Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 14

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10326–10365

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10326

Majma al-Zawaid #10326

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَسْأَلُوا عَنِ الْآيَاتِ - أَوْ: لَا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الْآيَاتِ - فَإِنَّ قَوْمَ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ آيَةً فَبَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُمُ النَّاقَةَ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ، فَقِيلَ لَهُمْ: (تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ)، أَوْ قِيلَ لَهُمْ: إِنَّ الْعَذَابَ يَأْتِيكُمْ إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ. ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ فَمَنَعَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: "" أَبُو رِغَالٍ "". قِيلَ: وَمَنْ أَبُو رِغَالٍ؟ قَالَ: "" جَدُّ ثَقِيفٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَيَأْتِي لَفْظُهُ فِي سُورَةِ هُودٍ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do not ask about signs — or: do not ask your Prophet for signs — for the people of Salih asked their prophet to bring them a sign, and Allah, Blessed and Exalted, sent them the she-camel. She would come from this pass and drink their water on her day, and leave by this pass. Then they defied the command of their Lord and hamstrung the she-camel. It was said to them: Enjoy your homes for three days — or it was said to them: torment shall come to you within three days. Then the blast came to them, and Allah destroyed all of them beneath the easts and wests of the earth, except a man who was in the sanctuary of Allah, which shielded him from Allah's torment."** They said, "O Messenger of Allah, who was he?" He said: > **"Abu Righal."** It was said, "And who is Abu Righal?" He said: > **"The forefather of Thaqif."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ نشانیوں کے بارے میں سوال نہ کرو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم لوگ اپنے نبی سے نشانیوں کا سوال نہ کرو کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے کوئی نشانی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے اونٹنی کو بھیجا وہ اس راستے سے آتی تھی اور اپنے آنے کے مخصوص دن ان لوگوں کا پانی پیتی تھی اور پھر اس راستے سے واپس چلی جاتی تھی ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے تو ان سے یہ کہا گیا کہ تم تین دن تک اپنے علاقے میں بچے رہو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان سے یہ کہا گیا تین دن تک عذاب تمہارے پاس آ جائے گا پھر ایک زبردست آواز ان کے پاس آئی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں میں موجود ان کے افراد کو ہلاکت کا شکار کر دیا صرف ایک شخص بچ گیا تھا جو حرم کی حدود میں موجود تھا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اسے لاحق نہیں ہوا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابورغال عرض کی گئی : ابورغال کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ثقیف قبیلے کا جد امجد ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ان کے الفاظ سورہ ہود سے متعلق باب میں آگے آئیں گے امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10327

Majma al-Zawaid #10327

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ شَدِيدٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا يَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْخَلَاءَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ تَنْقَطِعُ، وَحَتَّى إِنِ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبَهُ، وَيَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ اللَّهَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتُحِبُّ ذَلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ فَلَمْ يَرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ: فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ، فَمَلَئُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: It was said to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), "Narrate to us about the affair of the Hardship." Umar said: We set out with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) to Tabuk in fierce heat. We camped a camp where dire thirst struck us, until we thought our necks would snap — until a man of us would go seeking privacy and not return before thinking his neck would snap, and until a man would slaughter his camel, wring its dung to drink it, and place it upon his belly. Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) said, "O Messenger of Allah, Allah has accustomed you to good in supplication — so supplicate Allah." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Would you like that, O Abu Bakr?"** He said, "Yes." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) raised his hands, and he had not lowered them before the sky spoke — it clouded, then poured. They filled all they had with them. Then we went to look, and we found it had not gone beyond the camp.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں بتائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے یہ شدید گرمی کا موسم تھا ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں ہمیں شدید پیاس لاحق ہو چکی تھی ‘ یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی ‘ یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لئے جاتا تھا تو واپس آنے سے پہلے اسے یہ لگتا تھا کہ اس کی گردن کٹ جائے گی ‘ یہاں تک کہ جب کوئی شخص اپنا اونٹ ذبح کرتا تھا تو وہ اس کی لید کو نچوڑ لیتا تھا ‘ اور اسے پی لیتا تھا ‘ اور اسے اپنے پیٹ پر رکھ لیتا تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں برکت رکھی ہے تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابوبکر کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے ابھی آپ کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ آسمان سے بارش نازل ہونے لگی اور اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر ہم نے جائزہ لیا تو ہمیں پتہ چلا کہ شکر والے علاقے کے علاوہ کہیں بارش نہیں ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

10328

Majma al-Zawaid #10328

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً [الَّذِي يَرُدُّهُ]، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: "" أَنْ لَا يَسْبِقَنِي فِي الْمَاءِ أَحَدٌ "". فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) set out on the day of the expedition of Tabuk, and it reached him that the water he was heading for was scant. He ordered a caller, who called out among the people: > **"Let none precede me to the water."** He reached the water to find a people had preceded him — so he cursed them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نکلے آپ کو یہ اطلاع ملی کہ پانی کم ہے اس جگہ پر جہاں لوگ آ گئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ مجھ سے پہلے پانی تک کوئی نہ پہنچے تو کچھ لوگ آپ سے پہلے اس تک پہنچ چکے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت کی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10329

Majma al-Zawaid #10329

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ. فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُودُهُ عَمَّارٌ، وَيَسُوقُهُ حُذَيْفَةُ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ حَتَّى غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وَجُوهُ الرَّوَاحِلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحُذَيْفَةَ: "" قَدْ قَدْ "". حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ. فَقَالَ: "" يَا عَمَّارُ، هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ؟ "" قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ، وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ، قَالَ: "" هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا؟ "" قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَطْرَحُوهُ "". قَالَ: فَسَارَّ عَمَّارٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ مَا كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ. فَعَذَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ ثَلَاثَةً، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَالْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ. قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلنَّاسِ، وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنَادِيًا فَنَادَى: لَا يَرِدُ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ، فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) approached from the expedition of Tabuk, he ordered a caller, who called out: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) is taking the pass — let none take it. While the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was being led by Ammar and driven by Hudhayfah, a veiled party upon mounts approached until they crowded Ammar as he drove the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). Ammar set about striking the faces of the mounts. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to Hudhayfah: > **"Drive on — drive on."** Until the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) descended. When he descended, he camped, and Ammar returned. He said: > **"O Ammar, did you know the people?"** He said, "I knew most of the mounts, but the people were veiled." He said: > **"Do you know what they intended?"** He said, "Allah and His Messenger know best." He said: > **"They intended to startle the Messenger of Allah's mount and cast him down."** Ammar (may Allah be pleased with him) later spoke privately to a man of the Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and said, "I adjure you by Allah — how many were the companions of the pass?" He said, "Fourteen." He said, "If you were among them, they were fifteen." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) excused three of them, who said, "By Allah, we did not hear the caller of the Messenger of Allah, nor did we know what the people intended." Ammar said, "I testify that the remaining twelve are war against Allah and His Messenger in the life of this world and on the day the witnesses stand." Abu al-Walid said: Abu al-Tufayl mentioned of that expedition that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to the people, when told the water was scant, ordering a caller who called out: Let none reach the water before the Messenger of Allah. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) reached it to find a party had reached it before him — so the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) cursed them that day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک کے لئے جا رہے تھے ‘ تو آپ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ اللہ کے رسول گھاٹی کی طرف جا رہے ہیں ‘ تو کوئی شخص اس طرف نہ جائے نبی اکرم ﷺ جب جا رہے تھے ‘ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ آپ کے جانور کو لے کے چل رہے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اسے ہانک رہے تھے اسی دوران کچھ لوگ آئے جو مختلف سواریوں پر سوار تھے اور انہوں نے ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے ان لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جو نبی اکرم ﷺ کے جانور کو لے کے چل رہے تھے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کے چہروں پر مارنا شروع کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم لے کے چلو تم لے کے چلو یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اس سے نیچے اتر آئے جب نبی اکرم ﷺ اس سے نیچے اتر آئے ‘ تو آپ نے پڑاؤ کیا حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس آ گئے آپ نے دریافت کیا : اے عمار کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں ان کی زیادہ تر سواریوں کو پہچان لوں گا لیکن لوگوں نے منہ پر کپڑا لیا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ان کا ارادہ کیا تھا ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو ایک طرف لے جائیں اور انہیں شہید کر دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( بعد کے زمانے میں ) ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا ایک صحابی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اس موقع پر گھاٹی میں آنے والے افراد کتنے تھے اس نے جواب دیا چودہ افراد تھے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ان میں سے ایک تھے ‘ تو پھر وہ پندرہ ہوں گے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان میں سے تین افراد کو معذور قرار دے دیا تھا انہوں نے یہ عرض کی تھی : اللہ کی قسم ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کی بات نہیں سنی تھی اور ہمیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ دوسرے لوگوں کا کیا ارادہ ہے ۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے جو باقی کے بارہ افراد تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیاوی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور اس دن بھی جنگ کی جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ ابو الولید کہتے ہیں ابوطفیل نے اس غزوہ میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی تھی یا آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ یہاں پانی کم ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے منادی کو یہ حکم دیا تھا تو اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ اللہ کے رسول سے پہلے کوئی پانی تک نہ جائے جب نبی اکرم ﷺ اس پانی تک پہنچے تو آپ نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ آپ سے پہلے وہاں تک پہنچ چکے تھے ‘ تو اس دن نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10330

Majma al-Zawaid #10330

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَمِّهِ «أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ كَانَ يَهْجُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ خَمْسَةَ نَفَرٍ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ فِي الْعَوَالِي، فَلَمَّا رَآهُمْ ذُعِرَ مِنْهُمْ، قَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا إِلَيْكَ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَلْيَدْنُ إِلَيَّ بَعْضُكُمْ فَلْيُحَدِّثْنِي بِحَاجَتِهِ، فَدَنَا مِنْهُ بَعْضُهُمْ، فَقَالُوا: جِئْنَاكَ لِنَبِيعَكَ أَدْرُعًا لَنَا، قَالَ: وَوَاللَّهِ إِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ جَهِدْتُمْ مُنْذُ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، أَوْ قَالَ: بِكُمْ. فَوَاعَدُوهُ أَنْ يَأْتُوهُ بَعْدَ هَدْأَةٍ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَجَاءُوهُ، فَقَامَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: مَا جَاءَكَ هَؤُلَاءِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لِشَيْءٍ مِمَّا تُحِبُّ، قَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ حَدَّثُونِي بِحَاجَتِهِمْ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمُ اعْتَنَقَهُ أَبُو عَبْسٍ، وَعَلَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِالسَّيْفِ، وَطَعَنَهُ فِي خَاصِرَتِهِ فَقَتَلُوهُ. فَلَمَّا أَصْبَحَتِ الْيَهُودُ غَدَوْا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَّرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا كَانَ يَهْجُوهُ فِي أَشْعَارِهِ، وَمَا كَانَ يُؤْذِيهِ، ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا». قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ الْكِتَابُ مَعَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Ka'b ibn Malik, from his uncle, reported: Ka'b ibn al-Ashraf used to lampoon the Prophet ﷺ in poetry. The Prophet ﷺ ordered Sa'd ibn Mu'adh radiya Allahu anhu to send five men to him. They came to him while he was in a gathering of his people at al-'Awali. When he saw them he was alarmed by them. He said, "What brings you?" They said, "We came to you for a need." He said, "Let one of you come near to me and tell me his need." One of them drew near, and they said, "We came to you to sell you our coats of mail." He said, "By Allah, if you do so, you have indeed suffered hardship ever since this man arrived among you." They promised to return to him after the night had quieted. They came to him and he stood to meet them. His wife said to him, "These men have not come to you at this hour for anything you will like." He said, "They have already told me of their need." When he drew near them, Abu 'Abs embraced him, Muhammad ibn Maslamah struck him with the sword and stabbed him in his side, and they killed him. In the morning the Jews came to the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ reminded them of how Ka'b had lampooned him in his poems and harmed him, then the Prophet ﷺ invited them to write a treaty between him and them. That document remained with 'Ali radiya Allahu anhu. > **"What brings you?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف نبی اکرم ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کی طرف پانچ افراد بھیجیں وہ لوگ اس کے پاس آئے وہ اس وقت نواحی علاقے میں اپنی قوم کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا جب اس نے ان لوگوں کو دیکھا کہ تو ان کے حوالے سے پریشان ہو گیا اس نے دریافت کیا : تم لوگ کس وجہ سے آئے ہو انہوں نے بتایا ہم ضرورت کی وجہ سے تمہارے پاس آئے ہیں اس نے کہا : تم میں سے کوئی ایک میرے قریب آ جائے ‘ اور اپنی ضرورت کے حوالے سے میرے ساتھ بات چیت کرے ان لوگوں میں سے ایک اس کے قریب ہو گیا ان لوگوں نے یہ ظاہر کیا کہ ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ اپنی زرہیں تمہیں فروخت کر دیں اس نے کہا : اللہ کی قسم اگر تم یہ کرنا چاہتے ہو ‘ تو بات یہ ہے کہ جب سے یہ صاحب تمہارے درمیان آئے ہیں تم لوگ مسلسل مشقت کا شکار ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر ان لوگوں نے اس کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ رات ہو جانے کے بعد اس کے پاس آئیں گے جب وہ لوگ اس کے پاس آئے ‘ تو وہ اٹھ کر ان کی طرف جانے لگا اس کی بیوی نے اس سے کہا یہ لوگ اس وقت میں تمہارے پاس کسی ایسی چیز کی وجہ سے نہیں آئے ہوں گے ‘ جو تمہیں پسند ہو ۔ اس نے کہا : ان لوگوں نے اپنے حاجت مند ہونے کے بارے میں مجھے بتا دیا ہوا ہے جب وہ ان لوگوں کے قریب ہوا تو حضرت ابوعبس رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن پکڑ لی اور حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ذریعے اس پر وار کیا ۔ انہوں نے اس کے پہلو میں تلوار مار کر اسے قتل کر دیا صبح کے وقت یہودی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان یہودیوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ وہ اپنے اشعار میں نبی اکرم ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا ‘ اور نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچاتا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کو یہ دعوت دی کہ آپ اپنے اور ان لوگوں کے درمیان کوئی معاہدہ تحریر کروا لیتے ہیں راوی کہتے ہیں : وہ تحریر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10331

Majma al-Zawaid #10331

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ثُمَّ وَجَّهَهُمْ، وَقَالَ: "" انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ "". يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا وَجَّهَ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَصْحَابَهُ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ لِيَقْتُلُوهُ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِهِ. وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas radiya Allahu anhuma said: The Messenger of Allah ﷺ walked with them to Baqi' al-Gharqad, then sent them forth and said: > **"Go forth in the name of Allah. O Allah, help them."** That is, the party he sent toward Ka'b ibn al-Ashraf. In another version, when the Prophet ﷺ sent Muhammad ibn Maslamah and his companions to kill Ka'b ibn al-Ashraf, the rest is similar, with the addition that the Messenger of Allah ﷺ then returned to his house.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے بقیع غرقد کی طرف جا رہے تھے پھر آپ نے ان لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا : تم اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ اے اللہ تو ان کی مدد کرنا راوی کہتے ہیں : یعنی نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لیے یہ فرمایا تھا جنہیں آپ نے کعب بن اشرف کی طرف بھجوایا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو کعب بن اشرف کی طرف بھجوایا تھا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں ( اس وقت یہ واقعہ پیش آیا ) باقی روایت حسب سابق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ اپنے گھر واپس تشریف لے آئے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10332

Majma al-Zawaid #10332

وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ: «كَانَ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ أَبِي وَدَاعَةَ بِمَكَّةَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ فَهَجَاهُ. فَلَمَّا بَلَغَ قُرَيْشًا هِجَاءُ حَسَّانَ أَبَا وَدَاعَةَ أَخْرَجُوا كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَبَا عَبْسِ بْنَ جَبْرٍ، وَأَبَا نَائِلَةَ، فَقَتَلُوا كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ بِشَرْجِ الْعُجُولِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ubadah ibn al-Samit radiya Allahu anhu said: Ka'b ibn al-Ashraf used to lampoon the Messenger of Allah ﷺ while he was with Abu Wada'ah at Makkah. The Messenger of Allah ﷺ commanded Hassan ibn Thabit radiya Allahu anhu, who lampooned him in return. When Hassan's lampoon of Abu Wada'ah reached Quraysh, they expelled Ka'b ibn al-Ashraf. When he arrived at Madinah, the Messenger of Allah ﷺ sent Muhammad ibn Maslamah, Abu 'Abs ibn Jabr, and Abu Na'ilah to him. They killed Ka'b ibn al-Ashraf at Sharj al-'Ujul among Banu Umayyah ibn Zayd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کعب بن اشرف نے مکہ میں ابووداعہ کے پاس موجود رہ کر نبی اکرم ﷺ کی ہجو کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ‘ تو انہوں نے اس کی ہجو کی جب قریش کو اس بات کا پتہ چلا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ابووداعہ کی ہجو کی ہے ‘ تو ان لوگوں نے کعب بن اشرف کو وہاں سے نکال دیا جب وہ مدینہ منورہ آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے محمد بن مسلمہ ابوعبس بن جبر اور ابونائلہ کو بھیجا ان لوگوں نے بنوامیہ بن زید کے علاقے میں عجول نامی نالے کے پاس کعب بن اشرف کو قتل کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10333

Majma al-Zawaid #10333

وَعَنْ عُرْوَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ بَعَثَ الْحَارِثَ بْنَ أَوْسِ بْنِ النُّعْمَانِ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، فَلَمَّا ضَرَبَ ابْنَ الْأَشْرَفِ أَصَابَ رِجْلَ الْحَارِثِ ذُبَابُ السَّيْفِ فَحَمَلَهُ أَصْحَابُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah reported: Sa'd ibn Mu'adh sent al-Harith ibn Aws ibn al-Nu'man, brother of Banu Harithah, with Muhammad ibn Maslamah to Ka'b ibn al-Ashraf. When he struck Ibn al-Ashraf, the tip of the sword hit the leg of al-Harith, and his companions carried him away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت حارث بن اوس بن نعمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا انہیں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ کعب بن اشرف کی طرف بھیجا جب انہوں نے کعب بن اشرف پر ضرب لگائی ‘ تو حارث بن اوس کی ٹانگ پر تلوار کا کونہ لگ گیا تو ان کے ساتھی انہیں اٹھا کر لے آئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

