Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 6

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10005–10044

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10005

Majma al-Zawaid #10005

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ الْمُجَذَّرُ بْنُ زِيَادٍ لِأَبِي الْبَخْتَرِيِّ بْنِ هِشَامٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that al-Mujadhdhar ibn Ziyad told Abu al-Bakhtari ibn Hisham that the Messenger of Allah ﷺ had forbidden killing him. > **["The Messenger of Allah has forbidden killing you."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجذر بن زیاد نے ابوالبختری بن ہشام سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے تمہیں قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ عبداللہ بن شبیب سے روایت کی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے ۔

10006

Majma al-Zawaid #10006

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيُسْرِ؟ "". قَالَ: لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ "". وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ: يَا عَبَّاسُ، افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ، أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ "". قَالَ: فَإِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ: "" اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ، إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ، فَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا ; فَافْدِ نَفْسَكَ "". وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَخَذَ مَعَهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْسِبْهَا لِي مِنْ فِدَائِي قَالَ: "" لَا ذَلِكَ شَيْءٌ أَعْطَانَا اللَّهُ مِنْكَ "". قَالَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ: "" فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حِينَ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا غَيْرَكُمَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنْ أَصَبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا، وَلِقُثَمَ كَذَا، وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا "". قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that Abu al-Yusr ibn Amr, who is Ka'b ibn Amr of Banu Salamah, captured al-Abbas ibn Abd al-Muttalib. The Messenger of Allah ﷺ asked how he had captured him. He said a man he had never seen before or since, of such-and-such appearance, had aided him. The Messenger of Allah ﷺ told him a noble angel had aided him. He then told al-Abbas to ransom himself and his nephew Aqil ibn Abi Talib and Nawfal ibn al-Harith and his ally Utbah ibn Jahdam of Banu al-Harith ibn Fihr. Al-Abbas claimed he had been Muslim before and was coerced. The Prophet ﷺ replied Allah knows best his affair; if his claim is true Allah will reward him, but his outward case was against them, so he must ransom himself. The Prophet ﷺ had taken twenty ounces of gold found with him. Al-Abbas asked to count it toward his ransom. The Prophet ﷺ refused, saying it was something Allah had granted from him. When he claimed he had no wealth, the Prophet ﷺ asked about the wealth he had left in Makkah with Umm al-Fadl when none but they two were present, appointing so much for al-Fadl, so much for Qutham, so much for Abdullah if he died on the journey. Al-Abbas swore by Him who sent him with truth that none but he and she knew it, and declared he knows he is Allah's Messenger. > **["A noble angel aided you against him."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو جس نے قید کیا تھا ‘ وہ حضرت ابوالیسر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ان کا نام کعب بن عمرو ہے ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : اے ابوالیسر ! تم نے انہیں کیسے قید کیا ہے ‘ تو انہوں نے بتایا : ان کے خلاف میری مدد ایک ایسے شخص نے کی تھی کہ میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد اس حلیے کا شخص کبھی نہیں دیکھا ‘ اس کا حلیہ اس ‘ اس طرح کا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک معزز فرشتے نے ‘ ان کے خلاف تمہاری مدد کی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عباس ! آپ اپنا اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابوطالب کا اور نوفل بن حارث کا اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم کا فدیہ دیں ، جس کا تعلق بنو حارث بن فہر سے ہے ‘ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا انہوں نے کہا : میں اس سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا ‘ وہ لوگ مجھے زبردستی لے کر آئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ کے معاملے کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ آپ جس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں ‘ اگر وہ حق ہوئی ‘ تو اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے خرچ کی جزا دے گا ‘ لیکن آپ کی جو ظاہری صورت حال ہے ‘ اس حوالے سے ہم پر ( احکام لاگو ہوتے ہیں ‘ تو آپ اپنا فدیہ دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن سے سونے کے بیس اوقیہ لیے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے فدیے میں سے اس کا حساب کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک ایسی چیز ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کی طرف سے عطا کی ہے انہوں نے کہا : میرے پاس مال نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ مال کہاں ہے ؟ جو آپ نے مکہ میں نکلتے وقت اُم فضل کے پاس رکھوایا تھا ‘ اور اس وقت آپ دونوں کے ساتھ آپ دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ‘ اور آپ نے یہ کہا تھا اگر اس سفر کے دوران میں مر گیا ، تو فضل کو اتنا ملے گا ، قسم کو اتنا ملے گا ‘ عبداللہ کو اتنا ملے گا ‘ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ اس مال کے بارے میں ‘ میرے اور میری بیوی کے علاوہ اور کسی کو پتہ نہیں تھا ‘ اور مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10007

Majma al-Zawaid #10007

«وَعَنْ أَبِي عَزِيزِ بْنِ عُمَيْرٍ أَخِي مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْتَوْصُوا بِالْأُسَارَى خَيْرًا "". وَكُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَكَانُوا إِذَا قَدَّمُوا غَدَاءَهُمْ وَعَشَاءَهُمْ أَكَلُوا التَّمْرَ، وَأَطْعَمُونِي الْبُرَّ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Aziz ibn Umayr, brother of Mus'ab ibn Umayr: He reported that he was among the captives on the day of Badr when the Messenger of Allah ﷺ commanded kindness to prisoners. He was among a group of Ansar who, when they brought morning and evening meals, ate dates themselves and fed him wheat in observance of the command of the Messenger of Allah ﷺ. > **["Show kindness to the prisoners."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعزیز بن عمیر ‘ جو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں قیدیوں میں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیدیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں انصار کے درمیان تھا ‘ وہ لوگ جب ناشتہ کرتے تھے ‘ یا رات کا کھانا کھاتے تھے ‘ تو خود کھجوریں کھا لیتے تھے اور مجھے گندم کھلاتے تھے ‘ ایسا نبی اکرم ﷺ کے حکم کی وجہ سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

10008

Majma al-Zawaid #10008

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْأَسْرَى؟ "". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ، قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْظُرْ وَادٍ كَثِيرَ الْحَطَبِ فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ نَارًا. قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: قَطَعْتَ رَحِمَكَ. قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ. وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ. وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ. قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَشْدُدْ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ، وَمَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ. وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ، أَنْتُمْ عَالَةٌ فَلَا يَنْقَلِبَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ "". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ: فَسَكَتَ. قَالَ: فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ يَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ: "" إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ "". فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] إِلَى قَوْلِهِ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [الأنفال: 67]». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr the Messenger of Allah ﷺ asked what should be done with the captives. Abu Bakr (Radiya Allahu 'anhu) advised they are his people and kin, to spare them and grant respite hoping Allah will turn to them. Umar (Radiya Allahu 'anhu) advised they expelled and belied him, to bring them forward and strike their necks. Abdullah ibn Rawahah (Radiya Allahu 'anhu) advised to find a valley full of firewood, enter them into it, then set it ablaze upon them. Al-Abbas accused him of severing kinship. The Messenger of Allah ﷺ entered without answering. People debated which counsel he would take. He then came out and explained that Allah softens hearts of men till softer than milk and hardens hearts till harder than stone, likened Abu Bakr to Ibrahim who said whoever follows me is of me and whoever disobeys, Allah is Forgiving Merciful, and to Isa who said if You punish them they are Your servants and if You forgive them You are Mighty Wise, and likened Umar to Nuh who prayed to leave no disbeliever dwelling on earth, and to Musa who prayed to harden their hearts till they see painful punishment. He ruled they are needy, so none shall return except with ransom or striking of neck. Abdullah added that he himself pleaded to except Suhayl ibn Bayda since he had heard him mention Islam. The Prophet ﷺ fell silent, and he never feared stones from heaven as that day, until the Prophet ﷺ excepted Suhayl ibn Bayda. Then Allah revealed that were it not for a prior decree from Allah a great punishment would have touched them for what they took, and that it is not for a prophet to have captives until he has thoroughly subdued the land, seeking worldly gain while Allah seeks the Hereafter. > **["Allah softens hearts of men till softer than milk and hardens hearts till harder than stone; you are needy, so none of them shall return except with ransom or striking of neck, except Suhayl ibn Bayda."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی قوم اور آپ کے اہل خانہ کے لوگ ہیں ، آپ ان سے فدیہ لے لیں اور انہیں چھوڑ دیں ‘ ہو سکتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دیدے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہوں نے آپ کو ( مکہ مکرمہ سے ) نکلنے پر مجبور کیا تھا ‘ آپ کو جھٹلایا تھا ، آپ انہیں آگے کروا کے ان کی گردنیں اڑوا دیں ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی وادی کا جائزہ لیں ، جس میں بہت ساری لکڑیاں ہوں ‘ ان لوگوں کو ( اس وادی میں ) داخل کریں اور پھر ان پر آگ جلوا دیں ‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے قطع رحمی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے ‘ آپ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ، کچھ لوگوں نے کہا : آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کر لیں گے ‘ کچھ لوگوں نے کہا : آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کریں گے کچھ نے کہا : آپ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کریں گے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ اُن لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم کرتا ہے کہ ان میں اتنی نرمی ہوتی ہے کہ وہ دل ‘ دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو سخت کر دیتا ہے اور وہ اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ پتھر سے زیادہ سخت ہوتے ہیں ‘ اے ابوبکر ! تمہاری مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مانند ہے ، جنہوں نے یہ کہا تھا : ’’ جو شخص میری پیری کرے گا ‘ اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا ‘ اور جو میری نافرمانی کرے گا تو ‘ تو بے شک اللہ بخشش کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ‘‘ اے ابوبکر ! تمہاری مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ) انہوں نے یہ کہا : ’’ اگر تو انہیں عذاب دے ‘ تو یہ تیرے بندے ہیں ‘ اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے ‘ تو بے شک تو غلبے والا ‘ حکمت والا ہے ‘‘۔ اے عمر ! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی مانند ہے ( جن کی دعا کا ذکر قرآن میں ‘ ان الفاظ میں ہے : ) ’’ اے میرے پروردگار ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا نہ چھوڑنا ‘‘ اے عمر ! تمہاری مثال یوں ہے ‘ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا تھا : ( جس کا ذکر قرآن میں ہے : ) ’’ تو ان کے دلوں کو سخت کر دے ‘ یہاں تک کہ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں ‘ جب تک یہ دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے ‘‘۔ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) تم لوگوں کی مالی حالت کمزور ہے ‘ ان میں سے کوئی بھی شخص فدیہ دیے ‘ بغیر یا گردن اڑوائے بغیر نہیں جائے گا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! البتہ سہیل بن بیضاء کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ میں نے اسے اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ۔ راوی کہتے ہیں : مجھے اُس دن سے زیادہ خوف اپنے بارے میں کبھی محسوس نہیں ہوا ‘ مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں اُس دن مجھ پر آسمان سے پتھر نازل نہ ہوں ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سہیل بن بیضاء کا معاملہ مختلف ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا ( کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا ) تو تم نے ( بدر کے قیدیوں سے ) جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہونا تھا ‘‘۔ یہ آیت ( بھی اس سے متعلق ) ہے : ’’ نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ( کفار ) اس کے پاس قیدیوں کے طور پر ہوں ( اور وہ فدیہ وصول کر لے ) اسے تو زمین میں خون بہانا چاہیے ‘ تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ ( تمہارے لیے ) آخرت ( کی بھلائی ) کا ارادہ رکھتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور ) حکمت والا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

10009

Majma al-Zawaid #10009

وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْدَاءُ اللَّهِ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ، وَأَنْتَ بَوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Jahsh (Radiya Allahu 'anhu): In a variant he stood and said the enemies of Allah belied, expelled, and fought the Messenger of Allah ﷺ, while he dwells in a valley full of firewood, implying burning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اللہ کے دشمن ہیں ‘ انہوں نے آپ کو جھٹلایا تھا ‘ انہوں نے آپ کو نکال دیا تھا ‘ آپ کے ساتھ جنگ کی ہے ‘ آپ ایک ایسی وادی میں رہتے ہیں ، جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں ۔

10010

Majma al-Zawaid #10010

وَفِي رِوَايَةٍ: يَسْتَنْقِذُهُمْ بِكَ اللَّهُ مِنَ النَّارِ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِتْرَتُكَ وَأَهْلُكَ وَقَوْمُكَ تَجَاوَزْ عَنْهُمْ يَسْتَنْقِذْهُمُ اللَّهُ بِكَ مِنَ النَّارِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ أَيْضًا، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah (Radiya Allahu 'anhu): In a variant Abu Bakr (Radiya Allahu 'anhu) pleaded that they are his kin, household, and people, to pardon them so Allah may save them through him from the Fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے انہیں جہنم سے بچا لے گا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کے خاندان کے اور آپ کی قوم کے لوگ ہیں ‘ آپ ان سے درگزر فرمائیں ‘ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے انہیں جہنم سے بچا لے گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ہے اس نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ‘ تاہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

10011

Majma al-Zawaid #10011

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ قَتَلْتَهُمْ دَخَلُوا النَّارَ وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كَانُوا لَنَا عَضُدًا، وَقَالَ عُمَرُ: أَرَى أَنْ تَعْرِضَهُمْ ثُمَّ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَهَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ، وَقَادَةُ الْكَفْرِ، وَاللَّهِ مَا رَضَوْا أَنْ أَخْرَجُونَا حَتَّى كَانُوا أَوَّلَ الْعَرَبِ غَزَانَا. وَهِيَ مُتَّصِلَةٌ، وَفِيهَا مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Bakr and Umar (Radiya Allahu 'anhuma): In a variant with al-Tabarani, Abu Bakr argued that killing them sends them to Fire while taking ransom may make them a support, while Umar argued to parade them and strike their necks, for they are the chiefs and leaders of disbelief who were not content with expulsion until they were the first Arabs to raid the Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اگر آپ انہیں قتل کر دیتے ہیں ، تو یہ جہنم میں چلے جائیں گے ‘ اور اگر آپ ان سے فدیہ وصول کرتے ہیں ‘ تو ( ہو سکتا ہے ‘ آگے چل کر ) یہ لوگ ہمارے دست و بازو بن جائیں ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ انہیں لائیں اور پھر ان کی گردنیں اڑوا دیں ، کیونکہ یہ کفر کے پیشوا ہیں اور کفر کے قائد ہیں ‘ اللہ کی قسم ! یہ لوگ اس بات پر بھی راضی نہیں ہوئے کہ انہوں نے ہمیں نکلنے پر مجبور کیا تھا ‘ یہاں تک کہ یہ لوگ عربوں میں ‘ ہمارے ساتھ جنگ کرنے والے پہلے افراد بن گئے ‘‘۔ یہ روایت متصل ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10012

Majma al-Zawaid #10012

«وَعَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ قَالَ: اسْتَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ "". قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ، وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ "". قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ، وَأَنْ تَقْبَلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ. قَالَ: فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ مِنَ الْغَمِّ، قَالَ: فَعَفَا عَنْهُمْ، وَقَبِلَ الْفِدَاءَ قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ} [الأنفال: 68] الْآيَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ، لَا يَرْجِعُ إِذَا قِيلَ لَهُ الصَّوَابُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Anas and al-Hasan: They reported that the Prophet ﷺ consulted the people about the captives on the day of Badr, declaring Allah had enabled them over them, though but yesterday they were their brothers. Umar ibn al-Khattab stood twice urging to strike their necks, and the Prophet ﷺ turned away from him. The Prophet ﷺ repeated his address, then Abu Bakr al-Siddiq (Radiya Allahu 'anhu) stood urging to pardon them and accept ransom. The grief left the Prophet's face, so he pardoned them and accepted ransom, and Allah revealed that were it not for a prior decree from Allah they would have been touched for what they took. > **["Allah has enabled you over them, and but yesterday they were your brothers."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر قیدیوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قابو دے دیا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا اور پھر آپ نے اپنی بات دہرائی اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قابو دے دیا ہے اور گزشتہ کل یہ تمہارے بھائی تھے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے یہی بات دہرائی اور آپ نے لوگوں سے اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو ان سے درگزر کریں اور ان سے فدیہ قبول کر لیں ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر جو پریشانی تھی ‘ وہ ختم ہو گئی ‘ آپ نے اُن سے درگزر کیا اور فدیہ قبول کیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا ( کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا ) تو تم نے ( بدر کے قیدیوں سے ) جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں ( عظیم عذاب ) لاحق ہونا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد علی بن عاصم بن صہیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطی اور خطا کرنے والا شخص ہے ‘ جب اُس سے درست بات کے لئے کہا جاتا تھا ، تو وہ رجوع نہیں کرتا تھا ‘ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10013

