Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 1

Book of Expeditions and Biography

Hadith 9805–9844

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9805

Majma al-Zawaid #9805

عَنْ زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ قَالَ: «وَرَدَ عَلَيَّ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ سِلْمٌ أَنْتَ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ. أَمَّا بَعْدُ: فَلْيُوضَعَنَّ كُلُّ دِينٍ دَانَ بِهِ النَّاسُ إِلَّا الْإِسْلَامَ، فَاعْلَمْ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ziyad ibn Jahwar, may Allah be pleased with him, said: A letter from the Messenger of Allah ﷺ reached me, in which was written: In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. From Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ, to Ziyad ibn Jahwar. You are safe; peace be upon you. I praise Allah, besides Whom there is no deity, to you. Then: I remind you of Allah and the Last Day. Then: Every religion that people profess shall be laid aside except Islam, so know that. > **"Every religion that people profess shall be laid aside except Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زیاد بن جہور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ایک مکتوب آیا جس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے ۔ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے زیاد بن جمہور کے نام ہے تم سلامت رہو تم پر سلامتی نازل ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے ۔ اما بعد ! میں تمہیں اللہ اور آخرت کے دن کی یاد دلاتا ہوں ۔ اما بعد ! لوگوں نے جس بھی دین کو اختیار کیا ہوا ہے اسلام کے علاوہ ہر ایک دین اٹھا لیا گیا ہے تم یہ بات جان لو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9806

Majma al-Zawaid #9806

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الرُّومِ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى فَارِسَ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, said: I heard the Prophet ﷺ say: > **"The Muslims will prevail over Rome, and the Muslims will prevail over Persia, and the Muslims will prevail over the Arabian Peninsula."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمان روم پر غالب آ جائیں گے مسلمان فارس پر غالب آ جائیں گے مسلمان جزیرہ عرب پر غالب آ جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9807

Majma al-Zawaid #9807

وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لِيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ يُعَزُّ عَزِيزٌ أَوْ يُذَلُّ ذَلِيلٌ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ "". وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِيَ، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْيَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tamim al-Dari, may Allah be pleased with him, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"This affair will surely reach as far as night and day reach, and Allah will not leave a house of mud-brick nor of hair except that Allah will enter this religion into it, bringing honor to an honored one or humiliation to a humiliated one — honor by which Allah honors Islam and its people, and humiliation by which Allah humiliates disbelief."** Tamim used to say: I saw that among my own household. Whoever among them accepted Islam received good, nobility, and honor, and whoever among them remained a disbeliever received humiliation, abasement, and the jizya.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ( کچے گھروں کی ) ہر بستی اور ( پکے گھروں کے ) ہر میں اس دین کو داخل کر دے گا ‘ عزت دار کو عزت نصیب ہو گی ذلیل کو ذلت ملے گی عزت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو عزت دے گا ‘ اور ذلت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا ۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ بات اپنے اہل خانہ میں پا لی تھی جس نے اسلام قبول کیا تھا اسے بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوئی اور جو ان میں سے کافر رہ گیا اسے ذلت کمتری اور جزیہ ملا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9808

Majma al-Zawaid #9808

وَعَنْ مِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ يُعَزُّ عَزِيزٌ أَوْ يُذَلُّ ذَلِيلٌ، إِمَّا يُعِزُّهُمْ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهِمْ، أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهُمْ ". إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " إِمَّا يُعِزُّهُمْ فَيَهْدِيهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيُؤَدُّونَ الْجِزْيَةَ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdad ibn al-Aswad, may Allah be pleased with him, said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There will not remain upon the face of the earth a house of mud-brick nor of hair except that Allah will enter the word of Islam into it, bringing honor to an honored one or humiliation to a humiliated one. Either He will honor them and guide them to Islam, or He will humiliate them so they pay the jizya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ روئے زمین پر کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا ، جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمے کو داخل نہ کر دے عزت دار کو عزت ملے گی ذلیل کو ذلت ملے گی جو لوگ اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اہل اسلام میں کر دے گا ‘ اور جو شخص اس کی تحقیر کریں گے وہ حقارت والے دین کو اختیار کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی طرف رہنمائی فرمائے گا ‘ اور جو اس کی تحقیر کریں گے وہ جزیہ ادا کریں گے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9809

Majma al-Zawaid #9809

عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَأْتِينَا فِي أَفْنِيَتِنَا، وَفِي نَادِينَا، فَيُسْمِعُنَا مَا يُؤْذِينَا بِهِ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّهُ عَنَّا فَافْعَلْ. فَقَالَ لِي: يَا عَقِيلُ، الْتَمَسْ لِي ابْنَ عَمِّكَ، فَأَخْرَجْتُهُ مِنْ كِبْسٍ مِنْ أَكْبَاسِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعِي يَطْلُبُ الْفَيْءَ يَمْشِي فِيهِ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: يَا ابْنَ أَخِي، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنْ كُنْتَ لِي لَمُطَاعًا، وَقَدْ جَاءَ قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْتِيهِمْ فِي كَعْبَتِهِمْ، وَفِي نَادِيهِمْ تُسْمِعُهُمْ مَا يُؤْذِيهِمْ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُمْ. فَحَلَّقَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: "" وَاللَّهِ مَا أَنَا بِأَقْدَرَ أَنْ أَدَعَ مَا بُعِثْتُ بِهِ مِنْ أَنْ يُشْعِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ شُعْلَةً مِنْ نَارٍ "". فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: وَاللَّهِ مَا كَذَبَ ابْنُ أَخِي قَطُّ، ارْجِعُوا رَاشِدِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَنْ جَلْسٍ، مَكَانَ: كِبْسٍ. وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ يَسِيرٍ مِنْ أَوَّلِهِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Aqil ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, said: Quraysh came to Abu Talib and said: O Abu Talib, your nephew comes to our courtyards and our gatherings and makes us hear what harms us. If you see fit, restrain him from us. Abu Talib said to me: O 'Aqil, seek out your cousin for me. So I brought him out from one of Abu Talib's enclosures, and he walked with me seeking shade to walk in but could hardly find it, until he reached Abu Talib. Abu Talib said to him: O son of my brother, by Allah, as far as I know you have always obeyed me. Your people have come claiming you visit them in their Ka'ba and gatherings and make them hear what harms them. If you see fit, refrain from them. The Prophet ﷺ raised his gaze to the sky and said: > **"By Allah, I am no more able to abandon what I was sent with than any one of you is able to kindle a flame of fire from this sun."** Abu Talib said: By Allah, my nephew has never lied. Return, rightly guided.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش جناب ابوطالب کے پاس آئے اور بولے : اے جناب ابوطالب آپ کے بھتیجے ہمارے گھروں میں اور ہماری بیٹھکوں میں آتے ہیں اور ہمیں وہ بات سناتے ہیں ، جو ہمیں تکلیف دیتی ہے ‘ اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو آپ انہیں ہمارے پاس آنے سے روک دیں ‘ تو جناب ابوطالب نے مجھ سے فرمایا : اے عقیل ! میرے بھتیجے کو ڈھونڈ کے لاؤ ! میں جناب ابوطالب کی جگہ سے نکلا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ میرے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ سایہ تلاش کر کے اس میں چل رہے تھے لیکن وہ نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ آپ جناب ابوطالب کے پاس آ گئے تو جناب ابوطالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے ! اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق تو تم میرے مطاع ہو ‘ تمہاری قوم کے لوگ آئے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ تم ان کے گھروں میں اور ان کی بیٹھکوں میں ان کے پاس جاتے ہو اور انہیں وہ چیز سناتے ہو جو انہیں تکلیف دیتی ہے ‘ تو اگر تم یہ مناسب سمجھو تو اس چیز سے باز آ جاؤ نبی اکرم ﷺ نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے جس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے میں اسے ترک کرنے کی اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا کہ آپ میں سے کوئی ایک شخص اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ جلا لے ‘‘ جناب ابوطالب نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تم لوگ ہدایت پانے والے ہو کر واپس جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ کبس کی جگہ لفظ جلس نقل کیا ہے اسے امام ابویعلیٰ نے آغاز میں معمولی سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9810

Majma al-Zawaid #9810

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا زَالَتْ قُرَيْشٌ كَافَّةً عَنِّي حَتَّى مَاتَ أَبُو طَالِبٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Aisha, may Allah be pleased with her, said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Quraysh kept refraining from me until Abu Talib died."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش اس وقت تک مجھ سے رکے رہے جب تک جناب ابوطالب کا انتقال نہیں ہو گیا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9811

Majma al-Zawaid #9811

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ تَحَيَّنُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا أَسْرَعَ مَا وَجَدْتُ فَقْدَكَ يَا عَمِّ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ شَخْصٍ لَقِيَ ابْنَ سَعِيدٍ الرَّازِيَّ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Huraira, may Allah be pleased with him, said: When Abu Talib died, they seized their opportunity against the Prophet ﷺ, and he said: > **"How quickly I have felt your loss, O uncle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا تو لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے چچا ! مجھے آپ کی غیر موجودگی کتنی جلدی محسوس ہو رہی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جو ابن سعید رازی سے ملا تھا امام دارقطنی کہتے : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے عیسیٰ بن عبدالسلام سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9812

Majma al-Zawaid #9812

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ لَهُ: «مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ؟. قَالَ: حَضَرْتُهُمْ، وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّهَ أَحْلَامَنَا، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ. أَوْ كَمَا قَالُوا. قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ: فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ، فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ: "" أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ "". فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ، لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنَ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا. فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، وَأَنَا مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ، وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ، حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَأَطَافُوا بِهِ يَقُولُونَ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا؟ لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ "". قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ دُونَهُ، يَقُولُ: وَهُوَ يَبْكِي: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ.» قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقُ بِالسَّمَاعِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Urwa ibn al-Zubayr reported from 'Abdullah ibn 'Amr, may Allah be pleased with them: I asked him, What is the worst harm you saw Quraysh inflict upon the Messenger of Allah ﷺ in their open enmity? He said: I was present when their chiefs gathered one day in the Hijr and mentioned the Messenger of Allah ﷺ. They said: We never endured from any man what we have endured from this man. He has belittled our intellects, reviled our forefathers, criticized our religion, divided our unity, and cursed our gods. We have endured a grave matter from him. While they were thus, the Messenger of Allah ﷺ appeared, walking until he touched the Corner, then passed by them circumambulating the House. As he passed, they taunted him with some of his words, and I saw displeasure on his face. He moved on. The second time he passed they did the same, and I saw it on his face. The third time they did the same, and he said: > **"Do you hear, O company of Quraysh? By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, I have come to you with slaughter."** His words seized them, until there was not a man among them but stood as though a bird had fallen upon his head. Even the harshest among them before that began to placate him with the best words he could find, saying: Leave, O Abu al-Qasim, leave rightly guided, for by Allah you were never ignorant. The Messenger of Allah ﷺ left. The next day they gathered in the Hijr, and I was with them. They said to one another: You spoke of what you endured from him, yet when he confronted you with what you hate, you left him alone. While they were thus, the Messenger of Allah ﷺ appeared, and they leapt upon him as one man, surrounding him, saying: Are you the one who says such-and-such against our gods and religion? The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Yes, I am the one who says that."** I saw one of them seize the collar of his cloak, while Abu Bakr stood before him weeping and saying: Would you kill a man for saying, My Lord is Allah? Then they left him. That was the worst I ever saw Quraysh do to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ان سے کہا قریش نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جو دشمنی کا رویہ رکھا تھا آپ نے جو دیکھا ہے اس میں سب سے زیادہ شدید کیا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان لوگوں کے پاس موجود تھا ان کے معززین ایک دن حطیم میں موجود تھے ۔ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرنے لگے انہوں نے یہ کہا میں اس نوجوان سے زیادہ اور کسی پر صبر نہیں کرنا پڑا اس نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف بنا لیا ہے ہمارے آبا ؤ اجداد کو برا کہتا ہے ہمارے دین پر اعتراض کرتا ہے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر چکا ہے ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے ہم نے اس کے حوالے سے ایک بڑی چیز پر صبر سے کام لیا ہے یا جس طرح بھی انہوں نے کہا ‘ ابھی وہ لوگ وہاں موجود تھے اسی دوران نبی اکرم ﷺ سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے آپ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے رکن کا استلام کیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے جب آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ پر آوازیں کسیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے ناگواریت کا احساس ہوا پھر آپ تشریف لے گئے لیکن جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر اس طرح کیا مجھے آپ کے چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہو گا لیکن آپ تشریف لے گئے جب آپ تیسری مرتبہ ان کے سامنے سے گزرے اور انہوں نے پھر ایسا ہی کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے قریش کے گروہ کیا تم لوگ یہ بات سنتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح ہونے کا حکم لے کے آیا ہوں ( یعنی تم لوگ مار دیے جاؤ گے ) لوگوں نے آپ کی بات سنی تو یہ عالم ہوا کہ ہر شخص کے سر پر گویا پرندہ بیٹھا ہوا ہے ‘ یہاں تک کہ جو شخص پہلے آپ کے خلاف بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا اس نے بھی اچھے طریقے سے آپ کے ساتھ بات چیت کی اور یہ کہا کہ اے ابوالقاسم آپ تشریف لے جائیں آپ آرام سے تشریف لے جائیں ۔ اللہ کی قسم ! آپ تو اتنی سختی کا مظاہرہ کرنے والے نہیں تھے نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ‘ یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا وہ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے تو میں ان لوگوں کے ساتھ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا تمہیں یاد ہے ‘ جو تمہاری طرف سے گیا اور جو ان کی طرف سے تم تک آیا ؟ یہاں تک کہ انہوں نے تمہارے سامنے وہ چیز ظاہر کی جو تمہیں ناپسند ہے ‘ تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ اسی عالم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے تشریف لائے وہ اکٹھے اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گئے ‘ اور آپ کے ارد گرد ہو کر یہ کہنے لگے آپ نے ہی یہ یہ بات کہی ہے انہوں نے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے ‘ جو ان کے معبودوں اور ان کے دین پر اعتراض کے حوالے سے ان تک پہنچی تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کی چادر کو پکڑ لیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑے تھے ۔ وہ لڑتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے قریش کی طرف سے یہ سب سے زیادہ سختی تھی جو میں نے دیکھی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9813

Majma al-Zawaid #9813

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمًا ائْتَمَرُوا بِهِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ ابْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ، وَظَنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ قَالَ: وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَائِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ مَرَّ بِهِمْ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِلَّا بِالذَّبْحِ "". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَلْقِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: يَا مُحَمَّدُ مَا كُنْتَ جَهُولًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتَ مِنْهُمْ ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn al-'As, may Allah be pleased with him, said: I never saw Quraysh intend to kill the Messenger of Allah ﷺ except one day when they conspired against him while sitting in the shade of the Ka'ba, and the Messenger of Allah ﷺ was praying at the Maqam. 'Uqba ibn Abi Mu'ayt rose toward him, placed his cloak around his neck, and pulled it until he fell to his knees. The people shouted, thinking he had been killed. Abu Bakr rushed forward, seized the Messenger of Allah ﷺ from behind by his upper arm, saying: Would you kill a man for saying, My Lord is Allah? Then they withdrew from the Prophet ﷺ. When he finished his prayer he passed by them as they sat in the shade of the Ka'ba and said: > **"O company of Quraysh, by the One in Whose Hand is my soul, I was only sent to you with slaughter."** And he pointed with his hand to his throat. Abu Jahl said to him: O Muhammad, you were never ignorant. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You are among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے قریش کو کبھی نبی اکرم ﷺ کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ اس دن کا معاملہ مختلف ہے جب انہوں نے اس بارے میں باہمی طور پر مشورہ کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے عقبہ بن ابومعیط اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گیا اس نے اپنی چادر نبی اکرم ﷺ کے گلے میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے ‘ وہ لوگ چیخیں مارنے لگے ‘ وہ یہ سمجھے کہ آپ شہید ہو گئے ہیں ‘ اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے پیچھے سے نبی اکرم ﷺ کو پہلو سے پکڑ لیا ‘ وہ یہ کہہ رہے تھے : کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ان کے پاس سے گزرے وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے قریش کے گروہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے تم لوگوں کی طرف صرف ذبح کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ابوجہل نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : اے محمد ! آپ تو سختی کرنے والے نہیں تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان لوگوں میں سے ایک ہو ( جنہیں ذبح کیا جائے گا ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9814

