Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 4

Book of Expeditions and Biography

Hadith 9925–9964

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9925

Majma al-Zawaid #9925

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: نَزَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى حُبَيْبٍ، [وَيُقَالُ: خُبَيْبُ - ابْنُ يَسَافِ - أَخِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ] بِالسُّنْحِ. وَيُقَالُ: بَلْ نَزَلَ عَلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ أَخِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ishaq, may Allah have mercy on him, narrated: Abu Bakr, may Allah be pleased with him, alighted upon Hubayb, also said Khubayb ibn Yasaf, brother of Al-Harith ibn al-Khazraj, at al-Sunh. It is also said he alighted upon Kharija ibn Zayd ibn Abi Zuhayr, brother of Bani al-Harith ibn al-Khazraj. This is an athar report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت حبیب بن یساف رضی اللہ عنہ ‘ اور ایک قول کے مطابق ‘ حضرت خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے ‘ جن کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے تھا ‘ اور وہ ’’ سخ “ کے مقام پر رہتے تھے ‘ ایک قول کے مطابق ‘ وہ حضرت خارجہ بن زید بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے تھے ‘ جن کا تعلق بنو حارث بن خزرج سے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9926

Majma al-Zawaid #9926

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ بَقِيَ مِمَّنْ هَاجَرَ، وَكَانَ قَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَلَمَّا أَجْمَعَ عَلَى الْهِجْرَةِ كَرِهَتِ امْرَأَتُهُ ذَلِكَ بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَجَعَلَتْ تُشِيرُ عَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى غَيْرِهِ، فَهَاجَرَ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ مُكْتَتِمًا مِنْ قُرَيْشٍ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَبَاعَ دَارَهُ بِمَكَّةَ فَمَرَّ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ ابْنُ هِشَامٍ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبَدِ الْعُزَّى، وَفِيهَا أُهُبٌ مَعْطُونَةٌ، فَذَرَفَتْ عَيْنَا عُتْبَةَ، وَتَمَثَّلَ بِبَيْتٍ مِنْ شِعْرٍ: وَكُلُّ دَارٍ وَإِنْ طَالَتْ سَلَامَتُهَا ... يَوْمًا سَيُدْرِكُهَا النَّكْبَاءُ وَالْحُوبُ. قَالَ أَبُو جَهْلٍ: وَأَقْبَلَ عَلِيَّ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: هَذَا مَا أَدْخَلْتُمْ عَلَيْنَا فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَامَ أَبُو أَحْمَدَ يَنْشُدُ دَارَهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَامَ إِلَى أَبِي أَحْمَدَ فَانْتَحَاهُ، فَسَكَتَ أَبُو أَحْمَدَ عَنْ نَشِيدِ دَارِهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَ أَبُو أَحْمَدَ يَقُولُ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّكِئٌ عَلَى يَدِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ -: حَبَّذَا مَكَّةَ مِنْ وَادِي ... بِهَا أَمْشِي بِلَا هَادِي بِهَا يَكْثُرُ عُوَّادِي ... بِهَا تَرْكِزُ أَوْتَادِي» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, narrated: Abdullah ibn Jahsh, may Allah be pleased with him, was the last remaining of the migrants, and his sight had weakened. When he resolved to migrate, his wife, daughter of Harb ibn Umayya, disliked it and advised him to migrate elsewhere. So he migrated concealed from Quraysh with his family and wealth until he reached the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Madina. Abu Sufyan ibn Harb seized and sold his house at Mecca. Afterwards Abu Jahl ibn Hisham, Utba ibn Rabia, Shayba ibn Rabia, Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, and Huwaytib ibn Abd al-Uzza passed by it, wherein were tanned skins. Utba's eyes shed tears and he recited verse: Every house, however long its safety, one day misfortune and ruin shall overtake it. Abu Jahl turned to Al-Abbas and said, This is what you brought upon us. When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, entered Mecca on the conquest, Abu Ahmad stood claiming his house, so the Prophet, peace and blessings be upon him, ordered Uthman ibn Affan, may Allah be pleased with him, who went to Abu Ahmad and restrained him, so he fell silent. Ibn Abbas said, Abu Ahmad used to say, while the Prophet, peace and blessings be upon him, reclined upon his hand on the conquest day: How excellent Mecca as a valley, wherein I walk without guide, wherein my visitors abound, wherein my stakes are fixed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ‘ یہ ان افراد میں سے آخری تھے ‘ جو ہجرت کرنے والے باقی رہ گئے تھے ‘ اُن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی ‘ جب انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ان کی اہلیہ ‘ جو حرب بن امیہ کی صاحبزادی تھیں ‘ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی اور طرف ہجرت کر لیں ، تو وہ اپنے اہلِ خانہ اور مال کو لے کر قریش سے چھپتے ہوئے ہجرت کے لئے نکلے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آ گئے ‘ ابوسفیان بن حرب نے مکہ میں موجود ان کا گھر فروخت کر دیا ، اس کے بعد ابوجہل بن ہشام ‘ عتبہ بن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ ‘ عباس بن عبدالمطلب اور حويطب بن عبدالعزیٰ کا اس گھر کے پاس سے گزر ہوا ‘ تو وہاں کچھ کھالیں رکھی ہوئی تھیں ، عتبہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور اس نے صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا : ’’ ہر گھر خواہ وہ کتنے عرصے تک سلامت رہے ‘ آخر کار ایک دن اسے بربادی اور وحشت لاحق ہو جاتے ہیں ‘‘ راوی کہتے ہیں : ابوجہل نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہا : یہ صورت حال آپ لوگوں نے ہم پر داخل کی ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے ‘ تو ابواحمد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے گھر کے حوالے سے بات چیت کی تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ‘ وہ اٹھ کر ابواحمد کی طرف گئے اور انہیں اس سے روکا ‘ تو ابواحمد اپنے گھر کے حوالے سے بات کرنے سے خاموش ہو گئے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہاتھ پر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور ابواحمد یہ شعر پڑھ رہے تھے : ’’ مکہ کی وادی کے کیا کہنے ؟ میں یہاں کسی رہنما کے بغیر چلتا ہوں ‘ یہاں میرے ملاقاتی بہت سے ہیں ‘ یہاں میرے کیل گاڑے گئے ہیں ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9927

Majma al-Zawaid #9927

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ قُدُومُنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَمْسٍ مِنَ الْهِجْرَةِ خَرَجْنَا مُتَوَصِّلِينَ مَعَ قُرَيْشٍ عَامَ الْأَحْزَابِ، وَأَنَا مَعَ أَخِي الْفَضْلِ، وَمَعَنَا غُلَامُنَا أَبُو رَافِعٍ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْعَرْجِ، فَضَلَّ لَنَا فِي الطَّرِيقِ رَكُوبَةٌ وَأَخَذْنَا فِي ذَلِكَ الطَّرِيقِ عَلَى الْجَثْجَاثَةِ حَتَّى خَرَجْنَا عَلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْخَنْدَقِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَأَخِي ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، وَكِلَاهُمَا لَمْ يُوَثَّقْ وَلَمْ يُضَعَّفْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, narrated: Our arrival to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, was five years after Hijra. We set out attached to Quraysh in the year of the Confederates, I with my brother Al-Fadl and our slave Abu Rafi, until we reached al-Arj, where our mount strayed. We took the route by al-Jathjatha until we emerged upon Bani Amr ibn Awf and entered Madina. We found the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at the Trench. I was then eight years old, and my brother thirteen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس ہجرت کے پانچویں سال آئے تھے ‘ غزوہ احزاب کے سال ہم قریش کے ساتھ مل کر نکلے تھے ‘ میں اپنے بھائی حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ‘ اور ہمارے ساتھ ہمارا غلام ابورافع تھا ، یہاں تک کہ جب ہم ’’ عرج ‘‘ کے مقام پر پہنچے ‘ تو راستے میں ہماری سواری گم ہو گئی ‘ ہم نے چثجاثہ کی طرف سے وہ راستہ طے کیا ‘ یہاں تک کہ بنوعمرو بن عوف کے محلے میں آ نکلے ‘ پھر ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے ‘ ہم نے نبی اکرم ﷺ کو خندق میں پایا ، میں اُن دنوں آٹھ سال کا تھا اور میرے بھائی ( حضرت فضل رضی اللہ عنہ ) تیرہ سال کے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبداللہ بن محمد بن عمارہ انصاری کے حوالے سے ‘ سلیمان بن داؤد بن حصین سے نقل کی ہے ‘ ان دونوں کی توثیق بھی نہیں کی گئی ہے اور انہیں ضعیف بھی قرار نہیں دیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9928

Majma al-Zawaid #9928

«وَعَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَمَّا أَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلُوا عَلَى الْغَارِ وَأَدْبَرُوا قَالَ: وَاصُهَيْبَاهُ وَلَا صُهَيْبَ لِي، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخُرُوجَ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى صُهَيْبٍ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَجَدَتْهُ يُصَلِّي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، فَقَالَ: "" أَصَبْتَ "". وَخَرَجَا مِنْ لَيْلَتِهِمَا، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ حَتَّى إِذَا أَتَى أُمَّ رُومَانَ زَوْجَةَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا وَقَدْ خَرَجَ أَخَوَاكَ وَوَضَعْنَا لَكَ شَيْئًا مِنْ أَزْوَادِهِمَا؟ قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى زَوْجَتِي أُمِّ عَمْرٍو، فَأَخَذَتْ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَقَوْسِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَأَجِدُهُ وَأَبَا بَكْرٍ جَالِسَيْنِ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو بَكْرٍ قَامَ إِلَيَّ فَبَشَّرَنِي بِالْآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِيَّ وَأَخَذَ بِيَدِي، فَلُمْتُهُ بَعْضَ اللَّائِمَةِ فَاعْتَذَرَ، وَرَبَّحَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَبِحَ الْبَيْعُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Suhayb, may Allah be pleased with him, narrated: When the polytheists surrounded in search of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, approaching and retreating from the cave, he said, O Suhayb, but no Suhayb for me. When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, intended to depart, he twice or thrice sent Abu Bakr to Suhayb, who found him praying. Abu Bakr said to the Prophet, peace and blessings be upon him, I found him praying and disliked interrupting his prayer. He said: > **"You did right."** They departed that night. In the morning Suhayb went to Umm Ruman, wife of Abu Bakr, who said, Do I see you here while your two brothers departed and we placed some of their provisions for you. So I went to my wife Umm Amr, took my sword, quiver, and bow, until I reached the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Madina, finding him and Abu Bakr sitting. When Abu Bakr saw me he stood, congratulated me with the verse revealed concerning me, took my hand. I partly blamed him and he apologized. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, made me profitable, saying: > **"Profitable was the sale."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں مشرکین چکر لگا رہے تھے اور غار کے پاس آ جا رہے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا : وائے صہیب ! میرے پاس صہیب نہیں ہے ‘ پھر جب نبی اکرم ﷺ نے وہاں ( یعنی مکہ ) سے نکلنے کا ارادہ کیا ‘ تو آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ‘ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گزارش کی : میں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا تھا تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ان کی نماز درمیان میں ختم کروا دوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ، پھر یہ دونوں حضرات اُسی رات روانہ ہو گئے ‘ اگلے دن صبح حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نکلے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے کہا : کیا آپ یہاں نظر آ رہے ہیں ؟ آپ کے دونوں بھائی تو تشریف لے جا چکے ہیں اور ان کے زاد سفر میں ہم نے آپ کے لئے بھی چیزیں رکھ دی تھیں ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نکلا اور اپنی بیوی ام عمرو کے پاس آیا ‘ میں نے اپنی تلوار ‘ اپنا ترکش اور اپنی کمان لی ‘ یہاں تک کہ مدینہ منورہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آ گیا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا ‘ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو وہ اُٹھ کر میرے پاس آئے اور اس آیت کے بارے میں مبارک باد دی ‘ جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھی ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ‘ میں نے انہیں ملامت کی ‘ تو انہوں نے معذرت کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھے کامیاب قرار دیتے ہوئے فرمایا : ” سودا کامیاب ہو گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

9929

Majma al-Zawaid #9929

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: خَيَّرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْهِجْرَةِ وَالْبَصْرَةِ، فَاخْتَرْتُ الْهِجْرَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfa, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, gave me choice between migration and support. So I chose migration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ہجرت اور نصرت کے درمیان اختیار دیا ‘ تو میں نے ہجرت کو اختیار کر لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور علی بن زید کے علاوہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ یہ راوی حسن الحدیث ہے ۔

9930

Majma al-Zawaid #9930

عَنْ زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ قَالَ: وَرَدَ عَلَيَّ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ: "" «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ، سَلِّمْ أَنْتَ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، إِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ. أَمَّا بَعْدُ: فَلْيُوضَعَنَّ كُلُّ دِينٍ دَانَ بِهِ النَّاسُ إِلَّا الْإِسْلَامَ، فَاعْلَمْ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ziyad ibn Jahwar, may Allah be pleased with him, narrated: A letter from the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, reached me, containing: > **"In the Name of Allah, the Merciful, the Compassionate. From Muhammad, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, to Ziyad ibn Jahwar. Be safe, peace be upon you. I praise to you Allah besides whom there is no god. To proceed, I remind you of Allah and the Last Day. To proceed, every religion people profess shall surely be laid aside except Islam, so know that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زیاد بن جمہور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا ، جس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ‘ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے ‘ زیاد بن جمہور کے نام ہے ‘ تم سلامتی پاؤ ‘ تم پر سلامتی نازل ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اما بعد ! میں تمہیں اللہ کی اور آخرت کے دن کی یاد دلاتا ہوں ‘ اما بعد ! ہر وہ دین ‘ جو لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے ‘ وہ ضرور ختم ہو جائے گا ‘ صرف اسلام باقی رہے گا ، تم یہ بات جان لو ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9931

Majma al-Zawaid #9931

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ: قَالَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ: إِنَّكُمْ قَدْ فَعَلْتُمْ بِمُحَمَّدٍ مَا فَعَلْتُمْ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: بَلْ كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ: وَاللَّهِ لَا يَزَالُ أَمْرُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهِرًا فِيمَا نَادَاكُمْ أَوْ أَسَرَّ مِنْكُمْ. قَالَ أَبُو يُوسُفَ: قُتِلَ الْحَارِثُ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim, may Allah be pleased with him, narrated: Al-Mutim ibn Adi said, You have done to Muhammad what you have done, so be the most restrained of people from him. Abu Jahl said, Rather be the harshest as you were. Al-Harith ibn Amir ibn Nawfal said, By Allah, the affair of Muhammad, peace and blessings be upon him, shall ever remain manifest, whether what he called you to openly or secretly. Abu Yusuf said, Al-Harith was killed on Badr day as a disbeliever.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مطعم بن عدی نے ( مشرکین مکہ سے کہا : ) تم لوگوں نے ( حضرت ) محمد ( ﷺ ) کے ساتھ جو بھی کیا ‘ سو کیا ، لیکن اب اُن کے حوالے سے سب سے زیادہ رُکنے والے بن جاؤ ! تو ابوجہل نے کہا : بلکہ تم لوگ ان کے زیادہ سخت مخالف بن جاؤ ‘ تو حارث بن عامر بن نوفل نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے تمہارے سامنے بلند آواز میں جو بات کی یا پوشیدہ طور پر جو بات کی ‘ ہر معاملے کے حوالے سے ( حضرت ) محمد ( سلام ) کا معاملہ مسلسل غالب ہوتا جا رہا ہے ۔ ابو یوسف نامی راوی کہتے ہیں : حارث بن عامر ‘ غزوہ بدر کے موقع پر ‘ کافر ہونے کے عالم میں مارا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف اور مدلس ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

9932

Majma al-Zawaid #9932

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"I was aided by the Saba wind, and Ad were destroyed by the Dabur wind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ صبا ‘‘ ( نامی مخصوص قسم کی ہوا ) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ‘ اور ’’ دبور ‘‘ ( نامی مخصوص قسم کی آندھی ) کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کر دیا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9933

