Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 2

Book of Expeditions and Biography

Hadith 9845–9884

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9845

Majma al-Zawaid #9845

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَقَالُوا لَهُ وَنَحْنُ عِنْدُهُ: قَدْ بَعَثُوا إِلَيْكَ أُنَاسًا مِنْ سَفَلَتِنَا وَسُفَهَائِهِمْ فَادْفَعَهُمْ إِلَيْنَا قَالَ: لَا، حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا، وَقَالَ: مَا تَقُولُونَ؟ فَقُلْنَا: إِنَّ قَوْمَنَا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَآمَنَّا بِهِ وَصَدَّقْنَاهُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ: عَبِيدٌ هُمْ لَكُمْ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَلَكُمْ عَلَيْهِمْ دَيْنٌ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ فِي عِيسَى غَيْرَ مَا تَقُولُونَ قَالَ: إِنْ لَمْ يَقُولُوا فِي عِيسَى مِثْلَ مَا نَقُولُ، لَا أَدَعُهُمْ فِي أَرْضِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَكَانَتِ الدَّعْوَةُ الثَّانِيَةُ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنَ الْأُولَى، فَقَالَ: مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ؟ فَقُلْنَا: يَقُولُ: "" هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ "". قَالَ: فَأَرْسَلَ، فَقَالَ: ادْعُوا فُلَانًا الْقِسِّيسَ، وَفُلَانًا الرَّاهِبَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ؟ قَالُوا: فَأَنْتَ أَعْلَمُنَا فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَأَخَذَ النَّجَاشِيُّ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا زَادَ عَلَى مَا قَالَ هَؤُلَاءِ مِثْلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُؤْذِيكُمْ أَحَدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ آذَى أَحَدًا مِنْ هَؤُلَاءِ فَأَغْرِمُوهُ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ قَالَ: يَكْفِيَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، فَأَضْعَفَهَا فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَظَهَرَ بِهَا، قُلْنَا لَهُ: إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَظَهَرَ بِهَا، وَهَاجَرَ قِبَلَ الَّذِينَ كُنَّا حَدَّثْنَاكَ عَنْهُمْ، وَقَدْ أَرَدْنَا الرَّحِيلَ إِلَيْهِ فَزَوِّدْنَا قَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا صَنَعْتُ إِلَيْكُمْ، وَهَذَا رَسُولِي مَعَكَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ جَعْفَرٌ: فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاعْتَنَقَنِي، فَقَالَ: "" مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟ "". ثُمَّ جَلَسَ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ، فَقَالَ: هُوَ ذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ مَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَدْ فَعَلَ بِنَا، قَدْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، وَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا، وَنَصَرَنَا، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ "". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: آمِينَ. فَقَالَ جَعْفَرٌ: فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: انْطَلِقْ فَأَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.»

EnglishUnverified translation

Ja'far ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, said: Quraysh sent 'Amr ibn al-'As and 'Umara ibn al-Walid with a gift from Abu Sufyan to the Negus. They said to him while we were with him: Some lowly fools of ours have been sent to you — hand them over to us. He said: No, until I hear their words. He sent for us and said: What do you say? We said: Our people worship idols, but Allah sent us a Messenger; we believed and affirmed him. The Negus asked them: Are they slaves of yours? They said: No. He said: Do you hold a debt over them? They said: No. He said: Then leave them free. We left him, but 'Amr ibn al-'As said: They say about Jesus other than what you say. He said: If they do not say about Jesus as we say, I shall not leave them in my land an hour of day. He sent for us a second time — harder upon us than the first — and said: What does your companion say about Jesus son of Mary? We said: > **"He is Allah's spirit and word, cast to the chaste Virgin."** He sent for a certain priest and monk; some of them came. He said: What do you say about Jesus son of Mary? They said: You know best — what do you say? The Negus took something from the ground and said: Thus is Jesus son of Mary; he did not exceed what these say by even this. Then he said to them: Does anyone harm you? They said: Yes. He ordered a caller to proclaim: Whoever harms any of these shall be fined four dirhams. He said: Does that suffice you? We said: No, so he doubled it. When the Messenger of Allah ﷺ emigrated to Medina and prevailed there, we said to him: Our companion has gone to Medina and prevailed; we wish to depart to him, so provision us. He said: Yes. He carried us, provisioned us, and gave to us, then said: Inform your companion of what I did for you. This is my messenger with you, and I testify there is no deity but Allah and he is Allah's Messenger — ask him to seek forgiveness for me. Ja'far said: We departed until we reached Medina. The Messenger of Allah ﷺ met us and embraced me, saying: > **"I do not know whether I rejoice more at the conquest of Khaybar or the arrival of Ja'far."** Then he sat, and the Negus's messenger stood and said: Here is Ja'far — ask him what our companion did with him? I said: Yes, he did such-and-such for us, carried and provisioned us, aided us, testified there is no deity but Allah and you are Allah's Messenger, and said: Ask him to seek forgiveness for me. The Messenger of Allah ﷺ rose, performed ablution, then supplicated three times: > **"O Allah, forgive the Negus."** And the Muslims said: Amen. Ja'far said: I told the messenger: Go inform your companion what you saw of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو ‘ ابوسفیان کی طرف سے ‘ تحائف کے ہمراہ نجاشی کے پاس بھیجا ‘ ان لوگوں نے نجاشی سے یہ کہا ‘ جبکہ ہم نجاشی کے ہاں رہ رہے تھے کہ ہمارے کمتر افراد میں سے کچھ لوگ تمہاری طرف آئے ہیں ، تم انہیں ہمارے سپرد کر دو نجاشی نے کہا : ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ‘ جب تک میں ان کی بات نہیں سن لیتا ، پھر اس نے ہمیں پیغام بھیجا اور دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا نظریہ ہے ؟ ہم نے کہا : ہم ایک ایسی قوم تھے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا ہم اس پر ایمان لے آئے ہم نے اس کی تصدیق کی نجاشی نے ان ( یعنی عمرو بن العاص وغیرہ ) سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ تمہارے غلام ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! انجاشی نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے ان سے کوئی قرض لینا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نجاشی نے کہا : پھر ان لوگوں کو چھوڑ دو ! ہم نجاشی کے پاس سے نکلے تو عمرو بن العاص نے کہا یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے مختلف رائے رکھتے ہیں نجاشی نے کہا اگر یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس کی مانند عقیدہ نہیں رکھتے ‘ جو ہم عقیدہ رکھتے ہیں ، تو میں انہیں دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی اپنی سرزمین پر نہیں رہنے دوں گا ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیجا یہ دوسرا بلاوا تھا جو ہمارے لئے پہلے سے زیادہ سخت تھا اس نے دریافت کیا تمہارے آقا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ہم نے جواب دیا : وہ یہ کہتے ہیں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ، جنہیں اُس نے کنواری پاک بی بی کی طرف القاء کیا تھا ، تو نجاشی نے پیغام بھیجا اور کہا : فلاں پادری ‘ فلاں راہب کو بلا کے لے کے آؤ ‘ کچھ لوگ ان کے پاس آ گئے ‘ اس نے دریافت کیا : تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ان پادریوں نے جواب دیا آپ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ کیا کہتے ہیں ؟ پھر نجاشی نے زمین سے کوئی چیز لی اور بولے : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس شخص کی بیان کی ہوئی بات سے اتنے بھی زیادہ نہیں تھے ‘ بالکل ویسے ہی ہیں ، پھر اس نے ان لوگوں سے کہا : کیا کوئی تمہیں اذیت پہنچاتا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نجاشی نے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جو شخص ان ( مسلمانوں ) میں سے کسی کو اذیت پہنچائے گا ‘ اسے چار درہم جرمانہ ہو گا نجاشی نے کہا : ٹھیک ہے ؟ ہم نے کہا : جی نہیں نجاشی نے جرمانہ دگنا کر دیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ کو غلبہ حاصل ہو گیا تو ہم نے نجاشی سے کہا : ہمارے آقا مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں اور وہاں انہیں غلبہ نصیب ہو گیا ہے اور انہوں نے ان لوگوں کی طرف ہجرت کی ہے جن کے بارے میں ہم تمہیں بیان کر چکے ہیں ، تو اب ہم یہاں سے روانہ ہونا چاہتے ہیں ، تم ہمیں زاد سفر دو اس نے کہا ٹھیک ہے پھر اس نے ہمارے لیے سواریوں کا بندوبست کیا ، ہمیں زاد سفر دیا اور ادائیگیاں کیں ، پھر اس نے کہا تم اپنے آقا کو بتا دینا ‘ جو میں نے تمہارے ساتھ رویہ اختیار کیا ہے ‘ یہ میرا قاصد تمہارے ساتھ ہے ‘ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، تم ان سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ مدینہ منورہ آ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ کی ہم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور ارشاد فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ‘ یا جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے ‘ نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا اور بولا : یہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ‘ آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور وہ کیا ، اس نے ہمیں سواریاں دیں زاد سفر دیا اور ہماری مدد کی اور اس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ تم ان سے یہ کہہ دینا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ‘ نبی اکرم ﷺ اُٹھے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے تین مرتبہ یہ دعا کی :’’ اے اللہ ! تو نجاشی کی مغفرت کر دے ! “ مسلمانوں نے کہا :’’ آمین ‘‘ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا : اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو یہ بتا دینا ‘ جو چیز تم نے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دیکھی ہے ۔

9846

Majma al-Zawaid #9846

«وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّجَاشِيَّ سَأَلَهُ: مَا دِينُكُمْ؟ قَالَ: بُعِثَ إِلَيْنَا رَسُولٌ نَعْرِفُ لِسَانَهُ وَصِدْقَهُ وَوَفَاءَهُ، فَدَعَانَا إِلَى أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَنَخْلَعَ مَا كَانَ يَعْبُدُ قَوْمُنَا وَغَيْرُهُمْ مِنْ دُونِهِ يَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ، فَدَعَانَا إِلَى مَا نَعْرِفُ، وَقَرَأَ عَلَيْنَا تَنْزِيلًا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لَا يُشْبِهُ غَيْرَهُ، فَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَفَارَقْنَا عِنْدَ ذَلِكَ قَوْمَنَا فَآذَوْنَا وَقَهَرُونَا، فَلَمَّا أَنْ بَلَغُوا مِنَّا مَا نَكْرَهُ، وَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَنْ نَمْتَنِعَ مِنْهُمْ خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي - يَقُولُ: آمِنُونَ - مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ja'far ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, reported that the Negus asked him: What is your religion? He said: A Messenger was sent to us whose tongue, truthfulness, and loyalty we know. He called us to worship Allah alone, associating nothing with Him, to abandon what our people and others worshipped besides Him. He commands good and forbids evil, commanded prayer, fasting, charity, and kinship. He called us to what we recognize, reciting a revelation from Allah unlike anything else. So we believed, recognized its truth from Allah, and left our people, who harmed and overpowered us. When they inflicted what we hate and we could not defend ourselves, we left for your land, choosing you over others. The Negus said: Go, you are safe in my land — secure. Whoever reviles you shall be fined.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجاشی نے ان سے دریافت کیا تمہارا دین کیا ہے ؟ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہماری طرف ایک رسول کو مبعوث کیا گیا ہے جن کی زبان ، سچائی ، وفاشعاری کو ہم جانتے ہیں ، انہوں نے ہمیں اس بات کی طرف دعوت دی کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور ہماری قوم جس کی عبادت کرتی ہے اور دوسرے لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہیں ، ہم ان سے لاتعلق ہو جائیں ‘ وہ ہمیں نیکی کرنے کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے ہمیں منع کرتے ہیں ‘ وہ ہمیں نماز پڑھنے ‘ روزہ رکھنے ‘ صدقہ کرنے ‘ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جسے ہم نیکی سمجھتے ہیں وہ ہمارے سامنے قرآن کی آیات تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور اس جیسا کلام اور کوئی نہیں ہے ‘ تو ہم نے اس نبی کی تصدیق کی ، ہم ان پر ایمان لائے اور ہمیں اس بات کا پتہ چل گیا کہ وہ جو چیز لے کر آئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا حق ہے ‘ تو اس وقت ہم نے اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر لی ‘ انہوں نے ہمیں اذیتیں دینی شروع کر دیں ‘ اور ہم پر زیادتیاں کیں ، جب یہ صورت حال ہمارے بس سے باہر ہو گئی ‘ اور ہم ان سے بچاؤ نہیں کر سکتے تھے ‘ تو ہم نکل کر تمہارے علاقے کی طرف آ گئے ‘ ہم نے دوسروں کی بجائے تمہیں اختیار کیا ، تو نجاشی نے کہا : تم لوگ جاؤ تم میری سرزمین پر امن کی حالت پر رہو گے ‘ جو شخص تمہیں برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے ابن اسحاق سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ۔

9847

Majma al-Zawaid #9847

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْطَلِقَ مَعَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا، فَبَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَجَمَعَا لِلنَّجَاشِيِّ هَدِيَّةً، وَقَدِمَا عَلَى النَّجَاشِيِّ فَأَتَيَاهُ بِالْهَدِيَّةِ فَقَبِلَهَا وَسَجَدَا لَهُ ثُمَّ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَرْضِنَا رَغِبُوا عَنْ دِينِنَا وَهُمْ فِي أَرْضِكَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ: فِي أَرْضِي؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَبَعَثَ إِلَيْنَا، فَقَالَ لَنَا جَعْفَرٌ: لَا يَتَكَلَّمْ مِنْكُمْ أَحَدٌ، أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَارَةُ عَنْ يَسَارِهِ، وَالْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ جُلُوسٌ سِمَاطِينَ، وَقَدْ قَالَ لَهُ عَمْرٌو وَعُمَارَةُ: إِنَّهُمْ لَا يَسْجُدُونَ لَكَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا بَدَرَنَا مَنْ عِنْدَهُ مِنَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ: اسْجُدُوا لِلْمَلِكِ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ. قَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ: وَمَا ذَاكَ؟ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا، وَهُوَ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ، وَأَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ. فَأَعْجَبَ النَّجَاشِيَّ قَوْلُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمْرٌو قَالَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْمَلِكَ، إِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي ابْنِ مَرْيَمَ؟ قَالَ: يَقُولُ فِيهِ قَوْلَ اللَّهِ: "" هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَخْرَجَهُ مِنَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَقْرَبْهَا بَشَرٌ، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ "". فَتَنَاوَلَ النَّجَاشِيُّ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَفَعَهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ، مَا يَزِيدُ هَؤُلَاءِ عَلَى مَا تَقُولُونَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ مَا يَزِنُ هَذِهِ، مَرْحَبًا بِكُمْ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُقَبِّلَ نَعْلَيْهِ، امْكُثُوا فِي أَرْضِي مَا شِئْتُمْ. وَأَمَرَ لَنَا بِطَعَامٍ وَكُسْوَةٍ، وَقَالَ: رُدُّوا عَلَى هَذَيْنِ هَدِيَّتَهُمَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا قَصِيرًا، وَكَانَ عُمَارَةُ رَجُلًا جَمِيلًا، وَكَانَا أَقْبَلَا إِلَى النَّجَاشِيِّ فَشَرِبُوا - يَعْنِي خَمْرًا - وَمَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا شَرِبُوا مِنَ الْخَمْرِ، قَالَ عُمَارَةُ لِعَمْرٍو: مُرِ امْرَأَتَكَ فَلْتُقَبِّلْنِي، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: أَلَا تَسْتَحِي؟ فَأَخَذَ عُمَارَةُ عَمْرًا فَرَمَى بِهِ فِي الْبَحْرِ، فَجَعَلَ عَمْرٌو يُنَاشِدُ عُمَارَةَ حَتَّى أَدْخَلَهُ السَّفِينَةَ، فَحَقَدَ عَمْرٌو عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ عَمْرٌو لِلنَّجَاشِيِّ: إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ خَلَفَكَ عُمَارَةَ فِي أَهْلِكَ. فَدَعَا النَّجَاشِيُّ عُمَارَةَ فَنَفَخَ فِي إِحْلِيلِهِ فَطَارَ مَعَ الْوَحْشِ. قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدُ مِنْهُ مِقْدَارَ سَطْرٍ مِنَ الْجَنَائِزِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to set out with Ja'far ibn Abi Talib to the Negus. That reached Quraysh, so they sent 'Amr ibn al-'As and 'Umara ibn al-Walid, gathering a gift for the Negus. They came, presented the gift, which he accepted, and prostrated to him. Then 'Amr said: Some people of our land have turned from our religion and dwell in your land. The Negus said: In my land? They said: Yes. So he sent for us. Ja'far said to us: None of you shall speak; I am your spokesman today. We reached the Negus seated in council, 'Amr on his right, 'Umara on his left, priests and monks seated in two rows. 'Amr and 'Umara had told him they would not prostrate to him. When we arrived, his priests hastened: Prostrate to the king. Ja'far said: We prostrate only to Allah. The Negus said: Why? He said: Allah sent us a Messenger — the Messenger foretold by Jesus, peace be upon him, after him, named Ahmad — commanding good and forbidding evil. The Negus was pleased with his words. Seeing that, 'Amr said: May Allah right the king; they oppose you concerning the son of Mary. The Negus said: What does your companion say about the son of Mary? He said: He says Allah's word: > **"He is Allah's spirit and word, brought forth from the chaste Virgin whom no man touched and no child claimed."** The Negus lifted a stick from the ground and said: O priests and monks, these do not exceed what you say about the son of Mary by the weight of this. Welcome to you and to him from whom you came. I testify he is Allah's Messenger, foretold by Jesus. Were it not for my kingship, I would come to him to kiss his sandals. Remain in my land as long as you wish. He ordered food and clothing for us, and said: Return these two's gift. 'Amr was short, 'Umara handsome. They had come to the Negus and drank wine; 'Amr's wife was with him. When they drank, 'Umara said to 'Amr: Order your wife to kiss me. 'Amr said: Have you no shame? So 'Umara seized 'Amr and threw him into the sea; 'Amr pleaded until 'Umara pulled him into the ship. 'Amr bore a grudge, telling the Negus: When you leave, 'Umara stays behind with your family. The Negus summoned 'Umara and blew into his urethra, and he flew off with the wild beasts.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نجاشی کی طرف چلے جائیں قریش کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو بھیجا ‘ ان دونوں نے نجاشی کے لئے تحائف جمع کیے ‘ یہ دونوں نجاشی کے پاس آئے اور تحفے لے کر اس کے پاس آئے ‘ تو نجاشی نے ان دونوں کے تحفوں کو قبول کر لیا ‘ ان دونوں نے نجاشی کے سامنے سجدہ کیا پھر عمرو بن العاص نے یہ کہا : ہماری سرزمین پر کچھ ایسے لوگ ہیں جو ہمارے دین کو چھوڑ چکے ہیں اور وہ اب آپ کی سرزمین پر رہ رہے ہیں ، نجاشی نے ان سے دریافت کیا : کیا میری سرزمین پر رہ رہے ہیں ؟ ان لوگوں نے جواب دیا جی ہاں ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیج کر بلوایا ‘ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا : تم میں سے کوئی بھی شخص کلام نہیں کرے گا ‘ میں خطاب کروں گا جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو وہ ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ‘ عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف موجود تھے اور عمارہ اس کے بائیں طرف تھے اور پادری اور راہب بیٹھے ہوئے تھے ‘ عمرو اور عمارہ نے ان سے کہا : ان لوگوں نے آپ کو سجدہ نہیں کیا ‘ جب ہم وہاں پہنچے ‘ تو اس کے پاس موجود پادریوں اور راہبوں میں سے ایک لپک کر ہماری طرف آیا اور بولا : بادشاہ کو سجدہ کرو ! حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں ‘ نجاشی نے ان سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے بتایا اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول کو مبعوث کیا ہے ‘ یہ وہی رسول ہیں ، جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ خوشخبری دی تھی کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا ، جس کا نام ’’ احمد ہو گا ‘ وہ رسول ہمیں نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ‘ نجاشی کو ان کی گفتگو اچھی لگی جب عمرو نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ بادشاہ کو ٹھیک رکھے ‘ حضرت ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں یہ لوگ آپ کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں ، نجاشی نے دریافت کیا : تمہارے آقا حضرت ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، جسے اس نے کنواری مریم کی طرف بھیجا تھا ، جن کے قریب کوئی بشر نہیں گیا تھا اور جن کے ہاں بچے کی پیدائش میں کسی بشر کے فعل کا دخل نہیں ہے ‘ نجاشی نے زمین سے ایک تنکا پکڑا ‘ اسے اٹھایا اور بولا : اے راہبوں اور پادریوں کے گروہ ! حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگ جو عقیدہ رکھتے ہو ‘ اس شخص نے اس سے اتنا بھی زیادہ نہیں بیان کیا ، جتنا اس تنکے کا وزن ہے ‘ تم لوگوں کو خوش آمدید ہے ! انہیں خوش آمدید ہے ! جن کے پاس سے تم آئے ہو ‘ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، وہ ‘ وہی فرد ہیں ، جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی ‘ اگر میرے حکومتی معاملات نہ ہوتے ‘ تو میں ان کے پاس جاتا اور ان کے جوتوں کو بوسہ دیتا ، تم لوگ میری سرزمین پر جب تک چاہو رہو ‘ پھر بادشاہ نے ہمیں اناج اور کپڑے دینے کا حکم دیا اور یہ کہا : ان دو افراد کے تحفے انہیں واپس کر دو ‘ عمرو بن العاص چھوٹے قد کا شخص تھا ، جبکہ عمارہ ایک وجیہہ و شکیل شخص تھا وہ دونوں نجاشی کے پاس سے آئے ‘ انہوں نے شراب پی ‘ عمرو بن العاص کے ساتھ ان کی بیوی تھی ‘ جب ان لوگوں نے شراب پی لی ‘ تو عمارہ نے عمرو سے کہا : اپنی بیوی سے کہو کہ میرا بوسہ لے ‘ عمرو نے اس سے کہا : کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا ‘ عمرو ‘ عمارہ کو واسطے دیتے رہے ‘ یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی میں سوار کر لیا ‘ عمرو نے یہ بات دل میں رکھی ، پھر عمرو نے نجاشی سے کہا : جب تم نکلے تھے ‘ تو عمارہ تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری بیوی کے پاس گیا تھا ‘ تو نجاشی نے عمارہ کو بلوایا اور اس کی شرمگاہ میں اذیت پہنچائی تو وہ وحشی جانوروں کی طرح بھاگ کھڑا ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے ایک سطر جتنا حصہ جنائز سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9848