10334

Majma al-Zawaid #10334

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا قَتَادَةَ، وَحَلِيفًا لَهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيكٍ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِنَقْتُلَهُ، فَخَرَجْنَا فَجِئْنَا خَيْبَرَ لَيْلًا، فَتَتَبَّعْنَا أَبْوَابَهُمْ فَغَلَّقْنَا عَلَيْهِمْ مِنْ خَارِجٍ، ثُمَّ جَمَعْنَا الْمَفَاتِيحَ فَأَرْمَيْنَاهَا، فَصَعِدَ الْقَوْمُ فِي النَّخْلِ. وَدَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ فِي دَرَجَةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عَبْدَ اللَّهِ، أَنَّى لَكَ بِهَذِهِ الْبَلْدَةِ؟ قُومِي فَافْتَحِي ; فَإِنَّ الْكَرِيمَ لَا يَرُدُّ عَنْ بَابِهِ هَذِهِ [السَّاعَةَ]، فَقَامَتْ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ: دُونَكَ، فَأَشْهَرَ عَلَيْهِمُ السَّيْفَ، فَذَهَبَتِ امْرَأَتُهُ لِتَصِيحَ فَأَشْهَرَ عَلَيْهَا، وَأَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَأَكُفَّ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، فَوَقَفْتُ أَنْظُرُ إِلَى شِدَّةِ بَيَاضِهِ فِي ظُلْمَةِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ وِسَادَةً فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَذَهَبْتُ أَرْفَعُ السَّيْفَ لِأَضْرِبَهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ مِنْ قِصَرِ الْبَيْتِ، فَوَخَزْتُهُ وَخْزًا. ثُمَّ خَرَجْتُ، فَقَالَ صَاحِبِي: فَعَلْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَدَخَلَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَانْحَدَرْنَا مِنَ الدَّرَجَةِ، فَوَقَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ فِي الدَّرَجَةِ، فَقَالَ: وَارِجْلَاهُ، كُسِرَتْ رِجْلِي، فَقُلْتُ لَهُ: لَيْسَ بِرِجْلِكَ بَأْسٌ، وَوَضَعْتُ قَوْسِي وَاحْتَمَلْتُهُ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ قَصِيرًا ضَئِيلًا، فَأَنْزَلْتُهُ فَإِذَا رِجْلُهُ لَا بَأْسَ بِهَا، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى لَحِقْنَا أَصْحَابَنَا، وَصَاحَتِ الْمَرْأَةُ: يَا بَيَاتَاهُ، فَثُورَ أَهْلُ خَيْبَرَ. ثُمَّ ذَكَرْتُ مَوْضِعَ قَوْسِي فِي الدَّرَجَةِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ فَلَآخُذَنَّ قَوْسِي، فَقَالَ أَصْحَابِي: قَدْ تَثُورُ أَهْلُ خَيْبَرَ بِقَتْلِهِ، فَقُلْتُ: لَا أَرْجِعُ أَنَا حَتَّى آخُذَ قَوْسِي، فَرَجَعْتُ فَإِذَا أَهْلُ خَيْبَرَ قَدْ تَثَوَّرُوا، وَإِذَا مَا لَهُمْ كَلَامٌ إِلَّا مَنْ قَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ، فَجَعَلْتُ لَا أَنْظُرُ فِي وَجْهِ إِنْسَانٍ وَلَا يَنْظُرُ فِي وَجْهِي إِلَّا قُلْتُ مِثْلَ مَا يَقُولُ مَنْ قَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ، حَتَّى جِئْتُ الدَّرَجَةَ فَصَعِدْتُ مَعَ النَّاسِ فَأَخَذْتُ قَوْسِي فَلَحِقْتُ أَصْحَابِي. فَكُنَّا نَسِيرُ اللَّيْلَ وَنَكْمُنُ النَّهَارَ، فَإِذَا كَمَنَّا النَّهَارَ أَقْعَدْنَا نَاطُورًا يَنْظُرُ لَنَا، حَتَّى إِذَا اقْتَرَبْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَكُنْتُ بِالْبَيْدَاءِ كُنْتُ أَنَا نَاطِرَهُمْ ثُمَّ إِنِّي أَلَحْتُ لَهُمْ بِثَوْبِي فَانْحَدَرُوا فَخَرَجُوا جَمْزًا، وَانْحَدَرْتُ فِي آثَارِهِمْ فَأَدْرَكْتُهُمْ حَتَّى بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لِي أَصْحَابِي: هَلْ رَأَيْتَ شَيْئًا؟ فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ رَأَيْتُ مَا أَدْرَكَكُمْ مِنَ الْعَنَاءِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَحْمِلَكُمُ الْفَزَعُ. فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبَ النَّاسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفْلَحَتِ الْوُجُوهُ "". فَقُلْنَا: أَفْلَحَ وَجْهُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قَتَلْتُمُوهُ؟ "" قُلْنَا: نَعَمْ. فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسَّيْفِ الَّذِي قُتِلَ بِهِ، فَقَالَ: "" هَذَا طَعَامُهُ فِي ضِبَابِ السَّيْفِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Unays radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ sent me, Abu Qatadah, an ally of theirs from the Ansar, and 'Abdullah ibn 'Atik to Ibn Abi al-Huqayq to kill him. We set out and came to Khaybar by night. We traced their doors and locked them from outside, then gathered the keys and threw them away. The people climbed into the date-palms. I and 'Abdullah ibn 'Atik entered the stairway of Ibn Abi al-Huqayq. 'Abdullah ibn 'Atik spoke. Ibn Abi al-Huqayq said, "May your mother be bereft of you, 'Abdullah, how did you come to this town? Rise and open," speaking to his wife, "for the generous man does not turn back from his door at this hour." She rose. I said to 'Abdullah ibn 'Atik, "Take him." He drew the sword against them. His wife tried to scream, so he raised it against her, then remembered that the Messenger of Allah ﷺ had forbidden killing women and children, so he withheld. 'Abdullah ibn Unays said: I entered upon him in his upper chamber and stood watching his intense whiteness in the darkness of the house. When he saw me he took a pillow and shielded himself with it. I went to raise the sword to strike him but could not because of the lowness of the room, so I stabbed him with a thrust. Then I went out. My companion said, "Did you do it?" I said, "Yes." He entered and stood over him. Then we came down the stairs. 'Abdullah ibn 'Atik fell on the stairs and said, "O my leg, my leg is broken." I said to him, "There is nothing wrong with your leg." I put down my bow, carried him — 'Abdullah was short and slight — and set him down, and his leg was unharmed. We went on until we joined our companions. The woman cried out, "O night-raid!" and the people of Khaybar rose up. Then I remembered my bow left on the stairs. I said, "By Allah, I will return and take my bow." My companions said, "The people of Khaybar will rise over his killing." I said, "I will not return until I take my bow." I went back to find the people of Khaybar in uproar, their only talk being who killed Ibn Abi al-Huqayq. I looked at no man's face nor did any look at mine except that I said the same as they said. Until I reached the stairway, climbed with the people, took my bow, and rejoined my companions. We traveled by night and hid by day, posting a watcher when we hid by day, until we neared Madinah. At al-Bayda' I was their watcher. I signaled to them with my garment, they descended quickly, and I followed until we reached Madinah. My companions said to me, "Did you see anything?" I said, "No, but I saw the hardship that had reached you and wanted fear to carry you on." We came to the Messenger of Allah ﷺ while he was addressing the people. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Prosperous faces."** We said, "And your face, O Messenger of Allah." He said: > **"Did you kill him?"** We said, "Yes." He called for the sword with which he was killed and said: > **"This is its food in the foam of the sword."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اور انصار سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک حلیف کو اور عبداللہ بن عتیک کو ابن ابوحقیق کی طرف بھیجا تاکہ ہم اسے قتل کر دیں ہم لوگ روانہ ہوئے ہم رات کے وقت خیر پہنچے ہم وہاں کے مختلف دروازوں کے پاس گئے ‘ اور انہیں باہر کی طرف سے بند کر دیا پھر ہم نے تمام چابیاں اکٹھی کیں اور انہیں پھینک دیا پھر ہم لوگ کھجور کے درخت پر چڑھے اور میں اور عبداللہ بن عتیک ہم ابن ابوحقیق کی سیڑھی تک پہنچ گئے عبداللہ بن عتیک نے بات کی تو ابن ابوحقیق نے کہا : تمہاری ماں نہ رہے کیا تم عبداللہ ہو تم یہاں کیا کر رہے ہو ( پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا ) اٹھو اور دروازہ کھولو کیونکہ اس گھڑی میں معزز شخص اپنے دروازے پر آنے والے کسی شخص کو واپس نہیں کرتا وہ عورت اٹھی میں نے عبداللہ بن عتیک سے کہا تم نے اسے سنبھالنا ہے ۔ انہوں نے اس پر تلوار سونت لی اس عورت نے چیخ مارنا چاہی تو میں نے اس پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کا فرمان یاد آیا کہ آپ نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ‘ تو میں رک گیا حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اس کے بالا خانے میں اس کے پاس گیا رات کی تاریکی میں ، میں اس کے گورے رنگ کو دیکھ کر ٹھہر گیا جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے تکیہ پکڑا اور اس کے ذریعے بچنے کی کوشش کی میں نے تلوار بلند کر کے اس پر ضرب لگانا چاہی لیکن کمرے کی چھت نیچے تھی اس لئے میں ایسا نہیں کر سکا تو میں نے وہ اسے چبھو دی پھر میں باہر نکل آیا میرے ساتھیوں نے دریافت کیا : تم نے کام کر لیا میں نے کہا : جی ہاں پھر وہ اندر داخل ہوئے ‘ اور اس کے پاس ٹھہرے پھر ہم لوگ وہاں سے نکل آئے ہم سیڑھی سے نیچے اترے عبداللہ بن عتیک سیڑھی سے گر گئے ‘ اور بولے ہائے میری ٹانگ میری ٹانگ ٹوٹ گئی ہے میں نے ان سے کہا آپ کی ٹانگ کو کچھ نہیں ہوا پھر میں نے اپنی کمان رکھی اور انہیں اٹھا لیا عبداللہ ایک چھوٹے قد کے کمزور شخص تھے میں نے انہیں نیچے اتارا تو ان کی ٹانگ کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا ہم لوگ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے اس دوران عورت چیخ کر بولی خطرے کی بات ہے ‘ تو اہل خیبر اکٹھے ہونا شروع ہو گئے پھر مجھے یاد آیا میری کمان تو سیڑھی میں رہ گئی ہے میں نے کہا : اللہ کی قسم میں واپس جاؤں گا اور اپنی کمان ضرور لے کے آؤں گا میرے ساتھیوں نے کہا : اہل خیبر اس کے قتل کی وجہ سے اکٹھے ہو رہے ہیں میں نے کہا : میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا ‘ جب تک اپنی کمان واپس نہیں لے لیتا پھر میں واپس آیا تو اہل خیبر اکٹھے ہو چکے تھے اور وہ صرف یہی بات چیت کر رہے تھے کہ ابن ابوحقیق کو کس نے قتل کیا ہے مجھے جو بھی شخص نظر آیا یا جس نے بھی میری طرف دیکھا تو میں نے بھی ان کی طرح یہی پوچھا : ابن ابوحقیق کو کس نے قتل کیا ہے ‘ یہاں تک کہ میں اس سیڑھی تک پہنچ گیا میں لوگوں کے ساتھ اس پر چڑھا پھر میں نے اپنی کمان پکڑی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ آ ملا ہم رات بھر سفر کرتے رہے ‘ اور دن کے وقت ٹھہر جاتے تھے جب ہم دن کے وقت ٹھہر جاتے تھے ‘ تو ہم کسی جاسوس کو بھیجتے تھے جو ہمارے لئے صورت حال کا جائزہ لیتا تھا ‘ یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے میں بیدا کے مقام پر موجود تھا ‘ اور میں ان لوگوں کے لئے صورت حال کا جائزہ لے رہا تھا پھر میں نے اپنے کپڑے کو ان کے لئے لہرایا تو وہ نیچے اتر آئے وہ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے نکلے تھے اور میں ان کے پیچھے آتا ہوا ان تک پہنچ جاتا تھا ‘ یہاں تک کہ ہم لوگ اسی طرح مدینہ منورہ پہنچ گئے میرے ساتھیوں نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز دیکھی ہے میں نے جواب دیا جی نہیں لیکن میں نے یہ چیز دیکھی ہے کہ جو آپ لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے ‘ تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ اس وقت لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چہرے کامیاب ہیں ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا چہرہ بھی کامیاب ہو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگوں نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے تلوار منگوائی جس ! کے ذریعے اسے قتل کیا گیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس کا کھانا توار کی دھار پر موجود ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10335

Majma al-Zawaid #10335

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِيَقْتُلُوهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، [وَ] حَلِيفٌ لَهُمْ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ. وَأَنَّهُمْ قَدِمُوا خَيْبَرَ لَيْلًا، فَعَمَدْنَا إِلَى أَبْوَابِهِمْ نُغْلِقُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ خَارِجٍ، قَالَتِ امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ: إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: افْتَحِي، فَفَتَحَتْ فَدَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: دُونَكَ، فَذَهَبْتُ لِأَضْرِبَهَا بِالسَّيْفِ فَأَذْكُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ فَأَكُفُّ عَنْهَا. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَلَيْسَ بِالْجُهَنِيِّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Unays radiya Allahu anhu said: The party whom the Messenger of Allah ﷺ sent to Ibn Abi al-Huqayq to kill him were 'Abdullah ibn 'Atik, 'Abdullah ibn Unays, Abu Qatadah, an ally of theirs, and a man from the Ansar. They arrived at Khaybar by night and went to their doors, locking them from outside. The wife of Ibn Abi al-Huqayq said, "This is surely the voice of 'Abdullah ibn 'Atik." He said, "Open." She opened, and I and 'Abdullah ibn 'Atik entered. 'Abdullah said, "Take him." I went to strike her with the sword but remembered the prohibition of the Messenger of Allah ﷺ against killing women and children, so I withheld from her. 'Ali ibn al-Madini said: This is 'Abdullah ibn Unays al-Ansari, not the Juhani from whom Jabir ibn 'Abdillah narrated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ افراد جنہیں نبی اکرم ﷺ نے ابن ابوحقیق کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا وہ یہ ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ایک ان کے حلیف اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب یہ لوگ رات کے وقت خیبر پہنچے یہ ان کے دروازوں کی طرف بڑھے ہم نے باہر سے انہیں بند کر دیا ابن ابوحقیق کی بیوی نے کہا : یہ آواز تو عبداللہ بن عتیک کی ہے اس نے کہا : تم دروازہ کھولو اس عورت نے دروازہ کھولا تو میں اور عبداللہ بن عتیک اندر داخل ہوئے عبدالله نے کہا : تم سنبھالو میں آگے بڑھا تاکہ اس عورت کو تلوار کے ذریعے ضرب لگاؤں تو مجھے یہ بات یاد آ گئی کہ نبی اکرم ﷺ نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ‘ تو میں اس سے رک گیا ۔ علی بن مدینی کہتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن انیس انصاری رضی اللہ عنہ ہیں یہ وہ جہنی نہیں ہیں جن سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10336

Majma al-Zawaid #10336

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ بَعَثَ رَهْطًا، وَبَعَثَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْطَلِقَ بَكَى صَبَابَةً إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَجَلَسَ، فَبَعَثَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ مَكَانَهُ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَأَ الْكِتَابَ حَتَّى يَبْلُغَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، وَقَالَ: "" لَا تُكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الْمَسِيرِ مَعَكَ "". فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ اسْتَرْجَعَ، وَقَالَ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَخَبَّرَهُمُ الْخَبَرَ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْكِتَابَ، فَرَجَعَ رَجُلَانِ وَمَضَى بَقِيَّتُهُمْ، فَلَقَوُا ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَتَلُوهُ. وَلَمْ يَدْرُوا أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ جُمَادَى، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ: قَتَلْتُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ} [البقرة: 217] الْآيَةَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ لَمْ يَكُونُوا أَصَابُوا وِزْرًا، فَلَيْسَ لَهُمْ أَجْرٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: 218]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jundab ibn 'Abdillah radiya Allahu anhu reported from the Prophet ﷺ: He sent a party and placed Abu 'Ubaydah over them. When he went to depart, he wept out of longing for the Messenger of Allah ﷺ and sat down. So he placed 'Abdullah ibn Jahsh over them in his place, wrote a letter for him and ordered him not to read it until he reached such-and-such a place, and said: > **"Do not compel any of your companions to march with you."** When he read the letter he said, "To Allah we belong and to Him we return," and said, "Hearing and obeying Allah and His Messenger." He informed them of the matter and read the letter to them. Two men returned and the rest went on. They met Ibn al-Hadrami and killed him, not knowing whether that day was of Rajab or Jumada. The polytheists said to the Muslims, "You killed in the sacred month." Then Allah revealed: > **"They ask you about fighting in the sacred month."** Some said, "If they incurred no sin, they have no reward." Then Allah revealed: > **"Indeed those who believed and emigrated and strove in the way of Allah, they hope for the mercy of Allah, and Allah is Forgiving, Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے کچھ لوگوں کو بھیجا آپ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا جب وہ لوگ جانے لگے ‘ تو وہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کی وجہ سے رونے لگے ‘ اور بیٹھ گئے نبی اکرم ﷺ نے ان کی جگہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا ان کے لئے ایک تحریر لکھی اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس تحریر کو اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک فلاں فلاں مقام تک نہیں پہنچ جاتے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا جب انہوں نے وہ تحریر پڑھی تو «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھا اور پھر بولے : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے گی پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو صورت حال بتائی اور ان کے سامنے وہ تحریر پڑھ کر سنائی ، تو دو افراد واپس چلے گئے ‘ اور باقی حضرات آگے چلے گئے ان لوگوں کی ملاقات ابن حضرمی سے ہوئی ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا انہیں یہ انداز نہیں ہوا کہ یہ رجب کا دن ہے یا جمادی الثانی ( کا آخری دن ) ہے ؟ مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تم لوگوں نے حرمت والے مہینے میں قتل کر دیا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ لوگ تم سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘‘ ان میں سے کسی نے کہا : کہ اگر ان لوگوں کو کوئی گناہ لاحق نہیں بھی ہوا تو انہیں اجر بھی نہیں ملے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے ‘ اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10337

Majma al-Zawaid #10337

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: 217] قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلَانٍ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقُوا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ بِبَطْنِ نَخْلَةَ. قَالَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْبَقَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas radiya Allahu anhuma, concerning His saying, "They ask you about fighting in the sacred month, say: fighting therein is grave," said: The Messenger of Allah ﷺ sent 'Abdullah ibn so-and-so in a detachment. They met 'Amr ibn al-Hadrami at Batn Nakhlah. Then he mentioned the long hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ لوگ تم سے حرمت والے مہینے میں قتال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو : اس میں قتال بڑا ( گناہ ) ہے ‘‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن فلاں کو ایک مہم پر بھیجا تھا بطن نخلہ کے مقام پر ان لوگوں کا سامنا عمرو بن حضرمی سے ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید بقال ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10338

Majma al-Zawaid #10338

عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: «قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أُحُدٍ نَفَرٌ مِنْ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِينَا إِسْلَامًا فَابْعَثْ مَعَنَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِكَ يُفَقِّهُونَا فِي الدِّينِ، وَيُقْرِئُونَا الْقُرْآنَ، وَيُعَلِّمُونَا شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ سِتَّةً: مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، حَلِيفَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ». قَالَ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ. قَالَ: وَأَمَّا مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْبُكَيْرِ، وَعَاصِمُ بْنُ أَبِي الْأَقْلَحِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَقْبَلُ عَهْدًا مِنْ مُشْرِكٍ وَلَا عَقْدًا أَبَدًا، فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Asim ibn 'Amr ibn Qatadah said: After Uhud a party from 'Adal and al-Qarah came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, there is Islam among us, so send with us men from your companions to instruct us in religion, teach us the Qur'an, and teach us the laws of Islam." The Messenger of Allah ﷺ sent six of his companions, among them Marthad ibn Abi Marthad al-Ghanawi, ally of Hamzah ibn 'Abd al-Muttalib radiya Allahu anhu. Then he mentioned the story. As for Marthad ibn Abi Marthad, Khalid ibn al-Bukayr, and 'Asim ibn Abi al-Aqlah, they said: > **"By Allah, we shall never accept a covenant or pact from a polytheist."** They fought them until they killed them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عاصم بن عمرو بن قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے بعد عضل اور قارہ قبیلے کے کچھ افراد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان اسلام پایا جاتا ہے آپ اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کو ہمارے ساتھ بھیجیں جو ہمیں دینی تعلیمات سے آگاہ کریں ہمیں قرآن سکھائیں ہمیں اسلامی تعلیمات کی تعلیم دیں تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے چھ افراد کو بھیجا ان میں سے ایک حضرت مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ تھے جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک حضرت مرثد بن ابومرثد رضی اللہ عنہ حضرت خالد بن بکیر رضی اللہ عنہ اور حضرت عاصم بن ابوقلح رضی الله عنہ کا تعلق ہے ‘ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم کسی مشرک کی طرف سے کوئی عہد یا کوئی عقد کبھی قبول نہیں کریں گے وہ ان لوگوں سے لڑتے رہے ‘ یہاں تک کہ ان ( کافر ) لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10339

