Majma al-Zawaid #9845
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَقَالُوا لَهُ وَنَحْنُ عِنْدُهُ: قَدْ بَعَثُوا إِلَيْكَ أُنَاسًا مِنْ سَفَلَتِنَا وَسُفَهَائِهِمْ فَادْفَعَهُمْ إِلَيْنَا قَالَ: لَا، حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا، وَقَالَ: مَا تَقُولُونَ؟ فَقُلْنَا: إِنَّ قَوْمَنَا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَآمَنَّا بِهِ وَصَدَّقْنَاهُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ: عَبِيدٌ هُمْ لَكُمْ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَلَكُمْ عَلَيْهِمْ دَيْنٌ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ فِي عِيسَى غَيْرَ مَا تَقُولُونَ قَالَ: إِنْ لَمْ يَقُولُوا فِي عِيسَى مِثْلَ مَا نَقُولُ، لَا أَدَعُهُمْ فِي أَرْضِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَكَانَتِ الدَّعْوَةُ الثَّانِيَةُ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنَ الْأُولَى، فَقَالَ: مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ؟ فَقُلْنَا: يَقُولُ: "" هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ "". قَالَ: فَأَرْسَلَ، فَقَالَ: ادْعُوا فُلَانًا الْقِسِّيسَ، وَفُلَانًا الرَّاهِبَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ؟ قَالُوا: فَأَنْتَ أَعْلَمُنَا فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: فَأَخَذَ النَّجَاشِيُّ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا زَادَ عَلَى مَا قَالَ هَؤُلَاءِ مِثْلَ هَذَا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُؤْذِيكُمْ أَحَدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ آذَى أَحَدًا مِنْ هَؤُلَاءِ فَأَغْرِمُوهُ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ قَالَ: يَكْفِيَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، فَأَضْعَفَهَا فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَظَهَرَ بِهَا، قُلْنَا لَهُ: إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَظَهَرَ بِهَا، وَهَاجَرَ قِبَلَ الَّذِينَ كُنَّا حَدَّثْنَاكَ عَنْهُمْ، وَقَدْ أَرَدْنَا الرَّحِيلَ إِلَيْهِ فَزَوِّدْنَا قَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا صَنَعْتُ إِلَيْكُمْ، وَهَذَا رَسُولِي مَعَكَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ جَعْفَرٌ: فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَلَقَّانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاعْتَنَقَنِي، فَقَالَ: "" مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟ "". ثُمَّ جَلَسَ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ، فَقَالَ: هُوَ ذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ مَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَدْ فَعَلَ بِنَا، قَدْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، وَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا، وَنَصَرَنَا، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ "". فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: آمِينَ. فَقَالَ جَعْفَرٌ: فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: انْطَلِقْ فَأَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.»
EnglishUnverified translation
Ja'far ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, said: Quraysh sent 'Amr ibn al-'As and 'Umara ibn al-Walid with a gift from Abu Sufyan to the Negus. They said to him while we were with him: Some lowly fools of ours have been sent to you — hand them over to us. He said: No, until I hear their words. He sent for us and said: What do you say? We said: Our people worship idols, but Allah sent us a Messenger; we believed and affirmed him. The Negus asked them: Are they slaves of yours? They said: No. He said: Do you hold a debt over them? They said: No. He said: Then leave them free. We left him, but 'Amr ibn al-'As said: They say about Jesus other than what you say. He said: If they do not say about Jesus as we say, I shall not leave them in my land an hour of day. He sent for us a second time — harder upon us than the first — and said: What does your companion say about Jesus son of Mary? We said: > **"He is Allah's spirit and word, cast to the chaste Virgin."** He sent for a certain priest and monk; some of them came. He said: What do you say about Jesus son of Mary? They said: You know best — what do you say? The Negus took something from the ground and said: Thus is Jesus son of Mary; he did not exceed what these say by even this. Then he said to them: Does anyone harm you? They said: Yes. He ordered a caller to proclaim: Whoever harms any of these shall be fined four dirhams. He said: Does that suffice you? We said: No, so he doubled it. When the Messenger of Allah ﷺ emigrated to Medina and prevailed there, we said to him: Our companion has gone to Medina and prevailed; we wish to depart to him, so provision us. He said: Yes. He carried us, provisioned us, and gave to us, then said: Inform your companion of what I did for you. This is my messenger with you, and I testify there is no deity but Allah and he is Allah's Messenger — ask him to seek forgiveness for me. Ja'far said: We departed until we reached Medina. The Messenger of Allah ﷺ met us and embraced me, saying: > **"I do not know whether I rejoice more at the conquest of Khaybar or the arrival of Ja'far."