Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 3

Book of Expeditions and Biography

Hadith 9885–9924

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9885

Majma al-Zawaid #9885

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ النَّاسِ حِبَالًا - وَالْحِبَالُ: الْحَلِفُ وَالْمَوَاثِيقُ - فَلَعَلَّنَا نَقْطَعُهَا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَوْمِكَ، وَقَدْ قَطَعْنَا الْحِبَالَ وَحَارَبْنَا النَّاسَ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ وَقَالَ: "" الدَّمَ الدَّمَ الْهَدْمَ الْهَدْمَ "". فَلَمَّا رَضِيَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِمَا رَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْهَدُ أَنَّهُ لَصَادِقٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ وَبَيْنَ ظَهْرَيْ قَوْمِهِ وَعَشِيرَتِهِ، فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنْ تُخْرِجُوهُ بَرَتْكُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ، فَإِنْ كَانَتْ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَذَهَابِ الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ فَادْعُوهُ إِلَى أَرْضِكُمْ، فَإِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقًّا، وَإِنْ خِفْتُمْ خِذْلَانًا فَمِنَ الْآنَ، فَقَالُوا عِنْدَ ذَلِكَ: قَبِلْنَا عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ مَا أَعْطَانَا، وَقَدْ أَعْطَيْنَاكَ مِنْ أَنْفُسِنَا الَّذِي سَأَلْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخَلِّ بَيْنَنَا يَا أَبَا الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْنُبَايِعْهُ فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ بَايَعَ ثُمَّ كُلُّهُمْ، وَصَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأَسِ الْجَبَلِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هَذِهِ الْخَزْرَجُ وَالْأَوْسُ تُبَايِعُ مُحَمَّدًا عَلَى قِتَالِكُمْ فَفَزِعُوا عِنْدَ ذَلِكَ وَرَاعَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَرُعْكُمْ هَذَا الصَّوْتُ ; فَإِنَّهُ عَدُوُّ اللَّهِ إِبْلِيسُ لَيْسَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِمَّنْ تَخَافُونَ "". وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَرَخَ بِالشَّيْطَانِ: "" يَا ابْنَ أَزَبَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَسَأَفْرَغُ لَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، هَكَذَا مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Urwa, may Allah have mercy on him, narrated: The first to pledge the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, was Abu al-Haytham ibn al-Tayyihan. He said, O Messenger of Allah, between us and other people are bonds, meaning oaths and covenants, and perhaps we shall sever them, then you will return to your people after we have severed bonds and fought people. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, laughed at his words and said: > **"Blood is blood, destruction is destruction."** When Abu al-Haytham was pleased with the reply, he turned to his people and said, O my people, this is the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. I testify he is truthful. Today he is in Allah's sanctuary and security among his people and kin. Know that if you take him out, the Arabs will shoot at you with one bow. If your souls are content to fight in Allah's path and lose wealth and children, then invite him to your land, for he is truly the Messenger of Allah. If you fear betrayal, then from now. Thereupon they said, We accept from Allah and His Messenger what he gives us, and we give you of ourselves what you asked, O Messenger of Allah. Leave between us, O Abu al-Haytham, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, so we may pledge him. Abu al-Haytham said, I am the first to pledge, then all pledged. Satan shouted from the mountain top, O Quraysh, these Khazraj and Aws are pledging Muhammad to war against you. They were alarmed. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Let not this voice alarm you, for he is Allah's enemy Iblis, whom none of those you fear has heard."** The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, stood and shouted at Satan: > **"O son of the snake, this is your doing. I shall soon be free for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی بیعت حضرت ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے کی تھی ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان اور لوگوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں ‘ تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں انہیں توڑنا پڑے ‘ لیکن ایسا نہ ہو ‘ کہ آپ واپس اپنی قوم کی طرف تشریف لے جائیں اور ہم لوگوں سے معاہدے توڑ کر ان کے ساتھ جنگ کر چکے ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ ان کی بات پر ہنس پڑے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خون ‘ خون ہو گا اور ہدم ‘ ہدم ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان کی بات کا جو جواب دیا تھا ‘ جب حضرت ابوہیثم رضی اللہ عنہ اس بات سے راضی ہوئے ، تو وہ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے قوم ! یہ اللہ کے رسول ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ سچے ہیں ، آج یہ اللہ کے حرم میں اس کی امان میں ہیں ‘ اور اپنی قوم اور خاندان کے درمیان میں ہیں ، تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ اگر تم انہیں یہاں سے نکال کر لے گئے تو عرب تمہارے خلاف متحد ہو جائیں گے ‘ اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے حوالے سے مطمئن ہو ‘ اپنے اموال اور اولاد کے رخصت ہو جانے سے مطمئن ہو ‘ تو انہیں اپنے علاقے کی طرف آنے کی دعوت دے دو ‘ کیونکہ یہ اللہ کے حقیقی رسول ہیں ‘ اور اگر تمہیں رسوائی کا اندیشہ ہے ‘ تو پھر ابھی معذرت کر لو ‘ اس وقت ان لوگوں نے کہا : ہم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس چیز کو قبول کریں گے ‘ جو وہ ہمیں دیں گے اور ہم اپنا آپ ‘ آپ ﷺ کو دیتے ہیں ‘ یا رسول اللہ ! آپ ﷺ جو چاہیں وہ طے کر لیں ‘ اے ابوالہیثم ! ہمارے اور اللہ کے رسول کے درمیان سے ہٹ جاؤ ! ہم ان کی بیعت کریں گے ‘ تو حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سب سے پہلے بیعت کروں گا ، پھر باقی سب افراد نے بیعت کر لی ۔ پہاڑ کے سرے سے شیطان نے چیخ ماری اور کہا : اے قریش کے گروہ ! یہ خزرج اور اس قبیلے کے لوگ ‘ تم سے لڑائی کرنے کے لئے ’’ محمد ‘‘ کی بیعت کر رہے ہیں ‘ تو وہ لوگ اس بات پر پریشان اور خوف زدہ ہو گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ آواز تمہیں پریشانی کا شکار نہ کرے ‘ کیونکہ یہ اللہ کا دشمن ابلیس ہے ‘ جن لوگوں کے بارے میں تمہیں اندیشہ ہے ‘ ان میں سے کسی نے بھی اس کی بات نہیں سنی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ آپ نے بلند آواز میں شیطان کو پکار کر کہا : اے سانپ کے بچے ! یہ تمہارا عمل ہے ‘ میں عنقریب فارغ ہو کر تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9886

Majma al-Zawaid #9886

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: «وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْلِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا، قَالَ عُقْبَةُ: إِنِّي أَصْغَرُهُمْ سِنًّا، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَوْجِزُوا فِي الْخُطْبَةِ ; فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ "". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلْنَا لِرَبِّكَ وَسَلْنَا لِنَفْسِكَ، وَسَلْنَا لِأَصْحَابِكَ، وَأَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعَلَيْكَ؟ قَالَ: "" أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِرَبِّي أَنْ تُؤْمِنُوا بِهِ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا. وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِنَفْسِي: أَسْأَلُكُمْ أَنْ تُطِيعُونِي أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ. وَأَسْأَلُكُمْ لِي وَلِأَصْحَابِي: أَنْ تُوَاسُونَا فِي ذَاتِ أَيْدِيكُمْ، وَأَنْ تَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ. فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَلَكُمْ - عَلَى اللَّهِ - الْجَنَّةُ وَعَلَيَّ "". قَالَ: فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِ حَدِيثٍ مُرْسَلٍ يَأْتِي، وَفِيهِ مُجَالِدٌ أَيْضًا، وَلَمْ يَسُقْ لَفْظَهُ، وَذَكَرَهُ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ.

EnglishUnverified translation

Abu Masud, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, appointed us at the base of Aqaba on the day of sacrifice, while we were seventy men. Uqba said, I was the youngest. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came and said: > **"Be brief in speech, for I fear for you the disbelievers of Quraysh."** We said, O Messenger of Allah, stipulate for your Lord and yourself and your companions, and inform us what reward from Allah and from you is ours. He said: > **"As for what I ask for my Lord, that you believe in Him and associate nothing with Him. As for what I ask for myself, I ask that you obey me so I may guide you to righteousness. And I ask for myself and my companions that you console us from your wealth and protect us as you protect yourselves. If you do so, Paradise from Allah and from me is yours."** So we extended our hands and pledged him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عیدالاضحی کے دن ‘ عقبہ کی بنیاد کے پاس ‘ ہم سے ملنے کا وعدہ کیا ‘ ہم ستر افراد تھے ‘ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان سب سے کمسن تھا ‘ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم مختصر بات چیت کرنا ‘ کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے قریش کے کفار کا اندیشہ ہے ‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے ساتھ اپنے پروردگار کے لئے اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں طے کر لیں ‘ اور ہمیں یہ بتا دیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے ہمیں کیا اجر و ثواب ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کے حوالے سے یہ کہتا ہوں : تم اس پر ایمان لاؤ ‘ اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ‘ جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے تو میں تم سے کہتا ہوں کہ تم میری اطاعت کرنا میں سیدھے راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کروں گا ‘ اور میں اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں تم سے یہ کہتا ہوں : تم نے اپنی طرف سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور ہماری اسی طرح حفاظت کرنی ہے ، جس طرح اپنی حفاظت کرتے ہو تم لوگ ایسا کر لو گے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور میرے ذمہ یہ بات ہے کہ تمہیں جنت نصیب ہو گی ‘ راوی کہتے ہیں : تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور آپ کی بیعت کر لی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ امام احمد نے اسے ’’ مرسل ‘‘ روایت کی مانند نقل کیا ہے ‘ جو آگے چل کے آئے گی ‘ اس کی سند میں بھی ایک راوی مجالد ہے لیکن اس کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کیے ہیں ‘ انہوں نے اس کے بعد یہ روایت ذکر کی ہے ‘ اور وہ ( روایت ) ‘ یہ ( یعنی درجہ ذیل ) ہے ۔

9887

Majma al-Zawaid #9887

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «انْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ قَالَ: "" لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِلْ ; فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا ; وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ "". قَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ: سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ، ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: "" أَسْأَلُ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ "". قَالُوا: فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: "" لَكُمُ الْجَنَّةُ "". قَالُوا: فَلَكَ ذَلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بَعْدَهُ سَنَدًا إِلَى الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ بِنَحْوِ هَذَا قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا، وَفِيهِ مُجَالِدٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi, may Allah have mercy on him, narrated: The Prophet, peace and blessings be upon him, went with his uncle Al-Abbas to the seventy Ansar at Aqaba under the tree. He said: > **"Let your spokesman speak but not prolong, for the polytheists have eyes upon you, and if they learn of you they will expose you."** Their spokesman, Abu Umama, said, Ask, O Muhammad, for your Lord what you wish, then ask for yourself and your companions what you wish, then inform us what reward from Allah and from you is ours if we do so. He said: > **"I ask for my Lord that you worship Him and associate nothing with Him, and I ask for myself and my companions that you shelter us, aid us, and protect us as you protect yourselves."** They said, What is ours if we do so. He said: > **"Paradise is yours."** They said, Then it is settled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے اُن ستر افراد کی طرف تشریف لے گئے ‘ جو درخت کے نیچے عقبہ کے پاس موجود تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک شخص بات چیت کرے اور طویل کلام نہ کرے ‘ کیونکہ تمہارے خلاف مشرکین کے جاسوس ہو سکتے ہیں ‘ اگر انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا ، تو وہ تمہیں پریشان کریں گے ‘ تو ان میں سے ایک صاحب نے یعنی حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : اے حضرت محمد ! آپ اپنے پروردگار کے لئے جو چاہیں طے کر لیں اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں طے کر لیں ‘ اور پھر ہمیں یہ بتا دیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے کیا اجر و ثواب ملے گا اگر ہم ایسا کر لیں گے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کے حوالے سے تم سے یہ کہتا ہوں : تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ‘ اور اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے حوالے سے تم سے یہ کہتا ہوں : تم نے ہمیں پناہ دینی ہے ہماری مدد کرنی ہے اور ہماری حفاظت کرنی ہے ‘ ہر اس چیز کے حوالے سے ‘ جس طرح تم اپنے آپ کی حفاظت کرتے ہو ‘ ان لوگوں نے دریافت کیا : اگر ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں جنت ملے گی ‘ ان لوگوں نے کہا : تو پھر یہ بات طے ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام احمد نے اس کے بعد امام شعبی تک ایک سند نقل کی ہے ‘ جو حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہے ‘ پھر اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ ان میں سب سے کمسن تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ تو اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہو گی ۔

9888

Majma al-Zawaid #9888

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: مَا سَمِعَ الشَّيْبُ وَلَا الشُّبَّانُ خُطْبَةً مِثْلَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi, may Allah have mercy on him, said: Neither the old nor the young ever heard a sermon like it. This is an athar praising the address given at the Aqaba pledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : کسی بھی بوڑھے یا جوان نے اس کی مانند خطبہ نہیں سنا ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9889

Majma al-Zawaid #9889

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: «سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْعَقَبَةِ قَالَ: شَهِدَهَا سَبْعُونَ فَوَاثَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَبَّاسُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ أَخَذَ بِيَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Zubayr, may Allah have mercy on him, narrated: I asked Jabir, may Allah be pleased with him, about Aqaba. He said, Seventy witnessed it, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, made a covenant with them while Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib held his hand. Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"I have taken and given."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا کہ ستر افراد اس میں موجود تھے ‘ ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے لیا اور میں نے دیا ( یعنی یہ بات طے کر لی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9890

Majma al-Zawaid #9890

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النُّقَبَاءُ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ لَهُمْ: "" تُؤْوُونِي وَتَمْنَعُونِي "". قَالُوا: فَمَا لَنَا؟ قَالَ: "" لَكُمُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them, narrated: When the nuqaba of the Ansar met the Prophet, peace and blessings be upon him, he said to them: > **"You will shelter me and protect me."** They said, What is ours. He said: > **"Paradise is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے نقباء کی ملاقات ہوئی ‘ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم لوگ مجھے پناہ دو گے اور میری حفاظت کرو گئے ‘ انہوں نے عرض کی : ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تمہیں جنت ملے گی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9891

Majma al-Zawaid #9891

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ خَطَبَ مَقْدَمَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّا نَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا، وَأَوْلَادَنَا فَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَكُمُ الْجَنَّةُ "". قَالُوا: رَضِينَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, narrated: Thabit ibn Qays, may Allah be pleased with him, addressed upon the arrival of the Prophet, peace and blessings be upon him, saying, We shall protect you as we protect ourselves and our children. What is ours, O Messenger of Allah. He said: > **"Paradise is yours."** They said, We are pleased.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری پر خطبہ دیا اور یہ فرمایا : ہم آپ کی اُسی طرح حفاظت کریں گے ‘ جس طرح ہم اپنی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کی کرتے ہیں یا رسول اللہ ! ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں جنت ملے گی ‘ انہوں نے عرض کی : ہم اس سے راضی ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9892

Majma al-Zawaid #9892

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «حَمَلَنِي خَالِي جَدُّ بْنُ قَيْسٍ فِي السَّبْعِينَ رَاكِبًا الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قِبَلِ الْأَنْصَارِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: "" يَا عَمِّ، خُذْ عَلَى أَخْوَالِكَ "". فَقَالَ لَهُ السَّبْعُونَ: يَا مُحَمَّدُ، سَلْ لِرَبِّكَ وَلِنَفْسِكَ وَمَا شِئْتَ. فَقَالَ: "" أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي فَتَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ "". قَالُوا: فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: "" الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them, narrated: My uncle Jadd ibn Qays carried me among the seventy riders who came as a delegation from the Ansar to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, on the night of Aqaba. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came with his uncle Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib and said: > **"O uncle, take pledge upon my maternal relatives."** The seventy said, O Muhammad, stipulate for your Lord and yourself whatever you wish. He said: > **"What I ask for my Lord is that you worship Him and associate nothing with Him, and what I ask for myself is that you protect me as you protect yourselves."** They said, What is ours if we do so. He said: > **"Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ماموں حضرت جد بن قیس رضی اللہ عنہ نے مجھے ستر افراد کے ساتھ شامل کیا جو سوار ہو کر وفد کی شکل میں ‘ انصار کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بیعت عقبہ کی رات حاضر ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس آئے ‘ آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے چچا ! آپ اپنے ننھیالی رشتہ داروں سے عہد لے لیں ، ان ستر افراد نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے حضرت محمد ! آپ اپنے پروردگار کے حوالے سے ‘ اپنی ذات کے حوالے سے ‘ جو آپ چاہیں وہ طے کر لیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاں تک پروردگار کا تعلق ہے ‘ تو میں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ‘ جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے ‘ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں : تم ہر اس چیز کے حوالے سے میری حفاظت کرو ‘ جس کے حوالے سے تم اپنی حفاظت کرتے ہو ‘ ان لوگوں نے عرض کی : جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9893

Majma al-Zawaid #9893

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ، قَالَ جَابِرٌ: وَأَخْرَجَنِي خَالَايَ، وَأَنَا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرْمِيَ بِحَجَرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them, narrated: We were with the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, on the night of Aqaba. Jabir said, My two maternal uncles brought me out, while I was unable even to throw a stone, due to young age.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بیعت عقبہ کی رات ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے دو ماموں مجھے لے کر گئے تھے ‘ حالانکہ میں ایک پتھر بھی پھینکنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9894

