Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 13

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10285–10325

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10285

Majma al-Zawaid #10285

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ: «لَمَّا غَزَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، تَذَكَّرْتُ أَبِي وَعَمِّيَ قَتَلَهُمَا عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أُدْرِكُ ثَأْرِي فِي مُحَمَّدٍ، [فَجِئْتُهُ] فَإِذَا الْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ بَيْضَاءُ كَأَنَّهَا الْفِضَّةُ، فَكَشَفَ عَنْهَا الْعَجَاجَ، فَقُلْتُ: عَمُّهُ لَنْ يَخْذُلَهُ. فَجِئْتُهُ عَنْ يَسَارِهِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ: ابْنُ عَمِّهِ لَنْ يَخْذُلَهُ، فَجِئْتُهُ مِنْ خَلْفِهِ فَدَنَوْتُ وَدَنَوْتُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ أَسُورَ سَوْرَةً بِالسَّيْفِ، رُفِعَ لِي شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ كَأَنَّهُ الْبَرْقُ فَخِفْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَنَكَصْتُ الْقَهْقَرَى، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تَعَالَ يَا شَيْبُ "". فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَاسْتَخْرَجَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ مِنْ قَلْبِي فَرَفَعْتُ إِلَيْهِ بَصَرِي وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ لَهُ: "" يَا شَيْبُ، قَاتِلِ الْكُفَّارَ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ، اصْرُخْ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَبِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا "". فَمَا شَبَّهْتُ عَطْفَةَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْبَقَرَ عَلَى أَوْلَادِهَا حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ حَرَجَةٌ. قَالَ: فَلَرِمَاحُ الْأَنْصَارِ كَانَتْ عِنْدِي أَخْوَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رِمَاحِ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ، نَاوِلْنِي مِنَ الْبَطْحَاءِ "". فَأَفْقَهَ اللَّهُ الْبَغْلَةَ كَلَامَهُ فَاخْتَفَضَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ بَطْنُهَا يَمَسُّ الْأَرْضَ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْحَصْبَاءِ فَنَفَخَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ: "" شَاهَتِ الْوُجُوهُ حم، لَا يُنْصَرُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ikrimah reported: Shaybah ibn Uthman (may Allah be pleased with him) said: When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) campaigned on the day of Hunayn, I remembered my father and my uncle, slain by Ali and Hamzah, and said, "Today I shall take my revenge upon Muhammad." I came at him, and there was al-Abbas at his right, wearing a white cuirass like silver; the dust cleared from it, and I said, "His uncle — he will not fail him." I came at him from his left, and there was Abu Sufyan ibn al-Harith. I said, "His cousin — he will not fail him." I came at him from behind, drawing nearer and nearer until nothing remained but to strike with the sword, when a flame of fire like lightning was raised before me. I feared it would seize me, so I recoiled backward. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) turned to me and said: > **"Come, O Shayb."** The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) placed his hand upon my chest, and Allah drew Satan out of my heart. I raised my eyes to him, and he was dearer to me than my hearing and my sight and than all else. He said to him: > **"O Shayb, fight the disbelievers."** Then he said: > **"O Abbas, call out the first Muhajirun who pledged beneath the tree, and the Ansar who sheltered and aided."** I likened the turning of the Ansar toward the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) only to cattle turning to their young, until the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) dismounted as into a thicket. The spears of the Ansar seemed to me then more fearsome for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) than the spears of the disbelievers. Then he said: > **"O Abbas, hand me of the valley dust."** Allah made the mule comprehend his speech, and she lowered herself with him until her belly nearly touched the earth. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) took of the gravel, blew it at their faces, and said: > **"May the faces be deformed. Ha-Mim — they shall not be aided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکرمہ بیان کرتے ہیں : حضرت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب غزوہ حنین کے لئے نبی اکرم ﷺ نے تیاری کی تو مجھے اپنے والد اور اپنے چچا یاد آ گئے جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے کہا : آج میں حضرت محمد ( ﷺ ) سے اپنا بدلہ لے لوں گا میں آپ کے پاس آیا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف موجود تھے انہوں نے سفید زرہ پہنی ہوئی تھی یوں جیسے وہ چاندی کی بنی ہوئی ہو ‘ غبار ہٹا ‘ تو میں نے کہا : یہ تو ان کے چچا ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں بائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو وہاں ابوسفیان بن حارث موجود تھے میں نے کہا : یہ تو ان کے چچا زاد ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں پیچھے سے آپ کی طرف آیا میں قریب ہوتا گیا قریب ہوتا گیا ، یہاں تک کہ اتنا فاصلہ باقی رہ گیا کہ میں آپ کو تلوار مار سکتا تھا لیکن اسی دوران آگ کا ایک شعلہ میرے سامنے آیا جو برق کی مانند تھا مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں وہ مجھے جلا نہ دے تو میں الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا نبی اکرم ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے شیب آگے آ جاؤ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے شیطان کو نکال دیا میں نے نگاہ اٹھا کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ میری سماعت اور میری بصارت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے شیب کفار کے ساتھ لڑائی کرو پھر آپ نے فرمایا : اے عباس مہاجرین اولین کو بلند آواز میں بالائیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور انصار کو بلائیں جنہوں نے پناہ دی تھی اور مدد کی تھی راوی کہتے ہیں : تو انصار نبی اکرم ﷺ کی طرف اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف آتی ہے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ سواری سے یوں نیچے اتر آئے جیسے وہ درختوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہوتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار کے نیزوں کے حوالے سے میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ کو کفار کے نیزوں سے زیادہ خوف تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عباس مجھے مٹی پکڑائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے خچر کو آپ کا کلام سمجھا دیا وہ نیچے جھک گیا ‘ یہاں تک کہ اس کا پیٹ زمین کے ساتھ مس ہونے لگا نبی اکرم ﷺ نے کنکریاں اٹھائیں اور پھر ان کے چہروں کی طرف پھونک ماری اور پھر یہ کہا : ان کے چہرے قبیح ہو جائیں ‘ «حم لا ینصرون» ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10286

Majma al-Zawaid #10286

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ: مَالِكُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سَعْدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ يَرْبُوعِ بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ دَهْمَانَ بْنِ نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ هَوَازِنَ. قَالَ ابْنُ سَلَامٍ: «وَكَانَ عَوْفٌ رَئِيسًا مِقْدَامًا كَانَ أَوَّلُ ذِكْرِهِ وَمَا شُهِرَ مِنْ بَلَائِهِ يَوْمَ الْفِجَارِ مَعَ قَوْمِهِ كَثُرَ صَنِيعُهُ يَوْمَئِذٍ، وَهُوَ عَلَى هَوَازِنَ حِينَ لَقِيَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَاقَ مَعَ النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، فَخَالَفَهُ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ فَلَجَّ وَأَبَى، فَصَارُوا إِلَى أَمْرِهِ فَلَمْ يَحْمَدُوا رَأْيَهُ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى هَزِيمَةَ أَصْحَابِهِ قَصَدَ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ شَدِيدَ الْإِقْدَامِ، لِيُصِيبَهُ زَعْمٌ، فَوَافَاهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ، فَقَاتَلَهُ وَحَمَلَ فَرَسَهُ مِحَاجًا فَلَمْ يُقْدِمْ، ثُمَّ أَرَادَهُ وَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُقْدِمْ، فَقَالَ. أَقْدِمْ مَحَاجُ إِنَّهُ يَوْمٌ نُكُرْ ... مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ يَحْمِي وَيَكِرْ وَيَطْعَنُ الطَّعْنَةَ تَفْرِي وَتُهِرْ ... لَهَا مِنَ الْبَطْنِ نَجِيعٌ مُنْهَمِرْ وَثَعْلَبُ الْعَامِلَ فِيهَا مُنْكَسِرْ ... إِذَا اجْرَأَلَّتْ زُمَرٌ بَعْدَ زُمَرْ ثُمَّ شَهِدَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ الْقَادِسِيَّةَ فَقَالَ: أَقْدِمْ مَحَاجِ إِنَّهَا الْأَسَاوِرَهْ ... وَلَا يَهُولَنَّكَ رَجُلٌ نَادِرَهْ ثُمَّ انْهَزَمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَصَارَ إِلَى الطَّائِفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ أَتَانِي لَأَمَّنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً "". فَجَاءَ فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ، وَوَجَّهَهُ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الطَّائِفِ. وَكَتَبَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَسْتَمِدُّهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: تَسْتَمِدُّنِي وَأَنْتَ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ، وَمَعَكَ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: حَنْظَلَةُ الْكَاتِبُ. قَالَ ابْنُ سَلَامٍ: فَحَدَّثَنِي بَعْضُ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي يَتَأَلَّفُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ آخُذَ عَلَى الْإِسْلَامِ أَجْرًا، فَأَنَا أَرُدُّهَا قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يُعْطِكَهَا إِلَّا وَهُوَ يَرَى أَنَّهَا لَكَ حَقٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ خَيَّاطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْجُمَحِيِّ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sallam al-Jumahi reported: Malik ibn Awf ibn Sad ibn Rabiah ibn Yarbu ibn Wathilah ibn Dahman ibn Nasr ibn Muawiyah ibn Bakr ibn Hawazin. Ibn Sallam said: Awf was a bold chief. His first mention and famed valor were on the day of al-Fijar with his people, when his deeds were many. He was over Hawazin when they met the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), and he drove along with the people their wealth and offspring. Durayd ibn al-Simmah opposed him, persisted, and refused; they inclined to Malik's command and did not praise Durayd's view. He was their chief that day. When he saw the rout of his companions, he made for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) — he was fiercely bold — hoping, he claimed, to strike him. Marthad ibn Abi Marthad al-Ghanawi met him and fought him; he spurred his horse Mihaj, but it would not advance. He urged it and shouted at it, but it would not advance, so he said: "Advance, Mihaj, it is a fateful day — the like of me upon the like of you defends and charges, and thrusts the thrust that rends and tears, spilling gore from the belly, while the spearhead breaks therein, as squadrons surge after squadrons." After he embraced Islam he witnessed al-Qadisiyyah and said: "Advance, Mihaj, these are the braceleted ones — let no solitary man dismay you." Then he fled from Hunayn to Taif, and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"If he comes to me, I shall grant him security and give him a hundred."** So he came, and he did that for him, and sent him forth to fight the people of Taif. Sad ibn Abi Waqqas wrote to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with them both) seeking reinforcement, and he wrote back: "You seek reinforcement from me while you are among ten thousand, with Malik ibn Awf and Hanzalah ibn Rabiah among you — he who is called Hanzalah the Scribe?" Ibn Sallam said: One of his people narrated to me that he said to Umar: "The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) gave me to reconcile me to Islam, but I did not wish to take a wage for Islam — so I return it." He said, "He gave it to you only seeing it your right."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں : مالک بن عوف بن سعد بن ربیعہ بن یربوع بن واثلہ بن دہمان بن نصر بن معاویہ بن بکر بن ہوازن ابن سلام کہتے ہیں عوف نامی صاحب ایک رئیس اور پیشوا تھے ان کا ذکر اور ان کی شہرت کا آغاز یوم فجار سے ہوا تھا جب وہ اپنی قوم کے ساتھ تھے اس موقع پر انہوں نے بڑا کام کیا تھا ‘ اور وہ اس وقت ہوازن کے امیر تھے جب نبی اکرم ﷺ نے ہوازن کے ساتھ مقابلہ کیا تھا وہ اپنے ساتھ اپنے اموال اور بال بچے بھی لے کے آئے تھے درید بن صمہ نے ان کی مخالفت کی وہ اندر چلے گئے ‘ اور انکار کیا ‘ تو سارا معاملہ اس کی طرف آ گیا انہوں نے اس کی رائے کی تعریف نہیں کی وہ ان دنوں ان کا رئیس تھا جب اس نے اپنے ساتھیوں کی ہزیمت دیکھی تو اس نے نبی اکرم ﷺ کا قصد کیا وہ تیزی سے پیش قدمی کرنے والا شخص تھا تاکہ آپ کو نقصان پہنچائے ‘ تو حضرت مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں آئے ‘ اور انہوں نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس کے گھوڑے پر محاج کو سوار کیا لیکن وہ آگے نہیں بڑھا پھر انہوں نے اس کا ارادہ کیا اور بلند آواز میں اسے پکارا تو وہ آگے نہیں بڑھا تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ’’ اے محاج آگے بڑھو ‘ یہ نا قابل برداشت دن ہے ‘ میرے جیسا تم جیسے پر حمایت کرتا ہے اور پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے ‘ اور ایسا وار کرتا ہے ‘ جو دہشت زدہ اور اضطراب کا شکار کر دیتی ہے ‘ اس سے پیٹ سے تیزی سے خون بہنے لگتا ہے ‘ اور اس میں کام کرنے والے کے نیزے کا سرا ٹوٹ جاتا ہے ‘ جب ایک کے بعد دوسرے گروہ بلند ہوتے ہیں ‘‘ اس کے بعد جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے وہاں انہوں نے یہ اشعار کہے تھے ’’ اے محاج ! آگے بڑھو ! یہ ان کے شہسوار ہیں اور ان کا نادر ( یعنی مختلف ) ہونا تمہیں ہولناکی کا شکار نہ کرے ‘‘۔ پھر وہ حنین سے پسپا ہو گئے ‘ اور طائف چلے گئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر وہ میرے پاس آ گیا تو میں اسے امان بھی دوں گا اور اسے ایک سو ( اونٹ ) بھی دوں گا پھر وہ صاحب آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اہل طائف کے ساتھ جنگ کے لئے بھیجا ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں ان سے مدد مانگی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا تھا کہ تم مجھ سے مدد مانگ رہے ہو حالانکہ تمہارے پاس دس ہزار افراد موجود ہیں تمہارے پاس مالک بن عوف ہے حنظلہ بن ربیعہ ہے یہ وہی صاحب ہیں ، جنہیں حنظلہ کاتب کہا جاتا ہے ۔ ابن سلام بیان کرتے ہیں : ان کی قوم کے کسی فرد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس لئے ( مال ) عطا کیا تھا تاکہ اسلام کے حوالے سے میری تالیف قلب کریں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اسلام قبول کرنے کا معاوضہ وصول کروں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسے واپس کروں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ تمہیں صرف اس لئے دیا ہے کہ آپ ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ یہ تمہارا حق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے خلیفہ بن خیاط کے حوالے سے محمد بن سلام جمحی سے نقل کی ہے ‘ اور یہ دونوں ثقہ ہیں .

