Majma al-Zawaid #9965
«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ صَرِيعًا فَقُلْتُ: أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ، قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ: وَبِمَا أَخْزَانِي اللَّهُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ؟ وَمَعِي سَيْفٌ لِي فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ وَلَا يَحْتَكُّ فِيهِ شَيْءٌ، وَمَعَهُ سَيْفٌ لَهُ جَيِّدٌ، فَضَرَبْتُ يَدَهُ فَوَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُهُ. ثُمَّ كَشَفْتُ الْمِغْفَرَ عَنْ رَأْسِهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ "". قُلْتُ: اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ: "" انْطَلِقْ فَاسْتَثْبِتْ "". فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ، ثُمَّ جِئْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ أَضْحَكُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْطَلِقْ فَأَرَنِي "". فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَأَرَيْتُهُ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.
EnglishUnverified translation
Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that he found Abu Jahl fallen on the day of Badr and said that Allah had disgraced Allah's enemy. Abu Jahl asked in what way he was disgraced beyond a man killed by his people. Ibn Mas'ud struck him with his own sword to little effect, then struck his hand where he held a fine sword so it fell, seized it, uncovered his head and struck his neck. He informed the Prophet ﷺ, who asked him to swear by Allah besides whom none is worthy of worship, then ordered him to go and verify. He ran like a bird, returned laughing like a bird, confirmed it, and the Messenger of Allah ﷺ said to go and show him. When the Prophet ﷺ stood over him he declared him the Pharaoh of this Ummah. > **["By Allah besides whom none is worthy of worship?"]**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ‘ میں نے ابوجہل کو پایا کہ وہ ( زخمی حالت میں ) پڑا ہوا تھا ‘ میں نے کہا : اے اللہ کے دشمن ! اللہ نے تجھے رسوائی کا شکار کر دیا ہے ‘ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے کس حساب سے رسوائی کا شکار کیا ہے ؟ میں ایک شخص ہوں ‘ جسے تم نے قتل کر دیا ہے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے پاس میری تلوار تھی ‘ میں نے وہ اسے چبھونا شروع کی ، میں چھوٹے قدموں سے اس کے قریب ہوا ‘ اس کے ساتھ اس کی ایک عمدہ تلوار تھی ، میں نے اس کے ہاتھ پر ضرب لگائی تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ‘ میں نے اسے پکڑا ‘ پھر میں نے اس کے سر سے خود کو ہٹایا اور اس کی گردن اڑا دی ‘ پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اُس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور تصدیق کر لو ‘ میں چلا ‘ میں پرندے کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، پھر میں پرندے کی طرح واپس آیا ‘ میں ہنس رہا تھا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چلو ‘ اور مجھے بھی دکھاؤ ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چل پڑا اور میں نے آپ کو ابوجہل دکھایا ‘ جب آپ اس کے پاس ٹھہرے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف محمد بن وہب بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