Majma al-Zawaid #9894

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ عَبَّاسٌ: «وَاللَّهِ أَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَتَاهُ السَّبْعُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ الْعَقَبَةَ فَأَخَذَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِمْ وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ وَأَوَّلِهِ قَبْلَ أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ أَحَدٌ عَلَانِيَةً». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِ اللَّدُودِ الَّذِي رَوَتْهُ عَائِشَةُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Urwa, may Allah have mercy on him, narrated: Al-Abbas, may Allah be pleased with him, said, By Allah, he took the hand of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, when the seventy Ansar came to him at Aqaba, and he took for the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, pledges from them and stipulated conditions upon them. That was in the dawn of Islam and its beginning, before anyone worshipped Allah openly.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! جب ستر افراد ‘ جن کا تعلق انصار سے تھا ‘ وہ بیعت عقبہ کی رات آئے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا ‘ اور نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اُن کے ساتھ شرائط طے کیں اور یہ اسلام کے ابتدائی دور کی بات ہے ‘ اور اس سے پہلے کی بات ہے کہ کوئی اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے ‘ جسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9895

Majma al-Zawaid #9895

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ; «أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ تَدْرُونَ عَلَى مَا تُبَايِعُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ إِنَّكُمْ تُبَايِعُونَهُ أَنْ تُحَارِبُوا الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ، فَقَالُوا: نَحْنُ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْتَرِطْ، قَالَ: "" تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَالسَّمْعَ وَالطَّاعَةَ، وَأَنْ لَا تُنَازِعُوا الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ubada ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, narrated: Asad ibn Zurara, may Allah be pleased with him, said, O people, do you know upon what you pledge Muhammad, peace and blessings be upon him. You pledge him to wage war against Arabs and non-Arabs, jinn and men. They said, We are at war with whom he wars and at peace with whom he is at peace. They said, O Messenger of Allah, stipulate. He said: > **"You pledge me to testify there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah, to establish prayer, give zakat, hear and obey, not to dispute authority with its people, and to protect me as you protect yourselves and your families."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے لوگو ! کیا تم یہ جانتے ہو ؟ کہ تم کس چیز پر حضرت محمد ﷺ کی بیعت کر رہے ہو ؟ تم اس چیز پر ان کی بیعت کر رہے ہو کہ تم عربوں ‘ عجمیوں ‘ جنوں اور انسانوں کے ساتھ جنگ کرو گے اُن لوگوں نے کہا : یہ جس کے ساتھ جنگ کریں گے ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے یہ جس کے ساتھ سلامت رہیں گے ہم اس کے ساتھ سلامت رہیں گے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کوئی شرط طے کر دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اس بات کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ‘ تم نماز قائم کرو گے اور تم زکوۃ دو گے ‘ اطاعت اور فرمانبرداری کرو گے ‘ اور حکومت کے معاملے میں اس کے اہل افراد سے جھگڑا نہیں کرو گے ‘ اور میری ان چیزوں کے حوالے سے حفاظت کرو گے ‘ جن کے حوالے سے تم اپنے آپ کی ‘ اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرتے ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس راوی کی توثیق کی گئی ہے ۔

9896

Majma al-Zawaid #9896

وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «جَاءَتِ الْأَنْصَارُ تُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْعَقَبَةِ فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ قُمْ يَا عَلِيُّ فَبَايِعْهُمْ "". فَقَالَ: عَلَامَ أُبَايِعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" عَلَى أَنْ يُطَاعَ اللَّهُ وَلَا يُعْصَى، وَعَلَى أَنْ تَمْنَعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلَ بَيْتِهِ وَذُرِّيَّتَهُ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَذَرَارِيَّكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn Ali, may Allah be pleased with them, narrated: The Ansar came to pledge the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Aqaba, and he said: > **"O Ali, stand, O Ali, and pledge them."** He said, Upon what shall I pledge them, O Messenger of Allah. He said: > **"That Allah be obeyed and not disobeyed, and that you protect the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and his household and progeny as you protect yourselves and your offspring."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عقبہ کی رات ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں انصار بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! تم اُٹھو ‘ اے علی ! ان سے بیعت لے لو ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس چیز پر ان سے بیعت لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے گی ‘ اس کی نافرمانی نہیں کی جائے گی اور اس بات پر کہ تم لوگ اللہ کے رسول اور ان کے اہل بیت اور ان کی ذریت کی اسی طرح حفاظت کرو گے ‘ جس طرح تم اپنے آپ کی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ عبداللہ بن مروان نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

9897

Majma al-Zawaid #9897

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ تَعَالَى وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي، وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"I was sent before the Hour with the sword until Allah alone without partner is worshipped, my provision was placed under the shade of my spear, and humiliation and disgrace were placed upon whoever opposes my command."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مجھے قیامت سے پہلے تلوار کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ‘ تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے ‘ جس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے ‘ اور ذلت اور کمتر ہونا ‘ اُس شخص کا نصیب کر دیا گیا ‘ جو میرے معاملے کی مخالفت کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ‘ جسے علی بن مدینی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9898

Majma al-Zawaid #9898

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ حَضَرَ الْعَقَبَةَ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: أَوْسُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَوْسُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَصْرَمَ، وَأَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ وَهُوَ بِبِلَادِهِ، وَكَانَ نَقِيبًا. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: بَشِيرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ النُّعْمَانِ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: الْحَارِثُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَذَكْوَانُ بْنُ عَبَدِ الْقَيْسِ بْنِ خَلْدَةَ، وَرَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحُبُلِيِّ: رِفَاعَةُ بْنُ عَمْرٍو. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبٍ: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ نَقِيبٌ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ وَهُوَ نَقِيبٌ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: سَلَمَةُ بْنُ سَلَامَةِ بْنِ وَقْشٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ، وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ: ظَهِيرُ بْنُ رَافِعٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ: أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ. وَإِسْنَادُهَا إِلَى ابْنِ شِهَابٍ وَاحِدٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. رَوَاهَا كُلَّهَا الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, may Allah have mercy on him, named those who attended Aqaba: From the Ansar, then Bani al-Najjar: Aws ibn Thabit, Aws ibn Yazid ibn Asram, and Abu Umama Asad ibn Zurara. From Bani Salama: Al-Bara ibn Marur, the first to bequeath a third of his wealth and to face the Kaba in his land, and he was a naqib. From Bani al-Harith ibn Khazraj: Bashir ibn Sad ibn al-Numan. From the Ansar: Jabir ibn Abdillah ibn Amr, Jabbar ibn Sakhr. From Bani Zurayq: Al-Harith ibn Qays ibn Malik who witnessed Badr, Dhakwan ibn Abd al-Qays ibn Khalda, Rafi ibn Malik who witnessed Badr. From Bani Hubla: Rifaa ibn Amr. From Bani Saida ibn Kab: Sad ibn Ubada, a naqib. From Bani Amr ibn Awf: Sad ibn Khaythama, a naqib. From Bani Abd al-Ashhal: Salama ibn Salama ibn Waqsh. From Bani Salama: Kab ibn Malik. From Bani Haritha ibn al-Harith: Zahir ibn Rafi. From Bani Haritha: Abu Burda ibn Niyar. This is an athar listing names, with a single chain to Ibn Shihab whose men are trustworthy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے ‘ اُن حضرات کے نام بیان کیے ہیں ‘ جو بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے : انصار کی شاخ بنو نجار سے تعلق رکھنے والے افراد میں حضرت اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت اوس بن یزید بن اصرم رضی اللہ عنہ حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ‘ انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ جو پہلے فرد ہیں ، جنہوں نے اپنے تہائی مال کے بارے میں وصیت کی تھی اور اپنے علاقے میں رہتے ہوئے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی تھی ، یہ نقیب بھی تھے ‘ بنوحارث بن خزرج سے تعلق رکھنے والے افراد میں ‘ حضرت بشیر بن سعد بن نعمان رضی اللہ عنہ ‘ انصار میں سے حضرت جابر بن نعمان رضی اللہ عنہ حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حضرت جبار بن صخر رضی اللہ عنہ ‘ انصار کی شاخ بنو زریق میں سے حضرت حارث بن قیس بن مالک رضی اللہ عنہ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ‘ حضرت ذکوان بن عبد القیس بن خلدہ رضی اللہ عنہ حضرت رافع بن مالک رضی اللہ عنہ انہیں بھی غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ‘ انصار کی شاخ بنو حبلی میں سے حضرت رفاعہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ‘ انصار کی شاخ بنو ساعدہ بن عمرو میں سے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو نقیب تھے ‘ انصار کی شاخ بنوعمرو بن عوف میں سے ‘ حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ جو نقیب تھے ‘ انصار کی شاخ بنوعبداشہل میں سے حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقیش رضی اللہ عنہ ‘ انصار کی شاخ بنو سلمہ میں سے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ انصار کی شاخ بنو حارثہ بن حارث میں سے حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ ‘ انصار کی شاخ بنو حارثہ میں سے حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ شامل ہیں ۔ ابن شہاب تک اس روایت کی سند ایک ہی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ۔

9899

Majma al-Zawaid #9899

وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْعَقَبَةِ: مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جُشَمٍ: الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ وَهُوَ نَقِيبٌ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ: بَهِيرُ بْنُ الْهَيْثَمِ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: ثَابِتُ بْنُ أَجْدَعَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامِ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَنْمِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَلَمَةَ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: الْحَارِثُ بْنُ قَيْسِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ: زَيْدُ بْنُ لَبِيدٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي زُهَيْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ: سَهْلُ بْنُ عَتِيكٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةُ بْنُ الْحَارِثِ: ظَهِيرُ بْنُ رَافِعٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ: عَمْرُو بْنُ غَزِيَّةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ خَنْسَاءَ بْنِ مَبْذُولِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَازِنِ بْنِ بَعْكَكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيلَةَ بْنِ السَّبَّاقِ بْنِ عَبْدِ الدَّارِ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَقَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَسِيرِ بْنِ عُسَيْرَةَ وَيُكَنَّى أَبَا مَسْعُودٍ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: كَعْبُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي الْقَيْنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَوَادَةَ .. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بِسَنَدٍ وَاحِدٍ، وَفِي إِسْنَادِ عُرْوَةَ: ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ فِي حَدِّ الْحُسْنِ.

EnglishUnverified translation

Urwa, may Allah have mercy on him, named the companions of Aqaba who pledged the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him: From Bani Salama ibn Yazid ibn Jusham: Al-Bara ibn Marur ibn Sakhr ibn Khansa, a naqib, the first to bequeath a third and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, permitted it. From Bani Haritha: Bahir ibn al-Haytham. From the Ansar: Thabit ibn Ajda. From the Ansar: Jabir ibn Abdillah ibn Amr ibn Haram ibn Kab ibn Ghanm ibn Kab ibn Salama. From Bani Zurayq: Al-Harith ibn Qays ibn Makhlad who witnessed Badr. From Bani Bayada: Zayd ibn Labid. From Bani al-Harith ibn Khazraj: Sad ibn al-Rabi ibn Abi Zuhayr. From Bani al-Najjar: Sahl ibn Atik. From Bani Haritha: Zahir ibn Rafi. From Bani Mazin ibn al-Najjar: Amr ibn Ghaziya with extended lineage. From Bani al-Harith ibn Khazraj: Uqba ibn Amr ibn Thalaba, known as Abu Masud. From Bani Salama: Kab ibn Malik ibn Abi al-Qayn. This is an athar of names transmitted with one chain.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ نے ‘ بیعت عقبہ میں شرکت کرنے والے افراد کے نام بیان کیے ہیں ، جنہوں نے عقبہ کی رات نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی ‘ وہ بیان کرتے ہیں : انصار کی شاخ بنو سلمہ بن یزید بن جشم میں سے حضرت براء بن معرور بن صخر بن خنساء تھے جو نقیب تھے ‘ اور یہ وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے اپنے ایک تہائی مال کے بارے میں وصیت کی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے درست قرار دیا تھا ‘ انصار کی شاخ بنو حارثہ بن حارث میں سے حضرت بہیر بن ہیثم رضی اللہ عنہ انصار میں سے حضرت ثابت بن اجدع رضی اللہ عنہ انصار میں سے حضرت جابر بن عبدالله بن عمرو بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ تھے ‘ انصار کی شاخ بنو زریق میں سے حضرت حارث بن قیس بن مخلد تھے ‘ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ‘ انصار کی شاخ بنو بیاضہ میں سے حضرت زید بن لبید رضی اللہ عنہ تھے ‘ انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج میں سے حضرت سعد بن ربیع بن ابوزہیر بن مالک بن امراء القیس بن ثعلبہ بن خزرج تھے انصار کی شاخ بنو نجار میں سے حضرت سہل بن عتیک رضی اللہ عنہ تھے انصار کی شاخ بنو حارثہ بن حارث میں سے حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ تھے انصار کی شاخ بنو مازن بن نجار میں سے حضرت عمرو بن غزیہ بن ثعلبہ بن خنساء بن مبذول بن غنم بن معدن بن بعکک بن حارث بن عمیلہ بن سباق بن عبدالدار تھے ‘ انصار کی شاخ بنو حارث بن خزرج میں سے ‘ حضرت عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ بن اسیر بن عسیرہ تھے ‘ جن کی کنیت ابومسعود ہے ‘ انصار کی شاخ بنوسلمہ میں سے حضرت کعب بن مالک بن ابوالقین بن کعب بن سوادہ تھے ۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے عروہ کے حوالے سے ایک سند کے ساتھ نقل کی ہے اور عروہ کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن کی حد میں ہوتی ہے ۔

9900

Majma al-Zawaid #9900

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ; أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ كَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf, may Allah be pleased with him, narrated: Asad ibn Zurara, may Allah be pleased with him, was one of the nuqaba on the night of Aqaba. This is an athar report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ عقبہ کی رات ‘ نقباء میں سے ایک تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9901

Majma al-Zawaid #9901

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي الْحَجَّةِ الَّتِي بَايَعْنَا فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَالْعَقَبَةِ وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي زُرَيْقٍ رَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي سَاعِدَةَ سَعْدُ بْنُ عِبَادَةَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا وَاحِدٌ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Malik, may Allah be pleased with him, narrated: We set out in the Hajj in which we pledged the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Aqaba. The naqib of Bani Zurayq was Rafi ibn Malik ibn al-Ajlan, and the naqibs of Bani Saida were Sad ibn Ubada and Al-Mundhir ibn Amr, may Allah be pleased with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حج کے موقع پر ہم لوگ روانہ ہوئے جس کے دوران ہم نے نبی اکرم ﷺ کی عقبہ میں بیعت کی تھی بنوزریق کے نقیب حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ تھے اور بنو ساعدہ کے نقیب حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ‘ ان دونوں کی سند ایک ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