10287

Majma al-Zawaid #10287

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ «أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ حَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَانَ يَحْثِي فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Azhar (may Allah be pleased with him) used to narrate that he was present with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) when he was scooping dust at their faces.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ازہر کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے جب نبی اکرم ﷺ نے دشمن پر مٹی پھینکی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10288

Majma al-Zawaid #10288

وَعَنِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ «أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ حُنَيْنٍ - أَنَا أَشُكُّ - بِسَهْمٍ فِي ثُنْدُوَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْزَعِ السَّهْمَ، قَالَ: "" يَا رَافِعُ، إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ، وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْزَعِ السَّهْمَ وَدَعِ الْقُطْبَةَ، قَالَ: فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَامْرَأَةُ رَافِعٍ لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The wife of Rafi ibn Khadij (may Allah be pleased with them both) reported that Rafi was struck by an arrow in his breast alongside the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Uhud — or the day of Hunayn, she doubted. He came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and said, "O Messenger of Allah, pull out the arrow." He said: > **"O Rafi, if you wish I shall pull out the arrow and the head together; and if you wish I shall pull out the shaft and leave the head, and testify for you on the Day of Resurrection that you are a martyr."** He said, "O Messenger of Allah, pull out the shaft and leave the head." So the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) pulled out the shaft and left the head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں حضرت رافع رضی اللہ عنہ کو غزوہ احد کے موقع پر یا جنگ حنین کے موقع پر پہلو میں ایک تیر لگ گیا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تیر نکال دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے رافع اگر تم چاہو ‘ تو تم تیر اور اس کا پھل دونوں نکلوا لو اگر تم چاہو ‘ تو میں تیر نکال دیتا ہوں ‘ اور پھل اندر رہنے دیتا ہوں ‘ اور قیامت کے دن میں تمہارے حق میں یہ گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تیر نکال دیں ‘ اور پھل اندر رہنے دیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے تیر نکال دیا ‘ اور پھل رہنے دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10289

Majma al-Zawaid #10289

وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَوْذِيِّ [عَنْ أَبِيهِ] قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْمُحَبَّقِ - فَقَالَ: وُلِدْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَبُشِّرَ بِي أَبِي، فَقَالُوا: وُلِدَ لَكَ غُلَامٌ، فَقَالَ: سَهْمٌ أَرْمِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبُّ إِلَيَ مِمَّا بَشَّرْتُمُونِي بِهِ، وَسَمَّانِي سِنَانًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَحَبِيبٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Samad ibn Habib al-Awdhi reported from his father, who said: We campaigned with Sinan ibn Salamah — meaning Ibn al-Muhabbaq. He said: I was born on the day of Hunayn. My father was given glad tidings of me — they said, "A boy is born to you." He said, "An arrow I shoot on behalf of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) is dearer to me than what you herald to me." And he named me Sinan (spearhead).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالصمد بن حبیب عوذی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم نے حضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لیا تو انہوں نے بتایا : میں غزوہ حنین کے دن پیدا ہوا تھا میرے بارے میں جب میرے والد کو خوشخبری سنائی گئی اور لوگوں نے کہا : کہ آپ کے ہاں بیٹا ہوا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : میں نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ایک سنان ( یعنی تیر ) پھینکوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا جس کی تم نے مجھے خوشخبری سنائی ہے پھر انہوں نے میرا نام سنان رکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے حبیب نامی راوی سے ان کے صاحبزادے کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

10290

Majma al-Zawaid #10290

وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ: «قَاتَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَنْصُرْنَا اللَّهُ وَلَمْ يُظْهِرْنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Adda ibn Khalid ibn Hawdhah (may Allah be pleased with him) reported: We fought the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), and Allah neither aided us nor gave us victory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ لڑائی کی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد نہیں کی اور اس میں ہمیں غلبہ نہیں دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں .

10291

Majma al-Zawaid #10291

عَنْ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يَحْبِسَ السَّبَايَا وَالْأَمْوَالَ بِالْجِعْرَانَةِ حَتَّى يَقْدَمَ فَحُبِسَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يُسَمِّ ابْنَ بُدَيْلٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Budayl ibn Warqa (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ordered him to detain the captives and the property at Jiranah until he should come — so they were detained.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قیدیوں اور اموال کو جعرانہ کے مقام پر روک کے رکھیں جب تک نبی اکرم ﷺ تشریف نہیں لے آتے راوی کہتے ہیں : تو میں نے اسے روک کے رکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اسے حضرت بدیل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے حضرت بدیل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10292

