Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 5

Book of Expeditions and Biography

Hadith 9965–10004

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9965

Majma al-Zawaid #9965

«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ صَرِيعًا فَقُلْتُ: أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ، قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ: وَبِمَا أَخْزَانِي اللَّهُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ؟ وَمَعِي سَيْفٌ لِي فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ وَلَا يَحْتَكُّ فِيهِ شَيْءٌ، وَمَعَهُ سَيْفٌ لَهُ جَيِّدٌ، فَضَرَبْتُ يَدَهُ فَوَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُهُ. ثُمَّ كَشَفْتُ الْمِغْفَرَ عَنْ رَأْسِهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ "". قُلْتُ: اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ: "" انْطَلِقْ فَاسْتَثْبِتْ "". فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ، ثُمَّ جِئْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ أَضْحَكُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْطَلِقْ فَأَرَنِي "". فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَأَرَيْتُهُ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that he found Abu Jahl fallen on the day of Badr and said that Allah had disgraced Allah's enemy. Abu Jahl asked in what way he was disgraced beyond a man killed by his people. Ibn Mas'ud struck him with his own sword to little effect, then struck his hand where he held a fine sword so it fell, seized it, uncovered his head and struck his neck. He informed the Prophet ﷺ, who asked him to swear by Allah besides whom none is worthy of worship, then ordered him to go and verify. He ran like a bird, returned laughing like a bird, confirmed it, and the Messenger of Allah ﷺ said to go and show him. When the Prophet ﷺ stood over him he declared him the Pharaoh of this Ummah. > **["By Allah besides whom none is worthy of worship?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ‘ میں نے ابوجہل کو پایا کہ وہ ( زخمی حالت میں ) پڑا ہوا تھا ‘ میں نے کہا : اے اللہ کے دشمن ! اللہ نے تجھے رسوائی کا شکار کر دیا ہے ‘ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے کس حساب سے رسوائی کا شکار کیا ہے ؟ میں ایک شخص ہوں ‘ جسے تم نے قتل کر دیا ہے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے پاس میری تلوار تھی ‘ میں نے وہ اسے چبھونا شروع کی ، میں چھوٹے قدموں سے اس کے قریب ہوا ‘ اس کے ساتھ اس کی ایک عمدہ تلوار تھی ، میں نے اس کے ہاتھ پر ضرب لگائی تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ‘ میں نے اسے پکڑا ‘ پھر میں نے اس کے سر سے خود کو ہٹایا اور اس کی گردن اڑا دی ‘ پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اُس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور تصدیق کر لو ‘ میں چلا ‘ میں پرندے کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، پھر میں پرندے کی طرح واپس آیا ‘ میں ہنس رہا تھا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چلو ‘ اور مجھے بھی دکھاؤ ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چل پڑا اور میں نے آپ کو ابوجہل دکھایا ‘ جب آپ اس کے پاس ٹھہرے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف محمد بن وہب بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9966

Majma al-Zawaid #9966

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: فَكَبَّرَ وَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصْرَ عَبْدَهُ ".

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): In the narration of the same standing over Abu Jahl, the Prophet ﷺ magnified Allah and praised Allah who kept His promise and aided His servant. > **["All praise belongs to Allah who kept His promise and aided His servant."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تکبیر کہی اور یہ فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی ‘‘۔

9967

Majma al-Zawaid #9967

وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: " وَأَعَزَّ دِينَهُ».

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): In yet another wording there is the addition that He honored His religion. > **["And honored His religion."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ’’ اُس نے اپنے دین کی مدد کی ‘‘۔

9968

Majma al-Zawaid #9968

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَعُورَ آبَارَهَا. يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ali (Radiya Allahu 'anhu): He reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded him on the day of Badr to fill in and blind their wells.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں ان کے گڑھوں کو پاٹ دوں ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) یعنی غزوہ بدر کے دن ایسا ہوا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9969

Majma al-Zawaid #9969

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا وَرَدَ بَدْرًا أَوْمَأَ بِيَدِهِ فَقَالَ: "" هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ "". فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Anas (Radiya Allahu 'anhu): He reported that when the Prophet ﷺ arrived at Badr he pointed with his hand naming the exact spot where each leader would fall. By Allah, not one of them fell beyond the spot he named. > **["This is the place where so-and-so will fall."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بدر تشریف لائے ‘ تو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ‘ اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : یہ فلاں شخص کے پچھاڑے جانے ( یعنی قتل ہونے ) کی جگہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اُن لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ‘ اپنی مخصوص جگہ سے نہیں ہٹا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9970

Majma al-Zawaid #9970

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ: "" مَنْ ضَرَبَ أَبَاكَ؟ "". قَالَ: الَّذِي قَطَعَ رِجْلَهُ، فَقَضَى سَلَبَهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abd al-Rahman ibn Awf (Radiya Allahu 'anhu): He reported that the Messenger of Allah ﷺ sent to Ikrimah ibn Abi Jahl asking who had struck his father. He replied that it was the one who cut his leg, so the Prophet ﷺ awarded his spoils to Muadh ibn Amr ibn al-Jamuh (Radiya Allahu 'anhu). > **["Who struck your father?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عکرمہ بن ابوجہل کو پیغام بھیج کر دریافت کیا ‘ تمہارے باپ کو کس نے مارا ہے ؟ اس نے بتایا : جس نے اس کی ٹانگ کاٹی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ابوجہل کا سامان حضرت معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کو دینے کا فیصلہ دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9971