9902

Majma al-Zawaid #9902

عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «وَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ الْحَجِّ بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمِ وَصَفَرَ، ثُمَّ إِنَّ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَمَكْرَهُمْ حِينَ ظَنُّوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَارِجٌ، وَعَلِمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ مَأْوًى وَمِنْعَةً، وَبَلَغَهُمْ إِسْلَامُ الْأَنْصَارِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ عَلَى أَنْ يَأْخُذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ، وَإِمَّا أَنْ يَسْجِنُوهُ، أَوْ يَسْحَبُوهُ - شَكَّ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ - وَإِمَّا أَنْ يُخْرِجُوهُ، وَإِمَّا أَنْ يُوثِقُوهُ، فَأَخْبَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكْرِهِمْ فَقَالَ تَعَالَى: {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ} [الأنفال: 30] وَبَلَغَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي أَتَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ مُبَيِّتُوهُ إِذَا أَمْسَى عَلَى فِرَاشِهِ، وَخَرَجَ مِنْ تَحْتِ اللَّيْلِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قِبَلَ الْغَارِ بِثَوْرٍ، وَهُوَ الْغَارُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ، وَعَمَدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَرَقَدَ عَلَى فِرَاشِهِ يُوَارِي عَنْهُ الْعُيُونَ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ يَخْتَلِفُونَ وَيَأْتَمِرُونَ أَنْ نُجَثَّمَ عَلَى صَاحِبِ الْفِرَاشِ فَيُوثِقَهُ؟ فَكَانَ ذَلِكَ حَدِيثَهُمْ حَتَّى أَصْبَحُوا، فَإِذَا عَلِيٌّ يَقُومُ عَنِ الْفِرَاشِ فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ، فَعَلِمُوا عِنْدَ ذَلِكَ أَنَّهُ خَرَجَ، فَرَكِبُوا فِي كُلِّ وَجْهٍ يَطْلُبُونَهُ، وَبَعَثُوا إِلَى أَهْلِ الْمِيَاهِ يَأْمُرُونَهُمْ وَيَجْعَلُونَ لَهُمُ الْجَعْلَ الْعَظِيمَ، وَأَتَوْا عَلَى ثَوْرٍ الَّذِي فِيهِ الْغَارُ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى طَلَعُوا فَوْقَهُ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْوَاتَهَمْ فَأَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَقْبَلَ عَلَى الْهَمِّ وَالْخَوْفِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا "". وَدَعَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ سَكِينَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [التوبة: 40] وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ تَرُوحُ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ بِمَكَّةَ، فَأَرْسَلَ أَبُو بَكْرٍ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَمِينًا مُؤْتَمَنًا حَسَنَ الْإِسْلَامِ فَاسْتَأْجَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْأُرَيْقِطِ كَانَ حَلِيفًا لِقُرَيْشٍ فِي بَنِي سَهْمٍ مِنْ بَنِي الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَذَلِكَ يَوْمَئِذِ الْعَدَوِيُّ مُشْرِكٌ، وَهُوَ هَادٍ بِالطَّرِيقِ فَخَبَّأَ بَأَظْهُرِنَا تِلْكَ اللَّيَالِيَ، وَكَانَ يَأْتِيهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ يُمْسِي بِكُلِّ خَبَرٍ يَكُونُ فِي مَكَّةَ، وَيُرِيحُ عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ الْغَنَمَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَيَحْلِبَانِ وَيَذْبَحَانِ ثُمَّ يَسْرَحُ بُكْرَةً، فَيُصْبِحُ فِي رُعْيَانِ النَّاسِ، وَلَا يَفْطِنُ لَهُ، حَتَّى إِذَا هَدَأَتْ عَنْهُمُ الْأَصْوَاتُ وَأَتَاهُمَا أَنْ قَدْ سَكَتَ عَنْهُمَا جَاءَا صَاحِبَهُمَا بِبَعِيرَيْهِمَا، وَقَدْ مَكَثَا فِي الْغَارِ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ثُمَّ انْطَلَقَا وَانْطَلَقَا مَعَهُمَا بِعَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ يَحْدِيهِمَا وَيَخْدِمُهُمَا وَيُعِينُهُمَا يُرْدِفُهُ أَبُو بَكْرٍ، وَيُعْقِبُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرَ عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ، وَغَيْرَ أَخِي بَنِي عَدِيٍّ يَهْدِيهِمُ الطَّرِيقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Urwa, may Allah have mercy on him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, remained after Hajj the rest of Dhu al-Hijja, Muharram, and Safar. Then the polytheists of Quraysh resolved their affair and plot when they thought the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, would depart, and they learned Allah had made for him in Madina a refuge and protection, and news of the Ansars Islam and the Emigrants who went to them reached them. So they agreed to seize the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, either to kill him, imprison him, drag him, expel him, or bind him. Allah informed him of their plot, revealing, They plot against you to confine you or kill you or expel you, they plot and Allah plots, and Allah is the best of plotters. On the day this reached him, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came to Abu Bakr's house, and it reached them that they would attack him by night upon his bed. He left under cover of night with Abu Bakr toward the cave at Thawr, the cave mentioned in the Quran. Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, lay upon his bed to conceal him from eyes. The polytheists spent the night debating whether to fall upon the sleeper and bind him, until morning, when Ali rose from the bed. They asked him about the Prophet, peace and blessings be upon him, and he said he had no knowledge of him. Then they knew he had left, so they rode in every direction seeking him, sent to the watering places promising great reward, and came to Thawr where the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and Abu Bakr were. Abu Bakr feared, and the Prophet, peace and blessings be upon him, said: > **"Grieve not, indeed Allah is with us."** Allah diverted them. They remained three nights, with Abdullah ibn Abi Bakr bringing news at night and Amir ibn Fuhayra grazing sheep to erase tracks. Then the guide Abdullah ibn Urayqit brought two mounts, and they set out along the coast, while Suraqa ibn Malik pursued for the bounty but his horse stumbled, so he sought amnesty and returned, diverting seekers. They continued until Quba.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حج کے بعد ‘ ذوالحج کے مہینے میں ‘ محرم کے مہینے میں اور صفر کے مہینے میں ٹھہرے رہے پھر قریش کے مشرکین نے ‘ اس بات کو طے کیا اور یہ تدبیر کی ‘ جب انہیں یہ پتہ چلا کہ نبی اکرم ﷺ یہاں سے نکل جائیں گے اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مدینہ منورہ کو پناہ گاہ اور حفاظت کا ذریعہ بنا دیا ہے ان لوگوں کو انصار کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع بھی مل گئی ‘ جو مہاجرین اس طرف گئے تھے ‘ اس کا بھی پتہ چل گیا تو ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو پکڑ لیں گے پھر یا وہ آپ کو شہید کر دیں گے یا آپ کو قید کر دیں گے یا پابند سلاسل کر دیں گے ‘ یہ شک عمرو بن خالد نامی راوی کو ہے ‘ یا یہ ہے کہ وہ آپ کو نکلنے پر مجبور کر دیں گے ‘ یا آپ کو باندھ دیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتا دیا ‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور جب کافر لوگ تمہارے خلاف سازشیں کر رہے تھے ‘ کہ وہ تمہیں قید کریں یا تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں ( تمہارے آبائی وطن سے ) نکال دیں ‘ وہ منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ( اپنی خفیہ ) تدبیر کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر ( خفیہ ) تدبیر کرنے والا ہے ‘‘ جس دن آپ ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ اس دن نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ‘ ان لوگوں نے شام ایسے ہی گزاری ‘ پھر رات کے وقت نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار ثور کی طرف چلے گئے ‘ یہ وہ غار ہے ‘ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ‘ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کے بستر پر سو گئے اور وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے ‘ قریش کے مشرکین نے آپس کے اختلاف کے دوران اور باہمی اختلاف کے دوران رات بسر کر دی کہ کیا ہم بستر پر سوئے شخص پر حملہ کر کے انہیں باندھ دیں ؟ ان کی اسی بات چیت کے دوران صبح ہو گئی ‘ صبح کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اس بستر سے اٹھے ‘ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہیں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہے ‘ اس وقت کفار کو پتہ چل گیا کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے جا چکے ہیں ، تو وہ آپ کی تلاش میں سوار ہو کر ہر سمت میں روانہ ہوئے انہوں نے مختلف پانیوں کے ( پاس مقیم ) افراد کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں یہ کہا : انہیں اس بات کا بڑا انعام دیا جائے گا ( کہ اگر وہ نبی اکرم ﷺ کو پکڑوا دیں ) وہ لوگ غار ثور کے پاس بھی آئے ‘ جس میں نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اوپر کی طرف نظر بھی آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کی آوازیں بھی سن لیں ‘ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پریشان ہو گئے اور وہ خوف کا شکار ہو گئے ‘ اس وقت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم غمگین نہ ہو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : تو آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوئی ( جس کا ذکر قرآن میں ‘ ان الفاظ میں ہے : ) ’’ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور اہل ایمان پر اپنی سکینت نازل کی اور اس نے ایسے لشکر نازل کیے ‘ جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو ‘ اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ‘ ان کے کلمے کو اللہ تعالیٰ نے نیچا کر دیا ‘ اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی بلند ہے اور اللہ تعالیٰ غلبے والا اور حکمت والا ہے ‘‘۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام عامر بن فہیرہ کو ‘ جو ایک امین اور قابل اعتماد اور اچھے اسلام والا شخص تھا ‘ اسے بھیجا ‘ تاکہ بنو عبد بن عدی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جس کا نام ابن اریقط تھا ‘ اسے معاوضے پر رکھ لے ‘ یہ شخص قریش کا حلیف تھا اور بنو سہم سے تعلق رکھتا تھا ، جو بنو عاص بن وائل کی ذیلی شاخ ہے ‘ اس وقت وہ عدوی شخص مشرک تھا ، لیکن وہ راستے کے بارے میں جانتا تھا ، انہوں نے ان راتوں میں خود کو چھپا کے رکھا ، عبداللہ بن ابوبکر شام کے وقت ساری اطلاعات ‘ جو مکہ میں ہوتی تھیں ‘ وہ لے کر اُن دونوں کے پاس آ جاتے تھے اور عامر بن ربیعہ بھی شام کے وقت بکریاں لے کے آ جاتے تھے ‘ ہر رات میں ایسا ہوتا تھا ‘ وہ ان کا دودھ دوہتے تھے اور انہیں ذبح کرتے تھے اور پھر صبح کے وقت چلے جاتے تھے اور لوگوں کے چرواہوں کے ساتھ ہوتے تھے اس لئے ان کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ‘ یہاں تک کہ جب آوازیں ان لوگوں کے حوالے سے کم ہو گئیں ‘ اور ان دونوں کو پتہ چل گیا کہ اب معاملہ ٹھنڈا ہو گیا ہے ‘ تو ان کا متعلقہ فرد ان کے دونوں اونٹ لے آیا ‘ یہ دونوں حضرات غار میں ‘ دو دن اور دو راتوں تک ٹھہرے رہے اور پھر یہ روانہ ہوئے ‘ ان دونوں کے ساتھ عامر بن فہیرہ بھی روانہ ہوئے ‘ جو ان کے لئے حدی گاتے تھے ان کی خدمت کرتے تھے ان کی مدد کرتے تھے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں اپنی سواری پر پیچھے بٹھاتے تھے ‘ ان حضرات کے ساتھ ایک عامر بن فہیرہ تھے اور ایک بنوعدی سے تعلق رکھنے والا وہ شخص تھا ‘ جو انہیں راستہ بتا رہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

9903

Majma al-Zawaid #9903

«وَعَنْ مَارِيَةَ قَالَتْ: طَأْطَأْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَعِدَ حَائِطًا لَيْلَةَ فَرَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Mariya, may Allah be pleased with her, narrated: I lowered myself for the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, until he climbed a wall, on the night he fled from the polytheists.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ماریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے دھیان رکھا ‘ یہاں تک کہ آپ دیوار پر چڑھ گئے ‘ یہ اس رات کی بات ہے ‘ جب آپ مشرکین سے بچ کر نکلے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9904

Majma al-Zawaid #9904

وَعَنْ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ: أَدْرَكْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَالْمُغَيَّرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُونَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ بَاتَ فِي الْغَارِ أَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَجَرَةً فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ الْغَارِ، فَسَتَرَتْ وَجْهَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ عَلَى وَجْهِ الْغَارِ. وَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَفَتَا بِفَمِ الْغَارِ. وَأَتَى الْمُشْرِكُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ حَتَّى كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَدْرِ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا مَعَهُمْ قِسِيِّهِمْ وَعِصِيِّهِمْ، وَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ فَرَأَى الْحَمَامَتَيْنِ، فَرَجَعَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: لَيْسَ فِي الْغَارِ شَيْءٌ رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ عَلَى فَمِ الْغَارِ، فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلَهُ فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ دَرَأَ بِهِمَا عَنْهُ، فَسَمَّتَ عَلَيْهِمَا، وَفَرَضَ جَزَاءَهُمَا، وَاتَّخَذَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرْخَيْنِ، أَحْسَبُهُ قَالَ: فَأَصْلُ كُلِّ حَمَامٍ فِي الْحَرَمِ مِنْ فِرَاخِهِمَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Musab al-Makki reported: I met Zayd ibn Arqam, Al-Mughira ibn Shuba, and Anas ibn Malik, may Allah be pleased with them, narrating that on the night the Prophet, peace and blessings be upon him, spent in the cave, Allah commanded a tree which grew before the cave and screened the Prophet, peace and blessings be upon him. Allah commanded a spider which wove over the cave mouth. Allah commanded two wild doves which perched at the cave entrance. The polytheists came from every pass until they were forty cubits from the Prophet, peace and blessings be upon him, with bows and staffs. One advanced, saw the two doves, returned and said to his companions, There is nothing in the cave, I saw two doves at its mouth, so I knew no one is inside. The Prophet, peace and blessings be upon him, heard his words and knew Allah had repelled them by the two doves, so he blessed them, prescribed their recompense, and kept two chicks in Allah's sanctuary. I think he said, The origin of every dove in the sanctuary is from their chicks.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومصعب مکی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ‘ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو پایا ‘ وہ حضرات بات چیت کر رہے تھے کہ جو رات نبی اکرم ﷺ نے غار میں گزاری تھی ‘ اُس رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا ‘ اس نے غار کے منہ پر پودا پیدا کر دیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کو چھپا لیا ‘ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا ‘ اس نے غار کے منہ پر جالا بن دیا ‘ اللہ تعالیٰ نے دو جنگلی کبوتریوں کو حکم دیا ‘ تو وہ غار کے منہ پر آ کر بیٹھ گئیں ‘ مشرکین ہر طرف سے آئے ‘ یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم ﷺ کے اتنے قریب ہو گئے جتنا چالیس گز کا فاصلہ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے پاس ان کی کمانیں اور لاٹھیاں تھیں ‘ تو ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اس نے دو کبوتریوں کو دیکھا تو واپس گیا اور اپنے ساتھیوں سے بولا : غار میں کوئی چیز نہیں ہو گی ‘ کیونکہ میں نے غار کے منہ پر دو کبوتریوں کو دیکھا ہے جس سے مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ اندر کوئی نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کی بات سنی ‘ تو آپ کو یہ بات پتہ چل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حضرات سے مشرکین کو پرے کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اُن کبوتریوں کا خیال رکھا اور ان کی جزا مقرر کی اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں اُن کے دو بچے رکھے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ حرم کے تمام کبوتروں کی نسل انہی دو بچوں سے چلی ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ان کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9905

