وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا نَصَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ فِي يَوْمِ أُحُدٍ قَالَ: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ: {وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: 152] يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ: الْقَتْلُ، {حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ} [آل عمران: 152] إِلَى قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [آل عمران: 152]، وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَالَ: "" احْمُوا ظُهُورَنَا، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قُتِلْنَا مَقْتَلَ فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا غَنِمْنَا فَلَا تُشْرِكُونَا ""، فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَاخُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ، وَقَدِ الْتَفَّتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُمْ هَكَذَا - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ - وَانْتَشَوْا، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا، دَخَلَتِ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاجِبَانِ أَوَّلَ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ - أَوْ تِسْعَةٌ - وَرِجَالُ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ: الْغَارُ إِنَّمَا كَانَ تَحْتَ الْمِهْرَاسِ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى، قَالَ: وَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ: "" اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَوْا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى: "" اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا "" حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ: اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ، يَعْنِي آلِهَتَهُ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُجِيبُهُ؟ قَالَ: "" بَلَى ""، قَالَ: فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ هُبَلُ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمْتُ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا، فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا سَوَاءً؛ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونِ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذًا وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مَثْلًا، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَنْ رَأْيِ سَرَّاتِنَا، قَالَ: ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَلِكَ فَلَمْ نَكْرَهْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said Allah had never aided in a place as He aided on the day of Uhud, citing as proof Allah's words that He fulfilled His promise when they slew them by His permission, where hasa means killing, until weakness and dispute befell the archers. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, had stationed them and ordered them to guard the rear whether the Muslims were killed or gained spoils, without aiding or sharing, but when spoils appeared they rushed into the enemy camp to plunder, ranks intermingled, and enemy cavalry entered through their abandoned gap striking in confusion so that many Muslims were killed. Early in the day seven or nine enemy standard-bearers had been killed, the Muslims had not reached the cave but only below al-Mihras, then Satan shouted that Muhammad had been killed and all believed it until the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, appeared walking briskly between the two Sads, bringing joy as if no calamity had struck. He advanced saying Allah's wrath is severe upon those who bloodied the Prophet's face and praying that they not prevail, then Abu Sufyan below the mountain twice shouted Hubal exalted and called for Ibn Abi Kabshah, Ibn Abi Quhafah, and Ibn al-Khattab. Umar asked permission to answer, was told yes, and replied that Allah is highest and most majestic. Abu Sufyan claimed the days alternate and war is give and take, Umar replied they are not equal since Muslim slain are in Paradise and theirs in the Fire, and Abu Sufyan admitted mutilation would be found though not by his chiefs' counsel, then Jahili zeal seized him and he said it had happened and he did not dislike it. > **"Guard our backs; if you see us killed do not aid us, and if you see us gain spoils do not share with us." > **"Allah's wrath is severe upon a people who bloodied the face of the Messenger of Allah." > **"O Allah, they have no right to prevail over us." > **"Hubal exalted." > **"Yes." > **"Allah is highest and most majestic." > **"A day for the day of Badr; days alternate and war is give and take." > **"They are not equal; our slain are in Paradise and your slain are in the Fire."