Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 12

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10245–10284

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10245

Majma al-Zawaid #10245

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «وَفَرَّ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهِلٍ عَامِدًا إِلَى الْيَمَنِ، وَأَقْبَلَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مُسْلِمَةٌ، وَهِيَ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ زَوْجِهَا، فَأَذِنَ لَهَا وَأَمَّنَهُ. فَخَرَجَتْ بِعَبْدٍ لَهَا رُومِيٍّ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا، فَلَمْ تَزَلْ تُمَنِّيهِ وَتُقَرِّبُ لَهُ حَتَّى أَدْلَتْ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ عَكٍّ فَاسْتَعَانَتْهُمْ عَلَيْهِ فَأَوْثَقُوهُ، فَأَدْرَكَتْ زَوْجَهَا بِبَعْضِ تِهَامَةَ، وَقَدْ كَانَ رَكِبَ سَفِينَةً فَلَمَّا جَلَسَ فِيهَا نَادَى بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ: لَا يَجُوزُ أَنْ تَدْعُوَ هَا هُنَا أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ مُخْلِصًا. فَقَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ فِي الْبَحْرِ إِنَّهُ لَفِي الْبَرِّ وَحْدَهُ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى مُحَمَّدٍ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَرَجَعَ عِكْرِمَةُ مَعَ امْرَأَتِهِ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ، وَقَبِلَ مِنْهُ. وَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ حِينَ هَزَمَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَتِهِ فَارًّا، فَلَامَتْهُ وَعَجَّزَتْهُ وَعَيَّرَتْهُ بِالْفِرَارِ، فَقَالَ: وَأَنْتِ لَوْ رَأَيْتِنَا بِالْخَنْدَمَهْ ... إِذْ فَرَّ صَفْوَانُ وَفَرَّ عِكْرِمَهْ وَلَحِقَتْنَا بِالسُّيُوفِ الْمُسْلِمَهْ ... يَقْطَعْنَ كُلَّ سَاعِدٍ وَجُمْجُمَهْ لَمْ تَنْطِقِي فِي اللَّوْمِ أَدْنَى كَلِمَهْ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwah ibn al-Zubayr reported: 'Ikrimah ibn Abi Jahl fled toward Yemen. Umm al-Hakam bint al-Harith ibn Hisham - then a Muslim, wife of 'Ikrimah - sought permission of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) to seek her husband. He permitted her and granted him security. She set out with a Roman slave who propositioned her. She kept enticing him till she reached people of 'Akk, sought their help, and they bound him. She reached her husband in Tihamah; he had boarded a ship. Sitting in it he called upon al-Lat and al-'Uzza. The crew said, "None may be invoked here but Allah alone sincerely." 'Ikrimah said, "By Allah, if at sea none but Him, then on land none but Him. I swear by Allah I shall return to Muhammad." 'Ikrimah returned with his wife, entered upon the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), pledged to him, and he accepted. A man of Hudhayl entered upon his wife fleeing when Banu Bakr defeated; she blamed, disabled, and shamed him for fleeing. He said: "And you, had you seen us at al-Khandamah, when Safwan fled and 'Ikrimah fled, and the Muslims overtook us with swords cutting every arm and skull, you would not utter the least blame."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : عکرمہ بن ابوجہل فرار ہو کر یمن کی طرف روانہ ہوئے اُم حکیم بنت حارث بن ہشام جو اس وقت مسلمان ہو چکی تھیں اور عکرمہ بن ابوجہل کی اہلیہ تھیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے شوہر کو تلاش کریں نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور عکرمہ کے لئے امان بھی دے دی وہ خاتون اپنے رومی غلام کو ساتھ لے کر وہاں سے روانہ ہوئیں ، اس غلام کی نیت میں فتور آ گیا وہ خاتون اس کو بہلاتی پھسلاتی رہیں ‘ یہاں تک کہ جب وہ ’’ عک ‘‘ کے مقام پر پہنچیں تو اس خاتون نے اس غلام کے خلاف ان لوگوں سے مدد مانگی ‘ تو ان لوگوں نے اسے باندھ دیا ‘ تہامہ میں کسی جگہ پر وہ خاتون اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئیں جن کی یہ حالت تھی کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تھے جب وہ اس کشتی میں بیٹھے تو انہوں نے لات اور عزی کو پکارا تو کشتی والوں نے کہا : کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو پکارنا درست نہیں ہے اخلاص کے ساتھ صرف اسی کو پکارا جا سکتا ہے تو عکرمہ نے کہا : اللہ کی قسم اگر وہ سمندر میں کام آتا ہے ‘ تو خشکی میں بھی صرف وہی کام آ سکتا ہے میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں واپس حضرت محمد ( ﷺ ) کے پاس چلا جاؤں گا ‘ تو عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس آ گئے وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی بیعت کو قبول کر لیا ۔ جب بنوبکر نے فرار ہوتے ہوئے ان کی اہلیہ کو پسپا کیا تھا اس وقت ہذیل قبیلے کا ایک شخص داخل ہوا تو اس خاتون نے انہیں ملامت کی انہیں عاجز قرار دیا ‘ اور انہیں فرار کے حوالے سے عار دلائی اور یہ اشعار کہے : ’’ کاش تم نے ہمیں خندمہ میں دیکھا ہوتا جب صفوان بھی فرار ہو گیا اور مکرمہ بھی ‘ اور ہمارے پاس سونتی ہوئی وہ تلواریں آ گئیں ، جوہر کلائی اور سر کو کاٹ دیتی ہیں ‘ ملامت کے بارے میں وہ کوئی چھوٹی سی بات بھی نہیں کہتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10246

Majma al-Zawaid #10246

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «أَخَذْتُ بِيَدِ أَبِي سُفْيَانَ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ السَّمَاعَ فَأَعْطِهِ شَيْئًا، فَقَالَ: "" مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ "". ثُمَّ قَامَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَأَقْعَدْتُهُ عَلَى الطَّرِيقِ فَجَعَلَ يَمُرُّ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَوْكَبَةً كَوْكَبَةً يَقُولُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَأَقُولُ: هَؤُلَاءِ مُزَيْنَةُ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلِمُزَيْنَةَ، مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ حَرْبٌ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، ثُمَّ تَمُرُّ الْكَوْكَبَةُ فَيَقُولُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَأَقُولُ: هَؤُلَاءِ جُهَيْنَةُ، حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُهَاجِرِينَ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمْ مُقْبِلِينَ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَخِيكَ مُلْكًا عَظِيمًا. قَالَ: وَذَكَرَ كَلَامًا كَثِيرًا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Al-'Abbas ibn 'Abd al-Muttalib (may Allah be pleased with him) reported: I took Abu Sufyan's hand and brought him to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). I said, "O Messenger of Allah, Abu Sufyan loves acclaim, grant him something." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Whoever enters the house of Abu Sufyan is safe, and whoever locks his door is safe."** Then he stood; I took his hand and seated him by the road. The Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) passed him troop after troop. He asked, "Who are these?" I said, "Muzaynah." "What are Muzaynah to me? No war between us in Jahiliyyah or Islam." Then a troop passed: "Who are these?" I said, "Juhaynah." Until the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) passed among the Muhajirun. Seeing them approach he turned to me: "Your nephew has been given great sovereignty." He mentioned much speech.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسفیان کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک ایسا شخص ہے ‘ جو شہرت کو پسند کرتا ہے ، تو آپ اسے کوئی چیز دے دیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا ‘ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا ‘‘۔ پھر وہ کھڑا ہوا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے راستے میں بٹھا لیا نبی اکرم ﷺ کے اصحاب دستوں کی شکل میں وہاں سے گزرنے لگے وہ دریافت کرتا تھا یہ کون لوگ ہیں ، تو میں یہ کہتا تھا یہ مزینہ قبیلے کے لوگ ہیں ، تو وہ یہ کہتا تھا میرا مزینہ کے ساتھ کیا واسطہ میری ان کے ساتھ نہ زمانہ جاہلیت میں کوئی جنگ تھی اور نہ زمانہ اسلام میں کوئی جنگ ہے پھر ایک اور دستہ گزرا ‘ تو اس نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں میں نے کہا : یہ جہینہ قبیلے کے لوگ ہیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مہاجرین کے درمیان گزرے جب اس نے ان لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں ، تو اس نے کہا : تمہارے بھتیجے کو بڑی بادشاہی دے دی گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد اس نے بہت سا کلام ذکر کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ہے ‘ اور وہ متروک ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

10247

Majma al-Zawaid #10247

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ كَانَ قَيْسٌ فِي مُقَدِّمَتِهِ فَكَلَّمَ سَعْدٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَصْرِفَهُ عَنِ الْمَوْضِعِ الَّذِي هُوَ فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ يُقْدِمَ عَلَى شَيْءٍ فَصَرَفَهُ عَنْ ذَلِكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) arrived at Makkah, Qays was in his vanguard. Sa'd spoke to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) to divert him from the place he was in, fearing he would advance to something. So he diverted him from it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لائے ‘ تو قیس ہر اول دستے میں تھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہ بات چیت کی کہ وہ جس مقام پر ہیں انہیں وہاں سے منتقل کر دیا جائے انہیں یہ اندیشہ تھا کہ وہ کسی چیز پر حملہ آور نہ ہوں تو انہیں ان کی جگہ سے ہٹا دیا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10248