Majma al-Zawaid #9971

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ: مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَقَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَقَطَعَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ يَدَهُ، ثُمَّ عَاشَ إِلَى زَمَنِ عُثْمَانَ. وَيَأْتِي فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا بِتَمَامِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ibn Ishaq in naming Badr participants: He recorded among the Ansar of Banu Khazraj who witnessed Badr was Muadh ibn Amr ibn al-Jamuh, who killed Abu Jahl while Ikrimah ibn Abi Jahl cut off his hand, and he lived on until the era of Uthman (Radiya Allahu 'anhu). The full roll of Badr participants will come later.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق نے ‘ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے حضرات کے نام بیان کیے ہیں ( جو درج ذیل ہیں : ) انصاری کی شاخ ‘ بنو خزرج سے تعلق رکھنے والے ‘ حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ ‘ انہوں نے ابوجہل کو قتل کیا تھا ‘ اور عکرمہ بن ابوجہل نے اُن کا ہاتھ کاٹ دیا تھا ‘ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہے تھے ۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے مکمل اسماء آگے آئیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

9972

Majma al-Zawaid #9972

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «لَمَّا جِيءَ بِأَبِي جَهْلٍ يُجَرُّ إِلَى الْقَلِيبِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ أَبُو طَالِبٍ حَيًّا لَعَلِمَ أَنَّ أَسْيَافَنَا قَدِ الْتَبَسَتْ بِالْأَنَامِلِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِيهِ: وَكَذَلِكَ يَقُولُ أَبُو طَالِبٍ: كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللَّهِ إِنْ جَدَّ مَا أَرَى ... لَتَلْتَبِسَنَّ أَسْيَافُنَا بِالْأَنَامِلِ وَيَنْهَضُ قَوْمٌ فِي الدُّرُوعِ إِلَيْكُمُ ... نُهُوضَ الرَّوَايَا فِي طَرِيقٍ حَلَاحِلِ قَالَ ابْنُ مَنَاذِرَ: هُمَا سَوَاءٌ يَقُولُونَ: حُلَاحِلُ وَجُلَاجِلُ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that when Abu Jahl was dragged to the pit, the Messenger of Allah ﷺ said that had Abu Talib been alive he would have known their swords clung to fingertips. In the extended wording Abu Talib's own verses are cited, swearing by the House that if what he foresaw came to pass their swords would cling to fingertips and men in armor would rise against the foe like water-camels advancing on a firm road, with a linguistic note that narrators say both halahil and jalajil for the last word. > **["Had Abu Talib been alive he would have known our swords clung to fingertips."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابوجہل کو کھینچ کر گڑھے کی طرف لایا گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ یہ جان لیتے کہ ہماری تلواروں نے ’’ اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ یہ جان لیتے کہ ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپکی رہی ہیں ( یعنی ہمارے ہاتھوں سے چھوٹی نہیں ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جناب ابوطالب نے یہ کہا تھا : ’’ تم نے غلط کہا ہے ‘ بیت اللہ کی قسم ‘ اگر وہ صورتحال درپیش ہوئی جو مجھے نظر آ رہی ہے ‘ تو ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپک جائیں گی ‘ اور ( ہمارے ) لوگ زرہیں پہن کر تمہاری طرف یوں آئیں گے جس طرح حلاصل کے راستے میں پانی والے اونٹ آتے ہیں ‘‘ ابن مناذر بیان کرتے ہیں : یہ دونوں برابر ہیں ‘ لوگوں نے لفظ ” حلاحل ‘‘ بھی نقل کیا ہے اور ” جلاجل ‘‘ بھی نقل کیا ہے ۔

9973

Majma al-Zawaid #9973

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا سَائِرٌ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي، يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي، يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي، فَلَا أَدْرِي عَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ؟ وَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ، فَنَادَانِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ فَعَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي: "" أَوَقَدْ رَأَيْتَهُ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Umar (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that while traveling by Badr a man emerged from a pit with a chain around his neck calling O Abdullah give me water thrice, and he knew not whether he knew his name or called in the Arab manner O servant of Allah. Then another man emerged from the pit with a whip warning him not to give the disbeliever water, struck him, and drove him back. He hastened to the Prophet ﷺ and informed him. The Prophet ﷺ asked if he had indeed seen him, and when he affirmed, told him it was Allah's enemy Abu Jahl and that is his punishment until the Day of Resurrection. > **["Did you indeed see him?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں بدر کے پاس سے گزر رہا تھا ، ایک گڑھے میں سے ایک شخص نکلا ‘ اس کے گلے میں زنجیر تھی ‘ اس نے مجھے پکار کر کہا : اے عبداللہ ! مجھے پلاؤ ‘ اے عبداللہ ! مجھے کچھ پلاؤ ‘ اے عبداللہ ! مجھے کچھ پلاؤ ‘ ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ) مجھے نہیں معلوم کہ اُسے میرا نام پتہ تھا ‘ یا اس نے عربوں کے رواج کے مطابق ’’ اے اللہ کے بندے “ کہہ کر مجھے بلایا تھا ‘ پھر اس گڑھے میں سے ایک اور شخص نکلا اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی ۔ اس نے پکار کر کہا : اے اللہ کے بندے ! تم اسے نہ پلانا ‘ کیونکہ یہ کافر ہے ، پھر اس نے اسے لاٹھی ماری ( یا کوڑا مارا ) تو وہ شخص گڑھے کی طرف واپس چلا گیا ‘ میں تیزی سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اللہ کا دشمن ابوجہل تھا ‘ اور یہ اس کا عذاب ہے ‘ جو قیامت تک ہوتا رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9974