Majma al-Zawaid #9933

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, narrated from the Prophet, peace and blessings be upon him, who said: > **"I was aided by the Saba wind, and Ad were destroyed by the Dabur wind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صبا “ ( نامی ہوا ) کے ذریعے میری مدد کی گئی ‘ اور قوم عاد کو ’’ دبور ‘‘ ( نامی آندھی ) کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

9934

Majma al-Zawaid #9934

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَإِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ، وَلَمْ يُطْعَمَهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ وَبَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ بِنَحْوِهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"I was given five never given to any prophet before me: I was sent to the red and the black, whereas each prophet was only sent to his people; I was aided by terror for a month's journey; booty was made lawful for me, never made lawful for anyone before me."** He mentioned the rest of the hadith, whose like and other narrations appear in the signs of prophethood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ‘ جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ‘ مجھے ہر سرخ اور سیاہ فام ( یعنی ہر قسم کے افراد یا تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ‘ جبکہ پہلے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ‘ مجھے مال غنیمت استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ‘ حالانکہ مجھ سے پہلے کسی کو وہ استعمال نہیں کرنے دیا گیا ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ اس نوعیت کی دیگر احادیث ’’ علامات نبوت “ سے متعلق باب میں آئیں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9935

Majma al-Zawaid #9935

«وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَيْهِ قَالَ: "" أَمَا إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَنِي بِالسَّنَةِ تُحْفِيكُمْ، وَبِالرُّعْبِ يَجْعَلُهُ فِي قُلُوبِكُمْ "". فَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا: أَمَا إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ هَكَذَا وَهَكَذَا أَنْ لَا أُؤْمِنَ بِكَ وَلَا أَتَّبِعَكَ، فَمَا زَالَتِ السَّنَةُ تُحْفِينِي، وَمَا زَالَ الرُّعْبُ يَجْعَلُ فِي قَلْبِي قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ». قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ غَيْرَ ذِكْرِ الرُّعْبِ وَالسَّنَةِ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiya ibn Hayda al-Qushayri, may Allah be pleased with him, narrated: I came to the Prophet, peace and blessings be upon him, and when I was brought to him he said: > **"Indeed I have asked Allah to suffice me without a year that destroys you, and without terror He places in your hearts."** Then he joined both hands and said, I have sworn thus and thus never to believe in you nor follow you. Then drought kept afflicting me, and terror kept settling in my heart, until I stood before you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جب میں آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ وہ مجھے ایسے قحط کے حوالے سے بے نیاز نہ کرے ‘ جو تمہیں ختم کر دے اور ایسے رعب کے حوالے سے بے نیاز کر دے ‘ جو وہ تمہارے دلوں میں ڈال دے ‘ راوی کہتے ہیں : انہوں نے دونوں ہاتھ ملا کر یہ کہا : میں یہ یہ حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ نہ تو میں آپ پر ایمان لاؤں گا اور نہ ہی آپ کی پیروی کروں گا ‘ اس کے بعد قحط سالی نے مجھے مسلسل اپنی لپیٹ میں لئے رکھا اور رعب مسلسل میرے دل میں رہا ‘ یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے رعب اور قحط سالی کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

9936

Majma al-Zawaid #9936

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتِ الصَّبَا الشَّمَالَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ فَقَالَتْ: مُرِّي حَتَّى نَنْصُرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الشَّمَالُ: إِنَّ الْحُرَّةَ لَا تَسْرِي بِاللَّيْلِ. فَكَانَتِ الرِّيحُ الَّتِي نُصِرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّبَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, narrated: The Saba wind came to the Shamal wind on the night of the Confederates and said, Proceed so we may aid the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. The Shamal said, The free woman does not travel by night. So the wind by which the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, was aided was Saba.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :’’ صبا ‘‘ ( نامی ہوا ) ’’ شمال ‘‘ ( نامی ہوا ) کے پاس ‘ غزوہ احزاب کی رات آئی اور بولی : تم چلو ! تاکہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کی مدد کریں ‘ تو ’’ شمال ‘‘ نامی ہوا نے کہا : گرمی رات کے وقت نہیں چلتی ہے ‘ تو وہ ہوا جس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مدد کی گئی ‘ وہ ’’ صبا ‘‘ تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9937

Majma al-Zawaid #9937

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يَغْزُوَا، فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, would not raid in the sacred month unless raided or fought. When that occurred, he waited until it expired.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حرمت والے مہینے میں جنگ نہیں کی ‘ البتہ جب آپ پر جنگ مسلط کی گئی ‘ یا لوگوں نے جنگ کی ( تو آپ نے مقابلہ کیا ) جب اس طرح کی صورت حال آتی تھی ( کہ حرمت والا مہینہ موجود ہو ) تو آپ ٹھہرے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ گزر جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9938

Majma al-Zawaid #9938

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ جَاءَتْ جُهَيْنَةُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا حَتَّى نَأْتِيَكَ تُؤَمِّنُنَا، فَأَوْثَقَ لَهُمْ فَأَسْلَمُوا. قَالَ: فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَجَبٍ وَلَا نَكُونُ مِائَةً، وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِيرَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ إِلَى جَنْبِ جُهَيْنَةَ، فَأَغَرْنَا عَلَيْهِمْ، وَكَانُوا كَثِيرًا فَلَجَأْنَا إِلَى جُهَيْنَةَ فَمَنَعُونَا، وَقَالُوا: لِمَ تُقَاتِلُونَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ؟ فَقُلْنَا: إِنَّا إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: مَا تَرَوْنَ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا: نَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرُهُ، وَقَالَ قَوْمٌ: لَا بَلْ نُقِيمُ هَاهُنَا، وَقُلْتُ أَنَا فِي أُنَاسٍ مَعِي: لَا بَلْ نَأْتِي عِيرَ قُرَيْشٍ فَنَقْتَطِعُهَا، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَامَ غَضْبَانَ مُحْمَرَّ الْوَجْهِ، فَقَالَ: "" أَذَهَبْتُمْ مِنْ عِنْدِي جَمِيعًا وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ، إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْفُرْقَةُ، لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا لَيْسَ بِخَيْرِكُمْ أَصْبَرَكُمْ عَلَى الْجُوعِ وَالْعَطَشِ "". فَبَعَثَ عَلَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ، فَكَانَ أَوَّلَ أَمِيرٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَنْهُ وِجَادَةً، وَوَصَلَهُ عَنْ غَيْرِ أَبِيهِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَلَفْظُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: أَوَّلُ أَمِيرٍ عُقِدَ لَهُ فِي الْإِسْلَامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ عَقَدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا. وَفِيهِ الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَوَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, arrived at Madina, Juhayna came and said, You have alighted among us, so make covenant for us so we may come to you in security. He made covenant, and they accepted Islam. Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, sent us in Rajab, less than a hundred, ordering us to raid a clan of Bani Kinana beside Juhayna. We raided them, but they were many, so we sought refuge with Juhayna, who protected us and said, Why do you fight in the sacred month. We said, We only fight those who expelled us from the sacred land in the sacred month. Some said among themselves, What do you think. Some said, Let us go to the Prophet, peace and blessings be upon him, and inform him. Others said, Rather let us stay here. I with some others said, Rather let us go to Quraysh caravan and intercept it. We went to the caravan, for booty then was whoever takes is his. Our companions went to the Prophet, peace and blessings be upon him, and informed him. He stood angry, red-faced, and said: > **"You went from me together and came back divided. Those before you were destroyed only by division. I shall surely send over you a man not the best among you but the most patient in hunger and thirst."** So he sent over us Abdullah ibn Jahsh, may Allah be pleased with him, the first commander appointed in Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو جہینہ قبیلے کے لوگ آئے اور بولے : آپ نے ہمارے درمیان میں پڑاؤ کیا ہے ، تو آپ ہمارے ساتھ یہ معاہدہ کریں کہ ہم آپ کے پاس امن کی حالت میں آ سکیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ طے کیا ‘ تو ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں رجب کے مہینے میں بھیجا ہم ایک سو افراد نہیں تھے ‘ آپ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ جہینہ قبیلے کے پہلو میں ‘ موجود کنانہ قبیلے پر ہم نے حملہ کرنا ہے ‘ ہم نے ان لوگوں پر حملہ کیا ان کی تعداد زیادہ تھی ، ہم لوگ پناہ کے لئے جہینہ قبیلے کی طرف گئے ‘ تو انہوں نے ہمیں روکا اور بولے : تم لوگ حرمت والے مہینے میں کیوں جنگ کر رہے ہو ؟ ہم نے کہا : ہم ان لوگوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں ، جنہوں نے حرمت والے مہینے میں ہمیں حرمت والے شہر سے نکال دیا تھا ، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : تم لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا : ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس جا کر نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتاتے ہیں ‘ تو دوسرے لوگوں نے کہا : جی نہیں ! بلکہ ہم یہیں مقیم رہیں گے ‘ میں نے اپنے ساتھی لوگوں سے کہا : جی نہیں ! بلکہ ہم قریش کے قافلے کی طرف جاتے ہیں اور اُسے راستے میں روک لیں گے ‘ تو ہم قافلے کی طرف گئے اس زمانے میں مال غنیمت کا اصول یہ ہوتا تھا کہ جو شخص جو چیز لے گا ‘ وہ اس کی ہو گی ہم قافلے کی طرف گئے ‘ ہمارے ساتھی نبی اکرم ﷺ کی طرف چلے گئے ‘ آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ غصے کے عالم میں کھڑے ہو گئے ‘ آپ کا چہرہ سرخ تھا ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور اب تم الگ ‘ الگ ہو کر آ رہے ہو ؟ تم سے پہلے کے لوگوں کو فرقہ بندی نے ہلاکت کا شکار کر دیا تھا ‘ اب میں تم پر ایک ایسے شخص کو امیر بنا کر بھیجوں گا ‘ جو تم میں سب سے بہتر نہیں ہے ‘ لیکن وہ بھوک اور پیاس کے حوالے سے ‘ تم میں سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا ، تو یہ وہ پہلے امیر تھے ‘ جنہیں اسلام میں امیر مقرر کیا گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ ان سے یہ روایت ان کے صاحبزادے نے ’’ وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے اور اپنے والد کے علاوہ اسے ’’ موصول ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ یہی روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ حضرت سعید رضی اللہ عنہ ( یا حضرت سعد رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں : وہ پہلے امیر ‘ جنہیں اسلام میں امیر مقرر کیا گیا ‘ وہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ‘ ایک روایت کے مطابق امام نسائی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9939

Majma al-Zawaid #9939

وَعَنْ زِرٍّ قَالَ: أَوَّلُ رَايَةٍ رُفِعَتْ فِي الْإِسْلَامِ رَايَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، وَأَوَّلُ مَالٍ خُمِّسَ فِي الْإِسْلَامِ، مَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zirr, may Allah have mercy on him, narrated: The first banner raised in Islam was the banner of Abdullah ibn Jahsh, and the first wealth of which a fifth was taken in Islam was the wealth of Abdullah ibn Jahsh, may Allah be pleased with him. This is an athar report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : پہلا جھنڈا ‘ جو اسلام میں بلند کیا گیا ‘ وہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا جھنڈا تھا اور اسلام میں جو پہلا خمس مال حاصل ہوا ‘ وہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا لایا ہوا مال تھا ‘ ( یا وہ مال تھا جو حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو خمس کے طور پر ملا تھا ) ۔ یہ دونوں روایات ‘ امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں اور وہ سند حسن ہے ۔

9940

Majma al-Zawaid #9940

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ مُنْصَرَفَهُ عَنْ حَمْزَةَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ نَزَلَ يَثْرِبَ، وَأَرْسَلَ طَلَائِعَهُ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَاحْذَرُوا أَنْ تَمُرُّوا طَرِيقَهُ وَأَنْ تُقَارِبُوهُ ; فَإِنَّهُ كَالْأَسَدِ الضَّارِي، إِنَّهُ حَنَقٌ عَلَيْكُمْ نَفَيْتُمُوهُ نَفْيَ الْقِرْدَانِ عَلَى الْمَنَاسِمِ، وَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَسُجْرَةً مَا رَأَيْتُهُ قَطُّ وَلَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَّا رَأَيْتُ مَعَهُمُ الشَّيَاطِينَ، وَإِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ عَدَاوَةَ ابْنِي قَيْلَةَ، فَهُوَ عَدُوٌّ اسْتَعَانَ بِعَدُوٍّ. فَقَالَ لَهُ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيِّ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَصْدَقَ لِسَانًا، وَلَا أَصْدَقَ مَوْعِدًا مِنْ أَخِيكُمُ الَّذِي طَرَدْتُمْ، فَإِذْ فَعَلْتُمُ الَّذِي فَعَلْتُمْ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ: كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ ; فَإِنَّ ابْنِي قَيْلَةَ إِنْ ظَفِرُوا بِكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً، وَإِنْ أَطَعْتُمُونِي أَلْحِقُوهُمْ خَبَرَ كِنَانَةَ أَوْ تُخْرِجُوا مُحَمَّدًا مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ فَيَكُونَ وَحِيدًا طَرِيدًا، وَأَمَّا ابْنَا قَيْلَةَ فَوَاللَّهِ مَا هُمَا وَأَهْلُ دَهْلِكَ فِي الْمَذَلَّةِ إِلَّا سَوَاءٌ، وَسَأَكْفِيكُمْ حَدَّهُمْ، وَقَالَ: سَأَمْنَحُ جَانِبًا مِنِّي غَلِيظًا ... عَلَى مَا كَانَ مِنْ قُرْبٍ وَبُعْدِ رِجَالُ الْخَزْرَجِيَّةِ أَهْلُ ذُلٍّ ... إِذَا مَا كَانَ هَزْلٌ بَعْدَ جَدِّ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْتُلَنَّهُمْ، وَلَأُصَلِّبَنَّهُمْ، وَلَأَهْدِيَنَّهُمْ وَهُمْ كَارِهُونَ، إِنِّي رَحْمَةٌ بَعَثَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَتَوَفَّانِي حَتَّى يُظْهِرَ اللَّهُ دِينَهُ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وِجَادَةً مِنْ طَرِيقِ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيِّ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابٍ بِالْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim, may Allah be pleased with him, narrated: Abu Jahl said when he arrived at Mecca returning from Hamza, O Quraysh, Muhammad has settled at Yathrib and sent scouts, seeking to seize something from you. Beware passing his path or approaching him, for he is like a ravenous lion, enraged against you. You expelled him as ticks are expelled from camel feet. By Allah, he has vehemence, never did I see him or any companion except I saw devils with them. You know the enmity of the two sons of Qayla, an enemy aided by an enemy. Mutim ibn Adi said, O Abu al-Hakam, by Allah I never saw one truer in tongue nor truer in promise than your brother whom you expelled. Since you did what you did, be the most restrained from him. Abu Sufyan ibn al-Harith said, Be the harshest as you were, for if the two sons of Qayla prevail they will observe neither kinship nor pact toward you. If you obey me, convey to them news of Kinana or expel Muhammad from among them so he becomes solitary and driven. As for the two sons of Qayla, by Allah they and your few people in humiliation are equal, and I shall suffice you their edge, and he recited: I shall grant a harsh side from me, despite nearness or distance. Men of Khazraj are people of disgrace when jest follows earnest. This reached the Prophet, peace and blessings be upon him, who said: > **"By Him in whose Hand is my soul, I shall surely kill them, crucify them, and guide them though hateful. Indeed I am a mercy, Allah sent me, and He shall not take me until Allah manifests His religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ابوجہل ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے مل کے واپس مکہ آیا ‘ تو اس نے کہا : اے قریش کے گروہ ( حضرت ) محمد ( ﷺ ) یثرب میں ٹھہر چکے ہیں ‘ انہوں نے اپنے جاسوس بھیج دیے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں نقصان پہنچائیں ، تو تم ان کے راستے سے گزرنے سے بچو ‘ بلکہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ ‘ کیونکہ وہ چیر پھاڑ کرنے والے شیر کی مانند ہیں ‘ وہ تمہارے خلاف غیظ و غضب رکھتے ہیں ‘‘ تم نے انہیں یوں جلاوطن کیا ہے ، جس طرح بندروں کو راستوں سے پرے کیا جاتا ہے ‘ اللہ کی قسم ! ان کا ( جوش یا غضب ) بھرپور ہے ‘ میں نے انہیں اور ان کے ساتھیوں میں کسی کو جب بھی دیکھا ‘ تو ان کے ساتھ شیاطین کو دیکھا ہے ‘ اور تم لوگ قیلہ کے دو بیٹوں کی دشمنی سے واقف ہو ‘ تو وہ ایک دشمن ہے ‘ جو دشمن سے مدد حاصل کرتے ہیں ، تو مطعم بن عدی نے اس سے کہا : اے ابوالحکم ! اللہ کی قسم ! میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ‘ جو زبان کے اعتبار سے اور وعدے کے اعتبار سے ‘ تمہارے بھائی ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) سے زیادہ سچا ہو ‘ جسے تم نے پرے کر دیا ہے ‘ تم نے جو کیا سو کیا ‘ لیکن اب ان کے حوالے سے احتیاط کرو ! ابوسفیان بن حارث نے کہا : تم ان کی جتنی مخالفت کر رہے تھے ‘ وہ شدید ترین مخالفت کرو ! کیونکہ اگر قیلہ کے دو صاحبزادے تمہارے حوالے سے کامیاب ہو گئے ‘ تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا لحاظ کریں گے ‘ اگر تم میری بات مانتے ہو ‘ تو یا تو کنانہ کی اطلاع ان تک پہنچا دو ‘ یا پھر ( حضرت ) محمد ( ﷺ ) کو ان لوگوں کے درمیان سے نکال دو ! تو وہ تنہا اور اکیلے ہو جائیں گے ‘ جہاں تک قیلہ کے دو بیٹوں کا تعلق ہے ‘ تو اللہ کی قسم ! وہ دونوں اور تمہارے تھوڑے سے لوگ ذلت میں برابر ہیں ‘ اور اُن کی حد کے حوالے سے ‘ میں تمہاری کفایت کر لوں گا ، پھر اس نے یہ شعر پڑھے : ’’ میں اپنی طرف سے ایک مضبوط ( بات کا ) عطیہ دے رہا ہوں ‘ ہر اس شخص کو جو خواہ قریب ہو یا دور ہو ‘ جب بھی سنجیدگی کے بعد مذاق کی بات ہو گی تو خزرج قبیلے کے لوگ ذلیل ہوں گے “۔ نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں انہیں ضرور قتل کروں گا اور میں انہیں ضرور سولی دوں گا اور میں ان کی ضرور رہنمائی کروں گا ‘ جبکہ وہ مجبور ہوں گے ‘ میں رحمت ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا ‘ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب نہیں کر دے گا ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ وجادہ ‘‘ کے طور پر ‘ احمد بن صالح مصری سے نقل کی ہے ‘ وہ کہتے ہیں : میں نے مدینہ میں ایک تحریر میں یہ بات پائی تھی کہ یہ عبدالعزیز بن محمد دراوردی سے منقول ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

