Majma al-Zawaid #9885
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ النَّاسِ حِبَالًا - وَالْحِبَالُ: الْحَلِفُ وَالْمَوَاثِيقُ - فَلَعَلَّنَا نَقْطَعُهَا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَوْمِكَ، وَقَدْ قَطَعْنَا الْحِبَالَ وَحَارَبْنَا النَّاسَ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ وَقَالَ: "" الدَّمَ الدَّمَ الْهَدْمَ الْهَدْمَ "". فَلَمَّا رَضِيَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِمَا رَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْهَدُ أَنَّهُ لَصَادِقٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ وَبَيْنَ ظَهْرَيْ قَوْمِهِ وَعَشِيرَتِهِ، فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنْ تُخْرِجُوهُ بَرَتْكُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ، فَإِنْ كَانَتْ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَذَهَابِ الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ فَادْعُوهُ إِلَى أَرْضِكُمْ، فَإِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقًّا، وَإِنْ خِفْتُمْ خِذْلَانًا فَمِنَ الْآنَ، فَقَالُوا عِنْدَ ذَلِكَ: قَبِلْنَا عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ مَا أَعْطَانَا، وَقَدْ أَعْطَيْنَاكَ مِنْ أَنْفُسِنَا الَّذِي سَأَلْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخَلِّ بَيْنَنَا يَا أَبَا الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْنُبَايِعْهُ فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ بَايَعَ ثُمَّ كُلُّهُمْ، وَصَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأَسِ الْجَبَلِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هَذِهِ الْخَزْرَجُ وَالْأَوْسُ تُبَايِعُ مُحَمَّدًا عَلَى قِتَالِكُمْ فَفَزِعُوا عِنْدَ ذَلِكَ وَرَاعَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَرُعْكُمْ هَذَا الصَّوْتُ ; فَإِنَّهُ عَدُوُّ اللَّهِ إِبْلِيسُ لَيْسَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِمَّنْ تَخَافُونَ "". وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَرَخَ بِالشَّيْطَانِ: "" يَا ابْنَ أَزَبَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَسَأَفْرَغُ لَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، هَكَذَا مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.
EnglishUnverified translation
Urwa, may Allah have mercy on him, narrated: The first to pledge the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, was Abu al-Haytham ibn al-Tayyihan. He said, O Messenger of Allah, between us and other people are bonds, meaning oaths and covenants, and perhaps we shall sever them, then you will return to your people after we have severed bonds and fought people. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, laughed at his words and said: > **"Blood is blood, destruction is destruction."** When Abu al-Haytham was pleased with the reply, he turned to his people and said, O my people, this is the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. I testify he is truthful. Today he is in Allah's sanctuary and security among his people and kin. Know that if you take him out, the Arabs will shoot at you with one bow. If your souls are content to fight in Allah's path and lose wealth and children, then invite him to your land, for he is truly the Messenger of Allah. If you fear betrayal, then from now. Thereupon they said, We accept from Allah and His Messenger what he gives us, and we give you of ourselves what you asked, O Messenger of Allah. Leave between us, O Abu al-Haytham, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, so we may pledge him. Abu al-Haytham said, I am the first to pledge, then all pledged. Satan shouted from the mountain top, O Quraysh, these Khazraj and Aws are pledging Muhammad to war against you. They were alarmed. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Let not this voice alarm you, for he is Allah's enemy Iblis, whom none of those you fear has heard."** The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, stood and shouted at Satan: > **"O son of the snake, this is your doing. I shall soon be free for you."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عروہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی بیعت حضرت ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے کی تھی ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان اور لوگوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں ‘ تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں انہیں توڑنا پڑے ‘ لیکن ایسا نہ ہو ‘ کہ آپ واپس اپنی قوم کی طرف تشریف لے جائیں اور ہم لوگوں سے معاہدے توڑ کر ان کے ساتھ جنگ کر چکے ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ ان کی بات پر ہنس پڑے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خون ‘ خون ہو گا اور ہدم ‘ ہدم ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان کی بات کا جو جواب دیا تھا ‘ جب حضرت ابوہیثم رضی اللہ عنہ اس بات سے راضی ہوئے ، تو وہ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے قوم ! یہ اللہ کے رسول ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ سچے ہیں ، آج یہ اللہ کے حرم میں اس کی امان میں ہیں ‘ اور اپنی قوم اور خاندان کے درمیان میں ہیں ، تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ اگر تم انہیں یہاں سے نکال کر لے گئے تو عرب تمہارے خلاف متحد ہو جائیں گے ‘ اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے حوالے سے مطمئن ہو ‘ اپنے اموال اور اولاد کے رخصت ہو جانے سے مطمئن ہو ‘ تو انہیں اپنے علاقے کی طرف آنے کی دعوت دے دو ‘ کیونکہ یہ اللہ کے حقیقی رسول ہیں ‘ اور اگر تمہیں رسوائی کا اندیشہ ہے ‘ تو پھر ابھی معذرت کر لو ‘ اس وقت ان لوگوں نے کہا : ہم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس چیز کو قبول کریں گے ‘ جو وہ ہمیں دیں گے اور ہم اپنا آپ ‘ آپ ﷺ کو دیتے ہیں ‘ یا رسول اللہ ! آپ ﷺ جو چاہیں وہ طے کر لیں ‘ اے ابوالہیثم ! ہمارے اور اللہ کے رسول کے درمیان سے ہٹ جاؤ ! ہم ان کی بیعت کریں گے ‘ تو حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سب سے پہلے بیعت کروں گا ، پھر باقی سب افراد نے بیعت کر لی ۔ پہاڑ کے سرے سے شیطان نے چیخ ماری اور کہا : اے قریش کے گروہ ! یہ خزرج اور اس قبیلے کے لوگ ‘ تم سے لڑائی کرنے کے لئے ’’ محمد ‘‘ کی بیعت کر رہے ہیں ‘ تو وہ لوگ اس بات پر پریشان اور خوف زدہ ہو گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ آواز تمہیں پریشانی کا شکار نہ کرے ‘ کیونکہ یہ اللہ کا دشمن ابلیس ہے ‘ جن لوگوں کے بارے میں تمہیں اندیشہ ہے ‘ ان میں سے کسی نے بھی اس کی بات نہیں سنی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ آپ نے بلند آواز میں شیطان کو پکار کر کہا : اے سانپ کے بچے ! یہ تمہارا عمل ہے ‘ میں عنقریب فارغ ہو کر تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