Majma al-Zawaid #9974

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: هَوْذَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا هَوْذَةُ، هَلْ شَهِدْتَ بَدْرًا؟ قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَيَّ لَا لِي قَالَ: فَكَمْ أَتَى عَلَيْكَ؟ قَالَ: أَنَا يَوْمَئِذٍ قُمُدٌّ قُمْدُودٌ، مِثْلُ الصَّفَاةِ وَالْجُلْمُودِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَقَدْ صَفُّوا لَنَا صَفًّا طَوِيلًا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سُيُوفِهِمْ كَشُعَاعِ الشَّمْسِ مِنْ خِلَالِ السَّحَابِ، فَمَا اسْتَفَقْتُ حَتَّى غَشِيَتْنَا غَادِيَةُ الْقَوْمِ فِي أَوَائِلِهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْثًا عَبْقَرِيًّا يَقْرِي الْغُرَبَاءَ وَهُوَ يَقُولُ: لَنْ يَأْكُلُوا التَّمْرَ بِبَطْنِ مَكَّةَ، يَتْبَعُهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي صَدْرِهِ رِيشَةٌ بَيْضَاءُ قَدْ أُعْلِمَ بِهَا كَأَنَّهُ جَمَلٌ يُحَطِّمُ بِنَاءً فَرَغْتُ عَنْهُمَا وَأَحَالَا عَلَى حَنْظَلَةَ - يَعْنِي أَخَا مُعَاوِيَةَ - فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ، وَلَا كُفْرَانَ لِلَّهِ زَلَّةً، فَلَيْتَ شِعْرِي مَتَى أَرَحْتَ يَا هَوْذَةُ؟ قَالَ: وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا أَرَحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْهَضَبَاتِ مِنْ أَرْبَدَ، فَقُلْتُ: لَيْتَ شِعْرِي مَا فَعَلَ حَنْظَلَةُ؟ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَنْتَ بِذِكْرِكَ حَنْظَلَةَ كَذِكْرِ الْغَنِيِّ أَخَاهُ الْفَقِيرَ لَا يَكَادُ يَذْكُرُهُ إِلَّا وَاسِنًا أَوْ مُتَوَاسِنًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Al-Sha'bi: He reported that a man called Hawdhah came to Muawiyah (Radiya Allahu 'anhu), who asked if he had witnessed Badr. He replied yes, Commander of the Faithful, though it counts against him not for him. Asked his age then, he said he was a sturdy youth firm as smooth rock. He still sees them arrayed in a long rank, swords gleaming like sunbeams through clouds. Before he recovered, their vanguard overwhelmed his side, foremost Ali ibn Abi Talib (Radiya Allahu 'anhu) like a mighty lion feeding strangers, declaring they would never again eat dates in the belly of Makkah, followed by Hamzah ibn Abd al-Muttalib (Radiya Allahu 'anhu) with a white feather on his chest as his badge, like a camel smashing a structure. He slipped away from those two and they turned upon Hanzalah, brother of Muawiyah. Muawiyah invoked Allah's pleasure on him, warned against ingratitude for a lapse, and asked when he found relief. He swore he found no rest until he saw the hills of Arbad, then wondered what became of Hanzalah. Muawiyah replied his mention of Hanzalah is like a rich man mentioning his poor brother, scarcely remembering except drowsy or feigning sleep.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ، جس کا نام ہوذہ تھا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے ہوذہ ! کیا تم بدر میں شریک ہوئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! اے امیرالمومنین ! اور یہ بات میرے خلاف جاتی ہے میرے حق میں نہیں جاتی ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس وقت تمہاری عمر کتنی تھی ؟ اس نے بتایا : میں ان دنوں طاقتور اور مضبوط شخص تھا ‘ جیسے بڑا چٹیل پتھر ہوتا ہے ‘ میں گویا اس وقت بھی ان لوگوں کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے ہمارے سامنے ایک طویل صف بنا لی تھی اور میں ان لوگوں کی تلوار کی چمک کی طرف گویا ابھی بھی دیکھ رہا ہوں ‘ جو بادلوں کے درمیان میں سے سورج کی شعاع کی مانند تھی ‘ اسی دوران کچھ لوگ ہمارے سامنے آئے ‘ جو ہر اول دستے سے تعلق رکھتے تھے ان میں ایک حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے ‘ جو ایک چیتے کی مانند تھے ‘ وہ یہ کہہ رہے تھے : اب یہ لوگ مکہ کی کھجوریں نہیں کھائیں گے ‘ اب یہ لوگ مکہ کی کھجوریں نہیں کھائیں گے ( یعنی یہاں سے زندہ واپس نہیں جائیں گے ) ‘ ان کے پیچھے حمزہ بن عبدالمطلب تھے ‘ جن کے سینے پر سفید پر لگا ہوا تھا ‘ اور میں ان کے بارے میں یہ بات جانتا تھا کہ وہ ایک اونٹ کی مانند ہیں ، جو عمارت کو توڑ دیتا ہے ‘ میں ان دونوں کے آگے سے ہٹ گیا اور ان کو حنظلہ کے لیے چھوڑ دیا ‘ یعنی جو حضرت معاویہ کا بھائی تھا ‘ حضت معاویہ نے اس ( یعنی ہوزہ ) سے کہا : اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو ‘ اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں ہونی چاہیئے ‘ کاش مجھے یہ پتہ چل جاتا کہ اے ہوذہ تمہیں کب راحت نصیب ہوئی ‘ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! اے امیر المومنین ! مجھے اس وقت تک اطمینان نصیب نہیں ہوا جب تک میں نے اربد کے ٹیلے نہیں دیکھ لیے ‘ پھر میں نے سوچا ارے افسوس ! حنظلہ کا کیا بنا ہو گا ؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم حنظلہ کا ذکر یوں کر رہے ہو جس طرح کوئی خوشحال شخص اپنے غریب بھائی کا ذکر کرتا ہے ‘ وہ بیداری یا اونگھ ( ہر حال ) میں اس کا ذکر کرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رحمت بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9975