Majma al-Zawaid #9814

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ; «أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَتْ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامُوا إِلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ! فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ لَغَدَائِرَ أَرْبَعًا، وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ فَلَهُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، فَجَعْلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ تَدْرُوسُ جَدُّ أَبِي الزُّبَيْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them, was asked: What is the worst harm you saw the polytheists inflict upon the Messenger of Allah ﷺ? She said: The polytheists sat in the mosque discussing the Messenger of Allah ﷺ and what he said about their gods. While they were thus, the Messenger of Allah ﷺ came forward, and they all rose against him. A caller rushed to Abu Bakr saying: Reach your companion! He left us, and he had four braids of hair, saying: Woe to you, would you kill a man for saying, My Lord is Allah, when he has come to you with clear proofs from your Lord? So they left the Messenger of Allah ﷺ and turned upon Abu Bakr. Asma said: Abu Bakr returned to us, and whenever he touched any of his braids, it came away with his hand, while he said: Blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے لوگوں نے ان سے کہا آپ نے سب سے زیادہ شدید چیز کیا دیکھی جو مشرکین نے نبی اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہو ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بتایا : مشرکین مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس ) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے معبودوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ابھی وہ اسی عالم میں تھے کہ نبی اکرم ﷺ اسی دوران تشریف لے آئے وہ سب لوگ اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گئے کسی نے بلند آواز میں آ کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے نکلے ان کی چار لٹیں تھیں ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آیا ہے ‘ تو ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر لیا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ تو ان کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بالوں میں سے جس کو بھی مس کرتے تھے ۔ وہ ساتھ آ جاتا تھا ‘ اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اے جلال اور اکرام والے ! تو برکت والا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تدروس ہے ‘ جو ابوزبیر کا دادا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9815

Majma al-Zawaid #9815

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَقَدْ ضَرَبُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّةً حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ يُنَادِي: وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ؟! فَقَالُوا: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: أَبُو بَكْرٍ الْمَجْنُونُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: فَتَرَكُوهُ، وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, said: They once struck the Messenger of Allah ﷺ until he lost consciousness. Abu Bakr stood calling out: Woe to you, would you kill a man for saying, My Lord is Allah? They said: Who is this? They said: Abu Bakr, the madman. Then they left the Prophet and turned upon Abu Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو مارا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو گئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر بلند آواز میں یہ کہنے لگے تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے لوگوں نے کہا : یہ کون ہے ؟ دوسروں نے بتایا : یہ ابوبکر مجنون ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف آ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9816

Majma al-Zawaid #9816

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ غُلَامًا يَافِعًا أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ، وَقَدْ فَرَّا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَا: "" يَا غُلَامُ، هَلْ عِنْدَكَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِينَا؟ "". قُلْتُ: إِنِّي مُؤْتَمَنٌ، وَلَسْتُ بِسَاقِيكُمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, said: I was a youth near puberty, herding sheep for 'Uqba ibn Abi Mu'ayt, when the Prophet ﷺ and Abu Bakr came, having fled from the polytheists. They said: > **"O boy, do you have any milk to give us to drink?"** I said: I am entrusted, and I will not give you drink.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ، ایک قریب البلوغ لڑکا تھا ‘ اور عقبہ بن ابومعیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے یہ دونوں حضرات مشرکین سے بچ کے آ رہے تھے ان دونوں نے کہا : اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس دودھ ‘ ہے ‘ جو تم ہمیں پینے کے لئے دو ؟ میں نے کہا : میں امین ہوں ، میں آپ دونوں کو نہیں پلاؤں گا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9817

Majma al-Zawaid #9817

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: «جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا، وَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ وَاسْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ. فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ، لَا يَدْرِي كَيْفَ يَكُونُ فِيهِ؟! وَاللَّهِ، لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْوَامٌ كَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ، لَمْ يُجِيبُوهُ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَلَا يَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى، أَحَدُكُمُ أَنْ لَا تَعْرِفُوا إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ، فَقَدْ كُفِيتُمُ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فِي فِطْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ، لَمْ يَرَوْا أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ أَوْ وَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ، لِيَعْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: هَلَكَ مَنْ دَخْلَ النَّارَ، فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَمِيمَهُ فِي النَّارِ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ} [الفرقان: 74]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي أَحَدِهَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، وَثَّقَهُ الذَّهَبِيُّ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr said: We sat one day with al-Miqdad ibn al-Aswad, and a man passed by us while we listened to him. He said: Blessed are these two eyes that saw the Messenger of Allah ﷺ. By Allah, we wish we had seen what you saw and witnessed what you witnessed. Al-Miqdad turned to him and said: What makes a man wish for a presence Allah kept him absent from, when he does not know how he would have acted in it? By Allah, peoples attended the Messenger of Allah ﷺ whom Allah will cast face-down upon their nostrils into Hell, for they did not answer him nor believe him. Will not one of you praise Allah that you know only your Lord, believing in what your Prophet brought, and have been spared the trial through others? By Allah, the Prophet ﷺ was sent in the harshest circumstances any prophet was sent in — in a period of interval and ignorance — when people saw no religion better than idol worship. Then he brought a Criterion that distinguished truth from falsehood and separated father from son, until a man would see his father or son or brother as a disbeliever, while Allah had opened the lock of his own heart to faith. He knows that whoever enters the Fire is ruined, and his eye finds no comfort knowing his beloved is in the Fire. It is they of whom Allah says: > **"Our Lord, grant us from our spouses and offspring comfort of our eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ‘ ایک دن حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا ہم ان کی طرف متوجہ تھے ۔ انہوں نے کہا : ان دونوں آنکھوں کے لئے مبارکباد ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم نے بھی وہ چیز دیکھی ہوتی جو آپ نے دیکھی ہو اور ہم بھی اس میں موجود ہوئے ہوتے جس میں آپ موجود رہے ‘ تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : آدمی کو کیا چیز اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ وہاں موجود ہونے کی آرزو کرے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غیر موجود رکھا تھا ، کیونکہ وہ تو یہ نہیں جانتا کہ اس صورت حال میں اس نے کیا کرنا تھا ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی بات کو قبول نہیں کیا آپ کی تصدیق نہیں کی کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتا کہ تم لوگوں کو صرف تمہارے پروردگار کی معرفت حاصل ہے اور تم اس چیز کی تصدیق کرنے والے ہو جو تمہارے نبی لے کے آئے تھے اور آزمائش میں تمہاری بجائے دوسروں کو مبتلاء کر دیا گیا ۔ اللہ کی قسم ! جب نبی اکرم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اتنی سخت صورت حال میں کسی اور نبی کو مبعوث نہیں کیا گیا تھا نہ زمانہ فطرت میں اور نہ زمانہ جاہلیت میں ‘ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت سے زیادہ فضیلت والا دین اور کوئی نہیں ہو سکتا ، تو نبی اکرم ﷺ فرقان لے کے آئے جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا باپ اور بیٹے کو الگ کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے باپ کو یا اپنے بیٹے کو یا اپنے بھائی کو کافر سمجھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کے قفل کو ایمان کے لئے کھول دیا تاکہ وہ یہ بات جان لے کہ پروردگار نے یہ فرمایا ہے ( یا نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے ) کہ جو شخص جہنم میں داخل ہو گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ‘ اور اس کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی اور وہ یہ بھی جان لے کہ اس کا قریبی دوست جہنم میں جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ( وہ یہ کہتے ہیں : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے بیویوں اور ہماری اولاد کے حوالے سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ہے جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9818

Majma al-Zawaid #9818

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ، وَأَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَشَيْبَةُ، وَعُتْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، وَرَجُلَانِ آخَرَانِ كَانُوا سَبْعَةً، وَهُمْ فِي الْحِجْرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَلَمَّا سَجَدَ أَطَالَ السُّجُودَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: أَيُّكُمْ يَأْتِي جَزُورَ بَنِي فُلَانٍ، فَيَأْتِينَا بِفَرْثِهَا، فَيُلْقِيهِ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقَ أَشْقَاهُمْ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَتَى بِهِ، فَأَلْقَاهُ عَلَى كَتِفَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ لَمْ يَهْتَمَّ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَأَنَا قَائِمٌ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَكَلَّمَ لَيْسَ عِنْدِي مِنْعَةٌ تَمْنَعُنِي، فَأَنَا أَذْهَبُ إِذْ سَمِعَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَتْ حَتَّى أَلْقَتْ ذَلِكَ عَنْ عَاتِقِهِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ قُرَيْشًا تَسُبُّهُمْ، فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهَا شَيْئًا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ كَمَا كَانَ يَرْفَعُ عِنْدَ تَمَامِ السُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ " ثَلَاثًا " عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ، وَعُقْبَةَ، وَأَبِي جَهْلٍ، وَشَيْبَةَ ". ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَقِيَهُ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ وَمَعَ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ سَوْطٌ يَتَخَصَّرُ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْكَرَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " خَلِّ عَنِّي ". قَالَ: عَلِمَ اللَّهُ لَا أُخَلِّيَ عَنْكَ أَوْ تُخْبِرَنِي مَا شَأْنُكَ، فَلَقَدْ أَصَابَكَ شَيْءٌ؟ فَلَمَّا عَلِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ غَيْرُ مُخَلٍّ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ أَبَا جَهْلٍ أَمَرَ فَطُرِحَ عَلَيَّ فَرْثٌ ". فَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ: هَلُمَّ إِلَى الْمَسْجِدِ. فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو الْبَخْتَرِيِّ، فَدَخَلَا الْمَسْجِدَ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ إِلَى أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَكَمِ، أَنْتَ الَّذِي أَمَرْتَ بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطُرِحَ عَلَيْهِ الْفَرْثُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَرَفَعَ السَّوْطَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَهُ قَالَ: فَثَارَ الرِّجَالُ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ قَالَ: وَصَاحَ أَبُو جَهْلٍ: وَيْحَكُمُ هِيَ لَهُ، إِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُلْقِيَ بَيْنَنَا الْعَدَاوَةَ، وَيَنْجُوَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, said: While the Messenger of Allah ﷺ was in the mosque, with Abu Jahl ibn Hisham, Shayba and 'Utba sons of Rabi'a, 'Uqba ibn Abi Mu'ayt, Umayya ibn Khalaf, and two other men — seven in the Hijr — the Messenger of Allah ﷺ was praying. When he prostrated and prolonged it, Abu Jahl said: Which of you will bring the entrails of the slaughtered camel of so-and-so and throw it upon Muhammad? The most wretched of them, 'Uqba ibn Abi Mu'ayt, went and brought it and threw it upon his shoulders while the Messenger of Allah ﷺ was prostrate, unmoved. Ibn Mas'ud said: I stood unable to speak, having no protection to defend me. As I was leaving, Fatima, daughter of the Messenger of Allah ﷺ, heard, came forward, removed it from his shoulders, then confronted Quraysh and reviled them, and they answered her nothing. The Messenger of Allah ﷺ raised his head as he would at the completion of prostration, and when he finished his prayer he said: > **"O Allah, deal with Quraysh. O Allah, deal with 'Utba, 'Uqba, Abu Jahl, and Shayba."** He said it three times. Then he left the mosque and met Abu al-Bakhtari, who had a whip at his side. When the Prophet ﷺ saw him, he noticed his face and said, Leave me alone. He said: By Allah, I will not leave you until you tell me your affair; something has befallen you. When the Prophet ﷺ knew he would not leave him, he told him: Abu Jahl ordered, and filth was thrown upon me. Abu al-Bakhtari said: Come to the mosque. So the Prophet ﷺ and Abu al-Bakhtari entered the mosque. Abu al-Bakhtari went to Abu Jahl and said: O Abu al-Hakam, are you the one who ordered filth thrown upon Muhammad? He said: Yes. He raised the whip and struck his head with it. Men rose against one another, and Abu Jahl shouted: Woe to you, leave it to him; Muhammad only intended to stir enmity between us and save himself and his companions.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں موجود تھے ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس موجود تھے ) وہاں ابوجہل بن ہشام ‘ شیبہ ‘ عتبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں ، عقبہ بن ابومعیط ‘ امیہ بن خلف اور دو افراد بھی موجود تھے یہ سات افراد تھے اور یہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے طویل سجدہ کیا ابوجہل نے کہا : تم میں کون بنوں فلاں کے اونٹ کے پاس جائے گا ‘ اور اس کی اوجھ ہمارے پاس لے کے آئے گا ‘ اور اسے محمد پر ڈال دے گا ‘ تو ان میں سے سب سے زیادہ بد نصیب عقبہ بن ابومعیط چلا گیا اور اسے لے آیا اور وہ اس نے نبی اکرم ﷺ کے کندھے پر ڈال دی نبی اکرم ﷺ اس وقت سجدے میں تھے آپ اسے روک نہیں پائے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس وقت کھڑا ہوا تھا ‘ اور میں کوئی بات بھی نہیں کر سکتا تھا ، کیونکہ میرے پاس وہ حیثیت ہی نہیں تھی کہ میں کچھ کر پاتا نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب اس صورت حال کے بارے میں سنا تو وہ آئیں اور اسے نبی اکرم ﷺ کے کندھے سے ہٹایا پھر وہ قریش کی طرف رخ کر کے انہیں برا کہنے لگیں ان لوگوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا جس طرح آپ سجدہ مکمل کرنے کے بعد سر اٹھاتے تھے پھر نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اے اللہ ! قریش کو اپنی گرفت میں لے ! عتبہ کو ابوجہل کو شیبہ کو اپنی گرفت میں لے ! پھر آپ مسجد سے تشریف لے گئے ابوبختری کی آپ سے ملاقات ہوئی ابوبختری کے پاس ایک چھڑی تھی جس کو وہ پہلو کے ساتھ لگاتا تھا ۔ جب نبی اکرم ﷺ کو اس نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کی حالت تبدیل ہے ‘ تو اس نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا راستہ چھوڑ دو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ مجھے بتاتے نہیں ہیں لگتا ہے آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی ہے جب نبی اکرم ﷺ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ آپ کو یوں نہیں رہنے دے گا ، تو آپ نے اس کو صورت حال کے بارے میں بتا دیا آپ نے بتایا : ابوجہل نے یہ ہدایت کی تو میرے اوپر گندگی لا کے ڈال دی گئی ابوبختری نے کہا : چلیں مسجد کی طرف نبی اکرم ﷺ اور بختری تشریف لائے یہ دونوں مسجد میں داخل ہوئے ابوبختری ابوجہل کی طرف گیا اور بولا اے ابوالحکم کیا تم وہ فرد ہو جس نے ( حضرت ) محمد کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ان پر گندگی ڈال دی جائے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ‘ ابوبختری نے چھڑی اٹھا کر اس کے ذریعے ابوجہل کے سر پر ضرب لگائی لوگ ایک دوسرے سے بھڑنے لگے تو ابوجہل نے بلند آواز میں چیخ کر کہا : تمہارا ستیاناس ہو ! یہ ضرب چھوڑ دو محمد یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان دشمنی ڈال دیں تاکہ وہ اور اس کے ساتھی نجات پا جائیں ۔

9819

Majma al-Zawaid #9819

وَفِي رِوَايَةٍ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ، حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ ابْنِ مَعِينٍ، وَغَيْرِهِ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

In another narration, when the Messenger of Allah ﷺ raised his head, he praised Allah and extolled Him, then said: > **"O Allah, deal with the assembly of Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا اما بعد ! اے اللہ ! قریش کے گروہ پر گرفت کر لے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ جس میں ابوبختری کا قصہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح بن عبداللہ کندی ہے اور وہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات کے نزدیک ثقہ ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

