharbayjan. He said, "O Commander of the Faithful, Isbahan is the head, Persia and Adharbayjan the two wings. If you cut one wing, the head rises with the other wing; if you cut the head, both wings fall. Begin with the head." 'Umar entered the mosque to find al-Nu'man ibn Muqarrin al-Muzani praying. He waited until he finished, then said, "I shall employ you." He said, "As collector, no; as raider, yes." He said, "You are a raider." He dispatched them and wrote to Kufah's people to reinforce him and join him — among them Hudhayfah ibn al-Yaman, al-Mughirah ibn Shu'bah, al-Zubayr ibn al-'Awwam, al-Ash'ath, 'Amr ibn Ma'di Karib, and 'Abdullah ibn 'Amr. Al-Nu'man came to them with a river between him and them. He sent al-Mughirah ibn Shu'bah as envoy. Their king was Dhu al-Janahayn. He consulted his companions: "Shall I sit for him in war-array or in royal splendor?" They said, "Sit for him in royal splendor." He sat on a throne with the crown on his head, two rows around him in brocade, earrings, and bracelets. Al-Mughirah ibn Shu'bah kept lowering his gaze, spear and shield in hand, the people around him in two rows on his carpet, piercing it with his spear to make them augur evil. Dhu al-Janahayn said to him, "You Arabs suffered severe hunger; if you wish, we shall provision you and you return to your land?" Al-Mughirah ibn Shu'bah spoke, praised Allah and extolled Him, then said, "We Arabs ate carrion and dead meat, people trod upon us and we trod upon none. Allah raised among us a Messenger of our noblest, middlemost in lineage, truest in speech. He promised us that here it would be opened for us. We found all he promised true. I see here finery I never saw the like of." The king said, "By Allah, you shall not return until some of you are killed and some captured." Al-Mughirah returned to al-Nu'man and informed him. Al-Nu'man said, "I witnessed with the Messenger of Allah ﷺ: when we did not fight at the day's start, he delayed fighting until the sun declined, the winds blew, and aid descended." Al-Nu'man said, "O people, stir — at the first shake let each man relieve his need; at the second let each look to his weapon and sandal-strap; at the third I shall charge, so charge. If any is killed, let none turn to any; if I am killed, do not turn to me. I shall supplicate Allah with a supplication, and I adjure every man of you to say amen to it." He said: > **"O Allah, grant al-Nu'man martyrdom today with victory for the Muslims, and open for them."** The people said amen. He shook his banner thrice, then charged, and was the first fallen. I passed by him, remembered his adjuration, did not turn to him, and marked his place. When we killed a man of theirs, his companions busied themselves dragging him away. Dhu al-Janahayn fell from a gray mule and his belly split. Allah opened for the Muslims. I came to al-Nu'man's place with life-breath in him. I came and said, "Allah has opened for them." He said, "Praise be to Allah. Write that to 'Umar." His soul flowed out. They gathered to al-Ash'ath ibn Qays. We came to his slave-mother and said, "Did he entrust you with anything?" She said, "No, but a case with a letter." I read it: "If so-and-so is killed, then so-and-so; if killed, then so-and-so." Hammad said: 'Ali ibn Zayd narrated to us: Abu 'Uthman al-Nahdi said he came to 'Umar, who asked about al-Nu'man. He said, "To Allah we belong and to Him we return." He said, "What of so-and-so?" I said, "He was killed, O Commander of the Faithful, and others we do not know." He said, "I do not know them, but Allah knows them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصبہان اور فارس اور آذربائی جان کے بارے میں مشورہ لیا تو اس نے عرض کی : اے امیر المومنین اصبہان سر ہے ‘ اور فارس اور آذربائی جان دو پر ہیں اگر آپ دو پروں میں سے ایک کو کاٹ دیں گے ‘ تو سر دوسرے پر کی طرف چلا جائے گا لیکن اگر آپ سر کاٹ دیں گے ‘ تو دونوں پر چلے جائیں گے ‘ تو آپ سر سے آغاز کریں راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے وہاں حضرت نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کا انتظار کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کر لی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو عامل مقرر کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : اگر تو کوئی سرکاری ذمہ داری ہے ‘ تو پھر نہیں ، اور اگر جنگ میں حصہ لینا ہے ‘ تو پھر ٹھیک ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے جنگ میں حصہ لینا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں روانہ کیا اور اہل کوفہ کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ان کی مدد کریں اور ان کے ساتھ مل جائیں ان لوگوں میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ حضرت اشعث رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ موجود تھے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ان کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک دریا موجود تھا ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف ایک قاصد بھیجا اس وقت دو پروں والا شخص ان کا حکمران تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور یہ کہا تم لوگ کیا سمجھتے ہو مجھے ان کے سامنے جنگ کی حالت میں بیٹھنا چاہیے یا ایک بادشاہ کی ہیئت میں بیٹھنا چاہیے جو تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ‘ تو ان لوگوں نے مشورہ دیا کہ تم ان لوگوں کے سامنے ایک بادشاہ کی شان و شوکت کے ساتھ بیٹھو تو وہ ان کے لئے بادشاہ کی شان و شوکت کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا اس نے اپنے سر پر تاج رکھ لیا اس کے ارد گرد دو پردے تھے ان لوگوں نے ریشمی کپڑے اور بالیاں اور کنگن پہنے تھے ‘ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا ‘ اور ڈھال تھی لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے اس کے بچھونے کے ارد گرد جو پردے تھے ‘ وہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے نیزے کے ذریعے چبھو کر چیرنا شروع کر دیے ‘ تاکہ وہ لوگ اس کے ذریعے فال حاصل کریں ذوالجناحین نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم عرب لوگ تمہیں شدید بھوک لاحق تھی جو تم چاہو ہم تمہیں کھانے کے لئے دینے کا حکم دیتے ہیں تم لوگ اپنے علاقوں کی طرف واپس چلے جاؤ ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو انہوں نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ہم عرب لوگ مردار اور مردہ چیزیں کھایا کرتے تھے لوگ ہمیں دبا لیتے تھے ہم انہیں نہیں دباتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے میں سے ایک معزز خاندان میں رسول کو مبعوث کیا جو حسب کے اعتبار سے ہم میں سے تھے اور گفتگو کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے تھے انہوں نے ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ علاقہ ہمارے لئے فتح ہو جائے گا ‘ تو انہوں نے ہمارے ساتھ جو بھی وعدے کیے ہیں وہ سب ہم نے حق پائے ہیں ‘ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہاں جو ریشم نظر آ رہا ہے ‘ اور جو شان و شوکت نظر آ رہی ہے میں نہیں سمجھتا یہ کہ میرے بعد رخصت ہو جائیں گے ‘ یہاں تک کہ وہ لوگ اسے اپنی گرفت میں لے لیں ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا : اگر تم اپنے تمام علاقوں کو اکٹھا کرو تو میں حملہ کر دوں گا اور اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ جاؤں گا ان لوگوں نے انہیں ڈانٹا تو میں نے کہا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ کیا میں احمق ہوں ، کیونکہ قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا ‘ اور جب تمہارے قاصد ہمارے پاس آئیں گے ‘ تو ہم بھی ان کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے اس نے کہا : اگر تم چاہو ‘ تو ہم تمہیں ٹکڑے کر کے دیے دیتے ہیں ‘ اور اگر تم چاہو ‘ تو تم ہمیں ٹکڑے کر کے دے دو میں نے کہا : بلکہ ہم تمہیں ٹکڑے کر کے دیں گے ‘ تو ہم نے انہیں ٹکڑے کر کے دے دیے ہم نے ان کے مقابلے میں صف بنائی سات افراد ایک لڑی میں اکٹھے ہوئے پانچ افراد ایک زنجیر میں اکٹھے ہوئے تاکہ وہ فرار نہ ہوں ۔ انہوں نے ہم پر تیراندازی شروع کی ‘ یہاں تک کہ ہمارے بارے میں انہوں نے جلدی کی تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگ ہماری طرف جلد بازی کر رہے ہیں ، تو آپ حملہ کر دیں انہوں نے کہا : آپ مناقب والی شخصیت ہیں لیکن میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا ہوں ہم دن کے ابتدائی حصے میں جنگ نہیں کرتے تھے نبی اکرم ﷺ لڑائی کو مؤخر کر دیتے تھے ‘ یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا تھا ‘ اور ہوائیں چلنے لگتی تھیں اور مدد نازل ہوتی تھی پھر حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے لوگو تیار ہو جاؤ جب پہلی مرتبہ جھنڈے کو حرکت دی جائے گی تو ہر شخص اپنی ضرورت پوری کر لے جب دوسری مرتبہ حرکت دی جائے گی تو آدمی اپنے ہتھیار اور ساز و سامان کا جائزہ لے اور جب تیسری مرتبہ حرکت دی جائے گی ‘ تو میں حملہ کر دوں گا ‘ تم لوگ بھی حملہ کر دینا اگر کوئی ایک شخص مارا جاتا ہے ‘ تو کوئی شخص دوسرے کی خاطر نہ مڑے اور اگر میں قتل ہو جاتا ہوں تو تم پریشان نہ ہونا کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جاؤں گا میں تم میں سے ہر ایک شخص کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ اس نے بھرپور طریقے سے جنگ میں حصہ لینا ہے پھر انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ آج مسلمان کی مدد کرنے کے ہمراہ نعمان کو شہادت نصیب کر دے اور مسلمانوں کو فتح نصیب کر دے لوگوں نے آمین کہا پھر انہوں نے تین مرتبہ اپنے جھنڈے کو لہرایا اور پھر حملہ کر دیا ‘ تو وہ سب سے پہلے شہید ہوئے میں ان کے پاس سے گزرا تو مجھے ان کی تاکید یاد آ گئی اس لئے میں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی حالانکہ مجھے ان کے مرتبہ و مقام کا علم تھا جب ہم ان میں سے کسی شخص کو قتل کرتے تھے ‘ تو اس کے ساتھی ہماری طرف سے مشغول ہو جاتے تھے وہ اسے کھینچتے تھے وہ اسے کھینچتے تھے ذوالجناح اس وقت سفید خچر پر سوار تھا اس کا پیٹ چیر دیا گیا وہ اس سے گر گیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کر دی میں حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان میں زندگی کی رمق باقی تھی میں ان کے پاس آیا میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کر دی ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے تم اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ دینا اور پھر انہوں نے آخری سانس لے لی لوگ اکٹھے ہو کر حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے راوی کہتے ہیں : ہم ان کی اُم ولد کے پاس آئے ہم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی عہد کیا تھا اس خاتون نے جواب دیا جی نہیں البتہ ایک تحریر موجود ہے میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا کہ اگر فلاں قتل ہو جائے ‘ تو فلاں امیر بن جائے گا اگر فلاں قتل ہو جائے ‘ تو فلاں امیر بن جائے گا اگر فلاں قتل ہو جائے ‘ تو فلاں امیر بن جائے گا ۔ حماد کہتے ہیں علی بن زید نے ابوعثمان نہدی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان سے دریافت کیا : اور پھر کہا : «انا للہ وانا اليه راجعون» پھر انہوں نے دریافت کیا : فلاں کا کیا حال ہے میں نے کہا : وہ قتل ہو گئے ہیں اے امیر المومنین اس کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ، جن سے ہم واقف نہیں ہیں راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان سے واقف نہیں ہوں لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال شروع سے لے کر حد ثناعلی بن زید تک کے الفاظ تک صحیح کے رجال ہیں صرف علقمہ بن عبداللہ مزنی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10380