Majma al-Zawaid #9975

وَعَنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمَ بَدْرٍ مُعَلَّمًا بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: مَنْ رَجُلٌ أُعْلِمَ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ؟ فَقِيلَ: حَمْزَةُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ. قَالَ: ذَاكَ الَّذِي فَعَلَ بِنَا الْأَفَاعِيلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Al-Harith al-Taymi: He reported that Hamzah ibn Abd al-Muttalib (Radiya Allahu 'anhu) on the day of Badr wore an ostrich feather as his badge. A polytheist asked who the man marked with an ostrich feather was, was told it was Hamzah ibn Abd al-Muttalib, and said that is the one who did such deeds to us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث تیمی بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ‘ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا مخصوص نشان شتر مرغ کا پر تھا ، مشرکین میں سے ایک شخص نے کہا : کون شخص شتر مرغ کے پر والے شخص کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ تو بتایا گیا : وہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں ، تو اس نے کہا : یہی وہ شخص ہیں ، جنہوں نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ( یعنی ہمیں نقصان پہنچایا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

9976

Majma al-Zawaid #9976

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ لِي أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ: يَا عَبْدَ الْإِلَهِ مَنِ الرَّجُلُ الْمُعَلَّمُ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ فِي صَدْرِهِ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قُلْتُ: ذَاكَ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاكَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: ذَاكَ الَّذِي فَعَلَ بِنَا الْأَفَاعِيلَ .. رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا شَيْخُهُ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالْأُخْرَى ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abd al-Rahman ibn Awf (Radiya Allahu 'anhu): He reported that Umayyah ibn Khalaf asked him who was the man marked with an ostrich feather on his chest on the day of Badr. He replied it was the uncle of the Messenger of Allah ﷺ, Hamzah ibn Abd al-Muttalib. Umayyah said that is the one who did such deeds to us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : امیہ بن خلف نے مجھ سے کہا : اے معبود کے بندے وہ شخص کون ہے ‘ غزوہ بدر کے دن جس کا مخصوص نشان اس کے سینے پر موجود شتر مرغ کا پر تھا ‘ تو میں نے بتایا : وہ اللہ کے رسول کے چچا تھے ۔ وہ حمزہ بن عبدالمطلب تھے ‘ تو اس نے کہا : یہی وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ( یعنی ہمیں نقصان پہنچایا ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ‘ ان دو میں سے ایک میں ان کے استاد علی بن فضل کرابیسی ہیں ‘ میں ان سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری روایت ضعیف ہے ۔

9977

Majma al-Zawaid #9977

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَنِي بَدْرًا، وَأَنْ يُغْنِمَنِي عَسْكَرُهُمْ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". فَلَمَّا تَوَاقَفُوا قَذَفَ اللَّهُ فِي قُلُوبِ الْمُشْرِكِينَ الرُّعْبَ، فَلَمَّا اقْتَتَلُوا هَزَمَهُمُ اللَّهُ، فَاتَّبَعَهُمْ سُرْعَانُ النَّاسِ فَقَتَلُوا سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that on setting out to Badr the Messenger of Allah ﷺ promised Badr and that Allah would grant their force as booty, and that whoever kills an enemy or takes a captive shall have such-and-such from their spoils if Allah wills. When the hosts faced, Allah cast terror into the hearts of the polytheists, and when they fought Allah routed them. The swift pursued them, killing seventy and capturing seventy. > **["Allah has promised me Badr and will grant me their force as booty, and whoever kills a man shall have such-and-such of their spoils if Allah wills, and whoever captures a captive shall have such-and-such of their spoils if Allah wills."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کے لئے نکلنے لگے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بدر کا وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ اُن کے لشکر کو مجھے غنیمت کے طور پر عطا کرے گا ‘ تو جو شخص کسی دشمن کو قتل کرے گا اسے مال غنیمت میں سے یہ ‘ یہ کچھ ملے گا ‘ اگر اللہ نے چاہا اور جو شخص کسی کو قیدی بنا لے گا ‘ تو اسے مال غنیمت میں سے یہ ‘ یہ کچھ ملے گا اگر اللہ نے چاہا ‘‘۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور جب جنگ شروع ہوئی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پسپا کر دیا ‘ تو جلد باز لوگ ان کے پیچھے گئے ‘ مسلمانوں نے ستر افراد کو قتل کیا اور ستر افراد کو قیدی بنایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9978

Majma al-Zawaid #9978

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا سَمِعْنَا مُنَاشِدًا يَنْشُدُ حَقًّا لَهُ أَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ مَا وَعَدْتَنِي، إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدْ "". ثُمَّ الْتَفَتُّ كَأَنَّ وَجْهَهُ الْقَمَرُ، فَقَالَ: "" كَأَنِّي إِلَى مَصَارِعِ الْقَوْمِ عَشِيَّةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that they never heard one demanding his right more earnestly than Muhammad ﷺ on the day of Badr, imploring Allah by what He had promised, warning that if this band perishes He will not be worshipped. Then he turned with face like the moon, declaring he can already see the spots where the enemy will fall by evening. > **["O Allah, I beseech You for what You promised me; if this band perishes, You will not be worshipped."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے کبھی بھی کسی شخص کی ایسی گریہ وزاری نہیں سنی ، جو کسی نے اپنے حق کے لئے کی ہو ‘ جیسی گریہ وزاری غزوہ بدر کے موقع پر ‘ حضرت محمد ﷺ نے کی تھی ، آپ یہ فرما رہے تھے : ’’ اے اللہ ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ‘ میں تجھے اس کا واسطہ دیتا ہوں ‘ اگر اس گروہ کو تو نے ہلاکت کا شکار کر دیا ‘ تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی ‘‘ پھر آپ نے مڑ کر دیکھا تو آپ کا چہرہ چاند کی مانند تھا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں گویا اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ ( اگلے دن ) شام کے وقت دشمن کے مرنے کی جگہ کون سی ہے ؟“ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے ‘ اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