Majma al-Zawaid #9905

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا بِمَكَّةَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ مِنْ ذَلِكَ جَاءَنَا فِي الظَّهِيرَةِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَتِ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا أَمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ؟ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالصَّحَابَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الصَّحَابَةُ "". قَالَ: إِنَّ عِنْدِي رَاحِلَتَيْنِ قَدْ عَلَفْتُهُمَا مُنْذُ كَذَا وَكَذَا انْتِظَارًا لِهَذَا الْيَوْمِ فَخُذْ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَ: "" بِثَمَنِهَا يَا أَبَا بَكْرٍ ""، فَقَالَ: بِثَمَنِهَا بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ، قَالَتْ: فَهَيَّأْنَا لَهُمْ سُفْرَةً، ثُمَّ قَطَعَتْ نِطَاقَهَا فَرَبَطَتْهَا بِبَعْضِهِ، فَخَرَجَا فَمَكَثَا فِي الْغَارِ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَيْهِ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الْغَارَ قَبْلَهُ فَلَمْ يَتْرُكْ فِيهِ حَجَرًا إِلَّا أَدْخَلَ فِيهِ إِصْبَعَهُ ; مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَامَةٌ، وَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ حِينَ فَقَدُوهُمَا فِي بِغَائِهِمَا، وَجَعَلُوا فِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ نَاقَةٍ، وَخَرَجُوا يَطُوفُونَ فِي جِبَالِ مَكَّةَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْجَبَلِ الَّذِي هُمَا فِيهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِرَجُلٍ [يَرَاهُ] مُوَاجِهٍ الْغَارَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيَرَانَا، فَقَالَ: "" كَلَّا إِنَّ مَلَائِكَةً تَسْتُرُنَا بِأَجْنِحَتِهَا "". فَجَلَسَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَبَالَ مُوَاجِهَ الْغَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ يَرَانَا مَا فَعَلَ هَذَا "". فَمَكَثَا ثَلَاثَ لَيَالٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ غَنَمًا لِأَبِي بَكْرٍ وَيُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ مَعَ الرُّعَاةِ فِي مَرَاعِيهَا، وَيَرُوحُ مَعَهُمْ وَيُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ حَتَّى إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ انْصَرَفَ بِغَنَمِهِ إِلَيْهِمَا، فَتَظُنُّ الرُّعَاةُ أَنَّهُ مَعَهُمْ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ يَظَلُّ بِمَكَّةَ يَتَطَلَّبُ الْأَخْبَارَ ثُمَّ يَأْتِيهِمَا إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ فَيُخْبِرُهُمَا، ثُمَّ يُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ بِمَكَّةَ يَتَطَلَّبُ الْأَخْبَارَ، ثُمَّ يَأْتِيهِمَا إِذَا أَظْلَمَ اللَّيْلُ فَيُخْبِرُهُمَا، ثُمَّ يُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا فَيُصْبِحُ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، ثُمَّ خَرَجَا مِنَ الْغَارِ فَأَخَذَا عَلَى السَّاحِلِ، فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسِيرُ أَمَامَهُ، فَإِذَا خَشِيَ أَنْ يُؤْتَى مِنْ خَلْفِهِ سَارَ خَلْفَهُ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ مَسِيرَهُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مَعْرُوفًا فِي النَّاسِ، فَإِذَا لَقِيَهُ لَاقٍ، فَيَقُولُ لِأَبِي بَكْرٍ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ فَيَقُولُ: هَادٍ يَهْدِينِي، يُرِيدُ الْهُدَى فِي الدِّينِ، وَيَحْسَبُ الْآخَرُ دَلِيلًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِأَبْيَاتِ قُدَيْدٍ وَكَانَ عَلَى طَرِيقِهِمَا [عَلَى السَّاحِلِ] جَاءَ إِنْسَانٌ إِلَى [مَجْلِسِ] بَنِي مُدْلِجٍ، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَاكِبَيْنِ نَحْوَ السَّاحِلِ، فَإِنِّي لَأَجِدُهُمَا لَصَاحِبَ قُرَيْشٍ الَّذِي تَبْغُونَ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: ذَانِكَ رَاكِبَيْنِ مِمَّنْ بَعَثْنَا فِي طَلَبِةِ الْقَوْمَ، ثُمَّ دَعَا جَارِيَتَهُ فَسَارَّهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِهِ وَتَحُطَّ رُمْحَهُ وَلَا تَنْصِبَهُ حَتَّى يَأْتَيَهُ فِي قَرَارَهِ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يَجِيئَهَا، فَرَكَبَ فَرَسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فِي آثَارِهِمَا، قَالَ سُرَاقَةُ: فَدَنَوْتُ مِنْهُمَا حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَكَضَتِ الْفَرَسُ فَوَقَعَتْ بِمِنْخَرَيْهَا، فَأَخْرَجْتُ قِدَاحِي مِنْ كِنَانَتِي، فَضَرَبْتُ بِهَا أَضُرُّهُ أَمْ لَا أَضُرُّهُ؟ فَخَرَجَ لَا تَضُرُّهُ، فَأَبَتْ نَفْسِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ خَشْيَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِثْلُ مَا أَصَابَنِي نَادَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَرَى سَيَكُونُ لَكَ شَأْنٌ، فَقِفْ أُكَلِّمُكَ. فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ أَمَانًا، فَأَمَرَ أَنْ يَكْتُبَ فَكَتَبَ لَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَأَخْرَجْتُهُ وَنَادَيْتُ: أَنَا سُرَاقَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَوْمُ وَفَاءٍ ""، قَالَ سُرَاقَةُ: فَمَا شُبِّهَتْ سَاقُهُ فِي غَرْزِهِ إِلَّا بِجِمَارٍ. فَذَكَرْتُ شَيْئًا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ذَا نَعَمٍ، وَإِنَّ الْحِيَاضَ تُمْلَأُ مِنَ الْمَاءِ، فَنَشْرَبُ فَيَفْضُلُ مِنَ الْمَاءِ فِي الْحِيَاضِ، فَيَرِدُ الْهَمَلُ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ، فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ» "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ عَنْ سُرَاقَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them, narrated: The Prophet, peace and blessings be upon him, used to come to us at Mecca twice daily. One day he came at noon. I said, O father, this is the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. May my father and mother be ransom, he has come only for some matter. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Have you felt that Allah has permitted me to depart."** Abu Bakr said, Companionship, O Messenger of Allah. He said: > **"Companionship."** Abu Bakr said, I have two mounts which I have fed for such and such time awaiting this day, so take one. He said: > **"For its price, O Abu Bakr."** He said, For its price, may my father and mother be ransom, if you wish. So we prepared provisions, and I cut my waist-band and tied part of it. They left and stayed in the cave at Mount Thawr. When they reached it, Abu Bakr entered before him and blocked every hole with his fingers fearing vermin. Quraysh, missing them, offered a hundred she-camels for the Prophet, peace and blessings be upon him, and searched the mountains until they reached the mountain. Abu Bakr saw a man facing the cave and said, O Messenger of Allah, he sees us. He said: > **"No, angels screen us with their wings."** The man sat and urinated facing the cave. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Had he seen us, he would not have done this."** They stayed three nights, while Amir ibn Fuhayra, freedman of Abu Bakr, brought Abu Bakr's sheep in the evening and left before dawn with the shepherds, returning at night. Abdullah ibn Abi Bakr brought Meccan news each night. After three nights their guide Abdullah ibn Urayqit brought the mounts, Asma brought provisions, and they set out by the lower route toward Madina, pursued by Suraqa, whose horse sank until he sought writing of amnesty, which Amir wrote for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ میں روزانہ دو مرتبہ ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ‘ جب وہ دن آیا ( جب آپ نے ہجرت کے لئے نکلنا تھا ) تو آپ دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لے آئے ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے ماں باپ اُن پر قربان ہوں ‘ اس وقت وہ کسی ضروری معاملے کی وجہ سے ہی تشریف لائے ہوں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے نکلنے کی اجازت دے دی ہے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ساتھ چلوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھی ساتھ چلو گے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں ‘ جنہیں میں اتنے ‘ اتنے عرصے سے اس دن کے انتظار میں چارہ کھلا رہا ہوں ، آپ ان دونوں میں سے ایک کو لے لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اس کی قیمت کے عوض میں ہو گا ‘ انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں قیمت کے عوض میں لے لیں ‘ اگر آپ چاہیں ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے ان لوگوں کے لئے سامان سفر تیار کیا ، میں نے اپنے کمر بند کو کاٹ کر اس کا کچھ حصہ باندھ دیا ، پھر یہ دونوں حضرات نکلے اور جبل ثور میں موجود غار میں ٹھہرے رہے ۔ جب یہ حضرات اس غار کے پاس پہنچے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے پہلے غار میں داخل ہوئے ‘ انہوں نے غار میں موجود ہر بل کو بند کر دیا ‘ اس اندیشے کے تحت ‘ کہ کہیں اس میں سے کوئی نقصان دینے والی چیز نہ نکل آئے ‘ جب قریش نے ان دونوں حضرات کو غیر موجود پایا ‘ تو وہ ان دونوں کی تلاش میں نکلے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے ایک سو اونٹنیوں کا انعام مقرر کر دیا ۔ وہ لوگ نکلے اور مکہ کے مختلف پہاڑوں کے چکر لگاتے رہے ‘ یہاں تک کہ اس پہاڑ کے پاس پہنچ گئے ، جس میں یہ دونوں حضرات موجود تھے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس غار کی طرف آتے ہوئے دیکھا ‘ تو عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمیں دیکھ لے گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں ! فرشتوں نے اپنے پروں کے ذریعے ہمیں چھپایا ہوا ہے ‘ پھر وہ شخص بیٹھا اور غار کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر یہ ہمیں دیکھ لیتا ‘ تو یہ ایسا نہ کرتا ، یہ حضرات تین دن تک وہاں ٹھہرے رہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بکریاں لے کر شام کے وقت ان کے پاس چلے جاتے تھے ‘ وہ رات ان کے پاس ٹھہرتے تھے ‘ پھر اگلی صبح دوسرے چرواہوں کے ساتھ چراگاہ میں آ جاتے تھے ‘ وہ ان کے ساتھ چلتے تھے ‘ لیکن چلنے میں آہستگی سے چلتے تھے ‘ یہاں تک کہ جب رات زیادہ تاریک ہو جاتی ‘ تو وہ اپنی بکریاں لے کر ان دونوں کے پاس آ جاتے تھے ‘ چرواہے یہ سمجھتے تھے ‘ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہیں ‘ اسی طرح حضرت عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہ مکہ میں رہتے تھے ‘ اور اطلاعات حاصل کرتے رہتے تھے پھر جب رات تاریک ہو جاتی تھی ، تو ان کے پاس آ کر انہیں اس بارے میں بتا دیتے تھے ‘ پھر وہ رات اُن کے پاس رہتے تھے اور اگلے دن صبح کے وقت مکہ میں موجود ہوتے تھے ‘ یوں جیسے رات وہیں بسر کی ہے ۔ پھر یہ دونوں صاحبان ‘ غار سے نکلے اور ساحل کے راستے پر چل پڑے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی نبی اکرم ﷺ کے آگے چلتے تھے ‘ جب انہیں اندیشہ ہوتا تھا کہ پیچھے سے کوئی نہ آ جائے ‘ تو وہ آپ کے پیچھے چلنے لگتے تھے ‘ وہ اسی طرح سفر کرتے رہے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے ‘ جو لوگوں کے درمیان معروف تھے ( یعنی لوگ انہیں پہچانتے تھے ) جب کوئی شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملتا ‘ تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہتا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ تو وہ جواب دیتے تھے یہ ہدایت دینے والے ہیں ‘ جو مجھے ہدایت دیتے ہیں ( یعنی راہ دکھانے والے ہیں ، جو مجھے راہ دکھاتے ہیں ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد دین سے متعلق ہدایت ہوتی تھی اور دوسرا شخص یہ سمجھتا تھا کہ شاید راستے کے بارے میں رہنمائی کرنے والا فرد مراد ہے ‘ یہاں تک کہ جب یہ لوگ قدید کی آبادی کے پاس موجود تھے اور ساحل کے راستے پر تھے ، تو اس دوران بنومدلج کی محفل میں ایک شخص آیا اور بولا : میں نے دو سواروں کو ساحل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ وہی فرد ہے ‘ جس کو تم تلاش کر رہے ہو ‘ تو سراقہ بن مالک نے کہا : وہ دو ایسے سوار ہیں ، جنہیں ہم نے اُن لوگوں کی تلاش میں بھیجا ہوا ہے ، پھر اس نے اپنی کنیز کو بلایا اور پست آواز میں اسے یہ ہدایت کی کہ وہ اُس کے گھوڑے کو اور اس کا نیزہ لے کر نکلے ‘ اور فلاں ‘ فلاں جگہ پر پہنچ جائے ‘ پھر وہ اس کنیز کے پاس آیا اور گھوڑے پر سوار ہوا ‘ اور پھر اُن دونوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ سراقہ کہتے ہیں : میں ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ گیا ، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی تلاوت کی آواز سنی تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور وہ نتھنوں کے بل گر گیا ، میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعے حساب لگایا کہ میں انہیں نقصان پہنچا پاؤں گا یا نقصان پہنچا نہیں پاؤں گا ؟ تو یہ نتیجہ نکلا کہ تم انہیں نقصان نہیں پہنچا پاؤ گئے ‘ تو میں نے یہ بات نہیں مانی یہاں تک کہ پھر میں جب ان کے اتنا قریب ہوا اور مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ مجھے پہلے کی سی صورت حال دوبارہ لاحق ہو گی تو میں نے انہیں پکار کر یہ کہا : میں یہ سجھتا ہوں کہ عنقریب آپ کی شان ظاہر ہو گی ‘ آپ ٹھہر جائیں ! تاکہ میں آپ کے ساتھ بات چیت کر لوں نبی اکرم ﷺ ٹھہر گئے ‘ سراقہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کی کہ آپ اس کے لئے امان لکھوا دیں ، نبی اکرم ﷺ نے لکھنے کا حکم دیا ‘ وہ اس کے لئے لکھ دی گئی ‘ حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب غزوہ حنین کا موقع آیا ‘ تو میں نے اس تحریر کو نکالا اور بلند آواز میں کہا : میں سراقہ ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج عہد پورا کرنے کا دن ہے ‘ حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رکاب میں موجود آپ کی پنڈلی جمار ( کھجور کے درخت کا گوند ) کی مانند محسوس ہوتی تھی ‘ پھر مجھے ایک چیز یاد آئی ‘ جس کے بارے میں ‘ میں نے آپ سے دریافت کرنا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک نعمتوں والا شخص ہوں ، حوض پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ، ہم پانی لیتے ہیں ‘ پھر بھی حوض میں پانی بچ جاتا ہے ‘ پھر کوئی کھلا ( جانور یا پرندہ ) آ جاتا ہے ، تو کیا اُس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ہر جاندار کو نفع پہنچانے کا اجر ملتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ‘ اس روایت کا آخری حصہ ‘ حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9906

Majma al-Zawaid #9906

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى اسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَوْرَتِهِ يَبُولُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ الرَّجُلُ يَرَانَا؟ قَالَ: "" لَوْ رَآنَا لَمْ يَسْتَقْبِلْنَا بِعَوْرَتِهِ "". يَعْنِي وَهُوَ بِالْغَارِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, narrated: A polytheist came and faced the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, urinating with his private part exposed, while we were in the cave. I said, O Messenger of Allah, does the man not see us. He said: > **"Had he seen us, he would not have faced us with his private part."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کی طرف رخ کر کے شرمگاہ کھول کے پیشاب کرنا شروع کر دیا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ شخص ہمیں نہیں دیکھ رہا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر یہ شخص ہمیں دیکھ رہا ہوتا ‘ تو شرمگاہ کھول کر ہماری طرف رُخ نہ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی یہ اُس وقت کی بات ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ غار میں موجود تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

9907

Majma al-Zawaid #9907

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرَيْنِ، فَدَخَلَا فِي الْغَارِ فِإِذَا فِي الْغَارِ جُحْرٍ فَأَلْقَمَهُ أَبُو بَكْرٍ عَقِبَهُ حَتَّى أَصْبَحَ مَخَافَةَ أَنْ يَخْرُجَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ شَيْءٌ، فَأَقَامَا فِي الْغَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ ثُمَّ خَرَجَا حَتَّى نَزَلَا بِخَيْمَاتِ أُمِّ مَعْبَدٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ مَعْبَدٍ إِنِّي أَرَى وُجُوهًا حِسَانًا، وَإِنَّ الْحَيَّ أَقْوَى عَلَى كَرَامَتِكُمْ مِنِّي، فَلَمَّا أَمْسَوْا عِنْدَهَا بَعَثَتْ مَعَ ابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ بِشَفْرَةٍ وُشَاةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْدُدِ الشَّفْرَةَ وَهَاتِ لِي فَرَقًا "" - يَعْنِي الْقَدَحَ - فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ لَا لَبَنَ فِيهَا وَلَا وَلَدَ قَالَ: "" هَاتِ لِي فَرَقًا "". فَجَاءَتْهُ بِفَرَقٍ فَضَرَبَ ظَهْرَهَا فَاجْتَرَّتْ وَدَرَّتْ، فَحَلَبَ فَمَلَأَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أُمِّ مَعْبَدٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and Abu Bakr emigrated and entered the cave, there was a burrow, so Abu Bakr placed his heel over it until morning fearing something might emerge against the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. They stayed three nights, then departed until they stopped at the tents of Umm Mabad. She sent word, I see handsome faces, and the tribe is more able to honor you than I. When evening came she sent with a small son a knife and a ewe. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Return the knife and bring me a vessel."** Meaning a cup. She sent that there is no milk nor offspring in her. He said: > **"Bring me a vessel."** She brought a vessel, he stroked its back, it spread its legs and yielded milk. He milked, filled the cup, drank, gave Abu Bakr to drink, and sent some to Umm Mabad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم ﷺ ہجرت کے لئے روانہ ہوئے ‘ تو یہ دونوں غار میں تشریف لے گئے ‘ غار میں ایک بل تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صبح ہونے تک اپنی ایڑی اس کے منہ پر رکھی ‘ اس اندیشے کے تحت کہ اس میں سے کوئی چیز نکل کر نبی اکرم ﷺ کو ( تکلیف نہ پہنچائے ) یہ دونوں حضرات تین دن تک غار میں مقیم رہے ‘ پھر یہ وہاں سے نکلے اور انہوں نے ام معبد کے خیموں میں پڑاؤ کیا ‘ ام معبد نے ( اپنے شوہر کو ) پیغام بھیجا کہ میں نے خوبصورت چہرے دیکھے ہیں اور قبیلے کے لوگ میرے مقابلے میں آپ کی مہمان نوازی کے زیادہ قابل ہیں ، جب ان حضرات نے ام معبد کے ہاں شام کی ‘ تو ام معبد نے اپنے کمسن بیٹے کے ہمراہ ایک چھری اور ایک بکری بھجوائی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چھری واپس بھجوا دو اور میرے پاس پیالہ لے آؤ ! ام معبد نے پیغام بھیجا کہ اس بکری میں نہ دودھ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی بچہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس پیالہ لے کر آؤ ! تو وہ خاتون ایک پیالہ لے آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس بکری کی پشت پر ہاتھ پھیرا ‘ تو اس نے اپنی ٹانگیں کھولیں اور دودھ دینا شروع کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دودھ دوہ لیا اور پیالہ بھر لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے خود بھی پیا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلوایا اور وہ دودھ ام معبد کو بھی بھجوایا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9908