Majma al-Zawaid #10339

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «كَانَ مِنْ شَأْنِ خُبَيْبِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَعَاصِمِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ الدِّثِنَةِ الْأَنْصَارِيِّ مَنْ بَنِي بَيَاضَةَ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُمْ عُيُونًا بِمَكَّةَ ; لِيُخْبِرُوهُ خَبَرَ قُرَيْشٍ. فَسَلَكُوا عَلَى النَّجْدِيَّةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالرَّجِيعِ مِنْ نَجْدٍ، اعْتَرَضَتْ لَهُمْ بَنُو لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ، فَأَمَّا عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ فَضَارَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ، وَأَمَّا خُبَيْبٌ وَزَيْدُ بْنُ الدِّثِنَةِ فَأَصْعَدَا فِي الْجَبَلِ فَلَمْ يَسْتَطِعْهُمَا الْقَوْمُ حَتَّى جَعَلُوا لَهُمُ الْعُهُودَ وَالْمَوَاثِيقَ، فَنَزَلَا إِلَيْهِمْ فَأَوْثَقُوهُمَا رِبَاطًا، ثُمَّ أَقْبَلُوا بِهِمَا إِلَى مَكَّةَ فَبَاعُوهُمَا مِنْ قُرَيْشٍ. فَأَمَّا خُبَيْبٌ فَاشْتَرَاهُ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَشَرَكَهُ فِي ابْتِيَاعِهِ أَبُو إِهَابِ بْنُ عَزِيزِ بْنِ قَيْسِ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَدْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَارِمٍ، وَكَانَ قَيْسُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخَا عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ لِأُمِّهِ، أُمُّهُمَا بِنْتُ نَهْشَلٍ التَّمِيمِيَّةُ. [وَعِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَالْأَخْنَسُ بْنُ شَرْنُونَ بْنِ عِلَاجِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ] وَعُبَيْدَةُ بْنُ حَكِيمٍ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ، وَأُمَيَّةُ بْنُ أَبِي عُتْبَةَ بْنِ هَمَّامِ بْنِ حَنْظَلَةَ مِنْ بَنِي دَارِمٍ وَبَنُو الْحَضْرَمِيِّ، وَسَعْيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ، فَدَفَعُوهُ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ فَسَجَنَهُ عِنْدَهُ فِي دَارِهِ، فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ. وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ تَفْتَحُ عَنْهُ وَتُطْعِمُهُ، فَقَالَ لَهَا: إِذَا أَرَادَ الْقَوْمُ قَتْلِي فَآذِنِينِي قَبْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَرَادُوا قَتْلَهُ أَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: ابْغِينِي حَدِيدَةً أَسْتَدِفُّ بِهَا - يَعْنِي أَحْلِقُ عَانَتِي - فَدَخَلَ ابْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تُنْجِدُهُ وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِ الْغُلَامِ فَقَالَ: هَلْ أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْكُمْ؟ فَقَالَتْ: مَا هَذَا ظَنِّي بِكَ. ثُمَّ نَاوَلَهَا الْمُوسَى وَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ مَازِحًا. وَخَرَجَ بِهِ الْقَوْمُ الَّذِينَ شَرِكُوا فِيهِ، وَخَرَجَ مَعَهُمْ أَهْلُ مَكَّةَ، وَخَرَجُوا مَعَهُمْ بِخَشَبَةٍ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالتَّنْعِيمِ نَصَبُوا تِلْكَ الْخَشَبَةَ فَصَلَبُوهُ عَلَيْهَا، وَكَانَ الَّذِي وَلِيَ قَتْلَهُ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَكَانَ أَبُو الْحُسَيْنِ صَغِيرًا وَكَانَ مَعَ الْقَوْمِ، وَإِنَّمَا قَتَلُوهُ بِالْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ، وَكَانَ قُتِلَ يَوْمِ بَدْرٍ كَافِرًا. وَقَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ عِنْدَ قَتْلِهِ: أَطْلِقُونِي مِنَ الرِّبَاطِ حَتَّى أُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ. فَأَطْلَقُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَظُنُّوا أَنَّ بِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ لَطَوَّلْتُهُمَا، وَلِذَلِكَ خَفَّفْتُهُمَا. وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَّا فِي وَجْهِ عَدُوٍّ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَجِدُ رَسُولًا إِلَى رَسُولِكَ فَبَلِّغْهُ عَنِّي السَّلَامَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ. وَقَالَ خُبَيْبٌ وَهُمْ يَرْفَعُونَهُ عَلَى الْخَشَبَةِ: اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا، وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا، وَلَا تُبْقِ مِنْهُمْ أَحَدًا. وَقَتَلَ خُبَيْبًا أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَمَّا وَضَعُوا فِيهِ السِّلَاحَ وَهُوَ مَصْلُوبٌ نَادَوْهُ وَنَاشَدُوهُ: أَتُحِبُّ أَنَّ مُحَمَّدًا مَكَانَكَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ الْعَظِيمِ، مَا أُحِبُّ أَنْ يَفْدِيَنِي بِشَوْكَةٍ يُشَاكُهَا فِي قَدَمِهِ. فَضَحِكُوا، وَقَالَ خُبَيْبٌ حِينَ رَفَعُوهُ إِلَى الْخَشَبَةِ: لَقَدْ جَمَعَ الْأَحْزَابُ حَوْلِي وَأَلَّبُوا ... قَبَائِلَهُمْ وَاسْتَجْمَعُوا كُلَّ مَجْمَعِ وَقَدْ جَمَعُوا أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ وَقُرِّبْتُ ... مِنْ جِذْعٍ طَوِيلٍ مُمَنَّعِ إِلَى اللَّهِ أَشْكُو غُرْبَتِي ثُمَّ كُرْبَتِي ... وَمَا أَرْصَدَ الْأَحْزَابُ لِي عِنْدَ مَصْرَعِي فَذَا الْعَرْشِ صَبِّرْنِي عَلَى مَا يُرَادُ بِي ... فَقَدْ بَضَعُوا لَحْمِي وَقَدْ بَانَ مَطْمَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ ... يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ لَعَمْرِي مَا أَحْفُلُ إِذَا مُتُّ مُسْلِمًا ... عَلَى أَيِّ حَالٍ كَانَ لِلَّهِ مَضْجَعِي. وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ فَاشْتَرَاهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَتَلَهُ بِأَبِيهِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، قَتَلَهُ نِيطَاسُ مَوْلَى بَنِي جُمَحَ، وَقُتِلَا بِالتَّنْعِيمِ، فَدَفَنَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ خُبَيْبًا، وَقَالَ حَسَّانُ فِي شَأْنِ خُبَيْبٍ: وَلَيْتَ خُبَيْبًا لَمْ يَخُنْهُ ذِمَامُهُ ... وَلَيْتَ خُبَيْبًا كَانَ بِالْقَوْمِ عَالِمَا شِرَاكُ زُهَيْرِ بْنِ الْأَغَرِّ وَجَامِعٍ ... وَكَانَا قَدِيمًا يَرْكَبَانِ الْمَحَارِمَا أَجَرْتُمْ فَلَمَّا أَنْ أَجَرْتُمْ غَدَرْتُمْ ... وَكُنْتُمْ بِأَكْنَافِ الرَّجِيعِ لَهَازِمَا» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah ibn al-Zubayr said: The case of Khubayb ibn 'Adi ibn 'Abdillah al-Ansari of Banu 'Amr ibn 'Awf, 'Asim ibn Thabit ibn Abi al-Aqlah ibn 'Amr ibn 'Awf, and Zayd ibn al-Dathinah al-Ansari of Banu Bayadah, is that the Messenger of Allah ﷺ sent them as scouts toward Makkah to report to him the news of Quraysh. They took the Najd road until, at al-Raji' in Najd, Banu Lihyan of Hudhayl intercepted them. As for 'Asim ibn Thabit, he fought with his sword until he was killed. As for Khubayb and Zayd ibn al-Dathinah, they climbed the mountain. The people could not reach them until they offered them covenants and pledges. They came down, and they bound them with ropes, brought them to Makkah, and sold them to Quraysh. As for Khubayb, 'Uqbah ibn al-Harith bought him, partnered in his purchase by Abu Ihab ibn 'Aziz and others — 'Ikrimah ibn Abi Jahl, al-Akhnas ibn Shunun, 'Ubaydah ibn Hakim, Umayyah ibn Abi 'Utbah, the sons of al-Hadrami, Sa'yah ibn 'Abdillah, and Safwan ibn Umayyah. They handed him to 'Uqbah ibn al-Harith, who imprisoned him in his house as long as Allah willed. A woman of the family of 'Uqbah used to open for him and feed him. He said to her, "When the people intend to kill me, inform me beforehand." When they intended to kill him, she informed him. He said, "Seek for me a razor to cleanse myself with," meaning to shave his pubic hair. The son of the woman who used to help him entered with the razor in his hand. He took the boy's hand and said, "Has Allah enabled you against us?" She said, "What is this I thought of you?" Then he handed her the razor and said, "I was only jesting." The partners who shared in him brought him out, the people of Makkah with them, with a wooden cross, until at al-Tan'im they erected it and crucified him upon it. The one who undertook his killing was 'Uqbah ibn al-Harith, in retaliation for al-Harith ibn 'Amir, who had been killed at Badr as a disbeliever. Khubayb said to them at his killing, "Release me from the bonds until I pray two rak'ahs." They released him. He prayed two light rak'ahs, then turned and said: > **"Were it not that you would think I feared death, I would have lengthened them, and for that I shortened them."** He said, "O Allah, I look only upon the face of an enemy. O Allah, I find no messenger to Your Messenger, so convey my greeting of peace to him." Jibril alayhi al-salam came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him of that. Khubayb said as they raised him upon the wood: > **"O Allah, count them in number, kill them piecemeal, and leave none of them."** The sons of the polytheists killed at Badr killed Khubayb. When they put weapons into him while crucified, they called to him and adjured him, "Would you love that Muhammad were in your place?" He said: > **"No, by Allah the Mighty, I would not love that even a thorn prick his foot in my ransom."** They laughed. When they raised him to the wood Khubayb recited: "The confederates gathered around me and incited their tribes, assembling every assembly; they gathered their sons and women, and I was brought near to a long, fortified trunk; to Allah I complain of my estrangement then my anguish, and what the confederates prepared for me at my death-place; O Throne-Possessor, grant me patience for what is intended for me, for they have cut my flesh and my hope is gone; that is for the sake of Allah, and if He wills He blesses the joints of a torn corpse; by my life, I care not, when I die a Muslim, upon what side my resting-place for Allah is." As for Zayd ibn al-Dathinah, Safwan ibn Umayyah bought him and killed him for his father Umayyah ibn Khalaf; Nitas, freedman of Banu Jumah, killed him. Both were killed at al-Tan'im. 'Amr ibn Umayyah buried Khubayb. Hassan said concerning Khubayb: "Would that Khubayb's covenant had not betrayed him, would that Khubayb had known the people; the straps of Zuhayr ibn al-Agharr and Jami', who of old rode forbidden deeds; you granted protection, then when you granted it you betrayed, at the outskirts of al-Raji' you were defeatists."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت حبیب بن عدی بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ‘ اور حضرت عاصم بن ثابت بن ابواقلح بن عمرو بن عوف اور حضرت زید بن دثنہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو بیاضہ سے ہے ان لوگوں کا واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں مکہ میں جاسوسی کے لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگ آپ کو قریش کے بارے میں اطلاعات پہنچائیں یہ لوگ نجدیہ کے راستے پر چلتے ہوئے نجد کے مقام رجیع تک پہنچے تو بنو لحیان قبیلے کے لوگ جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے وہ ان کے سامنے آ گئے عاصم بن ثابت نے اپنی تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا ‘ یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ پہاڑ پر چڑھ گئے لوگ ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے ‘ یہاں تک کہ ان لوگوں نے ان حضرات کے ساتھ یہ عہد کیا ( کہ وہ انہیں کچھ نہیں کہیں گے ) تو یہ دونوں حضرات نیچے اتر کر ان کے پاس آ گئے ان لوگوں نے ان دونوں حضرات کو باندھ دیا پھر وہ ان دونوں کو لے کے مکہ آ گئے ‘ اور ان دونوں کو قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا جہاں تک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ‘ تو عقبہ بن حارث نے انہیں خرید لیا ان کی خریداری میں ابواہاب بن عزیز بن قیس بن سوید بن ربیعہ بن عدی بن عبداللہ بن دارم بھی ان کا شراکت دار بنا قیس بن سوید بن ربیعہ اصل میں عامر بن نوفل کا ماں کی طرف شریک بھائی تھا ان دونوں کی ماں نہشل کی بیٹی تھی اور تمیمیہ تھی عکرمہ بن ابوجہل اور اخنس بن شرنون بن علاج بن مغیرہ ثقفی اور عبیدہ بن حکیم سلمی ثم ذکوانی اور امیہ بن ابوعتبہ بن ہمام بن حنظلہ جس کا تعلق بنو دارم سے ہے ‘ اور حضرمی کے بیٹوں نے اور سعیہ بن عبداللہ بن ابوقیس نے جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے ‘ اور صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب جمحی نے ( اس خریداری میں حصہ لیا ) ان لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو عقبہ بن حارث کے حوالے کر دیا عقبہ نے انہیں اپنے گھر میں قید کر دیا جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا وہ اس کے گھر میں رہے عقبہ بن حارث بن عامر کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ان کے قید خانے کا دروازہ کھول کر انہیں کھانا دیا کرتی تھی انہوں نے اس عورت سے کہا کہ جب یہ لوگ مجھے قتل کرنے کا ارادہ کریں تو تم مجھے اس بارے میں پہلے بتا دینا جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس عورت نے انہیں بتا دیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے کوئی استرا لا دو تاکہ میں اس کے ذریعے زیر ناف بال صاف کر لوں ( اس عورت نے انہیں استرا لا دیا ) اسی دوران اس عورت کا بیٹا ان کے کمرے میں آ گیا استرا ان کے ہاتھ میں تھا ۔ انہوں نے اس بچے کا ہاتھ پکڑا اور پھر بولے کیا میں تمہیں نقصان پہنچاؤں ‘ اس عورت نے کہا : آپ کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے پھر انہوں نے اس عورت کو استرا پکڑایا اور فرمایا : میں تو مذاق کر رہا تھا جن لوگوں نے مل جل کر انہیں خریدا تھا وہ انہیں ساتھ لے کر نکلے ان لوگوں کے ساتھ اہل مکہ بھی نکلے وہ لوگ اپنے ساتھ ایک لکڑی لے کے گئے ‘ یہاں تک کہ تنعیم کے مقام پر انہوں نے اس لکڑی کو زمین میں گاڑ دیا ‘ اور اس لکڑی پر انہیں مصلوب کر دیا عقبہ بن حارث نے انہیں قتل کیا تھا ابوالحسین کمسن تھے اور لوگوں کے ساتھ تھے عقبہ نے انہیں حارث بن عامر کے بدلے میں قتل کیا تھا جو غزوہ بدر کے موقع پر کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا تھا ۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے قتل ہونے کے وقت ان سے کہا تم لوگ مجھے کھول دو تاکہ میں پہلے دو رکعت ادا کر دوں ان لوگوں نے انہیں کھول دیا انہوں نے دو مختصر رکعت ادا کیں اور نماز مکمل کر لی پھر انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ شاید میں موت کے خوف کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں تو میں نے یہ دو رکعت طویل ادا کرنی تھیں لیکن اسی وجہ سے میں نے انہیں مختصر ادا کیا ہے پھر انہوں نے کہا : اے اللہ مجھے اپنے سامنے صرف دشمن نظر آ رہا ہے اے اللہ مجھے ایسا کوئی قاصد نہیں ملتا جو تیرے رسول تک بھیجا جا سکے تو انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور آپ کو اس بارے میں بتایا جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے لکڑی پر بلند کیا ‘ تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ تو ان لوگوں کو گن لے اور انہیں قتل کروا دینا ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑنا راوی کہتے ہیں : حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو ان مشرکین کے بیٹوں نے شہید کیا جو مشرکین غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جب ان لوگوں نے ان کی طرف ہتھیار بڑھائے ‘ اور جب انہیں مصلوب کیا جا چکا تھا تو انہوں نے بلند آواز میں پکار کر ان سے کہا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ حضرت محمد ( ﷺ ) تمہاری جگہ ہوتے تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا : جی نہیں عظیم اللہ کی قسم مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ میری جان کے بدلے میں ان کے پاؤں میں کوئی کانٹا چبھ جائے ‘ تو وہ لوگ ہنسنے لگے جب ان لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لکڑی پر بلند کیا ‘ تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ’’ ( دشمن کے ) گروہ میرے گرد اکٹھے ہو گئے ہیں ‘ انہوں نے اپنے قبائل کو جمع کر لیا ہے ‘ اور ہر قسم کا مجمع اکٹھا کر لیا ہے ‘ انہوں نے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو اکٹھا کر لیا اور مجھے کھجور کی ایک لمبی مضبوط شاخ کے قریب کر دیا ہے ‘ میں اپنی غریب الوطنی اور اپنی پریشانی اور ان لوگوں نے میرے قتل کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے ان سب کے حوالے سے ‘ میں اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں ‘ اے عرش والی ذات ! تو مجھے اس چیز کے حوالے سے صبر عطا فرما ‘ جو یہ لوگ میرے بارے میں ارادہ رکھتے ہیں ‘ کہ یہ میرے گوشت کے ٹکڑے کر دے اور ( بچنے کی ) میری توقع ختم ہو چکی ہے ‘ اور یہ سب کچھ اس معبود کی راہ میں ہو رہا ہے ‘ کہ اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے مردہ ٹکڑوں میں بھی برکت ڈال دے ‘ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ‘ اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں مرتا ہوں تو مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ مجھے کس حال میں موت دیتا ہے ‘‘۔ جہاں تک حضرت زید بن دثنہ کا تعلق ہے ‘ تو صفوان بن امیہ نے انہیں خرید لیا تھا اس نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عوض میں انہیں قتل کیا بنو جمح کے غلام نیطاس نے انہیں قتل کیا تھا ان دونوں حضرات کو تنعیم کے مقام پر قتل کیا گیا تھا عمرو بن امیہ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے : ’’ ارے خبیب نے اپنے عہد کے حوالے سے خیانت نہیں کی ‘ ارے حبیب لوگوں میں عالم تھا ‘ زہیر بن اغر اور جامع نے تمہیں خریدا ہے ‘ اور وہ دونوں پرانے وقتوں سے ہی حرام کاموں کا ارتکاب کرتے چلے آ رہے ہیں ، تم لوگوں نے پہلے پناہ دی اور جب تم نے پناہ دیدی تو تم نے اس کی خلاف ورزی کی ‘ جبکہ تم لوگ رجیع کے کناروں پر چیخیں مارا کرتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10340

Majma al-Zawaid #10340

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الرَّجِيعِ: مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, in naming those killed on the day of al-Raji', said: Marthad ibn Abi Marthad al-Ghanawi.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے یوم رجیع کے دن قتل ہونے والوں کے ناموں میں حضرت مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10341

Majma al-Zawaid #10341

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، حَلِيفَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَى حَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ، فَقُتِلَ فِيهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ».

