Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 8

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10085–10124

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10085

Majma al-Zawaid #10085

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَصْحَابَ الْأَلْوِيَةِ، قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَهِيَ الْمُوَاسَاةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ "" قَالَ جِبْرِيلُ: وَأَنَا مِنْكُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi, may Allah be pleased with him, reported that when Ali, may Allah be pleased with him, killed the standard-bearers, Jibril, peace be upon him, said this was true comradeship. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said Ali was from him and he from Ali, and Jibril said he was from them both. > **"O Messenger of Allah, this is true comradeship." > **"He is from me and I am from him." > **"And I am from you both, O Messenger of Allah."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے علم برداروں کو قتل کر دیا ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ بھائی چارہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، حضرت جبرائیل نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ دونوں سے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ، جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

10086

Majma al-Zawaid #10086

وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا خَرَجَ إِلَى الْخَنْدَقِ جَعَلَ نِسَاءَهُ فِي أُطُمٍ يُقَالُ لَهُ: فَارِعٌ، وَجَعَلَ مَعَهُنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ، وَكَانَ حَسَّانُ يَطَّلِعُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا شَدَّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ اشْتَدَّ مَعَهُ فِي الْحِصْنِ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ وَرَاءَهُ، قَالَتْ: فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَبَقِيَ أَحَدُهُمْ فِي الْحِصْنِ حَتَّى أَطَلَّ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لِحَسَّانَ: قُمْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ، فَقَالَ: مَا ذَاكَ فِيَّ، وَلَوْ كَانَ فِيَّ لَكُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَتْ صَفِيَّةُ رَأْسَهُ حَتَّى قَطَعَتْهُ، فَلَمَّا قَطَعَتْهُ قَالَتْ: يَا حَسَّانُ، قُمْ إِلَى رَأْسِهِ فَارْمِ بِهِ إِلَيْهِمْ وَهُمْ مِنْ أَسْفَلِ الْحِصْنِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا ذَاكَ فِيَّ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ فَرَمَيْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: قَدْ وَاللَّهِ عَلِمْنَا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ أَهْلَهُ خُلُوفًا لَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ، وَتَفَرَّقُوا فَذَهَبُوا، قَالَتْ: وَمَرَّ قِبَلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، كَأَنَّهُ كَانَ مُقْرِنًا قَبْلَ ذَلِكَ، وَهُوَ يَقُولُ: مَهْلًا قَلِيلًا تُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ ... لَا بَأْسَ بِالْمَوْتِ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أُمِّ عُرْوَةَ بِنْتِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهَا، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Safiyyah bint Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with her, reported that when the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, went out to the Trench, he placed the women in the fort called Fari with Hassan ibn Thabit, may Allah be pleased with him, who would advance and retreat in the fort with the Prophet's movements. Men of the Jews came and one remained until he loomed over them; she told Hassan to kill him but he said it was not in him, for had it been he would have been with the Prophet. So Safiyyah struck his head until she severed it, asked Hassan to throw it to those below the fort, and when he again declined, she threw it herself. The Jews said they knew Muhammad had not left his family unguarded, and dispersed. She also passed Sad ibn Muadh with a trace of yellowness as if recently wed, reciting his verse that shortly the camel would reach the fray and there is no harm in death when the term comes. > **"Get up to him and kill him." > **"It is not in me; had it been in me I would have been with the Messenger of Allah." > **"O Hassan, take his head and throw it to them below the fort." > **"Slowly, soon the camel will reach the fray; there is no harm in death when the term comes."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ اُحد کی طرف نکلے ‘ تو آپ نے خواتین کو ایک بلند عمارت میں ٹھہرا دیا ‘ جس کا نام ’’ فارغ ‘‘ تھا ‘ ان خواتین کے ساتھ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا جائزہ لیتے رہتے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ مشرکین کی طرف بڑھتے تو وہ بھی قلعے میں آگے ہو جاتے ‘ اور جب آپ پیچھے آتے تو وہ بھی پیچھے ہو جاتے ‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے اور ان میں سے ایک شخص چڑھ کر قلعے کی طرف آ گیا ‘ یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس پہنچ گیا ‘ میں نے حسان سے کہا : تم اُٹھ کر اس کے پاس جاؤ ‘ اور اسے قتل کر دو ‘ انہوں نے کہا : میں یہ نہیں کر سکتا اگر میں کچھ کر سکتا ہوتا ‘ تو میں اللہ کے رسول کے ساتھ چلا جاتا ‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس ( یہودی ) کے سر پر ضرب لگا کر اس کا سر کاٹ دیا ‘ جب انہوں نے اس کا سر کاٹ دیا ‘ تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تم اس کا سر اٹھاؤ اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دو ‘ وہ لوگ جو قلعے کے نیچے موجود ہیں ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں یہ بھی نہیں کر سکتا ‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اُس شخص کا سر پکڑا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ‘ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمیں یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ حضرت محمد ( ﷺ ) نے اپنے اہل خانہ کو ایسے حال میں نہیں چھوڑا کہ ان کے ساتھ کوئی نہ ہو ‘ تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ‘ اور چلے گئے ۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ‘ ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا ‘ یوں لگتا تھا جیسے ان کی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی ہے اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے : ’’ تھوڑی سی دیر میں اونٹ ‘ جنگ تک پہنچ جائے گا ‘ جب وقت آ جائے تو موت میں کوئی حرج نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے اسے اُم جعفر بنت زبیر کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10087

Majma al-Zawaid #10087

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ خَاضَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ خَيْضَةً، وَقَالُوا: قُتِلَ مُحَمَّدٌ حَتَّى كَثُرَتِ الصَّوَارِخُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُحْرِمَةً، فَاسْتُقْبِلَتْ بِأَبِيهَا وَابْنِهَا وَزَوْجِهَا وَأَخِيهَا لَا أَدْرِي أَيَّهُمُ اسْتُقْبِلَتْ بِهِ أَوَّلًا، فَلَمَّا مَرَّتْ عَلَى أَحَدِهِمْ، قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُوكِ أَخُوكِ زَوْجُكِ ابْنُكِ، تَقُولُ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ يَقُولُونَ: أَمَامَكَ حَتَّى دُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَتْ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أُبَالِي إِذْ سَلِمْتَ مِنْ عَطَبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud Madinah fell into turmoil with cries that Muhammad had been killed. An Ansari woman in pilgrim garb went out and was met with her father, son, husband, and brother, not remembering whom first; at each she asked who it was and was told, yet kept asking what had happened to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. When told he was ahead and she was brought to him, she seized his garment and said with her parents as ransom she cared for no calamity while he was safe. > **"Who is this?" > **"What happened to the Messenger of Allah?" > **"He is ahead of you." > **"May my father and mother be your ransom, O Messenger of Allah, I care for no calamity while you are safe."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر اہل مدینہ پریشانی کا شکار ہو گئے انہوں نے کہا : حضرت محمد ﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے ‘ یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے ایک کنارے میں چیخنے والوں کی آوازیں زیادہ ہو گئیں ‘ انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نکلی ‘ اس نے اپنے والد کو دیکھا ‘ اپنے بیٹے کو دیکھا ‘ اپنے شوہر کو دیکھا ‘ اپنے بھائی کو دیکھا ‘ یہ مجھے یاد نہیں ہے کہ ان میں سے کون اُس کے سامنے پہلے آیا تھا ؟ لیکن وہ خاتون جب بھی ان میں سے کسی ایک کے پاس سے گزری ‘ تو اس نے یہی دریافت کیا : یہ کون ہے ‘ تو لوگوں نے بتایا : یہ تمہارا والد ہے ‘ یہ تمہارا بھائی ہے ‘ یہ تمہارا شوہر ہے ‘ یہ تمہارا بیٹا ہے ، لیکن وہ عورت یہی دریافت کرتی رہی کہ اللہ کے رسول کا کیا حال ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : وہ آ رہے ہیں ‘ یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچی ‘ تو اس نے نبی اکرم ﷺ کے کپڑے کا کنارہ پکڑا اور پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ قربان ہوں ، جب آپ سلامت ہیں تو پھر مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10088

Majma al-Zawaid #10088

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «اجْتَمَعْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ - حَتَّى كَثُرَتِ الْقَتْلَى فَصَرَخَ صَارِخٌ: قَدْ قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَبَكَيْنَ نِسْوَةٌ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: لَا تُعَجِّلْنَ بِالْبُكَاءِ حَتَّى أَنْظُرَ، فَخَرَجَتْ تَمْشِي لَيْسَ لَهَا هَمٌّ سِوَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُؤَالٍ عَنْهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَفْوَانَ وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud he joined the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, in Madinah when none of the Prophet's companions remained there and the slain multiplied. A crier shouted that Muhammad had been killed and women wept, but one woman said not to hasten weeping until she looked. She went out walking with no concern except the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and asking about him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ‘ مدینہ منورہ میں ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی بھی مدینہ میں باقی نہیں رہا تھا ، مقتولین کی تعداد زیادہ ہو گئی ‘ تو کسی نے چیخ کر کہا : حضرت محمد ﷺ قتل ہو گئے ہیں ، خواتین رونے لگیں ‘ ایک عورت نے کہا : تم رونے میں جلدی نہ کرو ! جب تک میں پہلے جائزہ نہیں لے لیتی ، وہ خاتون چلتی ہوئی نکلیں ‘ اُسے اللہ کے رسول اور آپ کے بارے میں دریافت کرنے کے علاوہ اور کوئی پریشانی نہیں تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صفوان ہے اور وہ مجہول ہے ۔