Majma al-Zawaid #9908

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُجْرٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِحِذْوَاتٍ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَهَرْشَا وَهُمَا عَلَى جَمَلٍ وَاحِدٍ، وَهُمَا مُتَوَجِّهَانِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَهُمَا عَلَى فَحْلِ إِبِلِهِ ابْنُ الرِّدَاءِ، فَبَعَثَ مَعَهُمَا غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ، فَقَالَ: اسْلُكْ بِهِمَا حَيْثُ تَعْلَمُ مِنْ مَحَارِمِ الطَّرِيقِ، وَلَا تُفَارِقْهُمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَاجَتَهُمَا مِنْكَ وَمِنْ جَمَلِكَ، فَسَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الزَّمْحَا، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْكُويَةِ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُرَّةَ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِهِمَا مِنْ شُعْبَةٍ ذَاتِ كَشْطٍ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْمُدْلَجَةَ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْغَسَّانَةَ، ثُمَّ سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْمُرَّةَ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا الْمَدِينَةَ، وَقَدْ قَضَيَا حَاجَتَهُمَا مِنْهُ وَمِنْ حَمْلِهِ، ثُمَّ رَجَّعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْعُودًا إِلَى سَيِّدِهِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَكَانَ مُغَفَّلًا لَا يَسِمِ الْإِبِلَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْمُرَ أَوْسًا أَنْ يَسِمَهَا فِي أَعْنَاقِهَا قَيْدَ الْفَرَسِ». قَالَ صَخْرُ بْنُ مَالِكٍ: وَهُوَ وَاللَّهِ يَسِمُهَا الْيَوْمَ، وَقَيَّدَ الْفَرَسَ فِيمَا أَرَى حَلَقَ حَلَقَتَيْنِ، وَمَدَّ بَيْنَهُمَا مَدًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Aws ibn Abdillah ibn Hujr al-Aslami, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, passed by me with Abu Bakr at Hadhwat between Juhfa and Harsha, both upon one camel heading for Madina. I mounted them upon my stud camel, Ibn al-Rida, and sent with them my slave Masud, saying, Take them by protected paths and do not leave them while they need you and your camel. He took them by Thaniyyat al-Zamha, then Thaniyyat al-Kuwa, then al-Murra, then Shubat Dhat Kasht, then al-Mudlaja, then al-Ghassana, then Thaniyyat al-Murra, then brought them to Madina after their need was fulfilled. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, returned Masud to his master Aws, who was heedless and did not brand camels. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ordered him to tell Aws to brand them on their necks like a horse's fetter. Sakhr ibn Malik said, By Allah they brand them today, and the horse's fetter as I see is two rings with extension between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اوس بن عبداللہ بن حجر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :’’ جحفہ ‘‘ اور ’’ ہرشا “ کے درمیان ‘ نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات میرے پاس سے گزرے ‘ یہ دونوں حضرات اونٹ پر سوار تھے اور ان کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا ، تو حضرت اوس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا اونٹ انہیں دیا اور ان دونوں صاحبان کے ہمراہ اپنے غلام مسعود کو بھیجا اور بولے : تم ان دونوں کو محفوظ راستے سے لے کے جاؤ اور ان سے اس وقت تک جدا نہ ہونا ‘ جب تک انہیں تمہاری اور تمہارے اونٹ کی ضرورت رہتی ہے ‘ تو وہ غلام ان دونوں صاحبان کو ’’ زمحا ‘‘ کی گھاٹی کی طرف سے لے کر گیا ‘ پھر وہ ’’ کویہ ‘‘ کی گھاٹی پر آیا ‘ پھر وہ ’’ مرہ ‘‘ کی گھاٹی پر آیا ‘ پھر وہ ’’ ذات کشط ‘‘ آیا ‘ پھر وہ ’’ مدلجہ ‘‘ گیا پھر وہ ’’ غسانہ ‘‘ گیا پھر وہ ’’ مرہ ‘‘ کی گھاٹی پر چلا اور ان دونوں کو مدینہ منورہ پہنچا دیا ‘ ان دونوں کو اس کی اور اس کے اونٹ کی ضرورت نہ رہی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مسعود کو اس کے آقا ‘ اوس بن عبداللہ کے پاس واپس بھجوا دیا ‘ وہ صاحب اونٹ پر نشان نہیں لگایا کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس غلام کو یہ ہدایت کی کہ وہ اوس کو یہ کہے : وہ اس اونٹ کی گردن میں گھوڑے کی بیڑی جتنا نشان ڈال دے ۔ صخر بن مالک کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ لوگ آج بھی اس پر نشان لگاتے ہیں اور میرے علم کے مطابق گھوڑے کی بیڑی سے مراد یہ ہے کہہ دو چھلے پہنائے جائیں اور انہیں کچھ کھینچ دیا جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں .

9909

Majma al-Zawaid #9909

وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مُهَاجَرِهِ، لَقِيَ رَكْبًا فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، سَلِ الْقَوْمَ مِمَّنْ هُمْ؟ "". قَالُوا: مِنْ أَسْلَمَ. قَالَ: "" سَلِمْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، سَلْهُمْ مِنْ أَيِّ أَسْلَمَ؟ "". قَالُوا: مِنْ بَنِي سَهْمٍ قَالَ: "" ارْمِ سَهْمَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Burayda al-Aslami, may Allah be pleased with him, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, approached during his migration, he met riders and said: > **"O Abu Bakr, ask the people who they are."** They said, From Aslam. He said: > **"You are safe, O Abu Bakr. Ask them from which Aslam."** They said, From Bani Sahm. He said: > **"Cast your arrow, O Abu Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب ہجرت کے دوران تشریف لے جا رہے تھے ‘ تو آپ کی ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی ‘ آپ نے فرمایا : اے ابوبکر ! ان لوگوں سے پوچھو کہ ان کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے ؟ انہوں نے بتایا : اسلم قبیلے سے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر تم سلامت رہو گے ‘ تم ان سے پوچھو کہ اسلم قبیلے کی کون سی شاخ سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : بنو سہم سے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم اپنا تیر پھینک دو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران زہری ہے اور وہ متروک ہے ۔

9910

Majma al-Zawaid #9910

وَعَنْ حُبَيْشِ بْنِ خَالِدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَدَلِيلُهُمَا اللِّيثِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأُرَيْقِطِ، مَرُّوا عَلَى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَكَانَتِ امْرَأَةً بَرْزَةً جَلْدَةً، تَحْتَبِي بِفَنَاءِ الْقُبَّةِ، وَتُسْقِي وَتُطْعِمُ، فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوهُ مِنْهَا، فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمَلِينَ مُسْنَتِينَ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ فِي كَسْرِ الْخَيْمَةِ، فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ؟ "". قَالَتْ: خَلَّفَهَا الْجُهْدُ عَنِ الْغَنَمِ قَالَ: "" فَهَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟ "". قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: "" أَتَأْذَنِينَ أَنْ أَحْلِبَهَا؟ "". قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، نَعَمْ، إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلْبًا فَاحْلِبْهَا، فَدَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا وَسَمَّى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَدَعَا اللَّهَ فِي شَأْنِهَا، فَتَفَاجَّتْ عَلَيْهِ، وَدَرَّتْ وَاجْتَرَّتْ، وَدَعَا بِإِنَاءٍ يَرْبِضُ الرَّهْطَ، فَحَلَبَ فِيهِ ثَجًّا حَتَّى عَلَاهُ الْبَهَاءُ، ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ، وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رُوُوا، وَشَرِبَ آخِرُهُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَرَاضُوا، ثُمَّ حَلَبَ فِيهَا ثَانِيًا بَعْدَ مَدَى حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ، ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا، ثُمَّ بَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا، فَقَلَّمَا لَبِثَتْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا أَبُو مَعْبَدٍ يَسُوقُ أَعْنُزًا عِجَافًا يَتَسَاوَكْنَ هُزَالًا، مُخُّهُنَّ قَلِيلٌ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو مَعْبَدٍ اللَّبَنَ عَجِبَ، وَقَالَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ، وَالشَّاةُ عَازِبٌ حِيَالٌ، وَلَا حَلُوبَةَ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ مُبَارَكٌ مِنْ حَالِهِ كَذَا وَكَذَا قَالَ: صِفِيهِ لِي يَا أُمَّ مَعْبَدٍ. قَالَتْ: رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الْوَضَاءَةِ، أَبْلَجَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الْخُلُقِ لَمْ تُعِبْهُ ثَجْلَةٌ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ، وَفِي لِحْيَتِهِ كَثَافَةٌ، أَزَجُّ أَقْرَنُ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَا وَعَلَاهُ الْبَهَاءُ، أَجْمَلُ النَّاسِ، وَأَبْهَى مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْلَاهُ وَأَحْسَنُهُ مِنْ قَرِيبٍ، حُلْوُ الْمَنْطِقِ فَصْلٌ لَا هَذْرَ وَلَا نَزْرَ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ يَنْحَدِرْنَ رَبْعٌ، لَا يَيْأَسُ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ، فَهُوَ أَنْظَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا، لَهُ رُفَقَاءُ يَحْفَوْنَ بِهِ، إِنْ قَالَ أَنْصَتُوا لِقَوْلِهِ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا أَمْرَهُ، مَحْقُودٌ مَحْسُودٌ لَا عَابِسٌ وَلَا مُفْنِدٌ. قَالَ أَبُو مَعْبَدٍ: هُوَ وَاللَّهِ صَاحِبُ قُرَيْشٍ الَّذِي ذُكِرَ لَنَا مِنْ أَمْرِهِ مَا ذُكِرَ بِمَكَّةَ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَصْحَبَهُ وَلَأَفْعَلَنَّ إِنْ وَجَدْتُ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلًا، وَأَصْبَحَ صَوْتٌ بِمَكَّةَ عَالِيًا يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ وَلَا يَدْرُونَ مَنْ صَاحِبُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: جَزَى اللَّهُ رَبُّ النَّاسِ خَيْرَ جَزَائِهِ ... رَفِيقَيْنِ قَلَا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ. هُمَا نَزَلَاهَا بِالْهُدَى وَاهْتَدَتْ بِهِ ... لَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَيَا لِقَصِيٍّ مَا زَوَى اللَّهُ عَنْكُمُ ... بِهِ مِنْ فِعَالٍ لَا تُجَارَى وَسُؤْدَدِ لِيَهْنَ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَاتِهِمْ ... وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ سَلُوا أُخْتَكُمْ عَنْ شَاتِهَا وَإِنَائِهَا ... فَإِنَّكُمْ إِنْ تَسْأَلُوا الشَّاةَ تَشْهَدِ دَعَاهَا بِشَاةٍ حَائِلٍ فَتَحَلَّبَتْ ... عَلَيْهِ صَرِيحًا ضَرَّةُ الشَّاةِ مُزْبَدِ فَغَادَرَهَا رَهْنًا لَدَيْهَا لِحَالِبٍ ... يُرَدِّدُهَا فِي مَصْدَرٍ ثُمَّ مَوْرِدِ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِذَلِكَ شَبَّ يُجِيبُ الْهَاتِفَ، وَهُوَ يَقُولُ. لَقَدْ خَابَ قَوْمٌ زَالَ عَنْهُمْ نَبِيُّهُمْ ... وَقَدَّسَ مَنْ يَسْرِي إِلَيْهِمْ وِيَغْتَدِي تَرَحَّلَ عَنْ قَوْمٍ فَضَّلَتْ عُقُولُهُمْ ... وَحَلَّ عَلَى قَوْمٍ بِنُورٍ مُجَدِّدِ هُدَاهُمْ بِهِ بَعْدَ الضَّلَالَةِ رَبُّهُمْ ... وَأَرْشَدَهُمْ مَنْ يَبْتَغِي الْحَقَّ يَرْشُدِ وَهَلْ يَسْتَوِي ضُلَّالُ قَوْمٍ تَسَفَّهُوا ... عَمَايَتُهُمْ هَادٍ بِهِ كُلَّ مُهْتَدِ؟ وَقَدْ نَزَلَتْ مِنْهُ عَلَى أَهْلِ يَثْرِبَ ... رِكَابُ هُدًى حَلَّتْ عَلَيْهِمْ بِأَسْعَدِ. نَبِيٌّ يَرَى مَا لَا يَرَى النَّاسُ حَوْلَهُ ... وَيَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ فِي كُلِّ مَسْجِدِ وَإِنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مَقَالَةَ غَائِبٍ ... فَتَصْدِيقُهَا فِي الْيَوْمِ أَوْ فِي ضُحَى الْغَدِ لِيَهْنَ أَبَا بَكْرٍ سَعَادَةُ جَدِّهِ ... بِصُحْبَتِهِ مَنْ يُسْعِدِ اللَّهُ يَسْعَدِ لِيَهْنَ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَاتِهِمْ ... وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ» وَقَالَ لَنَا مُجَاهِدٌ عَنْ مُكْرَمٍ: فِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَهُوَ الطُّولُ. وَالصَّوَابُ: صَحَلٌ، وَهِيَ الْبَحَّةُ. وَقَالَ لَنَا مُكْرَمٌ: لَا يَأَسَ مِنْ طُولٍ، وَالصَّوَابُ: لَا يَتَشَنَّى مِنْ طُولٍ. وَقَالَ لَنَا عَنْ مَكْرُمٍ: لَا عَايِسٌ وَلَا مُفْنِدٍ يَعْنِي: لَا عَابِسٌ، وَلَا مُكَذِّبٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَقَدْ وَرَدَ حَدِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ مِنْ طَرِيقِ سُلَيْطٍ ذَكَرْتُهُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