9941

Majma al-Zawaid #9941

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلَ غَزْوَةٍ غَزَاهَا الْأَبْوَاءَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ نَزَلَ بِعِرْقِ الظُّبْيَةِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا اسْمُ هَذَا الْجَبَلِ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" هَذَا خِمْتٌ هَذَا مِنْ جِبَالِ الْجَنَّةِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَبَارِكْ لِأَهْلِهِ "". وَقَالَ لِلرَّوْحَاءِ: "" هَذِهِ سَجَاسِجُ وَادِي مِنْ أَوْدِيَةِ الْجَنَّةِ، لَقَدْ صَلَّى فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَبْلِي سَبْعُونَ نَبِيًّا، وَلَقَدْ مَرَّ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطْوَانِيَّتَانِ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَاجِّينَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ يَجْمَعُ اللَّهُ لَهُ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf al-Muzani, may Allah be pleased with him, narrated: We raided with the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, the first raid he raided, Abwa. When we were at al-Rawha, he alighted at Irq al-Zubya, prayed, then said: > **"Do you know what this mountain is called."** They said, Allah and His Messenger know best. He said: > **"This is Khimt, among the mountains of Paradise. O Allah, bless it and bless its people."** And he said of al-Rawha: > **"This is Sajasij, a valley among Paradise valleys. Seventy prophets prayed in this mosque before me. Musa passed here with two Qatwani cloaks upon a grey she-camel among seventy thousand of the Children of Israel pilgrims to the Ancient House. The Hour shall not stand until Isa son of Maryam, servant and Messenger of Allah, passes here as pilgrim or performer of lesser pilgrimage, or Allah combines that for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ‘ جس پہلے غزوہ میں شرکت کی ‘ جو غزوہ آپ نے کیا تھا ‘ وہ غزوہ ابواء ہے ‘ یہاں تک کہ جب ہم روحاء کے مقام پر پہنچے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ’’ عرق طبیہ ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا اور نماز ادا کی ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو اس پہاڑ کا نام کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : یہ ’’ خمت ‘‘ ہے ‘ یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک ہے ‘ اے اللہ ! اس میں برکت فرما اور اس کے اہل میں برکت فرما ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ’’ روحاء ‘‘ کے لئے یہ فرمایا : یہ ’’ سجا سج ‘‘ ہے ‘ جو جنت کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے اس مسجد میں مجھ سے پہلے ستر انبیاء نے نماز ادا کی ہے ‘ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی یہاں سے گزرے تھے ۔ انہوں نے دو قطوانی عبائیں پہنی ہوئی تھیں اور وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی پر سوار تھے اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ستر ہزار افراد کے ساتھ تھے ۔ وہ بیت عتیق کا حج کرنے کے لئے آئے تھے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘ وہ حج یا عمرہ کرنے کے لئے یہاں سے نہیں گزریں گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اللہ تعالیٰ ان کے لئے یہ چیز جمع کر دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے کثیر بن عبداللہ مزنی کے حوالے سے نقل کی ہے وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ‘ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو ۔

9942

Majma al-Zawaid #9942

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ، كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَكَانَ إِذَا كَانَتْ عَقَبَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا: نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ، فَقَالَ: "" مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَلَا أَنَا أَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: فَإِذَا كَانَتْ عَقَبَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَا: ارْكَبْ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ. وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, narrated: On Badr day every three were upon a camel. Ali ibn Abi Talib and Abu Lubaba, may Allah be pleased with them, were the two companions of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. When the turn of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came, they said, We shall walk for you. He said: > **"You are not stronger than me, nor am I less in need of reward than you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر تین افراد ایک اونٹ پر سوار تھے ‘ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ کی باری آئی تو ان دونوں نے عرض کی : آپ کی جگہ ہم پیدل چل لیتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور میں تم دونوں سے زیادہ اجر سے بے نیاز نہیں ہوں “۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی باری آئی تو ان دونوں نے عرض کی : آپ سوار رہیں ، ہم آپ کی جگہ پیدل چل لیتے ہیں ۔ باقی روایت حسب سابق ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9943

Majma al-Zawaid #9943

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ «كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ مِائَةُ نَاضِحٍ وَنَوَاضِحُ، وَكَانَ مَعَهُ فَرَسَانِ يَرْكَبُ أَحَدَهُمَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَيَتَرَوَّحُ الْآخَرَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ. قَالَ: وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَعَقَّبُونَ فِي الطَّرِيقِ النَّوَاضِحَ. قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ حَلِيفُ حَمْزَةَ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ يَتَعَقَّبُونَ نَاضِحًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, narrated: With the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, on Badr day were a hundred water-carrying camels, and two horses, one ridden by Al-Miqdad ibn al-Aswad, the other alternated by Musab ibn Umayr and Sahl ibn Hunayf, may Allah be pleased with them. His companions took turns upon the camels on the road. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and Mirthad ibn Abi Mirthad al-Ghanawi, ally of Hamza ibn Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with them, took turns upon one camel. This is an athar report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پانی لاد کر لانے والے اور دوسرے ایک سو اونٹ اور ( اونٹنیاں ) تھے اور آپ کے ساتھ دو گھوڑے تھے جن میں سے ایک پر حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سوار تھے اور دوسرے پر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ باری باری سوار ہوتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب راستے میں اونٹوں پر باری باری سوار ہوتے رہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور حضرت مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ ، جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے اور باری ‘ باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ بن ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9944

Majma al-Zawaid #9944

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَاسْتَصْغَرَهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ ثُمَّ أَجَازَهُ، قَالَ سَعْدٌ: فَيُقَالُ إِنَّهُ خَانَهُ سَيْفُهُ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيَّ -: قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sad, meaning Ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, narrated: The Prophet, peace and blessings be upon him, looked at Umayr ibn Abi Waqqas when going out to Badr and deemed him small, then permitted him. Sad said, It is said his sword betrayed him. Abdullah, meaning Ibn Jafar al-Makhrami, said, He was killed on Badr day. This is an athar report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمیر بن وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب آپ بدر کے لئے نکلنے لگے تھے ‘ تو آپ نے انہیں کمسن قرار دیا پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کی تلوار نے ان کے ساتھ خیانت کی تھی ۔ عبداللہ بن جعفر مخرمی کہتے ہیں : وہ غزوہ بدر کے دن شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9945

Majma al-Zawaid #9945

وَعَنْ رَفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «أَقْبَلْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَفَقَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَتِ الرِّفَاقُ بَعْضُهَا بَعْضًا: أَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَوَقَفُوا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْنَاكَ؟ فَقَالَ: "" إِنَّ أَبَا حَسَنٍ وَجَدَ مَغَصًا فِي بَطْنِهِ فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Rifaa ibn Rafi ibn Malik ibn al-Ajlan al-Ansari, may Allah be pleased with him, narrated: We came on Badr day and missed the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. Groups called to one another, Is the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, among you. They halted until the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came with Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him. We said, O Messenger of Allah, we missed you. He said: > **"Indeed Abu al-Hasan felt colic in his belly, so I stayed behind for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ہم آئے ہم نے نبی اکرم ﷺ کو بغیر موجود پایا تو ہم نے مختلف ٹولیوں کو پکار کر یہ کہا کہ کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں ؟ پھر لوگ ٹھہر گئے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ابوالحسن کو اس کے پیٹ میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی ، تو میں اس کی خاطر پیچھے رہ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

9946

Majma al-Zawaid #9946

وَعَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَاكِبًا أَخَذَ صَخْرَةً مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ، فَرَمَى بِهَا لِلرُّكْنِ فَتَعَلَّقَتِ الصَّخْرَةُ، فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُورِ قُرَيْشٍ إِلَّا دَخَلَتْهَا مِنْهَا كِسْرَةٌ غَيْرَ دُورِ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا اكْتُمِيهَا وَلَا تَذْكُرِيهَا، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فَلَقِيَ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَذَكَرَهَا لَهُ فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ، فَفَشَا الْحَدِيثُ، قَالَ الْعَبَّاسُ: فَخَرَجْتُ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَأَبُو جَهْلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ بِرُؤْيَا عَاتِكَةَ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو جَهْلٍ قَالَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِذَا فَرَغْتَ مِنْ طَوَافِكَ فَأَقْبِلْ إِلَيْنَا، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَمَا رَضِيتُمْ أَنْ يَتَنَبَّأَ رِجَالُكُمْ حَتَّى يَتَنَبَّأَ نِسَاؤُكُمْ، قَدْ زَعَمَتْ عَاتِكَةُ فِي رُؤْيَاهَا هَذِهِ أَنَّهُ قَالَ: انْفِرُوا فِي ثَلَاثٍ فَسَنَتَرَبَّصُ هَذِهِ الثَّلَاثَ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَسَيَكُونُ وَإِنْ يَمْضِ الثَّلَاثُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبْنَا عَلَيْكُمْ كِتَابًا: أَنَّكُمْ أَكْذَبُ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ، قَالَ الْعَبَّاسُ: فَوَاللَّهِ مَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا أَنِّي جَحَدْتُ وَأَنْكَرْتُ أَنْ تَكُونَ رَأَتْ شَيْئًا. قَالَ الْعَبَّاسُ: فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَتَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: رَضِيتُمْ مِنْ هَذَا الْفَاسِقِ يَتَنَاوَلُ رِجَالَكُمْ ثُمَّ يَتَنَاوَلُ نِسَاءَكُمْ، وَأَنْتَ تَسْمَعُ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ نَكِيرٌ؟! وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَمْزَةُ مَا قَالَ مَا قَالَ. فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ فَعَلَ، وَمَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ نَكِيرُ شَيْءٍ، وَايْمُ اللَّهِ لِأَتَعَرَّضَنَّ لَهُ، فَإِنْ عَادَ لَأَكْفِيَنَّكُمْ. قَالَ الْعَبَّاسُ: فَغَدَوْتُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ رُؤْيَا عَاتِكَةَ وَأَنَا مُغْضَبٌ عَلَى أَنَّهُ فَاتَنِي أَمْرٌ أُحِبُّ أَنْ أُدْرِكَ شَيْئًا مِنْهُ قَالَ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَمْشِي نَحْوَهُ، وَكَانَ رَجُلًا خَفِيفًا، حَدِيدَ الْوَجْهِ، حَدِيدَ اللِّسَانِ، حَدِيدَ الْبَصَرِ، إِذْ خَرَجَ نَحْوَ الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: مَا لَهُ لَعَنَهُ اللَّهُ؟ أَكَلَ هَذَا فَرَقَّ مِنِّي أَنْ أُشَاتِمَهُ، فَإِذَا هُوَ قَدْ سَمِعَ مَا لَمْ أَسْمَعْ سَمِعَ صَوْتَ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ يَصْرُخُ بِبَطْنِ مَكَّةَ الْوَادِي قَدْ جَدَعَ بَعِيرَهُ، وَحَوَّلَ رَحْلَهُ، وَشَقَّ قَمِيصَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، قَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ فِي أَصْحَابِهِ مَا أَرَاكُمْ تُدْرِكُونَهَا الْغَوْثَ الْغَوْثَ، قَالَ الْعَبَّاسُ: فَشَغَلَنِي عَنْهُ وَشَغَلَهُ عَنِّي مَا جَاءَ مِنَ الْأَمْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Atika bint Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with her, narrated: I saw a rider who took a rock from Abu Qubays and threw it toward the Corner, so the rock clung, and no house among Quraysh houses remained except a fragment entered it, other than houses of Bani Zuhra. Al-Abbas said, This is a dream, conceal it and do not mention it. Al-Abbas went out and met Al-Walid ibn Utba ibn Rabia, mentioned it to him, Al-Walid mentioned it to his father, and the talk spread. Al-Abbas said, I went to circumambulate the Kaba while Abu Jahl among Quraysh discussed Atika's dream. When Abu Jahl saw me he said, O Abu al-Fadl, when you finish your circumambulation come to us. When I finished I came and sat with them. Abu Jahl said, O Bani Abd al-Muttalib, were you not content that your men prophesy until your women prophesy. Atika claimed in this dream that he said, March forth in three days, so we shall wait these three. If what she says is true, it shall be, and if three pass with nothing, we shall write against you that you are the most lying household among Arabs. Al-Abbas said, By Allah I had nothing to him except denial and rejection that she saw anything. Al-Abbas said, In the evening a woman from the daughters of Abd al-Muttalib came to me and said, Are you content that this wicked one assails your men then your women while you listen with no rebuke. By Allah had Hamza been present he would not have said what he said. I said, By Allah he did, and I had no rebuke, and by Allah I shall confront him, and if he repeats I shall suffice you. Al-Abbas said, I came early on the third day after Atika's dream, angry, hoping to catch something, and by Allah as I walked toward him, a sharp man, sharp-faced, sharp-tongued, sharp-sighted, he went toward the mosque leaning. I thought, What is with him, may Allah curse him. Has he eaten this and fears me to revile him. Then he had heard what I had not heard, the voice of Damdam ibn Zura ibn Amr al-Ghifari shouting in Mecca's valley, having hamstrung his camel, reversed his saddle, torn his shirt, saying, O Quraysh, Muhammad has gone out with his companions, I do not think you will reach the caravan, help, help. Al-Abbas said, What came of the affair distracted me from him and him from me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ ایک سوار نے ابوقبیس پہاڑ کی ایک چٹان کو لیا اور اسے حجر اسود کی طرف پھینکا تو وہ چٹان متعلق ہوئی ( یعنی لٹک گئی ) اور پھر قریش کے ہر ایک گھرانے میں اس کا ٹکڑا داخل ہو گیا صرف بنوزہرہ کے علاقے میں داخل نہیں ہوا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ( یہ خواب سننے کے بعد ) فرمایا اس خواب کو تم چھپا کے رکھو تم اس کا ذکر نہ کرنا پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ باہر چلے گئے ان کی ملاقات ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ہوئی انہوں نے اس خواب کا تذکرہ اس کے سامنے کیا ولید نے اس خواب کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کیا تو یہ بات پھیل گئی حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لئے نکلا تو ابوجہل قریش کے کچھ افراد کے درمیان بیٹھا ہوا عاتکہ کے خواب کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا ۔ جب ابوجہل نے مجھے دیکھا تو بولا اے ابوالفضل جب آپ طواف سے فارغ ہو جائیں ، تو ہماری طرف آ جائیے گا جب میں طواف سے فارغ ہوا تو میں آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ابوجہل نے کہا : اے بنوعبدالمطلب کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مردوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے اب یہ صورت حال ہے کہ آپ کی خواتین بھی نبوت کا دعوی کرنے لگی ہیں عاتکہ نے اپنے خواب کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے ۔ پھر اس نے کہا : آپ لوگ تین دن انتظار کریں ہم تین دن تک جائزہ لیں گے اگر تو ان کی کہی ہوئی بات حق ہوئی تو وہ واقع ہو جائے گی اور اگر تین دن گزر گئے ‘ اور ایسی کوئی چیز سامنے نہ آئی تو ہم آپ کے خلاف ایک تحریر لکھوا دیں گے کہ آپ عربوں کے سب سے جھوٹے گھرانے کے لوگ ہیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس وقت میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اس بات کا انکار کرتا اور اس بات کو مسترد کرتا کہ اس ( یعنی عاتکہ ) نے کچھ دیکھا ہے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب شام ہوئی تو جناب عبدالمطلب کی صاحبزادیوں میں سے ایک خاتون میرے پاس آئی اور بولی : تم اس فاسق شخص سے اس بات سے راضی ہو گئے کہ اس نے تمہارے مردوں کو بھی برا کہا اور پھر اس نے تمہاری خواتین کو بھی برا کہا اور تم سنتے رہے اور تمہارے پاس انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ؟ اللہ کی قسم ! اگر حمزہ ہوتے تو اس نے وہ بات نہیں کہنی تھی جو اس نے کہی ہے ‘ تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے ایسا کیا ہے اور میرے پاس اس کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ اللہ کی قسم ! اب میں اس کے پاس جاؤں گا ‘ اور اگر اس نے دوبارہ ایسی بات کی تو تم لوگوں کی جگہ اسے جواب دوں گا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : عاتکہ کے خواب کے تیسرے دن میں گیا میں غصے میں تھا اس بات پر کہ ایسا معاملہ مجھ سے فوت ہو گیا ہے جس کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ میں نے اس میں سے کسی چیز کو پا لیا ہوتا ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس کی سمت جا رہا تھا وہ ایک ایسا شخص تھا جو دبلا پتلا تھا اس کا چہرہ تیز تھا زبان تیز تھی بصارت تیز تھی جب وہ مسجد ( یعنی مسجد حرام ) کی طرف نکلا تو اس نے ٹیک لگائی ہوئی تھی میں نے دل میں سوچا اسے کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے کیا یہ مجھ سے ڈر گیا ہے کہ میں اسے برا بھلا کہوں گا ؟ لیکن اصل میں اس نے وہ بات سن لی تھی ، جو میں نے نہیں سنی تھی ۔ اس نے ضمضم بن زرعہ بن عمرو غفاری کی آواز سنی تھی جس نے مکہ کے نشیبی علاقے میں چیخ کر یہ کہا تھا ۔ اس نے اپنے اونٹ کے ناک کو کاٹ دیا تھا اپنے پالان کو الٹ دیا تھا اپنی قمیص کو پھاڑ دیا تھا ‘ اور وہ یہ کہہ رہا تھا : اے قریش کے گروہ ! محمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل آئے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ تم پہنچ پاؤ گے ‘ مدد کی درخواست ہے مدد کی درخواست ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میری توجہ اس سے ہٹ گئی اور اس کی توجہ مجھ سے ہٹ گئی ‘ اس چیز کی وجہ سے جو معاملہ درپیش آ گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