Majma al-Zawaid #10248

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" النَّاسُ آمِنُونَ كُلُّهُمْ غَيْرَ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ خَطَلٍ» "". فَقُتِلَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Barzah (may Allah be pleased with him) reported: I heard the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) say: > **"All people are safe except 'Abd al-'Uzza ibn Khatal."** He was killed clinging to the curtains of the Ka'bah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’ سب لوگوں کو امان حاصل ہو گی صرف عبدالعزای بن خطل کا معاملہ مختلف ہے ‘‘ راوی کہتے ہیں : اسے اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10249

Majma al-Zawaid #10249

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Barzah al-Aslami (may Allah be pleased with him) reported: I killed 'Abd al-'Uzza ibn Khatal while he clung to the curtain of the Ka'bah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ اسلمی علی بیان کرتے ہیں : میں نے عبدالعزی بن خطل کو قتل کیا تھا جبکہ وہ خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

10250

Majma al-Zawaid #10250

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَطَلٍ يَوْمَ الْفَتْحِ، أَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ بَيْنَ زَمْزَمَ وَالْمَقَامِ، وَقَالَ: "" لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ بَعْدَ هَذَا صَبْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Sa'ib ibn Yazid reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) killed 'Abdullah ibn Khatal on the day of the conquest. They brought him out from beneath the curtains of the Ka'bah and struck his neck between Zamzam and the Maqam. He said: > **"No Qurashi shall be killed after this in captivity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن خطل کو قتل کروا دیا تھا لوگوں نے اسے خانہ کعبہ کے پردوں کے نیچے سے باہر نکالا اور پھر زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی گردن اڑا دی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10251

Majma al-Zawaid #10251

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَكَانَ جَائِعًا فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَصْهَارًا لِي قَدْ لَجَأُوا إِلَيَّ، وَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْلَمَ بِهِمْ فَيَقْتُلَهُمْ، فَاجْعَلْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أُمِّ هَانِئٍ آمِنًا حَتَّى يَسْمَعُوا كَلَامَ اللَّهِ. فَأَمَّنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ "". وَقَالَ: "" هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ نَأْكُلُهُ؟ "" فَقَالَتْ: لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ، وَإِنِّي لَأَسْتَحِي أَنْ أُقَدِّمَهَا إِلَيْكَ. فَقَالَ: "" هَلُمِّي بِهِنَّ "". فَكَسَّرَهُنَّ فِي مَاءٍ وَجَاءَتْ بِمِلْحٍ. فَقَالَ: "" هَلْ مِنْ إِدَامٍ؟ "". فَقَالَتْ: مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ. فَقَالَ: "" هَلُمِّيهِ فَصُبِّيهِ عَلَى الطَّعَامِ "". فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ: "" نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، يَا أُمَّ هَانِئٍ لَا يُقْفَرُ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) entered upon Umm Hani' bint Abi Talib on the day of the conquest, hungry. She said, "O Messenger of Allah, in-laws of mine sought refuge with me, and 'Ali ibn Abi Talib is not deterred by any blame for Allah's sake. I fear he learns of them and kills them. Grant security to whoever enters the house of Umm Hani' till they hear Allah's speech." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) granted them security and said: > **"We have granted protection to whom Umm Hani' granted protection."** He said: > **"Is there food with you to eat?"** She said, "I have only dry crumbs; I am shy to present them." He said: > **"Bring them."** He broke them in water; she brought salt. He said: > **"Is there condiment?"** She said, "I have nothing, O Messenger of Allah, but some vinegar." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Bring it and pour it over the food."** He ate, praised Allah, then said: > **"Excellent is vinegar as condiment, O Umm Hani'. No house is empty with vinegar in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے نبی اکرم ﷺ کو بھوک محسوس ہو رہی تھی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ سسرالی عزیز ہیں ‘ جنہوں نے میرے ہاں پناہ لی ہے ‘ اور حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر انہیں میرے عزیزوں کے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ انہیں قتل کر دیں گے ‘ تو آپ یہ چیز مقرر کر دیں کہ جو شخص اُم ہانی کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون شمار ہو گا یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ کا کلام سنیں تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو امان دے دی آپ نے ارشاد فرمایا : ام ہانی نے جسے پناہ دی ہو اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ۔ جسے ہم کھا لیں ؟ انہوں نے عرض کی : میرے پاس تو صرف ایک روٹی کا خشک ٹکڑا ہے ‘ اور اسے آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہی لے آؤ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اس کو توڑ کر پانی میں ڈالا پھر وہ نمک لے کے آئیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کوئی سالن ہے ؟ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کچھ نہیں ہے صرف تھوڑا سا سرکہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہی لے آؤ اور اسے کھانے پر ڈال دو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھا لیا اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سرکہ اچھا سالن ہے اے اُم ہانی اس گھر کے لوگ سالن کے بغیر نہیں ہوتے جس میں سرکہ موجود ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

10252

Majma al-Zawaid #10252

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَاعِدًا، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِالسَّيْفِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of the conquest sat, Abu Bakr standing at his head with the sword.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سرہانے تلوار لے کے کھڑے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے اسحاق بن وہب کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10253

Majma al-Zawaid #10253

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَجَدَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَسِتِّينَ صَنَمًا، فَأَشَارَ بِعَصَاهُ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا، وَقَالَ: "" جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا "". فَيَسْقُطُ الصَّنَمُ وَلَمْ يَمَسَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخَالِفُ وَيُخْطِئُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar (may Allah be pleased with them both) reported: When the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) arrived at Makkah he found there three hundred and sixty idols. He pointed with his staff to each idol and said: > **"Truth has come and falsehood has vanished. Indeed falsehood is ever vanishing."** The idol fell without his touching it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لائے ‘ تو آپ نے وہاں تین سو ساٹھ بت پائے آپ اپنے عصا کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے اور یہ پڑھتے تھے ’’ حق آ گیا اور باطل رخصت ہو گیا بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا ‘‘ تو وہ بت گر جاتا تھا آپ اس بت کو چھوتے نہیں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر عمری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ابن اسحاق نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں یہ ( دوسرے راویوں کے ) بر خلاف بھی نقل کرتا ہے ‘ اور غلطی بھی کرتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10254

Majma al-Zawaid #10254

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا، وَقَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهُمْ بِالرَّصَاصِ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبُهُ فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ، وَيَقُولُ: "" جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا "". حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلِّهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) entered on the day of the conquest with three hundred and sixty idols upon the Ka'bah; Iblis had fastened their feet with lead. He came with his staff, striking each idol so it fell face-down, saying: > **"Truth has come and falsehood has vanished. Indeed falsehood is ever vanishing."** Until he passed them all.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ داخل ہوئے خانہ کعبہ میں اس وقت تین سو ساٹھ بت تھے ابلیس نے ان کے پاؤں سیسے کے ذریعے مضبوط کروائے ہوئے تھے جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ تو آپ کے پاس ایک چھڑی تھی آپ اس کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے ‘ تو وہ منہ کے بل گر جاتا تھا آپ یہ پڑھ رہے تھے : ’’ حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل نے جانا ہی تھا ‘‘۔ یہاں تک کہ آپ ان میں سے ہر ایک بت کے پاس سے گزرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

10255

Majma al-Zawaid #10255

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَخْلَةٍ، وَكَانَتْ بِهَا الْعُزَّى، فَأَتَاهَا خَالِدٌ وَكَانَتْ عَلَى ثَلَاثِ سَمُرَاتٍ، فَقَطَعَ السَّمُرَاتِ، وَهَدَمَ الْبَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: "" ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا "". فَرَجَعَ خَالِدٌ فَلَمَّا نَظَرَتْ إِلَيْهِ السَّدَنَةُ وَهُمْ حَجَبَتُهَا أَمْعَنُوا فِي الْجِبَلِ، يَقُولُونَ: يَا عُزَّى خَبِّلِيهِ، يَا عُزَّى عَوِّرِيهِ، فَأَتَاهُ خَالِدٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ نَاشِرَةٌ شَعْرَهَا تَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهَا، فَغَمَّمَهَا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: "" تِلْكَ الْعُزَّى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) conquered Makkah, he sent Khalid ibn al-Walid (may Allah be pleased with him) to Nakhlah, where al-Uzza stood over three acacia trees. Khalid cut the trees and demolished the house built over them, then returned and informed the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Return, for you have done nothing."** Khalid returned. When her custodians saw him, they fled into the mountain, crying, "O Uzza, madden him! O Uzza, blind him!" Khalid came upon a naked woman with disheveled hair, throwing dust upon her head. He struck her with his sword and killed her, then returned and informed the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"That was al-Uzza."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا ‘ تو آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کے ایک باغ کی طرف بھیجا جہاں عزی نامی بت تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس باغ میں آئے وہاں ٹیلے پر کچھ درخت تھے ‘ تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو کٹوا دیا ‘ اور اس گھر کو منہدم کروا دیا جو اس پر موجود تھا ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم واپس جاؤ کیونکہ تم نے کچھ نہیں کیا ( یعنی پورا کام نہیں کیا ) حضرت خالد رضی اللہ عنہ واپس گئے جب وہاں کے محافظین نے انہیں دیکھا تو انہیں پہاڑ میں نہیں آنے دیا وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے اسے عزی ! اسے جنون لاحق کر دے ‘ اس کو قبیح کر دے ‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ وہاں آئے ‘ تو وہاں ایک برہنہ عورت موجود تھی جس نے بال بکھرائے ہوئے تھے وہ اپنے سر پر مٹی ڈال رہی تھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے ‘ اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ عزی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10256