Majma al-Zawaid #10292

وَعَنْ أَبِي جَرْوَلٍ زُهَيْرِ بْنِ صُرَدَ قَالَ: «لَمَّا أَسَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ يَوْمَ هَوَازِنَ، وَذَهَبَ يُفَرِّقُ السَّبْيَ وَالشَّاءَ أَتَيْتُهُ، فَأَنْشَأْتُ أَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ: امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَرَمٍ ... فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَنْتَظِرُ امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ... مُشَتَّتٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هُتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ... عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغَمْرُ إِنْ لَمْ تُدَارِكْهُمُ رَحْمَاءُ تَنْشُرُهَا ... يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ... إِذْ فُوكَ يَمْلَأُهُ مِنْ مَخْضِهَا الدُّرَرُ إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْضَعُهَا ... وَإِذْ يُزَيِّنُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ ... وَاسْتَبْقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهْرُ إِنَّا لَنَشْكُرُ لِلنَّعْمَاءِ إِذْ كُفِرَتْ ... وَعِنْدَنَا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ مُدَّخَرُ فَأَلْبِسِ الْعَفْوَ مَنْ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهُ ... مِنْ أُمَّهَاتِكَ إِنَّ الْعَفْوَ مُشْتَهِرُ يَا خَيْرَ مَنْ مَرِحَتْ كُمْتُ الْجِيَادِ بِهِ ... عِنْدَ الْهَيَاجِ إِذَا مَا اسْتَوْقَدَ الشَّرَرُ إِنَّا نُؤَمِّلُ عَفْوًا مِنْكَ تَلْبَسُهُ ... هَادِي الْبَرِيَّةِ إِذْ يَعْفُو وَيَنْتَصِرُ فَاعْفُ عَفَا اللَّهُ عَمَّا أَنْتَ رَاهِبُهُ ... يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذْ يُهْدِي لَكَ الظَّفَرُ فَلَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا الشِّعْرَ، قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ "". وَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Jarwal Zuhayr ibn Surad (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) took us captive on the day of Hunayn, the day of Hawazin, and began distributing the captives and the sheep, I came to him and began reciting this verse: "Bestow upon us, O Messenger of Allah, in generosity, for you are the man we hope and await. Bestow upon the tribe that fate has hindered, whose union is scattered, changed by time. Time has left us wailing in grief, with anguish and sorrow upon their hearts. If no outspread mercy reaches them, O weightiest of men in forbearance when tested. Bestow upon women you used to nurse, when your mouth filled with pure milk from their churn. When you were a small child you nursed them, adorned by what you bring and what you leave. Make us not like those whose union is scattered; spare us, for we are a radiant company. We give thanks for blessings though they were denied, and have store after this day. Clothe with pardon those you nursed among your mothers — pardon is renowned. O best of those over whom dark steeds pranced at the battle's blaze when sparks were kindled. We hope for a pardon from you to wear, O guide of creation, pardoning and victorious. So pardon — may Allah pardon what you fear on the Day of Resurrection when triumph is granted you." When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) heard this verse, he (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"What is mine and Banu Abd al-Muttalib's is yours."** Quraysh said, "What is ours is for Allah and His Messenger." And the Ansar said, "What is ours is for Allah and His Messenger."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجرول زہیر بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن کے ساتھ جنگ کے موقع پر اللہ کے رسول نے ہمیں قیدی بنا لیا تو آپ قیدیوں اور بھیڑ بکریوں کو الگ کرنے لگے میں آپ کے پاس آیا اور میں نے یہ اشعار سنانے شروع کیے : ’’ اے اللہ کے رسول اکرم کے ہمراہ ہم پر احسان کیجیے ! کیونکہ آپ ایک ایسے فرد ہیں ‘ جن سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہم ( آپ کے کرم کے ) منتظر ہیں ، آپ اس جماعت پر احسان کیجیے جس کو تقدیر نے عاق کر دیا ہے ‘ اور اس کی اجتماعیت کو منتشر کر کے زمانے نے ان کے احوال تبدیل کر دیے ہیں ‘ زمانے نے ہمیں یوں باقی رکھا ہے کہ ہم غم کی چیخ و پکار کرتے ہیں ‘ ان کے دلوں پر شدید غم اور پریشانی ہے ‘ اگر آپ نے رحمت کو پھیلا کر ‘ ان کی مدد نہ کی ‘ اے وہ فرد کہ جب تحقیق کی جائے تو برد باری کے حوالے سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ راجح ہونگے ‘ آپ ان خواتین پر مہربانی کیجیئے ‘ جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ‘ کیونکہ آپ کے منہ میں ‘ ان کے دودھ کے برتن کے ذریعے خالص دودھ آیا ‘ جب آپ چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کا دودھ پیتے تھے ‘ جب آپ کو وہ چیز اچھی لگتی تھی جو وہ لے کر آتی تھی اور جو وہ چھوڑ جاتی تھی ، آپ ہمیں اس کی طرح نہ بنا دیں ، جس کی اجتماعیت منتشر ہو گئی ‘ اور ہمیں باقی رہنے دیں کیونکہ ہم روشن گروہ ہیں ، جب کفران نعمت کیا جائے تو ہم اس وقت ( نعمتوں کے ) شکر گزار ہوتے ہیں ‘ اور اس دن کے بعد بھی ہمارے پاس ذخیرہ ہے ‘ تو آپ انہیں معافی عطا کر دیں جن کے ہاں آپ کی رضاعت ہوئی تھی ، جن میں آپ کی ( رضاعی ) مائیں بھی ہیں ، کیونکہ معاف کرنا مشہور ہوتا ہے ‘ اے ان میں سب سے بہتر ‘ کہ جنگ کے وقت ‘ سرخ و سیاہ رنگ کے گھوڑے جس سے آرام پاتے ہیں ‘ جب تک ( جنگ کے ) شعلے بھڑکتے رہیں ، ہم آپ کی طرف سے معافی کی امید رکھتے ہیں ‘ آپ کو ’’ مخلوق کو ہدایت دینے والے ‘‘ کا لقب دیا گیا ہے ‘ کیونکہ آپ معاف کرتے ہیں اور مدد کرتے ہیں ، تو آپ معاف کر دیں ‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان چیزوں سے بچا کر رکھے ‘ جن سے آپ بچنا چاہتے ہیں اور آپ کو کامیابی نصیب کرے ‘‘۔ جب نبی اکرم ﷺ نے یہ اشعار سنے تو آپ نے فرمایا : جو چیز میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتی ہے وہ تمہاری ہوئی قریش نے کہا : جو چیز ہمارے حصے میں آتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوئی انصار نے کہا : جو چیز ہمارے حصے میں آتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10293

Majma al-Zawaid #10293

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ وَفْدَ هَوَازِنَ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجِعْرَانَةِ، وَقَدْ أَسْلَمُوا قَالُوا: إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ. وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ يُقَالُ لَهُ: زُهَيْرٌ، وَيُكَنَّى بِأَبِي صُرَدَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نِسَاؤُنَا عَمَّاتُكَ وَخَالَاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ اللَّاتِي كَفَلْنَكَ، وَلَوْ أَنَّا لَحِقَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي شِمْرٍ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثُمَّ نَزَلَ بِنَا مِنْهُ مِثْلُ الَّذِي أَنْزَلْتَ بِنَا لَرَجَوْنَا عَطْفَهُ وَعَائِدَتَهُ عَلَيْنَا، وَأَنْتَ خَيْرُ الْمَكْفُولِينَ. ثُمَّ أَنْشَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شِعْرًا قَالَهُ، وَذَكَرَ فِيهِ قَرَابَتَهُ، وَمَا كَفَلُوا مِنْهُ فَقَالَ: امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَرَمٍ ... فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَنْتَظِرُ امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ... مُفَرَّقٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هُتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ... عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغِمْرُ إِنْ لَمْ تُدَارِكْهُمُ رَحْمَاءُ تَنْشُرُهَا ... يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ... إِذْ فُوكَ تَمْنَؤُهُ مِنْ مَخْضِهَا دُرَرُ إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْضَعُهَا ... وَإِذْ يُزَيِّنُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ ... وَاسْتَبْقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهْرُ. قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported: When the delegation of Hawazin came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) at Jiranah, having embraced Islam, they said, "We are a root and a kin; there has befallen us of calamity what is not hidden from you — so bestow upon us, may Allah bestow upon you." A man of Hawazin of Banu Sad ibn Bakr called Zuhayr, surnamed Abu Surad, said, "O Messenger of Allah, our women are your paternal aunts, your maternal aunts, and your nursing mothers who raised you. Had we joined al-Harith ibn Abi Shimr or al-Numan ibn al-Mundhir, then suffered from him the like of what we suffered from you, we would hope for his pity and kindness toward us — and you are the best of nurslings." Then he recited before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) a verse he had composed, mentioning his kinship and their nursing of him: "Bestow upon us, O Messenger of Allah, in generosity, for you are the man we hope and await. Bestow upon the tribe that fate has hindered, whose union is scattered, changed by time. Time has left us wailing in grief, with anguish and sorrow upon their hearts. If no outspread mercy reaches them, O weightiest of men in forbearance when tested. Bestow upon women you used to nurse, when your mouth filled with pearls of milk from their churn. When you were a small child you nursed them, adorned by what you bring and what you leave. Make us not like those whose union is scattered; spare us, for we are a radiant company." Then he mentioned the rest of the account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہوازن قبیلے کا وفد جب جعرانہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ اسلام قبول کر چکے تھے انہوں نے عرض کی : ہم اصل ہیں ‘ اور خاندان کے لوگ ہیں ہمیں جو آزمائش لاحق ہوئی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں ہے آپ ہم پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر مہربانی کرے ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا جن کا نام زہیر تھا ‘ اور ان کی کنیت ابوصرد تھی انہوں نے یہ بات بیان کی یا رسول اللہ ہماری عورتیں آپ کی پھوپھیاں ہیں آپ کی خالائیں ہیں آپ کی دائی مائیں ہیں ‘ جنہوں نے آپ کی کفالت کی تھی اگر ہم حارث بن ابوشمر یا نعمان بن منذر سے جا کے ملے ہوتے اور پھر اس کی طرف سے ہمیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا جس طرح کی صورت حال کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے ‘ تو ہمیں اس کی اپنے اوپر مہربانی اور عنایت کی امید ہونی تھی اور آپ تو کفالت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اشعار سنائے جو انہوں نے کہے تھے اور اس میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت کا ذکر کیا اور نبی اکرم ﷺ کی جو انہوں نے کفالت کی تھی اس کا ذکر کیا اور یہ اشعار سنائے : ’’ اے اللہ کے رسول ! کرم کے ہمراہ ہم پر احسان کیجیے ! کیونکہ آپ ایک ایسے فرد ہیں ، جن سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہم ( آپ کے کرم کے ) منتظر ہیں ، آپ اس جماعت پر احسان کیجیے جس کو تقدیر نے عاق کر دیا ہے ‘ اور اس کی اجتماعیت کو منتشر کر کے زمانے نے ان کے احوال تبدیل کر دیے ہیں ‘ زمانے نے ہمیں یوں باقی رکھا ہے کہ ہم غم کی چیخ و پکار کرتے ہیں ان کے دلوں پر شدید غم اور پریشانی ہے ‘ اگر آپ نے رحمت کو پھیلا کر ‘ ان کی مدد نہ کی ‘ اے وہ فرد کہ جب تحقیق کی جائے تو برد باری کے حوالے سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ راجح ہونگے ‘ آپ ان خواتین پر مہربانی کیجئے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ‘ کیونکہ آپ کے منہ میں ‘ ان کے دودھ کے برتن کے ذریعے خالص دودھ آیا ‘ جب آپ چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کا دودھ پیتے تھے ‘ جب آپ کو وہ چیز اچھی لگتی تھی جو وہ لے کر آتی تھی اور جو وہ چھوڑ جاتی تھی ‘ آپ ہمیں اس کی طرح نہ بنا دیں ، جس کی اجتماعیت منتشر ہو گئی اور ہمیں باقی رہنے دیں کیونکہ ہم روشن گروہ ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10294