9947

Majma al-Zawaid #9947

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: كَانَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِنَةً مَعَ أَخِيهَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَرَأَتْ رُؤْيَا قُبَيْلَ بَدْرٍ فَفَزِعَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَخِيهَا عَبَّاسٍ مِنْ لَيْلَتِهَا حِينَ فَزِعَتْ وَاسْتَيْقَظَتْ مِنْ نَوْمِهَا فَقَالَتْ: قَدْ رَأَيْتُ رُؤْيَا وَقَدْ خَشِيتَ مِنْهَا عَلَى قَوْمِكَ الْهَلَكَةَ. قَالَ: وَمَا رَأَيْتِ؟ قَالَتْ: لَنْ أُحَدِّثَكَ حَتَّى تُعَاهِدَنِي أَنْ لَا تَذْكُرَهَا، فَإِنَّهُمْ إِنْ يَسْمَعُوهَا آذَوْنَا فَأَسْمَعُونَا مَا لَا نُحِبُّ، فَعَاهَدَهَا عَبَّاسٌ، فَقَالَتْ: رَأَيْتُ رَاكِبًا أَقْبَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ يَصِيحُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا آلَ غَدْرٍ، وَيَا آلَ فُجْرٍ، اخْرُجُوا مِنْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ. ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ فِي الْمَسْجِدِ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ، وَمَالَ عَلَيْهِ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، وَفَزِعَ النَّاسُ لَهُ أَشَدَّ الْفَزَعِ، ثُمَّ أَرَاهُ مَثُلَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ: يَا آلَ غَدْرٍ، وَيَا آلَ فُجْرٍ، اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ حَتَّى أَسْمَعَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، ثُمَّ عَمَدَ لِصَخْرَةٍ عَظِيمَةٍ فَنَزَعَهَا مِنْ أَصْلِهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَتِ الصَّخْرَةُ لَهَا دَوِيٌّ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عَلَى أَصْلِ الْجَبَلِ ارْفَضَّتْ فَلَا أَعْلَمُ بِمَكَّةَ بَيْتًا وَلَا دَارًا إِلَّا قَدْ دَخَلَهَا فِرْقَةٌ مِنْ تِلْكَ الصَّخْرَةِ، فَلَقَدْ خَشِيتُ عَلَى قَوْمِكَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ شَرٌّ. فَفَزِعَ مِنْهَا عَبَّاسٌ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا فَلَقِيَ مِنْ لَيْلَتِهِ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ خَلِيلًا لِلْعَبَّاسِ فَقَصَّ عَلَيْهِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَذْكُرَهَا لِأَحَدٍ، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ، وَذَكَرَهَا عُتْبَةُ لِأَخِيهِ شَيْبَةَ، وَارْتَفَعَ حَدِيثُهَا حَتَّى بَلَغَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَاسْتَفَاضَتْ. فَلَمَّا أَصْبَحُوا غَدَا الْعَبَّاسُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَصْبَحَ فَوَجْدَ أَبَا جَهْلٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، وَزَمْعَةَ بْنَ الْأَسْوَدِ، وَأَبَا الْبَخْتَرِيِّ فِي نَفَرٍ يَتَحَدَّثُونَ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى عَبَّاسٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ نَادَاهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِذَا قَضَيْتَ طَوَافَكَ فَائْتِنَا. فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ أَتَى فَجَلَسَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَا رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ؟ قَالَ: مَا رَأَتْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ: بَلَى، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي هَاشِمٍ بِكَذِبِ الرِّجَالِ حَتَّى جِئْتُمُونَا بِكَذِبِ النِّسَاءِ، إِنَّا كُنَّا وَأَنْتُمْ كَفَرَسَيْ رِهَانٍ، فَاسْتَبَقْنَا الْمَجْدَ مُنْذُ حِينٍ فَلَمَّا حَاذَتِ الرَّكْبُ، قُلْتُمْ مِنَّا نَبِيٌّ، فَمَا بَقِيَ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا: مِنَّا نَبِيَّةٌ، وَلَا أَعْلَمُ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْذَبَ رَجُلًا وَلَا أَكْذَبَ امْرَأَةً مِنْكُمْ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى. وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: زَعَمَتْ عَاتِكَةُ أَنَّ الرَّاكِبَ قَالَ: اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، فَلَوْ قَدْ مَضَتْ هَذِهِ الثَّلَاثُ تَبَيَّنَ لِقُرَيْشٍ كَذِبُكُمْ، وَكَتَبْنَا سِجِلًّا ثُمَّ عَلَّقْنَاهُ بِالْكَعْبَةِ إِنَّكُمْ أَكْذَبُ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ رَجُلًا وَامْرَأَةً، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي قُصَيٍّ أَنَّكُمْ ذَهَبْتُمْ بِالْحِجَابَةِ وَالنَّدْوَةِ وَالسِّقَايَةِ وَاللِّوَاءِ حَتَّى جِئْتُمُونَا زَعَمْتُمْ بِنَبِيٍّ مِنْكُمْ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى. وَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: مَهْلًا يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ، هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ، فَإِنَّ الْكَذِبَ فِيكَ وَفِي أَهْلِ بَيْتِكَ، فَقَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَا كُنْتَ بِجَاهِلٍ وَلَا خَرِفٍ، وَنَالَ عَبَّاسٌ مِنْ عَاتِكَةَ أَذًى شَدِيدًا فِيمَا أَفْشَى مِنْ حَدِيثِهَا، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ لَيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنَ اللَّيَالِي الَّتِي رَأَتْ فِيهَا عَاتِكَةُ الرُّؤْيَا، جَاءَهُمُ الرَّكْبُ الَّذِي بَعَثَ أَبُو سُفْيَانَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ، فَقَالَ: يَا آلَ غَدْرٍ، انْفِرُوا فَقَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ لِيَعْرِضُوا لِأَبِي سُفْيَانَ، فَأَحْرِزُوا عِيَرَكُمْ، فَفَزِعَتْ قُرَيْشٌ أَشَدَّ الْفَزَعِ، وَأَشْفَقُوا مِنْ قِبَلِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، وَنَفَرُوا عَلَى كُلِّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Urwa, may Allah have mercy on him, narrated: Atika bint Abd al-Muttalib, paternal aunt of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, lived with her brother Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib. She saw a dream shortly before Badr and was frightened, so she sent that night to her brother Al-Abbas upon waking, saying, I have seen a dream and feared destruction for your people. He said, What did you see. She said, I shall not narrate until you covenant not to mention it, for if they hear they will harm us and make us hear what we dislike. Al-Abbas covenanted. She said, I saw a rider approaching upon his mount from upper Mecca shouting loudly, O treacherous folk, O dissolute folk, go forth in two or three nights. Then he entered the mosque upon his mount and shouted three shouts in the mosque, while men, women, and children inclined toward him, and people were intensely frightened. Then I saw him as if upon the Kaba's back upon his mount, shouting three shouts, O treacherous folk, O dissolute folk, go forth in two or three nights, until all Mecca between the two mountains heard. Then he went to a huge rock, uprooted it and hurled it upon Mecca's people. The rock came roaring until at the mountain base it split, and I know no house or dwelling in Mecca except a piece entered it. I feared evil would befall your people. Al-Abbas was frightened, left her, met that night Al-Walid ibn Utba ibn Rabia, intimate friend, narrated Atika's dream and ordered silence. Al-Walid told his father, Utba told his brother Shayba, and it rose until it reached Abu Jahl and spread widely. In the morning Al-Abbas circumambulated and found Abu Jahl, Utba, Shayba, Umayya ibn Khalaf, Zamaa ibn al-Aswad, and Abu al-Bakhtari discussing. Seeing Al-Abbas circumambulating, Abu Jahl called, O Abu al-Fadl, when you finish come to us. When he finished and sat, Abu Jahl said, O Abu al-Fadl, what dream did Atika see. He said, She saw nothing. He said, Nay, were you not content, O Bani Hashim, with lies of men until you bring lies of women. We and you were like two racehorses vying for glory since long. When you caught up, you said, From us is a prophet. Nothing remains but you say, From us is a prophetess. I know no household more lying in man or woman than you. They harmed him severely that day. Abu Jahl said, Atika claimed the rider said, Go forth in two or three nights, so when these three pass, Quraysh's lie about you will be clear, and we shall write a document and hang it on the Kaba that you are the most lying house among Arabs in man and woman. Were you not content, O Bani Qusay, that you took veiling, council, watering, and banner until you come claiming a prophet among you. They harmed him severely. Al-Abbas said, Gently, O yellow one, will you desist, for lying is in you and your household. Those present said, O Abu al-Fadl, you were never ignorant nor senile. Al-Abbas suffered severe harm from Atika for spreading her report. On the evening of the third night after the dream, the caravan came which Abu Sufyan had sent, Damdam ibn Amr al-Ghifari, saying, O treacherous folk, march forth, for Muhammad and his companions have gone to intercept Abu Sufyan, so guard your caravan. Quraysh were intensely frightened, fearing Atika's dream, and marched upon every hard and gentle mount.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی ہیں ‘ وہ اپنے بھائی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ‘ بدر سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواب دیکھا تو گھبرا گئیں انہوں نے اسی رات اپنے بھائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا جب وہ گھبرائیں تھیں اور نیند سے بیدار ہوئی تھیں ، انہوں نے بتایا : میں نے خواب دیکھا ہے مجھے اس کے حوالے سے تمہاری قوم کی ہلاکت کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کیا دیکھا ہے ‘ تو اس خاتون نے کہا : میں یہ آپ کو اس وقت تک بیان نہیں کروں گی جب تک آپ مجھ سے یہ عہد نہیں کرتے کہ آپ اس کا ذکر کسی کے آگے نہیں کریں گے ‘ کیونکہ اگر لوگوں نے اس خواب کو سن لیا ‘ تو وہ ہمیں اذیت پہنچائیں گے اور ہمیں ایسی باتیں سنائیں گے ‘ جو ہمیں اچھی نہیں لگیں گی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ یہ عہد کر لیا اس خاتون نے بتایا میں نے ایک سوار کو دیکھا جو اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ کے بالائی علاقہ کی طرف سے آیا اور اس نے بلند آواز میں چیخ کر یہ کہا : اے غدار لوگوں کی آل ! اے فاجر لوگوں کی آل ! دو یا تین راتوں میں تم نکل کھڑے ہو پھر وہ اپنی سواری پر سوار رہتے ہوئے مسجد میں داخل ہوا اور اس نے مسجد میں تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا مرد خواتین اور بچے اس کی طرف گئے لوگ اس کی وجہ سے انتہائی پریشان ہو چکے تھے پھر میں نے دیکھا کہ جیسے وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا ہے اور وہاں بھی اس نے تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا ہے اسے غدار لوگوں کی آل اے فاجر لوگوں کی آل ‘ دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو یہاں تک کہ اس کی آواز پورے مکہ میں پھیل گئی پھر وہ ایک بڑی چٹان کی طرف بڑھا اس نے اس چٹان کو اس کی جڑ سے الگ کیا اور پھر اسے اہل مکہ کی طرف پھینکا وہ چٹان آئی اس کے اندر سے آواز آ رہی تھی ، یہاں تک کہ جب وہ پہاڑ کی جڑ تک پہنچی تو وہ ٹوٹ گئی اور میرے علم کے مطابق مکہ کے ہر گھر اور ہر محلے کے اندر اس چٹان کا کوئی حصہ داخل ہو گیا تو مجھے آپ کی قوم کے بارے میں یہ اندیشہ لاحق ہو گیا ہے کہ ان پر کوئی بری صورت حال آنے والی ہے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس پر پریشان ہو گئے وہ اس خاتون کے پاس سے نکلے اسی رات ان کی ملاقات ولید بن عقبہ بن ربیعہ سے ہوئی جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔ انہوں نے عاتکہ کا خواب اسے سنایا اور اسے یہ ہدایت کی کہ وہ کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے ولید نے اس کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کر دیا عتبہ نے اس کا ذکر اپنے بھائی شیبہ کے سامنے کر دیا اور پھر یہ بات پھیل گئی ، یہاں تک کہ ابوجہل بن ہشام کے پاس بھی پہنچ گئی اگلے دن صبح جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ‘ تو انہوں نے ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ‘ امیہ بن خلف ‘ زمعہ بن اسود اور ابوبختری کو ‘ کچھ لوگوں کے درمیان بات چیت کرتے ہوئے پایا جب ان لوگوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا تو ابوجہل بن ہشام نے انہیں بلند آواز میں پکار کر کہا : اے ابوالفضل ! جب آپ طواف مکمل کر لیں ‘ تو ہمارے پاس آیئے گا جب انہوں نے طواف مکمل کیا تو وہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے تو ابوجہل نے کہا : اے ابوالفضل وہ خواب کیا ہے ‘ جو عاتکہ نے دیکھا ہے ؟ حضرت عباس بھی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اس نے کچھ نہیں دیکھا ابوجہل نے کہا : جی ہاں ۔ ( یعنی دیکھا ہے ) اے بنوہاشم ! کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مرد جھوٹ بولیں ‘ یہاں تک کہ اب آپ ہمارے پاس خواتین کے جھوٹ بھی لے کر آنے لگ گئے ہیں ، ہم اور آپ پہلے دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح تھے ‘ ایک طویل عرصہ تک ہم بزرگی میں سبقت کی کوشش کرتے رہے ‘ پھر جب سوار برابر ہو گئے ‘ تو آپ لوگوں نے کہا : ہمارے اندر ایک نبی بھی ہے اب صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہمارے اندر ایک خاتون نبی بھی ہے ‘ میرے علم کے مطابق کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے ، جو آپ کے گھرانے سے زیادہ جھوٹے مرد والا ہو ‘ یا جھوٹی عورت والا ہو ‘ تو اس دن ابوجہل نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ابوجہل نے کہا : عاتکہ کا یہ کہنا ہے کہ ایک سوار نے یہ کہا ہے کہ تم لوگ دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو ‘ تو یہ تین دن گزر جائیں گے اور تمہارا جھوٹ قریش کے سامنے واضح ہو جائے گا ‘ اور پھر ہم ایک تحریر لکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کے ساتھ لٹکا دیں گے کہ آپ مردوں اور خواتین کے حوالے سے عربوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے گھرانے کے لوگ ہیں کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں ہیں اے بنو قصی ! کہ آپ لوگوں نے حجابہ ، ندوہ ‘ سقایہ اور لواء کا منصب لیا ہوا تھا اب آپ ہمارے پاس آ گئے ہیں اور اپنے میں سے ایک نبی کے بارے میں بیان کرنے لگ گئے ہیں ‘ تو اس دن ابوجہل نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے نالائق ! صبر کرو تم صرف ایک بدبودار شخص ہو جھوٹ تمہارے اندر ہے اور تمہارے گھرانے کے اندر ہے حاضرین میں سے کسی نے ان سے کہا : اے ابوالفضل آپ نہ تو سخت مزاج تھے اور نہ ہی بد زبانی کرتے تھے پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا ‘ کیونکہ انہوں نے سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کی بات پھیلائی تھی جب تیسری رات کی شام ہوئی جو اس رات کے حساب سے تھی جس میں سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا تھا ، تو ایک سوار ان کے پاس آیا جسے ابوسفیان نے بھیجا تھا وہ ضمضم بن عمرو غفاری تھا اس نے کہا : اے غدار لوگوں کی آل تم لوگ نکل کھڑے ہو کیونکہ محمد اور ان کے ساتھی نکل پڑے ہیں تاکہ ابوسفیان کے قافلے پر حملہ آور ہوں ، تو تم اپنے قافلے کو بچا لو ! تو قریش گھبرا گئے ‘ اور وہ عاتکہ کے خواب کے حوالے سے پریشان ہو گئے ‘ اور ہر کمزور اور صحت مند اونٹ پر سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