9979

Majma al-Zawaid #9979

«وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَجَمَّعَ النَّاسُ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى قِطْعَةٍ مِنْ دِرْعِهِ قَدِ انْقَطَعَتْ مِنْ تَحْتِ إِبِطِهِ فَأَطْعَنُهُ بِالسَّيْفِ طَعْنَةً، وَرُمِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَهْمٍ فَفُقِئَتْ عَيْنِي، وَبَصَقَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لِي فِيهَا فَمَا آذَانِي شَيْءٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Rifa'ah ibn Rafi' (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr men gathered around Umayyah ibn Khalaf, so they advanced to him. He saw a piece of his armor broken open beneath his armpit and thrust him with the sword. He himself was shot that day by an arrow which burst his eye, but the Messenger of Allah ﷺ spat in it and supplicated for him, and thereafter nothing troubled him in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ‘ لوگ امیہ بن خلف کے پاس اکٹھے ہوئے ‘ ہم اس کے پاس آئے میں نے اس کی زرہ کا ایک ٹکڑا دیکھا ‘ جو اس کی بغل کے نیچے سے ٹوٹ گیا تھا ‘ میں نے تلوار کے ذریعے اسے چبھویا ‘ مجھے غزوہ بدر کے دن ایک تیر بھی لگا تھا ، جس نے میری آنکھ کو خراب کر دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اُس آنکھ میں لعاب دہن ڈالا تھا ‘ اور اس آنکھ کے بارے میں میرے لئے دعا کی تھی ، تو اس کے بعد ( اس آنکھ میں ) مجھے کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9980

Majma al-Zawaid #9980

«وَعَنْ عَلَيٍّ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ: "" مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ، وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ يَكُونُ فِي الصَّفِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ali (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr the Prophet ﷺ told him and Abu Bakr that with one of them is Jibril, with the other is Mikail, and Israfil, a mighty angel, witnesses the fighting or stands in the ranks. > **["With one of you is Jibril and with the other is Mikail, and Israfil, a mighty angel, witnesses the fighting."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا :’’ تم دونوں میں ایک کے ساتھ جبرائیل ہے اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے اور اسرافیل جو ایک بڑا فرشتہ ہے ‘ وہ بھی جنگ میں شامل ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ صف میں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ یہ امام بزار نے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9981

Majma al-Zawaid #9981

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ: "" مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ - أَوْ يَكُونُ فِي الصَّفِّ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ali (Radiya Allahu 'anhu): In a variant with sound chain he reported that on the day of Badr the Prophet ﷺ told him and Abu Bakr that with one is Jibril and with the other is Mikail, and Israfil, a mighty angel, witnesses the fighting or stands in the ranks. > **["With one of you is Jibril and with the other is Mikail, and Israfil, a mighty angel, witnesses the fighting."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا :’’ تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ ‘ جبرائیل ہے اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے اور اسرافیل ‘ جو ایک بڑا فرشتہ ہے وہ اس جنگ میں شریک ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ صف میں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ‘ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔

9982

Majma al-Zawaid #9982

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَعَنْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ عُبَيْدَةَ بْنَ الْحَارِثِ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، أَظُنُّهُ قَالَ: فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَشْقَرُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ali ibn Abi Talib (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr he and Hamzah aided Ubaydah ibn al-Harith against al-Walid ibn Utbah, and as he recalls, the Prophet ﷺ did not reproach them for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ولید بن عتبہ کے خلاف ‘ میں نے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا : نبی اکرم ﷺ نے اس حوالے سے ہم پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسین اشقر ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9983

Majma al-Zawaid #9983

وَعَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ: «قِيلَ لِسَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ -: مَتَى أَصَبْتَ الدَّعْوَةَ؟ قَالَ: يَوْمَ بَدْرٍ كَنْتُ أَرْمِي بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَضَعُ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ زَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ، وَأَرْعِبْ قُلُوبَهُمْ، وَافْعَلْ بِهِمْ وَافْعَلْ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Amir al-Sha'bi: He reported that Sa'd ibn Abi Waqqas (Radiya Allahu 'anhu) was asked when he received the invocation, and replied on the day of Badr when he shot arrows before the Prophet ﷺ, placing each arrow in the bow's center and praying O Allah shake their feet, fill their hearts with terror, and do such-and-such to them, whereupon the Prophet ﷺ prayed for Allah to answer Sa'd. > **["O Allah, answer Sa'd."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ کو دعا ( یعنی نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ملنے والی دعا ) کب نصیب ہوئی تھی ؟ انہوں نے بتایا : غزوہ بدر کے دن ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے آگے کھڑا ہو کر تیر اندازی کر رہا تھا ‘ میں نے تیر کمان میں لگایا اور پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! ان کے قدموں کو ہلا دے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کے ساتھ یہ کر اور وہ کر ! تو نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : اے اللہ ! تو سعد کی دعا کو قبول فرما ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

9984

Majma al-Zawaid #9984

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ قِتَالَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا مُتَّصِلٌ وَالْآخَرُ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that Sa'd (Radiya Allahu 'anhu) fought alongside the Messenger of Allah ﷺ on the day of Badr with the fighting of both horseman and foot-soldier.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ بدر کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ‘ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک ۔ سوار کے طور پر اور ایک پیادہ کے طور پر ( یعنی دونوں حیثیتوں کے ساتھ ) جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک متصل ہے اور دوسری ’’ مرسل ‘‘ ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

9985

Majma al-Zawaid #9985

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ سِيمَا الْمَلَائِكَةِ يَوْمَ بَدْرٍ عَمَائِمُ بِيضٌ قَدْ أَرْسَلُوهَا إِلَى ظُهُورِهِمْ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ عَمَائِمُ حُمْرٌ، وَلَمْ تُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ فِي يَوْمٍ إِلَّا يَوْمَ بَدْرٍ، إِنَّمَا كَانُوا يَكُونُونَ عَدَدًا وَمَدَدًا لَا يَضْرِبُونَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the badge of the angels on the day of Badr was white turbans with ends let down behind their backs, and on the day of Hunayn red turbans. They fought only on the day of Badr; on other days they were present only as numbers and reinforcement, not striking.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن فرشتوں کی مخصوص نشانی سفید عمامے تھے ‘ انہوں نے ان کے شملے پیچھے لٹکائے ہوئے تھے ‘ اور غزوہ حنین کے موقع پر ‘ ان کی نشانی سرخ عمامے تھے ‘ لیکن فرشتوں نے جنگ میں حصہ ‘ صرف غزوہ بدر کے موقع پر لیا تھا ‘ ویسے وہ تعداد زیادہ ظاہر کرنے کے لئے شریک ہوتے تھے ‘ لیکن لڑائی میں حصہ نہیں لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن ابومالک جنبی ہے ‘ جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