Majma al-Zawaid #10380

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْجِسْرِ سَنَةَ خَمْسَ عَشَرَةَ. مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أَسْعَدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ لَوْذَانَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَابِتُ بْنُ عَتِيكٍ، وَثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحْصَنٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ: الْحَارِثُ بْنُ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ بْنِ مُظَاهِرٍ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, in naming the Muslims martyred on the Bridge day, year fifteen: Of the Ansar, then of Banu 'Abd al-Ashhal: Aws ibn Aws. Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: As'ad ibn Harithah ibn Lawdhan. Of the Ansar: Thabit ibn 'Atik, and Tha'labah ibn 'Amr ibn Muhsin. Of the Ansar, then of Banu Mu'awiyah: al-Harith ibn 'Adi ibn Malik, and al-Harith ibn Mas'ud ibn 'Abd ibn Muzahir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے جنگ جسر کے دن شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : یہ جنگ پندرہ ہجری میں پیش آئی تھی : انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنوساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت اسعد بن حارثہ بن لوزان رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن عتیک رضی اللہ عنہ اور حضرت ثعلبہ بن عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو معاویہ سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حارث بن مسعود بن عبد بن مظاہر رضی اللہ عنہ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10381

Majma al-Zawaid #10381

وَعَنْ عُرْوَةَ فِيمَنْ قُتِلَ يَوْمَ جِسْرِ الْمَدَائِنِ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زَعْوَرَاءَ: أَوْسُ بْنُ عَتِيكِ بْنِ عَامِرٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ مَبْذُولٍ: ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحْصَنٍ، وَثَابِتُ بْنُ عَتِيكٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: زَيْدُ بْنُ سُرَاقَةَ بْنِ كَعْبٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زَعْوَرَاءَ: سَعْدُ بْنُ سَلَامَةَ. رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah, concerning those killed on the Bridge of al-Mada'in day: Of the Ansar, then of Banu Za'wra': Aws ibn 'Atik ibn 'Amir. Of the Ansar, then of Banu 'Amr ibn Mabdhul: Tha'labah ibn 'Amr ibn Muhsin, and Thabit ibn 'Atik. Of the Ansar, then of Banu al-Najjar: Zayd ibn Suraqah ibn Ka'b. Of the Ansar, then of Banu 'Abd al-Ashhal, then of Banu Za'wra': Sa'd ibn Salamah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مدائن میں ‘ جنگ جسر کے دن قتل ہونے والوں کے ناموں میں عروہ نے ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو عبداشہل کی شاخ بنوزعوراء سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن عتیک بن عامر رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو عمرو بن مبذول سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ اور حضرت ثابت بن عتیک رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنونجار سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو عبداشہل کی شاخ بنوزعوراء سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن سلامہ رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ روایت حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10382

Majma al-Zawaid #10382

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجِسْرِ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زَعْوَرَاءَ: أَوْسُ بْنُ عَتِيكِ بْنِ عَامِرٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَابِتُ بْنُ عَتِيكٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ: الْحَارِثُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ بْنِ مُظَاهِرٍ. رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, concerning those killed on the Bridge day: Of the Ansar, then of Banu 'Abd al-Ashhal, then of Banu Za'wra': Aws ibn 'Atik ibn 'Amir. Of the Ansar: Thabit ibn 'Atik. Of the Ansar, then of Banu Mu'awiyah: al-Harith ibn Mas'ud ibn 'Abd ibn Muzahir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جنگ جسر کے دن قتل ہونے والوں کے ناموں میں محمد بن اسحاق نے ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو عبداشہل کی شاخ بنوزعوراء سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن عتیک بن عامر رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن عتیک رضی اللہ عنہ ۔ انصار کی شاخ بنو معاویہ سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن مسعود بن عبد بن مظاہر رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10383

