Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 7

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10045–10084

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10045

Majma al-Zawaid #10045

وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ: وَفِيهَا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، وَكَانَ عَلَى خُمُسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بِالْمَدِينَةِ؛ يَعْنِي سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Waqidi reported that in that year, meaning 33 AH, Abdullah ibn Kab ibn Asim al-Mazini of Banu Mazin ibn al-Najjar, may Allah be pleased with him, died. He had been in charge of the Prophet's fifth on the day of Badr, and Uthman, may Allah be pleased with him, led his funeral prayer in Madinah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقدی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : اس ( سن ہجری ) میں حضرت عبداللہ بن کعب بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا ، جن کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا ، غزوہ بدر کے دن وہ نبی اکرم ﷺ کے خمس کے نگران تھے ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی تینتیس ہجری میں اُن کی وفات ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور واقدی تک ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

10046

Majma al-Zawaid #10046

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: وَكَانَ مِنْ كُبَرَاءِ بَنِي عَدِيٍّ، وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri reported from the son of Amir ibn Rabiah, who was among the chiefs of Banu Adi, that his father had witnessed Badr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری نے ‘ عامر بن ربیعہ کے صاحبزادے کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ‘ جو بنو عدی کے اکابرین میں سے ہیں اور ان کے والد کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10047

Majma al-Zawaid #10047

وَعَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا مِنْ نُقَبَاءِ لَيْلَةِ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ؛ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Idris al-Khawlani reported that Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, was among the companions of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, who witnessed Badr and among the naqibs of the night of al-Aqabah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو ادریس خولانی بیان کرتے ہیں : حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ان اصحاب میں سے ایک ہیں ‘ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور وہ بیعت عقبہ کی رات کے نقباء میں سے بھی ایک ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10048

Majma al-Zawaid #10048

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا عَمْرٍو وَكَانَ بَدْرِيًّا، أُحُدِيًّا، عَقَبِيًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرَزْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn al-Hanafiyyah reported that he saw Abu Amr, who had been present at Badr, Uhud, and al-Aqabah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوعمرو رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ‘ انہیں غزوہ بدر میں غزوہ اُحد میں اور بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہیں اور وہ ضعیف ہیں ۔

10049

Majma al-Zawaid #10049

«وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ عَدِيٍّ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةُ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَنْقُلَهُ فَآنَسُ بِقُرْبِهِ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَدَلَتْهُ بِالْمُجَذَّرِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ فِي عَبَاءَةٍ، فَمَرَّ بِهِمَا فَعَجِبَ لَهُمَا النَّاسُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" سَوِّي بَيْنَهُمَا عَمَلَهُمَا "" وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ثَقِيلًا جَسِيمًا، وَكَانَ الْمُجَذَّرُ قَلِيلَ اللَّحْمِ، وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ: أَنَا الَّذِي يُقَالُ أَصْلِي مِنْ بَلِي ... أَطْعَنُ بِالصَّعْدَةِ حَتَّى تَنْثَنِي وَلَا يَرَى مُجَذَّرًا يَفْرِي فَرِي» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Unaysah bint Adi, may Allah be pleased with her, reported that she came to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and said her son Abdullah ibn Salamah, a Badri killed at Uhud, had died and she wished to move him so as to feel near him. The Prophet gave her permission, so she placed him with al-Mujadhdhar ibn Ziyad upon a water camel in a cloak. People wondered at them, the Prophet looked at them and said their deeds had become equal. Abdullah was heavy-bodied while al-Mujadhdhar was slight, and the latter used to recite his verse claiming descent from Bali and thrusting with the spear until it bent. > **"O Messenger of Allah, my son Abdullah ibn Salamah, a Badri, was killed at Uhud and I wish to move him so I may feel near him." > **"Make their deeds equal between them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ انیسہ بنت عدی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بیٹے عبداللہ بن سلمہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ‘ وہ غزوہ اُحد میں شہید ہو گیا ہے ‘ میری یہ خواہش ہے کہ میں اس کی میت کو منتقل کروں اور اس کے قرب سے انسیت حاصل کروں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو ایسا کرنے کی اجازت دے دی ‘ تو مجزر بن زیاد کے ساتھ مل کر اس خاتون نے ان صاحب کی میت کو ایک اونٹنی پر رکھا ‘ اسے ایک عباء میں رکھا تھا ۔ جب وہ ان دونوں کو لے کر گزرے ‘ تو لوگوں کو یہ اچھا لگا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ان دونوں کا عمل ‘ ان دونوں کے درمیان برابر ہو گیا ہے ۔ عبداللہ نامی صاحب بھاری بھر کم ‘ اونچے لیے جسم کے مالک تھے ‘ جب کہ مجزر نامی صاحب کمزور تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے :’’ میں وہ شخص ہوں جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے : میرا تعلق ’’ بلی ‘‘ سے ہے ‘ میں دشوار جگہ پر نیزہ مار کر اس کو جدا کر دیتا ہوں ‘ اور یہ بات نہیں دیکھی گئی کہ مجذر نے جھوٹا الزام عائد کیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10050

Majma al-Zawaid #10050

وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْهَا، وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قُلْتُ: وَهُوَ ثِقَةٌ، قَالَ: وَشَهِدَ بَدْرًا أَبُوهَا - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - وَعَمُّهَا زَيْدٌ وَأَخْوَالُهَا: عُثْمَانُ وَقَدَامَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَظْعُونٍ - وَابْنُ خَالِهَا السَّائِبُ بْنُ عُثْمَانَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani transmitted in the biography of Hafsah bint Umar, may Allah be pleased with them both, through Ali ibn Abd al-Aziz al-Baghawi from al-Zubayr ibn Bakkar, that her father Umar ibn al-Khattab, her uncle Zayd, her maternal uncles Uthman, Qudamah, and Abdullah ibn Mazun, and her maternal cousin al-Saib ibn Uthman, may Allah be pleased with them, all witnessed Badr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے ‘ سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے حالات میں ‘ علی بن عبدالعزیز بغوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ‘ جو ثقہ ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : زبیر بن بکار نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ ثقہ ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد ( یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے والد ) اُن کی مراد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ‘ اور ان کے چچا حضرت زید رضی اللہ عنہ اور ان کے ماموں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت قدامہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے خالہ زاد بھائی حضرت سائب بن عثمان رضی اللہ عنہ ( ان سب حضرات کو ) غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔

10051

Majma al-Zawaid #10051

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ، وَكَانَ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا ذَكَرَ حَدِيثًا ذَكَرْتُهُ فِي الْحُدُودِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Yahya reported from his father from his grandfather Abu Hasan, who had been present at Badr and al-Aqabah, a report which the compiler states he already cited in full in the Book of Prescribed Punishments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن یحیی نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا ابوالحسن کے بارے میں روایت نقل کی ہے ‘ جو بدری بھی ہیں اور انہیں بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ میں نے وہ روایت کتاب الحدود میں نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہاشمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

10052

Majma al-Zawaid #10052

وَعَنْ مَخْلَدٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّ ثَلَاثَ أَعْبُدٍ لِبَنِي غِفَارٍ شَهِدُوا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَدْرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Makhlad al-Ghifari reported that three slaves belonging to Banu Ghifar witnessed Badr with the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مخلد غفاری بیان کرتے ہیں : بنو غفار سے تعلق رکھنے والے تین غلاموں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10053

Majma al-Zawaid #10053

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مَوْلُودًا وُلِدَ فِي فِقْهِ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ أَهْلِ الدِّينِ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَيَجْتَنِبُ مَعَاصِيَ اللَّهِ كُلَّهَا إِلَى أَنْ يُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، أَوْ يُرَدَّ إِلَى أَنْ [لَا] يَعْلَمَ بَعْدَ عَلَمٍ شَيْئًا، لَمْ يَبْلُغْ أَحَدُكُمْ هَذِهِ اللَّيْلَةَ "". وَقَالَ: "" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا لَفُضَلَاءُ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِقْلَاصٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Khadij, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said on the day of Badr that even if a child were born with the understanding of a forty-year-old religious man, obeyed Allah and avoided all disobedience until extreme feeble old age when knowledge leaves after knowledge, he would still not reach the reward of that night. He also said the angels who witnessed Badr excel those among them who stayed back. > **"By Him in whose hand is my soul, even a newborn raised with forty years of religious understanding, working in obedience and avoiding all sin until returned to the feeblest age, would not reach this night of yours." > **"The angels who witnessed Badr excel those of them who stayed back."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ اگر کوئی بچہ ایسی حالت میں پیدا ہو کہ جس طرح دیندار افراد میں سے کسی فرد کی چالیس سال کی عمر میں سمجھ بوجھ ہوتی ہے ‘ اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ہر کام سے اجتناب کرتا رہے ‘ یہاں تک کہ وہ سٹھیا جانے والی عمر تک پہنچ جائے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہاں تک کہ وہ اس عمر تک پہنچ جائے کہ جب علم ہونے کے بعد کسی چیز کا علم نہیں رہتا ‘ تو بھی وہ فرد ( اتنی عبادت کے باوجود ) تم میں سے کسی ایک کے اس رات کے اجر و ثواب تک ) نہیں پہنچ پائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ‘ وہ ان فرشتوں پر فضیلت رکھتے ہیں ‘ جو اس میں شریک نہیں ہوئے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے اہل بدر کی فضیلت کے بارے میں ‘ ایک اور حدیث بھی منقول ہے ‘ جسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مقلاص ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10054