EnglishUnverified translation

'Urwah said: The Messenger of Allah ﷺ sent Marthad ibn Abi Marthad al-Ghanawi, ally of Hamzah ibn 'Abd al-Muttalib radiya Allahu anhu, to a clan of Hudhayl. Among the Muslims killed there — then of Banu Hashim by alliance — was Marthad ibn Abi Marthad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو ہذیل قبیلے کی ایک شاخ کی طرف بھیجا حضرت مرثد رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے ‘ تو حضرت مرثد رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں سمیت وہاں شہید کر دیا گیا ۔ بنو ہاشم سے ( حلیف کے طور پر ) تعلق رکھنے والے حضرت مرثد بن ابومرثد رضی اللہ عنہ ( کو وہاں شہید کیا گیا ) ۔

10342

Majma al-Zawaid #10342

عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَ مُنَابِذًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا وَلَّوْا غَيْرَ بَعِيدٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، عَلَامَ تَبْعَثُ جَيْشَيْنِ كَيِّسَيْنِ قَدْ كَادَا يَتَفَانَيَانِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَدْرَكَهُمُ الْإِسْلَامُ وَهُمْ عَلَى بَقِيَّةٍ مِنْهَا، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَدِّهِمْ حَتَّى وَقَفُوا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "" يَا مُزَيْنَةُ، حَيِّ جُهَيْنَةَ، يَا جُهَيْنَةُ، حَيِّ مُزَيْنَةَ "". فَعَقَدَ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَلَى الْجَيْشَيْنِ عَلَى جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ، ثُمَّ قَالَ: "" سِيرُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ "". فَسَارُوا إِلَى أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، وَكَثُرَ الْقَتْلُ فِي أَصْحَابِهِ، فَلِذَلِكَ يَقُولُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ: مَنْ عَاذِلِي أَوْ نَاصِرِي ... بِالْمَشْرَفِيَّةِ مِنْ جُهَيْنَةْ أَلْفٌ يَقُودُهُمُ ابْنُ مُرَّةَ ... ذُو الْكَتَائِبِ الْحَيْنَةْ هُمُوا ذَهَبُوا بِالسِّلَا ... حِ وَأَطْمَعُوا فِينَا مُزَيْنَةْ» قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ: يَاسِرُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَسِنَانُ بْنُ يَسَارِ بْنِ سُوَيْدٍ أَخُوهُ، وَمُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ هُوَ ابْنُ يَسَارِ بْنِ سُوَيْدٍ. قُلْتُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ الَّذِي كَتَبْتُهُ مِنْهُ، وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Murrah radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ sent Juhaynah and Muzaynah against Abu Sufyan ibn al-Harith ibn 'Abd al-Muttalib, who was hostile to the Prophet ﷺ. When they had gone only a short distance, Abu Bakr al-Siddiq radiya Allahu anhu said, "O Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, on what basis are you sending two shrewd armies who nearly annihilated one another in Jahiliyyah, whom Islam found with remnants of that still among them?" The Prophet ﷺ ordered them returned until they stood before him. He said: > **"O Muzaynah, greet Juhaynah; O Juhaynah, greet Muzaynah."** He bound the banner of both armies — Juhaynah and Muzaynah — for 'Amr ibn Murrah, then said: > **"March on the blessing of Allah."** They marched to Abu Sufyan ibn al-Harith. Allah routed them, and many of his companions were slain. Hence Abu Sufyan ibn al-Harith says: "Who will reproach me or aid me, with the Mashrafi sword, against Juhaynah? A thousand led by Ibn Murrah, possessor of doomed battalions; they went off with the weapons and stirred Muzaynah against us."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جہینہ اور مزینہ کو ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کی طرف بھیجا وہ نبی اکرم ﷺ سے جدا تھے ‘ ابھی وہ لوگ زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بنیاد پر دو سمجھ دار گروہوں کو بھیج رہے ہیں ‘ جو زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کو فنا کرنے کے درپے تھے اور پھر انہیں اسلام نصیب ہو گیا تو ان کی آپس کی رنجش ابھی باقی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں واپس آنے کا حکم دیا ‘‘ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے مزینہ جو جہینہ قبیلے کی ایک شاخ ہے ‘ اور اے جہینہ جو مزینہ قبیلے کی ایک شاخ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں لشکروں یعنی جہینہ اور مزینہ قبیلے کا امیر عمرو بن مرہ کو مقرر کیا اور پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی برکت کی بنیاد پر روانہ ہو جاؤ تو وہ لوگ ابوسفیان بن حارث کی طرف روانہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا ‘ اور ابوسفیان کے بہت سے ساتھی مارے گئے اس لئے ابوسفیان بن حارث نے یہ شعر کہے ہیں :’’ جہینہ ( قبیلے والوں میں ) کے مقابلے میں ، مشرفیہ ( نامی تلوار کے حوالے ) سے ‘ کون مجھے ملامت کرے گا اور کون میرا مددگار ہو گا ؟ وہ ایک ہزار لوگ ہیں ‘ جن کی قیادت ابن مرہ کر رہا ہے ‘ وہ ہلاکت کا شکار کرنے والے دستے ہیں ‘ انہوں نے قصد کیا ‘ وہ ہتھیار لے گئے ‘ اور وہ ہمارے بارے میں مزینہ ( قبیلے والوں ) سے ( معانی کی ) توقع رکھتے ہیں ‘‘۔ ابو محمد کہتے ہیں عبداللہ بن داؤد یاسر بن سوید اور سنان بن یسار بن سوید جو ان کے بھائی ہیں ‘ اور مسلم بن یسار جو یسار بن سوید کے صاحبزادے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے جس اصل میں سے اس روایت کو نوٹ کیا ہے اس میں یہ اسی طرح تحریر تھا مجھے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟

10343

Majma al-Zawaid #10343

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَالِبَ بْنَ أَبْحَرَ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي الْمُلَوَّحِ بِالْكَدِيدِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ، فَخَرَجَ فَكُنْتُ فِي سَرِيَّتِهِ، فَمَضَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقُدَيْدٍ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَرْصَاءِ اللِّيثِيُّ فَأَخَذْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ لِأُسْلِمَ، فَقَالَ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ لِتُسْلِمَ فَلَنْ يَضُرَّكَ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ اسْتَوْثَقْنَا مِنْكَ. قَالَ: فَأَوْثَقَهُ رِبَاطًا ثُمَّ خَلَّفَ عَلَيْهِ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ مَعَنَا، قَالَ: امْكُثْ مَعَهُ حَتَّى نَمُرَّ عَلَيْكَ، فَإِنْ نَازَعَكَ فَاحْتَزَّ رَأْسَهُ. قَالَ: ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَطْنَ الْكَدِيدِ فَنَزَلْنَاهُ عَشِيَّةً بَعْدَ الْعَصْرِ، فَبَعَثَنِي أَصْحَابِي رَبِيئَةً، فَعَمَدْتُ إِلَى تَلٍّ يُطْلِعُنِي عَلَى الْحَاضِرِ فَانْبَطَحْتُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْمَغْرِبِ، فَخَرَجَ [رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ] فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى التَّلِّ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: وَاللَّهِ لَأَرَى عَلَى هَذَا التَّلِّ سَوَادًا مَا رَأَيْتُهُ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَانْظُرِي لَا تَكُونُ الْكِلَابُ اجْتَرَّتْ بَعْضَ أَوْعِيَتِكِ، قَالَ: فَنَظَرَتْ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ، مَا أَفْقِدُ شَيْئًا. قَالَ: فَنَاوِلِينِي قَوْسًا وَسَهْمَيْنِ مِنْ نَبْلِي، قَالَ: فَنَاوَلَتْهُ فَرَمَانِي بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِي جَنْبِي، قَالَ: فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ، ثُمَّ رَمَانِي بِآخَرَ فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِ مَنْكِبِي فَنَزَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: وَاللَّهِ لَقَدْ خَالَطَهُ سَهْمَايَ، وَلَوْ كَانَ زَائِلَةً لَتَحَرَّكَ، فَإِذَا أَصْبَحْتِ فَابْتَغِي سَهْمَيَّ فَخُذِيهِمَا لَا يَمْضُغُهُمَا عَلَيَّ الْكِلَابُ. قَالَ: وَأَمْهَلْنَاهُمْ حَتَّى رَاحَتْ رَائِحَتُهُمْ حَتَّى إِذَا احْتَلَبُوا وَغَطَّوْا أَوْ سَكَنُوا، وَذَهَبَتْ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ شَنَنَّا عَلَيْهِمُ الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا مِنْهُمْ، وَاسْتَقْنَا النَّعَمَ فَوَجَّهْنَاهَا قَافِلِينَ. وَخَرَجَ صَرِيخُ الْقَوْمِ إِلَى قَوْمِهِمْ مُعَوِّيًا، وَخَرَجْنَا سِرَاعًا حَتَّى نَمُرَّ بِالْحَارِثِ بْنِ الْبَرْصَاءِ وَصَاحِبِهِ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ مَعَنَا، وَأَتَانَا صَرِيخُ النَّاسِ فَجَاءَ بِمَا لَا قِبَلَ لَنَا بِهِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ إِلَّا بَطْنُ الْوَادِي، أَقْبَلَ سَيْلٌ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَعَثَهُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ، مَا رَأَيْنَا قَبْلَ ذَلِكَ مَطَرًا وَلَا حَالًا فَجَاءَ بِمَا لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يُقْدِمَ عَلَيْهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وُقُوفًا يَنْظُرُونَ إِلَيْنَا مَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَقْدَمَ وَنَحْنُ نُجَوِّزُهَا سِرَاعًا حَتَّى أَسْنَدْنَاهَا فِي الْمَشْلَلِ ثُمَّ حَدَرْنَاهَا عَنَّا، فَأَعْجَزْنَا الْقَوْمَ بِمَا فِي أَيْدِينَا». قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ فَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Jundab ibn Makith al-Juhani radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ sent Ghalib ibn Abjar al-Kalbi of Kalb Layth to Banu al-Mulawwah at al-Kadid, ordering him to raid them. He set out, and I was in his detachment. We marched until at Qudayd we met al-Harith ibn Malik, Ibn al-Barsa' al-Laythi, and seized him. He said, "I came only to accept Islam." Ghalib ibn 'Abdillah said, "If you came only to accept Islam, a day and night in bonds will not harm you; if otherwise, we shall secure ourselves against you." He bound him, left a black man of ours with him, and said, "Stay with him until we pass you; if he resists you, sever his head." We went on to Batn al-Kadid and camped there in the evening after 'Asr. My companions sent me as scout. I headed to a hill overlooking the settlement and lay flat upon it, just before Maghrib. A man of theirs came out, saw me lying on the hill, and said to his wife, "By Allah, I see a dark shape on this hill I did not see this morning. Look, lest the dogs dragged off some of your vessels." She looked and said, "No, by Allah, I miss nothing." He said, "Hand me a bow and two arrows." She handed them. He shot an arrow into my side. I pulled it out, set it aside, and did not move. He shot another into the top of my shoulder. I pulled it out and did not move. He said to his wife, "By Allah, both my arrows struck it; were it anything that moves it would have stirred. In the morning seek my arrows and take them, lest the dogs chew them." We waited until their livestock returned at evening, they milked and settled, and part of the night passed. Then we launched the raid, killed whom we killed, and drove the livestock back, departing. Their crier went howling to his people. We hastened until we passed al-Harith ibn al-Barsa' and his guard, took him with us, and the people's rescue party came in numbers we could not face, until only the valley floor lay between us. Then a flood sent by Allah from whence He willed came between us and them — we had seen neither rain nor circumstance before it — so none of them could advance upon it. I saw them standing, looking at us, unable to approach, while we drove the livestock swiftly until we brought them to al-Mashlal, then down past it, escaping the people with what was in our hands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن مکیث جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت غالب بن ابجر کا قلبی رضی اللہ عنہ کو جن کا تعلق کلب لیث سے ہے انہیں بنو ملوح کی طرف بھیجا جو کدید کے مقام پر رہتا تھا آپ نے انہیں یہ حکم دیا کہ ان پر حملہ کریں وہ نکلے میں بھی اس مہم میں شامل تھا ہم چلتے رہے یہاں تک کہ جب ہم کدید کے مقام پر پہنچے تو ہمارا سامنا حارث بن مالک بن برصاء لیثی سے ہوا ہم نے اسے پکڑ لیا تو اس نے کہا : کہ میں اسلام قبول کرنے کے لئے آیا ہوں تو حضرت غالب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تو تم اسلام قبول کرنے کے لئے آئے ہو ‘ تو اگر تمہیں ایک دن اور ایک رات کے لئے باندھ دیا جائے ‘ تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا اور اگر تمہارا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور تھا تو اس کی ہم تحقیق کر لیں گے راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے انہیں باندھ دیا ‘ اور ایک سیاہ فام شخص کو ان کا نگران مقرر کیا جو ہمارے ساتھ تھا ، اور یہ کہا کہ تم اس کے ساتھ رہو ‘ یہاں تک کہ ہم تمہارے پاس سے واپسی پر گزریں گے اگر یہ تمہارے ساتھ جھگڑا کرنے کی کوشش کرے تو اس کا سر اڑا دینا راوی کہتے ہیں : ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم کدید نامی جگہ کے نشیبی حصے میں آئے عصر کے بعد شام ہو جانے کے بعد ہم نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا میرے ساتھیوں نے مجھے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجا میں ایک ٹیلے کی طرف بڑھا تاکہ وہاں سے لوگوں کو دیکھ سکوں میں اس ٹیلے پر چڑھ گیا یہ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے کی بات ہے ان میں سے ایک شخص آبادی سے باہر آیا اس نے دیکھا کہ ٹیلے پر ایک شخص موجود ہے ‘ تو اس نے اپنی بیوی سے کہا اللہ کی قسم مجھے اس ٹیلے پر ایک سیاہ چیز نظر آ رہی ہے ‘ جو میں نے دن کے ابتدائی حصے میں یہاں نہیں دیکھی تھی تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ کہیں کتے تمہارے کسی برتن کو نقصان نہ پہنچا دیں اس عورت نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم مجھے تو کوئی چیز غیر محسوس نہیں ہوئی اس شخص نے کہا : پھر تم مجھے کمان اور دو تیر پکڑاؤ اس عورت نے وہ انہیں پکڑا دیے اس شخص نے مجھے ایک تیر مارا جو میرے پہلو پر آ کر لگا میں نے وہ نکال دیا ‘ اور اسے رکھ دیا لیکن میں نے حرکت نہیں کی پھر اس نے مجھے دوسرا تیر مارا جو میرے کندھے کے سرے پر لگا میں نے وہ بھی نکال دیا ‘ اور حرکت نہیں کی اس نے اپنی بیوی سے کہا اللہ کی قسم اسے میرے دونوں تیر لگے ہیں اگر کوئی ہلنے والی چیز ہوتی تو وہ حرکت کرتی جب صبح ہو گی تو تم میرے دونوں تیر تلاش کرنا اور انہیں لے لینا ایسا نہ ہو کہ کتے انہیں چبا کے خراب کر دیں راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں کو مہلت دی ، یہاں تک کہ جب شام ہو گئی ان لوگوں نے دودھ دوہ لیا اور جانوروں کو بٹھا دیا ‘ اور پرسکون ہو گئے ‘ اور رات کا ایک حصہ گزر گیا تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا ان میں سے کچھ لوگوں کو ہم نے قتل کر دیا ‘ اور ان کے جانوروں کو اپنے ساتھ ہانک لیا ہم نے ان کا رخ جب واپسی کے وقت کیا ‘ تو ان میں سے کوئی شخص لوگوں کو چیخ کر بلانے کے لئے نکلا وہ مدد مانگنا چاہ رہا تھا ہم بھی تیزی سے وہاں سے نکلے ہمارا گزر حارث بن برصاء اور اس کے ساتھی کے پاس سے ہوا تو ہم نے انہیں بھی ساتھ لے لیا پھر چیخنے والا شخص ہمارے پاس آیا اور وہ ایسی چیز لے کے آیا ، جس کا سامنا کرنے کی ہم میں طاقت نہیں تھی ، یہاں تک کہ جب ہمارے اور ان کے درمیان وادی کا نشیبی حصہ رہ گیا تو اسی دوران سیلاب آیا تو ہمارے اور ان کے درمیان رکاوٹ بن گیا اللہ تعالیٰ نے جہاں سے چاہا تھا اس سیلاب کو بھیج دیا تھا حالانکہ ہم نے اس سے پہلے یا اس وقت کوئی بارش نہیں دیکھی تھی تو ایک ایسی چیز آ گئی کہ ان میں سے کوئی بھی یہ قدرت نہیں رکھتا تھا کہ اسے پار کر سکے مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ لوگ ہماری طرف دیکھ رہے تھے ان میں سے کوئی بھی آگے بڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ‘ اور ہم تیزی سے ان سے دور ہوتے چلے جا رہے تھے ‘ یہاں تک کہ ہم مشلل ( نامی ٹیلے ) پر چڑھ گئے پھر ہم اس سے نیچے اتر آئے ‘ تو جو کچھ ہمارے قبضے میں تھا ہم نے اس کے حوالے سے دشمن کو عاجز کر دیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ‘ جو طبرانی کی روایت میں ہے ۔