Majma al-Zawaid #10383

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: خَرَجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ، فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا مِنْكُمْ أُكَلِّمُهُ وَيُكَلِّمُنِي، فَقُلْتُ: لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي، فَخَرَجْتُ وَمَعِي تَرْجُمَانٌ، وَمَعَهُ تُرْجُمَانٌ، حَتَّى وُضِعَ لَهُ مِنْبَرَانِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟. فَقُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا، وَأَشَدَّهُ عَيْشًا، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ، وَيُغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، بَشَرِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا، وَلَا أَكْثَرِنَا مَالًا، فَقَالَ: "" أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ""، يَأْمُرُنَا بِمَا لَا نَعْرِفُ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ وَكَانَتْ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا، فَشَنِفْنَا لَهُ، وَكَذَّبْنَاهُ، وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا، فَقَالُوا: نَحْنُ نُصَدِّقُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَّبِعُكَ، وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقَاتَلْنَاهُ فَقَتَلَنَا، وَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِي مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا جَاءَكُمْ حَتَّى يُشْرِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ. فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَكُمْ قَدْ صَدَقَ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَكُمْ بِهِ رَسُولُكُمْ، فَكُنَّا عَلَيْهِ، حَتَّى ظَهَرَ فِينَا مُلُوكٌ، فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ فِينَا بِأَهْوَائِهِمْ، وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ، لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ. فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ، خُلِّيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، فَلَمْ تَكُونُوا أَكْثَرَ مِنَّا عَدَدًا، وَلَا أَشَدَّ مِنَّا قُوَّةً. قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا أَذْكَى مِنْهُ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn al-'As radiya Allahu anhu said: An army of Muslims set out, I their commander, until we camped at Alexandria. Its master said, "Send out to me a man of you that I may speak with him and he with me." I said, "None shall go but I." I went out with an interpreter, he with an interpreter, until two pulpits were set for him. He said, "Who are you?" We said, "We are Arabs, people of thorn and acacia, people of Allah's House. We were the narrowest of people in land, hardest in life — eating dead meat, raiding one another, the worst life men lived — until a man arose among us, neither greatest in honor that day nor most in wealth. He said: > **"I am the Messenger of Allah."** He commanded us what we knew not and forbade us what we and our fathers were upon. We scorned him, belied him, rebutted his word, until a people other than us went out to him and said, 'We believe you, trust you, follow you, and fight whoever fights you.' He went out to them. We went out to him and fought him; he killed us, prevailed over us, overcame us, then took those Arabs near him and fought them until he prevailed. Had those behind me known the life you enjoy, none would remain but would join you in it." He laughed, then said, "Your messenger spoke truth. Our messengers came to us with the like of what your messenger brought you. We were upon it until kings arose among us, ruling us by their desires, abandoning the prophets' command. If you hold to your Prophet's command, none shall fight you but you overcome him, none shall assail you but you prevail. If you do as we did, abandon the prophets' command, and act as they acted by their desires, it will be left between us and you — you shall be no more in number nor mightier in strength." 'Amr ibn al-'As said: I never spoke with a shrewder man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوا میں ان کا امیر تھا ہم نے اسکندریہ میں پڑاؤ کیا وہاں کے حکمران نے کہا : کہ اپنے میں سے ایک شخص کو میری طرف بھیجو تاکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ میرے ساتھ بات چیت کرے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا : میرے علاوہ کوئی اور اس کی طرف نہیں جائے گا میں نکلا میرے ساتھ ایک ترجمان تھا ‘ اور اس کے ساتھ بھی ایک ترجمان تھا وہاں دو منبر رکھے گئے اس نے دریافت کیا : تم کون لوگ ہو ہم نے کہا : ہم عرب ہیں ہم پتوں اور کانٹوں میں رہنے والے لوگ ہیں ہم اللہ کے گھر کے ساتھ رہنے والے لوگ ہیں ہم سب سے زیادہ تنگی والی زندگی گزارتے تھے اور سب سے زیادہ مشکل زندگی گزارتے تھے ہم مردار کھا لیتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے تھے اور ہماری حالت بری تھی ایسی بری ترین حالت جس کے ساتھ لوگ زندہ رہ رہے ہوں ‘ یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا جو اس وقت ہمارے درمیان نمایاں حیثیت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی زیادہ مال دار تھے انہوں نے یہ کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ انہوں نے ہمیں ان چیزوں کا حکم دیا جن سے ہم واقف نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ان چیزوں سے منع کیا جن پر ہم قائم تھے اور جس پر ہمارے آباؤ اجداد قائم تھے ‘ تو ہم نے ان کی بات کی مخالفت کی اور انہیں غلط قرار دیا ‘ اور ہم نے ان کی گفتگو کو مسترد کیا ‘ یہاں تک کہ ایک اور قوم نکل کر ان کے پاس آئی انہوں نے کہا : کہ ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں ‘ اور آپ پر ایمان لاتے ہیں ہم آپ کی پیروی کرتے ہیں جو شخص آپ کے ساتھ جنگ کرے گا ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ‘ تو وہ رسول نکل کر ان لوگوں کی طرف چلے گئے پھر ہم نکل کر ان کی طرف گئے ہم نے ان کے ساتھ جنگ کی انہوں نے ہمیں قتل کیا اور ہم پر غلبہ حاصل کر لیا پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہوئے ‘ اور انہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ‘ یہاں تک کہ ان پر غلبہ پا لیا اگر میرے پیچھے موجود افراد کو یہ بات پتہ چل جائے کہ تم کس طرح کی زندگی گزار رہے ہو ‘ تو ان میں سے ہر ایک شخص تمہارے پاس آ جائے گا اور تم جن نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہو وہ اس میں تمہارا حصہ دار بن جائے گا ‘ تو اسکندریہ کا وہ حکمران ہنس پڑا اور بولا : تمہارے رسول نے سچ فرمایا تھا ہمارے پاس بھی رسول آئے تھے اور اسی طرح کی چیزیں لے کے آئے تھے جو تمہارے رسول تمہارے پاس لے کے آئے تھے ہم ان امور پر گامزن رہے ‘ یہاں تک کہ ہمارے درمیان بادشاہوں کا غلبہ ہو گیا تو انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا شروع کر دی اور انبیاء کے حکم کو ترک کر دیا اگر تم لوگ اپنے نبی کے حکم کی پیروی کرتے رہو گے ‘ تو تم جس کے ساتھ بھی جنگ کرو گے اس پر غالب آ جاؤ گے ، جو شخص تمہارے درپے ہو گا تم اس پر غالب آ جاؤ گے ‘ اور جب تم بھی وہ کام کرو گے ‘ جو ہم نے کرنے شروع کیے تھے ‘ تو تم انبیاء کے حکم کو ترک کر دو گے ‘ اور تم ان لوگوں کی طرح عمل کرنا شروع کر دو گے جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی تھی تو پھر تم بھی پسپا ہو جاؤ گے کیونکہ تم لوگ تعداد کے اعتبار سے ہم سے زیادہ نہیں ہو ‘ اور قوت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ نہیں ہو ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کبھی ایسے شخص کے ساتھ کلام نہیں کیا جو اس سے زیادہ سمجھ دار ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے ‘ اور وہ حسن الحدیث ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10384

Majma al-Zawaid #10384

عَنْ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَتَفْتَحُنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ "". قَالَ: فَدَعَانِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكَ، فَحَدَّثْتُهُ فَغَزَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Bishr al-Khath'ami heard the Prophet ﷺ say: > **"Constantinople shall surely be opened; excellent the commander, its commander, and excellent the army, that army."** He said: Maslamah ibn 'Abd al-Malik summoned me, I narrated it to him, and he raided Constantinople.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشر خثعمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ‘ تو اس کا امیر بہترین امیر ہو گا اور سب سے بہتر لشکر وہ والا لشکر ہو گا ‘‘ راوی کہتے ہیں : تو مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلایا میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے قسطنطنیہ کی جنگ کی ۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10385

Majma al-Zawaid #10385

وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَسُئِلَ: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا: الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ؟ قَالَ: فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصُنْدُوقٍ لَهُ حِلَقٌ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ؟. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا ""، يَعْنِي الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي قَبِيلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qabil said: We were with 'Abdullah ibn 'Amr when he was asked, "Which of the two cities is opened first: Constantinople or Rome?" 'Abdullah called for a locked chest of his, brought out a book, and said: While we were with the Messenger of Allah ﷺ writing, the Messenger of Allah ﷺ was asked, "Which of the two cities is opened first, Constantinople or Rome?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The city of Heraclius is opened first,"** meaning Constantinople.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقبیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان سے دریافت کیا گیا : کون سا شہر پہلے فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ راوی کہتے ہیں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوق منگوایا انہوں نے اس میں سے ایک تحریر نکالی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے نوٹ کر رہے تھے اسی دوران نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا دو شہروں میں سے کونسا شہر فتح ہو گا قسطنطنیہ یا رومیہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہرقل کا شہر پہلے فتح ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد قسطنطنیہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوقبیل نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10386

Majma al-Zawaid #10386

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ بِالْفُسْطَاطِ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَغْزَى النَّاسِ لِلْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ، إِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ. قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Tha'labah al-Khushani, Companion of the Messenger of Allah ﷺ, said while at al-Fustat under Mu'awiyah — Mu'awiyah having raided Constantinople most of all men — : "By Allah, half a day shall not incapacitate this community. When you see Sham as one man's table and his household's, then is the opening of Constantinople."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ان سے یہ بات منقول ہے کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں فسطاط میں موجود تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو قسطنطنیہ کی جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں ۔ حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم یہ امت دن کے نصف سے عاجز نہیں آئے گی جب تم شام کو دیکھو گے کہ وہاں ایک شخص اور اس کے اہلخانہ کا دستر خوان ہو گا اس وقت قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10387

Majma al-Zawaid #10387

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِبُولَانَ، يَا عَلِيُّ ""، قَالَ الْمُزَنِيُّ: يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" اعْلَمْ أَنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ، وَيُقَاتِلُهُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَوْقَةُ الْمُسْلِمِينَ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيَهُدُّوا حِصْنَهُمَا، وَيُصِيبُوا مَالًا عَظِيمًا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ قَطُّ، حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالتِّرْسَةِ. ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ: يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ، فَيَنْقَبِضُ النَّاسُ عَنِ الْمَالِ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ، وَمِنْهُمُ التَّارِكُ، فَالْآخِذُ نَادِمٌ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ، ثُمَّ يَقُولُونَ: مَنْ هَذَا الصَّارِخُ؟ وَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ، فَيَقُولُونَ: ابْعَثُوا طَلِيعَةً إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ قَدْ خَرَجَ فَسَيَأْتِيكُمْ بِعِلْمِهِ، فَيَأْتُونَ فَيُبْصِرُونَ وَلَا يَرَوْنَ شَيْئًا، وَيَرَوْنَ النَّاسَ سَاكِتِينَ، فَيَقُولُونَ: مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا إِلَيْنَا، فَاعْتَزِمُوا ثُمَّ ارْشُدُوا، فَنَخْرُجُ بِأَجْمَعِنَا إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنْ بِهَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، وَإِنْ يَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ، وَعَشَائِرُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn 'Awf said: I heard the Prophet ﷺ say: > **"The Hour shall not come until there is a Muslim outpost at Bulan. O 'Ali!"** Al-Muzani said, meaning 'Ali ibn Abi Talib: he said, "At your service, O Messenger of Allah." He said: > **"Know that you shall fight the Yellow Ones, and those after you of the believers shall fight them. Then the elite of the Muslims, the people of Hijaz who strive in Allah's way, fearing no blamer's blame for Allah, shall go out to them until Allah opens for them Constantinople and Rome with glorification and magnification. They shall demolish their fortresses, gain immense wealth the like of which they never gained, until they divide by shields. Then a crier shall cry: O people of Islam, the False Messiah has emerged among your lands and offspring! The people shall withdraw from the wealth — some taking, some leaving; the taker regretful, the leaver regretful. Then they shall say: who is this crier? Not knowing who he is, they shall say: send scouts to Lydda. If the Messiah has emerged, they shall bring you his news. They shall come, look, see nothing, and see men silent. They shall say: the crier cried only to us. Resolve, then be guided. We shall all go out to Lydda. If the False Messiah is there, we shall fight him until Allah judges between us and him, and He is the Best of Judges. If it is the other, those are your lands, your kinsfolk, your armies — you shall return to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمانوں کا رابطہ بولان نامی جگہ پر نہیں ہو گا ‘ اے علی ! مزنی نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ بات جان لو کہ تم لوگ بنو اصفر کے ساتھ عنقریب جنگ کرو گے ‘ اور تم لوگوں کے بعد اہل ایمان ان لوگوں کے ساتھ جنگ کریں گے پھر مسلمانوں کے کچھ لوگ جن کا تعلق اہل حجاز سے ہو گا وہ نکل کر ان کی طرف چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر دے گا ‘ جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہو گا وہ لوگ ان دونوں علاقوں کے قلعوں کو منہدم کر دیں گے ‘ اور وہاں سے بہت سا مال انہیں ملے گا اس طرح کا مال پہلے انہیں کبھی نہیں ملا ہو گا ‘ یہاں تک کہ وہ ڈھال تک تقسیم کر لیں گے پھر کوئی شخص پکار کر کہے گا اے اہل اسلام تمہارے علاقوں میں اور تمہارے بال بچوں میں دجال نکل آیا ہے ‘ تو لوگ اس مال کو چھوڑیں گے کچھ اس مال کو لے لیں گے ‘ اور کچھ اس مال کو چھوڑ دیں گے ‘ تو جو لے گا وہ ندامت کا شکار ہو گا اور جو چھوڑ دے گا وہ بھی ندامت کا شکار ہو گا پھر وہ یہ کہیں گے یہ چیخنے والا شخص کون ہے وہ لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ کون ہو گا پھر وہ کہیں گے کہ تم مقام ’ لد ‘ کی طرف کسی جاسوس کو بھیجو اگر تو دجال نکل چکا ہوا تو تمہیں اس کے بارے میں اطلاع مل جائے گی پھر وہ لوگ آئیں گے ‘ اور اس کو دیکھیں گے ‘ تو وہاں کوئی چیز نظر نہیں آئے گی وہ لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ خاموش ہوں گے ‘ تو وہ یہ کہیں گے کہ چیخنے والے نے صرف ہماری طرف متوجہ ہو کر چیخ ماری تھی تو تم لوگ پختہ ہو جاؤ اور ہدایت پر رہو ہم سب نکل کر ’ لد ‘ کی طرف جاتے ہیں اگر وہاں دجال موجود ہوا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ‘ اور اگر صورت حال مختلف ہوئی ‘ تو وہ تمہارا علاقہ ہے ‘ اور تمہارا خاندان ہے تمہارے لشکر ہیں تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ۔ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