9948

Majma al-Zawaid #9948

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ: أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ ... بِتَأْوِيلِهَا فُلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ... بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ... يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ... حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ أَفَرَّ صَبَاحُ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبِهِمْ فَهُنَّ ... هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهَفَاتِ دِمَاءَكُمْ ... كِفَاحًا كَمَا يُمْرِي السَّحَابَ الْخَبَائِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ... بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْـ ... جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا يَأْتِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدٌ ... إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيلَتِي ... زَعَازِعَ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَنَصْطِلَمْنَكُمْ ... مُجَافًا تَرَدَّى حَافَّتَيْهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ... لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Musab ibn Abdillah and others of Quraysh reported that Atika bint Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with her, said concerning the truth of her dream and Quraysh denying her, when the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, struck them at Badr, in verse: Was not the dream true, and did there not come to you its interpretation with fugitives fleeing. He saw and brought you the certainty he saw with his eyes, what sharp swords effect. You said, though I lied not, You have lied, but only a liar denies me for truth. None fled but fearing death among them, Hakim, when paths straitened upon him. Did the caller flee their hearts resolve, mere desires and distant dreams. They passed your blood with whetted swords face to face, as southern clouds pour rain. How did the cousins see Muhammad on encounter day, with war's vicissitudes therein. Did he not overwhelm them with blows bewildering the coward, stars appearing by day. Shall Muhammad not come on encounter day when war's aid bites the shoulders. As his swords emerged from inner fervor, tempests rosy after fever. I swear if you return, they shall uproot you askew, flanked by squadrons. As sunlight gleams with lightning, its sides of piercing radiant light. This is an athar of poetry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن عبداللہ اور دیگر حضرات نے قریش کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے خواب کی سچائی اور قریش کے ان کے تکذیب کرنے کے حوالے سے غزوہ بدر میں نبی اکرم ﷺ کے ان لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بعد یہ اشعار کہے : ’’ کیا وہ خواب سچا نہیں تھا جس کی تعبیر قوم سے مڑ کر بھاگنے والا شخص لے کے آیا ہے اس نے دیکھا پھر وہ تمہارے پاس وہ یقین لے کے آیا جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا جو تیز دھار والی تلواریں جھوٹ نہیں بولتی ہیں تم لوگوں نے یہ کہا کہ آپ نے جھوٹ کہا ہے حالانکہ میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا سچائی کے حوالے سے وہی شخص مجھے جھوٹا قرار دے گا جو خود جھوٹا ہو گا وہ بھاگنے والا فرد صرف موت کے خوف سے بھاگا تھا وہ ان میں سے سمجھدار تھا جس کے لیے راستے تنگ ہو گئے تھے کیا قوم کو چیخ کر بلانے والا شخص ان کے دلوں کے عزم سے بھاگا تھا یہ تو خواہشات ہیں اور ایسے خواب ہیں جن کا کوئی گھر بار نہیں ہے وہ تیز دھار والی تلوار لے کر تمہاری جانوں کے مد مقابل آ گئے جس طرح جنوب کی طرف سے آنے والا بادل آتا ہے جب ان لوگوں کا حضرت محمد ﷺ سے سامنا ہوا تو اس دن انہوں نے کیا دیکھا جو ان کے چچازاد ہیں اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے کیا حضرت محمد ﷺ نے ان لوگوں کو ایسی ضرب کے ذریعے ڈھانپ نہیں لیا جس کے پڑنے سے بزدل شخص حیران رہ جاتا ہے اور دن کے وقت تارے نظر آ جاتے ہیں حضرت محمد ﷺ کا سامنا کرنے کے دن کیا یہ صورتحال نہیں آئی جب جنگ کی مدد نے کندھوں کو نوچ لیا ان کی تلواریں اندرونی جوش کی وجہ سے یوں نمایاں ہوئیں جیسے تیز ہوا آتی ہے حالانکہ پہلے ان میں بخار تھا میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ تم لوگوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے اور ایک طرف کر دینگے جس کے دونوں کناروں پر حملہ آور موجود ہوں گے یوں لگتا ہے جیسے سورج کی روشنی اپنی کرنوں کی چمک کے ہمراہ دونوں طرف نور رکھتی ہے ایک شعاع ہے اور ایک شہاب ثاقب ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9949

Majma al-Zawaid #9949

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ صَدِيقًا لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَانَ إِذَا قَدِمَ عُتْبَةُ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَإِذَا قَدِمَ سَعْدٌ مَكَّةَ نَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ، وَكَانَ عُتْبَةُ يُسَمِّيهِ أَخِي الْيَثْرِبِيَّ. قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مَكَّةَ كَمَا كَانَ يَقْدَمُ، فَنَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ، فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ لَهُ عُتْبَةُ: أَمْهِلْ حَتَّى يَتَفَرَّقَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ حَوْلِ الْبَيْتِ قَالَ: فَأَمْهَلَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: انْطَلِقْ مَعِي، فَلَمَّا أَتَى الْبَيْتَ تَلَقَّى أَبُو جَهْلٍ سَعْدًا، فَقَالَ: يَا سَعْدُ، آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا ثُمَّ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا؟. فَقَالَ سَعْدٌ: لَئِنْ مَنَعْتَنِي لَأَقْطَعَنَّ عَلَيْكَ أَوْ لَأَمْنَعَنَّكَ تِجَارَتَكَ إِلَى مَوْضِعٍ - لِمَوْضِعٍ ذَكَرَهُ - قَالَ: وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، قَالَ عُتْبَةُ لِسَعْدٍ: أَتَرْفَعُ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: وَأَنْتَ تَقُولُ ذَاكَ؟ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّهُ قَاتِلُكَ "". قَالَ: فَفَضَّ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَكْذِبُ قَالَ: فَطَافَ سَعْدٌ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَأَتَى عُتْبَةُ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ أَخِي الْيَثْرِبِيُّ؟ قَالَتْ: وَمَا قَالَ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا قَاتِلِي، وَأَنَّ مُحَمَّدًا لَا يَكْذِبُ. قَالَ: فَمَا كَانَ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى كَانَ مِنْ أَمْرِ بَدْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو جَهْلٍ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ» قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: لِابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي نُزُولِ سَعِدٍ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَهَذَا فِيهِ: إِنَّهُ نَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, may Allah be pleased with him, narrated: Utba ibn Rabia was friend to Sad ibn Muadh in pre-Islamic times. When Utba came to Madina he lodged with Sad, and when Sad came to Mecca he lodged with Utba. Utba called him my Yathribi brother. When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, arrived at Madina, Sad came to Mecca as usual and lodged with Utba. He said, I wish to circumambulate the House. Utba said, Wait till Quraysh notables disperse from the mosque around the House. He waited a little, then he said, Go with me. When they reached the House, Abu Jahl met Sad and said, O Sad, you sheltered Muhammad then circumambulate safe. Sad said, If you prevent me, I shall surely cut off your trade to such place, mentioning a place. Their voices rose. Utba said to Sad, Do you raise your voice against Abu al-Hakam. Sad said, And you say that. I heard the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, saying: > **"Indeed he will kill you."** He loosened his hand from his hand and said, Muhammad does not lie. Sad circumambulated then left. Utba came to his wife and said, Did you hear what my Yathribi brother said. She said, What did he say. He said, He claimed Muhammad will kill me, and Muhammad does not lie. Only a little passed until Badr occurred, when Abu Jahl toured the people. He mentioned the rest of the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عتبہ بن ربیعہ زمانہ جاہلیت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔ جب عتبہ مدینہ آتا تھا ، تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرتا تھا ۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لے جاتے تھے ‘ تو وہ عتبہ کے ہاں ٹھہرتے تھے عتبہ انہیں ” میرا یثربی بھائی “ کہا کرتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو اس کے بعد حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مکہ گئے ‘ اور پہلے کی طرح وہ عتبہ کے ہاں ٹھہرے انہوں نے کہا : میں یہ چاہتا ہوں کہ میں بیت اللہ کا طواف کروں عتبہ نے ان سے کہا ابھی آپ ٹھہر جائیں تاکہ بیت اللہ کے اردگرد مسجد میں سے قریش کے افراد بکھر جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے تھوڑی دیر انتظار کیا پھر عتبہ نے کہا : آپ میرے ساتھ چلیں ، جب وہ بیت اللہ آئے ‘ تو ابوجہل کا سامنا حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ہوا ‘ اس نے کہا : اے سعد ! تم نے محمد کو پناہ دی ہے اور پھر تم امن کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہو ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم نے مجھے اس سے روکا ‘ تو میں تمہارا راستہ کاٹوں گا ‘ اور تمہاری تجارت کے لئے رکاوٹ ڈال دوں گا ‘ جو فلاں مقام سے فلاں تک ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی ‘ تو عتبہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ ابوالحکم کے سامنے آواز بلند کر رہے ہیں ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا تم یہ بات کہہ رہے ہو ؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ تمہیں قتل کروائے گا ‘ تو عتبہ نے اپنا ہاتھ اُن سے چھڑوایا اور بولے : محمد ( ﷺ ) جھوٹ نہیں بولتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے طواف کیا اور واپس چلے گئے ‘ عتبہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور بولا : کیا تم نے وہ بات نہیں سنی ؟ جو میرے یثربی بھائی نے بیان کی ہے ۔ اس عورت نے دریافت کیا : اس نے کیا کہا ہے ؟ عتبہ نے بتایا : اس نے یہ کہا ہے کہ حضرت محمد ( ﷺ ) مجھے قتل کر دیں گے ‘ اور حضرت محمد ( ﷺ ) جھوٹ نہیں بولتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد بدر کا واقعہ پیش آ گیا ‘ ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے امیہ بن خلف کے ہاں پڑاؤ کرنے کے بارے میں ہے اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ اس نے عتبہ بن ربیعہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9950