10089

Majma al-Zawaid #10089

وَعَنْ عُقْبَةَ مَوْلَى جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: «شَهِدْتُ أُحُدًا مَعَ مَوَالِي، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا قَتَلْتُهُ، قُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْفَارِسِيُّ، فَلَمَّا بَلَغَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَلَا قُلْتَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ؟ فَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah, the freedman of Jabr ibn Atik, reported that he witnessed Uhud with other freedmen, struck and killed a polytheist, and said take it from me for I am a Persian man. When it reached the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, he asked why he had not said he was an Ansari youth, since the freedman of a people is of themselves. > **"Take it from me, for I am a Persian man." > **"Why did you not say: Take it, for I am an Ansari youth? For the freedman of a people is of themselves."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ کے غلام عقبہ بیان کرتے ہیں : میں ‘ کچھ غلاموں کے ہمراہ غزوہ احد میں شریک ہوا ‘ میں نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر ضرب لگائی ‘ جب میں نے اسے قتل کر دیا ‘ تو میں نے کہا : لو میری طرف سے اسے سنبھالو ! میں ایک فارسی شخص ہوں ‘ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ لو اسے سنبھالو ! میں ایک انصاری نوجوان ہوں ، کیونکہ قوم کا غلام اُن کا حصہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10090

Majma al-Zawaid #10090

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «فَلَمَّا كَانَ عَامُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ، وَفَرَّ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكُسِرَتْ رُبَاعِيَّتُهُ، وَهُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ، وَسَالَ الدَّمُ عَلِي، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [آل عمران: 165] بِأَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثِ عُمَرَ الَّذِي فِي الصَّحِيحِ فِي مَسْنَدِهِ الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, said that in the next year at Uhud they were requited for taking ransom at Badr. Seventy were killed, the companions fled from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, his front tooth was broken, his helmet crushed upon his head, and blood flowed over him. Allah then revealed that when a calamity befell them though they had inflicted twice as much, they asked whence it was, for it was from themselves through their taking ransom, while Allah has power over all things.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اگلے سال غزوہ اُحد کا موقع آیا ‘ تو انہوں نے غزوہ بدر میں فدیہ وصول کرنے کے حوالے سے جو کچھ کیا تھا ‘ اس کی انہیں سزا دی گئی ‘ ان میں سے ستر افراد قتل ہو گئے ‘ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب آپ کو چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ کے دانت مبارک زخمی ہو گئے ‘ آپ کا خود سر میں کھب گیا آپ کا خون بہتا ہوا منہ پر آ گیا ‘ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ کیا جب تمہیں ایک مصیبت لاحق ہوئی ‘ جبکہ تم ( اس سے پہلے دشمن کو ) دُگنا نقصان پہنچا چکے تھے ‘ تو تم نے کہا : یہ کہاں سے آ گئی ؟ ( اے رسول ! ) تم فرما دو ! یہ تمہاری اپنی طرف ( یعنی تمہاری اپنی وجہ ) سے ہے ‘ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ‘‘ یعنی تم لوگوں نے جو فدیہ وصول کیا تھا ‘ یہ اُس کی وجہ سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول آخری حدیث کے طور پر نقل کی ہے ‘ جو ان کی بڑی ’’ مسند ‘‘ میں ’’ صحیح ‘‘ میں ہے ۔

10091

Majma al-Zawaid #10091

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَوْمَ أُحُدٍ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا أَتَى فُلَانٌ، أَتَاهُ رَجُلٌ لَقَدْ فَرَّ النَّاسُ، وَمَا فَرَّ، وَمَا تَرَكَ لِلْمُشْرِكِينَ شَاذَةً وَلَا فَاذَةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ قَالَ: "" وَمَنْ هُوَ؟ "" فَنُسِبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسَبُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، ثُمَّ وُصِفَ لَهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ بِعَيْنِهِ، فَقَالَ: ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ عَنْهُ، فَقَالَ: "" هَذَا ""، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: "" إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ""، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالُوا: أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِذَا كَانَ فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا قَوْمِ، انْظُرُونِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ إِلَّا مِثْلَ الَّذِي أَصْبَحَ عَلَيْهِ، وَلَأَكُونَنَّ صَاحِبَهُ مِنْ بَيْنِكُمْ، ثُمَّ رَاحَ عَلَى حِدَةٍ فِي الْعَدْوِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَشُدُّ مَعَهُ إِذَا شَدَّ وَيَرْجِعُ مَعَهُ إِذَا رَجَعَ، فَيَنْظُرُ مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ أَمْرُهُ حَتَّى أَصَابَهُ جُرْحٌ أَذْلَقَهُ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ قَائِمَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ وَضَعَ ذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ، وَخَرَجَ الرَّجُلُ يَعْدُو يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" وَذَاكَ مَاذَا؟! ""، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ الَّذِي ذُكِرَ لَكَ فَقُلْتَ: "" إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "" فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِذَا كَانَ فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؟ فَقُلْتُ: يَا قَوْمِ، انْظُرُونِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ مِثْلَ الَّذِي أَصْبَحَ عَلَيْهِ، وَلَأَكُونَنَّ صَاحِبَهُ مِنْ بَيْنِكُمْ، فَجَعَلْتُ أَشُدُّ مَعَهُ أَوْ أَشُدُّ وَأَرْجِعُ مَعَهُ إِذَا رَجَعَ ; أَنْظُرُ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ، حَتَّى أَصَابَهُ جُرْحٌ أَذْلَقَهُ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ قَائِمَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ، وَوَضَعَ ذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ ظَهْرِهِ، فَهُوَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَضْطَرِبُ بَيْنَ أَضْغَاثِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ - وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ - حَتَّى يَبْدُوَ لِلنَّاسِ - وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud they told the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, they had never seen one fight like a certain man who never fled while others fled and pursued every stray of the enemy with his sword. After his lineage and description failed to identify him, the man himself appeared, the Prophet asked if it was he, they confirmed, and he said the man was of the Fire. This weighed heavily on the Muslims, so one man vowed to stay with him and watch his end, charging and retreating with him until a wound disabled him. The fighter hastened death by planting his sword hilt in the ground, placing its point between his breasts, and throwing himself upon it until it emerged from his back. The watcher ran back testifying to Allah's oneness and the Prophet's messengership and recounting the suicide, whereupon the Prophet said a man may do the deeds of Paradise as it appears to people yet be of the Fire, and a man may do the deeds of the Fire as it appears yet be of Paradise. > **"O Messenger of Allah, on Uhud we never saw one fight like so-and-so." > **"Who is he?" > **"Is this he?" > **"He is of the people of the Fire." > **"I bear witness that there is no god but Allah and that you are the Messenger of Allah." > **"What happened?" > **"A man may do the deeds of the people of Paradise, as it appears to people, yet he is of the people of the Fire; and a man may do the deeds of the people of the Fire, as it appears to people, yet he is of the people of Paradise."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے فلاں شخص کی طرح لڑنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا ‘ وہ شخص ان کے پاس آیا اور لوگ اس کی وجہ سے بھاگ کھڑے ہوئے ‘ اس نے مشرکین میں سے کسی بھی الگ ہونے والے شخص کو نہیں چھوڑا ‘ ہر شخص کے پیچھے گیا اور اس پر تلوار کے ذریعے حملہ کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کون شخص ہے ؟ نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کا نسب بیان کیا گیا تو آپ اسے پہچان نہیں پائے ‘ پھر آپ کے سامنے اس کا حلیہ بیان کیا گیا ‘ تو آپ اسے پہچان نہیں پائے ‘ اسی دوران وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ گیا ‘ تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ وہ شخص ہے ‘ جس کے بارے میں ہم آپ کو بتا رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اہل جہنم میں سے ہے ‘ یہ بات مسلمانوں کو گراں گزری انہوں نے کہا : ہم میں سے پھر اہل جنت کون ہو گا کہ اگر فلاں شخص جہنمی ہے ؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : اے لوگو ! تم مجھے موقع دو ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ یہ شخص اس حالت میں نہیں مرے گا ‘ جس پر یہ ہے ‘ اور تم لوگوں میں سے ‘ اب اُس کے ساتھ میں رہوں گا ‘ پھر وہ شخص دشمن کی طرف چل پڑا اور دوسرا شخص اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ‘ جب وہ شخص چلتا تھا ، تو یہ بھی چلتا تھا ‘ اور جب وہ شخص پلٹتا تھا ‘ تو یہ بھی پلٹتا تھا ‘ دوسرا شخص اس بات کا جائزہ لینا چاہتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ پہلے شخص کو زخم لاحق ہوئے ان زخموں نے اسے کمزور کر دیا اس نے مرنے میں جلدی کی ‘ اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور پھر اس کی نوک پر اپنا سینہ رکھ کر اس پر اپنا وزن ڈالا اور وہ تلوار اس کی پشت کے پار ہو گئی ‘ تو دوسرا شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر ٹھہر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص جس کا ذکر آپ کے سامنے کیا گیا ، تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے ‘ تو یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری تھی ‘ تو انہوں نے کہا تھا کہ ہم میں سے کون جنتی ہو گا کہ اگر فلاں شخص جہنمی ہے ‘ تو میں نے کہا : اے لوگو ! تم مجھے موقع دو ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اس حالت میں نہیں مرے گا ‘ جس پر پہلے تھا ‘ میں تم میں سے اس کے ساتھ رہوں گا ‘ تو میں اس کے ساتھ چلتا رہا ‘ جب وہ چلتا تھا ‘ اور میں اس کے ساتھ پلٹ جاتا تھا ‘ جب وہ پلٹ جاتا تھا ‘ میں اس بات کا جائزہ لینا چاہتا تھا ‘ کہ اس کے معاملے کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ اسے زخم لاحق ہوا ‘ جس نے اسے کمزور کر دیا ‘ اس نے مرنے میں جلدی کی ‘ اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور پھر اس کا سرا اپنے سینے پر رکھا اور پھر اپنی تلوار پر وزن ڈالا ‘ یہاں تک کہ وہ تلوار اس کی پشت کے پار ہو گئی ، تو یا رسول اللہ ! وہ شخص اب جہنم میں لوٹتا پھر رہا ہو گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ایک شخص ‘ اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے ‘ جب وہ بظاہر لوگوں کے سامنے ہوتا ہے ‘ حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے ‘ اور ( کوئی ) ایک شخص لوگوں کے سامنے بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ‘ حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10092

