Majma al-Zawaid #10285
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ: «لَمَّا غَزَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، تَذَكَّرْتُ أَبِي وَعَمِّيَ قَتَلَهُمَا عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أُدْرِكُ ثَأْرِي فِي مُحَمَّدٍ، [فَجِئْتُهُ] فَإِذَا الْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ بَيْضَاءُ كَأَنَّهَا الْفِضَّةُ، فَكَشَفَ عَنْهَا الْعَجَاجَ، فَقُلْتُ: عَمُّهُ لَنْ يَخْذُلَهُ. فَجِئْتُهُ عَنْ يَسَارِهِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ: ابْنُ عَمِّهِ لَنْ يَخْذُلَهُ، فَجِئْتُهُ مِنْ خَلْفِهِ فَدَنَوْتُ وَدَنَوْتُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ أَسُورَ سَوْرَةً بِالسَّيْفِ، رُفِعَ لِي شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ كَأَنَّهُ الْبَرْقُ فَخِفْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَنَكَصْتُ الْقَهْقَرَى، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تَعَالَ يَا شَيْبُ "". فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَاسْتَخْرَجَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ مِنْ قَلْبِي فَرَفَعْتُ إِلَيْهِ بَصَرِي وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ لَهُ: "" يَا شَيْبُ، قَاتِلِ الْكُفَّارَ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ، اصْرُخْ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَبِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا "". فَمَا شَبَّهْتُ عَطْفَةَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْبَقَرَ عَلَى أَوْلَادِهَا حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ حَرَجَةٌ. قَالَ: فَلَرِمَاحُ الْأَنْصَارِ كَانَتْ عِنْدِي أَخْوَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رِمَاحِ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ، نَاوِلْنِي مِنَ الْبَطْحَاءِ "". فَأَفْقَهَ اللَّهُ الْبَغْلَةَ كَلَامَهُ فَاخْتَفَضَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ بَطْنُهَا يَمَسُّ الْأَرْضَ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْحَصْبَاءِ فَنَفَخَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ: "" شَاهَتِ الْوُجُوهُ حم، لَا يُنْصَرُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Ikrimah reported: Shaybah ibn Uthman (may Allah be pleased with him) said: When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) campaigned on the day of Hunayn, I remembered my father and my uncle, slain by Ali and Hamzah, and said, "Today I shall take my revenge upon Muhammad." I came at him, and there was al-Abbas at his right, wearing a white cuirass like silver; the dust cleared from it, and I said, "His uncle — he will not fail him." I came at him from his left, and there was Abu Sufyan ibn al-Harith. I said, "His cousin — he will not fail him." I came at him from behind, drawing nearer and nearer until nothing remained but to strike with the sword, when a flame of fire like lightning was raised before me. I feared it would seize me, so I recoiled backward. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) turned to me and said: > **"Come, O Shayb."** The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) placed his hand upon my chest, and Allah drew Satan out of my heart. I raised my eyes to him, and he was dearer to me than my hearing and my sight and than all else. He said to him: > **"O Shayb, fight the disbelievers."** Then he said: > **"O Abbas, call out the first Muhajirun who pledged beneath the tree, and the Ansar who sheltered and aided."** I likened the turning of the Ansar toward the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) only to cattle turning to their young, until the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) dismounted as into a thicket. The spears of the Ansar seemed to me then more fearsome for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) than the spears of the disbelievers. Then he said: > **"O Abbas, hand me of the valley dust."** Allah made the mule comprehend his speech, and she lowered herself with him until her belly nearly touched the earth. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) took of the gravel, blew it at their faces, and said: > **"May the faces be deformed. Ha-Mim — they shall not be aided."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مکرمہ بیان کرتے ہیں : حضرت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب غزوہ حنین کے لئے نبی اکرم ﷺ نے تیاری کی تو مجھے اپنے والد اور اپنے چچا یاد آ گئے جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے کہا : آج میں حضرت محمد ( ﷺ ) سے اپنا بدلہ لے لوں گا میں آپ کے پاس آیا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف موجود تھے انہوں نے سفید زرہ پہنی ہوئی تھی یوں جیسے وہ چاندی کی بنی ہوئی ہو ‘ غبار ہٹا ‘ تو میں نے کہا : یہ تو ان کے چچا ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں بائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو وہاں ابوسفیان بن حارث موجود تھے میں نے کہا : یہ تو ان کے چچا زاد ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں پیچھے سے آپ کی طرف آیا میں قریب ہوتا گیا قریب ہوتا گیا ، یہاں تک کہ اتنا فاصلہ باقی رہ گیا کہ میں آپ کو تلوار مار سکتا تھا لیکن اسی دوران آگ کا ایک شعلہ میرے سامنے آیا جو برق کی مانند تھا مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں وہ مجھے جلا نہ دے تو میں الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا نبی اکرم ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے شیب آگے آ جاؤ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے شیطان کو نکال دیا میں نے نگاہ اٹھا کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ میری سماعت اور میری بصارت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے شیب کفار کے ساتھ لڑائی کرو پھر آپ نے فرمایا : اے عباس مہاجرین اولین کو بلند آواز میں بالائیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور انصار کو بلائیں جنہوں نے پناہ دی تھی اور مدد کی تھی راوی کہتے ہیں : تو انصار نبی اکرم ﷺ کی طرف اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف آتی ہے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ سواری سے یوں نیچے اتر آئے جیسے وہ درختوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہوتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار کے نیزوں کے حوالے سے میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ کو کفار کے نیزوں سے زیادہ خوف تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عباس مجھے مٹی پکڑائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے خچر کو آپ کا کلام سمجھا دیا وہ نیچے جھک گیا ‘ یہاں تک کہ اس کا پیٹ زمین کے ساتھ مس ہونے لگا نبی اکرم ﷺ نے کنکریاں اٹھائیں اور پھر ان کے چہروں کی طرف پھونک ماری اور پھر یہ کہا : ان کے چہرے قبیح ہو جائیں ‘ «حم لا ینصرون» ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