Majma al-Zawaid #10294

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[يَوْمَ حُنَيْنٍ] وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلٌ وَعَشِيرَةٌ فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ; فَإِنَّهُ [قَدْ] نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: "" اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَنْسَابِكُمْ "". قَالُوا: خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا، نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا، فَقَالَ: "" مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُولُوا: إِنَّا [نَسْتَشْفِعُ] بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبِالْمُسْلِمِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا "". قَالَ: فَفَعَلُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ""، وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي فَزَارَةَ فَلَا، وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا، فَقَالَ الْحَيَّانِ: كَذَبْتَ!! بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ [رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -]: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ مَا يَفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا "". ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ يَقُولُونَ: اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا حَتَّى أَلْجَئُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمً لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَلْقُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا "". ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ فَجَعَلَهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَفَعَهَا، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ، إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخَمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَرُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا "". فَقَامَ رَجُلٌ مَعَهُ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ أُصْلِحُ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبِرَ. فَقَالَ: "" أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا إِذَا بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي بِهَا. وَنَبَذَهَا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported: I witnessed the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) — on the day of Hunayn — when the delegations of Hawazin came to him and said, "O Messenger of Allah, we are a family and a kin — bestow upon us, may Allah bestow upon you; there has befallen us of calamity what is not hidden from you." He said: > **"Choose between your women, your property, and your lineages."** They said, "You have given us choice between our honors and our property — we choose our children." He said: > **"What is mine and Banu Abd al-Muttalib's is yours. When I pray Zuhr, say: we seek intercession by the Messenger of Allah with the Muslims, and by the Muslims with the Messenger of Allah, for our women and our children."** They did so. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"As for what is mine and Banu Abd al-Muttalib's, it is yours."** The Muhajirun said, "What is ours is for the Messenger of Allah." The Ansar said the like. Uyaynah ibn Badr said, "As for what is mine and Banu Fazarah's — no." Al-Aqra ibn Habis said, "As for me and Banu Tamim — no." Abbas ibn Mirdas said, "As for me and Banu Sulaym — no." The two clans said, "You lie! Rather it is for the Messenger of Allah." Then the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"O people, return to them their women and their property. Whoever holds to anything of this fay, he shall have six shares upon us from the first fay Allah grants us."** Then he mounted his mount, and the people clung to him, saying, "Divide our fay among us!" until they forced him to a lote-tree and it snatched his cloak. He said: > **"O people, return my cloak to me. By Allah, were livestock as numerous as the trees of Tihamah, I would divide them among you — then you would not find me miserly, nor cowardly, nor lying."** Then he drew near a camel, took a hair from its hump, placed it between his forefinger and middle finger, raised it, and said: > **"O people, I have of this fay not even this, except the fifth — and the fifth is returned to you. Return the needle and the thread, for misappropriation shall be upon its people on the Day of Resurrection shame, fire, and disgrace."** A man carrying a ball of hair stood and said, "I took this to mend the saddle of a mangy camel of mine." He said: > **"As for what is mine and Banu Abd al-Muttalib's, it is yours."** The man said, "O Messenger of Allah, now that it amounts to what I see, I have no need of it." And he cast it away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ہوازن کے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اصل ہیں اور خاندان کے لوگ ہیں آپ ہم پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا کیونکہ ہمیں جس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ آپ سے مخفی نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی بیویوں اموال اور بچوں میں سے کسی کو اختیار کر لو انہوں نے عرض کی : آپ نے ہمارے حسب اور ہمارے اموال کے درمیان ہمیں اختیار دیا ہے تو ہم اپنے بیٹوں کو اختیار کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتا ہے وہ تمہارا ہوا جب میں ظہر کی نماز ادا کر لوں گا ‘ تو تم یہ کہنا کہ ہم اللہ کے رسول کی سفارش مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ‘ اور مسلمانوں کی سفارش اللہ کے رسول کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ہماری خواتین اور ہمارے بچوں کے بارے میں ہے ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : جو کچھ میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتا ہے وہ تمہارا ہوا مہاجرین نے کہا : جو ہمارے حصے میں آتا ہے وہ اللہ کے رسول کا ہوا انصار نے بھی اس کی مانند بات کہی عیینہ بن بدر نے کہا : جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے ‘ جو میرے اور بنوفزارہ کے حصے میں آتی ہے ‘ تو وہ ہم نہیں دیتے اقرع بن حابس نے کہا : جو چیز میرے اور بنو تمیم کے حصے میں آتی ہے وہ بھی ہم نہیں چھوڑتے عباس بن مرداس نے کہا : جو چیز میرے اور بنوسلیم کے حصے میں آتی ہے وہ ہم نہیں چھوڑتے حیان نے کہا : تم غلط کہہ رہے ہو بلکہ وہ بھی اللہ کے رسول کی ہو گی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو تم ان کی عورتیں اور ان کے بیٹے انہیں واپس کر دو تم میں سے جو شخص اس مال غنیمت میں سے کوئی چیز رکھنا چاہتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ ہمیں جو پہلا مال فئے عطا کرے گا اس میں سے ہم چھ حصے اسے دے دیں گے پھر نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے ‘ اور لوگوں کے ساتھ ملے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آپ ہمارے درمیان تقسیم کریں جو ہمارا مال فئے ہے ‘ یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا آپ کی چادر کھینچ لی گئی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو میری چادر مجھے واپس کرو اللہ کی قسم اگر تمہارے لئے تہامہ کے درختوں کی تعداد جتنی نعمتیں ہوں تو میں وہ تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور پھر تم مجھ سے ایسی حالت میں نہیں ملو گے کہ مجھے کنجوس یا بزدل یا جھوٹا پاؤ پھر نبی اکرم ﷺ ایک اونٹ کے قریب ہوئے آپ نے اس کی کوہان میں سے ایک بال لیا اور اسے اپنی دو انگلیوں کے درمیان شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان رکھا پھر اسے بلند کیا اور فرمایا : اے لوگو اس مال فئے میں سے اور اس میں سے میرے لئے اتنی چیز لینے کی بھی اجازت نہیں ہے البتہ خمس کا حکم مختلف ہے ‘ اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا ‘ تو تم دھاگہ اور سوئی تک ادا کر دو کیونکہ خیانت قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لئے شرمندگی آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا اس نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ میں نے اس لئے لیا تھا تاکہ اپنے اونٹ کو نکلنے والے پھوڑے کی خاطر اسے پالان کے نیچے رکھ دوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کچھ میرا اور بنو عبدالمطلب کے حصے کا ہے وہ تمہارا ہوا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اب میں نے جو چیز دیکھی ہے جب یہ صورت حال ہو چکی ہے ‘ تو پھر مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے پھر اس نے اسے رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور ان کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

10295

Majma al-Zawaid #10295

«وَعَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ كَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَبْيِ هَوَازِنَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَشِيرَتُكَ وَأَصْلُكَ، وَكُلُّ الْمُرْضِعِينَ دُونَكَ، وَلِهَذَا الْيَوْمِ اخْتَبَأْنَاكَ، وَهُنَّ أُمَّهَاتُكَ وَأَخَوَاتُكَ وَخَالَاتُكَ. فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ إِلَّا رَجُلَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبُوا فَخَيِّرُوهُمَا ""، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنِّي أَتْرُكُهُ. وَقَالَ الْآخَرُ: لَا أَتْرُكُهُ. فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ أَخِسَّ سَهْمَهُ "". فَكَانَ يَمُرُّ بِالْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالْغُلَامِ فَيَدَعُهُ حَتَّى مَرَّ بِعَجُوزٍ قَالَ: فَإِنِّي آخُذُ هَذِهِ فَإِنَّهَا أُمُّ حَيٍّ، وَيَسْتَفْدُونَهَا مِنِّي بِمَا قَدَرُوا عَلَيْهِ، فَكَبَّرَ عَطِيَّةُ وَقَالَ: خُذْهَا. ثُمَّ قَالَ لِلرَّسُولِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فُوهَا بِبَارِدٍ، وَلَا ثَدْيُهَا بِنَاهِدٍ، وَلَا وَافِدُهَا بِوَاجِدٍ، عَجُوزٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَقْرَاءُ سَبِيَّةٌ مَا لَهَا أَحَدٌ، فَلَمَّا رَآهَا لَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ تَرَكَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ الزُّبَيْرُ وَالِدُ النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصَّنْعَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Atiyyah (may Allah be pleased with him), who was among those who spoke to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of the Hawazin captives, reported: He said, "O Messenger of Allah, your kin and your root, and all the nursing ties before you — for this day we kept you in store. They are your mothers, your sisters, and your maternal aunts." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) spoke to his Companions, and they returned their captives to them except two men. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Go and give them choice."** One of them said, "I leave mine." The other said, "I shall not leave mine." When he turned away, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"O Allah, spoil his share."** He would pass by a virgin girl or a boy and leave them, until he passed an old woman. He said, "I shall take this one, for she is the mother of a clan — they will ransom her from me for all they can." Atiyyah said Allahu Akbar and said, "Take her." Then he said to the Messenger, "O Messenger of Allah, her mouth is not cool, her breast is not firm, and she has no kinsman to ransom her — an old woman, O Messenger of Allah, toothless, a captive with none." When he saw that none would take her, he left her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں جب نبی اکرم ﷺ سے بات چیت کی گئی ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کے خاندان کے لوگ اور آپ کے اصل ہیں ‘ اور دودھ پلانے کے حوالے سے آپ کے رشتے دار ہیں آج کے دن کے لئے ہی ہم نے آپ کو سنبھال کے رکھا ہوا تھا یہ خواتین آپ کی مائیں ہیں آپ کی بہنیں ہیں آپ کی خالائیں ہیں نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی اور ان لوگوں کے قیدی انہیں واپس کر دیے صرف دو افراد کا معاملہ مختلف تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جاؤ اور ان دونوں کو اختیار دو تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا : میں اپنا حصہ چھوڑتا ہوں ‘ اور دوسرے نے کہا : میں اسے نہیں چھوڑوں گا جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ تو اس کے حصے کو خراب کر دے ‘ تو وہ شخص ایک کنواری کنیز اور لڑکے کے پاس سے گزرا اس نے اسے چھوڑ دیا پھر وہ ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرا ‘ تو اس نے یہ سوچا کہ مجھے اس کو لے لینا چاہیے کیونکہ یہ قبیلے کی ماں ہے وہ لوگ بھرپور کوشش کر کے مجھ سے اس کو چھڑوائیں گے ‘ تو حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور کہا اسے لے لو پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا یا رسول اللہ نہ تو اس عورت کا منہ ٹھنڈا ہے ‘ اور نہ ہی اس کی چھاتی ابھری ہے ‘ اور نہ ہی اس کا کوئی سگا ہے ‘ یا رسول اللہ یہ ایک بوڑھی عورت ہے ‘ اس کا کوئی نہیں ہے ‘ جب اس شخص نے یہ صورت حال دیکھی کہ کوئی اس عورت کی طرف توجہ نہیں دے رہا تو اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبیر ہے ‘ جو نعمان بن زبیر صنعانی کا والد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10296

Majma al-Zawaid #10296

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: حَكِيمُ بْنُ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابٍ، يُكَنَّى أَبَا خَالِدٍ وَأُمُّهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَسَدٍ وَأُمُّهَا سَلْمَى بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ عَبْدِ الدَّارِ، وَكَانَ إِسْلَامُهُ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَكَانَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ أَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ بَعِيرٍ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani reported: Hakim ibn Hizam ibn Khuwaylid ibn Asad ibn Abd al-Uzza ibn Qusayy ibn Kilab, surnamed Abu Khalid. His mother was Safiyyah bint Zuhayr ibn al-Harith ibn Asad, and her mother was Salma bint Abd Manaf ibn Abd al-Dar. He embraced Islam on the day of the Conquest, and he was of those whose hearts were reconciled — the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) gave him one hundred camels of the spoils of Hunayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب ان کی کنیت ابوخالد ہے ان کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت زہیر بن حارث بن اسد ہیں اور ان کی والدہ سلمہ بنت عبد مناف بن عبدالدار ہیں ان صحابی نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا یہ مؤلفۃ القلوب میں سے ہیں نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے مال غنیمت میں سے ایک سو اونٹ انہیں عطا کیے تھے ۔

10297

Majma al-Zawaid #10297

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسْمًا عَلَى الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، فَوَجَدَتِ الْأَنْصَارُ فِي أَنْفُسِهَا، فَقَالُوا: قَسَمَ فِيهِمْ، فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، قَالَ ابْنُ الطَّهْرَانِيِّ: كَانَ ثِقَةً.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) divided on the day of Hunayn a share among those whose hearts were to be reconciled, and the Ansar felt grievance within themselves. They said, "He divided among them." He said: > **"O company of the Ansar, will you not be pleased to go with the Messenger of Allah among you?"** They said, "Yes indeed."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کا مال غنیمت مؤلفۃ القلوب کے درمیان تقسیم کر دیا ‘ تو انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی ۔ انہوں نے یہ کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے درمیان ( مال غنیمت ) تقسیم کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم لوگ اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے جاؤ تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ابن طہرانی کہتے ہیں یہ ثقہ ہے ۔

