Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 9

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10125–10164

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10125

Majma al-Zawaid #10125

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ كَلَّ أَصْحَابُهُ، وَهُوَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ وَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ وَمَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ أَوْزَارَهَا، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ غَسْلِهِ، فَأَتَوُا النَّضِيرَ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ حِبَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Abi Awfa, may Allah be pleased with him, said: Jibril, peace be upon him, came to the Prophet ﷺ when his Companions were exhausted and he was washing his head. He said: O Muhammad, you have laid down your weapons, but the angels have not yet laid down their burdens. So the Messenger of Allah ﷺ lifted his head before finishing washing it. Then they went to al-Nadir, and Allah granted him victory over them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ آپ ﷺ کے اصحاب تھک چکے تھے ‘ اور آپ ﷺ اپنا سر دھو رہے تھے ‘ انہوں نے عرض کی : اے حضرت محمد ! آپ لوگوں نے اسلحہ اتار دیا ہے ‘ حالانکہ فرشتوں نے ابھی اسلحہ نہیں اتارا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے سر کو پورا دھونے سے پہلے اپنا سر دھونے سے رک گئے ‘ پھر یہ لوگ بنو نضیر کی طرف گئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے انہیں ( یعنی بنونضیر کو ) فتح کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔

10126

Majma al-Zawaid #10126

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ; «أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا عَامِرُ، غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ: أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ، وَثَابِتٌ قَائِمٌ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ، لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي، فَقَالَ ثَابِتٌ: أَمَا وَاللَّهِ، يَا عَامِرُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِلِسَانِي لَتَكْرَهَنَّ حَيَاتِي، فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَطَسَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَامِرٌ: شَمَّتَ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكَنِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ ""، قَالَ: وَمَحْلُوفِهِ لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَكْفِينِيكَ اللَّهُ وَابْنَا قَيْلَةَ ""، ثُمَّ خَرَجَ عَامِرٌ فَجَمَعَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ثَلَاثَةُ أَبْطُنٍ، هُمُ الَّذِينَ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ: "" اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ ""، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَلَمَّا سَمِعَ أَنَّ عَامِرًا جَمَعَ لَهُ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشَرَةً فِيهِمْ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، وَسَائِرُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَمِيرُهُمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، فَمَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ، فَأَقْبَلَ حَتَّى هَجَمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَهُمْ كُلَّهُمْ، فَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ كَانَ فِي الرِّكَابِ، فَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قَتَلُوا، خَيْرَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" قَدْ قُتِلَ أَصْحَابُكُمْ مِنْ وَرَائِكُمْ "" فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُمَّ اكْفِنِي عَامِرًا "" فَكَفَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ بِفِنَائِهِ، فَرَمَاهُ اللَّهُ بِالذَّبْحَةِ فِي حَلْقِهِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ سَلُولٍ، فَأَقْبَلَ يَنْزُو وَهُوَ يَقُولُ: يَا آلَ عَامِرٍ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ تَرْغَبُ أَنْ تَمُوتَ فِي بَيْتِهَا، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ فِي بَيْتِهَا، وَكَانَ أَرْبَدُ بْنُ قَيْسٍ أَصَابَتْهُ صَاعِقَةٌ فَاحْتَرَقَ فَمَاتَ، فَرَجَعَ مَنْ كَانَ مَعَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sa'd, may Allah be pleased with him, said: 'Amir ibn al-Tufayl came to the Prophet ﷺ in Madina. He disputed with the Prophet ﷺ and raised his voice, while Thabit ibn Qays stood over the Prophet ﷺ with his sword. He said: > **"O 'Amir, lower your voice before the Prophet ﷺ."** He said: What is that to you? Thabit said: > **"By the One who honored him, were it not that the Messenger of Allah ﷺ would dislike it, I would strike your head with this sword."** 'Amir, sitting while Thabit stood, said: By Allah, O Thabit, if you offered yourself to me you would turn away from me. Thabit said: > **"By Allah, O 'Amir, if you offered yourself to my tongue you would hate your life."** Then a nephew of 'Amir ibn al-Tufayl sneezed and praised Allah, so the Prophet ﷺ blessed him. Then 'Amir sneezed and did not praise Allah, so the Prophet ﷺ did not bless him. 'Amir said: You blessed this boy and left me? The Prophet ﷺ said: > **"He praised Allah."** He said: By His oath, I shall fill it against you with horses and men. So the Prophet ﷺ said: > **"Allah and the two sons of Qayla will suffice me against you."** Then 'Amir left and gathered men against the Prophet ﷺ; three clans of Banu Sulaym joined him — those whom the Prophet ﷺ used to curse in the dawn prayer: > **"O Allah, curse Lihyan, Ri'l, Dhakwan, and 'Usayya, who disobeyed Allah and His Messenger. Allah is Greatest."** The Prophet ﷺ supplicated for seventeen nights. When he heard that 'Amir had gathered against him, he sent ten men among them 'Amr ibn Umayya al-Damri of the Ansar, with Mundhir ibn 'Amr as their leader. They camped at Bi'r Ma'una; the enemy came, surrounded them, and killed them all except 'Amr ibn Umayya. Allah revealed to His Prophet ﷺ that very day his best Companions were slain. The Prophet ﷺ said: Look at your companions who were slain. Then the Prophet ﷺ supplicated against 'Amir ibn al-Tufayl, saying: O Allah, suffice me against 'Amir. So Allah sufficed him: he alighted in a courtyard, Allah afflicted his throat with a glandular swelling, while he was in the house of a woman of Sallul. Blood flowed from his wound and he kept saying: O family of 'Amir, a gland like a camel's gland in the house of a Sallul woman. He wished to avoid dying in her house but remained there until he died in it. Lightning struck Arbad ibn Qays and burned him, and all those with them turned back.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عامر بن طفیل ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات کرتے ہوئے تکرار کی ‘ تو اس کی آواز بلند ہو گئی ، حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنی تلوار پکڑے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ کے سرہانے کھڑے تھے ‘ انہوں نے فرمایا : اے عامر ! تم اپنی آواز کو نبی اکرم ﷺ کے مقابلے میں پست رکھو ! اُس نے کہا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے انہیں عزت عطا کی ہے ‘ اگر اللہ کے رسول ﷺ کو یہ بات ناپسند نہ ہوتی ‘ تو میں نے اس تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ‘ عامر جو بیٹھا ہوا تھا ، اُس نے ان کی طرف دیکھا ‘ ثابت کھڑے ہوئے تھے اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اے ثابت ! اگر تم اپنے آپ کو میرے لئے پیش کر دیتے ‘ تو تم نے مجھ سے ضرور منہ موڑ لینا تھا ، تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اے عامر ! اگر تم اپنے آپ کو میری زبان کے لئے پیش کرتے ‘ تو تم نے میری زندگی کو ناپسند کرنا تھا ، اسی دوران عامر بن طفیل کے بھتیجے کو چھینک آ گئی ‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُسے چھینک کا جواب دیا ‘ پھر عامر بن طفیل کو چھینک آئی ‘ تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اُسے جواب نہیں دیا ‘ عامر نے کہا : آپ نے اس لڑکے کو جواب دیا ہے اور مجھے نہیں دیا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی تھی ‘ اس نے کہا : پھر اسی کی ذات کی قسم ہے ‘ میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیدل لوگوں کو جمع کر دوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے مقابلے میں اللہ تعالیٰ میری کفایت کر لے گا ‘ اور قیلہ کے دو بیٹے کفایت کریں گے ‘ پھر عامر وہاں سے نکلا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کے لئے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا ‘ تو بنوسلیم کی تین شاخوں کے لوگ اس کے ساتھ مل گئے ‘ یہ وہ لوگ تھے ‘ جن کے خلاف نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز میں دعائے ضرر کرتے رہے تھے ‘ آپ یہ کہتے تھے : اے اللہ ! لحیان ‘ رعل اور ذکوان قبیلے پر لعنت فرما ! اور عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ سترہ دن تک یہ دعا کرتے رہے ‘ جب آپ نے یہ بات سنی کہ عامر نے آپ کے خلاف لوگوں کو جمع کر لیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دس افراد کو بھیجا ‘ جن میں ایک حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھے ‘ ان سب کا تعلق انصار سے تھا ‘ اور ان کے امیر حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ‘ یہ لوگ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے بئر معونہ کے پاس پڑاؤ کیا ، تو دشمن آگے آیا اور ان لوگوں کو گھیر لیا اور ان سب کو قتل کر دیا ‘ ان سب میں سے صرف حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ان سے بچ پائے ‘ وہ سواروں کے درمیان تھے ( یا سواریوں کے درمیان تھے ) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی طرف اُسی دن یہ وحی کی ، جس دن آپ کے اصحاب میں سے بہترین لوگ شہید ہو گئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں ، تو تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے عامر بن طفیل کے خلاف دعائے ضرر کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے کہا : اے اللہ ! عامر کے حوالے سے میرے لئے کفایت کر جا ! تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے آپ کی کفایت کی ‘ وہ شخص آیا اپنے صحن میں اترا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حلق میں ’’ ذبحہ ‘‘ ( نامی پھوڑے ) کی بیماری لاحق کر دی ‘ وہ سلول سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں تھا ‘ اس کے زخم سے خون بہنے لگا ‘ اور وہ یہ کہہ رہا تھا : اے آل عامر ! اونٹ کے غدہ کی طرح غدہ ہے ‘ جو سلولیہ کے گھر میں ہے ‘ وہ اس بات سے منہ موڑنا چاہ رہا تھا کہ وہ اس عورت کے گھر میں مرے ‘ لیکن وہ مسلسل وہیں رہا ‘ یہاں تک کہ اُس عورت کے گھر میں مر گیا ‘ اربد بن قیس نامی شخص پر آسمانی بجلی گری اور وہ جل گیا اور مر گیا ‘ تو ان لوگوں کے ساتھ جتنے بھی لوگ تھے ‘ وہ سب واپس چلے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10127

Majma al-Zawaid #10127

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا، قُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ: يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ، وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ، أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ، أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ. قَالَ: فَطَعَنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ قَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ، فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي، فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ، فَقَالَ لَهُمْ: كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي وَإِلَّا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْكُمْ، فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ، فَقَالَ: أَتُؤَمِّنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ، وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ لَهُمْ مِنْ خَلْفِهِمْ فَطَعَنَهُ، حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَقَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ، كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, said: When the Messenger of Allah ﷺ sent Haram, the brother of Umm Sulaym, with seventy men who were killed on the day of Bi'r Ma'una — the chief of the polytheists that day being 'Amir ibn al-Tufayl, who had come to the Prophet ﷺ and said: Choose one of three from me: the people of the plain will be yours and the people of the desert mine; or I shall be caliph after you; or I shall raid you with Ghatafan, a thousand sorrel stallions and a thousand sorrel mares. He said: Then he was stricken in the house of a woman of such-and-such tribe. He said: A gland like a camel's gland, in the house of a woman of such-and-such tribe — bring me my horse. It was brought, he mounted it, and died upon its back. Then Haram, the brother of Umm Sulaym, set out with two men: a man of Banu Umayya and a lame man. He said to them: Stay near me until I go to them; if they grant me safety, well and good, otherwise remain near me — if they kill me, inform our companions. So Haram came to them and said: > **"Will you grant me safety so that I may convey to you the message of the Messenger of Allah ﷺ?"** They said: Yes. He began speaking to them, and they signaled to one of their men behind him, who stabbed him with a spear clean through. He said: > **"Allah is Greatest. I have succeeded, by the Lord of the Ka'ba."** He said: Then they killed them all except the lame man, who was on a mountaintop. Then he mentioned the rest of the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے اُن کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو ‘ جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں ‘ انہیں ستر افراد کے ہمراہ بھیجا ‘ جو بعد میں ’’ بئر معونہ ‘‘ کے پاس شہید کر دیے گئے تھے ‘ اُن دنوں مشرکین کا سردار عامر بن طفیل تھا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : میرے لئے تین میں سے کوئی ایک چیز طے کر دیں ، شہری علاقے کے لوگ آپ کے ساتھ ہوں گے دیہاتوں کے لوگ میرے پاس رہیں گے ‘ یا پھر یہ ہے کہ میں آپ کے بعد خلیفہ بن جاؤں گا ‘ ورنہ پھر میں غطفان قبیلے کے دو ہزار جانوروں ( سمیت لوگوں ) کے ہمراہ آپ کے ساتھ جنگ کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : بنو فلاں سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں اسے بیماری لاحق ہوئی ‘ اس نے کہا : یہ تو اونٹ کے غدہ کی طرح کا غدہ ہے ‘ جو فلاں قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں ہے ‘ تم میرا گھوڑا میرے پاس لے کے آؤ ! وہ اُس کے پاس لایا گیا ‘ وہ اس پر سوار ہوا ‘ پھر وہ اس کی پشت پر موجود رہتے ہوئے مر گیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت حرام رضی اللہ عنہ گئے ‘ اُن کے ساتھ دو آدمی تھے ‘ ایک کا تعلق بنوامیہ سے تھا ‘ اور ایک شخص لنگڑا تھا ۔ انہوں نے ان لوگوں سے کہا : تم میرے قریب رہنا ‘ جب تک کہ میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ‘ اگر تو مجھے ان لوگوں نے امان دے دی تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ تم لوگ میرے قریب ہو گے ‘ اگر وہ لوگ مجھے قتل کر دیتے ہیں ، تو تم اپنے ساتھیوں کو اس بارے میں اطلاع دے دینا ، پھر حضرت حرام رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس گئے ‘ اور فرمایا : کیا تم مجھے اس بارے میں امان دیتے ہو کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے ‘ تمہاری طرف پیغام کی تم تک تبلیغ کروں ؟ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ! پھر وہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ‘ انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو اشارہ کیا ‘ وہ اُن کے پیچھے سے آیا ‘ اُس نے انہیں نیزہ مارا ‘ یہاں تک کہ وہ نیزہ اُن کے اندر سرایت کر گیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اُن لوگوں نے ان سب کو قتل کر دیا ‘ صرف لنگڑے شخص کو قتل نہیں کیا ، کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔

10128

Majma al-Zawaid #10128

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ هَمَّامٌ: فَأَرَاهُ ذَكَرَ مَعَ الْأَعْرَجِ آخَرَ عَلَى الْجَبَلِ، قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In one narration Hammam said: I think he mentioned another with the lame man on the mountain. Al-Haythami said: It is in the Sahih in abridged form.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس لنگڑے کے ساتھ ایک اور شخص بھی اس پہاڑ پر موجود تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10129

Majma al-Zawaid #10129

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ "". قَالَ: فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ: الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْمُعْتَقُ لِيَمُوتَ أَوْ أُعْتِقَ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ. فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَأَطَاعُوهُ، فَأَتْبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Malik, may Allah be pleased with him, said: Mula'ib al-Asinna came to the Prophet ﷺ with a gift, and he offered him Islam, but he refused to accept it. So the Prophet ﷺ said: > **"I do not accept the gift of a polytheist."** He said: Then send whomever you wish to the people of Najd, and I shall grant them protection. So he sent to them a party among whom was al-Mundhir ibn 'Amr, called al-Mu'taq li-yamut. 'Amir ibn al-Tufayl rallied Banu 'Amir against them, but they refused to obey him and refused to violate the protection of Mula'ib al-Asinna. So he rallied Banu Sulaym against them and they obeyed him; nearly a hundred archers followed them, caught up with them at Bi'r Ma'una, and killed them all except 'Amr ibn Umayya.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ ملاعب الاسنہ ‘‘ تحفہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے اسلام کی پیشکش کی ‘ تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ‘ اس نے کہا : پھر آپ اہل نجد کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں ، میں ان لوگوں کو پناہ دیتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو ان کی طرف بھیجا ‘ جن میں سے ایک حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ‘ یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ’’ معتق لیموت ‘‘ کہا جاتا ہے یا ’’ اعتق عندالموت ‘‘ کہا جاتا ہے ‘ تو عامر بن طفیل نے ان حضرات کے خلاف بنو عامر کو اکٹھا کرنا چاہا ‘ ان لوگوں نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا اور اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ ’’ ملاعب الاسنہ ‘‘ کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں ، عامر نے ان لوگوں ( یعنی صحابہ کرام ) کے خلاف بنو سلیم کو اکٹھا ہونے کے لئے کہا ، تو انہوں نے اس کی بات مان لی ‘ وہ تقریباً ایک سو تیر انداز مل کر اس کے پیچھے آ گئے ‘ وہ ان حضرات تک ’’ بئر معونہ ‘‘ کے پاس پہنچ گئے ‘ اور انہیں قتل کر دیا ‘ صرف حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بچ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10130