Majma al-Zawaid #10013

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: «قَالَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ دَخَلَنَا فَأَسْلَمْتُ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ قَدْ أَسْلَمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُ قَوْمَهُ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ - قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ، وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصَ بْنَ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ لَمْ يَتَخَلَّفْ رَجُلٌ إِلَّا بَعَثَ مَكَانُهُ رَجُلًا، فَلَمَّا جَاءَنَا الْخَبَرُ كَبَتَهُ اللَّهُ وَأَخْزَاهُ، وَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا قُوَّةً». قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَمِنْ هُنَا فِي كِتَابِ يَعْقُوبَ مُرْسَلٌ، لَيْسَ فِيهِ إِسْنَادٌ، وَقَالَ فِيهِ: «أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا كَيِّسًا تَاجِرًا ذَا مَالٍ، لَكَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ "". وَقَدْ قَالَتْ قُرَيْشٌ: لَا تَعْجَلُوا فِي فِدَاءِ أَسْرَاكُمْ لَا يَتَأَرَّبُ عَلَيْكُمْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ. فَقَالَ الْمُطَّلِبُ بْنُ أَبِي وَدَاعَةَ: صَدَقْتُمْ فَافْعَلُوا، وَانْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهِ، وَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَثِ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَ الَّذِي أَسَرَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَخُو بَنِي مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا بِاخْتِصَارٍ، وَبَعْضُهُ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُ غَيْرِ الْمُرْسَلِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ikrimah from Abu Rafi (Radiya Allahu 'anhu): He reported that he was a lad belonging to al-Abbas ibn Abd al-Muttalib while Islam had entered them; he, Umm al-Fadl, and al-Abbas had accepted Islam, though al-Abbas feared his people and concealed it. Abu Lahab stayed back from Badr and sent al-As ibn Hisham ibn al-Mughirah in his place, as was their custom to send substitutes. When the news of defeat came Allah abased and disgraced Abu Lahab and they found strength. The report continues without chain in Yaqub's book that among captives was Abu Wada'ah ibn Subayrah al-Sahmi, about whom the Messenger of Allah ﷺ foretold his shrewd merchant son in Makkah would soon come for his ransom. Quraysh warned against hastening ransom lest Muhammad and his Companions exploit them. Al-Muttalib ibn Abi Wada'ah agreed, then slipped away by night, came to Madinah, ransomed his father for four thousand dirhams, while Mikraz ibn Hafs ibn al-Akhyath came to ransom Suhayl ibn Amr, captured by Malik ibn al-Dukhshun of Banu Malik ibn Awf. > **["He has in Makkah a shrewd merchant son with wealth; you will soon see him come for his father's ransom."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ‘ ہم لوگ اسلام قبول کر چکے تھے ‘ میں اسلام قبول کر چکا تھا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اسلام قبول کر چکی تھیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے تھے لیکن وہ اپنی قوم سے خوف زدہ تھے اور اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ‘ ابولہب ‘ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ‘ وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا ‘ اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا تھا ‘ وہ لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے ‘ جب کوئی شخص جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا تھا ‘ تو اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیتا تھا ‘ جب ہمارے پاس اس بارے میں اطلاع آئی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت اور رسوائی کا شکار کر دیا اور ہمیں اپنے اندر قوت محسوس ہوئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ یعقوب کی تحریر میں یہاں ایک ’’ مرسل ‘‘ روایت ہے ‘ جس کی سند نہیں ہے ‘ اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ ان کا تعلق بنو سالم بن عوف سے تھا ‘ اور ان قیدیوں میں ایک ابووداعہ بن صبیرہ سہمی بھی تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مکہ میں اس کا بیٹا ہے ‘ جو بڑا سمجھدار تاجر اور مال دار شخص ہے ‘ وہ جلد ہی اپنے باپ کے فدیے کہ سلسلے میں آ جائے گا ‘ قریش نے اس دوران یہ کہا تھا کہ تم لوگ اپنے قیدیوں کا فدیہ دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرنا ‘ ورنہ حضرت محمد ( ﷺ ) اور ان کے اصحاب تمہارے ساتھ سختی اور زیادتی سے کام لیں گے ‘ تو مطلب بن ابووداعہ نے کہا : تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو ‘ تم ایسا ہی . کرو ‘ پھر رات کو وہ وہاں سے کھسک کر نکل آیا ‘ وہ مدینہ منورہ آیا اس نے اپنے باپ کو چار ہزار درہم کے عوض میں چھڑوایا اور اسے ساتھ لے کر چلا گیا ، پھر مکرز بن حفص بن اخیث ، سہیل بن عمرو کے فدیے کے سلسلے میں آیا ‘ اُسے بنو مالک بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ نے قیدی بنایا ہوا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کا کچھ حصہ ’’ مرسل ‘‘ ہے ‘ جو روایت ’’ مرسل ‘‘ نہیں ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10014

Majma al-Zawaid #10014

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ، وَكُنْتُ قَدْ أَسْلَمْتُ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ، وَأَسْلَمَ الْعَبَّاسُ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ مَخَافَةَ قَوْمِهِ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ، وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصِ بْنَ هِشَامٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ لَهُ: اكْفِنِي مِنْ هَذَا الْغَزْوِ وَأَتْرُكُ لَكَ مَا عَلَيْكَ فَفَعَلَ، فَلَمَّا جَاءَ الْخَبَرُ، وَكَبَتَ اللَّهُ أَبَا لَهَبٍ، وَكُنْتُ رَجُلًا ضَعِيفًا أَنَحَتُ هَذِهِ الْأَقْدَاحَ فِي حُجْرَةِ زَمْزَمَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَجَالِسٌ أَنْحِتُ أَقْدَاحِي فِي الْحُجْرَةِ وَعِنْدِي أُمُّ الْفَضْلِ إِذَا الْفَاسِقُ أَبُو لَهَبٍ يَجُرُّ رِجْلَيْهِ أَرَاهُ قَالَ: حَتَّى جَلَسَ عِنْدَ طُنُبِ الْحُجْرَةِ فَكَانَ ظَهْرُهُ إِلَى ظَهْرِي، فَقَالَ النَّاسُ: هَذَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ، [فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: هَلُمَّ يَا ابْنَ أَخِي، فَجَاء أَبُو سُفْيَانَ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَجَاءَ النَّاسُ فَقَامُوا عَلَيْهِمَا فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُ النَّاسِ؟ قَالَ: لَا شَيْءَ، وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَاهُمْ فَمَنَحْنَاهُمْ أَكْتَافَنَا يَقْتُلُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا، وَيَأْسِرُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا، وَايْمُ اللَّهِ مَا لُمْتُ النَّاسَ قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رِجَالًا بِيضًا عَلَى خَيْلٍ بَلَقٍ لَا وَاللَّهِ لَا تَلْبَقُ شَيْئًا، وَلَا يَقُومُ لَهَا شَيْءٌ قَالَ: فَرَفَعْتُ طُنُبَ الْحُجْرَةِ، فَقُلْتُ: تِلْكَ وَاللَّهِ الْمَلَائِكَةُ، فَرَفَعَ أَبُو لَهَبٍ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهِي، وَثَاوَرْتُهُ فَاحْتَمَلَنِي فَضَرَبَ بِي الْأَرْضَ حَتَّى نَزَلَ عَلَيَّ، وَقَامَتْ أُمُّ الْفَضْلِ فَاحْتَجَرَتْ، وَأَخَذَتْ عَمُودًا مِنْ عُمُدِ الْحُجْرَةِ فَضَرَبَتْهُ بِهِ فَفَلَقَتْ فِي رَأْسِهِ شَجَّةً مُنْكَرَةً، وَقَالَتْ: أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ، اسْتَضْعَفْتَهُ أَنْ رَأَيْتَ سَيِّدَهُ غَائِبًا عَنْهُ، فَقَامَ ذَلِيلًا فَوَاللَّهِ مَا عَاشَ إِلَّا سَبْعَ لَيَالٍ حَتَّى ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْعَدَسَةِ فَقَتَلَتْهُ، فَتَرَكَهُ ابْنَاهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً مَا يَدْفِنَاهُ حَتَّى أَنْتَنَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لِابْنَيْهِ: أَلَا تَسْتَحْيِيَانِ أَنَّ أَبَاكُمَا قَدْ أَنْتَنَ فِي بَيْتِهِ؟ فَقَالَا: إِنَّا نَخْشَى هَذِهِ الْقُرْحَةَ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَتَّقِي الْعَدَسَةَ كَمَا يُتَّقَى الطَّاعُونُ، فَقَالَ رَجُلٌ: انْطَلِقَا فَأَنَا مَعَكُمَا قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا غَسَّلَاهُ إِلَّا قَذْفًا بِالْمَاءِ مِنْ بَعِيدٍ، ثُمَّ احْتَمَلُوهُ فَقَذَفُوهُ فِي أَعْلَى مَكَّةَ إِلَى جِدَارٍ، وَقَذَفُوا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Rafi (Radiya Allahu 'anhu), freedman of the Messenger of Allah ﷺ: He reported that he was a lad of al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, already Muslim with Umm al-Fadl and al-Abbas, who concealed his Islam for fear of his people. Abu Lahab stayed back from Badr and sent al-As ibn Hisham, his debtor, telling him to suffice for the campaign in exchange for his debt. When the news came Allah abased Abu Lahab. Abu Rafi, a weak man, was carving arrow-wood in the Zamzam chamber with Umm al-Fadl beside him when the wicked Abu Lahab dragged his feet and sat by the tent rope, back to back with him. Men announced Abu Sufyan ibn al-Harith. Abu Lahab called his nephew over, men gathered, and asked how the people fared. He replied it was nothing but that they offered their shoulders, to be killed and captured at will, and he blamed no one, for he saw fair men on piebald horses whom nothing withstands. Abu Rafi lifted the tent rope declaring by Allah they were angels, whereupon Abu Lahab struck his face, grappled him, threw him to the ground and mounted him. Umm al-Fadl seized a tent pole, struck Abu Lahab splitting his head with a grievous wound, calling him Allah's enemy for oppressing the weak in his master's absence. He rose abased, lived only seven nights till Allah struck him with lentil-like sores and killed him. His sons left him two or three days unburied till he stank. A Qurashi shamed them, they feared the sores as plague, a man accompanied them, they washed him only by pouring water from afar, carried him, cast him by a wall in upper Makkah, and pelted him with stones.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ‘ میں اسلام قبول کر چکا تھا ‘ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی اسلام کر چکی تھیں ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی اسلام قبول کر چکے تھے ‘ لیکن وہ اپنی قوم کے خوف کی وجہ سے اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ‘ ابولہب غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکتا تھا اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا ‘ جو اس کا مقروض تھا ‘ اس نے عاص بن ہشام سے یہ کہا تھا : تم میری جگہ اس جنگ میں حصہ لو ‘ تمہارے ذمہ جو ادائیگی ہے میں اسے چھوڑ دوں گا ‘ تو اس نے ایسا ہی کیا ‘ جب ( جنگ کے نتیجے ) کی اطلاع آ گئی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ابولہب کو ذلت کا شکار کیا ‘ میں ایک کمزور شخص تھا ، میں زمزم کے حجرے میں تیروں ( کی لکڑی ) چھیل رہا تھا ‘ اللہ کی قسم ! میں بیٹھا ہوا حجرے میں تیروں ( کی لکڑی ) چھیل رہا تھا ‘ میرے پاس سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں ‘ اس دوران فاسق ابولہب اپنی ٹانگیں گھسیٹتا ہوا آیا ‘ میں اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ وہ خیمے کی طناب کے پاس بیٹھ گیا ، اس کی پشت میری پشت کی طرف تھی ‘ لوگوں نے کہا : یہ ابوسفیان بن حارث ( آ رہا ہے ) تو ابولہب نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میری طرف آ جاؤ ‘ ابوسفیان آیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ‘ لوگ آئے اور ان دونوں کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ‘ ابولہب نے کہا : اے میرے بھتیجے ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : کچھ نہیں ۔ اللہ کی قسم ! جب ہمارا ان سے سامنا ہوا ‘ تو یوں محسوس ہوا ‘ جیسے ہم نے اپنے کندھے انہیں تحفے کے طور پر پیش کر دیے ہیں ، تاکہ وہ ہمیں جیسے چاہیں قتل کر دیں ‘ اور جیسے چاہیں ہمیں قیدی بنا لیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا ‘ ابولہب نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ابوسفیان نے کہا : میں نے کچھ گورے چٹے لوگوں کو دیکھا ‘ جو خوبصورت گھوڑوں پر سوار تھے ‘ اللہ کی قسم ! اُن کے لئے کوئی چیز نرم نہیں ہوتی تھی اور کوئی چیز ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی تھی حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حجرے کا طناب اُٹھایا اور میں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ فرشتے ہوں گے ‘ ابولہب اُٹھا ‘ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر طمانچہ رسید کر دیا ‘ میں نے بھی اس پر حملہ کیا اس نے مجھے اٹھایا اور زمین پر دے مارا ‘ یہاں تک کہ وہ مجھ پر چڑھ گیا ۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا انھیں انہوں نے حجرے کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی پکڑی اور وہ لکڑی ابولہب کو ماری تو اس کے سر میں بڑا سا گومڑ نکل آیا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے دشمن ! تم نے اسے کمزور سمجھ لیا ہے ‘ جب یہ دیکھا کہ اس کا آقا یہاں موجود نہیں ہے ‘ تو ابولہب ذلیل ہو کے اٹھ گیا ۔ اللہ کی قسم ! اس کے بعد وہ سات دن زندہ رہا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدسہ ( نامی پھوڑے والی بیماری ) میں مبتلاء کر کے موت کا شکار کر دیا ‘ اُس کے بیٹوں نے دو یا تین راتوں تک اسے ایسی حالت میں رہنے دیا کہ اسے دفن نہیں کیا ‘ یہاں تک کہ اس کے جسم سے بدبو آنے لگی ‘ تو قریش کے ایک فرد نے اُس کے دونوں بیٹوں سے کہا : کیا تمہیں اس بات سے شرم نہیں آتی کہ تمہارا باپ گھر میں پڑا ہوا بودار ہو گیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا : ہمیں اس پھوڑے کے حوالے سے اندیشہ ہے ‘ کیونکہ قریش عدسہ نامی پھوڑے سے اُسی طرح بچتے تھے جس طرح طاعون سے بچتے تھے ‘ تو ایک شخص نے کہا : تم دونوں چلو ! میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! ان دونوں نے اسے غسل نہیں دیا ۔ دور سے اس پر پانی ڈالا پھر اسے اٹھایا اور مکہ کے بالائی حصے میں موجود ایک دیوار کے پاس ڈال دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے ‘ جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10015

Majma al-Zawaid #10015

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: أَسَرْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَدِمَ هِشَامُ بْنُ الْوَلِيدِ لِفِدَائِهِ فَوَهَبْتُ لَهُ حَقِّي وَأَخَذَ الزُّبَيْرُ حَقَّهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Sa'd ibn Abi Waqqas (Radiya Allahu 'anhu): He reported that he and al-Zubayr ibn al-Awwam captured al-Walid ibn al-Walid on the day of Badr. Hisham ibn al-Walid came to ransom him, so Sa'd gifted his share while al-Zubayr took his due.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر کے موقع پر ولید بن ولید کو قیدی بنا لیا ‘ ہشام بن ولید اس کے فدیے کی ادائیگی کے لئے آیا ‘ تو میں نے اپنا حق اُسے ہبہ کر دیا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا حق وصول کر لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10016

Majma al-Zawaid #10016

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَأَقْتُلَنَّ الْيَوْمَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ صَبْرًا "". قَالَ: فَنَادَى عُقْبَةُ - بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَالِي أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِكُمْ صَبْرًا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِكُفْرِكَ بِاللَّهِ، وَافْتِرَائِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ..