EnglishUnverified translation

Hubaysh ibn Khalid, companion of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, may Allah be pleased with him, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, left Mecca emigrating to Madina with Abu Bakr, freedman Amir ibn Fuhayra, and their guide Al-Laythi Abdullah ibn al-Urayqit, they passed the two tents of Umm Mabad al-Khuzaiya, a strong dignified woman sitting in the tent courtyard who gave water and food. They asked to buy meat and dates, but found nothing, for the people were in drought. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, saw a goat in the tent corner and said: > **"What is this goat, O Umm Mabad."** She said, Hunger kept it behind from the flock. He said: > **"Is there milk in her."** She said, She is too exhausted for that. He said: > **"Do you permit me to milk her."** She said, May my father and mother be ransom for you, yes, if you see milking in her then milk her. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, called for her, wiped her udder, mentioned Allah, supplicated, and she spread her legs, yielded and continued. He called for a vessel sufficient for a group, milked copiously until foam rose, gave her to drink till satisfied, gave his companions till satisfied, drank last, peace and blessings be upon him, then rested, then milked again after a while till full, left it with her, pledged her, and departed. Soon her husband Abu Mabad came driving lean goats with little marrow. Seeing milk he wondered, Whence this milk, O Umm Mabad, while the goat is distant without calf and no milch in the house. She said, By Allah, only that a blessed man passed, of such and such state. He said, Describe him to me. She said, I saw a man manifestly radiant, bright-faced, good-mannered, neither marred by bulk nor belittled by smallness, handsome proportioned, with intense black eyes, long lashes, resonant voice, elevated neck, dense beard, arched eyebrows joined, dignified when silent, majestic when speaking, most beautiful from afar and sweetest near, speech sweet, decisive, neither idle nor scant, like strung pearls descending, middle-statured, neither wearying tall nor contemptibly short, a branch between two branches, the most striking of the three in appearance and noblest in rank. He has companions surrounding him, when he speaks they listen, when he commands they hasten, neither frowning nor trivial. Abu Mabad said, By Allah he is the companion of Quraysh whose affair was mentioned at Mecca. I intended to accompany him and shall do so if I find a way. A loud voice was heard at Mecca, hearing the voice but not knowing its owner, saying verses: May the Lord of men reward with best reward the two companions who stopped at Umm Mabad's tents. They alighted with guidance and she was guided, fortunate is who becomes companion of Muhammad. O Qusay, what Allah has diverted from you of unmatched deeds and glory. Congratulations to Bani Kab for the maiden's place, her seat a watchpost for believers. Ask your sister of her goat and vessel, if you ask the goat it will testify. He called for a barren goat and its udder flowed with pure frothing milk. He left it as pledge with a milker returning in source and watering. When Hassan ibn Thabit heard, he answered the caller with verses: Lost are a people whose Prophet departed them, holy is he who journeys to them morning and evening. He departed a people whose minds were foolish and alighted upon a people with renewed light. Their Lord guided them through him after misguidance, and whoever seeks truth is guided. Are misguided foolish folk equal to one guided guiding every guided. There alighted upon Yathrib riders of guidance in most fortunate abode. A Prophet who sees what people around him see not, reciting Allah's Book in every mosque. If he speaks one day of the absent, its confirmation comes that day or next morning. Congratulations to Abu Bakr for his grandfather's fortune in his companionship, whoever Allah makes fortunate is fortunate. Congratulations to Bani Kab for the maiden's place, her seat a watchpost for believers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے صحابی ‘ حضرت حبیش بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کے لئے مکہ سے نکلے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غلام عامر بن فہیرہ تھے اور ان دونوں کو راستہ بتانے والا شخص لیث قبیلے سے تعلق رکھنے والا عبداللہ بن اریقط تھا ‘ ان حضرات کا گزر ‘ ام معبد خزاعیہ کے دو خیموں کے پاس سے ہوا ‘ وہ ایک مضبوط جسم کی بھاری بھرکم عورت تھی اور خیمے کے اندر رہتی تھی ، اس نے ان حضرات کو پانی پلایا کھانے کے لئے دیا ‘ ان حضرات نے اُم معبد سے گوشت اور کھجوریں خریدنے کے بارے میں دریافت کیا ، لیکن اس کے پاس یہ چیزیں نہیں تھیں ، کیونکہ وہ لوگ قحط سالی کا شکار تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے خیمے کے کونے میں موجود ایک بکری کو ملاحظہ فرمایا ‘ تو دریافت کیا : اے ام معبد ! اس بکری کا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ بھوک کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اس میں دودھ ہے ؟ اس نے عرض کی : یہ اس سے زیادہ کمزور ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم یہ اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں ؟ اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! اگر آپ کو اس میں سے دودھ ملتا ہے تو اسے آپ دوہ لیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس بکری کو بلایا آپ نے اس کے تھن پر اپنا دست مبارک پھیرا ‘ اللہ تعالیٰ کا نام لیا ‘ اس بکری کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ‘ اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ایک برتن منگوایا جس کے ذریعے زیادہ افراد کو دودھ پلایا جا سکتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں دودھ دوہ کر بھر لیا یہاں تک کہ وہ پر ہو گیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ دودھ اُم معبد کو پلایا ‘ یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ‘ سب سے آخر میں نبی اکرم ﷺ نے اسے پیا ‘ پھر آپ نے دوسری مرتبہ اس برتن میں دودھ دوہ لیا ‘ یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا ، آپ وہ دودھ اس خاتون کے پاس چھوڑ کر روانہ ہو گئے آپ نے اس سے بیعت لی تھی اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے تھے ‘ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد اس کا شوہر ابومعبد اپنی کمزور بکریوں کو ہانکتا ہوا لے کر آیا ‘ جو کمزوری کے عالم میں چل رہی تھیں ، ان کے اندر گودا کم تھا ‘ جب ابومعبد نے دودھ دیکھا ‘ تو وہ حیران ہوا ‘ اور دریافت کیا : اے ام معبد ! یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ جبکہ بکریاں ایسی ہیں ‘ جو دودھ نہیں دے سکتی ہیں اور ویسے بھی دودھ گھر میں موجود نہیں تھا ، اس خاتون نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہمارے پاس سے ایک برکت والے صاحب گزرے ہیں جن کی یہ ‘ یہ حالت تھی ‘ اس کے شوہر نے کہا : اے ام معبد ! تم ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ! تو ام معبد نے جواب دیا : میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو روشن چمکدار چہرے کے مالک تھے ‘ شکل و صورت خوبصورت تھی میں نے ایک صاحب کو دیکھا جو روشن چمکدار چہرے کے مالک تھے ‘ شکل و صورت خوبصورت تھی ‘ نہ تو دبلا پن انہیں عیب دار کرتا تھا اور نہ ہی وہ موٹاپے کا شکار تھے ‘ وہ خوبرو اور وجیہہ و شکیل تھے ‘ ان کی آنکھیں سیاہ تھیں اور پلکوں کے بال لمبے تھے ‘ ان کی آواز نرم تھی اور گردن ذرا لمبی تھی ‘ ان کی داڑھی گھنی تھی اور ابرو لمبے تھے ‘ اگر وہ خاموش ہوتے تو باوقار محسوس ہوتے ‘ اور جب کلام کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ‘ ان پر چمک غالب تھی ‘ دور سے دیکھنے میں سب سے زیادہ خوبصورت اور روشن لگتے تھے ‘ اور قریب سے دیکھنے میں سب سے زیادہ حلاوت والے اور حسین لگتے تھے ‘ ان کا کلام مٹھاس والا تھا ‘ اور واضح تھا ‘ اس میں کوئی کمی یا فضول گوئی نہیں تھی ، ان کا کلام موتیوں کی طرح تھا ‘ جو گرتے ہیں ‘ درمیانے قد کے مالک تھے بالکل لمبے تڑنگے بھی نہیں تھے ‘ اور ( دیکھنے والے کی ) آنکھ چھوٹے قد کی وجہ سے آپ کو کمتر شمار نہ کرتی ‘ درمیانے قد کے تھے ، تینوں افراد میں آپ سب سے زیادہ خوبصورت ‘ اور سب سے زیادہ قدر و منزلت کے مالک تھے ‘ ان کے ساتھی ان کے ساتھ ہی تھے ‘ اگر وہ کوئی بات کہتے تو وہ ساتھی خاموشی سے ان کی بات سنتے اور اگر وہ کوئی حکم دیتے تو وہ ساتھ اس پر فوری طور پر عمل کرتے تھے ‘ نمایاں حیثیت کے مالک زبردست فرد تھے ‘ ماتھے پر بال ڈال کر رکھنے والے یا سٹھیائے ہوئے فرد نہیں تھے ۔ ابومعبد نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ تو قریش کے وہی فرد لگتے ہیں ، جن کا ذکر ہمارے سامنے کیا گیا ہے اور جن کا ذکر مکہ میں ہو رہا تھا ، میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میں اُن کے پاس جاؤں گا اور اگر مجھے وہاں تک جانے کا موقع مل گیا ‘ تو میں ایسا ضرور کروں گا ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) اسی دوران مکہ میں ایک بلند آواز سنائی دی ‘ لوگوں نے وہ آواز سنی ‘ لیکن انہیں کہنے والا نظر نہیں آیا ‘ وہ یہ کہہ رہا تھا : اللہ تعالیٰ جو لوگوں کا پروردگار ہے ‘ وہ ( سفر کرنے والے ) دو ساتھیوں کو جزائے خیر عطا کرے ‘ جنہوں نے ام معبد کے خیمہ میں پڑاؤ کیا تھا ‘ وہ دونوں ہدایت کے ہمراہ اس خاتون کے ہاں ٹھہرے تھے ‘ اور اس خاتون نے ہدایت کو اختیار کیا ، تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے حضرت محمد ﷺ کا ساتھ دیا ‘ اور اس بات پر افسوس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اس کو لپیٹ دیا ( یا لے لیا ) ‘ کہ کچھ اور اس کا بدل نہیں ہو سکتا ، اور تم سے سرداری کو الگ کر دیا ، تو بنوکعب کو اپنے ( خاندان کی ) خاتون کو مبارکباد دینی چاہیے جس کی رہائشی جگہ اہل ایمان کے لیے پناگاہ ثابت ہوئی ‘ ( اے بنو کعب ! ) تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور اس کے برتن کے بارے میں دریافت کرو اور اگر تم بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی اس بات کی گواہی دے گی ‘ انہوں نے اس عورت سے ایسی بکری منگوائی تھی جو دودھ دینے کے قابل نہیں تھی ‘ اور پھر اس بکری نے اتنا دودھ دیا جتنا ایک صحیح و سالم بکری دیتی ہے ‘ پھر جب وہ اس عورت کے ہاں سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دودھ دوہنے والے فرد ( یعنی اس عورت کے شوہر ) کے لیے بھی دودھ اس عورت کے پاس چھوڑ دیا ‘ جو فرد ان بکریوں کو گھاٹ پر لے جاتا اور واپس لاتا ہے ‘‘۔ جب حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار سنے تو انہوں نے ہاتف کے جواب میں یہ اشعار کہے : ’’ وہ قوم رسوا ہو گئی جن کے پاس سے ان کے نبی تشریف لے گئے ‘ اور وہ قوم پاک ہو گئی جس کی طرف وہ نبی تشریف لے گئے ‘ اس نبی نے ایک قوم کو چھوڑ دیا تو اس قوم کی عقلمیں گمراہ ہو گئیں ‘ اور وہ نبی جس قوم کے پاس تشریف لے گئے ‘ ان کے پاس نور آ گیا ‘ ان کے پروردگار نے اس کے ذریعے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دی ‘ اور ان کی رہنمائی کی ‘ جو شخص حق کی پیروی کر لیتا ہے وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتا ہے ‘ کیا ایک قوم کے گمراہ لوگ جنہوں نے اندھے پن اور بیوقوفی کو اختیار کیا ‘ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں ‘ اس ہدایت نے ان لوگوں کہ چھوڑ کر اہل یثرب کے ہاں پڑاؤ کیا ‘ اور وہ لوگ سب سے زیادہ سعادت مند ہو گئے ‘ وہ نبی ‘ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ان کے آس پاس موجود افراد نہیں دیکھ پاتے ہیں ‘ اور وہ ہر مسجد میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ‘ اگر وہ کبھی کسی غیر موجود چیز کے بارے میں کوئی بات کہہ دیں ، تو اسی دن یا اگلے دن میں ‘ دن چڑھنے کے وقت تک اس کی تصدیق سامنے آ جاتی ہے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت مبارک ہو کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دیا ‘ سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سعادت عطا کرتا ہے ‘ اور کعب کے بیٹوں کو اس خاتون کی رہائشی جگہ کے حوالے سے مبارکباد ہو ‘ جس کا گھر اہل ایمان کے لیے پناگاہ ثابت ہوا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجاہد نے مکرم کے حوالے سے ہمیں یہ بات بیان کی ہے :’’ فی اشفارہ وطف ‘‘ ( میں لفظ ’’ وطف ‘‘ ) کا مطلب لمبا ہونا ہے ۔ اور درست لفظ ’’ صحل ‘‘ ہے ‘ یعنی آواز کا بیٹھا ہوا ہونا ۔ مکرم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ لا يأس من طول ‘‘ جبکہ درست الفاظ یہ ہیں : ” لا يتشنی من طول “ انہوں نے مکرم کے حوالے سے ہمیں یہ بات بتائی ہے : ’’ لا عایس ولا مفند “ کا مطلب ہے :’’ لا عابس ولا مكذب ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث ‘ سلیط کے حوالے سے بھی روایت کی گئی ہے ‘ جس کو میں نے علامات نبوت سے متعلق باب میں ، آپ کے حلیہ مبارک ( والے باب ) میں ذکر کیا ہے ۔

9911

Majma al-Zawaid #9911

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «لَمَّا انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِيَانِ نَزَلَا بِأَبِي مَعْبَدٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَنَا شَاةٌ، وَإِنَّ شَاءَنَا لِحَوَامِلُ فَمَا بَقِيَ لَنَا لَبَنٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ -: "" فَمَا تِلْكَ الشَّاةُ؟ "". فَأَتَى بِهَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَرَكَةِ عَلَيْهَا ثُمَّ حَلَبَ عُسًّا فَسَقَاهُ ثُمَّ شَرِبُوا، فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّكَ صَابِئٌ؟ قَالَ: "" إِنَّهُمْ يَقُولُونَ "". قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ، ثُمَّ قَالَ: أَتَّبِعُكَ؟ قَالَ: "" لَا، حَتَّى تَسْمَعَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا "". فَاتَّبَعَهُ بَعْدُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn al-Numan, may Allah be pleased with him, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and Abu Bakr went secretly, they stopped at Abu Mabad. He said, By Allah we have no sheep, and our sheep are pregnant, no milk remains. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"What is that goat."** They brought it, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, supplicated blessing over it, then milked a large cup and gave him to drink, then they drank. Abu Mabad said, Are you the one Quraysh claim has apostatized. He said: > **"They say so."** He said, I testify what you brought is truth. Then he said, Shall I follow you. He said: > **"No, until you hear that we have prevailed."** So he followed him afterwards.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپتے ہوئے جا رہے تھے ‘ تو ان دونوں نے ابومعبد کے ہاں پڑاؤ کیا ‘ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ہمارے پاس تو کوئی بکری نہیں ہے اور ہماری بکریاں حاملہ ہیں ‘ ہمارے پاس دودھ نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بکری کا کیا معاملہ ہے ؟ وہ اس بکری کو لے کے آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے برکت کی دعا کی ‘ پھر آپ نے برتن میں دودھ دوہ لیا اور انہیں پلایا ‘ پھر ان حضرات نے پیا ‘ ابومعبد نے کہا : آپ ہی وہ صاحب ہیں ؟ جن کے بارے میں قریش کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ یہی کہتے ہیں ‘ ابومعبد نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ جو چیز لے کے آئے ہیں ‘ وہ حق ہے پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا میں آپ کے پیچھے آؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! جب تک تم یہ نہیں سنتے کہ ہم نے غلبہ پا لیا ہے ‘ اس کے بعد ( مخصوص عرصہ گزر جانے کے بعد ) ابومعبد ‘ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے گئے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9912

Majma al-Zawaid #9912

وَعَنْ فَائِدٍ مَوْلَى عَبَادِلَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، فَأَرْسَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى ابْنِ سَعْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ أَتَانَا ابْنُ سَعْدٍ، وَسَعْدٌ الَّذِي دَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى طَرِيقِ رَكُوبِهِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: أَخْبِرْنِي مَا حَدَّثَكَ أَبُوكَ، قَالَ ابْنُ سَعْدٍ: حَدَّثَنِي أَبِي «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ عِنْدَنَا بِنْتٌ مُسْتَرْضَعَةٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ الِاخْتِصَارَ فِي الطَّرِيقِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: هَذَا الْغَائِرُ مِنْ رَكُوبِهِ، وَبِهِ لِصَّانِ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُمَا: الْمُهَانَانِ، فَإِنْ شِئْتَ أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُذْ بِنَا عَلَيْهِمَا ""، قَالَ سَعْدٌ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا إِذَا أَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: هَذَا الْيَمَانِيُّ، فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيْهِمَا الْإِسْلَامَ، فَأَسْلَمَا ثُمَّ سَأَلَهُمَا عَنْ أَسْمَائِهِمَا، فَقَالَا: نَحْنُ الْمُهَانَانِ قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمَا الْمُكَرَّمَانِ "". وَأَمَرَهُمَا أَنْ يَقْدَمَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا ظَاهِرَ قُبَاءَ فَتَلَقَّى بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ؟ "". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ: إِنَّهُ قَدْ أَصَابَ قَبْلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرَهُ بِكَ؟ ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا طَلَعَ عَلَى النَّخْلِ فَإِذَا الشَّرْبُ مَمْلُوءٌ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ هَذَا الْمَنْزِلُ رَأَيْتُنِي أَنْزِلُ إِلَى حِيَاضٍ كَحِيَاضِ بَنِي مُدْلِجٍ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ. وَابْنُ سَعْدٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Faid, freedman of Abadil, narrated: I went out with Ibrahim ibn Abd al-Rahman ibn Abdillah ibn Abi Rabia. Ibrahim sent to Ibn Sad, and when we were at al-Arj, Ibn Sad came to us. Sad is the one who guided the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, to his riding route. Ibrahim said, Inform me what your father narrated to you. Ibn Sad said, My father narrated that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came to them with Abu Bakr, and Abu Bakr had a foster daughter among us. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, wished to shorten the route to Madina, so Sad said, This low rugged part of his riding has two thieves from Aslam called Al-Muhanan, the two disgraced. If you wish we take that way. The Prophet, peace and blessings be upon him, said: > **"Take us by them."** Sad said, We set out until we overlooked them, when one said to his companion, This is the Yemeni. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, called them and presented Islam, so they accepted Islam. Then he asked their names. They said, We are Al-Muhanan. He said: > **"Rather you are Al-Mukarraman, the two honored."** He ordered them to come to him at Madina. We went until we reached outer Quba, where Bani Amr ibn Awf met them. The Prophet, peace and blessings be upon him, said: > **"Where is Abu Umama Asad ibn Zurara."** Sad ibn Khaythama said, He was stricken before me, O Messenger of Allah, shall I not inform him of you. Then he proceeded until overlooking the palms, where the drinking place was full. The Prophet, peace and blessings be upon him, turned to Abu Bakr and said: > **"O Abu Bakr, this is the dwelling I was shown descending to basins like the basins of Bani Mudlij."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فائد ‘ جو عبادل کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں ابراہیم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابوربیعہ کے ساتھ نکلا ‘ ابراہیم بن عبدالرحمن نے ابن سعد کو پیغام بھیجا ( اور بلوایا ) جب ہم ’’ عرج ‘‘ کے مقام پر تھے ‘ تو ابن سعد ہمارے پاس تشریف لائے ‘ سعد وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے ( ہجرت کے دوران مدینہ منورہ ) کے راستے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا تھا ‘ ابراہیم بن عبدالرحمن نے ان سے کہا : آپ ہمیں یہ بتائیے کہ جو آپ کے والد نے آپ کو روایت بیان کی ہے ‘ تو ابن سعد نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ’’ نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک دودھ پیتی بچی ہمارے علاقے میں دودھ پی رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کی طرف مختصر راستے سے جانا چاہ رہے تھے ‘ تو سعد نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : یہ راستہ سہولت والا ہے ‘ لیکن یہاں اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو چور ہوتے ہیں ‘ جن کا نام ” مہانان ‘‘ ( یعنی دو بے عزت لوگ ) ہے ‘ اگر آپ چاہیں تو ہم اس راستے سے چلے جاتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُسی طرف سے چلو ! سعد کہتے ہیں : ہم وہاں سے نکلے ‘ جب ہم وہاں پہنچے ‘ تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : یہ یمانی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو بلوایا ‘ اُن دونوں کے سامنے اسلام رکھا ‘ تو ان دونوں نے اسلام قبول کر لیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے اُن کے نام کے بارے میں دریافت کیا : تو ان دونوں نے جواب دیا : ہم ’’ مہانان ‘‘ ( دو بے عزت لوگ ) ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم دو معزز افراد ہو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں پھر ہم وہاں سے نکلے ‘ یہاں تک کہ ہم قباء پہنچ گئے ‘ بنو عمرو بن عوف نے نبی اکرم ﷺ کا استقبال کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ابوامامہ اسعد بن زرارہ کہاں ہے ؟ سعد بن خیثمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ مجھ سے پہلے پہنچ گئے تھے ‘ کیا میں انہیں آپ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ پھر وہ چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ کھجوروں کے باغات کے پاس آئے ، تو وہاں پانی موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! میری پڑاؤ کی یہ وہ جگہ ہے ‘ جو میں نے خواب میں دیکھی تھی کہ میں ایسے حوض کے پاس پڑاؤ کروں گا ‘ جو بنومدلج کے حوضوں کی مانند ہو گے “۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ‘ ابن سعد کا نام عبداللہ ہے ‘ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9913