Majma al-Zawaid #9848

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَأَقَامَ بِهَا حَتَّى قَدِمَ بَعْدَ بَدْرٍ: شُرَحْبِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنَةَ، وَهِيَ أُمُّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab, regarding the names of those who emigrated to Abyssinia and remained there until they arrived after Badr: Shurahbil ibn 'Abdullah ibn Hasana — Hasana being his mother.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب کے حوالے سے ‘ ان لوگوں کے نام منقول ہیں ، جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہاں مقیم رہے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ غزوہ بدر کے بعد واپس آئے تھے ‘ ان میں ایک حضرت شرحبیل بن عبداللہ بن حسنہ رضی اللہ عنہ تھے ‘ وہ ( یعنی حسنہ نامی خاتون ‘ عبداللہ نامی شخص کی ) والدہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9849

Majma al-Zawaid #9849

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا بَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ زَمَنَ النَّجَاشِيِّ، وَكَانَ عُمَارَةُ رَجُلًا جَمِيلًا، وَكَانَ يَقْذِفُ عَمْرًا فِي الْبَحْرِ، وَكَانَ يَعُومُ فَيَخْرُجُ، ثُمَّ يُلْقِيهِ أَيْضًا، فَيَعُومُ، فَحَقَدَ عَمْرٌو فِي نَفْسِهِ عَلَى عُمَارَةَ مَا كَانَ يَصْنَعُ بِهِ، فَلَمَّا قَدِمَا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَقَالَا لَهُ: إِنَّ جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ طَعَنُوا عَلَى آبَائِهِمْ، وَخَالَفُوهُمْ فِي دِينِهِمْ، وَهُمْ يُخَالِفُونَكَ، وَلَا يُحَيُّونَكَ كَمَا يُحَيِّكَ النَّاسُ، فَوَقَعُوا فِيهِمْ، فَبَعَثَ النَّجَاشِيُّ إِلَى جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تُحَيُّونِي كَمَا تُحَيِّينِي النَّاسُ؟ قَالُوا: إِنَّ لَنَا رَبًّا لَا يَنْبَغِي أَنْ نَسْجُدَ لِغَيْرِهِ، وَلَوْ سَجَدْنَا لِأَحَدٍ لَسَجَدْنَا لِنَبِيِّنَا قَالَ: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ كِتَابِكُمْ شَيْءٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَرَأَ جَعْفَرٌ سُورَةَ مَرْيَمَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي عِيسَى؟ قَالَ: هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: مَا تَقُولُونَ؟ فَسَكَتُوا، فَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا خَالَفُوا أَمْرَ عِيسَى هَذِهِ وَإِنْ أَنْكَرْتُكُمْ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ جَهَّزْتُكُمْ فَقَدِمْتُمْ عَلَى نَبِيِّكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَقَمْتُمْ عِنْدِي حَتَّى يَسْتَقِرَّ مَكَانًا، فَأَخَذَ عَمْرٌو يَعْمَلُ فِي عُمَارَةَ، فَلَطُفَ بِامْرَأَةِ النَّجَاشِيِّ فَأَخَذَ عِطْرًا مِنْ عِطْرِهَا، ثُمَّ قَالَ لِلنَّجَاشِيِّ: إِنَّ عُمَارَةَ يَدْخُلُ عَلَى امْرَأَتِكَ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ غَدًا وَعَلَيْهِ طِيبٌ مِنْ طِيبِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَا طَيَّبَهُ، فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَلِكِ، فَانْطَلَقَا حَتَّى دَخَلَ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الطِّيبِ، فَعَرَفَ النَّجَاشِيُّ طِيبَهُ، فَأَمَرَ النَّجَاشِيُّ بِعُمَارَةَ فَنَفَخَ فِي إِحْلِيلِهِ، فَاسْتُطِيرَ حَتَّى لَحِقَ بِالصَّحَارَى، يَسْعَى فِيهَا مَعَ الْوَحْشِ، فَجَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ أَهْلَهُ فَأَصَابُوهُ، فَسَقَوْهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ فَتَعْتَعَتْهُ فَمَاتَ، فَلَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَتْهُ وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd al-Rahman ibn Abi Layla said: Quraysh sent 'Amr ibn al-'As and 'Umara ibn al-Walid in the time of the Negus. 'Umara was handsome; he would throw 'Amr into the sea, and 'Amr would swim out, only for him to throw him again. 'Amr bore a grudge. When they arrived and entered upon the Negus, they said: Ja'far and his companions reviled their forefathers, opposed them in religion, oppose you, and do not greet you as people greet you. They disparaged them. The Negus sent for Ja'far and his companions and said: Why do you not greet me as people greet me? They said: We have a Lord to Whom we bow to none besides; had we bowed to anyone we would bow to our Prophet. He said: Do you have anything of your Book with you? They said: Yes. Ja'far read the chapter of Mary. He said: What do you say about Jesus? He said: He is Allah's spirit and word cast to Mary. He asked his companions: What do you say? They fell silent. He took something between his fingers and they said: By Allah, they did not contradict the affair of Jesus by even this, though I disavow you. I call you to witness I believe in what was revealed to Muhammad ﷺ. Then he said: If you wish I shall equip you to join your Prophet, or if you wish remain with me until his place is secure. 'Amr schemed against 'Umara, endearing himself to the Negus's wife, taking some of her perfume. Then he told the Negus: 'Umara visits your wife; the sign is he will enter upon you tomorrow scented with her perfume. In the morning he perfumed him and said: Let us go to the king. They entered, and he smelled the perfume; the Negus recognized his scent. He ordered 'Umara seized, blew into his urethra, and he was driven out to the deserts, roaming with wild beasts. Later his family found him, gave him a drink of barley gruel that choked him, and he died. When Ja'far and his companions came to the Messenger of Allah ﷺ, news of the Negus's death reached him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحم بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو نجاشی کے زمانے میں بھیجا ، عمارہ ایک وجیہہ و شکیل شخص تھے ‘ انہوں نے عمرو کو سمندر میں پھینک دیا وہ غوطے کھاتے ہوئے نکلے ‘ پھر انہوں نے دوبارہ پھینک دیا ‘ وہ پھر غوطے کھاتے ہوئے نکلے ‘ تو عمرو نے عمارہ کے خلاف دل میں یہ بات رکھ لی ‘ جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا ، جب وہ دونوں نجاشی کے پاس پہنچے ‘ تو ان دونوں نے نجاشی سے کہا : جعفر اور ان کے ساتھی اپنے آباؤ اجداد پر الزام عائد کرتے ہیں اور ان کے دین سے مختلف رائے رکھتے ہیں اور وہ تم لوگوں کے دین سے بھی مختلف رائے رکھتے ہیں ‘ وہ تمہیں اس طرح سلام نہیں کرتے ہیں ، جس طرح دوسرے لوگ سلام کرتے ہیں ، یوں انہوں نے ان کے خلاف باتیں کیں ، نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلا لیا اور دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم لوگ مجھے اس طرح سلام نہیں کرتے ( یعنی سجدہ نہیں کرتے ) جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا : ہمارا ایک پروردگار ہے ‘ اس کے علاوہ کسی اور کے لئے سجدہ کرنا ‘ ہمارے لئے جائز نہیں ہے اگر ہم نے کسی کو سجدہ کرنا ہوتا ‘ تو ہم اپنے نبی کو سجدہ کرتے ‘ نجاشی نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس تمہاری کتاب کا کوئی حصہ ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی ‘ نجاشی نے دریافت کیا : تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ اللہ کی روح ‘ اُس کا کلمہ ہیں ، جسے اس نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی طرف القاء کیا تھا ، نجاشی نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ وہ لوگ خاموش رہے ‘ نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اپنی دو انگلیوں کے درمیان لی اور بولے : اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے معاملے کے بارے میں اتنی بھی مخالفت نہیں کی اور میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : میں اس چیز پر ایمان لاتا ہوں ‘ جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے پھر اس نے کہا : اگر تم لوگ چاہو ‘ تو میں تمہیں ساز و سامان فراہم کر دیتا ہوں ، تم لوگ اپنے نبی کے پاس چلے جاؤ اور اگر تم چاہو تو میرے ہاں مقیم رہو ‘ جب تک صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی ۔ عمرو ‘ عمارہ کے ساتھ تھے ‘ انہوں نے ‘ حیلے سے نجاشی کی بیوی کا عطر لے لیا ‘ پھر نجاشی سے کہا : عمارہ تمہاری بیوی کے پاس گیا تھا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ کل جب وہ تمہارے پاس آئے گا ‘ تو اس پر تمہاری بیوی کی خوشبو لگی ہوئی ہو گی ‘ جب وہ اگلے دن آئے تو انہوں نے عمارہ کو خوشبو لگا دی اور کہا : چلو ! بادشاہ کے پاس چلتے ہیں ، جب وہ دونوں گئے اور بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ کو اس سے اپنی بیوی کی خوشبو محسوس ہوئی ‘ تو نجاشی نے اس خوشبو کو پہچان لیا ‘ نجاشی نے عمارہ کے بارے میں حکم دیا اس کی شرمگاہ میں پھونک ماری گئی ‘ یہاں تک کہ وہ بے قرار ہو کر صحراء میں چلا گیا اور وحشی جانوروں کے ساتھ دوڑا پھرتا تھا ‘ اس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے پاس آیا ‘ ان لوگوں نے اس کو پکڑا اور اسے ستو کا مشروب پلایا ، جس کی وجہ سے وہ مر گیا ۔ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ‘ تو اس کے بعد آپ ﷺ کے پاس ‘ نجاشی کے انتقال کی اطلاع آئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9850

Majma al-Zawaid #9850

«وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ خَرَجُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ: الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَسَهْلُ بْنُ بَيْضَاءَ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ، وَمَعَهُ أُمُّ كُلْثُومَ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ سَلَمَةَ. قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَهَبُوا الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا {وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى} [النجم: 1] فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ: لَوْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا بِخَيْرٍ أَقْرَرْنَاهُ وَأَصْحَابَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ أَحَدًا مِمَّنْ خَالَفَ دِينَهُ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى بِمِثْلِ الَّذِي يَذْكُرُ بِهِ آلِهَتَنَا مِنَ الشَّرِّ وَالشَّتْمِ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّذِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ، وَقَرَأَ: {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى} [النجم: 19 - 20] أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِيهَا عِنْدَ ذَلِكَ ذِكْرَ الطَّوَاغِيتِ، فَقَالَ: وَإِنَّهُنَّ مِنَ الْعَرَانِيقِ الْعُلَا، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُمْ لَتُرْتَجَى، وَذَلِكَ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ، فَوَقَعَتْ هَاتَانِ الْكَلِمَتَانِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُشْرِكٍ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ، وَاسْتَبْشَرُوا بِهَا، وَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ الْأَوَّلِ، وَدِينِ قَوْمِهِ. فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا النَّجْمُ سَجَدَ، وَسَجَدَ مَعَهُ كُلُّ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ مُسْلِمٍ وَمُشْرِكٍ، غَيْرَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ رَجُلًا كَبِيرًا فَرَفَعَ مِلْءَ كَفِّهِ تُرَابًا فَسَجَدَ عَلَيْهِ، فَعَجِبَ الْفَرِيقَانِ كِلَاهُمَا مِنْ جَمَاعَتِهِمْ فِي السُّجُودِ لِسُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَعَجِبُوا مِنْ سُجُودِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ إِيمَانٍ وَلَا يَقِينٍ، وَلَمْ يَكُنِ الْمُسْلِمُونَ سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ عَلَى أَلْسِنَةِ الْمُشْرِكِينَ. وَأَمَّا الْمُشْرِكُونَ فَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ لَمَّا سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ في أُمْنِيَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَهُمُ الشَّيْطَانُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَرَأَهَا فِي السَّجْدَةِ، فَسَجَدُوا لِتَعْظِيمِ آلِهَتِهِمْ، فَفَشَتْ تِلْكَ الْكَلِمَةُ فِي النَّاسِ وَأَظْهَرَهَا الشَّيْطَانُ حَتَّى بَلَغَتِ الْحَبَشَةُ، فَلَمَّا سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْلَمُوا، وَصَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَهُمْ سُجُودُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَلَى التُّرَابِ عَلَى كَفِّهِ، أَقْبَلُوا سِرَاعًا فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَمْسَى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَا إِلَيْهِ، فَأَمَرَهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا بَلَغَهَا تَبَرَّأَ مِنْهَا جِبْرِيلُ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ هَاتَيْنِ، مَا أَنْزَلَهُمَا رَبِّي، وَلَا أَمَرَنِي بِهِمَا رَبُّكَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ: أَطَعْتُ الشَّيْطَانَ، وَتَكَلَّمْتُ بِكَلَامِهِ، وَشَرَكَنِي فِي أَمْرِ اللَّهِ. فَنَسَخَ اللَّهُ مَا أَلْقَى الشَّيْطَانُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [الحج: 52]. {لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ} [الحج: 53]. فَلَمَّا بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ انْقَلَبَ الْمُشْرِكُونَ بِضَلَالِهِمْ وَعَدَاوَتِهِمْ، وَبَلَغَ الْمُسْلِمُونَ مِمَّنْ كَانَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَقَدْ شَارَفُوا مَكَّةَ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الرُّجُوعَ مِنْ شِدَّةِ الْبَلَاءِ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَالْجُوعِ وَالْخَوْفِ وَخَافُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَيُبْطَشَ بِهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَّا بِجِوَارٍ، فَأَجَارَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، فَلَمَّا أَبْصَرَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ الَّذِي يَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ، وَعُذِّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِالنَّارِ وَبِالسِّيَاطِ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مُعَافًى لَا يَعْرِضُ لَهُ، رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ فَاسْتَحَبَّ الْبَلَاءَ عَلَى الْعَافِيَةِ، وَقَالَ: أَمَّا مَنْ كَانَ فِي عَهْدِ اللَّهِ وَذِمَّتِهِ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ الَّذِي اخْتَارَ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَمَنْ دَخَلَ فِيهِ فَهُوَ خَائِفٌ مُبْتَلًى بِالشِّدَّةِ وَالْكَرْبِ، عَمِدَ إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَمِّ، أَجَرْتَنِي فَأَحْسَنْتَ جِوَارِي، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُخْرِجَنِي إِلَى عَشِيرَتِكَ، فَتَبْرَأَ مِنِّي بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ. فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ: ابْنَ أَخِي لَعَلَّ أَحَدًا آذَاكَ أَوْ شَتَمَكَ وَأَنْتَ فِي ذِمَّتِي، فَأَنْتَ تُرِيدُ مَنْ هُوَ أَمْنَعُ لَكَ مِنِّي، فَأَنَا أَكْفِيكَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا بِي ذَلِكَ، وَمَا اعْتَرَضَ لِي مِنْ أَحَدٍ، فَلَمَّا أَبَى عُثْمَانُ إِلَّا أَنْ يَتَبَرَّأَ مِنْهُ الْوَلِيدُ أَخْرَجَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَقُرَيْشٌ فِيهِ كَأَحْفَلِ مَا كَانُوا، وَلَبِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الشَّاعِرُ يُنْشِدُهُمْ، فَأَخَذَ الْوَلِيدُ بِيَدِ عُثْمَانَ فَأَتَى بِهِ قُرَيْشًا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي وَحَمَلَنِي عَلَى أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْهِ عَنْ جِوَارِي، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ فَجَلَسَا مَعَ الْقَوْمِ، وَأَخَذَ لَبِيدٌ يُنْشِدُهُمْ فَقَالَ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ. فَقَالَ عُثْمَانُ: صَدَقْتَ. ثُمَّ إِنْ لَبِيدًا أَنْشَدَهُمْ تَمَامَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ. فَقَالَ: كَذَبْتَ. فَسَكَتَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَدْرُوا مَا أَرَادَ بِكَلِمَتِهِ، ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّانِيَةَ، وَأَمَرَ بِذَلِكَ، فَلَمَّا قَالَهَا قَالَ مِثْلَ كَلِمَتِهِ الْأُولَى وَالْأُخْرَى، صَدَقْتَ مَرَّةً وَكَذَبْتَ مَرَّةً، وَإِنَّمَا يُصَدِّقُهُ إِذَا ذَكَرَ كُلَّ شَيْءٍ يَفْنَى، وَإِذَا قَالَ: كُلُّ نَعِيمٍ ذَاهِبٌ كَذَّبَهُ عِنْدَ ذَلِكَ؛ إِنَّ نَعِيمَ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَا يَزُولُ، نَزَعَ عِنْدَ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَطَمَ عَيْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَاخْضَرَّتْ مَكَانَهَا، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَأَصْحَابُهُ: قَدْ كُنْتَ فِي ذِمَّةٍ مَانِعَةٍ مَمْنُوعَةٍ فَخَرَجْتَ مِنْهَا إِلَى هَذَا، فَكُنْتَ عَمَّا لَقِيتَ غَنِيًّا، ثُمَّ ضَحِكُوا، فَقَالَ عُثْمَانُ: بَلْ كُنْتُ إِلَى هَذَا الَّذِي لَقِيتُ مِنْكُمْ فَقِيرًا، وَعَيْنِي الَّتِي لَمْ تُلْطَمْ إِلَى مِثْلِ هَذَا الَّذِي لَقِيتُ، صَاحِبَتُهَا فَقِيرَةٌ لِي فِيمَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكُمْ أُسْوَةً، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ: إِنْ شِئْتَ أَجَرْتُكَ الثَّانِيَةَ. قَالَ: لَا أَرَبَ لِي فِي جِوَارِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