10298

Majma al-Zawaid #10298

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِوَفْدِ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ، وَسَأَلَهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ النَّصْرِيِّ: "" مَاذَا فَعَلَ مَالِكٌ؟ "". قَالَ: هُوَ بِالطَّائِفِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَخْبِرُوا مَالِكًا أَنَّهُ إِنْ يَأْتِنِي مُسْلِمًا رَدَدْتُ إِلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ "". فَأُتِيَ مَالِكٌ بِذَلِكَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّائِفِ، وَكَانَ مَالِكٌ خَافَ ثَقِيفًا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَالَ لَهُ مَا قَالَ، فَيَحْبِسُوهُ، فَأَمَرَ بِرَاحِلَةٍ لَهُ فَهُيِّئَتْ، وَأَمَرَ بِفَرَسٍ لَهُ فَأُتِيَ بِهِ مِنَ الطَّائِفِ، فَخَرَجَ لَيْلًا فَجَلَسَ عَلَى فَرَسِهِ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْرَكَهُ بِالْجِعْرَانَةِ أَوْ مَكَّةَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ، وَأَعْطَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to the delegation of Hawazin at Hunayn, asking them about Malik ibn Awf al-Nasri: > **"What did Malik do?"** They said, "He is at Taif." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Inform Malik that if he comes to me a Muslim, I shall return to him his family and his property, and give him a hundred camels."** That was conveyed to Malik, and he came out to him from Taif. Malik feared Thaqif for himself — lest they learn what the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) had said to him and detain him — so he ordered a mount of his to be prepared and a horse of his to be brought from Taif. He set out by night, mounted his horse, and caught up with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), reaching him at Jiranah — or Makkah. He returned to him his family and his property, and gave him a hundred camels.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حنین میں ہوازن قبیلے کے وفد سے فرمایا جب کہ ان لوگوں سے آپ نے مالک بن عوف نصری کے بارے میں دریافت کیا تھا کہ مالک کا کیا حال ہے ‘ تو انہوں نے بتایا : وہ طائف میں ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ مالک کو یہ بتا دو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ گیا تو میں اس کے اہلخانہ اور اس کا مال اسے واپس کر دوں گا اور اسے ایک سو اونٹ بھی دوں گا ‘ اس بات کی اطلاع مالک کو دی گئی ، تو وہ طائف سے نکل کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے مالک کو اپنی ذات کے حوالے سے ثقیف قبیلے کے لوگوں سے اندیشہ تھا کہ وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں یہ بات کہی ہے ‘ تو کہیں وہ ان کو قید نہ کر لیں مالک نے اپنی سواری کے بارے میں حکم دیا وہ تیار کی گئی ۔ انہوں نے اپنے گھوڑے کے بارے میں حکم دیا وہ طائف سے ان کے پاس لایا گیا اور وہ رات کے وقت نکل آئے وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھے اور نبی اکرم ﷺ سے آ ملے وہ جعرانہ یا شاید مکہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اہلخانہ اور ان کا مال انہیں واپس کر دیا ‘ اور انہیں ایک سو اونٹ بھی عطا کیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10299

Majma al-Zawaid #10299

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ وَجِبْرِيلُ إِلَى جَنْبِهِ، فَجَاءَ مَلَكٌ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ: "" تَعْرِفُهُ؟ ""، فَقَالَ: هُوَ مَلَكٌ وَمَا كُلُّ مَلَائِكَةِ رَبِّكَ أَعْرِفُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: فَخَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ شَيْطَانًا. وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَرُمِيَ بِالْكَذِبِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ. وَأَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ فِي غَنَائِمِ حُنَيْنٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was dividing the spoils of Hunayn with Jibril at his side, when an angel came and said, "Your Lord commands you such-and-such." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to Jibril: > **"Do you know him?"** He said, "He is an angel — and I do not know all the angels of your Lord." In an addition: the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) feared he might be a devil. Many hadiths on the virtues of the Ansar concerning the spoils of Hunayn belong in their chapter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پہلو میں موجود تھے ایک فرشتہ آیا اس نے کہا : آپ کے پروردگار نے آپ کو اس اس بات کا حکم دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : کیا تم اسے پہنچانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یہ فرشتہ ہی ہے آپ کے پروردگار کے تمام فرشتوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ شیطان نہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ‘ اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ غزوہ حنین کے مال غنیمت کے بارے میں انصار کے مناقب سے متعلق باب میں بہت سی احادیث آئیں گی ۔

10300

Majma al-Zawaid #10300

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: أَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, naming those martyred on the day of Hunayn, reported: Ayman ibn Ubayd (may Allah be pleased with him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق غزوہ حنین میں جام شہادت نوش کرنے والوں کے نام میں حضرت ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10301

Majma al-Zawaid #10301

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ فِي مَنْ ثَبَتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيْمَنُ بْنُ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدٍ. قُلْتُ: هَذَا مَكْتُوبٌ بَعْدَ كَلَامِ ابْنِ إِسْحَاقَ الَّذِي قَبْلَهُ، وَلَيْسَ هُوَ فِي السَّمَاعِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (may Allah be pleased with him) reported: Among those who stood firm with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was Ayman ibn Umm Ayman — that is, Ibn Ubayd (may Allah be pleased with him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے تھے ( اور انہوں نے غزوہ حنین میں جام شہادت نوش کیا ) ان میں سے ایک حضرت ایمن بن اُم ایمن رضی اللہ عنہ ہیں ( راوی کہتے ہیں ) یہ حضرت ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ چیز ابن اسحاق کے اس کلام کے بعد تحریر ہے ‘ جو روایت اس سے پہلے گزری ہے ‘ اور یہ روایت سماع میں شامل نہیں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

10302

Majma al-Zawaid #10302

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: أَيْمَنُ بْنُ أُمِّ أَيْمَنَ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَهُوَ أَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخُو بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَهُوَ أَخُو أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ لِأُمِّهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani reported: Ayman ibn Umm Ayman was martyred on the day of Hunayn. He is Ayman ibn Ubayd, the brother (by alliance) of Banu Awf ibn al-Khazraj, and the brother of Usamah ibn Zayd by his mother (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی فرماتے ہیں : حضرت ایمن بن ام ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہا نے حنین کے موقع پر جام شہادت نوش کیا تھا یہ ایمن بن عبید ہیں ، جن کا تعلق بنو عوف بن خزرج سے ہے ‘ اور یہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ماں کی طرف سے شریک بھائی ہیں ۔

10303

Majma al-Zawaid #10303

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: وَقُتِلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى: زَيْدُ بْنُ رَبِيعَةَ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى: زَيْدُ بْنُ زَمْعَةَ، قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: هَكَذَا قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ وَهْمٌ. قُلْتُ: وَالصَّوَابُ أَنَّهُ يَزِيدُ كَمَا سَيَأْتِي عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ: سُرَاقَةُ بْنُ الْحُبَابِ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Urwah reported: There were killed on the day of Hunayn, of the Muslims, of Quraysh then of Banu Asad ibn Abd al-Uzza: Zayd ibn Rabiah. And of Quraysh then of Banu Asad ibn Abd al-Uzza: Zayd ibn Zamaah — al-Tabarani said: So said Ibn Lahiah, and it is a mistake; the correct is Yazid, as shall come from al-Zuhri. And of the Ansar, of Banu Amr ibn Awf then of Banu al-Ajlan: Suraqah ibn al-Hubab (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر مسلمانوں میں سے قریش کی شاخ بنواسد بن عبدالعزی سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس کے علاوہ قریش کی شاخ بنو اسد بن عبدالعزی سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن زمعہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے ۔ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ابن لہیعہ نے اسی طرح بیان کیا ہے ‘ اور یہ بات وہم ہے میں یہ کہتا ہوں درست یہ ہے کہ یہ یزید ہیں جیسا کہ زہری کے حوالے سے آگے یہ روایت آئے گی ۔ انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے حضرت سراقہ بن حباب رضی اللہ عنہ شہید ہونے والوں میں شامل ) ہیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

10304

Majma al-Zawaid #10304

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ: مُرَّةُ بْنُ سُرَاقَةَ بْنِ الْحُبَابِ، هَكَذَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ. وَاسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: يَزِيدُ بْنُ زَمْعَةَ. وَرِجَالُهُمَا إِلَى الزُّهْرِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, naming those martyred with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), of the Ansar then of Banu al-Ajlan, reported: Murrah ibn Suraqah ibn al-Hubab — so said Ibn Shihab. And there was martyred with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Hunayn, of Quraysh then of Banu Asad: Yazid ibn Zamaah (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ( غزوہ حنین کے موقع پر ) شہید ہونے والوں کے ناموں میں ان کا ذکر کیا ہے انصار کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے حضرت مرہ بن سراقہ بن حباب ، ابن شہاب نے اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ غزوہ حنین کے موقع پر قریش کی شاخ بنواسد سے تعلق رکھنے والے حضرت یزید بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تھے ۔ زہری تک ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10305

Majma al-Zawaid #10305

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: يَزِيدُ بْنُ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ جَمَحَ بِهِ فَرَسٌ - يُقَالُ لَهُ: الْجَنَاحُ - فَقَتَلَهُ. وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ: سُرَاقَةُ بْنُ الْحُبَابِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ. وَإِسْنَادُهُمَا إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ishaq, naming those martyred with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), of Quraysh then of Banu Asad, reported: Yazid ibn Zamaah ibn al-Aswad ibn al-Muttalib — a horse called al-Janah bolted with him and killed him. And there was martyred on the day of Hunayn with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), of the Ansar: Suraqah ibn al-Hubab ibn Adi ibn al-Najjar (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق نے ( غزوہ حنین کے موقع پر ) نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کے ناموں میں قریش کی شاخ بنواسد سے تعلق رکھنے والے حضرت یزید بن زمعہ بن اسود بن مطالب رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے انہیں گھوڑے نے گرا دیا تھا ، جس کا نام جناح تھا ‘ اور اس وجہ سے یہ شہید ہوئے ۔ غزوہ حنین میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہونے والوں میں انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت سراقہ بن حباب بن عدی بن نجار رضی اللہ عنہ شامل ہیں ۔ ابن اسحاق تک ان دونوں روایات کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔

10306

Majma al-Zawaid #10306

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِصْنَ الطَّائِفِ، تَدَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَكَرَةٍ، فَقَالَ: "" كَيْفَ تَدَلَّيْتَ؟ "" فَقُلْتُ: تَدَلَّيْتُ بِبَكَرَةٍ، قَالَ: "" أَنْتَ أَبُو بَكَرَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو الْمِنْهَالِ الْبَكْرَاوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) besieged the fortress of Taif, I let myself down to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) by a pulley. He said: > **"How did you come down?"** I said, "I came down by a pulley." He said: > **"You are Abu Bakrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو میں ایک رسی کی مدد سے لٹک کر نبی اکرم ﷺ کی طرف آ گیا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نیچے کیسے آئے ؟ میں نے عرض کی : میں ایک رسی کی مدد سے لٹک کے آیا ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ابوبکرہ ہو ( یعنی رسی والے ہو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومنہال بکراوی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10307