Majma al-Zawaid #9913

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ مَالَهُ كُلَّهُ، وَكَانَ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلَّا يَا أَبَتِ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَتْ: فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَجَعَلْتُهَا فِي كُوَّةٍ فِي الْبَيْتِ كَانَ أَبِي يَجْعَلُ فِيهَا مَالَهُ، ثُمَّ جَعَلْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: ضَعْ يَا أَبَتِ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ، قَالَتْ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنْ كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا لَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بِلَاغٌ، قَالَتْ: وَلَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, departed, Abu Bakr departed with him, taking all his wealth, five thousand or six thousand dirhams. My grandfather Abu Quhafa, whose sight had gone, came and said, By Allah I think he has distressed you by taking his wealth with himself. I said, No, father, he has left much good for us. I took stones, placed them in the niche where my father kept money, covered with cloth, took his hand and said, Father, place your hand upon this wealth. He placed his hand and said, No harm if he left this, he has done well, and this suffices you. By Allah he left nothing, but I wished to reassure the elder thereby.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نکلے ‘ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نکلے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال ساتھ لے لیا ‘ جو پانچ ہزار درہم ‘ یا شاید چھ ہزار درہم بنتے تھے ‘ وہ اس رقم کو اپنے ساتھ لے گئے ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے دادا حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، اُن کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ‘ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ابوبکر کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تم لوگوں کو چھوڑ کر سارا مال لے کر اپنے ساتھ لے گیا ہو گا ‘ میں نے کہا : ہرگز نہیں ! دادا جان ‘ انہوں نے ہمارے لئے بہت سی بھلائی چھوڑی ہے ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر میں موجود تھیلی میں ڈال دیا جس میں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے ‘ پھر میں نے اس پر کپڑ ڈالا پھر اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور میں نے کہا : اے دادا جان آپ اپنا ہاتھ اس مال پر رکھیں ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں انہوں نے اپنا ہاتھ اس مال پر رکھا اور پھر بولے : اگر اس نے تمہارے لئے اتنی رقم چھوڑی ہے ‘ تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس نے یہ اچھا کیا ہے ‘ اس سے تمہاری ضروریات پوری ہو جائیں گی ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا تھا ، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ اس طرح بزرگوار کو مطمئن کر دوں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

9914

Majma al-Zawaid #9914

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَأَبُو بَكْرٍ يَعْرِفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ بِالشَّامِ فَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ، فَيَقُولُونَ: مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَيَقُولُ: هَذَا يَهْدِينِي، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ، فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا، فَقَالُوا: ادْخُلَا آمِنِينَ مُطَاعِينَ، فَدَخَلَا» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, narrated: When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, emigrated, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, rode while Abu Bakr was behind him. Abu Bakr knew the road through travel to Syria, so when they passed people, they asked, Who is this before you. He would say, This one guides me. When they neared Madina, he sent to the Ansar Muslims, to Abu Umama and his companions. They came out to them and said, Enter safe and obeyed. So they entered.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے ہجرت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ سوار تھے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ راستے سے واقف تھے ‘ کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے ‘ وہ جب بھی لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے ‘ تو وہ لوگ یہ دریافت کرتے تھے : یہ آپ کے آگے کون ہے ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جواب دیتے تھے : یہ میری رہنمائی کر رہے ہیں ‘ جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو پیغام بھیجا ، یعنی حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا ، تو یہ حضرات نکل کر ان دونوں کی طرف آئے اور انہوں نے گزارش کی : آپ دونوں صاحبان ایسی حالت میں داخل ہوں کہ آپ محفوظ بھی ہوں اور آپ کی اطاعت بھی کی جائے ‘ تو یہ دونوں حضرات ( اس علاقے میں ) داخل ہو گئے ... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9915

Majma al-Zawaid #9915

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَرَأَيْتَ دَارَ هِجْرَتِكُمْ سَبْخَةً بَيْنَ ظَهْرَانَيْ حَرَّةَ، فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ هَجَرَ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ يَثْرِبَ "". قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَكُنْتُ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُ، وَصَدَّنِي فِتْيَانٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجَعَلْتُ لَيْلَتِي تِلْكَ أَقُومُ وَلَا أَقْعُدُ، فَقَالُوا: قَدْ شَغَلَهُ اللَّهُ عَنْكُمْ بِبَطْنِهِ، وَلَمْ أَكُنْ شَاكِيًا، فَنَامُوا، فَخَرَجْتُ فَلَحِقَنِي مِنْهُمْ نَاسٌ بَعْدَ مَا سِرْتُ يُرِيدُونَ رَدِّي، فَقُلْتُ لَهُمْ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ أَوَاقَ مِنْ ذَهَبٍ وَحُلَّةً سِيَرَاءَ بِمَكَّةَ، وَتُخَلُّونَ سَبِيلِي وَتُوَثِّقُونَ لِي، فَفَعَلُوا فَتَبِعْتُهُمْ إِلَى مَكَّةَ، فَقُلْتُ: احْفِرُوا تَحْتَ أُسْكُفَّةِ الْبَابِ، فَإِنَّ تَحْتَهَا الْأَوَاقَ، وَاذْهَبُوا إِلَى فُلَانَةَ بِآيَةِ كَذَا وَكَذَا فَخُذُوا الْحُلَّتَيْنِ، وَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبَاءً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ مِنْهَا فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: "" يَا أَبَا يَحْيَى، رَبِحَ الْبَيْعُ "" ثَلَاثًا. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سَبَقَنِي إِلَيْكَ أَحَدٌ، وَمَا أَخْبَرَكَ إِلَّا جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَلِصُهَيْبٍ حَدِيثٌ آخَرُ سَهَوْتُ عَنْهُ يَأْتِي فِي آخِرِ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Suhayb, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"I have been shown your migration home, a salty land between two lava tracts, either Hajr or Yathrib."** He said, The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, departed for Madina with Abu Bakr. I intended to depart with him, but youths of Quraysh detained me. That night I kept standing and not sitting. They said, Allah has distracted him from you with his belly, though I was not ill. They slept, so I departed. Some pursued after I traveled to return me. I said, Will you accept that I give you ounces of gold and a striped garment at Mecca, and you let me go with covenant. They did, so I followed them to Mecca and said, Dig under the threshold, beneath it are the ounces, and go to such woman with such sign and take the two garments. I departed until I reached the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Quba before he moved. When he saw me he said thrice: > **"O Abu Yahya, profitable was the sale."** I said, O Messenger of Allah, none preceded me to you, and none informed you except Gabriel, peace be upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا خیال ہے تم لوگوں کی ہجرت کی جگہ ‘ ایک شوریدہ زمین ہے ‘ جو دو طرف موجود پتھریلے علاقے کے درمیان ہے یا تو یہ ’’ حجر ‘‘ ہو گا یا ’’ یثرب ‘‘ ہو گا “۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کی طرف نکلنے لگے ‘ تو آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ میرا بھی یہ ارادہ تھا کہ میں آپ کے ساتھ نکلوں گا ‘ لیکن قریش کے کچھ نوجوانوں نے مجھے روک لیا ‘ اس رات میں نوافل پڑھتا رہا ، میں بیٹھا نہیں ان لوگوں نے یہ کہا : اس کے پیٹ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے مشغول کر دیا ہے ‘ حالانکہ میں بیمار نہیں تھا ، پھر وہ لوگ سو گئے ، تو میں نکلا میرے روانہ ہونے کے بعد ان میں سے کچھ لوگ آ کر مجھ سے ملے ‘ وہ مجھے واپس لے جانا چاہ رہے تھے ‘ میں نے ان سے کہا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ میں سونے کے کچھ اوقیہ اور مکہ میں موجود سیرائی حلہ تمہیں دے دوں ؟ اور تم لوگ میرا راستہ چھوڑ دو ‘ ان لوگوں نے یہ بات مان لی ‘ تو میں ان کے پیچھے مکہ تک آیا ‘ میں نے کہا : تم دروازے کی چوکھٹ کے نیچے سے کھدائی کرو ‘ ان کے نیچے اوقیہ موجود ہیں ‘ اور تم فلاں عورت کے پاس فلاں نشانی لے کے جاؤ اور اس سے دو حلے لے لینا ‘ پھر میں وہاں سے نکلا ‘ یہاں تک کہ قباء میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ یہ آپ کے وہاں سے منتقل ہونے سے پہلے کی بات ہے جب آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا ‘ تو آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : اے ابویحیی ! منافع کا سودا کیا ہے ( یعنی تم نے ان لوگوں کو سونا اور حلے دے کر جو اپنا پیچھا کرنے سے روک دیا ہے ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ سے پہلے کوئی آپ تک نہیں پہنچا ( جو آپ کو اس بارے میں بتاتا ‘ تو ) آپ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس بارے میں بتایا ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے جسے میں بھول گیا تھا وہ اس باب کے آخر میں آئے گی ۔

9916

Majma al-Zawaid #9916

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: «كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: هُوَ مَكَانُهُ، وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara, may Allah be pleased with him, narrated: The first of the Emigrants to come to us was Musab ibn Umayr, brother of Bani Abd al-Dar ibn Qusay, may Allah be pleased with him. I said to him, What has the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, done. He said, He is in his place, and his companions follow after me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مہاجرین میں سے ہمارے پاس سب سے پہلے حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ تشریف لائے جن کا تعلق بنو عبدالدار بن قصی سے تھا میں نے ان سے دریافت کیا نبی اکرم ﷺ کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے بتایا : آپ اپنی جگہ پر ہیں اور آپ کے اصحاب میرے پیچھے آ رہے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9917

Majma al-Zawaid #9917

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «كُنَّا قَدِ اسْتَبْطَأْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقُدُومِ عَلَيْنَا، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَفِدُونَ إِلَى ظَهْرِ الْحَرَّةِ فَيَجْلِسُونَ حَتَّى يَرْتَفِعَ النَّهَارُ، فَإِذَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ وَحَمِيَتِ الشَّمْسُ رَجَعَتْ إِلَى مَنَازِلِهَا، فَقَالَ عُمَرُ: كُنَّا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ أَوْفَى عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ فَصَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، هَذَا صَاحَبُكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ، قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ الْوَجْبَةَ فِي بَنَى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَخْرَجْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمُسْلِمُونَ قَدْ لَبِسُوا السِّلَاحَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الْقَوْمِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, narrated: We had deemed the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, slow in coming to us. The Ansar would go to the back of the lava field and sit until the day rose high. When the sun grew hot they returned to their homes. Umar said, We were awaiting the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, when a Jewish man atop one of their fortresses shouted loudly, O Arabs, this is your companion whom you await. Umar said, I heard commotion among Bani Amr ibn Awf, put out my head, and the Muslims had donned arms. I set out with the people at noon, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, turned right until he alighted among Bani Amr ibn Awf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ہمارے پاس ( مدینہ منورہ میں ) تشریف آوری میں تاخیر ہو گئی ، انصار صبح کے وقت پتھریلی زمین کی طرف چلے جاتے تھے اور بیٹھے رہتے تھے یہاں تک کہ دن چڑھ جاتا تھا جب دن چڑھ جاتا تھا اور سورج کی تپش زیادہ ہو جاتی تھی ‘ تو وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف واپس چلے جاتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے ‘ اسی دوران یہودیوں میں سے ایک شخص جو کسی بلند عمارت پر چڑھا ہوا تھا ‘ اس نے بلند آواز میں چیخ کر کہا : اے عربوں کے گروہ ! یہ تمہارے آقا آ رہے ہیں ، جن کا تم انتظار کر رہے ہو ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمیں بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں ہلچل سنائی دی ‘ میں نے سر نکال کے دیکھا تو مسلمان ہتھیار پہن رہے تھے ‘ دن چڑھ چکا تھا ، میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا ‘ نبی اکرم ﷺ دائیں طرف ہو گئے اور آپ ﷺ نے بن عمرو بن عوف کے علاقے میں پڑاؤ کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زید بن اسلم ہے ‘ جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9918

Majma al-Zawaid #9918

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: اجْتَمَعْنَا لِلْهِجْرَةِ أَوْعَدْتُ أَنَا وَعِيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَهِشَامُ بْنُ الْعَاصِ الْمَيْضَاةَ - مَيْضَاةَ بَنِي غِفَارٍ - فَوْقَ شُرَفٍ، وَقُلْنَا: أَيُّكُمْ لَمْ يُصْبِحْ عِنْدَهَا، فَقَدِ احْتُبِسَ، فَلْيَمْضِ صَاحِبَاهُ، فَحُبِسَ عَنَّا هِشَامُ بْنُ الْعَاصِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَنْزِلَنَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَخَرَجَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ إِلَى عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَكَانَ ابْنُ عَمِّهِمَا وَأَخَاهُمَا لِأُمِّهِمَا حَتَّى قَدِمَا عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ فَكَلَّمَاهُ، فَقَالَا لَهُ: إِنَّ أُمَّكَ نَذَرَتْ أَنْ لَا تَمَسَّ رَأْسَهَا مُشْطٌ حَتَّى تَرَاكَ، فَرَقَّ لَهَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَيَّاشُ، وَاللَّهِ إِنْ يَرُدَّكَ الْقَوْمُ إِلَّا عَنْ دِينِكَ، فَاحْذَرْهُمْ، فَوَاللَّهِ لَوْ قَدْ آذَى أُمَّكَ الْقَمْلُ لَامْتَشَطَتْ، وَلَوْ قَدِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا حَرُّ مَكَّةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - لَامْتَشَطَتْ قَالَ: إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالًا فَآخُذُهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا، فَلَكَ نِصْفُ مَالِي وَلَا تَذْهَبْ مَعَهُمَا، فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ مَعَهُمَا، فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا أَبَى عَلَيَّ: أَمَّا إِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فَخُذْ نَاقَتِي هَذِهِ ; فَإِنَّهَا نَاقَةٌ ذَلُولٌ فَالْزَمْ ظَهْرَهَا، فَإِنْ رَابَكَ مِنَ الْقَوْمِ رَيْبٌ ; فَأَنِخْ عَلَيْهَا، فَخَرَجَ مَعَهُمَا عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ: وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَبْطَأْتُ بَعِيرِي هَذَا، أَفَلَا تَحْمِلُنِي عَلَى نَاقَتِكَ هَذِهِ؟ قَالَ: بَلَى، فَأَنَاخَ وَأَنَاخَا لِيَتَحَوَّلَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَوْا بِالْأَرْضِ عَدَّيَا عَلَيْهِ، فَأَوْثَقَاهُ ثُمَّ أَدْخَلَاهُ مَكَّةَ، وَفَتَنَاهُ فَافْتُتِنَ قَالَ: فَكُنَّا نَقُولُ: وَاللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِمَّنِ افْتُتِنَ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، وَلَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ قَوْمٍ عَرَفُوا اللَّهَ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى الْكُفْرِ ; لِبَلَاءٍ أَصَابَهُمْ قَالَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ ذَلِكَ لِأَنْفُسِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ، وَفِي قَوْلِنَا لَهُمْ، وَقَوْلِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ: {يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] إِلَى قَوْلِهِ: {وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الزمر: 55]، قَالَ عُمَرُ: فَكَتَبْتُهَا فِي صَحِيفَةٍ وَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمْ أَزَلْ أَقْرَؤُهَا بِذِي طُوَى أَصْعَدُ بِهَا فِيهِ حَتَّى فَهِمْتُهَا قَالَ: فَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا إِنَّمَا نَزَلَتْ فِينَا، وَفِيمَا كُنَّا نَقُولُ فِي أَنْفُسِنَا، وَيُقَالُ فِينَا، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, narrated: We gathered for migration. I, Ayyash ibn Abi Rabia, and Hisham ibn al-As appointed al-Maydat of Bani Ghifar above Shurf, saying, Whoever does not appear there by morning is detained, so his two companions should proceed. Hisham ibn al-As was detained from us. When we reached our dwelling among Bani Amr ibn Awf, Abu Jahl ibn Hisham and Al-Harith ibn Hisham went to Ayyash ibn Abi Rabia, their cousin and maternal brother, until they came to us at Madina and spoke to him, saying, Your mother vowed no comb shall touch her head until she sees you. He softened toward her. I said, O Ayyash, by Allah they only wish to turn you from your religion, so beware. By Allah, if lice trouble your mother she will comb, and if Meccan heat intensifies upon her she will comb. He said, I have wealth there to take. I said, By Allah you know I am among Quraysh's wealthiest, half my wealth is yours, do not go with them. He refused except to go with them. When he refused, I said, Since you insist, take this she-camel of mine, docile, keep to her back, and if you suspect treachery, spur her. He went with them upon her until partway, Abu Jahl said, By Allah my camel is slow, will you carry me upon your she-camel. He said, Yes. He made her kneel and they knelt to transfer. When level on ground, they assaulted him, bound him, brought him to Mecca, tempted him and he was tempted. We used to say, By Allah Allah accepts neither exchange nor ransom from one tempted, nor repentance of people who knew Allah then returned to disbelief for affliction. They said that to themselves. When the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, arrived at Madina, Allah revealed concerning them and our saying and their saying to themselves: O My servants who transgressed against themselves, despair not of Allah's mercy, indeed Allah forgives all sins, indeed He is the Forgiving, Merciful, until, before punishment comes suddenly while you perceive not. Umar said, I wrote it on a sheet and sent it to Hisham ibn al-As. Hisham said, I kept reciting it at Dhu Tuwa, ascending therein until I understood it. Then it was cast into my heart that it was revealed concerning us and what we said to ourselves and was said about us. So I returned, mounted my camel, and joined the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Madina.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ہجرت کرنے کا ارادہ کر لیا ، میں نے عیاش بن ابوربیعہ نے ‘ اور ہشام بن عاص نے بنوغفار کے ’’ معیضاۃ ‘‘ پر اکٹھے ہونے کا وعدہ کیا ‘ جو ٹیلے پر تھا ‘ ہم نے یہ طے کیا کہ جو شخص وہاں نہیں پہنچ پائے گا ‘ وہ پیچھے رہ جائے گا اور باقی لوگ چلے جائیں گے ‘ تو ہشام بن عاص ہم تک نہیں آ سکے ‘ جب ہم مدینہ منورہ میں بنوعمرو بن عوف کے علاقے میں قباء میں اپنی رہائشی جگہ پر پہنچ گئے ‘ تو ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام نکل کر عیاش بن ابوبیعہ کے پاس آئے ‘ یہ دونوں عیاش بن ابوربیعہ کے چچازاد بھی تھے اور ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھے یہ دونوں مدینہ منورہ میں ہمارے پاس آئے ‘ ان دونوں نے عیاش کے ساتھ بات چیت کی اور اس سے یہ کہا : تمہاری ماں نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ اس وقت تک بالوں میں کنگھی نہیں کرے گی جب تک تمہیں دیکھ نہیں لے گی ‘ تو عیاش کا دل اپنی والدہ کے لئے پسیج گیا ، میں نے اس سے کہا : اے عیاش ! اللہ کی قسم ! یہ لوگ تمہیں تمہارے دین سے واپس موڑنا چاہتے ہیں ، تو تم ان سے بچو ! اللہ کی قسم ! جب جوئیں تمہاری ماں کو تنگ کریں گی ‘ تو وہ خود ہی کنگھی کر لے گی ‘ اور جب مکہ کی گرمی اس پر گراں گزرے گی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو وہ کنگھی بھی کر لے گی ‘ عیاش نے کہا : وہاں میرا مال موجود ہے ‘ وہ میں لے لوں گا ‘ میں نے کہا : اللہ کی قسم تم یہ بات جانتے ہو کہ میرے پاس قریش میں سب سے زیادہ مال تھا ‘ میرا نصف مال تم لے لو ‘ لیکن تم ان دونوں کے ساتھ نہ جاؤ ‘ لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی اور ان دونوں کے ساتھ چلا گیا ‘ جب اس نے میری بات نہیں مانی ‘ تو میں نے اس سے کہا : چلو تمہاری جو مرضی ہے وہ کرو ‘ لیکن تم میری یہ اونٹنی لے لو ‘ یہ ایک فرمانبردار اونٹنی ہے ‘ تم اس کی پشت پر بیٹھ جانا ‘ اگر ان لوگوں نے تمہیں کوئی دھوکہ دیا ‘ تو تم اس پر سوار ہو جانا ، پھر وہ ان دونوں کے ساتھ اس اونٹنی پر بیٹھ کر چلا گیا ، راستے میں کسی جگہ پر ابوجہل بن ہشام نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا یہ اونٹ چلنے میں سستی دکھا رہا ہے ‘ کیا تم مجھے اپنی اس اونٹنی پر سواری کرنے دیتے ہو ؟ عیاش نے کہا : ٹھیک ہے اس نے اونٹنی کو بٹھایا تاکہ ابوجہل اس پر منتقل ہو جائے جب وہ لوگ زمین پر بیٹھے ‘ تو ان دونوں نے عیاش پر حملہ کر کے اسے باندھ دیا اور پھر اسے لے کر مکہ چلے گئے اور اسے آزمائش کا شکار کر دیا ‘ تو وہ آزمائش کا شکار ہوا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم یہ کہا کرتے تھے : اللہ کی قسم ! جو شخص آزمائش کا شکار کرتا ہے ‘ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ‘ اور اس قوم کی توبہ بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لی ہو اور پھر پیش آنے والی کسی مصیبت کے نتیجے میں وہ کفر کی طرف واپس چلے گئے ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : لوگ یہ موقف اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر رکھتے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ‘ ہمارے موقف اور ان لوگوں کے بارے میں ان کے اپنے موقوف کے بارے میں یہ آیت کی : ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘ بے شک وہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اور تم شعور نہیں رکھتے ہو ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے یہ آیت ایک صحیفہ میں نوٹ کی اور اسے ہشام بن العاص کو بھجوا دیا ‘ ہشام کہتے ہیں : ذی طوی کے مقام پر میں مسلسل اسے پڑھتا رہا یہاں تک کہ یہ مجھے سمجھ آ گئی ، پھر میرے ذہن میں یہ بات آئی ‘ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ جو ہم اپنی ذات کے بارے میں کہتے ہیں ‘ یا جو ہمارے بارے میں کہی جاتی ہے ‘ تو میں واپس آیا ‘ اپنے اونٹ پر بیٹھا اور نبی اکرم ﷺ سے آ ملا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9919