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the Messenger of Allah ﷺ declared he would that day slay a Qurashi man bound. Uqbah ibn Abi Muayt cried at the top of his voice asking why he alone among them should be killed bound. The Messenger of Allah ﷺ replied for his disbelief in Allah and his forging lies against Allah's Messenger ﷺ. > **["I shall today slay a man of Quraysh bound."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آج میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو باندھ کر ضرور قتل کروں گا ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو عقبہ بن ابومعیط نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے قریش کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ تم سب کے درمیان مجھے باندھ کر قتل کر دیا جائے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے اللہ تعالیٰ کا کفر کرنے کی وجہ سے اور تمہارے اللہ کے رسول پر افتراء باندھنے کی وجہ سے ( ایسا کیا جائے گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

10017

Majma al-Zawaid #10017

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَارَى بَدْرٍ، وَكَانَ فِدَاءُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَقُتِلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ قَبْلَ الْفِدَاءِ، قَامَ إِلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the Messenger of Allah ﷺ called out to the Badr captives, fixing each man's ransom at four thousand, and that Uqbah ibn Abi Muayt was killed before ransom. Ali ibn Abi Talib stood to him and killed him bound. Uqbah asked who would care for his children, and the Prophet ﷺ replied the Fire. > **["The Fire."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں بدر کے قیدیوں کو پکارا ‘ اُن میں سے ہر ایک فرد کا فدیہ چار ہزار تھا ، فدیہ وصول کرنے سے پہلے ہی عقبہ بن ابومعیط کو قتل کر دیا گیا ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ‘ اور انہوں نے اسے باندھ کر قتل کر دیا ‘ اس نے ( مرنے سے پہلے ) یہ کہا : اے محمد ! بچوں کا کون نگران ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آگ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10018

Majma al-Zawaid #10018

وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ أَبِي مُعَيْطٍ: «حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - وَكَانَ غَيْرَ كَذَّابٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِعُنُقِ أَبِيكَ أَنْ تُضْرَبَ صَبْرًا، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فَقَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ بَعْدِي؟ قَالَ: "" لَهُمُ النَّارُ "". حَسْبُكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Masruq: He reported that he told the son of Ibn Abi Muayt that Abdullah ibn Mas'ud, who was no liar, narrated that the Messenger of Allah ﷺ ordered his father's neck to be struck bound, and when he passed him and asked who would care for his children after him, the Prophet ﷺ replied for them is the Fire, and that Allah's Messenger's decision should suffice him. > **["For them is the Fire."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ابومعیط کے بیٹے سے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ‘ اور وہ جھوٹ بولنے والے نہیں تھے انہوں نے یہ بتایا ہے : ) نبی اکرم ﷺ نے تمہارے باپ کی گردن اُڑانے کا حکم دیا کہ اسے باندھ کر قتل کر دیا جائے ، پھر نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے ‘ تو اس نے دریافت کیا : میرے بعد بچوں کا کون نگہبان ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہیں آگ نصیب ہو گی ۔ ( پھر مسروق نے ‘ عقبہ بن ابومعیط کے بیٹے سے کہا : ) تمہارے لئے وہ چیز کافی ہے ‘ جس کے حوالے سے اللہ کے رسول ﷺ تمہارے لئے راضی ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10019

Majma al-Zawaid #10019

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ ثَلَاثَةَ صَبْرًا، قَتَلَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، وَقَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي نَوْفَلٍ، وَقَتَلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ.» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the Messenger of Allah ﷺ on the day of Badr killed three men bound: al-Nadr ibn al-Harith of Banu Abd al-Dar, Tuaymah ibn Adi of Banu Nawfal, and Uqbah ibn Abi Muayt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر تین افراد کو باندھ کر قتل کروایا تھا ‘ آپ نے نصر بن حارث کو قتل کروایا ‘ جس کا تعلق بنو عبدالدار سے تھا ‘ آپ نے بنونوفل سے تعلق رکھنے والے طعیمہ بن عدی کو قتل کروایا ‘ اور آپ نے عقبہ بن ابومعیط کو قتل کروایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10020

Majma al-Zawaid #10020

«وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِدَاءَ أُسَارَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Al-Nu'man ibn Bashir (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the Messenger of Allah ﷺ fixed the ransom of the polytheist Badr captives at four thousand for each man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ‘ بدر کے قیدیوں میں سے ‘ ہر فرد کا فدیہ چار ہزار مقرر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ’ واقدی ‘ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10021

Majma al-Zawaid #10021

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ نَاحَتْ قَتْلَاهَا ثُمَّ نَدِمَتْ، وَقَالُوا: لَا تَنُوحُوا عَلَيْهِمْ فَيَبْلُغَ ذَلِكَ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ; فَيَشْمَتُوا بِكُمْ، وَكَانَ فِي الْأَسْرَى: أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا تَاجِرًا كَيِّسًا ذَا مَالٍ، كَأَنَّكُمْ قَدْ جَاءَكُمْ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ "". فَلَمَّا قَالَتْ قُرَيْشٌ فِي الْفِدَاءِ مَا قَالَتْ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: صَدَقْتُمْ، وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَيَتَأَرَّبَنَّ عَلَيْكُمْ. ثُمَّ انْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَفَدَى أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn al-Zubayr (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that Quraysh first wailed over their slain then regretted, saying not to wail lest it reach Muhammad and his Companions and they gloat. Among captives was Abu Wada'ah ibn Subayrah al-Sahmi, about whom the Messenger of Allah ﷺ foretold his shrewd wealthy merchant son in Makkah would soon come for his father's ransom. When Quraysh spoke about ransom, al-Muttalib agreed they spoke true lest severity follow, then slipped away by night, came to Madinah, and ransomed his father for four thousand dirhams. > **["He has in Makkah a merchant son, shrewd and wealthy; you will soon see him come for his father's ransom."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے قریش ‘ اپنے مقتولین پر نوحہ کرتے رہے ‘ پھر وہ ندامت کا شکار ہوئے پھر انہوں نے یہ کہا : تم ان پر نوحہ نہ کرو ! اس بات کی اطلاع حضرت محمد ( ﷺ ) اور ان کے ساتھیوں کو ملی ‘ تو وہ اس حوالے سے خوش ہوں گے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : قیدیوں میں ایک شخص ابووداعہ بن صبیرہ سہمی تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مکہ میں اس کا ایک بیٹا ہے ‘ جو تاجر ہے ‘ سمجھدار ہے اور مال دار ہے ‘ وہ اپنے باپ کے فدیے کے سلسلے میں آیا ہی چاہتا ہو گا ‘ جب قریش نے فدیے کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا ‘ تو مطلب نے کہا : تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ تمہارے خلاف زیادتی کریں گے ‘ پھر وہ رات کے وقت کھسک کر نکل آیا اور مدینہ منورہ آ گیا ‘ اس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم ادا کیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10022

Majma al-Zawaid #10022

عَنْ شَقِيقٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ الثَّمَانِيَةَ عَشَرَ الَّذِينَ قُتِلُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي الْجَنَّةِ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: يَا عِبَادِي مَاذَا تَشْتَهُونَ؟ فَقَالُوا: يَا رَبَّنَا هَلْ فَوْقَ هَذَا شَيْءٌ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: عِبَادِي مَاذَا تَشْتَهُونَ؟ فَيَقُولُونَ فِي الرَّابِعَةِ: تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقْتَلُ كَمَا قُتِلْنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي تَسْمِيَةُ مَنْ سُمِّيَ مِنْهُمْ فِي بَابِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَتَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Shaqiq from Ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that the eighteen Companions of the Messenger of Allah ﷺ killed on the day of Badr had their spirits placed by Allah in Paradise within green birds roaming freely. While thus, their Lord looked upon them and asked what they desire. They asked whether anything is beyond this. He repeated asking His servants what they desire, until on the fourth they replied to return their spirits to their bodies to be killed again as they were killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی ہے : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے اٹھارہ افراد غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہوئے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو جنت میں سبز پرندوں میں رکھ دیا ‘ وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں ) چلے جاتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ اس حالت میں ہوتے ہیں کہ اسی دوران کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! کیا اس سے اوپر بھی کوئی چیز ہے ؟ پروردگار فرماتا ہے : اے میرے بندو ! تم کس چیز کی خواہش رکھتے ہو ؟ ( جب یہ سوال جواب ہوتا ہے ‘ تو ) چوتھی مرتبہ میں وہ یہ کہتے ہیں : تو ہماری ارواح کو ہمارے اجسام کی طرف لوٹا دے ‘ تاکہ ہمیں دوبارہ اسی طرح قتل کر دیا جائے ، جس طرح ہم پہلے قتل ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں سے متعلق باب میں ‘ ان افراد کے نام آئیں گے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث ‘ شہداء کی ارواح سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

10023

Majma al-Zawaid #10023

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ فَأُلْقُوا فِي الطُّوَى عُتْبَةُ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ، وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: "" جَزَى اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ، وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا؟ فَقَالَ: "" مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ، أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، وَلَكِنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهَا.

EnglishUnverified translation

Narrated by Aishah (Radiya Allahu 'anha): She reported that on the day of Badr when the Prophet ﷺ passed the group thrown into the pit, Utbah and Abu Jahl and their companions, he stood over them and declared that Allah recompensed the people of a prophet with evil for their vile driving away and vehement belying. They asked how he addresses corpses already putrid. He replied they do not understand his words better than the slain, or rather the slain understand better than them. > **["May Allah recompense with evil the people of a prophet for their vile driving away and vehement belying."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ‘ جب نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کی لاشوں کے پاس سے گزرے جنہیں کنویں میں ڈال دیا گیا ، یعنی عتبہ ‘ ابوجہل اور اس کے ساتھی ‘ تو نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ٹھہر گئے ‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا : نبی کی قوم کو ‘ اللہ تعالیٰ نے برا بدلہ دیا ہے ‘ یہ لوگ کتنے برے طریقے سے پرے کرنے والے تھے اور کتنی شدت کے ساتھ جھٹلانے والے تھے ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ایسی قوم کے ساتھ کیسے کلام کر رہے ہیں ، جو مردار ہو چکے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سمجھ رہے ہو ‘ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ لوگ میری بات کو تم سے زیادہ سمجھ رہے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے تا ہم وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ۔

10024

Majma al-Zawaid #10024

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ، وَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا، فَذَهَبُوا لِيُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَتَرَكُوهُ، وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا؟ "". قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى؟» فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Aishah (Radiya Allahu 'anha): She reported that the Messenger of Allah ﷺ ordered the slain to be cast into the pit, and they were except Umayyah ibn Khalaf, who swelled in his armor filling it; when they moved him he fell apart, so they left him and covered him with dust and stones. When they had cast them, the Messenger of Allah ﷺ stood over them asking the people of the pit whether they found what their Lord promised as true, for he found what his Lord promised him as true. His Companions asked if he addresses dead people, and the like of the previous report follows. > **["O people of the pit, have you found what your Lord promised as true, for I have found what my Lord promised me as true?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( مشرکین سے تعلق رکھنے والے ) مقتولین کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں گڑھے میں ڈال دیا جائے ‘ انہیں گڑھے میں ڈال دیا گیا ‘ صرف امیہ بن خلف کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکا ‘ کیونکہ وہ اپنی زرہ میں پھول گیا تھا ‘ اور وہ زرہ اس میں پھنس گئی تھی ، لوگوں نے اسے حرکت دینا چاہی تو اس کا جسم ٹوٹ گیا ‘ تو لوگوں نے اسے وہیں چھوڑ دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال دیے ‘ جب ان لوگوں نے اُن مقتولین کو گڑھے میں ڈال دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ ان کی لاشوں کے پاس ٹھہرے اور ارشاد فرمایا : ’’ اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا ‘ کیا تم نے اسے سچا پا لیا ہے ؟ میں نے تو اس چیز کو سچا پا لیا ہے ‘ جو میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ‘ آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ کلام کر رہے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10025

Majma al-Zawaid #10025

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طُوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ. قَالَ: وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ. قَالَ: فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشَدَّتْ بِرَحْلِهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ. قَالَ: فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ. قَالَ: حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطُّوَى قَالَ: فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: "" يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانِ، أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ "". قَالَ عُمَرُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا؟ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ». قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا كَلَامَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَتَقْمِئَةً. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Anas ibn Malik (Radiya Allahu 'anhu): He reported that the Messenger of Allah ﷺ ordered some twenty-odd Quraysh chiefs cast into a foul pit among Badr's pits. It was his custom when victorious to remain on the field three nights, which he did at Badr. On the third day he had his mount saddled, walked forth followed by Companions who thought he went to relieve himself, until he stood at the pit's edge, calling them by their names and fathers' names, asking whether they would now have loved to have obeyed Allah and His Messenger and whether they found what their Lord promised as true. Umar asked why he addresses bodies without souls. He swore by Him in whose hand is Muhammad's soul that they hear no less than the living. Qatadah added Allah revived them to hear his rebuke, belittlement, and disgrace. > **["O so-and-so son of so-and-so, would it have pleased you to have obeyed Allah and His Messenger? Have you found what your Lord promised as true?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قریش کے اکابرین میں سے بیس سے زیادہ افراد کے بارے میں حکم دیا ‘ تو انہیں بدر کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا ‘ جو خبیث اور برا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم پر غلبہ پا لیتے تھے ‘ تو آپ اس علاقے میں تین دن ٹھہرے رہتے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے اہل بدر پر غلبہ پا لیا ‘ تو آپ تین دن وہاں ٹھہرے رہے ‘ یہاں تک کہ تیسرے دن نبی اکرم ﷺ نے سواری کے بارے میں حکم دیا ‘ آپ کے پالان کو باندھ دیا گیا ‘ پھر آپ روانہ ہوئے ‘ آپ کے اصحاب بھی آپ کے پیچھے چل پڑے ۔ راوی کہتے ہیں : ہمارا یہ خیال تھا کہ آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جانے لگے ہوں گے ‘ لیکن نبی اکرم ﷺ اس کنویں کے کنارے کے پاس آ کر کھڑے ہوئے آپ نے اُن لوگوں کو ‘ ان کا نام لے کر اور ان کے باپوں کا نام لے کر پکارا اور فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! کیا اب تمہاری یہ خواہش ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ‘ کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی عرض کی اے اللہ کے نبی ! آپ ایسے جسموں کے ساتھ کیوں کلام کر رہے ہیں ، جن میں روح ہی موجود نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ‘ میں جو کہہ رہا ہوں ، تم لوگ اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ‘‘۔ قتادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی عطا کی تھی ، یہاں تک کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے فرمان کو سن لیا ‘ یہ تو بیخ کے طور پر ان کو کمتر ظاہر کرنے کے لئے اور ان کی رسوائی کے لئے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10026

Majma al-Zawaid #10026

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «وَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَتْلَى بَدْرٍ، وَقَالَ: "" جَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ عِصَابَةٍ شَرًّا، قَدْ خُنْتُمُونِي أَمِينًا، وَكَذَّبْتُمُونِي صَادِقًا "". ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ: "" إِنَّ هَذَا كَانَ أَعْتَى عَلَى اللَّهِ مِنْ فِرْعَوْنَ، إِنَّ فِرْعَوْنَ لَمَّا أَيْقَنَ الْهَلَاكَ وَحَّدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمَّا أَيْقَنَ بِالْمَوْتِ دَعَا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ الْوَرَّاقُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the Prophet ﷺ stood over the Badr slain and declared that Allah recompensed them with evil on his behalf, for they betrayed him though trustworthy and belied him though truthful. He then turned to Abu Jahl ibn Hisham declaring he was more defiant toward Allah than Pharaoh, for Pharaoh affirmed Allah's oneness when certain of ruin, while this one invoked al-Lat and al-Uzza when certain of death. > **["May Allah recompense you with evil on my behalf, for you betrayed me though trustworthy and belied me though truthful."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بدر کے مقتولین کے پاس ٹھہرے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف سے تمہیں برا بدلہ دیا ہے ‘ میرے امین ہونے کے باوجود ‘ تم نے میرے ساتھ خیانت کی اور میرے سچے ہونے کے باوجود ‘ تم نے مجھے جھٹلایا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ ابوجہل بن ہشام ( کی لاش کی طرف ) متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا :’’ یہ شخص ‘ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ‘ فرعون سے بھی زیادہ ‘ سرکش تھا ، فرعون کو جب ہلاکت کا یقین ہو گیا ‘ تو اس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کر لیا تھا ، لیکن جب اسے موت کا یقین ہوا ‘ تو اس نے لات اور عزی کو پکارا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد دوراق ہے اور وہ متروک ہے ۔