** Then he sat, and the Negus's messenger stood and said: Here is Ja'far — ask him what our companion did with him? I said: Yes, he did such-and-such for us, carried and provisioned us, aided us, testified there is no deity but Allah and you are Allah's Messenger, and said: Ask him to seek forgiveness for me. The Messenger of Allah ﷺ rose, performed ablution, then supplicated three times: > **"O Allah, forgive the Negus."** And the Muslims said: Amen. Ja'far said: I told the messenger: Go inform your companion what you saw of the Prophet ﷺ.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو ‘ ابوسفیان کی طرف سے ‘ تحائف کے ہمراہ نجاشی کے پاس بھیجا ‘ ان لوگوں نے نجاشی سے یہ کہا ‘ جبکہ ہم نجاشی کے ہاں رہ رہے تھے کہ ہمارے کمتر افراد میں سے کچھ لوگ تمہاری طرف آئے ہیں ، تم انہیں ہمارے سپرد کر دو نجاشی نے کہا : ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ‘ جب تک میں ان کی بات نہیں سن لیتا ، پھر اس نے ہمیں پیغام بھیجا اور دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا نظریہ ہے ؟ ہم نے کہا : ہم ایک ایسی قوم تھے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا ہم اس پر ایمان لے آئے ہم نے اس کی تصدیق کی نجاشی نے ان ( یعنی عمرو بن العاص وغیرہ ) سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ تمہارے غلام ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! انجاشی نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے ان سے کوئی قرض لینا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نجاشی نے کہا : پھر ان لوگوں کو چھوڑ دو ! ہم نجاشی کے پاس سے نکلے تو عمرو بن العاص نے کہا یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے مختلف رائے رکھتے ہیں نجاشی نے کہا اگر یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس کی مانند عقیدہ نہیں رکھتے ‘ جو ہم عقیدہ رکھتے ہیں ، تو میں انہیں دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی اپنی سرزمین پر نہیں رہنے دوں گا ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیجا یہ دوسرا بلاوا تھا جو ہمارے لئے پہلے سے زیادہ سخت تھا اس نے دریافت کیا تمہارے آقا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ہم نے جواب دیا : وہ یہ کہتے ہیں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ، جنہیں اُس نے کنواری پاک بی بی کی طرف القاء کیا تھا ، تو نجاشی نے پیغام بھیجا اور کہا : فلاں پادری ‘ فلاں راہب کو بلا کے لے کے آؤ ‘ کچھ لوگ ان کے پاس آ گئے ‘ اس نے دریافت کیا : تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ان پادریوں نے جواب دیا آپ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ کیا کہتے ہیں ؟ پھر نجاشی نے زمین سے کوئی چیز لی اور بولے : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس شخص کی بیان کی ہوئی بات سے اتنے بھی زیادہ نہیں تھے ‘ بالکل ویسے ہی ہیں ، پھر اس نے ان لوگوں سے کہا : کیا کوئی تمہیں اذیت پہنچاتا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نجاشی نے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جو شخص ان ( مسلمانوں ) میں سے کسی کو اذیت پہنچائے گا ‘ اسے چار درہم جرمانہ ہو گا نجاشی نے کہا : ٹھیک ہے ؟ ہم نے کہا : جی نہیں نجاشی نے جرمانہ دگنا کر دیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ کو غلبہ حاصل ہو گیا تو ہم نے نجاشی سے کہا : ہمارے آقا مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں اور وہاں انہیں غلبہ نصیب ہو گیا ہے اور انہوں نے ان لوگوں کی طرف ہجرت کی ہے جن کے بارے میں ہم تمہیں بیان کر چکے ہیں ، تو اب ہم یہاں سے روانہ ہونا چاہتے ہیں ، تم ہمیں زاد سفر دو اس نے کہا ٹھیک ہے پھر اس نے ہمارے لیے سواریوں کا بندوبست کیا ، ہمیں زاد سفر دیا اور ادائیگیاں کیں ، پھر اس نے کہا تم اپنے آقا کو بتا دینا ‘ جو میں نے تمہارے ساتھ رویہ اختیار کیا ہے ‘ یہ میرا قاصد تمہارے ساتھ ہے ‘ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، تم ان سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ مدینہ منورہ آ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ کی ہم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور ارشاد فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ‘ یا جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے ‘ نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا اور بولا : یہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ‘ آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور وہ کیا ، اس نے ہمیں سواریاں دیں زاد سفر دیا اور ہماری مدد کی اور اس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ تم ان سے یہ کہہ دینا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ‘ نبی اکرم ﷺ اُٹھے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے تین مرتبہ یہ دعا کی :’’ اے اللہ ! تو نجاشی کی مغفرت کر دے ! “ مسلمانوں نے کہا :’’ آمین ‘‘ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا : اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو یہ بتا دینا ‘ جو چیز تم نے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دیکھی ہے ۔