Majma al-Zawaid #10256

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ مَرَّ عَلَى اللَّاتِ، فَقَالَ: كُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَكِ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ أَهَانَكِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Abd al-Rahman al-Sulami reported that Khalid ibn al-Walid (may Allah be pleased with him) passed by al-Lat and said: "I deny you, I do not glorify you; I have seen that Allah has humiliated you."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا گزر ’’ لات ‘‘ سے ہوا ‘ تو انہوں نے یہ شعر کہا :’’ تمہارا انکار کیا جائے گا تمہاری پاکی بیان نہیں ہو گی ، میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کمتر قرار دیا ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

10257

Majma al-Zawaid #10257

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُثْمَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ: "" ائْتِنِي بِمِفْتَاحِ الْكَعْبَةِ "". فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يَنْتَظِرُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ، وَيَقُولُ: "" مَا يَحْبِسُهُ؟ "". فَسَعَى إِلَيْهِ رَجُلٌ وَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ الَّتِي عِنْدَهَا الْمِفْتَاحُ - حَسِبَتْ أَنَّهُ قَالَ: أُمُّ عُثْمَانَ - تَقُولُ: إِنْ أَخَذَهُ مِنْكُمْ لَمْ يُعْطِيكُمُوهُ أَبَدًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا عُثْمَانُ حَتَّى أَعْطَتْهُ الْمِفْتَاحَ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَجَلَسَ عِنْدَ السِّقَايَةِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَئِنْ كُنَّا أُوتِينَا النُّبُوَّةَ وَأُعْطِينَا السِّقَايَةَ وَأُعْطِينَا الْحِجَابَةَ، مَا قَوْمٌ بِأَعْظَمَ نَصِيبًا مِنَّا. فَكَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ مَقَالَتَهُ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ الْمِفْتَاحَ وَقَالَ: "" غَيِّبُوهُ "". قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عُيَيْنَةَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ يَوْمَئِذٍ حِينَ كَلَّمَهُ فِي الْمِفْتَاحِ: "" إِنَّمَا أُعْطِيكُمْ مَا تُرْزَءُونَ، وَلَمْ أُعْطِكُمْ مَا تَرْزُءُونَ "". يَقُولُ: أُعْطِيكُمُ السِّقَايَةَ لِأَنَّكُمْ تَغْرَمُونَ فِيهَا، وَلَمْ أُعْطِكُمُ الْبَيْتَ. أَيْ إِنَّهُمْ يَأْخُذُونَ مِنْ هَدِيَّتِهِ»، هَذَا قَوْلُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri reported: On the day of the Conquest, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to Uthman: "Bring me the key of the Kaaba." He was delayed, while the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) stood waiting, until sweat poured from him like pearls, and he said: > **"What detains him?"** A man hastened to him. The woman holding the key — it was thought she was the mother of Uthman — kept saying, "If he takes it from you, he will never return it to you." Uthman persisted with her until she gave him the key. He brought it to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), who opened the door, entered the House, then came out with the people and sat by the place of drinking-water. Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) said, "O Messenger of Allah, if we were given prophethood, and given the drinking-water service, and given the veiling service, no people would have a greater share than us." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) seemed to dislike his words. Then he called Uthman ibn Talhah, handed him the key, and said: > **"Keep it concealed."** Abd al-Razzaq said: I narrated it to Ibn Uyaynah, who said: Ibn Jurayj informed me — I think he said — from Ibn Abi Mulaykah, that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to Ali that day when he spoke about the key: > **"I only grant you what you bear cost for, and I do not grant you what you take tribute from."** Meaning: I grant you the drinking-water service because you spend upon it, and I do not grant you the House, for they take gifts through it. That is the statement of Abd al-Razzaq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا میرے پاس خانہ کعبہ کی چابی لے کے آؤ انہیں آنے میں تاخیر ہو گئی نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ان کا انتظار کر رہے تھے ‘ یہاں تک کہ آپ کے پسینے کے قطرے نکل آئے جو موتیوں کی مانند تھے آپ نے فرمایا : وہ کیوں نہیں آ رہا ایک شخص دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ جس خاتون کے پاس چابی تھی وہ انہیں چابی نہیں دے رہی تھی راوی نے یہ بات بیان کی ہے وہ خاتون حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ اگر انہوں نے تم سے یہ چابی لے لی تو پھر وہ تمہیں کبھی بھی یہ نہیں دیں گے ‘ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس خاتون سے یہ کہہ رہے تھے کہ چابی دے دیں یہاں تک کہ اس خاتون نے انہیں وہ چابی دے دی وہ اس چابی کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ نے دروازہ کھولا پھر آپ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے آپ سقایہ کے پاس تشریف فرما ہوئے ‘ تو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں نبوت عطا کی گئی ہمیں سقایہ کا منصب دیا گیا ہمیں حجابہ کا منصب دیا گیا تو کوئی بھی قوم ہم سے زیادہ حصے والی نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کو ان کی یہ بات گویا ناگوار گزری آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور چابی ان کو دیتے ہوئے فرمایا اسے سنبھال کے رکھو ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں : میں نے ابن عیینہ کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے بتایا : ابن جریج نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ ابن ابوملیکہ نے یہ بات بیان کی ہے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چابی کے بارے میں بات چیت کی تھی اس وقت نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا کہ میں تمہیں وہ چیز دوں گا ، جس میں تمہیں مشقت کا سامنا ہو وہ چیز نہیں دوں گا جس کا تم ہدیہ وصول کرو ‘ راوی کہتے ہیں ! نبی اکرم ﷺ کے الفاظ کے ذریعے مراد یہ ہے : میں نے تمہیں ’’ سقایہ ‘‘ دیا ہے کیونکہ تم اس حوالے سے مشقت کا شکار ہوتے ہو میں نے تمہیں بیت اللہ کی چابی نہیں دی اس لئے کہ لوگ اس حوالے سے تحفے قبول کرتے ہیں یہ بیان امام عبدالرزاق کا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10258

Majma al-Zawaid #10258

وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ: كُرْزُ بْنُ جَابِرٍ.

EnglishUnverified translation

Urwah, naming those of the Muslims martyred on the day of the Conquest, of Quraysh then of Banu Muharib ibn Fihr, reported: Kurz ibn Jabir (may Allah be pleased with him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے فتح مکہ کے موقع پر شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناموں میں یہ بات ذکر کی ہے کہ قریش کی شاخ بنو محارب بن فہر سے تعلق رکھنے والے حضرت کرز بن جابر رضی اللہ عنہ ہیں ۔

10259

Majma al-Zawaid #10259

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَوْ حُنَيْنٍ أَلْفٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: A thousand of Banu Sulaym witnessed with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) the day of the conquest of Makkah — or Hunayn (the narrator doubted which).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار افراد نے شرکت کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یزید نحوی اور عبداللہ بن احمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

10260

Majma al-Zawaid #10260

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «شَهِدَ فَتْحَ مَكَّةَ أَلْفٌ وَتِسْعُمِائَةٍ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَأَلْفٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، وَتِسْعُمِائَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَنَيِّفٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَنَيِّفٌ مِنْ أَسْلَمَ.» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: Those who witnessed the conquest of Makkah included one thousand nine hundred of Juhaynah, one thousand of Muzaynah, nine hundred of Banu Sulaym, somewhat over four hundred of Banu Ghifar, and somewhat over four hundred of Aslam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار نو سو افراد مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار افراد بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے نو سو افراد اور بنوغفار سے تعلق رکھنے والے چار سو سے زیادہ افراد اور اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے چار سو سے زیادہ افراد شامل تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

10261

Majma al-Zawaid #10261

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: The Conquest took place when thirteen nights of Ramadan had passed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رمضان کی تیرہ تاریخ کو فتح مکہ ہوا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10262