Majma al-Zawaid #10307

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ مِنَ الْأَنْصَارِ: ثَابِتُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، وَثَعْلَبَةُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْجَذْعُ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ: رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَعْلَبَةَ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, naming those martyred on the day of Taif, of the Ansar, reported: Thabit ibn Thalabah, and Thalabah who is called al-Jadh (the stump). And of the Ansar, of Banu Amr ibn Awf then of Banu Muawiyah: Ruqaym ibn Thabit ibn Thalabah (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے غزوہ طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے یہ ثعلبہ وہ صاحب ہیں ‘ جنہیں ’’ جذع “ کہا جاتا ہے ۔ انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنو معاویہ سے تعلق رکھنے والے حضرت رقیم بن ثابت بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10308

Majma al-Zawaid #10308

وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَالِمٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَرَامٍ: ثَعْلَبَةُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْجَذْعُ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَارِثِ: رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتٍ أَوْ ثَابِتُ بْنُ ثَعْلَبَةَ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Urwah, naming those martyred on the day of Taif, of the Ansar then of Banu Salim then of Banu Haram, reported: Thalabah who is called al-Jadh. And of the Ansar, of Banu Amr ibn Awf then of Banu Muawiyah ibn al-Harith: Ruqaym ibn Thabit — or Thabit ibn Thalabah (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے یوم طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں انصار کے قبیلے بنو سالم کی شاخ بنو حرام سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے جنہیں ’’ جذع ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ انصار کے قبیلے بنوعمرو بن عوف کی شاخ بنو معاویہ بن حارث سے تعلق رکھنے والے حضرت رقیم بن ثابت رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت ثابت بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ان دونوں کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

10309

Majma al-Zawaid #10309

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ: جُلَيْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ نَاشِبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَوْسِ: رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ ثَوْبَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ. وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ: سَعِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي. رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, naming those martyred on the day of Taif, reported: Julayhah ibn Abdullah ibn Muharib ibn Nashib ibn Sad ibn Layth. And of the Ansar then of Banu Aws: Ruqaym ibn Thabit ibn Thalabah ibn Thawban ibn Muawiyah. And of Quraysh then of Banu Umayyah ibn Abd Shams: Said ibn Said ibn al-Asi (may Allah be pleased with them).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے غزوہ طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں حضرت جلیحہ بن عبدالله محارب بن ناشب بن سعد بن لیث رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ انصار کے قبیلے بنواوس سے تعلق رکھنے والے حضرت رقیم بن ثابت بن ثعلبہ بن ثوبان بن معاویہ ہیں ۔ اس کے علاوہ قریش کی شاخ بنوامیہ بن عبد شمس سے تعلق رکھنے والے حضرت سعید بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

10310

Majma al-Zawaid #10310

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ أَخُو أُمِّ سَلَمَةَ لِأَبِيهَا، أُمُّهُ: عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani reported: Abdullah ibn Abi Umayyah ibn al-Mughirah ibn Abdullah ibn Amr ibn Makhzum, the brother of Umm Salamah by her father — his mother was Atikah bint Abd al-Muttalib, the paternal aunt of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He embraced Islam on the day of the Conquest, met the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), and was martyred on the day of Taif with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن ابوامیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے والد کی طرف سے شریک بھائی ہیں ان صاحب کی والدہ کا نام عاتکہ بنت عبدالمطلب ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی ہیں ان صاحب نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا یہ نبی اکرم ﷺ سے ملے انہوں نے اسلام قبول کیا اور پھر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ طائف میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔

10311

Majma al-Zawaid #10311

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: «أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَيَّامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّدَقَةِ وَالْقُوَّةِ وَالتَّأَسِّي وَكَانَتْ نَصَارَى الْعَرَبِ كَتَبَتْ إِلَى هِرَقْلَ: إِنَّ هَذَا الَّذِي خَرَجَ يَنْتَحِلُ النُّبُوَّةَ قَدْ هَلَكَ وَأَصَابَتْهُ سِنُونُ فَهَلَكَتْ أَمْوَالُهُمْ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَلْحَقَ دِينَكَ فَالْآنَ، فَبَعَثَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يُقَالُ لَهُ: الضِّنَادُ، وَجَهَّزَ مَعَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ فِي الْعَرَبِ، وَكَانَ يَجْلِسُ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَدْعُو وَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ "" فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ قُوَّةٌ. وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَهَّزَ عِيرًا إِلَى الشَّامِ يُرِيدُ أَنْ يَمْتَارَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَقْتَابِهَا وَأَحْلَاسِهَا وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَبَّرَ النَّاسُ [ثُمَّ قَامَ مَقَامًا آخَرَ، وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَاتَا مِائَتَانِ وَمَائَتَا أُوقِيَّةٍ،، فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ] وَأَتَى عُثْمَانُ بِالْإِبِلِ وَأَتَى بِالصَّدَقَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" لَا يَضُرُّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) reported: He witnessed Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) in the days of the expedition of Tabuk, in the Army of Hardship. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ordered charity, strength, and consolation. The Christians of the Arabs had written to Heraclius: "This one who has come out claiming prophethood is ruined; years of drought have struck him and their wealth has perished. If you wish to overtake your religion, now is the time." So he sent a chief of theirs called al-Dinad, equipping with him forty thousand. When that reached the Prophet of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), he wrote among the Arabs, sitting each day upon the minbar, supplicating and saying: > **"O Allah, if this band perishes, You shall not be worshipped on earth."** The people had no strength. Uthman ibn Affan had equipped a caravan for Syria, intending to fetch grain upon it. He said, "O Messenger of Allah, these are two hundred camels with their saddles and cloths, and two hundred uqiyyah." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) praised Allah, and the people raised the takbir. Then he stood another time and ordered charity. Uthman stood and said, "O Messenger of Allah, and these are two hundred, and two hundred uqiyyah." He raised the takbir and the people raised it. Uthman brought the camels and brought the charity before him. I heard him say: > **"Nothing Uthman does after this day shall harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر جسے جیش عسرت کہا جاتا ہے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کرنے کی قوت فراہم کرنے اور ساتھ دینے کا حکم دیا کیونکہ عربوں کے عیسائیوں نے ہرقل کو خط لکھا تھا کہ یہ صاحب جو نکلے ہیں ، جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ‘ اور انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے ‘ جس کی وجہ سے ان کے اموال ہلاک ہو گئے ہیں ‘ تو اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے دین کو بچا لو تو اب یہ موقع ہے ‘ تو ہرقل نے اپنے بڑے سرداروں میں سے ایک سردار کو بھیجا جس کا نام ضنا تھا اس نے اس سردار کے ساتھ چالیس ہزار افراد بھی بھیجے جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے عربوں کے مختلف علاقوں میں مکتوب بھجوائے نبی اکرم ﷺ روزانہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے اے اللہ اگر ( مسلمانوں کے ) اس گروہ کو تو نے ہلاکت کا شکار کر دیا ‘ تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی اس وقت لوگوں کے پاس قوت نہیں تھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف ایک قافلہ بھیجا ہوا تھا وہ یہ چاہتے تھے کہ اس کے ذریعے اناج حاصل کریں گے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دو سو اونٹ ہیں یہ اپنے پالانوں اور کپڑوں سمیت ( میں نذر کرتا ہوں ) اور اس کے ساتھ دو سو اوقیہ ( چاندی ) ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور لوگوں نے تکبیر کہی پھر نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ کھڑے ہوئے آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ‘ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دو سو ( اونٹ ہیں ) اور دو سو اوقیہ ( چاندی ) ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی لوگوں نے بھی نعرہ تکبیر لگایا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ لے کر آئے ‘ اور صدقہ ( کی رقم ) لے کر آئے ‘ اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھی تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’ عثمان کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اگر وہ آج کے بعد کوئی عمل نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10312

Majma al-Zawaid #10312

وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ [وَكُنْتُ] عَلَى خِدْمَتِهِ ذَلِكَ السَّفَرَ، فَنَظَرْتُ إِلَى نِحْيِ السَّمْنِ قَدْ قَلَّ مَا فِيهِ، وَهَيَّأْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا فَوَضَعْتُ السَّمْنَ فِي الشَّمْسِ وَنِمْتُ، فَانْتَبَهْتُ بِخَرِيرِ النِّحْيِ، فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ بِيَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَآنِي: "" لَوْ تَرَكْتَهُ لَسَالَ وَادِيًا سَمْنًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ إِحْدَاهُمَا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، وَرِجَالُهُمَا وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Hamzah ibn Amr al-Aslami (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) set out for the expedition of Tabuk, and I was in his service that journey. I looked at the ghee-skin and saw how little was in it. I prepared food for the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), placed the ghee in the sun, and slept. I woke to the bubbling of the skin. I rose and seized its mouth with my hand. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) saw me and said: > **"Had you left it, it would have flowed a valley of ghee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے اس سفر کے دوران میں آپ کی خدمت پر مامور تھا میں نے گھی کے برتن میں دیکھا کہ اس میں گھی کم ہو چکا ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے کھانا تیار کیا پھر میں نے گھی کو دھوپ میں رکھ دیا ‘ اور میں سو گیا میں اس وقت بیدار ہوا جب اس برتن میں سے آواز آئی تو میں اٹھا میں نے اس کا سرا اپنے ہاتھ سے پکڑا نبی اکرم ﷺ مجھے ملاحظہ فرما رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو پوری وادی میں گھی بہہ رہا ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک سند کے ساتھ یہ علامات نبوت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10313