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے کسی بھی صورت حال میں اس طرح کی صورت حال نازل نہیں کی جس طرح کی مدد غزوہ احد کے موقع پر کی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اس بات پر اعتراض کیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں اور جو شخص اس کا انکار کر رہا ہے ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی ‘ غزوہ اُحد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا جب تم نے اس کے اذن کے تحت ان لوگوں کو قتل کیا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہاں ’’ حس ‘‘ سے مراد قتل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے مراد تیر انداز لوگ ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو ایک مخصوص مقام پر کھڑا کیا تھا ‘ اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : تم لوگوں نے پیچھے سے ہماری حفاظت کرنی ہے ‘ اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے ‘ تو تم نے ہماری مدد نہیں کرنی اور اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم غنیمت حاصل کر رہے ہیں ، تو تم نے ہمارے ساتھ شریک نہیں ہونا ‘ پھر جب نبی اکرم ﷺ کو مال غنیمت حاصل ہوا اور لوگوں نے مشرکین کے لشکر کو مباح قرار دیا ‘ تو وہ تیر انداز سب آئے اور لشکر میں سے چیزیں اکٹھے کرنے لگے ‘ جب مختلف صفیں مل گئیں اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب یوں ہو گئے ‘ راوی نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات بیان کی اور وہ گھل مل گئے ‘ تو جب تیر اندازوں نے وہ جگہ خالی کر دی ‘ جہاں پر تیر انداز تھے ‘ تو اس مقام سے دشمن کے کچھ گھڑ سوار آئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب پر حملہ آور ہوئے ‘ اس دن بہت سے مسلمان شہید ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب دن کے ابتدائی حصے میں اس حال میں تھے کہ مشرکین کے جھنڈا برداروں میں سے سات یا شاید نو افراد قتل ہوئے تھے اور مسلمانوں کے کچھ افراد نبی اکرم ﷺ کے اردگرد موجود تھے ‘ یہ لوگ وہاں تک نہیں پہنچے تھے ‘ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں : غار ہے ‘ بلکہ یہ پانی کے چشمے کے پاس پہنچے تھے اسی دوران شیطان نے چیخ کر کہا : حضرت محمد ﷺ شہید ہو گئے ہیں ‘ تو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہوا کہ یہ بات درست ہو گی ، ہم اسی حالت میں رہے ‘ ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ نبی اکرم ﷺ شہید ہو چکے ہوں گے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ سعد نام کے دو افراد کے درمیان چلتے ہوئے سامنے آئے ‘ ہم نے چلنے کے دوران آپ کے مخصوص انداز سے آپ کو پہچان لیا ‘ راوی کہتے ہیں : ہمیں اس بات سے اتنی خوشی ہوئی کہ جیسے ہمیں کوئی نقصان ہوا ہی نہیں ہے نبی اکرم ﷺ چڑھ کر ہماری طرف آئے ‘ آپ یہ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر شدید ہو گا ‘ جس نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا ہے ‘ ایک مرتبہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے اللہ ! انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہم پر غالب آئیں ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ‘ آپ گھڑی بھر کے لئے ٹھہرے رہے ‘ پھر ابوسفیان نے پہاڑ کے نیچے والے حصے سے بلند آواز میں دو مرتبہ یہ کہا : ہبل سر بلند ہوا ، یعنی اس نے اپنے معبود کے بارے میں کہا ‘ پھر پوچھا : ابن ابوکبشہ کہاں ہے ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہے ؟ ابن خطاب کہاں ہے ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے جواب نہ دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ جب اس نے کہا : ہبل سر بلند ہوا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ‘ ابوسفیان نے کہا : اے خطاب کے صاحبزادے ! کیا اس کی ( یعنی ہبل کی ) آنکھ نے اجازت دی تو اب تم اسے برا نہ کہنا ، پھر اس نے دریافت کیا : ابن ابوکبشہ کہاں ہیں ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہیں ؟ ابن خطاب کہاں ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ‘ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں اور میں ‘ عمر بھی موجود ہوں ‘ تو ابوسفیان نے کہا : آج کا دن ‘ بدر کے دن کا بدلہ ہے ‘ اور دنوں میں الٹ پھیر ہوتا رہتا ہے اور جنگ ڈول کی طرح ہوتی ہے ( یعنی اس میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ) راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں برابر نہیں ہے ‘ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ‘ ابوسفیان نے کہا : تم لوگ یہ گمان کرتے ہو ‘ ایسی صورت میں ، تو ہم رسوا ہو جائیں گے اور خسارے کا شکار ہو جائیں گے ‘ پھر ابوسفیان نے کہا : تم لوگ اپنے مقتولین میں کچھ لوگوں کو پاؤ گے کہ ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ‘ یہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اسے زمانہ جاہلیت کی حمیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ‘ تو اس نے کہا : ایسا ہوا ہے اور ہم اسے ناپسند بھی نہیں کرتے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