Majma al-Zawaid #10262

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" كُفُّوا السِّلَاحَ إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ ""، فَأَذِنَ لَهُمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ: "" كُفُّوا السِّلَاحَ ""، فَلَقِيَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ مِنْ غَدٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَتَلَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ، وَرَأَيْتُهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ: "" إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ ""، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنْ فُلَانًا ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ "". قَالُوا: وَمَا الْأَثْلَبُ؟ قَالَ: "" الْحَجَرُ "". قَالَ: وَقَالَ: "" لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ "". قَالَ: "" وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَفِي السُّنَنِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported: When Makkah was opened for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), he said: > **"Hold back weapons, except Khuzaah against Banu Bakr."** He permitted them until he prayed Asr, then said: > **"Hold back weapons."** The next day, a man of Khuzaah met a man of Banu Bakr at Muzdalifah and killed him. When that reached the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), he stood to address the people — the narrator saw him with his back against the Kaaba — and said: > **"The most hostile of people toward Allah is one who kills in the sanctuary, or kills other than his killer, or kills for the grudges of the Jahiliyyah."** A man stood and said, "So-and-so is my son." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"There is no claim of parentage in Islam; the affair of the Jahiliyyah is gone. The child belongs to the bed, and the adulterer gets the stone."** They asked, "What is al-athlab?" He said: > **"The stone."** He also said: > **"There is no prayer after dawn until the sun rises, and no prayer after Asr until the sun sets."** And he said: > **"A woman is not married together with her paternal aunt, nor together with her maternal aunt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کے لئے مکہ فتح ہو گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہتھیاروں کو روک لو البتہ بنوبکر کے حوالے سے خزاعہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو اجازت دے دی ‘ یہاں تک کہ جب آپ نے عصر کی نماز ادا کی تو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ہتھیاروں کو روک لو اس دوران خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بنو بکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے مزدلفہ میں ملا اس نے اسے قتل کر دیا نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے زیادہ سرکشی کرنے والا شخص وہ ہے ‘ جو حرم میں کسی کو قتل کرتا ہے یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرتا ہے یا زمانہ جاہلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرتا ہے ‘ تو ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی : فلاں شخص میرا بیٹا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام میں ایسے کسی دعوی کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی زمانہ جاہلیت کے معاملات ختم ہو چکے ہیں بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو اثلب ملے گا لوگوں نے دریافت کیا : اثلب سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پتھر ( یا محرومی ) راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ‘ اور عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا : عورت کے ساتھ اُس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح‘‘ میں اس روایت میں سے صبح کی نماز کے بعد نماز کی ممانعت والا حصہ مذکور ہے سنن میں بھی اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10263

Majma al-Zawaid #10263

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُمْ يَوْمَ الْفَتْحِ: "" إِنَّ هَذَا الْعَامَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ، قَدِ اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ، وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، وَاجْتَمَعَ حَجُّ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundab (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to them on the day of the Conquest: > **"This year is the Greater Hajj. The pilgrimage of the Muslims and the pilgrimage of the polytheists have coincided for three successive days, and the pilgrimage of the Jews and Christians has coincided for six successive days. They have never coincided since the heavens and earth were created, nor will they coincide after this year until the Hour comes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا : ’’ یہ سال حج اکبر کا ہے اس میں مسلمانوں کے حاجی اور مشرکین کے حاجی مسلسل تین دن تک اکٹھے رہے اس میں یہودیوں کا حج اور عیسائیوں کا حج مسلسل چھ دن تک اکٹھا ہوا جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر ( اب تک ) یہ کبھی اکٹھی نہیں ہوئے ‘ اور اس سال کے بعد بھی قیامت تک یہ کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے .

10264

Majma al-Zawaid #10264

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ غُلَامٌ مِنَّا مِنَ الْأَنْصَارِ يَوْمَ حُنَيْنٍ: لَنْ نُغْلَبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ. فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا فَانْهَزَمَ الْقَوْمُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالْعَبَّاسُ عَمُّهُ آخِذٌ بِغَرْزِهَا. وَكُنَّا فِي وَادٍ دَهْسٍ، فَارْتَفَعَ النَّقْعُ فَمَا مِنَّا أَحَدٌ يُبْصِرُ كَفَّهُ، إِذَا شَخْصٌ أَقْبَلَ فَقَالَ: "" إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ؟ "" قَالَ: أَنَا أَبُو بَكْرٍ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةٍ. ثُمَّ إِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ، فَقَالَ: "" إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ؟ "" قَالَ: أَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةٍ. وَإِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ وَبِهِ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ ضَرْبَةً، فَقَالَ: "" إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ؟ "". قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. ثُمَّ إِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةً، فَقَالَ: "" إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ؟ "" فَقَالَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا رَجُلٌ صَيِّتٌ يَنْطَلِقُ فَيُنَادِي فِي الْقَوْمِ؟ "". فَانْطَلَقَ رَجُلٌ فَصَاحَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَقَعَ صَوْتُهُ فِي أَسْمَاعِهِمْ فَأَقْبَلُوا رَاجِعِينَ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمَلَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، وَانْحَازَ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ عَلَى جُبَيْلٍ - أَوْ قَالَ: عَلَى أَكَمَةٍ - فِي زُهَاءِ سِتِّمِائَةٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أَرَى وَاللَّهِ كَتِيبَةً قَدْ أَقْبَلَتْ، فَقَالَ: حِلُّوهُمْ لِي، فَقَالُوا: سِيمَاهُمْ كَذَا، حِلْيَتُهُمْ كَذَا. قَالَ: لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ، قُضَاعَةُ مُنْطَلِقَةٌ فِي آثَارِ الْقَوْمِ. فَقَالُوا: نَرَى وَاللَّهِ كَتِيبَةً خَشْنَاءَ قَدْ أَقْبَلَتْ. قَالَ: حِلُّوهُمْ لِي. قَالُوا: سِيمَاهُمْ كَذَا، حِلْيَتُهُمْ كَذَا. قَالَ: لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ هَذِهِ سُلَيْمٌ. ثُمَّ قَالُوا: نَرَى فَارِسًا قَدْ أَقْبَلَ، قَالَ: وَيْلَكُمُ، وَحْدَهُ؟ قَالُوا: وَحْدَهُ. قَالَ: حِلُّوهُ لِي، قَالُوا: مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ، قَالَ دُرَيْدٌ: ذَاكَ وَاللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَهُوَ وَاللَّهِ قَاتِلُكُمْ، وَمُخْرِجُكُمْ مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: عَلَامَ هَؤُلَاءِ هَاهُنَا؟ فَمَضَى وَمَنِ اتَّبَعَهُ فَقَتَلَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَحَزَّ رَأْسَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ، فَجَعَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِكَثْرَةِ غَلَطِهِ وَتَمَادِيهِ فِيهِ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reported: On the day of Hunayn, a youth of ours from the Ansar said, "We shall not be defeated today for lack of numbers." No sooner had we met our enemy than the people fled. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was upon a mule of his, with Abu Sufyan ibn al-Harith holding its bridle and his uncle al-Abbas holding its stirrup. We were in a soft-soiled valley; dust rose until none of us could see his own hand. Then a figure approached, and he (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Halt — who are you?"** He said, "I am Abu Bakr, may my father and mother be sacrificed for you," bearing a dozen or so wounds. Then another figure approached, and he said: > **"Halt — who are you?"** He said, "I am Umar ibn al-Khattab, may my father and mother be sacrificed for you," bearing a dozen or so wounds. Then a figure approached bearing twenty-odd wounds, and he said: > **"Halt — who are you?"** He said, "Uthman ibn Affan, may my father and mother be sacrificed for you." Then a figure approached bearing a dozen or so wounds, and he said: > **"Halt — who are you?"** He said, "Ali ibn Abi Talib, may my father and mother be sacrificed for you." Then the people came forward, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Is there no loud-voiced man to go and call out among the people?"** A man went and shouted, and no sooner did his voice fall upon their ears than they came back returning. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) charged, and the Muslims charged with him, and the polytheists fled. Durayd ibn al-Simmah withdrew upon a hillock — or he said, upon a mound — with some six hundred men. One of his companions said to him, "By Allah, I see a squadron approaching." He said, "Describe them to me." They said, "Their mark is such, their appearance such." He said, "No harm upon you; Qudaah gone off in pursuit of the people." Then they said, "By Allah, we see a rugged squadron approaching." He said, "Describe them to me." They said, "Their mark is such, their appearance such." He said, "No harm upon you; that is Sulaym." Then they said, "We see a horseman approaching." He said, "Woe to you — alone?" They said, "Alone." He said, "Describe him to me." They said, "Wrapped in a black turban." Durayd said, "By Allah, that is al-Zubayr ibn al-Awwam. By Allah, he is your killer, and he will drive you from this place of yours." Al-Zubayr turned to them and said, "Why are these ones here?" Then he advanced with those who followed him, slew three hundred there, cut off the head of Durayd ibn al-Simmah, and placed it before him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن انصار سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک نوجوان نے یہ کہا کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے ‘ اور پھر یہ ہوا کہ جب ہم نے دشمن کا سامنا کیا ، تو ہم لوگ پسپا ہو گئے نبی اکرم ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے حضرت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور نبی اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی رکاب تھامی ہوئی تھی ہم ایک ایسی وادی میں تھے جس کی زمین نرم تھی اور غبار بلند ہوا تھا ہم میں سے کوئی شخص اپنی تھیلی کو نہیں دیکھ پاتا تھا اسی دوران کوئی شخص آتا ہوا محسوس ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے جواب دیا میں ابوبکر ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ان کے جسم پر دس سے زیادہ ضربیں لگی ہوئی تھیں پھر کوئی اور شخص آتا ہوا دکھائی دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں عمر بن خطاب ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ان کے جسم پر بھی دس سے زیادہ ضربیں تھیں اسی دوران ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا جس کے جسم پر بیس سے زیادہ ضربیں تھیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں عثمان بن عفان ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر ایک اور شخص آتا ہوا محسوس ہوا اس کے جسم پر دس سے زیادہ ضربیں تھیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں علی بن ابوطالب ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر لوگ آ گئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی اونچی آواز والا شخص جا کر لوگوں میں اعلان نہیں کرتا تو ایک صاحب گئے انہوں نے چیخ کر کہا ان کی آواز لوگوں کی سماعت تک پہنچی تو وہ لوگ واپس پلٹ آئے نبی اکرم ﷺ نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے حملہ کیا ، تو مشرکین پسپا ہو گئے درید بن صمہ ایک چھوٹے پہاڑ پر یا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اس کے ساتھ چھ سو افراد تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اللہ کی قسم مجھے لگتا ہے کوئی چھوٹا سا دستہ آ رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : ان کی نشانی یہ ہے ‘ اور ان کا حلیہ اس طرح کا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے یہ قضاعہ قبیلے کے لوگ ہیں جو دشمن کے پیچھے گئے تھے لوگوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ہمیں ایک سخت قسم کا دستہ آتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : ان کی نشانی یہ ہے ‘ اور ان کا حلیہ اس طرح ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہے یہ سلیم قبیلے کے لوگ ہیں پھر لوگوں نے بتایا : ہمیں ایک شہسوار آتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو کیا وہ اکیلا ہے لوگوں نے عرض کی : وہ اکیلا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : اس نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا ہے ‘ تو درید نے کہا : اللہ کی قسم وہ زبیر بن عوام ہو گا اور اللہ کی قسم وہ تمہیں قتل کر دے گا اور وہ تمہیں تمہاری جگہ سے نکلوا دے گا راوی کہتے ہیں : پھر میں نے ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں ، تو وہ شخص اور اس کے پیروکار چلے گئے ‘ اور وہاں تین سو افراد قتل ہو گئے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے درید بن صمہ کا سر کاٹ کر نبی اکرم ﷺ کے آگے رکھ دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ‘ اور وہ اپنی کثرت سے غلطیوں اور زیادتی کی وجہ سے ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں .

10265

Majma al-Zawaid #10265

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ: انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا، قَالَ: وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ، وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ قَدْ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ، وَفِي أَجْنَابِهِ، وَمَضَائِقِهِ، قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا. قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَانْشَمَرُوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ. وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ الْيَمِينِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ، إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ. وَفِي مَنْ ثَبَتَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ، وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ. قَالَ: وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ، فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ لَهُ طَوِيلٍ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ، فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ، فَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ».

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) reported: When we faced the valley of Hunayn, we descended into a valley of the valleys of Tihamah, deep and sloping, descending steeply, in the blindness of dawn. The enemy had lain in wait for us in its ravines, its sides, and its straits — gathered, prepared, and ready. By Allah, nothing startled us as we descended but squadrons charging upon us with the charge of a single man. The people fled, turning back, scattering, none turning to another. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) moved to the right, then said: > **"To me, O people."** Only a group of Muhajirun and Ansar and his household remained with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) — not many. Among those who stood firm with him were Abu Bakr and Umar; of his household, Ali ibn Abi Talib, al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, his son al-Fadl ibn Abbas, Abu Sufyan ibn al-Harith, Rabiah ibn al-Harith, Ayman ibn Ubayd — the son of Umm Ayman — and Usamah ibn Zayd. And there was a man of Hawazin upon a red camel of his, holding a black banner of his on a long spearhead, ahead of the people with Hawazin behind him: when he caught up he thrust with his spear, and when the people eluded him he raised it for those behind him, and they followed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ وادی حنین میں آئے ‘ تو ہم تہامہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کے اندر آئے تھے جو درمیان میں تھی اور اس میں نیچے کی طرف آنا پڑتا تھا انہوں نے یہ بھی بتایا : اس وقت صبح کا اندھیرا پایا جاتا تھا ، اور لوگوں نے اس گھاٹی کے اندر ہمارے لئے کمین گاہیں بنا لی ہوئی تھیں اس کے اطراف میں اور اس کی تنگ جگہ پر وہ لوگ جمع تھے وہ اکٹھے ہو گئے تھے وہ تیار تھے راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ہم نیچے کی طرف اتر رہے تھے اسی دوران کچھ دستوں نے ہم پر حملہ کر دیا ‘ تو لوگ واپس پلٹے وہ لوگ الٹے قدموں واپس آئے تھے کوئی بھی مڑا نہیں تھا نبی اکرم ﷺ دائیں طرف ہو گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میری طرف آؤ اے لوگو میری طرف آؤ اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں ۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں راوی کہتے ہیں : کوئی معاملہ نہیں ہوا ‘ یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گتھا ہو گئے ‘ اور لوگ ادھر ادھر ہو گئے ‘ البتہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مہاجرین انصار اور آپ کے گھر والوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے جن کی تعداد زیادہ نہیں تھی جو لوگ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے آپ کے اہل بیت میں سے حضرت علی بن ابوطالب رضی الله عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ان کے صاحبزادے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ حضرت ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ حضرت ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ جو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں ‘ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا ‘ اور اس کے نیزے کا سرا لمبا تھا وہ لوگوں کے سامنے تھا ہوازن اس کے پیچھے تھے جب اس تک کوئی پہنچتا تھا تو وہ اپنے نیزے کے ذریعے حملہ کر دیتا تھا ‘ اور جب لوگ اس سے دور ہوتے تھے ‘ تو وہ اس کو اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کر لیتا تھا ‘ اور وہ اس کے پیچھے آ جاتے تھے .

10266

Majma al-Zawaid #10266

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بَيْنَمَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ، إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَيَضْرِبُ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَيُوقَعُ عَلَى عَجُزِهِ، وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ، وَاجْتَلَدَ النَّاسُ، فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ [مِنْ هَزِيمَتِهِمْ] حَتَّى [وَجَدُوا] الْأَسَارَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ: «وَصَرَخَ حِينَ كَانَتِ الْهَزِيمَةُ كَلَدَةً، وَكَانَ أَخَا صَفْوَانِ بْنِ أُمَيَّةَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكًا فِي الْمُدَّةِ الَّتِي ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَلَا بَطَلَ السِّحْرُ الْيَوْمَ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ». وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ أَبِي يَعْلَى، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ishaq said: Asim ibn Umar ibn Qatadah narrated to me, from Abd al-Rahman ibn Jabir, from his father Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both), who said: While that Hawazin standard-bearer upon his camel was doing what he did, Ali ibn Abi Talib and a man of the Ansar set upon him, both intending him. Ali came at him from behind and struck the camel's hocks, bringing it down upon its hindquarters. The Ansari leapt upon the man and struck him a blow that severed his foot at mid-shin, toppling him from his saddle. The people grappled, and by Allah, those who had fled had not yet returned when they found the captives bound before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). Ahmad and Abu Yala narrated it with the addition: When the rout came, Kaladah cried out — he was the brother of Safwan ibn Umayyah, a polytheist that day within the respite the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) had granted him: "Sorcery is void today!" Safwan said to him, "Silence — may Allah dash your mouth! By Allah, for a man of Quraysh to rule me is dearer to me than for a man of Hawazin to rule me."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر بن قتادہ نے عبدالرحمن بن جابر کے حوالے سے ان کے والد حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے اس دوران ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو ان کا علم بردار تھا وہ اپنے اونٹ پر سوار تھا ‘ اور یہ یہ کر رہا تھا حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کی طرف بڑھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف سے اس کے پاس آئے ‘ اور انہوں نے اونٹ کی پچھلی ٹانگوں پر ضرب لگائی ‘ تو وہ پشت کے بل نیچے گر گیا انصاری شخص نے اس شخص پر اچھیل کر ضرب لگائی ‘ تو نصف پنڈلی کے پاس سے اس کا پاؤں کاٹ دیا وہ اپنے پالان سے نیچے گرا اور لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اللہ کی قسم ابھی لوگ واپس نہیں آئے تھے کہ انہوں نے قیدیوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بندھے ہوئے پایا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جب پسپائی ہو گئی ‘ تو کلدہ نے چیخ کر کہا جو صفوان بن امیہ کا بھائی تھا ، اور اس وقت مشرک تھا ‘ اور یہ اس مدت میں تھا جو نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے مقرر کی تھی اس نے کہا : آج جادو باطل ہو گیا تو صفوان نے اس سے کہا تم خاموش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارا منہ بند کرے اللہ کی قسم قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میری دیکھ بھال کرے یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص میرا آقا بن جائے ۔ یہ روایت بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ جس نے سماع کی صراحت کی ہے ‘ اور یہ امام ابویعلیٰ کی روایت کے مطابق ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10267

Majma al-Zawaid #10267

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَوَلَّى [عَنْهُ] النَّاسُ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ. فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا، وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ، وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ، فَقُلْتُ [لَهُ]: ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: "" نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ "". فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا، [ثُمَّ] قَالَ: "" أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟ "" قُلْتُ: هُمْ أُولَاءِ، قَالَ: "" اهْتِفْ بِهِمْ "" فَهَتَفَ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported: I was with the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Hunayn. The people turned away from him, and eighty men of the Muhajirun and Ansar stood firm with him. We stepped back upon our heels some eighty paces, but we did not turn our backs; they are the ones upon whom Allah, Mighty and Majestic, sent down tranquility. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was upon his mule, pressing forward. His mule shied and he leaned from the saddle. I said to him, "Rise up — may Allah raise you." He said: > **"Hand me a handful of dust."** He struck their faces with it, and their eyes filled with dust. Then he said: > **"Where are the Muhajirun and Ansar?"** I said, "Here they are." He said: > **"Call out to them."** So I called out to them, and they came with their swords in their right hands like meteors, and the polytheists turned their backs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا راوی کہتے ہیں : لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر مڑ گئے آپ کے ساتھ اسی افراد رہ گئے جن کا تعلق مہاجرین اور انصار سے تھا ہم اسی قدم کے لگ بھگ پیچھے ہٹے تھے لیکن ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی یہ وہ لوگ ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی تھی نبی اکرم ﷺ اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے کی طرف بڑھ رہے تھے آپ اپنے خچر کو لے کے آگے بڑھ رہے تھے ‘ تو اسی دوران اس کی زین ہٹ گئی میں نے آپ سے کہا آپ اٹھیں اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے مٹھی بھر مٹی دو پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ مٹی ان لوگوں کے منہ پر پھینکی تو وہ ان کی آنکھوں میں بھر گئی پھر آپ نے دریافت کیا : مہاجرین اور انصار کہاں ہیں میں نے عرض کی : وہ یہاں ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم انہیں پکارو میں نے انہیں پکارا تو وہ لوگ آ گئے ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں وہ شہاب کی طرح تھے اور پھر مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

10268

Majma al-Zawaid #10268

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُنَادَى: "" يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ "". ثُمَّ اسْتَحَرَّ النِّدَاءُ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَلَمَّا سَمِعُوا النِّدَاءَ أَقْبَلُوا، فَوَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُهُمْ إِلَّا [إِلَى] الْإِبِلَ تَحِنُّ إِلَى أَوْلَادِهَا، فَلَمَّا الْتَقَوُا الْتَحَمَ الْقِتَالُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ "". وَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَبْيَضَ فَرَمَى بِهِ، وَقَالَ: "" هُزِمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "". وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ النَّاسِ قِتَالًا بَيْنَ يَدَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ دَاوَرَ وَهُوَ أَبُو الْعَوَّامِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reported: On the day of Hunayn, the people fled from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) except al-Abbas ibn Abd al-Muttalib and Abu Sufyan ibn al-Harith. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ordered a call: > **"O companions of Surat al-Baqarah! O company of the Ansar!"** Then the call intensified among Banu al-Harith ibn al-Khazraj. When they heard the call they came forward — by Allah, I likened them only to camels yearning for their young. When they met, the fighting joined, and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Now the oven is hot."** He took a handful of white pebbles and cast them, saying: > **"Defeated, by the Lord of the Kaaba."** Ali ibn Abi Talib was that day the fiercest of people in fighting before him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے صرف حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ یہ اعلان کیا جائے اے سورت بقرہ کے ماننے والو ! اے انصار کے گروہ پھر بنو حارث بن خزرج کو پکارا گیا جب انہوں نے آواز سنی تو وہ آ گئے اللہ کی قسم ان کی مثال میں یوں دے سکتا ہوں کہ جس طرح کوئی اونٹ اپنی اولاد کی طرف آتا ہے جب وہ لوگ آئے ‘ تو لڑائی تیز ہو گئی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اب بھٹی گرم ہو گئی ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے سفید کنکریاں مٹھی میں لیں اور انہیں پھینکا تو فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ لوگ پسپا ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے شدید ترین لڑائی کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن داور کا معاملہ مختلف ہے وہ ابوعوام ہے ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

10269

Majma al-Zawaid #10269

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: زَيْدٌ، وَهُوَ آخِذٌ بِعِنَانِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَيْحَكَ ادْعُ النَّاسَ "". فَنَادَى زَيْدٌ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ. فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ، فَقَالَ: "" ادْعُ الْأَنْصَارَ "". فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ. فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ، فَقَالَ: "" وَيْحَكَ خُصَّ الْأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ "". فَنَادَى: يَا مَعْشَرَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ. فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ، فَقَالَ: "" وَيْحَكَ خُصَّ الْمُهَاجِرِينَ ; فَإِنَّ لِي فِي أَعْنَاقِهِمْ بَيْعَةً "". قَالَ: فَحَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْهُمْ أَلْفٌ قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَشَوْا قُدُمًا حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah (may Allah be pleased with him) reported: The people scattered from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Hunayn, and none remained with him but a man called Zayd, holding the bridle of the Messenger of Allah's gray mule. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to him: > **"Woe to you — call the people."** So Zayd called, "O people, this is the Messenger of Allah calling you!" But none came. He said: > **"Call the Ansar."** He said, "O company of the Ansar, the Messenger of Allah calls you!" But none came. He said: > **"Woe to you — call Aws and Khazraj specifically."** He called, "O company of Aws and Khazraj, this is the Messenger of Allah calling you!" But none came. He said: > **"Woe to you — call the Muhajirun specifically, for my pledge is upon their necks."** Buraydah narrated to me that a thousand of them then came forward, having cast aside their sheaths, until they reached the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). They advanced onward until Allah granted them victory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے آپ کے ساتھ صرف ایک شخص باقی رہ گیا جس کا نام زید تھا اس نے نبی اکرم ﷺ کے خچر شہبا کی لگام پکڑی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو تم لوگوں کو بلاؤ تو زید نے بلند آواز میں پکارا اے لوگو یہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی شخص نہیں آیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم انصار کو بلاؤ اس نے کہا : اے انصار کے گروہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی شخص نہیں آیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم بطور خاص اوس اور خزرج کو بلاؤ تو اس نے پکار کے کہا : اے اوس اور خزرج کے گروہ یہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی نہیں آیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بطور خاص مہاجرین کو بلاؤ کیونکہ ان کی گردنوں میں میری بیعت ہے ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ پھر وہ لوگ اس طرح آئے کہ انہوں نے میانیں ایک طرف رکھ دیں وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور پھر انہوں نے پیش قدمی شروع کی ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10270

Majma al-Zawaid #10270

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: "" جُزُّوهُمْ جَزًّا "". وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَلْقِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said on the day of Hunayn: > **"Cut them down at the throat."** And he gestured with his hand toward the throat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے ٹکڑے کر دو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10271

Majma al-Zawaid #10271

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ بَدَلٍ قَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ أَجْمَعُونَ إِلَّا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ، فَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُجُوهَنَا بِقَبْضَةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَانْهَزَمْنَا، فَمَا يُخَيَّلُ لِي أَنَّ كُلَّ شَجَرَةٍ وَلَا حَجَرٍ إِلَّا وَهُوَ فِي آثَارِنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn Badal (may Allah be pleased with him) reported: I witnessed the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Hunayn, when all his Companions fled except al-Abbas ibn Abd al-Muttalib and Abu Sufyan ibn al-Harith. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) threw at our faces a handful of earth, and we fled; it seemed to me that every tree and every stone was on our heels.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن بدل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھا آپ کے تمام اصحاب پسپا ہو گئے صرف حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نہیں ہوئے نبی اکرم ﷺ نے مٹھی بھر مٹی ہماری طرف پھینکی تو ہم پسپا ہو گئے ‘ اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہر درخت اور پتھر ہمارا پیچھا کر رہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10272

Majma al-Zawaid #10272

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي، وَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَأَتَيْتُهُ فِي فُسْطَاطِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "". فَقُلْتُ: حَانَ الرَّوَاحُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" فَنَادِ بِلَالًا ""، فَثَارَ بِلَالٌ مِنْ تَحْتِ شَجَرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ، فَقَالَ: "" أَسْرِجْ لِي فَرَسِي "" [فَأَخْرَجَ] سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ، لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ "". فَأَسْرَجَ لَهُ ثُمَّ رَكِبَ وَمَضَيْنَا عَشِيَّتَنَا وَلَيْلَتَنَا، فَلَمَّا تَشَامَّتِ الْخَيْلَانِ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، كَمَا قَالَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عِبَادَ اللَّهِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ "". وَاقْتَحَمَ عَنْ فَرَسِهِ فَنَزَلَ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى. قَالَ: فَحَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنِّي أَنَّهُ ضَرَبَ وُجُوهَهُمْ، وَقَالَ: "" شَاهَتِ الْوُجُوهُ "". فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ. قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ أَنَّ آبَاءَهُمْ، قَالُوا: فَمَا بَقِيَ مِنَّا يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّسْتِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ: "" لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Abd al-Rahman al-Fihri (may Allah be pleased with him) reported: We were with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) in the expedition of Hunayn on a fiercely hot, scorching day. We camped under the shade of trees. When the sun declined, I donned my armor, mounted my horse, and came to him in his tent. I greeted him, and he said: > **"And upon you be peace, and the mercy of Allah and His blessings."** I said, "Has the time to move come, O Messenger of Allah?" He said: > **"Then call Bilal."** Bilal sprang from beneath a tree as though his shadow were a bird's shadow, and said, "At your service, at your glad service, and I am your ransom." He said: > **"Saddle my horse for me."** He brought out a saddle whose pads were of palm-fiber, in which there was neither pride nor arrogance. He saddled for him, then he mounted, and we marched that evening and night. When the two cavalries scented each other, the Muslims turned fleeing, as Allah said. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"O servants of Allah, I am Allah's servant and His Messenger."** He plunged from his horse, dismounted, and took a handful of pebbles. One nearer to him than I narrated to me that he struck their faces and said: > **"May the faces be deformed."** So Allah routed the polytheists. Their sons narrated to me that their fathers said: Not one of us remained that day but his eyes and mouth were filled with dust, and we heard a rattling from the sky to the earth like iron drawn over a brass basin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے وہ ایک شدید گرم دن تھا ہم نے درختوں کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا دھوپ مسلسل میرے ہتھیاروں پر پڑ رہی تھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور نبی اکرم ﷺ کے مخصوص خیمے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روانگی کا وقت ہو چلا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلال کو آواز دو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ ایک ایسے درخت کے نیچے سے نکل کر آئے جس کا سایہ پرندے کے سائے کی مانند تھا انہوں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ۔ میں آپ پر فدا ہو جاؤں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے گھوڑے پر میرے لئے زین رکھو تو انہوں نے ایک ایسی زین نکالی جس کے دونوں کناروں کے درمیان پتے بھرے ہوئے تھے ‘ آپ میں کوئی تکبر اور خود پسندی نہیں تھی انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے زین رکھ دی تو نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہوئے اس شام اور اس رات ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ جب دونوں طرف کے شہسوار ایک دوسرے کے مد مقابل آئے ‘ تو مسلمان پیٹھ پھیر کر مڑ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے بندو میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر نبی اکرم ﷺ اپنے گھوڑے سے اترے آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے ‘ جو میرے سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے قریب تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے وہ کنکریاں دشمن کی طرف پھینکیں اور ارشاد فرمایا : ان کے چہرے قبیح ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ؟ ان لوگوں کے بیٹوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ ان کے آباء یہ بات بیان کرتے تھے کہ اس دن ہم میں سے ہر ایک کی آنکھوں اور منہ میں مٹی بھر گئی تھی اور ہمیں آسمان سے زمین کی طرف آنے والی ایک آواز یوں سنائی دی جیسے کسی لوہے کو طشت پر پھیرا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے یہ روایت ان الفاظ تک نقل کی ہے : «ليس فيه الشر ولا بطر» ( آپ میں کوئی تکبر اور خود پسندی نہیں تھی ) ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

10273

Majma al-Zawaid #10273

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ نَاوَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التُّرَابَ، فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) handed the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) dust, and he cast it at the faces of the polytheists on the day of Hunayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو مٹی پکڑائی وہ آپ ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر مشرکین کی طرف پھینکی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

10274

Majma al-Zawaid #10274

وَعَنْ يَاسِرٍ قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَنْ يَقِفَ هُوَ وَقَوْمُهُ جُهَيْنَةُ بْنُ زَيْدٍ يَوْمَ هَوَازِنَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعْشَرَ جُهَيْنَةَ، كُونُوا بِأَعْقَابِ بَنِي سُلَيْمٍ فَإِنْ جَاشُوا فَضَعُوا السِّلَاحَ بِأَقْفِيَتِهِمْ وَشِعَارِهِمْ "". فَجَاشَتْ يَوْمَئِذٍ قَبِيلَةٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَصِيَّةَ ; لِأَنَّهُمْ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَتَلَتْهُمْ جُهَيْنَةُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُهَيْنَةَ، فَتَقَدَّمَتْ إِلَى هَوَازِنَ وَصَرَفَ سُلَيْمًا عَنْ مَوْقِفِهِمْ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ يَوْمَئِذٍ وَكَثُرَ الْقَتْلُ فِيهِمْ، وَقَتَلَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ يَوْمَئِذٍ ابْنَ ذِي الْبُرْدَيْنِ الْهِلَالِيَّ، وَكَانَ لِجُهَيْنَةَ فِيهِمْ بَلَاءٌ حَسَنٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Yasir reported: Amr ibn Murrah used to narrate: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered Amr ibn Murrah, he and his people Juhaynah ibn Zayd, to halt on the day of Hawazin. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to them: > **"O company of Juhaynah, be at the heels of Banu Sulaym; if they surge, put your weapons to their backs."** That day a clan of them called Banu Isyah surged — for they disobeyed Allah and His Messenger — and Juhaynah slew them. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) ordered Juhaynah forward toward Hawazin and turned Sulaym from their station. Allah routed them that day, slaughter was great among them, Amr ibn Murrah slew that day Ibn Dhi al-Burdayn al-Hilali, and Juhaynah had a fine trial therein.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یاسر بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اور ان کی قوم جہینہ بن زید کے لوگ جنگ ہوازن کے دن ٹھہر جائیں نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا جہینہ قبیلے کے لوگو تم بنوسلیم کے عقب میں رہنا اگر وہ سرکش ہوئے ‘ تو تم ہتھیار ان کی گدی پر رکھنا ‘ تو اس دن ان میں سے ایک قبیلہ سرکش ہو گیا ، جس کا نام بنو عصیہ تھا کیونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تو جہینہ قبیلے کے لوگوں نے ان کے ساتھ لڑائی کی نبی اکرم ﷺ نے جہینہ کو حکم دیا ‘ تو وہ بڑھ کر ہوازن کی طرف گئے ‘ اور انہوں نے سلیم قبیلے کو ان کی جگہ سے پھیر دیا اس دن اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اس دن بہت قتل و غارت گری ہوئی تھی ، حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے اس دن ابن ذی بردین ہلالی کو قتل کیا اور جہینہ قبیلے کے لئے اس میں بڑی عمدہ آزمائش تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10275

Majma al-Zawaid #10275

وَعَنْ عِيَاضٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى هَوَازِنَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فَقَتَلَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِثْلَ مَا قَتَلَ مِنْ قُرَيْشٍ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَفًّا مِنْ بَطْحَاءَ فَرَمَاهُ فِي وُجُوهِنَا فَهَزَمَنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Iyad (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came to Hawazin with twelve thousand, and there were slain of us, the people of Taif, on the day of Hunayn as many as were slain of Quraysh on the day of Badr. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) took a handful of valley dust and cast it at our faces, and routed us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عیاض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بارہ ہزار افراد کے ساتھ ہوازن تشریف لائے غزوہ حنین کے موقع پر ہم اہل طائف میں سے اتنے افراد قتل ہوئے تھے جتنے غزوہ بدر کے موقع پر قریش کے افراد قتل ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نے زمین کی مٹھی بھر مٹی لی اور وہ ہماری طرف پھینکی تو ہم پسپا ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیاض ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں .

10276

Majma al-Zawaid #10276

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: "" أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ "".» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam (may Allah be pleased with him) reported: The people fled from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Hunayn, and he said: > **"I am the Prophet, no lie; I am the son of Abd al-Muttalib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نبی ہوں یہ بات جھوٹ نہیں ہے ‘ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10277

Majma al-Zawaid #10277

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: "" الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ "" ثُمَّ قَالَ: "" هُزِمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Dinar said — I know it only from Jabir (may Allah be pleased with him) — that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said on the day of Hunayn: > **"Now the oven is hot."** Then he said: > **"Defeated, by the Lord of the Kaaba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق یہ بات حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے دن یہ بات ارشاد فرمائی تھی اب بھٹی گرم ہو گئی ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ لوگ پسپا ہو جائیں گے رب کعبہ کی قسم ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10278

Majma al-Zawaid #10278

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ ; «أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ انْكِشَافَةٍ انْكَشَفَهَا الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَتَبِعَتْهُمُ الْكُفَّارُ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْضَةً مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهَا وُجُوهَهُمْ وَقَالَ: "" ارْجِعُوا شَاهَتِ الْوُجُوهُ "". فَمَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ يَلْقَى أَخَاهُ إِلَّا وَهُوَ يَشْكُو الْقَذَى وَيَمْسَحُ عَيْنَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Amir al-Suwai (may Allah be pleased with him) reported that he said, at a rout in which the Muslims were routed on the day of Hunayn and the disbelievers pursued them: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) took a handful of earth and cast it at their faces, saying: > **"Return — may the faces be deformed."** There was none of us who met his brother but complaining of grit and rubbing his eyes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس شکست کے موقع پر کہا جب مسلمان غزوہ حنین کے دن بکھر گئے اور کفار نے ان کا پیچھا کیا : رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی ایک مٹھی لی اور اسے ان کے چہروں پر پھینکا، اور فرمایا : واپس چلے جاؤ، چہرے قبیح ہوں۔ ہم میں سے جو بھی اپنے بھائی سے ملتا تھا وہ غبار کی شکایت کرتا اور اپنی آنکھیں مل رہا ہوتا تھا۔

10279

Majma al-Zawaid #10279

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ - «وَكَانَ شَهِدَ حُنَيْنًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ أَسْلَمَ - قَالَ: سَأَلْنَاهُ عَنِ الرُّعْبِ الَّذِي أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَيْفَ كَانَ؟ فَأَخَذَ حَصَاةً فَرَمَى بِهَا طَسْتًا فَطَنَّ، قَالَ: كُنَّا نَجِدُ فِي أَجْوَافِنَا مِثْلَ هَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Amir al-Suwai — who had witnessed Hunayn with the polytheists then embraced Islam — reported: We asked him about the terror Allah cast into their hearts on the day of Hunayn, how it was. He took a pebble and cast it at a basin, and it rang. He said, "In our bellies we felt the like of this."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن عامر سوائی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب مسلمان غزوہ حنین کے موقع پر بکھر گئے ‘ اور کفار نے ان کا پیچھا کیا ‘ تو اس وقت نبی اکرم ﷺ نے زمین سے مٹی لی اور اسے دشمن کی طرف پھینکا اور فرمایا : واپس چلے جاؤ تمہارے چہرے قبیح ہوں راوی کہتے ہیں : تو ہم میں سے جو شخص بھی اپنے بھائی سے ملتا تھا تو وہ گندگی ( یا غبار ) کی شکایت کرتا تھا ‘ اور اپنی آنکھیں مل رہا ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10280

Majma al-Zawaid #10280

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «رَأَيْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ شَيْئًا أَسْوَدَ مِثْلَ الْبِجَادِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَلَمَّا دُفِعَ إِلَى الْأَرْضِ فَشَا [فِي الْأَرْضِ] ذَرًّا وَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبَّادُ بْنُ آدَمَ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim (may Allah be pleased with him) reported: I saw on the day of Hunayn a black thing like a striped cloak between the sky and the earth; when it was driven down to the earth, it spread upon the earth as dust, and the polytheists fled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ جو غزوہ حنین میں مشرکین کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور پھر بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے اس رعب کے بارے میں دریافت کیا : جو غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا وہ کیسا تھا ؟ تو حضرت یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ نے کنکریاں لیں اور انہیں طشت پر ڈالا تو ان کی آواز آئی ‘ تو انہوں نے فرمایا : ہمیں اپنے پیٹ میں اس کی مانند محسوس ہو رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن میں نے آسمان اور زمین کے درمیان چادر کی مانند ایک سیاہ چیز دیکھی جب وہ زمین کی طرف آئی ، تو زمین میں ذروں کی طرح پھیل گئی اور مشرکین پسپا ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس میں سے ایک سند میں ایک راوی عباد بن آدم ہے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح نہیں کی ۔

10281

Majma al-Zawaid #10281

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ حَصًى "" فَنَاوَلْتُهُ فَرَمَى بِهِ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَمَا بَقِيَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ إِلَّا مُلِئَتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحَصَى، فَنَزَلَتْ: (وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى)» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Hand me a handful of pebbles."** So I handed him, and he cast them at the faces of the people. Not one of the people remained but his eyes were filled with pebbles. Then was revealed: "You did not throw when you threw, but Allah threw."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے مٹھی بھر کنکریاں پکڑاؤ وہ میں نے آپ کو پکڑائیں وہ آپ نے دشمن کی طرف پھینکیں تو دشمن میں سے ہر ایک کی آنکھوں میں کنکریاں بھر گئیں اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : ’’ جب تم نے کنکریاں پھینکیں تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکیں تھیں بلکہ وہ اللہ نے پھینکیں تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10282

Majma al-Zawaid #10282

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ نَاوَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التُّرَابَ فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَيْفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) handed the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) dust, and he cast it at the faces of the polytheists on the day of Hunayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو مٹی پکڑائی تھی جو آپ نے مشرکین کی طرف پھینکی تھی یہ جنگ حنین کے موقع پر ہوا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اسماعیل بن سیف کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10283

Majma al-Zawaid #10283

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ يُقَالُ لَهَا: دُلْدُلٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دُلْدُلُ اسْدِي "". فَأَلْزَقَتْ بَطْنَهَا بِالْأَرْضِ حَتَّى أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِفْنَةً مِنْ تُرَابٍ، فَرَمَى بِهَا وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ: "" حم، لَا يُنْصِرُونَ "". فَانْهَزَمَ الْقَوْمُ وَمَا رَمَيْنَاهُمْ بِسَهْمٍ، وَلَا طَعَنَّاهُمْ بِرُمْحٍ، وَلَا ضَرَبْنَا بِسَيْفٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reported: When the Muslims fled on the day of Hunayn, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was upon his gray mule called Duldul. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to her: > **"Duldul, kneel."** She pressed her belly to the earth until the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) took a handful of dust and cast it at their faces, saying: > **"Ha-Mim — they shall not be aided."** The people fled, though we had shot them with no arrow, thrust them with no spear, and struck them with no sword.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر جب مسلمان پسپا ہو گئے ‘ اور نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے شہباء خچر پر سوار تھے جس کا نام دلدل تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے دلدل تم بیٹھ جاؤ تو اس نے اپنا پیٹ زمین کے ساتھ ملا لیا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مٹھی بھر مٹی لی اور وہ ان لوگوں کی طرف پھینکی آپ نے فرمایا : «حم لا ینصرون» تو دشمن پسپا ہو گیا حالانکہ ہم نے نہ انہیں کوئی تیر مارا تھا نہ کوئی نیزہ مارا تھا نہ انہیں تلوار کے ذریعے ضرب لگائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن محمد بن قاسم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10284

Majma al-Zawaid #10284

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي الْإِسْلَامُ، وَلَا مَعْرِفَةٌ بِهِ، وَلَكِنِّي أَنِفْتُ أَنْ تَظْهَرَ هَوَازِنُ عَلَى قُرَيْشٍ، فَقُلْتُ وَأَنَا وَاقِفٌ مَعَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى خَيْلًا بُلْقًا قَالَ: "" يَا شَيْبَةُ، إِنَّهُ لَا يَرَاهَا إِلَّا كَافِرٌ "". فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اهْدِ شَيْبَةَ "" ثُمَّ ضَرَبَهَا ثَانِيَةً ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اهْدِ شَيْبَةَ "" فَوَاللَّهِ مَا رَفَعَ يَدَهُ مِنَ الثَّالِثَةِ مِنْ صَدْرِي حَتَّى مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ. قَالَ: فَالْتَقَى النَّاسُ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَةٍ أَوْ بَغْلَةٍ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِثَغْرِ دَابَّتِهِ، فَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ، فَنَادَى الْعَبَّاسُ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْرٌ فَقَالَ: أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ؟ أَيْنَ أَصْحَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؟ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ قُدُمًا: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ "". فَعَطَفَ الْمُسْلِمُونَ فَاصْطَلَمُوا بِالسُّيُوفِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ "" قَالَ: وَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Musab ibn Shaybah reported from his father (may Allah be pleased with him), who said: I went out with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the day of Hunayn. By Allah, neither Islam nor knowledge of him brought me out; rather I disdained that Hawazin should prevail over Quraysh. As I stood with him I said, "O Messenger of Allah, I see piebald horses." He said: > **"O Shaybah, none sees them but a disbeliever."** He struck his hand upon my chest, then said: > **"O Allah, guide Shaybah."** Then he struck it a second time and said: > **"O Allah, guide Shaybah."** By Allah, he had not lifted his hand from my chest the third time before there was none of Allah's creation dearer to me than him. Then the people met, with the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) upon a she-camel — or a mule — Umar holding its bridle and al-Abbas ibn Abd al-Muttalib holding the mouth of his mount. The Muslims fled, and al-Abbas called out in a loud voice: "Where are the first Muhajirun? Where are the companions of Surat al-Baqarah?" And the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) kept saying as he advanced: > **"I am the Prophet, no lie; I am the son of Abd al-Muttalib."** The Muslims turned back and clashed with swords. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Now the oven is hot."** And Allah routed the polytheists.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن شیبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلا اللہ کی قسم نہ تو اسلام نے مجھے نکالا تھا ‘ اور نہ ہی اس کی معرفت نے مجھے نکلنے پر مجبور کیا تھا لیکن میری یہ خواہش تھی کہ ہوازن قریش پر غالب آ جائیں میں نے کہا : میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا یا رسول اللہ ! میں نے ابلق گھوڑا دیکھا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے شیبہ اسے کوئی کافر ہی دیکھ سکتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور پھر دعا کی اے اللہ تو شیبہ کو ہدایت نصیب کر پھر نبی اکرم ﷺ نے دوسری مرتبہ اسے مارا اور فرمایا : اے اللہ تو شیبہ کو ہدایت نصیب کر تو اللہ کی قسم تیسری مرتبہ ابھی آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے سے بلند نہیں کیا تھا کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی میرے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب نہیں تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب دونوں فریقوں کا مقابلہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ اپنی اونٹنی پر یا شاید خچر پر سوار تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اس جانور کا منہ پکڑا ہوا تھا مسلمان پسپا ہو گئے ‘ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا : مہاجرین اولین کہاں ہیں ؟ سورت بقرہ والے لوگ کہاں ہیں ؟ اور نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے تھے آگے بڑھو ۔ میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ‘ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں تو مسلمان پلٹ آئے ‘ اور انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اب بھٹی گرم ہو گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