9820

Majma al-Zawaid #9820

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ دَعَامَةَ قَالَ: «تَزَوَّجَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُتَيْبَةُ بْنُ أَبِي لَهَبٍ، وَكَانَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ أَخِيهِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَلَمْ يَبْنِ بِهَا حَتَّى بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1] قَالَ أَبُو لَهَبٍ لِابْنَيْهِ: عُتْبَةَ، وَعُتَيْبَةَ: رَأْسِي فِي رُءُوسِكُمَا حَرَامٌ، إِنْ لَمْ تُطَلِّقَا ابْنَتَيْ مُحَمَّدٍ. وَقَالَتْ أُمُّهُمَا بِنْتُ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ - وَهِيَ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ -: طَلِّقَاهُمَا يَا بَنِيَّ، فَإِنَّهُمَا صَبَأَتَا. فَطَلَّقَاهُمَا. وَلَمَّا طَلَّقَ عُتَيْبَةُ أُمَّ كُلْثُومٍ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ فَارَقَهَا، فَقَالَ: كَفَرْتُ بِدِينِكَ، أَوْ فَارَقْتُ ابْنَتَكَ، لَا تُحِبُّنِي وَلَا أُحِبُّكَ، ثُمَّ سَطَا عَلَيْهِ فَشَقَّ قَمِيصَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَارِجٌ نَحْوَ الشَّامِ تَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا إِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُسَلِّطَ عَلَيْكَ كَلْبَهُ "". فَخَرَجَ فِي تَجْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، حَتَّى نَزَلُوا بِمَكَانٍ مِنَ الشَّامِ - يُقَالُ لَهُ: الزَّرْقَاءُ - لَيْلًا، فَأَطَافَ بِهِمُ الْأَسَدُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَجَعَلَ عُتَيْبَةُ يَقُولُ: وَيْلَ أُمِّي، هَذَا وَاللَّهِ آكِلِي كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ، قَاتِلِي ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَعَدَا عَلَيْهِ الْأَسَدُ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ فَأَخَذَ بِرَأْسِهِ، فَضَغَمَهُ ضَغْمَةً فَقَتَلَهُ. قَالَ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ: فَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ الْأَسَدَ لَمَّا أَطَافَ بِهِمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ انْصَرَفَ، فَنَامُوا، وَجُعِلَ عُتَيْبَةُ وَسَطَهُمْ، فَأَقْبَلَ السَّبُعُ يَتَخَطَّاهُمْ حَتَّى أَخَذَ بِرَأْسِ عُتَيْبَةَ فَفَدَغَهُ، وَخَلَفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بَعْدَ رُقَيَّةَ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qatada ibn Di'ama said: 'Utayba ibn Abi Lahab married Umm Kulthum, daughter of the Messenger of Allah ﷺ, while her sister Ruqayya was with his brother 'Utba ibn Abi Lahab, though neither marriage had been consummated before the Prophet ﷺ was sent. When Allah revealed: Perish the hands of Abu Lahab, Abu Lahab said to his two sons: My head is forbidden to your heads unless you divorce the daughters of Muhammad. Their mother, the daughter of Harb ibn Umayya, the carrier of firewood, said: Divorce them, my sons, for they have apostatized. So they divorced them. When 'Utayba divorced Umm Kulthum, he came to the Prophet ﷺ and said: I disbelieve in your religion, I have left your daughter; you do not love me nor do I love you. Then he attacked him and tore the Prophet's shirt. The Prophet ﷺ, while 'Utayba was departing toward Syria as a trader, said: > **"I ask Allah to unleash His dog upon you."** He set out with a Quraysh caravan until they camped at night at a place in Syria called al-Zarqa. A lion circled them that night, and 'Utayba cried: Woe to my mother, by Allah this will devour me as Muhammad said; the son of Abu Kabsha will kill me while he is in Mecca and I am in Syria. The lion leapt upon him from among the people, seized him by the head, crushed it, and killed him. Hisham ibn 'Urwa reported from his father that when the lion circled them that night then left, they slept with 'Utayba in their midst, but the beast stepped over them until it seized 'Utayba by the head and mangled him. Later 'Uthman ibn 'Affan, may Allah have mercy on him, married Umm Kulthum, may Allah be pleased with her, after Ruqayya.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عتیبہ بن ابولہب کے ساتھ اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی شادی عتبہ بن ابولہب کے ساتھ ہوئی لیکن ابھی ان خواتین کی رخصتی نہیں ہوئی تھی اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہو گئی جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں ‘‘۔ تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کہا : اس وقت تک میرا تمہارا تعلق حرام ہو گا جب تک تم محمد کی دونوں صاحبزادیوں کو طلاق نہیں دیتے ان دونوں کی ماں جو حرب بن امیہ کی بیٹی تھی جو گٹھے کو اٹھانے والی تھی ۔ اس نے بھی یہ کہا میرے بیٹے تم انہیں طلاق دے دو کیونکہ ان دونوں نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ‘ تو ان دونوں افراد نے ان دونوں صاحبزادیوں کو طلاق دے دی جب عتیبہ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو طلاق دی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا جب کہ وہ اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کر چکا تھا اس نے کہا : میں آپ کے دین کا انکار کرتا ہوں اور آپ کی بیٹی سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں نہ آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور نہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کی قمیص کو چیر دیا پھر وہ تجارت کے سلسلے میں شام کی طرف روانہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تم پر اپنے کسی کتے کو مسلط کر دے وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ روانہ ہوا تھا یہاں تک کہ انہوں نے شام میں ’’ زرقاء ‘‘ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اس رات ایک شیر ان کے پاس آیا عتیبہ نے یہ کہنا شروع کیا میری ماں برباد ہو جائے ۔ اللہ کی قسم ! یہ مجھے اسی طرح کھا جائے گا ، جس طرح محمد نے کہا تھا ابن ابوکبشہ جو مکہ میں ہیں اور میں شام میں ہوں وہ مجھے قتل کروا دیں گے پھر تمام لوگوں کے درمیان میں سے اس شیر نے اس پر حملہ کیا اور اس کا سر پکڑ لیا اور اسے چبا کر اُسے مار دیا ۔ زہیر بن العلاء بیان کرتے ہیں : ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ اس رات جب شیر نے پہلے ان کا چکر لگایا تو پھر وہ چلا گیا وہ لوگ سو گئے عتیبہ ان لوگوں کے درمیان سویا ہوا تھا پھر درندہ آیا اور لوگوں کو پھلانگ کر آ کر اس نے عتیبہ کا سر پکڑ لیا اور اسے توڑ دیا ۔ اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی اور ان کے انتقال کے بعد ) سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9821

Majma al-Zawaid #9821

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، هَلُمِّي حَتَّى أُرِيَكِ ابْنَ عَمِّكِ الَّذِي هَجَانِي ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: حَدِيثُهُ صَحِيحٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Aisha, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ was passed by Abu Sufyan ibn al-Harith, who said: > **"O 'Aisha, come so I may show you your cousin who lampooned me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم آگے آؤ میں تمہیں تمہارا وہ چچازاد دکھاؤں جس نے میری ہجو کی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبدالرحمن بن شیبہ سے نقل کی ہے ۔ امام ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9822

Majma al-Zawaid #9822

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: مَرِضَ أَبِي مَرَضًا شَدِيدًا، فَقَالَ: لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ مِنْ وَجَعِي هَذَا، لَا يُعْبَدُ إِلَهُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ بِبَطْنِ مَكَّةَ أَبَدًا، قَالَ خَالِدٌ: فَهَلَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْأُمَوِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Sa'id said: My father fell gravely ill and said: If Allah heals me of this pain, the god of Muhammad ibn Abi Kabsha shall never be worshipped in the valley of Mecca. Khalid said: So he perished.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد شدید بیمار ہو گئے انہوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے شفاء دے دی تو محمد بن ابوکبشہ کے معبود کی مکہ کی وادی میں کبھی عبادت نہیں کی جائے گی حضرت خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو وہ فوت ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن یحیی اموی کا معاملہ مختلف ہے انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔

9823

Majma al-Zawaid #9823

وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الطَّائِفِيِّ مِنْ وَلَدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ; حَدَّثَنَا جَدِّي عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ جَدَّهُ أَبَا أُحَيْحَةَ كَانَ مَرِيضًا حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِي مَرَضِهِ: لَا تَرْفَعُونِي مِنْ مَضْجَعِي لَا يُعْبَدُ إِلَهِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ بِمَكَّةَ. فَقَالَ ابْنُهُ، وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ: اللَّهُمَّ لَا تَرْفَعْهُ. قُلْتُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umayya al-Ta'ifi, descendant of Sa'id ibn al-'As, reported from his grandfather from his grandfather Sa'id ibn al-'As that his grandfather Abu Uhayha was ill when the Prophet ﷺ was sent. In his illness he said: Do not lift me from my bed; the god of the son of Abu Kabsha shall not be worshipped in Mecca. His son, standing at his head, said: O Allah, do not lift him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوامیہ طائفی جو حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے اپنے دادا حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جب نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی تو ان کے دادا ابواحیحہ بیمار ہو گئے انہوں نے اپنی اس بیماری کے دوران کہا تم میرے بستر سے مجھے بلند نہ کرو گے مکہ میں ابن ابوکبشہ کے معبود کی عبادت نہیں کی جائے گی ان کے صاحبزادے جو ان کے سرہانے موجود تھے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ ! تو انہیں نہ اٹھانا راوی کہتے ہیں : میں نے اصل میں یہ روایت اسی طرح پائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

9824

Majma al-Zawaid #9824

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «اجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا، فَقَالَ: انْظُرُوا أَعْلَمَكُمْ بِالسِّحْرِ، وَالْكِهَانَةِ، وَالشِّعْرِ، فَلْيَأْتِ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَشَتَّتَ أَمْرَنَا وَعَابَ دِينَنَا، فَلْيُكَلِّمْهُ وَلْيَنْظُرْ مَا يَرُدُّ عَلَيْهِ، قَالُوا: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالُوا: أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ. فَأَتَاهُ عُتْبَةُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَنْتَ خَيْرٌ أَمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ قَدْ عَبَدُوا الْآلِهَةَ الَّتِي عِبْتَ، وَإِنْ كُنْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُمْ، فَتَكَلَّمْ حَتَّى نَسْمَعَ قَوْلَكَ، أَمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا سَخْطَةً أَشْأَمَ عَلَى قَوْمِكَ مِنْكَ، فَرَّقْتَ جَمَاعَتَنَا، وَشَتَّتْتَ أَمْرَنَا، وَعِبْتَ دِينَنَا، وَفَضَحْتَنَا فِي الْعَرَبِ حَتَّى طَارَ فِيهِمْ: أَنَّ فِي قُرَيْشٍ سَاحِرًا، وَأَنَّ فِي قُرَيْشٍ كَاهِنًا وَاللَّهِ، مَا نَنْتَظِرُ إِلَّا مِثْلَ صَيْحَةِ الْحُبْلَى، بِأَنْ يَقُومَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ بِالسُّيُوفِ، حَتَّى نَتَفَانَى أَيُّهَا الرَّجُلُ، إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْحَاجَةُ، جَمَعْنَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا حَتَّى تَكُونَ أَغْنَى قُرَيْشٍ رَجُلًا، وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكَ الْبَاءَةُ، فَاخْتَرْ أَيَّ نِسَاءِ قُرَيْشٍ فَنُزَوِّجَكَ عَشْرًا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفَرَغْتَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" {حم - تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [فصلت: 1 - 2] "" حَتَّى بَلَغَ: "" {فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ} [فصلت: 13] "" فَقَالَ عُتْبَةُ: حَسْبُكَ حَسْبُكَ، مَا عِنْدَكَ غَيْرُ هَذَا؟ قَالَ: "" لَا "". فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: مَا وَرَاءَكَ؟ فَقَالَ: مَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّكُمْ تُكَلِّمُونَهُ بِهِ إِلَّا كَلَّمْتُهُ. قَالُوا: هَلْ أَجَابَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَالَّذِي نَصَبَهَا بَنِيَّةً، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: {أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ} [فصلت: 13]. قَالُوا: وَيْلَكَ، يُكَلِّمُكَ رَجُلٌ بِالْعَرَبِيَّةِ فَلَا تَدْرِي مَا قَالَ؟! قَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ ذِكْرِ الصَّاعِقَةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفُهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them, said: Quraysh gathered one day against the Prophet ﷺ and said: Find the most knowledgeable among you in magic, soothsaying, and poetry to speak to this man who has divided our unity, scattered our affair, and criticized our religion, and see what he answers. They said: We know none but 'Utba ibn Rabi'a. They said: You, O Abu al-Walid. 'Utba came to him and said: O Muhammad, are you better, or 'Abdullah? The Messenger of Allah ﷺ was silent. He said: Are you better, or 'Abd al-Muttalib? The Messenger of Allah ﷺ was silent. He said: If you claim they are better than you, they worshipped the gods you criticize; and if you claim you are better than them, then speak so we may hear your words. By Allah, we never saw a calamity more ill-omened upon a people than you. You divided our unity, scattered our affair, criticized our religion, and exposed us among the Arabs until it spread that among Quraysh is a sorcerer and among Quraysh is a soothsayer. By Allah, we await nothing but the cry of a woman in labor, that some of us rise against others with swords until we annihilate one another. O man, if it is need that drives you, we will gather wealth for you until you are the richest man of Quraysh; and if it is desire for marriage, choose any women of Quraysh and we will marry you to ten. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Have you finished?"** He said: Yes. Then the Messenger of Allah ﷺ recited: Ha Mim, a revelation from the Most Merciful, the Most Compassionate, until he reached: But if they turn away, then say: I warn you of a thunderbolt like the thunderbolt of 'Ad and Thamud. 'Utba said: Enough, enough; is there nothing else with you? He said: No. He returned to Quraysh. They said: What is behind you? He said: I left nothing you would say to him except I said it. They said: Did he answer you? He said: Yes. By the One Who erected it as a House, I understood nothing of what he said except that he said: I warn you of a thunderbolt like the thunderbolt of 'Ad and Thamud. They said: Woe to you, a man speaks to you in Arabic and you do not know what he said? He said: No, by Allah, I understood nothing of what he said except mention of the thunderbolt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نبی اکرم ﷺ کے لئے ایک دن اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ جو شخص تم میں سے سب سے زیادہ جادو کہانت اور شاعری جانتا ہے وہ ان صاحب کے پاس آئے جنہوں نے ہماری جماعت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے اور ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے اور وہ شخص ان کے ساتھ بات چیت کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ انہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہمارے علم کے مطابق تو یہ خصوصیت عتبہ بن ربیعہ میں پائی جاتی ہے ان لوگوں نے کہا : اے ابوالید تم یہ کام کرو عتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : اے محمد ! تم زیادہ بہتر ہو یا ( تمہارے والد ) عبداللہ ؟ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے اس نے دریافت کیا : تم زیادہ بہتر ہو یا جناب عبدالمطلب ؟ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے اس نے کہا : اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں ، تو یہ انہی معبودوں کی عبادت کیا کرتے تھے جن پر تم اعتراض کرتے ہو ‘ اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ان سے بہتر ہو ‘ تو تم بات کرو تاکہ ہم تمہاری بات سنیں ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے کبھی کسی ایسی ناراضگی کے بارے میں نہیں دیکھا جو اپنی قوم کے لئے اس سے زیادہ بری ہو جتنی تمہاری طرف سے تمہاری قوم کے لئے ہے تم نے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے عربوں میں ہمیں رسوا کر دیا ہے ‘ یہاں تک کہ یہ چیز ان کے درمیان پھیل گئی ہے کہ قریش میں ایک جادوگر موجود ہے قریش میں ایک کاہن موجود ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہم صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حاملہ عورت کی طرح کی ایک چیخ آئے اور پھر ہم ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے کر آ جائیں اور ایک دوسرے کو فنا کر دیں اے فرد اگر تمہاری کوئی خواہش ہے ‘ تو ہم اپنے اموال جمع کر دیتے ہیں ‘ یہاں تک کہ تم قریش کے سب سے زیادہ خوشحال فرد بن جاؤ گے اگر تم شادی کرنا چاہتے ہو ‘ تو قریش کی کوئی سی خواتین منتخب کر لو ہم دس عورتوں کے ساتھ تمہاری شادی کروا دیں گے نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فارغ ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ آیات تلاوت کیں : ’’ حم ! یہ بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کردہ ہے ‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ اگر وہ منہ پھیر لیں ‘ تو تم فرما دو کہ میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) کی مانند ہو گا ‘‘۔ تو عتبہ نے کہا : بس کافی ہے بس کافی ہے آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی نہیں ! عتبہ قریش کے پاس واپس گیا انہوں نے دریافت کیا : کیا صورت حال ہے ؟ اس نے کہا : تم لوگ ان کے حوالے سے جو باتیں بھی ذکر کرتے تھے میں نے وہ ان کے ساتھ کیں انہوں نے دریافت کیا : انہوں نے پھر تمہیں کیا جواب دیا ؟ عتبہ نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جی نے تعمیر کو نصب کیا ہے ( یعنی خانہ کعبہ بنایا ہے ) انہوں نے جو کچھ کہا ہے مجھے اس میں سے کسی بات کی سمجھ نہیں آئی البتہ انہوں نے یہ کہا تھا : ’’ میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب ) کی مانند ہو گا ‘‘ انہوں نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ایک شخص تمہارے ساتھ عربی میں بات چیت کر رہا تھا ‘ اور تمہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے ان کی باتوں میں سے کوئی چیز سمجھ نہیں آئی ‘ صرف ’’ زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ‘‘ کا تذکرہ سمجھ میں آیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9825