'Urwa ibn al-Zubayr, regarding the names of those who went to Abyssinia the first time before Ja'far and his companions: al-Zubayr ibn al-'Awwam, Sahl ibn Bayda', 'Amir ibn Rabi'a, 'Abdullah ibn Mas'ud, 'Abd al-Rahman ibn 'Awf, 'Uthman ibn 'Affan with his wife Ruqayya daughter of the Messenger of Allah ﷺ, 'Uthman ibn Maz'un, Mus'ab ibn 'Umayr of Banu 'Abd al-Dar, Abu Hudhayfa ibn 'Utba ibn Rabi'a with his wife Sahla bint Suhayl ibn 'Amr — who bore him Muhammad ibn Abi Hudhayfa in Abyssinia — Abu Sabra ibn Abi Ruhm with Umm Kulthum bint Suhayl ibn 'Amr, and Abu Salama ibn 'Abd al-Asad with his wife Umm Salama. Then those first emigrants returned before Ja'far when Allah revealed the chapter mentioning By the star when it descends. The polytheists of Quraysh said: If only this man would mention our gods well, we would affirm him and his companions, for he mentions none who oppose his religion among Jews and Christians with the evil and revilement he mentions our gods with. When Allah revealed the chapter of The Star and he recited: Have you seen al-Lat and al-'Uzza and Manat the third, the other — Satan cast into it mention of the false gods: They are the high cranes whose intercession is hoped for — from Satan's chant and trial. Those two phrases fell into every polytheist's heart, their tongues hastened with them, they rejoiced, saying: Muhammad has returned to his first religion and his people's religion. When the Messenger of Allah ﷺ reached the end of the chapter of The Star, he prostrated, and all present prostrated with him, Muslim and polytheist, except al-Walid ibn al-Mughira, an aged man who lifted a handful of dust and prostrated upon it. Both groups marveled at their prostration following the Prophet's prostration. The Muslims marveled at the polytheists' prostration without faith or certainty — they had not heard what Satan cast upon the polytheists' tongues. The polytheists felt reassured toward the Prophet ﷺ and his companions upon hearing what Satan cast into the Prophet's recitation, and Satan whispered that the Prophet ﷺ had recited it in the prostration chapter, so they prostrated to glorify their gods. The word spread until it reached Abyssinia. When 'Uthman ibn Maz'un, 'Abdullah ibn Mas'ud, and the Meccans with them heard that people had accepted Islam and joined the Messenger of Allah ﷺ, and heard of al-Walid's prostration upon dust in his palm, they hastened back. That grieved the Messenger of Allah ﷺ. In the evening Gabriel, peace be upon him, came to him; he complained to him, was commanded to recite to him, and when he reached it Gabriel disavowed it, saying: Allah forbid these two — my Lord never revealed them nor did your Lord command me with them. The Messenger of Allah ﷺ was distressed, saying: I obeyed Satan and spoke his words; he shared in Allah's affair with me. Then Allah abrogated what Satan cast and revealed: Never did We send before you a messenger or prophet but that when he recited Satan cast into his recitation, then Allah abrogates what Satan casts then perfects His verses, and Allah is Knowing, Wise — to make what Satan casts a trial for those in whose hearts is disease and those whose hearts are hardened; indeed the wrongdoers are in far dissension. When Allah cleared him of Satan's chant and trial, the polytheists reverted to their error and enmity. The Muslims returning from Abyssinia, nearing Mecca, could not turn back for the severity of trial, hunger, and fear, fearing entry lest they be seized. None entered except under protection. Al-Walid ibn al-Mughira protected 'Uthman ibn Maz'un. When 'Uthman saw the trial befalling the Messenger of Allah ﷺ and his companions — some tortured with fire and whips — while he remained safe untouched, he preferred trial to safety. He went to al-Walid and said: O cousin, you granted me protection and did well; I wish you to take me to your clan and disavow me before them. Al-Walid said: Son of my brother, perhaps someone harmed or reviled you under my protection, and you seek one more preventive than me — I shall suffice you. He said: No, by Allah, none confronted me. When 'Uthman insisted that al-Walid disavow him, he took him to the mosque where Quraysh sat in full assembly, with Labid ibn Rabi'a the poet reciting to them. Al-Walid took 'Uthman's hand, brought him to Quraysh, and said: He has overpowered me and made me relinquish my protection; I call you to witness I am quit of him. They sat with the people, and Labid recited: Indeed everything besides Allah is false. 'Uthman said: You speak truth. Then Labid completed the verse: And every bliss must surely fade. He said: You lie. The people fell silent, not knowing his intent. He repeated it a second time, and 'Uthman again said truth once and lie once — affirming him that all perishes, but denying that all bliss fades, for the bliss of Paradise never ends. At that a man of Quraysh slapped 'Uthman ibn Maz'un's eye, greening it. Al-Walid and his companions said: You were under strong protection; you left it for this — you could have been spared. They laughed. 'Uthman said: Rather I was in need of what I met from you; my eye that was not struck longs for what its fellow met, for one dearer to me than you is my example. Al-Walid said: If you wish I shall protect you again. He said: I have no need of your protection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر ‘ اُن لوگوں کے نام بیان کرتے ہیں : جو حبشہ کی سرزمین کی طرف پہلی مرتبہ نکلے تھے ‘ یہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے جانے سے پہلے کی بات ہے ( اور اُن کے نام یہ ہیں : ) حضرت زبیر بن عوام ‘ رضی اللہ عنہ حضرت سہل بن بیضاء ‘ رضی اللہ عنہ حضرت عامر بن ربیعہ ‘ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عثمان بن غنی رضی اللہ عنہ ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی ہیں ، حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ‘ جن کا تعلق بنو عبدالدار سے ہے ‘ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا تھیں ، جنہوں نے حبشہ کی سرزمین پر ان کے صاحبزادے محمد بن ابوحذیفہ کو جنم دیا تھا ، حضرت ابوسبرہ بن ابورہم رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ سیدہ ام کلثوم بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا تھیں ، حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ جو لوگ حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے پہلے ‘ پہلی مرتبہ میں حبشہ گئے تھے ‘ یہ لوگ واپس آ گئے ‘ یہ اس وقت کی بات ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جس میں یہ ذکر ہے : ’’ اور ستارے کی قسم ہے ! جب وہ نیچے کی طرف آتا ہے ‘‘۔ تو مشرکین جن کا تعلق قریش سے تھا ‘ انہوں نے یہ کہا : اگر یہ صاحب ہمارے معبودوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ کریں ‘ تو ہم انہیں اور ان کے ساتھیوں کو رہنے دیں گے ‘ کیونکہ یہ اپنے برخلاف دین رکھنے والے اور کسی بھی دین ، یعنی یہودیوں یا عیسائیوں کا ذکر اس طرح نہیں کرتے ہیں ، جس طرح یہ برائی اور برا کہنے کے ہمراہ ‘ ہمارے معبودوں کا ذکر کرتے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ، جس میں اس کا ذکر ہے کہ ستارے کی قسم ہے کہ جب وہ نیچے آیا ‘ اس میں یہ آیت تلاوت کی : جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بنائے ہوئے کلمات اور اس کی آزمائش سے نبی اکرم ﷺ کو لاتعلق کر دیا ، تو مشرکین اپنی گمراہی اور عداوت کی طرف لوٹ گئے ‘ جو مسلمان حبشہ کی سرزمین پر رہتے تھے ‘ انہیں اس وقت اس بات کی اطلاع ملی ‘ جب وہ مکہ کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ مشکلات کی وجہ سے واپس جانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ‘ کیونکہ انہیں بھوک اور خوف لاحق تھا ، لیکن انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ اگر وہ مکہ میں داخل ہو گئے ، تو ان کے ساتھ زیادتیاں ہوں گی ، تو ان میں سے ہر ایک فرد کسی کی پناہ لے کر مکہ میں آیا ‘ ولید بن مغیرہ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو پناہ دے دی ‘ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ‘ اور آپ کے ساتھیوں کو آگ کے ذریعے اور کوڑوں کے ذریعے تکلیف دی جاتی ہے ‘ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خود عافیت میں رہ رہے تھے ‘ ان کے ساتھ یہ صورت حال نہیں تھی ، انہوں نے غور کیا اور عافیت کے مقابلے میں آزمائش کو پسند کیا اور یہ کہا : جو شخص اللہ تعالیٰ کے عہد اور اس کے ذمہ میں ہو ‘ اور اس کے رسول کے ذمہ میں ہو ‘ جسے وہ اہل اسلام میں سے اپنے ساتھیوں کے لئے اختیا کر لے ‘ اور جو شخص اس میں داخل ہو جائے وہ خوف زدہ ہو ‘ شدت اور پریشانی میں مبتلاء ہو ‘ تو وہ ولید بن مغیرہ کے پاس گئے اور بولے : اے چچازاد ! تم نے مجھے پناہ دی تھی ‘ تم نے اچھے طریقے سے پناہ دی تھی ، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے ساتھ لے کر اپنے خاندان کے پاس جاؤ اور ان کے درمیان مجھ سے لاتعلقی کا اظہار کر دو ! ولید نے ان سے کہا : اے میرے بھتیجے ! شاید تمہیں کسی نے اذیت پہنچائی ہے ‘ یا تمہیں برا کہا ہے ‘ جبکہ تم میرے ذمہ میں ہو اور تم یہ چاہتے کہ تم اس شخص کے پاس چلے جاؤ ‘ جو مجھ سے زیادہ اچھی پناہ دے سکتا ہے ‘ لیکن میں اس صورت حال میں تمہارے لئے کفایت کر جاؤں گا ، حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! ایسی کوئی بات نہیں ہے ‘ کوئی میرے در پے نہیں ہوا ۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ ولید اُن سے لاتعلقی کا اظہار کرے ‘ تو وہ انہیں ساتھ لے کر مسجد میں آیا ‘ قریش وہاں زیادہ تعداد میں موجود تھے ‘ ولید بن ربیعہ ‘ جو شاعر ہے ‘ وہ انہیں شعر سنا رہا تھا ‘ ولید نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ‘ وہ انہیں لے کر قریش کے پاس آیا اور بولا : یہ شخص مجھ پر غالب آ گیا ہے اور اس نے مجھے اس بات پر مجبور کیا ہے کہ میں اس کی پناہ واپس لے لوں ‘ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس سے لاتعلق ہوں ، پھر وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے ‘ لبید نے انہیں شعر سنانے شروع کیے اور یہ مصرعہ پڑھا : خبردار ! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے ‘‘۔ تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے سچ کہا ہے ‘ پھر لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا اور یہ کہا : ’’ ہر چیز لازمی طور پر زائل ( یعنی ختم ) ہو جائے گی “۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے غلط کہا ہے ‘ لوگ خاموش ہو گئے ‘ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس کلمہ کے ذریعے کیا مراد لیا ہے ؟ پھر اس نے دوسری مرتبہ اس کو دُہرایا ‘ تو انہوں نے اس کے مطابق بات کی ‘ جب اس نے وہ مصرعہ پڑھا ‘ تو انہوں نے یہی بات کہی جو پہلے اور دوسرے مصرعہ کی دفعہ کہی تھی ‘ کہ ایک مرتبہ یہ کہا کہ تم نے سچ کہا ہے اور ایک مرتبہ یہ کہا کہ تم نے غلط کہا ہے ‘ تو انہوں نے اُس کی اس بات کی تصدیق کی کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی ‘ تو جب اس نے یہ کہا کہ ہر نعمت بھی ختم ہو جائے گی ‘ ، تو اس وقت انہوں نے اس کی بات کو جھٹلا دیا کہ اہل جنت کی نعمتیں تو کبھی زائل نہیں ہوں گی ‘ اس وقت قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اٹھا اور اس نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو تھپڑ مارا ‘ جس کی وجہ سے وہ جگہ نیلی پڑ گئی ‘ ولید بن مغیرہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا : تم ایک ایسی پناہ میں تھے ‘ جو رکاوٹ بننے والی تھی اور بچانے والی تھی اور تم اس صورت حال سے نکل کر اس صورت حال میں آ گئے ہو کہ تمہیں جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ‘ اس سے نہیں بچ پائے ، پھر وہ لوگ ہنس پڑے ‘ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ میں نے جس صورت حال کا سامنا کیا ہے ‘ میں اسی میں خوش ہوں اور میری وہ آنکھ جس پر ابھی تھپڑ نہیں لگا ‘ وہ اس آنکھ کی بہ نسبت فقیر ہے ‘ جس پر تھپڑ لگا ہے ‘ اس پر ولید نے ان سے کہا : اگر تم چاہو تو میں دوبارہ تمہیں پناہ دے دیتا ہوں ‘ انہوں نے فرمایا : مجھے تمہاری پناہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ‘ اسی طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ نامی راوی ہے ۔

9851

Majma al-Zawaid #9851

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُجِيبُوهُ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ ضَعْفَ قُوَّتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ أَنْتَ، أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي؟ أَمْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي؟ إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانَ عَلَيَّ فَلَا أُبَالِي، غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي، أُعُوذُ بِوَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ يَنْزِلَ بِي غَضَبُكَ أَوْ يَحِلَّ بِي سَخَطُكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Ja'far, may Allah be pleased with them, said: When Abu Talib died, the Prophet ﷺ went out to Ta'if on foot, calling them to Islam, but they did not answer him. He withdrew to the shade of a tree, prayed two rak'as, then said: > **"O Allah, I complain to You of the weakness of my strength and my lowliness before people. Most Merciful of the merciful, You are the Most Merciful of the merciful — to whom do You entrust me? To an enemy who frowns at me, or to a near one to whom You have given my affair? If You are not angry with me, I do not care — yet Your well-being is more spacious for me. I seek refuge in Your Face by which darknesses shone and the affair of this world and the Hereafter was set right, lest Your anger descend upon me or Your wrath befall me. Yours is the reproach until You are pleased, and there is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ طائف تشریف لے گئے ‘ آپ پیدل وہاں تشریف لے گئے تھے ‘ آپ نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت کی ‘ انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ‘ جب آپ واپس تشریف لا رہے تھے ‘ تو آپ ایک درخت کے سائے میں آئے ‘ وہاں آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ، پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میں تیرے سامنے اپنی قوت کے کمزور ہونے اور لوگوں کے سامنے اپنی حیثیت کے کم ہونے کی شکایت کرتا ہوں تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ‘ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! تو مجھے کس کے سپرد کرے گا ؟ دشمن کے تاکہ وہ میرے ساتھ سختی سے پیش آئے ‘ یا کسی قریب کے سپرد کرے گا جس کو تو میرے معاملے کا نگران بنا دے اگر تو مجھ پر غضبناک نہیں ہے ‘ تو پھر مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ‘ تاہم تیری عافیت میرے لئے زیادہ گنجائش والی ہے میں تیری اس ذات کی پناہ لیتا ہوں ، جس کی وجہ سے تاریکیاں روشن ہوتی ہیں ، اور جس کی وجہ سے دنیا اور آخرت کا معاملہ ٹھیک ہوتا ہے ( اس بات سے پناہ لیتا ہوں ) کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو جائے ‘ یا تیری ناراضگی میرے لیے حلال ہو جائے ‘ عتاب کرنا تیرے ہی لیے مخصوص ہے ‘ یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9852

Majma al-Zawaid #9852

«وَعَنْ رَقِيقَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْتَغِي النَّصْرَ بِالطَّائِفِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْ لَهُ بِشَرَابٍ مِنْ سَوِيقٍ، فَشَرِبَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَعْبُدِي طَاغِيَتَهُمْ، وَلَا تَصَلِّي إِلَيْهَا "". قُلْتُ: إِذًا يَقْتُلُونِي! قَالَ: "" فَإِذَا قَالُوا لَكِ ذَلِكَ، فَقُولِي: رَبُّ هَذِهِ الطَّاغِيَةِ، فَإِذَا صَلَّيْتِ فَوَلِّيهَا ظَهْرَكِ "". ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عِنْدِهِمْ، قَالَتْ بِنْتُ رَقِيقَةَ: فَأَخْبَرَنِي أَخَوَايَ سُفْيَانُ وَوَهَبُ ابْنَيْ قَيْسِ بْنِ أَبَانَ، قَالَا: لَمَّا أَسْلَمَتْ ثَقِيفٌ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا فَعَلَتْ أُمُّكُمَا؟ "". قُلْنَا: هَلَكَتْ عَلَى الْحَالِ الَّتِي تَرَكْتَهَا قَالَ: "" لَقَدْ أَسْلَمَتْ أُمُّكُمَا إِذًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Raqiqa said: When the Prophet ﷺ came seeking support at Ta'if, he entered upon her, and she ordered a drink of barley gruel for him; he drank. The Messenger of Allah ﷺ said to me: > **"Do not worship their idol, nor pray toward it."** I said: Then they will kill me! He said: > **"When they tell you that, say: Lord of this idol. And when you pray, turn your back to it."** Then the Messenger of Allah ﷺ left them. The daughter of Raqiqa said: My two brothers Sufyan and Wahb, sons of Qays ibn Aban, told me: When Thaqif accepted Islam, we went to the Messenger of Allah ﷺ, who said: > **"What happened to your mother?"** We said: She died in the state you left her. He said: > **"Then your mother has accepted Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب طائف سے واپس تشریف لائے ‘ تو آپ اُن ( خاتون ) کے پاس آئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ستو کا مشروب تیار کرنے کا حکم دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے وہ پی لیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم ان کے معبودوں کی عبادت نہ کرو اور نہ ہی ان کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھو ‘ میں نے کہا : ایسی صورت میں وہ مجھے قتل کر دیں گے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ تمہیں اس بارے میں کچھ کہیں ، تو تم یہ کہنا کہ اس طاغہ کے پروردگار کے لئے اور جب تم نماز ادا کرو ‘ تو اپنی پشت اس کی طرف کر لینا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس سے تشریف لے گئے ۔ سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : میرے دو بھائیوں ‘ سفیان بن قیس بن ابان اور وہب بن قیس بن ابان نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ جب ثقیف قبیلے کے لوگ مسلمان ہو گئے ‘ تو ہم نکل کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ‘ آپ نے دریافت کیا : تمہاری ماں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے کہا : اُن کا انتقال اسی حالت میں ہوا تھا ، جس پر آپ نے انہیں چھوڑا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس صورت میں ‘ تمہاری ماں مسلمان تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9853