9986

Majma al-Zawaid #9986

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمْ تُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَتْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ إِمْدَادًا، وَلَمْ يَكُنْ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْخَيْلِ إِلَّا فَرَسَانِ: أَحَدُهُمَا لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَالْآخَرُ لِأَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the angels fought alongside the Prophet ﷺ only on the day of Badr; besides that they were only reinforcement. With the Prophet ﷺ there were only two horses, one belonging to al-Miqdad ibn al-Aswad and the other to Abu Marthad al-Ghanawi (Radiya Allahu 'anhuma).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فرشتوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صرف غزوہ بدر کے موقع پر لڑائی میں حصہ لیا تھا ‘ اس کے علاوہ ‘ وہ صرف تعداد زیادہ ظاہر کرنے کے لئے حاضر ہوتے تھے ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ‘ جن میں سے ایک حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تھا ‘ اور دوسرا حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔

9987

Majma al-Zawaid #9987

«وَعَنِ الْبَهِيِّ قَالَ: كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَسَانِ: الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ عَلَى فَرَسٍ مِنَ الْمَيْمَنَةِ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ عَلَى فَرَسٍ عَلَى الْمَيْسَرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Al-Bahi: He reported that on the day of Badr there were with the Messenger of Allah ﷺ two horsemen, al-Zubayr ibn al-Awwam (Radiya Allahu 'anhu) on a horse on the right flank and al-Miqdad ibn al-Aswad (Radiya Allahu 'anhu) on a horse on the left flank.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بہی بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دو شہسوار تھے ۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور وہ میمنہ پر تعینات تھے اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور وہ میسرہ پر تعینات تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

9988

Majma al-Zawaid #9988

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى سِيمَا الزُّبَيْرِ عَلَيْهَا عَمَائِمُ صُفْرٌ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu al-Malih from his father: He reported that on the day of Badr the angels descended in the likeness of al-Zubayr wearing yellow turbans.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر جب فرشتے نازل ہوئے تھے ‘ تو ان کا حلیہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرح کا تھا ‘ اور انہوں نے زرد عمامے باندھے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔

9989

Majma al-Zawaid #9989

وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ فِي الظِّلِّ، وَأَصْحَابُهُ فِي الشَّمْسِ يُقَاتِلُونَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: أَنْتَ فِي الظِّلِّ وَالْمُسْلِمُونَ فِي الشَّمْسِ يُقَاتِلُونَ، فَقَامَ فَتَحَوَّلَ إِلَى الشَّمْسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Hazim al-Ansari (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr the Prophet ﷺ was in the shade while his Companions fought in the sun. Jibril came to him noting he sits in shade while Muslims fight in the sun, so he rose and moved into the sun.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحازم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ سائے میں تھے اور آپ کے اصحاب دھوپ میں لڑائی کر رہے تھے ۔ حضرت جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : آپ سائے میں ہیں اور مسلمان دھوپ میں لڑائی کر رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ اُٹھے اور دھوپ میں آ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن صالح بن ابواسود ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

9990

Majma al-Zawaid #9990

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ الْحَارِثِيَّ جَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ بِثَلَاثَةِ رُءُوسٍ يَحْمِلُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ظَفِرَتْ يَمِينُكَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا اثْنَانِ فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا، وَأَمَّا الْآخَرُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا أَبْيَضَ جَمِيلًا حَسَنَ الْوَجْهِ ضَرَبَ رَأْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ذَاكَ فُلَانُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Sahl ibn Abi Hathmah (Radiya Allahu 'anhu): He reported that Abu Barzah al-Harithi came on the day of Badr carrying three heads to the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ saw him he congratulated his right hand. Abu Barzah said he himself had killed two, but as for the third he saw a handsome fair man strike off his head. The Messenger of Allah ﷺ told him it was such-and-such an angel among the angels. > **["Your right hand has prospered."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبرزہ حارثی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن تین سر اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : تم کامیاب ہو گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جہاں تک دو افراد کا تعلق ہے ‘ تو ان دونوں کو تو میں نے قتل کیا ہے ‘ لیکن جہاں تک تیسرے فرد کا تعلق ہے ‘ تو میں نے ایک خوبصورت سفید رنگ کے شخص کو دیکھا جس کا چہرہ خوبصورت تھا اس نے اس کا سر اڑا دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ فلاں ‘ ایک فرشتہ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9991

Majma al-Zawaid #9991

وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ - وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا - قَالَ: إِنِّي لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِأَضْرِبَهُ، إِذْ وَقَعَ رَأْسُهُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ سَيْفِي، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ غَيْرِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Dawud al-Mazini (Radiya Allahu 'anhu), a Badr veteran: He reported that he pursued a polytheist to strike him, but the man's head fell before his sword could reach him, so he knew another besides himself had killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوداؤد مازنی رضی اللہ عنہ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پیچھے گیا تاکہ اس پر ضرب لگاؤں ‘ تو میری تلوار اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر گر گیا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ اسے میرے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9992