10027

Majma al-Zawaid #10027

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ: "" يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا"". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَسْمَعُونَ مَا تَقُولُ؟ قَالَ: "" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمُ الْيَوْمَ لَا يُجِيبُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that the Messenger of Allah ﷺ stood over the people of the pit asking whether they found what their Lord promised as true, for he found what his Lord promised him as true. They asked if the dead hear his words. He replied they hear no less than the living, but today they cannot answer. > **["O people of the pit, have you found what your Lord promised as true, for I have found what my Lord promised me as true?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گڑھے والوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا :’’ اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے ؟ کیونکہ میں نے تو اسے حق پا لیا ہے ‘ جو میرے پروردگار نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو ارشاد فرما رہے ہیں ، کیا یہ لوگ اُسے سنتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں اُسے تم ان کے مقابلے میں زیادہ بہتر نہیں سنتے ہو ‘ لیکن آج یہ ایسے لوگ ہیں ، جو جواب نہیں دے سکتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10028

Majma al-Zawaid #10028

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِيدَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَشْرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَهْلِ الْقَلِيبِ فَقَالَ: "" يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَسْمَعُونَ؟ قَالَ: "" يَسْمَعُونَ كَمَا تَسْمَعُونَ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يُجِيبُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سِيدَانَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Saydan from his father: He reported that the Prophet ﷺ looked over the people of the pit asking whether they found what their Lord promised as true. They asked if they hear. He replied they hear as they hear, but they cannot answer. > **["O people of the pit, have you found what your Lord promised as true?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سیدان ‘ اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے گڑھے والوں کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے گڑھے والو ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا ‘ کیا تم نے اُسے حق پا لیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ سنتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اسی طرح سنتے ہیں ، جس طرح تم سنتے ہو ‘ لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن سیدان نامی راوی مجہول ہے ۔

10029

Majma al-Zawaid #10029

«عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: أَصَبْتُ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ بَنِي عَابِدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرُدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ، أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفْلِ. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يَسْأَلُهُ». قَالَ: فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيُّ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Usayd (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr he obtained the sword of Banu Abid ibn al-Marzuban. When the Messenger of Allah ﷺ ordered men to return what was in their hands to the spoils, he brought it and cast it into the booty. The Messenger of Allah ﷺ never withheld anything he was asked. Al-Arqam ibn Abi al-Arqam al-Makhzumi recognized it, asked the Messenger of Allah ﷺ for it, and he gave it to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ‘ مجھے بنو عابد بن مرزبان کی تلوار ملی ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ لوگ اپنے پاس موجود چیزیں لوٹا دیں ( یعنی مال غنیمت میں جمع کروا دیں ) تو میں آیا اور میں نے اس تلوار کو مال غنیمت میں شامل کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے جو چیز مانگی جاتی تھی ، نبی اکرم ﷺ کبھی ’’ نہ ‘‘ نہیں کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ارقم بن ابوارقم مخزومی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو پہچان لیا ‘ انہوں نے وہ نبی اکرم ﷺ سے مانگ لی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ انہیں دیدی ۔

10030

Majma al-Zawaid #10030

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَيْضًا مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ قَالَ: أَصَبْتُ سَيْفَ بَنِي عَابِدٍ الْمَخْزُومِيِّينَ الْمَرْزُبَانِ يَوْمَ بَدْرٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from Abu Usayd Malik ibn Rabi'ah, may Allah be pleased with him, he reported that on the day of Badr he came upon the sword of the Banu Abid, the Makhzumite Marzuban chief. The report preserves a brief spoil account from Badr without further detail.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : حضرت مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر مجھے ’’ بنو عابد مخزومیوں مرزبان ‘‘ کی تلوار ملی ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور ان کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10031

Majma al-Zawaid #10031

وَعَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِي الْأَرْقَمِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ: "" رُدُّوا مَا كَانَ مَعَكُمْ مِنَ الْأَنْفَالِ "". فَرَفَعَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ سَيْفَ بَنِي الْعَابِدِ الْمَرْزُبَانِ فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ، فَقَالَ: هَبْهُ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Arqam ibn Abi al-Arqam, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said on the day of Badr that all spoils with the fighters must be returned for collection. Abu Usayd al-Sa'idi, may Allah be pleased with him, then raised the sword of the Banu al-Abid al-Marzuban, which al-Arqam recognized and asked to be granted to him, and the Prophet granted it to him. > **"Return whatever spoils are with you." > **"Grant it to me, O Messenger of Allah."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگوں کے پاس مال غنیمت میں سے جو کچھ ہے ‘ اُسے واپس کر دو ( یعنی مال غنیمت میں جمع کروا دو ) حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بنو عابد بن مرزبان کی تلوار اٹھائی ‘ تو حضرت ارقم رضی اللہ عنہ نے اُسے پہچان لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مجھے ہبہ کے طور پر دیدیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ انہیں عطا کر دی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10032

Majma al-Zawaid #10032

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدْتُ مَعَهُ بَدْرًا، فَالْتَقَى النَّاسُ فَهَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ، وَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحُوزُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غُرَّةً، حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ: نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا ; فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ. وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ: لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا ; نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ. وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا ; نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، وَاشْتُغِلْنَا بِهِ. فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: 1] فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبْعَ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكُلُّ النَّاسِ نَفَلَ الثُّلُثَ، وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ: "" لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ، وَغَيْرُهُ: كَانَ يَنْفُلُ فِي الْبَدَاءَةِ الرُّبْعَ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلُثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reported that he went out with the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and witnessed Badr. Allah routed the enemy, after which one party pursued the fleeing enemy, one party collected the camp and spoils, and one party surrounded the Prophet to guard him from surprise attack. When night came they disputed, the collectors claiming exclusive right, the pursuers claiming they had cleared the enemy from it, and the guards claiming they had been occupied protecting the Prophet. Then the verse was revealed that the spoils belong to Allah and the Messenger and commanding God-consciousness and reconciliation, and the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, divided it equally among the Muslims. He also used to grant an extra fourth at the outset of a raid into enemy land and an extra third on the return, disliked retention of extra grants, and said the strong among the believers should return to the weak. > **"They ask you about the spoils; say, the spoils are for Allah and the Messenger, so fear Allah and set right your mutual relations." > **"Let the strong among the believers return to the weak."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلا ‘ میں آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوا ‘ لوگوں کا آمنا سامنا ہوا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو پسپا کر دیا ، کچھ لوگ ان کے پیچھے چلے گئے ‘ وہ انہیں بھگا رہے تھے اور قتل کر رہے تھے ‘ کچھ لوگ ان کے ساز و سامان کی طرف گئے ‘ اور اُسے اکٹھا کرنے لگے اور جمع کرنے لگے ‘ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ‘ تاکہ دشمن آپ پر حملہ نہ کر دے ‘ جب رات کا وقت ہوا اور سب لوگ دوبارہ ملے ‘ تو جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا ، تو انہوں نے یہ کہا : ہم نے اسے اکٹھا کیا ہے اور جمع کیا ہے ‘ اس میں کسی اور کا حصہ نہیں ہو گا ، جو لوگ دشمن کے پیچھے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا : تم اس کے بارے میں ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ‘ کیونکہ ہم نے اس ساز و سامان سے دشمن کو پرے کیا ہے اور انہیں پسپا کیا ہے ‘ جو لوگ نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے انہوں نے یہ کہا : اس کے بارے میں تم ‘ ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ‘ ہم نبی اکرم ﷺ کا دھیان رکھ رہے تھے ‘ ہمیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا دے ‘ تو ہم اس طرف مصروف رہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘ تم یہ فرما دو : انفال ‘ اللہ اور رسول کے لئے ہے ‘ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس میں اصلاح کرو ‘‘ تو اللہ کے رسول ﷺ نے وہ مال ‘ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ نبی اکرم ﷺ جب دشمن کی سرزمین پر حملہ آور ہوتے تھے ‘ تو انفال میں سے ایک چوتھائی حصہ ( اضافی ادائیگی ‘ یا انعام ) کے طور پر دیتے تھے اور جب آپ وہاں سے واپس تشریف لے جاتے تھے ‘ تو آپ ایک تہائی حصہ اضافی ادائیگی کے طور پر دیتے تھے آپ انفال ( رکھنے ) کو ناپسند کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” مومنوں میں سے طاقتور لوگ ‘ کمزور لوگوں کو لوٹا دیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور دیگر حضرات نے یہ بات نقل کی ہے : ’’ نبی اکرم ﷺ آغاز میں ایک چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور واپسی کے وقت ایک تہائی حصہ دیتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

10033

Majma al-Zawaid #10033

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِوَاءُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَلِوَاءُ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ - رَضْيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that on the day of Badr the banner of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was with Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, while the banner of the Ansar was with Sad ibn Ubadah, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ کا جھنڈا حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ‘ اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10034

Majma al-Zawaid #10034

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتًّا وَسَبْعِينَ، وَكَانَتْ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشَرَةَ مَضَيْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشْرَ. وَقَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ مِائَتَيْنِ وَسِتًّا وَثَلَاثِينَ، وَكَانَ لِوَاءُ الْمُهَاجِرِينَ مَعَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, used to say that the people of Badr were three hundred and thirteen men, of whom the Emigrants were seventy-six, and that the rout at Badr occurred on Friday, the seventeenth of Ramadan. In another wording the number is given as three hundred and some-odd, the Ansar as two hundred and thirty-six, and the banner of the Emigrants as with Ali, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے تھے : اہل بدر کی تعداد تین سو تیرہ تھی ، جن میں مہاجرین چھہتر تھے ۔ غزوہ بدر کا واقعہ رمضان کی ‘ سترہ تاریخ کو جمعہ کے دن پیش آیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار کی تعداد دو سو چھتیس تھی ‘ اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ان کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔

10035

Majma al-Zawaid #10035

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the day of Badr fell on the twenty-seventh of Ramadan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر ستائیس رمضان کو ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ۔

10036

Majma al-Zawaid #10036

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَدْرِيِّ قَالَ: كَانَتْ صَبِيحَةُ بَدْرٍ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشَرَةَ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Abdullah al-Badri, may Allah be pleased with him, reported that the morning of Badr was on Monday, the seventeenth of Ramadan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن عبدالله بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کی صبح ‘ پیر کے دن ‘ سترہ رمضان کو ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10037

Majma al-Zawaid #10037

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ عِدَّةَ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسَبْعَةَ عَشَرَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reported that the number of the people of Badr was like the number of Talut's companions on the day of Jalut, three hundred and seventeen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل بدر کی تعداد ‘ طالوت کے ساتھیوں کی تعداد جتنی تھی ، جب اُنہوں نے جالوت کے ساتھ جنگ کی تھی ، یعنی تین سو سترہ تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10038

Majma al-Zawaid #10038

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كَانَ عِدَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَمِائَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that the number of the companions of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, at Badr was three hundred.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی تعداد تین سو ( کے لگ بھگ ) تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10039

Majma al-Zawaid #10039

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «هُمْ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَّ ". فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَّرَهُ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ: " عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Ansari, may Allah be pleased with him, in a long report said that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, proposed counting themselves against the polytheists. They counted three hundred and thirteen men, the Prophet was pleased, praised Allah, and said it was the number of Talut's companions. > **"Come, let us count ourselves." > **"The number of Talut's companions."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث منقول ہے ‘ جس میں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ لوگ یعنی مشرکین ( کتنے ہیں ؟ ) تم آؤ ! تاکہ ہم بھی گنتی کر لیں ( کہ ہماری تعداد کتنی ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ) تو ہم تین سو تیرہ افراد تھے ہم نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو آپ اس بات پر خوش ہوئے ‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور ارشاد فرمایا : یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘‘۔ یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔

10040

Majma al-Zawaid #10040

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِشْرُونَ رَجُلًا مِنَ الْمَوَالِي، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. [قَدْ حَضَرَ بَدْرًا جَمَاعَةٌ] فَمِنْهُمْ مَنْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ فِي مَنَاقِبِهِ بِإِسْنَادِهِ وَأَذْكُرُهُ هُنَا بِغَيْرِ سَنَدٍ، وَأُنَبِّهُ عَلَيْهِ: 1 - فَمِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي مَنَاقِبِهِ. 2 - عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي مَنَاقِبِهِ. 3 - عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ وَأَجْرِهِ. 4 - عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي مَنَاقِبِهِ. 5 - سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي مَنَاقِبِهِ. 6 - سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ. 7 - عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي مَنَاقِبِهِ. 8 - الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِي مَنَاقِبِهِ. 9 - طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: ضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ. 10 - أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي مَنَاقِبِهِ. 11 - حَمْزَةُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَاقِبِهِ. وَمَنْ سَمَّاهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَيْهِ. 12 - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ: أَوْسُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ لَا عَقِبَ لَهُ. 13 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ: أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ خَوْلِيٍّ. 14 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَوْسِ: أُنَيْسُ بْنُ قَتَادَةَ. 15 - وَأُنَيْسَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. 16 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: أَسْوَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمٍ. 17 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: أَسْعَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْفَاكِهَةِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَلْدَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَجْلَانَ. 18 - وَمِنْ قُرَيْشٍ: الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ. 19 - وَبِلَالُ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ. 20 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ: بَسْيَسٌ الْجُهَنِيُّ حَلِيفٌ لَهُمْ. 21 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ: بُجَيْرُ بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ حَلِيفٌ لَهُمْ. 22 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: تَمِيمُ بْنُ يَغَارَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ أُمَيَّةَ، 23 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: تَمِيمٌ مَوْلَى خَرَاشِ بْنِ الصِّمَّةَ. 24 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ: ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ. 25 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: [ثَابِتُ بْنُ خَالِدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ خَنْسَاءَ. 27 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَرَامٍ: ثَابِتُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ حَرَامٍ. 28 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحُبُلِيِّ: ثَابِتُ بْنُ رَبِيعَةَ. 29 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: ثَابِتُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ بْنِ عَدِيٍّ. 30 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ: ثَابِتُ بْنُ حَسَّانَ بْنِ عَمْرٍو لَا عَقِبَ لَهُ. 31 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: ثَعْلَبَةُ بْنُ حَاطِبٍ. 32 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَرَامٍ: ثَعْلَبَةُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْجَذْعُ. 33 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَعْلَبَةُ بْنُ عَثْمَةَ. 34 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: جَابِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدِ بْنِ إِيَاسٍ. 35 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: جَابِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبَدِ الْأَشْهَلِ لَا عَقِبَ لَهُ. 36 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ عَدِيٍّ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابِ بْنِ نُعْمَانَ بْنِ سِنَانٍ. 37 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَوْفٍ: جَبْرُ بْنُ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسِ بْنِ حَبَشِيَّةَ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ - ابْنُ هَيْشَةَ. 38 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: حَارِثَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي زُهَيْرِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ. 39 - وَمِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى: حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ حَلِيفٌ لَهُمْ. 40 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ عَدِيٍّ: حَارِثَةُ بْنُ الْحِمْيَرِ حَلِيفٌ لَهُمْ. 41 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: الْحَارِثُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ كَعْبٍ. 42 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ. 43 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ. وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ 44 - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ بَنِي زُرَيْقٍ: الْحَارِثُ بْنُ قَيْسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ شَهِدَ بَدْرًا 45 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَبْذُولٍ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمِهِ. 46 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَةَ بْنِ عَدِيٍّ حَلِيفٌ لَهُمْ مَنْ بَنِي سَالَمٍ. 47 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ عَوْفٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ. 48 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: حُرَيْثُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّبِّ. 49 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ كُلَيْبٍ مَنْ بَنِي النَّجَّارِ. 50 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: رَافِعُ بْنُ سَهْلٍ وَيُقَالُ: ابْنُ يَزِيدَ. 51 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: رَافِعُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ سَوَّادٍ. 52 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: رَافِعُ بْنُ عَنْجَدَةَ. 53 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ. 54 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَجْلَانَ. 55 - وَمِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ: رَبِيعَةُ بْنُ أَكْثَمَ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَنِي أَسَدٍ. 56 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: رِفَاعَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ. 57 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بِلْحَبْلِيٍّ: رَبِيعُ بْنُ إِيَاسٍ. 58 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ: رِبْعِيُّ بْنُ أَبِي رِبْعِيٍّ. 59 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ: رُخَيْلَةُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ خَلْدَةَ. 60 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ: زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ. 61 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ. 62 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ. 63 - وَمِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ: زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بْنِ ثَعْلَبَةَ. 64 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: زَيْدُ بْنُ الْمُزَيِّنِ. 65 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ مِنْ بِلْحَبْلِيٍّ: زَيْدُ بْنُ وَدِيعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ. 66 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ: زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ شَهِدَ الْعَقَبَةَ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 67 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ: زِيَادُ بْنُ عَمْرٍو الْجُهَنِيُّ حَلِيفٌ لَهُمْ. 68 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ. 69 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ. 70 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ السَّلَمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ: سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ. 71 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَعْدُ بْنُ زَيْدٍ. 72 - وَمَنْ بَنِي عَامِرٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ: سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ. 73 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَلْدَةَ بْنِ مَخْلَدٍ. 74 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: سَعْدُ بْنُ النُّعْمَانِ. 75 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ زَيْدٍ: سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ. 76 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَوَّادِ بْنِ غَنْمٍ: سَهْلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي كَعْبِ بْنِ أَبِي الْقَيْنِ. 77 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ: سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ. 78 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: سُهَيْلُ بْنُ رَافِعِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَكَانَ لَهُ وَلِأَخِيهِ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرْبَدًا. 79 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: سُهَيْلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ لَا عَقِبَ لَهُ. 80 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ، وَهُوَ الَّذِي أَخَذَ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ. 81 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ. 82 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَرَامٍ. 83 - وَمِمَّنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ: عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، قَتَلَهُ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَطَعَ رِجْلَهُ فَمَاتَ بِالصَّفْرَاءِ. 84 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ: عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي شَهِدَهَا وَلَمْ يُقْتَلْ بِهَا. 85 - وَمِمَّنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ: عُمَيْرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ. 86 - وَشَهِدَ بَدْرًا: عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ. 87 - وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيِّ بْنِ الْجِدِّ بْنِ الْعَجْلَانِ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَأَجْرِهِ. 88 - وَشَهِدَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَتْبَانُ بْنُ مَالِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَجْلَانَ. 89 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي ظَفَرٍ: قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ. 90 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ: مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ. 91 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ. قُلْتُ: وَأَسَانِيدُ هَؤُلَاءِ كُلِّهِمْ إِلَى ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، إِسْنَادٌ وَاحِدٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَمَنْ سَمَّاهُمْ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَذْكُرُهُمْ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَقَدْ ضُعِّفَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ بِاعْتِبَارِ الشَّوَاهِدِ، وَغَالِبُ مَنْ سَمَّاهُ الزُّهْرِيُّ سَمَّاهُ عُرْوَةُ، وَمِنْ هُنَا سَمَّاهُمْ عُرْوَةُ 92 - فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي أَصْرَمَ بْنِ فِهْرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ أَخُو عُبَادَةَ. 93 - وَمِمَّنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَشَهِدَ بَدْرًا: أَوْسُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ، لَا عَقِبَ لَهُ. 94 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي قَرَبُوسَ بْنِ غَنْمِ بْنِ سَالِمٍ: أُمَيَّةُ بْنُ لَوْذَانَ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ هَزَّالِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَرَبُوسَ بْنِ غَنْمٍ. 95 - وَأُنَيْسَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. 96 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَخْزُومِ بْنِ يَقْظَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ، وَاسْمُ ابْنِ أَبِي الْأَرْقَمِ عَبْدُ مَنَافٍ، وَيُكَنَّى أَبَا خِنْدِفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومِ. 97 - وَبِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ. 98 - وَمِمَّنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ عَدِيٍّ: بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 99 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 100 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ: بَشِيرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ جُلَاسٍ. 101 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي طَرِيفِ بْنِ الْخَزْرَجِ: بَسْبَسٌ الْجُهَنِيُّ حَلِيفٌ لَهُمْ. 102 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي خَلْدَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: تَمِيمُ بْنُ يَعَارَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ. 103 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: تَمِيمٌ مَوْلَى بَنِي غَنْمِ بْنِ السَّلَمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ. 104 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: تَمِيمٌ مَوْلَى خَرَاشِ بْنِ الصِّمَّةَ. 105 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: تَمِيمٌ مَوْلَى خِرَاشِ بْنِ الصِّمَّةَ. 106 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ: ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْعَجْلَانِ. 107 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ: أَوْسُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو. 108 - وَشَهِدَ بَدْرًا، ثَابِتُ بْنُ عُمَرَ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ سَوَّادِ بْنِ عِصْمَةَ أَوْ عُصَيَّةَ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ أَشْجَعَ. 109 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَصَّنِ بْنِ عُبَيْدٍ. 110 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ: ثَعْلَبَةُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الْجَذِعُ. 111 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَعْلَبَةُ بْنُ عَتْمَةَ. 112 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: جُبَيْرُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدِ بْنِ زُرَيْقٍ. 113 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ: جَابِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبَدِ الْأَشْهَلِ، لَا عَقِبَ لَهُ. 114 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابِ بْنِ نُعْمَانَ بْنِ سِنَانٍ. 115 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: جَابِرُ بْنُ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسِ بْنِ حَبَشِيَّةَ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: ابْنُ هَيْشَةَ. 116 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَابِسِ بْنِ سِنَانِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ غَنْمٍ. 117 - وَشَهِدَ بَدْرًا: حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ. 118 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ: حَارِثَةُ بْنُ الْحِمْيَرِ، حَلِيفٌ لَهُمْ، مِنْ أَشْجَعَ بْنِ دَهْمَانَ. 119 - وَشَهِدَ بَدْرًا: الْحَارِثُ بْنُ سَوَّادٍ. 120 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: الْحَارِثُ بْنُ سُرَاقَةَ. 121 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: الْحَارِثُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ. 122 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: الْحَارِثُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَبُو خَالِدٍ. 123 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَبْذُولٍ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَامِرٍ. 124 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: الْحَارِثُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ. 125 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: الْحَارِثُ بْنُ خَزْمَةَ بْنِ أَبِي غَنْمِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ. 126 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: حُرَيْثُ بْنُ زَيْدٍ. 127 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: ذَكْوَانُ بْنُ عَبْدِ قَيْسِ بْنِ خَلْدَةَ وَكَانَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 128 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زَعْوَرِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ بْنِ يَزِيدَ: رَافِعُ بْنُ يَزِيدَ. 129 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: رَافِعُ بْنُ الْمُعَلَّى بْنُ لَوْذَانَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَنَاةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَصْبِ بْنِ جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ بَدْرٍ. 130 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: رَافِعُ بْنُ جَعْدَبَةَ. 131 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: رَافِعُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ سَوَّادِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ. وَعَنْ عُرْوَةَ أَيْضًا: 132 - أَنَّ بَشِيرَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ. 133 - وَالْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ خَرَجَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ فَرَجَعَهُمَا. 134 - وَأَمَرَ أَبَا لُبَابَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَضَرَبَ لَهُمَا بِسَهْمَيْنِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ. 135 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَجْلَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ زُرَيْقٍ، وَهُوَ نَقِيبٌ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 136 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنْ حُلَفَاءِ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ: رَبِيعَةُ بْنُ أَكْتَمَ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ. 137 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ: رِفَاعَةُ بْنُ قَيْسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ سَالِمِ بْنِ غَنْمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَكَانَ مِمَّنْ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. 138 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي لَوْذَانَ بْنِ غَنْمِ بْنِ عَوْفِ ابْنِ الْخَزْرَجِ: رَبِيعُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ غَنْمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ غَنْمٍ. 139 - وَشَهِدَ بَدْرًا: زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ شُرَاحِيلَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ يَزِيدَ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ الْكَلْبِيُّ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَرَسُولُهُ. 140 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ: زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ. 141 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَهُمْ بَنُو جَدِيلَةَ: أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ نَقِيبٌ - قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: سَهْلُ بْنُ زَيْدٍ بَدَلُ: زَيْدِ بْنِ سَهْلٍ. 142 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ: زَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ. 143 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جَزَرَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَهُوَ بَنُو الْحُبَلِيِّ: زَيْدُ بْنُ الْمَرْسِ. 144 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَالِمِ بْنِ غَانِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَهُمْ بَنُو الْحُبَلِيِّ: زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ وَدِيعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسِ بْنِ جَزِيِّ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مَالِكِ بْنِ سَالِمِ بْنِ غَانِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ. 145 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْعَجْلَانِ. 146 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ زُرَيْقِ بْنِ عَبْدِ حَارِثَةَ: زِيَادُ بْنُ لَبِيدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ سِنَانِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ بَيَاضَةَ. 147 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ. 148 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ دُلَيْمِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَهُوَ نَقِيبٌ وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 149 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ. 150 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَعْدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ بْنِ كَعْبٍ. 151 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ: سَعْدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ. 152 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَوَّادِ بْنِ كَعْبٍ - وَاسْمُ كَعْبٍ: ظُفَرُ: سَعْدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ. 153 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: سَعْدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ قَيْسٍ. 154 - وَشَهِدَ بَدْرًا: سَعْدٌ مَوْلَى حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ. 155 - وَسَعْدٌ مَوْلَى حَوْلِيٍّ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ مَذْحِجٍ. 156 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ: سَهْلُ بْنُ عَدِيٍّ. 157 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ: سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ. 158 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَلَمَةُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 159 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَوْفٍ: سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ. 160 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ: أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ بْنِ أَوْسِ بْنِ لَوْذَانَ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ،. 161 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ لِبَيْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُشَمٍ: نَهِيكُ بْنُ نُعْمَانَ بْنِ خَنْسَاءَ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 162 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ: عُثْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ سَوَادَةَ. 163 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ. 164 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ لِبَيْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَرَخْسَ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ الْبُرَكِ وَهُوَ بَدْرِيٌّ. 165 - وَشَهِدَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَرَامِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامِ وَهُوَ نَقِيبٌ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 166 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سَالِمِ بْنِ غَانِمِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَهُوَ الْحُبَلِيُّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولٍ. 167 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَارِقٍ الْبَلَوِيُّ حَلِيفٌ لَهُمْ. 168 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْعَجْلَانِ. 169 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي جَزَرَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ. 170 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَدْرَةَ بْنِ عَوْفٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَيْرٍ. 171 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَبْجَرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبِيعِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَايِدِ بْنِ الْأَبْجَرِ. 172 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي لَوْذَانَ بْنِ غَنْمٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ حَزْمَةَ بْنِ أَصْرَمَ حَلِيفٌ لَهُمْ. 173 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ ثُمَّ مِنْ بَنِي خَنْسَاءَ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ عُبَيْدٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَدِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ. 174 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحِمْيَرِ الْأَشْجَعِيُّ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ أَشْجَعَ. 175 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي خَنْسَاءَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ نُعْمَانَ بْنِ شَيْبَانَ. 176 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حِبَاسِ بْنِ سَنَانِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسِ بْنِ صَخْرِ بْنِ جُذَامِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ غَنْمٍ. 177 - وَاسْتُشْهِدَ بِبَدْرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ: عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ؛ قَتَلَهُ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ؛ قَطَعَ رِجْلَهُ فَمَاتَ بِالصَّفْرَاءِ. 178 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ: أَبُو عُبَيْسِ بْنُ جَبْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ بْنِ جُشَمِ بْنِ حَارِثَةَ. 179 - وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ: عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ. 180 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ: عِمَارَةُ بْنُ حَزْمِ بْنِ زَيْدٍ. 181 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي خَنْسَاءَ بْنِ مُدْرِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَنْمِ بْنِ مَازِنٍ: عُمَيْرٌ وَيُكَنَّى عُمَيْرٌ أَبَا دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ خَنْسَاءَ بْنِ مُدْرِكٍ. 182 - وَاسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ: عُمَيْرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ. 183 - وَشَهِدَ بَدْرًا، بْنُ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ بْنِ جَابِرِ بْنِ وَهْبِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ مَازِنِ بْنِ مَنْصُورِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ خَصْفَةَ بْنِ قَيْسِ عَيْلَانَ مِنْ مُضَرَ، حَلِيفُ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. 184 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَالِمٍ: عَتْبَانُ بْنُ مَالِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَجْلَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ غَانِمِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْخَزْرَجِ. 185 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ: فَرْوَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 186 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ: زَيْدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ مَبْذُولٍ. 187 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَوَّادِ بْنِ كَعْبٍ - وَاسْمُ كَعْبٍ: ظُفَرُ -: قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ. 188 - وَشَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ حَلِيفُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَمَاتَ أَبُو مَرْثَدٍ سَنَةَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَسِتِّينَ سَنَةً. 189 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زَعْوَرَاءَ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ: مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ مُجَدَّعَةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ. 