Majma al-Zawaid #9853

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسُهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ، فَيَقُولُ: "" هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ "". فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ، فَقَالَ: "" مِمَّنْ أَنْتَ؟ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: مِنْ هَمْدَانَ، فَقَالَ: "" هَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنْعَةٍ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَخْفِرَهُ قَوْمُهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: آتِيهِمْ أُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ قَابِلٍ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ would present himself to people at the standing place, saying: > **"Is there any man to carry me to his people? For Quraysh have prevented me from conveying the speech of my Lord, mighty and majestic."** A man of Hamdan came to him. He said: > **"From whom are you?"** The man said: From Hamdan. He said: > **"Does your people have strength?"** He said: Yes. Then the man feared his people would betray him, so he came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I shall go inform them, then come to you next year. He said: Yes. He departed, and the delegation of the Ansar came in Rajab.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حج کے موقع پر ‘ مختلف لوگوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے : کیا کوئی شخص مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے گا ؟ کیونکہ قریش تو مجھے اس بات سے روکتے ہیں کہ میں اپنے پرودگار کے کلام کی تبلیغ کروں ‘ ہمدان قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے پاس آیا ‘ آپ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہمدان سے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہاری قوم کے پاس مضبوط حیثیت ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر اس شخص کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کی عہد شکنی نہ کرے ‘ تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : میں اُن لوگوں کے پاس جا کر انہیں اس بارے میں بتاؤں گا ‘ پھر میں اگلے سال آپ کے پاس آؤں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر وہ شخص چلا گیا اور پھر رجب کے مہینے میں انصار کا وفد آ گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9854

Majma al-Zawaid #9854

«وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: إِنِّي لَمَعَ أَبِي، شَابٌّ، أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْمَرُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ، يَقِفُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقَبِيلَةِ يَقُولُ: "" يَا بَنِي فُلَانٍ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ، آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تُصَدِّقُونِي وَتَمْنَعُونِي، حَتَّى أُنَفِّذَ عَنِ اللَّهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ "". فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِهِ، قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِهِ: يَا بَنِي فُلَانٍ، إِنَّ هَذَا يُرِيدُ مِنْكُمْ أَنْ تَسْلَخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أَقْيَشَ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ، فَلَا تَسْمَعُوا لَهُ، وَلَا تَتَّبِعُوهُ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِيمَا أُوذِيَ بِهِ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعْضُهَا صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Rabi'a ibn 'Abbad said: I was with my father as a youth, watching the Messenger of Allah ﷺ follow the tribes, with behind him a red, fair, long-haired man. The Messenger of Allah ﷺ would stand before a tribe and say: > **"O sons of so-and-so, I am Allah's Messenger to you. I command you to worship Him, associating nothing with Him, to believe me and protect me until I deliver from Allah what He sent me with."** When he finished, the other behind him would say: O sons of so-and-so, this man wants you to strip off al-Lat and al-'Uzza and your allies among the clan of Banu Malik ibn Uqaysh for the innovation and error he brought — do not listen to him nor follow him. I asked my father: Who is this? He said: This is his uncle Abu Lahab.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ تھا ، میں ایک نوجوان تھا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ مختلف قبائل کے پاس تشریف لے جاتے تھے ‘ آپ کے پیچھے ایک سرخ رنگ کا شخص موجود ہوتا تھا ، جس کا چہرہ خوبصورت تھا اور اس نے بال بڑے رکھے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ کسی قبیلے کے پاس ٹھہرتے اور یہ فرماتے تھے : اے بنو فلاں ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم میری تصدیق کرو اور تم میرا بچاؤ کرو ‘ تاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جن چیزوں کے ہمراہ بھیجا ہے ‘ میں اُن کا نفاذ کروا سکوں ‘ جب آپ اپنی گفتگو سے فارغ ہوتے تھے ‘ تو آپ کے پیچھے موجود شخص یہ کہتا تھا : اے بنوفلاں ! یہ شخص تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ لات اور عزی کو چھوڑ دو ‘ اور بنو مالک بن اقیش سے تعلق رکھنے والے ‘ اپنے قبیلے کے حلیفوں کو چھوڑ دو ‘ اور اس چیز کی طرف آ جاؤ ‘ جو بدعت اور گمراہی یہ لے کر آیا ہے ‘ تو تم اس کی بات نہ سنو ‘ اور اس کی پیروی نہ کرو ‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ کون شخص ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ ان کا چچا ‘ ابولہب ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچانے سے متعلق باب میں گزرے ہیں ‘ اس کی بعض اسناد صحیح ہیں ۔

9855

Majma al-Zawaid #9855

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ نَافِعٍ مَكَّةَ وَمَعَهُ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فِيهِمْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ، يَلْتَمِسُونَ الْحِلْفَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ، سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُمْ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: "" هَلْ لَكُمْ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا جِئْتُمْ إِلَيْهِ؟ "". قَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: "" أَنَا رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي إِلَى الْعِبَادِ أَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ كِتَابًا "". ثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَكَانَ غُلَامًا حَدَثًا: أَيْ قَوْمِ، هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ إِلَيْهِ قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ نَافِعٍ حَفْنَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَضَرَبَ بِهَا وَجْهَ إِيَاسِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَالَ: دَعْنَا عَنْكَ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هَذَا، قَالَ: فَصَمَتَ إِيَاسٌ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ، وَانْصَرَفُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَانَتْ وَقْعَةُ بُعَاثٍ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ أَنْ هَلَكَ»، قَالَ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ حَضَرَهُ مِنْ قَوْمِي أَنَّهُ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَهُ يُهَلِّلُ اللَّهَ، وَيُكَبِّرُهُ، وَيَحْمَدُهُ، وَيُسَبِّحُهُ حَتَّى مَاتَ، فَمَا كَانُوا يَشُكُّونَ أَنَّ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا لَقَدْ كَانَ اسْتَشْعَرَ الْإِسْلَامَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ حِينَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا سَمِعَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mahmud ibn Labid, brother of Banu 'Abd al-Ashhal, said: When Abu al-Haysar Anas ibn Rafi' came to Mecca with youths of Banu 'Abd al-Ashhal, among them Iyas ibn Mu'adh, seeking alliance from Quraysh against their people of Khazraj, the Messenger of Allah ﷺ heard of them, came, sat with them, and said: > **"Do you desire better than what you came for?"** They said: What is that? He said: > **"I am Allah's Messenger, sent to servants to call them to worship Him, associating nothing with Him, and He revealed a Book to me."** Then he mentioned Islam and recited the Qur'an to them. Iyas ibn Mu'adh, a young boy, said: O my people, by Allah this is better than what you came for. Abu al-Haysar Anas ibn Rafi' took a handful of dust, struck Iyas's face with it, and said: Leave us; by my life we came for other than this. Iyas fell silent, the Messenger of Allah ﷺ rose from them, and they returned to Medina. Then came the battle of Bu'ath between Aws and Khazraj. Soon after, Iyas ibn Mu'adh perished. Mahmud said: Those of my people who attended him told me they kept hearing him declare Allah's Oneness, magnify, praise, and glorify Him until he died; they did not doubt he died a Muslim — Islam had entered his heart in that sitting when he heard from the Messenger of Allah ﷺ what he heard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ ‘ جن کا تعلق بنوعبداشہل سے ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : جب ابوحیسر انس بن نافع مکہ آیا ‘ تو اس کے ساتھ بنوعبداشہل سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان بھی تھے ، جن میں ایک ایاس بن معاذ تھے ‘ وہ لوگ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف قریش سے حلیف بننے کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں سنا ‘ تو آپ ان کے پاس تشریف لائے ، آپ ان کے پاس آ کر بیٹھے اور ان سے فرمایا : تم جس چیز کی طرف آئے ہو ‘ کیا تمہیں اس سے زیادہ بہتر چیز میں دلچسپی ہے ؟ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی طرف مبعوث کیا ہے ‘ تاکہ میں ان لوگوں کو اس بات کی طرف دعوت دوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اسلام کی تعلیمات کا ذکر کیا ‘ اور قرآن کی تلاوت ان لوگوں کے سامنے کی ‘ تو ایاس بن معاذ ‘ جو ایک نوجوان تھے ‘ انہوں نے یہ کہا : اے قوم ! اللہ کی قسم یہ چیز اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی خاطر تم آئے ہو ‘ تو ابوحیسر انس بن نافع نے مٹھی میں مٹی لی اور وہ ایاس بن معاذ کے چہرے پر ماری اور بولے : تم ہمیں چھوڑ دو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ! ہم کسی اور کام کے لئے آئے ہیں ، تو ایاس خاموش ہو گئے ‘ نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس سے اٹھ گئے ‘ پھر وہ لوگ مدینہ منورہ چلے گئے ‘ اس کے بعد اوس اور خزرج قبیلے کے درمیان جنگ بعاث کا معاملہ پیش آیا ‘ اس کے کچھ عرصے بعد ایاس بن معاذ ہلاکت کا شکار ہو گئے ۔ حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے جو افراد ان کے آخری وقت میں ان کے پاس موجود تھے ‘ انہوں نے یہ بات بتائی ہے کہ وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور اس کی کبریائی کا اعتراف کرتے رہے ‘ اس کی حمد اور پاکی بیان کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ‘ انہیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ اُن کا انتقال مسلمان ہونے کے عالم میں ہوا تھا ‘ کیونکہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی آپ کی تبلیغ سنی تھی ‘ تو انہیں اسلام کا شعور حاصل ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9856

Majma al-Zawaid #9856

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «بَايَعْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مِثْلِ مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءَ، مَنْ مَاتَ مِنَّا وَلِمَ يَأْتِ شَيْئًا مِنْهُنَّ ضَمِنَ لَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ، وَقَدْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ، فَسَتَرَ عَلَيْهِ، فَعَلَى اللَّهِ حِسَابُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarir, may Allah be pleased with him, said: We pledged the Prophet ﷺ upon the like of what the women pledged: whoever among us dies without committing any of them, Paradise is guaranteed for him; whoever dies having committed any of them and had the penalty applied, it is expiation; whoever dies having committed any of them but was concealed, his reckoning is upon Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت انہی امور کے حوالے سے کی تھی ، جن امور پر نبی اکرم ﷺ نے خواتین سے بیعت لی تھی اور یہ طے پایا تھا ) کہ ہم میں سے جو شخص مر جائے اور اس نے ان ( گناہوں میں سے ) کسی کا ارتکاب نہ کیا ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے جنت کی ضمانت دی تھی ‘ اور ہم میں سے کوئی شخص اگر ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے ان میں سے کسی ایک ( گناہ ) کا ارتکاب کیا ہو اور اس پر حد بھی قائم ہو چکی ہو ‘ تو وہ ( حد کا جاری ہونا ) کفارہ بن جائے گا اور ہم میں سے جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر لی ہو ‘ تو اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون ہے ‘ جسے ابونعیم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9857

Majma al-Zawaid #9857

«وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ; أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ حَضَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَايِعُ النَّاسَ، فَجَاءَهُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ، فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn al-Aswad ibn Khalaf reported that his father al-Aswad attended the Prophet ﷺ pledging people. Men, women, young, and old came and pledged him upon Islam and testimony. Muhammad ibn al-Aswad said: Testimony that there is no deity but Allah and Muhammad is the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسود بن خلف بیان کرتے ہیں : ان کے والد حضرت اسود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم علی ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ‘ مرد ‘ خواتین ، چھوٹے ‘ بڑے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ‘ آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کرتے تھے ‘ اور گواہی دیتے تھے ۔ محمد بن اسود نے یہ بات بیان کی ہے : وہ اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

9858

Majma al-Zawaid #9858

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «جَاءَتْ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رَقِيقَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ: "" أُبَايِعُكِ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكِي بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقِي، وَلَا تَزْنِي، وَلَا تَقْتُلِي وَلَدَكِ، وَلَا تَأْتِي بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِيهِ بَيْنَ يَدَيْكِ وَرِجْلَيْكِ، وَلَا تَنُوحِي، وَلَا تَبَرَّجِي تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Amr, may Allah be pleased with them, said: Umayma bint Ruqayqa came to the Messenger of Allah ﷺ pledging him upon Islam. He said: > **"I pledge you that you associate nothing with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill your child, do not bring slander you fabricate between your hands and feet, do not wail, and do not display yourselves as in the former ignorance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم سے اس بات کی بیعت کرتا ہوں کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ‘ تم چوری نہیں کرو گی ‘ تم زنا نہیں کرو گی ‘ تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ‘ اور تم اپنی طرف سے ایجاد کیا ہوا ( یعنی جھوٹا ) بہتان نہیں لگاؤ گی ‘ تم نوحہ نہیں کرو گی اور تم زمانہ جاہلیت کی سی آرائش و زیبائش نہیں کرو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9859

Majma al-Zawaid #9859

«وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ابْنَتِي الْحُويْصِلَةِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Qutba ibn Qatada said: I pledged the Prophet ﷺ for my daughter al-Huwaysila.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی بیٹی حویصلہ کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9860

Majma al-Zawaid #9860

وَعَنْ كَدَنِ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْيَمَنِ فَبَايَعْتُهُ، وَأَسْلَمْتُ عَلَى يَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Kadan ibn 'Abd said: I came to the Prophet ﷺ from Yemen, pledged him, and accepted Islam at his hands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کدن بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یمن سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9861

Majma al-Zawaid #9861

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ عَلَيْهَا: (أَنْ لَا يُشْرِكْنَ وَلَا يَزْنِينَ) الْآيَةَ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً، فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَى مِنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ، فَوَاللَّهِ مَا بَايَعْنَا إِلَّا عَلَى هَذَا، قَالَتْ: فَنَعَمْ، إِذًا فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ عَنْ عُرْوَةَ. وَالْبَزَّارُ لَمْ يَشُكَّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Aisha, may Allah be pleased with her, said: Fatima bint 'Utba ibn Rabi'a came pledging the Messenger of Allah ﷺ. He took upon her: That they associate not, nor steal, nor commit adultery — the verse. She placed her hand upon her head from modesty. What he saw of her pleased the Messenger of Allah ﷺ. 'Aisha said: Affirm, O woman, for by Allah we pledged only upon this. She said: Yes, then — so he pledged her upon the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا ‘ نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کرنے کے لئے آئیں تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے یہ بیعت لی کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ‘ وہ زنا نہیں کریں گی ( جس کا ذکر پوری آیت میں ہے ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو اس خاتون نے حیاء کی وجہ سے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا ‘ نبی اکرم ﷺ کو اس کی یہ بات اچھی لگی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے خاتون ! تم اقرار کرو ‘ اللہ کی قسم ہم نے بھی ان امور پر بیعت کی تھی ‘ تو اس خاتون نے کہا : پھر ٹھیک ہے ‘ پھر اس نے اس آیت کے حکم کے مطابق بیعت کر لی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ بات معمر نے زہری ‘ یا شاید ان کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے عروہ سے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9862

Majma al-Zawaid #9862

وَعَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتُبَايِعَهُ، فَنَظَرَ إِلَى يَدَيْهَا، فَقَالَ: "" اذْهَبِي فَغَيِّرِي يَدَيْكِ "". قَالَ: فَذَهَبَتْ فَغَيَّرَتْهُمَا بِحِنَّاءٍ، ثُمَّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أُبَايِعُكِ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكِي بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقِي، وَلَا تَزْنِي "". قَالَتْ: أَوَتَزْنِي الْحُرَّةُ؟ قَالَ: "" لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُنَّ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ "". قَالَتْ: وَهَلْ تَرَكَتْ لَنَا أَوْلَادًا نَقْتُلُهُمْ؟ قَالَ: فَبَايَعَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ، وَعَلَيْهَا سُوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ: مَا تَقَوُلُ فِي هَذَيْنِ السُّوَارَيْنِ؟ قَالَ: "" جَمْرَتَيْنِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ.