Majma al-Zawaid #10054

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ عَمِيَ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْطُطْ لِي فِي دَارِي مَسْجِدًا لِأُصَلِّيَ فِيهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَغَيَّبَ رَجُلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ ""، فَذَكَرَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا؟ ""، قَالُوا: نَعَمْ، وَلَكِنَّهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that a blind Ansari man sent word to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, asking him to mark a mosque in his house for prayer. The Prophet came while his people gathered, one man was absent and was mentioned critically, and the Prophet asked whether he had not witnessed Badr. When they said yes but with such-and-such faults, the Prophet said perhaps Allah had looked upon the people of Badr and forgiven them. > **"What happened to so-and-so?" > **"Did he not witness Badr?" > **"Perhaps Allah looked upon the people of Badr and said: Do whatever you wish, for I have forgiven you."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نابینا ہو گئے ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرے گھر میں میرے لئے مسجد کی نشان دہی کر دیں ‘ تاکہ میں وہاں نماز ادا کیا کروں ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ ان صاحب کی قوم کے افراد آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے ‘ ایک صاحب وہاں موجود نہیں تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : فلاں شخص کا کیا حال ہے ؟ تو حاضرین میں سے کسی نے اس کا ( منفی انداز میں ) ذکر کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن اس میں یہ ‘ یہ ( خامی پائی جاتی ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر یہ فرمایا ہو :’’ تم جو چاہو عمل کرو ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

10055

Majma al-Zawaid #10055

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ""، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ وَغَيْرِهِمْ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي مَنَاقِبِ حَاطِبٍ وَغَيْرِهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said he hoped that, if Allah wills, none who witnessed Badr would enter the Fire. > **"I indeed hope that, if Allah wills, none who witnessed Badr will enter the Fire."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ اگر اللہ نے چاہا ‘ تو ایسا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ‘ جو غزوہ بدر میں شریک ہوا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اہل بدر اور دیگر حضرات کی فضیلت کے بارے میں اس نوعیت کی دیگر احادیث حضرت حاطب رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے مناقب سے متعلق باب میں ‘ آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

10056

Majma al-Zawaid #10056

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَاضَلَنَا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ رِفَاعَةَ نَفْسِهِ، وَهُنَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ رِفَاعَةَ، وَيَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Rifaah ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that he heard his father say that Jibril, peace be upon him, said to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, that those angels who witnessed Badr excel the rest. > **"Those among the angels who witnessed Badr excel us."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : فرشتوں میں سے ‘ جو فرشتہ غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے ‘ وہ ہم پر فضیلت رکھتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں خود حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے اور یہاں یہ ان کے والد کے حوالے سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن سعید کی حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ حالانکہ یحیی نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے کسی کا زمانہ نہیں پایا ‘ باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔

10057

Majma al-Zawaid #10057

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُنْحَرُ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ، وَأَنَّ الْبَقَرَ نَفَرٌ، وَاللَّهُ خَيْرٌ "، قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُهُ: " لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ، فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ "، فَقَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ؟! فَقَالَ: " شَأْنُكُمْ إِذًا "، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْيَهُ، فَجَاءُوا فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، شَأْنُكَ إِذًا، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ» "، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said he saw in a dream as if he were in a strong coat of mail and saw cattle being slaughtered, interpreting the mail as Madinah and the cattle as men, with Allah being best. His companions first suggested remaining in Madinah to fight any entrants, then others insisted on going out since none had entered upon them even in ignorance, so he said do as you see fit and put on his armor. The Ansar then regretted pressing him against his view and offered to defer to him, but he said it is not for a prophet once he has put on his armor to lay it down before fighting. > **"I saw as if I were in a strong coat of mail, and I saw cattle slaughtered; I interpreted the strong mail as Madinah and the cattle as men, and Allah is best." > **"Remain as you wish." > **"It is not for a prophet, once he has put on his armor, to lay it down until he fights."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : میں نے خواب دیکھا کہ میں نے ایک مضبوط زرہ پہنی ہوئی ہے اور میں نے ایک گائے کو دیکھا کہ اسے قربان کیا گیا ہے ‘ تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ مضبوط زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور گائے سے مراد کچھ افراد ہیں ‘ باقی اللہ بہتری کرنے والا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اگر ہم مدینہ میں مقیم رہیں اور وہ لوگ مدینہ میں ہم پر داخل ہو گئے ‘ تو ہم ان سے لڑائی کر لیں گے ‘ لوگوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! وہ زمانہ جاہلیت میں کبھی ہم پر ہمارے شہر میں داخل نہیں ہو سکے ‘ تو وہ اسلام میں کیسے ہمارے پاس آ سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم جیسا چاہو کرو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ہتھیار پہن لئے انصار نے ( ایک دوسرے سے ) کہا : ہم نے اللہ کے رسول کی رائے کو قبول نہیں کیا ؟ پھر وہ آئے اور انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ جیسے مناسب سمجھیں کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جب وہ ہتھیار پہنچ چکا ہو ‘ تو پھر وہ لڑائی سے پہلے انہیں اُتار دے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10058

Majma al-Zawaid #10058

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ سَيْفِيَ ذَا الْفَقَارِ انْكَسَرَ، وَهِيَ مُصِيبَةٌ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، وَهِيَ مُصِيبَةٌ، وَرَأَيْتُ عَلَيَّ دِرْعِي وَهِيَ مَدِينَتُكُمْ، لَا يَصِلُونَ إِلَيْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ فِي التَّعْبِيرِ رَوَاهَا الْبَزَّارُ أَبَيْنُ مِنْ هَذِهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that when Abu Sufyan and his companions descended upon the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, at Uhud, he told his companions he had seen in a dream his sword Dhu al-Faqar broken, a calamity, cattle slaughtered, a calamity, and himself wearing his mail, which was their Madinah, to which the enemy would not reach if Allah wills. > **"I saw in a dream my sword Dhu al-Faqar broken, and it is a calamity; I saw cattle slaughtered, and it is a calamity; and I saw my mail upon me, and it is your Madinah to which they will not reach, if Allah wills."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے غزوہ اُحد کے دن پڑاؤ کیا ، تو دوسری طرف ابوسفیان اور اس کے ساتھی تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی ہے اور یہ کسی مصیبت کی نشان دہی ہے اور میں نے ایک گائے کو دیکھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہے ‘ تو یہ بھی کسی مصیبت کی نشانی ہے اور میں نے یہ دیکھا کہ میرے جسم پر زرہ ہے ‘ تو اس سے مراد یہ مدینہ ہے ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ تو وہ لوگ یہاں تک نہیں پہنچ پائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کا ایک طریق تعبیر سے متعلق باب میں آئے گا ، جسے امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اور وہ اس سے زیادہ واضح ہے ۔

10059

Majma al-Zawaid #10059

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «رَأَيْتُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، وَكَأَنَّ ضَبَّةَ سَيْفِيَ انْكَسَرَتْ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ كَبْشَ الْقَوْمِ، وَأَوَّلْتُ ضَبَّةَ سَيْفِي قَتْلَ رَجُلٍ مِنْ عِتْرَتِي "". فَقُتِلَ حَمْزَةُ، وَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلْحَةَ، وَكَانَ صَاحِبَ اللِّوَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَلَمْ يُكْمِلْهُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَقَدْ جَاءَ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ كَمَا تَرَاهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said he saw as if he had mounted a ram behind him and the hilt of his sword had broken, interpreting it as killing the chief of the enemy and the death of a man of his family. Thus Hamzah, may Allah be pleased with him, was killed, while the Prophet killed Talhah, the enemy standard-bearer. > **"I saw as if I had taken a ram behind me and the hilt of my sword had broken; I interpreted it as killing the ram of the enemy, and the hilt as the killing of a man of my household."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں نے ایک دنبے کو اپنے پیچھے بیٹھایا ہوا ہے اور جیسے میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے ‘ تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میں دشمن کے ایک اہم فرد کو قتل کروں گا ‘ اور اپنی تلوار کی دھار کی میں نے یہ تعبیر کی ہے کہ میرے خاندان کا ایک فرد قتل ہو جاے گا ‘ تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے طلحہ نامی شخص کو قتل کیا تھا ، جو اُن کا علم بردار تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اسے امام بزار اور امام احمد نے بھی نقل کیا ہے ‘ لیکن انہوں نے اسے مکمل نقل نہیں کیا ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ‘ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10060