Majma al-Zawaid #9825

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ قَالَ: «بَلَغَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَشْتُمُ أَبَا سُفْيَانَ، فَقَالَ: بِئْسَ لَعَمْرُ اللَّهِ مَا يَقُولُ فِي عَمِّهِ، لَكِنِّي لَا أَقُولُ فِي عَبْدِ اللَّهِ إِلَّا خَيْرًا، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ امْرَأً صَالِحًا، خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى بَادِيَةٍ لَهُ مُرْدِفًا هِنْدٌ، وَخَرَجْتُ أَسِيرُ أَمَامَهُمَا - وَأَنَا غُلَامٌ - عَلَى حِمَارَةٍ، إِذْ لَحِقْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: انْزِلْ يَا مُعَاوِيَةُ، حَتَّى يَرْكَبَ مُحَمَّدٌ. فَنَزَلْتُ عَنِ الْحِمَارَةِ، فَرَكِبَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ أَمَامَهُمَا هُنَيْهَةً، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمَا، فَقَالَ: "" يَا أَبَا سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَيَا هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ، وَاللَّهِ لَتَمُوتُنَّ، ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ، ثُمَّ لَيَدْخُلَنَّ الْمُحْسِنُ الْجَنَّةَ، وَالْمُسِيءُ النَّارَ، وَأَنَّ مَا أَقُولُ لَكُمْ حَقٌّ، وَإِنَّكُمْ أَوَّلُ مَنْ أُنْذِرْتُمْ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" {حم - تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [فصلت: 1 - 2] "". حَتَّى بَلَغَ: "" {قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ} [فصلت: 11] "". فَقَالَ لَهُ أَبُو سُفْيَانَ: أَفَرَغْتَ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحِمَارَةِ، وَرَكِبْتُهَا، فَأَقْبَلَتْ هِنْدٌ عَلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا السَّاحِرِ الْكَذَّابِ أَنْزَلْتَ ابْنِي؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ، وَلَا كَذَّابٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَحُمَيْدُ بْنُ مُنْهِبٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Humayd ibn Munhib said: It reached Mu'awiya that Ibn al-Zubayr was reviling Abu Sufyan, so he said: Evil, by Allah, is what he says about his uncle; but I say only good about 'Abdullah, may Allah have mercy on him, if he was a righteous man. Abu Sufyan went out to his desert land with Hind riding behind him, and I went ahead of them as a boy upon a she-ass, when we met the Messenger of Allah ﷺ. Abu Sufyan said: Dismount, O Mu'awiya, so Muhammad may ride. So I dismounted, and the Messenger of Allah ﷺ rode it and went ahead of them a while, then turned to them and said: > **"O Abu Sufyan ibn Harb, and O Hind bint 'Utba, by Allah you shall surely die, then you shall surely be resurrected, then the doer of good shall surely enter Paradise and the doer of evil the Fire. What I say to you is truth, and you are the first I have warned."** Then the Messenger of Allah ﷺ recited: Ha Mim, a revelation from the Most Merciful, the Most Compassionate, until he reached: They said: We come willingly. Abu Sufyan said to him: Have you finished, O Muhammad? He said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ dismounted and I remounted. Hind turned to Abu Sufyan and said: For this lying sorcerer did you dismount my son? He said: By Allah, he is neither sorcerer nor liar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن منہب بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو برا کہتے ہیں : تو حضرت ابومعاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ شخص اپنے چچا کے بارے میں جو کہتا ہے وہ بری بات ہے ‘ لیکن میں عبداللہ کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہوں گا اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو وہ ایک نیک آدمی ہے ایک مرتبہ ابوسفیان نے اپنی اہلیہ ہند کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور شہر سے باہر کی طرف روانہ ہوئے میں ان دونوں سے آگے چلتا ہوا نکلا میں کمسن تھا میں ایک گدھی پر سوار تھا ہمیں نبی اکرم ﷺ ملے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے معاویہ نیچے اترو تاکہ محمد سوار ہو جائیں میں گدھی سے نیچے اتر آیا نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہو گئے آپ ان دونوں کے آگے کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے ابوسفیان بن حرب اے ہند بنت عتبہ ! اللہ کی قسم ! تم مر جاؤ گے پھر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ اور پھر نیکی کرنے والا جنت میں داخل ہو گا ‘ اور برائی کرنے والا جہنم میں داخل ہو گا میں تمہیں ، جو بات کہہ رہا ہوں وہ حق ہے اور تم وہ پہلے لوگ ہو ‘ جنہیں ڈرایا گیا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیات تلاوت کیں : ’’ حم یہ نہایت مہربان بڑے رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ‘‘۔ یہ آیات یہاں تک تلاوت کیں ’’ وہ دونوں کہیں گے : ہم اپنی رضا مندی سے آئے ہیں ‘‘۔ ابوسفیان نے آپ سے کہا : اے محمد ! کیا آپ فارغ ہو گئے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ گدھے سے اتر گئے ‘ اور میں اس پر سوار ہو گیا ہند ابوسفیان کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی : کیا اس جھوٹے جادوگر کے لئے آپ نے میرے بیٹے کو سواری سے نیچے اتارا تھا ، تو ابوسفیان نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ نہ تو جادوگر ہے اور نہ ہی جھوٹا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حمید بن منہب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9826

Majma al-Zawaid #9826

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّئَلِيِّ قَالَ: «مَا أَسْمَعُكُمْ تَقُولُونَ: إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَنَالُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنِّي أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ ; أَنَّ مَنْزِلَهُ كَانَ بَيْنَ مَنْزِلِ أَبِي لَهَبٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَكَانَ يَنْقَلِبُ إِلَى بَيْتِهِ فَيَجِدُ الْأَرْحَامَ وَالدِّمَاءَ وَالْأَنْحَاتَ قَدْ نُصِبَتْ عَلَى بَابِهِ، فَيُنَحِّي ذَلِكَ بِسِنَةِ قَوْسِهِ، وَيَقُولُ: "" بِئْسَ الْجِوَارُ هَذَا يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الرَّافِقِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي تَأْيِيدِهِ عَلَى عَدُوِّهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Rabi'a ibn 'Abbad al-Du'ali said: I do not hear you saying that Quraysh harmed the Messenger of Allah ﷺ — indeed the most I saw was that his house stood between the houses of Abu Lahab and 'Uqba ibn Abi Mu'ayt, and he would return home to find wombs, blood, and filth placed at his door. He would remove it with the tip of his bow and say: > **"What an evil neighborliness this is, O company of Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ بن عباد دئلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ جو کہتے ہو وہ میں نے سنا ہے کہ قریش نبی اکرم ﷺ کو اذیت پہنچایا کرتے تھے میں نے زیادہ سے زیادہ جو چیز دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا گھر ابولہب کے گھر اور عقبہ بن ابومعیط کے گھر کے درمیان میں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ جب گھر واپس آتے تھے ‘ تو آپ جانوروں کی بچہ دانیاں خون اور گندگی پاتے تھے کہ وہ آپ کے دروازے کے پاس رکھی گئی ہوتی تھیں ، تو آپ اپنی کمان کے کنارے کے ذریعے انہیں ایک طرف کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : اے قریش کے گروہ ! یہ برا پڑوس ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسین رافقی ہے اور وہ ضعیف ہے قریش کی عداوت کے بارے میں اس کی تائید میں چند روایات نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

9827

Majma al-Zawaid #9827

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «قُلْتُ لِأَبِي: مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ اجْتَمَعُوا عَلَى صَابِئٍ لَهُمْ. قَالَ: فَنَزَلْنَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو النَّاسَ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْإِيمَانِ بِهِ، وَهُمْ يَرُدُّونَ عَلَيْهِ، وَيُؤْذُونَهُ حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، وَانْصَدَعَ النَّاسُ عَنْهُ، أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ قَدْ بَدَا نَحْرُهَا تَحْمِلُ قَدَحًا وَمَنْدِيلًا، فَتَنَاوَلَهُ مِنْهَا فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، خَمِّرِي عَلَيْكِ نَحْرَكِ، وَلَا تَخَافِينَ عَلَى أَبِيكِ "". قُلْنَا: مَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: هَذِهِ زَيْنَبُ بِنْتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn al-Harith said: I asked my father: What is this gathering? He said: These are people gathered against one who has apostatized among them. He said: We alighted, and there was the Messenger of Allah ﷺ calling people to the Oneness of Allah and faith in Him, while they rebutted him and harmed him until midday, when the people dispersed from him. Then a woman came with her neck exposed, carrying a cup and a cloth. He took from her, drank, performed ablution, then raised his head and said: > **"O my daughter, cover your neck, and do not fear for your father."** We said: Who is she? They said: This is Zaynab, his daughter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ لوگ کس لئے اکٹھے ہوئے ہیں ، تو انہوں نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنے میں سے ایک بے دین فرد کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پڑاؤ کیا تو نبی اکرم ﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس پر ایمان رکھنے کی طرف دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کی بات کو مسترد کر رہے تھے اور آپ کو اذیت پہنچا رہے تھے ‘ یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا تو لوگ آپ کے پاس سے ہٹ گئے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا گلہ ظاہر ہو رہا تھا اس نے ایک پیالہ اور ایک رومال اُٹھایا ہوا تھا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کو پانی پیش کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پی لیا وضو کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : اے میری بیٹی ! اپنے گلے کو ڈھانپ کے رکھو اور اپنے باپ کے حوالے سے اندیشہ کا شکار نہ ہو ‘ ہم نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ ان کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں

9828

Majma al-Zawaid #9828

وَعَنْ مُنِيبٍ الْأَزْدِيِّ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا "". فَمِنْهُمْ مَنْ تَفَلَ فِي وَجْهِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ حَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ، وَمِنْهُمْ مَنْ سَبَّهُ حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، فَأَقْبَلَتْ جَارِيَةٌ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَقَالَ: "" يَا بُنَيَّةُ، لَا تَخْشِي عَلَى أَبِيكِ غِيلَةً، وَلَا ذِلَّةً "". فَقُلْتُ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ جَارِيَةٌ، وَضِيئَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُنِيبُ بْنُ مُدْرِكٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Munayb al-Azdi said: I saw the Messenger of Allah ﷺ in the pre-Islamic days saying: > **"O people, say: There is no deity worthy of worship except Allah, and you will prosper."** Some spat in his face, some threw dust upon him, and some reviled him until midday. Then a young girl came with a vessel of water; he washed his face and hands and said: > **"O my daughter, do not fear treachery nor humiliation for your father."** I said: Who is she? They said: Zaynab, daughter of the Messenger of Allah ﷺ, a radiant young girl.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت منیب ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ یہ فرما رہے تھے اے لوگو ! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو ‘ تم کامیاب ہو جاؤ گے تو کوئی شخص آپ کے چہرے کی طرف تھوک دیتا تھا کوئی آپ پر مٹی ڈال دیتا تھا کوئی آپ کو برا کہتا تھا یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا اسی دوران ایک لڑکی ایک پانی کا پیالہ لے کے آئی نبی اکرم ﷺ نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ارشاد فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اپنے باپ کے حوالے سے کسی دھوکے یا ذلت کا اندیشہ نہ رکھنا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ‘ وہ اس وقت وجیہہ و شکیل لڑکی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منیب بن مدرک ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9829

Majma al-Zawaid #9829

وَعَنْ مُدْرِكٍ قَالَ: «حَجَجْتُ مَعَ أَبِي فَلَمَّا نَزَلْنَا مِنًى، إِذَا نَحْنُ بِجَمَاعَةٍ، فَقُلْتُ لِأَبِي: مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ قَالَ: هَذَا الصَّابِئُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mudrik said: I performed Hajj with my father, and when we alighted at Mina we saw a gathering. I asked my father: What is this gathering? He said: This is the apostate. There was the Messenger of Allah ﷺ saying: > **"O people, say: There is no deity worthy of worship except Allah, and you will prosper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مدرک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کے ساتھ حج کیا ‘ جب ہم نے منی میں پڑاؤ کیا ہوا تھا ‘ تو وہاں کچھ لوگ اکٹھے موجود تھے میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ لوگ کیوں اکٹھے ہوئے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ ایک دین سے پھرا ہوا شخص ہے نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم «لا الہ الا اللہ» پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9830

Majma al-Zawaid #9830

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا، يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا "". قَالَ: وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ، وَيَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسِ لَا يَغْوِيَنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ، فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ، وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى. قَالَ: وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قُلْتُ: انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ، حَسَنُ الْوَجْهِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ، سَابِغُ الشَّعْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Banu Malik ibn Kinana said: I saw the Messenger of Allah ﷺ at the market of Dhu al-Majaz, moving through it, saying: > **"O people, say: There is no deity worthy of worship except Allah, and you will prosper."** Abu Jahl threw dust upon him, saying: O people, let this man not mislead you from your religion, for he only wants you to abandon your gods and abandon al-Lat and al-'Uzza. The Messenger of Allah ﷺ paid him no attention. I said: Describe the Messenger of Allah ﷺ to us. He said: Between two red cloaks, stocky, full-fleshed, handsome-faced, intensely black-haired, intensely fair-skinned, with flowing hair.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو مالک بن کنانہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان میں سے گزر رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم «لا الہ الا اللہ» پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔ راوی کہتے ہیں : ابوجہل آپ پر مٹی ڈال دیتا تھا ‘ اور یہ کہتا تھا اے لوگو یہ شخص تمہیں تمہارے دین کے حوالے سے گمراہ نہ کرے یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو ترک کر دو تم لوگ لات اور عزیٰ کو ترک کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس کی طرف توجہ نہیں کر رہے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نبی اکرم ﷺ کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، تو انہوں نے بتایا نبی اکرم ﷺ نے دو سرخ چادریں اوڑھی ہوئی تھیں آپ چوڑے کندھوں کے مالک بھرے جسم کے مالک خوبصورت چہرے والے شخص تھے آپ کے بال انتہائی سیاہ تھے اور رنگ انتہائی سفید تھا ‘ اور آپ کے بال لمبے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9831

Majma al-Zawaid #9831

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ - وَكَانَ جَاهِلِيًّا - قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا "". وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ وَضِيءُ الْوَجْهِ، أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ، يَقُولُ: إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ، يَتْبَعُهُ حَيْثُ ذَهَبَ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا لِي نَسَبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا لِي: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ».

EnglishUnverified translation

Rabi'a ibn 'Abbad of Banu al-Dil, who lived in the pre-Islamic era, said: I saw the Messenger of Allah ﷺ at the market of Dhu al-Majaz saying: > **"O people, say: There is no deity worthy of worship except Allah, and you will prosper."** People crowded around him, while behind him stood a fair-faced, squinting man with two braids, saying: He is an apostate liar, following him wherever he went. I asked about him, and they told me the lineage of the Messenger of Allah ﷺ and said to me: This is his uncle Abu Lahab.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو دیل سے ہے اور انہوں نے زمانہ جاہلیت دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تم «لا الہ الا اللہ» پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہوتے تھے آپ کے پیچھے ایک شخص تھا ‘ جس کا چہرہ صاف تھا وہ بھینگا تھا ‘ اور اس نے بڑے بال رکھے ہوئے تھے وہ یہ کہتا تھا یہ بے دین اور جھوٹا شخص ہے آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے تھے ۔ وہ آپ کے پیچھے آ جاتا تھا میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا : تو لوگوں نے میرے سامنے نبی اکرم ﷺ کا نسب بیان کیا اور یہ بتایا کہ یہ ان کا چچا ابولہب ہے ۔

9832

Majma al-Zawaid #9832

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفِرُّ مِنْهُ، وَهُوَ يَتْبَعُهُ».

EnglishUnverified translation

In another narration: The Messenger of Allah ﷺ would move away from him, while he followed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ اس سے بچتے تھے اور وہ آپ کے پیچھے آ جاتا تھا ۔

9833

Majma al-Zawaid #9833

وَفِي رِوَايَةٍ: وَكَانَ جَاهِلِيًّا فَأَسْلَمَ.

EnglishUnverified translation

In another narration: He had lived in the pre-Islamic era, then accepted Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے زمانہ جاہلیت بھی دیکھا اور پھر اسلام بھی قبول کر لیا ۔

9834

Majma al-Zawaid #9834

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَالنَّاسُ مُنْقَصِفُونَ عَلَيْهِ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا، وَهُوَ لَا يَسْكُتُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَالْأَوْسَطُ بِاخْتِصَارٍ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ ثِقَاتُ الرِّجَالِ. وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ فِي عَرْضِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ.