10388

Majma al-Zawaid #10388

عَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ النَّاسِ، قَالَ قَوْمٌ: نُصَلِّي وَلَا نُؤْتِي الزَّكَاةَ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: اقْبَلْ مِنْهُمْ، قَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا لَقَاتَلْتُهُمْ، فَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَقَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ بِأَلْفٍ مِنْ طَيِّئٍ حَتَّى أَتَى الْيَمَامَةَ. قَالَ: فَكَانَ بَنُو عَامِرٍ قَدْ قَتَلُوا عُمَّالَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْرَقُوهُمْ بِالنَّارِ، فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى خَالِدٍ أَنِ اقْتُلْ بَنِي عَامِرٍ، وَأَحْرِقْهُمْ بِالنَّارِ، فَفَعَلَ حَتَّى صَاحَتِ النِّسَاءُ. ثُمَّ مَضَى حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَاءِ، خَرَجُوا إِلَيْهِ، فَقَالُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ كَفَّ عَنْهُمْ. فَأَمَرَهُ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسِيرَ حَتَّى يَنْزِلَ الْحِيرَةَ، ثُمَّ يَمْضِي إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا نَزَلَ الْحِيرَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ فَارِسَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ لَا أَبْرَحَ حَتَّى أُفَزِّعَهُمْ، فَأَغَارَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سُورَا فَقَتَلَ وَسَبَى، ثُمَّ أَغَارَ عَلَى عَيْنِ التَّمْرِ فَقَتَلَ وَسَبَى، ثُمَّ مَضَى إِلَى الشَّامِ. قَالَ عَامِرٌ: فَأَخْرَجَ إِلَى ابْنِ بُقَيْلَةَ كِتَابَ خَالِدٍ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى مَرَازِبَةِ فَارِسَ، السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بِالْحَمْدِ الَّذِي فَصَلَ حَزْمَكُمْ، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَكُمْ، وَوَهَّنَ بَأْسَكُمْ، وَسَلَبَ مُلْكَكُمْ، فَإِذَا جَاءَكُمْ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَقِدُوا مِنِّي الذِّمَّةَ، وَأَدُّوا إِلَيَّ الْجِزْيَةَ، وَابْعَثُوا إِلَيَّ بِالرَّهْنِ، وَإِلَّا فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَأَلْقَاكُمْ بِقَوْمٍ يُحِبُّونَ الْمَوْتَ كَحُبِّكُمُ الْحَيَاةَ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُجَالِدٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

'Amir — that is al-Sha'bi — said: When the Messenger of Allah ﷺ died and those who apostatized did so, a people said, "We shall pray but not pay zakat." The people said to Abu Bakr, "Accept it from them." He said, "Were they to withhold even a young goat, I would fight them." He sent Khalid ibn al-Walid. 'Adi ibn Hatim arrived with a thousand of Tayyi' until he reached Yamamah. Banu 'Amir had killed the officials of the Messenger of Allah ﷺ and burned them with fire. Abu Bakr wrote to Khalid to kill Banu 'Amir and burn them with fire. He did, until the women cried out. Then he marched to the water. They came out to him saying, "Allah is Greatest, Allah is Greatest; we bear witness there is no deity but Allah, and Muhammad is Allah's Messenger." When he heard that, he withheld from them. Abu Bakr ordered him to march until he camped at al-Hirah, then proceed to Sham. When he camped at al-Hirah he wrote to the Persians, then said, "I love not to depart until I frighten them." He raided to Sura, killing and capturing, raided 'Ayn al-Tamr, killing and capturing, then marched to Sham. 'Amir said: he brought out to Ibn Buqaylah Khalid's letter: "In the name of Allah, the Merciful, the Compassionate. From Khalid ibn al-Walid to the Persian grandees. Peace upon whoever follows guidance. I praise Allah, besides Whom there is no deity, with the praise that severed your bonds, scattered your union, weakened your might, and stripped your kingdom. When this letter of mine reaches you, take protection from me, pay me the tribute, and send me hostages. Else, by Allah besides Whom there is no deity, I shall meet you with a people who love death as you love life. Peace upon whoever follows guidance."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو کچھ لوگ مرتد ہو گئے ‘ اُن لوگوں نے کہا : کہ ہم نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ ان لوگوں سے یہ بات قبول کریں گے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ مجھے بکری کا کوئی بچہ دینے سے بھی انکار کریں گے ، تو میں اس بات پر بھی ان سے جنگ کروں گا پھر انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا عدی بن حاتم ‘ طے قبیلے کے ایک ہزار افراد کو لے کے یمامہ آ گئے راوی کہتے ہیں : بنو عامر نے نبی اکرم ﷺ کے مقرر کردہ سرکاری اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا ‘ اور انہیں آگ کے ذریعے جلا دیا تھا ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم بنو عامر کو قتل کر دو اور انہیں آگ کے ذریعے جلا دو انہوں نے ایسا ہی کیا ‘ یہاں تک کہ عورتیں چیخیں مارنے لگے پھر وہ آگے بڑھ گئے ‘ یہاں تک کہ وہ پانی تک پہنچ گئے جس کی طرف نکل کر وہ آئے تھے انہوں نے کہا : «اللہ اکبر اللہ اکبر» ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حضرت محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں جب انہوں نے یہ بات سنی تو ان سے رک گئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ چلتے رہیں ، یہاں تک کہ حیرہ پہنچ جائیں پھر وہ شام کی طرف چلے گئے جب وہ حیرہ پہنچے تو اہل فارس نے انہیں خط لکھا ‘ اور پھر یہ کہا کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں مسلسل انہیں خوف زدہ کرتا رہوں ، یہاں تک کہ انہوں نے ان پر حملہ کیا اور وہ سورنامی جگہ تک پہنچ گئے وہاں انہوں نے قتل و غارت گری کی اور قیدی بنایا پھر انہوں نے عین تمر پر حملہ کیا وہاں قتل و غارت گری کی اور لوگوں کو قیدی بنایا پھر وہ شام کی طرف چلے گئے ۔ عامر شعبی بیان کرتے ہیں : ابن بقیلہ نے مجھے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا مکتوب نکال کر دکھایا جس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سپہ سالاروں کے نام ہے اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کر لیتا ہے میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ایسی حمد جس نے تمہاری اجتماعیت کو توڑ دیا تمہاری جماعت کو منتشر کر دیا ‘ اور تمہاری مضبوط چیزوں کو کمزور کر دیا ‘ اور تمہاری بادشاہی کو سلب کر لیا جب میرا یہ مکتوب تمہارے پاس آئے ‘ تو تم میری طرف سے ذمہ قبول کر لینا اور مجھے جزیہ ادا کرنا اور چیزیں میری طرف بھجوا دینا اگر ایسا نہ ہوا تو اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں ایسے لوگوں کے ساتھ تم سے لڑوں گا ‘ جو موت کو اس طرح پسند کرتے ہیں جس طرح تم لوگ زندگی کو پسند کرتے ہو اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10389