190 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ، وَهُوَ نَقِيبٌ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ بَايَعَ بِالْعَقَبَةِ. 191 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَوْسِ بْنِ عَائِذِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ أَدِي بْنِ سَعْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ أَسَدِ بْنِ شَارِدَةَ بْنِ تَزِيدَ بْنِ جُشَمٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. 192 - وَشَهِدَ بَدْرًا: الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو. 192 - وَشَهِدَ بَدْرًا: مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ. 194 - وَشَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ: أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نَيَّارِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ حَلِيفٌ لَهُمْ مِنْ بَلِيٍّ، وَهُوَ بَدْرِيٌّ. قُلْتُ: وَإِسْنَادُ عُرْوَةَ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِذَا تُوبِعَ وَقَدْ تُوبِعَ مِنْ طَرِيقِ الزُّهْرِيِّ كَمَا تَقَدَّمَ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِإِسْنَادِهِ إِلَيْهِ فِي تَرَاجِمَ ذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّهُمْ شَهِدُوا بَدْرًا، وَالْإِسْنَادُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: 195 - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ: الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَبْذُولٍ، كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمِهِ. 196 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ كُلَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَوْفِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، تُوُفِّيَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ مَعَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ. 197 - وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ الْبُرَكِ - وَاسْمُ الْبُرَكِ: امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ - ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمِهِ وَأَجْرِهِ. 198 - وَشَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَبِيبِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَارِثَةَ: رَافِعُ بْنُ الْمُعَلَّى. 199 - وَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ؛ كَانَ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ فَرَجَعَهُ وَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَأَجْرِهِ مَعَ أَهْلِ بَدْرٍ. 200 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْخَزْرَجِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَجْلَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرِ بْنِ زُرَيْقٍ عَبْدُ حَارِثَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَصَبِ بْنِ جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ. 201 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَعْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ بْنِ جُشَمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ. 202 - وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَنْصَارِ: سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ. 203 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ: سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ النَّجَّارِ بْنِ كَعْبِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ السَّلَمِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ. 204 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ: سَهْلُ بْنُ حُنَيْفِ بْنِ وَاهِبِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُجَدَّعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمْرٌو الَّذِي يُقَالُ لَهُ: بَحْزَجُ بْنُ خُنَيْسِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ. 205 - وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَلَمَةُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشِ بْنِ رَعِيَّةَ بْنِ زَعْوَرَا بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ بْنِ جُشَمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ. 206 - وَشَهِدَ بَدْرًا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ بْنِ رِئَابِ بْنِ يَعْمُرَ بْنِ صَبْرَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَبِيرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ. 207 - وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ: عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ؛ قَتَلَهُ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَطَعَ رِجْلَهُ فَمَاتَ بِالصَّفْرَاءِ. وَأَعَادَهُ بِسَنَدِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَتَلَهُ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ؛ قَطَعَ رِجْلَهُ فَمَاتَ بِالصَّهْبَاءِ. 208 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْأَوْسِ: أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ بْنِ جُشَمِ بْنِ مُجَدَّعَةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ الْأَوْسِ. 209 - وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ بَدْرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ: عُمَيْرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصِ بْنِ أَهْيَبَ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ. 210 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ: عَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ بْنِ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ. 211 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ: عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ، وَلَمْ يَنْسُبْهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَيُقَالُ: إِنَّهُ حَلِيفٌ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَيُقَالُ: إِنَّهُ مِنْ أَنْفُسِهِمْ. 212 - وَشَهِدَ بَدْرًا: عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنِ بْنِ حَرْثَانَ بْنِ كَبِيرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ. 213 - وَشَهِدَ بَدْرًا: أَبُو أُسَيْدٍ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْبَدِّيِّ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ حَارَثَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ. 214 - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَقْيَسَ بْنِ عَائِذِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ أُدَيٍّ؛ شَهِدَ بَدْرًا وَالْعَقَبَةَ، وَإِنَّمَا ادَّعَتْهُ بَنُو سَلَمَةَ لِأَنَّهُ كَانَ أَخَا سُهَيْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْجِدِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ بْنِ سِنَانِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ لِأُمِّهِ. 215 - وَشَهِدَ بَدْرًا: مُعَاذُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَفَاعَةَ بْنِ سَوَّارِ بْنِ مَالِكِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَعَفْرَاءُ أُمُّهُ، وَهِيَ أُمُّ عَوْفٍ وَمُعَوَّذٍ كُلُّهُمْ شَهِدَ بَدْرًا، وَعَفْرَاءُ بِنْتُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ. 216 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنَ الْخَزْرَجِ: مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَسَدِ بْنِ شَارِدَةَ وَيُقَالُ: سَادِرَةُ بْنُ تَزِيدَ بْنِ جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ، شَهِدَ بَدْرًا، وَقَتَلَ أَبَا جَهْلٍ ; فَقَطَعَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ يَدَهُ، ثُمَّ عَاشَ إِلَى زَمَنِ عُثْمَانَ. 217 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ: أَبُو مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَاسْمُهُ مَسْعُودُ بْنُ أَصْرَمَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ. 218 - وَشَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ: النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ دَعْلِ بْنِ فَهْمِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ. وَمِمَّنْ سَمَّاهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ وِجَادَةً عَنْ كِتَابِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَهُمْ: 219 - ثَعْلَبَةُ بْنُ قَيْظِيِّ بْنِ صَخْرِ بْنِ سَلَمَةَ بَدْرِيٌّ. 220 - وَجَبْرُ بْنُ أَنَسٍ بَدْرِيٌّ مَنْ بَنِي زُرَيْقٍ. 221 - وَجَبَلَةُ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ بَدْرِيٌّ. 222 - وَالْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ بَدْرِيٌّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. 223 - وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ رَجَعَ مِنَ الرَّوْحَاءِ. 224 - وَحُصَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ بَدْرِيٌّ شَهِدَ مَعَهُ كُلَّ مَشَاهِدِهِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ؛ وَهُوَ ضَعِيفٌ. 225 - وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ بَدْرِيٌّ مِنْ بَنِي حَارِثٍ، رَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَهْمًا. وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. 226 - وَخَلِيفَةُ بْنُ عَدِيٍّ مَنْ بَنِي بَيَاضَةَ بَدْرِيٌّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. 227 - وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ بَدْرِيٌّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ؛ وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. 228 - وَرِبْعِيُّ بْنُ عَمْرٍو مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، بَدْرَيٌّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. 229 - وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، بَدْرَيٌّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. 230 - وَزَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ، بَدْرِيٌّ، كَانَ يَنْزِلُ الْمَدِينَةِ، تُوفِّي فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ. وَمِمَّنْ سَمَّاهُمُ الطَّبَرَانِيُّ بِغَيْرِ إِسْنَادٍ: أَوْسٌ، وَيُقَالُ: سُلَيْمٌ أَبُو كَبْشَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ دَوْسِ قَالِطٍ، ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا. وَالْحَكَمُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ شَهِيدًا. 231 - وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ غَضَبِ بْنِ جُشَمِ بْنِ الْخَزْرَجِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ بَدْرِيٌّ، وَيُقَالُ: عُبَادَةُ، وَالصَّحِيحُ: أَبُو عُبَادَةَ. 232 - وَصُهَيْبُ بْنُ سِنَانِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ جَنْدَلَةَ بْنِ جُذَيْمَةَ، وَيُقَالُ:] خُزَيْمَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ أَوْسِ بْنِ مَنَاةَ بْنِ نَمِرِ بْنِ قَاسِطِ بْنِ وَهْبِ بْنِ أَفْصَى بْنِ جَدِيلَةَ بْنِ أَسَدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ نِزَارٍ - ذَكَرَ هَذِهِ النِّسْبَةَ هِشَامٌ الْكَلْبِيُّ - حَلِيفُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَدْعَانَ التَّيْمِيُّ، وَكَانَتْ الرُّومُ سَبْتَهُ مِنَ الْمَوْصِلِ وَهُوَ صَغِيرٌ يُكَنَّى: أَبَا يَحْيَى، وَأُمُّ صُهَيْبٍ سَلْمَى بِنْتُ الْحَارِثِ. 233 - وَعُثْمَانُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبٍ يُكَنَّى: أَبَا السَّائِبِ، وَكَانَ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ، وَقَدِمَ مَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ، فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَشَهِدَ بَدْرًا. 234 - وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ مَالِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَقَبِيٌّ بَدْرِيٌّ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ مُؤْتَةَ. 235 - وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَهْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هَصِيصِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، لَمْ يَذْكُرْهُ عُرْوَةُ فِي أَهْلِ بَدْرٍ، وَذَكَرَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ فِي مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ، وَرَوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَذَكَرَهُ أَيْضًا عُبَادَةُ الزُّرَقِيُّ، وَيُقَالُ: أَبُو عُبَادَةَ، فَمَنْ قَالَ: أَبُو عُبَادَةَ، قَالَ: اسْمُهُ سَعِيدٌ وَقَدْ تَقَدَّمَ نَسَبُهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that twenty men of the clients, the mawali, witnessed Badr with the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him. The compiler then notes those whose Badr service he already mentioned with chains under their virtues, listing them here without chains: Abu Bakr al-Siddiq, Umar ibn al-Khattab, Uthman ibn Affan for whom a share and reward were assigned, Ali ibn Abi Talib, Sad ibn Abi Waqqas, Said ibn Zayd for whom a share was assigned, Abd al-Rahman ibn Awf, al-Zubayr ibn al-Awwam, Talhah ibn Ubaydullah for whom a share was assigned, Abu Ubaydah ibn al-Jarrah, and Hamzah, the uncle of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, may Allah be pleased with them all. He then transmits the extensive roll of those whom Muhammad ibn Muslim al-Zuhri named among the witnesses of Badr, beginning with Aws ibn Thabit ibn al-Mundhir of Banu Awf ibn al-Khazraj who left no offspring, Aws ibn Abdullah ibn al-Harith ibn Khawli, Unays ibn Qatadah of the Aws, Unaysah the freedman of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, Aswad ibn Zayd ibn Thalabah ibn Ghanm of Banu Salamah, Asad ibn Zayd ibn al-Fakihah of Banu Zurayq, al-Arqam ibn Abi al-Arqam of Quraysh, Bilal the freedman of Abu Bakr and Bishr ibn al-Bara ibn Marur, and continuing through scores of Ansari names from the clans of Khazraj and Aws such as Banu Saidah, Banu Dinar ibn al-Najjar, Banu al-Harith, Banu Salamah, Banu al-Ajlan, Banu al-Najjar, Banu Zurayq, together with Qurashi allies like Rabiah ibn Aktham and Zayd ibn Harithah, Zayd ibn al-Khattab, Abu Talhah Zayd ibn Sahl, Sad ibn Muadh, Sad ibn al-Rabi, and many others recorded at length in the original roster.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں تیس ایسے افراد شریک ہوئے تھے جن کا تعلق ’’ موالی ‘‘ سے تھا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ غزوہ بدر میں ایک جماعت شریک ہوئی تھی ( جن کے اسماء درج ذیل ہیں : ) ان میں سے بعض وہ حضرات ہیں ، جن کا ذکر میں نے سند کے ساتھ ، اُن کے مناقب سے متعلق باب میں کیا ہے اور یہاں میں ان کا ذکر سند کے بغیر کروں گا اور اس پر تنبیہ کر دوں گا : 1- ان نے میں سے ایک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ، جن کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 2- حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، ان کا ذکر بھی ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 3 - حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ نے اُن کے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور اُن کے لئے اجر طے کیا تھا ۔ 4- حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، ان کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 5- حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، ان کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 6- سعید بن زید رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ نے ان کا حصہ مقرر کیا تھا ۔ 7- عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، ان کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 8 - زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ، ان کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 9- طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ نے ان کا حصہ مقرر کیا تھا ۔ 10 - ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ، ان کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ 11- حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے چچا ہیں ، ان کا ذکر ان کے مناقب میں آئے گا ۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے افراد کے جو نام محمد بن مسلم زہری نے بیان کیے ہیں اور زہری تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ( ان حضرات کے اسماء درج ذیل ہیں : ) 12 - انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے ، حضرت اوس بن ثابت بن منذر رضی اللہ عنہ ، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ 13- انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے ، حضرت اوس بن عبداللہ بن حارث بن خولی رضی اللہ عنہ ۔ 14- انصار کی شاخ بنو اوس سے تعلق رکھنے والے حضرت انیس بن قتادہ رضی اللہ عنہ ۔ 15- حضرت انیسہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے غلام تھے ۔ 16- انصار کی شاخ بنو خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت اسود بن زید بن ثعلبہ بن غنم رضی اللہ عنہ ۔ 17 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت اسعد بن زید بن فاکہ بن زید بن خلده بن عامر بن عجلان رضی اللہ عنہ ۔ ( قریش میں سے درج ذیل حضرات شریک ہوئے : ) 18 - حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ ۔ 19 - حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نسبت ولاء رکھتے ہیں اور حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ ۔ 20 - انصار کی شاخ بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت بسیس جہنی رضی اللہ عنہ ، جو ان کے حلیف ہیں ۔ 21 - انصار کی شاخ بنودینار بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت بجیر بن ابوبجیر رضی اللہ عنہ ، جو ان کے حلیف ہیں ۔ 22 - انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم بن يغار بن قیس بن عدی بن امیہ رضی اللہ عنہ ۔ 23 - انصار کی شاخ بنو خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم رضی اللہ عنہ ، جو خراش بن صمہ سے نسبت ولاء رکھتے ہیں ۔ 24- انصار کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ ۔ 25 - انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن خالد بن نعمان بن خنساء رضی اللہ عنہ ۔ 26 - انصار کی شاخ بنو خزرج کی شاخ ، بنو سلمہ کی شاخ ، بنو حرام سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن ثعلبہ بن زید بن حارث بن حرام رضی اللہ عنہ ۔ 27 - انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج کی شاخ بنو حبلیٰ سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ۔ 28 - انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن عمرو بن عدی رضی اللہ عنہ ۔ 30 - انصار کی شاخ بنو عدی بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن حسان بن عمرو رضی اللہ عنہ ، ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ 31- انصار کی شاخ بنو اوس کی شاخ بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن حاطب رضی اللہ عنہ ۔ 32 - انصار کی شاخ بنو جشم بن خزرج کی شاخ بنو سلمہ کی شاخ بنو حرام سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ جنہیں ” الجذع ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ 33- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن عثمہ رضی اللہ عنہ ۔ 34 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت جابر بن خالد بن مخلد بن ایاس رضی اللہ عنہ ۔ 35- انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت جابر بن خالد بن عبداشہل رضی اللہ عنہ ، ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ 36- انصار کی شاخ بنو عبید بن عدی سے تعلق رکھنے والے حضرت جابر بن عبداللہ بن رئاب بن نعمان بن سنان رضی اللہ عنہ ۔ 37 - انصار کی شاخ بنو مالک بن معاویہ بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت جبر بن عتیک بن حارث بن قیس بن حبشیہ رضی اللہ عنہ ، ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : ان کا نام ’’ ابن ہیشہ ‘‘ ہے ۔ 38 - انصار کی شاخ بنو حارث بن حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت حارثہ بن زید بن ابوزہیر بن امرؤ القيس رضی اللہ عنہ ۔ 39 - بنو اسد بن عبدالعزیٰ سے تعلق رکھنے والے حضرت حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ ، جو ان کے حلیف ہیں ۔ 40- انصار کی شاخ بنو عبید بن عدی سے تعلق رکھنے والے حضرت حارثہ بن حمیر رضی اللہ عنہ ، جو ان کے حلیف ہیں ۔ 41 - انصار کی شاخ بنو نبیت کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن قیس بن مالک بن عبید بن کعب رضی اللہ عنہ ۔ 42- انصار کی شاخ بنو نبیت کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن اوس رضی اللہ عنہ ۔ 43- انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ ، یہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے ہیں ۔ 44 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن قیس بن خالد بن مخلد ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 45 - انصار کی شاخ بنو مالک بن نجار کی شاخ بنو مبذول سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن صمہ بن عمرو بن عبید رضی اللہ عنہ ، روحاء کے مقام پر ان کی ( کوئی ہڈی ) ٹوٹ گئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کا حصہ مقرر کیا تھا ۔ 46 - انصار کی شاخ بنو نبیت کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن خزمہ بن عدی رضی اللہ عنہ ، یہ ان کے حلیف ہیں اور بنو سالم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 47 - انصار کی شاخ اوس کی شاخ بنو عمرو بن حنظلہ بن عوف سے تعلق رکھنے والے ، جو بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھتے ہیں ، حضرت حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ ۔ 48- انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت حریث بن زید بن ثعلبہ بن عبدالرب رضی اللہ عنہ ۔ 49- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوایوب خالد بن زید بن کلیب رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو نجار سے ہے ۔ 50- انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن سہل ہیں ، جنہیں ابن یزید کہا جاتا ہے ۔ 51- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن حارث بن سواد رضی اللہ عنہ ۔ 52- انصار کی شاخ ، اوس کی شاخ ، بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن عنجدہ رضی اللہ عنہ ۔ 53 - انصار کی شاخ ، اوس کی شاخ ، بنو عمرو بن عوف کی شاخ ، بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ ۔ 54- انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ ۔ 55- بنو عبدشمس سے تعلق رکھنے والے حضرت ربیعہ بن اکثم رضی اللہ عنہ ، یہ ان کے حلیف تھے اور خود بنو اسد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 56 - انصار کی شاخ ، اوس کی شاخ ، بنو عمرو بن عوف کی شاخ ، بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ ۔ 57- انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے جو بلحبلی میں سے ہیں ، حضرت ربیع بن ایاس رضی اللہ عنہ ۔ 58- انصار کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے حضرت ربعی بن ابوربعی رضی اللہ عنہ ۔ 59- انصار کی شاخ بنو بیاضہ سے تعلق رکھنے والے حضرت رخیلہ بن ثعلبہ بن خلدہ رضی اللہ عنہ ۔ 60 - قریش کی شاخ بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ۔ 61- قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ ۔ 62- انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ ۔ 63- اوس کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن اسلم بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ۔ 64- انصار کی شاخ بنو حارث سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن مزین رضی اللہ عنہ ۔ 65 - انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج میں سے بلحبلی سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن ودیعہ بن عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ ۔ 66 - انصار کی شاخ بنو بیاضہ سے تعلق رکھنے والے حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ ، جنہیں بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ۔ 67 - انصار کی شاخ بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت زیاد بن عمرو جہنی رضی اللہ عنہ ، یہ ان کے حلیف ہیں ۔ 68 - انصار کی شاخ بنو نبیت کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن معاذ بن نعمان بن امرؤ القیس رضی اللہ عنہ ۔ 69- انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ۔ 70 - انصار کی شاخ بنو عمرو بن سلم بن مالک بن اوس سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ ۔ 71 - انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن زید رضی اللہ عنہ ۔ 72 - بنو عامر کی شاخ بنو مالک بن حسل سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ۔ 73 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن یزید بن عثمان بن خلده بن مخلد رضی اللہ عنہ ۔ 74 - انصار کی شاخ اوس قبیلے کی شاخ بن عمرو بن عوف کی شاخ بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن نعمان رضی اللہ عنہ ۔ 75 - انصار کی شاخ بنو ضبیعہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ۔ 76 - انصار کی شاخ بنو سواد بن غنم سے تعلق رکھنے والے حضرت سہل بن قیس بن ابی بن کعب بن ابوالقین رضی اللہ عنہ ۔ 77 - قریش کی شاخ بنو حارث بن فہر سے تعلق رکھنے والے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ ۔ 78 - انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت سہیل بن رافع بن ابوعمرو رضی اللہ عنہ ، ان کا اور ان کے بھائی کا وہ گودام تھا ، جہاں مسجد نبوی تعمیر ہوئی ۔ 79 - انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت سہیل بن عبید بن نعمان رضی اللہ عنہ ، ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ 80 - انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ ، یہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی تلوار لی تھی ۔ 81- انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن رواحہ بن امرءالقیس رضی اللہ عنہ ۔ 82 - انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ ۔ 83 - غزوہ بدر کے دن قریش سے تعلق رکھنے والے ، جن مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ، اُن میں ایک حضرت عبیدہ بن حارث بن عبدمناف رضی اللہ عنہ ہیں ، شیبہ بن ربیعہ نے انہیں قتل کیا تھا ، اُس نے ان کی ٹانگ کاٹ دی تھی اور صفراء کے مقام پر ان کا انتقال ہوا تھا ۔ 84- قریش کی شاخ بنو تیم بن مرہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، انہوں نے اس جنگ میں حصہ لیا تھا ، لیکن انہوں نے لڑائی نہیں کی تھی ۔ 85 - نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے جام شہادت نوش کرنے والے ، جن کا تعلق قریش کی شاخ بنو زہرہ سے ہے ، حضرت عمیر بن ابووقاص رضی اللہ عنہ ۔ 86- غزوہ بدر میں شریک ہونے والے حضرت عاصم بن ثابت بن ابواقلح رضی اللہ عنہ ۔ 87 - حضرت عاصم بن عدی بن جد بن عجلان رضی اللہ عنہ ، یہ بدر کی طرف نکلے تھے لیکن نبی اکرم ﷺ نے انہیں واپس کر دیا تھا ، اور ان کا حصہ اور اجر مقرر کیا تھا ۔ 88 - انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت عتبان بن مالک بن عمرو بن عجلان رضی اللہ عنہ ، یہ بھی اس میں شریک ہوئے تھے ۔ 89 - انصار کی شاخ بنو ظفر سے تعلق رکھنے والے حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ۔ 90- انصار کے قبیلے بنو اوس کی شاخ بنو حارث سے تعلق رکھنے والے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ۔ 91- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن شہاب زہری تک ان سب حضرات کے بارے میں اسانید ایک ہی سند ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ عروہ بن زبیر نے جن حضرات کے نام بیان کیے ہیں : اب میں اُن کا ذکر کروں گا ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جسے ضعیف قرار دیا گیا ہے اور شواہد کے اعتبار کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، زہری نے جن حضرات کے نام بیان کیے ہیں ان میں سے زیادہ تر کے نام عروہ نے بھی بیان کیے ہیں ، یہاں سے آگے اُن حضرات کا ذکر ہو گا ، جن کے نام عروہ نے بیان کیے ہیں ۔ 92- انصار سے تعلق رکھنے والے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے حضرات کے اسماء میں ایک صاحب بنواصرم بن فہر بن مالک بن غنم عوف بن حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے ، حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ ہیں ، جو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ 93 - انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جنہیں بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور ان کا تعلق بنو عمرو بن مالک بن نجار سے ہے ، یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ، یہ حضرت اوس بن ثابت بن منذر رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کی اولاد نہیں ہوئی ۔ 94 - انصار کی شاخ بنو قربوس بن غنم بن سالم سے تعلق رکھنے والے حضرت امیہ بن لوذان بن سالم بن ثابت بن ہزال بن عمرو بن قربوس بن غنم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 95- حضرت انیسہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں ۔ 96 - قریش کی شاخ بنو مخزوم بن يقظہ بن مرہ بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ ، ابن ابوارقم کا نام عبد مناف ہے ان کی کنیت ابوخندف بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہے ۔ 97 - حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نسبت ولاء رکھتے ہیں ۔ 