10344

Majma al-Zawaid #10344

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: «دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ يَجْمَعُ لِيَ النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي فَائْتِهِ فَاقْتُلْهُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ، قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً "". قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا سَيْفِي حَتَّى وَقَعْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ بِعُرَنَةَ مَعَ ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا، وَحِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ ; فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أُومِئُ بِرَأْسِيَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ. فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَكَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: أَجَلْ أَنَا فِي ذَلِكَ. قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلْتُهُ ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآنِي قَالَ: "" أَفْلَحَ الْوَجْهُ "". قَالَ: قُلْتُ: قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" صَدَقْتَ "". قَالَ: ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بِي بَيْتَهُ، فَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ: "" أَمْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ "". قَالَ: فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ، فَقَالُوا: مَا هَذِهِ الْعَصَا؟ قُلْتُ: أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسِكَهَا، قَالُوا: أَوَلَا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا؟ قَالَ: "" آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ "". قَالَ: فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Unays radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ summoned me and said: > **"It has reached me that Khalid ibn Sufyan ibn Nubayh al-Hudhali is gathering men against me to attack me. Go to him and kill him."** I said, "O Messenger of Allah, describe him to me so I may know him." He said: > **"When you see him, you will feel a shudder."** I set out girt with my sword until I found him at 'Uranah with womenfolk, seeking a dwelling for them, at the time of 'Asr. When I saw him I felt what the Messenger of Allah ﷺ had described. I approached, fearing some obstacle between me and him, so I prayed, gesturing with my head for bowing and prostration. When I reached him he said, "Who is the man?" I said, "A man who heard of you and your gathering against this man, and came to you in that regard." He said, "Yes, I am engaged in that." I walked with him a while until opportunity came; I attacked with the sword and killed him, then left, leaving his women bent over him. When I came to the Messenger of Allah ﷺ and he saw me, he said: > **"A prosperous face."** I said, "I killed him, O Messenger of Allah." He said: > **"You spoke the truth."** Then the Messenger of Allah ﷺ rose with me, took me into his house, gave me a staff, and said: > **"Keep this with you, O 'Abdullah ibn Unays."** I went out with it to the people. They said, "What is this staff?" I said, "The Messenger of Allah ﷺ gave it to me and ordered me to keep it." They said, "Why not return to the Messenger of Allah ﷺ and ask him about it?" I returned and said, "O Messenger of Allah, why did you give me this staff?" He said: > **"A sign between me and you on the Day of Resurrection; the fewest people that day are those carrying a staff."** 'Abdullah joined it to his sword. It remained with him until he died, when he ordered it joined with him in his shroud, and they were buried together.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح ہذلی میرے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر رہا ہے ‘ تاکہ میرے ساتھ جنگ کرے تم اس کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں تاکہ میں اسے پہچان لوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جب اسے دیکھو گے ‘ تو اسے دیکھ کر تم پر کپکپی طاری ہو گی راوی کہتے ہیں : میں اپنی تلوار لے کر نکلا اور اس جگہ آ گیا وہ عرنہ کے مقام پر کچھ خواتین کے ساتھ تھا جو اس کے لئے رہائش کی جگہ تیار کر رہی تھیں عصر کا وقت ہو چکا تھا جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ پر اسی طرح کپکپی طاری ہوئی جس طرح نبی اکرم ﷺ نے میرے سامنے بیان کیا تھا میں اس کی طرف آیا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان کوئی اور چیز رکاوٹ نہ بن جائے میں نے نماز ادا کرنا شروع کی میں سر کے اشارے کے زریعے رکوع اور سجدہ کرتا تھا جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے کہا : میں ایک شخص ہوں جس نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تم ان صاحب کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہو ‘ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں اس نے کہا : ٹھیک ہے میں یہ کام کر رہا ہوں راوی کہتے ہیں : میں اس کے ساتھ چلتا رہا ‘ یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا تو میں نے تلوار کے ذریعے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا پھر میں وہاں سے نکلا میں نے اس کی عورتوں کو چھوڑا کہ وہ اس پر جھکی ہوئی تھیں جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فرمایا : یہ کامیاب چہرہ ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے سچ کہا ہے پھر نبی اکرم ﷺ مجھے ساتھ لے کر اٹھے آپ مجھے اپنے گھر لے آئے آپ نے مجھے عصا دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ بن انیس اسے اپنے پاس رکھنا راوی کہتے ہیں : میں اسے لے کر لوگوں کے پاس آیا تو لوگوں نے کہا : یہ عصا کہاں سے آیا ہے میں نے کہا : یہ اللہ کے رسول نے مجھے دیا ہے ‘ اور آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسے اپنے پاس رکھوں لوگوں نے کہا : تم اللہ کے رسول کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کیوں نہیں کرتے ؟ میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ عصا مجھے کیوں دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تاکہ یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان نشانی ہو اس دن تھوڑے لوگ ایسے ہوں گے ‘ جو عصا کے ساتھ ٹیک لگانے والے ہوں گے ۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا لیا تھا ‘ اور وہ مسلسل ان کے ساتھ رہا ‘ یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہونے لگا ‘ تو انہوں نے اس کے بارے میں حکم دیا ‘ تو وہ عصا ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور پھر ان دونوں کو ایک ساتھ دفن کر دیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نماز خوف سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور وہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10345

Majma al-Zawaid #10345

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ لِي مِنْ خَالِدِ بْنِ نُبَيْحٍ؟ "" رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِعُرَنَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْعَتْهُ لِي، قَالَ: "" لَوْ رَأَيْتَهُ هِبْتَهُ "". قُلْتُ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ مَا هِبْتُ شَيْئًا قَطُّ، فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُهُ بِحِيَالِ عُرَنَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَلَقِيتُهُ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَعَرَفْتُ حِينَ رُعِبْتُ مِنْهُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: بَاغٍ حَاجَةً، فَهَلْ مِنْ مَبِيتٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَالْحَقْ بِي، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَصَلَّيْتُ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَرَانِيَ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ غَشِيتُ الْجَبَلَ وَكَمَنْتُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ النَّاسُ خَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ». قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِخْصَرَةً، فَقَالَ: تَخَصَّرْ بِهَذِهِ حَتَّى تَلْقَانِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَقَلُّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْمُتَخَصِّرُونَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ أَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ عَلَى بَطْنِهِ وَكُفِّنَ عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ مَعَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ka'b al-Qurazi said: 'Abdullah ibn Unays said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Who will deal with Khalid ibn Nubayh for me?"** A man of Hudhayl, then at 'Uranah. 'Abdullah said, "I will, O Messenger of Allah. Describe him to me." He said: > **"Were you to see him, you would fear him."** I said, "By Him Who honored you, I have never feared anything." I set out until I met him near 'Uranah before sunset. When I met him I felt awe of him, and knew then what the Messenger of Allah ﷺ had meant. He said, "Who is the man?" I said, "One seeking a need; is there lodging?" He said, "Yes, follow me." I followed. I prayed 'Asr in two light rak'ahs, then went on, fearing he would see me. I caught up with him and struck him with the sword, then took to the mountain and hid until the people left. I came out until I reached the Messenger of Allah ﷺ at Madinah and told him the news. Muhammad ibn Ka'b said: The Prophet ﷺ gave him a short staff and said, "Carry this until you meet me with it on the Day of Resurrection; the fewest people that day are those carrying one." When 'Abdullah ibn Unays died, he ordered it placed upon his belly, shrouded over it, and buried with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کون میری خاطر خالد بن نبیح ( کو قتل کرے گا ؟ ) راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسا شخص تھا جو ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتا تھا ‘ اور عرنہ کے مقام پر موجود تھا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ایسا کروں گا آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اسے دیکھو گے ‘ تو خوف زدہ ہو جاؤ گے میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے میں کبھی کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہوا راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا ‘ یہاں تک کہ عرنہ کے قریب سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے میری اس سے ملاقات ہوئی جب میں اس سے ملا تو میں اس سے مرعوب ہو گیا اور جب میں اس سے مرعوب ہوا تو مجھے نبی اکرم ﷺ کی بات کا مفہوم سمجھ آ گیا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے جواب دیا میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں کیا رات ٹھہرنے کی گنجائش ہے اس نے کہا : جی ہاں تم میرے ساتھ رہو راوی کہتے ہیں : میں اس کے پیچھے چل پڑا میں نے عصر کی دو رکعت مختصر ادا کیں پھر میں نکلا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لے پھر میں اس کے پاس پہنچا اور اسے تلوار ماری پھر میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور چھپ گیا ‘ یہاں تک کہ جب لوگ چلے گئے ‘ تو میں باہر نکلا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہو گیا میں نے آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ۔ راوی محمد بن کعب بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو ایک عصا عطا کیا اور فرمایا : اس کو لے کر چلنا ‘ یہاں تک کہ اس کے ہمراہ قیامت کے دن تم مجھ سے ملنا اور اس دن تھوڑے لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس عصا ہو گا ۔ محمد بن کعب نامی راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اُن کے حکم کے تحت اس عصا کو ان کے پیٹ پر رکھ دیا گیا اور اس پر کفن دیا گیا اور اسے ان کے ہمراہ دفن کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10346

Majma al-Zawaid #10346

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ لِسُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ؟ يَهْجُونِي وَيَشْتُمُنِي، وَيُؤْذِينِي "". فَقُلْتُ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْعَثْنِي لَهُ. فَبَعَثَهُ لَهُ. فَلَمَّا أَتَاهُ لَيْلًا دَخَلَ دَارَهُ، فَقَالَ: أَيْنَ سُفْيَانُ؟ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ مَطْلَعَهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ سُفْيَانَ، فَمُرُوهُ فَلْيَطَّلِعْ عَلَيَّ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ سُفْيَانُ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تَهْبِطَ إِلَيَّ فَإِنَّ عِنْدِي دِرْعًا أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكَهَا قَالَ: فَأَيْنَ هِيَ؟ قَالَ: هَذِهِ، فَاهْبِطْ إِلَيَّ بِقِبَائِكَ، فَاخْرُجْ مَعِي أُرِيكُهَا، فَخَرَجَ مَعَهُ فَسَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ. ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَخْبَرَهُ بِأَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ، وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصًا يَتَخَصَّرُ بِهَا، فَنَاوَلَهُ إِيَّاهَا فَقَالَ: "" تَخَصَّرْ بِهَذِهِ ; فَإِنَّ الْمُتَخَصِّرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَلِيلٌ "". فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى مَاتَ فَدُفِنَتْ مَعَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Unays radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Who will deal with Sufyan al-Hudhali? He lampoons me, reviles me, and harms me."** I said, "I will, O Messenger of Allah. Send me to him." He sent him. He came to him by night, entered his house, and said, "Where is Sufyan?" One of his household looked out and said, "What do you want?" He said, "I want Sufyan; bid him come out to me." Sufyan looked out and said, "What do you want?" He said, "I want you to come down to me, for I have a coat of mail I wish to show you." He said, "Where is it?" He said, "Here; come down to me in your cloak, come out with me and I will show it to you." He came out with him. He drew his sword and struck him until he was cold. Then he came to the Messenger of Allah ﷺ in the mosque and informed him he had killed him. The Prophet ﷺ had a staff he carried; he handed it to him and said: > **"Carry this, for the fewest on the Day of Resurrection are those who carry one."** It remained with him until he died and was buried with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کون سفیان ہذلی کو ( قتل کرے گا ؟ ) وہ میری ہجو کرتا ہے مجھے برا کہتا ہے مجھے اذیت دیتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کا بندوبست کرتا ہوں آپ مجھے اس کی طرف بھیجیں تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان کی طرف بھیج دیا جب وہ رات کے وقت اس کے پاس آئے ‘ اور اس کے گھر میں داخل ہوئے ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : سفیان کہاں ہے ؟ ان کے گھر والوں میں سے کسی نے جھانک کر دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : میں سفیان سے ملنا چاہتا ہوں تم اس سے کہو کہ میرے پاس آئے سفیان نے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولا : تم کیا چاہتے ہو انہوں نے کہا : میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اتر کر میرے پاس آؤ کیونکہ میرے پاس ایک زرہ ہے ‘ جو میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں اس نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ میرے پاس ہے تم اتر کر میرے پاس آؤ اور قبا پہن کے آؤ ‘ تاکہ میں وہ تم کو دکھاؤں ، تو وہ اس کے ساتھ نکلا انہوں نے تلوار لہرا کر اس پر حملہ کیا اور اسے ٹھنڈا کر دیا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ اس وقت مسجد میں موجود تھے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا : انہوں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت عصا تھا جسے آپ لے کر چلتے تھے وہ آپ نے انہیں پکڑایا اور فرمایا : اسے لے کر چلو کیونکہ قیامت کے دن عصا لے کر چلنے والے لوگ کم ہوں گے راوی کہتے ہیں : وہ عصا مسلسل ان کے ساتھ رہا ‘ یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اس عصا کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10347

Majma al-Zawaid #10347

وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا رَجُلٌ يَكْفِينِي سُفْيَانَ الْهُذَلِيَّ؟ فَإِنَّهُ قَدْ هَجَانِي "". فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: "" بِعُرَنَةَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُ لِي، قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَهُ فَرَقْتَ مِنْهُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فَرَقْتُ شَيْئًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَسْعَى عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى قَتَلَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

'Ubadah ibn al-Samit radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O company of Ansar, is there no man to suffice me against Sufyan al-Hudhali, for he has lampooned me?"** 'Abdullah ibn Unays rose and said, "O Messenger of Allah, where is he?" He said: > **"At 'Uranah."** He said, "O Messenger of Allah, describe him to me." He said: > **"When you see him, you will dread him."** He said, "O Messenger of Allah, I have dreaded nothing since I accepted Islam." 'Abdullah ibn Unays went out running on his feet until he killed him, then returned to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اے انصار کے گروہ ! کیا کوئی شخص سفیان ہذلی سے میری طرف سے بدلہ نہیں لے گا ؟ کیونکہ اس نے میری ہجو کی ہے ‘ تو حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کہاں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عرنہ کے مقام پر ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم اسے دیکھو گے ‘ تو اسے دیکھ کر ڈر جاؤ گے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میں بھی کسی چیز سے نہیں ڈرا ہوں پھر حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے نکلے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف واپس آ گئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10348

Majma al-Zawaid #10348

عَنِ الشَّعْبِيِّ «عَنْ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَدِيمٍ أَحْمَرَ، فَأَخَذَ كِتَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَلَمْ يَدَعُوا لَهُ سَارِحَةً وَلَا رَائِحَةً، وَلَا أَهْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوهُ. وَانْفَلَتَ عُرْيَانًا عَلَى فَرَسٍ لَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ سُتْرَةٌ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى ابْنَتِهِ وَهِيَ مُتَزَوِّجَةٌ فِي بَنِي هِلَالٍ، وَقَدْ أَسْلَمَتْ، وَأَسْلَمَ أَهْلُهَا، وَكَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَاءِ بَيْتِهَا فَدَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْبَيْتِ. فَلَمَّا رَأَتْهُ أَلْقَتْ عَلَيْهِ [ثَوْبًا]، قَالَتْ: مَا لَكَ؟ قَالَ: كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِأَبِيكِ، مَا تُرِكَ لَهُ سَارِحَةٌ وَلَا رَائِحَةٌ، وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ [إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ]، قَالَتْ: دُعِيتَ إِلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ: أَيْنَ بَعْلُكِ؟ قَالَتْ: فِي الْإِبِلِ، قَالَ: فَأَتَاهُ، قَالَ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِهِ، مَا تُرِكَ لَهُ رَائِحَةٌ وَلَا سَارِحَةٌ، وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا أُخِذَ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا أُبَادِرُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ مَالِي وَأَهْلِي، قَالَ: خُذْ رَاحِلَتِي بِرَحْلِهَا، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا. قَالَ: فَأَخَذَ قَعُودَ الرَّاعِي، وَزَوَّدَهُ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّى وَجْهَهُ خَرَجَتِ اسْتُهُ، وَإِذَا غَطَّى اسْتَهُ خَرَجَ وَجْهُهُ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يُعْرَفَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَدِينَةِ فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ بِحِذَائِهِ حَيْثُ يُقِيلُ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ، قَالَ: فَبَسَطَهَا، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ عَلَيْهَا قَبَضَهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا وَيَفْعَلُهُ. فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ، قَالَ: "" مَنْ أَنْتَ؟ "". قَالَ: أَنَا رِعَيْةُ السُّحَيْمِيُّ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَضُدَهُ ثُمَّ رَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ الَّذِي كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ كِتَابِي فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ "" فَأَخَذَ يَتَضَرَّعُ إِلَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ: "" أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِمَ، وَأَمَّا أَهْلُكَ فَمَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ "". فَإِذَا ابْنُهُ قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَةَ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَهَا فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا ابْنِي، فَقَالَ: "" يَا بِلَالُ، اخْرُجْ مَعَهُ فَسَلْهُ: أَبُوكَ هَذَا؟ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ، فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ "". فَخَرَجَ إِلَيْهِ، قَالَ: أَبُوكَ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا اسْتَعْبَرَ لِصَاحِبِهِ، قَالَ: "" ذَاكَ جَفَاءُ الْأَعْرَابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ هَذَا، وَالْآخَرُ مُرْسَلٌ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ رِعْيَةَ، وَالطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Sha'bi, from Ri'yah al-Suhaymi, said: The Messenger of Allah ﷺ wrote to him on red leather. He took the letter of the Prophet ﷺ and patched his bucket with it. The Messenger of Allah ﷺ sent a detachment that left him neither grazing nor returning livestock, neither family nor wealth, but took all. He escaped naked upon his horse with no covering until he reached his daughter, married among Banu Hilal — she had accepted Islam, and her household had accepted Islam. The men's sitting place was in her courtyard, so he circled until he entered to her from behind the house. When she saw him she cast a garment over him. She said, "What is with you?" He said, "Every evil has befallen your father; left to him neither grazing nor returning beast, neither family nor wealth, but all taken." She said, "You were invited to Islam." He said, "Where is your husband?" She said, "Among the camels." He went to him. He said, "What is with you?" He said, "Every evil has befallen him; left him neither beast nor family nor wealth but taken, and I wish to go to Muhammad to outrun him before he divides my wealth and family." He said, "Take my mount with its saddle." He said, "I have no need of it." He took the shepherd's young camel and a waterskin of water, and set out wearing a garment that, when he covered his face, his nakedness showed, and when he covered his nakedness, his face showed, hating to be recognized, until he reached Madinah. He tied his mount, came to the Messenger of Allah ﷺ, and was beside him where he took his midday rest. When the Messenger of Allah ﷺ prayed Fajr, he said, "O Messenger of Allah, extend your hand that I may pledge to you." He extended it; when he went to strike upon it, the Messenger of Allah ﷺ withdrew it. The Messenger of Allah ﷺ did that three times. On the third he said: > **"Who are you?"** He said, "I am Ri'yah al-Suhaymi." The Prophet ﷺ took his upper arm, raised him, and said: > **"O company of Muslims, this is Ri'yah al-Suhaymi, to whom I wrote and who took my letter and patched his bucket with it."** He began to plead with him. I said, "O Messenger of Allah, my family and wealth." He said: > **"As for your wealth, it has been divided; as for your family, whomever of them you find."** His son recognized the mount, standing beside it. He returned to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, this is my son." He said: > **"O Bilal, go out with him and ask him: is this your father? If he says yes, hand him to him."** He went out to him and said, "Is this your father?" He said, "Yes." He returned to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, I never saw anyone weep for his companion so." He said: > **"That is the harshness of the Bedouins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی نے حضرت رعیہ سحیمی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ’’ نبی اکرم ﷺ نے سرخ چمڑے میں ان کی طرف مکتوب لکھا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا مکتوب لیا اور اس کے ذریعے اپنے ڈول میں پیوند لگا دیا نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی اس مہم ( کے افراد ) نے ان صاحب کے کسی بھی جانور یا اہل خانہ یا مال کو نہیں چھوڑا سب کچھ حاصل کر لیا وہ صاحب اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر برہنہ حالت میں وہاں سے نکل کھڑے ہوئے ان کے جسم پر ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی ، یہاں تک کہ وہ اپنی بیٹی کے علاقے میں پہنچ گئے جس کی شادی بنو ہلال میں ہوئی تھی وہ خاتون اور اس کے اہل خانہ مسلمان ہو چکے تھے ان کے گھر میں لوگ گھر کے صحن میں بیٹھا کرتے تھے وہ شخص گھوم کر گھر کے پیچھے والے حصے سے گھر میں داخل ہوئے جب ان کی صاحبزادی نے ان کی یہ حالت دیکھی تو انہیں ایک کپڑا دیا ‘ اور دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہر قسم کی خرابی تمہارے باپ پر نازل ہو گئی ہے ان لوگوں نے کوئی جانور اہل خانہ میں سے کوئی فرد اور مال نہیں چھوڑا سب کچھ لے لیا ہے اس خاتون نے کہا : آپ کو اسلام کی طرف دعوت دی گئی تھی ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا شوہر کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : اونٹوں میں ہے وہ صاحب ان صاحب کے پاس گئے ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہر قسم کی خرابی انہیں لاحق ہوئی ہے ان کا کوئی جانور مال مویشی اہل خانہ میں سے کوئی فرد مال میں سے کچھ بھی نہیں بچا سب کچھ لے لیا گیا ہے اب میں یہ چاہتا ہوں کہ حضرت محمد ( ﷺ ) کے پاس جاؤں اور اس سے پہلے ان تک پہنچ جاؤں کہ وہ میرے مال اور اہل خانہ کو تقسیم کر چکے ہوں تو ان کے داماد نے کہا : آپ میری سواری اس کے پالان سمیت لے لیں انہوں نے کہا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے ایک چرواہے کا سامان لیا اور پانی کا مشکیزہ لیا وہ وہاں سے نکلے ان کے جسم پر ایسا کپڑا تھا کہ جب اس کے ذریعے چہرے کو ڈھانپتے تھے ‘ تو شرمگاہ بے پردہ ہو جاتی تھی اور جب شرمگاہ کو ڈھانپتے تھے ‘ تو چہرہ نکل آتا تھا وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ان کی شناخت ہو انہوں نے اپنی سواری کو باندھا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ اس وقت نماز ادا کر چکے تھے جب نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز ادا کر لی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا جب ان صاحب نے اس پر ہاتھ مارنے کا ارادہ کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ہاتھ پیچھے کر لیا نبی اکرم ﷺ نے ایسا تین مرتبہ کیا وہ صاحب ایسا ہی کرتے رہے جب تیسری مرتبہ ہوئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں رعیہ سحیمی ہوں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ان کا بازو پکڑا اور پھر اسے بلند کیا اور پھر کہا : اے مسلمانوں کے گروہ یہ رعیہ سحیمی ہے ۔ جسے میں نے خط لکھا تھا ‘ اور اس نے میرے مکتوب کے ذریعے اپنے ڈول کو پیوند لگا دیا تھا پھر وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کے سامنے گریہ وزاری کرنے لگے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اہل خانہ اور میرا مال ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے ‘ تو وہ تقسیم ہو چکا ہے جہاں تک تمہارے اہلخانہ کا تعلق ہے ‘ تو ان میں سے جو تمہیں ملتا ہے وہ تم لے لو اس دوران اُن کا بیٹا سواری کو پہچان چکا تھا ‘ اور اس سواری کے پاس کھڑا ہوا تھا وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور بولے یا رسول اللہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال تم اس کے ساتھ نکل کر جاؤ اور اس بچے سے پوچھو کہ یہ تمہارا باپ ہے اگر وہ جواب دے جی ہاں تو اس بچے کو اس کے حوالے کر دینا حضرت بلال رضی اللہ عنہ نکل کر اس کی طرف گئے ‘ اور دریافت کیا : کیا یہ تمہارا باپ ہے اس بچے نے جواب دیا جی ہاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور بولے یا رسول اللہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو اپنے متعلقہ فرد کے لئے اتنا غمگین ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دیہاتیوں کی مخصوص سختی ہے ۔ یہ روایت امام احد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور وہ یہ روایت ہے جبکہ دوسری روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ، جو ابوعمرو شیبانی کے حوالے سے منقول ہے اس میں انہوں نے یہ بات بیان نہیں کی کہ یہ حضرت رعیہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