Majma al-Zawaid #10389

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: لَمَّا فَرَغَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الْيَمَامَةِ بَعَثَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، وَكَانَ الْعَلَاءُ هُوَ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى الْعَبْدِيِّ، فَأَسْلَمَ الْمُنْذِرُ، فَأَقَامَ الْعَلَاءُ بِهَا أَمِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَدَّتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ فِي مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا الْجَارُودَ بْنَ عَمْرٍو ; فَإِنَّهُ ثَبَتَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ. وَاجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ وَارْتَدَتْ، وَقَالُوا: تَرُدُّ الْمُلْكَ فِي آلِ الْمُنْذِرِ، فَكَلَّمُوا الْمُنْذِرَ بْنَ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَكَانَ يُسَمَّى الْغَرُورَ، وَكَانَ يَقُولُ بَعْدُ حِينَ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ النَّاسُ وَعَلَيْهِمُ السَّيْفُ: لَسْتُ بِالْغَرُورِ وَلَكِنِّيَ الْمَغْرُورُ. فَلَمَّا اجْتَمَعَتْ رَبِيعَةُ بِالْبَحْرَيْنِ، سَارَ إِلَيْهِمُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَأَمَدَّهُ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِ، وَكَانَ قَدْ أَسْلَمَ وَأَسْلَمَ قَوْمُهُ، فَلَمَّا أَمَرَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ بِثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ، سَارَ مَعَهُ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي سُحَيْمٍ حَتَّى خَاضَ إِلَى رَبِيعَةَ الْبَحْرَ، فَسَارَتْ رَبِيعَةُ إِلَيْهِمْ فَحَصَرُوهُمْ وَهُمْ بِجُوَاثَا - حِصْنٍ بِالْبَحْرَيْنِ - حَتَّى إِذَا كَادَ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَهْلِكُوا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ الْعَامِرِيُّ فِي ذَلِكَ حِينَ أَصَابَهُمْ مَا أَصَابَهُمْ: أَلَا بَلِّغْ أَبَا بَكْرٍ رَسُولًا ... وَفِتْيَانَ الْمَدِينَةِ أَجَمْعِينَا فَهَلْ لَكَ فِي شَبَابٍ مِنْكَ أَمْسَوْا ... جَمِيعًا فِي جُوَاثَا مُحْصِرِينَا تَوَكَّلْنَا عَلَى الرَّحْمَنِ إِنَّا ... وَجَدْنَا النَّصْرَ لِلْمُتَوَكِّلِينَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ: دَعُونِي أَهْبِطْ مِنَ الْحِصْنِ وَأَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ، وَكَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَدَقٍ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عِجْلٍ، وَنَزَلَ مِنَ الْحِصْنِ، وَأَخَذُوهُ، وَقَالُوا: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ، وَجَعَلَ يُنَادِي: يَا أَبْجَرَاهُ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ، فَجَاءَ أَبْجَرُ وَعَرَفَهُ، وَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي قَدْ هَلَكْتُ مِنَ الْجُوعِ. فَحَمَلَهُ وَسَقَاهُ، وَقَالَ: احْمِلْنِي وَخَلِّ سَبِيلِي، فَانْطَلَقَ وَحَمَلَهُ عَلَى بَغْلٍ، وَقَالَ: انْطَلِقْ لِشَأْنِكَ. فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَدَقٍ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْقَوْمَ سُكَارَى لَا غَنَاءَ عِنْدَهُمْ، فَبَيَّتَهُمُ الْعَلَاءُ فِيمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ،، فَقَتَلُوهُمْ قَتْلًا شَدِيدًا وَانْهَزَمُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: When Khalid ibn al-Walid finished Yamamah, Abu Bakr radiya Allahu anhu sent al-'Ala' ibn al-Hadrami to Bahrayn. Al-'Ala' was the one the Messenger of Allah ﷺ had sent to al-Mundhir ibn Sawa al-'Abdi; al-Mundhir accepted Islam, and al-'Ala' remained there as the Messenger's ﷺ governor. Rabi'ah in Bahrayn apostatized among the Arabs who apostatized, except al-Jarud ibn 'Amr, who held to Islam with his followers. Rabi'ah gathered in Bahrayn and apostatized, saying, "Restore kingship to the house of al-Mundhir." They spoke to al-Mundhir ibn al-Nu'man ibn al-Mundhir, called al-Gharur. Afterwards, when he accepted Islam with the people under the sword, he would say, "I am not al-Gharur but al-Maghrur." When Rabi'ah gathered in Bahrayn, al-'Ala' ibn al-Hadrami marched to them, reinforced by Thumamah ibn Uthal al-Hanafi, who had accepted Islam with his people. Al-'Ala' placed Thumamah in command; he marched with Banu Suhaym until they waded the sea to Rabi'ah. Rabi'ah marched to them and besieged them at Juwatha, a fortress in Bahrayn, until the Muslims nearly perished of hardship. 'Abdullah ibn Hadaq al-'Amiri said then: "Convey to Abu Bakr a message, and to Madinah's youths all: have you concern for youths of yours who spend the evening, all besieged in Juwatha? We trust in the Merciful; we found victory for the trusting." 'Abdullah ibn Hadaq said, "Let me descend from the fortress and I shall bring you news." With him was a woman of Banu 'Ijl. He descended; they seized him and said, "Of whom are you?" He gave his lineage, crying, "O Abjarah!" — who was among them. Abjar came, recognized him, and said, "What is with you?" He said, "I perish of hunger." He carried him, gave him drink. He said, "Carry me and free my way." He set him on a mule and said, "Go your way." When 'Abdullah ibn Hadaq left them he returned to his companions and informed them the people were drunk and worthless. Al-'Ala' with the Muslims of Arabs and non-Arabs fell upon them by night, slew them grievously, and they fled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ سے فارغ ہوئے ‘ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا حضرت علاء وہ شخصیت ہیں ، جنہیں نبی اکرم ﷺ نے منذر بن ساوی عبدی کی طرف بھیجا تھا تو منذر نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ حضرت علاء وہاں پر نبی اکرم ﷺ کے مقرر کردہ امیر کے طور پر رہے تھے بحرین میں ربیعہ مرتد ہو گئے یہ ان لوگوں میں شامل تھے جو عرب مرتد ہوئے تھے صرف جارود بن عمرو مرتد نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ اسلام پر برقرار رہے تھے اور ان کی قوم میں سے ان کی پیروی کرنے والے لوگ بھی اسلام پر برقرار رہے تھے ۔ ربیعہ ‘ بحرین میں اکٹھے ہوئے وہ لوگ مرتد ہو گئے تھے انہوں نے یہ کہا کہ بادشاہی آل منذر میں واپس آئے گی انہوں نے اس بارے میں منذر بن نعمان بن منذر کے ساتھ بات چیت کی جنہیں غرور کہا جاتا تھا بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تو وہ یہ کہا کرتے تھے : میں غرور نہیں ہوں بلکہ میں مغرور ہوں ۔ جب ربیعہ قبیلے کے لوگ بحرین میں اکٹھے ہوئے ‘ تو حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ ان کی طرف روانہ ہوئے حضرت ثمامہ بن اثال حنفی رضی اللہ عنہ ان کی امداد کے لئے آئے جو مسلمان ہو چکے تھے اور ان کی قوم بھی مسلمان ہو چکی تھی جب علاء بن حضرمی نے حضرت ثمامہ کو امیر بنایا تو ان کے ساتھ بنو سحیم سے تعلق رکھنے والے افراد بھی روانہ ہو گئے یہاں تک کہ یہ لوگ ربیعہ البحر تک پہنچ گئے ربیعہ ان لوگوں کی طرف آئے ان لوگوں نے جواثا کے مقام پر ان کا محاصرہ کر لیا جو بحرین میں موجود ایک قلعہ ہے ‘ یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسلمان بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتے اس صورت حال کے بارے میں عبداللہ بن حدق عامری نے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ خبردار حضرت ابوبکر اور مدینہ منورہ کے تمام نوجوانوں تے قاصد ( کے ذریعے یہ پیغام ) بھیج دو ‘ کیا آپ کو ‘ آپ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں ( کے بارے میں جاننے میں ) کوئی دلچسپی ہے ‘ جنہوں نے ’’ جواثا ‘‘ کے مقام پر محاصرہ کیا ہوا ہے ‘ ہم نے رحمن پر توکل کیا ہے ‘ اور ہم نے توکل کرنے والوں کے لیے مدد پائی ہے ‘‘۔ پھر عبداللہ بن حدق نے کہا : تم لوگ مجھے موقع دو تاکہ میں قلعے سے اتر کر نیچے جاؤں اور تم لوگوں کے پاس خبر لے کے آؤں عبداللہ بن حدق کے ساتھ بنو عجل سے تعلق رکھنے والی ایک عورت بھی تھی وہ قلعے سے نیچے اترے لوگوں نے انہیں پکڑ لیا اور دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے اس نے اپنا نسب بیان کرنا شروع کیا اور پھر بلند آواز میں پکارا اے ابجر وہ صاحب لوگوں میں موجود تھے ابجر آ گئے ‘ اور انہیں پہچان گئے ‘ اور بولے تمہارا کیا معاملہ ہے اس نے بتایا : میں بھوک کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہونے والا ہوں تو انہوں نے انہیں کھانا دیا پانی پلایا پھر یہ کہا کہ مجھے سواری دو اور میرا راستہ چھوڑ دو پھر وہ گئے ‘ اور انہیں ایک خچر سواری کے لئے دیا ‘ اور پھر کہا کہ تم اپنے کام کے سلسلے میں چلے جاؤ جب عبداللہ بن حدق ان کے پاس سے نکل گئے ‘ تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے ‘ اور انہیں بتایا : دشمن برے حال میں ہیں ان کے پاس اناج نہیں ہے ‘ تو حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود مسلمانوں جن کا تعلق عربیوں اور عجمیوں سے تھا ان کو ساتھ لے کر دشمن پر حملہ کر دیا ‘ اور انہیں زبردست طریقے سے قتل کیا ‘ یہاں تک کہ دشمن پسپا ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10390