98 - بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے وہ حضرات جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ان میں سے ایک انصار کی شاخ بنو عبید بن عدی سے تعلق رکھنے والے حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 99- انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ ہیں یہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 100 - انصار سے تعلق رکھنے والے وہ فرد جو بدر میں شریک ہوئے جن کا تعلق بنو مالک بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج سے ہے وہ حضرت بشیر بن سعد بن ثعلبہ بن جلاس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 101 - انصار کی شاخ بنو ظریف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت بسبس جہنی رضی اللہ عنہ ہیں ، جو اُن کے حلیف تھے ۔ 102 - انصار کی شاخ بنو خلدہ بن عوف بن حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم بن یعار بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 103- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت تمیم رضی اللہ عنہ ، جو بنو غنم بن سلم بن مالک بن اوس بن حارثہ کے غلام ہیں ۔ 104 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت تیم رضی اللہ عنہ ، جو خراش بن صمہ کے غلام ہیں ۔ 105- انصار کے قبیلے خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے تمیم ، جو خراش بن صمہ کے غلام ہیں ۔ 106 - انصار کی شاخ بنو عجلان سے تعلق رکھنے والے حضرت ثابت بن اقرم بن ثعلبہ بن عدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 107 - انصار کی شاخ بنو عدی بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت اوس بن ثاب بن اوس بن منذر بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدی بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 108 - غزوہ بدر میں حضرت ثابت بن عمر بن زید بن عدی بن سواد بن عصمہ ، یا عصیہ بھی شریک ہوئے ، یہ اُن کے حلیف ہیں اور اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 109 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن عمرو بن محصن بن عبید رضی اللہ عنہ ۔ 110- انصار کی شاخ بنو جشم بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں ” الجذع “ کہا جاتا ہے ۔ 111 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن عتمہ رضی اللہ عنہ ۔ 112 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت جبیر بن ایاس بن خالد بن مخلد بن زریق رضی اللہ عنہ ۔ 113 - انصار کی شاخ بنو دینار بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت جابر بن خالد بن عبداشہل رضی اللہ عنہ ، ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ 114- انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت جابر بن عبداللہ بن رئاب بن نعمان بن سنان رضی اللہ عنہ ۔ 115 - انصار کی شاخ بنو معاویہ بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت جابر بن عتیک بن حارث بن قیس بن حبشیہ رضی اللہ عنہ ، ابن اسحاق نے لفظ ’’ ابن ہیشہ ‘‘ نقل کیا ہے ۔ 116- انصار کی شاخ بنو جابس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن عوف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت جبار بن صخر بن امیہ بن خنساء بن عبید بن عدی بن غنم ۔ 117 - غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں ایک حضرت حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 118 - انصار کی شاخ بنو عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت حارثہ بن حمیر رضی اللہ عنہ ، یہ اُن کے حلیف ہیں اور اشجع بن دہمان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 119 - حضرت حارث بن سواد رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 120 - انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن سراقہ رضی اللہ عنہ ۔ 121- انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن معاذ بن نعمان رضی اللہ عنہ ۔ 122 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن قیس بن مخلد رضی اللہ عنہ جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ، یہ ابوخالد ہیں ۔ 123 - انصار کی شاخ بنو مبذول سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن صمہ بن عبید بن عامر رضی اللہ عنہ ۔ 124- انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن معاذ بن نعمان رضی اللہ عنہ ۔ 125- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن خزمہ بن ابوغنم بن سالم بن عوف بن حارث بن خزرج رضی اللہ عنہ ۔ 126- انصار کی شاخ بنو جشم بن حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت حریث بن زید رضی اللہ عنہ ۔ 127- انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت ذکوان بن عبد قیس بن خلدہ رضی اللہ عنہ ، یہ مدینہ منورہ سے نکل کر مکہ کی طرف گئے تھے ، تاکہ اللہ کی طرف ہجرت کریں ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 128- انصار کی شاخ بنو عور بن عبداشہل بن یزید سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن یزید رضی اللہ عنہ ۔ 129 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن معلی بن لوذان بن حارثہ بن عدی بن زيد بن مناة بن حبيب بن حارثہ بن غصب بن جشم بن خزرج رضی اللہ عنہ ، انہوں نے غزوہ بدر میں جام شہادت نوش کیا تھا ۔ 130- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن جعدبہ رضی اللہ عنہ ۔ 131- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن حارث بن سواد بن زید بن ثعلبہ عروہ کے حوالے سے یہ بھی منقول ہے : 132 - حضرت بشیر بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ ۔ 133 - حضرت حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں حضرات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف نکلے تھے ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو واپس کروا دیا تھا ۔ 134 - نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا نگران مقرر کیا تھا ، آپ نے بدر کے اصحاب کے ہمراہ ان دونوں کے لئے دو حصے مقرر کیے تھے ۔ 135 - انصار کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان بن عمرو بن زریق رضی اللہ عنہ جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے ۔ یہ نقیب ہیں ، انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی ہے ۔ 136 - بنو عبدشمس بن عبد مناف کے حلیفوں میں سے غزوہ بدر میں حضرت ربیعہ بن اکثم رضی اللہ عنہ شریک ہوئے تھے جن کا تعلق بنواسد بن خزیمہ سے ہے ۔ 137 - حضرت رفاعہ بن قیس بن عمرو بن ثعلبہ بن مالک بن سالم بن غنم بن عوف بن حارث ، بیعت عقبہ میں شریک ہوئے ہیں ، یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ، یہ ان افراد میں سے ایک ہیں ، جو ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کی طرف نکلے تھے ۔ 138 - انصار کی شاخ بنو لوذان بن غنم بن عوف بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت ربیع بن ایاس بن غنم بن امیہ بن لوذان بن غنم رضی اللہ عنہ ، یہ بھی غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 139 - حضرت زید بن حارثہ بن شراحیل بن كعب بن عبدالعزىٰ بن يزيد بن امرؤ القیس کلبی رضی اللہ عنہ ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، جن پر اللہ اور اس کے رسول نے انعام کیا تھا ۔ 140 - قریش کی شاخ بنو عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ ۔ 141 - انصار کی شاخ بنو عمرو بن مالک بن نجار ، جو بنو جدیلہ کہلاتے ہیں ، ان میں سے ایک حضرت ابوطلحہ زید بن سہل بن اسود رضی اللہ عنہ ہیں ، جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ، یہ نقیب ہیں ۔ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ابن لہیعہ نامی راوی نے ان کا نام زید بن سہل کی بجائے سہل بن زید نقل کیا ہے ۔ 142 - انصار کی شاخ بنو جشم بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن حارث بن خزرج رضی اللہ عنہ ، یہ بھی غزوہ بدر میں شریک ہوئے ۔ 143 - انصار کی شاخ بنو جزرہ بن عوف بن حارث بن خزرج ، یہ لوگ بنو حبلیٰ کہلاتے ہیں ، سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن مرس رضی اللہ عنہ بھی ( یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ) ۔ 144 - انصار کی شاخ بنو سالم بن غانم بن عوف بن خزرج ، جو بنو حبلیٰ کہلاتے ہیں ، اُن سے تعلق رکھنے والے ایک فرد حضرت زید بن عمرو بن ودیعہ بن عمرو بن قیس بن جزی بن عدی بن مالک بن سالم بن غانم بن عوف بن خزرج ہیں ۔ 145- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن اسلم بن ثعلبہ بن عدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 146- انصار کی شاخ بنو بیاضہ بن عامر بن زریق بن عبدحارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک فرد حضرت زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ بن بیاضہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 147- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن معاذ بن امرؤ القیس بن عبداشہل ہیں ۔ 148 - انصار کی شاخ بنو ساعدہ بن کعب بن خزرج سے تعلق رکھنے والے ایک فرد حضرت سعد بن عبادہ بن دليم بن حارثہ بن خزیمہ ہیں ، جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے ، یہ نقیب ہیں اور غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ۔ 149 - انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ ، یہ بھی غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 150- انصار کی شاخ بنو عبد بن کعب بن عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن زید بن مالک بن عبد بن کعب رضی اللہ عنہ ۔ 151 - انصار کی شاخ بنو دینار بن نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن سہل بن عبداشہل بن حارثہ بن دینار بن نجار رضی اللہ عنہ ۔ 152 - انصار کی شاخ بنو سواد بن کعب ، کعب نامی شخص کا نام ظفر ہے ، ان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد حضرت سعد بن عبید بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 153 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن نعمان بن قیس رضی اللہ عنہ ۔ 154 - حضرت حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سعد رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 155 - حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو خولہ کے غلام ہیں ، یہ مذحج سے تعلق رکھنے والے فرد ہیں ۔ 156- انصار کی شاخ بنو جشم بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ ۔ 157- قریش کی شاخ بنو حارث بن فہر سے تعلق رکھنے والے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ ۔ 158 - انصار کی شاخ اوس قبیلے کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ، جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے ، یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ۔ 159- قریش کی شاخ بنو عبدشمس بن عوف سے تعلق رکھنے والے سالم جو حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ۔ 160 - انصار کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ بن اوس بن لوذان بن عبدودّ بن زید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ۔ 161 - نبی اکرم ﷺ کی بیعت کے لئے عقبہ میں شریک ہونے والے انصار کی شاخ بنو سلمہ بن زید بن جشم سے تعلق رکھنے والے ایک فرد حضرت طفیل بن نعمان بن خنساء رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 162 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت عثمان بن عمرو بن رفاعہ بن حارث بن سوادہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 163 - انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج کی شاخ ، بنو امرؤ القیس بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ۔ 164 - نبی اکرم ﷺ کی بیعت کے لئے عقبہ میں شریک ہونے والے انصار کی شاخ بنو حارثہ بن حارث سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن سرجس بن نعمان بن امیہ بن برک رضی اللہ عنہ ، یہ بدری ہیں ۔ 165 - انصار کی شاخ بنو حرام بن کعب بن عمرو بن غنم بن کعب بن سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بھی اس ( بیعت عقبہ ) میں شریک ہوئے تھے ، یہ نقیب ہیں اور یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ۔ 166 - انصار کی شاخ بنو عوف بن خزرج کی شاخ بنو عبیداللہ بن مالک بن سالم بن غانم بن خزرج ، یہ حبلی ہیں ، ان سے تعلق رکھنے والے حضرت عبدالله بن عبداللہ بن ابی بن سلول رضی اللہ عنہ ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 167 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن طارق بلوی رضی اللہ عنہ ، یہ ان کے حلیف ہیں ۔ 168 - انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن سلمہ بن مالک بن حارث بن عدی بن عجلان رضی اللہ عنہ ۔ 169- انصار کی شاخ بنو جزرہ بن عوف بن حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن عرفطہ رضی اللہ عنہ ۔ 170 - انصار کی شاخ بنو جزرہ بن عوف سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ ۔ 171 - انصار کی شاخ بنو ابجر بن عوف بن حارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن ربیع بن قیس بن عمرو بن عابد بن ابجر رضی اللہ عنہ ۔ 172- انصار کی شاخ بنو لوذان بن غنم سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن ثعلبہ بن حزمہ بن اصرم رضی اللہ عنہ یہ ان کے حلیف ہیں ۔ 173 - انصار کی شاخ بنو عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ کی شاخ بنو خنساء بن شیبان بن عبید سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن جد بن قیس بن صخر بن خنساء رضی اللہ عنہ ۔ 174- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن حمیر اشجعی رضی اللہ عنہ ، یہ ان کے حلیف ہیں اور اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 175- انصار کی شاخ بنو خنساء سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن عبد مناف بن نعمان بن شیبان رضی اللہ عنہ ۔ 176- انصار کی شاخ بنو حباس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عبداللہ بن قیس بن صخر بن حذام بن ربیعہ بن عدی بن غنم رضی اللہ عنہ ۔ 177 - غزوہ بدر میں جن مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ، ان میں سے قریش سے تعلق رکھنے والے حضرت عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہ ہیں ، شیبہ بن ربیعہ نے انہیں قتل کیا تھا اس نے ان کی ٹانگ کاٹ دی تھی ، صفراء کے مقام پر ان کا انتقال ہوا تھا ۔ 178 - انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوعبیس بن جبر بن عمرو بن زید بن جشم بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 179- قریش کی شاخ بنو تیم بن مرہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ۔ 180- انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت عمارہ بن حزم بن زید رضی اللہ عنہ ۔ 181 - انصار کی شاخ بنو مازن بن نجار کی شاخ بنو خنساء بن مدرک بن عمرو بن غنم بن مازن سے تعلق رکھنے والے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوداؤد ہے ، یہ عامر بن مالک بن خنساء بن مدرک کے صاحبزادے ہیں ۔ 182 - غزوہ بدر میں قریش سے تعلق رکھنے والے جن مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ، ان میں سے ایک قریش کی شاخ بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والے حضرت عمیر بن ابووقاص رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 183 - غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں ایک حضرت عتبہ بن غزوان بن جابر بن وہب بن بشیر بن مالک بن مازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس عیلان رضی اللہ عنہ ہیں ، جن کا تعلق مضر سے ہے ، یہ نوفل بن عبد مناف کے حلیف ہیں ۔ 184 - انصار کی شاخ بنو سالم سے تعلق رکھنے والے حضرت عتبان بن مالک بن عمرو بن عجلان بن زید بن غانم بن سالم بن عوف بن عمرو بن خزرج رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 185 - انصار کی شاخ بنو بیاضہ سے تعلق رکھنے والے حضرت فروہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 186 - انصار کی شاخ بنو مازن بن نجار بن قیس بن ابوصعصعہ سے تعلق رکھنے والے حضرت زید بن عوف بن مبذول ہیں ، جو بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے ہیں ۔ 187 - انصار کی شاخ بنو سواد بن کعب ، کعب کا اصل نام ظفر ہے ، اس سے تعلق رکھنے والے حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 188 - غزوہ بدر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے ، جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے ، حضرت ابومرثد رضی اللہ عنہ کا انتقال بارہ ہجری میں ہوا تھا اور اس وقت ان کی عمر چھیاسٹھ سال تھی ۔ 189 - انصار کی شاخ بنو زعوراء بن عبداشہل سے تعلق رکھنے والے فرد حضرت محمد بن مسلمہ بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 190 - انصار کے قبیلے اوس کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوالہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ ، یہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے یہ نقیب ہیں اور غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں اور یہ وہ پہلے فرد ہیں ، جنہوں نے بیعت عقبہ میں ( یعنی سب سے پہلے انہوں نے ) بیعت کی تھی ۔ 191 - انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عائذ بن عدی بن کعب بن عدی بن سعد بن عدی بن اسد بن شارده بن تزید بن جشم رضی اللہ عنہ ہیں ، جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے اور یہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے ہیں ۔ 192 - حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 193 - حضرت مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 194 - انصار کی شاخ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوبردہ بن نیار بن عمرو بن عبید رضی اللہ عنہ ، یہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے ہیں یہ ان لوگوں کے حلیف ہیں اور ’’ بلی ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بدری ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عروہ سے منقول روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے جب اس کی متابعت کی گئی ہو اور اس روایت کی متابعت زہری کے حوالے سے کی گئی ہے ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ محمد بن اسحاق نے ان تک اپنی سند کے حوالے سے تراجم میں یہ بات نقل کی ہے ، ابن اسحاق کہتے ہیں : یہ حضرات غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں اور ابن اسحاق تک کی سند کے رجال ثقہ ہیں ، ابن اسحاق نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے نام یہ بیان کیے ہیں ۔ 195 - انصار کی شاخ بنو عامر بن مالک سے تعلق رکھنے والے حضرت حارث بن صمہ بن عمرو بن عبید بن عمرو بن مبذول ’’ روحاء ‘‘ کے مقام پر ( ان کی کوئی ہڈی وغیرہ ) ٹوٹ گئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کا حصہ مقرر کیا تھا ۔ 196- انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوایوب خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار رضی اللہ عنہ ، ان کا انتقال قسطنطنیہ میں یزید بن معاویہ بن ابوسفیان کی ہمراہی میں اکیاون ہجری میں ہوا تھا ۔ 197 - حضرت خوات بن جبیر بن نعمان بن امیہ بن برک رضی اللہ عنہ ، برک کا نام امرءالقیس تھا ، بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے حصہ اور اجر مقرر کیا تھا ۔ 198 - انصار کی شاخ بنو خبیب بن عدی بن حارثہ سے تعلق رکھنے والے حضرت رافع بن معلیٰ رضی اللہ عنہ ، یہ بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 199 - حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر بن زید بن امیہ بن مالک بن عوف بن عمرو بن مالک بن اوس ، یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف نکلے تھے ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے انہیں واپس بھجوا دیا تھا ، آپ نے انہیں مدینہ منورہ کا نگران مقرر کیا تھا اور آپ نے اہل بدر کے ہمراہ ان کا حصہ اور اجر مقرر کیا تھا ۔ 200 - انصار کے قبیلے خزرج کی شاخ بنو زریق سے تعلق رکھنے والے حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان بن عمرو بن عامر بن زریق بن عبدحارثہ بن مالک بن غصب بن جشم بن خزرج رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 201 - انصار کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن معاذ بن نعمان بن امرؤ القیس بن زید بن عبداشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 202 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ 203 - انصار کے قبیلے اوس سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن خیثمہ بن حارث بن مالک بن کعب بن نجار بن کعب بن حارثہ بن غنم بن سلم بن امرؤ القیس بن مالک بن اوس رضی اللہ عنہ ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 204 - انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت سہل بن حنیف بن واہب بن حکیم بن ثعلبہ بن مجدعہ بن حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ یہ وہ ہیں ، جنہیں بحزج بن خنیس بن عمرو بن عوف کہا جاتا ہے ، یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 205 - انصار کے قبیلے بنو اوس کی شاخ بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والے حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش بن رعیہ بن زعورا بن عبداشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس ۔ 206 - حضرت عبداللہ بن جحش بن رئاب بن يعمر بن صبره بن مرہ بن کبیر بن غنم بن داؤد بن اسد بن خزیمہ رضی اللہ عنہ ، غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ 207 - قریش سے تعلق رکھنے والے جن مسلمانوں نے غزوہ بدر کے موقع پر جام شہادت نوش کیا ، ان میں سے ایک حضرت عبیدہ بن حارث بن عبدمناف رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں شیبہ بن ربیعہ نے قتل کیا تھا ، اس نے ان کی ٹانگ کاٹ دی تھی اور ان کا انتقال صفراء کے مقام پر ہوا تھا ۔ انہوں نے یہ روایت اپنی سند کے ساتھ دہرائی ہے ، تاہم اس نے یہ کہا ہے : عتبہ بن ربیعہ نے ان کی ٹانگ کاٹ دی تھی اور ان کو قتل کیا تھا اور ان کا انتقال صہباء کے مقام پر ہوا تھا ۔ 208 - انصار کی شاخ اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والے حضرت ابوعبس بن جبر بن عمرو بن زید بن جشم بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس رضی اللہ عنہ ، غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ 209 - مسلمانوں میں سے غزوہ بدر میں جام شہادت نوش کرنے والوں میں سے ایک قریش کی شاخ بنو زہرہ بن کلاب سے تعلق رکھنے والے حضرت عمیر بن ابووقاص بن اہیب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں ۔ 210 - انصار کی طرف سے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے ایک حضرت عاصم بن ثابت بن قیس بن ابوقلح بن عصمہ بن مالک بن امیہ بن صعصہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 211 - انصار کی طرف سے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں بنوامیہ بن زید سے تعلق رکھنے والے حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ ہیں ، ابن اسحاق نے ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، یہ بات کہی گئی ہے : یہ بنو عمرو بن عوف کے حلیف ہیں اور ایک قول کے مطابق یہ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 212 - غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے ایک حضرت عکاشہ بن محصن بن حرثان بن كبير بن غنم بن داؤد بن اسد بن خزیمہ رضی اللہ عنہ ہیں ، جو بنو عبدشمس کے حلیف ہیں ۔ 213 - غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے ایک حضرت ابواسید مالک بن ربیعہ بن بدی بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمرو بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 214 - محمد بن اسحاق نے یہ بات بیان کی ہے : حضرت معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عائذ بن عدی بن کعب بن ادی غزوہ بدر اور بیعت عقبہ میں شریک ہوئے ہیں ، بنو سلمہ نے ان کے بارے میں دعویٰ کیا تھا ، کیونکہ یہ سہیل بن محمد بن جد بن قیس بن صخر بن خنساء بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ کے ماں کی طرف سے شریک بھائی تھے ۔ 215 - غزوہ بدر میں حضرت معاذ بن حارث بن رفاعہ بن سوار بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے تھے ، عفراء ان کی والدہ ہیں ، وہ خاتون عوف اور معوذ کی والدہ ہیں ، یہ سب غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور عفراء نامی خاتون عفراء بنت عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار ہیں ۔ 216- انصار کے قبیلے خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت معاذ بن عمرو بن جموح بن زید بن حرام بن كعب بن غنم بن كعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن شاردہ ، غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، یہ بات کہی گئی ہے : یہ سادرہ بن تزید بن جشم بن خزرج ہے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ، انہوں نے ابوجہل کو قتل کیا تھا ، عکرمہ بن ابوجہل نے اُن کا بازو کاٹ دیا تھا ، یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک زندہ رہے تھے ۔ 217 - انصار کی شاخ بنو خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت ابومحمد انصاری رضی اللہ عنہ بھی غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، ان کا نام مسعود بن اصرم بن زید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار رضی اللہ عنہ ہے ۔ 218 - انصار کی شاخ بنو خزرج سے تعلق رکھنے والے حضرت نعمان بن قوقل بن ثعلبہ بن دعل بن فہم بن ثعلبہ بن غنم بن سالم بن عوف رضی اللہ عنہ ، غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ان حضرات کے نام بیان کیے ہیں ، جن کا تعلق اہل بدر سے تھا اور وہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کی جنگوں میں شریک ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عبداللہ حضرمی کے حوالے سے نقل کی ہے وہ راوی ثقہ ہے انہوں نے یہ روایت ’’ وجادہ ‘‘ کے طور پر عبیداللہ بن ابورافع کی تحریر سے نقل کی ہے اور وہ راوی ثقہ ہے ، ان حضرات کے نام یہ ہیں : 219 - حضرت ثعلبہ بن قیظی بن صخر بن سلمہ بدری رضی اللہ عنہ ۔ 220 - حضرت جبر بن انس بدری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زریق سے ہے ۔ 221 - حضرت جبلہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو بیاضہ سے ہے اور یہ بدری ہیں ۔ 222 - حضرت حارث بن نعمان رضی اللہ عنہ یہ بدری ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے متصل سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ 223- حضرت حارث بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو حارثہ سے ہے ، یہ روحاء سے واپس چلے گئے تھے ۔ 224 - حضرت حصین بن حارث رضی اللہ عنہ ، یہ بدری ہیں ، یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے ہیں ان کا تعلق بنو عبدالمطلب بن عبدمناف سے ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ 225 - حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ، یہ بدری ہیں ، ان کا تعلق بنو حارث سے ہے ، یہ راستے سے واپس چلے گئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کا حصہ مقرر کیا تھا ، اس کی سند ضعیف ہے ۔ 226 - حضرت خلیفہ بن عدی رضی اللہ عنہ ، بنو بیاضہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ بدری ہیں اس روایت کی سند ضعیف ہے ۔ 227 - حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ یہ بدری ہیں ، بنو زریق سے تعلق رکھتے ہیں اس روایت کی سند ضعیف ہے ۔ 228 - حضرت ربعی بن عمرو رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے ہے ، یہ بدری ہیں اس روایت کی سند ضعیف ہے ۔ 229 - حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ یہ بدری ہیں اس روایت کی سند ضعیف ہے ۔ 230 - حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ ، یہ بنو حارثہ بن خزرج سے تعلق رکھتے ہیں ، یہ بدری ہیں یہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے تھے ان کا انتقال حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ۔ امام طبرانی نے کسی سند کے بغیر جن حضرات کے نام بیان کیے ہیں ، ان میں سے ایک حضرت اوس رضی اللہ عنہ ہیں ، ایک قول کے مطابق یہ سلیم ابوکبشہ ہیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے غلام تھے ، یہ دوس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ، محمد بن اسحاق نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے ، جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں اور ایک صاحب حضرت حکم بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں ، جو غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے ۔ 231 - حضرت سعید بن عثمان بن خالد بن مخلد بن حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج ، ابوعبادہ زرقی رضی اللہ عنہ ، یہ بدری ہیں ایک قول کے مطابق ، عبادہ ، لیکن صحیح لفظ "" ابوعبادہ "" ہے ۔ 232 - حضرت صہیب بن سنان بن مالک بن عمرو بن عبد بن عقیل بن عامر بن جندلہ بن جذیمہ اور ایک قول کے مطابق خزیمہ بن کعب بن سعد بن اسلم بن اوس بن مناة بن نمر بن قاسط بن وہب بن افصی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ نزار ، ہشام کلبی نے یہ نسب ذکر کیا ہے ، یہ عبداللہ بن جدعان تیمی کے حلیف ہیں ، رومیوں نے انہیں کمسنی میں موصل سے قیدی بنا لیا تھا ، ان کی کنیت ابویحیی ہے انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام مسلمہ بنت حارث ہے ۔ 233 - حضرت عثمان بن حبيب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصیص بن کعب ، ان کی کنیت ابوسائب ہے ، یہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے اور ہجرت سے پہلے مکہ واپس آ گئے تھے ، پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف بھی ہجرت کی اور یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ۔ 234 - حضرت عبداللہ بن رواحہ بن امرؤ القيس بن مالک بن کعب بن حارث بن خزرج ، انہیں غزوہ بدر اور بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، جنگ موتہ میں انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ 235 - حضرت عبدالله بن حذافہ بن قیس بن عدی بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی ۔ عروہ نے ان کا ذکر اہل بدر میں نہیں کیا ہے ، ابن اسحاق نے ان کا ذکر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں کیا ہے اور کسی حدیث میں یہ بات روایت کی ہے کہ ان کا تعلق اہل بدر سے ہے ، عبادہ زرقی نے ان کا نام بیان کیا ہے ، ایک قول کے مطابق ابوعبیدہ ہے ، جس نے یہ کہا ہے کہ ابوعبادہ تو اس نے یہ کہا ہے کہ ان کا نام سعید ہے ، ان کا اسم منسوب ( یا ان کا نسب ) پہلے گزر چکا ہے ۔