Majma al-Zawaid #9919

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعِيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ فِي أَصْحَابٍ لَهُمْ فَنَزَلُوا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَطَلَبَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ أَخُوهُمَا لِأُمِّهِمَا فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ، فَذَكَرَا لَهُ حُزْنَ أُمِّهِ، فَقَالَا: إِنَّهَا حَلَفَتْ أَنْ لَا يُظِلَّهَا بَيْتٌ، وَلَا يَمَسَّ رَأْسَهَا دُهْنٌ حَتَّى تَرَاكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَمْ نَطْلُبْكَ، فَنُذَكِّرْكَ اللَّهَ فِي أُمِّكَ، وَكَانَ بِهَا رَحِيمًا، وَكَانَ يَعْلَمُ مِنْ حُبِّهَا إِيَّاهُ وَرِقِّهَا - يَعْنِي عَلَيْهِ - مَا كَانَ يُصَدِّقُهُمَا بِهِ، فَرَقَّ لَهَا لِمَا ذَكَرُوا لَهُ وَأَبَى أَنْ يَتْبَعَهُمَا حَتَّى عَقَدَ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، فَلَمَّا خَرَجَ مَعَهُمَا، أَوْثَقَاهُ فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ مُوَثَّقًا حَتَّى خَرَجَ مَعَ مَنْ خَرَجَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لَهُ بِالْخَلَاصِ وَالْحِفْظِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Urwa, may Allah have mercy on him, narrated: Umar ibn al-Khattab and Ayyash ibn Abi Rabia with companions set out and alighted among Bani Amr ibn Awf. Abu Jahl ibn Hisham and Al-Harith ibn Hisham sought Ayyash, their maternal brother. They came to Madina and mentioned his mother's grief, saying, She swore no house shall shade her nor oil touch her head until she sees you. Had it not been so we would not seek you. We remind you by Allah concerning your mother. He was merciful to her and knew her love, so he believed them and softened. He refused to follow them until Al-Harith ibn Hisham made covenant to him. When he went with them, they bound him. He remained bound until he came out with those who came out before the conquest of Mecca. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, had supplicated for his deliverance and protection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عیاش بن ابوربیعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلے ‘ ان لوگوں نے بنو عمرو بن عوف کے علاقے میں رہائش اختیار کی ‘ ابوجہل بن ہشام اور حارث بن ہشام ، عیاش بن ابوربیعہ کی تلاش میں نکلے ‘ عیاش ان دونوں کا ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا ‘ یہ دونوں مدینہ منورہ آئے اور ان دونوں نے عیاش کے سامنے اس کی والدہ کے پریشان ہونے کا ذکر کیا ‘ ان دونوں نے یہ بتایا کہ اس خاتون نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ وہ نہ گھر کے سائے میں آئے گی ‘ نہ اپنے سر میں تیل لگائے گی جب تک تمہیں دیکھ نہیں لیتی ، انہوں نے بتایا کہ اگر ایسا نہ ہوتا ‘ تو ہم نے تمہاری تلاش میں نہیں آنا تھا ‘ تو تمہاری والدہ کے حوالے سے ہم تمہیں اللہ کی یاد دلاتے ہیں ‘ وہ شخص اپنی والدہ سے بڑی محبت کرتا تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی والدہ بھی اس سے محبت کرتی ہے ‘ اس لئے اسے اُن کی بات سچ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی ‘ ان لوگوں نے اس کے سامنے جو صورت حال ذکر کی ‘ اس کے حوالے سے اس کا دل پسیج گیا ، لیکن اس نے ان دونوں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ‘ جب تک حارث بن ہشام اس کے ساتھ طے نہیں کر لیتا ، جب وہ ان دونوں کے ساتھ نکلا ‘ تو ان دونوں نے اسے باندھ دیا اور وہ مسلسل بندش میں رہا ‘ یہاں تک کہ مکہ فتح ہونے سے کچھ عرصہ پہلے ( وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ) وہاں سے نکلے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے نجات پانے اور محفوظ رہنے کی دعا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ راوی نے یہ روایت ابن شہاب کے حوالے سے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9920

Majma al-Zawaid #9920

«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: لَيْسَ لِمَنِ افْتُتِنَ تَوْبَةٌ إِذَا تَرَكَ دِينَهُ بَعْدَ إِسْلَامِهِ وَمَعْرِفَتِهِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ: {يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} [الزمر: 53] إِلَى قَوْلِهِ: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الزمر: 55] فَكَتَبْتُهَا بِيَدِي، ثُمَّ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى هِشَامِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ هِشَامٌ: فَلَمَّا جَاءَتْنِي صَعَدْتُ بِهَا كَذَا أُصَوِّتُ بِهَا وَأَقُولُ فَلَا أَفْهَمُهَا، فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي أَنَّهَا نَزَلَتْ فِينَا وَمَا كُنَّا نَقُولُ، فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي ثُمَّ لَحِقْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ بِالْهِجْرَةِ، وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ قَدِمُوا إِرْسَالًا، وَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ فَقَالَ: "" لَا تَعْجَلْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ لَكَ صَاحِبًا "". فَطَمِعَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ أَعَدَّ لِذَلِكَ رَاحِلَتَيْنِ يَعْلِفُهُمَا فِي دَارِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيِّ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, narrated: We used to say, There is no repentance for one tempted who abandons his religion after Islam and knowledge. So Allah revealed concerning them: O My servants who transgressed against themselves, despair not of Allah's mercy, until, before punishment comes suddenly while you perceive not. I wrote it by hand and sent it to Hisham ibn al-As ibn Wail. Hisham said, When it came, I recited it aloud but did not understand, then it fell into my heart that it was revealed concerning us and what we said. So I mounted my camel and joined Madina. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, remained awaiting permission for migration, while his Emigrant companions had arrived in groups. Abu Bakr had sought permission for migration, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Do not hasten, perhaps Allah will make for you a companion."** Abu Bakr hoped the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, meant himself. Abu Bakr had prepared two mounts, feeding them in his house for that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم یہ کہا کرتے تھے : جو شخص خود کو آزمائش کا شکار کر دے ‘ اُس کی توبہ قبول نہیں ہو گی جبکہ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اور اس کی معرفت کے بعد ‘ اپنے دین کو ترک کیا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل کیں : ’’ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اس سے پہلے کہ تمہارے پاس اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں شعور بھی نہ ہو ‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس آیت کو تحریر کیا اور پھر اسے ہشام بن العاص بن وائل کو بھیجوایا ‘ ہشام کہتے ہیں : جب یہ آیت میرے پاس آئی ‘ تو میں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، لیکن مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی ، پھر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں ہے ‘ اور جو ہم کہتے ہیں ‘ اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ تو میں اپنے اونٹ پر بیٹھا اور مدینہ منورہ آ گیا ، نبی اکرم ﷺ اس انتظار میں تھے کہ آپ کو ہجرت کی اجازت مل جائے ‘ مہاجرین سے تعلق رکھنے والے آپ کے اصحاب مختلف ٹولیوں کی شکل میں آ چکے تھے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کی اجازت مانگی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : تم جلدی نہ کرو ! ہو سکتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی ساتھی مقرر کر دے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ توقع تھی کہ وہ ساتھی خود نبی اکرم ﷺ ہوں گے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے لئے دو سواریاں تیار کی تھیں ‘ وہ اپنے گھر میں اُن دونوں کو چارہ کھلایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

9921

Majma al-Zawaid #9921

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَزْعُمُ أَنِّي هَاجَرْتُ قَبْلَ أَبِي، إِنَّمَا قَدَّمَنِي فِي ثِقَلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them, said: May Allah curse whoever claims I migrated before my father. He only sent me ahead with his baggage. This is an athar report.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے ‘ جو یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے والد ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) سے پہلے ہجرت کی تھی ‘ ( اصل بات یہ ہے : ) اُنہوں نے مجھے سامان کے ساتھ آگے بھجوا دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9922

Majma al-Zawaid #9922

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقُبَاءٍ عَلَى كُلْثُومِ بْنِ هَدْمِ أَخِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَيُقَالُ: بَلْ نَزَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ، فَأَقَامَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَأَدْرَكَتْهُ الْجُمُعَةُ فِي بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ فَصَلَّى الْجُمُعَةَ الْكُبْرَى فِي الْمَسْجِدِ بِبَطْنِ الْوَادِي». قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: «ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي أَيُّوبَ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِنَاءِ مَسْجِدِهِ فِي تِلْكَ السَّنَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ishaq, may Allah have mercy on him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, alighted at Quba upon Kulthum ibn Hadm, brother of Bani Amr ibn Awf. It is also said he alighted upon Sad ibn Khaythama. He stayed among Bani Amr ibn Awf, and Friday overtook him among Bani Salim ibn Awf, so he prayed the great Friday in the mosque in the valley bottom. Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, alighted upon Abu Ayyub, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ordered the building of his mosque in that year.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قباء میں بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے صاحب حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ، ایک قول کے مطابق آپ نے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ‘ آپ بنوعمرو بن عوف کے محلے میں مقیم رہے ‘ یہاں تک کہ بنوسالم بن عوف کے علاقے میں جمعہ کا دن آ گیا ، تو آپ نے آبادی کے نشیبی حصے میں موجود مسجد میں ‘ جمعہ کی نماز ادا کی ‘ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرنے ‘ اور اُسی سال نبی اکرم ﷺ نے اپنی مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کی تعمیر کا حکم دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9923

Majma al-Zawaid #9923

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ فَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asim ibn Adi, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, arrived at Madina on Monday, after twelve nights of Rabi al-Awwal had passed, and he remained in Madina ten years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بارہ ربیع الاول ‘ پیر کے دن ‘ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے اور آپ نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9924

Majma al-Zawaid #9924

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ بَيْنَ دَارِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَدَارِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ، فَأَتَاهُ النَّاسُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَنْزِلُ، فَانْبَعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ: "" دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ "". ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى جَاءَتْ بِهِ مَوْضِعَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ ثُمَّ تَجَلْجَلَتْ، وَلِنَاسٍ ثَمَّ عَرِيشٌ كَانُوا يَرُشُّونَهُ وَيُعَمِّرُونَهُ وَيَتَبَرَّدُونَ فِيهِ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَآوَى إِلَى الظِّلِّ فَنَزَلَ فِيهِ فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْزِلِي أَقْرَبُ الْمَنَازِلِ إِلَيْهِ فَانْقُلْ رَحْلَكَ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَذَهَبَ بِرَحْلِهِ إِلَى الْمَنْزِلِ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْزِلْ عَلَيَّ، فَقَالَ: "" إِنَّ الرَّجُلَ مَعَ رَحْلِهِ حَيْثُ كَانَ "". وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَرِيشِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ لَيْلَةً حَتَّى بَنَى الْمَسْجِدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى، قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَيْسَ بِالْحُجَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with them, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, arrived at Madina and his mount knelt between the house of Jafar ibn Muhammad ibn Ali and the house of Al-Hasan ibn Zayd. People came and said, O Messenger of Allah, the dwelling. His mount rose with him, and he said: > **"Leave her, for she is commanded."** Then she went with him until she reached the pulpit site, knelt and settled. Nearby people had a trellis they sprinkled and maintained and cooled in, until the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, dismounted, sought shade and alighted there. Abu Ayyub came and said, O Messenger of Allah, my house is nearest, so transfer your baggage. He said: > **"Yes."** He took his baggage home. Another man came and said, O Messenger of Allah, alight with me. He said: > **"A man is with his baggage wherever it is."** The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, remained in the trellis twelve nights until the mosque was built.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو آپ کی اونٹنی اس جگہ پر ٹھہر گئی ‘ جو ( اس وقت ) امام جعفر صادق اور امام حسن بن زید کے گھروں کے درمیان والی جگہ ہے لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رہائشی جگہ کون سی ہو گی ؟ تو نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایسے چھوڑ دو ! یہ حکم کی پابند ہے ‘ پھر وہ آپ کو لے کر چلی ، یہاں تک کہ وہ آپ کو لے کر اس جگہ پر آئی ‘ جہاں منبر رکھا ہوا ہے ‘ وہاں وہ ٹھہر گئی اور بیٹھ گئی ‘ اس جگہ پر لوگوں نے ایک چھپر بنایا ہوا تھا ‘ جہاں وہ پانی چھڑکایا کرتے تھے اور وہاں ٹھنڈک حاصل کیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اپنی سواری سے اترے آپ سائے کی طرف آئے اور وہاں ٹھہر گئے ‘ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا گھر تمام گھروں سے زیادہ قریب ہے ‘ تو آپ اپنی سواری کو ( یا سامان کو ) وہاں منتقل کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ! پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے سامان کو اپنے گھر لے گئے ‘ ایک اور شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ میرے ہاں پڑاؤ کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی اپنے سامان کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جہاں وہ ہو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ بارہ دن تک اس جگہ پر مقیم رہے ‘ یہاں تک کہ آپ نے مسجد کی تعمیر شروع کروائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صدیق بن موسیٰ ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : وہ حجت نہیں ہے ۔