Majma al-Zawaid #10130

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ ; «أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ الَّذِي يُدْعَى مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْإِسْلَامَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ "". فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ: ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ رُسُلِكَ مَنْ شِئْتَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعَدِيُّ - وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: أُعْتِقَ لِيَمُوتَ - عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلَهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِهِمْ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ. فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ: أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ، يَقُولُ عُرْوَةُ: كَانُوا يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ، فَقَالَ حَسَّانُ يُعَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ: بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ ... وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ... لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Ka'b ibn Malik and others said: 'Amir ibn Malik, called Mula'ib al-Asinna, came to the Messenger of Allah ﷺ while a polytheist. The Messenger of Allah ﷺ offered him Islam, and said: > **"I do not accept the gift of a polytheist."** So 'Amir ibn Malik said: O Messenger of Allah, send whomever of your messengers you wish, and I shall grant them protection. So the Messenger of Allah ﷺ sent a party among them al-Mundhir ibn 'Amr al-Sa'idi, called U'tiq li-yamut, as scouts among the people of Najd. 'Amir ibn al-Tufayl heard of them, sought help from Banu Sulaym, and they marched with him and killed them at Bi'r Ma'una except 'Amr ibn Umayya al-Damri, whom 'Amir ibn al-Tufayl seized and released. He alone came to the Messenger of Allah ﷺ from among them. Among them was 'Amir ibn Fuhayra. 'Urwa told me: He was killed that day and his body was not found when they buried them. 'Urwa says: They used to think the angels buried him. Then Hassan lampooned 'Amir ibn al-Tufayl, saying: O sons of Umm al-Banin, did it not alarm you, though you are of the noblest of Najd — the mockery of 'Amir toward Abu Bara, violating his protection, and a mistake is not like an intentional act. Then Rabi'a ibn 'Amir ibn Malik reproached 'Amir ibn al-Tufayl for violating the protection of 'Amir ibn Malik, stabbing him in the thigh with a thrust that laid it open.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ’’ عامر بن مالک ‘ وہ شخص ہے ‘ جسے ” ملاعب الاسنہ ‘‘ کہا جاتا ہے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ وہ شخص اس وقت مشرک تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اُسے اسلام کی پیشکش کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، تو عامر بن مالک نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اپنے پیغام رساں ( یا مبلغین ) افراد میں سے جسے چاہیں بھیج دیں ‘ میں اُنہیں پناہ دیتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے کچھ افراد کو بھیجا ، جن میں سے ایک حضرت منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ تھے ‘ یہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ’’ اعتق لیموت ‘‘ کہا جاتا ہے ‘ انہیں اہل نجد میں جاسوسی کے لئے بھیجا گیا تھا ‘ عامر بن طفیل کو ان کے بارے میں پتہ چل گیا ‘ اس نے بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا ‘ تو وہ لوگ اُس کے ساتھ روانہ ہوئے ‘ ان لوگوں نے ان صحابہ کرام کو ’’ بئر معونہ ‘‘ کے پاس قتل کر دیا ‘ صرف حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ گئے ‘ عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ لیا اور پھر انہیں چھوڑ دیا ‘ ان لوگوں کے درمیان میں سے صرف وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اُن لوگوں میں ایک حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : عروہ نے میرے سامنے یہ بات بیان کی ہے : وہ اُسی دن قتل ہو گئے تھے لیکن دفن کے وقت انہیں ان کا جسم نہیں ملا ‘ عروہ کہتے ہیں : لوگوں کا یہ خیال تھا کہ فرشتوں نے انہیں دفن کیا تھا ، تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل پر طنز کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ’’ بیٹوں کی ماں کے بیٹو ! تم اہل نجد کے نمایاں حیثیت کے افراد ہو ‘ کیا یہ چیز تمہیں پریشان نہیں کرتی ‘ کہ عامر نے ابوبراء کے سامنے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ‘ کہ اس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے ‘ اور خطاء ‘ عمد کی طرح نہیں ہوتی ‘‘۔ پھر ربیعہ بن عامر بن مالک نے عامر بن طفیل کے عہد کی خلاف ورزی کرنے پر طعن کیا ‘ اور عامر بن مالک کے زانوں پر ہتھیار مارا ‘ جو اس میں سرایت کر گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10131

Majma al-Zawaid #10131

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «ثُمَّ غَزْوَةُ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ، وَبَعَثَ مَعَهُمُ الْمُطَّلِبَ السُّلَمِيَّ لِيَدُلَّهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ، فَبَعَثَ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ يَسْتَمِدُّونَهُ، فَأَمَدُّوهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقُتِلَ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو وَأَصْحَابُهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ، فَإِنَّهُمْ أَسَرُوهُ فَاسْتَحْيَوْهُ حَتَّى قَدِمُوا بِهِ مَكَّةَ، فَهُوَ دَفَنَ خُبَيْبَ بْنَ عَدِيٍّ، وَعَرَضَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى عُرْوَةَ بْنِ الصَّلْتِ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ: أَنْ يُؤَمِّنُوهُ فَأَبَى، فَقَتَلُوهُ، فَذُكِرَ لَنَا: أَنَّ الْمُسْلِمِينَ قَالُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ حِينَ أَحَاطَ بِهِمُ الْعَدُوُّ: اللَّهُمَّ إِنَّا لَا نَجِدُ مَنْ يُبَلِّغُ عَنَّا رَسُولَكَ غَيْرَكَ، اللَّهُمَّ فَاقْرَأْ مِنَّا عَلَيْهِ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُ خَبَرَنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِذَا تُوبِعَ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

'Urwa ibn al-Zubayr said: Then came the expedition of al-Mundhir ibn 'Amr, brother of Banu Sa'ida, to Bi'r Ma'una. He sent al-Muttalib al-Sulami with them to guide them on the road. The enemies of Allah sent to 'Amir ibn al-Tufayl seeking his aid, and he aided them against the Muslims. Al-Mundhir ibn 'Amr and his companions were killed except 'Amr ibn Umayya al-Damri, whom they captured and spared until they brought him to Makka — he is the one who buried Khubayb ibn 'Adi. The polytheists offered 'Urwa ibn al-Salt on the day of Bi'r Ma'una that they would grant him safety, but he refused, so they killed him. It was mentioned to us that the Muslims said on the day of Bi'r Ma'una, when the enemy surrounded them: > **"O Allah, we find none to convey from us to Your Messenger but You. O Allah, convey our greetings of peace to him from us, and inform him of our news."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : پھر حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ والا غزوہ ہوا ‘ جن کا تعلق بنو ساعدہ سے تھا ‘ اور وہ ’’ بئر معونہ ‘‘ کی طرف گئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہمراہ ’’ مطلب سلمی ‘‘ کو بھیجا تھا ‘ تاکہ وہ راستے کے بارے میں ان کی رہنمائی کرے ‘ پھر اللہ کے دشمنوں نے عامر بن طفیل کو پیغام بھیجا اور اس سے مدد مانگی ‘ تو اس نے مسلمانوں کے خلاف اُن کی مدد کی ‘ اس نے حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کروا دیا ‘ صرف حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ گئے ‘ ان لوگوں نے انہیں قید کر لیا ‘ انہیں ان سے حیاء آئی وہ لوگ انہیں لے کر مکہ آ گئے ‘ یہی وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ” بئر معونہ ‘‘ کے دن مشرکین نے عروہ بن صلت کو پیشکش کی کہ وہ انہیں امان دیدیتے ہیں ، لیکن انہوں نے یہ نہیں مانا ‘ تو ان لوگوں نے انہیں بھی قتل کر دیا ‘ ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ’’ بئر معونہ ‘‘ کے دن جب دشمن نے ان لوگوں کو گھیر لیا تھا ‘ تو انہوں نے یہ کہا : اے اللہ ! ہمیں ایسا کوئی شخص نہیں ملتا ‘ جو ہمارے بارے میں تیرے رسول ﷺ تک پیغام پہنچائے ‘ تیرے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ہے ‘ اے اللہ ! تو ہماری طرف سے انہیں سلام پہنچا دینا اور انہیں ہماری صورت حال کے بارے میں بتا دینا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہو گی ‘ جب اس کی متابعت کی گئی ہو ۔