Majma al-Zawaid #10390

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فِي جَيْشٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ قِبَلَ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ، وَكَانُوا قَدْ مَنَعُوا الْجِزْيَةَ الَّتِي سَلَّمُوا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ افْتَتَحَهَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَصَالَحَهُمْ عَلَى الْجِزْيَةِ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ إِلَيْهِمْ حِينَ مَنَعُوا حَقَّ اللَّهِ فِي أَمْوَالِهِمْ، فَسَارَ إِلَيْهِمْ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمُ الْبَحْرُ حَتَّى مَشَوْا فِيهِ بِأَرْجُلِهِمْ، فَقَطَعُوا كَذَلِكَ بِمَكَانٍ كَانَتْ تَجْرِي فِيهِ السُّفُنُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَهِيَ تَجْرِي فِيهِ الْيَوْمَ، وَقَاتَلَهُمْ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَسَلَّمُوا وَامْتَنَعُوا مِنْ حَقِّ اللَّهِ - تَعَالَى - مِنْ أَمْوَالِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah said: Abu Bakr sent al-'Ala' ibn al-Hadrami in an army from Bahrayn toward Bahrayn's people. They had withheld the tribute they had submitted to the Messenger of Allah ﷺ when al-'Ala' had opened it and made peace with them upon tribute. Abu Bakr sent to them when they withheld Allah's due in their wealth. He marched to them with the sea between him and them, until they walked it on their feet — crossing at a place where ships ran before and run today. He fought them, Allah made him prevail, and they submitted, withholding Allah's due from their wealth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے ایک لشکر میں اہل بحرین کی طرف بھیجا جنہوں نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا جو جزیہ وہ نبی اکرم ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے جب حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے ان کے علاقے کو فتح کیا تھا ، اور انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ جزیہ پر ہی صلح کی تھی جب ان لوگوں نے اپنے اموال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے سے انکار کر دیا ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ ان کی طرف روانہ ہوئے حضرت علاء رضی اللہ عنہ اور ان لوگوں کے درمیان سمندر موجود تھا وہ پیدل چلتے رہے ‘ اور یہ راستہ پار کرتے رہے اسی طرح وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کشتیاں چلتی تھیں حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان لوگوں پر غلبہ عطا کر دیا ‘ اور ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ‘ پہلے کی طرح ادا کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس کی سند نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10391

Majma al-Zawaid #10391

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ - يَعْنِي الْجُمَحِيِّ - قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِرَارُ بْنُ الْأَزْوَرِ تَوَلَّى قَتْلَ مَالِكِ بْنِ نُوَيْرَةَ، وَفِي ذَلِكَ يَقُولُ مُتَمِّمُ بْنُ نُوَيْرَةَ وَيُعَرِّضُ بِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: نِعْمَ الْقَتِيلُ إِذَا الرِّيَاحُ تَنَاوَحَتْ ... حَيْثُ الْعِضَاةُ قَتِيلُكَ ابْنُ الْأَزْوَرِ وَلَنِعْمَ حَشْوُ الدِّرْعِ حِينَ لَقِيتَهُ ... وَلَنِعْمَ مَأْوَى الطَّارِقِ الْمُتَنَوِّرِ سَمْحٌ بِأَطْرَافِ الْقِدَاحِ إِذَا انْتَشَى ... حُلْوٌ حَلَالُ الْمَالِ غَيْرُ غَدْوَرِ لَا يَلْبَسُ الْفَحْشَاءَ تَحْتَ ثِيَابِهِ ... صَعْبٌ مَقَادَتُهُ عَفِيفُ الْمِئْزَرِ أَدَعَوْتَهُ بِاللَّهِ ثُمَّ قَتَلْتَهُ ... لَوْ هُوَ دَعَاكَ بِذِمَّةٍ لَمْ يَغْدِرِ نِعْمَ الْفَوَارِسُ يَوْمَ حَلَّتْ غَادَرَتْ ... فُرْسَانُ فِهْرٍ فِي الْغُبَارِ الْأَكْدَرِ. وَيُرْوَى: فِي الْكَدُورِ الْأَكْدَرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Salam — that is al-Jumahi — said: Abu 'Ubaydah said Dirar ibn al-Azwar undertook the killing of Malik ibn Nuwayrah. Concerning it Mutammim ibn Nuwayrah says, alluding to Khalid ibn al-Walid: "Excellent the slain, when winds contend where the lote-trees are — your slain, O son of al-Azwar; excellent the stuffing of the coat when you met him, excellent the shelter of the nightly visitor; generous with arrow-tips when exhilarated, sweet, lawful in wealth, no betrayer; he wears no indecency beneath his clothes, hard to lead, chaste of waist-wrapper; did you call him by Allah then kill him? Had he called you by covenant he would not betray; excellent the horsemen the day it befell — Fihr's horsemen departed in dark dust." And it is narrated: "in murky murk."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں : ابوعبیدہ نے یہ بات بیان کی ہے ضرار بن ازور نے مالک بن نمیرہ کو قتل کیا تھا اسی بارے میں متمم بن نویرہ نے یہ شعر کہا ہے ۔ انہوں نے حضرت خالد بن ولید پر تعریض کرتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ جب درختوں میں ہر طرف سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں اس وقت تمہارے ہاتھوں قتل ہونے والا ابن ازور ‘ اچھا مقتول ہے ‘ اس کی زرہ اچھی تھی ‘ جب میں اس سے ملا تھا اور وہ روشن طارق ( نامی ستارے ) کا اچھا ٹھکانہ ہے ‘ تیروں کے کناروں میں نرمی ، جب حلال مال کی مٹھاس کسی عہد شکنی کے بغیر ‘ لڑھک جائے ‘ اس نے اپنے لباس کے نیچے فحاشی کو نہیں پہنا ‘ وہ مشکل تھا لیکن پاکدامن فرد تھا ، تم نے اس کو اللہ کے نام پر دعوت دی اور پھر اسے قتل کر دیا ‘ اگر اس نے تمہیں پناہ دی ہوتی تو اس نے عہد شکنی نہیں کرنی تھی ‘ جنگ کے دن بہترین شہسوار ‘ فہر کے شہسوار ہیں جو گہرے غبار میں بھی ( زبردست شہسوار ہوتے ہیں ) ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10392

Majma al-Zawaid #10392

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: جَاءَ أَهْلُ الرِّدَّةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهُ الصُّلْحَ، فَقَالَ: عَلَى أَنْ نَنْزِعَ مِنْكُمُ الْحَلَقَةَ وَالْكُرَاعَ، وَتُتْرَكُونَ تَبِيعُونَ أَذْنَابَ الْبَقَرِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُؤْمِنِينَ رَأْيًا يَعْذُرُونَكُمْ بِهِ، وَتَشْهَدُونَ أَنَّ قَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَتَدُونَ قَتْلَانَا، وَلَا نَدِي قَتْلَاكُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ، غَيْرَ أَنَّ قَتْلَانَا قُتِلُوا فِي ذِمَّةِ اللَّهِ لَا دِيَةَ لَهُمْ. قُلْتُ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Shihab said: The apostates of Asad and Ghatafan came to Abu Bakr after the Messenger of Allah ﷺ, seeking peace. He said, "On condition you surrender arms and mounts, remain selling cattle-tails until Allah shows the Prophet's successor and the believers a view excusing you, you testify your slain are in the Fire and ours in Paradise, you pay blood-money for our slain, and we pay none for yours." 'Umar said, "O successor of the Messenger of Allah ﷺ, the word is as you said, except that our slain were killed under Allah's covenant — no blood-money for them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : اسد اور غطفان قبیلے سے تعلق رکھنے والے مرتد ہونے والے لوگ نبی اکرم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ اور ان سے صلح کی درخواست کی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شرط پر کہ ہم تم سے زرہیں اور گھوڑے الگ کر لیں گے ‘ اور تمہیں یوں چھوڑ دیں گے کہ تم گائے کی دموں کے پیچھے جاتے رہو ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے خلیفہ کو اور اہل ایمان کو وہ صورت حال دکھا دے کہ جس کی بنیاد پر وہ تمہاری معذرت قبول کر لیں اور تم اس بات کی بھی گواہی دو گے کہ تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ‘ اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں ‘ اور تم ہماری مقتولین کی دیت دو گے لیکن ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں دیں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ بات اسی طرح ہے ‘ جس طرح آپ نے بیان کیا ہے لیکن ہمارے مقتولین اللہ کے ذمہ میں قتل ہوئے ہیں اس لئے انہیں دیت نہیں ملے گی ۔ ( علام ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10393