EnglishUnverified translation

'Aisha, may Allah be pleased with her, said: Hind bint 'Utba ibn Rabi'a came to the Messenger of Allah ﷺ to pledge him. He looked at her hands and said: > **"Go change your hands."** She went and changed them with henna, then came. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I pledge you that you associate nothing with Allah, do not steal, and do not commit adultery."** She said: Would a free woman commit adultery? He said: > **"Do not kill your children fearing poverty."** She said: Has he left us children to kill? So she pledged him. Then, wearing two gold bracelets, she said to him: What do you say about these two bracelets? He said: > **"Two embers from the embers of Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : تم جاؤ اور اپنے ہاتھوں ( کی رنگت ) تبدیل کر لو ! وہ خاتون گئی ‘ اس نے مہندی لگا کر ان کو تبدیل کر لیا ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم سے یہ بیعت لیتا ہوں کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ‘ تم چوری نہیں کرو گی ، تم زنا نہیں کرو گی ‘ ہند نے کہا : کیا کوئی آزاد عورت زنا کرتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غربت کے خوف کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ‘ ہند نے کہا : کیا آپ نے ہماری اولاد چھوڑی ہے ؟ جسے ہم قتل کریں پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے بیعت لے لی ‘ اس نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : ان کنگنوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جہنم کے انگاروں میں سے ‘ دو انگارے ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9863

Majma al-Zawaid #9863

«وَعَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ - وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ، وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ - قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا: أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيَهُ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ. قَالَ: "" وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ "". قَالَتْ: فَبَايَعْنَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ: ارْجِعِي فَسَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ قَالَ: "" تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salma bint Qays — one of the maternal aunts of the Messenger of Allah ﷺ who prayed with him toward both qiblas, of the women of Banu 'Adi ibn al-Najjar — said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and pledged him among Ansari women. When he stipulated upon us: That we associate nothing with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill our children, do not bring slander we fabricate between our hands and feet, and do not disobey in good — he said: > **"And do not defraud your husbands."** She said: So we pledged him, then left. I told one of the women: Go back and ask the Messenger of Allah ﷺ: What is defrauding our husbands? She asked him. He said: > **"She takes his wealth and favors another with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سلمی بنت قیس رضی اللہ عنہا ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی ننھیالی عزیزوں میں سے ہیں ، اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہے ‘ اُن کا تعلق بنوعدی بن نجار سے ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے انصار کی کچھ خواتین سمیت آپ کی بیعت کی آپ نے ہم پر یہ شرط عائد کی کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ، ہم چوری نہیں کریں گی ہم زنا نہیں کریں گی ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ہم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگائیں گی اور ہم بھلائی کے کام میں ، آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی ‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور تم اپنے شوہروں کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا ‘ راوی خاتون کہتی ہیں : ہم نے آپ کی بیعت کر لی جب ہم واپس گئیں ، تو میں نے اُن خواتین میں سے ایک خاتون سے کہا : تم واپس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ سے سوال کرو کہ شوہر کو دھوکہ دینے سے مراد کیا ہے ؟ وہ خاتون کہتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : یہ کہ عورت شوہر کا مال لے کر کسی اور کو دیدے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9864

Majma al-Zawaid #9864

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ، فَرَدَدْنَ السَّلَامَ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُنَّ، فَقُلْنَ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ، قُلْنَ: نَعَمْ. فَمَدَّ عُمَرُ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ وَمَدَدْنَ هُنَّ أَيْدِيَهُنَّ مِنْ دَاخِلٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، وَأَمَرَ أَنْ يَخْرُجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْحُيَّضُ وَالْعُتَّقُ، وَنُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَا جُمْعَةَ عَلَيْنَا، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبُهْتَانِ، وَعَنْ قَوْلِهِ: {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَ: هِيَ النِّيَاحَةُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm 'Atiyya, may Allah be pleased with her, said: When the Messenger of Allah ﷺ arrived in Medina, he gathered the Ansari women in a house, then sent 'Umar ibn al-Khattab to them. He stood at the door, greeted them, and they returned the greeting. He said: I am the messenger of the Messenger of Allah ﷺ to you. They said: Welcome to the Messenger of Allah ﷺ and the messenger of the Messenger of Allah ﷺ. He said: Pledge that you associate nothing with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill your children, do not bring slander you fabricate between your hands and feet, and do not disobey in good. They said: Yes. 'Umar extended his hand from outside the door, and they extended theirs from inside. Then he said: O Allah, bear witness. He commanded that menstruating women and secluded maidens go out for the two Eids. We were forbidden from following funerals, and no Friday prayer is upon us. I asked him about slander and His saying: Nor disobey you in good — he said: It is wailing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو آپ نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع اور اکٹھا کروایا ‘ پھر آپ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان خواتین کی طرف بھیجا ‘ وہ دروازے پر کھڑے ہوئے انہوں نے ان خواتین کو سلام کیا ‘ خواتین نے انہیں جواب دیا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اللہ کے رسول کا تمہاری طرف نمائندہ ہوں ‘ ان خواتین نے کہا : اللہ کے رسول کو ‘ اور اللہ کے رسول کے نمائندے کو خوش آمدید ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراؤ گی ‘ تم چوری نہیں کرو گی ‘ تم زنا نہیں کرو گی ‘ تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ‘ تم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگاؤ گی اور تم بھلائی کے بارے میں نافرمانی نہیں کرو گی ‘ ان خواتین نے کہا : ٹھیک ہے ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دروازے کے باہر کی طرف سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ان خواتین نے اندرونی حصے سے اپنا ہاتھ بڑھایا ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ! نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ عیدین کے موقع پر ‘ حیض والی خواتین اور آزاد عورتیں ( یا لڑکیاں ) بھی نکلیں گی ‘ تاہم ہمیں ( یعنی خواتین کو ) جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا ‘ اور ہم پر جمعہ بھی لازم قرار نہیں دیا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے بہتان کے بارے میں دریافت کیا ‘ اور اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ‘ کہ وہ بھلائی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی ‘ تو انہوں نے جواب دیا : اس سے مراد نوحہ کرنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے یہ روایت انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9865

Majma al-Zawaid #9865

«وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ، قَالَتْ: أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَايِعُ النِّسْوَةَ، وَيَقُولُ: "" أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ، وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ، وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ، وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ "". قُلْنَ: نَعَمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُلْنَ: نَعَمْ. فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ "". فَكُنْتُ أَقُولُ كَمَا يَقُلْنَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ "". وَقَالَ: "" قُلْنَ: نَعَمْ، فِيمَا اسْتَطَعْنَهُ "". قُلْنَ: نَعَمْ، فِيمَا اسْتَطَعْنَا». وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Aisha bint Qudama said: I was with my mother Ra'ita bint Sufyan al-Khuza'iyya while the Prophet ﷺ pledged the women, saying: > **"I pledge you that you associate nothing with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill your children, do not bring slander you fabricate between your hands and feet, and do not disobey in good."** They said: Yes. The Prophet ﷺ said: > **"Say: Yes, as far as you are able."** So I said as they said.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی ، نبی اکرم ﷺ خواتین سے بیعت لے رہے تھے ‘ اور یہ فرما رہے تھے : میں اس بات پر تم سے بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی ‘ تم چوری نہیں کرو گی ‘ تم زنا نہیں کرو گی ‘ تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی ‘ تم اپنی طرف سے ایجاد کر کے بہتان نہیں لگاؤ گی ‘ اور تم بھلائی کے بارے میں نافرمانی نہیں کرو گی ‘ اُن خواتین نے کہا : ٹھیک ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تم سے ہو سکے ‘ راوی خاتون کہتی ہیں : تو میں نے بھی اُسی طرح کے کلمات کہے ‘ جس طرح کے کلمات اُن خواتین نے کہے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم شرک نہیں کرو گی ۔ اور راوی نے یہ کہا ہے : اُن خواتین نے کہا : ٹھیک ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ‘ تو ان خواتین نے کہا : ٹھیک ہے ‘ جہاں تک ہماری استطاعت ہوئی ( ہم اس پر عمل کریں گی ) ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان بن ابراہیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9866

Majma al-Zawaid #9866

«وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ - وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ - قَالَ يَعْقُوبُ: أَخْبَرَتْهُ: بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm al-'Ala, a woman among them — Ya'qub said: He was informed — pledged the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام العلاء ‘ رضی اللہ عنہا جو ان لوگوں کے خاندان کی خواتین میں سے ایک ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9867

Majma al-Zawaid #9867

«وَعَنْ عَزَّةَ بِنْتِ خَابِلٍ أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهَا عَلَى أَنْ لَا تَزِنِينَ، وَلَا تَسْرِقِينَ، وَلَا تَئِدِينَ فَتُبْدِينَ أَوْ تُخْفِينَ، قُلْتُ: أَمَّا الْوَأْدُ الْمُبْدَى فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَأَمَّا الْوَأْدُ الْخَفِيُّ فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يُخْبِرْنِي، وَقَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهُ إِفْسَادُ الْوَلَدِ، فَوَاللَّهِ لَا أُفْسِدُ لِي وَلَدًا أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مَسْعُودٍ الْكَعْبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْهَا، وَلَمْ أَعْرِفْ مَسْعُودًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Azza bint Khabil reported that she came to the Prophet ﷺ, and he pledged her that she not commit adultery, nor steal, nor bury alive, openly or secretly. I said: The open burying I know; the hidden burying I did not ask the Messenger of Allah ﷺ about, nor did he tell me, but it occurred to me that it is spoiling the child. By Allah, I shall never spoil a child of mine.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عزہ بن خابل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے یہ بیعت لی کہ تم زنا نہیں کرو گی ‘ تم چوری نہیں کرو گی ‘ تم ظاہری یا پوشیدہ طور پر زندہ درگور نہیں کرو گی ۔ راوی خاتون کہتی ہیں : جہاں تک ظاہری طور پر زندہ درگور کرنے کا تعلق ہے ‘ تو اس کا تو مجھے پتہ ہے ، لیکن پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنے کا جہاں تک تعلق ہے ‘ تو اس بارے میں ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال نہیں کیا تھا اور نہ ہی آپ نے مجھے اس بارے میں بتایا ‘ لیکن میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس سے مراد بچے کو ماں کے پیٹ میں ) ضائع کرنا ہے ‘ اللہ کی قسم ! میں اپنے بچے کو کبھی خراب نہیں کروں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر اس کی مانند نقل کی ہے ‘ عطاء بن مسعود کعبی کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ‘ اس خاتون سے منقول ہے ‘ میں مسعود نامی راوی سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9868

Majma al-Zawaid #9868

«وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ ذَهَبَ بِهَا وَبِأُخْتِهَا هِنْدٍ يُبَايِعَانِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا اشْتَرَطَ عَلَيْهِنَّ قَالَتْ هِنْدٌ: أَوَتَعْلَمُ فِي نِسَاءِ قَوْمِكَ مِنْ هَذِهِ الْهِنَةِ شَيْئًا؟ فَقَالَ أَبُو حُذَيْفَةَ: بَايَعَتْهُ فَهَكَذَا يَشْتَرِطُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ.

EnglishUnverified translation

Fatima bint 'Utba ibn Rabi'a reported that Abu Hudhayfa ibn 'Utba took her and her sister Hind to pledge the Messenger of Allah ﷺ. When he stipulated upon them, Hind said: Do you know among your people's women anything of such vileness? Abu Hudhayfa said: Pledge him, for thus he stipulates.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ انہیں اور ان کی بہن ہند کو ساتھ لے کر گئے تاکہ وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی بیعت کر لیں ، جب نبی اکرم ﷺ نے ان پر شرائط عائد کیں ‘ تو ہند نے کہا : کیا آپ اپنی قوم کی خواتین میں سے کسی کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ؟ تو حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ان کی بیعت کر لو ! وہ اسی طرح شرط عائد کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ متروک ہے ‘ حجاج بن شاعر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

9869

Majma al-Zawaid #9869

«وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: أَنَا مِنَ النِّسْوَةِ اللَّاتِي أَخَذَ عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: وَكُنْتُ جَارِيَةً نَاهِدًا جَرِيئَةً عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُصَافِحَكَ فَقَالَ: "" إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِنَّ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid said: I am among the women from whom the Messenger of Allah ﷺ took the pledge. I was a mature, bold young girl in questioning him. I said: O Messenger of Allah, extend your hand that I may shake it. He said: > **"I do not shake hands with women; rather I take upon them what Allah took upon them."** Then she mentioned the hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں سے ایک ہوں ‘ جن سے نبی اکرم ﷺ نے بیعت لی تھی ‘ راوی خاتون کہتی ہیں : میں کم عمر لڑکی تھی اور آپ سے سوال کرنے کے بارے میں جرات رکھتی تھی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے ! تاکہ میں آپ کے ساتھ مصافحہ کروں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ہوں ، میں ان سے وہ عہد لیتا ہوں ‘ جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔

9870

Majma al-Zawaid #9870

«وَعَنْ عَقِيلَةَ بِنْتِ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَتْ: جِئْتُ أَنَا وَأُمِّي قَرِيرَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْعِتْوَارِيَّةُ فِي نِسَاءٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ضَارِبٌ عَلَيْهِ قُبَّةً بِالْأَبْطَحِ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا الْآيَةَ كُلَّهَا فَلَمَّا أَقْرَرْنَا وَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، لِنُبَايِعَهُ، قَالَ: "" إِنِّي لَا أُمْسِكُ أَيْدِي النِّسَاءِ "". فَاسْتَغْفَرَ لَنَا وَكَانَتْ تِلْكَ بَيْعَتَنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Aqila bint 'Atik ibn al-Harith said: I came with my mother Qurayra bint al-Harith al-'Itwariyya among Muhajir women, and we pledged the Messenger of Allah ﷺ while he had a tent pitched at al-Abtah. He took upon us that we associate nothing with Allah — the whole verse. When we affirmed and extended our hands to pledge him, he said: > **"I do not grasp women's hands."** He sought forgiveness for us, and that was our pledge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده عقیلہ بنت عتیک بن حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اور میری والدہ قریرہ بنت حارث عتواریہ ‘ مہاجر خواتین کے ساتھ آئمیں ہم نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے کھلے میدان میں خیمہ لگایا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ہم سے یہ بیعت لی کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ‘ اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر ہے ‘ ان سب کے حوالے سے بیعت لی ‘ جب ہم نے اس کا اقرار کر لیا ‘ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے ‘ تاکہ آپ کی بیعت کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں خواتین کا ہاتھ نہیں پکڑتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لئے دعائے مغفرت کی ‘ تو یہ ہماری بیعت تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9871

Majma al-Zawaid #9871

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَافِحُ النِّسَاءَ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَتَّابُ بْنُ حَرْبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ma'qil ibn Yasar reported that the Prophet ﷺ used to shake hands with women from beneath the garment.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کپڑے کے نیچے سے خواتین کے ساتھ بیعت کرتے تھے ۔ ( یعنی آپ کے اور خواتین کے درمیان کپڑا حائل ہوتا تھا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عتاب بن حرب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9872

Majma al-Zawaid #9872

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَهُ الْمَاءُ، فَإِذَا بَايَعَ النِّسَاءَ غَمَسْنَ أَيْدِيَهُنَّ فِي الْمَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرَيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwa ibn Mas'ud al-Thaqafi said: The Messenger of Allah ﷺ would have water with him; when he pledged women, they dipped their hands in the water.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس پانی موجود ہوتا تھا ، جب خواتین سے آپ بیعت لیتے تھے ‘ تو خواتین اپنا ہاتھ پانی میں ڈبو دیتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حکیم ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9873

Majma al-Zawaid #9873

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ «لَمَّا بَايَعَ النِّسَاءَ: "" لَا يَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى "". قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَاكَ تَشْتَرِطُ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَتَبَرَّجَ، وَأَنَّ فُلَانَةَ قَدْ أَسْعَدَتْنِي، وَقَدْ مَاتَ أَخُوهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبِي فَأَسْعِدِيهَا ثُمَّ تَعَالَيْ فَبَايِعِينِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas reported from the Prophet ﷺ that when he pledged women he said: > **"Do not display yourselves as in the former ignorance."** A woman said: O Messenger of Allah, you stipulate upon us not to display, yet so-and-so woman helped me, and her brother has died. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Go console her, then come pledge me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب خواتین سے بیعت لیتے تھے ‘ تو یہ فرماتے تھے : وہ زمانہ جاہلیت کی سی آرائش و زیبائش نہیں کریں گی ‘ ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے ہم پر یہ شرط عائد کی ہے کہ ہم اظہار زینت نہیں کریں گی ‘ فلاں عورت نے میرا ساتھ دیا تھا ‘ اب اُس کا بھائی فوت ہو گیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور تم اس کا ساتھ دے دو ‘ پھر آ کر میری بیعت کر لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے اور وہ متروک ہے ۔

9874

Majma al-Zawaid #9874

وَعَنْ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: «سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْتَحِنُ النِّسَاءَ؟ قَالَ: كَانَ إِذَا أَتَتْهُ الْمَرْأَةُ لِتُسْلِمَ، أَحْلَفَهَا بِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ لِبُغْضِ زَوْجِهَا، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ لِاكْتِسَابِ دُنْيَا، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ، وَبِاللَّهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abu Nasr said: Ibn 'Abbas was asked: How did the Messenger of Allah ﷺ test the women? He said: When a woman came to accept Islam, he made her swear by Allah she had not left from hatred of her husband, by Allah she had not left to gain worldly life, by Allah she had not left one land for another, and by Allah she had left only from love of Allah and His Messenger.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونصر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا : نبی اکرم ﷺ خواتین کا امتحان کیسے لیتے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : جب کوئی خاتون اسلام قبول کرنے کے لئے آپ کے پاس آتی تھی ، تو آپ اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے نہیں نکلی ہے ‘ اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے نہیں نکلی ہے اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف منتقل ہونے کے لئے نہیں نکلی ہے ‘ اور اللہ کے نام پر یہ حلف لیتے تھے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی خاطر نکلی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9875

Majma al-Zawaid #9875

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَايَعَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ وَهُمْ صِغَارٌ، وَلَمْ يَبْقُلُوا، وَلَمْ يَبْلُغُوا، وَلَمْ يُبَايِعْ صَغِيرًا إِلَّا مِنَّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَفِي تَرْجَمَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَغَيْرِهِ، نَحْوُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn 'Ali ibn al-Husayn reported that the Prophet ﷺ pledged al-Hasan and al-Husayn, 'Abdullah ibn 'Abbas, and 'Abdullah ibn Ja'far while they were small, before sprouting hair, before puberty — and he pledged no small child except from us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام محمد بن علی بن حسین ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے ‘ اُن کی کمسنی کے عالم میں ‘ اُن سے بیعت لی تھی ‘ جب ابھی یہ بالغ نہیں ہوئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے صرف ہمارے خاندان کے کمسن افراد سے بیعت لی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے حالات میں اور دیگر حضرات کے حوالے سے اس کی مانند روایت مذکور ہے ۔