Majma al-Zawaid #10092

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الَعْاصِ قَالَ: كَتَبَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ: فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ بِذِكْرِ مَا جَمَعَتِ الرُّومُ مِنَ الْجُمُوعِ، وَإِنَّا لَمْ يَنْصُرْنَا اللَّهُ مَعَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَثْرَةِ عُدَدٍ، وَلَا بِكَثْرَةِ جُنُودٍ، فَقَدْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَعَنَا إِلَّا فُرَيْسَاتٌ، وَإِنْ نَحْنُ إِلَّا نَتَعَاقَبُ الْإِبِلَ، وَكُنَّا يَوْمَ أُحُدٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَعَنَا إِلَّا فَرَسٌ وَاحِدٌ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُهُ، وَلَقَدْ كَانَ يَظْهَرُنَا، وَيُعِينُنَا عَلَى مَنْ يُخَالِفُنَا. وَاعْلَمْ - يَا عَمْرُو - إِنَّ أَطْوَعَ النَّاسِ لِلَّهِ: أَشَدُّهُمْ بُغْضًا لِلْمَعَاصِي، فَأَطِعِ اللَّهَ وَأْمُرْ أَصْحَابَكَ بِطَاعَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الشَّاذَكُونِيُّ، وَالْوَاقِدِيُّ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As, may Allah be pleased with them both, reported that Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, wrote to Amr ibn al-As: peace upon you, your letter mentioning the Roman hosts has reached me; Allah never aided us with His Prophet through numbers or troops, for we raided with the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, with only a few mares and sharing camels in turn. At Uhud with the Prophet we had but one horse which the Prophet rode, yet He made us prevail and aided us against our opponents. Know, O Amr, that the most obedient to Allah hates sins most, so obey Allah and command your companions to obey Him. > **"Peace upon you; your letter mentioning what hosts Rome has gathered has reached me; Allah never aided us with His Prophet through numbers or troops." > **"Know, O Amr, that the most obedient of people to Allah is the one who most hates sins; so obey Allah and command your companions to obey Him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ’’ تم پر سلام ہو ! اما بعد ! تمہارا مکتوب میرے پاس آیا ‘ جس میں تم نے یہ ذکر کیا ہے کہ رومیوں نے اپنے لشکر جمع کر لئے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہمراہ ہم لوگوں کی مدد ‘ تعداد کی کثرت کے ذریعے ‘ یا لشکروں کی کثرت کے ذریعے نہیں کی تھی ، ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے ‘ تو ہمارے ساتھ چند ایک گھوڑے ہوتے تھے اور اونٹوں پر بھی ہم باری ‘ باری سوار ہوا کرتے تھے ‘ غزوہ اُحد کے دن ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ‘ ہمارے ساتھ صرف ایک گھوڑا تھا ، نبی اکرم ﷺ اس پر سوار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمارے مخالفین پر ہمیں غالب کیا اور ہماری مدد کی ۔ اے عمرو ! تم یہ بات جان لو ! اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ فرمانبردار وہ شخص ہے ‘ جو گناہوں سے سب سے زیادہ بغض رکھتا ہو ‘ تو تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ‘ اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی اطاعت کا حکم دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شاذ کونی ہے اور ایک راوی واقدی ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

10093

Majma al-Zawaid #10093

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَوْلِهِ: {ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا} [آل عمران: 154] قَالَ: أُلْقِيَ عَلَيْنَا النَّوْمُ يَوْمَ أُحُدٍ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf, may Allah be pleased with him, commenting on His words that after grief He sent down security in slumber, said that sleep was cast upon them on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ پھر اس نے ‘ غم ( یا پریشانی ) کے بعد ‘ اونگھ کی شکل میں ‘ تم پر امان ( یا اطمینان ) نازل کیا ‘‘۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ‘ اس نے ہم پر نیند طاری کر دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10094

Majma al-Zawaid #10094

وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّهُ حَضَرَ أُحُدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَنَّهُ أَصَابَتْهُ رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ فِي رِجْلِهِ، فَلَمْ يَزَلْ مِنْهَا ضَالِعًا حَتَّى مَاتَ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sabrah ibn Mabad, may Allah be pleased with him, was present at Uhud with the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, when a stone struck his leg, leaving him limping from it until he died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ غزوہ اُحد میں ‘ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تھے ‘ انہیں ٹانگ میں ایک تیر آ کے لگا تھا ‘ جو ان کے مرنے تک ان کی پسلیوں میں رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10095

Majma al-Zawaid #10095

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا نَنْقُلُ الْمَاءَ فِي جُلُودِ الْإِبِلِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الْحَوَارِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that on the day the Prophet's face was wounded, they kept carrying water for the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, in camel skins.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تھا ، اس دن ہم نبی اکرم ﷺ کے لئے اونٹ کے چمڑے میں پانی منتقل کر کے لاتے رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوالحواری ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10096

Majma al-Zawaid #10096

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَمَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَمِئَةَ بِحَجَرٍ يَوْمَ أُحُدٍ فَشَجَّهُ فِي وَجْهِهِ، وَكَسَرَ رُبَاعِيَّتَهُ، وَقَالَ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ قَمِئَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ: "" مَا لَكَ أَقْمَأَكَ اللَّهُ؟ "" فَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَيْسَ جَبَلٍ فَلَمْ يَزَلْ يَنْطَحُهُ حَتَّى قَطَّعَهُ قِطْعَةً قِطْعَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that Abdullah ibn Qamiah threw a stone at the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, on the day of Uhud, wounding his face and breaking his front tooth, boasting take it for I am Ibn Qamiah. The Prophet, wiping blood from his face, asked what was with him and prayed that Allah humble him, after which Allah set upon him a mountain goat that kept goring him until it tore him piece by piece. > **"Take it, for I am Ibn Qamiah." > **"What is with you? May Allah humble you."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ‘ عبداللہ بن قمئہ نے نبی اکرم ﷺ کو پتھر مارا ‘ جس سے آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ‘ اس نے کہا : اسے سنبھالو ! میں ابن قمئہ ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے اس سے فرمایا : تمہارا کیا بنے گا ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ٹکڑے ‘ ٹکڑے کر دے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ نے اُس پر پہاڑی بکرے کو مسلط کیا ‘ جو مسلسل اُسے سینگ مارتا رہا ‘ یہاں تک کہ اس ( بکرے ) نے اس کے ٹکڑے ‘ ٹکڑے کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10097

Majma al-Zawaid #10097

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعَدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad al-Saidi, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said in prayer for his people that they did not know. > **"O Allah, forgive my people, for they do not know."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت کر دے ‘ کیونکہ وہ علم نہیں رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10098

Majma al-Zawaid #10098

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ هَشَّمُوا الْبَيْضَةَ عَلَى رَأْسِ نَبِيِّهِمْ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that Allah's wrath is severe upon a people who crushed the helmet upon their Prophet's head while he called them to Allah. > **"Allah's wrath is severe upon a people who crushed the helmet upon the head of their Prophet while he called them to Allah."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کا غضب اُس قوم پر شدید ہو گا ‘ جنہوں نے اپنے نبی کے سر میں خود کو پیوست کروا دیا ‘ جبکہ وہ نبی اُن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

10099

Majma al-Zawaid #10099

«عَنِ الزُّبَيْرِ - يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ - أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تَسْعَى حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَكَرِهَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَرَاهُمْ، فَقَالَ: "" الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ ""، قَالَ الزُّبَيْرُ: فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ قَالَ: فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا، قَالَ: فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَلْدَةً، قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي لَا أَرْضَ لَكَ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَزَمَ عَلَيْكِ، قَالَ: فَوَقَفَتْ وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا، فَقَالَتْ: هَذَانِ ثَوْبَانِ جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا، قَالَ: فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ، فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ، فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ قَالَ: فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ يُكَفَّنَ حَمْزَةُ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ، فَقُلْنَا: لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ، وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ، فَقَدَّرْنَاهُمَا فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنَ الْآخَرِ، فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا، فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr, meaning Ibn al-Awwam, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud a woman came hastening until she nearly overlooked the slain. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, disliked her seeing them and said to hold back the woman. Al-Zubayr recognized her as his mother Safiyyah, may Allah be pleased with her, rushed to her before she reached the slain, and she struck his chest, being a vigorous woman, telling him away. When he said the Messenger of Allah had adjured her, she stopped, produced two garments she had brought to shroud her brother Hamzah whose killing had reached her, and asked that he be shrouded in them. They brought the garments but beside Hamzah lay a slain Ansari treated as Hamzah had been treated, so they felt shame that Hamzah be shrouded in two while the Ansari had none. They allotted one to each, found one larger, drew lots between them, and shrouded each in the garment that fell to him. > **"Hold back the woman, hold back the woman." > **"Away from me, may you have no ground." > **"The Messenger of Allah has adjured you." > **"These are two garments I brought for my brother Hamzah, for his killing has reached me, so shroud him in them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ‘ ایک خاتون دوڑتی ہوئی آئی ‘ قریب تھا کہ وہ مقتولین کے پاس پہنچ جاتی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ خاتون مقتولین کو دیکھے ‘ آپ نے فرمایا : اس عورت کو پکڑو ! اس عورت کو پکڑو ! حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پہچان لیا کہ وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، میں دوڑتا ہوا ‘ ان کے پاس گیا اور مقتولین تک پہنچنے سے پہلے میں اُن تک گیا ‘ انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا ‘ وہ مضبوط جسم کی مالک خاتون تھیں ‘ انہوں نے فرمایا : تم مجھ سے دور ہو جاؤ ! میں تم سے راضی نہیں ہوؤں گی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول نے آپ کو تاکید کی ہے ( کہ آپ آگے نہ جائیں ) راوی کہتے ہیں : تو وہ ٹھہر گئیں ، پھر انہوں نے اپنے پاس موجود ‘ دو کپڑے نکالے اور کہا : یہ دو کپڑے میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لے کر آئی ہوں ، مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ شہید ہو گئے ہیں ، انہیں ان دونوں میں کفن دینا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم وہ دو کپڑے لے کر آئے ‘ تاکہ ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیں ، تو ان کے پہلو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شہید موجود تھا ‘ اُس کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا گیا تھا ، جس طرح کا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا ‘ تو ہمیں اس بات سے شرم اور حیاء آئی کہ ہم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیدیں اور انصاری کا کفن نہ ہو ‘ تو ہم نے یہ طے کیا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے ایک کپڑا ہو گا ‘ اور انصاری کے لئے ایک کپڑا ہو گا ، ہم نے ان دونوں کی پیمائش کی ‘ تو ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ‘ تو ہم نے دونوں کے لئے اس کی قرعہ اندازی کر لی اور جس کے حصے میں جو کپڑ آیا تھا ، اُس کو اسی کپڑے میں کفن دیا ۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10100