Majma al-Zawaid #10060

«عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّهُ وَاسْتَصْغَرَهُ، فَقَالَ لَهُ عَمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ رَامٍ فَأَخْرِجْهُ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فِي صَدْرِهِ أَوْ نَحْرِهِ فَأَتَى عَمُّهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ أَخِي أُصِيبَ بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنْ تَدَعْهُ فِيهِ فَيَمُوتُ مَاتَ شَهِيدًا» "". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ: وَحَدَّثَتْنِي امْرَأَتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَرَاهُ يَغْتَسِلُ فَيَتَحَرَّكُ فِي صَدْرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِهِ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Khadij, may Allah be pleased with him, reported that he went out on the day of Uhud but the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, wished to send him back as young. His uncle said he was an archer and asked that he be allowed, so he was allowed but was struck by an arrow in the chest or throat. His uncle reported the wound, and the Prophet said that if it were left in him and he died, he would die a martyr. Abdullah ibn Husayn added that Rafi's wife used to see it move in his chest when he bathed. > **"O Messenger of Allah, he is an archer, so let him go out." > **"My nephew has been struck by an arrow." > **"If you leave it in him and he dies, he will die a martyr."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ غزوہ اُحد کے موقع پر نکلے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں واپس کرنے کا ارادہ کیا اور انہیں کمسن قرار دیا ‘ راوی کہتے ہیں : تو میرے چچا نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تیر انداز ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں جانے کی اجازت دیدی ‘ تو ان کے سینے میں یا گردن پر ایک تیر لگا ‘ اُن کے چچا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : میرے بھتیجے کو تیر لگا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اُسے ایسی حالت میں چھوڑ دو اور یہ مر جائے ‘ تو یہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ۔ عبداللہ بن حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں : ان کی اہلیہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ خاتون اس تیر کو دیکھا کرتی تھیں کہ جب وہ صاحب غسل کر رہے ہوتے تھے ‘ تو ان کے سینے میں وہ تیر حرکت کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ‘ جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ اس صحابی کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا ۔

10061

Majma al-Zawaid #10061

«وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ قَالَ: اسْتَصْغَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ لَهُ عَمُّهُ أُسَيْدُ بْنُ ظُهَيْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ رَامٍ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فِي لَبَّتِهِ، فَجَاءَ بِهِ عَمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ أَخِي أَصَابَهُ سَهْمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تُخْرِجَهُ أَخْرَجْنَاهُ، وَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَدَعَهُ فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ وَهُوَ فِيهِ مَاتَ شَهِيدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Usayd ibn Zuhayr, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, deemed Rafi ibn Khadij young on the day of Uhud, whereupon his uncle Usayd said the lad was an archer, so the Prophet permitted him. He was struck in the throat, his uncle brought him to the Prophet and reported the arrow, and the Prophet said that if they wished he would remove it, but if they left it and he died with it in him, he would die a martyr. > **"O Messenger of Allah, he is an archer." > **"My nephew has been struck by an arrow." > **"If you wish that I remove it I will remove it, and if you wish to leave it, then if he dies with it in him he will die a martyr."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اُسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کمسن قرار دیا ‘ تو ان کے چچا حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص تیر انداز ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی ‘ ایک تیر ان کے گلے پر لگا ان کے چچا انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : میرے بھتیجے کو تیر لگ گیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم یہ پسند کرو کہ اس کو نکلوا دو ‘ تو ہم اسے نکال دیتے ہیں اور اگر تم پسند کرو تو اسے ایسے ہی رہنے دو ‘ کیونکہ ایسی صورت میں یہ جب بھی مرے گا ‘ اور اُس وقت یہ تیر اس کے اندر ہو گا ‘ تو یہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10062

Majma al-Zawaid #10062

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ: «اسْتَصْغَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ جَارِيةَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَسَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عُمَرَ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعُثْمَانِيُّ، ولَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Jariyah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, deemed several youths too young on the day of Uhud, including Zayd himself, al-Bara ibn Azib, Sad ibn Khaythamah, Abu Said al-Khudri, Abdullah ibn Umar, and Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے کچھ افراد کو کمسن قرار دیا ‘ ان میں ایک حضرت زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ یعنی راوی خود تھے ‘ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ تھے ‘ حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ تھے ‘ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ‘ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن یعقوب عثمانی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10063

Majma al-Zawaid #10063

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جَارِيةَ قَالَ: «اسْتَصْغَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمٍ.» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Jariyah, may Allah be pleased with him, reported that among those the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, deemed too young on the day of Uhud was Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے کچھ افراد کو محسن قرار دیا تھا ‘ ان میں سے ایک حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10064

Majma al-Zawaid #10064

«وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: عُرِضْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَصْغَرَنَا، وَشَهِدْنَا أُحُدًا»، قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: وَشَهِدْنَا أُحُدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara, may Allah be pleased with him, reported that he and Ibn Umar were presented to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, on the day of Badr and were deemed too young, then they witnessed Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ‘ مجھے اور عبداللہ بن عمر کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا ‘ تو آپ نے ہمیں کمسن قرار دیا ، پھر ہم غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ پھر ہم غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10065

Majma al-Zawaid #10065

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ - يُقَالُ لَهُ: مُعَاذٌ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muadh of Banu Taym, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, wore two coats of mail together on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنوتیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ‘ جن کا نام حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ دو ‘ زرہیں پہن کر تشریف لائے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10066

Majma al-Zawaid #10066

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Talhah ibn Ubaydullah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, wore two coats of mail together on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غزوہ اُحد کے دن دو زرہیں پہن کر تشریف لائے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10067

Majma al-Zawaid #10067

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sad, meaning Ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, wore two coats of mail together on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن نبی اکرم ﷺ دو زرہیں پہن کر تشریف لائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10068

Majma al-Zawaid #10068

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ayyub ibn al-Numan reported from his father from his grandfather that he saw two coats of mail upon the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, on the day of Uhud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایوب بن نعمان ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم ﷺ کے جسم پر دو زرہیں دیکھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10069