10349

Majma al-Zawaid #10349

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ رِعْيَةَ الْجُهَنِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ لَهُ كِتَابًا فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ، فَمَرَّتْ بِهِ سَرِيَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَاقُوا إِبِلًا لَهُ، فَأَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا مَا أَدْرَكْتَ مِنْ مَالِكَ بِعَيْنِهِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ رِعْيَةَ، وَقَدْ رَوَاهُ قَبْلَ هَذَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq, from Ri'yah al-Juhani: the Messenger of Allah ﷺ wrote him a letter and he patched his bucket with it. A detachment of the Messenger of Allah ﷺ passed by him and drove off his camels. He accepted Islam, and the Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Whatever of your property you find intact before it is divided, you have the most right to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق نے حضرت رعیہ جہنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک مکتوب بھیجا انہوں نے اس کے ذریعے اپنے ڈول کو پیوند لگا دیا نبی اکرم ﷺ کی جنگی مہم ان کے پاس سے گزری انہوں نے ان صاحب کے اونٹ ہانک لئے بعد میں یہ صاحب مسلمان ہو گئے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تمہیں اپنا جو مال تقسیم ہونے سے پہلے بعینہ ملتا ہے ‘ تو تم اس کے زیادہ حق دار ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ وہ روایت مختلف ہے ‘ جو ابن اسحاق نے حضرت رعیہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ اس سے پہلے ابواسحاق کے حوالے سے امام شعبی سے نقل ہو چکی ہے ‘ اور ابواسحاق کے حوالے سے ابوعمرو شیبانی کے حوالے سے نقل ہو چکی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

10350

Majma al-Zawaid #10350

عَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى الْأَعْرَابِ فَقَالَ لَهُمَا: "" تَطَاوَعَا "". قَالَ: وَكَانُوا يُؤْمَرُونَ أَنْ يُغِيرُوا عَلَى بَكْرٍ، فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلَى قُضَاعَةَ ; لِأَنَّ بَكْرًا أَخْوَالُهُ، فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَكَ عَلَيْنَا، وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدِ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَيْسَ لَكَ مَعَهُ أَمْرٌ. فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ، فَأَنَا أُطِيعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْ عَصَاهُ عَمْرٌو». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Amir — that is al-Sha'bi — said: The Messenger of Allah ﷺ sent the army of Dhat al-Salasil, placing Abu 'Ubaydah over the Muhajirun and 'Amr ibn al-'As over the Bedouins, and said to them both: > **"Cooperate."** They were ordered to raid Bakr. 'Amr set out and raided Quda'ah, because Bakr were his maternal uncles. Al-Mughirah ibn Shu'bah went to Abu 'Ubaydah and said, "The Messenger of Allah ﷺ placed you over us, yet the son of so-and-so has taken charge of the people's affair, and you have no authority with him." Abu 'Ubaydah said, "The Messenger of Allah ﷺ ordered us to cooperate; I shall obey the Messenger of Allah ﷺ even if 'Amr disobeys him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ذات سلاسل کے لئے لشکر کو بھیجا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مہاجرین کا امیر مقرر کیا اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دیہاتیوں کا امیر مقرر کیا آپ نے ان دونوں سے فرمایا تم دونوں ایک دوسرے کی اطاعت کرنا راوی کہتے ہیں : ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ انہوں نے بکر قبیلے پر حملہ کرنا ہے ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے ‘ اور انہوں نے قضاعہ قبیلے پر حملہ کر دیا کیونکہ بکر قبیلے کے لوگ ان کے ننھیالی عزیز بنتے تھے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ چل کر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ اور بولے کہ اللہ کے رسول نے آپ کو ہمارا امیر مقرر کیا ہے ‘ اور فلاں کے صاحبزادے نے صورت حال کو بگاڑ دیا ہے حالانکہ آپ کی موجودگی میں اس کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے ۔ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کی فرمانبرداری کریں تو میں اللہ کے رسول کی اطاعت کروں گا ‘ اگرچہ عمرو نے اس کی خلاف ورزی کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ‘ اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10351

Majma al-Zawaid #10351

«عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعِينُهُ فِي صَدَاقِهَا، فَقَالَ: "" كَمْ أَصْدَقْتَ؟ "" قَالَ: قُلْتُ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: "" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ الدَّرَاهِمَ مِنْ وَادِيكُمْ هَذَا مَا زِدْتُمْ، مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ "". فَمَكَثْتُ ثُمَّ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ، فَبَعَثَنَا نَحْوَ نَجْدٍ، فَقَالَ: "" اخْرُجْ فِي هَذِهِ السَّرِيَّةِ لَعَلَّكَ أَنْ تُصِيبَ شَيْئًا فَأُنْفِلَكَهُ "". قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا الْحَاضِرَ مُمْسِينَ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ بَعَثَنَا أَمِيرُنَا رَجُلَيْنِ رَجُلَيْنِ، قَالَ: فَأَحَطْنَا بِالْعَسْكَرِ، وَقَالَ: إِذَا كَبَّرْتُ وَحَمَلْتُ فَكَبِّرُوا وَاحْمِلُوا، وَقَالَ حِينَ بَعَثَنَا رَجُلَيْنِ رَجُلَيْنِ: لَا تَفْتَرِقَا، وَلَا أَسْأَلَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمَا عَنْ خَبَرِ صَاحِبِهِ فَلَا أَجِدُ عِنْدَهُ، وَلَا تُمْعِنُوا فِي الطَّلَبِ. قَالَ: فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَحْمِلَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْحَاضِرِ صَرَخَ يَا خَضْرَةُ، قَالَ: فَتَفَاءَلْتُ بِأَنَّا سَنُصِيبُ مِنْهُمْ خُضْرَةً، قَالَ: فَلَمَّا أَعْتَمْنَا كَبَّرَ أَمِيرُنَا وَكَبَّرْنَا وَحَمَلْنَا، قَالَ: فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فِي يَدِهِ السَّيْفُ وَاتَّبَعْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ لِي صَاحِبِي: إِنَّ أَمِيرَنَا قَدْ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا تُمْعِنُوا فِي الطَّلَبِ فَارْجِعْ، فَلَمَّا أَبَيْتُ إِلَّا أَتْبَعُهُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَيْهِ وَلَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّكَ أَبَيْتَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُ رَمَيْتُهُ بِسَهْمٍ عَلَى جُرَيْدَاءِ مَتْنِهِ فَوَقَعَ، فَقَالَ: ادْنُ يَا مُسْلِمُ إِلَى الْجَنَّةِ، فَلَمَّا رَآنِي لَا أَدْنُو إِلَيْهِ، وَضَرَبْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَأَثْخَنْتُهُ، رَمَانِي بِالسَّيْفِ فَأَخْطَأَنِي، فَأَخَذْتُ السَّيْفَ فَقَتَلْتُهُ بِهِ، وَاحْتَزَزْتُ بِهِ رَأْسَهُ، وَشَدَدْنَا فَأَخَذْنَا نَعَمًا كَثِيرَةً وَغَنَمًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا. قَالَ: فَأَصْبَحْتُ فَإِذَا بَعِيرِي مَقْطُورٌ عَلَيْهِ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ شَابَّةٌ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَلْتَفِتُ خَلْفَهَا فَتُكْثِرُ، فَقُلْتُ لَهَا: إِلَى أَيْنَ تَلْتَفِتِينَ؟ قَالَتْ: إِلَى رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنْ كَانَ حَيًّا خَالَطَكُمْ، قَالَ: قُلْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ صَاحِبِيَ الَّذِي قَتَلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُهُ وَهَذَا سَيْفُهُ وَهُوَ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ الْبَعِيرِ الَّذِي أَنَا عَلَيْهِ، قَالَ: وَغِمْدُ السَّيْفِ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ بَعِيرِهَا فَلَمَّا قُلْتُ لَهَا ذَلِكَ قَالَتْ: فَدُونَكَ هَذَا الْغِمْدُ فَشِمْهُ فِيهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، قَالَ: فَأَخَذْتُهُ فَشِمْتُهُ فِيهِ قَطِيفَةً فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ بَكَتْ. قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي مِنْ تِلْكَ النَّعَمِ الَّتِي قَدِمْنَا بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hadrad al-Aslami said he married a woman, then came to the Prophet ﷺ seeking help with her dowry. He said: > **"How much did you fix as dowry?"** He said, "I said: two hundred dirhams." He said: > **"Had you scooped dirhams from this valley of yours, it would be no more. I have nothing to give you."** I remained, then the Messenger of Allah ﷺ summoned me and sent me in a detachment toward Najd. He said: > **"Go out in this detachment; perhaps you will gain something and I shall grant it to you."** We set out until we reached the settlement at evening. When the early part of 'Isha' had passed, our commander sent us two by two. We surrounded the camp. He said, "When I say takbir and charge, say takbir and charge." When he sent us two by two he said, "Do not separate, let me not ask either of you about his companion's news and find he has none, and do not go deep in pursuit." When we were about to charge, I heard a man of the settlement cry, "O Khadrah!" I took it as an omen that we would gain verdure from them. When night deepened, our commander said takbir, we said takbir and charged. A man with a sword in his hand passed by me and I followed him. My companion said to me, "Our commander bound us not to go deep in pursuit, so return." I refused but to follow him. He said, "By Allah, I shall return to him and inform him you refused." I said, "By Allah, I shall follow him." I followed until I drew near and shot him with an arrow in the middle of his back; he fell. He said, "Come, O Muslim, to Paradise." When he saw I would not draw near, and I struck him with another arrow and wounded him deeply, he threw his sword at me and missed. I took the sword, killed him with it, severed his head, and we pressed on, taking many camels and sheep. Then we departed. In the morning my camel was haltered with a beautiful young woman upon it. She kept looking behind her. I said to her, "Where are you looking?" She said, "At a man — by Allah, if he is alive he has mingled with you." I said, thinking he was my comrade whom I killed, "By Allah, I killed him; this is his sword hung on the saddle of the camel I ride." The sword's scabbard, empty, hung on her camel's saddle. When I said that she said, "Then take this scabbard and sheathe it in it, if you are truthful." I took it and sheathed it like a cloth. When she saw that, she wept. We came to the Messenger of Allah ﷺ, and he gave me from those camels we brought.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی وہ اس خاتون کے مہر کے سلسلے میں مدد لینے کے لئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کتنا مہر طے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : دو سو درہم نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اپنی اس وادی میں موجود تمام درہم بھی ان عورتوں کو دے دو تو یہ زیادہ ادائیگی نہیں ہو گی لیکن ابھی میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اور ایک جنگی مہم میں بھجوایا آپ نے ہمیں نجد کی سمت بھجوایا آپ نے فرمایا : تم اس مہم میں جاؤ ہو سکتا ہے تمہیں کوئی ایسی چیز مل جائے جو میں تمہیں انعام کے طور پر دیدوں ‘ راوی کہتے ہیں : ہم لوگ نکلے ‘ یہاں تک کہ شام ہو گئی جب رات کا ابتدائی حصہ رخصت ہو گیا تو ہمارے امیر نے ہمیں دو دو کر کے بھیجنا شروع کیا ہم نے لشکر کو گھیر لیا امیر نے کہا : جب میں تکبیر کہوں ‘ اور حملہ کروں تو تم بھی تکبیر کہہ کر حملہ کر دینا ۔ راوی کہتے ہیں : جب انہوں نے ہمیں دو دو کر کے بھیجا تو انہوں نے کہا : تم ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا اور تم دونوں میں سے کوئی چیز پانے والے شخص سے میں ہرگز اس کے ساتھی کے بارے میں کوئی دریافت نہ کروں اور پھر یہ نہ ہو کہ اس کے پاس کوئی اطلاع ہی نہ ملے اور تم ( دشمن یا مال غنیمت ) کی طلب میں کھو نہ جانا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو میں نے وہاں موجود ایک شخص کو سنا ‘ جو کہہ رہا تھا اے سبزہ راوی کہتے ہیں : تو ہمیں اندازہ ہوا کہ وہاں سے سبزہ ملے گا جب رات ہو گئی ‘ تو ہمارے امیر نے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی اور حملہ کر دیا پھر میرے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے ہاتھ میں تلوار موجود تھی میں نے اس کا پیچھا کیا میرے ساتھی نے مجھ سے کہا ہمارے امیر نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم لوگوں نے دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے زیادہ آگے نہیں جانا تو تم واپس آ جاؤ لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی اور دشمن کے پیچھے چلا گیا تو میرے ساتھی نے کہا : اللہ کی قسم میں امیر کے پاس ضرورت واپس جا کر اسے یہ بات بتاؤں گا کہ تم نے یہ بات نہیں مانی راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم میں ضرور اس کا پیچھا کروں گا میں نے اس کا پیچھا کیا ‘ یہاں تک کہ جب میں اس کے قریب ہوا تو میں نے اسے تیر مارا جو اس کے جسم پر لگا ‘ تو وہ گر گیا اس نے کہا : اے مسلمان جنت کے قریب ہو جاؤ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اس کے قریب نہیں ہو رہا تو میں نے اسے ایک اور تیر مارا اور اسے زخمی کر دیا ‘ اس نے مجھے تلوار ماری وہ مجھے نہیں لگی میں نے تلوار پکڑی اور اس کے ذریعے اسے قتل کر دیا ‘ اور اس کے ذریعے اس کا سر اتار دیا ‘ اور اسے باندھ دیا وہاں ہمیں مال غنیمت میں بہت سے جانور اور بہت سی بکریاں ملیں پھر ہم واپس آ گئے جب صبح ہوئی ‘ تو میرے اونٹ کے پاس ایک خوبصورت نوجوان عورت موجود تھی وہ عورت اپنے پیچھے دیکھتی تھی اور بکثرت پیچھے دیکھ رہی تھی میں نے اس سے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہی ہو ؟ اس نے کہا : میں ایک شخص کو دیکھ رہی ہوں اللہ کی قسم اگر وہ زندہ ہوتا تو تم سے مل جاتا راوی کہتے ہیں : مجھے یہ اندازہ ہوا کہ یہ وہی شخص ہو گا جسے میں نے قتل کیا تھا تو میں نے کہا : اللہ کی قسم میں تو اسے قتل کر چکا ہوں ‘ اور یہ اس کی تلوار ہے اس کی تلوار اونٹ کے پالان کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جس اونٹ پر میں موجود تھا راوی کہتے ہیں : لیکن پھر اونٹ کے پالان کے ساتھ جو میان لٹکی ہوئی تھی اس میں تلوار موجود نہیں تھی جب میں نے اس عورت سے یہ بات کہی تو اس نے کہا : تم اس میان کو سونگھ لینے دو ‘ اگر تم سچے ہو راوی کہتے ہیں : اس عورت نے اس کو پکڑا اور اسے سونگھا تو اسے اندازہ ہو گیا جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ رونے لگی راوی کہتے ہیں : جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان اونٹوں میں سے مجھے بھی عطا کیا جو ہم لے کے آپ کے پاس آئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10352

Majma al-Zawaid #10352

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: «جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَوْ قَالَ: رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِعَقْرَبٍ، فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا. قَالَ: فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: فَصَفُّوا لَهُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأَى الْوَافِدُ، وَانْقَطَعَ الْوَالِدُ، وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي خِدْمَةٌ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ. قَالَ: "" وَمَنْ وَافِدُكِ؟ "". قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: "" الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ رَسُولِهِ "". قَالَتْ: فَمَنَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ - تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ - قَالَ: سَلِيهِ حِمْلَانًا، فَسَأَلَتْهُ، فَأَمَرَ لَهَا. [فَقَالَتْ: فَأَتَتْنِي] فَقَالَتْ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، قَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ - أَوْ صَبِيٌّ - فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مَلِكَ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ. فَقَالَ لَهُ: "" يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، مَا أَفَرَّكَ؟ أَنْ تَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ؟ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ "". فَأَسْلَمْتُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ. وَقَالَ: "" إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ، وَإِنَّ الضَّالِّينَ النَّصَارَى "". ثُمَّ سَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ فَلَكُمْ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ، أَرْضَخَ امْرِؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ، بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ "". قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: "" بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ. وَأَنَّ أَحَدَكُمْ لَاقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ: [أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيًرا]؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا [فَمَا] يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ; فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللَّهُ، أَوْ لَيُعْطِيَنَّكُمُ اللَّهُ، أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ وَيَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَ عَلَى ظَعِينِهَا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمَادِ بْنِ حُبَيْشٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ لِعَدِيٍّ حَدِيثٌ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا فِي الْمَنِّ عَلَى الْأَسِيرِ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ.