10132

Majma al-Zawaid #10132

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أُحُدٍ بَقِيَّةَ شَوَّالٍ وَذَا الْقَعْدَةِ وَذَا الْحِجَّةِ، وَوَلَّى تِلْكَ الْحِجَّةُ وَالْمُحَرَّمُ، ثُمَّ بَعَثَ أَصْحَابَهُ بِئْرَ مَعُونَةَ فِي صَفَرٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ مِنْ أُحُدٍ، فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِمْ كَمَا حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: قَدِمَ أَبُو بَرَاءٍ عَامِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَلَمْ يُسْلِمْ، وَلَمْ يَبْعُدْ مِنَ الْإِسْلَامِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَوْ بَعَثْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَدْعُوهُمْ إِلَى أَمْرِكَ، رَجَوْتُ أَنْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي أَخْشَى أَهْلَ نَجْدٍ، فَقَالَ أَبُو بَرَاءٍ: أَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَابْعَثْهُمْ فَلْيَدْعُوا النَّاسَ إِلَى أَمْرِكَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُنْذِرَ بْنَ عَمْرٍو أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ الْمُعْتَقَ لِيَمُوتَ فِي أَرْبَعِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، مِنْ خِيَارِهِمْ، مِنْهُمُ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ، وَحَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، وَعُرْوَةُ بْنُ أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ السُّلَمِيُّ، وَنَافِعُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَرِجَالٌ مُسَمَّوْنَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَارُوا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ، وَهِيَ بِئْرُ أَرْضِ بَنِي عَامِرٍ، وَحَرَّةُ بَنِي سُلَيْمٍ، كِلَا الْبَلَدَيْنِ مِنْهَا قَرِيبٌ، وَهِيَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَقْرَبُ، فَلَمَّا نَزَلُوا بَعَثُوا حَرَامَ بْنَ مِلْحَانَ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ لَمْ يَنْظُرْ فِي كِتَابِهِ حَتَّى غَدَا عَلَى الرَّجُلِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ اسْتَصْرَخَ بَنِي عَامِرٍ فَأَبَوْا أَنْ يُجِيبُوهُ إِلَى مَا دَعَاهُمْ، وَقَالُوا: لَنْ نَخْفِرَ أَبَا بَرَاءٍ، وَقَدْ عَقَدَ لَهُمْ عَقْدًا وَجِوَارًا، فَاسْتَصْرَخَ عَلَيْهِمْ قَبَائِلَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَصِيَّةَ وَرَعْلًا وَذَكْوَانَ، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ، فَخَرَجُوا حَتَّى غَشَوُا الْقَوْمَ، فَأَحَاطُوا بِهِمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ أَخَذُوا أَسْيَافَهُمْ فَقَاتَلُوا حَتَّى قُتِلُوا عَنْ آخِرِهِمْ، إِلَّا كَعْبَ بْنَ زَيْدٍ أَخَا بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ، فَإِنَّهُمْ تَرَكُوهُ وَبِهِ رَمَقٌ، فَارْتَثَّ مِنْ بَيْنِ الْقَتْلَى، فَعَاشَ حَتَّى قُتِلَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَكَانَ فِي السَّرْحِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَلَمْ يُنْبِئْهُمَا بِمُصَابِ إِخْوَانِهِمَا، إِلَّا الطَّيْرُ تَحُومُ عَلَى الْعَسْكَرِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ إِنَّ لِهَذَا الطَّيْرِ لَشَأْنًا، فَأَقْبَلَا لِيَنْظُرَا فَإِذَا الْقَوْمُ فِي دِمَائِهِمْ وَإِذَا الْخَيْلُ الَّتِي أَصَابَتْهُمْ وَاقِفَةٌ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ: مَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَى أَنْ نَلْحَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: لَكِنِّي مَا كُنْتُ لِأَرْغَبَ بِنَفْسِي عَنْ مَوْطِنٍ قُتِلَ فِيهِ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَمَا كُنْتُ لِتَجْتَزِيَ عَنْهُ الرِّجَالُ، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَخَذُوا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَسِيرًا، فَلَمَّا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ مِنْ مُضَرَ أَطْلَقَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، وَجَزَّ نَاصِيَتَهُ، وَأَعْتَقَهُ عَنْ رَقَبَةٍ زَعَمَ أَنَّهَا عَلَى أُمِّهِ، فَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْقَرْقَرَةِ مِنْ صَدْرِ قُبَاءَ أَتَاهُ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، نَزَلَا فِي ظِلٍّ هُوَ فِيهِ، وَكَانَ لِلْعَامِرِيِّينَ عَقْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِوَارٌ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ، وَقَدْ سَأَلَهُمَا حِينَ نَزَلَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَأَمْهَلَهُمَا حَتَّى نَامَا، فَغَدَا عَلَيْهِمَا فَقَتَلَهُمَا، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ بِهِمَا ثَأْرَهُ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ; لِمَا أَصَابُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَدِمَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَقَدْ قَتَلْتَ قَتِيلَيْنِ لَأُدِينَّهُمَا ""، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ، قَدْ كُنْتُ لِهَذَا كَارِهًا مُتَخَوِّفًا ""، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَرَاءٍ فَشَقَّ عَلَيْهِ إِخْفَارُ عَامِرٍ إِيَّاهُ، وَمَا أُصِيبَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبَبِهِ وَجِوَارِهِ، فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُحَرِّضُ ابْنَ أَبِي بَرَاءٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ: بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ ... وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ تَهَكُّمُ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ ... لِيَخْفِرَهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ أَلَا أَبْلِغْ رَبِيعَةَ ذَا الْمَسَاعِي ... بِمَا أَحْدَثْتَ فِي الْحُدْثَانِ بَعَدِي أَبُوكَ أَبُو الْحُرُوبِ أَبُو بَرَاءٍ ... وَخَالُكَ مَاجِدٌ حَكَمُ بْنُ سَعْدِ. فَحَمَلَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ فَطَعَنَهُ بِالرُّمْحِ، فَوَقَعَ فِي فَخِذِهِ فَأَشْوَاهُ، وَوَقَعَ عَنْ فَرَسِهِ، فَقَالَ: هَذَا عَمَلُ أَبِي بَرَاءٍ، فَإِنْ أَمُتْ فَدَمِي لِعَمِّي لَا يُتْبَعُ بِهِ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَرَى رَأْيِي فِيمَا أَتَى إِلَيَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: The Messenger of Allah ﷺ remained after Uhud through the rest of Shawwal, Dhu al-Qa'da, Dhu al-Hijja, and Muharram, then sent his Companions to Bi'r Ma'una in Safar, four months after Uhud. Ishaq narrated to me from al-Mughira ibn 'Abd al-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham, 'Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn 'Amr ibn Hazm, and other scholars. They said: Abu Bara 'Amir ibn Malik ibn Ja'far, Mula'ib al-Asinna, came to the Messenger of Allah ﷺ in Madina. He offered him Islam; he did not accept, yet was not far from Islam. He said: > **"O Muhammad, if you sent a man of your Companions to call them to your cause, I hope they would respond to you."** The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I fear the people of Najd."** Abu Bara said: I grant them protection — send them to call people to your cause. So the Messenger of Allah ﷺ sent al-Mundhir ibn 'Amr, brother of Banu Sa'ida of Khazraj, called al-Mu'taq li-yamut, with forty of the best Muslims, among them al-Harith ibn al-Simma, Haram ibn Milhan brother of Banu 'Adi ibn al-Najjar, 'Urwa ibn Asma ibn al-Salt al-Sulami, Nafi' ibn Budayl ibn Warqa al-Khuza'i, 'Amir ibn Fuhayra freedman of Abu Bakr, and other named best Muslims. They marched until they camped at Bi'r Ma'una, a well in Banu 'Amir land near the lava field of Banu Sulaym, closer to Sulaym. When they camped they sent Haram ibn Milhan with the letter of the Messenger of Allah ﷺ to 'Amir ibn al-Tufayl. He did not even look at the letter but rushed at him and killed him. Then he called Banu 'Amir for help, but they refused, saying: We will not violate the protection of Abu Bara, for he contracted and guaranteed them. So he called the clans of Sulaym — 'Usayya, Ri'l, and Dhakwan — and they obeyed. They set out, surrounded the Muslims at their camp, and when the Muslims saw them they drew their swords and fought until the last of them was slain, except Ka'b ibn Zayd of Banu Dinar ibn al-Najjar, whom they left for dead among the slain with a spark of life; he lived on until he was martyred at al-Khandaq. 'Amr ibn Umayya al-Damri and an Ansari of Banu 'Amr ibn 'Awf learned of their companions' fate from a bird circling the army. They came to see, found the men weltering in blood and their horses standing by. The Ansari said to 'Amr ibn Umayya: What is your view? He said: I think we should go to the Messenger of Allah ﷺ and inform him. The Ansari said: But I have no desire to leave the place where Mundhir ibn 'Amr was slain. So he fought them until he was slain. Then they captured 'Amr ibn Umayya, and when he told them he was of Mudar, 'Amir ibn al-Tufayl released him, cut his forelock, and freed him in place of a slave his mother owed. 'Amr set out until at Qarqara in Quba two men of Banu 'Amir camped with him in one shade. When they slept he fell upon them and killed them, thinking he had taken revenge. When he came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him, the Prophet ﷺ said: > **"You have killed two men whose blood money I shall surely pay. This is the deed of Abu Bara; I disliked it and feared it."** When Abu Bara heard, it weighed heavily on him that 'Amir violated his protection and thereby harmed the Companions of Muhammad ﷺ. So Hassan ibn Thabit incited the son of Abu Bara against 'Amir ibn al-Tufayl, saying: O sons of Umm al-Banin, did it not alarm you, though you are of the noblest of Najd — the mockery of 'Amir toward Abu Bara, violating him, and a mistake is not like an intentional act. Convey to Rabi'a of lofty deeds what happened after me: your father is the father of wars, Abu Bara, and your uncle is the noble Hakam ibn Sa'd. So Rabi'a ibn 'Amir charged 'Amir ibn al-Tufayl and stabbed him with a spear in the thigh, laying it open; he fell from his horse and said: This is the deed of Abu Bara — if I die, my blood is for my uncle and not to be pursued, and if I live I shall decide what to do about what was done to me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے بعد ‘ نبی اکرم ﷺ شوال کا بقیہ حصہ ‘ ذیقعدہ اور ذوالج کے ( پورے ) مہینے تک ٹھہرے رہے ‘ اس حج کے موقع کے نگران مشرکین بنے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ محرم کا مہینہ بھی ٹھہرے رہے ، پھر آپ نے صفر کے مہینے میں اپنے اصحاب کو ’’ بئر معونہ ‘‘ کی طرف بھجوایا ‘ یہ غزوہ اُحد کے بعد چوتھے مہینے کی بات ہے ‘ ان حضرات نے یہ روایت جس طرح بیان کی ہے ‘ اسی طرح اسحاق نے مجھے بیان کی ہے ‘ مغیرہ بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کے حوالے سے ‘ اور عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمر بن حزم کے حوالے سے ‘ اور دیگر اہل علم کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ’’ ابوبراء عامر بن مالک بن جعفر ’’ ملاعب الاسنہ ‘‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے اسلام کی پیشکش کی ‘ اس نے اسلام قبول نہیں کیا ، لیکن وہ اسلام سے دور بھی نہیں تھا ‘ اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) اگر آپ اپنے اصحاب میں سے کسی شخص کو بھیج دیں ، جو اُن لوگوں کو آپ کے معاملے کی طرف دعوت دے ‘ تو یہ مناسب ہو گا مجھے یہ امید ہے کہ وہاں کے لوگ آپ کی بات مان لیں گے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘ جنہیں ” معتق لیموت ‘‘ کہا جاتا تھا ‘ ان کے ہمراہ مسلمانوں کے چالیس بہترین افراد بھیجے ‘ جن میں ایک حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ ایک حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عدی بن نجار سے ہے ایک حضرت عروہ بن اسماء بن صلت سلمی رضی اللہ عنہ تھے ایک حضرت نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ تھے ایک حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں اور ان کے علاوہ کچھ لوگ تھے ‘ جو مسلمانوں کے بہترین لوگ تھے اور ان کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں ‘ یہ لوگ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے ’’ بئر معونہ ‘‘ کے پاس پڑاؤ کیا ‘ وہ بنو عامر کے علاقے میں موجود کنواں تھا ، اور اس کے پاس بنو سلیم کا پتھریلی زمین کا علاقہ تھا ‘ ان دونوں کے علاقے اس کنویں کے قریب تھے لیکن بنو سلیم کے علاقے سے یہ زیادہ قریب تھا ‘ جب ان لوگوں نے وہاں پڑاؤ کیا ‘ تو ان لوگوں نے حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول کے مکتوب کے ہمراہ عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ‘ جب وہ ان کے پاس آئے ‘ تو اس نے مکتوب کی طرف دیکھا ہی نہیں ، بلکہ ان صاحب کی طرف بڑھا اور انہیں قتل کر دیا ‘ پھر اس نے بنو عامر کو مدد کے لئے بلایا ‘ تو ان لوگوں نے اس کی وہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، جس کی طرف اس نے انہیں بلایا تھا ، انہوں نے کہا : ہم ابوبراء ( یعنی عامر بن مالک ’’ ملاعب الاسنہ ‘‘ ) کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کریں گے ‘ کیونکہ اس نے ان لوگوں کے لئے عقد طے کیا تھا ‘ اور پناہ دی تھی ۔ پھر اُس نے ( یعنی عامر بن طفیل نے ) بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے مختلف قبائل عصیہ ‘ رعل اور ذکوان کو ‘ اُن کے خلاف بلایا ‘ تو ان لوگوں نے اُس کی بات مان لی ‘ وہ لوگ وہاں سے نکلے اور انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا اور ان کی رہائشی جگہ کے آس پاس انہیں گھیرے میں لے لیا ‘ جب ان حضرات نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں اور لڑائی کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ ان کا آخری فرد بھی شہید ہو گیا ، صرف بنو نجار بن دینار سے تعلق رکھنے والے حضرت کعب بن زید رضی اللہ عنہ بچ گئے ‘ کیونکہ ان لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا تھا ‘ کیونکہ ان کے اندر رمق باقی تھی اور مقتولین کے درمیان وہی شدید زخمی تھے ‘ وہ بعد میں زندہ رہے ‘ یہاں تک کہ غزوہ خندق کے موقع پر شہید ہوئے ‘ ان لوگوں میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھے اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ‘ جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا ، ان کے ساتھیوں کو جو صورت حال لاحق ہوئی تھی ، اس کے بارے میں ان دونوں کو پرندے کے ذریعے چلا ‘ جو لشکر پر گھوم رہا تھا ، ان دونوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اس پرندے کے حوالے سے ضرور کوئی چیز سامنے آئے گی ، پھر وہ دونوں آئے تاکہ اس بات کا جائزہ لیں ‘ تو لوگ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور ان کے گھوڑے وہاں کھڑے ہوئے تھے ‘ انصاری نے عمرو بن امیہ سے کہا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا : میرا یہ خیال ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس جا کر آپ کو اس بارے میں بتانا چاہیے ‘ انصاری نے کہا : لیکن میں اپنی جان کے حوالے سے یہ رغبت نہیں رکھتا کہ میں اس جگہ سے چلا جاؤں ، جہاں منذر بن عمرو قتل ہو چکا ہے ‘ انہوں نے دشمن کے ساتھ جنگ کی ‘ یہاں تک کہ شہید ہو گئے ‘ پھر انہوں نے حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو قیدی کے طور پر پکڑ لیا ‘ جب انہوں نے ان لوگوں کو بتایا کہ ان کا تعلق مضر قبیلے سے ہے ‘ تو عامر بن طفیل نے انہیں چھوڑ دیا ‘ اس نے ان کی پیشانی کے بال کاٹ دیے اور انہیں اس غلام کی جگہ آزاد کر دیا ‘ جس کے بارے میں اس کا یہ خیال تھا اس کی ماں کے ذمہ غلام آزاد کرنا لازم تھا ، حضرت عمر بن امیہ رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے ‘ یہاں تک کہ جب وہ قباء کے مقام ’’ قرقرہ ‘‘ میں موجود تھے ‘ تو بنو عامر سے تعلق رکھنے والے دو افراد آ گئے ‘ اُن دونوں نے اسی سائے میں پڑاؤ کیا ‘ جہاں وہ موجود تھے ‘ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے افراد کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے عہد ملا ہوا تھا ‘ اور پناہ ملی ہوئی تھی ۔ لیکن حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں پتہ نہیں تھا ‘ انہوں نے ان دونوں سے پڑاؤ کے وقت دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ ان دونوں نے بتایا : بنو عامر سے ہے ‘ تو حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سونے کی مہلت دی ‘ جب وہ سو گئے ‘ تو انہوں نے ان دونوں پر حملہ کر کے ان دونوں کو قتل کر دیا ‘ وہ یہ سمجھ رہے تھے ‘ انہوں نے ان دونوں کے ساتھ ٹھیک کیا ہے ‘ کیونکہ یہ بنو عامر کو بدلہ دینے کے مترادف ہے ‘ کیونکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو نقصان پہنچایا تھا ۔ جب حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے دو ایسے افراد کو قتل کیا ہے ، جن کی میں دیت ضرور دوں گا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ابوبراء کا عمل ہے ‘ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں اور مجھے اس بات کا اندیشہ تھا ۔ جب ابوبراء کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو اس پر یہ بات بہت گراں گزری کہ عامر ( بن طفیل ) نے اُس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کے سبب سے اور اُس کی پناہ کی وجہ سے ‘ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کو نقصان اُٹھانا پڑا ہے ‘ تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابوبراء کے بیٹے کو عامر بن طفیل کے خلاف برانگیختہ کرتے ہوئے ‘ یہ اشعار کہے : ’’ بیٹوں کی ماں کے بیٹو ! تم اہل نجد کے نمایاں حیثیت کے افراد ہو ‘ کیا یہ چیز تمہیں پریشان نہیں کرتی ‘ کہ عامر نے ابوبراء کے سامنے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے ‘ کہ اس کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کی ہے ‘ اور خطا ‘ عمد کی طرح نہیں ہوتی ‘ خبردار ! کوششیں کرنے والے ربیعہ تک یہ پیغام پہنچا دو ‘ کہ میرے بعد کیا حادثہ رونما ہوا ہے ‘ تمہارا باپ ‘ ابوبراء جنگوں کا باپ ہے ‘ اور تمہارا ماموں حکم بن سعد بزرگی والا فرد ہے ‘‘۔ تو ربیعہ بن عامر ( یعنی ابوبراء ’’ ملاعب الاسنہ ‘‘ کے بیٹے ) نے عامر بن طفیل پر حملہ کر کے اُسے نیزہ مارا ‘ جو اس کے زانوں پر لگنا تھا ‘ وہ اپنی جگہ سے ہٹ کے لگا ‘ اور وہ شخص اپنے گھوڑے سے گر گیا ‘ اُس نے کہا : یہ ابوبراء کا عمل ہے ‘ اگر میں مر گیا ، تو میرے خون کا حساب میرا چچا کے ذمہ ‘ اس بارے میں اس کے پیچھے نہیں جایا جائے گا ‘ اور اگر میں زندہ رہ گیا ‘ تو میں نے جو مناسب سمجھوں گا ‘ وہ فیصلہ کر لوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10133

Majma al-Zawaid #10133

عَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْسُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَالْحَكَمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمَخْزُومِيُّ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ، وَسَهْلُ بْنُ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَقَبٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ: عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ. وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِذَا تُوبِعَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwa, in naming those of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ martyred on the day of Bi'r Ma'una, said: Aws ibn Mu'adh al-Ansari, al-Hakam ibn Kaysan al-Makhzumi, al-Harith ibn al-Simma, Sahl ibn 'Amir ibn Sa'd ibn 'Amr ibn Thaqab al-Ansari, and of Quraysh then of Banu Taym ibn Murra: 'Amir ibn Fuhayra.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے ’’ بئر معونہ ‘‘ کے دن جام شہادت نوش کرنے والے صحابہ کرام کے اسماء بیان کیے ہیں ( جو یہ ہیں : ) حضرت اوس بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ ‘ حضرت حکم بن کیسان مخزومی رضی اللہ عنہ ‘ حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ ‘ حضرت سہل بن عامر بن سعد بن عمرو بن ثقیف انصاری رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنوتیم بن مرہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ جبکہ اُس کی متابعت کی گئی ہے اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10134

Majma al-Zawaid #10134

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, in naming those of the Muslims martyred on the day of Bi'r Ma'una, said: al-Harith ibn al-Simma.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب زہری نے ’’ بئر معونہ ‘‘ کے دن ‘ جام شہادت کرنے والے مسلمانوں کے ناموں میں ‘ حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10135

Majma al-Zawaid #10135

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ: نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq, in naming those of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ martyred on the day of Bi'r Ma'una, said: Nafi' ibn Yazid ibn Warqa al-Khuza'i.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق نے ’’ بئر معونہ ‘‘ کے دن جام شہادت نوش کرنے والے صحابہ کرام کے اسماء میں ‘ حضرت نافع بن یزید بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔

10136

Majma al-Zawaid #10136

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالشَّهَادَاتِ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ، فَاشْهَدُوا لِسَرِيَّةٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُصِيبُوا، فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ: أَنْ أَبْلِغُوا عَنَّا قَوْمَنَا: أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, said: Beware of testifying; if you must do so, then testify for the expedition whom the Messenger of Allah ﷺ sent and who were struck down. Concerning them the Qur'an came down — convey from us to our people: > **"That we have met our Lord; He is pleased with us and has made us pleased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم گواہیاں دینے سے بچو ! اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ‘ تو اس مہم کے حق میں گواہی دو ‘ جن لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ نے بھیجا تھا ‘ اور پھر انہیں شہادت نصیب ہوئی ‘ اُن کے بارے میں قرآن نازل ہوا : ’’ ( انہوں نے کہا : ) تم ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو ! کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو چکے ہیں ‘ وہ ہم سے راضی ہے ‘ اور اس نے ہمیں راضی کر دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

10137

Majma al-Zawaid #10137

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ; «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَّ الْخَنْدَقَ مِنْ أَحْمَرِ السَّبْخَتَيْنِ طَرَفَ بَنِي حَارِثَةَ عَامَ حِزْبِ الْأَحْزَابِ حَتَّى بَلَغَ الْمَذَاحِجَ، فَقَطَعَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا، وَاحْتَجَّ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَكَانَ رَجُلًا قَوِيًّا، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: سَلْمَانُ مِنَّا، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn 'Awf al-Muzani, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ marked the trench from the red saline ground at the edge of Banu Haritha in the year of the Confederates until it reached al-Madhahij. He allotted forty cubits to every ten men. The Muhajirun and Ansar disputed over Salman al-Farisi, who was a strong man. The Muhajirun said: Salman is from us. The Ansar said: From us. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Salman is from us, the Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بنو حارثہ والی طرف میں ‘ شور والی ‘ سرخ ‘ دو طرف کی زمین میں خندق کی لکیر کھینچی ‘ آپ نے مختلف ٹولیاں بنا دیں ‘ یہاں تک کہ وہ ’’ مذاحج ‘‘ تک پہنچ جائے ‘ آپ نے چالیس ذراع کا حصہ دس افراد کے لئے مقرر کیا ۔ مہاجرین اور انصار نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اختلاف کیا وہ ایک طاقتور شخص تھے مہاجرین کا یہ کہنا تھا کہ سلمان ہم سے ہیں ‘ انصار کا یہ کہنا تھا : وہ ہم سے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سلمان ‘ ہم اہل بیت میں سے ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10138

Majma al-Zawaid #10138

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ، وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ، فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَضَعَ ثَوْبَهُ - ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ، فَقَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ "" فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ، وَقَالَ: "" اللَّهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ""، ثُمَّ قَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ "" وَضَرَبَ أُخْرَى، فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ، فَقَالَ: "" اللَّهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ، وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا ""، ثُمَّ قَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ "" وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَطَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ، فَقَالَ: "" اللَّهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَيْمُونُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn 'Azib, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ ordered us to dig the trench. A rock appeared in one part of the trench that pickaxes could not cut, so they complained to the Messenger of Allah ﷺ. He came — I think he said: he laid aside his garment — then descended to the rock, took the pickaxe and said: > **"In the Name of Allah."** He struck once and broke a third of the stone, and said: > **"Allah is Greatest. I have been given the keys of Sham. By Allah, I surely see its red palaces from this place of mine."** Then he said: > **"In the Name of Allah."** And struck again, breaking another third, and said: > **"Allah is Greatest. I have been given the keys of Persia. By Allah, I surely see al-Mada'in, and I see its white palace from this place of mine."** Then he said: > **"In the Name of Allah."** And struck another blow, cutting the rest of the stone, and said: > **"Allah is Greatest. I have been given the keys of Yemen. By Allah, I surely see the gates of San'a from this place of mine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا ‘ خندق میں ایک جگہ ایک چٹان ہمارے سامنے آئی ، جس پر پھاؤڑے کا اثر نہیں ہوتا تھا ‘ لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے اپنا کپڑا رکھا اور آپ چٹان پر چڑھ گئے ‘ آپ نے پھاؤڑا پکڑا اور پھر فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک ضرب لگائی ‘ تو پتھر ( یعنی چٹان ) کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے شام کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اس جگہ سے وہاں کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ اور آپ نے دوسری ضرب لگائی ‘ تو اس کا مزید ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے فارس کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ‘ اور میں مختلف شہروں کو ( یا مدائن نامی شہر کو ) دیکھ رہا ہوں ‘ اور میں اپنی اس جگہ سے ‘ وہاں کے سفید محل کو دیکھ رہا ہوں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک اور ضرب لگائی اور بقیہ پتھر کو بھی توڑ دیا ‘ آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے یمن کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ‘ اور میں اپنی اس جگہ پر کھڑا ہوا صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10139