Majma al-Zawaid #9992

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ؟ قَالَ: "" مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ، فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Jabir (Radiya Allahu 'anhu): He reported that they were praying with the Messenger of Allah ﷺ in the Badr campaign when he smiled during prayer. When he finished they asked why he smiled. He said Mikail passed by him with traces of dust on his wing, returning from pursuing the enemy, laughed to him, so he smiled back. > **["Mikail passed by me with dust on his wing, returning from pursuing the enemy, and laughed to me, so I smiled to him."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ہم نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم ﷺ نماز کے دوران مسکرا دیے جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ مسکرا دیے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میکائیل میرے پاس سے گزرے تھے اور ان کے ’’ پر ‘‘ پر غبار کا نشان تھا ‘ اور وہ دشمن کا پیچھا کر کے واپس آ رہے تھے ‘ وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑے ‘ تو میں نے انہیں دیکھ کر مسکرا دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

9993

Majma al-Zawaid #9993

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: قَالَ أَبِي: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيُشِيرُ بِسَيْفِهِ إِلَى رَأْسِ الْمُشْرِكِ، فَيَقَعُ رَأْسُهُ عَنْ جَسَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: رَوَى مَنَاكِيرَ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Umamah ibn Sahl ibn Hunayf from his father (Radiya Allahu 'anhum): His father told him that on the day of Badr one of them would merely point his sword toward a polytheist's head and the head would fall from its body before the blade reached him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ اے میرے بیٹے ! غزوہ بدر کے بارے میں ‘ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی تلوار کے ذریعے مشرک کے سر کی طرف اشارہ کرتا تھا ، تو اس کا سر جسم سے جدا ہو کے گر جاتا تھا ‘ اس سے پہلے کہ وہ تلوار ( یا حملہ آور فرد ) اس تک پہنچے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی اسکندرانی ہے ابن یونس کہتے ہیں : اس نے منکر روایات نقل کی ہیں ۔

9994

Majma al-Zawaid #9994

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو أُسَيْدٍ: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ الْآنَ بِبَدْرٍ، ثُمَّ أَطْلَقَ اللَّهُ لِي بَصَرِي، لَأُرِيَنَّكَ الشِّعْبَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ غَيْرَ شَكٍّ وَلَا تَمَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ لِغَفْلَةٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Sahl ibn Sa'd (Radiya Allahu 'anhu): He reported that Abu Usayd (Radiya Allahu 'anhu) told him that were they both now at Badr with his sight restored, he would show him without doubt or dispute the mountain pass from which the angels emerged upon them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! اگر میں اور تم اس وقت بدر میں ہوتے اور پھر اللہ تعالیٰ میری بینائی کو کھول دیتا ‘ تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا ‘ جس میں سے فرشتے نکل کر ہمارے پاس آئے تھے ‘ اس میں کوئی شک اور کوئی الجھن نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اس میں موجود غفلت کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

9995

Majma al-Zawaid #9995

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى سِيمَا الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مُتَعَجِّرٌ بِعِمَامَةٍ صَفْرَاءَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي اللِّبَاسِ نَحْوَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Narrated by Urwah: He reported that on the day of Badr Jibril ('alayhi al-salam) descended in the likeness of al-Zubayr (Radiya Allahu 'anhu), wrapping a yellow turban.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن حضرت جبرائیل حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حلیہ کے مطابق نازل ہوئے انہوں نے زرد رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔ لباس سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث پہلے گزر چکی ہیں ۔

9996

Majma al-Zawaid #9996

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: لَقَدْ قُلِّلُوا فِي أَعْيُنِنَا يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قُلْتُ لِصَاحِبِي الَّذِي إِلَى جَانِبِي: كَمْ تَرَاهُمْ؟ أَتَرَاهُمْ سَبْعِينَ؟ قَالَ: أَرَاهُمْ مِائَةً حَتَّى أَخَذْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا فَسَأَلْنَاهُ قَالَ: كُنَّا أَلْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr the enemy were made few in their eyes, so that he asked his companion beside him whether he saw seventy or a hundred. Then they seized one of them and asked him, and he said they were a thousand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر دشمن ہماری نظروں میں کم نظر آ رہا تھا یہاں تک کہ میں نے اپنے پہلو میں موجود اپنے ساتھی سے دریافت کیا : ان لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ یہ کتنے ہیں کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ستر ہوں گے ؟ اس نے کہا : میرا خیال ہے ‘ یہ سو ہوں گے ‘ یہاں تک کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کو پکڑا اور اس سے دریافت کیا : تو اس نے بتایا : ہم تو ایک ہزار ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

9997

Majma al-Zawaid #9997

«وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: سَمِعْنَا صَوْتًا وَقَعَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ كَأَنَّهُ صَوْتُ حَصَاةٍ فِي طِسْتٍ، وَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتِلْكَ الْحَصَاةِ فَانْهَزَمْنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Hakim ibn Hizam (Radiya Allahu 'anhu): He reported that they heard a sound falling from sky to earth like a pebble in a basin, and the Messenger of Allah ﷺ threw that pebble, whereupon they were routed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ہم نے ایک آواز سنی ‘ جو آسمان سے زمین کی طرف آئی تھی ‘ اور وہ یوں تھی جیسے کسی طشت میں کنکری کو ڈالا جاتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے وہ کنکریاں پھینکیں ‘ تو ہم پسپا ہو گئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

9998

Majma al-Zawaid #9998

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ كَفًّا مِنَ الْحَصَى، فَاسْتَقْبَلَنَا بِهِ فَرَمَى بِهَا، وَقَالَ: "" شَاهَتِ الْوُجُوهُ "" فَانْهَزَمْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Hakim ibn Hizam (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr the Messenger of Allah ﷺ took a handful of pebbles, faced them, threw them and said that faces be deformed, whereupon they were routed, and Allah revealed that you did not throw when you threw but Allah threw. > **["May the faces be deformed."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا ‘ آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں ، ہم ( یعنی مشرکین مکہ ) آپ کے سامنے آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پھینک دیا اور فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، تو ہم پسپا ہو گئے ‘ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ جب تم نے کنکریاں پھینکی تھیں ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