EnglishUnverified translation

'Adi ibn Hatim radiya Allahu anhu said: The cavalry — or he said, the messengers — of the Messenger of Allah ﷺ came while I was at 'Aqrab. They took my aunt and others. When they brought them to the Messenger of Allah ﷺ, they lined up for him. She said, "O Messenger of Allah, the delegate is distant, the father is cut off, and I am an old woman with no servant. Bestow favor upon me, may Allah bestow upon you." He said: > **"And who is your delegate?"** She said, "Adi ibn Hatim." He said: > **"The one who fled from Allah and His Messenger?"** She said, "So bestow upon me." He bestowed upon her. When he turned away, with a man beside him — she thought it was 'Ali — he said, "Ask him for a mount." She asked, and he ordered one for her. She came to me and said, "You did a deed your father would never do. Go to him, willing or reluctant, for so-and-so came to him and obtained from him, and so-and-so came to him and obtained from him." I came to him to find a woman and children — or a child — with him. He mentioned their closeness to the Prophet ﷺ, and I knew he was not a king like Kisra or Caesar. He said to him: > **"O 'Adi ibn Hatim, what makes you flee? That you say: there is no deity worthy of worship except Allah? Is there any deity but Allah? What makes you flee from saying: Allah is Greatest? Is anything greater than Allah?"** I accepted Islam, and I saw his face brighten. He said: > **"Indeed those who earned anger are the Jews, and the astray are the Christians."** Then they asked him. He praised Allah and extolled Him, then said: > **"To proceed, O people: you may give from surplus — a man gives a sa', part of a sa', a handful, part of a handful."** Shu'bah said, to the best of my knowledge he said: > **"A date, half a date. Each of you shall meet Allah and He will say what I say: Did I not make you hearing, seeing? Did I not give you wealth and children? What did you send forth? He will look before him, behind him, to his right and left, and find nothing shielding his face from the Fire. So shield yourselves from the Fire even with half a date; if you find none, with a gentle word. I do not fear poverty for you; Allah will aid you, or Allah will grant you, or Allah will open for you, until the woman-traveler journeys between al-Hirah and Yathrib fearing nothing but theft for her litter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے شہسوار ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) نبی اکرم ﷺ کے فرستادہ لوگ آئے میں اس وقت عقرب میں موجود تھا ان لوگوں نے میری پھوپھی اور کچھ دوسرے لوگوں کو پکڑ لیا جب وہ لوگ انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے صورت حال بیان کی تو میری پھوپھی نے کہا : یا رسول اللہ ! وافد دور ہو گیا ہے ‘ اور والد لاتعلق ہو چکا ہے ‘ اور میں بوڑھی عورت ہوں میرا خدمت گار کوئی نہیں ہے آپ مجھ پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا وافد کون ہے اس نے جواب دیا عدی بن حاتم نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگا ہوا ہے ؟ اس خاتون نے کہا : آپ مجھ پر احسان کیجئے راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ واپس مڑے تو ایک صاحب آپ کے پہلو میں موجود تھے جن کے بارے میں اس خاتون کا خیال ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو یہ مشورہ دیا کہ تم نبی اکرم ﷺ سے سواری کے لئے بھی کچھ مانگ لو اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ سے مانگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے سواری کے لئے دینے کی ہدایت کی ۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر وہ خاتون میرے پاس آئی ‘ تو اس نے کہا : میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جو تمہارے باپ نے بھی نہیں کرنا تھا پھر اس خاتون نے کہا : تم رغبت رکھتے ہوئے یا زبردستی ان کے پاس چلے جاؤ کیونکہ فلاں صاحب ان کے پاس آئے تھے ‘ تو انہیں ان سے یہ یہ کچھ ملافلاں صاحب ان کے پاس آئے ‘ تو انہیں یہ یہ کچھ ملا راوی کہتے ہیں : تو میں بھی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خاتون اور دو بچے یا شاید ایک بچہ موجود تھا پھر راوی نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ان کے قرب کا ذکر کیا راوی کہتے ہیں : تو مجھے یہ انداز ہو گیا کہ یہ کسری یا قیصر کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہیں نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! تم اس بات سے کیوں بھاگ رہے ہو کہ تم یہ پڑھ لو «لا الہ الا اللہ» کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود بھی ہے تم یہ کہنے سے کیوں بھاگ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے کیا اللہ تعالیٰ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں نے اسلام قبول کر لیا میں نے آپ کے چہرے کو دیکھا کہ وہ اس وجہ سے خوش ہو گیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : جن لوگوں پر غضب کیا گیا ہے وہ یہودی ہیں جو لوگ گمراہ ہوئے ہیں وہ عیسائی ہیں پھر لوگوں نے آپ سے کچھ مانگا ‘ تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : اما بعد ! اے لوگو ! تمہارے لئے مناسب یہ ہے کہ تم اضافی چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ دے دو کوئی شخص ایک صاع دیدے کوئی شخص صاع کا کچھ حصہ دیدے کوئی مٹھی دیدے کوئی مٹھی بھر کا کچھ حصہ دیدے شعبہ کہتے ہیں میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کوئی شخص ایک کھجور دیدے یا نصف کھجور دیدے تم میں ہر ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ‘ اور پھر وہ یہ فرمائے گا ‘ جو میں بیان کر رہا ہوں : کیا میں نے تمہیں سننے والا اور دیکھنے ولا نہیں بنایا تھا کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہیں دیے تھے ‘ تو تم نے کیا آگے بھیجا ہے ‘ تو وہ شخص اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف کا جائزہ لے گا اسے کوئی چیز ایسی نہیں ملے گی جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو جہنم سے بچا سکے تو تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو ‘ اور اگر یہ بھی نہیں ملتی تو نرم بات کے ذریعے ایسا کرو کیونکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں فاقہ کا شکار ہونے کا اندیشہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری ضرور مدد کرے گا ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں عطا کرے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ایسی فتح نصیب کرے گا کہ ایک عورت حیرہ سے لے کر یثرب کے درمیان سفر کرے گی یا اس سے زیادہ کا سفر کرے گی اور اسے چوری کا اندیشہ نہیں ہو گا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح اور دیگر کتابوں میں اس راویت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عباد بن حبیش کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔ اس سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث گزر چکی ہے ‘ جو اس روایت سے زیادہ واضح ہے ‘ جو قیدی پر احسان کرنے کے بارے میں ہے ‘ اور کتاب الجہاد میں گزری ہے ۔

10353

Majma al-Zawaid #10353

عَنْ جُفَيْنَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ لَهُ كِتَابًا فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ، فَقَالَتْ لَهُ ابْنَتُهُ: عَمَدْتَ إِلَى كِتَابِ سَيِّدِ الْعَرَبِ فَرَقَعْتَ بِهِ دَلْوَكَ، فَهَرَبَ وَأُخِذَ كُلُّ قَلِيلٍ مَعَهُ وَكَثِيرٍ هُوَ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدُ مُسْلِمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْظُرْ مَا وَجَدْتَ مِنْ مَتَاعِكَ قَبْلَ قِسْمَةِ السِّهَامِ فَخُذْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jufaynah said: the Prophet ﷺ wrote him a letter and he patched his bucket with it. His daughter said to him, "You took the letter of the chief of the Arabs and patched your bucket with it!" He fled, taking whatever little and much was with him. Then he came afterward as a Muslim, and the Prophet ﷺ said: > **"See what you find of your goods before the division of shares, and take it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک مکتوب لکھا انہوں نے اس کے ذریعے اپنے ڈول کو پیوند لگا لیا ان کی صاحبزادی نے ان سے کہا آپ نے عربوں کے سردار کے مکتوب کو لے کر اس کے ذریعے اپنے ڈول کو پیوند لگا لیا ہے پھر وہ صاحب بھاگ گئے پھر انہوں نے اپنے پاس موجود ہر تھوڑی اور زیادہ چیز ساتھ رکھ لی بعد میں وہ مسلمان ہو کر آ گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں اپنے ساز و سامان میں سے حصوں کی تقسیم سے پہلے ‘ جو کچھ ملتا ہے ‘ وہ تم لے لو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10354

Majma al-Zawaid #10354

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بَعْثًا إِلَى ضَاحِيَةِ مُضَرَ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا فِي أَرْضٍ صَحْرَاءَ، فَأَصْبَحُوا فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ فِي قُبَّةٍ بِفِنَائِهِ غَنَمٌ فَجَاءُوهُ حَتَّى وَقَفُوا عَلَيْهِ، فَقَالُوا: أَجْزِرْنَا فَأَجْزَرَهُمْ شَاةً، فَطَبَخُوا مِنْهَا ثُمَّ أُخْرَى فَسَخِطُوهَا، فَقَالَ: مَا بَقِيَ فِي غَنَمِي مِنْ شَاةِ لَحْمٍ إِلَّا شَاةٌ مَاخِضٌ أَوْ فَحْلٌ، فَسَطَوْا فَأَخَذُوا مِنْهَا شَاةً. فَلَمَّا أَظْهَرُوا وَاحْتَرَقُوا وَهُمْ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ لَا ظِلَّ مَعَهُمْ، قَالُوا: غَنَمُهُ فِي مِظَلَّتِهِ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَحَقُّ بِالظِّلِّ مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ، فَجَاءُوا فَقَالُوا: أَخْرِجْ عَنَّا غَنَمَكَ نَسْتَظِلُّ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَتَى تُخْرِجُونَهَا تَهْلِكُ فَتَطْرَحْ أَوْلَادَهَا، وَإِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَدْ صَلَّيْتُ وَزَكَّيْتُ، فَأَخْرَجُوا غَنَمَهُ فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ حَتَّى تَنَاغَرَتْ فَطَرَحَتْ أَوْلَادَهَا. فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: "" اجْلِسْ حَتَّى يَرْجِعَ الْقَوْمُ "". فَلَمَّا رَجَعُوا جَمَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَوَاتَرُوا عَلَى: كَذَبَ كَذَبَ، فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا رَأَى الْأَعْرَابِيُّ ذَلِكَ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يُخْبِرُكَ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ صَادِقٌ، فَدَعَاهُمْ رَجُلًا رَجُلًا يُنَاشِدُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِنَشْدِهِ، فَلَمْ يَنْشُدْ رَجُلًا مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ كَمَا قَالَ الْأَعْرَابِيُّ. فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا يَحْمِلُكُمْ أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ، الْكَذِبُ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ: رَجُلٌ كَذَبَ عَلَى امْرَأَتِهِ لِتَرْضَى عَنْهُ، وَرَجُلٌ يَكْذِبُ فِي خُدْعَةِ الْحَرْبِ، وَرَجُلٌ يَكْذِبُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asma' bint Yazid said: the Prophet ﷺ sent a detachment to the outskirts of Mudar. They reported they camped in desert land. In the morning they found a man in a tent with sheep in his courtyard. They came to him and said, "Give us a slaughter-animal." He gave them a sheep; they cooked from it, then another, which they seized haughtily. He said, "No meat-sheep remains in my flock but a pregnant ewe or a ram." They rushed and took a sheep from them. When they prevailed and burned, on a hot summer day with no shade, they said, "His sheep are in his shade." They said, "We have more right to the shade than these sheep." They came and said, "Remove your sheep from us that we may shade ourselves." He said, "If you remove them they will perish and cast their young; and I have believed in Allah and His Messenger, I have prayed and paid zakat." They removed his sheep; within an hour of the day they bled and cast their young. He hastened to the Prophet ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ grew intensely angry, then said: > **"Sit until the people return."** When they returned, he gathered them and him. They persisted in saying, "He lies, he lies," and the Prophet's ﷺ anger eased. When the Bedouin saw that, he said, "By Allah, Allah knows I am truthful and they lie; perhaps Allah will inform you of that, O Prophet of Allah." It fell into the Prophet's ﷺ heart that he was truthful. He called them man by man, adjuring each by his oath, and none he adjured but said as the Bedouin had said. The Prophet ﷺ rose and said: > **"What drives you to follow one another in lying as moths follow one another into fire? Lying is recorded against the son of Adam except in three traits: a man who lies to his wife to please her, a man who lies in the stratagem of war, and a man who lies between two Muslim women to reconcile between them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ضاحیہ مضر کی طرف ایک جنگی مہم بھیجی ان لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ وہ لوگ صحرائی سرزمین پر پڑاؤ کیے ہوئے تھے صبح ہوئی ‘ تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس کے خیمے میں بکریاں موجود تھیں وہ لوگ اس کے پاس آئے ‘ اور اس کے پاس ٹھہر گئے انہوں نے کہا : ہمیں ایک بکری دے دو تاکہ ہم اسے ذبح کر لیں اس نے انہیں ایک بکری ذبح کرنے کے لئے دے دی ان لوگوں نے اس بکری کو پکا لیا پھر انہوں نے دوسری بکری لی اور اسے تیزی سے ذبح کیا اس نے کہا : اب میری بکریوں میں کوئی ایسی بکری نہیں رہی جس کا گوشت استعمال کیا جا سکتا ہو صرف ایک حاملہ بکری ہے یا نر بکرا ہے ‘ تو ان لوگوں نے آگے بڑھ کر ‘ اس سے بکری لے لی جب ان لوگوں نے غلبہ حاصل کر لیا اور دشمن کے علاقے کو جلا دیا ‘ تو یہ ایک گرم دن تھا ان لوگوں کے پاس سائے کی کوئی چیز نہیں تھی ان لوگوں نے کہا : اس شخص کی بکریاں تو سائے میں ہیں پھر انہوں نے کہا : ہم ان بکریوں سے زیادہ سائے کے حق دار ہیں وہ لوگ آئے ‘ اور انہوں نے کہا : اپنی بکریاں یہاں سے نکال دو تاکہ ہم سائے میں آ جائیں تو اس شخص نے کہا : جب تم انہیں نکال دو گے ‘ تو یہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گی اور بچوں کو جنم دینا شروع کر دیں گی جبکہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ۔ میں نے نماز ادا کی ہے میں نے زکوٰۃ ادا کی ہے ان لوگوں نے اس کی بکریاں نکال دیں دن کا تھوڑا حصہ گزرنے کے بعد ان بکریوں کا خون نکلنا شروع ہوا اور انہوں نے بچوں کو جنم دینا شروع کر دیا وہ شخص تیزی سے چلتا ہوا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ شدید غصے میں آ گئے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھے رہو جب تک وہ لوگ واپس نہیں آ جاتے جب وہ لوگ واپس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو اور اس شخص کو جمع کیا ‘ تو ان لوگوں نے یکے بعد دیگرے غلط بیانی شروع کی نبی اکرم ﷺ کا غصہ کم ہوا جب دیہاتی نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے کہا : اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں نے سچ کہا ہے ‘ اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اے اللہ کے نبی ! ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اس بارے میں بتا دے نبی اکرم ﷺ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص سچا ہے آپ نے ان لوگوں کو ایک ایک کر کے بلانا شروع کیا اور ان میں سے ہر ایک شخص کو واسطہ دیا جب آپ نے ہر ایک شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا : تو اس نے وہی بات بیان کی جو اس دیہاتی نے بیان کی تھی تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ اور فرمایا : تمہیں کسی چیز نے اس بات کی ترغیب دی کہ تم یکے بعد دیگرے جھوٹ بولو جس طرح پتنگے یکے بعد دیگرے آگ میں گرتے ہیں انسان کے لئے جھوٹ کو نوٹ کر لیا جاتا ہے البتہ تین صورتوں کا معاملہ مختلف ہے جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غلط بیانی کرے تاکہ وہ عورت اس سے راضی ہو جائے یا کوئی شخص جنگ میں دھوکہ دینے کے لئے غلط بیانی کرے یا کوئی شخص دو مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کے لئے غلط بیانی کرے ‘‘۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ جس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10355

Majma al-Zawaid #10355

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَفِيهِمْ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِنْهُمْ، عَشِقْتُ مِنْهُمُ امْرَأَةً فَلَحِقْتُهَا، فَدَعُونِي أَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ اصْنَعُوا بِي مَا بَدَا لَكُمْ. فَأَتَى امْرَأَةً طَوِيلَةً أَدْمَاءَ فَقَالَ لَهَا: أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ نَفَادِ الْعَيْشِ. أَرَأَيْتِ لَوْ تَبِعْتُكُمْ فَلَحِقْتُكُمْ ... بِحَلْبَةٍ أَوْ أَلْفَيْتُكُمْ بِالْخَوَانِقْ أَمَا كَانَ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ... تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السَّرَى وَالْوَدَائِقْ قَالَتْ: نَعَمْ فَدَيْتُكَ. فَقَدَّمُوهُ فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ فَشَهِقَتْ شَهْقَةً أَوْ شَهْقَتَيْنِ ثُمَّ مَاتَتْ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَحِيمٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas radiya Allahu anhuma: the Prophet ﷺ sent a detachment. They took spoils, and among them was a man who said, "I am not of them; I loved a woman of them and followed her. Let me look at her, then do with me as you will." He came to a tall, dark-skinned woman and said to her, "Accept Islam, Hubaysh, before life runs out. Did you see, when I followed you and reached you at al-Halabah or met you at al-Khawaniq — was it not right that a lover who undertook night-journeying and midday travel should attain?" She said, "Yes, may I be ransom for you." They brought him forward and struck his neck. The woman came, fell upon him, sobbed once or twice, then died. When they came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Was there no merciful man among you?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی ان لوگوں کو مال غنیمت حاصل ہوا ان میں ایک شخص موجود تھا اس نے کہا : میں ان میں سے نہیں ہوں میں ان میں سے ایک عورت کے ساتھ عشق کرتا تھا تو میں اس سے جا ملا آپ لوگ مجھے موقع دیں کہ میں اسے دیکھ لوں پھر آپ میرے ساتھ جو مناسب ہو گا ؤہ کر لیجئے گا پھر وہ ایک طویل القامت گندمی رنگ کی عورت کے پاس آیا اور اس سے کہا حبیش تم اسلام قبول کر لو اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ۔ ( اس کے بعد یہ اشعار کہے : ) ’’ کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے ‘‘۔ اس عورت نے کہا : ٹھیک ہے میں تم پر فدا ہو جاؤں پھر ان لوگوں نے اسے آگے کیا اور اس کی گردن اڑا دی پھر وہ عورت آئی اور اس پر گر گئی اس نے ایک یا دو مرتبہ جھر جھری لی اور پھر مر گئی جب وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی رحم دل شخص نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