Majma al-Zawaid #10139

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَنْدَقِ فَخَنْدَقَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَجَدْنَا صَفَاةً لَا نَسْتَطِيعُ حَفْرَهَا، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَتَى أَخَذَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ بِهِ ضَرْبَةً وَكَبَّرَ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ، فَقَالَ: "" فُتِحَتْ فَارِسُ ""، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى وَكَبَّرَ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ، فَقَالَ: "" فُتِحَتِ الرُّومُ ""، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى وَكَبَّرَ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ، فَقَالَ: "" جَاءَ اللَّهُ بِحِمْيَرَ أَعْوَانًا وَأَنْصَارًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Amr, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ ordered the trench and it was dug around Madina. They said: O Messenger of Allah, we found a smooth rock we cannot dig. The Prophet ﷺ stood, and we stood with him. When he came he took the pickaxe, struck once and pronounced takbir. I heard a tremor the like of which I never heard, and he said: > **"Persia has been opened."** Then he struck again and pronounced takbir. I heard a tremor the like of which I never heard, and he said: > **"Rome has been opened."** Then he struck again and pronounced takbir. I heard a tremor the like of which I never heard, and he said: > **"Allah has brought Himyar as helpers and supporters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خندق کھودنے کا حکم دیا ‘ تو مدینہ کے اردگرد خندق کھود دی گئی ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے سامنے ایک چٹان آ گئی ہے ‘ جسے ہم کھودنے ( یعنی توڑنے ) کی استطاعت نہیں رکھتے ‘ نبی اکرم ﷺ اُٹھے ‘ آپ کے ساتھ ہم بھی اُٹھ گئے ‘ جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور آپ نے پھاؤڑا پکڑا ‘ تو اس کے ذریعے ضرب لگائی اور تکبیر کہی ‘ تو میں نے ایک ایسی آواز سنی کہ میں نے اُس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فارس فتح ہو گیا ، پھر آپ نے تکبیر کہہ کر ایک اور ضرب لگائی ‘ تو میں نے ایک آواز سنی ‘ میں نے اُس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : روم فتح ہو گیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے تکبیر کہہ کر ایک اور ضرب لگائی ‘ تو میں نے ایک آواز سنی ‘ میں نے اس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جمیر ( قبیلے کے لوگ ) مددگار اور ساتھی بن کر آ گئے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک میں ‘ ایک راوی حیی بن عبداللہ ہے ‘ جسے ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10140

Majma al-Zawaid #10140

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «احْتَفَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَنْدَقَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ شَدُّوا الْحِجَارَةَ عَلَى بُطُونِهِمْ مِنَ الْجُوعِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " هَلْ دُلِلْتُمْ عَلَى أَحَدٍ يُطْعِمُنَا أَكَلَةً؟ "، قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، قَالَ: " أَمَّا لَا فَتَقَدَّمْ، فَدُلَّنَا عَلَيْهِ "، فَانْطَلَقُوا إِلَى رَجُلٍ فَإِذَا هُوَ فِي الْخَنْدَقِ يُعَالِجُ نَصِيبَهُ مِنْهُ، فَأَرْسَلَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ جِئْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَتَانَا، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي وَلَهُ مَعْزَةٌ وَمَعَهَا جَدْيُهَا، فَوَثَبَ إِلَيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَدْيُ مِنْ وَرَائِنَا " فَذَبَحَ الْجَدْيَ، وَعَمَدَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى طَحِينَةٍ لَهَا فَعَجَنَتْهَا وَخَبَزَتْ وَأَدْرَكَتِ الْقِدْرَ وَثَرَدَتْ قَصْعَتَهَا، فَقَرَّبَتْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِصْبَعَهُ فِيهَا، فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا، اطَّعِمُوا "، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى صَدَرُوا، وَلَمْ يَأْكُلُوا مِنْهَا إِلَّا ثُلُثَهَا وَبَقِيَ ثُلُثَاهَا، فَسَرَحَ أُولَئِكَ الْعَشَرَةُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ: أَنِ اذْهَبُوا وَسَرِّحُوا إِلَيْنَا نُغَدِّيكُمْ، فَذَهَبُوا وَجَاءَ أُولَئِكَ الْعَشْرَةُ مَكَانَهُ فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَامَ وَدَعَا لِرَبَّةِ الْبَيْتِ وَشَمَتَ عَلَيْهَا وَعَلَى أَهْلِهَا، ثُمَّ مَشَوْا إِلَى الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: " اذْهَبُوا بِنَا إِلَى سَلْمَانَ "، وَإِذَا صَخْرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ قَدْ ضَعُفَ عَنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ " دَعُونِي فَأَكُونَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَهَا "، فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ " فَضَرَبَهَا فَوَقَعَتْ فِلْقَةُ ثُلُثِهَا، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، قُصُورُ الرُّومِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى فَوَقَعَتْ فِلْقَةٌ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ قُصُورُ فَارِسَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، فَقَالَ عِنْدَهَا الْمُنَافِقُونَ: نَحْنُ بِخَنْدَقٍ عَلَى أَنْفُسِنَا] وَهُوَ يَعِدُنَا قُصُورَ فَارِسَ وَالرُّومِ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَنُعَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ dug the trench while he and his Companions had bound stones upon their bellies from hunger. When the Messenger of Allah ﷺ saw that, he said: > **"Have you been guided to anyone who can feed us a meal?"** A man said: Yes. He said: > **"Then go forward and guide us to him."** They went to a man who was in the trench working his share. His wife sent word: Come, for the Messenger of Allah ﷺ has come to us. The man came hurrying and said: May my father and mother be ransomed for you. He had a goat with her kid. He leapt toward it, and the Prophet ﷺ said: > **"The kid is for those behind us."** So he slaughtered the kid. His wife took her flour, kneaded it, baked it, the pot became ready, and she prepared tharid in her bowl. She brought it to the Messenger of Allah ﷺ and his Companions. The Prophet ﷺ placed his finger in it and said: > **"In the Name of Allah. O Allah, bless it. O Allah, bless it. Feed the people."** They ate from it until they left satisfied, yet they had eaten only a third of it and two thirds remained. He dismissed those ten who were with him, saying that they should go and send others to be fed lunch. They went, and another ten came in their place and ate until full. Then he stood, supplicated for the lady of the house, praised her and her family, then they walked to the trench. He said: > **"Take us to Salman."** And behold a rock before him that had defeated him. The Prophet ﷺ said to his Companions: > **"Let me be the first to strike it."** He said: > **"In the Name of Allah."** And struck it; a third of it split off. He said: > **"Allah is Greatest — the palaces of Rome, by the Lord of the Ka'ba."** Then he struck again and a piece split off. He said: > **"Allah is Greatest — the palaces of Persia, by the Lord of the Ka'ba."** At that the hypocrites said: We are digging a trench, yet he promises us the palaces of Persia and Rome.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب خندق کھود رہے تھے ‘ اُن حضرات نے بھوک کی شدت کی وجہ سے پتھر باندھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ‘ تو آپ نے فرمایا : کیا تمہاری رہنمائی کسی ایسے شخص کی طرف کی جا سکتی ہے ؟ جو ہمیں کھانا کھلا دے ؟ ایک صاحب نے کہا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ تم آگے آؤ اور اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کر دو ‘ پھر وہ لوگ اس شخص کے پاس گئے ‘ وہ خندق میں موجود تھا ‘ اور اپنے حصے کا کام کر رہا تھا ‘ اُس نے اپنی بیوی کو پیغام بھیجا کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائیں گے ‘ پھر وہ شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میرے پاس ایک بکری ہے اور ایک بکیر کا بچہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بکری کا بچہ ہمارے پیچھے ہے ‘ تو اس نے بکری کے بچے کو ذبح کر دیا ، پھر اس کی بیوی آٹا گوندھنے لگی اس نے گوندھ لیا اور روٹی پکا لی ‘ اسی دوران ہنڈیا تیار ہو گئی ‘ تو اس نے ثرید تیار کیا اُسے پیالے میں رکھا اور اسے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اور آپ کے اصحاب کے سامنے پیش کر دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈالیں اور فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ اے اللہ ! اس میں برکت رکھ دے ‘ اے اللہ ! اس میں برکت رکھ دے ! ( پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ کھاؤ ! ان لوگوں نے اس میں سے کھایا اور جب وہ لوگ اُٹھ کر واپس گئے تو وہ اس کا صرف ایک تہائی حصہ کھا سکے تھے ‘ اس کا دو تہائی حصہ باقی تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن دس افراد کو جو آپ کے ساتھ تھے انہیں رخصت کیا اور فرمایا : تم لوگ جاؤ ‘ اور اپنے جتنی تعداد کے افراد ہماری طرف بھجوا دو ! وہ لوگ گئے ‘ اور ان کی جگہ دوسرے دس افراد آ گئے انہوں نے بھی کھانا کھایا ‘ یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ‘ اور اُٹھ گئے ‘ انہوں نے گھر کے مالک کے لئے دعا کی ‘ اُسے اور اس کی بیوی کو دعائیں دیں ، پھر وہ لوگ خندق کی طرف چلے گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہمارے ساتھ سلمان کی طرف چلو ! وہاں آپ کے سامنے ایک چٹان موجود تھی ، جسے وہ توڑ نہیں پائے تھے نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : مجھے موقع دو ! تاکہ میں اس پر ضرب لگاؤں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس پر ضرب لگائی ‘ تو اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! روم کے محلات ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک اور ضرب لگائی ‘ تو اس کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! فارس کے محلات ‘ اُس وقت منافقین نے کہا : ہم خندق خود کھود رہے ہیں ‘ اور یہ ہمارے ساتھ فارس اور روم کے محلات کا وعدہ کر رہے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل اور نعیم عنبری کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

10141

Majma al-Zawaid #10141

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ الْحَارِثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: نَاصِفْنَا تَمْرَ الْمَدِينَةِ، وَإِلَّا مَلَأْتُهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا، فَقَالَ: "" حَتَّى أَسْتَأْمِرَ السُّعُودَ: سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، وَسَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ "" يَعْنِي: يُشَاوِرُهُمَا، فَقَالَا: لَا وَاللَّهِ، مَا أُعْطِينَا الدَّنِيَّةَ مِنْ أَنْفُسِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَيْفَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ؟! فَرَجَعَ إِلَى الْحَارِثِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: غَدَرْتَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ حَسَّانُ: يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمَّةِ جَارِهِ ... مِنْكُمْ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَغْدِرْ إِنْ تَغْدِرُوا فَالْغَدْرُ مِنْ عَادَاتِكُمْ ... وَاللُّؤْمُ يَنْبُتُ فِي أُصُولِ السَّخْبَرِ وَأَمَانَةُ النَّهْدِيِّ حِينَ لَقِيتُهَا ... مِثْلُ الزُّجَاجَةِ صَدْعُهَا لَا يُجْبَرُ قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ: كُفَّ عَنَّا يَا مُحَمَّدُ لِسَانَ حَسَّانَ، فَلَوْ مُزِجَ بِهِ مَاءُ الْبَحْرِ لَمُزِجَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ. وَلَفْظُهُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ الْحَارِثُ الْغَطَفَانِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، شَاطِرْنَا تَمْرَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: "" حَتَّى أَسْتَأْمِرَ السُّعُودَ ""، فَبَعَثَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَسَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ، وَسَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: "" إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ رَمَتْكُمْ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ، وَإِنَّ الْحَارِثَ سَأَلَكُمْ تُشَاطِرُوهُ تَمْرَ الْمَدِينَةِ، فَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَدْفَعُوهُ عَامَكُمْ هَذَا فِي أَمْرِكُمْ بَعْدُ؟ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوحِيَ مِنَ السَّمَاءِ فَالتَّسُلَيْمُ لِأَمْرِ اللَّهِ، أَوْ عَنْ رَأْيِكَ وَهَوَاكَ؟ فَرَأْيُنَا نَتَّبِعُ هَوَاكَ وَرَأْيَكَ؟ فَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا تُرِيدُ الْإِبْقَاءَ عَلَيْنَا، فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتَنَا وَإِيَّاهُمْ عَلَى سَوَاءٍ، مَا يَنَالُونَ مِنَّا تَمْرَةً إِلَّا شِرَاءً أَوْ قِرًى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هُوَ ذَا، تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُونَ؟ ""، قَالُوا: غَدَرْتَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ - رِضَى اللَّهِ عَنْهُ: يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمَّةِ جَارِهِ ... مِنْكُمْ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَغْدِرُ وَأَمَانَةُ الْمُرِّيِّ حِينَ لَقِيتُهَا ... كَسْرُ الزُّجَاجَةِ صَدْعُهَا لَا يُجْبَرُ إِنْ تَغْدِرُوا فَالْغَدْرُ مِنْ عَادَاتِكُمْ ... وَاللُّؤْمُ يَنْبُتُ فِي أُصُولِ السَّخْبَرِ». وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Huraira, may Allah be pleased with him, said: al-Harith came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Halve the dates of Madina with us, or I shall fill it against you with horses and men. He said: > **"Until I consult the Sa'ds — Sa'd ibn 'Ubada and Sa'd ibn Mu'adh."** Meaning he would consult them. They said: No, by Allah. We never accepted humiliation from ourselves in ignorance — how then, now that Allah has brought Islam? So he returned to al-Harith and informed him. He said: You have betrayed us, O Muhammad. Then Hassan said: O Harith, whoever among you betrays the covenant of his neighbor — Muhammad never betrays. If you betray, then betrayal is of your customs, and baseness grows in the roots of the sakhabar tree. And the trust of al-Nahdi, when I met it, was like glass whose crack is never mended. He said: So al-Harith said: Withhold the tongue of Hassan from us, O Muhammad — if it were mixed with seawater, it would taint it. In the wording of al-Bazzar and al-Tabarani: Abu Huraira said: al-Harith al-Ghatafani came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Muhammad, share the dates of Madina with us. He said: > **"Until I consult the Sa'ds."** So he sent for Sa'd ibn Mu'adh, Sa'd ibn 'Ubada, Sa'd ibn al-Rabi', Sa'd ibn Khaythama, and Sa'd ibn Mas'ud, and said: > **"I know the Arabs have shot at you with a single bow. Al-Harith has asked you to share the dates of Madina with him. If you wish to pay him off this year, your affair thereafter remains yours."** They said: O Messenger of Allah, is it revelation from heaven, so submission is to Allah's command? Or is it from your own opinion and desire, so our view follows your desire and opinion? If you only intend preserving us, then by Allah you have seen us and them as equals — they take not a single date from us except by purchase or hospitality. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Here you are — you hear what they say?"** They said: You have betrayed us, O Muhammad. Then Hassan ibn Thabit, may Allah be pleased with him, said: O Harith, whoever betrays the covenant of his neighbor — Muhammad never betrays. And the trust of al-Murri, when I met it, was like broken glass whose crack is never mended. If you betray, then betrayal is of your customs, and baseness grows in the roots of the sakhabar tree.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حارث ( غطفانی ) ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : مدینہ کی کھجوروں کا نصف ہمیں دیں ‘ ورنہ میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو اکٹھا کر لوں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے سعد نامی افراد سے مشورہ کر لینے دو ‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد ‘ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ‘ اُن دونوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم نے تو زمانہ جاہلیت میں ‘ اپنی ذات کے حوالے سے کبھی کمتر ہونے کو منظور نہیں کیا تو اس وقت کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت عطا کر دی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ حارث کے پاس واپس تشریف لائے اور اُسے اس بارے میں بتایا ‘ تو اس نے کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! آپ نے عہد شکنی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں یہ اشعار کہے : ’’ اے حارث ! پناہ دینے والے کی پناہ کی تم سے زیادہ عہد شکنی اور کون کرتا ہے ‘ حضرت محمد ﷺ تو عہد شکنی نہیں کرتے ہیں ‘ اگر تم لوگ عہد شکنی کرتے ہو تو عہد شکنی تمہاری عادتوں کا حصہ ہے ‘ اور کمینگی ‘ سخبر کی جڑوں میں اگتی ہے ‘ اور نہدی کی امانت سے جب میں ملا تو وہ شیشے کی مانند تھی جو ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑا نہیں جا سکتا ‘‘۔ راوی کہتے ہیں ؟ تو حارث نے کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! حسان کی زبان ہمارے حوالے سے روک کے رکھیں ! کیونکہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے ‘ تو یہ اسے بھی کڑوا کر دے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حارث غطفانی ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : اے محمد ( ﷺ ) ! مدینہ کی کھجوروں کا نصف ہمیں دو ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ‘ پہلے سعد نامی افراد سے مشورہ کر لوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ ‘ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ‘ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ‘ حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور بلوایا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : میں یہ بات جانتا ہوں کہ عرب ایک کمان سے تم پر تیر اندازی کریں گے ‘ حارث نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم مدینہ کی کھجوروں کا نصف اسے دیدو ‘ اگر تم اس سال یہ ادائیگی اُسے کر دیتے ہو ‘ تو بعد میں یہ تمہارے معاملے میں بہتر رہے گا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ آسمان کی طرف سے آنے والی وحی ہے ؟ اگر ایسا ہے ‘ تو ہم اللہ کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں ‘ یا پھر یہ آپ کی ذاتی رائے اور آپ کی خواہش ہے ‘ تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں آپ کی خواہش اور آپ کی رائے کی پیروی کرنی چاہیے ‘ اور اگر آپ کا مقصد ہماری بقاء کا خیال رکھنا ہے ‘ تو اللہ کی قسم ! اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے کھجوریں صرف اس صورت میں لے سکتے ہیں ‘ جب وہ ہم سے خریدیں یا وہ ( ہمارے ) مہمان بنیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ سن رہے ہو ؟ کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو ان لوگوں نے کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! آپ نے عہد شکنی کی ہے ۔ تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ’’ اے حارث ! پناہ دینے والے کی پناہ کی تم سے زیادہ عہد شکنی اور کون کرتا ہے ‘ حضرت محمد ﷺ تو عہد شکنی نہیں کرتے ہیں ‘ اور مری کی امانت سے جب میں ملا تو وہ شیشے کی مانند تھی جو ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑا نہیں جا سکتا اگر تم لوگ عہد شکنی کرتے ہو تو عہد شکنی تمہاری عادتوں کا حصہ ہے ‘ اور کمینگی ‘ سخبر کی جڑوں میں اگتی ہے ‘‘۔ امام بزار اور امام طبرانی کے رجال میں ‘ ایک راوی محمد بن عمرو ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10142