Majma al-Zawaid #9950

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ: «إِنِّي أُخْبِرْتُ عَنْ عِيرِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهَا مُقْبِلَةٌ، فَهَلْ لَكُمْ أَنْ نَخْرُجَ قَبْلَ هَذَا الْعِيرِ، لَعَلَّ اللَّهَ يُغْنِمْنَاهَا؟ "". قُلْنَا: نَعَمْ. فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا سِرْنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، قَالَ لَنَا: "" مَا تَرَوْنَ فِي الْقَوْمِ، فَإِنَّهُمْ أُخْبِرُوا بِمُخْرَجِكُمْ؟ "". فَقُلْنَا: لَا وَاللَّهِ مَا لَنَا طَاقَةٌ بِقِتَالِ الْعَدُوِّ، وَلَكِنْ أَرَدْنَا الْعِيرَ، ثُمَّ قَالَ: "" مَا تَرَوْنَ فِي الْقَوْمِ؟ "". فَقُلْنَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو: إِذًا لَا نَقُولُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى: {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24] قَالَ: فَتَمَنَّيْنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَّا قُلْنَا كَمَا قَالَ الْمِقْدَادُ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ يَكُونَ لَنَا مَالٌ عَظِيمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ - يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ} [الأنفال: 5] ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ} [الأنفال: 12] وَقَالَ: {وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ} [الأنفال: 7]، وَالشَّوْكَةُ: الْقَوْمُ. وَغَيْرُ ذَاتِ الشَّوْكَةِ: الْعِيرُ. فَلَمَّا وَعَدَ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا الْقَوْمَ، وَإِمَّا الْعِيرَ طَابَتْ أَنْفُسُنَا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ يَنْظُرُ مَا قَبْلَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ سَوَادًا وَلَا أَدْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُمُ هُمُ، هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَ "". فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِدَّتِنَا فَسَّرَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: "" عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ "". ثُمَّ إِنَّا اجْتَمَعْنَا مَعَ الْقَوْمِ فَصَفَفْنَا، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: "" مَعِي مَعِي "". ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ وَعْدَكَ "". فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُشِيرَ عَلَيْكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْظَمُ مِنْ أَنْ نُشِيرَ عَلَيْهِ، وَاللَّهُ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ نَنْشُدَهُ وَعْدَهُ، فَقَالَ: "" يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، لَأَنْشُدَنَّ اللَّهَ وَعْدَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ "". فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَرَمَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ ; فَانْهَزَمُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] فَقَتَلْنَا وَأَسَرْنَا. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَرَى أَنْ تَكُونَ لَكَ أَسْرَى، فَإِنَّمَا نَحْنُ دَاعُونَ مُؤَلِّفُونَ. فَقُلْنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ: إِنَّمَا يَحْمِلُ عُمَرُ عَلَى مَا قَالَ حَسَدٌ لَنَا. فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: "" ادْعُوَا لِي عُمَرَ "". فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عَلَيَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [الأنفال: 67]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Ansari, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said while we were at Madina: > **"I have been informed that Abu Sufyan's caravan is approaching, shall we go out before this caravan, perhaps Allah will grant it to us as booty."** We said, Yes. So he went out and we went with him. After a day or two, he said to us: > **"What do you think about the enemy, for they have been informed of your going out."** We said, No, by Allah, we have no strength to fight the enemy, but we intended the caravan. Then he said: > **"What do you think about the enemy."** We said the like. Al-Miqdad ibn Amr said, Then we shall not say to you, O Messenger of Allah, as Musa's people said to Musa, Go you and your Lord and fight, indeed we sit here. We Ansar wished we had said as Al-Miqdad said, dearer to us than great wealth. Then Allah revealed to His Messenger, peace and blessings be upon him: As your Lord brought you out of your house with truth though a party of believers disliked, disputing with you about truth after it became clear as if driven to death while looking. Then Allah revealed: I am with you, so make firm those who believe, I shall cast terror into hearts of disbelievers, so strike above necks and strike every fingertip. And He said: When Allah promised you one of the two parties would be yours, and you wished the unarmed one would be yours. Thorn means the troops, unarmed means the caravan. When Allah promised one of the two, either the troops or the caravan, our souls were pleased. Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, sent to scout ahead of the enemy. He said, I saw a black mass but know not. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"It is they, come let us count."** We were three hundred and thirteen men. We informed the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, of our number, which pleased him, and he said: > **"The number of Talut's companions."** Then we met the enemy and lined up. A rash impulse darted before the rank. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, looked and said: > **"With me, with me."** Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"O Allah, I beseech Your promise."** Ibn Rawaha said, O Messenger of Allah, I wish to counsel you, though the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, is too great to be counseled, and Allah too great to be beseeched for His promise. He said: > **"O son of Rawaha, I shall surely beseech Allah His promise, for Allah breaks not the tryst."** He took a handful of dust and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, threw it in the enemy faces, so they were defeated. Allah revealed: You threw not when you threw but Allah threw. We killed and captured. Umar ibn al-Khattab said, O Messenger of Allah, I see no captives for you, for we are callers seeking to reconcile. We Ansar said, Only envy for us carries Umar to what he says. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, slept then awoke and said: > **"Call Umar for me."** He was called. He said: > **"Indeed Allah has revealed to me: It is not for a prophet to have captives until he has thoroughly subdued in the land, you desire worldly goods while Allah desires the Hereafter, and Allah is Mighty, Wise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جب مدینہ منورہ میں موجود تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے ابوسفیان کے قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آ رہا ہے ‘ تو کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف جائیں ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ قافلہ غنیمت کے طور پر عطا کر دے ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے پھر نبی اکرم ﷺ نکلے آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے ہم ایک یا دو دن تک چلتے رہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے ان لوگوں کو تمہارے نکلنے کی اطلاع مل گئی ہے ہم نے عرض کی : جی نہیں ۔ اللہ کی قسم ! ہمارے اندر دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے ہم تو قافلے کے حوالے سے نکلے تھے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ہم نے اس کی مانند عرض کی پھر حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ایسی صورت حال میں ہم آپ کو وہ بات نہیں کہیں گے ‘ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ ہے : ) ’’ آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور جنگ کریں ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ‘‘ انہوں نے کہا : اے انصار کے گروہ ہماری یہ آرزو ہے کہ ہم نے بھی اسی طرح بات کہی ہوتی ، جس طرح مقداد نے کہی ہے تو یہ چیز ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہونی تھی کہ ہمیں بہت سا مال ملتا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل کی :’’ جس طرح تمہارے پروردگار نے تمہیں تمہارے گھر سے حق کے ہمراہ نکلوایا ‘ اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس بات کو ناپسند کرتا تھا ‘ وہ حق کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہے تھے ‘ اس کے بعد کہ وہ واضح ہو چکا تھا ‘ یوں جیسے انہیں موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہو اور وہ دیکھ رہے ہیں ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں ، تو تم لوگ ان لوگوں کو ثابت رکھو ‘ جو ایمان لائے ‘ میں عنقریب کافر لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا ‘ اور تم ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور ہر ان کے ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ ‘ دو میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا کہ وہ تمہیں ملے گا ‘ اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ گروہ ملے جو ’’ شوکہ ‘‘ والا نہ ہو ‘‘۔ یہاں ’’ شوکہ ‘‘ سے مراد قوم ( یعنی کفار مکہ کا لشکر ) ہے اور ’’ غیر ذات الشوکہ ‘‘ سے مراد ( ان کا تجارتی ) قافلہ ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے دو میں سے ایک کا وعدہ کر لیا کہ یا قوم ( یعنی کفار قریش ) ہوں گے ‘ یا قافلہ ہو گا ‘ تو ہمارے دل مطمئن ہو گئے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو بھیجا جو قوم کی صورت حال کا جائزہ لے تو اس نے بتایا میں نے لوگ دیکھے ہیں لیکن مجھے انداز نہیں ہو پایا کہ ( وہ کون ہیں ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ وہی لوگ ہیں وہی لوگ ہیں تم لوگ آگے آؤ ! تاکہ ہم گنتی کر لیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم تین سو تیرہ افراد تھے ‘ ہم نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی تعداد کے بارے میں بتایا ‘ تو آپ اس بات سے خوش ہوئے اور فرمایا : یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے ، پھر ہم دشمن کے سامنے اکٹھے ہوئے ‘ ہم نے صف بندی کی ‘ ہم میں سے کوئی شخص صف سے آگے نکلا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : میرے ساتھ رہو ! میرے ساتھ رہو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ کہا : اے اللہ ! میں تجھے تیرے وعدے کا واسطہ دیتا ہوں ۔ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں ، حالانکہ نبی اکرم ﷺ اس سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کہ کوئی آپ کو مشورہ دے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ہم اسے اس کے وعدے کے حوالے سے واسطہ دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن رواحہ ! میں اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدے کے حوالے سے واسطہ ضرور دوں گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مٹھی بھر مٹی لی ‘ پھر آپ نے اسے دشمن کی طرف پھینکا ‘ تو وہ لوگ پسپا ہو گئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے : اور جب تم نے پھینکا ‘ تو تم نے نہیں پھینکا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکا ‘‘ تو ہم نے ( دشمن کے افراد کو ) قتل بھی کیا اور قیدی بھی بنایا ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ قیدی نہ رکھیں ، کیونکہ ہم تو دعوت دینے والے اور الفت پیدا کرنے والے لوگ ہیں ، تو ہم نے یعنی انصار نے یہ کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو یہ بات کہی ہے ‘ یہ ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہی ہے پھر نبی اکرم ﷺ سو گئے ‘ جب آپ بیدار ہوئے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : عمر کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! انہیں بلا کر لایا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی ہے : ’’ نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ( کفار ) اس کے پاس قیدیوں کے طور پر ہوں ( اور وہ فدیہ وصول کر لے ) اسے تو زمین میں خون بہانا چاہیے ‘ تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ ( تمہارے لیے ) آخرت ( کی بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور ) حکمت والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

9951

Majma al-Zawaid #9951

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي خَلَّادٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ عَلَى بَعِيرٍ لَنَا أَعْجَفَ حَتَّى إِذَا كُنَّا مَوْضِعَ الْبَرِيدِ الَّذِي خَلْفَ الرَّوْحَاءِ، بَرَكَ بِعِيرُنَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ لَكَ عَلَيْنَا لَئِنْ أَدْنَيْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَنَنْحَرَنَّهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا لَكُمَا؟ "". فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ نَزَلَ عَلَيْنَا، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ بَصَقَ فِي وُضُوئِهِ، وَأَمَرَنَا فَفَتَحْنَا لَهُ فَمَ الْبَعِيرِ، فَصَبَّ فِي جَوْفِ الْبِكْرِ مِنْ وُضُوئِهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِ الْبِكْرِ، ثُمَّ عَلَى عُنُقِهِ، ثُمَّ عَلَى حَارِكِهِ، ثُمَّ عَلَى سَنَامِهِ، ثُمَّ عَلَى عَجُزِهِ، ثُمَّ عَلَى ذَنْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ احْمِلْ رَافِعًا وَخَلَّادًا "". فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُمْنَا نَرْتَحِلُ فَارْتَحَلْنَا، فَأَدْرَكْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَأْسِ الْمَنْصَفِ وَبَكَرْنَا أَوَّلَ الرَّكْبِ، فَلَمَّا رَآنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحِكَ، فَمَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَدْرًا حَتَّى إِذَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ بَدْرٍ نَزَلَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَنَحَرْنَاهُ، وَصَدَّقْنَا بِلَحْمِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Rifaa al-Ansari reported from his father, may Allah be pleased with them: I and my brother Khallad set out with the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, to Badr upon our lean camel. When we reached the mail station behind al-Rawha, our camel knelt. I said, O Allah, upon us, if You bring us near Madina we shall slaughter it. While thus, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, passed and said: > **"What is with you two."** We told him it had collapsed upon us. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, dismounted, performed ablution, spat in his ablution water, ordered us to open the camel's mouth, poured inside the young camel from his ablution, then poured upon its head, neck, withers, hump, rump, and tail, then said: > **"O Allah, carry Rafi and Khallad."** The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, proceeded. We mounted and journeyed, overtaking the Prophet, peace and blessings be upon him, at midday, our camel foremost. When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, saw us he laughed. We proceeded till Badr, and when near Badr it knelt again. We said, Praise be to Allah, so we slaughtered it and gave its meat in charity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن رفاعہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی خلاد نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف نکلے ہم اپنے کمزور اونٹ پر سوار تھے ‘ یہاں تک کہ جب ہم روحاء کے مقام سے پیچھے برید کے مقام پر پہنچے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا میں نے کہا : اے اللہ ! تو ہم پر یہ مہربانی کر دے کہ اگر ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ جائیں ، تو ہم اسے ذبح کر دیں ‘ ابھی ہم اسی صورت حال میں تھے کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے ‘ آپ نے دریافت کیا : تم دونوں کا کیا معاملہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : ہمارا اونٹ بیٹھ گیا ہے ( اور سفر کے قابل نہیں رہا ) نبی اکرم ﷺ نیچے اترے ‘ آپ نے وضو کیا ، پھر آپ نے اپنے وضو کے پانی میں لعاب دہن ڈالا اور ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم آپ کے لئے اونٹ کے منہ کو کھول دیں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے وضو کا بچا ہوا پانی اونٹ کے منہ میں ڈالا ‘ پھر آپ نے اس کے سر پر ڈالا ‘ پھر آپ نے اس کی گردن پر ڈالا ‘ پھر گردن کے نیچے والی جگہ پر ڈالا ‘ پھر اس کی کوہان پر ڈالا ‘‘ پھر اس کی پشت پر ڈالا ‘ پھر اس کی دم پر ڈالا ‘ پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! رافع اور خلاد کو سواری فراہم کر دے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ہم اٹھے روانہ ہوئے ‘ ہم روانہ ہوئے تو ہم نے دن چڑھے کے قریب نبی اکرم ﷺ کو پا لیا اور ہمارا اونٹ سب اونٹوں سے آگے تھا ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ملاحظہ فرمایا تو آپ ہنس پڑے ہم چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم بدر آ گئے ‘ یہاں تک کہ جب ہم بدر کے قریب پہنچے ‘ تو ہمارا اونٹ پھر بیٹھ گیا ‘ ہم نے کہا : الحمداللہ پھر ہم نے اسے ذبح کیا اور اس کا گوشت صدقہ کر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

9952

Majma al-Zawaid #9952

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" قُومُوا فَقَاتِلُوا "". فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24]، وَلَكِنِ انْطَلِقْ أَنْتَ وَرَبُّكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَاتَلَا وَإِنَّا مَعَكُمْ نُقَاتِلُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Utba ibn Abd al-Sulami, may Allah be pleased with him, narrated: The Prophet, peace and blessings be upon him, said to his companions: > **"Rise and fight."** They said, Yes, O Messenger of Allah, and we shall not say as the Children of Israel said to Musa, Go you and your Lord and fight, indeed we sit here. But proceed you and your Lord, O Muhammad, and fight, and we fight with you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اٹھو اور جنگ کرو ! لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے ‘ جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور جنگ کریں ‘ ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ‘‘۔ بلکہ ( ہم یہ کہیں گے : ) آپ اور آپ کا پروردگار ‘ اے حضرت محمد ! چلیں اور جنگ کریں ‘ ہم آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9953