10356

Majma al-Zawaid #10356

وَعَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: "" إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا "". فَبَعَثَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ وَأَمَرَنَا بِذَلِكَ، فَخَرَجْنَا نَسِيرُ بِأَرْضِ تِهَامَةَ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا يَسُوقُ ظَعَائِنَ فَعَرَضْنَا عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، فَقُلْنَا: أَمُسْلِمٌ أَنْتَ؟، فَقَالَ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَإِذَا هُوَ لَا يَعْرِفُهُ، قَالَ: إِنْ لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ؟ قُلْنَا: نَقْتُلُكَ. قَالَ: هَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَائِنَ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوهُ، فَخَرَجَ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا، فَقَالَ: أَسْلِمِي حُبَيْشُ قَبْلَ انْقِطَاعِ الْعَيْشِ. فَقَالَتْ: أُسْلِمُ عَشْرًا وَتِسْعًا تَتْرَى. ثُمَّ قَالَ: أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجَدْتُكُمْ ... بِحَلْبَةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ فَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ ... تَكَلَّفَ إِدْلَاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلَا ذَنْبَ لِي إِذْ قُلْتُ إِذْ أَهْلُنَا مَعًا ... أَثِيبِي بِوِدٍّ قَبْلَ إِحْدَى الْمَضَائِقِ أَثِيبِي بِوِدٍّ قَبْلَ أَنْ يُشْحِطَ النَّوَى ... وَيَنْأَى الْأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ ثُمَّ أَتَانَا فَقَالَ: شَأْنُكُمْ. فَقَدَّمْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، وَنَزَلَتِ الْأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا فَجَثَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Isam al-Muzani, a Companion, said: When the Prophet ﷺ sent an army or detachment he would say to them: > **"When you see a mosque or hear a caller to prayer, kill no one."** The Prophet ﷺ sent us in a detachment with that order. We marched through Tihamah and overtook a man driving women-camels. We offered him Islam. We said, "Are you a Muslim?" He said, "What is Islam?" We informed him, and he did not know it. He said, "If I do not, what will you do?" We said, "We shall kill you." He said, "Will you grant me time until I reach the women?" We said, "Yes," able to overtake him. He went to a woman in her howdah and said, "Accept Islam, Hubaysh, before life ends." She said, "I accept ten times over, nine in succession." Then he said: "Do you remember when I sought you and found you at al-Halabah or reached you at al-Khawaniq? Was it not right that a lover who undertook night-journeying and midday travel should attain? I bear no sin when I said, while our people are together: repay with love before one of the straits; repay with love before distance removes and the commander distances the parted beloved." Then he came to us and said, "Do as you will." We brought him forward and struck his neck. The other woman descended from her howdah and knelt over him until she died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصام مزنی رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر یا ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے ان سے فرمایا جب تم لوگ کوئی مسجد دیکھو یا کہیں سے مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل نہ کرنا نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیج دیا ‘ اور ہمیں یہ حکم دیا ‘ تو ہم لوگ تہامہ کی سرزمین پر سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے ہمیں ایک شخص ملا جو کچھ عورتوں کے اونٹوں کو لے کے جا رہا تھا ہم نے اسے اسلام کی پیشکش کی ہم نے دریافت کیا : کیا تم مسلمان ہو ۔ اس نے کہا : اسلام کیا ہوتا ہے ہم نے اسے اس بارے میں بتایا تو وہ اس سے واقف نہیں تھا اس نے دریافت کیا : اگر میں ایسا نہیں کرتا تو تم لوگ کیا کرو گے ہم نے کہا : ہم تمہیں قتل کر دیں گے اس نے کہا : کیا تم مجھے موقع دو گے کہ میں ان خواتین کے پاس چلا جاؤں ہم نے کہا : ٹھیک ہے ہم اس تک پہنچ سکتے تھے وہ شخص گیا وہاں ایک عورت اپنے ہودج میں موجود تھی اس شخص نے کہا : اے حبیش تم اسلام قبول کر لو اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے ‘ تو اس عورت نے کہا : میں دسویں عورت مسلمان ہو جاؤں اور باقی نو بکھری رہیں ۔ پھر اس نے یہ اشعار کہے : ’’ کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں نے تمہیں تلاش کیا تھا تو ہے حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا خوانق کے مقام پر میں تم تک پہنچا تھا کیا یہ حق نہیں ہے کہ عاشق کو یہ چیز نصیب ہو کہ وہ رات کا زیادہ تر حصہ اور دن چڑھے کا وقت سفر کرتا رہے تو میرا کوئی گناہ نہیں ہے اگر میں نے یہ کہا کہ جب ہم اکٹھے ہوں تو وہ میرے پاس ایسی محبت لے کر آئے جو کسی قسم کی تنگی سے پہلے ہو وہ میرے پاس ایسے وصل کے ہمراہ آئے جو دوری سے پہلے ہو اور امیر جدا ہونے والے محبوب سے دور ہو جائے ‘‘۔ پھر وہ ہمارے پاس آیا اس نے کہا : اب تم نے جو کرنا ہے کر لو ہم نے اسے آگے کر کے اس کی گردن اڑا دی پھر دوسری عورت ہودج سے اتری اور اس پر آ کر گر گئی ‘ یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

10357

Majma al-Zawaid #10357

وَعَنْ عُرْوَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ الْعُمْرَةِ مِنْ نَجْدٍ، أَمِيرُهُمْ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ فَأُصِيبَ بِهَا ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah: the Messenger of Allah ﷺ sent a detachment toward al-'Umrah of Najd, commanded by Thabit ibn Aqram. Thabit ibn Aqram was killed in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نجد کے علاقے عمرہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی ان لوگوں کے امیر حضرت ثابت بنا قرم رضی اللہ عنہ تھے تو اس مہم میں حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10358

Majma al-Zawaid #10358

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ فَهُزِمْنَا، فَاتَّبَعَ سَعْدٌ رَاكِبًا مِنْهُمْ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَرَأَى سَاقَهُ خَارِجَةً مِنَ الْغَرْزِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ، فَرَأَيْتُ الدَّمَ يَسِيلُ كَأَنَّهُ شِرَاكٌ فَأَنَاخَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ sent us in a detachment and we were routed. Sa'd pursued a rider of theirs. He turned to him and saw his leg outside the stirrup. He shot him with an arrow; I saw the blood flowing as though a sandal-strap, and he made his mount kneel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا ہم پسپا ہو گئے ان دشمنوں میں سے سعد نام کا ایک سوار آیا میں نے اس کی طرف مڑ کے دیکھا تو اس کی پنڈلی کو دیکھا کہ وہ رکاب سے باہر نظر آ رہی تھی میں نے اس کی پنڈلی پر تیر مارا تو میں نے دیکھا اس کا خون یوں بہہ رہا تھا جیسے وہ ایک تسمہ ہو ‘ اس نے اپنے جانور کو بٹھا لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10359

Majma al-Zawaid #10359

وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ: «بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ فَأَصَابَنَا الْعَطَشُ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ، فَتَنَوَّخَتْ نَاقَةٌ لِبَعْضِنَا وَإِذَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مِثْلُ السِّقَاءِ فَشَرِبْنَا مِنْ لَبَنِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Khabbab radiya Allahu anhu said: The Messenger of Allah ﷺ sent us in a detachment. Thirst struck us and we had no water. A she-camel of one of us knelt, and between her legs was like a waterskin — her udder full — and we drank from her milk.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا ہمیں پیاس لاحق ہو گئی ہمارے پاس پانی موجود نہیں تھا ہم نے اپنے میں سے کسی ایک شخص کی اونٹنی کو کھڑا کیا ‘ تو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان مشکیزے کی طرح تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے ) تو ہم نے اس کا دودھ پی لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10360

Majma al-Zawaid #10360

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ، وَاسْتَعْمَلَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَاسْتَعْمَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْأَعْرَابِ، قَالَ: "" وَإِنْ كَانَ قِتَالٌ فَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى جَمَاعَةِ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas radiya Allahu anhuma said: The Messenger of Allah ﷺ sent Khalid ibn al-Walid and 'Ali ibn Abi Talib to Yemen, placing 'Ali ibn Abi Talib — may Allah's pleasure be upon him — over the Muhajirun and Khalid ibn al-Walid over the Bedouins. He said: > **"If there is fighting, 'Ali ibn Abi Talib commands all the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا آپ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو مہاجرین کا امیر مقرر کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دیہاتیوں کا امیر مقرر کیا آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر لڑائی ہو ‘ تو علی بن ابوطالب سب لوگوں کا امیر ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10361

Majma al-Zawaid #10361

عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «قَدِمَتْ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ مَكَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي بَكْرٍ: "" ائْتِهِمْ فَاعْرِضْ عَلَيْهِمْ "". فَأَتَاهُمْ، فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ فَقَالُوا: بَنُو ذُهَلِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: لَسْتُ إِيَّاكُمْ أُرِيدُ، أَنْتُمُ الْأَذْنَابُ، فَقَامَ إِلَيْهِ دَغْفَلٌ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَ: أَمِنْ بَنِي هَاشِمٍ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَمِنْ بَنِي أُمَيَّةَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَأَنْتُمْ مِنَ الْأَذْنَابِ. ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ ثَانِيَةً فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ فَقَالُوا: بَنُو ذُهَلِ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: فَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، قَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ شَيْخُنَا فُلَانٌ - قَالَ خَلَّادٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: الْمُثَنَّى بْنُ خَارِجَةَ - فَلَمَّا جَاءَ شَيْخُهُمْ عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْفُرْسِ حَرْبًا، فَإِذَا فَرَغْنَا مِمَّا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ عُدْنَا فَنَظَرْنَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبْتُمُوهُمْ أَتَتِّبِعُنَا عَلَى أَمْرِنَا؟ قَالَ: لَا نَشْتَرِطُ لَكَ هَذَا عَلَيْنَا، وَلَكِنْ إِذَا فَرَغْنَا فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ عُدْنَا فَنَظَرْنَا فِي مَا تَقُولُ. فَلَمَّا الْتَقَوْا يَوْمَ ذِي قَارٍ هُمْ وَالْفُرْسُ، قَالَ شَيْخُهُمْ: مَا اسْمُ الرَّجُلِ الَّذِي دَعَاكُمْ إِلَى اللَّهِ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، قَالُوا: هُوَ شِعَارُكُمْ. فَنُصِرُوا عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِي نُصِرُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَلَّادِ بْنِ عِيسَى، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Sa'id ibn al-'As, from his father, from his grandfather, said: Bakr ibn Wa'il came to Makkah. The Prophet ﷺ said to Abu Bakr: > **"Go to them and present it to them."** He came to them and said, "Who are the people?" They said, "Banu Dhuhl ibn Tha'labah." He said, "It is not you I seek; you are the tails." Daghfal rose to him and said, "Who are you?" He said, "A man of Quraysh." He said, "Of Banu Hashim?" He said, "No." He said, "Of Banu Umayyah?" He said, "No." He said, "Then you are of the tails." He returned to them a second time and said, "Who are the people?" They said, "Banu Dhuhl ibn Shayban." He presented Islam to them. They said, "Until our elder comes" — Khallad thought he said al-Muthanna ibn Kharijah. When their elder came, Abu Bakr radiya Allahu anhu presented to them. He said, "Between us and the Persians is war; when we finish what is between us and them, we shall return and consider." Abu Bakr said to him, "What if you overcome them — will you follow us in our affair?" He said, "We do not stipulate that for you; but when we finish what is between us and them, we shall return and consider what you say." When they met the Persians on the day of Dhi Qar, their elder said, "What is the name of the man who called you to Allah?" They said, "Muhammad." They said, "He is your battle-cry." They were aided over the people. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Through me they were aided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن سعید بن العاص نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے میں مکہ میں بکر بن وائل کے پاس آیا نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں اسلام کی پیشکش کرو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ۔ انہوں نے بتایا : بنوزہل بن ثعلبہ سے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کے پاس نہیں آنا چاہ رہا تھا تم لوگ دموں کی مانند ہو پھر دغفل ان کے سامنے کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس نے دریافت کیا : کیا بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جی نہیں اس نے دریافت کیا : کیا بنوامیہ سے ہو انہوں نے جواب دیا جی نہیں ، تو اس نے کہا : پھر تم لوگ بھی دموں میں سے ہو پھر وہ دوسری مرتبہ ان کے سامنے گئے ‘ اور دریافت کیا : تم لوگ کون ہو انہوں نے بتایا : بنوزہل بن شیبان راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی پیشکش کی ان لوگوں نے کہا : پہلے ہمارا فلاں بوڑھا آ جائے خلاد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے ان لوگوں نے مثنی بن خارجہ کا نام ذکر کیا تھا جب ان کا بوڑھا آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے اسلام کی پیشکش کی اس نے کہا : ہمارے اور ایرانیوں کے درمیان جنگ چل رہی ہے جب ہم اپنے اور ان کے درمیان اس جنگ سے فارغ ہو جائیں گے ‘ تو واپس آئیں گے ‘ تو پھر آپ کی کہی ہوئی بات کا جائزہ لیں گے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم ان پر غالب آ گئے ‘ تو کیا تم ہمارے معاملے کے بارے میں ہماری پیروی کر لو گے اس نے کہا : ہم یہ بات طے نہیں کرتے ہیں لیکن جب ہم فارغ ہو گئے جو چیز ہمارے اور ان کے درمیان چل رہی ہے ‘ تو پھر ہم واپس آ کر آپ کی کہی ہوئی بات کا جائزہ لیں گے جب ذی قار کے دن ان کا اور ایرانیوں کا مقابلہ ہوا تو ان کے بوڑھے نے کہا : ان صاحب کا نام کیا تھا جنہوں نے تمہیں اللہ کی طرف دعوت دی تھی تو لوگوں نے بتایا : حضرت محمد ( ﷺ ) ان لوگوں نے کہا : یہ تمہارا شعار ہے پھر دشمن کے خلاف ان لوگوں کی مدد ہو گئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری وجہ سے ان کی مدد ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ اور صحیح کے رجال ہیں صرف خلاد بن عیسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10362

Majma al-Zawaid #10362

وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ يَزِيدَ الضُّبَعِيِّ - وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ ذِي قَارٍ: "" هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ انْتَصَفَتْ فِيهِ الْعَرَبُ مِنَ الْعَجَمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bashir ibn Yazid al-Duba'i, who had lived in Jahiliyyah, said: The Messenger of Allah ﷺ said on the day of Dhi Qar: > **"This is the first day in which the Arabs were avenged on the non-Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشیر بن یزید ضبعی رضی اللہ عنہ جنہیں زمانہ جاہلیت بھی نصیب ہوا ہے وہ بیان کرتے ہیں : جنگ ذی قار کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ وہ پہلا دن ہے ‘ جس میں عربوں نے عجمیوں سے بدلہ لیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10363

Majma al-Zawaid #10363

عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الرُّومِ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى فَارِسَ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Sa'd — that is Ibn Abi Waqqas radiya Allahu anhu — said: I heard the Prophet ﷺ say: > **"The Muslims will prevail over Rome, the Muslims will prevail over Persia, and the Muslims will prevail over the Arabian Peninsula."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمان رومیوں پر غالب آ جائیں گے مسلمان ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے مسلمان جزیرہ نما عرب پر غالب آ جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

10364

Majma al-Zawaid #10364

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْفَقْرَ وَالْعُرْيَ وَقِلَّةَ الشَّيْءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَبْشِرُوا فَوَاللَّهِ لَأَنَا لِكَثْرَةِ الشَّيْءِ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِلَّتِهِ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِيكُمْ حَتَّى يُفْتَحَ لَكُمْ جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْمِائَةَ فَيَسْخَطُهَا "". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ: وَمَتَى نَسْتَطِيعُ الشَّامَ مَعَ الرُّومِ ذَاتِ الْقُرُونِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيَفْتَحُهَا لَكُمْ، وَيَسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا حَتَّى تَظَلَّ الْعِصَابَةُ مِنْهَا الْبِيضَ قُمُصُهُمْ، الْمُحَلَّقَةُ أَقْفَاؤُهُمْ، قِيَامًا عَلَى الرُّوَيْجِلِ الْأُسَيْوِدِ مِنْكُمْ، مَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ فَعَلُوهُ، وَإِنَّ بِهَا الْيَوْمَ رِجَالًا لَأَنْتُمْ أَحْقَرُ فِي أَعْيُنِهِمْ مِنَ الْقِرْدَانِ فِي أَعْجَازِ الْإِبِلِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr said: Ibn Hawalah said: We were with the Messenger of Allah ﷺ and they complained to him of poverty, nakedness, and lack. The Prophet ﷺ said: > **"Rejoice, for by Allah, I fear abundance for you more than scarcity. By Allah, this affair shall remain among you until there are opened for you an army in Sham, an army in Iraq, and an army in Yemen, until a man is given a hundred and resents it."** 'Abdullah ibn Hawalah said, "When can we take Sham with Rome of the horned might?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah will open it for you and make you successors in it, until a band of them, white their shirts, shaven their necks, stand over your little black man — whatever he orders them, they do. In it today are men in whose eyes you are more contemptible than ticks on camels' rumps."** Then he mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے لوگوں نے آپ کے سامنے غربت اور مناسب لباس نہ ہونے کی شکایت کی اور چیزوں کی کمی کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ اللہ کی قسم مجھے تم لوگوں کے حوالے سے چیزوں کی کمی کی بجائے ان کی کثرت کا زیادہ اندیشہ ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس معاملے کو مسلسل تمہارے درمیان رکھے گا ‘ یہاں تک کہ شام میں ایک لشکر تمہارے لئے فتح ہو جائے گا عراق میں ایک لشکر فتح ہو جائے یمن میں ایک لشکر فتح ہو جائے گا ‘ یہاں تک کہ کسی شخص کو ایک سو ( درہم یا دینار یا اونٹ ) دیئے جائیں گے ‘ تو وہ اس سے ناراض ہو گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم رومیوں کے ساتھ شامیوں پر قابو پائیں گے جبکہ وہ لڑاکے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ تمہارے لئے فتح ہو گا اور تم وہاں پر حکمران بنو گے ‘ یہاں تک کہ ان میں سے ایک گروہ ایسا آئے گا جن کی قمیصیں سفید ہوں گی اور ان کی گدیاں مونڈی ہوئی ہوں گی وہ چھوٹی ٹانگوں پر کھڑے ہونگے ‘ لوگ انہیں جو بھی حکم دیں گے وہ اس کو پورا کریں گے ‘ اور آج وہاں ایسے لوگ ہیں کہ ان کی نظروں میں تم اس سے زیادہ حقیر ہو کہ جتنا اونٹ کی پشت پر موجود کوئی چیچڑی ہو .........‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نصر بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10365

Majma al-Zawaid #10365

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَزَّاحٍ قَدِيمًا لَهُ صُحْبَةٌ، يَقُولُ «إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يُوشِكُ أَنْ يُؤَمَّرَ عَلَيْهِمُ الرُّوَيْجِلُ فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ قَوْمٌ، مُحَلَّقَةٌ أَقْفِيَتُهُمْ، بِيضٌ قُمُصُهُمْ، فَكَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ حَضَرُوا "". فَشَاءَ رَبُّكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَزَّاحٍ وَلِيَ بَعْضَ الْمُدُنِ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنَ الدَّهَاقِينِ مُحَلَّقَةٌ أَقْفِيَتُهُمْ، بَيْضٌ قُمُصُهُمْ، فَكَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ حَضَرُوا، فَيَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr said: 'Abdullah ibn Wazzah, an early Companion, used to say: The Prophet ﷺ said: > **"Soon a little man will be placed in command over them; a people will gather to him, shaven their necks, white their shirts. When he orders them anything, they attend."** Then your Lord willed that 'Abdullah ibn Wazzah governed one of the cities. A people of landowners gathered to him, shaven their necks, white their shirts; when he ordered them anything, they attended. He would say, "Allah and His Messenger spoke the truth."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن وزاح رضی اللہ عنہ جنہیں قدیم زمانے میں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب ایسا ہو گا کہ ان لوگوں پر ایک چھوٹا شخص امیر بنے گا لوگ اس کے گرد اکٹھے ہوں گے ان لوگوں کی گدیاں مونڈی ہوئی ہوں گی ان کی قمیصیں سفید ہوں گی جب وہ انہیں کسی چیز کے بارے میں حکم دے گا ‘ تو وہ لوگ حاضر ہو جائیں گے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک وقت آیا کہ جب حضرت عبداللہ بن وزاح رضی اللہ عنہ وہاں کے ایک علاقے کے امیر بن گئے ‘ تو دہقانوں کی ایک قوم ان کے پاس اکٹھی ہوئی جن کی گدیاں مونڈی ہوئی تھیں اور ان کی قمیصیں سفید تھیں جب حضرت عبداللہ بن وزاح رضی اللہ عنہ انہیں کوئی حکم دیتے تھے ‘ تو وہ حاضر ہو جاتے تھے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