Majma al-Zawaid #10142

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "" وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, said: On the day of the Trench the Messenger of Allah ﷺ would say: > **"By Allah, were it not for Allah we would not be guided, nor would we fast, nor would we pray. So send down tranquility upon us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ’’ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ کی ذات نہ ہوتی ، تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے روزے نہیں رکھنے تھے اور ہم نے نماز نہیں پڑھنی تھی ‘ ( اے اللہ ! ) تو ہم پر سکینت نازل فرما ! ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

10143

Majma al-Zawaid #10143

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ قَدِ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ ... فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, may Allah be pleased with her, said: I never forgot his words on the day of the Trench while he handed them bricks, the hair of his chest covered with dust, as he said: > **"O Allah, indeed good is the good of the Hereafter, so forgive the Ansar and the Muhajira."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے غزوہ خندق کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ کے یہ الفاظ نہیں بھولے ‘ آپ اُن لوگوں کو اینٹیں پکڑا رہے تھے ‘ آپ کے سینے کا حصہ غبار آلود ہو چکا تھا ‘ اور آپ یہ کہہ رہے تھے : اے اللہ ! بھلائی ‘ صرف آخرت کی بھلائی ہے ‘ تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے .

10144

Majma al-Zawaid #10144

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ حِصْنٌ أَحْصَنَ مِنْ حِصْنِ بَنِي حَارِثَةَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالذَّرَارِيَ فِيهِ، وَقَالَ: إِنْ أَلَمَّ بِكُنَّ أَحَدٌ فَالْمَعْنَ بِالسَّيْفِ "". فَجَاءَهُنَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ سَعْدٍ يُقَالُ لَهُ: نَجْدَانُ، أَحَدُ بَنِي حَشَّاشٍ عَلَى فَرَسٍ حَتَّى كَانَ فِي أَصْلِ الْحِصْنِ، ثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ لِلنِّسَاءِ: انْزِلْنَ إِلَيَّ خَيْرٌ لَكُنَّ، فَحَرَّكْنَ السَّيْفَ فَأَبْصَرَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَابْتَدَرَ الْحِصْنَ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، يُقَالُ لَهُ: ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ، فَقَالَ: يَا نَجْدَانُ، ابْرُزْ فَبَرَزَ إِلَيْهِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَرَسَهُ فَقَتَلَهُ، وَأَخَذَ رَأْسَهُ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi' ibn Khadij, may Allah be pleased with him, said: There was no fortress stronger than the fortress of Banu Haritha. The Prophet ﷺ placed the women, children, and offspring in it, and said: > **"If anyone comes upon you, ward him off with the sword."** A man of Banu Tha'laba ibn Sa'd called Najdan, of Banu Hashshash, came on horseback until he was at the base of the fortress, then kept saying to the women: Come down to me; it is better for you. They brandished the sword; the Companions of the Messenger of Allah ﷺ saw him, and a party hastened to the fortress, among them a man of Banu Haritha called Zuhayr ibn Rafi'. He said: > **"O Najdan, come out."** So he came out to him. He charged with his horse, killed him, took his head, and brought it to the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو حارثہ کے قلعے سے زیادہ مضبوط قلعہ اور کوئی نہیں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے خواتین ، بچوں اور قیدیوں کو اس میں رکھا اور ارشاد فرمایا : اگر کوئی تمہاری طرف آنے کی کوشش کرے ‘ تو اسے تلوار کے ذریعے روکنا ‘ بنو ثعلبہ بن سعد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ‘ جس کا نام نجدان تھا ‘ وہ ان خواتین کی طرف آیا ‘ وہ گھوڑے پر سوار ہو کے آیا تھا ‘ یہاں تک کہ جب وہ قلعے کی بنیاد کے پاس پہنچا ‘ تو اس نے خواتین سے کہنا شروع کیا کہ تم اُتر کر میری طرف آ جاؤ ‘ ان خواتین نے تلوار کو حرکت دی ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے اُسے دیکھ لیا ‘ وہ تیزی سے قلعے کی طرف گئے ‘ اُن لوگوں میں بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی تھا ، جس کا نام ظہیر بن رافع تھا ‘ اس نے کہا : اے نجدان ! سامنے آؤ ‘ وہ نکل کر اس کے سامنے آیا ‘ اس نے اپنے گھوڑے کے ذریعے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کیا ‘ اُس کا سر پکڑا اور اُسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس چلا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10145

Majma al-Zawaid #10145

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَجَعَلَ نِسَاءَهُ وَعَمَّتَهُ صَفِيَّةَ فِي أُطُمٍ يُقَالُ لَهُ: فَارِعٌ، وَجَعَلَ مَعَهُمْ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُحُدٍ، فَرَقِيَ يَهُودِيٌّ حَتَّى أَشْرَفَ عَلَى نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى عَمَّتِهِ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا حَسَّانُ، قُمْ إِلَيْهِ حَتَّى تَقْتُلَهُ قَالَ: وَاللَّهِ مَا ذَاكَ فِيَّ، وَلَوْ كَانَ ذَاكَ فِيَّ لَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ صَفِيَّةُ: فَارْبُطِ السَّيْفَ عَلَى ذِرَاعِي قَالَ: ثُمَّ تَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ حَتَّى قَتَلَتْهُ وَقَطَعَتْ رَأْسَهُ، فَقَالَتْ لَهُ: خُذِ الرَّأْسَ فَارْمِ بِهِ عَلَى الْيَهُودِ قَالَ: مَا ذَاكَ فِيَّ، فَأَخَذَتْ هِيَ الرَّأْسَ فَرَمَتْ بِهِ عَلَى الْيَهُودِ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ أَهْلَهُ خُلُوفًا لَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ، فَتَفَرَّقُوا وَذَهَبُوا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَرَّ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ يَقُولُ: مَهْلًا قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ ... لَا بَأْسَ بِالْمَوْتِ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَجْمَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، وَكَانَ عَلَيْهِ دِرْعٌ مُقَلَّصَةٌ، وَقَدْ تَزَوَّجَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ أَثَرُ زَعْفَرَانَ. قَالَ: وَكَانَ حَسَّانُ إِذَا شَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْكُفَّارِ يَفْتَحُ الْأُطُمَ، وَإِذَا كَرُّوا رَجَعَ مَعَهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ لِصَفِيَّةَ بِسَهْمٍ كَمَا كَانَ يَضْرِبُ لِلرِّجَالِ. وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةِ صَفِيَّةَ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-'Awwam, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ went out to the Trench and placed his wives and his aunt Safiyya in a fortress called Fari', with Hassan ibn Thabit among them. The Messenger of Allah ﷺ went out toward Uhud. A Jew climbed until he looked down upon the wives of the Messenger of Allah ﷺ and his aunt. Safiyya said: O Hassan, stand to him and kill him. He said: By Allah, that is not in me — had it been in me, I would have gone out with the Messenger of Allah ﷺ. Safiyya said: Then fasten the sword to my arm. Then she advanced to him until she killed him and cut off his head. She said to him: Take the head and throw it at the Jews. He said: That is not in me. So she herself took the head and threw it at the Jews. The Jews said: We knew Muhammad would never leave his family behind with no one among them. So they dispersed and left. 'A'isha said: Then Sa'd ibn Mu'adh passed by, saying: Wait a little — the camel will reach the battle. There is no harm in death when the appointed time comes. She said: I never saw anyone more handsome than him that day; upon him was a trace of yellow, a short coat of mail, and he had married and consummated before that, so upon him was a trace of saffron. He said: When the Messenger of Allah ﷺ charged the disbelievers, Hassan would open the fortress, and when they retreated he would return with them. In the abridgment of Abu Ya'la: When that was reported to the Messenger of Allah ﷺ, he struck a share for Safiyya as he struck for men.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خندق کی طرف تشریف لے گئے ‘ آپ نے اپنی ازواج ‘ اپنی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایک بلند عمارت میں رکھا ‘ جس کا نام ’’ فارع ‘‘ تھا ‘ آپ نے ان کے ساتھ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو رکھا ‘ نبی اکرم ﷺ احد کی طرف تشریف لے گئے ‘ ایک یہودی چڑھ کر خواتین کے پاس اور نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی کے پاس پہنچنے لگا ‘ تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے حسان ! تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ ‘ اور اسے قتل کر دو ‘ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے اندر یہ ہمت نہیں ہے اگر میرے اندر یہ چیز ہوتی ‘ تو میں اللہ کے رسول کے ساتھ چلا جاتا ‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : پھر تم تلوار مجھے دو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس گئیں اور اسے قتل کر دیا ‘ انہوں نے اس کا سر کاٹا اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا : تم یہ سر لو ‘ اور اسے یہودیوں پر پھینک دو ‘ انہوں نے کہا : یہ میں کیسے کر سکتا ہوں ؟ تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے وہ سر لیا اور اسے خود یہودیوں پر پھینک دیا ‘ تو یہودیوں نے کہا : ہمیں یہ پتہ ہے کہ حضرت محمد ( ﷺ ) اپنے اہل خانہ کو ایسے نہیں چھوڑیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی نہ ہو ‘ تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ‘ اور چلے گئے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہ یہ کہہ رہے تھے : ’’ تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے ‘ پھر اونٹ جنگ تک پہنچ جائے گا ‘ اور جب ( آخری ) وقت آ جائے تو موت میں کوئی حرج نہیں ہے ‘‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس دن ‘ میں نے ان سے زیادہ تیار شخص کوئی نہیں دیکھا ‘ ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا ‘ اور انہوں نے عمدہ قمیص پہنی ہوئی تھی ‘ ان کی شادی ہوئی تھی ‘ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے رخصتی کروائی تھی ‘ تو ان پر زعفران کا نشان موجود تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کفار پر حملہ آور ہوئے ‘ تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عمارت کا دروازہ کھول دیا اور جب وہ لوگ پلٹ گئے ‘ تو وہ ان کے ساتھ واپس آ گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں پتہ چلا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھی ایک حصہ مقرر کیا ‘ جس طرح آپ نے مردوں کے لئے حصہ مقرر کیا تھا ۔ ان دونوں روایات کی سند ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے واقعہ احد سے متعلق باب میں ‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔

10146

Majma al-Zawaid #10146

وَعَنْ عُرْوَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْخَلَ نِسَاءَهُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ أُطُمًا مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَجُلًا جَبَانًا ; فَأَدْخَلَهُ مَعَ النِّسَاءِ، فَأَغْلَقَ الْبَابَ، فَجَاءَ يَهُودِيٌّ فَقَعَدَ عَلَى بَابِ الْأُطُمِ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: انْزِلْ يَا حَسَّانُ إِلَى هَذَا الْعِلْجِ فَاقْتُلْهُ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَجْعَلَ نَفْسِي خَطَرًا لِهَذَا الْعِلْجِ، فَأْتَزَرَتْ بِكِسَاءٍ وَأَخَذَتْ فِهْرًا، فَنَزَلَتْ إِلَيْهِ فَقَطَعَتْ رَأْسَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى عُرْوَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwa said: On the day of the Confederates the Prophet ﷺ lodged his wives in a fortress of Madina's fortresses. Hassan ibn Thabit was a cowardly man, so he lodged him with the women and locked the door. A Jew came and sat at the door of the fortress. Safiyya bint 'Abd al-Muttalib said: Go down, O Hassan, to this brute and kill him. He said: I would never risk myself for this brute. So she wrapped herself in a cloak, took a millstone, went down to him, and severed his head.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کو مدینہ منورہ کی ‘ ایک بلند عمارت میں داخل کروا دیا ‘ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک کمزور دل کے شخص تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی خواتین کے ساتھ رکھا ‘ انہوں نے دروازہ بند کر دیا ‘ ایک یہودی آیا اور اس عمارت کے دروازے پر بیٹھ گیا ‘ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کہا : اے حسان ! اُتر کر اس نالائق کی طرف جاؤ ‘ اور اسے قتل کر دو ‘ انہوں نے کہا : میں اس نالائق کو قتل کرنے کے قابل نہیں ہوں ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے چادر اوڑھی ، فہر ( دوا پیسنے کا پتھر ) لیا ‘ اتر کر اس کے پاس گئیں اور اس کا سر کاٹ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عروہ تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