Majma al-Zawaid #9953

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا، فَاجْتَوَيْنَاهَا، فَأَصَابَنَا بِهَا وَعَكٌ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ - وَبَدْرٌ بِئْرٌ - فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا، فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ، وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ، فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ: كَمِ الْقَوْمُ؟ فَيَقُولُ: هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَمِ الْقَوْمُ؟ "". فَقَالَ: هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ. فَجَهَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُخْبِرَهُ فَأَبَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ: "" كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ؟ "". قَالَ: عَشْرٌ لِكُلِّ يَوْمٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْقَوْمُ أَلْفٌ، كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَنَيِّفِهَا "". ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ ; فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو رَبَّهُ وَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ "". قَالَ: فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى: "" الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ "". فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَضَّ عَلَى الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلْعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ "". فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ وَصَافَّنَاهُمْ إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَلِيُّ، نَادِ لِي حَمْزَةَ "". وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: "" مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ؟ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ "". فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ: هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ وَيَقُولُ لَهُمْ: يَا قَوْمِ، إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ، يَا قَوْمِ، اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي وَقُولُوا: جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ. فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ: أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ؟ وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ لَأَعْضَضْتُهُ، قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا، فَقَالَ عُتْبَةُ: إِيَّايَ تَعْنِي يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ، سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ؟ قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَةُ، وَأَخُوهُ شَيْبَةُ، وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً، فَقَالُوا: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ، فَقَالَ عُتْبَةُ: لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُمْ يَا عَلِيُّ، وَقُمْ يَا حَمْزَةُ، وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ "". فَقَتَلَ اللَّهُ شَيْبَةَ وَعُتْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَخَرَجَ عُبَيْدَةُ، فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ. فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي، أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أَرَاهُ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" اسْكُتْ فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ "". قَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وَعَقِيلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ بْنِ مَضْرِبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, narrated: When we arrived at Madina we ate its fruits and found them disagreeable, suffering fever. The Prophet, peace and blessings be upon him, kept inquiring about Badr. When it reached us that the polytheists had advanced, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, marched to Badr, and Badr is a well. The polytheists preceded us to it. We found therein two of their men, a Qurayshi and a freedman of Uqba ibn Abi Muayt. The Qurayshi slipped away, but Uqba's freedman we seized. We kept saying, How many are the people. He said, By Allah they are many in number, severe in might. Whenever he said that, Muslims beat him until they brought him to the Prophet, peace and blessings be upon him. The Prophet, peace and blessings be upon him, said to him: > **"How many are the people."** He said, By Allah many in number, severe in might. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, strove to make him inform but he refused. Then the Prophet, peace and blessings be upon him, asked him: > **"How many camels do they slaughter."** He said, Ten each day. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"The people are a thousand, each camel for a hundred and odd."** Then light rain afflicted us, so we went under trees and shields seeking shade from rain. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, spent the night supplicating his Lord, saying: > **"O Allah, if You destroy this band, You shall not be worshipped."** When dawn broke he called: > **"Prayer, O servants of Allah."** People came from under trees and shields. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, prayed with us and urged fighting, then said: > **"Indeed Quraysh's host is beneath this red slope of the mountain."** When the enemy neared and we faced them, a man among them upon a red camel moved among the people. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"O Ali, call Hamza for me, who is nearest to the polytheists, who is the owner of the red camel and what does he say to them."** Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"If there is any among the people enjoining good, perhaps it is the owner of the red camel."** Hamza came and said, He is Utba ibn Rabia, forbidding fighting and saying to them, O people, I see a people courting death, you shall not reach them while good is in you. O people, bind it today upon my head and say, Utba ibn Rabia has cowardiced, though you know I am not your most cowardly. Abu Jahl heard and said, Do you say that. By Allah, had another said it I would have bitten him. Your chest has filled with fear. Utba said, At me you mean, O yellow one, today you shall know which is coward. So Utba, his brother Shayba, and his son Al-Walid advanced zealously, saying, Who will duel. Six Ansar youths went out. Utba said, We want not these, but let our cousins from Bani Abd al-Muttalib duel us. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Stand, O Ali, stand, O Hamza, stand, O Ubayda ibn al-Harith ibn al-Muttalib."** Allah killed Shayba and Utba sons of Rabia and Al-Walid ibn Utba. Ubayda was wounded. We killed seventy among them and captured seventy. A short Ansari man brought Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib captive. Al-Abbas said, O Messenger of Allah, by Allah this one did not capture me, one hairless, most handsome-faced upon a piebald horse captured me, whom I see not among the people. The Ansari said, I captured him, O Messenger of Allah. He said: > **"Be silent, for Allah has aided you with a noble angel."** Ali, peace be upon him, said, We captured, among Bani al-Muttalib, Al-Abbas, Aqil, and Nawfal ibn al-Harith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم مدینہ منورہ آئے اور ہم نے وہاں کے پھل استعمال کیے تو وہ ہماری طبیعت کے موافق نہیں آئے اور ہمیں بخار ہو گیا ‘ نبی اکرم ﷺ بدر کے بارے میں خبر گیری کرتے رہتے تھے ‘ جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین آ رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے ‘ بدر ایک کنواں ہے ‘ مشرکین ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے ‘ ہم نے وہاں پر ان میں سے دو آدمیوں کو پایا ‘ ایک شخص کا تعلق قریش سے تھا ‘ اور ایک عقبہ بن ابومعیط کا غلام تھا ‘ جہاں تک قریشی شخص کا تعلق تھا ‘ وہ تو بھاگ گیا ‘ جہاں تک عقبہ کے غلام کا تعلق تھا ، تو اسے ہم نے پکڑ لیا اور ہم نے اس سے پوچھا : اُن لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! وہ لوگ زیادہ تعداد میں ہیں ‘ اور ان کے پاس بھرپور اسلحہ ہے ‘ جب وہ یہ بات کہتا تھا ، تو مسلمان اسے مارنے لگتے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : ان لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے بتایا : اللہ کی قسم ! ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کے پاس بھرپور اسلحہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ کوشش کی کہ وہ آپ کو صحیح بات بتا سکے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : ان لوگوں نے کتنے اونٹ قربان کیے ہیں ؟ اس نے بتایا : وہ روزانہ دس اونٹ قربان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ ایک ہزار ہوں گے اور ایک اونٹ ایک سو کے آس پاس کے لوگوں کے لئے ہو گا ‘ پھر بارش کی وجہ سے ہمیں تھوڑی سی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ‘ اور ہم لوگ ایک درخت کے نیچے آ گئے ‘ اس درخت کے نیچے ہم ڈھالوں کے ذریعے بارش سے بچ رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ رات بھر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہے اور یہ کہتے رہے : اے اللہ ! اگر تو نے اس گروہ کو ہلاکت کا شکار کر دیا ‘ تو پھر تیری عبادت نہیں کی جائے گی ‘ یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے اعلان کیا : اے اللہ کے بندو ! نماز پڑھو لوگ درخت اور ڈھالوں کے نیچے سے آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ، آپ نے جنگ کرنے کی ترغیب دی ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : قریش اس پہاڑ کے اس سرخ حصے کے نیچے اکٹھے ہوں گے ‘ جب دشمن قریب آیا اور ہم نے ان کے مقابلے میں صف بندی کر لی ‘ تو ان میں سے ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے علی ! حمزہ کو بلاؤ ‘ وہ اس وقت مشرکین کے سب سے زیادہ قریب تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ سرخ اونٹ والا شخص کون ہے ؟ اور یہ اُن سے کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر دشمن میں کوئی شخص بھلائی کی بات کرے گا ‘ تو یہ سرخ اونٹ والا شخص وہ بات کرے گا ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے یہ بات بتائی : وہ عتبہ بن ربیعہ ہے اور وہ لوگوں کو جنگ کرنے سے روک رہا ہے اور ان سے یہ کہہ رہا ہے : اے میری قوم ! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ جو مرنے کے لیے تیار ہیں ، جب تم ان تک پہنچو گے تو تمہارے میں بہتر صورتحال نہیں ہو گی ‘ اے میری قوم ! آج کے دن کی پٹی تم میرے سر پر باندھ دو ( یعنی مجھ پر الزام عائد کر دو ) اور یہ کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا ‘ حالانکہ تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں ‘ ابوجہل نے یہ بات سنی تو بولا : تم یہ بات کہہ رہے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی ، تو میں نے اسے گالیاں دینی تھیں تمہارے اندر رعب بھر گیا ہے ‘ عتبہ نے کہا : اوسر دوگرم سے ناواقف شخص ! تم مجھے یہ بات کہہ رہے ہو ؟ آج تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کون بزدل ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر عتبہ ‘ اُس کا بھائی شیبہ ‘ اور اُس کا بیٹا ولید لڑائی کے لئے آئے ‘ اور انہوں نے یہ کہا : کون ہمارے مقابلے میں آئے گا ؟ تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان نکلے ‘ عتبہ نے کہا : ہم ان سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے ‘ بلکہ ہمارے مقابلے میں ہمارے چچازاد بنوعبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تم کھڑے ہو جاؤ ‘ اے حمزہ ! آپ کھڑے ہو جائیں ‘ اے عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب آپ کھڑے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں بیٹوں شیبہ اور عتبہ کو قتل کروا دیا ‘ ولید بن عتبہ کو بھی قتل کروا دیا ‘ حضرت عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ، ہم نے اس جنگ میں ان کے ستر افراد کو قتل کیا اور ستر افراد کو قیدی بنایا ‘ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹے قد کا شخص ، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو قیدی بنا کر لے آیا ‘ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا ہے ‘ بلکہ مجھے ایک ایسے شخص نے قیدی بنایا ہے ‘ جو انتہائی خوبصورت تھا ‘ اور سر کے اطراف سے اس کے بال ہٹے ہوئے تھے اور وہ ایک خوبصورت گھوڑے پر سوار تھا میں نے اُسے لوگوں میں نہیں دیکھا ‘ انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہیں میں نے قیدی بنایا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم خاموش رہو ! اللہ تعالیٰ نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے ‘ جناب عبدالمطلب کی اولاد میں سے ‘ جناب عباس ‘ جناب عقیل اور جناب نوفل بن حارث کو قیدی بنایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف حارث بن مضرب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9954

Majma al-Zawaid #9954

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ الْمُسْلِمُونَ بَدْرًا، وَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَقَالَ: "" إِنْ يَكُنْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ خَيْرٌ فَهُوَ عِنْدَ صَاحِبِ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، إِنْ يُطِيعُوهُ يَرْشُدُوا "". وَهُوَ يَقُولُ: يَا قَوْمِ، أَطِيعُونِي فِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ ; فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَنْ يَزَالَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ يَنْظُرُ كُلُّ رَجُلٍ إِلَى قَاتِلِ أَخِيهِ وَقَاتِلِ أَبِيهِ، فَاجْعَلُوا جَنْبَهَا بِرَأْسِي وَارْجِعُوا، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: انْتَفَخَ وَاللَّهِ سَحْرُهُ حِينَ رَأَى مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، إِنَّمَا مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ كَأَكْلَةِ جَزُورٍ لَوْ قَدِ الْتَقَيْنَا. فَقَالَ عُتْبَةَ: سَتَعْلَمُ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِهِ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى قَوْمًا يَضْرِبُونَكُمْ ضَرْبًا أَمَا تَرَوْنَ كَأَنَّ رُءُوسَهُمُ الْأَفَاعِي، وَكَأَنَّ وُجُوهَهُمُ السُّيُوفُ، ثُمَّ دَعَا أَخَاهُ وَابْنَهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَهُمَا، وَدَعَا بِالْمُبَارَزَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them, narrated: When the Muslims alighted at Badr and the polytheists advanced, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, looked at Utba ibn Rabia upon a red camel and said: > **"If there is good with anyone among the people, it is with the owner of the red camel. If they obey him they shall be guided."** He was saying, O people, obey me concerning these people. If you do, rancor shall ever remain in your hearts, every man looking at his brother's killer and father's killer. So place its side upon my head and return. Abu Jahl said, By Allah his sorcery has swollen when he saw Muhammad and his companions. Muhammad and his companions are but a camel's morsel, if only we meet. Utba said, You shall know who is the coward corrupting his people. By Allah I see a people who shall strike you severely. Do you not see as if their heads are vipers and their faces swords. Then he called his brother and son, walked between them, and called for single combat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب مسلمان بدر پہنچے اور مشرکین بھی آ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے عتبہ بن ربیعہ کی طرف دیکھا جو ایک سرخ اونٹ پر سوار تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں میں سے ‘ اگر کسی کے پاس بھلائی ہو سکتی ہے ‘ تو وہ سرخ اونٹوں والے اس شخص کے پاس ہو سکتی ہے ‘ اگر وہ لوگ اس کی بات مان جائیں گے تو وہ ہدایت حاصل کر لیں گے ‘ عتبہ یہ کہہ رہا تھا : اے میری قوم ! تم میری بات مان جاؤ ‘ جو ان لوگوں کے بارے میں ہے ‘ اگر تم ایسا کر لیتے ہو ‘ تو ہمیشہ تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی رہے گی ‘ تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے کسی بھائی کے قاتل ‘ اپنے باپ کے قاتل کی طرف دیکھنا پڑے گا ‘ تو تم اس کا معاملہ میرے سر رکھ دو اور واپس چلو ! ابوجہل نے کہا : اللہ کی قسم ! جب سے اس نے محمد ( ﷺ ) اور ان کے ساتھیوں کو دیکھا ہے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ‘ محمد ( ﷺ ) اور اس کے ساتھی اونٹ کی مانند ہیں ‘ اگر ہم ان کے ساتھ مقابلہ کریں گے ‘ تو یہی مناسب ہو گا ‘ عتبہ نے کہا : تم عنقریب جان لو گے کہ کون بزدل ہے اور اپنی قوم کو خراب کرنے والا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ تم پر بھرپور ضرب لگائیں گے ‘ کیا تم نے یہ چیز نہیں دیکھی کہ ان کے سر ‘ افعی ( سانپوں ) کی طرح ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہیں ، پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان دونوں کے درمیان چلتا ہوا نکلا اور مبارزت کے لئے پکارا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9955

Majma al-Zawaid #9955

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ عَلَى قَلِيبٍ يَوْمَ بَدْرٍ أَمِيحُ وَأَمْتَحُ مِنْهُ، فَجَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ شَدِيدَةٌ، فَلَمْ أَرَ رِيحًا أَشَدَّ مِنْهَا إِلَّا الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَكَانَتِ الْأُولَى مِيكَائِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالثَّانِيَةُ إِسْرَافِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالثَّالِثَةُ جِبْرِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ. وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا هَزَمَ اللَّهُ الْكَفَّارَ حَمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَيْتُ عَلَيْهِ حَمَلَ بِي فَصِرْتُ عَلَى عُنُقِهِ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَثَبَّتَنِي عَلَيْهِ، فَطَعَنْتُ بِرُمْحِي حَتَّى بَلَغَ الدَّمُ إِبِطِي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Ali ibn Abi Talib (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr he was drawing water at a well when three violent winds blew in succession, the second fiercer than what he had ever seen except the first. The first was Mikail ('alayhi al-salam) with a thousand angels on the right of the Prophet, the second was Israfil ('alayhi al-salam) with a thousand angels on the left of the Prophet, and the third was Jibril ('alayhi al-salam) with a thousand angels. Abu Bakr (Radiya Allahu 'anhu) stood on the right of the Prophet ﷺ and Ali on his left. When Allah routed the disbelievers, the Messenger of Allah ﷺ mounted Ali on his horse; when he settled, he slipped toward its neck, supplicated to Allah, and Allah steadied him, and he thrust with his spear until blood reached his armpit.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں غزوہ بدر کے موقع پر اس گڑھے کے پاس موجود تھا ‘ اور کنویں میں سے پانی نکال رہا تھا ، اسی دوران ایک تیز ہوا آئی پھر ایک اور تیز ہوا آئی ‘ میں نے اس جیسی تیز ہوا نہیں دیکھی تھی ‘ البتہ اس سے جو پہلے آئی تھی وہ زیادہ تیز تھی ‘ پھر ایک اور تیز ہوا آئی ‘ تو پہلی مرتبہ میں حضرت میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کر آئے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے تھے ‘ دوسری مرتبہ میں حضرت اسرافیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کے آئے اور نبی اکرم ﷺ کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ‘ تیسری مرتبہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کر آئے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف تھے اور میں نبی اکرم ﷺ کے بائیں طرف تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو پسپا کر دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کروایا ‘ جب میں اس پر بیٹھ گیا تو میں نے اس کی گردن کو تھپتھپایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی : تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس پر جم کے بٹھا دیا ‘ اسی دوران مجھے نیزے سے زخم لگ گیا ‘ یہاں تک کہ خون میری بغلوں تک پہنچ گیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9956

Majma al-Zawaid #9956

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَمَّا رَأَى إِبْلِيسُ مَا تَفْعَلُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمُشْرِكِينَ أَشْفَقَ أَنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ، فَتَشَبَّثَ بِهِ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَوَكَزَ فِي صَدْرِ الْحَارِثِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ خَرَجَ هَارِبًا حَتَّى أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَظْرَتَكَ إِيَّايَ، وَخَافَ أَنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ. فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، لَا يَهْزِمَنَّكُمْ خِذْلَانُ سُرَاقَةَ إِيَّاكُمْ ; فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى مِيعَادٍ مِنْ مُحَمَّدٍ، لَا يَهُولَنَّكُمْ قَتْلُ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَّلُوا، فَوَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا نَرْجِعُ حَتَّى نُقْرِنَهُمْ بِالْحِبَالِ. فَلَا أَلْقَيَنَّ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ، وَلَكِنْ خُذُوهُمْ أَخْذًا حَتَّى تُعَرِّفُوهُمْ سُوءَ صَنِيعِهِمْ مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ إِيَّاكُمْ، وَرَغْبَتِهِمْ عَنِ اللَّاتِ وَالْعُزَّى. ثُمَّ قَالَ أَبُو جَهْلٍ مُتَمَثِّلًا: مَا تَنْقِمُ الْحَرْبُ الشَّمُوسُ مِنِّي ... بَازِلٌ عَامَيْنِ حَدِيثٌ سِنِّي لِمِثْلِ هَذَا وَلَدَتْنِي أُمِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Rifa'ah ibn Rafi' al-Ansari (Radiya Allahu 'anhu): He reported that when Iblis saw what the angels were doing to the polytheists at Badr, he feared being killed. Al-Harith ibn Hisham clung to him, mistaking him for Suraqah ibn Malik, so he struck al-Harith on the chest, threw him off, fled, cast himself toward the sea, raised his hands asking his Lord for respite, fearing death. Then Abu Jahl came forward urging the people not to let the desertion of Suraqah rout them, claiming he had an appointment with Muhammad, nor let the killing of Utbah and Shaybah sons of Rabi'ah dismay them since they had hastened, swearing by al-Lat and al-Uzza they would not return until they bound the Muslims in ropes, ordering them to seize men alive rather than kill, to reproach them for leaving their people and turning from al-Lat and al-Uzza, then recited boastful verses that war the obstinate finds him a seasoned camel of two years yet youthful, for such as this his mother bore him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ابلیس نے وہ چیز دیکھی ، جو فرشتوں نے مشرکین کے ساتھ کی تھی ، تو وہ ڈر گیا کہ کہیں قتل اس کی طرف نہ آ جائے ‘ حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا وہ یہ سمجھے کہ وہ سراقہ بن مالک ہے ‘ اس نے حارث کے سینے پر مکا لگایا اور انہیں ایک طرف پھینکا اور پھر ڈر کے بھاگا یہاں تک کہ سمندر میں گر گیا ، پھر اس نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور بولا : اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے مہلت دے ‘ اُسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بھی قتل نہ ہو جائے ‘ پھر ابوجہل آیا اور بولا : اے لوگو ! سراقہ کا تمہیں رسوا کرنا تمہیں پسپا نہ کرے ‘ کیونکہ اس نے محمد ( ﷺ ) کے ساتھ ایک وعدہ کیا ہوا ہے ‘ اور عتبہ اور شیبہ ‘ جو ربیعہ کے بیٹے ہیں ‘ ان کا قتل تمہیں ہولناکی کا شکار نہ کرے ‘ کیونکہ ان لوگوں نے عجلت کا مظاہرہ کیا تھا ‘ لات اور عزیٰ کی قسم ‘ ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ان لوگوں کو رسیوں میں جکڑ نہیں دیتے ‘ اور میں ایسے کسی شخص کو ہرگز نہ پاؤں کہ اس نے ان لوگوں میں کسی کو قتل کر دیا ہو ‘ بلکہ تم لوگ انہیں پکڑو ‘ یہاں تک کہ تم انہیں ان کے برے طرز عمل سے واقف کرواؤ کہ جو انہوں نے تم سے علیحدگی اختیار کی تھی اور لات اور عزیٰ سے منہ موڑ دیا تھا ۔ پھر ابوجہل نے مثال کے طور پر یہ اشعار پڑھے : ’’ مسلسل جاری رہنے والی جنگ کو مجھ پر یہی غصہ ہے ‘ کہ میں نوجوان فرد ہوں اور میری عمر کم ہے ‘ اسی طرح کی صورتحال کے لیے میری ماں نے مجھے جنم دیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9957

Majma al-Zawaid #9957

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخَذَتْهُمْ رِيحٌ عَقِيمٌ يَوْمَ بَدْرٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Abbas (Radiya Allahu 'anhuma): He reported that on the day of Badr a barren wind that brings no rain seized the polytheists.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ان لوگوں کو ‘ بارش کے بغیر والی ہوا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9958

Majma al-Zawaid #9958

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ بِمَكَّةَ: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ جَمْعٍ؟ وَذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، وَانْهَزَمَتْ قُرَيْشٌ نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ مُصْلِتًا بِالسَّيْفِ، يَقُولُ: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] وَكَانَتْ يَوْمَ بَدْرٍ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {حَتَّى إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمْ بِالْعَذَابِ} [المؤمنون: 64] الْآيَةَ. وَأَنْزَلَ: {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا} [إبراهيم: 28] الْآيَةَ. وَرَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَسِعَتْهُمُ الرَّمْيَةُ، وَمَلَأَتْ أَعْيُنَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُقْبِلُ وَهُوَ يَقْذِي عَيْنَيْهِ وَفَاهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِبْلِيسَ: {فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [الأنفال: 48]. وَقَالَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَنَاسٌ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ: غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ} [الأنفال: 49]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abu Hurayrah (Radiya Allahu 'anhu): He reported that Allah revealed to His Prophet ﷺ in Makkah that the host will be routed and turn their backs. Umar ibn al-Khattab (Radiya Allahu 'anhu) asked which host that was, before Badr. On the day of Badr when Quraysh were routed, he saw the Messenger of Allah ﷺ pursuing their traces with sword unsheathed, reciting that verse, and it was fulfilled that day. Allah revealed concerning them verses about seizing their affluent with punishment, about those who exchanged Allah's blessing for disbelief, and the Messenger of Allah ﷺ threw dust at them which spread to cover them and filled their eyes and mouths, so that a man would come wiping his eyes and mouth. Then Allah revealed that you did not throw when you threw but Allah threw, and revealed concerning Iblis that when the two hosts met he turned on his heels declaring disavowal, saying he sees what they see not and fears Allah, and Allah is severe in punishment. Utbah ibn Rabi'ah and some polytheists said that their religion had deluded these Muslims, so Allah revealed the verse about hypocrites and diseased hearts saying their religion deluded them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مکہ میں اپنے نبی پر یہ آیت نازل کی : ’’ عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ‘‘۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جمع سے مراد کیا ہے ؟ یہ غزوہ بدر سے پہلے کی بات ہے اور جب غزوہ بدر ہو گیا اور قریش پسپا ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کے آثار کو دیکھا ‘ آپ نے تلوار لہرائی ہوئی تھی اور آپ یہ پڑھ رہے تھے :’’ عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ‘‘ جب غزوہ بدر ہو گیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ یہاں تک کہ ہم نے اُن کے خوشحال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لے لیا ‘‘۔ اور یہ آیت نازل کی : ’’ کیا تم نے ان کی طرف نہیں دیکھا جنہوں نے ‘ اللہ کی نعمت ( یعنی ایمان ) کو کفر میں تبدیل کر دیا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی طرف مٹی پھینکی اور وہ ان سب تک پہنچ گئی ‘ اس مٹی نے ان کی آنکھوں اور مونہوں کو بھر دیا ‘ یہاں تک کہ ایک شخص آتا تھا ‘ اور وہ اپنی آنکھوں اور منہ سے مٹی صاف کر رہا ہوتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جب تم نے مٹی پھینکی ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی ‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ جب دونوں افواج ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئیں تو وہ ایڑیوں کے بل پلٹ گیا اور بولا : میں تم سے بری الذمہ ہوں ‘ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو ‘ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے ‘‘۔ غزوہ بدر کے دن ‘ عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھ مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا : ان کے دین نے انہیں دھوکے کا شکار کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ‘ انہوں نے یہ کہا : ان کے دین نے انہیں دھوکے کا شکار کیا ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9959

Majma al-Zawaid #9959

«وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] قُلْتُ: أَيُّ جَمْعٍ هَذَا؟ فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِيَدِهِ السَّيْفُ مُصْلِتًا، وَهُوَ يَقُولُ: "" {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Umar ibn al-Khattab (Radiya Allahu 'anhu): He reported that when the verse that the host will be routed and turn their backs was revealed, he wondered which host was meant. On the day of battle he saw the Messenger of Allah ﷺ with sword unsheathed in hand, reciting that verse. > **["The host will be defeated and they will turn their backs."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ‘‘۔ تو میں نے سوچا : اس سے مراد کون سا جتھہ ہو سکتا ہے ؟ جب غزوہ بدر آیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ میں تلوار لہرائی ہوئی تھی اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : ’’ عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی انصاری ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

9960

Majma al-Zawaid #9960

«وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ: إِنَّ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّكُمْ إِنْ لَمْ تُطِيعُوهُ كَانَ لَهُ مِنْكُمْ ذَبْحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ، وَأَنْتَ مِنْ ذَلِكَ الذَّبْحِ "". فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ يَوْمَ بَدْرٍ مَقْتُولًا، قَالَ: "" اللَّهُمَّ قَدْ أَنْجَزْتَ لِي مَا وَعَدْتَنِي "". فَوَجَّهَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الْأَسَدِ قِبَلَ أَبِي جَهْلٍ، فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَنْتَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَنْتَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: لَوْ شَاءَ لَجَعَلَكَ فِي كَفِّهِ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَتَلْتُهُ وَجَرَّدْتُهُ. قَالَ: فَمَا عَلَامَتُهُ؟ قَالَ: شَامَةٌ سَوْدَاءُ بِبَطْنِ فَخِذِهِ الْيَمِينِ، فَعَرَفَ أَبُو سَلَمَةَ النَّعْتَ، وَقَالَ: جَرَّدْتَهُ وَلَمْ تُجَرِّدْ قُرَشِيًّا غَيْرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Jabir (Radiya Allahu 'anhu): He reported that Abu Jahl ibn Hisham claimed Muhammad asserts that if they disobey him there will be slaughter among them. The Messenger of Allah ﷺ affirmed it and warned that Abu Jahl himself would be among that slaughter. When he saw him slain on the day of Badr, he praised Allah for fulfilling His promise to him. He then sent Abu Salamah ibn Abd al-Asad toward Abu Jahl. Ibn Mas'ud was asked if he had killed him; he first said Allah killed him, then affirmed he had, that he had killed him and stripped his armor, and Abu Salamah questioned how he could have overpowered him. Ibn Mas'ud described as proof a black mole on the inside of his right thigh, which Abu Salamah recognized, affirming he had stripped him and no other Qurashi. > **["Yes, I say that, and you are among that slaughter."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوجہل بن ہشام نے کہا : محمد ( ﷺ ) کا یہ کہنا ہے کہ اگر تم لوگ ان کی اطاعت نہیں کرو گے ‘ تو وہ تمہیں ذبح کر دیں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے یہ بات کہی ہے اور تم بھی اُن ذبح ہونے والوں میں شامل ہو گے ‘ غزوہ بدر کے دن ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے اُسے مقتول دیکھا تو یہ فرمایا : اے اللہ ! تو نے جو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کو ابوجہل کی طرف بھیجا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے اسے قتل کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کیا تھا ، حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے اسے قتل کیا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ چاہیں ، تو اسے اپنی ہتھیلی میں رکھ لیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے قتل کیا تھا ‘ اور میں نے اس کا اوپری لباس اتار لیا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اس کی نشانی کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : اس کے دائیں زانوں کے درمیان میں سیاہ رنگ کا تل ہے ‘ تو حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس نشانی کو پہچان لیا اور فرمایا : آپ نے اس کا اوپری لباس اتار لیا تھا آپ نے اس کے علاوہ کسی قریشی کا لباس نہیں اتارا ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9961

Majma al-Zawaid #9961

«وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ وَهُوَ صَرِيعٌ، وَهُوَ يَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ بِسَيْفٍ لَهُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟ قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ بِسَيْفٍ لِي غَيْرَ طَائِلٍ، فَأَصَبْتُ يَدَهُ فَبُدِرَ سَيْفُهُ فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ حَتَّى قَتَلْتُهُ. قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا أَفَلَ مِنَ الْأَرْضِ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ "". فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. قَالَ: فَخَرَجَ يَمْشِي مَعِي حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ "".

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr he reached Abu Jahl whose leg had been struck while he lay fallen, fending people off with his sword. Ibn Mas'ud praised Allah who had disgraced Allah's enemy. Abu Jahl retorted that he was but a man killed by his own people. Ibn Mas'ud struck at him with his own short sword, hit his hand so his sword fell, seized it, struck him until he killed him. He then hastened to the Prophet ﷺ as if gliding above the ground and informed him. The Prophet ﷺ made him swear thrice by Allah besides whom none is worthy of worship, and he swore. Then the Prophet ﷺ walked with him until he stood over the body and praised Allah who disgraced Allah's enemy, declaring him the Pharaoh of this Ummah. > **["By Allah besides whom none is worthy of worship?"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس آیا اس کے پاؤں پر ضرب لگی تھی ‘ اور وہ زخمی پڑا ہوا تھا ‘ وہ اپنی تلوار کے ذریعے لوگوں کو خود سے پرے کر رہا تھا ‘ میں نے کہا : ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے تجھے رسوائی کا شکار کیا ‘ اے اللہ کے دشمن ! اس نے کہا : میں صرف ایک شخص ہوں ، جس کی قوم نے اسے قتل کر دیا ہے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنی تلوار اسے چبھونا چاہی جو زیادہ بڑی نہیں تھی ‘ وہ تلوار اس کے ہاتھ پر لگی تو اس کی تلوار گر گئی ‘ پھر میں نے اسے پکڑا اور اسے ضرب لگائی ‘ یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا ، پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں خوشی کے عالم میں تیزی سے جا رہا تھا ‘ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا اُس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ ( یہ اطلاع درست ہے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا ، تو میں نے عرض کی : اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ خبر درست ہے ) پھر نبی اکرم ﷺ میرے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور اس کی لاش کے پاس ٹھہرے اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ کے دشمن ! ہر طرح کی حمد ‘ اس اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے تجھے رسوائی کا شکار کیا ‘ ( پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ) یہ اس امت کا فرعون ہے ‘‘۔

9962

Majma al-Zawaid #9962

وَفِي رِوَايَةٍ: " هَذَا فِرْعَوْنُ أُمَّتِي ".

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): In another wording of the same encounter, the Prophet ﷺ declared of Abu Jahl that he is the Pharaoh of his Ummah. > **["This is the Pharaoh of my Ummah."]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ یہ میری امت کا فرعون ہے ‘‘۔

9963

Majma al-Zawaid #9963

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَنَفَّلَنِي سَلَبَهُ». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): In another wording he added that the Prophet ﷺ granted him the arms and belongings of Abu Jahl as extra spoils.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اُس کا سامان انعام کے طور پر دیا ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ‘ امام بزار نے انہیں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اسے ابوعبیدہ نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے نقل کیا ہے ‘ حالانکہ انہوں نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ‘ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9964

Majma al-Zawaid #9964

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دُفِعْتُ يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَقَدْ أُقْعِدَ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ فَضَرَبْتُ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: رُوَيْعُنَا بِمَكَّةَ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفِهِ حَتَّى بَرَدَ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، فَقَالَ عَقِيلٌ - وَهُوَ أَسِيرٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كَذَبْتَ مَا قَتَلْتَهُ. قَالَ: قُلْتُ بَلْ أَنْتَ الْكَذَّابُ الْآثِمُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُهُ قَالَ: فَمَا عَلَامَتُهُ؟ قَالَ: بِفَخِذِهِ حَلْقَةٌ كَحَلْقَةِ الْحَجَلِ الْمُحَلَّقِ. قَالَ: صَدَقْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Narrated by Abdullah ibn Mas'ud (Radiya Allahu 'anhu): He reported that on the day of Badr he was brought to Abu Jahl while he lay incapacitated, seized his sword, struck his head with it, and Abu Jahl mocked him as their little shepherd of Makkah. He struck him with his own sword until he grew cold. He then told the Prophet ﷺ that he had killed Abu Jahl, but Uqayl, then a captive with the Prophet ﷺ, accused him of lying. Ibn Mas'ud called him the lying sinful enemy of Allah, swore by Allah he had killed him, and when asked for the mark described a ring-like circle on his thigh resembling a ringed partridge mark, which Uqayl confirmed as true.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ‘ میں ابوجہل کے پاس آیا وہ پڑا ہوا تھا ، میں نے اس کی تلوار پکڑی اور وہ اس کے سر پر ماری ( یعنی چبھوئی ) تو اس نے کہا : مکہ میں ہمارا نکما چرواہا ؟ پھر میں نے اس کی تلوار سے اس پر ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے ‘ تو جناب عقیل ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے پاس قیدی کے طور پر موجود تھے ‘ انہوں نے کہا : تم نے جھوٹ بولا ہے ‘ تم نے اسے قتل نہیں کیا ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے دشمن ! بلکہ تم جھوٹے اور گنہگار ہو ‘ اللہ کی قسم ! میں نے اسے قتل کر دیا ہے ‘ انہوں نے دریافت کیا : اس کی علامت کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : اس کے زانوں پر ایک چھلا تھا ‘ جو حلقے والے بٹن کی مانند تھا ‘ تو انہوں نے کہا : تم نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