Majma al-Zawaid #10069

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: «عَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: "" مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟ "" فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ، فَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ: فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَخَرَجَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَفْرَاهُ وَهَتَكَهُ، حَتَّى أَتَى نِسْوَةً فِي سَفْحِ الْجَبَلِ وَمَعَهُنَّ هِنْدٌ وَهِيَ تَقُولُ. نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقْ ... نَمْشِي عَلَى النَّمَارِقْ وَالْمِسْكُ فِي الْمَفَارِقْ ... إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ أَوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ ... فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقْ قَالَ: فَحَمَلْتُ عَلَيْهَا فَنَادَتْ بِالصَّحْرَاءِ فَلَمْ يُجِبْهَا أَحَدٌ فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا، فَقُلْتُ لَهُ: كُلَّ صَنِيعِكَ رَأَيْتُهُ فَأَعْجَبَنِي غَيْرَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلِ الْمَرْأَةَ، قَالَ: فَإِنَّهَا نَادَتْ فَلَمْ يُجِبْهَا أَحَدٌ ; فَكَرِهْتُ أَنْ أَضْرِبَ بِسَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً لَا نَاصِرَ لَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-Awwam, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, offered a sword on the day of Uhud and asked who would take it with its right. Abu Dujanah Simak ibn Kharashah, may Allah be pleased with him, stood and asked its right, took it, and followed destruction through the enemy until he reached women at the mountain foot, among them Hind reciting her rajaz about the daughters of Tariq walking on cushions with musk in their partings, embracing those who advance and parting from those who flee. He charged at her but she cried out in the open and none answered, so he turned away, explaining afterward that he disliked striking a helpless woman with the sword of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Who will take this sword with its right?" > **"O Messenger of Allah, I will take it with its right; and what is its right?" > **"We are the daughters of Tariq, we walk upon cushions; musk is in our partings; if you advance we embrace, if you retreat we part, a parting without love."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے غزوہ اُحد کے دن تلوار آگے کی ‘ اور ارشاد فرمایا : کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرے گا ؟ تو حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کے حق کے ہمراہ اسے لوں گا ‘ اس کا حق کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وہ تلوار انہیں دیدی ‘ وہ اسے لے کر روانہ ہوئے میں ان کے پیچھے گیا ‘ وہ جس بھی چیز کے پاس سے گزرتے تھے ‘ اسے چیر دیتے تھے اور پھاڑ دیتے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے دامن میں موجود کچھ خواتین کے پاس آئے ‘ ان خواتین کے ساتھ ’’ ہند ‘‘ بھی موجود تھی ‘ جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی : ’’ ہم طارق ( نامی ستارے ) کی بیٹیاں ہیں ( یعنی بلند مرتبہ کی مالک ہیں ) اور ہم قالینوں پر چلتی ہیں ‘ ہماری مانگ میں مشک لگی ہوتی ہے ‘ اگر تم پیش قدمی کرو گے تو ہم گلے لگائیں گی ‘ اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو ہم جدا ہوائیں گی ‘ ایسی جدائی جو کسی شک کے بغیر ہو ‘ ( یا ایسی جدائی جس کے بعد محبت نہ ہو سکے ) ‘‘ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان صاحب نے اس خاتون پر تلوار سونتی ، تو اس نے صحراء میں بلند آواز میں پکارا ‘ لیکن کسی نے اسے جواب نہیں دیا ‘ تو پھر ان صاحب نے وہ تلوار اس خاتون کو نہیں ماری ‘ میں نے ان سے کہا : آپ نے جو کچھ بھی کیا ‘ وہ مجھے اچھا لگا لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ آپ نے اس عورت کو قتل نہیں کیا ‘ انہوں نے فرمایا : اس عورت نے پکارا تھا ‘ لیکن کسی نے اسے جواب نہیں دیا ‘ تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اللہ کے رسول کی تلوار کے ذریعے کسی ایسی عورت پر ضرب لگاؤں ، جس کا کوئی مددگار نہ ہو ۔

10070

Majma al-Zawaid #10070

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ: "" مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟ ""، فَقَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" اقْعُدْ ""، فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: "" مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟ ""، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ وَرَفَعَ عَلَى عَيْنَيْهِ عِصَابَةً حَمْرَاءَ تَرْفَعُ حَاجِبَيْهِ عَنْ عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ، ثُمَّ مَشَى بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسَّيْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Qatadah ibn al-Numan, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said on the day of Uhud asking who would take the sword with its right. Ali stood but was told to sit, then at the second call Abu Dujanah stood, and the Prophet handed him his sword Dhu al-Faqar. Abu Dujanah rose with a red band over his eyes lifting his brows from pride, then walked with the sword before the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Who will take this sword with its right?" > **"I will, O Messenger of Allah." > **"Sit down."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتاده بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ لے گا ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گئے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دوسری مرتبہ دریافت کیا : کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ لے گا ‘ تو حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی تلوار زوالفقار انہیں دی ‘ حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ اٹھے ‘ انہوں نے اپنی آنکھوں کے اوپری حصے پر سرخ پٹی باندھی تاکہ وہ کبر سنی کی وجہ سے آنکھوں پر آنے والی بھنووں کو روک سکے ‘ پھر وہ اس تلوار کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کے آگے چلتے ہوئے گئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10071

Majma al-Zawaid #10071

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سِمَاكِ بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ أَبَا دُجَانَةَ يَوْمَ أُحُدٍ أَعْلَمَ بِعِصَابَةٍ حَمْرَاءَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُخْتَالٌ فِي مِشْيَتِهِ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ فَقَالَ: "" إِنَّهَا مِشْيَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ إِلَّا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Sulayman ibn Abdullah ibn Khalid ibn Simak ibn Kharashah reported from his father from his grandfather that Abu Dujanah, may Allah be pleased with him, marked himself with a red band on the day of Uhud and strutted between the ranks. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said it was a gait Allah hates except in such a place. > **"It is a gait Allah hates except in this place."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خالد بن سلیمان بن عبدالله بن خالد بن سماک بن خرشہ ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ اُحد کے دن سرخ پٹی کا نشان بنایا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا ‘ وہ دو صفوں کے درمیان اترا کر چل رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس قسم کی چال کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ‘ لیکن اس طرح کی صورت حال کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10072

Majma al-Zawaid #10072

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النِّسَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ كُنَّ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ يُجْهِزْنَ عَلَى قَتْلَى الْمُشْرِكِينَ فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ: {مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ} [آل عمران: 152] فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَصَوْا مَا أَمَرَ بِهِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تِسْعَةٍ: سَبْعَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ، وَهُوَ عَاشِرُهُمْ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا "، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا قَالَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا "، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَاحِبَيْهِ: " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا "، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: اعْلُ هُبَلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " فَقَالُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَنَا عُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: " اللَّهُ مَوْلَانَا وَالْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ "، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، يَوْمٌ لَنَا وَيَوْمٌ عَلَيْنَا، وَيَوْمٌ نُسَاءُ، وَيَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا سَوَاءً، أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ "، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ ; فَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَأٍ مِنَّا، مَا أَمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ، وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ، وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي، قَالَ: فَنَظَرُوا، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ، وَأَخَذَتْ هِنْدٌ كَبِدَهُ، فَلَاكَتْهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكَلَتْ مِنْهَا شَيْئًا؟ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ "، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ وَتُرِكَ حَمْزَةُ ثُمَّ جِيءَ بِآخَرٍ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَرَكَ حَمْزَةَ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً»، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ؛ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud the women were behind the Muslims finishing off the enemy slain, and he would swear that none of them sought this world until Allah revealed that among them were those who sought this world and those who sought the Hereafter, then turned them away to test them. When some companions disobeyed the Prophet's command, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was left alone with nine men, seven of the Ansar and two of Quraysh, himself the tenth. As the enemy closed in he prayed for mercy on whoever would repel them, and Ansari men rose one by one fighting until seven were killed, after which the Prophet said to his two remaining companions that they had not done justice to their fellows. Then Abu Sufyan came shouting Hubal exalted, the Prophet ordered them to answer that Allah is highest and most majestic, and when Abu Sufyan boasted of al-Uzza and of a day for Badr, the Prophet ordered the reply that Allah is their Protector while the disbelievers have no protector, and that the situations are not equal since Muslim slain live rewarded while their slain are punished in the Fire. Abu Sufyan admitted mutilation among the slain without his order yet without dislike, and the Muslims then found Hamzah mutilated. > **"May Allah have mercy on a man who repels them from us." > **"Say: Allah is highest and most majestic." > **"Say: Allah is our Protector and the disbelievers have no protector." > **"They are not equal; our slain are alive receiving provision, while your slain are in the Fire being punished." > **"Hubal exalted." > **"We have al-Uzza and you have no Uzza." > **"A day for the day of Badr; a day for us and a day against us."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں ‘ وہ مشرکین کے مقتولین کا سامان اکٹھا کرتی تھیں ‘ اگر میں اس دن کے بارے میں یہ حلف اٹھاؤں ‘ تو مجھے یہ امید ہے کہ میں سچا ہوؤں گا کہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی دنیا کی طلب نہیں تھی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ’’ تم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ‘ جو دنیا کا ارادہ رکھتے ہیں اور تم میں سے کچھ وہ ہیں ‘ جو آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں ، پھر اس نے تم کو ان لوگوں سے پھیر دیا ‘ تاکہ وہ تمہیں آزمائش کا شکار کرے ‘‘۔ جب نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب نے آپ کے حکم برخلاف کیا اور جو حکم انہیں دیا گیا تھا ‘ اس کی نافرمانی کی اور نبی اکرم ﷺ نو افراد کے درمیان تنہا رہ گئے ‘ جن میں سے سات کا تعلق انصار سے تھا ‘ اور دو کا تعلق قریش سے تھا ، اور دسویں خود نبی اکرم ﷺ تھے ‘ جب دشمن نے نبی اکرم ﷺ کے گرد گھیرا ڈال دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ‘ جو دشمن کو ہم سے پرے تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اُٹھا ‘ اس نے گھڑی بھر کے لئے لڑائی کی اور شہید ہو گیا ، پھر جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے گرد گھیرا ڈال دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ‘ جو انہیں ہم سے پرے کرے ‘ آپ یہ مسلسل ارشاد فرماتے رہے ‘ یہاں تک کہ سات افراد شہید ہو گئے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ساتھیوں سے فرمایا : ہمارے ساتھیوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ہے ، پھر ابوسفیان آیا اور بولاہبل برتر ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ‘ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ‘ ابوسفیان ( جو کفار کا سردار تھا ) اس نے کہا : ہمارے پاس عزی ہے ‘ تمہارے پاس عزیٰ نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : اللہ تعالیٰ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی ( مددگار ) نہیں ہے پھر ابوسفیان نے کہا : آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے ‘ ایک دن ہمارے حق میں ہوا ‘ اور ایک دن ہمارے خلاف ہوا ‘ ایک دن ہمیں اچھا نہیں لگا تھا ‘ اور ایک دن ہم خوش ہوئے ہیں ، حنظلہ کا بدلہ حنظلہ ہے ‘ فلاں کا بدلہ فلاں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دونوں برابر نہیں ہیں ‘ ہمارے مقتولین زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے ‘ اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں اور انہیں عذاب دیا جاتا ہے ابوسفیان نے کہا : کچھ لوگوں نے ( آپ کے افراد ) کا مثلہ کیا ہے ‘ اگرچہ یہ ہمارے بڑوں کے مشورے سے نہیں ہوا ‘ میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا ‘ اور اس سے منع بھی نہیں کیا ‘ میں اس کو پسند بھی نہیں کرتا اور مجھے یہ ناگوار بھی نہیں گزرا ‘ اور مجھے یہ برا بھی نہیں لگا ‘ اور اس نے مجھے خوش بھی نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بات کا جائزہ لیا ‘ تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ‘ اور ہند نے ان کا کلیجہ نکال کر اسے چبایا تھا ‘ وہ اسے کھا نہیں سکی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا ‘ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حمزہ کے کسی حصے کو ‘ آگ میں داخل نہیں کرنا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رکھا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی ‘ پھر انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو لایا گیا اور انہیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا ‘ اور نبی اکرم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر انصاری کی میت کو اٹھا لیا گیا ‘ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رہنے دیا گیا ‘ پھر ایک اور شخص کو لایا گیا اور اسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کی نماز جنازہ ادا کی ‘ پھر اس ( دوسرے ) شخص کی میت کو اٹھا لیا گیا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رہنے دیا گیا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اُس دن ستر مرتبہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