9999

Majma al-Zawaid #9999

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَعَلِيٍّ: "" نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ حَصًى "". فَنَاوَلَهُ، فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْقَوْمِ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحَصْبَاءِ، فَنَزَلَتْ: {وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that the Prophet ﷺ told Ali to hand him a handful of pebbles. He handed them, the Prophet ﷺ threw them at the faces of the enemy, and none remained whose eyes were not filled with gravel. Then the verse was revealed that you did not throw when you threw but Allah threw. > **["Hand me a handful of pebbles."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : مجھے مٹھی بھر کنکریاں پکڑاؤ ‘ انہوں نے وہ پکڑائیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے وہ دشمن کی طرف پھینکیں ، تو دشمن میں سے کوئی فرد ایسا نہیں بچا ‘ جس کی آنکھیں اس کنکریوں سے بھر نہ گئی ہوں ( یعنی ان کے اثرات سے متاثر نہ ہوئی ہوں ) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ جب تم نے کنکریاں پھینکی تھیں ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10000

Majma al-Zawaid #10000

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ: "" مَنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَأْسِرُوهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ; فَإِنَّهُمْ خَرَجُوا كُرْهًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ali ibn Abi Talib (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr the Messenger of Allah ﷺ commanded that whomever they could capture from Banu Abd al-Muttalib should be taken alive, for they had been brought out under coercion. > **["Whomever you are able to capture from Banu Abd al-Muttalib, take him alive, for they came out under coercion."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے جو شخص استطاعت رکھے ‘ تو وہ بنو عبدالمطلب کو قیدی بنا لے ( یعنی انہیں قتل نہ کرے ) کیونکہ وہ لوگ زبردستی لائے گئے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

10001

Majma al-Zawaid #10001

وَعَنِ الْبَرَاءِ وَغَيْرِهِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ هَذَا أَسَرَنِي، أَسَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنْزِعُ مِنْ هَيْئَتِهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ: "" قَدْ آزَرَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Al-Bara and others (Radiya Allahu 'anhum): They reported that an Ansari man brought al-Abbas as his captive. Al-Abbas protested to the Messenger of Allah ﷺ that this man had not captured him; rather a man of striking appearance had captured him. The Messenger of Allah ﷺ told the Ansari that Allah had aided him with a noble angel. > **["Allah has aided you with a noble angel."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ ‘ اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آیا اس نے انہیں قیدی بنایا ہوا تھا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا ہے ‘ مجھے کسی اور نے قیدی بنایا ہے ‘ میں الگ تھا مجھے قیدی بنانے والے کا حلیہ اس ‘ اس طرح کا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا : اللہ تعالی نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10002

Majma al-Zawaid #10002

«وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّهُ صَنَمٌ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: جَزَاكَ اللَّهُ مِنْ ذِي رَحِمٍ شَرًّا، أَتُقَاتِلُ ابْنَ أَخِيكَ مَعَ عَدُوِّهِ؟ قَالَ: مَا فَعَلَ؟ وَهَلْ أَصَابَهُ الْقَتْلُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعَزُّ لَهُ وَأَنْصَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: مَا يُرِيدُ إِلَيَّ؟ قُلْتُ: إِسَارًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِكَ. قَالَ: لَيْسَتْ بِأَوَّلِ صِلَتِهِ، فَأَسَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu al-Yusr (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr he looked at al-Abbas ibn Abd al-Muttalib standing like an idol with eyes flowing. He reproached him for fighting his nephew alongside his enemy despite kinship. Al-Abbas asked what had happened and whether the Prophet had been killed. He replied Allah is mightier and more helping than that. Al-Abbas asked what he wanted, and he said captivity, for the Messenger of Allah ﷺ had forbidden killing him. Al-Abbas said this was not his first kinship, so he captured him and brought him to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ کھڑے ہوئے تھے ‘ یوں جیسے بت ہوں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ‘ میں نے ان کی طرف دیکھا تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو رشتے داروں کی طرف سے برا بدلہ دے ‘ کیا آپ ‘ اُس کے دشمن کے ساتھ مل کر ‘ اپنے بھتیجے کے ساتھ جنگ کرنے لگے ہیں ؟ انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ کیا وہ قتل ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ ان کے لئے اس سے زیادہ غلبے والا ہے اور ان کے لئے زیادہ مددگار ہے ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا : میں آپ کو قیدی بنانا چاہتا ہوں ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : یہ اُن کی پہلی صلہ رحمی نہیں ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے انہیں قیدی بنا لیا اور میں انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10003

Majma al-Zawaid #10003

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ كَيْفَ أَسَرَكَ أَبُو الْيُسْرِ، وَلَوْ شِئْتَ لَجَعَلْتَهُ فِي كَفِّكَ؟ قَالَ: يَا بُنَيَّ، لَا تَقُلْ ذَاكَ لَقَدْ لَقِيتُنِي وَهُوَ أَعْظَمُ فِي عَيْنِي مِنَ الْخَنْدَمَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that he asked his father how Abu al-Yusr, whom he could have held in his palm, had captured him. He replied not to say that, for he had met one who appeared to his eye greater than al-Khandamah mountain.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : اے ابا جان ! حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ نے آپ کو قید کیسے کر لیا تھا ؟ اگر آپ چاہتے تو آپ انہیں اپنی ایک ہتھیلی کے ساتھ پکڑ سکتے تھے ‘ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ایسا نہ کہو ‘ میرے سامنے ایک ایسا فرد آیا تھا ‘ جو میری نظر میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) سے زیادہ بڑا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

10004

Majma al-Zawaid #10004

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أُسِرَ الْعَبَّاسُ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ قَمِيصٌ يَقْدِرُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Jabir ibn Abdullah (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that al-Abbas was captured on the day of Badr and no shirt could be found large enough to fit him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا ‘ ان کے لئے کوئی ایسی قمیص نہیں مل رہی تھی ، جو ان کے جسم پر پوری آتی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