Majma al-Zawaid #10313

وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ قَالَ: «كُنَّا فِي مَسِيرٍ وَإِلَى جَنْبِي رَجُلٌ أَزْحَمُهُ بِاللَّيْلِ وَلَا أَعْرِفُهُ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ "" قُلْتُ: أَبُو رُهْمٍ، قَالَ: "" مَا فَعَلَ النَّفَرُ الطِّوَالُ الْجِعَادُ الْأُدْمُ مِنْ بَنِي غِفَارٍ؟ هَلْ مَعَنَا مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ أَحَدٌ؟ "" قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" فَمَا فَعَلَ النَّفَرُ الْأُدْمُ الْقِصَارُ الْخُنَّسُ مِنْ أَسْلَمَ؟ هَلْ مَعَنَا مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ أَحَدٌ؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" فَمَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الثِّطَاطُ؟ هَلْ مَعَنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" مَا مِنْ أَهْلِي أَحَدٌ أَعَزُّ عَلَيَّ مُخَلَّفًا مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ وَأَسْلَمَ وَغِفَارٍ، فَمَا يَمْنَعُ أَحَدَهُمْ إِذَا تَخَلَّفَ أَنْ يَفْقِرَ الْبَعِيرَ مِنْ إِبِلِهِ، فَيَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْخَارِجِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِ ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ruhm (may Allah be pleased with him) reported: We were on a march, and beside me was a man I crowded at night without knowing him — and behold, he was the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He said: > **"Who is this?"** I said, "Abu Ruhm." He said: > **"What became of the tall curly dark men of Banu Ghifar? Is any of them with us on the march?"** I said, "No." He said: > **"What became of the dark short pug-nosed men of Aslam? Is any of them with us on the march?"** I said, "No." He said: > **"What became of the red light-bearded men? Is any of them with us on the march?"** I said, "No." He said: > **"None of my family left behind is dearer to me when left behind than Quraysh, the Ansar, Aslam, and Ghifar. What prevents one of them, when he stays behind, from lending a camel of his, so he earns the like of the reward of the one who goes out?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سفر کر رہے تھے میرے پہلو میں کوئی صاحب تھے جو رات کے وقت میرے پاس آ جاتے تھے میں انہیں پہچانتا نہیں تھا وہ نبی اکرم ﷺ تھے آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : ابورہم نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان افراد کا کیا بنا جو طویل قد کے گھنگھریالے بالوں والے گندمی رنگت والے ہیں ، جن کا تعلق بنو غفار سے ہے کیا اس چلنے کے دوران ان میں سے کوئی ایک ہمارے ساتھ ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جو گندمی رنگت والے چھوٹے قد کے بیٹھے ہوئے ناک والے ہیں ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے ہے کیا ان میں سے کوئی ہمارے ساتھ چل رہا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جو سرخ رنگ کے مالک ہیں ‘ اور جن کی داڑھی ہلکی ہوتی ہے کیا ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے ساتھ چل رہا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اہلخانہ میں سے کسی کا مجھ سے پیچھے رہ جانا اتنا زیادہ گراں نہیں ہے جتنا گراں قریش یا انصار یا اسلم یا غفار قبیلے کے لوگوں میں سے کسی کا پیچھے رہ جانا ( مجھ پر گراں گزرتا ہے ) جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا ہو ‘ تو اس کے لئے اس کام میں کیا رکاوٹ ہے کہ وہ اپنے اونٹوں میں سے کوئی اونٹ عارضی استعمال کے لئے کسی کو دیدے تو اسے جانے والے شخص کی مانند اجر مل جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حضرت ابورہم رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں دونوں اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10314

Majma al-Zawaid #10314

وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ - قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ، فَلَمَّا فَصَلَ سَرَى لَيْلَةً فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا ; خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَأُؤَخِّرَ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي نِصْفَ اللَّيْلِ، فَرَكِبَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ، وَرِجْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: "" حِسَّ "". فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" سَلْ "". فَطَفِقَ يَسْأَلُنِي عَنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي: "" مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الطِّوَالُ الثِّطَاطُ أَوِ الْقِصَارُ - عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَشُكُّ - الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ؟ "". فَذَكَرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّيَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ».

EnglishUnverified translation

Abu Ruhm al-Ghifari (may Allah be pleased with him) — who was of the Companions of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) who pledged beneath the tree — reported: I campaigned with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) at Tabuk. When he separated, he journeyed by night, and I journeyed close to him. Drowsiness was cast upon me; I would wake to find my mount drawn near his mount, and its nearness startled me, fearing I would strike his foot in the stirrup. So I held my mount back, until at midnight my eyes overcame me and my mount mounted his mount, striking the foot of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) in the stirrup. I woke only at his saying: > **"Hiss."** I raised my head and said, "Seek forgiveness for me, O Messenger of Allah." He said: > **"Ask."** He began asking me about Banu Ghifar, and I informed him. Then he asked me: > **"What became of the red tall light-bearded ones — or the short ones — who have livestock at the cleft of Sharkh?"** I recalled them among Banu Ghifar but could not place them, until I remembered a group of Aslam. I said, "O Messenger of Allah, what prevents one of them, when he stays behind, from mounting an energetic man in the path of Allah upon a camel of his?" The dearest of my family to me, when left behind from me, are the Muhajirun of Quraysh, the Ansar, Aslam, and Ghifar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے ان اصحاب میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کی بیعت کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا ہوں نبی اکرم ﷺ لوگوں سے ذرا ہٹ گئے ‘ اور آپ رات بھر چلتے رہے میں بھی آپ کے قریب چلتا رہا پھر مجھے اونگھ آنے لگی پھر میری آنکھ کھل جاتی تھی میں نے دیکھا کہ میری سواری نبی اکرم ﷺ کی سواری کے قریب ہو گئی ہے آپ کے زیادہ قریب ہونے نے مجھے پریشان کر دیا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو تکلیف نہ پہنچا دوں تو میں نے اپنی سواری کو پیچھے کر لیا ‘ یہاں تک کہ نصف رات کے وقت میری آنکھ لگ گئی پھر میری سواری نبی اکرم ﷺ کی سواری کے قریب ہونے لگی نبی اکرم ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا آپ کے پاؤں کو تکلیف پہنچی تو میں آپ کے ان الفاظ پر بیدار ہوا : ارے ‘ میں نے سر اٹھایا پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کچھ پوچھو ( یا تم کچھ مانگو ) پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے بنوغفار کے بارے میں دریافت کرنا شروع کیا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا پھر آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان لوگوں کا کیا حال ہے ‘ جو سرخ رنگ کے مالک ‘ طویل قد والے ہیں ‘ ان کے بال چھوٹے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تھوڑے بالوں والے ہیں ‘ یہ شک عبدالرزاق نامی راوی کو ہے ‘ وہ لوگ جن کے ’’ شظیہ شرخ ‘‘ میں جانور ہیں ‘ میں نے بنوغفار کے بارے میں ان کا ذکر کیا لیکن مجھے یاد نہیں آ سکا ‘ یہاں تک کہ مجھے اسلم قبیلے کے لوگوں کا خیال آیا ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( یہاں شاید کچھ الفاظ نقل ہونے سے رہ گئے ہیں ، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ) ان میں سے کوئی ایک شخص جب پیچھے رہ جاتا ہے ‘ تو اس کے لئے کیا رکاوٹ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کسی شخص کو اپنا اونٹ سواری کے لئے دیدے اور میرے گھر والوں میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ گراں یہ بات ہے کہ مہاجرین مجھ سے پیچھے رہ جائیں ، جن کا تعلق قریش سے ہے یا انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ پیچھے رہ جائیں ۔

10315

Majma al-Zawaid #10315

وَفِي رِوَايَةٍ: "" مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْقِصَارُ السُّودُ الْجِعَادُ؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُولَئِكَ خُلَفَاءُ فِينَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: "" سِرْ "" بَدَلَ: "" سَلْ "". وَقَالَ: "" مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّوَادُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ؟ "". قَالَ: فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مَنَعَ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ». فِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

And in a narration: "What became of the short dark curly ones?" I said, "O Messenger of Allah, they are our successors left among us." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"What prevented one of them, when he stayed behind, from mounting upon his camels an energetic man in the path of Allah? The dearest of my family to me, when left behind from me, are the Muhajirun of Quraysh, the Ansar, Aslam, and Ghifar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں کا کیا بنا جن کے قد چھوٹے ہیں رنگ سیاہ ہیں ‘ اور بال بکھرے ہوئے ہیں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ لفظ ’’ تم کچھ مانگ لو ‘‘ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ’’ تم چلتے رہو ‘‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جن کے رنگ سیاہ ہیں بال بکھرے ہوئے ہیں قد چھوٹے ہیں ، جن کے ’’ شبکہ شرخ ‘‘ میں جانور ہیں ‘ راوی کہتے ہیں : میں نے بنو غفار میں ایسے لوگوں کو سوچنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے یاد نہیں آئے ‘ یہاں تک کہ مجھے یہ خیال آ گیا کہ یہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو پیچھے رہ چکے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں سے کسی ایک کے لئے کیا رکاوٹ تھی کہ جب وہ پیچھے رہ گیا تھا تو وہ اپنا اونٹ کسی ایسے شخص کو سواری کے لئے دے دیتا جو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے تازہ دم ہو میرے اہلخانہ میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ گراں یہ بات ہے کہ مہاجرین جن کا تعلق قریش سے ہے وہ یا انصار یا اسلم یا غفار سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے پیچھے رہ جائے ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی حضرت ابورہم رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

10316

Majma al-Zawaid #10316

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ: «تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَرَأَيْتُ عَرِيشًا قَدْ رُشَّ بِالْمَاءِ، وَرَأَيْتُ زَوْجَتِي فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِالْإِنْصَافِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّمُومِ وَالْحَمِيمِ، وَأَنَا فِي الظِّلِّ وَالنَّعِيمِ، فَقُمْتُ إِلَى نَاضِحٍ فَاحْتَقَبْتُهُ، وَإِلَى تَمَرَاتٍ فَتَزَوَّدْتُهَا، فَنَادَتْ زَوْجَتِي إِلَيَّ: أَيْنَ يَا أَبَا خُثَيْمَةَ؟ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ لَقِيَنِي عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ جَرِيءٌ وَإِنِّي أَعْرِفُ، جِئْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي امْرُؤٌ مُذْنِبٌ، فَتَخَلَّفْ عَنِّي حَتَّى أَخْلُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَتَخَلَّفَ عَنِّي عُمَيْرٌ، فَلَمَّا طَلَعْتُ عَلَى الْعَسْكَرِ فَرَآنِي النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كُنْ أَبَا خُثَيْمَةَ "" فَجِئْتُ فَقُلْتُ: كِدْتُ أَهْلَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرًا وَدَعَا لِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Khaythamah (may Allah be pleased with him) reported: I stayed behind from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). I entered a garden and saw a trellis sprinkled with water, and I saw my wife. I said, "This is not fairness — the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) is in the scorching wind and heat, while I am in shade and bliss." So I rose to a water-camel, saddled it, and to some dates, taking them as provision. My wife called out to me, "Where to, O Abu Khaythamah?" I set out intending the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). Partway, I met Umayr ibn Wahb. I said, "You are a bold man, as I know. I come to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) as a sinful man — hold back from me until I am alone with the Messenger of Allah." So Umayr held back from me. When I came in sight of the camp and the people saw me, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Be Abu Khaythamah."** I came and said, "I nearly perished, O Messenger of Allah." I told him my story, and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) spoke good to me and supplicated for me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ سے پیچھے رہ گیا میں باغ میں داخل ہوا اور میں نے وہاں چھپر دیکھا جس پر پانی چھڑکا گیا تھا میں نے اپنی بیوی کو دیکھا تو میں نے کہا : یہ انصاف کی بات نہیں ہے اللہ کے رسول تو گرمی میں ہوں ‘ اور میں سائے ‘ اور نعمتوں میں ہوں پھر میں اٹھ کر اپنے اونٹ کی طرف بڑھا میں نے اس کو تیار کیا پھر میں پھلوں کی طرف گیا انہیں میں نے زاد راہ کے طور پر ساتھ لیا میری بیوی نے مجھ سے پوچھا اے ابوخیثمہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نبی اکرم ﷺ کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا راستے میں کسی جگہ پر عمیر کی مجھ سے ملاقات ہوئی ‘ تو میں نے کہا : تم ایک جرات مند شخص ہو مجھے یہ بات پتہ ہے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جا رہا ہوں ‘ اور گناہگار شخص ہوں ‘ اور تم مجھ سے پیچھے رہ جاؤ گے ‘ یہاں تک کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہ جاؤں گا ‘ تو عمیر نے مجھے چھوڑ دیا جب میں لشکر کے قریب پہنچا لوگوں نے مجھے دیکھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ابوخیثمہ ہو جب میں آیا تو میں نے عرض کی : یا رسول الله ! قریب تھا کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاتا پھر میں نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے میرے بارے میں بھلائی کے کلمات ارشاد فرمائے ‘ اور مجھے دعائیں دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10317