Majma al-Zawaid #10100

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَسْأَلُ مَا صَنَعَ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ، فَقَالَتْ: يَا عَلِيُّ، وَيَا زُبَيْرُ، مَا فَعَلَ حَمْزَةُ؟ فَأَوْهَمَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا ""، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ، ثُمَّ قَامَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ، وَحَوَاصِلِ الطَّيْرِ ""، ثُمَّ أَتَى بِالْقَتْلَى فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ، فَيُوضَعُ سَبْعَةٌ وَحَمْزَةُ فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ مَكَانَهُ، ثُمَّ دَعَا بِتِسْعَةٍ فَكَبَّرَ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَدْ رَوَى مُسْلِمٌ فِي مُقَدِّمَةِ كِتَابِهِ، وَابْنُ مَاجَهْ قِصَّةَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ فَقَطْ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that when Hamzah was killed on the day of Uhud, Safiyyah, may Allah be pleased with her, came asking what had happened and met Ali and al-Zubayr, asking them what had become of Hamzah. They made her think they did not know, the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, smiled and said he feared for her mind, placed his hand on her chest, and she uttered the return to Allah and wept. He then stood over Hamzah and said that were it not for the grief of women he would have left him until gathered from the bellies of beasts and crops of birds. The slain were then brought and he prayed over them, seven with Hamzah each time with seven takbirs, the others lifted while Hamzah remained, then nine likewise, until he finished with them. > **"O Ali, O Zubayr, what happened to Hamzah?" > **"I fear for her mind." > **"Were it not for the grief of women, I would have left him until he is gathered from the bellies of beasts and the crops of birds."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ‘ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ‘ تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آئیں ‘ انہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صورت حال کے بارے میں دریافت کیا ‘ اُن کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے علی ! اور اے زبیر ! حمزہ کا کیا حال ہے ؟ تو ان دونوں نے ان کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ ان دونوں کو پتہ نہیں ہے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیئے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس عورت کی عقل کے حوالے سے اندیشہ ہے ( کہ کہیں یہ غم کی شدت کی وجہ سے ذہنی توازن نہ کھو بیٹھے ) نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے سینے پر رکھا ‘ تو اس خاتون نے «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھا اور رونے لگیں ، پھر نبی اکرم ﷺ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اگر خواتین کی گریہ وزاری کا اندیشہ نہ ہوتا ‘ تو میں انہیں یوں ہی رہنے دیتا ‘ یہاں تک کہ درندوں کے پیٹوں سے ‘ اور پرندوں کے پیٹوں سے ‘ حشر کے دن انہیں اٹھا لیا جاتا ، پھر مقتولین کو لایا گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ ادا کرنا شروع کی ‘ سات افراد کی میتیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رکھی جاتی تھیں اور نبی اکرم ﷺ ان پر سات تکبیریں کہتے تھے ‘ پھر دوسرے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا ‘ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت وہیں رہتی تھی پھر نبی اکرم ﷺ نے نو افراد کو منگوایا اور ان پر سات تکبیریں کہیں ، یہاں تک کہ اسی طرح آپ ﷺ ان سب کی نماز جنازہ پڑھ کے فارغ ہوئے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام مسلم نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں ‘ اور امام ابن ماجہ نے صرف ان حضرات کی نماز جنازہ والا حصہ نقل کیا ہے ‘ اور امام بزار اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10101

Majma al-Zawaid #10101

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتْلُ حَمْزَةَ بَكَى فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ شَهِقَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that when the killing of Hamzah reached the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, he wept, and when he looked upon him he sobbed deeply.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی ‘ تو آپ رو پڑے ‘ جب آپ نے اُن ( کی میت ) کو دیکھا ‘ تو آپ نے گہری سانس لی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد عقیل ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود ’’ حسن الحدیث ‘‘ ہے ۔

10102

Majma al-Zawaid #10102

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا جَرَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَمْزَةَ بَكَى، فَلَمَّا رَأَى مِثَالَهُ شَهِقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that when the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, uncovered Hamzah, may Allah be pleased with him, he wept, and when he saw his mutilation he sobbed deeply.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے کپڑا ہٹایا ‘ تو آپ رو پڑے ‘ جب آپ نے ان کا مثلہ دیکھا تو آپ نے گہری سانس لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

10103

Majma al-Zawaid #10103

«وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟ "" فَقَالَ رَجُلٌ: أَعَزَّكَ اللَّهُ، أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ، فَانْطَلَقَ فَوَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ وَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى، وَقَالَ: "" أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مَجْرُوحٌ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْمِي لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ، قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، وَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, asked who had seen the place of Hamzah's killing. A man said Allah grant him honor, he had seen it, led him to Hamzah whose belly had been split and who had been mutilated, and reported the mutilation. The Prophet disliked looking at him, stood among the slain, and said he was a witness over them, to wrap them in their blood, for no one wounded in Allah's path comes on Resurrection with his wound bleeding in the color of blood and the scent of musk, to advance the most Quranic, and to place them in the side grave. > **"Who saw the place of Hamzah's killing?" > **"May Allah honor you, I saw his killing place." > **"O Messenger of Allah, he has been mutilated." > **"I am a witness over these; wrap them in their blood, for no one wounded in the path of Allah comes on the Day of Resurrection but his wound bleeds with the color of blood and the scent of musk; advance the most Quranic among them and place him in the side grave."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس نے حمزہ کی شہادت کی جگہ دیکھی ہے ؟ ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو عزت عطا کرے ! میں نے ان کی شہادت کی جگہ دیکھی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ‘ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ( میت ) کے پاس آ کر ٹھہر گئے ‘ جب آپ نے انہیں ملاحظہ فرمایا ‘ کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ‘ اور ان کے جسم کی بے حرمتی کی گئی تھی ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی بے حرمتی کی گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا ‘ آپ مقتولین کے درمیان کھڑے ہوئے ‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں کا گواہ ہوں ‘ تم انہیں ان کے خون میں ( یعنی خون آلود کپڑوں میں ) لپیٹ دو ! کیونکہ جس بھی زخمی کو ‘ اللہ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے ‘ وہ شخص جب قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا ‘ جس کا رنگ خون کے رنگ جیسا ہو گا ‘ اور اس کی خوشبو ‘ مشک کی خوشبو جیسی ہو گی اور جس شخص کو زیادہ قرآن آتا ہو اسے ( قبلہ کی سمت میں ) آگے رکھنا اور ان کے لئے لحد تیار کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10104

Majma al-Zawaid #10104

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حِينَ اسْتُشْهِدَ فَنَظَرَ إِلَى مَنْظَرٍ لَمْ يَنْظُرْ إِلَى مَنْظَرٍ أَوْجَعَ لِلْقَلْبِ مِنْهُ، أَوْ أَوْجَعَ لِقَلْبِهِ مِنْهُ، وَنَظَرَ إِلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: "" رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ لَوَصُولًا لِلرَّحِمِ، فَعُولًا لِلْخَيْرَاتِ، وَاللَّهِ لَوْلَا حُزْنٌ مِنْ بَعْدِكَ عَلَيْكَ، لَسَرَّنِي أَنْ أَتْرُكَكَ حَتَّى يَحْشُرَكَ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - أَمَا وَاللَّهِ، عَلَى ذَلِكَ لَأُمَثِّلَنَّ بِسَبْعِينَ كَمِثْلَتِكَ ""، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذِهِ السُّورَةِ، وَقَرَأَ: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ} [النحل: 126] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَكَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمْسَكَ عَنْ ذَلِكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزني (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, stood over Hamzah ibn Abd al-Muttalib when he was martyred and beheld a sight more heart-rending than any he had seen, with mutilation upon him. He said mercy be upon him, for he had been most joining of kin and most active in good, and swore that were it not for after-grief over him he would have wished to leave him until Allah gathered him from the bellies of beasts, but would instead mutilate seventy like his mutilation. Then Jibril, peace be upon him, descended upon Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, with the chapter reciting that if you punish, punish with the like of what you were afflicted with, to the end of the verse, whereupon the Prophet expiated his oath and refrained. > **"May Allah's mercy be upon you, for as far as I knew you were most joining of kin and most active in good deeds." > **"By Allah, were it not for after-grief over you, it would please me to leave you until Allah gathers you from the bellies of beasts." > **"By Allah, for that I shall surely mutilate seventy like your mutilation."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ اُن کی لاش کے پاس آ کر ٹھہرے ‘ آپ نے جب یہ منظر ملاحظہ کیا ‘ تو آپ نے کوئی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا جو آپ کے دل کے لئے اس سے زیادہ تکلیف دہ ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا کہ ان کی بے حرمتی کی گئی ہے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو ! میرے علم کے مطابق آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ‘ بھلائی کے کام کرنے والے تھے ‘ اللہ کی قسم ! اگر مجھے آپ کے بعد لوگوں کے آپ کے حوالے سے غم کا اندیشہ نہ ہوتا ‘ تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں آپ کو یوں ہی چھوڑ دیتا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے ‘ آپ کو حشر کے دن اُٹھاتا ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! اس کے بدلے میں ‘ میں ستر افراد کا مثلہ کروں گا ‘ جو آپ کے مثلہ کی مانند ہو گا ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ پر یہ سورت لے کر نازل ہوئے ‘ انہوں نے یہ آیت پڑھی : ’’ اور اگر تم سزا دیتے ہو تو اتنی ہی دو ‘ جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ( پھر اپنی قسم کا ) کفارہ دیا اور اس سے رک گئے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10105