10073

Majma al-Zawaid #10073

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا نَصَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ فِي يَوْمِ أُحُدٍ قَالَ: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؛ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ: {وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: 152] يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ: الْقَتْلُ، {حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ} [آل عمران: 152] إِلَى قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [آل عمران: 152]، وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ، ثُمَّ قَالَ: "" احْمُوا ظُهُورَنَا، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قُتِلْنَا مَقْتَلَ فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا غَنِمْنَا فَلَا تُشْرِكُونَا ""، فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَاخُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ، وَقَدِ الْتَفَّتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُمْ هَكَذَا - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ - وَانْتَشَوْا، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا، دَخَلَتِ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاجِبَانِ أَوَّلَ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ - أَوْ تِسْعَةٌ - وَرِجَالُ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ: الْغَارُ إِنَّمَا كَانَ تَحْتَ الْمِهْرَاسِ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى، قَالَ: وَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ: "" اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَوْا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى: "" اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا "" حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ: اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ، يَعْنِي آلِهَتَهُ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُجِيبُهُ؟ قَالَ: "" بَلَى ""، قَالَ: فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ هُبَلُ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمْتُ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا، فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا سَوَاءً؛ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونِ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذًا وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مَثْلًا، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَنْ رَأْيِ سَرَّاتِنَا، قَالَ: ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَلِكَ فَلَمْ نَكْرَهْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said Allah had never aided in a place as He aided on the day of Uhud, citing as proof Allah's words that He fulfilled His promise when they slew them by His permission, where hasa means killing, until weakness and dispute befell the archers. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, had stationed them and ordered them to guard the rear whether the Muslims were killed or gained spoils, without aiding or sharing, but when spoils appeared they rushed into the enemy camp to plunder, ranks intermingled, and enemy cavalry entered through their abandoned gap striking in confusion so that many Muslims were killed. Early in the day seven or nine enemy standard-bearers had been killed, the Muslims had not reached the cave but only below al-Mihras, then Satan shouted that Muhammad had been killed and all believed it until the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, appeared walking briskly between the two Sads, bringing joy as if no calamity had struck. He advanced saying Allah's wrath is severe upon those who bloodied the Prophet's face and praying that they not prevail, then Abu Sufyan below the mountain twice shouted Hubal exalted and called for Ibn Abi Kabshah, Ibn Abi Quhafah, and Ibn al-Khattab. Umar asked permission to answer, was told yes, and replied that Allah is highest and most majestic. Abu Sufyan claimed the days alternate and war is give and take, Umar replied they are not equal since Muslim slain are in Paradise and theirs in the Fire, and Abu Sufyan admitted mutilation would be found though not by his chiefs' counsel, then Jahili zeal seized him and he said it had happened and he did not dislike it. > **"Guard our backs; if you see us killed do not aid us, and if you see us gain spoils do not share with us." > **"Allah's wrath is severe upon a people who bloodied the face of the Messenger of Allah." > **"O Allah, they have no right to prevail over us." > **"Hubal exalted." > **"Yes." > **"Allah is highest and most majestic." > **"A day for the day of Badr; days alternate and war is give and take." > **"They are not equal; our slain are in Paradise and your slain are in the Fire."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے کسی بھی صورت حال میں اس طرح کی صورت حال نازل نہیں کی جس طرح کی مدد غزوہ احد کے موقع پر کی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اس بات پر اعتراض کیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں اور جو شخص اس کا انکار کر رہا ہے ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی ‘ غزوہ اُحد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا جب تم نے اس کے اذن کے تحت ان لوگوں کو قتل کیا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہاں ’’ حس ‘‘ سے مراد قتل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے مراد تیر انداز لوگ ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو ایک مخصوص مقام پر کھڑا کیا تھا ‘ اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : تم لوگوں نے پیچھے سے ہماری حفاظت کرنی ہے ‘ اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے ‘ تو تم نے ہماری مدد نہیں کرنی اور اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم غنیمت حاصل کر رہے ہیں ، تو تم نے ہمارے ساتھ شریک نہیں ہونا ‘ پھر جب نبی اکرم ﷺ کو مال غنیمت حاصل ہوا اور لوگوں نے مشرکین کے لشکر کو مباح قرار دیا ‘ تو وہ تیر انداز سب آئے اور لشکر میں سے چیزیں اکٹھے کرنے لگے ‘ جب مختلف صفیں مل گئیں اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب یوں ہو گئے ‘ راوی نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات بیان کی اور وہ گھل مل گئے ‘ تو جب تیر اندازوں نے وہ جگہ خالی کر دی ‘ جہاں پر تیر انداز تھے ‘ تو اس مقام سے دشمن کے کچھ گھڑ سوار آئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب پر حملہ آور ہوئے ‘ اس دن بہت سے مسلمان شہید ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب دن کے ابتدائی حصے میں اس حال میں تھے کہ مشرکین کے جھنڈا برداروں میں سے سات یا شاید نو افراد قتل ہوئے تھے اور مسلمانوں کے کچھ افراد نبی اکرم ﷺ کے اردگرد موجود تھے ‘ یہ لوگ وہاں تک نہیں پہنچے تھے ‘ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں : غار ہے ‘ بلکہ یہ پانی کے چشمے کے پاس پہنچے تھے اسی دوران شیطان نے چیخ کر کہا : حضرت محمد ﷺ شہید ہو گئے ہیں ‘ تو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہوا کہ یہ بات درست ہو گی ، ہم اسی حالت میں رہے ‘ ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ نبی اکرم ﷺ شہید ہو چکے ہوں گے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ سعد نام کے دو افراد کے درمیان چلتے ہوئے سامنے آئے ‘ ہم نے چلنے کے دوران آپ کے مخصوص انداز سے آپ کو پہچان لیا ‘ راوی کہتے ہیں : ہمیں اس بات سے اتنی خوشی ہوئی کہ جیسے ہمیں کوئی نقصان ہوا ہی نہیں ہے نبی اکرم ﷺ چڑھ کر ہماری طرف آئے ‘ آپ یہ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر شدید ہو گا ‘ جس نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا ہے ‘ ایک مرتبہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے اللہ ! انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہم پر غالب آئیں ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ‘ آپ گھڑی بھر کے لئے ٹھہرے رہے ‘ پھر ابوسفیان نے پہاڑ کے نیچے والے حصے سے بلند آواز میں دو مرتبہ یہ کہا : ہبل سر بلند ہوا ، یعنی اس نے اپنے معبود کے بارے میں کہا ‘ پھر پوچھا : ابن ابوکبشہ کہاں ہے ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہے ؟ ابن خطاب کہاں ہے ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے جواب نہ دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ جب اس نے کہا : ہبل سر بلند ہوا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ‘ ابوسفیان نے کہا : اے خطاب کے صاحبزادے ! کیا اس کی ( یعنی ہبل کی ) آنکھ نے اجازت دی تو اب تم اسے برا نہ کہنا ، پھر اس نے دریافت کیا : ابن ابوکبشہ کہاں ہیں ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہیں ؟ ابن خطاب کہاں ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ‘ یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں اور میں ‘ عمر بھی موجود ہوں ‘ تو ابوسفیان نے کہا : آج کا دن ‘ بدر کے دن کا بدلہ ہے ‘ اور دنوں میں الٹ پھیر ہوتا رہتا ہے اور جنگ ڈول کی طرح ہوتی ہے ( یعنی اس میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ) راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں برابر نہیں ہے ‘ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ‘ ابوسفیان نے کہا : تم لوگ یہ گمان کرتے ہو ‘ ایسی صورت میں ، تو ہم رسوا ہو جائیں گے اور خسارے کا شکار ہو جائیں گے ‘ پھر ابوسفیان نے کہا : تم لوگ اپنے مقتولین میں کچھ لوگوں کو پاؤ گے کہ ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ‘ یہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اسے زمانہ جاہلیت کی حمیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ‘ تو اس نے کہا : ایسا ہوا ہے اور ہم اسے ناپسند بھی نہیں کرتے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