EnglishUnverified translation

In another narration: The people withdrew from him, yet I never saw anyone say anything while he did not fall silent — he kept calling.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگ آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیتے تھے ‘ میں نے کسی شخص کو کچھ کہتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ خاموش نہیں ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے عبداللہ بن احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کا ایک طریق ‘ نبی اکرم ﷺ کا مختلف قبائل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے سے متعلق باب میں آئے گا ۔

9835

Majma al-Zawaid #9835

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «إِنِّي بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ شَابٌّ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ بُرْدٍ أَحْمَرَ، وَهُوَ يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا "". وَرَجُلٌ خَلْفَهُ قَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وَسَاقَيْهِ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ كَذَّابٌ فَلَا تُطِيعُوهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: غُلَامُ بَنِي هَاشِمٍ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَهَذَا عَمُّهُ عَبَدُ الْعُزَّى، فَلَمَّا هَاجَرَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ، ارْتَحَلْنَا مِنَ الرَّبْذَةِ يَوْمَئِذٍ مَعَنَا ظَعِينَةً لَنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَدْنَى حِيطَانِهَا، لَبِسْنَا ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِنَا، إِذَا رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: نَمِيرُ أَهْلَنَا، وَلَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ قَائِمٌ مَخْطُومٌ قَالَ: أَتَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَمَا اسْتَنْقَصَنَا مِمَّا قُلْنَا شَيْئًا، وَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، ثُمَّ أَدْبَرَ بِهِ، فَلَمَّا تَوَارَى عَنَّا بِالْحِيطَانِ قُلْنَا: وَاللَّهِ مَا صَنَعْنَا شَيْئًا بِعْنَا مَنْ لَا نَعْرِفُ قَالَ: تَقُولُ امْرَأَةٌ جَالِسَةٌ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ وَجْهَهُ شَقَّةُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَظْلِمُكُمْ، لَا يُحَيِّرُكُمْ وَأَنَا ضَامِنَةٌ لِجَمَلِكُمْ، فَأَتَى رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ، هَذَا تَمْرُكُمْ فَكُلُوا وَاشْبَعُوا وَاكْتَالُوا قَالَ: فَأَكَلَنْا وَشَبِعْنَا وَاكْتَلْنَا وَاسْتَوْفَيْنَا ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَمِعْنَا مِنْ قَوْلِهِ: "" تَصَدَّقُوا ; فَإِنَّ الصَّدَقَةَ خَيْرٌ لَكُمْ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn 'Abdullah said: I was at the market of Dhu al-Majaz when a young man passed wearing a suit of red برد, saying: > **"O people, say: There is no deity worthy of worship except Allah, and you will prosper."** Behind him was a man whose ankles and shins bled, saying: O people, he is a liar, so do not obey him. I said: Who is this? They said: A youth of Banu Hashim who claims he is Allah's Messenger, and this is his uncle 'Abd al-'Uzza. Later, when Muhammad ﷺ emigrated to Medina and people accepted Islam, we departed from al-Rabadha with a woman of ours in a litter. When we reached the outskirts of Medina and changed our garments, a man on the road said: From where have the people come? We said: We seek provisions for our families, and we have a red camel standing bridled. He said: Will you sell me your camel? We said: Yes. He said: For how much? We said: For such-and-such measures of dates. He did not haggle at all, took the halter, and led it away. When he vanished behind the walls we said: By Allah, we did wrong selling to one we do not know. A seated woman said: I saw a man whose face was like a fragment of the full moon; by Allah he will not wrong you nor leave you perplexed, and I guarantee your camel. Then a man came and said: I am the messenger of the Messenger of Allah ﷺ to you; here is your dates — eat, be satisfied, and measure. So we ate, were satisfied, measured in full, then entered Medina, came to the mosque, and there he was preaching upon the pulpit. We heard from his words: > **"Give charity, for charity is better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ’’ ذوالجاز ‘‘ کے بازار میں موجود تھا ایک نوجوان شخص گزرا جس نے سرخ رنگ کا حلہ پہنا ہوا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا اے لوگو تم «لا الہ الا اللہ» پڑھ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے اس کے پیچھے ایک شخص تھا ‘ جس نے ان ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی پنڈلیوں اور ایڑیوں کو خون آلود کر دیا ہوا تھا ‘ وہ شخص یہ کہہ رہا تھا : اے لوگو ! یہ شخص جھوٹا ہے تم اس کی بات نہ ماننا میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ تو کسی نے بتایا : یہ بنوہاشم سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے اس کے پیچھے اس کا چچا عبدالعزی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، تو اس موقع پر ہم ربذہ سے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ ایک بوڑھی خاتون بھی تھی جب ہم مدینہ منورہ آئے تو مدینہ منورہ کی آبادی کے قریب پہنچے تو ہم نے لباس تبدیل کیا اسی دوران راستے میں ایک صاحب نظر آئے انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں سے آئے ہیں ہم نے کہا : ہم اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر آئے ہیں ہمارے پاس ایک سرخ رنگ کا اونٹ ہے ‘ جو کھڑا ہوا ہے اور اسے لگام پڑی ہوئی ہے ان صاحب نے دریافت کیا : کیا آپ اپنا اونٹ فروخت کریں گے ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ انہوں نے دریافت کیا : کتنے کے عوض میں ؟ ہم نے کہا : اتنے کے عوض میں اور اتنے صاع کھجور کے عوض میں ہم نے انہیں ‘ جو قیمت بتائی تھی انہوں نے اس میں کمی کے لئے نہیں کہا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اونٹ کی لگام پکڑی اور اسے لے کے چلے گئے جب وہ آبادی میں ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو ہم نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ ہم نے کیا ‘ کیا ہے ہم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ سودا کر لیا ہے جس سے ہم واقف ہی نہیں ہیں ، تو وہ خاتون جو بیٹھی ہوئی تھیں اس نے کہا : میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کے ٹکڑے کی مانند ہے ۔ اللہ کی قسم ! وہ تمہارے ساتھ ظلم نہیں کریں گے تمہارے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے میں تمہارے اونٹ کی ضمانت دیتی ہوں پھر ایک اور صاحب آئے اور وہ بولے میں اللہ کے رسول کا قاصد ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں یہ تمہاری کھجوریں ہیں تم انہیں ماپ لو ‘ اور تم نہیں سیر ہو کے کھاؤ اور ماپ لو راوی کہتے ہیں : تو ہم نے انہیں کھایا اور ہم سیر ہو گئے ‘ اور ہم نے ماپ لیں ‘ تو وہ پوری تھیں پھر ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے پھر ہم مسجد میں آئے تو نبی اکرم ﷺ منبر پر موجود خطبہ دے رہے تھے ۔ ہم نے آپ کی یہ بات سنی : تم لوگ صدقہ کرو بے شک صدقہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ مدلس ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9836

Majma al-Zawaid #9836

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اجْلِسْ ". وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ، فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ، فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا، فَنَزَلَ وَجَلَسَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ "، قَالَ: فَصَعَدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ قَالَ: فَنَهَضَ بِي قَالَ: فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ، حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ، وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ، فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، حَتَّى اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " اقْذِفْ بِهِ ". فَقَذَفَ بِهِ فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ، ثُمَّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسْتَبِقُ، حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ ; خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ».

EnglishUnverified translation

'Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, said: I set out with the Prophet ﷺ until we reached the Ka'ba. The Messenger of Allah ﷺ said to me: > **"Sit."** He climbed upon my shoulders, but when I tried to rise with him he saw weakness in me, so he descended, sat for me, and said: > **"Climb upon my shoulders."** So I climbed upon his shoulders, and he rose with me. It seemed to me that had I wished I could have reached the horizon of the sky, until I mounted the House. Upon it was a statue of brass or copper. I wrestled with it from its right and left, front and back, until I overpowered it. The Messenger of Allah ﷺ said to me: > **"Throw it down."** So I threw it down, and it shattered as glass shatters. Then I descended, and I and the Messenger of Allah ﷺ hastened away until we disappeared among the houses, fearing anyone might meet us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں آ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ نبی اکرم ﷺ پھر میرے کندھے پر سوار ہوئے میں نے اٹھنا چاہا ‘ لیکن آپ نے مجھ میں کمزوری دیکھی تو آپ نیچے اتر آئے پھر نبی اکرم ﷺ نیچے بیٹھ گئے ‘ اور آپ نے فرمایا : تم میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے کندھوں پر چڑھا تو نبی اکرم ﷺ اٹھ گئے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں ‘ تو آسمان کے افق تک پہنچ سکتا ہوں میں بیت اللہ کے اوپری حصے پر چڑھ گیا ‘ وہاں پیتل یا تانبے کی کچھ تصویریں بنی ہوئی تھیں ‘ میں نے دائیں طرف سے بائیں طرف سے سامنے سے پیچھے سے انہیں ہٹایا یہاں تک کہ جب یہ کام مکمل کر لیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا انہیں پھینک دو میں نے انہیں پھینک دیا اور وہ یوں ٹوٹ گئیں ، جس طرح شیشے کی بنی ہوئی کوئی چیز ٹوٹتی ہے پھر میں نیچے اتر آیا پھر میں اور نبی اکرم ﷺ تیزی سے چلتے ہوئے چلے گئے ‘ یہاں تک کہ ہم گھروں کے درمیان نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اس اندیشہ کے تحت لوگوں میں سے کوئی ہم سے نہ ملے ۔

9837

Majma al-Zawaid #9837

وَفِي رِوَايَةٍ: «كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ، أَصْنَامٌ فَذَهَبْتُ أَحْمِلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أَسْتَطِعْ، فَحَمَلَنِي فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا، وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: حَتَّى اسْتَتَرْنَا بِالْبُيُوتِ، فَلَمْ يُوضَعْ عَلَيْهَا بَعْدُ - يَعْنِي مِنْ تِلْكَ الْأَصْنَامِ - وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration: There were idols upon the Ka'ba. I went to carry the Prophet ﷺ but could not, so he carried me, and I began cutting them down; had I wished I could have touched the sky. After our concealment among the houses, those idols were never placed there again.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : خانہ کعبہ میں بت پڑے ہوئے تھے میں نبی اکرم ﷺ کو اٹھانے لگا تھا لیکن میں ایسا نہیں کر پایا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے اٹھا لیا میں نے انہیں ‘ توڑ دیا اگر میں چاہتا ، تو آسمان تک پہنچ سکتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے روایت کے ان الفاظ ‘ یہاں تک کہ ہم گھروں میں چھپ گئے اس کے بعد یہ نقل کیا ہے : اس کے بعد اس میں وہ نہیں رکھے گئے یعنی وہ بت نہیں رکھے گئے ‘ ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

9838

Majma al-Zawaid #9838

وَعَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ ; «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسَّ صَنَمًا، فَتَوَضَّأَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Burayda ibn al-Husayb, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ touched an idol, then performed ablution.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک بت کو چھو لیا پھر آپ نے وضو کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9839

Majma al-Zawaid #9839

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ قَالَ: فَسَمِعَ مَلَكَيْنِ خَلْفَهُ، وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا حَتَّى نَقُومَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَقَالَ: كَيْفَ نَقُومُ خَلْفَهُ وَإِنَّمَا عَهْدُهُ بِاسْتِلَامِ الْأَصْنَامِ قَبْلُ؟ قَالَ: فَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ يَشْهَدُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مَشَاهِدَهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ used to attend the gatherings of the polytheists with them. He said: Then he heard two angels behind him, one saying to his companion: Let us go stand behind the Messenger of Allah ﷺ. The other said: How can we stand behind him when his recent pledge was to touch idols? He said: After that he never again attended the gatherings of the polytheists with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مشرکین کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے آپ نے اپنے پیچھے دو فرشتوں کی آواز سنی ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا تم ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم اللہ کے رسول کے پیچھے کھڑے ہو جائیں ، تو دوسرے فرشتے نے کہا : ہم ان کے پیچھے کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں ‘ جبکہ انہوں نے تھوڑی دیر پہلے ایک بت کو چھو لیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے کبھی بھی مشرکین کی کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9840

Majma al-Zawaid #9840

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أُمِّهِ لَيْلَى، قَالَتْ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَيْنَا فِي إِسْلَامِنَا، فَلَمَّا تَهَيَّأْنَا لِلْخُرُوجِ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا عَلَى بَعِيرِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَوَجَّهَ، فَقَالَ: أَيْنَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقُلْتُ: آذَيْتُمُونَا فِي دِينِنَا، فَنَذْهَبُ فِي أَرْضِ اللَّهِ لَا نُؤْذَى فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، فَقَالَ: صَحِبَكُمُ اللَّهُ. ثُمَّ ذَهَبَ فَجَاءَ زَوْجِي عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رِقَّةِ عُمَرَ، فَقَالَ: تَرْجِينَ أَنْ يُسْلِمَ؟! فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يُسْلِمُ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ ; فَهُوَ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Amir ibn Rabi'a reported from his mother Layla: 'Umar ibn al-Khattab was among the harshest against us in our Islam. When we prepared to leave for Abyssinia, 'Umar came while I was upon my camel intending to depart. He said: Where to, O Umm 'Abdullah? I said: You harmed us in our religion, so we go forth in Allah's land where we will not be harmed in worshipping Allah. He said: May Allah accompany you. Then he left. My husband 'Amir ibn Rabi'a came, and I told him of 'Umar's tenderness. He said: Do you hope he will accept Islam? I said: Yes. He said: By Allah, he will not accept Islam until the donkey of al-Khattab accepts Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ‘ اپنی والدہ سیدہ ام لیلی رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہمارے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمارے سب سے زیادہ سخت مخالف تھے جب ہم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ( جو اس وقت غیر مسلم تھے ) میں اپنے اونٹ پر سوار تھی اور میرا سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اے ام عبداللہ تم کہاں جا رہی ہو ؟ میں نے جواب دیا : آپ لوگ ہمارے دین کے حوالے سے ہمیں اذیت پہنچاتے ہیں ‘ تو ہم اللہ کی زمین پر جانے لگے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حوالے سے ہمیں اذیت نہ پہنچائی جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ رہے پھر وہ چلے گئے بعد میں میرے شوہر عامر بن ربیعہ آئے میں نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نرم دلی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا : کیا تم یہ توقع رکھتی ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا میں نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو گا جب تک ( اس کے والد ) خطاب کا گدھا مسلمان نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور یہ روایت صحیح ہے ۔

9841

Majma al-Zawaid #9841

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ، وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَجَعْفَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَبُو مُوسَى، فَأَتَوُا النَّجَاشِيَّ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَا: إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا قَالَ: فَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَا: هُمْ فِي أَرْضِكَ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ، قَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ؟ قَالَ: إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ. قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى قَالَ: مَا يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ؟ قَالَ: يَقُولُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ، الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ. قَالَ: فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ، وَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ، وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا سِوَى هَذَا، مَرْحَبًا بِكُمْ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ الَّذِي نَجِدْهُ فِي الْإِنْجِيلِ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ، فَوَاللَّهِ لَوْ مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ وَأُوَضِّئُهُ. وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرِينَ فَرُدَّتْ عَلَيْهِمَا. ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَقَالَ: فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ ضَعْفٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ sent us to the Negus, about eighty men, among them 'Abdullah ibn Mas'ud, Ja'far, 'Abdullah ibn 'Urfuta, 'Uthman ibn Maz'un, and Abu Musa. They reached the Negus, while Quraysh sent 'Amr ibn al-'As and 'Umara ibn al-Walid with a gift. When they entered upon the Negus they prostrated to him, hastened to his right and left, and said: Some youths of our cousins have settled in your land, turning from us and our religion. He said: Where are they? They said: They are in your land, so send for them. So he sent for them. Ja'far said: I am your spokesman today — follow me. He entered, greeted, and did not prostrate. They said to him: Why do you not prostrate to the king? He said: We prostrate only to Allah, mighty and majestic. He said: Why is that? He said: Allah sent His Messenger ﷺ to us and commanded us to prostrate to none but Allah, and commanded us with prayer and charity. 'Amr ibn al-'As said: They oppose you concerning Jesus. He said: What do they say about Jesus son of Mary and his mother? He said: They say as Allah says: He is Allah's word and spirit, cast to the chaste Virgin whom no man touched and no child claimed. He lifted a stick from the ground and said: O company of Abyssinians, priests and monks, by Allah they do not exceed what we say about him by more than this. Welcome to you and to him from whom you came. I testify he is Allah's Messenger ﷺ, whom we find in the Gospel, whom Jesus son of Mary foretold. Settle wherever you wish. By Allah, were I not occupied with kingship, I would come to him to carry his sandals and pour his ablution water. He ordered the others' gift returned to them. Later 'Abdullah ibn Mas'ud hastened back until he reached Badr. It is claimed the Messenger of Allah ﷺ sought forgiveness for the Negus when news of his death reached him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا ہم تقریبا اسی افراد تھے ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ تھے یہ لوگ نجاشی کے پاس آئے قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ہمراہ بھیجا جب یہ دونوں لوگ نجاشی کے پاس آئے تو انہوں نے نجاشی کو سجدہ کیا پھر تیزی سے آ کے اس کے دائیں اور بائیں طرف آ گئے پھر ان دونوں نے کہا : ہمارے چچا زاد لوگوں میں سے کچھ لوگ ہیں ، جو آپ کی سرزمین پر آ کر ٹھہرے ہیں وہ ہم سے منہ موڑ چکے ہیں ہمارے دین سے منہ موڑ چکے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : وہ کہاں ہیں ؟ ان دونوں نے کہا : وہ آپ کی سرزمین پر رہتے ہیں آپ انہیں پیغام بھیجیں نجاشی نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا آج میں تمہارا خطیب ہوؤں گا پھر وہ لوگ نجاشی کے پاس گئے انہوں نے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا انہوں نے جواب دیا : ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنے رسول کو مبعوث کیا ہے اور اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہ کریں اس نے ہمیں نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے عمرو بن العاص نے کہا : حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ لوگ آپ سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں نجاشی نے کہا : حضرت عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ یہ کہتے ہیں : جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح تھے جسے اللہ تعالیٰ نے کنواری پاک مریم کی طرف القاء کیا تھا ‘ جس خاتون کو کسی مرد نے چھوا نہیں تھا ‘ اور نہ ہی بچے کی پیدائش ( کسی بشر کے فعل کے نتیجے میں ہوئی تھی ) راوی کہتے ہیں : تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا : اے حبشہ کے عبادت گزارو اور راہبو ۔ اللہ کی قسم ! وہ لوگ اس کے بارے میں اتنا بھی زیادہ نہیں کہتے جتنی یہ چھڑی ( یا تنکا ) ہے اس سے جو ہم کہتے ہیں ، تم لوگوں کو خوش آمدید ہے اور جن کے پاس سے تم آئے ہو انہیں بھی خوش آمدید ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی ہیں جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ بن مریم نے خوشخبری دی تھی تم لوگ جہاں چاہو رہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر میری بادشاہی کے معاملات نہ ہوتے تو میں ان کے پاس جاتا یہاں تک کہ میں ان کے جوتے اٹھاتا اور انہیں وضو کرواتا پھر دوسرے لوگوں کے تحفے کے بارے نجاشی نے حکم دیا کہ وہ انہیں واپس کر دیا جائے ۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ سے جلدی واپس آ گئے تھے ‘ یہاں تک کہ انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہوا ان کا یہ بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جب نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تھی تو آپ نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کی حدیث میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9842