Majma al-Zawaid #10105

«وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعَدِيِّ قَالَ: أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ النَّمِرَةَ عَلَى وَجْهِهِ فَتَنْكَشِفُ قَدَمَاهُ، وَيَجُرُّونَهَا عَلَى قَدَمَيْهِ فَيَنْكَشِفُ وَجْهُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اجْعَلُوهَا عَلَى وَجْهِهِ، وَاجْعَلُوا عَلَى قَدَمَيْهِ مِنْ هَذَا الشَّجَرِ ""، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّهُ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُونَ إِلَى الْأَرْيَافِ فَيُصِيبُونَ بِهَا مَطْعَمًا وَمَسْكَنًا وَمَرْكَبًا - أَوْ قَالَ: مَرَاكِبَ - فَيَكْتُبُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا، فَإِنَّكُمْ بِأَرْضِ حِجَازٍ جَدْوَبَةٍ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Usayd al-Sa'idi, may Allah be pleased with him, said: I was with the Messenger of Allah ﷺ at the grave of Hamza ibn 'Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with him. They kept drawing the striped cloak over his face and his feet would become exposed, and drawing it over his feet and his face would become exposed. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Put it over his face, and put some of this foliage over his feet."** He said: Then the Messenger of Allah ﷺ raised his head, and behold his Companions were weeping. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There will come upon people a time when they will go out to the countryside and find there food, dwelling, and mounts — or he said: mounts — and they will write to their families: Come to us, for you are in a barren land of Hijaz. Yet Madina is better for them, if only they knew. No one endures its hardship and severity except that I will be his intercessor — or his witness — on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس موجود تھا لوگ چادر ان کے چہرے پر ڈالتے تھے ‘ تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ‘ لوگ چادر کو کھینچ کر ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے ‘ تو چہرہ ظاہر ہو جاتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس چادر کو ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر اس درخت کے ( پتے ) ڈال دو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سر مبارک اٹھایا ‘ تو آپ کے اصحاب رو رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ جب وہ خوشحال علاقوں کی طرف چلے جائیں گے ‘ وہاں انہیں کھانے کے لئے رہائش کے لئے سواری کے لئے چیزیں ملیں گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں ‘ راوی کو شک ہے ) وہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھیں گے ‘ تم بھی ہماری طرف آ جاؤ ! کیونکہ حجاز کی سرزمین تو خشک سالی والی ہے ‘ حالانکہ مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے ‘ اگر انہیں علم ہو ‘ یہاں کی سختی اور شدت پر جو شخص صبر کرے گا ‘ میں قیامت کے دن اس کا شفاعت کرنے والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا گواہ ہوؤں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10106

Majma al-Zawaid #10106

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَدْفِنُهُ، فَلُفَّ فِي نَمِرَةٍ فَبَدَتْ قَدَمَاهُ، حِينَ خَمَّرُوا رَأْسَهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَرْمَلِ فَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: "" لَوْلَا أَنْ يَحْزَنَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، لَتَرَكْنَا حَمْزَةَ بِالْعَرَاءِ لِعَافِيَةِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Ja'far, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ stood over Hamza on the day of Uhud while he was being buried. He was wrapped in a striped cloak, and when they covered his head his feet showed. So the Messenger of Allah ﷺ ordered harmal shrubs, and they were placed over his feet. And he said: > **"Were it not that women would grieve over that, we would have left Hamza in the open for the birds of prey and the beasts to feed upon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم ﷺ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ‘ آپ انہیں دفن کروانے لگے تھے ‘ انہیں چادر میں لپیٹا گیا ‘ تو ان کے پاؤں ظاہر ہو گئے ‘ اس وقت جب لوگوں نے ان کے سر کو ڈھانپا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حرمل ( یعنی گھاس یا پتوں ) کے بارے میں حکم دیا وہ ان کے قدموں پر ڈال دی گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر خواتین کے اس حوالے سے غمگین ہونے کا اندیشہ ہوتا ‘ تو ہم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے یوں ہی چھوڑ دینا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے اور وہ متروک ہے ۔

10107

Majma al-Zawaid #10107

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَمْزَةَ نَظَرَ إِلَى مَا بِهِ، فَقَالَ: "" لَوْلَا أَنْ يَحْزَنَ نِسَاؤُنَا مَا غَيَّبْتُهُ، وَلَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَكُونَ فِي بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَوَاصِلِ الطَّيْرِ، يَبْعَثُهُ اللَّهُ مِمَّا هُنَالِكَ ""، قَالَ: وَأَحْزَنَهُ مَا رَأَى بِهِ، فَقَالَ: "" لَئِنْ ظَفِرْتُ بِهِمْ لَأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ ""، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ذَلِكَ: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ} [النحل: 126] إِلَى قَوْلِهِ: {يَمْكُرُونَ} [النحل: 127] ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَهُيِّئَ إِلَى الْقِبْلَةِ، ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا، ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ الشُّهَدَاءَ، كُلَّمَا أُتِيَ بِشَهِيدٍ وُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَعَلَى الشُّهَدَاءِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً، ثُمَّ قَامَ عَلَى أَصْحَابِهِ حَتَّى وَارَوْهُمْ، وَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَفَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَجَاوَزَ وَتَرَكَ الْمِثْلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: When the Messenger of Allah ﷺ stood over Hamza and saw what had been done to him, he said: > **"Were it not that our women would grieve, I would not have buried him, and I would have left him until he ended up in the bellies of beasts and the crops of birds, from whence Allah would raise him."** He said: What he saw grieved him, so he said: > **"If I prevail over them, I shall surely mutilate thirty men among them."** Then Allah, Mighty and Majestic, revealed concerning that: If you punish, then punish with the like of what you were afflicted with; but if you are patient, it is better for the patient — up to His saying: what they plot. Then he ordered that Hamza be prepared facing the qibla. He pronounced nine takbirs over him. Then the martyrs were gathered to him; whenever a martyr was brought he was placed beside him, and he prayed over him and over the martyrs seventy-two prayers. Then he stood over his Companions until they buried them. And when the Qur'an came down, the Messenger of Allah ﷺ pardoned, forbore, and abandoned mutilation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور آپ نے ان کی صورت حال ملاحظہ فرمائی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر ہماری خواتین کے غمگین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ‘ تو میں نے انہیں دفن نہیں کرنا تھا ‘ میں نے انہیں یوں ہی چھوڑ دینا تھا ‘ یہاں تک کہ انہوں نے درندوں کے پیٹوں میں اور پرندوں کے پیٹوں میں چلے جانا تھا ‘ اور وہاں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کرنا تھا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جو صورت حال ملاحظہ فرمائی تھی ‘ اس نے آپ کو نمگین کر دیا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے ان لوگوں کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ‘ تو میں اُن کے تیس افراد کا مثلہ کروں گا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی ہے : ’’ اور اگر تم سزا دیتے ہو تو اتنی ہی دو ‘ جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ‘ اور اگر تم صبر کرو تو وہ ( یعنی صبر کرنا ) صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے ‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ یمکرون ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا ‘ انہیں قبلہ کی سمت میں رکھا گیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان پر نو مرتبہ تکبیر کہی پھر دیگر شہداء کو لا کر اُن کے ساتھ رکھا جاتا تھا ، جب بھی کسی شہید کو لایا جاتا تھا ‘ تو اسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا جاتا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی دیگر شہداء سمیت بہتر مرتبہ نماز جنازہ ادا کی ‘ پھر نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور آپ نے ان سب حضرات کو دفن کروایا ‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ( جب قرآن کا حکم نازل ہو گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے درگزر سے کام لیا اور مثلہ کرنے کے فیصلے کو ترک کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن ایوب بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10108

Majma al-Zawaid #10108

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقُتِلَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِثَوْبَيْنِ لِيُكَفَّنَ فِيهِمَا حَمْزَةُ، فَلَمْ يَكُنْ لِلْأَنْصَارِيِّ كَفَنٌ فَأَسْهَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ، ثُمَّ كُفِّنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ثَوْبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: Hamza was killed on the day of Uhud, and with him a man of the Ansar was killed. Safiyya bint 'Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with her, came with two garments so that Hamza might be shrouded in them, but there was no shroud for the Ansari. So the Prophet ﷺ cast lots between the two garments, then each of the two was shrouded in one garment.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ‘ ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی شہید ہو گیا ۔ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ دو کپڑے لے کر آئیں ‘ تاکہ ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیا جائے ، لیکن انصاری کے لئے کوئی کفن نہیں تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں کپڑے دو حصوں میں تقسیم کیے اور ان دونوں حضرات میں سے ہر ایک کو ایک ‘ ایک کپڑے میں کفن دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10109

Majma al-Zawaid #10109

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ، فَقَالَ: "" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بِوَاكِيَ لَهُ ""، فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ حَمْزَةَ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ: "" يَا وَيْحَهُنَّ، مَا زِلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَلْيَبْكِينَ، وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar and Anas ibn Malik, may Allah be pleased with them, said: When the Messenger of Allah ﷺ returned from Uhud, he heard the women of the Ansar weeping. So he said: > **"But Hamza has no mourners."** That reached the women of the Ansar, so they wept for Hamza. The Messenger of Allah ﷺ slept, then awoke while they were still weeping, and he said: > **"Woe to them, they have continued weeping since today. Let them weep, but let them not weep over any dead person after today."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ احد سے واپس تشریف لائے ‘ تو آپ نے انصار کی خواتین کو روتے ہوئے سنا ‘ تو ارشاد فرمایا : لیکن حمزہ کے لئے رونے والی خواتین کہاں ہیں ؟ جب انصار کی خواتین کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے بھی روئیں ، نبی اکرم ﷺ سو گئے تھے ‘ جب آپ بیدار ہوئے ‘ تو خواتین اس وقت بھی رو رہیں تھیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کا ستیاناس ہو ! یہ مسلسل روئے جا رہی ہیں یہ روتی رہیں ، لیکن آج کے بعد یہ کسی کے مرنے پر نہ روئیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10110