10041

Majma al-Zawaid #10041

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: شَهِدَ أَخِي ثَعْلَبَةُ بْنُ سَعْدٍ بَدْرًا، وَقُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ يَعْقُبْ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ؛ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reported that his brother Thalabah ibn Sad witnessed Badr and was killed on the day of Uhud, leaving no offspring.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثعلبہ بن سعد کے بھائی غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے غزوہ احد میں جام شہادت نوش کیا تھا ، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10042

Majma al-Zawaid #10042

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي خَلَّادٌ إِلَى بَدْرٍ عَلَى بَعِيرٍ لَنَا أَعْجَفَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طَرِيقُ الْبَزَّارِ فِي أَوَائِلِ غَزْوَةِ بَدْرٍ.

EnglishUnverified translation

Rifaah ibn Rafi, may Allah be pleased with him, reported that he and his brother Khallad went out to Badr sharing a weak, emaciated camel of theirs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی خلاد ‘ ایک اونٹ پر سوار ہو کر بدر کی طرف گئے تھے ‘ جو ( یعنی اونٹ ) کمزور ہو چکا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے ایک طویل حدیث میں نقل کیا ہے ‘ جو اس سے پہلے امام بزار کے حوالے سے غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے ۔

10043

Majma al-Zawaid #10043

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ: شَهِدْتَ بَدْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالْعَقَبَةَ مَعَ أَبِي، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Hakim reported that he asked Abdullah ibn Sad ibn Khaythamah, may Allah be pleased with him, whether he had witnessed Badr, and he replied affirmatively, adding that he had also been present at al-Aqabah with his father. > **"Did you witness Badr?" > **"Yes, and al-Aqabah with my father."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مغیرہ بن حکیم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن سعد بن خیثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور بیعت عقبہ میں بھی ‘ اپنے والد کے ساتھ ( شریک ہوا ہوں ) یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10044

Majma al-Zawaid #10044

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ: شَهِدْتَ بَدْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَالْعَقَبَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ وَهُوَ ثَبْتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Hakim reported that he asked Abdullah ibn Sahl, may Allah be pleased with him, whether he had witnessed Badr, and he replied affirmatively, adding that he had also been present at al-Aqabah. > **"Did you witness Badr?" > **"Yes, and al-Aqabah."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مغیرہ بن حکیم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور بیعت عقبہ ( میں بھی شریک ہوا ہوں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن احمد کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثبت ہے ۔