10074

Majma al-Zawaid #10074

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: أَيْ خَالِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قِصَّتِكُمْ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: اقْرَأْ بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ تَجِدُ قِصَّتَنَا: {وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ} [آل عمران: 121] إِلَى قَوْلِهِ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا} [آل عمران: 122]، قَالَ: هُمُ الَّذِينَ طَلَبُوا الْأَمَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِلَى قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ} [آل عمران: 143] قَالَ: فَهُوَ يَتَمَنَّى لِقَاءَ الْمُؤْمِنِينَ، إِلَى قَوْلِهِ: {إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: 152]. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah, may Allah be pleased with him, reported that he asked Abd al-Rahman ibn Awf, his maternal uncle, may Allah be pleased with him, about their story on the day of Uhud. He told him to read after verse one hundred and twenty of Al Imran, from when the Prophet left his household to station the believers for battle through when two parties intended to fail, those who had sought security, through you used to wish for death before meeting it, to when you slew them by His permission. > **"Read after one hundred and twenty of Al Imran and you will find our story."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ماموں جان ! آپ غزوہ بدر کے موقعہ پر اپنی صورتحال کے بارے میں بتائیں ‘ انہوں نے فرمایا : تم سورہ آل عمران کی ایک سو بیس کے بعد والی آیات پڑھ لو تمہیں ہماری صورتحال کا ذکر مل جائے گا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکلے تاکہ تم اہل ایمان کو جنگ کے لیے ان کے مخصوص مقام پر تعینات کرو ‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بزدلی کا مظاہرہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ( حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) ( ان لوگوں نے مشرکین سے امان مانگی تھی ‘ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ حالانکہ اس ( دشمن ) کا سامنا کرنے سے ‘ پہلے تم موت ( یعنی شہادت ) کی آرزو کیا کرتے تھے ‘ تو تم نے اس کو ( یعنی موت یا شہادت کے سبب جنگ کو ) دیکھ لیا ‘ اور تم ( جنگ کی صورتحال کو ) دیکھ رہے تھے ‘‘۔ تو وہ ( دشمن ) اہل ایمان کا سامنا کرنے کی آرزو رکھتا تھا ‘ یہ آیت یہاں تک ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب تم اس ( یعنی پروردگار ) کے اذن کے تحت ان ( یعنی کفار ) کو قتل کر رہے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10075

Majma al-Zawaid #10075

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَمَّا انْجَلَى النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ نَظَرْتُ فِي الْقَتْلَى فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا كَانَ لِيَفِرَّ، وَلَا أَرَاهُ فِي الْقَتْلَى، وَلَكِنْ أَرَى اللَّهَ غَضِبَ عَلَيْنَا بِمَا صَنَعْنَا فَرَفَعَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا لِي خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى أُقْتَلَ، فَكَسَرْتُ جَفْنَ سَيْفِي ثُمَّ حَمَلْتُ عَلَى الْقَوْمِ فَرَجَوْا لِي، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reported that when the people scattered from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, on the day of Uhud, he searched among the slain and did not see the Prophet. He reasoned the Prophet would never flee nor lay among the slain, feared Allah had lifted him in anger at their deeds, and resolved that nothing was better than fighting until killed. So he broke his sword sheath, charged until the enemy gave way for him, and there was the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, among them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ‘ جب لوگ نبی اکرم ﷺ سے بکھر گئے ‘ تو میں نے مقتولین کو دیکھا مجھے نبی اکرم ﷺ نظر نہیں آئے ‘ میں نے سوچا ‘ اللہ کی قسم ! نہ تو آپ فرار ہوئے ہوں گے ‘ اور نہ ہی آپ مجھے مقتولین میں نظر آ رہے ہیں ، لیکن ہم نے جو کچھ کیا ہے ‘ مجھے لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے حوالے سے ہم پر غضب نازل کرے گا ‘ مجھے لگتا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر غضب نازل کیا ہے اور اپنے نبی کو اٹھا لیا ہے ‘ تو میرے لئے اس سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہے کہ میں لڑائی کرتا رہوں ‘ یہاں تک کہ قتل ہو جاؤں ‘ میں نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ دیا ‘ پھر میں لوگوں پر حملہ آور ہوا ‘ وہ لوگ ادھر ادھر بکھرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان موجود تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان عقیلی ہے ‘ جسے ابوداؤد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10076

Majma al-Zawaid #10076

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: «لَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: كُنْ طَلْحَةَ، فَلَمَّا نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِإِنْسَانٍ خَلْفِي كَأَنَّهُ طَائِرٌ، فَلَمْ أَشْعُرْ أَنْ أَدْرَكَنِي، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَإِذَا طَلْحَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَرِيعًا، قَالَ: "" دُونَكُمْ أَخُوكُمْ فَقَدْ أَوْجَبَ ""، فَتَرَكْنَاهُ وَأَقْبَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا قَدْ أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ سَهْمَانِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْزِعَهُمَا فَمَا زَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَسْأَلُنِي وَيَطْلُبُ إِلَيَّ حَتَّى تَرَكْتُهُ يَنْزِعُ أَحَدَ السَّهْمَيْنِ، وَأَزَّمَ عَلَيْهِ بِأَسْنَانِهِ فَقَلَعَهُ، وَابْتَدَرَتْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُسَكِّنِّي وَيَطْلُبُ إِلَيَّ أَنْ أَدَعَهُ يَنْزِعُ الْآخَرَ، فَوَضَعَ ثَنِيَّتَهُ عَلَى السَّهْمِ وَأَزَّمَ عَلَيْهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ تَحَوَّلَ فَنَزَعَهُ، وَابْتَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَهْتَمَ الثَّنَايَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported from her father that when the people turned away from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, at Uhud, he was the first to return. He saw a man fighting before the Prophet and hoped it was Talhah, while another man came from behind swift as a bird, and it was Abu Ubaydah ibn al-Jarrah, may Allah be pleased with them. Talhah lay fallen before the Prophet, who said to attend to their brother for he had earned it. They turned to the Prophet to find two arrows in his face; when Abu Bakr sought to remove them, Abu Ubaydah insisted until allowed, seized one with his teeth and pulled it out losing a front tooth, then likewise the second, so that Abu Ubaydah became toothless in the front. > **"Look to your brother, for he has earned it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ جب لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ادھر ادھر ہو گئے ‘ تو میں نبی اکرم ﷺ کی طرف واپس آنے والا سب سے پہلا فرد تھا ‘ میں نے ایک شخص کو دیکھا ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے سامنے لڑائی کر رہا تھا ‘ میں نے سوچا ‘ اللہ کرے یہ طلحہ ہو ‘ جب میں نے دیکھا تو ایک انسان میرے پیچھے بھی تھا ‘ وہ پرندے کی مانند تھا ، مجھے اندازہ نہیں ہوا اور وہ مجھ تک پہنچ گیا ‘ تو وہ ابوعبیدہ بن جراح تھے ‘ طلحہ ‘ نبی اکرم ﷺ کے آگے زخمی ہو چکے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے بھائی کو سنبھالو ! کیونکہ اس نے ( جنت ) واجب کر لی ہے ‘ ہم نے انہیں چھوڑا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر دو تیر لگے تھے ‘ میں نے انہیں الگ کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ابوعبیدہ نے مجھ سے یہی کہا اور یہی مطالبہ کیا ( کہ میں انہیں یہ موقع دوں ) یہاں تک کہ میں نے انہیں موقع دیا کہ وہ دو میں سے ایک تیر نکال دیں ‘ انہوں نے اپنے دانتوں کے ذریعے اسے پکڑا اور اسے نکالا ‘ جس کے نتیجے میں ان کے سامنے کے دو دانتوں میں سے ایک ٹوٹ گیا ، پھر انہوں نے مجھ سے یہی درخواست کی اور یہی مطالبہ کیا کہ میں انہیں دوسرا تیر بھی نکالنے کا موقع دوں ، پھر انہوں نے اپنے سامنے کے دانت تیر پر رکھے اور انہیں دبایا ‘ اس بات کو ناگوار سمجھتے ہوئے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچائیں اور پھر اسے بھی نکال لیا ‘ تو ان کے سامنے کے دونوں دانت ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو میں سے ایک دانت گر گیا ‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کے دانت نہیں تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن یحییٰ بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