Majma al-Zawaid #9842

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ابْنَةِ أَبِي أُمِّيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ جَاوَرْنَا بِهَا خَيْرَ جَارٍ النَّجَاشِيَّ، أَمِنَّا عَلَى دِينِنَا، وَعَبَدْنَا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُؤْذَى، وَلَا نَسْمَعُ شَيْئًا نَكْرَهُهُ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا، ائْتَمَرُوا أَنْ يَبْعَثُوا إِلَى النَّجَاشِيِّ فِينَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ، وَأَنْ يَهْدُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَا مِمَّا يُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَكَّةَ، وَكَانَ أَعْجَبَ مَا يَأْتِيهِ مِنْهَا الْأَدَمُ، فَجَمَعُوا لَهُ أُدُمًا كَثِيرًا، وَلَمْ يَتْرُكُوا مِنْ بَطَارِقَتِهِ بِطْرِيقًا إِلَّا أَهْدَوْا لَهُ هَدِيَّةً، وَبَعَثُوا بِذَلِكَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ -، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ، وَأَمَّرُوهُمَا أَمْرَهُمْ، وَقَالُوا لَهُمَا: ادْفَعُوا إِلَى كُلِّ بِطْرِيقٍ هَدِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمُوا النَّجَاشِيَّ فِيهِمْ، ثُمَّ قَدِّمُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَاهُ، ثُمَّ اسْأَلُوهُ أَنْ يُسَلِّمَهُمْ إِلَيْكُمْ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَهُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَا فَقَدِمَا عَلَى النَّجَاشِيِّ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ بِخَيْرِ دَارٍ، وَخَيْرِ جَارٍ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِهِ بِطَرِيقٍ إِلَّا دَفَعَا إِلَيْهِ هَدِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَا النَّجَاشِيَّ ثُمَّ قَالَا لِكُلِّ بِطْرِيقٍ مِنْهُمْ: إِنَّهُ قَدْ ضَوَى إِلَى بَلَدِ الْمَلِكِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَهَاءُ، فَارَقُوا دِينَ قَوْمِهِمْ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِي دِينِكُمْ، وَجَاءُوا بَدِينٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ، وَقَدْ بَعَثَنَا إِلَى الْمَلِكِ فِيهِمْ أَشْرَافُ قَوْمِهِمْ لِيَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ، فَإِذَا كَلَّمْنَا الْمَلِكَ فِيهِمْ فَأَشِيرُوا عَلَيْهِ أَنْ يُسَلِّمَهُمْ إِلَيْنَا، وَلَا يُكَلِّمَهُمْ، فَإِنَّ قَوْمَهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا لَهُمَا: نَعَمْ. ثُمَّ قَرَّبُوا هَدَايَاهُمْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ ثُمَّ كَلَّمَاهُ، فَقَالَا لَهُ: أَيُّهَا الْمَلِكُ، قَدْ صَبَا إِلَى بَلَدِكَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَهَاءُ، فَارَقُوا دِينَ قَوْمِهِمْ، وَلَمْ يَدْخُلُوا فِي دِينِكَ وَجَاءُوا بَدِينٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ، وَقَدْ بَعَثَنَا إِلَيْكَ فِيهِمْ أَشْرَافُ قَوْمِهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ ; لِنَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ، فَلَهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ، وَعَاتَبُوهُمْ فِيهِ. وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ يَسْمَعَ النَّجَاشِيُّ كَلَامَهُمْ، فَقَالَتْ بَطَارِقَتُهُ حَوْلَهُ: صَدَقُوا أَيُّهَا الْمَلِكُ قَوْمُهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْبًا، وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ، فَأَسْلِمْهُمْ إِلَيْهِمْ، فَلْيَرُدَّاهُمْ إِلَى بِلَادِهِمْ وَقَوْمِهِمْ. فَغَضِبَ النَّجَاشِيُّ، وَقَالَ: لَا هَا اللَّهِ، ايْمُ اللَّهِ، إِذًا لَا أُسَلِّمُهُمْ إِلَيْهِمَا، وَلَا أَكَادُ قَوْمًا جَاوَرُونِي وَنَزَلُوا بِلَادِي وَاخْتَارُونِي عَلَى مَنْ سِوَايَ حَتَّى أَدْعُوَهُمْ فَأَسْأَلَهُمْ عَمَّا يَقُولُ هَذَانِ فِي أَمْرِهِمْ، فَإِنْ كَانُوا كَمَا يَقُولَانِ أَسْلَمْتُهُمْ إِلَيْهِمَا، وَرَدَدْتُهُمْ إِلَى قَوْمِهِمْ، وَإِنْ كَانُوا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ مَنَعْتُهُمْ مِنْهُمَا، وَأَحْسَنْتُ جِوَارَهُمْ مَا جَاوَرُونِي. قَالَتْ: ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَاهُمْ فَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُهُ اجْتَمَعُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا تَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا جِئْتُمُوهُ؟ قَالُوا: نَقُولُ وَاللَّهِ مَا عَلَّمَنَا وَمَا أَمَرَنَا بِهِ نَبِيُّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَائِنٌ فِي ذَلِكَ مَا هُوَ كَائِنٌ، فَلَمَّا جَاءُوهُ، وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِيُّ أَسَاقِفَتَهُ فَنَشَرُوا مَصَاحِفَهُمْ حَوْلَهُ، سَأَلَهُمْ فَقَالَ: مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي قَدْ فَارَقْتُمْ فِيهِ قَوْمَكُمْ، وَلَمْ تَدْخُلُوا فِي دِينِي وَلَا فِي دِينِ أَحَدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ؟ قَالَتْ: وَكَانَ الَّذِي كَلَّمَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: أَيُّهَا الْمَلِكُ، كُنَّا قَوْمًا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأْكُلُ الْمَيْتَةَ، وَنَأْتِي الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِيءُ الْجِوَارَ، وَيَأْكُلُ الْقَوِيُّ مِنَّا الضَّعِيفَ، فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنَّا نَعْرِفُ نَسَبَهُ وَصِدْقَهُ وَأَمَانَتَهُ وَعَفَافَهُ، فَدَعَانَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ; لِنُوَحِّدَهُ، وَنَعْبُدَهُ، وَنَخْلَعَ مَا كُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنَ الْحِجَارَةِ وَالْأَوْثَانِ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْكَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ، وَنَهَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ، وَشَهَادَةِ الزُّورِ، وَأَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَةِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَإِقَامَ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ. - قَالَتْ: فَعَدَّدَ عَلَيْهِ أُمُورَ الْإِسْلَامِ - فَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ عَلَى مَا جَاءَ بِهِ، فَعَبَدْنَا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا، وَأَحْلَلْنَا مَا أَحِلَّ لَنَا، فَغَدَا عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَعَذَّبُونَا، وَفَتَنُونَا عَنْ دِينِنَا ; لِيَرُدُّونَا إِلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا كُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَلَمَّا قَهَرُونَا وَظَلَمُونَا، وَشَقُّوا عَلَيْنَا، وَحَالُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ دِينِنَا خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ، وَرَغِبْنَا فِي جِوَارِكَ، وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ. قَالَتْ: فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: هَلْ مَعَكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ عَنِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ: فَاقْرَأْهُ. فَقَرَأَ عَلَيْهِ صَدْرًا مِنْ: (كهيعص) قَالَتْ: فَبَكَى وَاللَّهِ النَّجَاشِيُّ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ، وَبَكَتْ أَسَاقِفَتُهُ حَتَّى أَخْضَلُوا مَصَاحِفَهُمْ حِينَ سَمِعُوا مَا تَلَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ النَّجَاشِيُّ: إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ وَالَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى لَيَخْرُجُ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ. انْطَلِقَا فَوَاللَّهِ لَا أُسَلِّمُهُمْ إِلَيْكُمْ أَبَدًا وَلَا أَكَادُ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُ غَدًا أَعِيبُهُمْ عِنْدَهُ بِمَا اسْتَأْصَلَ بِهِ خَضْرَاءَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ - وَكَانَ أَتْقَى الرَّجُلَيْنِ فِينَا -: لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لَهُمْ أَرْحَامًا، وَإِنْ كَانُوا قَدْ خَالَفُونَا. قَالَ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدٌ - قَالَتْ: ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ الْغَدُ، فَقَالَ: أَيُّهَا الْمَلِكُ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ قَوْلًا عَظِيمًا. فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ فَسَلْهُمْ عَمَّا يَقُولُونَ فِيهِ؟! قَالَتْ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، قَالَتْ: وَلَمْ يَنْزِلْ بِنَا مِثْلُهَا، وَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى إِذَا سَأَلَكُمْ عَنْهُ، قَالُوا: نَقُولُ وَاللَّهِ مَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَائِنٌ فِي ذَلِكَ مَا هُوَ كَائِنٌ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالَ لَهُمْ: مَا تَقُولُ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ؟ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: نَقُولُ فِيهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ نَبِيُّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَرُوحُهُ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ "". قَالَ: فَضَرَبَ النَّجَاشِيُّ يَدَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ مِنْهَا عُودًا ثُمَّ قَالَ: مَا عَدَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا قُلْتَ هَذَا الْعُودَ. فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقُهُ حَوْلَهُ حِينَ قَالَ مَا قَالَ. فَقَالَ: وَإِنْ نَخَرْتُمْ وَاللَّهِ، اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي - وَالسُّيُومُ: الْآمِنُونَ - مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ، ثُمَّ مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ، ثُمَّ مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ. مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دُبُرًا ذَهَبًا، وَأَنِّي آذَيْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ - وَالدُّبُرُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ: الْجَبَلُ - رُدُّوا عَلَيْهِمَا هَدَايَاهُمَا فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِمَا، فَوَاللَّهِ مَا أَخَذَ اللَّهُ مِنِّي الرِّشْوَةَ حِينَ رَدَّ عَلَيَّ مُلْكِي، فَآخُذَ فِيهِ الرِّشْوَةَ، وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِيَّ، فَأُطِيعَهُمْ فِيهِ. فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ مَقْبُوحَيْنِ مَرْدُودًا عَلَيْهِمَا مَا جَاءَا بِهِ، وَأَقَمْنَا عِنْدَهُ فِي خَيْرِ دَارٍ مَعَ خَيْرِ جَارٍ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَزَلَ بِهِ - يَعْنِي: مَنْ يُنَازِعُهُ فِي مُلْكِهِ - قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ كَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاهُ عِنْدَ ذَلِكَ ; تَخَوُّفًا أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَيَأْتِيَ رَجُلٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا كَانَ النَّجَاشِيُّ يَعْرِفُ مِنْهُ. قَالَتْ: وَسَارَ النَّجَاشِيُّ وَبَيْنَهُمَا عُرْضُ النِّيلِ، قَالَتْ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَتَّى يُحْضِرَ وَقِيعَةَ الْقَوْمِ ثُمَّ يَأْتِيَنَا؟ قَالَتْ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: أَنَا، قَالَتْ: وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا. قَالَتْ: فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً فَجَعَلُوهَا فِي صَدْرِهِ فَسَبَحَ عَلَيْهَا حَتَّى خَرَجَ إِلَى نَاحِيَةِ النِّيلِ الَّتِي بِهَا مُلْتَقَى الْقَوْمِ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى حَضَرَهُمْ، قَالَتْ: وَدَعَوْنَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِلنَّجَاشِيِّ بِالظُّهُورِ عَلَى عَدُّوِهِ، وَالتَّمْكِينِ لَهُ فِي بِلَادِهِ. وَاسْتَوْسَقَ عَلَيْهِ أَمْرُ الْحَبَشَةِ، فَكُنَّا عِنْدَهُ فِي خَيْرِ مَنْزِلٍ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, daughter of Abu Umayya ibn al-Mughira, wife of the Prophet ﷺ, may Allah be pleased with her, said: When we alighted in Abyssinia we dwelt with the best neighbor, the Negus. We were safe in our religion, worshipping Allah alone without harm, hearing nothing hateful. When that reached Quraysh, they conspired to send two resolute men to the Negus with gifts of Meccan wares, the most prized being leather. They gathered much leather, left none of his generals without a gift, and sent it with 'Abdullah ibn Abi Rabi'a al-Makhzumi and 'Amr ibn al-'As ibn Wa'il al-Sahmi, instructing them: Deliver each general his gift before speaking to the Negus about them, then present the Negus his gifts, then ask him to surrender them to you before he speaks to them. So they set out and came to the Negus while we were with him in the best abode with the best neighbor. They gave each general his gift, then said to each: Some foolish youths of ours have fled to the king's land, leaving their people's religion without entering yours, bringing an invented religion we know not nor do you. Their people's nobles have sent us concerning them, to return them. When we speak to the king about them, advise him to surrender them to us without speaking to them, for their people know best their faults. They said: Yes. Then they presented their gifts to the Negus, who accepted them. Then they said: O king, some foolish youths of ours have apostatized to your land, leaving their people's religion, not entering your religion, bringing an invented religion we know not nor do you. Their fathers, sons, and clans have sent us to bring them back, for they best know their faults. Nothing was more hateful to 'Abdullah and 'Amr than that the Negus hear their words, but his generals said: They speak truth, O king; their people best know their faults — surrender them to them to return them to their land and people. The Negus grew angry and said: No, by Allah, I shall not surrender them. A people who sought my neighborhood, alighted in my land, and chose me over others — I will summon them and ask about what these two say. If they are as they claim, I shall surrender them; otherwise I shall protect them and treat them well while they remain. Then he sent for the companions of the Messenger of Allah ﷺ. When his messenger came, they gathered and said to one another: What shall we say to the man when we come to him? They said: By Allah, we shall say what our Prophet ﷺ taught and commanded us, whatever happens. When they came to him, and the Negus had summoned his bishops who spread their scriptures around him, he asked: What is this religion by which you left your people, entering neither my religion nor any other nation's religion? The one who spoke to him was Ja'far ibn Abi Talib, peace be upon him. He said: O king, we were a people of ignorance, worshipping idols, eating carrion, committing indecencies, severing kinship, mistreating neighbors, the strong devouring the weak. Thus we remained until Allah sent to us a Messenger from among us whose lineage, truthfulness, trustworthiness, and chastity we know. He called us to Allah, to affirm His Oneness, worship Him, and abandon what we and our fathers worshipped besides Allah of stones and idols. He commanded truthful speech, fulfillment of trust, kinship, good neighborliness, restraint from forbidden things and blood, forbade indecencies, false testimony, devouring the orphan's wealth, and slandering chaste women. He commanded us to worship Allah associating nothing with Him, establish prayer, and give charity. So we believed him, followed what he brought, worshipped Allah alone, declared forbidden what he forbade and lawful what he allowed. Our people attacked us, tortured us, and tried us in our religion to return us to idol worship and lawfulize foul things. When they overpowered and wronged us and barred us from our religion, we left for your land, choosing you over others, desiring your neighborhood, hoping for no injustice with you, O king. The Negus said: Do you have anything of what he brought from Allah? Ja'far said: Yes. He said: Recite it. So he recited the opening of Kaf Ha Ya 'Ayn Sad. By Allah, the Negus wept until his beard was wet, and his bishops wept until their scriptures were wet. Then the Negus said: By Allah, this and what Moses brought come from one lamp. Go forth, for by Allah I shall never surrender them to you. Umm Salama said: When they left him, 'Amr ibn al-'As said: By Allah, tomorrow I shall come to him with what will uproot them. 