9876

Majma al-Zawaid #9876

عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «لَمَّا حَضَرَ الْمَوْسِمُ، حَجَّ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، مِنْهُمْ: مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ، وَأَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ. وَمِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: رَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، وَذَكْوَانُ بْنُ عَبَدِ الْقَيْسِ. وَمِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ. وَمِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ. وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَهُمْ خَبَرَهُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِهِ مِنْ نُبُوَّتِهِ وَكَرَامَتِهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا سَمِعُوا قَوْلَهُ أَنْصَتُوا، وَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى دَعْوَتِهِ، وَعَرَفُوا مَا كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ ذِكْرِهِمْ إِيَّاهُ بِصِفَتِهِ، وَمَا يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ، فَصَدَّقُوهُ، وَآمَنُوا بِهِ، وَكَانُوا مِنْ أَسْبَابِ الْخَيْرِ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ: قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ مِنَ الدِّمَاءِ، وَنَحْنُ نُحِبُّ مَا أَرْشَدَ اللَّهُ بِهِ أَمْرَكَ، وَنَحْنُ - لِلَّهِ وَلَكَ - مُجْتَهِدُونَ، وَإِنَّا نُشِيرُ عَلَيْكَ بِمَا تَرَى، فَامْكُثْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى قَوْمِنَا فَنُخْبِرَهُمْ بِشَأْنِكَ، وَنَدْعُوَهُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلَعَلَّ اللَّهَ يُصْلِحُ بَيْنَنَا، وَيَجْمَعُ أَمْرَنَا، فَإِنَّا الْيَوْمَ مُتَبَاعِدُونَ مُتَبَاغِضُونَ، فَإِنْ تَقْدُمْ عَلَيْنَا الْيَوْمَ وَلَمْ نَصْطَلِحْ لَمْ يَكُنْ لَنَا جَمَاعَةٌ عَلَيْكَ، وَنَحْنُ نُوَاعِدُكَ الْمَوْسِمَ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ. فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي قَالُوا، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ يَدْعُوهُمْ سِرًّا، وَأَخْبَرُوهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالَّذِي بَعَثَهُ اللَّهُ بِهِ، وَدَعَا عَلَيْهِ بِالْقُرْآنِ حَتَّى قَلَّ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا أَسْلَمَ فِيهَا نَاسٌ لَا مَحَالَةَ. ثُمَّ بَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا مِنْ قِبَلِكَ يَدْعُو النَّاسَ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ أَدْنَى أَنْ يُتَّبَعَ. فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ أَخَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَنَزَلَ فِي بَنِي غَنْمٍ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَجَعَلَ يَدْعُو النَّاسَ سِرًّا وَيَفْشُو الْإِسْلَامُ وَيَكْثُرُ أَهْلُهُ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ مُسْتَخْفُونَ بِدُعَائِهِمْ، ثُمَّ إِنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ أَقْبَلَ هُوَ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ حَتَّى أَتَيَا بِئْرَ مِرِّي أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَجَلَسُوا هُنَالِكَ، وَبَعَثُوا إِلَى رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَتَوْهُمْ مُسْتَخْفِينَ، فَبَيْنَمَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُهُمْ وَيَقُصُّ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ أُخْبِرَ بِهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَأَتَاهُمْ فِي لَأْمَتِهِ وَمَعَهُ الرُّمْحُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: عَلَامَ يَأْتِينَا فِي دُورِنَا بِهَذَا الْوَحِيدِ الْفَرِيدِ الطَّرِيحِ الْغَرِيبِ يُسَفِّهُ ضُعَفَاءَنَا بِالْبَاطِلِ وَيَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ، لَا أَرَاكُمَا بَعْدَ هَذَا بِشَيْءٍ مِنْ جِوَارِنَا. فَرَجَعُوا ثُمَّ إِنَّهُمْ عَادُوا الثَّانِيَةَ بِبِئْرِ مُرَّى أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَأُخْبِرَ بِهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الثَّانِيَةَ، فَوَاعَدَهُمْ بِوَعِيدٍ دُونَ الْوَعِيدِ الْأَوَّلِ فَلَمَّا رَأَى أَسْعَدُ مِنْهُ لِينًا قَالَ: يَا ابْنَ خَالَةَ، اسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ، فَإِنْ سَمِعْتَ مِنْهُ مُنْكَرًا، فَارْدُدْهُ يَا هَذَا مِنْهُ، وَإِنْ سَمِعْتَ خَيْرًا، فَأَجِبِ اللَّهَ، فَقَالَ: مَاذَا يَقُولُ؟ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ: {حم - وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} [الزخرف: 1 - 3] فَقَالَ سَعْدٌ: وَمَا أَسْمَعُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ، فَرَجَعَ وَقَدْ هَدَاهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَلَمْ يُظْهِرْ أَمْرَ الْإِسْلَامِ حَتَّى رَجَعَ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَدَعَا بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَظْهَرَ إِسْلَامَهُ، وَقَالَ فِيهِ: مَنْ شَكَّ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ أَوْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى فَلْيَأْتِنَا بِأَهْدَى مِنْهُ، نَأْخُذُ بِهِ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ أَمْرٌ لَتُحَزَّنَّ فِيهِ الرِّقَابُ، فَأَسْلَمَتْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ عِنْدَ إِسْلَامِ سَعْدٍ وَدُعَائِهِ إِلَّا مَنْ لَا يُذْكَرُ، فَكَانَتْ أَوَّلَ دُورٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَتْ بِأَسْرِهَا. ثُمَّ إِنَّ بَنِي النَّجَّارِ أَخْرَجُوا مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ، وَاشْتَدُّوا عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَانْتَقَلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو وَيَهْدِي اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى قَلَّ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا أَسْلَمَ فِيهَا نَاسٌ لَا مَحَالَةَ، وَأَسْلَمَ أَشْرَافُهُمْ، وَأَسْلَمَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ، وَكُسِّرَتْ أَصْنَامُهُمْ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ أَعَزَّ أَهْلِهَا، وَصَلَحَ أَمْرُهُمْ، وَرَجَعَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُدْعَى: الْمُقْرِئُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Urwa said: When the season came, a group of Ansar of Banu Mazin ibn al-Najjar performed Hajj, among them Mu'adh ibn 'Afra' and As'ad ibn Zurara; of Banu Zurayq: Rafi' ibn Malik and Dhakwan ibn 'Abd Qays; of Banu 'Abd al-Ashhal: Abu al-Haytham ibn al-Tayyihan; of Banu 'Amr ibn 'Awf: 'Uwaym ibn Sa'ida. The Messenger of Allah ﷺ came to them, told them of what Allah had chosen him with of prophethood and honor, and recited the Qur'an to them. Hearing his words, they listened, their souls trusted his call, recognizing what they had heard from the People of the Book mentioning him with his description and call. So they believed and were among the causes of good. They said to him: You know the bloodshed between Aws and Khazraj. We love what Allah has guided your affair with, striving for Allah and you. We counsel what you see: remain, in Allah's name, until we return to our people, inform them of your affair, and call them to Allah and His Messenger. Perhaps Allah will reconcile us and unite our affair. Today we are distant and hateful; if you come now unreconciled, we shall have no unity upon you. We promise you next year's season. The Messenger of Allah ﷺ accepted their words. They returned calling secretly, informing of the Messenger of Allah ﷺ and his mission, reciting the Qur'an, until hardly a house of the Ansar remained but some had accepted Islam. Then they sent to the Messenger of Allah ﷺ: Send us a man from you to call people by Allah's Book, for he is more likely followed. So the Messenger of Allah ﷺ sent Mus'ab ibn 'Umayr of Banu 'Abd al-Dar, who alighted among Banu Ghanm with As'ad ibn Zurara, calling secretly. Islam spread and its people multiplied, concealed in their call. Then As'ad and Mus'ab went to the well of Marr or near it, sat, and sent for a group who came concealed. While Mus'ab narrated and recited the Qur'an, Sa'd ibn Mu'adh was told of them. He came in armor with a spear, stood over them, and said: Why does this lone, solitary, outcast stranger come into our homes, misleading our weak with falsehood and calling them to it? I shall see nothing of your neighborhood after this. They left, then returned a second time at the well. Sa'd was told again, threatened them less harshly. Seeing leniency, As'ad said: O son of my maternal aunt, hear his words; if you hear evil, reject it, and if you hear good, answer Allah. He said: What does he say? Mus'ab recited: Ha Mim, by the clear Book — We made it an Arabic Qur'an that you may understand. Sa'd said: I hear only what I recognize. He returned, Allah having guided him, though he did not reveal Islam until he returned to his people. He called Banu 'Abd al-Ashhal to Islam, revealed his Islam, saying: Whoever doubts, small or great, male or female — let him bring us better than it, and we shall take it. By Allah, an affair has come for which necks shall grieve. Banu 'Abd al-Ashhal accepted Islam upon Sa'd's Islam and call, except the unmentioned. It was the first of the Ansar's houses to accept wholly. Then Banu al-Najjar expelled Mus'ab and pressed As'ad ibn Zurara, so Mus'ab moved to Sa'd ibn Mu'adh, continually calling, Allah guiding at his hands until hardly an Ansar house remained but some had accepted, their nobles accepted, 'Amr ibn al-Jamuh accepted, their idols were broken. The Muslims were the mightiest of its people, their affair set right. Mus'ab returned to the Messenger of Allah ﷺ, called The Reciter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : جب حج کا موقع آیا ‘ تو انصار میں سے بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حج کے لئے آئے ، جن میں حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے ‘ ہنو زریق میں سے حضرت رافع بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت ذکوان بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنو اشہل میں سے حضرت ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ تھے ، بن عمرو بن عوف میں سے حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ تھے ‘ نبی اکرم ﷺ ان حضرات کے پاس آئے اور ان لوگوں کو یہ بات بتائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور عزت افزائی کے لئے آپ کو منتخب کیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی ‘ جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنا ‘ تو وہ خاموش رہے ‘ ان کے دل نبی اکرم ﷺ کی دعوت کے حوالے سے مطمئن ہو گئے اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ وہ لوگ اہل کتاب سے جس کا تذکرہ سنتے تھے ‘ اس کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں ، آپ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں ، انہوں نے اس حوالے سے آپ کی تصدیق کی ‘ آپ پر ایمان لائے اور وہ لوگ بھلائی کے اسباب میں سے ہو گئے ، پھر ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : آپ یہ بات جانتے ہیں اوس اور خزرج کے درمیان دشمنی پائی جاتی ہے ‘ ہمیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ جب آپ کے معاملے کو کامیابی سے دو چار کرے ‘ تو ہم اللہ تعالیٰ کے لئے اور آپ کے لئے کوشش کرنے والے ہوں ‘ آپ کو جو مناسب لگتا ہے ‘ ہم آپ سے وہی طے کرتے ہیں ‘ آپ اللہ کا نام لے کر یہاں ٹھہرے رہیں ‘ ہم اپنی قوم کے پاس جاتے ہیں اور انہیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں اور انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان بہتری کر دے اور ہمارے معاملے کو اکٹھا کر دے ‘ آج ہم ایک دوسرے سے جدا ہیں ‘ ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہیں ‘ اگر اب آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آپس میں صلح نہ ہوئی ، تو ہم اجتماعی طور پر آپ کا ساتھ نہیں دے سکیں گے ‘ ہم اگلے سال حج کے موقع پر دوبارہ آپ سے ملاقات کریں گے ‘ نبی اکرم ﷺ ان کی کہی ہوئی بات سے راضی ہو گئے اور وہ لوگ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے ‘ وہ پوشیدہ طور پر ان لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور انہیں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بتاتے رہے اور ان تعلیمات کے بارے میں بتاتے رہے ‘ جن کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ‘ انہیں قرآن کی دعوت دیتے رہے ‘ یہاں تک کہ انصار کے تقریباً ہر ایک محلے میں کچھ لوگ مسلمان ہو گئے ۔ پھر ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ ہماری طرف اپنے میں سے کسی فرد کو بھیجیں ‘ جو لوگوں کو اللہ کی کتاب کے مطابق دعوت دے ‘ کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کی پیروی کی جائے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے بنوعبدالدار سے تعلق رکھنے والے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیج دیا ‘ انہوں نے بنو غنم کے علاقے میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا اور پوشیدہ طور پر لوگوں کو دعوت دینے لگے اور اسلام پھیلنے لگا اور اس کے ماننے والے زیادہ ہو گئے ‘ ابھی ان کی دعوت کی بنیاد پر یہ لوگ پوشیدہ زندگی گزار رہے تھے ‘ تو اسی دوران ایک مرتبہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ’’ مری ‘‘ کے کنویں کے پاس آئے ‘ یا اس کے قریب آئے اور وہاں بیٹھ گئے ‘ انہوں نے کچھ لوگوں کو پیغام بھیجا تھا ‘ وہ پوشیدہ طور پر ان لوگوں کے پاس آئے ‘ ابھی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور انہیں قرآن کے بارے میں بتا رہے تھے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کے بارے میں بتا دیا گیا ، تو وہ اسی وقت ہتھیار پہن کر ان لوگوں کے پاس آئے اور ان کے پاس نیزہ بھی تھا ‘ وہ آ کر حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور بولے : یہ اجنبی ‘ اکیلا وطن سے دور شخص کس لئے ہمارے علاقے میں آیا ہے ؟ تاکہ باطل کے ذریعے ہمارے کمزور لوگوں کو بے وقوف بنا لے ‘ اور باطل کی طرف ان لوگوں کو دعوت دے ؟ اب کے بعد میں تمہیں اپنے علاقے میں نہ دیکھوں ‘ تو وہ لوگ واپس چلے گئے ‘ پھر وہ لوگ دوبارہ ’’ مری “ نامی کنویں یا اس کے پاس آئے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دوسری مرتبہ ان کے بارے میں بتایا گیا ، تو انہوں نے پھر سخت دھمکی دی ‘ لیکن وہ پہلی سے کم تھی ‘ جب حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف سے نرمی دیکھی ‘ تو کہا : اے میرے خالہ زاد ! آپ اس کی بات سن لیں ‘ اگر آپ نے اس سے کوئی منکر بات سنی ‘ تو آپ اس کو مسترد کر دیجئے گا اور اگر کوئی بھلائی کی بات سنی ‘ تو آپ اللہ تعالیٰ کی بات کو قبول کر لیجئے گا ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کیا کہتا ہے ؟ تو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : ’’ حم ! کتاب مبین کی قسم ہے ‘ ہم نے اسے عربی قرآن بنایا ہے ‘ تاکہ تم اسے سمجھ لو ‘‘ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں صرف وہ بات سنوں گا جسے میں اچھا سمجھوں گا ‘ پھر وہ واپس چلے گئے ‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کر دی لیکن واپس جانے تک انہوں نے اسلام کے معاملے کو ظاہر نہیں کیا پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور بنو عبداشہل کو اسلام کی طرف دعوت دی ‘ اور اپنے اسلام کو ظاہر کر دیا ‘ انہوں نے اس بارے میں یہ کہا : جو بھی چھوٹا یا بڑا مرد یا عورت اس بارے میں شک کرتے ہیں ، تو وہ ہمارے پاس ایسی چیز لے آئیں ، جو اس سے زیادہ ہدایت والی ہو ‘ ہم اسے اختیار کر لیں گے ‘ اللہ کی قسم ! ایک ایسا معاملہ آیا ہے ‘ اس کے بارے میں گردنیں غمگین ہو جاتی ہیں ، تو بنوعبداشہل نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے وقت اور ان کی دعوت کے وقت اسلام قبول کر لیا ‘ البتہ اس شخص نے نہیں کیا ، جس کے سامنے اس کی تبلیغ نہیں ہوئی تھی ‘ تو یہ انصار کا وہ پہلا خاندان تھا جو مکمل مسلمان ہو گیا ، پھر بنونجار نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو نکال دیا اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ پر سختی کی ‘ تو حضرت مصعب عمیر رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں منتقل ہو گئے اور مسلسل دعوت دیتے رہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر اتنے لوگوں کو ہدایت نصیب کی کہ انصار کے ہر خاندان میں کچھ افراد مسلمان ہو گئے ‘ ان کے معززین مسلمان ہو گئے ، حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے اور ان کے بتوں کو توڑ دیا گیا ، تو مسلمان وہاں کے رہنے والوں میں نمایاں حیثیت کے مالک ہو گئے ‘ ان کا معاملہ ٹھیک ہو گیا پھر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس چلے گئے ‘ انہیں ” قاری صاحب “ کہا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ یہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9877

Majma al-Zawaid #9877

وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِظْهَارَ دِينِهِ، وَإِعْزَازَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْجَازَ وَعْدِهِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَوْسِمِ الَّذِي لَقِيَهُ فِيهِ النَّفَرُ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَهُمْ فِيمَا يَزْعُمُونَ سِتَّةٌ فِيهِمْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ishaq said: When Allah willed to manifest His religion, honor His Prophet ﷺ, and fulfill His promise, the Messenger of Allah ﷺ went out in the season in which the group of Ansar met him — six, it is claimed, among them Jabir ibn 'Abdullah ibn Ri'ab.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے نبی کو غلبہ عطا کرنا چاہا اور اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہا ‘ تو نبی اکرم ﷺ حج کے موقع پر نکلے ‘ یہ اس حج کی بات ہے جس میں انصار کے گروہ نے آپ سے ملاقات کی ان کے بیان کے مطابق وہ چھ افراد تھے ‘ جن میں سے ایک حضرت جابر بن عبداللہ بن رعاب رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9878

Majma al-Zawaid #9878

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَقَبَةِ، وَقَدْ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُوَافُوهُ سَبْعُونَ رَجُلًا الْعَامَ الْمُقْبِلَ أَقَمْنَا سَنَةً يَمْشِي أَحَدُنَا إِلَى صَاحِبِهِ بِالسَّمْعِ وَالرَّمْلِ وَالْمَطْعَمِ حَتَّى وَافَاهُ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا.». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Malik said: When twelve men came from 'Aqaba, and the Messenger of Allah ﷺ had commanded them to bring seventy men the next year, we remained a year, each walking to his companion with counsel, provision, and food, until seventy men of us met him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عقبہ ( یعنی بیعت عقبہ ) میں سے جب بارہ افراد آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ اگلے سال وہ ستر افراد آئیں ، تو ہم ایک سال تک یوں ٹھہرے رہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے پاس فرمانبرداری ‘ رمل ‘ اور کھانے کی چیز لے کر جاتا تھا ‘ یہاں تک کہ ہم میں سے ستر افراد پورے ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے حجاج بن شاعر نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9879

Majma al-Zawaid #9879

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى قَبَائِلِ الْعَرَبِ قَبِيلَةً قَبِيلَةً فِي الْمَوْسِمِ مَا يَجِدُ أَحَدًا يُجِيبُهُ حَتَّى جَاءَ اللَّهُ بِهَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمَّا أَسْعَدَهُمُ اللَّهُ، وَسَاقَ لَهُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَآوَوْا وَنَصَرُوا، فَجَزَاهُمُ اللَّهُ عَنْ نَبِيِّهِمْ خَيْرًا، وَاللَّهِ مَا وَفَّيْنَا لَهُمْ كَمَا عَاهَدْنَاهُمْ عَلَيْهِ، إِنَّا كُنَّا قُلْنَا لَهُمْ: نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ، وَلَئِنْ بَقِيَتْ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ لَا يَبْقَى لِي غُلَامٌ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Umar ibn al-Khattab said: The Messenger of Allah ﷺ stood offering himself to the Arab tribes, tribe by tribe, in the season, finding none to answer him, until Allah brought this clan of the Ansar — Allah making them fortunate, driving honor to them. They sheltered and aided. May Allah reward them for their Prophet with good. By Allah, we did not fulfill for them as we pledged: we said to them: We are the princes and you the ministers. If I remain until next year, no youth of mine shall remain except Ansari.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حج کے موقع پر ایک ‘ ایک قبیلے کے پاس جا کر انہیں دعوت دیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انصار کے گروہ کو لے آیا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سعادت مندی طے کر دی ‘ اور ان کے لئے عزت کو لے آیا ‘ تو انہوں نے ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا اور مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ ان کے نبی کے حوالے سے انہیں جزائے خیر عطا کرے ‘ اللہ کی قسم ہم نے ان کے ساتھ جو طے کیا تھا ، اسے اس طرح پورا نہیں کیا ، ہم ان سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہو گے ‘ اگر میں ایک سال تک باقی رہ گیا ‘ تو میرا کوئی غلام باقی نہیں رہے گا البتہ انصاری کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9880