Majma al-Zawaid #10110

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أُحُدٍ بَكَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى شُهَدَائِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بِوَاكِيَ لَهُ ""، فَرَجَعَتِ الْأَنْصَارُ، فَقَالُوا لِنِسَائِهِمْ: لَا تَبْكِينَ أَحَدًا حَتَّى تَنْدِبْنَ حَمْزَةَ، قَالَ: فَذَاكَ فِيهِمْ إِلَى الْيَوْمِ لَا يَبْكِينَ مَيِّتًا إِلَّا بَدَأْنَ بِحَمْزَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: When the Messenger of Allah ﷺ returned from Uhud, the women of the Ansar wept over their martyrs. That reached the Prophet ﷺ, so he said: > **"But Hamza has no mourners."** So the Ansar returned and said to their women: Do not weep over anyone until you first lament Hamza. He said: That practice remained among them until today — they do not weep over a dead person except that they begin with Hamza.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ احد سے واپس تشریف لائے ‘ تو انصار کی خواتین اپنے شہداء پر رونے لگیں ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : لیکن حمزہ کے لئے رونے والیاں نہیں ہیں ، تو انصار واپس گئے انہوں نے اپنی خواتین سے کہا : تم نے کسی پر بھی اُس وقت تک نہیں رونا ‘ جب تک پہلے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پر نہیں روتیں ۔ راوی کہتے ہیں : اُس وقت سے لے کر آج تک یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ وہ خواتین جب بھی کسی میت پر روتی ہیں ، تو آغاز حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے کرتی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن مطیع شیبانی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10111

Majma al-Zawaid #10111

وَعَنْ وَحْشِيٍّ قَالَ: «لَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ قَتْلِ حَمْزَةَ تَفَلَ فِي وَجْهِي ثَلَاثَ تَفَلَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" لَا تُرِينِي وَجْهَكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَالنَّسَائِيُّ.

EnglishUnverified translation

Wahshi, may Allah be pleased with him, said: When I came to the Prophet ﷺ after the killing of Hamza, he spat in my face three times, then said: > **"Do not show me your face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینے کے بعد ‘ جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو آپ نے میرے چہرے پر تین مرتبہ تھوک دیا ‘ پھر فرمایا : ( آئندہ کبھی ) تم اپنی شکل مجھے نہ دکھانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور امام نسائی نے بھی ( اسے ثقہ قرار دیا ہے ) ۔

10112

Majma al-Zawaid #10112

وَعَنْ وَحْشِيٍّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" وَحْشِيٌّ؟ ""، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: "" قَتَلَتْ حَمْزَةَ؟ ""، قُلْتُ: نَعَمْ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَهُ بِيَدِي وَلَمْ يُهِنِّي بِيَدِهِ، قَالَتْ لَهُ قُرَيْشٌ: أَتُحِبُّهُ وَهُوَ قَاتِلُ حَمْزَةَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاسْتَغْفِرْ لِي، فَتَفَلَ فِي الْأَرْضِ ثَلَاثَةً، وَدَفَعَ فِي صَدْرِي ثَلَاثَةً، وَقَالَ: "" وَحْشِيٌّ، اخْرُجْ فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا قَاتَلْتَ لِتَصُدَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِ وَحْشِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Wahshi, may Allah be pleased with him, said: I came to the Prophet ﷺ and he said to me: > **"Are you Wahshi?"** I said: Yes. He said: > **"Did you kill Hamza?"** I said: Yes. And all praise belongs to Allah who honored him by my hand and did not disgrace me by his hand. Quraysh said to him: Do you love him, though he is the killer of Hamza? So I said: O Messenger of Allah, seek forgiveness for me. So he spat on the ground three times, pushed against my chest three times, and said: > **"O Wahshi, go forth and fight in the path of Allah as you once fought to turn people away from the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم وحشی ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے دریافت کیا : تم نے حمزہ کو قتل کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! ہر طرح کی حمد ‘ اُس اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میرے ذریعے انہیں ( شہادت کی موت کی شکل میں ) عزت عطا کی ‘ اور اُن کے ذریعے مجھے ( کفر کے عالم میں مارے جانے کی ) رسوائی کا شکار نہیں کیا ۔ قریش نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے پسند کریں گے ؟ جبکہ یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! تو نبی اکرم ﷺ نے زمین پر تین مرتبہ تھوکا اور پھر میرے سینے پر ہاتھ مار کر تین مرتبہ پرے کیا اور ارشاد فرمایا : اے وحشی جاؤ ! اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ! جس طرح تم نے پہلے اس لئے لڑائی کی تھی ‘ تاکہ اللہ کی راہ سے روک دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کا ایک اور طریق ہے ‘ جو اس سے زیادہ مکمل ہے ‘ وہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گا ۔

10113

Majma al-Zawaid #10113

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا انْصَرَفَ أَبُو سُفْيَانَ وَالْمُشْرِكُونَ عَنْ أُحُدٍ، وَبَلَغُوا الرَّوْحَاءَ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَا مُحَمَّدًا قَتَلْتُمْ، وَلَا الْكَوَاعِبَ أَرْدَفْتُمْ، شَرٌّ مَا صَنَعْتُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبُوا حَتَّى بَلَغُوا حَمْرَاءَ الْأَسَدِ أَوْ بِئْرَ بَنِي عَيْنَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ} [آل عمران: 172]، وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْعِدُكَ مَوْسِمُ بَدْرٍ حَيْثُ قَتَلْتُمْ أَصْحَابَنَا، فَأَمَّا الْجَبَانُ فَرَجَعَ، وَأَمَّا الشُّجَاعُ فَأَخَذَ أُهْبَةَ الْقِتَالِ وَالتِّجَارَةِ، فَأَتَوْهُ فَلَمْ يَجِدُوا بِهِ أَحَدًا، وَتَسَوَّفُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ: {فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ} [آل عمران: 174]» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْجَوَّازِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: When Abu Sufyan and the polytheists turned away from Uhud and reached al-Rawha, Abu Sufyan said: You neither killed Muhammad nor carried off the maidens — evil is what you have done. That reached the Messenger of Allah ﷺ, so he called the people and they responded, until they reached Hamra al-Asad, or the well of Banu 'Ayn. Then Allah, Mighty and Majestic, revealed: Those who responded to Allah and the Messenger after injury had touched them. That was because Abu Sufyan had said to the Prophet ﷺ: Your appointment is the fair of Badr, where you killed our companions. As for the coward, he turned back, while the brave took up preparations for fighting and trade. They came to it but found no one there, and they delayed. Then Allah, Glorious is His mention, revealed: So they returned with a blessing from Allah and bounty, untouched by harm.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ابوسفیان اور مشرکین غزوۂ احد سے واپس گئے ‘ اور ’’ روحاء ‘‘ کے مقام پر پہنچے ‘ تو ابوسفیان نے کہا : نہ تو تم لوگوں نے محمد ( ﷺ ) کو قتل کیا ہے اور نہ ہی تم نے خواتین کو پیچھے بٹھایا ہے ‘ تم نے جو کیا ہے ‘ وہ بہت برا ہے ‘ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ‘ تو آپ نے لوگوں کو بلایا سب لوگ اکٹھے ہوئے اور وہ لوگ ’’ حمراء الاسد ‘‘ کے مقام تک یا ’’ بئر بنو عنبر ‘‘ کے مقام تک پہنچ گئے ‘ تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کے بلاوے پر لبیک کہا ‘ اس کے بعد کہ انہیں زخم لاحق ہو چکے تھے ‘‘۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابوسفیان نے نبی اکرم ﷺ سے کہا تھا : آپ لوگوں کے ساتھ اب بدر میں سامنا ہو گا ‘ جہاں آپ نے ہمارے ساتھیوں کو قتل کر دیا تھا ، جو بزدل لوگ تھے ‘ وہ تو واپس چلے گئے ‘ اور جو بہادر لوگ تھے ‘ انہوں نے لڑائی اور تجارت کے لباس پہن لئے وہ وہاں آئے لیکن انہیں کوئی نہیں ملا تو انہوں نے یہ کہا کہ آگے چل کے ایسا ہو گا ‘ تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تو وہ ( یعنی مسلمان ) اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ہمراہ واپس گئے ‘ جبکہ انہیں کوئی گزند لاحق نہیں ہوا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور الجواز کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

10114

Majma al-Zawaid #10114

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ - وَقَالَ الْفَزَارِيُّ مَرَّةً: عَنِ ابْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ غَيْرُ الْفَزَارِيِّ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ - قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَانْكَفَأَ الْمُشْرِكُونَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اسْتَوُوا حَتَّى أُثْنِيَ عَلَى رَبِّي ""، فَصَارُوا خَلْفَهُ صُفُوفًا، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَا أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبْعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعِيلَةِ، وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَ مِنَّا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ، وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَهَ الْخَلْقِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَاقْتَصَرَ عَلَى عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَقَالَ: "" «اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ubaydullah ibn 'Abdullah al-Zuraqi, from his father — al-Fazari once said: from Ibn Rifa'a al-Zuraqi from his father, while others besides al-Fazari said: from 'Ubayd ibn Rifa'a al-Zuraqi — said: On the day of Uhud, when the polytheists turned back, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Stand straight until I praise my Lord."** So they formed rows behind him, and he said: > **"O Allah, all praise belongs to You. O Allah, none constricts what You expand, and none expands what You constrict. None guides whom You lead astray, and none leads astray whom You guide. None gives what You withhold, and none withholds what You give. None brings near what You distance, and none distances what You bring near. O Allah, spread over us from Your blessings, Your mercy, Your bounty, and Your provision. O Allah, I ask You for lasting bliss that neither changes nor passes away. O Allah, I ask You for bliss on the day of need and security on the day of fear. O Allah, I seek refuge in You from the evil of what You have given us and the evil of what You have withheld from us. O Allah, make faith beloved to us, adorn it in our hearts, make disbelief, wickedness, and disobedience hateful to us, and make us among the rightly guided. O Allah, cause us to die as Muslims, keep us alive as Muslims, and join us with the righteous, neither disgraced nor tested. O Allah, destroy the disbelievers who deny Your messengers and turn people away from Your path, and send upon them Your punishment and Your torment. O Allah, destroy the disbelievers among those given the Book, O God of creation."** In one narration the wording is: O Allah, destroy the disbelieving People of the Book.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبدالله زرقی نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ایک مرتبہ فزاری نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ابن رفاعہ زرقی کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے منقول ہے ‘ جبکہ فزاری کے علاوہ دیگر حضرات نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ عبید بن رفاعہ زرقی کے حوالے سے منقول ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ’’ غزوہ احد کے موقع پر جب مشرکین پسپا ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ تم لوگ سیدھے ہو جاؤ ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی تعریف بیان کروں ‘‘ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! ساری کی ساری حمد ‘ تیرے ہی لئے مخصوص ہے ‘ اے اللہ ! جسے تو کشادگی عطا کر دے ‘ اسے تنگی کا شکار کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور جسے تو تنگی کا شکار کر دے ‘ اُسے کشادگی دینے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو گمراہ کر دے ‘ اُسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور جسے تو ہدایت دیدے ‘ اُسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو نہ دے اُسے دینے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور جسے تو دے ‘ اُسے روکنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو دور کر دے ‘ اُسے قریب کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جسے تو قریب کر دے ‘ اُسے دور کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اے اللہ ! اپنی برکتیں ‘ اپنی رحمتیں ‘ اپنا فضل اور اپنا رزق ہم پر پھیلا دے ‘ اے اللہ ! میں قائم رہنے والی ان نعمتوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جن میں رکاوٹ نہیں آئے گی ۔ اور جو زائل نہیں ہوں گی ‘ اے اللہ ! میں تنگی کے دن ‘ نعمتوں کا اور خوف کے دن ‘ امن کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ‘ اے اللہ ! تو نے جو ہمیں عطا کیا ہے ‘ اس کے شر سے ‘ اور جو تو نے ہمیں نہیں دیا ہے ‘ اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ اے اللہ ! ہمارے لئے ایمان کو محبوب کر دے ‘ اُسے ہمارے دلوں میں آراستہ کر دے ‘ اور کفر ، فسق اور گناہوں کو ‘ ہمارے نزدیک ناپسندیدہ کر دے ‘ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا دے ‘ اے اللہ ! تو ہمیں مسلمان ہونے کے عالم میں موت دینا ‘ اور مسلمان ہونے کے عالم میں زندہ رکھنا ‘ اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر دینا ‘ جو کسی رسوائی اور آزمائش کا شکار ہوئے بغیر ہو ‘ اے اللہ ! کافروں کو برباد کر دے ‘ جنہوں نے تیرے رسولوں کو جھٹلایا ‘ یا تیرے راستے سے روکا ‘ اپنی سختی اور اپنا عذاب اُن ( کافروں ) پر نازل کر دے اے اللہ ! ان کافروں کو برباد کر دے ‘ جنہیں کتاب دی گئی ‘ اے حقیقی معبود ! ‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے اسے عبید بن رفاعہ کے ان کے والد سے منقول روایت پر منحصر کیا ہے اور یہی صحیح ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! اہل کتاب کے ( یعنی ان سے تعلق رکھنے والے ) کافروں کو برباد کر دے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10115

Majma al-Zawaid #10115

عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْحَقِّ فَاخْسِفْ بِي، قَالَ: فَخُسِفَ بِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Burayda, may Allah be pleased with him, said: On the day of Uhud a man said: O Allah, if Muhammad is upon the truth, then swallow me into the earth. He said: So he was swallowed into it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ایک شخص نے یہ کہا : اے اللہ ! اگر محمد ( ﷺ ) حق پر ہے ‘ تو مجھے زمین میں دھنسا دے ! راوی کہتے ہیں : تو اُسے زمین میں دھنسا دیا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10116

Majma al-Zawaid #10116

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى فَاطِمَةَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهَا - يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: أَفَاطِمُ هَاكَ السَّيْفَ غَيْرَ ذَمِيمِ ... فَلَسْتُ بِرِعْدِيدٍ وَلَا بِلَئِيمِ لَعَمْرِي لَقَدْ أَبْلَيْتُ فِي نَصْرِ أَحْمَدَ ... وَمَرْضَاةِ رَبٍّ بِالْعِبَادِ عَلِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ فَقَدْ أَحْسَنَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَابْنُ الصِّمَّةِ ""، وَذَكَرَ آخَرَ فَنَسِيَهُ مُعَلَّى، فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَأَبِيكَ الْمُوَاسَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا جِبْرِيلُ، إِنَّهُ مِنِّي ""، فَقَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنَا مِنْكُمَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, said: 'Ali, may Allah be pleased with him, entered upon Fatima, may Allah be pleased with her, on the day of Uhud and said: O Fatima, take the sword, free of blame — for I am neither a coward nor base. By my life, I did my utmost in aiding Ahmad and seeking the pleasure of a Lord who knows His servants. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If you fought well, then Sahl ibn Hunayf and Ibn al-Simma fought well."** And he mentioned another man whom Mu'alla forgot. Then Jibril, peace be upon him, said: O Muhammad, this, by your father, is true solidarity. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Jibril, he is from me."** So Jibril, peace be upon him, said: And I am from you both.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ‘ یہ غزوہ اُحد کے بعد کی بات ہے ‘ انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ اے فاطمہ ! یہ تلوار لو ‘ جو مذموم نہیں ، کیونکہ میں نہ تو بزدل ہوں ‘ اور نہ ہی کمتر ہوں ، میں نے حضرت احمد ﷺ کی مدد کرنے ‘ اور پروردگار کی رضا مندی کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی ہے ‘ ( وہ پروردگار ) جو بندوں کے افعال کے بارے میں علم رکھتا ہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ‘ تو سہل بن حنیف اور ابن صمہ نے بھی اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : روایت میں ایک اور صاحب کا ذکر کیا ہے ‘ جسے معلیٰ نامی راوی بھول گئے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ کے والد کی قسم ! یہ بھائی چارہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! یہ ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں آپ دونوں سے ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

10117

Majma al-Zawaid #10117

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: أَمْسِكِي سَيَفِي هَذَا فَقَدْ أَحْسَنْتُ بِهِ الضَّرْبَ الْيَوْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ، فَقَدْ أَحْسَنَهُ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf, may Allah be pleased with him, said: 'Ali came to Fatima, may Allah be pleased with her, on the day of Uhud and said: Hold this sword of mine, for I struck well with it today. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If you fought well, then 'Asim ibn Thabit, Sahl ibn Hunayf, and al-Harith ibn al-Simma fought well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ‘ یہ غزوہ احد کے بعد کی بات ہے ‘ انہوں نے کہا : میری یہ تلوار پکڑ لو ! میں نے اس کے ذریعے آج اچھے طریقے سے ضربیں لگائی ہیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ‘ تو عاصم بن ثابت ، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ نے بھی اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ابوامامہ ہے ‘ ازدی کہتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔

10118

Majma al-Zawaid #10118

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى فَاطِمَةَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: خُذِي هَذَا السَّيْفَ غَيْرَ ذَمِيمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَئِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ لَقَدْ أَحْسَنَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَأَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: 'Ali ibn Abi Talib entered upon Fatima on the day of Uhud and said: Take this sword, free of blame. So the Prophet ﷺ said: > **"If you fought well, then Sahl ibn Hunayf and Abu Dujana Simak ibn Kharasha fought well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے بعد ‘ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے : یہ تلوار لے لو ! جو مذمت کے بغیر ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ‘ تو سہل بن حنیف نے ‘ اور ابودجانہ سماک بن خرشہ نے بھی اچھے طریقے سے لڑائی کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10119

Majma al-Zawaid #10119

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ: "" أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِي بِجِصِّ الْجَبَلِ» - يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, when the companions of Uhud were mentioned: > **"Indeed, by Allah, I wish I had been left with my companions at the foot of the mountain."** Meaning the lower slope of the mountain.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا : آپ نے غزوہ احد میں شہید ہونے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑ کے دامن میں شہید ہو جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

10120

Majma al-Zawaid #10120

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ حِينَ رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ، فَوَقَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "" أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ اللَّهِ، فَزُورُوهُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ إِلَّا رَدُّوا عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ passed by Mus'ab ibn 'Umayr when he returned from Uhud, and stopped with his Companions over him. He said: > **"I bear witness that you are alive with Allah. So visit them and greet them with peace. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, no one greets them with peace but that they return it to him until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ احد سے واپسی پر ‘ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو آپ اپنے اصحاب سمیت اُن کے پاس ٹھہر گئے ‘ اور فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زندہ ہو ( پھر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ) تم ان کی زیارت کرو ‘ ان پر سلام بھیجو ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے قیامت کے دن تک ‘ جو بھی شخص ان پر سلام بھیجے گا ‘ یہ اس کو جواب دیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن فروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

10121

Majma al-Zawaid #10121

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أُصِيبَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Jubayr said: Hamza was struck on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : غزوہ احد میں ‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10122

Majma al-Zawaid #10122

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ishaq, in naming those of the Muslims martyred on the day of Uhud, then among the Muhajirun, said: Hamza ibn 'Abd al-Muttalib.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق نے غزوہ احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناموں میں یہ بات نقل کی ہے : مہاجرین میں سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ( شہید ہونے والوں میں ) شامل تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10123

Majma al-Zawaid #10123

قُلْتُ: وَقَدْ سَمَّى ابْنُ شِهَابٍ جَمَاعَةً اسْتُشْهِدُوا يَوْمَ أُحُدٍ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، تَقَدَّمَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَأَذْكُرُ مَنْ بَقِيَ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ شِهَابٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ. 1 - فَمِنْهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: أَوْسُ بْنُ الْأَرْقَمِ. 2 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: أُنَيْسُ بْنُ قَتَادَةَ. 3 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ: إِيَاسُ بْنُ أَوْسٍ. 4 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: ثَعْلَبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَالِكٍ. 5 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ، وَهُوَ الَّذِي غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ. 6 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ: الْحَارِثُ بْنُ أَوْسِ بْنِ رَافِعٍ. 7 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: ذَكْوَانُ بْنُ عَبْدِ قَيْسٍ. 8 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَوَّادٍ: رِفَاعَةُ بْنُ عَمْرٍو. 9 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ: سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ. 10 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: سَعْدُ بْنُ سُوِيدٍ. 11 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَوَّادٍ: سَعْدُ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي كَعْبِ بْنِ الْقَيْنِ. 12 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ. قُلْتُ: وَقَدْ ذَكَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فِيمَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٌ جَمَاعَةً، مِنْهُمْ مَنْ تَقَدَّمَ فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَأَذْكُرُ مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ. 13 - مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: أَوْسُ بْنُ الْمُنْذِرِ. 14 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو: إِيَاسُ بْنُ أَوْسٍ. 15 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: ثَعْلَبَةُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ خَالِدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ حَارِثَةَ. 16 - وَقُتِلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَتَلَهُ وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ. 17 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: الْحَارِثُ بْنُ أَوْسِ بْنِ رَافِعٍ. 18 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: ذَكْوَانُ بْنُ عَبْدِ قَيْسٍ. 19 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: رِفَاعَةُ بْنُ أَوْسِ بْنِ زَعْوَرَا بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ. 20 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ عَوْفٍ: رَبِيعَةُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ. 21 - وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ: رَبِيعَةُ بْنُ أَكْثَمَ حَلِيفُ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ. 22 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ. 23 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ: سَلِيطُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ. 24 - وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَيَأْتِي حَدِيثُ سَعْدٍ فِي كَيْفِيَّةِ قَتْلِهِ فِي مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ. 25 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ. 26 - قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Haythami said: Ibn Shihab named a group martyred on the day of Uhud with a single chain; many of them were already mentioned among those who attended Badr, and I shall mention those who remain. His men up to Ibn Shihab are men of the Sahih. Among them: 1. Of the Ansar, then of Banu al-Harith ibn al-Khazraj: Aws ibn al-Arqam. 2. Of the Ansar, then of Banu Zurayq: Unays ibn Qatada. 3. Of the Ansar, then of Banu al-Nabit: Iyas ibn Aws. 4. Of the Ansar, then of Banu Sa'ida: Tha'laba ibn Sa'id ibn Malik. 5. Of the Ansar, then of Banu Zurayq: Hanzala ibn Abi 'Amir, he whom the angels washed. 6. Of the Ansar, then of Banu al-Nabit: al-Harith ibn Aws ibn Rafi'. 7. Of the Ansar, then of Banu Zurayq: Dhakwan ibn 'Abd Qays. 8. Of the Ansar, then of Banu Sawad: Rifa'a ibn 'Amr. 9. Of the Ansar, then of Banu al-Harith: Sa'd ibn al-Rabi'. 10. Of the Ansar, then of Banu al-Harith ibn al-Khazraj: Sa'd ibn Suwayd. 11. Of the Ansar, then of Banu Sawad: Sa'd ibn Qays ibn Abi Ka'b ibn al-Qayn. 12. Of the Ansar, then of Banu Salima: 'Abdullah ibn 'Amr ibn Haram. He said: 'Urwa ibn al-Zubayr mentioned a group among those martyred on the day of Uhud, some of whom were already mentioned among those who attended Badr, and I shall mention those who remain among them. 13. Of the Ansar, then of Banu al-Najjar: Aws ibn al-Mundhir. 14. Of the Ansar, then of Banu Mu'awiya ibn 'Amr: Iyas ibn Aws. 15. Of the Ansar, then of Banu Sa'ida: Tha'laba ibn Sa'd ibn Malik ibn Khalid ibn Tha'laba ibn Haritha. 16. Killed with the Messenger of Allah ﷺ among the Muslims on the day of Uhud, then of Banu Hashim: Hamza ibn 'Abd al-Muttalib — Wahshi ibn Harb killed him. 17. Of the Ansar, then of Banu 'Amr ibn 'Awf: al-Harith ibn Aws ibn Rafi'. 18. Of the Ansar, then of Banu Zurayq: Dhakwan ibn 'Abd Qays. 19. Of the Ansar: Rifa'a ibn Aws ibn Za'wra ibn 'Abd al-Ashhal. 20. Of the Ansar, then of Banu Mu'awiya ibn 'Awf: Rabi'a ibn al-Fadl ibn Habib ibn Yazid ibn Tamim. 21. Martyred on the day of Uhud among the Muslims of Quraysh: Rabi'a ibn Aktham, an ally of Banu Asad ibn 'Abd Shams, of Banu Asad. 22. Of the Ansar: Sa'd ibn al-Rabi'. 23. Of the Ansar, then of Banu al-Nabit: Sulayt ibn Thabit ibn Waqsh. 24. Martyred on the day of Uhud with the Messenger of Allah ﷺ, of Banu Umayya ibn 'Abd Shams: 'Abdullah ibn Jahsh, an ally of theirs from Banu Asad ibn Khuzayma — the hadith of Sa'd concerning how he was killed will come in the virtues of 'Abdullah ibn Jahsh, if Allah wills. 25. Of the Ansar, then of Banu Salima: 'Abdullah ibn 'Amr ibn Haram ibn Tha'laba. 26. Al-Tabarani said: Mus'ab ibn 'Umayr ibn Hashim ibn 'Abd Manaf ibn 'Abd al-Dar ibn Qusayy, of the first Muhajirun, was martyred on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن شہاب نے چند ایسے لوگوں کے نام ذکر کیے ہیں ، جنہوں نے غزوہ اُحد میں جام شہادت نوش کیا تھا ‘ انہوں نے ایک سند کے ساتھ انہیں نقل کیا ہے ‘ ان میں سے زیادہ تر کے نام اس میں گزر چکے ہیں ، جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے ‘ جو باقی رہ جانے والے ہیں ‘ ان کا میں ذکر کروں گا ‘ ابن شہاب تک ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ 1- ان میں سے ایک ‘ انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 2- انصار کی شاخ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے حضرت انیس بن قتادہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 3- انصار کی شاخ بنو نبیت سے تعلق رکھنے والے حضرت ایاس بن اوس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 4- انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن سعید بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 5 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت حنظلہ بن ابوعامر رضی اللہ عنہ ہیں ‘ یہ وہ ہیں ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ۔ 6 - انصار کی شاخ بنو نبیت سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن اوس بن رافع ہیں ۔ 7 - انصار کی شاخ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے حضرت ذکوان بن عبدقیس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 8 - انصار کی شاخ بنو سواد سے تعلق رکھنے والے حضرت رفاعہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 9 - انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 10 - انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن سوید رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 11- انصار کی شاخ بنو سواد سے تعلق رکھنے والے حضرت سہل بن قیس بن ابوکعب بن القین رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 12- انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عروہ بن زبیر نے ‘ غزوہ اُحد میں شہید ہونے والے کے ناموں کا ذکر کیا ہے ‘ جن میں سے کچھ افراد وہ ہیں ، جن کا ذکر اس سے پہلے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ‘ ان میں سے جو باقی ہیں اُن کا میں ذکر کرتا ہوں : 13 - انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن منذر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 14 - انصار کی شاخ بنو معاویہ بن عمرو سے تعلق رکھنے والے حضرت ایاس بن اوس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 15- انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 16 - غزوہ احد میں ‘ مسلمانوں کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قتال کرنے والے بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں وحشی بن حرب نے شہید کیا تھا ۔ 17 - انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن اوس بن رافع رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 18 - انصار کی شاخ بنوزریق سے تعلق رکھنے والے حضرت ذکوان بن عبدقیس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 19 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت رفاعہ بن اوس بن زعوراء بن عبداشہل ہیں ۔ 20 - انصار کی شاخ بنو معاویہ بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت ربیعہ بن فضل بن حبیب بن یزید بن تمیم ہیں ۔ 21 ۔ مسلمانوں میں سے قریش سے تعلق رکھنے والے حضرات میں سے غزوہ اُحد میں حضرت ربیعہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا تھا ‘ جو بنو اسد بن عبد شمس کے حلیف ہیں اور بنو اسد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 22 - انصار میں سے حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 23- انصار کی شاخ بنو نبیت سے تعلق رکھنے والے حضرت سلیط بن ثابت بن وقیش رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 24 - غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بنوامیہ بن عبد شمس سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ یہ ان کے حلیف ہیں اور بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتے ہیں ، حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں اُن کے قتل ہونے کی کیفیت کے بارے میں ‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔ 25 - انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں 26 - امام طبرانی کہتے ہیں : حضرت مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبدالدار بن قصی ہیں ، جن کا تعلق ’’ مہاجرین اولین ‘‘ سے ہے ‘ انہوں نے بھی غزوہ احد میں جام شہادت نوش کیا تھا ۔

10124

Majma al-Zawaid #10124

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ صَلَّى الْجُمُعَةَ فَأَصْبَحَ بِالشِّعْبِ مِنْ أُحُدٍ، فَالْتَقَوْا يَوْمَ السَّبْتِ فِي النِّصْفِ مِنْ شَوَّالٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: The Messenger of Allah ﷺ set out on Friday after praying Jumu'a, reached the pass of Uhud by morning, and they met on Saturday in the middle of Shawwal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن ‘ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوئے ‘ اور آپ اگلے دن صبح اُحد کی گھاٹی میں پہنچ گئے ‘ دونوں فریقوں کا سامنا پندرہ شوال کو ہفتے کے دن ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