10147

Majma al-Zawaid #10147

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَى أَخِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ فَرَسَهُ خَنْدَقًا، فَضَرَبَ الْفَرَسَ، فَدَقَّ جِدَارُ الْخَنْدَقِ سَاقَهُ، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسِهِ، فَمَسَحَ سَاقَهُ فَمَا نَزَلَ عَنْهَا حَتَّى بَرَأَ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ فِي قَصِيدَةٍ لَهُ: فَأَنْزَاهَا عَلَيَّ فَهْيَ تَهْوِي ... هَوَى الدَّلْوِ مُتَرَّعَةً بِسُدْلِ صُفُوفَ الْخَنْدَقَيْنِ فَأَهْرَقَتْهُ ... هَوِيَّةَ مُظْلِمِ الْحَالَيْنِ عَمْلِ فَعَصَّبَ رِجْلَهُ فَمَشَى عَلَيْهَا ... سُمُوَّ الصَّقْرِ صَادَفَ يَوْمَ طَلِّ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى عَلَيْهِ ... مَلِيكُ النَّاسِ: هَذَا خَيْرُ فِعْلِ لَعًا لَكَ فَاسْتَمَرَّ بِهَا سَوِيًّا ... وَكَانَتْ بَعْدَ ذَاكَ أَصَحَّ رِجْلِ». قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ: يُقَالُ إِذَا عَثَرَتِ النَّاقَةُ: لَعًا لَكِ؛ أَيِ: ارْتَفِعِي وَاسْتَعْلِي، قَالَ الْأَعْشَى: بِذَاتِ لَوْثٍ عَقَرْنَاهُ إِذَا عَثَرَتْ ... فَالنَّعْشُ أَدْنَى لَهَا مِنْ أَنْ يُقَالَ لَعَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Mu'awiya ibn al-Hakam, may Allah be pleased with him, said: We were with the Messenger of Allah ﷺ when my brother 'Ali ibn al-Hakam made his horse leap a trench. The horse struck him; the wall of the trench broke his leg. We brought him on his horse to the Prophet ﷺ. He wiped his leg, and he was healed before he dismounted from it. Mu'awiya ibn al-Hakam said in a poem of his: He made her leap toward me as she plunged — like a brimming bucket lowered by a rope — across the two trenches, but the plunge of a dark-eyed, dim-sighted one spilled him. Then he bound his leg and walked upon it like a falcon swooping on a dewy day. Then Muhammad, blessings upon him, King of mankind, said: > **"Rise for him and walk on evenly with it."** And thereafter it was the soundest of legs. Muhammad ibn 'Ubada said: When a she-camel stumbles it is said to her: la'an laki — rise and stand. Al-A'sha said: With a weak one we hamstrung when she stumbled — a swift death was nearer to her than saying: rise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ‘ میرے بھائی علی بن حکم نے اپنے گھوڑے کے ذریعے خندق کو عبور کرنا چاہا ‘ تو گھوڑا خندق کی دیوار سے ٹکرایا اور میرے بھائی کی پنڈلی ٹوٹ گئی ، ہم اسے گھوڑے پر سوار کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کی پنڈلی پر ہاتھ پھیرا ‘ تو وہ گھوڑے پر سے اترنے سے پہلے ہی ٹھیک ہو چکا تھا ، حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ایک قصیدہ کہا ہے ( جس کے اشعار یہ ہیں : ) ’’ اس نے اس کو چھلانگ لگوانا چاہی ، تو وہ نیچے آ رہا جس طرح کوئی بھرا ہوا ڈول لٹکانے سے نیچے آتا ہے ‘ اس نے خندق کو پار کرنا چاہا ‘ لیکن تاریک صورتحال والی بھنبھناہٹ نے اس کو نیچے گرا دیا ‘ اس شخص نے اپنی ٹانگ پر پٹی باندھی اور اس پر یوں چلنے لگا جس طرح تیز بارش والے دن شکرا جاتا ہے ‘ تو حضرت محمد ﷺ ‘ ان پر درود ہو ‘ جو لوگوں کے بادشاہ ہیں ‘ انہوں نے فرمایا : یہ اچھا فعل ہے ‘ تم اُٹھو اور اس ( ٹانگ ) کو سیدھا کر کے چلو ‘ تو وہ ٹانگ اس کے بعد سب سے بہتر ٹانگ کی حالت میں تھی ‘‘۔ محمد بن عبادہ بیان کرتے ہیں : جب اونٹنی کو ٹھوکر لگتی ہے ‘ تو اس کے لئے یہ لفظ کہا جاتا ہے :’’ لعالک ‘‘ یعنی تم اُٹھ جاؤ ‘ اوپر آ جاؤ ! اعشی نامی شخص نے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ وہ ( اونٹنی ) کمزوری والی تھی ‘ جب اس کو ٹھوکر لگی تو ہم نے اس کو ذبح کر دیا ‘ کیونکہ اس کے لیے لاش بن جانا اس سے زیادہ موزوں تھا کہ یہ کہا جائے : تم اُٹھو ! “ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اُسے ثقہ کہا ہے ۔

10148

Majma al-Zawaid #10148

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ; «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَلِيطًا، وَسُفْيَانَ بْنَ عَوْفٍ الْأَسْلَمِيَّ طَلِيعَةَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ، فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْبَيْدَاءِ الْتَفَّتْ عَلَيْهِمْ خَيْلٌ لِأَبِي سُفْيَانَ، فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا، فَأُتِيَ بِهِمَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدُفِنَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، فَهُمَا الشَّهِيدَانِ الْقَرِيبَانِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-'Aziz ibn Abi Bakr ibn Malik ibn Wahb al-Khuza'i, from his father, from his grandfather, said: The Messenger of Allah ﷺ sent Salit and Sufyan ibn 'Awf al-Aslami as scouts on the day of the Confederates. They went out until at al-Bayda horsemen of Abu Sufyan surrounded them. They fought until both were killed. They were brought to the Messenger of Allah ﷺ and buried in a single grave — they are the two neighboring martyrs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالعزیز بن ابوبکر بن مالک بن وہب خزاعی ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت سلیط رضی اللہ عنہ اور حضرت سفیان بن عوف اسلمی رضی اللہ عنہ کو غزوہ احزاب کے موقع پر جاسوسی کے لئے بھیجا ‘ یہ دونوں حضرات نکلے ‘ جب یہ ’’ بیداء ‘‘ کے مقام پر پہنچے ‘ تو ابوسفیان کے کچھ گھڑ سوار انہیں ملے ‘ ان دونوں نے لڑائی کی ‘ یہاں تک کہ یہ دونوں شہید ہو گئے ‘ ان دونوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ‘ اور ان دونوں کو ایک قبر میں رکھا گیا ‘ تو یہ دونوں ساتھ شہید ہونے والے دو افراد تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10149

Majma al-Zawaid #10149

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: «أَيْنَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي فِي بَطْنِ الشِّعْبِ عِنْدَ خَرِبَةٍ هُنَاكَ، وَلَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الِانْصِرَافِ لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أَدْعُوَهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nafi' said: It was said to Ibn 'Umar: Where did the Messenger of Allah ﷺ pray on the day of the Confederates? He said: He used to pray in the belly of the pass beside a ruin there. The Messenger of Allah ﷺ had given the people permission to leave, then ordered me to call them back, so I called them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : نبی اکرم ﷺ غزوہ احزاب کے موقع پر نماز کہاں ادا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نشیبی حصے کے درمیان میں موجود ایک پرانی عمارت کے پاس نماز ادا کرتے تھے ‘ جو وہاں موجود تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو واپس جانے کی اجازت دیدی تھی ، پھر آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں بلاؤں ‘ تو میں نے انہیں بلا لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10150

Majma al-Zawaid #10150

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «بَعَثَنِي خَالِي عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ لِأَبِيهِ بِلِحَافٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنْتُهُ وَهُوَ بِالْخَنْدَقِ، فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: "" مَنْ لَقِيتَ فَقُلْ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا "". وَكَانَ ذَلِكَ فِي بَرْدٍ شَدِيدٍ، فَخَرَجْتُ وَلَقِيتُ النَّاسَ فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا، قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ مَا عَطَفَ عَلِيَّ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَوْ وَاحِدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them, said: My maternal uncle 'Uthman ibn Maz'un sent me to his father with a quilt. I came to the Prophet ﷺ and sought permission while he was at the Trench. He permitted me and said: > **"Whomever you meet, tell them: The Messenger of Allah ﷺ orders you to return."** That was in severe cold. I went out, met the people, and said to them: The Messenger of Allah ﷺ orders you to return. He said: By Allah, not two of them, nor one, turned away from me in refusal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میرے ماموں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے ‘ اپنے والد کے لئے ایک لحاف بھیجا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ میں نے آپ سے اجازت مانگی ‘ آپ اس وقت خندق میں موجود تھے ‘ آپ نے مجھے اجازت دیدی ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : تمہاری جس سے ملاقات ہو ‘ تم اُس سے یہ کہنا : اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ واپس آ جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : یہ شدید سردی کی بات ہے ‘ میں نکلا ‘ میری لوگوں سے بات ہوئی ، میں نے اُن سے کہا : اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ان میں سے دو یا ایک فرد نے بھی میری بات کا انکار نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10151

Majma al-Zawaid #10151

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «خَفِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ إِلَّا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ: أَرْبَعَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَلِيٌّ، وَسَعْدُ، وَمِنَ الْأَنْصَارِ: أَبُو دُجَانَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ was concealed on the day of the Trench except from six men: four of the Muhajirun — Talha, al-Zubayr, 'Ali, and Sa'd — and of the Ansar: Abu Dujana and al-Harith ibn al-Simma.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ ‘ ( لوگوں کی نگاہوں سے ) اوجھل ہو گئے ‘ البتہ چھ افراد کا تعلق مختلف ہے چار افراد کا تعلق مہاجرین سے تھا ‘ وہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہیں ‘ جبکہ انصار سے تعلق رکھنے والے حضرات حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10152

Majma al-Zawaid #10152

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْخَنْدَقِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَاهَدُ ثَغْرَةً مِنَ الْجَبَلِ يَخَافُ مِنْهَا، فَيَأْتِي فَيَضْطَجِعُ فِي حِجْرِي ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَسَمَّعُ، فَسَمِعَ حِسَّ إِنْسَانٍ عَلَيْهِ الْحَدِيدُ، فَانْسَلَّ فِي الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ هَذَا؟ "". قَالَ: أَنَا سَعْدٌ، جِئْتُكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيتَ فِي تِلْكَ الثَّغْرَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجْرِي حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا أَنْسَاهَا لِسَعْدٍ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'A'isha, may Allah be pleased with her, said: I was with the Messenger of Allah ﷺ while he was at the Trench. He would tend a breach in the mountain that he feared, come, recline in my lap, then rise and listen. He heard the sound of a man in iron moving into the mountain. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Who is this?"** He said: I am Sa'd. I came so that you may command me with your order. So the Messenger of Allah ﷺ ordered him to spend the night at that breach. 'A'isha said: Then the Messenger of Allah ﷺ slept in my lap until I heard his snoring. 'A'isha said: I never forget it in favor of Sa'd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھی ‘ آپ اس وقت خندق میں موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ پہاڑ کے شگاف کی دیکھ بھال کر رہے تھے ‘ آپ کو اس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، آپ تشریف لائے اور میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئے پھر آپ اُٹھے اور سن گن لینے لگے ‘ آپ نے کسی انسان کی آہٹ سنی ، جس نے لوہے کا لباس پہنا ہوا تھا ‘ اور پہاڑ کی طرف آ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں سعد ہوں ، میں اس لئے آیا ہوں ‘ تاکہ آپ مجھے کوئی حکم دیں نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس شگاف میں رات بسر کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ میری گود میں سو گئے ‘ یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس کے بعد میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے ( دعا کرنا ) کبھی نہیں بھولی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10153

Majma al-Zawaid #10153

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ، جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا، فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ، ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا، يُسْفِلُهُ بَعْدُ، قَالَ: فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدْمًى، فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا قَالَ هَكَذَا - يُسْفِلُ التُّرْسَ - رَمَيْتُ فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقَدَحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ قَالَ: وَسَقَطَ فَقَالَ بِرِجْلِهِ هَكَذَا، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ - قَالَ: قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ؟ قَالَ: لِفِعْلِ الرَّجُلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مَعَهُ تُرْسَانِ، وَكَانَ سَعْدٌ رَامِيًا، فَكَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا بِالتُّرْسَيْنِ يُغَطِّي جَبْهَتَهُ، فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهْمٍ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ، فَلَمْ يُخْطِ هَذِهِ مِنْهُ - يَعْنِي: جَبْهَتَهُ -. وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'd — meaning Ibn Abi Waqqas — may Allah be pleased with him, said: On the day of the Trench a man shielding himself with a buckler kept moving it thus — placing it above his nose, then lowering it down. So I reached for my quiver, took out a blood-stained arrow, placed it in the middle of the bow, and when he did thus — lowering the shield — I shot. I never forgot the striking of the arrowhead upon such-and-such part of the shield. He said: He fell and moved his leg thus, and the Prophet of Allah ﷺ laughed — I think he said: until his molars showed. He said: I said: Why did he do that? He said: Because of what the man did. In the wording of al-Bazzar: There was a man with two shields, and Sa'd was an archer. He kept moving the two shields thus, covering his forehead. Sa'd drew an arrow for him; when he raised his head he shot him and did not miss this part of him — meaning his forehead. The rest is similar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر ‘ ایک شخص اپنی ڈھال کے ذریعے بچ رہا تھا ‘ اور اپنی ڈھال کے ذریعے اس طرح کر رہا تھا ‘ وہ اسے اپنی ناک پر رکھتا تھا ، پھر اس طرح کرتا تھا ، اُس سے ذرا نیچے کر لیتا تھا ‘ میں نے اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا ‘ اُس میں سے ایک تیر نکالا ‘ جس پر خون لگا ہوا تھا ‘ میں نے وہ کمان میں لگایا ‘ جب اس نے ‘ اس طرح کیا اور ڈھال کو ذرا نیچے کیا ‘ تو میں نے تیر چلا دیا ‘ میں یہ بات نہیں بھولا تھا کہ وہ اتنی ‘ اتنی دیر میں ڈھال کو کتنی حرکت دے گا ‘ راوی کہتے ہیں : تو وہ شخص نیچے گر گیا اور اس کا پاؤں اس طرح ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے ۔ راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی نظر آنے لگے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : اس شخص کے طرز عمل کی وجہ سے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اس شخص کے پاس دو ڈھالیں تھیں اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ تیر انداز تھے ‘ وہ دونوں ڈھالوں کے ذریعے اس ‘ اس طرح کرتا تھا ‘ اپنی پیشانی کو چھپاتا تھا ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تیر نکالا ‘ جب اس نے اپنا سر اٹھایا ‘ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے تیر مار دیا ‘ تو وہ اس کی پیشانی سے خطا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی روایت حسب سابق ہے ‘ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن محمد بن اسود کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

10154

Majma al-Zawaid #10154

وَعَنْ حُذَيْفَةَ «أَنَّ النَّاسَ تَفَرَّقُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا جَاثِمٌ مِنَ النَّوْمِ، فَقَالَ: "" يَا ابْنَ الْيَمَانِ، قُمْ فَانْطَلِقْ إِلَى عَسْكَرِ الْأَحْزَابِ فَانْظُرْ إِلَى حَالِهِمْ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا قُمْتُ لَكَ إِلَّا حَيَاءً مِنَ الْبَرْدِ قَالَ: "" انْطَلِقْ يَا ابْنَ الْيَمَانِ، فَلَا بَأْسَ عَلَيْكَ مِنْ بَرْدٍ وَلَا حَرٍّ حَتَّى تَرْجِعَ لِي "". فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَسْكَرَهُمْ فَوَجَدْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُوقِدُ النَّارَ فِي عُصْبَةٍ حَوْلَهُ، وَقَدْ تَفَرَّقَ الْأَحْزَابُ عَنْهُ، فَجِئْتُ حَتَّى أَجْلِسَ فِيهِمْ، فَحَسَّ أَبُو سُفْيَانَ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِيهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالَ: لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ قَالَ: فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي عَنْ يَمِينِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي عَنْ يَسَارِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَلَبِثْتُ فِيهِمْ هُنَيْهَةً، ثُمَّ قُمْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ فَدَنَوْتُ حَتَّى أَرْسَلَ عَلِيَّ مِنَ الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ لِيُدْفِئَنِي. فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: "" يَا ابْنَ الْيَمَانِ، اقْعُدْ؛ مَا خَبَرُ النَّاسِ؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا فِي عُصْبَةٍ يُوقِدُ النَّارَ، وَقَدْ صَبَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَرْدِ مِثْلَ الَّذِي صَبَّ عَلَيْنَا، وَلَكِنَّا نَرْجُو مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَفِي الصَّحِيحِ لِحُذَيْفَةَ حَدِيثٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfa, may Allah be pleased with him, said: The people dispersed from the Messenger of Allah ﷺ on the night of the Confederates, and only twelve men remained with him. The Messenger of Allah ﷺ came to me while I was crouching from sleep, and said: > **"O son of al-Yaman, rise and go to the camp of the Confederates and observe their condition."** I said: O Messenger of Allah, by the One who sent you with the truth, I only rose for you out of modesty despite the cold. He said: > **"Go, O son of al-Yaman — no harm of cold or heat shall touch you until you return to me."** So I went until I reached their camp and found Abu Sufyan kindling a fire among a small band around him; the Confederates had dispersed from him. I went until I sat among them. Abu Sufyan sensed that one not of them had entered among them, so he said: Let each man among you take the hand of his companion. So I struck my hand upon the one on my right and took his hand, then struck my hand upon the one on my left and took his hand. I remained among them a while, then rose and came to the Prophet ﷺ while he was standing in prayer. He motioned to me to draw near, so I drew near until he cast over me part of the garment upon him to warm me. When he finished his prayer he said: > **"O son of al-Yaman, sit. What is the news of the people?"** So I said: O Messenger of Allah, the people have dispersed from Abu Sufyan; none remains but a small band kindling a fire. Allah, Blessed and Exalted, has poured upon them cold like that He poured upon us — but we hope from Allah what they do not hope for.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کی رات ‘ لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے ‘ آپ کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی رہ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ‘ میں اس وقت نیند کے عالم میں تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم اُٹھو اور دشمن کے لشکروں کی طرف جاؤ ‘ اور ان کی صورت حال کا جائزہ لو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں صرف سردی کی وجہ سے اُٹھ کر آپ کی طرف آیا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم جاؤ تمہیں سردی یا گرمی کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی ‘ جب تک تم واپس نہیں آ جاتے میں گیا ‘ میں ان لوگوں کے لشکر کے پاس آیا ‘ تو میں نے ابوسفیان کو پایا کہ اُس نے آگ جلائی ہوئی ہے اور اس کے ارد گرد کچھ افراد موجود ہیں ، باقی لوگ اسے چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں ، میں آیا اور ان لوگوں کے درمیان بیٹھ گیا ‘ ابوسفیان نے یہ چیز محسوس کر لی کہ ان کے درمیان کوئی ایسا شخص داخل ہوا ہے ‘ جو ان میں سے نہیں ہے ‘ تو اس نے کہا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑ لے ‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے اپنا دایاں ہاتھ دائیں طرف موجود شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر میں نے اپنا ہاتھ اپنے بائیں طرف موجود شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر میں کچھ دیران کے درمیان ٹھہرا رہا ‘ پھر میں اٹھ گیا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ آپ اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ‘ آپ نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں قریب ہو جاؤں ‘ میں قریب ہوا ‘ تو آپ نے میرے اوپر وہ کپڑا ڈال دیا ‘ جو آپ کے جسم پر موجود تھا ‘ تاکہ مجھے اُس سے گرمائش حاصل ہو ‘ جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم بیٹھ جاؤ ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ ابوسفیان کو چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں ، اس کے ساتھ صرف کچھ افراد تھے جنہوں نے آگ جلائی ہوئی تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی طرح کی سردی نازل کی ہے ‘ جس طرح کی ہم پر نازل کی ہے ‘ لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس چیز کی امید ہے جس کی امید انہیں نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ’’ صحیح ‘‘ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔

10155

Majma al-Zawaid #10155

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِي - يَعْنِي: حِسَّ الْأَرْضِ - قَالَتْ: فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ. قَالَتْ: فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ، قَالَتْ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَتْ: فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ. لَبِثَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ ... مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ: [فَقُمْتُ] فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا فِيهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ تَسْبِغَةٌ لَهُ - يَعْنِي: الْمِغْفَرَ - فَقَالَ عُمَرُ: مَا جَاءَ بِكِ، لَعَمْرِي [وَاللَّهِ] إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ، وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءً أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ؟ قَالَتْ: فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا!. قَالَ: فَرَفَعَ الرَّجُلُ التَّسْبِغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا عُمَرُ، إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ، وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوِ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟!. قَالَتْ: وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللَّهَ سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ [قَالَتْ: وَكَانُوا حُلَفَاؤُهُ وَمَوَاليِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَتْ: فَرَقَى كَلِمَهُ، وَبَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَكَفَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا، فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ، وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي] صَيَاصِيهِمْ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ. قَالَتْ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَتَقْعُ الْغُبَارِ، فَقَالَ: لَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ! لَا وَاللَّهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ، اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ. قَالَ: فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ، وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "" مَنْ مَرَّ بِكُمْ؟ "". فَقَالُوا: مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، وَكَانَ دَحْيَةٌ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ [وَسِنُّهُ] وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -. قَالَتْ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ، وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ، قِيلَ لَهُمُ: انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ، فَقَالُوا: نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ) [فَنَزَلُوا] وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ، وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ، وَقَالُوا لَهُ: يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ، وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ. فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا، وَلَا يَلْتَفِتْ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمُ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: قَدْ أَنَا لِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ. قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا طَلَعَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ "". قَالَ عُمَرُ: سَيِّدُنَا اللَّهُ. قَالَ: "" أَنْزِلُوهُ "". فَأَنْزَلُوهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" احْكُمْ فِيهِمْ "". قَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ "". قَالَ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ. قَالَتْ: فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرَأَ إِلَّا مِثْلَ الْخُرْصِ. قَالَتْ: وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ. قَالَ عَلْقَمَةُ: فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'A'isha, may Allah be pleased with her, said: I went out on the day of the Trench following the tracks of the people, and heard the thud of the earth behind me — the tread of the ground. Behold, it was Sa'd ibn Mu'adh with his nephew al-Harith ibn Aws carrying his shield. She said: I sat down to the ground. Sa'd passed wearing an iron coat of mail from which his limbs protruded, and I feared for Sa'd's limbs. She said: Sa'd was among the greatest and tallest of people. She said: He passed chanting: Wait a little — the camel will reach the battle. How excellent is death when the appointed time comes. She said: I rose and plunged into a garden; in it were a group of Muslims, among them 'Umar ibn al-Khattab, and among them a man wearing a head covering — the helmet. 'Umar said: What brought you? By my life, indeed you are bold — what assures you against calamity or shifting ground? She said: He kept blaming me until I wished the earth had split open for me that very hour and I had entered it. He said: The man lifted the covering from his face — behold, it was Talha ibn 'Ubaydullah. He said: Woe to you, O 'Umar, you have said much today — where is shifting ground or flight except to Allah, Exalted? She said: A man of the polytheists of Quraysh called Ibn al-'Ariqa shot Sa'd with an arrow of his, saying: Take it — I am Ibn al-'Ariqa. It struck his median vein and severed it. So Sa'd supplicated to Allah and said: > **"O Allah, do not cause me to die until You cool my eye with Banu Qurayza."** She said: They had been his allies and clients in ignorance. She said: Then his wound subsided. Allah, Mighty and Majestic, sent the wind upon the polytheists, and Allah sufficed the believers in fighting — and Allah is Strong, Mighty. Abu Sufyan and those with him joined Tihama, 'Uyayna ibn Badr and those with him joined Najd, and Banu Qurayza returned and fortified themselves in their fortresses. The Messenger of Allah ﷺ returned to Madina and ordered a tent of leather pitched over Sa'd in the mosque. She said: Then Jibril, peace be upon him, came to him, dust upon his front teeth, and said: > **"You have laid down your weapons! No, by Allah, the angels have not yet laid down their weapons. Go out to Banu Qurayza and fight them."** He said: So the Messenger of Allah ﷺ donned his armor and announced to the people the departure. The Messenger of Allah ﷺ went out and passed by Banu Ghanm, neighbors of the mosque, and said: > **"Who passed by you?"** They said: Dihya al-Kalbi passed by us — and Dihya's beard, age, and face resembled Jibril, peace be upon him. She said: The Messenger of Allah ﷺ came to them and besieged them twenty-five nights. When the siege and trial grew severe, it was said to them: Come down to the judgment of the Messenger of Allah ﷺ. They consulted Abu Lubaba ibn 'Abd al-Mundhir, and he signaled to them that it meant slaughter. So they said: We shall come down to the judgment of Sa'd ibn Mu'adh. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Come down to the judgment of Sa'd ibn Mu'adh."** So they came down. The Messenger of Allah ﷺ sent for Sa'd ibn Mu'adh; he was brought on a donkey with a saddle of palm fiber, carried upon it, surrounded by his people. They said to him: O Abu 'Amr, your allies, clients, people of valor, and those you know. He returned nothing to them and paid them no attention until, when he neared their dwellings, he turned to his people and said: It is time that no blame of a blamer seizes me concerning Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے چلتی ہوئی نکلی ‘ میں نے اپنے پیچھے زمین پر کسی کے چلنے کی آہٹ سنی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دیکھا تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حضرت حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے ‘ جنہوں نے ان کی ڈھال کو اٹھایا ہوا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں زمین پر بیٹھ گئی ‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ گزرے ان کے جسم پر لوہے کی قمیص ( یعنی زرہ ) تھی ، جس میں سے ان کے اطراف باہر آ رہے تھے ‘ مجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اطراف کے حوالے سے اندیشہ ہوا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ بڑے لمبے تڑنگے آدمی تھے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ گزرے تو وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : ’’ تھوڑی ہی دیر میں اونٹ جنگ ( کے میدان ) تک پہنچ جائے گا ‘ اور جب وقت آ چکا ہو تو ( جنگ میں موت ) کتنی اچھی موت ہے ‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اٹھی اور میں ایک باغ میں داخل ہو گئی ‘ وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ‘ ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ ان میں ایک ایسا شخص بھی موجود تھا ‘ جس نے خود پہنا ہوا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم کیوں آئی ہو ؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، تم بڑی جرات مند ہو اور تمہیں اس بات سے کیا بے خوفی تھی کہ کوئی صورت حال کوئی آزمائش نہ آ جائے ‘ یا کوئی مشکل صورت حال نہ ہو جائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ وہ زمین میرے لئے اسی وقت شق ہو جائے اور میں اُس میں سما جاؤں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان صاحب نے اپنے چہرے سے خود کو ہٹایا ‘ تو وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے کہا : اے عمر ! تمہارا ستیاناس ہو ‘ آج تم نے بہت زیادتی کی ہے ‘ بچاؤ کے لئے اور فرار ہو کر اللہ کی طرف ہی جانا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ‘ قریش سے تعلق رکھنے والے ‘ ایک شخص نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو تیر مارا اس شخص کا نام ابن عرقہ تھا ‘ اس نے اپنا تیر مارا اور کہا : لو ! اسے سنجالو ! میں ابن عرقہ ہوں ‘ وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو پر لگا ‘ اور اس نے ان کی رگ کو چیر دیا ‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا : تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا ‘ جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے تو میری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کر دیتا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ لوگ ( یعنی بنو قریظہ ) زمانہ جاہلیت میں ان ( یعنی حضرت سعد بن معاذ ) کے حلیف اور موالی رہے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر ان کا زخم بہنے لگا ‘ اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا کو بھیج دیا اور اللہ تعالیٰ جنگ کے حوالے سے مومنین کے لئے کفایت عطا کرنے والا ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبے والا ہے ‘ ابوسفیان اور ان کے ساتھی تہامہ چلے گئے ‘ عینیہ بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے ‘ بنو قریظہ واپس آئے اور اپنے قلعوں کے اندر قلعہ بند ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے ‘ آپ نے چمڑے کا خیمہ لگانے کا حکم دیا ‘ وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں لگا دیا گیا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : حضرت جبرائیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے سامنے کے دانتوں پر غبار موجود تھا ۔ انہوں نے کہا : آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ، آپ نکل کر بنو قریظہ کی طرف جائیں اور ان کے ساتھ لڑائی کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہتھیار پہن لئے آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا کہ وہ روانہ ہو جائیں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ بھی نکلے ‘ آپ کا گزر ہو غنم کے پاس سے ہوا جو مسجد کے پڑوسی تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کے پاس سے ابھی کون گزرا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہمارے پاس سے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گزرے ہیں ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : داڑھی کے انداز ‘ عمر اور چہرے کی شکل کے اعتبار سے ‘ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس آئے ‘ آپ نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ کیے رکھا ‘ جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان کی آزمائش سخت ہو گئی ‘ تو ان سے کہا گیا : تم لوگ اللہ کے رسول کے فیصلے پر تیار ہو جاؤ ! ان لوگوں نے حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا ‘ تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ ایسی صورت میں انہیں ذبح کر دیا جائے گا ‘ تو ان لوگوں نے کہا : ہم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ سعد بن معاذ کے فیصلے پر طے کر لو ! وہ لوگ نیچے اتر آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ( لانے کا ) حکم دیا ‘ انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا ، جس پر کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی ‘ ان کی قوم نے انہیں گھیرا ہوا تھا ‘ اُن کی قوم ان سے کہہ رہی تھی کہ اے ابوعمرو ! یہ آپ کے حلیف ہیں تمہارے موالی ہیں ، تمہارے ساتھی ہیں ‘ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دی ، یہاں تک کہ وہ ان کے علاقے کے قریب ہو گئے تو انہوں نے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر یہ ارشاد فرمایا : میرے لئے مناسب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ‘ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے اپنی گرفت میں نہ لے ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ سامنے آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُٹھ کر اپنے سردار کی طرف جاؤ ‘ اور اسے نیچے اتارو ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمارا سردار ‘ اللہ تعالیٰ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے نیچے اتارو ! لوگوں نے انہیں نیچے اتارا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان کے بارے میں فیصلہ دو ! حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے مال کو تقسیم کر دیا جائے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے اُن کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے مطابق اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور کہا : اے اللہ ! اگر تو قریش کے ساتھ جنگ کے حوالے سے تیرے نبی کے لئے کوئی چیز باقی ہے ‘ تو اس جنگ کے لئے مجھے بھی باقی رکھ ‘ اور اگر نبی اکرم ﷺ اور قریش کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے ‘ تو مجھے اپنی طرف بلا لے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا ‘ حالانکہ پہلے وہ ٹھیک ہو کر چھوٹا سا رہ گیا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ اپنے خیمے کی طرف واپس چلے گئے جو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے لگوایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ان کے پاس نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے ( جب اُن کا آخری وقت آیا تھا ) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں حضرت محمد ﷺ کی جان ہے ‘ میں اپنے حجرے میں موجو درہ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے کے مقابلے میں ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کو پہچان رہی تھی ، کیونکہ اُن لوگوں کی مثال اسی طرح تھی ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ لوگ آپس میں رحم دل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ علقمہ کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے امی جان ! نبی اکرم ﷺ کا طرز عمل کیا تھا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو کسی کے لئے جاری نہیں ہوتے تھے ‘ لیکن جب آپ کو شدید غم لاحق ہوتا تھا ، تو آپ اپنی داڑھی شریف پکڑ لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ’’ حسن الحدیث ‘‘ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10156