10077

Majma al-Zawaid #10077

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَصِرْنَا إِلَى الشِّعْبِ، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ عَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنِ اسْكُتْ، ثُمَّ أَلْبَسَنِي لَأْمَتَهُ وَلَبِسَ لَأْمَتِي، فَلَقَدْ ضُرِبْتُ حَتَّى جُرِحْتُ عِشْرِينَ جِرَاحَةً - أَوْ قَالَ: بِضْعَةً وَعِشْرِينَ جُرْحًا - كُلُّ مَنْ يَضْرِبَنِي يَحْسَبُنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ» وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud when they reached the mountain pass, he was the first to recognize the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. When he announced it, the Prophet signaled silence, dressed him in his own armor and wore his in exchange. Kab fought until he received twenty or some twenty wounds, every striker thinking him the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ہم گھاٹی کی طرف آئے ‘ میں آپ کو پہچاننے والا پہلا فرد تھا ‘ میں نے کہا : یہ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا کہ تم خاموش رہو ‘ پھر آپ نے اپنے ہتھیار مجھے پہنا دیے اور میرے ہتھیار خود پہن لئے ‘ میں نے لڑائی کی ‘ یہاں تک کہ مجھے بیس زخم راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیس سے کچھ زیادہ زخم لگے اور وہ سب زخم اسی وجہ سے لگے تھے کہ لوگ مجھے اللہ کا رسول سمجھ رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔

10078

Majma al-Zawaid #10078

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: «لَمَّا جَالَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَوْلَةَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ: أَدُومُ فَإِمَّا أَنْ أَسْتَشْهِدَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْجُوَ حَتَّى أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مُخَمَّرٍ وَجْهُهُ مَا أَدْرِي مَنْ هُوَ، فَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ يَجِيئُونَ نَحْوَهُ، إِذْ قُلْتُ: قَدْ رَكِبُوهُ، فَمَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْحَصَى ثُمَّ رَمَى بِهِ فِي وُجُوهِهِمْ، فَمَضَوْا عَلَى أَعْقَابِهِمُ الْقَهْقَرَى حَتَّى حَارُوا وَصَارُوا بِإِزَاءِ الْجَبَلِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَمَا أَدْرِي مَنْ هُوَ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمِقْدَادُ، فَبَيْنَا أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ الْمِقْدَادَ عَنْهُ إِذْ قَالَ لِي الْمِقْدَادُ: يَا سَعْدُ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكَ، فَقُلْتُ: وَأَيْنَ هُوَ؟ فَأَشَارَ لِي الْمِقْدَادُ إِلَيْهِ، فَقُمْتُ وَلَكَأَنَّمَا لَمْ يُصِبْنِي شَيْءٌ مِنَ الْأَذَى، فَقَالَ: "" أَيْنَ كُنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَا سَعْدُ؟ "" وَأَجْلَسَنِي أَمَامَهُ فَجَلَسْتُ أَرْمِي وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ سَهْمًا أَرْمِي بِهِ عَدُوَّكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ، اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ، إِيهًا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ""، فَمَا مِنْ سَهْمٍ أَرْمِي بِهِ إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ، وَأَجِبْ دَعْوَتَهُ، إِيهًا سَعْدُ ""، حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْ كِنَانَتِي نَثَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِنَانَتَهُ، فَنَاوَلَنِي سَهْمًا لَيْسَ فِيهِ رِيشٌ، فَكَانَ أَشَدَّ مِنْ غَيْرِهِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّ الْأَسْهُمَ الَّتِي رَمَى بِهَا سَعْدٌ يَوْمَئِذٍ أَلْفُ سَهْمٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Sad, may Allah be pleased with him, reported that when the people wheeled away from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, on the day of Uhud, he resolved to hold fast whether martyred or saved until meeting the Prophet. He saw a veiled man whose face he did not know hurling handfuls of pebbles at the advancing polytheists until they retreated backward toward the mountain, repeatedly. With al-Miqdad between them, before he could ask, al-Miqdad told him the Messenger of Allah was calling him. He rose as if unhurt, was asked where he had been all day, and was seated before the Prophet shooting while praying for an arrow against Allah's enemy as the Prophet prayed for Sad to be answered and steadied, urging him on with his parents as ransom. With every arrow the Prophet repeated the prayer until Sad's quiver emptied, then the Prophet emptied his own quiver for him and handed him a featherless arrow which proved hardest. Al-Zuhri said the arrows Sad shot that day were a thousand. > **"Where have you been all day, O Sad?" > **"O Allah, it is an arrow with which I strike Your enemy." > **"O Allah, answer Sad; O Allah, steady his aim; shoot on, O Sad, may my father and mother be your ransom." > **"O Allah, steady his aim and answer his prayer; shoot on, O Sad."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ‘ جب لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ادھر ادھر ہو گئے ‘ تو میں نے کہا : میں ایسے ہی رہوں گا ‘ یا تو میں جام شہادت نوش کر لوں گا ‘ یا نجات پا جاؤں گا ‘ یہاں تک کہ اللہ کے رسول سے جا ملوں ‘ ابھی میں اسی صورت حال میں تھا کہ ایک صاحب نظر آئے ‘ جن کا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا ‘ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون تھے ؟ مشرکین آئے اور ان کی طرف بڑھے ‘ جب میرا یہ اندازہ تھا کہ مشرکین اُن پر حملہ آور ہو جائیں گے ‘ تو انہوں نے ہاتھ میں کنکریاں پکڑیں اور مشرکین کی طرف پھینکیں ، تو وہ الٹے قدم واپس چلے گئے ‘ یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے مد مقابل آ گئے ‘ ایسا چند مرتبہ ہوا ‘ مجھے نہیں معلوم وہ صاحب کون تھے ؟ میرے اور اُن کے درمیان ‘ مقداد موجود تھے ‘ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں مقداد سے ان کے بارے میں دریافت کروں کہ اسی دوران حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے خود ہی مجھ سے کہا : اے سعد ! اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ‘ میں نے دریافت کیا : اب وہ کہاں ہیں ؟ تو مقداد نے مجھے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ ہیں ‘ میں اُٹھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے مجھے کوئی اذیت لاحق نہیں ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے سعد ! آج سارا دن تم کہاں رہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ‘ میں نے تیراندازی شروع کی اور میں یہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! یہ وہ تیر ہے ‘ جو میں تیرے دشمن پر پھینک رہا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ یہ کہہ رہے تھے : اے اللہ ! تو سعد کی دعا کو قبول فرما ! اے اللہ ! تو سعد کے نشانے کو ٹھیک رکھنا ‘ اے سعد ! تم تیر اندازی جاری رکھو ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے جو بھی تیر پھینکا ‘ اُس کے ساتھ نبی اکرم ﷺ نے یہی کہا : اے اللہ ! تو اس کے نشانے کو ٹھیک رکھنا اور اس کی دعا کو قبول کرنا ‘ اے سعد ! جاری رکھو ! یہاں تک کہ میرا ترکش خالی ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا ترکش میرے آگے کر دیا آپ نے مجھے ایک تیر پکڑایا ‘ جس میں پر نہیں تھا ، تو اس کو چلانا ‘ دوسروں کی بہ نسبت زیادہ دشوار تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس دن جتنے تیر پھینکے تھے ‘ ان کی تعداد ایک ہزار تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