Majma al-Zawaid #10317

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ فَجَهِدَ الظَّهْرُ جَهْدًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَيْهِ ذَلِكَ، قَالَ: وَرَآهُمْ رِجَالًا لَا يُرَوِّحُونَ ظَهْرَهُمْ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضِيقٍ يَمُرُّ النَّاسُ فِيهِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ فَنَفَخَ فِيهَا نَفْخَةً، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ، فَإِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَالرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ "". قَالَ: فَاسْتَمَرَّتْ فَمَا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ إِلَّا وَهِيَ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Ubayd (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) campaigned the expedition of Tabuk, and the mounts were sorely exhausted. They complained to him of that. He saw them as men who could not rest their mounts. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) looked from a strait through which the people passed, stood over it while the people passed, breathed upon them, and said: > **"O Allah, carry them in Your path, for You carry the strong and the weak, the moist and the dry, upon land and sea."** They moved onward, and we did not enter Madinah but that they were pulling at their bridles.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے گئے اس وقت سواریاں کم تھیں لوگوں نے اس بات کی شکایت آپ سے کی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا کہ ان کے پاس سواریاں نہیں ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک تنگ جگہ کو دیکھا جہاں سے لوگ گزر رہے تھے نبی اکرم ﷺ وہاں ٹھہر گئے لوگ وہاں سے گزرنے لگے نبی اکرم ﷺ نے وہاں پھونک ماری اور پھر یہ دعا کی اے اللہ اپنی راہ میں ان لوگوں کو سواریاں فراہم کر کیونکہ تو ہی ہر طاقتور اور کمزور کو خشک اور تر کو خشکی اور سمندروں میں سواری فراہم کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سواریاں چلنے لگیں اور مدینہ منورہ تک ہماری یہ حالت تھی کہ ہم سواریوں کو کھینچ کھینچ کے روکتے تھے ( اور وہ تیز رفتاری سے چل رہی ہوتی تھیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10318

Majma al-Zawaid #10318

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا مَرَّ بِالْجُلَيْحَةِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: الْمَبْرَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، الظِّلُّ وَالْمَاءُ، وَكَانَ فِيهَا دَوْمٌ وَمَاءٌ، فَقَالَ: "" إِنَّهَا أَرْضُ زَرْعٍ وَتَبْرُدُ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ "" - يَعْنِي نَاقَتَهُ - فَأَقْبَلَتْ حَتَّى بَرَكَتْ تَحْتَ الدَّوْمَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي مَسْجِدِ ذِي الْمَرْوَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) passed al-Julayhah on his journey to Tabuk, his Companions said to him, "The halting place, O Messenger of Allah — shade and water," for there were dom-palms and water there. He said: > **"It is sown land and cool — leave it, for she is commanded."** Meaning his she-camel. She advanced until she knelt beneath the dom-tree that stood in the mosque of Dhu al-Marwah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تبوک کی طرف اپنے سفر کے دوران جب نبی اکرم ﷺ ’’ جلیحہ ‘‘ کے مقام سے گزرے تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہاں ٹھہر جاتے ہیں یہاں سایہ بھی ہے ‘ اور پانی بھی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس جگہ پر بارش بھی تھا ‘ اور پانی بھی تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کھیتی باڑی کی اور ٹھنڈک کی جگہ ہے تم اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ حکم کی پابند ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد اپنی اونٹنی تھی وہ اونٹنی چلتی رہی ‘ یہاں تک کہ وہ مسجد ذی مروہ میں موجود ” دومتہ “ کے نیچے بیٹھ گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

10319

Majma al-Zawaid #10319

وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah — meaning Ibn al-Samit (may Allah be pleased with him) — reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) intended the expedition of Tabuk — then he mentioned the account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک کا ارادہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

10320

Majma al-Zawaid #10320

وَعَنْ أَبِي الشُّمُوسِ الْبَلَوِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَصْحَابَهُ يَوْمَ الْحِجْرِ عَنْ بِئْرِهِمْ، فَأَلْقَى ذُو الْعَجِينِ عَجِينَهُ، وَذُو الْحَيْسِ حَيْسَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ فِي الشَّيْءِ بَعْدَ الشَّيْءِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Shumus al-Balawi (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbade his Companions on the day of al-Hijr from their well. So the dough-owner cast away his dough, and the hays-maker cast away his hays.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشموس بلوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وادی حجر سے گزرنے کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو وہاں کے کنویں ( کا پانی استعمال کرنے ) سے منع کر دیا تھا تو جس شخص نے آٹا گوندھا ہوا تھا اس نے اپنا آٹا پھینک دیا ‘ اور جس شخص نے حیس تیار کیا تھا اس نے حیس پھینک دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ ایک چیز کے بعد دوسری چیز میں غلطی کرتا ہے ۔

10321

Majma al-Zawaid #10321

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحِجْرِ، وَاسْتَقَى النَّاسُ مِنْ بِئْرِهِمْ، ثُمَّ رَاحَ مِنْهَا فَلَمَّا اسْتَقَرَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يَشْرَبُوا مِنْ مَائِهَا، وَلَا يَتَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَمَا كَانَ مِنْ عَجِينٍ عُجِنَ مِنْ مَائِهَا أَنْ يُعْلَفَ، فَفَعَلَ النَّاسُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) camped at al-Hijr, and the people drew water from their well. Then he moved on from there. When he settled, he ordered the people not to drink of its water nor perform ablution from it, and that any dough kneaded with its water be fed to animals. So the people did.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حجر نامی جگہ پر پڑاؤ کیا لوگوں نے وہاں کے کنویں سے پانی حاصل کیا پھر نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے جب آپ وہاں ٹھہرے تو آپ نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہاں کے پانی کو نہیں پینا اور اس پانی کے ذریعے وضو نہیں کرنا اور وہاں کے پانی کے ذریعے جو آٹا گوندھا گیا تھا اسے جانوروں کو کھلا دیا جائے ‘ تو لوگوں نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے ۔ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

10323

Majma al-Zawaid #10323

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ «أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَأَتَوْا عَلَى وَادٍ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكُمْ بِوَادٍ مَلْعُونٍ ; فَأَسْرِعُوا "". فَرَكِبَ فَرَسَهُ فَدَفَعَ وَدَفَعَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: "" مَنِ اعْتَجَنَ عَجِينَهُ، أَوْ مَنْ كَانَ طَبَخَ قِدْرًا فَلْيَكُبَّهَا "". ثُمَّ سِرْنَا ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ فَيَعْبَأُ اللَّهُ بِهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ صَخْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that they were with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) in the expedition of Tabuk when they came to a valley. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to them: > **"You are in an accursed valley — so hasten."** He mounted his horse and spurred, and the people spurred. Then he said: > **"Whoever has kneaded dough, or whoever has cooked a pot — let him overturn it."** Then we marched. Then he said: > **"O people, there is today no living soul over whom a hundred years shall pass but Allah shall pay it no heed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے وہ لوگ ایک وادی میں پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم لوگ ایک ملعون وادی میں ہو ‘ تو تیزی سے چلو پھر نبی اکرم ﷺ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ‘ اور وہاں سے نکل گئے لوگ بھی وہاں سے نکل گئے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے وہاں آٹا گوندھا تھا یا جس نے ہنڈیا پکائی تھی تو وہ اس کو پھینک دے پھر ہم روانہ ہوئے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آج کے دن جو بھی شخص زندہ ہے ٹھیک ایک سو سال گزرنے کے بعد اگر کوئی ایسا شخص زندہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قدامہ بن صخر ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10324

Majma al-Zawaid #10324

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَاهُمْ يَوْمَ وَرَدَ ثَمُودَ عَنْ رَكِيَّةٍ عِنْدَ جَانِبِ الْمَدِينَةِ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهَا أَحَدٌ أَوْ يَسْتَقِيَ، وَنَهَانَا أَنْ نَتَوَلَّجَ بُيُوتَهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundab (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), on the day he reached Thamud, forbade them a well at the side of the town — that any of them drink from it or draw from it — and forbade us entering their houses.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قوم ثمود کے علاقے میں پہنچنے کے دن ان لوگوں کو اس کنویں کا پانی استعمال کرنے سے منع کیا تھا جو شہر کے ایک طرف تھا کہ کوئی شخص اس میں سے پی لے یا پینے کے لئے حاصل کر لے اور آپ نے ہمیں اس بات سے منع کیا تھا کہ ہم ان لوگوں کے گھروں میں داخل ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10325

Majma al-Zawaid #10325

وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ: «لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَرْضِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَى النَّاسَ: "" الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ "" قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "" مَا يَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ؟ "" فَنَادَاهُ رَجُلٌ: نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ؟ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abu Kabshah al-Anmari (may Allah be pleased with him) reported: During the expedition of Tabuk, the people hastened toward the land of al-Hijr, entering upon them. That reached the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), so he called the people: "Prayer is congregational." I came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) while he held his camel, saying: > **"Why would they enter upon a people with whom Allah is angry?"** A man called out to him, "We marvel at them, O Messenger of Allah?" He said: > **"Shall I not tell you of something more marvelous than that? A man of yourselves tells you of what was before you and what shall be after you. So be upright and steadfast, for Allah, Mighty and Majestic, pays no heed to your torment at all. And a people shall come who ward nothing from themselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ حجر والوں کی سرزمین پر داخل ہونے میں جلدی کرنے لگے نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں میں یہ اعلان کروایا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا ، اور آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : تم ایک ایسی قوم پر داخل ہونا چاہتے ہو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب ( نازل ) کیا تھا تو ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا یا رسول اللہ ہم ان پر حیران ہو رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن چیز کے بارے میں نہ بتاؤں تم لوگوں میں سے ایک شخص تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتا ہے ‘ جو تم سے پہلے ہوئی تھی اور جو تمہارے بعد ہو گی تو تم لوگ سیدھے رہو ‘ اور درست رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کے حوالے سے کسی چیز کی پرواہ نہیں کرے گا اور عنقریب ایسے لوگ آ جائیں گے ‘ جو اپنے آپ سے کسی چیز کو پرے نہیں کر سکیں گے ۔