Majma al-Zawaid #9880

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسَهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ عَلَى قَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ ; أَنْ يُؤْوُوهُ إِلَى قَوْمِهِمْ حَتَّى يُبَلِّغَ كَلَامَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ، وَلَهُمُ الْجَنَّةُ فَلَيْسَتْ قَبِيلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ تَسْتَجِيبُ لَهُ حَتَّى أَرَادَ اللَّهُ إِظْهَارَ دِينِهِ، وَنَصْرَ نَبِيِّهِ، وَإِنْجَازَ مَا وَعَدَهُ، سَاقَهُ اللَّهُ إِلَى هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاسْتَجَابُوا لَهُ وَجَعَلَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ هِجْرَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَجَمَاعَةٌ، وَضِعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha, may Allah be pleased with her, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, would present himself every year to the Arab tribes, asking them to shelter him among their people so that he could convey the speech of Allah and His messages, and Paradise would be theirs. Yet no tribe among the Arabs responded to him, until Allah willed to manifest His religion, aid His Prophet, and fulfill what He had promised him. So Allah drove him to this clan of the Ansar, and they responded to him, and Allah made for His Prophet, peace and blessings be upon him, a home of migration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ہر سال عرب کے مختلف قبائل کے سامنے دعوت دیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے : وہ لوگ اپنی قوم کے پاس نبی اکرم ﷺ کو لے جائیں ، تاکہ آپ اللہ کے کلام اور اس کی رسالت کی تبلیغ کر سکیں ، پھر ان لوگوں کو جنت نصیب ہو گی ‘ عربوں کے کسی بھی قبیلے نے آپ کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ‘ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا اور اپنے نبی کی مدد کرنے کا اور اپنے وعدے کو پورا کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو انصار کا ایک گروہ آپ کے پاس آ گیا ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی دعوت کو قبول کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے ہجرت کا مقام ( مدینہ منورہ ) بنا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ‘ جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9881

Majma al-Zawaid #9881

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ، وَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَرَجْنَا فِي حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ صَلَّيْنَا، فُقِّهْنَا مَعَنَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا لِسَفَرِنَا، وَخَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ الْبَرَاءُ لَنَا: يَا هَؤُلَاءِ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ - وَاللَّهِ - رَأْيًا، وَإِنِّي - وَاللَّهِ - مَا أَدْرِي تُوَافِقُونِي عَلَيْهِ أَمْ لَا؟ قُلْنَا لَهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ لَا أَدَعَ هَذِهِ الْبِنْيَةَ مِنِّي بِظَهْرٍ يَعْنِي الْكَعْبَةَ - وَأَنْ أُصَلِّيَ إِلَيْهَا قَالَ: فَقُلْنَا: وَاللَّهِ مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَّا إِلَى الشَّامِ، وَمَا نُرِيدُ أَنْ نُخَالِفَهُ قَالَ: فَقُلْنَا: لَكِنَّا لَا نَفْعَلُ. قَالَ: وَكُنَّا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَّيْنَا إِلَى الشَّامِ، وَصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ أَخِي: وَقَدْ كُنَّا قَدْ عَتَبْنَا عَلَيْهِ مَا صَنَعَ، وَأَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ: يا ابْنَ أَخِي، انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَسْأَلَهُ عَمَّا صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ خِلَافِكُمْ إِيَّايَ فِيهِ. قَالَ: فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنَّا لَا نَعْرِفُهُ، لَمْ نَرَهُ مِنْ قَبْلُ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفَانِهِ؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: فَهَلْ تَعْرِفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّهُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: وَقَدْ كُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ، كَانَ لَا يَزَالُ يَقْدَمُ عَلَيْنَا تَاجِرًا قَالَ: فَادْخُلَا الْمَسْجِدَ فَهُوَ الرَّجُلُ الْجَالِسُ مَعَ الْعَبَّاسِ. قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا الْعَبَّاسُ جَالِسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ جَالِسٌ، فَسَلَّمْنَا ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ: "" هَلْ تَعْرِفُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ يَا أَبَا الْفَضْلِ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، هَذَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ سَيِّدُ قَوْمِهِ، وَهَذَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ. قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الشَّاعِرُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَقَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي خَرَجْتُ فِي سَفَرِي هَذَا، وَقَدْ هَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ، فَجَعَلْتُ لَا أَجْعَلُ هَذِهِ الْبِنْيَةَ مِنِّي بِظَهْرٍ، فَصَلَّيْتُ إِلَيْهَا، وَقَدْ خَالَفَنِي أَصْحَابِي فِي ذَلِكَ حَتَّى وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَمَا تَرَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَقَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَيْهَا "". قَالَ: فَرَجَعَ الْبَرَاءُ إِلَى قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى مَعَنَا إِلَى الشَّامِ قَالَ: وَأَهْلُهُ يُصَلُّونَ إِلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى مَاتَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ كَمَا قَالُوا: نَحْنُ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ». قَالَ: «وَخَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ فَوَاعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَقَبَةَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ الْحَجِّ، وَكَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُو جَابِرٍ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا، وَكُنَّا نَكْتُمُ مِنْ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمْرَنَا فَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا جَابِرٍ إِنَّكَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا، وَشَرِيفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا، وَإِنَّا نَرْغَبُ بِكَ عَمَّا أَنْتَ فِيهِ أَنْ تَكُونَ حَصَبًا لِلنَّارِ غَدًا، ثُمَّ دَعَوْتُهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبَرْتُهُ بِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ وَشَهِدَ مَعَنَا الْعَقَبَةَ وَكَانَ نَقِيبًا. قَالَ: فَنِمْنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَعَ قَوْمِنَا فِي رِحَالِنَا حَتَّى إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَسَلَّلُ مُسْتَخْفِينَ تَسَلُّلَ الْقَطَا حَتَّى اجْتَمَعْنَا فِي الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا مَعَهُمُ امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِهِمْ: نَسِيبَةُ بِنْتُ كَعْبٍ أُمُّ عُمَارَةَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، وَأَسْمَاءُ ابْنَةُ عَمْرِو بْنِ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي سَلَمَةَ، وَهِيَ أُمُّ مَنِيعٍ. فَاجْتَمَعْنَا بِالشِّعْبِ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَنَا وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ إِلَّا أَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَحْضُرَ أَمْرَ ابْنِ أَخِيهِ يَتَوَثَّقُ لَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ - وَكَانَتِ الْعَرَبُ مِمَّا يُسَمُّونَ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ الْخَزْرَجَ أَوْسَهَا، وَخَزْرَجَهَا - إِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ، وَقَدْ مَنَعْنَاهُ مِنْ قَوْمِنَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى مِثْلِ رَأْيِنَا فِيهِ، وَهُوَ فِي عِزٍّ مِنْ قَوْمِهِ، وَمَنْعَةٍ فِي بَلَدِهِ. قَالَ: فَقُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ، فَتَكَلَّمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخُذْ لِرَبِّكَ وَلِنَفْسِكَ مَا أَحْبَبْتَ. فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَا، وَدَعَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: "" أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ "". قَالَ: فَأَخَذَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لِنَمْنَعَنَّكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَزْرَنَا، فَبَايِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَحْنُ وَاللَّهِ أَهْلُ الْحُرُوبِ وَأَهْلُ الْحَلْقَةِ وَرِثْنَاهَا كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ. قَالَ: فَاعْتَرَضَ الْقَوْلَ - وَالْبَرَاءُ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الرِّجَالِ حِبَالًا، وَإِنَّا قَاطِعُوهَا - وَهِيَ الْعُهُودُ - فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ نَحْنُ فَعَلْنَا ذَلِكَ، وَأَظْهَرَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَرْجِعَ وَتَدَعَنَا؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" بَلِ الدَّمَ الدَّمَ، وَالْهَدْمَ الْهَدْمَ أَنْتُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْكُمْ، أُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ، وَأُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَخْرِجُوا إِلَيَّ مِنْكُمْ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا مِنْكُمْ يَكُونُونَ عَلَى قَوْمِهِمْ "". فَأَخْرَجُوا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا مِنْهُمْ تِسْعَةٌ مِنَ الْخَزْرَجِ، وَثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَوْسِ». وَأَمَّا مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنِي فِي حَدِيثُهُ عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ، ثُمَّ تَبَايَعَ الْقَوْمُ، فَلَمَّا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأْسِ الْعَقَبَةِ بِأَنْفَذِ صَوْتٍ سَمِعْتُهُ: يَا أَهْلَ الْجَبَاجِبِ - وَالْجَبَاجِبُ: الْمَنَازِلُ - هَلْ لَكُمْ فِي مُذَمَّمٍ وَالصُّبَاةُ مَعَهُ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى حَرْبِكُمْ؟ قَالَ عَلِيُّ يَعْنِي: ابْنَ إسْحَاقَ: مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا أَزَبُّ الْعَقَبَةِ، هَذَا ابْنُ أَزْيَبَ، اسْمَعْ أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَأَفْرُغَنَّ لَكَ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْفَعُوا إِلَيَّ رِحَالَكُمْ "". قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ نَضْلَةَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَئِنْ شِئْتَ لَنَمِيلَنَّ عَلَى أَهْلِ مِنًى غَدًا بِأَسْيَافِنَا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَمْ أُؤْمَرْ بِذَلِكَ "". قَالَ: فَرَجَعْنَا فَنِمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَتْ عَلَيْنَا جُلَّةُ قُرَيْشٍ حَتَّى جَاءُونَا في مَنَازِلِنَا، فَقَالُوا: يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ، إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ إِلَى صَاحِبِنَا هَذَا ; تَسْتَخْرِجُونَهُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِينَا، وَتُبَايِعُونَهُ عَلَى حَرْبِنَا، وَاللَّهِ إِنَّهُ مَا مِنَ الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَيْنَا أَنْ تَنْشَبَ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ مِنْكُمْ. قَالَ: فَنَبْعَثُ مِنْ هُنَالِكَ مِنْ مُشْرِكِي قَوْمِنَا يَحْلِفُونَ لَهُمْ بِاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ هَذَا مِنْ شَيْءٍ، وَمَا عَلِمْنَاهُ، وَقَدْ صَدَقُوا لَمْ يَعْلَمُوا مَا كَانَ مِنَّا. قَالَ: فَبَعْضُنَا يَنْظُرُ إِلَى بَعْضٍ. قَالَ: وَقَامَ الْقَوْمُ، وَفِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ جَدِيدَانِ قَالَ: فَقُلْتُ كَلِمَةً كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُشْرِكُ الْقَوْمَ بِهَا فِيمَا قَالُوا: مَا تَسْتَطِيعُ يَا أَبَا جَابِرٍ وَأَنْتَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا أَنْ تَتَّخِذَ نَعْلَيْنِ مِثْلَ نَعْلَيْ هَذَا الْفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ؟ قَالَ: فَسَمِعَهَا الْحَارِثُ فَخَلَعَهُمَا، ثُمَّ رَمَى بِهِمَا إِلَيَّ، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَنْتَعِلَنَّهُمَا، قَالَ: يَقُولُ أَبُو جَابِرٍ: أَحْفَظْتَ - وَاللَّهِ - الْفَتَى ارْدُدْ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَرُدُّهُمَا، قَالَ: وَوَاللَّهِ صَالِحٌ، لَئِنْ صَدَقَ الْفَأْلُ لَأَسْلُبَنَّهُ». فَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ مَالِكٍ عَنِ الْعَقَبَةِ، وَمَا حَضَرَ مِنْهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ: «فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيَنَا رَجُلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقُلْنَا لَهُ: تَدُلُّنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالَ: فَهَلْ تَعْرِفَانِهِ إِذَا رَأَيْتُمَاهُ؟ وَقَالَ أَيْضًا: وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَلَا الْقُرْآنَ، وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ ; فَأَجَبْنَاهُ بِالْإِيمَانِ بِهِ وَالتَّصْدِيقِ لَهُ». وَقَالَ أَيْضًا: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَخْرِجُوا مِنْكُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا "". فَأَخْرَجَهُمْ فَكَانَ نَقِيبَ بَنِي النَّجَّارِ: أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي سَلَمَةَ: الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي سَاعِدَةَ: سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي زُرَيْقٍ: رَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، وَسَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ: عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ. وَنَقِيبُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ: أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَأَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التِّيهَانِ. وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ: سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Malik, may Allah be pleased with him, who was among those present at Aqaba and who pledged allegiance to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, narrated: We set out with the pilgrims of our people who were polytheists, and we had already prayed and gained understanding. With us was Al-Bara ibn Marur, our elder and chief. When we set out on our journey and left Madina, Al-Bara said to us, By Allah, I have formed an opinion, and by Allah I do not know whether you will agree with me or not. We said, What is it. He said, I have decided never to turn my back on this Building, meaning the Kaba, but to pray facing it. We said, By Allah, we have only heard that our Prophet, peace and blessings be upon him, prays facing Syria, and we do not wish to oppose him. We said, We will not do it. Whenever prayer came, we prayed toward Syria while he prayed toward the Kaba until we reached Mecca. My brother said, We had reproached him for what he did, but he refused except to persist. When we arrived at Mecca he said, O son of my brother, let us go to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, so I may ask him about what I did on this journey, for by Allah something has entered my heart because of your disagreement with me. So we went out asking about the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, not knowing him, never having seen him before. A man of Mecca met us, and we asked him about the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. He said, Do you know him. We said, No. He said, Do you know Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, his uncle. We said, Yes, for we knew Al-Abbas, who used to come to us as a trader. He said, Enter the mosque, he is the man sitting with Al-Abbas. So we entered the mosque, and Al-Abbas was sitting with the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him. We greeted and sat. The Prophet, peace and blessings be upon him, said to Al-Abbas: > **"Do you know these two men, O Abu al-Fadl."** He said, Yes, this is Al-Bara ibn Marur, chief of his people, and this is Kab ibn Malik. I never forget the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, saying, The poet. He said, Yes. Then Al-Bara said, O Prophet of Allah, I set out on this journey while Allah had guided me to Islam, so I refused to turn my back on this Building and prayed toward it, but my companions opposed me until doubt entered my heart. What do you think, O Messenger of Allah. He said: > **"You were upon a qibla, had you remained steadfast upon it."** So Al-Bara returned to the qibla of the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, and prayed with us toward Syria, though his family continued praying toward the Kaba until he died, not as others claimed. We then went for Hajj and appointed the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, at Aqaba in the middle of the days of Tashriq. When we finished Hajj, on the night appointed, with us was Abdullah ibn Amr ibn Haram, Abu Jabir, a chief among our chiefs. We concealed our affair from our polytheist people, so we spoke to him and said, O Abu Jabir, you are a chief and noble, and we desire for you to escape what you are in lest you become fuel for the Fire tomorrow. Then we invited him to Islam and informed him of the appointment, so he accepted Islam and witnessed Aqaba with us and became a naqib. We slept that night with our people in our camps until a third of the night had passed, then we slipped out stealthily like sand-grouse until we gathered in the valley at Aqaba, seventy men with two women, Nasiba bint Kab, Umm Umara of Bani Mazin ibn al-Najjar, and Asma daughter of Amr ibn Adi of Bani Salama, mother of Mani. We waited until the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, came with his uncle Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, who was still upon his people's religion but wished to attend his nephew's affair and secure terms for him. Al-Abbas spoke first and said, O Khazraj, for the Arabs called both Aws and Khazraj by that name, Muhammad is from us as you know, and we have protected him from our people who share our view, and he is in honor among his people and protection in his land. We said, We have heard what you said, so speak, O Messenger of Allah, and take for your Lord and yourself what you love. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, spoke, recited, called to Allah, and encouraged Islam, saying: > **"I pledge you that you protect me as you protect your women and children."** Al-Bara took his hand and said, Yes, by Him who sent you with truth, we will protect you as we protect our own honor, so pledge us, O Messenger of Allah, for we are people of war and arms inherited from elder to elder. But Abu al-Haytham ibn al-Tayyihan, ally of Bani Abd al-Ashhal, interrupted while Al-Bara was speaking and said, O Messenger of Allah, between us and some men are bonds, meaning covenants, and we will sever them. If we do so and Allah grants you victory, will you return and leave us. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, smiled and said: > **"Rather, blood is blood, and destruction is destruction. You are from me and I am from you. I wage war against whom you wage war, and make peace with whom you make peace."** And the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Bring forth to me twelve naqibs from among you to stand over their people."** So they brought forth twelve, nine from Khazraj and three from Aws, among them Asad ibn Zurara for Bani al-Najjar, Al-Bara ibn Marur and Abdullah ibn Amr for Bani Salama, Sad ibn Ubada and Al-Mundhir ibn Amr for Bani Saida, Rafi ibn Malik for Bani Zurayq, Abdullah ibn Rawaha and Sad ibn al-Rabi for Bani al-Harith ibn Khazraj, Ubada ibn al-Samit for Bani Awf, Usayd ibn Hudayr and Abu al-Haytham for Bani Abd al-Ashhal, and Sad ibn Khaythama for Bani Amr ibn Awf. Mabad ibn Kab reported from his brother from his father Kab that the first to strike his hand upon the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, was Al-Bara ibn Marur, then the people pledged. When we pledged, Satan shouted from the top of Aqaba in the most piercing voice I ever heard, O people of the dwellings, do you want Mudhammam and the apostates with him who have agreed to war against you. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"This is Azab al-Aqaba, son of Azyab. Hear, O enemy of Allah, by Allah I shall soon deal with you."** Then the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"Return to your camps."** Al-Abbas ibn Ubada ibn Nadla said, By Him who sent you with truth, if you wish we will fall upon the people of Mina tomorrow with our swords. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said: > **"We have not been commanded with that."** We returned and slept till morning. In the morning the chiefs of Quraysh came to our dwellings and said, O Khazraj, it has reached us that you came to this companion of ours to extract him from among us and pledge him to war against us. By Allah, there is no Arab with whom we hate war between us more than you. Our polytheists swore by Allah that nothing of this happened and they knew nothing, and they spoke truthfully, for they did not know. We looked at one another. Among them was Al-Harith ibn Hisham wearing new sandals. I said a word as if to share in their denial, How can you, O Abu Jabir, chief among chiefs, not take sandals like this Qurayshi youth. Al-Harith heard, removed them and threw them to me, saying, By Allah you shall wear them. Abu Jabir said, You have alarmed the youth, return his sandals. I said, By Allah I will not return them. By Allah, if the omen proves true, I shall surely strip him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ جو بیعت عقبہ میں شرکت کرنے والے افراد میں سے ایک ہیں ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت بھی کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ہم مشرکین سے تعلق رکھنے والے ‘ اپنی قوم کے حاجیوں ‘ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم لوگ نماز پڑھا کرتے تھے ہمارے ساتھ حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے جو ہمارے بڑے اور ہمارے سردار تھے ‘ جب ہم سفر پر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ سے نکلے ‘ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا : اے افراد ! اللہ کی قسم میری ایک رائے ہے ‘ اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ تم اس بارے میں میری موافقت کرتے ہو یا نہیں کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں اس عمارت یعنی خانہ کعبہ کی طرف پشت نہ کروں اور میں اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کروں ‘ ہم نے کہا : اللہ کی قسم ہمیں تو یہی اطلاع ملی ہے کہ نبی اکرم ﷺ شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں ، تو ہم نبی اکرم ﷺ کے برخلاف نہیں کرنا چاہیں گے ‘ تو ہم نے کہا : ہم ایسا نہیں کریں گے راوی کہتے ہیں : جب نماز کا وقت آتا تھا ، تو ہم شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ‘ اور وہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم لوگ مکہ آ گئے ‘ میرے بھائی نے کہا : ہم نے ان کے طرز عمل پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا لیکن وہ اپنی بات پر مصر رہے ‘ جب ہم مکہ آ گئے ‘ تو انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! تم نبی اکرم ﷺ کی طرف چلو ‘ تاکہ میں ان سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ‘ جو میں سفر کے دوران کرتا رہا ہوں ‘ اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے اس بارے میں جو میرے برخلاف رائے رکھی ہے ‘ اس بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن پائی جاتی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : ہم نکلے ہم نبی اکرم ﷺ کے بارے میں دریافت کرنے لگے ‘ ہم آپ کو پہچانتے نہیں تھے کیونکہ ہم نے اس سے پہلے آپ کو نہیں دیکھا تھا ، اہل مکہ میں سے ایک شخص ہم سے ملا ‘ ہم نے ان سے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا : کیا تم دونوں انہیں پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا : جی نہیں ! اس نے کہا : کیا تم دونوں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو پہچانتے ہو ‘ جو ان کے چچا ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! کیونکہ ہم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو جانتے تھے ‘ وہ تجارت کے سلسلے میں ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ‘ پھر ان دونوں کو مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس ) لایا گیا ‘ تو وہاں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے ‘ جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم مسجد میں داخل ہوئے ‘ وہاں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے سلام کیا اور پھر آپ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوالفضل ! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ براء بن معرور ہے ‘ جو اپنی قوم کا سردار ہے ‘ اور یہ کعب بن مالک ہے ‘ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کے فرمان کو ( آج بھی ) نہیں بھولا ‘ آپ نے فرمایا : وہ جو شاعر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اس سفر پر نکلا ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی ‘ لیکن میں نے اس تعمیر ( یعنی خانہ کعبہ ) کی طرف پشت نہیں کی ‘ میں اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتا رہا ‘ میرے ساتھیوں نے اس بارے میں میری مخالفت کی ‘ یہاں تک کہ اس حوالے سے میرے ذہن میں الجھن پیدا ہوئی یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جس قبلہ پر پہلے ہوا ‘ گر تم اس پر برقرار رہو ‘ تو یہ بہتر ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے دوبارہ نبی اکرم ﷺ کے قبلہ کی طرف رخ کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے ‘ ان کے اہل خانہ ‘ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اس طرح نہیں ہے ‘ جس طرح لوگ بیان کرتے ہیں ، ہم اس کے بارے میں ‘ اُن لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے ‘ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ طے کیا کہ ایام تشریق کے درمیانی دن میں عقبہ میں ملیں گے ‘ جب ہم حج سے فارغ ہو گئے اور وہ رات آ گئی ‘ جس کا ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وعدہ کیا تھا ‘ تو ہمارے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ تھے ‘ جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد ہیں ‘ وہ ہمارے سرداروں میں سے ایک تھے ‘ ہم اپنی قوم کے مشرکین سے اپنے معاملے کو چھپا رہے تھے ‘ ہم نے ان کے ساتھ بات چیت کی ‘ ہم نے ان سے کہا : اے ابوجابر ! آپ ہمارے سرداروں میں سے ایک ہیں ‘ اور ہمارے معززین میں سے ایک ہیں ‘ آپ کے بارے میں ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ جس صورت حال میں ہیں ، کہیں کل آپ آگ کا ایندھن نہ بن جائیں ، پھر میں نے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی اور انہیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ طے کیے ہوئے معاملے کے بارے میں بتایا ‘ تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ بھی ہمارے ساتھ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے وہ نقیب تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم اس رات اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائشی جگہ پر سو گئے ‘ یہاں تک کہ جب ایک تہائی رات گزر گئی ‘ تو ہم اپنی رہائشی جگہ سے نکلے ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وعدہ کیا ہوا تھا ‘ ہم آرام سے چھپ کر کھسکتے ہوئے نکلے ‘ ہیں جیسے ” قطا ‘‘ نامی پرندہ کھسکتا ہوا چلتا ہے ‘ یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں اکٹھے ہوئے ‘ ہم ستر افراد تھے ‘ جن کے ساتھ دو خواتین تھیں ‘ نسیبہ بنت کعب ام عمارہ ‘ جو بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھتی تھیں ‘ اور اسماء بنت عمرو بن عدی بن ثابت ‘ جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا ‘ اور وہ اُمّ منیع ہیں ، ہم گھائی میں اکٹھے ہو کر نبی اکرم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے ‘ یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے ‘ اس دن آپ کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے ‘ جو اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے ‘ لیکن وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے معاملے میں موجود رہیں ، تاکہ اسے پختہ کروا دیں ، جب ہم بیٹھے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بات چیت کا آغاز کیا ‘ اور اسے کہا : اے خزرج کے گروہ ! اس وقت عربوں کا یہ معمول تھا کہ وہ انصار کے قبیلے کو خزرج کے نام سے یاد کرتے تھے اس میں خزرج اور اوس دونوں شامل تھے ( انہوں نے کہا :’’ محمد ‘‘ کا تعلق ہم سے ہے ‘ جیسا کہ تم جانتے ہو اور ہم نے انہیں اپنی قوم سے بچا کے رکھا ہوا ہے ‘ وہ قوم جو اس کے بارے میں ہمارے جیسی رائے رکھتی ہے ‘ اور یہ اپنی قوم میں نمایاں حیثیت کے مالک ہیں اپنے شہر میں نمایاں حیثیت کے مالک ہیں ‘ راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : آپ نے جو بات کہی ہے وہ ہم نے سن لی ہے ‘ یا رسول اللہ ! اب آپ کلام کیجئے اور آپ اپنے پروردگار کے حوالے سے اور اپنی ذات کے حوالے سے جو آپ مناسب سمجھیں وہ طے کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے گفتگو شروع کی ‘ آپ نے تلاوت شروع کی ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ‘ اسلام کی طرف ترغیب دی اور فرمایا : میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم میری بھی اسی طرح حفاظت کرو گے ‘ جس طرح تم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو ‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ ہم آپ کی بھی اسی طرح حفاظت کریں گے ‘ جس طرح اپنے گھر بار کی حفاظت کرتے ہیں ‘ یا رسول اللہ ! آپ ہم سے بیعت لیں ‘ اللہ کی قسم ! ہم جنگ کرنے والے لوگ ہیں اور اہل حلقہ ہیں ‘ اور یہ چیز نسل در نسل ہمیں وراثت میں منتقل ہوئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت براء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ‘ تو حضرت ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ جو بنوعبداشہل کے حلیف تھے ‘ انہوں نے درمیان میں دخل دیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اور لوگوں کے درمیان معاہدے پائے جاتے ہیں ایسی صورت میں وہ ختم ہو جائیں گے ‘ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ نصیب کر دے ، تو آپ واپس تشریف لے جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ خون ، خون ہو گا اور ہدم ہدم ہو گا ‘ تم مجھ سے ہو گے اور میں تم سے ہوؤں گا ، جس سے تم جنگ کرو گے اُس سے میں جنگ کروں گا ‘ اور جس کے ساتھ تم سلامت رہو گے ‘ اس کے ساتھ میں سلامت رہوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے میں سے بارہ نقیب میرے پاس لے کر آؤ ! جو اپنی قوم کے نگران ہوں ، تو انہوں نے اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کیے ‘ جن میں سے نو کا تعلق خزرج قبیلے سے تھا ‘ اور تین کا تعلق اوس قبیلے سے تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : معبد بن کعب نے مجھے جو حدیث بیان کی ہے ‘ جو انہوں نے اپنے بھائی کے حوالے سے اپنے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر ‘ سب سے پہلے بیعت حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کی ، پھر لوگوں نے یکے بعد دیگرے بیعت کی ‘ جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کر لی ‘ تو شیطان نے گھاٹی کے سرے سے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے رہائشی جگہ والو ! کیا تم قابل مذمت فرد اور اس کے ساتھ بے دین لوگوں میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ جو تم لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے رہے ہیں ؟ علی بن اسحاق کہتے ہیں : اللہ کا دشمن ( نبی اکرم ﷺ کو ) ’’ محمد ‘‘ نہیں کہتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ گھاٹی سے آواز آئی ہے ‘ اور یہ ابن ازیب ہے ‘ اے اللہ کے دشمن ! تو سن لے ! اللہ کی قسم ! اب میں تمہارے لئے فارغ ہونے لگا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اُٹھ کر اپنی رہائشی جگہ پر چلے جاؤ ‘ حضرت عباس بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ اگر آپ چاہیں ‘ تو کل ہم اپنی تلواریں لے کر تمام اہل منی پر حملہ آور ہو جاتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم واپس آئے اور سو گئے ‘ جب صبح ہوئی تو قریش کے اکابرین ہمارے پاس آئے ‘ وہ ہماری رہائشی جگہوں پر ہمارے پاس آ گئے اور بولے : اے خزرج قبیلے کے لوگو ! ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ہمارے ساتھی کے پاس گئے تھے تم انہیں ہمارے درمیان میں سے نکال کر لے جانا چاہتے ہو اور تم نے یہ بیعت کر لی ہے کہ ہمارے ساتھ جنگ کرو گے ‘ اللہ کی قسم عربوں میں سے کسی کے ساتھ بھی جنگ کی صورت حال پیدا کرنا ‘ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہو گا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان یہ صورت حال پیدا ہو جائے ‘ راوی کہتے ہیں : اس وقت ہم نے اپنی قوم کے مشرک افراد کو بھیجا اور انہوں نے ان لوگوں کے سامنے اللہ کے نام پر قسم اٹھائی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں علم ہے اور انہوں نے سچ کہا تھا ‘ کیونکہ ہم نے جو کچھ کیا تھا ‘ انہیں اس بارے میں پتہ ہی نہیں تھا ‘ راوی کہتے ہیں : وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ‘ پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ بھی تھے ‘ انہوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے راوی کہتے ہیں : میں نے ایک کلمہ کہا جس کے ذریعے میں یہ چاہ رہا تھا کہ اپنی قوم کی کہی ہوئی باتوں میں ‘ خود کو ان کا حصے دار ظاہر کروں ‘ تو ان لوگوں نے کہا : اے ابوجابر ! تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، تم ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار ہو ‘ کہ تم قریش کے اس نوجوان کے دو نئے جوتوں جیسے دو جوتے پہن لو ؟ راوی کہتے ہیں : جب حارث نے یہ بات سنی ‘ تو انہوں نے جوتے اتار دیے اور پھر انہیں میری طرف پھینک دیا اور کہا : اللہ کی قسم ! تم ان دونوں کو ضرور پہنو گے ‘ تو حضرت ابوجابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! تم نے حفاظت کر لی ہے ‘ تم اس کے جوتے اسے واپس کر دو ‘ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں انہیں واپس نہیں کروں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم اگر یہ فال ٹھیک ہے ‘ تو میں انہیں حاصل کر لوں گا ۔ یہ ابن مالک کی نقل کردہ حدیث ہے ‘ جو بیعت عقبہ اور اس میں موجود افراد کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے بھی سماع کی صراحت کی ہے ۔ امام طبرانی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں نکلے ’’ ابطح “ کے مقام پر ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی ہم نے اُس سے دریافت کیا : تم محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کی طرف ہماری رہنمائی کرو گے ؟ اس نے دریافت کیا : جب تم انہیں دیکھو گے تو کیا تم انہیں پہچان لو گے ؟ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کلام کیا ‘ اور قرآن کریم کی تلاوت کی اور اسلام کے بارے میں ترغیب دی تو ہم نے آپ پر ایمان لا کر اور آپ کی تصدیق کر کے آپ کی دعوت کو قبول کیا ۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کرو ‘ تو انہوں نے ان کو منتخب کیا ‘ تو بنونجار کے نقیب حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے ، بنوسلمہ کے نقیب حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنو ساعدہ کے نقیب حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنوزریق کے نقیب حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنو حارث بن خزرج کے نقیب ‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنو اوس بن خزرج کے نقیب حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنو عبداشہل کے نقیب حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ہیثم بن ابوتیہان رضی اللہ عنہ تھے ‘ بنو عمرو بن عوف کے نقیب حضرت سعد بن ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ تھے ۔