Majma al-Zawaid #10393

وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «هَذِهِ الْحِيرَةُ الْبَيْضَاءُ قَدْ رُفِعَتْ لِي، وَهَذِهِ الشَّيْمَاءُ بِنْتُ بُقَيْلَةَ الْأَزْدِيَّةُ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ مُعْتَجِرَةٌ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ نَحْنُ دَخَلْنَا الْحِيرَةَ، وَوَجَدْنَاهَا عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَهِيَ لِي؟ قَالَ: "" هِيَ لَكَ». ثُمَّ ارْتَدَتِ الْعَرَبُ فَلَمْ يَرْتَدَّ أَحَدٌ مِنْ طَيِّءٍ، فَكُنَّا نُقَاتِلُ قَيْسًا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمِنْهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَكُنَّا نُقَاتِلُ طُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ الْفَقْعَسِيَّ، فَامْتَدَحَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ: جَزَى اللَّهُ عَنَّا طَيِّئًا فِي دِيَارِهَا ... بِمُعْتَرَكِ الْأَبْطَالِ خَيْرَ جَزَاءِ هُمْ أَهْلُ رَايَاتِ السَّمَاحَةِ وَالنَّدَى ... إِذَا مَا الصِّبَا أَلَوَتْ بِكُلِّ خِبَاءِ هُمْ ضَرَبُوا قَيْسًا عَلَى الدِّينِ بَعْدَمَا ... أَجَابُوا مُنَادِيَ ظُلْمَةٍ وَعَمَاءِ. ثُمَّ سَارَ خَالِدٌ إِلَى مُسَيْلِمَةَ، فَسِرْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ فَرَأَيْنَا هُرْمُزَ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ. قَالَ أَبُو السَّكَنِ: وَبِهِ يُضْرَبُ الْمَثَلُ، تَقُولُ الْعَرَبُ: أَكْفَرُ مِنْ هُرْمُزَ. فَبَرَزَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ، فَقَتَلَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَتُهُ مِائَةَ أَلْفٍ. ثُمَّ سِرْنَا عَلَى طَرِيقِ الطَّرْفِ حَتَّى دَخَلْنَا الْحِيرَةَ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ تَلَقَّانَا فِيهَا الشَّيْمَاءُ بِنْتُ بُقَيْلَةَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ بِخِمَارٍ أَسْوَدَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَلَّقْتُ بِهَا، وَقُلْتُ: هَذِهِ وَهَبَهَا لِي رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَعَانِي خَالِدٌ عَلَيْهَا الْبَيِّنَةَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَسَلَّمَهَا إِلَيَّ، وَنَزَلَ إِلَيْنَا أَخُوهَا عَبْدُ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لِي: بِعْنِيهَا؟ فَقُلْتُ: لَا أَنْقُصُهَا وَاللَّهِ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ شَيْئًا، فَدَفَعَ إِلَيَّ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَقِيلَ لِي: لَوْ قُلْتَ مِائَةَ أَلْفٍ لَدَفَعَهَا إِلَيْكَ، فَقُلْتُ: مَا أَحْسَبُ أَنَّ مَالًا أَكْثَرُ مِنْ عَشْرِ مِائَةٍ. وَبَلَغَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الشَّاهِدَيْنِ كَانَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَقَدْ تَقَدَّمَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فِي بَابِ قِتَالِ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا لِقِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ.

EnglishUnverified translation

Khuraym ibn Aws said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"This white al-Hirah has been raised for me, and this al-Shayma' bint Buqaylah al-Azdiyyah upon a gray mule, wrapped in a black veil."** I said, "O Messenger of Allah, if we enter al-Hirah and find her in this description, is she mine?" He said: > **"She is yours."** Then the Arabs apostatized; none of Tayyi' apostatized. We fought Qays for Islam — among them 'Uyaynah ibn Hisn — and fought Tulayhah ibn Khuwaylid al-Faq'asi. Khalid ibn al-Walid praised us, saying: "May Allah reward Tayyi' in their abodes, at heroes' battleground, with best reward; they are banners of liberality and dew when dawn inclines each tent; they smote Qays for religion after they answered a caller of darkness and blindness." Then Khalid marched to Musaylimah; we marched with him. When we finished Musaylimah and his men, we turned toward Basrah and saw Hurmuz at Kazimah in a great host — none more hostile to Arabs than Hurmuz. Abu al-Sakan said: the proverb is coined of him; Arabs say, "More disbelieving than Hurmuz." Khalid ibn al-Walid came out to him, calling to single combat; Hurmuz came out, and Khalid killed him. He wrote to Abu Bakr radiya Allahu anhu, who granted him his spoils; his cap reached a hundred thousand. Then we marched the Tarf road until we entered al-Hirah. The first to meet us there was al-Shayma' bint Buqaylah upon a gray mule in a black veil, as the Messenger of Allah ﷺ had said. I clung to her and said, "This the Messenger of Allah ﷺ granted me." Khalid demanded proof; I brought it, and he surrendered her to me. Her brother 'Abd al-Masih descended to us and said to me, "Sell her to me?" I said, "By Allah, I shall not lessen her from ten hundred a thing." He paid me a thousand dirhams. I was told, "Had you said a hundred thousand he would have paid you." I said, "I did not reckon wealth greater than ten hundred." It reached me in other than this hadith that the two witnesses were Muhammad ibn Maslamah and 'Abdullah ibn 'Umar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ یہ سفید حیرہ ہے ‘ جو میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ‘ اور یہ شیماء بنت بقیلہ ازدیہ ہے ‘ جو سفید خچر پر سوار ہے ‘ اور اس نے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حیرہ میں داخل ہوں گے ‘ تو جب یہ صورت حال پائیں گے ‘ تو وہ عورت میری ہو گی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی راوی کہتے ہیں : پھر عرب مرتد ہو گئے لیکن طے قبیلے میں کوئی مرتد نہیں ہوا تو ہم قیس قبیلے کے لوگوں کے ساتھ اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتے رہے ان میں سے ایک عیینہ بن حصن تھا ‘ اور ہم طلیحہ بن خویلد فقعسی کے ساتھ جنگ کرتے رہے ہم نے حضرت خالد بن ولید کی تعریف کی ان کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس میں یہ اشعار بھی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے طے قبیلے کے افراد کو بہترین جزائے خیر عطا کرے ‘ جو اپنے علاقوں میں بہادروں کی آماجگاہ ہیں ‘ وہ نرمی اور بھلائی کے جھنڈوں کو اٹھانے والے ہیں ‘ جب تک صبا ( نامی تیز ہوا ) ہر خیمے کو ہلاتی رہے گی ‘ انہوں نے دین کی وجہ سے قیس قبیلے کے لوگوں پر ضرب لگائی ‘ جب ( قیس قبیلے کے لوگوں نے ) ظلمت اور اندھے پن کے منادی کی بات کو قبول کیا ‘‘۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ مسیلمہ کی طرف روانہ ہوئے ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے ‘ تو ہم بصرہ کی ایک نواحی بستی کی طرف آئے ہم نے ہرمز کو دیکھا کہ وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ اکٹھا ہو چکا ہے عربوں کا اس سے بڑا دشمن اور کوئی نہیں تھا ۔ ابو سکن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ چیز ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے عرب کہتے ہیں : ہرمز سے کفارہ دلاؤ ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کے سامنے آئے انہوں نے مقابلے کے لئے للکارا تو ہرمز ان کے سامنے آیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو ہرمز کا سامان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو انعام کے طور پر دے دیا ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ بنتی تھی پھر ہم طرف نامی علاقے کی طرف روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ ہم حیرہ میں داخل ہوئے وہاں ہمیں سب سے پہلے ایک خاتون ملی جو شیما بنت بقیلہ تھی وہ ایک سفید خچر پر سوار تھی اور اس نے سیاہ چادر لی ہوئی تھی جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : تو میں اس کے پاس آیا اور میں نے کہا : یہ عورت اللہ کے رسول نے مجھے ہبہ کی تھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں مجھ سے ثبوت مانگا میں نے انہیں ثبوت پیش کیا ، تو انہوں نے وہ خاتون میرے حوالے کر دی اس خاتون کا بھائی عبدالمسیح ہمارے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا : اس عورت کو مجھے فروخت کر دو میں نے کہا : اللہ کی قسم میں ایک ہزار سے کوئی کمی نہیں کروں گا ‘ تو اس نے مجھے ایک ہزار درہم دے دیے مجھ سے کہا گیا کہ اگر تم ایک لاکھ بھی کہتے تو اس نے وہ بھی تمہیں دے دینے تھے میں نے کہا : مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک ہزار سے بھی زیادہ مال ہوتا ہے ۔ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ دونوں گواہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ( جنہوں نے ان صاحب کے حق میں گواہی دی تھی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس مضمون کی حدیث اس سے پہلے گزر چکی ہے ‘ جو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ اور فارسیوں اور رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں میں نے یہ روایت مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق ہونے کے حوالے سے ذکر کی ہے ۔

10394

Majma al-Zawaid #10394

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَقِيَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: حِمَارُ الْيَمَامَةِ، وَالرَّجُلُ طُوَالٌ فِي يَدِهِ سَيْفٌ أَبْيَضُ. قَالَ: وَكَانَ الْبَرَاءُ قَصِيرًا، فَضَرَبَ الْبَرَاءُ رِجْلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَكَأَنَّمَا أَخْطَأَهُ، فَوَقَعَ عَلَى قَفَاهُ، قَالَ: فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، فَأَغْمَدْتُ سَيْفِي، فَمَا ضَرَبْتُ بِهِ إِلَّا ضَرْبَةً وَاحِدَةً حَتَّى انْقَطَعَ، فَأَلْقَيْتُهُ وَأَخَذْتُ سَيْفِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سِيرِينَ لَمْ يُدْرِكِ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ. وَيَأْتِي حَدِيثُ الرِّجَالِ بْنِ عُنْقُوَةَ فِي إِخْبَارِهِ بِالْمُغَيَّبَاتِ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sirin said: On Musaylimah's day, al-Bara' ibn Malik met a man called Himar al-Yamamah — the man tall, a white sword in his hand. Al-Bara' was short. Al-Bara' struck his legs with the sword as though missing him, and fell on his back. He said: I took his sword, sheathed mine — I struck with it but one blow before it broke. I cast it and took my sword.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : مسیلمہ کے ساتھ جنگ کے دن حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص آیا جسے یمامہ کا گدھا کہا جاتا تھا وہ ایک لمبا تڑنگا شخص تھا اس کے ہاتھ میں سفید تلوار تھی حضرت براء رضی اللہ عنہ چھوٹے قد کے شخص تھے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے اس کی ٹانگوں پر تلوار ماری تو ان کا وار خطا گیا اور پھر وہ ان کی گدی پر لگ گئی ۔ وہ کہتے ہیں : پھر میں نے اپنی تلوار میان میں ڈال لی اور اُس کی تلوار کو لہرایا میں نے ایک ہی ضرب لگائی تھی ‘ یہاں تک کہ وہ کٹ گیا تو میں نے اسے پھینک دیا ‘ اور میں نے اپنی تلوار پکڑ لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابن سیرین نے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ رجال بن عنقوہ کے بارے میں روایت آگے چل کر آئے گی جو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ اور پوشیدہ چیزوں کے متعلق اطلاع دینے کے بارے میں ہے ۔

10395

Majma al-Zawaid #10395

عَنْ عُرْوَةَ فِي مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أُسَيْدُ بْنُ يَرْبُوعٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: بَشِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ تَيْمِ اللَّهِ: ثَابِتُ بْنُ خَالِدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ خَالِدِ بْنِ خَنْسَاءَ. وَمِنْ قُرَيْشٍ: جُبَيْرُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ بُحَيْنَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جَحْجَبَى: جَزْءُ بْنُ مَالِكِ بْنِ حُزَيْرٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ: حَكِيمُ بْنُ حَزْنِ بْنِ أَبِي وَهْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَائِذٍ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ: رَبِيعَةُ بْنُ خَرَشَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: رَبَاحُ مَوْلَى جَحْجَبَى. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَزَيْدُ بْنُ رُقَيْشٍ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سَعْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ عَبْدُودٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سَعْدُ بْنُ حِبَّانَ، حَلِيفٌ لَهُمْ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جَحْجَبَى: سَعِيدُ بْنُ رَبِيعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَشْهَلِ: سَهْلُ بْنُ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، حَلِيفٌ لَهُمْ، وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ، وَهُوَ أَبُو دُجَانَةَ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah, concerning those martyred at Yamamah: Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: Usayd ibn Yarbu'. Of the Ansar, then of Banu al-Harith ibn al-Khazraj: Bashir ibn 'Abdillah. Of the Ansar, then of Banu Malik ibn Taym Allah: Thabit ibn Khalid ibn al-Nu'man ibn Khalid ibn Khansa'. Of Quraysh: Jubayr ibn Malik, Ibn Buhaynah, of Banu Nawfal ibn 'Abd Manaf. Of the Ansar, then of Banu Jahjaba: Juz' ibn Malik ibn Huzayr. Of Quraysh, then of Banu Makhzum: Hakim ibn Hazn ibn Abi Wahb ibn 'Amr ibn 'A'idh. Of Quraysh, then of Banu 'Amir ibn Lu'ayy: Rabi'ah ibn Kharashah. Of the Ansar: Rabah, freedman of Jahjaba. Of Quraysh, then of Banu 'Adi ibn Ka'b: Zayd ibn al-Khattab and Zayd ibn Ruqaysh, ally of Banu Umayyah. Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: Sa'd ibn Harithah ibn Lawdhan ibn 'Abd Wudd. Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: Sa'd ibn Hibban, their ally. Of the Ansar, then of Banu Jahjaba: Sa'id ibn Rabi' ibn 'Adi ibn Malik. Of the Ansar, then of Banu al-Ashhal: Sahl ibn 'Adi of Banu Tamim, their ally, and Salim, freedman of Abu Hudhayfah ibn 'Utbah ibn Rabi'ah ibn 'Abd Shams. Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: Simak ibn Kharashah, that is Abu Dujanah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت اسید بن یربوع رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت بشیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو مالک بن تیم اللہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن خالد بن نعمان بن خالد بن خنساء رضی الله عنہ قریش سے تعلق رکھنے والے حضرت جبیر بن مالک رضی اللہ عنہ جو ابن بحینہ ہیں ان کا تعلق بنو نوفل بن عبد مناف سے ہے انصار کی شاخ بنو جحجبی سے تعلق رکھنے والے حضرت جزء بن مالک بن حدیر رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بن مخزوم سے تعلق رکھنے والے حضرت حکیم بن حزن بن ابووہب بن عمرو بن عائذ رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے حضرت ربیعہ بن خرشہ رضی اللہ عنہ انصارے سے تعلق رکھنے والے حضرت رباح جو جحجبی کے غلام ہیں قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن رقیش رضی اللہ عنہ جو بنوامیہ کے حلیف تھے انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن حارثہ بن لوذان بن عبدود رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن حبان رضی اللہ عنہ جو ان کے حلیف ہیں انصار کی شاخ بنو جحجبی سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن ربیع بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو تمیم سے ہے ‘ اور یہ ان کے حلیف ہیں ‘ اور حضرت سالم رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ یہ حضرت ابودجانہ ہیں ۔ امام طبرانی نے یہ تمام نام ایک سند کے ساتھ نقل کیے ہیں ان کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10396

Majma al-Zawaid #10396

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أُسَيْدُ بْنُ يَرْبُوعٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أَسْعَدُ بْنُ سَلَامَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: ثَابِتُ بْنُ خَالِدِ بْنِ النُّعْمَانِ .. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: جَزْءُ بْنُ مَالِكٍ وَرَبَاحٌ مَوْلَى جَحْجَبَى. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ: رَبِيعَةُ بْنُ خَرَشَةَ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ: زَيْدُ بْنُ أُسَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سَعْدُ بْنُ حَمَّارٍ، حَلِيفٌ لَهُمْ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: سَعِيدُ بْنُ رَبِيعِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَالِكٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, in naming those martyred at Yamamah: Of the Muslim Ansar, then of Banu Sa'idah: Usayd ibn Yarbu'. Of the Ansar, then of Banu 'Abd al-Ashhal: As'ad ibn Salamah. Of the Ansar, then of Banu al-Najjar: Thabit ibn Khalid ibn al-Nu'man. Of the Ansar, then of al-Aws, then of Banu 'Amr ibn 'Awf: Juz' ibn Malik and Rabah, freedman of Jahjaba. Of Quraysh, then of Banu 'Amir ibn Lu'ayy: Rabi'ah ibn Kharashah. Of Quraysh, then of Banu 'Adi ibn Ka'b: Zayd ibn al-Khattab. Of Quraysh, then of Banu Zuhrah: Zayd ibn Usayd ibn Harithah. Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: Sa'd ibn Hammar, their ally. Of the Ansar, then of al-Aws, then of Banu 'Amr ibn 'Awf: Sa'id ibn Rabi' ibn 'Adi ibn Malik.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے مسلمانوں میں سے انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت اسید بن یربوع رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت اسعد بن سلامہ رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن خالد بن نعمان رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ اوس قبیلے کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت جز بن مالک اور حضرت رباح جحجباح کے غلام ہیں ۔ قریش کی شاخ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے حضرت ربیعہ بن خرشہ رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ قریشی کی شاخ بنوزہرہ سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن اسید بن حارثہ رضی اللہ عنہ انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن حمار رضی اللہ عنہ جو ان کے حلیف ہیں انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن ربیع بن عدی بن مالک رضی اللہ عنہ ان سب کے نام امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کیے ہیں ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10397

Majma al-Zawaid #10397

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ وَهُوَ أَبُو دُجَانَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, in naming those martyred at Yamamah: Of the Ansar, then of Banu Sa'idah: Simak ibn Kharashah, that is Abu Dujanah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان حضرات کا ذکر کیا ہے : انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ یہ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10398

Majma al-Zawaid #10398

وَعَنْ شَبَّابٍ قَالَ: اسْتُشْهِدْ عِمَارَةُ بْنُ حَزْمٍ يَوْمَ الْيَمَامَةِ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Shabab said: 'Umarah ibn Hazm was martyred at Yamamah in year eleven.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شباب بیان کرتے ہیں : حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ نے سن گیارہ ہجری میں جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