عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ - وَقَالَ الْفَزَارِيُّ مَرَّةً: عَنِ ابْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ غَيْرُ الْفَزَارِيِّ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ - قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَانْكَفَأَ الْمُشْرِكُونَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اسْتَوُوا حَتَّى أُثْنِيَ عَلَى رَبِّي ""، فَصَارُوا خَلْفَهُ صُفُوفًا، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَا أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبْعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعِيلَةِ، وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَ مِنَّا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ، وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَهَ الْخَلْقِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَاقْتَصَرَ عَلَى عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَالَ: "" «اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
'Ubaydullah ibn 'Abdullah al-Zuraqi, from his father — al-Fazari once said: from Ibn Rifa'a al-Zuraqi from his father, while others besides al-Fazari said: from 'Ubayd ibn Rifa'a al-Zuraqi — said: On the day of Uhud, when the polytheists turned back, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Stand straight until I praise my Lord."** So they formed rows behind him, and he said: > **"O Allah, all praise belongs to You. O Allah, none constricts what You expand, and none expands what You constrict. None guides whom You lead astray, and none leads astray whom You guide. None gives what You withhold, and none withholds what You give. None brings near what You distance, and none distances what You bring near. O Allah, spread over us from Your blessings, Your mercy, Your bounty, and Your provision. O Allah, I ask You for lasting bliss that neither changes nor passes away. O Allah, I ask You for bliss on the day of need and security on the day of fear. O Allah, I seek refuge in You from the evil of what You have given us and the evil of what You have withheld from us. O Allah, make faith beloved to us, adorn it in our hearts, make disbelief, wickedness, and disobedience hateful to us, and make us among the rightly guided. O Allah, cause us to die as Muslims, keep us alive as Muslims, and join us with the righteous, neither disgraced nor tested. O Allah, destroy the disbelievers who deny Your messengers and turn people away from Your path, and send upon them Your punishment and Your torment. O Allah, destroy the disbelievers among those given the Book, O God of creation."** In one narration the wording is: O Allah, destroy the disbelieving People of the Book.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبیداللہ بن عبدالله زرقی نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ایک مرتبہ فزاری نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ابن رفاعہ زرقی کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے منقول ہے ‘ جبکہ فزاری کے علاوہ دیگر حضرات نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ عبید بن رفاعہ زرقی کے حوالے سے منقول ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ’’ غزوہ احد کے موقع پر جب مشرکین پسپا ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ تم لوگ سیدھے ہو جاؤ ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی تعریف بیان کروں ‘‘ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! ساری کی ساری حمد ‘ تیرے ہی لئے مخصوص ہے ‘ اے اللہ ! جسے تو کشادگی عطا کر دے ‘ اسے تنگی کا شکار کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور جسے تو تنگی کا شکار کر دے ‘ اُسے کشادگی دینے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو گمراہ کر دے ‘ اُسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور جسے تو ہدایت دیدے ‘ اُسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو نہ دے اُسے دینے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور جسے تو دے ‘ اُسے روکنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو دور کر دے ‘ اُسے قریب کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو قریب کر دے ‘ اُسے دور کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اے اللہ ! اپنی برکتیں ‘ اپنی رحمتیں ‘ اپنا فضل اور اپنا رزق ہم پر پھیلا دے ‘ اے اللہ ! میں قائم رہنے والی ان نعمتوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جن میں رکاوٹ نہیں آئے گی ۔ اور جو زائل نہیں ہوں گی ‘ اے اللہ ! میں تنگی کے دن ‘ نعمتوں کا اور خوف کے دن ‘ امن کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ‘ اے اللہ ! تو نے جو ہمیں عطا کیا ہے ‘ اس کے شر سے ‘ اور جو تو نے ہمیں نہیں دیا ہے ‘ اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ اے اللہ ! ہمارے لئے ایمان کو محبوب کر دے ‘ اُسے ہمارے دلوں میں آراستہ کر دے ‘ اور کفر ، فسق اور گناہوں کو ‘ ہمارے نزدیک ناپسندیدہ کر دے ‘ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا دے ‘ اے اللہ ! تو ہمیں مسلمان ہونے کے عالم میں موت دینا ‘ اور مسلمان ہونے کے عالم میں زندہ رکھنا ‘ اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر دینا ‘ جو کسی رسوائی اور آزمائش کا شکار ہوئے بغیر ہو ‘ اے اللہ ! کافروں کو برباد کر دے ‘ جنہوں نے تیرے رسولوں کو جھٹلایا ‘ یا تیرے راستے سے روکا ‘ اپنی سختی اور اپنا عذاب اُن ( کافروں ) پر نازل کر دے اے اللہ ! ان کافروں کو برباد کر دے ‘ جنہیں کتاب دی گئی ‘ اے حقیقی معبود ! ‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے اسے عبید بن رفاعہ کے ان کے والد سے منقول روایت پر منحصر کیا ہے اور یہی صحیح ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! اہل کتاب کے ( یعنی ان سے تعلق رکھنے والے ) کافروں کو برباد کر دے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