'Abdullah ibn Abi Rabi'a, the more God-fearing of the two, said: Do not, for they have kinship, though they opposed us. He said: By Allah, I shall tell him they claim Jesus son of Mary is a servant. The next day he said: O king, they say a grave thing about Jesus son of Mary — send for them and ask what they say. He sent for them, and no trial like it had befallen us. They gathered and said: What shall we say about Jesus if he asks? They said: By Allah, we shall say what Allah said and what our Prophet ﷺ brought, whatever happens. When they entered he said: What do you say about Jesus son of Mary? Ja'far ibn Abi Talib said: We say of him what our Prophet ﷺ brought: > **"He is Allah's servant, His Messenger, His spirit, and His word cast to Mary the chaste Virgin."** The Negus struck his hand to the ground, took a stick, and said: Jesus son of Mary did not exceed what you said by even this stick. His generals snorted around him. He said: Even if you snort, by Allah. Go, you are safe in my land — safe means secure — whoever reviles you shall be fined, whoever reviles you shall be fined, whoever reviles you shall be fined. I would not wish a mountain of gold to have harmed any of you — dubr in Abyssinian means mountain. Return their gifts to them; I have no need of them. By Allah, Allah took no bribe from me when He restored my kingdom, that I should take bribes concerning it, nor did people obey me therein that I should obey them therein. So they left him disgraced, their gifts returned. We remained with him in the best abode with the best neighbor. By Allah, while thus, one disputing his kingship descended upon him. Never did we know grief severer than our grief then, fearing he might prevail over the Negus and one arise who knew not our right as the Negus knew it. The Negus marched, with the Nile between the two armies. The companions of the Messenger of Allah ﷺ said: Who will go witness the battle then return to us? Al-Zubayr ibn al-'Awwam said: I — the youngest among them. They inflated a waterskin, placed it upon his chest, and he swam until he reached the side of the Nile where the armies met, witnessed them, while we supplicated Allah for the Negus's victory and consolidation in his land. The Abyssinian affair settled in his favor, and we remained in the best dwelling until we came to the Messenger of Allah ﷺ while he was in Mecca.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بنت ابوامیہ بن مغیرہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : جب ہم نے حبشہ کی سرزمین پر رہائش اختیار کی تو وہاں نجاشی کا ساتھ ہمارے لئے بہت بہتر رہا اس نے ہمارے دین کے حوالے سے ہمیں محفوظ قرار دیا ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے ہمیں اذیت نہیں پہنچائی جاتی تھی ہمیں کوئی ایسی بات نہیں سننی پڑتی تھی جسے ہم ناپسند کرتے ہوں جب قریش کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس بارے میں باہمی مشورہ کیا کہ وہ دو مضبوط افراد کو نجاشی کی طرف ہمارے بارے میں بھیجتے ہیں اور وہ نجاشی کو تحفے بھی بھیجیں گے ‘ جو مکہ کے ساز و سامان سے اکٹھے کیے جائیں گے اور نجاشی کو برنی کھجور میں بہت پسند تھیں ، تو ان لوگوں نے نجاشی کے لئے بہت سی کھجوریں اکٹھی کیں ‘ اور اس کے درباریوں میں سے ہر ایک کے لئے کوئی نہ کوئی تحفہ لیا اور ان سب چیزوں کو عبداللہ بن ابوبیعہ مخزومی اور عمرو بن العاص بن وائل سہمی کے ہمراہ بھیجا انہوں نے اپنے معاملے کا نگران ان دو افراد کو بنا دیا اور ان دونوں سے یہ کہا کہ تم نے ہر درباری کو اس کا تحفہ دینا ہے اور یہ کام نجاشی سے ان لوگوں کے بارے میں بات چیت کرنے سے پہلے کرنا ہے پھر اس کے بعد نجاشی کو اس کے تحائف دینا پھر اس سے یہ درخواست کرنا کہ وہ ان لوگوں کو تمہارے سپرد کر دے اور یہ اس سے پہلے کرنا کہ نجاشی ان لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کے ساتھ کوئی بات چیت کرے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ دونوں افراد نکلے وہ دونوں نجاشی کے پاس آئے اس وقت ہم نجاشی کے علاقے میں بہترین جگہ پر بہترین پڑوس کے ساتھ رہ رہے تھے ان دونوں نے ہر درباری کو اس کا تحفہ دیا اور یہ کام نجاشی سے بات چیت کرنے سے پہلے کیا انہوں نے ہر درباری کو یہ کہا کہ بادشاہ کے علاقے میں ہماری طرف سے کچھ بے وقوف نوجوان آئے ہیں ، انہوں نے اپنی قوم کے دین سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور وہ لوگ تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین لے کے آئے ہیں ، جس سے نہ ہم واقف ہیں نہ تم واقف ہو اور ان لوگوں کی قوم کے معززین نے ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بادشاہ کی طرف بھیجا ہے تاکہ بادشاہ ان لوگوں کو ان کی قوم کی طرف واپس بھیج دے جب ہم ان لوگوں کے بارے میں بادشاہ کے ساتھ بات چیت کریں گے تو آپ نے بھی بادشاہ کو یہ مشورہ دینا ہے کہ وہ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دے اور یہ دھیان رکھنا ہے کہ بادشاہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت نہ کر پائے ‘ کیونکہ ان کی قوم ان لوگوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتی ہے اور اس چیز کے بارے میں زیادہ بہتر جانتی ہے ، جو ان پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ان درباریوں نے ان دونوں سے کہا ٹھیک ہے پھر ان لوگوں نے نجاشی کے تحائف نجاشی کو دیے نجاشی نے ان لوگوں سے تحائف قبول کیے پھر ان دونوں نے نجاشی کے ساتھ بات چیت کی اور اس سے یہ کہا : اے بادشاہ ہماری طرف سے کچھ نوجوان بے وقوف لوگ بے دین ہو کر آپ کے علاقے کی طرف آ گئے ہیں انہوں نے اپنی قوم کے دین سے علیحدگی اختیار کی ہے اور وہ آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں وہ ایک نیا دین لے کے آئے ہیں ، جس سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ آپ واقف ہیں ان لوگوں کی قوم کے معززین وہ قوم جن میں ان کے آباؤ اجداد ان کے بال بچے ان کے خاندان کے لوگ شامل ہیں ان کے معززین نے ان لوگوں کے بارے میں ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو ان کی قوم کی طرف واپس بھجوا دیں ‘ کیونکہ ان کی قوم کے افراد ان کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں انہیں ، جو اعتراض ہے وہ اس سے زیادہ واقف ہیں اور وہ اس حوالے سے خود ہی ان پر ناراضگی کا اظہار کر دیں گے ۔ ( سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) عبداللہ بن ابوربیعہ اور عمرو بن العاص کے نزدیک کوئی بھی چیز اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی کہ نجاشی ان لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کا کلام سن لے نجاشی کے گرد موجود ایک درباری نے کہا : اے بادشاہ یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ان کی قوم ان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتی ہے کہ ان میں کیا خرابی ہے اور ان پر کس حوالے سے اعتراض کیا جا سکتا ہے ‘ تو آپ ان لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دونوں ان لوگوں کو ان کے علاقوں اور ان کی قوم کی طرف واپس لے جائیں ، تو نجاشی غصے میں آ گیا اور بولا جی نہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں کو ان دونوں کے حوالے نہیں کروں گا جو لوگ میرے پڑوس میں آ کے ٹھہرے ہیں میرے علاقے میں آئے ہیں انہوں نے دوسروں پر مجھے اختیار کیا ہے میں انہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گا جب تک انہیں بلا کر اس چیز کے بارے میں دریافت نہیں کرتا کہ جو ان کے معاملے کے بارے میں ان دونوں افراد نے بیان کیا ہے اگر وہ لوگ ویسے ہی ہوئے جس طرح انہوں نے بیان کیا ہے ‘ تو میں ان لوگوں کو ان کے سپرد کر دوں گا ‘ اور ان لوگوں کو ان کی قوم کی طرف بھجوا دوں گا ‘ اور اگر وہ لوگ اس کے علاوہ ہوئے تو میں ان دونوں کو روک دوں گا ‘ اور ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا جو میرے پڑوس میں آ کے ٹھہرے ہیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نجاشی نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو پیغام بھیج کر ان کو بلوایا جب ان کا قاصد ان حضرات کے پاس آیا تو وہ لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے دریافت کیا : جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ گے تو اس سے کیا کہو گے ؟ انہوں نے یہی طے کیا کہ ہم وہی بات کہیں گے ۔ اللہ کی قسم ! جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے اور جس کا ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے خواہ جو بھی ہو جائے جب وہ لوگ بادشاہ کے پاس آئے تو نجاشی نے اپنے مذہبی پیشواؤں کو بلایا انہوں نے اپنے صحیفے کھول لیے اور نجاشی کے ارد گرد موجود رہے نجاشی نے ان سے دریافت کیا : وہ دین کیا ہے جس کی وجہ سے تم لوگ اپنی قوم سے جدا ہو گئے ہو اور تم لوگ میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ہی کسی اور گروہ کے دین میں داخل ہوئے ہو ؟ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کے ساتھ بات چیت شروع کی انہوں نے کہا : اے بادشاہ ہم ایک ایسی قوم تھے جو جاہلیت سے تعلق رکھتے تھے ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے ہم مردار کھاتے تھے ہم برائیوں کے مرتکب ہوتے تھے ہم رشتہ داریوں کے حقوق پامال کرتے تھے ہم پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے ہم میں سے طاقتور شخص کمزور کو کھا جاتا تھا ۔ ہم اسی حالت میں تھے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول کو مبعوث کیا جو ہم میں سے ہے ہم اس کے نسب اس کی سچائی اس کی امانت داری اور پاکدامنی کو جانتے ہیں اس نے ہمیں اللہ کی طرف دعوت دی کہ ہم اس کی وحدانیت کا اعتراف کریں اس کی عبادت کریں اور ان چیزوں کو چھوڑ دیں کہ جن پتھروں اور بتوں کی ہم اور ہمارے آباؤ اجداد اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے اس نے ہمیں سچی بات کہنے امانت ادا کرنے صلہ رحمی کرنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے حرام چیزوں اور خون بہانے سے رکنے کا حکم دیا اس نے ہمیں بری باتوں جھوٹی گواہی یتیم کا مال کھانے پاکدامن عورت پر الزام لگانے سے بچنے کی تلقین کی اس نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ہم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے مختلف اسلامی تعلیمات گنوائیں اور ( پھر کہا ) ہم نے اس رسول کی تصدیق کی ہم ان پر ایمان لائے اور جو تعلیمات وہ لے کے آئے اس حوالے سے ہم نے ان کی پیروی کی اب ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں اس نے ہم پر جو چیزیں حرام قرار دی ہیں ہم انہیں حرام سمجھتے ہیں اور جو چیزیں اس نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہیں ہم انہیں حلال سمجھتے ہیں ، تو ہماری قوم کے افراد ہمارے پاس آئے انہوں نے ہمیں تکلیفیں دینا شروع کیں اور ہمارے دین کی وجہ سے ہمیں آزمائش کا شکار کیا تاکہ وہ ہمیں دوبارہ بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر کی جاتی ہے اور ہم ان چیزوں کو حلال قرار دیں جو پہلے خبیث چیزوں کو حلال قرار دیا کرتے تھے جب ان لوگوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی اور ہم پر ظلم کیا اور ہم پر سختی کی اور ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بننے لگے تو ہم نکل کر آپ کے علاقے کی طرف آ گئے ہم نے دوسروں کی بجائے آپ کو اختیار کیا ہم نے آپ کے پڑوس میں آنے میں رغبت رکھی اور ہم نے یہ توقع رکھی کہ آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا اے بادشاہ ! سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نجاشی نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیات نازل ہوئی ہیں کیا ان میں سے کچھ آپ کو آتا ہے ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا جی ہاں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نجاشی نے ان سے کہا آپ تلاوت کیجئے تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورت مریم کی ابتدائی آیات اس کے سامنے تلاوات کیں : کیعص سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کی قسم ! نجاشی رونے لگا یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور اس کے پاس موجود مذہبی پیشوا بھی رونے لگے ‘ یہاں تک کہ ان کے صحیفے تر ہو گئے جب انہوں نے وہ تلاوت سنی جو ان کے سامنے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کی تھی پھر نجاشی نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہی ہیں جن کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اطلاع لے کے آئے تھے یہ ایک ہی طاق سے نکلے ہیں ( پھر نجاشی نے ان دونوں افراد سے کہا ) تم دونوں چلے جاؤ ۔ اللہ کی قسم ! میں انہیں کبھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ لوگ نجاشی کے پاس سے نکلے تو عمرو بن العاص نے کہا : اللہ کی قسم ! کل میں بادشاہ کے سامنے دوبارہ جاؤں گا ‘ اور اس کے سامنے ان لوگوں پر ایسا اعتراض کروں گا ، جس کی وجہ سے بادشاہ انہیں ختم کر دے گا عبداللہ بن ابوربیعہ نے ان سے کہا جو ہمارے بارے میں دونوں میں سے زیادہ احتیاط کرنے والے تھے کہ تم ایسا نہ کرو ان لوگوں کے ساتھ ہمارا رشتہ داری کا بھی تعلق ہے اگرچہ ان کا دین ہم سے مختلف ہے ، لیکن عمرو بن العاص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں بادشاہ کو بتاؤں گا کہ یہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم بھی ایک بندے تھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : پھر وہ اگلے دن بادشاہ کے پاس گئے اور کہا : اے بادشاہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں ایک بڑی بات کہتے ہیں ، آپ ان لوگوں کو پیغام بھیج کر بلائیں اور ان سے یہ دریافت کریں کہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بادشاہ نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا اور ان لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے سامنے ایسی پریشانی پہلے نہیں آئی تھی سب لوگ اکٹھے ہوئے انہوں نے آپس میں اس بارے میں بات چیت کی جب بادشاہ تم سے اس بارے میں دریافت کرے گا ‘ تو تم لوگ حضرت عیسیٰ کے بارے میں کیا کہو گے ؟ پھر انہوں نے یہ طے کیا کہ اللہ کی قسم ! ہم وہی بات کہیں گے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے اور جو چیز ہمارے نبی لے کے آئے ہیں خواہ جو بھی ہو جائے جب وہ لوگ بادشاہ کے پاس آئے تو بادشاہ نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو ‘ تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا ہم اُن کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی ان کے بارے میں تعلیم لے کے آئے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اس کے رسول اور اس کی روح تھے اور اس کا کلمہ تھے جسے اس نے کنواری پاک مریم کی طرف القاء کیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین کی طرف بڑھایا اس میں سے ایک تنکا اٹھایا اور پھر یہ کہا تم نے جو کہا ہے : حضرت عیسیٰ بن مریم اس تنکے جتنے بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں جب بادشاہ نے یہ بات کہی تو اس کے ارد گرد موجود پادری پھنکارنے لگے ‘ بادشاہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر تم غصے کا اظہار بھی کرتے ہو ‘ تو ٹھیک ہے ‘ تم جاؤ ‘ تم لوگ میری سرزمین پر امن کی حالت میں رہو گے ، جو شخص تمہیں کچھ برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا پھر جو شخص تمہیں کہے گا وہ جرمانہ دے گا پھر جو شخص تمہیں برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں مجھے سونے کا پہاڑ مل جائے جبکہ میں نے تم میں سے کسی ایک شخص کو اذیت دی ہوئی ہو حبشہ کی زبان میں دبر کا مطلب پہاڑ ہوتا ہے ( پھر بادشاہ نے دونوں افراد سے کہا ) تم لوگ اپنے تحائف واپس لے جاؤ ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے جب میری باشاہت مجھے واپس کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی وجہ سے کسی سے رشوت لوں ‘ اور اس نے میرے بارے میں لوگوں کی بات نہیں مانی جو میں اس کے بارے میں لوگوں کی بات مانوں ۔ پھر وہ دونوں افراد مردود ہو کر اور رسوا ہو کر وہاں سے نکلے اس چیز کے حوالے سے جو وہ لے کے آئے تھے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اچھی جگہ پر آرام دہ پڑوس میں رہے ۔ اللہ کی قسم ! ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران بادشاہ پر وہ پریشانی آ گئی یعنی اس کی بادشاہت کے خلاف بغاوت ہو گئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اللہ کی قسم ! ہمیں اس موقع پر جتنی شدید پریشانی لاحق ہوئی اتنی پریشانی کبھی لاحق نہیں ہوئی تھی ہمیں یہ پریشانی تھی کہ دشمن نجاشی پر غالب آ گیا تو کوئی ایسا حکمران آ جائے گا جو ہمارے حق کو نہیں جانتا ہو گا ، جس طرح نجاشی ہمارے حق کو پہچانتا تھا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نجاشی روانہ ہوا دونوں لشکروں کے درمیان دریائے نیل تھا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے کہا : کون شخص نکل کر جائے گا ‘ اور جنگ کا جائزہ لے گا ‘ اور پھر ہمیں آ کر بتائے گا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ، تو زبیر بن عوام نے کہا : میں ایسا کروں گا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں وہ کم عمر نوجوان تھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر ان لوگوں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے لئے ایک مشکیزے میں ہوا بھری اور وہ ان کے سینے پر باندھ دیا وہ اس پر رہ کر تیرتے ہوئے دریائے نیل کے اس کنارے تک پہنچ گئے جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہونا تھا وہ چلے گئے وہاں انہوں نے جنگ کا جائزہ لیا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے نجاشی کے لئے دعا کرتے رہے کہ وہ اپنے دشمن پر غالب آ جائے اور اسے اپنی حکومت میں استحکام نصیب ہو آخر کار حبشہ اس کے مکمل کنٹرول میں آ گیا اور ہم اس کے پاس اچھی طرح سے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم نبی اکرم ملی ﷺ کے پاس آ گئے جب کہ آپ مکہ میں تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسحاق نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