Majma al-Zawaid #10156

وَعَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - «أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رُمِيَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمْيَةً فَقَطَعَتِ الْأَكْحَلَ مِنْ عَضُدِهِ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ رَمَاهُ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ أَحَدُ بَنِي الْعَرِقَةِ، وَقَالَ آخَرُونَ: رَمَاهُ أَبُو أُسَامَةَ الْجُشَمِيُّ. فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: رَبِّ اشْفِنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ قَبْلَ الْمَمَاتِ، فَرَقَأَ الْكَلْمُ بَعْدَ مَا انْفَجَرَ. قَالَ: وَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى سَأَلُوهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ حَكَمًا يَنْزِلُونَ عَلَى حُكْمِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْتَارُوا مِنْ أَصْحَابِي مَنْ أَرَدْتُمْ، فَلْيَسْتَمِعْ لِقَوْلِهِ "". فَاخْتَارُوا سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ، وَسَلَّمُوا. وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَسْلِحَتِهِمْ فَجُعِلَتْ فِي بَيْتٍ، وَأَمَرَ بِهِمْ فَكُتِّفُوا وَأُوثِقُوا فَجُعِلُوا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَقْبَلَ عَلَى حِمَارِ أَعْرَابِيٍّ، يَزْعُمُونَ أَنَّ وَطَاءَ بَرْدَعَتِهِ مِنْ لِيفٍ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَجَعَلَ يَمْشِي مَعَهُ يُعَظِّمُ حَقَّ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَيُذَكِّرُ حِلْفَهُمْ، وَالَّذِي أَبْلَوْهُ يَوْمَ بُعَاثٍ، وَإِنَّهُمُ اخْتَارُوكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ رَجَاءَ عَفْوِكَ وَتَحَنُّنِكَ عَلَيْهِمْ، فَاسْتَبْقِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَكَ جَمَالٌ وَعَدَدٌ، فَأَكْثَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ سَعْدٌ شَيْئًا حَتَّى دَنَوْا، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَلَا تُرْجِعُ إِلَيَّ شَيْئًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَيُفَارِقُهُ الرَّجُلُ، فَأَتَى إِلَى قَوْمِهِ قَدْ يَئِسَ مِنْ أَنْ يَسْتَبْقِيهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِالَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ، وَالَّذِي رَجَعَ إِلَيْهِ سَعْدٌ. وَنَفَذَ سَعْدٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا سَعْدُ، احْكُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ "". فَقَالَ سَعْدٌ: أَحْكُمُ فِيهِمْ بِأَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَيُقَسَّمَ سَبْيُهُمْ، وَتُؤْخَذَ أَمْوَالُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدٌ بِحُكْمِ اللَّهِ "". وَيَزْعُمُ نَاسٌ أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأُخْرِجُوا رُسُلًا رُسُلًا فَضُرِبَتْ أَعْنَاقُهُمْ. وَأَخْرَجَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ أَخْزَاكَ اللَّهُ؟ "" قَالَ: قَدْ ظَهَرْتَ عَلَيَّ وَمَا أَلُومُ نَفْسِي فِيكَ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْرِجَ إِلَى أَحْجَارِ الزَّيْتِ الَّتِي بِالسُّوقِ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ، كُلُّ ذَلِكَ بِعَيْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ. وَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ بَرِئَ كَلْمُ سَعْدٍ وَتَحَجَّرَ بِالثَّرَى، ثُمَّ إِنَّهُ دَعَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَوْمٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ وَأَخْرَجُوهُ، وَإِنِّي أَظُنُّ أَنْ قَدْ وُضِعَتِ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ قَدْ بَقِيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قِتَالٌ فَأَبْقِنِي أُقَاتِلْهُمْ فِيكَ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَافْجُرْ هَذَا الْمَكَانَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهِ، فَفَجَّرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَأَنَّهُ الرَّاقِدُ بَيْنَ ظَهْرَيِ اللَّيْلِ فَمَا دَرَوْا بِهِ حَتَّى مَاتَ، وَمَا رَقَأَ الْكَلْمُ حَتَّى مَاتَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ عَنْ عَائِشَةَ مُتَّصِلَ الْإِسْنَادِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwa — meaning Ibn al-Zubayr — said: Sa'd ibn Mu'adh was shot on the day of the Trench with a shot that severed the median vein of his upper arm. They claim Hibban ibn Qays of Banu 'Amir ibn Lu'ayy of Banu al-'Ariqa shot him; others said Abu Usama al-Jushami shot him. So Sa'd ibn Mu'adh said: > **"My Lord, heal me regarding Banu Qurayza before death."** So the wound subsided after bursting. He said: The Messenger of Allah ﷺ remained over Banu Qurayza until they asked him to place an arbitrator between him and them, upon whose judgment they would come down. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Choose whomever of my Companions you wish; let his word be heard."** So they chose Sa'd ibn Mu'adh, and the Messenger of Allah ﷺ was pleased with him, and they submitted. The Messenger of Allah ﷺ ordered their weapons placed in a house, ordered them bound and tied, and placed them in the house of Usama ibn Zayd. The Messenger of Allah ﷺ sent for Sa'd ibn Mu'adh; he came on a Bedouin donkey — they claim the padding of its saddle was of fiber — followed by a man of Banu 'Abd al-Ashhal walking with him, magnifying the right of Banu Qurayza, reminding him of their alliance and what they did on the day of Bu'ath, that they chose him over all others hoping for his pardon and tenderness toward them: spare them, for they are your beauty and number. The man said much, but Sa'd returned nothing to him until they drew near. The man said to him: Will you not return anything to me? He said: > **"By Allah, I do not care concerning Allah for the blame of any blamer."** So the man left him and went to his people, despairing that he would spare them, and informed them of what he had said to him and what Sa'd had answered. Sa'd went on until he came to the Messenger of Allah ﷺ. He said: > **"O Sa'd, judge between us and them."** So Sa'd said: I judge concerning them that their fighters be killed, their captives divided, their wealth taken, and their offspring and women enslaved. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Sa'd has judged concerning them with the judgment of Allah."** Some people claim they came down to the judgment of the Messenger of Allah ﷺ, and he referred judgment concerning them to Sa'd ibn Mu'adh. They were brought out group by group and their necks were struck. Huyayy ibn Akhtab was brought out, and the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Has Allah disgraced you?"** He said: You have prevailed over me, and I do not blame myself concerning you. So the Messenger of Allah ﷺ ordered concerning him; he was taken out to the stones of oil in the market and his neck was struck — all of it before the eyes of Sa'd ibn Mu'adh. They claim Sa'd's wound had healed and scabbed with dust. Then he supplicated, saying: > **"O Allah, Lord of the heavens and the earth, no people were more hateful to me than a people who denied Your Messenger and expelled him. I think the war between us and them has been laid down. If any fighting between us and them remains, then keep me alive to fight them for You. And if You have laid down the war between us and them, then cause this place to burst open and make my death in it."** So Allah, Blessed and Exalted, caused it to burst. He lay sleeping in the depth of night and they knew not until he died — the wound never subsiding until he died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو غزوہ خندق کے موقع پر ایک تیر لگا ‘ جس نے ان کے بازو کی رگ ’’ اکحل ‘‘ کو کاٹ دیا ‘ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جہان بن قیس نے انہیں تیر مارا تھا ، جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی کی شاخ بنو عرقہ سے تھا ‘ دیگر حضرات کا یہ کہنا ہے : ابواسامہ جشمی نے انہیں تیر مارا تھا ۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا : اے میرے پروردگار ! مرنے سے پہلے بنو قریظہ کے حوالے سے مجھے شفاء نصیب کر دے تو اُن کا زخم پھوٹ پڑنے کے بعد رک گیا تھا ( یعنی اس میں سے خون بہنا بند ہو گیا تھا ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنو قریظہ کو گھیرے رہے ‘ یہاں تک کہ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنے اور ان کے درمیان کسی شخص کو ثالث مقرر کر دیں ‘ وہ لوگ اس کی ثالثی کو تسلیم کر لیں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے ساتھیوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو اس کی بات کو سنا جائے گا ‘ تو ان لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ کو اختیار کیا ‘ نبی اکرم ﷺ ان سے راضی ہو گئے ‘ ان لوگوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ان لوگوں کا اسلحہ ایک گھر میں رکھا جائے ‘ نبی اکرم نبی اکرم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو باندھ دیا گیا اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں رکھا گیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا وہ ایک دیہاتی کے گدھے پر سوار ہو کر آئے ‘ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس گدھے پر جو چادر بچھی ہوئی تھی ۔ اس میں پتے بھرے ہوئے تھے بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے ساتھ ‘ ساتھ آ رہا تھا وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے بنو قریظہ کے حق کی بڑائی کو بیان کر رہا تھا ‘ ان کے اخلاق کا ذکر کر رہا تھا ، جنگ بعاث کے موقع پر ان لوگوں نے جو طرز عمل اختیار تھا اس کا ذکر کر رہا تھا کہ ان لوگوں نے آپ کے علاوہ کے مقابلے میں ، آپ کو اختیار کیا تھا ‘ یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ مہربانی کریں گے اور ان پر مہربان ہوں گے تو آپ اس چیز کا خیال رکھیں ، کیونکہ آپ کے لئے ان لوگوں میں جمال بھی ہے اور تعداد بھی ہے ‘ اس شخص نے اس بارے میں زیادہ باتیں کیں ، لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ‘ جب یہ لوگ قریب پہنچ گئے ‘ تو اس شخص نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا آپ مجھے کوئی جواب کیوں نہیں دیتے ہیں ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ‘ تو وہ شخص ان سے جدا ہو گیا اور اپنی قوم کے پاس گیا وہ اس بات سے مایوس ہو چکا تھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو باقی رہنے دیں گے ‘ اس نے اپنی قوم کو اس بارے میں بتایا ‘ جو اس نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات کی تھی اور جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دیا تھا ۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے سعد ! تم ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دو ! تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگو افراد کو قتل کروا دیں ، ان کے قیدیوں کو تقسیم کر لیں اور ان کے اموال حاصل کر لیے جائیں ‘ ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سعد نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ بعض لوگوں کا یہ بیان کرنا ہے : وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے فیصلے پر تیار ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فیصلہ کی ذمہ داری حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی تھی ‘ تو ان لوگوں کو گروہ در گروہ کر کے لایا گیا اور ان کی گردنیں اڑا دی گئیں ‘ جب حیی بن اخطب کو لایا گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں رسوائی کا شکار کر دیا ہے ؟ اس نے کہا : آپ نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے ‘ اور آپ کے بارے میں ‘ میں اپنی ذات کو ملامت نہیں کرتا ‘ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت اسے احجارزیت کی طرف لے جایا گیا جو بازار میں ہے اور وہاں اس کی گردن اڑا دی گئی ‘ یہ سب کچھ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوتا رہا ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا ‘ اور وہ ٹھیک ہونے کے قریب تھے ‘ لیکن پھر انہوں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کے پروردگار ! کوئی بھی قوم میرے نزدیک اُس قوم سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے ‘ جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں نکلنے پر مجبور کیا ‘ میرا یہ خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے جنگ کو اٹھا لیا ہے ‘ اگر ہمارے اور ان کے درمیان ابھی جنگ باقی ہے ‘ تو مجھے باقی رکھ ‘ تاکہ میں تیری راہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے جنگ کو اٹھا لیا ہے ‘ تو اس جگہ سے ( خون ) بہنا شروع ہو جائے اور میری موت اس زخم کی وجہ سے ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے زخم کو بہایا اور وہ رات بھر سوتے رہے ‘ لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلا ‘ یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ‘ ان کے مرنے تک ان کا زخم بہتا رہا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح‘‘ میں اس کا کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے متصل سند کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

10157

Majma al-Zawaid #10157

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ; «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَقَدْ جَمَعُوا لَهُ جُمُوعًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَغْزُوكُمْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَلَكِنْ تَغْزُوهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ said on the day of the Confederates, when they had gathered great hosts against him: > **"After this, they will never raid you — rather, you will raid them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ جب دشمن نے آپ کے خلاف بہت سے لشکروں کو اکٹھا کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اس کے بعد یہ کبھی تم پر حملہ نہیں کریں گے ‘ بلکہ تم ان پر حملہ کرو گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10158

Majma al-Zawaid #10158

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَتَتِ الصَّبَا الشَّمَالُ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ، فَقَالَ: مُرِّي حَتَّى نَنْصُرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الشَّمَالُ: إِنَّ الْحُرَّةَ لَا تَسْرِي بِاللَّيْلِ، فَكَانَتِ الرِّيحُ الَّتِي نُصِرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: The east wind came to the north wind on the night of the Confederates and said: Come, that we may aid the Messenger of Allah ﷺ. The north wind said: The free woman does not travel by night. So the wind by which the Messenger of Allah ﷺ was aided was the east wind.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” صبا “ ( نامی ہوا ) ’’ شمال‘‘ ( نامی ہوا ) کے پاس غزوہ احزاب کی رات آئی اور بولی : چلو ! تاکہ ہم اللہ کے رسول کی مدد کریں ‘ تو شمال نامی ہوا نے کہا : حرہ رات کے وقت نہیں چلتی ہے ‘ تو وہ ہوا جس کے ذریعے اللہ کے رسول ﷺ کی مدد کی گئی ‘ وہ ’’ صبا ‘‘ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10159

Majma al-Zawaid #10159

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «رَمَى سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَفَّرَ وَانْتَقَضَ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: اللَّهُمَّ لَا تَنْزِعْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: Sa'd ibn Mu'adh, may Allah be pleased with him, shot at Qurayza and al-Nadir and his median vein was cut. The Messenger of Allah ﷺ cauterized him, so it festered and reopened. He cauterized him a second time. So Sa'd said: > **"O Allah, do not take my soul until You cool my eye with Banu Qurayza and al-Nadir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ قریظہ اور غزوہ نصیر کے موقع پر ‘ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگا ‘ جس نے ان کی ’’ اکحل ‘‘ نامی رگ کو کاٹ دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں داغ لگوایا اس کی وجہ سے ان کا زخم خراب ہو گیا اور پھول گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دوسری مرتبہ انہیں داغ لگوایا ‘ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! تو میری جان اس وقت تک قبض نہ کرنا ‘ جب تک بنو قریظہ اور بنو نضیر کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10160

Majma al-Zawaid #10160

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ: «لَمَّا حَكَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَنِي قُرَيْظَةَ وَجَدَتِ الْأَوْسُ مِنْ ذَلِكَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى كُلِّ دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَوْسِ بِأَسِيرَيْنِ أَسِيرَيْنِ، وَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بِأَسِيرَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Maslama, may Allah be pleased with him, said: When the Messenger of Allah ﷺ rendered judgment concerning Banu Qurayza, the Aws felt distress at that. So the Messenger of Allah ﷺ sent to every house of Aws two captives each, and sent to Banu Haritha two captives.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ دیا ‘ تو اوس قبیلے کے لوگوں کو اس سے الجھن ہوئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے اوس قبیلے کے ہر ایک گھرانے کی طرف دو ‘ دو قیدی بھیجے ‘ آپ نے بنو حارثہ کی طرف بھی دو قیدی بھیجے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ذویب بن عمامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10161

Majma al-Zawaid #10161

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ "" - وَلَمْ يُصَلِّهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ - "" مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا، أَوْ قُلُوبَهُمْ نَارًا، أَوْ بُيُوتَهُمْ نَارًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfa, may Allah be pleased with him, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"They distracted us from the afternoon prayer — and he had not prayed it that day until the sun set — may Allah fill their graves with fire."** Or he said: their hearts with fire. Or he said: their houses with fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز ادا نہیں کرنے دی ۔ راوی کہتے ہیں : اس دن نبی اکرم ﷺ نے سورج غروب ہونے تک وہ نماز ادا نہیں کی تھی ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے دلوں کو آگ سے بھر دے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد احمد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ میں ان سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10162

Majma al-Zawaid #10162

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «مَرَّ أَبُو سُفْيَانَ وَمُعَاوِيَةُ خَلْفَهُ - وَكَانَ رَجُلًا مُسْتَمِدًّا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِصَاحِبِ الْأَسْنِمَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn 'Azib, may Allah be pleased with him, said: Abu Sufyan passed with Mu'awiya behind him — a conspicuous man — so the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Allah, deal with the rider of the humps."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ گزرے ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے موجود تھے ‘ وہ ایک نمایاں شخص تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کو ہان والے شخص کو گرفت میں لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔

10163

Majma al-Zawaid #10163

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ، وَضَعَ لَأْمَتَهُ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Malik, may Allah be pleased with him, said: When the Messenger of Allah ﷺ returned from pursuing the Confederates and alighted at Madina, he laid down his armor, washed, and used stones for cleaning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ لشکروں کا پیچھا کر کے واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ آئے تو آپ نے اپنے ہتھیار اتارے غسل کیا اور ڈھیلے استعمال کیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10164

Majma al-Zawaid #10164

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا رَجَعَ مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ، رَجَعَ فَنَزَعَ لَأْمَتَهُ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ. زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: عَذِيرُكَ مِنْ مُحَارِبٍ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعْتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ "". فَوَثَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعًا، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَّا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ. وَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: صَلُّوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُرِدْ أَنْ تَتْرُكُوا الصَّلَاةَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ. فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَطَائِفَةٌ لَمْ يُصَلُّوا حَتَّى نَزَلُوا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Malik, may Allah be pleased with him, said: When the Messenger of Allah ﷺ returned from pursuing the Confederates, he took off his armor, washed, and used stones for cleaning. Duhaym added in his hadith: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Jibril, peace be upon him, descended and said: May you be excused from a warrior — do I see you have laid down your armor, yet we have not laid ours down?"** So the Messenger of Allah ﷺ leapt up alarmed and charged the people not to pray Asr except at Banu Qurayza. They donned weapons and went out, but did not reach Banu Qurayza until the sun set. The people disputed over the Asr prayer. Some said: Pray — the Messenger of Allah ﷺ did not intend that you abandon prayer. Others said: He charged us not to pray until we reach Banu Qurayza; we are under the charge of the Messenger of Allah ﷺ, so there is no sin upon us. So one party prayed Asr in faith seeking reward, and one party did not pray until they reached Banu Qurayza after sunset, then prayed it in faith seeking reward. The Messenger of Allah ﷺ blamed neither of the two parties.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ‘ لشکروں کا پیچھا کر کے جب واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے اپنے ہتھیار اتارے غسل کیا اور ڈھیلے استعمال کیے ۔ دحیم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نازل ہوا اور بولا : جنگجو کی طرف سے آپ کا عذر ‘ میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ‘ حالانکہ ہم ( فرشتوں ) نے وہ نہیں اتارے ہیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ پریشانی کے عالم میں فوراً کھڑے ہوئے ‘ آپ نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ عصر کی نماز بنو قریظہ کے علاقے میں ادا کریں لوگوں نے ہتھیار پہنے اور روانہ ہو گئے ‘ ان کے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہونے کے قریب ہو گیا ‘ تو عصر کی نماز کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ تم لوگ نماز ادا کر لو ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ نہیں تھی کہ تم لوگ نماز ترک کر دو ‘ بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ تاکید کی تھی کہ ہم نماز اس وقت ادا کریں ‘ جب ہم بنو قریظہ کے علاقے میں پہنچ جائیں ، تو ہم اللہ کے رسول کے حکم کے پابند ہیں ‘ اس حوالے سے ہم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘ تو ایک گروہ نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عصر کی نماز ادا کر لی اور ایک گروہ نے عصر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کی ‘ جب تک وہ بنو قریظہ کے علاقے میں نہیں پہنچ گئے ‘ اور وہ سورج غروب ہونے کے بعد وہاں پہنچے تھے ‘ وہاں پہنچ کر انہوں نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے ‘ وہ نماز ادا کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف مرزوق بن ابوہذیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