10079

Majma al-Zawaid #10079

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْسٌ، فَدَفَعَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ، فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى انْدَقَّتْ سِنَّتُهَا، وَلَمْ أَزَلْ عَلَى مَقَامِي نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيَّلْتُ رَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيهِ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا بَدَرَتْ مِنْهَا حَدَقَتِي بِكَفِّي، فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَفِّي دَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا ""، فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ، وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Qatadah ibn al-Numan, may Allah be pleased with him, reported that a bow gifted to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was handed to him on the day of Uhud. He shot before the Prophet until its string broke, remaining posted before the Prophet's face meeting arrows with his own face, turning his head to shield the Prophet without shooting back. The last arrow gouged his eyeball into his palm, which he carried running to the Prophet. When the Prophet saw it, his eyes filled with tears and he prayed that since Qatadah had shielded his Prophet with his face, Allah make it his finest eye and sharpest in sight, and so it became. > **"O Allah, Qatadah has shielded Your Prophet with his face, so make it his finest eye and sharpest in sight."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو ایک کمان تحفے کے طور پر دی گئی ‘ وہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ اُحد کے دن مجھے دیدی ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کے ذریعے تیر اندازی کی ‘ یہاں تک کہ اس کا تار ٹوٹ گیا ‘ میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے موجود رہا ‘ تاکہ اپنے چہرے کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو تیروں سے بچا سکوں ‘ جب بھی کوئی تیر ایک طرف سے ہو کر نبی اکرم ﷺ کے چہرے کی طرف جاتا تھا ‘ تو میں اپنے سر کو اس طرف مائل کر دیتا تھا ‘ تاکہ تیراندازی کیے بغیر میں نبی اکرم ﷺ کے چہرے کو بچا سکوں ‘ ان میں سے جو آخری تیر تھا ‘ وہ میری آنکھ پر لگا ‘ میں نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی ، میں اس کو ہتھیلی پر رکھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف بھاگا ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے اسے میری ہتھیلی پر ملاحظہ فرمایا ‘ تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ‘ آپ نے فرمایا : اے اللہ ! قتادہ نے اپنی ذات کے ذریعے تیرے نبی کو بچایا ہے ‘ تو اس کی آنکھوں کو سب سے زیادہ خوبصورت اور اس کی نظر کو سب سے زیادہ تیز کر دے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں اور ان کی نظر سب سے زیادہ تیز تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10080

Majma al-Zawaid #10080

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «كُنْتُ نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَقِي وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَجْهِي، وَكَانَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ مُوقِيًا لِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِظَهْرِهِ حَتَّى امْتَلَأَ ظَهْرُهُ سِهَامًا، وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ أُحُدٍ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Qatadah ibn al-Numan, may Allah be pleased with him, reported that on the day of Uhud he stood before the face of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, shielding it with his own face, while Abu Dujanah Simak ibn Kharashah, may Allah be pleased with him, shielded the Prophet's back with his own back until his back was filled with arrows.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے موجود رہا ‘ میں اپنی ذات کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کا بچاؤ کر رہا تھا ، حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی پشت کے ساتھ پشت ملائے ہوئے تھے ‘ یہاں تک کہ ان کی پشت تیروں سے بھر گئی تھی ‘ یہ غزوہ اُحد کے موقع کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10081

Majma al-Zawaid #10081

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ إِلَّا أَرْبَعَةٌ؛ أَحَدُهُمْ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قُلْتُ لِأَبِي: فَأَيْنَ كَانَ عَلِيٌّ؟ قَالَ: بِيَدِهِ لِوَاءُ الْمُهَاجِرِينَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيِي بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that only four remained with the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, on the day of Uhud, one of them Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him. When asked where Ali was, his father answered that Ali held the banner of the Emigrants.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صرف چار افراد باقی رہ گئے تھے ‘ ان میں سے ایک حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ‘ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت کہاں تھے ؟ انہوں نے بتایا : ان کے ہاتھ میں مہاجرین کا جھنڈا تھا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10082

Majma al-Zawaid #10082

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: قَالَ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ: «سَأَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ فِي الشِّعْبِ: "" هَلْ رَأَيْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُهُ عَلَى جَرِّ الْجَبَلِ وَعَلَيْهِ عَسْكَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَهَوَيْتُ فَرَأَيْتُكَ فَعَدَلْتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ ""، قَالَ الْحَارِثُ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَجِدُهُ بَيْنَ نَفَرٍ سَبْعَةٍ صَرْعَى، فَقُلْتُ لَهُ: ظَفِرَتْ يَمِينُكَ! أَكُلَّ هَؤُلَاءِ قَتَلْتَ؟! قَالَ: أَمَّا هَذَا لِأَرْطَاةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَهَذَا فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَتَلَهُمْ مَنْ لَمْ أَرَهُ، قُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mahmud ibn Labid reported that al-Harith ibn al-Simmah, may Allah be pleased with him, said the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, asked him in the mountain pass on the day of Uhud whether he had seen Abd al-Rahman ibn Awf. He had seen him at the mountain base surrounded by enemy troops but turned toward the Prophet instead. The Prophet said the angels were fighting with him. Al-Harith returned to find Abd al-Rahman among seven slain enemies; Abd al-Rahman said he had killed two including Artah ibn Shurahbil, while those he had not seen killed the rest, whereupon al-Harith affirmed the truth of Allah and His Messenger. > **"Have you seen Abd al-Rahman ibn Awf?" > **"Yes, O Messenger of Allah, I saw him at the mountain base with enemy troops upon him, but I saw you and turned to you." > **"Indeed the angels are fighting with him." > **"Your right hand has prospered; did you kill all of these?" > **"Allah and His Messenger have spoken the truth."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حارث بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ غزوۂ احد کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ جب گھاٹی میں موجود تھے ‘ تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے انہیں پہاڑ کے زیریں حصے میں دیکھا ہے ، مشرکین نے انہیں گھیرا ہوا تھا ‘ میں پہلے ان کی طرف بڑھنے لگا تھا ، پھر میں نے آپ کو دیکھ لیا ‘ تو میں آپ کی طرف آ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فرشتے اس کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں ، حضرت حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، پھر واپس حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس گیا میں نے انہیں پایا کہ وہ سات دشمنوں کے درمیان موجود تھے ‘ جو پچھاڑے جا چکے تھے ‘ میں نے ان سے کہا : آپ کامیاب ہو گئے ہیں ، کیا ان سب کو آپ نے قتل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جہاں تک ارطاۃ بن شرحبیل اور اس شخص کا تعلق ہے ‘ تو ان دونوں کو میں نے قتل کیا ہے ‘ لیکن جہاں تک باقی افراد کا تعلق ہے ‘ تو انہیں جس نے قتل کیا ہے ‘ میں نے اس کو نہیں دیکھا ‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10083

Majma al-Zawaid #10083

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: «أُصِيبَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ، فَاسْتَقْبَلَهُ مَالِكُ بْنُ سِنَانٍ فَمَصَّ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ازْدَرَدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ خَالَطَ دَمِي دَمَهُ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Said, may Allah be pleased with him, reported that the face of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was wounded on the day of Uhud. Malik ibn Sinan, may Allah be pleased with him, met him, sucked the wound and swallowed it, whereupon the Prophet said whoever wishes to look at one whose blood has mingled with his blood should look at Malik ibn Sinan. > **"Whoever wishes to look at one whose blood has mingled with my blood, let him look at Malik ibn Sinan."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم ﷺ کا چہرہ زخمی ہو گیا ، حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے زخم کو چوس لیا اور پھر اسے نگل لیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو دیکھے کہ میرا خون اس کے خون کے ساتھ مل چکا ہو ‘ تو وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

10084

Majma al-Zawaid #10084

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: رَأَيْتُ هِنْدَ ابْنَةَ عُتْبَةَ كَاشِفَةً عَنْ سَاقِهَا يَوْمَ أُحُدٍ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَذَمٍ فِي سَاقِهَا، وَهِيَ تُحَرِّضُ النَّاسَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-Awwam, may Allah be pleased with him, reported that he saw Hind bint Utbah on the day of Uhud with her shins bared, as if still seeing the mark of leprosy on her shin, while she incited the people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ‘ میں نے ہند بنت عتبہ کو دیکھا کہ اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا ‘ اور اس کی پنڈلی میں موجود جذام کے نشان کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے ‘ وہ لوگوں کو ترغیب دیتی پھر رہی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