9843

Majma al-Zawaid #9843

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي رَأَيْتُ أَرْضًا ذَاتَ نَخْلٍ فَاخْرُجُوا "". قَالَ: فَخَرَجَ حَاطِبٌ وَجَعْفَرٌ فِي الْبَحْرِ قِبَلَ النَّجَاشِيِّ. قَالَ: فَوُلِدْتُ أَنَا فِي تِلْكَ السَّفِينَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Hatib said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"I have seen a land of palms, so emigrate."** Hatib and Ja'far set out by sea toward the Negus. He said: I was born upon that ship.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے ( خواب میں ہجرت کے مقام کے طور پر ) کھجوروں والی جگہ دیکھی ہے ‘ تو تم لوگ نکلو راوی بیان کرتے ہیں : حضرت حاطب رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سمندری راستے کے ذریعے نجاشی کی طرف چلے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس کشتی میں پیدا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9844

Majma al-Zawaid #9844

وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «قَالَ جَعْفَرٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي أَنْ آتِيَ أَرْضًا أَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا لَا أَخَافُ أَحَدًا. قَالَ: فَأُذِنَ لَهُ فِيهَا فَأَتَى النَّجَاشِيَّ، قَالَ عَمِيرٌ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: لَمَّا رَأَيْتُ جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ آمِنِينَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ حَسَدْتُهُ، قُلْتُ: لَا تَسْتَقْبِلَنَّ لِهَذَا وَأَصْحَابِهِ فَأَتَيْتُ النَّجَاشِيَّ، فَقُلْتُ: ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَقُلْتُ: إِنَّ بِأَرْضِنَا ابْنَ عَمٍّ لِهَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّا وَاللَّهِ إِنْ لَمْ تُرِحْنَا مِنْهُ وَأَصْحَابِهِ لَا قَطَعْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَبَدًا. فَقَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قُلْتُ: إِنَّهُ يَجِيءُ مَعَ رَسُولِكَ ; إِنَّهُ لَا يَجِيءُ مَعِي، فَأَرْسَلَ مَعِي رَسُولًا فَوَجَدْنَاهُ قَاعِدًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ، نَادَيْتُ: ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَنَادَى خَلْفِي: ائْذَنْ لِحِزْبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَسَمِعَ صَوْتَهُ، فَأَذِنَ لَهُ قَبْلِي، فَدَخَلَ وَدَخَلْتُ، وَإِذَا النَّجَاشِيُّ عَلَى السَّرِيرِ قَالَ: فَذَهَبْتُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَجَعَلْتُهُ خَلْفِي، وَجَعَلْتُ بَيْنَ كُلِّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: نَجِّرُوا - قَالَ عَمْرٌو: يَعْنِي تَكَلَّمُوا - قُلْتُ: إِنَّ بِأَرْضِكَ رَجُلًا ابْنُ عَمِّهِ بِأَرْضِنَا، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ، وَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَقْتُلْهُ وَأَصْحَابَهُ لَا أَقْطَعُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ أَنَا وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَبَدًا، قَالَ جَعْفَرٌ: صَدَقَ ابْنُ عَمِّي وَأَنَا عَلَى دِينِهِ قَالَ: فَصَاحَ صِيَاحًا، وَقَالَ: أُوهٍ. حَتَّى قُلْتُ: مَا لِابْنِ الْحَبَشِيَّةِ لَا يَتَكَلَّمُ؟! وَقَالَ: أَنَامُوسٌ، كَنَامُوسِ مُوسَى؟ قَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ؟ قَالَ: أَقُولُ هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ. قَالَ: فَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ: مَا أَخْطَأَ فِي أَمْرِهِ مِثْلَ هَذَا، فَوَاللَّهِ لَوْلَا مُلْكِي لَاتَّبَعْتُكُمْ، وَقَالَ لِي: مَا كُنْتُ أُبَالِي أَنْ لَا تَأْتِيَنِي أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ أَبَدًا. أَنْتَ آمِنٌ بِأَرْضِي مَنْ ضَرَبَكَ قَتَلْتُهُ، وَمَنْ سَبَّكَ غَرَّمْتُهُ، وَقَالَ لِآذِنِهِ: مَتَى اسْتَأْذَنَكَ هَذَا فَائْذَنْ لَهُ إِلَّا أَنْ أَكُونَ عِنْدَ أَهْلِي، فَإِنْ أَتَى فَأْذَنْ لَهُ. قَالَ: فَتَفَرَّقْنَا وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْ جَعْفَرٍ قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِي مِنْ طَرِيقٍ مَرَّةً، فَنَظَرْتُ خَلْفَهُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، وَقُلْتُ: أَتَعْلَمُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ قَالَ: فَقَدْ هَدَاكَ اللَّهُ فَاثْبُتْ، فَتَرَكَنِي وَذَهَبَ، فَأَتَيْتُ أَصْحَابِي فَكَأَنَّمَا شَهِدُوهُ مَعِي، فَأَخَذُوا قَطِيفَةً أَوْ ثَوْبًا فَجَعَلُوهُ عَلَيَّ حَتَّى غَمُّونِي بِهَا قَالَ: وَجَعَلْتُ أُخْرِجُ رَأْسِي مِنْ هَذِهِ النَّاحِيَةِ مَرَّةً وَمِنْ هَذِهِ النَّاحِيَةِ مَرَّةً حَتَّى أَفْلَتَ، وَمَا عَلَيَّ قِشْرَةً، فَمَرَرْتُ عَلَى حَبَشِيَّةٍ، فَأَخَذْتُ قِنَاعَهَا، فَجَعَلْتُهُ عَلَى عَوْرَتِي، فَأَتَيْتُ جَعْفَرًا فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ فَقُلْتُ: أَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ لِي مَا تَرَكَ عَلَيَّ قِشْرَةً فَأَتَيْتُ حَبَشِيَّةً، فَأَخَذْتُ قِنَاعَهَا، فَجَعَلْتُهُ عَلَى عَوْرَتِي، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَلِكِ، فَقَالَ جَعْفَرٌ لِآذِنِهِ: اسْتَأْذِنْ لِي. قَالَ: إِنَّهُ عِنْدَ أَهْلِهِ فَأَذِنَ لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَمْرًا تَابَعَنِي عَلَى دِينِي قَالَ: كَلَّا، قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ لِإِنْسَانٍ: اذْهَبْ مَعَهُ فَإِنْ فَعَلَ فَلَا تَقُلْ شَيْئًا إِلَّا كَتَبْتُهُ قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ وَجَعَلَ يَكْتُبُ حَتَّى كَتَبَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْقَدَحَ قَالَ: وَلَوْ شِئْتَ آخُذُ شَيْئًا مِنْ أَمْوَالِهِمْ إِلَى مَالِي فَعَلْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ. وَصَدْرُ الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِهِ لَهُ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ: ثُمَّ كُنْتُ بَعْدُ مِنَ الَّذِينَ أَقْبَلُوا فِي السُّفُنِ مُسْلِمِينَ». وَعُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَى أَبُو يَعْلَى بَعْضَهُ ثُمَّ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

EnglishUnverified translation

'Umayr ibn Ishaq said: Ja'far said: O Messenger of Allah, permit me to go to a land where I may worship Allah fearing no one. He permitted him, and he went to the Negus. 'Umayr said: 'Amr ibn al-'As told me: When I saw Ja'far and his companions secure in Abyssinia, I envied him and said: I shall not leave this man and his companions be. I came to the Negus and said: Admit 'Amr ibn al-'As. He admitted me. I entered and said: In our land is a cousin of this man who claims people have but one God. By Allah, unless you rid us of him and his companions, neither I nor any of my companions shall ever bring you this trade. He said: Where is he? I said: He comes with your messenger; he will not come with me. So he sent a messenger with me, and we found him seated among his companions. We summoned him and he came. At the door I called: Admit 'Amr ibn al-'As, and behind me he called: Admit the party of Allah. He heard his voice and admitted him before me. I entered to find the Negus upon a couch. I sat before him, placing Ja'far behind me, placing one of my companions between every two of his. The Negus said: Speak. I said: In your land is a man whose cousin is in our land, claiming people have but one God. Unless you kill him and his companions, neither I nor my companions shall ever bring you this trade. Ja'far said: My cousin speaks truth, and I follow his religion. He shouted and cried out until I said: What is wrong with the son of the Abyssinian woman that he does not speak? He said: Is it a revelation like the revelation of Moses? He said: What do you say about Jesus son of Mary? He said: I say he is Allah's spirit and word. He took something from the ground and said: He did not err in his affair by even this. By Allah, were it not for my kingship I would follow you. He said to me: I would not care whether you or any of your companions ever come to me. You are secure in my land; whoever strikes you I shall kill, whoever reviles you I shall fine. He told his chamberlain: Whenever he seeks permission, admit him unless I am with my family; if he comes, admit him. So we dispersed, and none was dearer for me to meet than Ja'far. He met me once on a road; I looked behind him and saw no one, behind me and saw no one. I drew near and said: Do you know that I testify there is no deity but Allah and Muhammad is His servant and Messenger? He said: Allah has guided you, so stand firm. He left me and went. I came to my companions as though they had witnessed it with me; they took a cloak and threw it over me until they smothered me. I kept poking my head out one side then the other until I escaped bare, without a rag. I passed an Abyssinian woman, took her head-cover, placed it over my nakedness, came to Ja'far, and entered upon him. He said: What is with you? I said: They took everything, leaving not a rag; I took a cover from an Abyssinian woman for my nakedness. He set out with me until we reached the king's door. Ja'far told his chamberlain: Seek permission for me. He said: He is with his family, but he admitted him. I said: 'Amr has followed me in my religion. He said: No. I said: Yes. He told a man: Go with him; if he does it, write down all he says. He came and said: Yes. I kept speaking and he kept writing until he wrote everything, even the cup. Had I wished to take anything of their wealth into mine, I could have. Then later I was among those who came in the ships as Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں کسی ایسی سرزمین پر چلا جاؤں جہاں میں اللہ کی عبادت کروں اور مجھے کسی کا خوف نہ ہو ۔ راوی کہتے ہیں : انہیں اس چیز کی اجازت دے دی گئی وہ نجاشی کے پاس چلے گئے ۔ عمیر نامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی جب میں نے جعفر اور اس کے ساتھیوں کو حبشہ کی سرزمین پر امن کی حالت میں رہتے ہوئے دیکھا تو مجھے ان سے حسد ہوا میں نے کہا : انہیں اور ان کے ساتھیوں کو آئندہ یہ موقع نہیں ملے گا میں نجاشی کے پاس آیا میں نے ( دربان ) سے کہا عمرو بن العاص کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو اس نے مجھے اجازت دے دی میں اندر آیا میں نے کہا : ہماری سرزمین پر اس شخص کا ایک چچازاد ہے جس کا کہنا ہے کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ہمیں ان صاحب اور ان کے ساتھیوں سے راحت نہ دلوائی تو نہ میں ‘ اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی ‘ کبھی اس سمندر کے پانی سے گزر کر تم تک آ سکے گا ‘ نجاشی نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہے ؟ میں نے جواب دیا : وہ تمہارے قاصد کے ساتھ آ جائے گا وہ میرے ساتھ نہیں آئے گا ‘ تو نجاشی نے میرے ساتھ اپنے پیغام رساں کو بھیجا میں نے جعفر کو اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پایا نجاشی نے اسے بلوایا تھا وہ آ گیا جب میں دروازے کے پاس آیا تو میں نے کہا : عمرو بن العاص کے لئے اندر آنے کی اجازت طلب کرو جعفر نے میرے پیچھے سے بلند آواز میں پکارا اللہ کے گروہ کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو نجاشی نے اس کی آواز سن لی اور مجھ سے پہلے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی وہ اندر داخل ہوا پھر میں اندر داخل ہوا نجاشی پلنگ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آگے بڑھا اور نجاشی کے سامنے بیٹھ گیا میں نے جعفر کو اپنے پیچھے کر لیا اور اس کے ساتھیوں میں سے ہر دو افراد کو اپنے ساتھیوں میں سے کسی فرد کے پیچھے کر دیا نجاشی نے کہا : تم لوگ بات چیت شروع کرو میں نے کہا : آپ کی سرزمین پر ایک ایسا شخص ہے جس کا چچازاد ہماری سرزمین پر رہتا ہے اور اس کا یہ کہنا ہے کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے اگر آپ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل نہ کیا ‘ تو نہ میں ‘ اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی ‘ کبھی اس سمندر کے پانی سے گزر کر تم تک آ سکے گا ‘ تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے چچازاد نے ٹھیک کہا ہے پہلے میں بھی اس کے دین پر قائم تھا پھر اس نے چیخ ماری اور بولا اوہ ‘ یہاں تک کہ میں نے یہ سوچا کہ حبشی عورت کے بیٹے کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا پھر اس نے دریافت کیا : کیا یہ وہی فرشتہ ہے ‘ جو حضرت موسیٰ کے پاس آیا تھا پھر اس نے دریافت کیا : تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں یہ کہتا ہوں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ‘ تو نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور بولے : ان کے معاملے میں اس نے اتنی بھی غلطی نہیں کی ( جتنا یہ تنکا ہے ) ۔ اللہ کی قسم ! اگر میرے حکومتی معاملات نہ ہوتے تو میں تمہارے ساتھ جاتا پھر نجاشی نے مجھ سے کہا مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تم یا تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی بھی میرے پاس کبھی نہ آئے ( پھر اس نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا ) تم لوگ میری سرزمین پر امن کے ساتھ رہو گے ‘ جو شخص تمہیں مارے گا میں اسے قتل کروا دوں گا جو شخص تمہیں برا کہے گا میں اس پر جرمانہ عائد کروں گا پھر اس نے اپنے دربان سے کہا کہ یہ صاحب جب بھی تم سے اندر آنے کی اجازت مانگیں تم انہیں اجازت دے دینا البتہ جب میں اپنی بیوی کے پاس موجود ہوں اس وقت ایسا نہیں ہو گا حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : وہاں سے ہم بکھر گئے میری یہ خواہش تھی کہ میری جعفر سے ملاقات ہو جائے ایک دن وہ مجھے راستے میں ملے میں نے ان کے پیچھے دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں نے اپنے پیچھے دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں ان کے قریب ہوا اور میں نے کہا : کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کر دی ہے تم ثابت قدم رہنا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور چلے گئے میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو یوں لگا جیسے وہ لوگ اس وقت میرے ساتھ موجود تھے ( یعنی انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ چل چکا تھا ) تو انہوں نے ایک چادر یا کپڑا لے کر اسے میرے اوپر رکھا اور مجھے اس میں بند کر دیا میں کبھی ایک طرف سے سر باہر نکالتا تھا کبھی دوسری طرف سے سر نکالتا تھا یہاں تک کہ جب میں ان سے نکل کے بھاگا ، تو میرے جسم پر لباس کے نام پر ایک دھجی بھی نہیں تھی میں ایک حبشی عورت کے پاس آیا میں نے اس کی چادر لی اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپا اور پھر جعفر کے پاس آ گیا انہوں نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے میں نے کہا : انہوں نے میری ہر چیز لے لی ہے میرے جسم پر ایک دھجی بھی نہیں رہنے دی پھر میں ایک حبشی عورت کے پاس آیا میں نے اس کی چادر لی اور اسے اپنی شرمگاہ پر باندھا ہے پھر وہ گئے ان کے ساتھ میں بھی گیا یہاں تک کہ ہم بادشاہ کے دروازے پر آئے جعفر نے دربان سے کہا میرے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو دربان نے کہا : بادشاہ اپنی اہلیہ کے پاس موجود ہے پھر بادشاہ نے انہیں اجازت دے دی میں نے کہا : ( یا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا ) عمرو نے میرے دین کے حوالے سے میری پیروی کر لی ہے اس نے کہا : ہرگز نہیں میں نے کہا : جی ہاں ۔ اس نے ایک شخص سے کہا تم اس کے ساتھ جاؤ اگر اس نے ایسا کیا ہے ‘ تو تم کچھ نہ کہنا بس اس کو نوٹ کر لینا پھر وہ آیا اس نے بتایا جی ہاں پھر میں نے کہنا شروع کیا اور اس نے لکھنا شروع کیا یہاں تک کہ اس نے ہر چیز لکھ لی ‘ یہاں تک کہ پیالہ تک لکھا حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر میں نے ان لوگوں کے اموال میں سے کوئی چیز لینی ہوتی تو میں ایسا کر سکتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ روایت کا ابتدائی حصہ انہوں نے نقل کیا ہے اور آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کے بعد میں ان افراد میں سے تھا جو کشتیوں میں مسلمان ہو کر آئے تھے ۔ عمیر نامی راوی کو ابن اسحاق ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام ابویعلیٰ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور پھر یہ بات بیان کی ہے ۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