9882

Majma al-Zawaid #9882

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظٍ وَمَجَنَّةٍ، وَفِي الْمَوْسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ: "" مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ "". حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، أَوْ مِنْ مُضَرِ كَذَا، قَالَ: قَالَ: فَيَأْتِيِهِ قَوْمُهُ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ، وَهُوَ يَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ، وَصَدَّقْنَاهُ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ. ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: "" تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ والْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا لِلَّهِ لَا تَخَافُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ، وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ "". قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، أَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ، وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ، وَأَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خَبِيئَةً، فَتُبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ، قَالُوا: أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا، وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا، وَشَرَطَ، وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ». قُلْتُ: رَوَى أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, narrated: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, spent ten years following the people in their dwellings at Ukaz and Majanna, and at Mina during the season, saying: > **"Who will shelter me, who will aid me so that I may convey the message of my Lord, and Paradise will be his."** Until a man would come from Yemen or from Mudar, and his people would come to him saying, Beware the youth of Quraysh, lest he tempt you, while he walked among their camps and they pointed at him with fingers. Until Allah sent us from Yathrib, so we sheltered him and believed him. A man among us would go, believe in him, and he would teach him the Quran, then he would return to his family and they would accept Islam through his Islam, until no house among the Ansar remained except therein were Muslims manifesting Islam. Then they all conspired and said, How long shall we leave the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, driven about in the mountains of Mecca, fearful. So seventy men among us rode to him in the season and appointed the valley of Aqaba. They gathered there one by one and two by two until we were complete. We said, O Messenger of Allah, upon what shall we pledge you. He said: > **"You pledge me to hear and obey in energy and lassitude, to spend in hardship and ease, to enjoin good and forbid evil, to speak for Allah fearing no blame of any blamer, and to aid me and protect me when I come to you as you protect yourselves, your wives, and your children, and Paradise is yours."** So we rose to him and pledged him. Asad ibn Zurara, the youngest, took his hand and said, Gently, O people of Yathrib, for we only undertook this journey knowing he is the Messenger of Allah, and taking him out today means severance from all Arabs, killing of the best among you, and biting of swords. If you fear weakness from yourselves, then say so now, for it is an excuse before Allah. They said, O Asad, remove your hand from us, for by Allah we shall never abandon this pledge nor rescind it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دس سال تک عکا ظاور مجنہ ( کے میلوں ) میں ‘ اور حج کے موقع پر منی میں ‘ لوگوں کے پاس ان کے رہائشی جگہوں پر تشریف لے جاتے رہے ‘ اور یہ فرماتے رہے : کون مجھے پناہ دے گا ؟ کون میری مدد کرے گا ؟ تاکہ میں اپنے پروردگار کی رسالت کی تبلیغ کروں ‘ اُسے جنت نصیب ہو گی ‘ یہاں تک کہ ایک شخص ‘ جو یمن سے یا فلاں جگہ کے مضر قبیلے سے چلتا ‘ تو اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جا کر یہ کہتے : تم قریش کے اس نوجوان سے بچ کے رہنا ، کہیں وہ تمہیں آزمائش کا شکار نہ کر دے ‘ نبی اکرم ﷺ اُن لوگوں کی رہائشی جگہوں کے درمیان چلتے رہتے اور وہ لوگ انگلیوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارے کرتے رہتے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرت سے بھیجا ‘ ہم نے آپ کو پناہ دی اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ‘ ہم میں سے ایک شخص نکلا ‘ وہ آپ پر ایمان لایا ‘ آپ نے اسے قرآن کی تعلیم دی ‘ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس گیا ‘ اور اس کے اہل خانہ بھی اس کے اسلام کی بدولت مسلمان ہو گئے ‘ یہاں تک کہ انصار کے ہر ایک محلے میں کچھ مسلمان ہو گئے ‘ جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے ، پھر ان سب لوگوں نے مل کر یہ طے کیا اور یہ کہا : ہم کب تک اللہ کے رسول کو اس حالت میں رہنے دیں گے کہ آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان رہیں اور اندیشے کا شکار رہیں ، تو ہم میں سے ستر افراد سوار ہو کر حج کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ہم نے یہ طے کیا کہ عقبہ کی گھاٹی میں ملیں گے ‘ وہاں ایک ‘ ایک دو ‘ دو کر کے افراد اکٹھے ہونا شروع ہوئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے ‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چستی اور سستی ‘ ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری کرنے ‘ اور تنگی اور خوشحالی ہر حال میں خرچ کرنے ، نیکی کا حکم دینے ‘ برائی سے منع کرنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونے اور میری مدد کرنے ‘ اور جب میں تمہارے پاس آؤں ، تو جس طرح تم اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو ‘ اس طرح میری حفاظت کرنے کی بیعت کرو ‘ تمہیں جنت نصیب ہو گی ‘ راوی کہتے ہیں : ہم اٹھ کر آپ کے پاس آئے اور آپ کی بیعت کر لی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر آپ کا ہاتھ پکڑا ‘ وہ ان لوگوں میں سب سے کمسن تھے ‘ انہوں نے کہا : اے اہل یثرب ٹھہر جاؤ ! ہم سفر کر کے ان کے پاس آئے ہیں ‘ صرف اس وجہ سے کہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور آج انہیں لے کر جانا ‘ تمام عربوں سے جدا ہونے کے مترادف ہے ‘ تمہارے بہترین لوگ قتل ہو جائیں گے ‘ تلواریں تمہیں کاٹ دیں گی ‘ اگر تو تم ایسے لوگ ہو کہ ایسی صورت حال پر صبر کرو گے ‘ تو تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا اور اگر تم ایسے لوگ ہو کہ تم اپنی ذات کے حوالے سے خوف رکھتے ہو ‘ تو تم اس چیز کو بیان کر دو ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کرنے کے حوالے سے ‘ یہ تمہارے لئے زیادہ موزوں ہو گا ‘ تو اُن لوگوں نے کہا : اے اسعد ! تم ایک طرف ہٹ جاؤ ! اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور اسے کبھی ترک نہیں کریں گے ‘ تو ہم اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھے اور ہم نے آپ کی بیعت کر لی ‘ آپ ﷺ نے ہم سے بیعت لی اور یہ شرط عائد کی کہ اس کے بدلے میں ہمیں جنت نصیب ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ سنن ‘‘ کے مولفین نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور ہم اسے کبھی واپس نہیں لیں گے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9883

Majma al-Zawaid #9883

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ: وَقَالَ: تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً.

EnglishUnverified translation

In a narration with Ahmad, he said, If you fear any apprehension from yourselves. This is a brief variant of the pledge narration, in which Asad ibn Zurara cautioned the people of Yathrib to consider the consequences of war and to declare any fear before pledging.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے کہا :’’ اگر تم اپنی ذات کے حوالے سے کوئی خوف رکھتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘.

9884

Majma al-Zawaid #9884

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ مِنَ الْيَمَنِ.

EnglishUnverified translation

In another narration with him, the wording is, Until a man would journey from Mudar, from Yemen. This is a brief variant describing how men coming for Hajj were warned against the Prophet, peace and blessings be upon him, while he called them to shelter him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” یہاں تک کہ ایک شخص یمن کے علاقے ‘ مضر سے سوار ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘.