Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 27 · Chapter 10

Book of Expeditions and Biography

Hadith 10165–10204

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

10165

Majma al-Zawaid #10165

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ فَوَثَبَ وَثْبَةً شَدِيدَةً، وَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَاتَّبَعْتُهُ فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ مُعْتَمٌّ مُرْخٍ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: وَثَبْتَ وَثْبَةً وَخَرَجْتَ فَإِذَا هُوَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، قَالَ: "" وَرَأَيْتِهِ؟ ""، قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "" ذَاكَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'A'isha, may Allah be pleased with her, said: The Messenger of Allah ﷺ heard the voice of a man, leapt up sharply, and went out to him. I followed him — behold, he was a reclining man, turbaned, his turban hanging loose between his shoulders. When the Messenger of Allah ﷺ entered I said: You leapt up and went out — yet he was Dihya al-Kalbi. He said: > **"Did you see him?"** I said: Yes. He said: > **"That was Jibril, peace be upon him — he ordered me to go out to Banu Qurayza."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی آواز سنی ‘ تو آپ جلدی سے اٹھے اور نکل کر اس کی طرف گئے میں آپ کے پیچھے گئی ‘ تو وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس نے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، عمامہ باندھا ہوا تھا اور عمامہ کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان پیچھے لٹکایا ہوا تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ‘ تو میں نے عرض کی : آپ جلدی سے اُٹھ کر چلے گئے تھے ‘ جب کہ وہ دحیہ کلبی تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور انہوں نے مجھے یہ کہا کہ میں بنوقریظہ کی طرف نکلوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10166

Majma al-Zawaid #10166

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ عَرِيٍّ يُقَالُ لَهُ: يَعْفُورُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi', may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ went early to Banu Qurayza upon a bare donkey called Ya'fur.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنو قریظہ کی طرف ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پر سوار ہو کر گئے تھے ‘ جس کے اوپر کچھ ( بچھا ہوا نہیں تھا ) اس کا نام ’’ یعفور ‘‘ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10167

Majma al-Zawaid #10167

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ، وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهَا قَطِيفَةٌ مِنْ إِسْتَبْرَقٍ خَمْلُهَا اللُّؤْلُؤُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَنْزِلُ عَنْهَا حَتَّى تُفْتَحَ لَكَ، وَلَأَرُضْهَا كَمَا تُرَضُ الْبَيْضَةُ عَلَى الصَّفْوَانِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: The Messenger of Allah ﷺ went out to Banu Qurayza upon a donkey, with Jibril, peace be upon him, upon a white mule bearing a carpet of brocade whose pile was pearls. He said: > **"O Muhammad, by the One who sent you with the truth, I shall not dismount from it until it is opened for you — and I shall crush them as an egg is crushed upon smooth rock."** Ibn 'Abbas said: He did not return until it was opened for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے ‘ تو آپ ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پر سوار ہو کر نکلے ‘ آپ کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک سفید خچر پر سوار تھے اور ان کے نیچے استبرق کا بنا ہوا بچھونا تھا ‘ جس میں موتی لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں وہاں سے اُس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا ‘ جب تک وہ آپ کے لئے فتح نہیں ہو جاتا ‘ اور میں انہیں اس طرح کچل دوں گا جس طرح انڈے کو پتھر پر پیس دیا جاتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تو وہ اس وقت تک واپس نہیں گئے ‘ جب تک وہ علاقہ فتح نہیں ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10168

Majma al-Zawaid #10168

وَعَنِ أَسْلَمَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْرَى قُرَيْظَةَ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ الْغُلَامِ، فَإِنْ رَأَيْتُهُ قَدْ أَنْبَتَ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، وَإِنْ لَمْ أَرَهُ قَدْ أَنْبَتَ جَعَلْتُهُ فِي مَغَانِمِ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Aslam al-Ansari, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah ﷺ placed me over the captives of Qurayza. I would look at the private part of a boy: if I saw pubic hair had grown, I struck his neck; if I saw it had not grown, I placed him among the spoils of the Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسلم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے قریظہ کے قیدیوں کا نگران مقرر کیا ‘ میں لڑکوں کی شرمگاہ کی طرف دیکھتا تھا ، جس کو میں دیکھتا تھا کہ اُس کے زیر ناف ناف بال اگ چکے ہیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا تھا ‘ اور اگر میں یہ دیکھتا تھا کہ ابھی نہیں آگے ہیں ، تو اسے مسلمانوں کے مال غنیمت میں شامل کر دیتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10169

Majma al-Zawaid #10169

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا أَعْمَى فَقَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ الزُّبَيْرَ مَنَّ عَلِيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ فَأَعْتَقَنِي، فَهَبْهُ لِي أَجْزِهِ، فَقَالَ: "" هُوَ لَكَ "". فَقَالَ لِلزُّبَيْرِ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: نَعَمْ؛ أَنْتَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: إِنِّي أَمُنَّ عَلَيْكَ كَمَا مَنَنْتَ عَلِيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ قَالَ: هَلْ تَنْفَعُنِي؟ أَيْنَ أَهْلِي؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: هَبْ لِي أَهْلَهُ قَالَ: فَوَهَبَ لَهُ أَهْلَهُ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَدَّ لَهُ أَهْلَهُ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا يَنْفَعُنِي أَنْ نَعِيشَ أَجْسَادًا؟ أَيْنَ الْمَالُ؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَبْ لِي مَالَهُ قَالَ: "" وَلَكَ مَالُهُ "". قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَدَّ عَلَيْكَ مَالَكَ وَقَدْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِكَ خَيْرًا. قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا فَعَلَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ سَيِّدُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِ؟ قَالَ: قَدْ قُتِلَ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي مَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ رُوطَا حَامِيَةُ الْيَهُودِ؟ قَالَ: قَدْ قُتِلَ، قَالَ: مَا فَعَلَ كَعْبُ بُنُ أَشْطَا الَّذِي بَطَلَ عَذَارَى الْحَيِّ تَنْغَمِزُ مِنْ حَشْيِهِ؟ قَالَ: قَدْ قُتِلَ قَالَ: مَا فَعَلَ الْمُحَمَّسَانِ؟ قَالَ: هُمَا كَأَمْسِ الذَّاهِبِ قَالَ: فَمَا بَيْنِي وَبَيْنَ لِقَاءِ الْأَحِبَّةِ إِلَّا كَإِفْرَاغِ الدَّلْوِ، أَسْأَلُكَ بِيَدِي عِنْدَكَ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِالْقَوْمِ قَالَ: فَقَتَلَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'A'isha, may Allah be pleased with her, said: Al-Zubayr was a blind man. Thabit ibn Qays ibn Shammas said to the Messenger of Allah ﷺ: Al-Zubayr favored me on the day of Bu'ath and freed me — grant him to me that I may repay him. He said: > **"He is yours."** He said to al-Zubayr: Do you know me? He said: Yes — you are Thabit ibn Qays. He said: I shall favor you as you favored me on the day of Bu'ath. He said: Will you benefit me? Where is my family? So he returned to the Messenger of Allah ﷺ and said: Grant me his family. So he granted him his family. He came to him and informed him that the Messenger of Allah ﷺ had returned his family to him. He said: O son of my brother, what good is it to live on as bodies? Where is the wealth? So he returned to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah ﷺ, grant me his wealth. He said: > **"And his wealth is yours."** So he returned to him and said: The Messenger of Allah ﷺ has returned your wealth to you — Allah, Exalted, intended good for you. He said: O son of my brother, what became of Huyayy ibn Akhtab, chief of settler and nomad? He said: He was killed. He said: O son of my brother, what became of Zayd ibn Rawta, protector of the Jews? He said: He was killed. He said: What became of Ka'b ibn Ashta, at whose girth the virgins of the quarter would pinch? He said: He was killed. He said: What became of the two Muhammasans? He said: They are as yesterday gone. He said: Then between me and meeting the beloved ones is only as the emptying of a bucket. I ask you, by my hand upon you, to join me with the company. So he killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : زبیر نامی ایک نابینا شخص تھا ‘ ثابت بن قیس بن شماس نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : زبیر نے جنگ بعاث کے موقع پر مجھ پر ایک احسان کیا تھا اس نے مجھے آزاد کر دیا تھا ، تو آپ وہ مجھے ہبہ کر دیں ‘ تاکہ میں اسے جزا دے دوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہارا ہوا ‘ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے زبیر سے دریافت کیا : کیا تم نے مجھے پہچانا ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تم ثابت بن قیس ہو ‘ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم پر احسان کرنا چاہتا ہوں جس طرح تم نے جنگ بعاث کے موقع پر مجھ پر احسان کیا تھا اس نے کہا : کیا تم مجھے فائدہ دینا چاہتے ہو ؟ میرے گھر والے کہاں ہیں ؟ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ‘ اور عرض کی : اُس کے گھر والے بھی مجھے ہبہ کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس کے گھر والے انہیں ہبہ کر دیے ‘ وہ زبیر نامی شخص کے پاس آئے اور اسے اس بارے میں بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے اس کے گھر والے واپس کر دیے ہیں ‘ زبیر نے کہا : اے میرے بھتیجے ! ہمیں کیا فائدہ ہو گا کہ اگر ہمارے جسم زندہ رہیں ، مال کہاں جائے گا ؟ تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا مال بھی مجھے دیدیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا مال بھی تمہارا ہوا ، پھر حضرت ثابت رضی اللہ عنہ زبیر نامی شخص کے پاس واپس آئے اور بولے : اللہ کے رسول نے تمہارا مال تمہیں واپس کر دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کیا ہے ‘ زبیر نے کہا : اے میرے بھتیجے ! شہریوں اور دیہاتیوں کے سردار حیی بن اخطب کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ قتل ہو گیا ہے ‘ اس نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! زید بن روطا کا کیا بنا ؟ جو یہودیوں کا حامی تھا ، انہوں نے بتایا : وہ بھی قتل ہو گیا ‘ ہے اس نے دریافت کیا : کعب بن اشطا کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ بھی قتل ہو گیا ہے اس نے دریافت کیا : مہمسان کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ دونوں گزرے ہوئے کل کی مانند ہیں ، تو اس نے کہا : پھر میرے اور ( میرے ) دوستوں کے ساتھ ملاقات کے درمیان ‘ صرف اتنا فرق ہے کہ جتنا ڈول ڈالنے کا ہوتا ہے ‘ میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم مجھ پر یہ مہربانی کرو کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دو ! تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10170

Majma al-Zawaid #10170

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَسُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ أَوْسِ بْنِ عَبْدِ عَمْرٍو. وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: ثَعْلَبَةُ بْنُ عَنَمَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَالْقَرِينَانِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab said: Martyred on the day of the Trench, of the Ansar: Anas ibn Mu'adh ibn Aws ibn 'Abd 'Amr. And of the Ansar, then of Banu Salima: Tha'laba ibn 'Anama. The hadith of Sa'd ibn Mu'adh and the two neighboring ones already preceded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر انصار میں سے حضرت انس بن معاذ بن انس بن اوس بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ اور انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے حضرت ثعلبہ بن عنمہ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے ‘ جس میں دو افراد کے ایک ساتھ شہید ہونے کا ذکر ہے ۔

10171

Majma al-Zawaid #10171

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَتِ الْخَنْدَقُ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ خَمْسٍ، وَفِيهَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: The Trench was in Shawwal, year five. In it Sa'd ibn Mu'adh, may Allah be pleased with him, died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق ، شوال کے مہینے میں ‘ پانچ ہجری میں ہوا تھا ‘ اس کے دوران حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ( یعنی اس کے دوران وہ زخمی ہوئے اور وہ زخم اُن کے انتقال کا سبب بنا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10172

Majma al-Zawaid #10172

عَنْ سِنَانِ بْنِ وَبْرَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ - غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ - فَكَانَ شِعَارُهُمْ: يَا مَنْصُورُ أَمِتْ أَمِتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sinan ibn Wabra, may Allah be pleased with him, said: We were with the Messenger of Allah ﷺ in the expedition of al-Muraysi' — the expedition of Banu al-Mustaliq — and their watchword was: > **"O Mansur — kill, kill."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سنان بن وبره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ مریسیع ، یعنی غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر ‘ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اور ان لوگوں کا شعار یہ تھا : اے منصور ! تم موت دے دو ‘ تم موت دے دو ‘ تم موت دے دو ‘ ( یا تم مار دو ! ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند حسن ہے ۔

10173

Majma al-Zawaid #10173

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي بِبَعْضِ حَدِيثِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَ: «بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ، قَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَيْهِمْ حَتَّى لَقِيَهُمْ عَلَى مَاءٍ لَهُمْ، يُقَالُ لَهُ: الْمُرَيْسِيعِ مِنْ نَاحِيَةِ قَدِيدٍ إِلَى السَّاحِلِ، فَتَزَاحَفَ النَّاسُ وَاقْتَتَلُوا، فَهَزَمَ اللَّهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ أَبَا جُوَيْرِيَةَ، وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، وَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَ مِنْهُمْ سَبْيًا كَثِيرًا قَسَّمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ فِيمَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مِنَ النِّسَاءِ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدَةُ قَوْمِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: 'Asim ibn 'Umar ibn Qatada, 'Abdullah ibn Abi Bakr, and Muhammad ibn Yahya ibn Hibban each narrated to me part of the hadith of Banu al-Mustaliq. He said: It reached the Messenger of Allah ﷺ that Banu al-Mustaliq were gathering against him, led by al-Harith ibn Abi Dirar, father of Juwayriya bint al-Harith, wife of the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ heard of them, he went out to them until he met them at a water of theirs called al-Muraysi', toward Qudayd by the coast. The people advanced and fought. Allah routed Banu al-Mustaliq; al-Harith ibn Abi Dirar, father of Juwayriya, was killed, those of them killed were killed, and the Messenger of Allah ﷺ distributed their sons and women as spoils. The Messenger of Allah ﷺ took many captives from them that day and divided them among the Muslims. Among the women taken that day was Juwayriya bint Abi Dirar, the leading lady of her people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر بن قتادہ اور عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن یحیی بن حیان ‘ ان سب نے مجھے بنو مصطلق کے بارے میں حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ بنو مصطلق کو ان کا قائد حارث بن ابوضرار نبی اکرم ﷺ کے خلاف اکٹھا کر رہا ہے ‘ یہ صاحب نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے والد ہیں ‘ جب نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں اطلاع ملی ‘ تو آپ نکل کر ان لوگوں کی طرف گئے ‘ یہاں تک کہ ان کے پانی جس کا نام ’’ مریسیع ‘‘ ہے وہاں آپ ان لوگوں تک پہنچ گئے یہ ’’ قدید ‘‘ کے ایک کنارے پر ساحل کی طرف موجود جگہ ہے دونوں طرف سے لوگوں کا مقابلہ ہوا ‘ جنگ شروع ہوئی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے بنو مصطلق کو پسپا کر دیا اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد حارث بن ابوضرار قتل ہو گیا ‘ ان میں سے کئی لوگ قتل ہو گئے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو نبی اکرم ﷺ نے مال غنیمت میں شامل کر لیا ‘ نبی اکرم ﷺ کو ان کے علاقے سے بہت سے قیدی ملے ‘ جنہیں آپ نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا اس موقع پر جو خواتین قیدی ہوئی تھیں ، ان میں ایک سیدہ جویریہ بنت ابوضرار رضی اللہ عنہا تھیں ، جو اپنی قوم کی سردار تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10174

Majma al-Zawaid #10174

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَعْبَانَ سَنَةِ سِتٍّ، وَخَرَجَ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ بِعَائِشَةَ مَعَهُ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَخَرَجَ سَهْمُهَا، وَفِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ قَالَ فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: The expedition of Banu al-Mustaliq was in Sha'ban, year six. He went out in that expedition with 'A'isha with him — he cast lots among his wives and her lot came out. In that expedition the people of the slander said what they said, and Allah, Mighty and Majestic, sent down her vindication.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ بنو مصطلق ، شعبان کے مہینے میں سن چھ ہجری میں ہوا تھا ‘ اور اس غزوہ میں نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر گئے تھے ‘ آپ نے اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کی ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام نکلا تھا ‘ یہی وہ غزوہ ہے ‘ جس کے دوران جھوٹا الزام عائد کرنے والوں نے الزام عائد کیا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برات کے بارے میں حکم نازل کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10175

Majma al-Zawaid #10175

وَعَنْ شَبَّابٍ الْعُصْفُرِيِّ قَالَ: «سَنَةَ سِتٍّ مِنَ الْهِجْرَةِ كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَفِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ قَالَ فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، وَنَزَلَ فِيهَا الْقُرْآنُ: {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} [النور: 11] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ زَكَرِيَّا التَّسْتُرِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Shabab al-'Usfuri, may Allah be pleased with him, said: In the sixth year of the Hijra was the expedition of Banu al-Mustaliq. In this expedition the people of the slander said what they said, and concerning it the Qur'an came down: Indeed, those who brought the slander are a band among you — the verse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شباب عصفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہجرت کے چھٹے سال ، غزوہ بنو مصطلق ہوا تھا ‘ اور اس غزوہ کے دوران جھوٹا الزام عائد کرنے والوں نے الزام عائد کیا تھا ‘ اور اس بارے میں قرآن کا یہ حکم نازل ہوا تھا : ’’ بیشک وہ لوگ ‘ جنہوں نے چھوٹا الزام لگایا ‘ جو تم میں سے ایک گروہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد موسیٰ بن زکریا تستری کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

10176

Majma al-Zawaid #10176

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «غَدَا عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَاقَهَا، قَالَ سَلَمَةُ: فَخَرَجْتُ بِقَوْسِي وَنَبْلِي - وَكُنْتُ أَرْمِي الصَّيْدَ - حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَظَرْتُ فَإِذَا هُمْ يَطْرُدُونَهَا، فَغَدَوْتُ فِي الْخَيْلِ فِي سِلْعٍ، ثُمَّ صِحْتُ: يَا صَبَاحَاهُ. فَانْتَهَى صِيَاحِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصِيحَ فِي النَّاسِ: الْفَزَعَ الْفَزَعَ، وَخَرَجْتُ أَرْمِيهِمْ، وَأَقُولُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ رَأَيْتُ خَيْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ تَخَلَّلُ الشَّجَرَ فَأَلْحَقَتْهُمْ ثَمَانِيَةُ فُرْسَانٍ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَحِقَهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَطَعَنَ رَجُلًا مَنْ بَنِي فَزَارَةَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدٌ، فَنَزَعَ بُرْدَهُ، فَجَلَّلَهُ إِيَّاهَا، ثُمَّ مَضَى فِي إِثْرِ الْعَدُوِّ مَعَ الْفُرْسَانِ. فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ فَزِعَ النَّاسُ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَبُو قَتَادَةَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيْسَ بِأَبِي قَتَادَةَ، وَلَكِنَّهُ قَتِيلُ أَبِي قَتَادَةَ، خَلُّوا عَنْهُ وَعَنْ سَلَبِهِ ""، وَقَالَ: "" أَمْعِنُوا فِي طَلَبِ الْقَوْمِ "". فَأَمْعَنُوا فَاسْتَنْقَذُوا مَا اسْتَنْقَذُوا مِنَ اللِّقَاحِ، وَذَهَبُوا بِمَا بَقِيَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ: وَفِي الْحَدِيثِ وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ - الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ اللِّقَاحِ -: عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، وَالْمِقْدَادُ [بْنُ عَمْرٍو] وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْأَسْوَدِ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، وَمَحْرِزُ بْنُ نَضْلَةَ الْأَسَدِيُّ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، قِيلَ: لَمْ يُقْتَلْ مِنَ الْقَوْمِ غَيْرُهُ. وَمِنَ الْأَنْصَارِ: سَعْدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيُّ وَهُوَ أَمِيرُ الْقَوْمِ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ الْأَشْهَلِيُّ، وَظُهَيْرُ بْنُ عَمْرٍو الْحَارِثِيُّ، وَأَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، وَمُعَاذُ بْنُ مَاعِصٍ الزُّرَقِيُّ. وَكَانَ أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ أَحَدَ النَّفَرِ الْخَمْسَةِ قَالَ: أَقْبَلْتُ عَلَى فَرَسٍ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَبَا عَيَّاشٍ، لَوْ أَعْطَيْتَ هَذَا الْفَرَسَ مَنْ هُوَ أَفَرَسُ مِنْكَ "" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا أَفْرَسُ الْعَرَبِ، فَمَا جَرَى الْفَرَسُ خَمْسِينَ ذِرَاعًا طَرَحَنِي، وَكَسَرَ رِجْلِي، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَحَمَلْتُ عَلَى فَرَسِي ابْنَ عَمِّي مُعَاذَ بْنَ مَاعِصٍ الزُّرَقِيَّ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn al-Akwa', may Allah be pleased with him, said: 'Uyayna ibn Hisn ibn Hudhayfa raided the milch camels of the Messenger of Allah ﷺ in the morning and drove them off. Salama said: I went out with my bow and arrows — I used to hunt — until at Thaniyyat al-Wada' I saw them driving them. I hastened among the horses at Sila', then shouted: O morning raid! My cry reached the Messenger of Allah ﷺ, and it was announced among the people: Alarm, alarm! I went out shooting at them, saying: > **"Take it — I am Ibn al-Akwa'."** It was not long before I saw the horsemen of the Messenger of Allah ﷺ threading through the trees — eight horsemen caught up with them. The first to reach them was Abu Qatada ibn Rib'i. He stabbed a man of Banu Fazara called Sa'd, stripped his cloak, and wrapped him in it. Then he went on in pursuit of the enemy with the horsemen. The Messenger of Allah ﷺ passed while the people were alarmed, saying: Abu Qatada is slain. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is not Abu Qatada — rather, it is the slain of Abu Qatada. Leave him and his spoils. Press on in pursuit of the people."** So they pressed on and recovered what they recovered of the milch camels; the rest they carried off. Muhammad ibn Talha said: In the hadith he named those who went out seeking the camels: 'Ukkasha ibn Mihsan, al-Miqdad ibn 'Amr — called Ibn al-Aswad, ally of Banu Zuhra — and Mahraz ibn Nadla al-Asadi, ally of Banu 'Abd Shams; it is said none of the enemy was killed but him. And of the Ansar: Sa'd ibn Zayd al-Ashhali, their leader, 'Abbad ibn Bishr al-Ashhali, Zuhayr ibn 'Amr al-Harithi, Abu Qatada ibn Rib'i, and Mu'adh ibn Ma'is al-Zuraqi. Abu 'Ayyash al-Zuraqi was one of the five. He said: I came forward on a horse of mine, and the Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Abu 'Ayyash, if only you gave this horse to one more skilled at horsemanship than you."** He said: I said: I am the most skilled horseman of the Arabs. The horse had not gone fifty cubits before it threw me and broke my leg. So I said: Allah and His Messenger spoke the truth. Then I mounted my cousin Mu'adh ibn Ma'is al-Zuraqi upon my horse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیدینہ بن حصن بن حذیفہ نے ‘ نبی اکرم ﷺ کی اونٹنیوں پر حملہ کیا اور انہیں ہانک کر لے گیا ، حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنی کمان اور اپنے نیزے کو لے کر نکلا ‘ میں شکار کے لئے جانا چاہ رہا تھا ۔ جب میں ’’ ثنیۃ الوداع ‘‘ کے مقام پر پہنچا ‘ تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگ وہاں سے انہیں لے کر جا رہے تھے ‘ تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر ’’ سلع ‘‘ پہاڑ پر چڑھا اور میں نے بلند آواز میں پکارا : خطرہ سے ‘ میری پکار نبی اکرم ﷺ تک پہنچ گئی ، لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دیا گیا کہ خطرے کی بات ہے ‘ خطرے کی بات ہے ‘ میں نکلا اور ان لوگوں کو تیر مارنے لگا ‘ میں یہ کہہ رہا تھا : اسے سنبھالو میں ابن اکوع ہوں ‘ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ‘ میں نے درختوں کے درمیان میں سے نبی اکرم ﷺ کے شہسواروں کو آتے ہوئے دیکھا آٹھ گھڑ سوار ان تک پہنچ گئے ‘ ان تک پہنچنے والوں میں سب سے پہلے حضرت ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والے سعد نامی ایک شخص کو زخمی کیا ‘ انہوں نے اس کی چادر اتاری اور وہ اس پر ڈال دی ، پھر وہ دیگر شہسواروں کے ساتھ دشمن کے پیچھے چلے گئے ۔ نبی اکرم ﷺ گزرے لوگ پریشان تھے اور یہ کہہ رہے تھے : ابوقتادہ قتل ہو چکا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ابوقتادہ نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ابوقتادہ کے ہاتھوں مرنے والا شخص ہے ‘ تم اسے اور اس کے سامان کو چھوڑ دو ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : دشمن کا پیچھا جلدی سے کرو ‘ لوگوں نے تیزی سے ایسا کیا اور جو اونٹنیاں بچ گئی تھیں ‘ انہیں لے لیا اور جو باقی تھیں دشمن انہیں لے گیا ۔ محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں : روایت میں انہوں نے ان لوگوں کے نام بیان کیے ہیں ‘ جو اونٹنیوں کے پیچھے گئے تھے ۔ وہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں ابن اسود کہا جاتا ہے ‘ اور یہ بنوزہرہ کے حلیف ہیں ، حضرت محرز بن نضلہ اسدی ہیں ‘ جو بنو عبد شمس کے حلیف ہیں ۔ ایک قول کے مطابق ان لوگوں میں سے ان کے علاوہ اور کسی نے قتل نہیں کیا انصار سے تعلق رکھنے والے حضرت سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ ہیں ‘ جو ان لوگوں کے امیر تھے ۔ حضرت عباد بن بشر اشہلی رضی اللہ عنہ حضرت ظہیر بن عمرو حارثی رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت معاذ بن ماعص زرقی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ ان پانچ افراد میں ایک تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کے آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوعیاش ! اگر تم اپنا یہ گھوڑا اس شخص کو دے دو جو تم سے زیادہ اچھا شہسوار ہو ‘ تو یہ مناسب ہو گا میں نے عرض کی : میں عربوں کا سب سے بہتر شہسوار ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی میرا گھوڑا پانچ ذراع تک گیا تھا کہ اس نے مجھے گرا دیا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی ‘ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ‘ پھر میں نے اپنا گھوڑا اپنے چچازاد معاذ بن ماعص زرقی کو دے دیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10177

Majma al-Zawaid #10177

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بَعَسَفَانَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ عُيُونَ الْمُشْرِكِينَ الْآنَ عَلَى ضَجْنَانَ، فَأَيُّكُمْ يَعْرِفُ طَرِيقَ ذَاتِ الْحَنْظَلِ؟ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَمْسَى: "" هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَنْزِلُ فَيَسْعَى بَيْنَ يَدَيِ الرِّكَابِ؟ "" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَزَلْتُ، فَجَعَلَتِ الْحِجَارَةُ تَنْكُبُهُ، وَالشَّجَرُ يَتَعَلَّقُ بِثِيَابِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْكَبْ "" ثُمَّ نَزَلَ آخَرُ، فَجَعَلَتِ الْحِجَارَةُ [تَنْكُبُهُ] وَالشَّجَرُ يَتَعَلَّقُ بِثِيَابِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْكَبْ "". ثُمَّ وَقَعْنَا عَلَى الطَّرِيقِ حَتَّى سِرْنَا فِي ثَنِيَّةٍ، يُقَالُ لَهَا: الْحَنْظَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا مَثَلُ هَذِهِ الثَّلَاثَةِ إِلَّا كَمَثَلِ الْبَابِ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ { .. ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ .. } [البقرة: 58] لَا يَجُوزُ أَحَدٌ اللَّيْلَةَ هَذِهِ الثَّنِيَّةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ "". فَجَعَلَ النَّاسُ يُسْرِعُونَ وَيَجُوزُونَ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ جَازَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يُرْكِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَلَاحَقْنَا قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلْنَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri, may Allah be pleased with him, said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ until at 'Usfan the Messenger of Allah ﷺ said to us: > **"The eyes of the polytheists are now upon Dajnan. Which of you knows the road of Dhat al-Hanzal?"** When evening came the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Is there a man to dismount and run before the mounts?"** A man said: I, O Messenger of Allah. So I dismounted; stones struck his feet and trees caught his clothes. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Mount."** Then another dismounted; stones struck him and trees caught his clothes. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Mount."** Then we found the road and marched through a pass called al-Hanzal. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The likeness of this pass is but the likeness of the gate through which the Children of Israel entered — Enter the gate prostrating and say: Hittah; We shall forgive you your sins — none passes this pass tonight but that he is forgiven."** So the people hastened and passed through, the last to pass being Qatada ibn al-Nu'man at the rear of the people. He said: The people mounted one another in turn until we caught up together. He said: Then the Messenger of Allah ﷺ alighted, and we alighted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ نکلے ‘ جب ہم ’’ عسفان ‘‘ کے مقام پر پہنچے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مشرکین کے جاسوس ‘ اس وقت ’’ ضجنان ‘‘ کے مقام پر ہیں ‘ تو تم میں سے کون شخص ’’ حنظل ‘‘ والے راستے سے واقف ہے ؟ شام کے وقت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی شخص اتر کر سواروں کے آگے آگے دوڑے گا ‘ تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ‘ وہ صاحب نیچے اترے تو ان کے راستے میں پتھر آئے ‘ جو ان کو چبھ رہے تھے اور درخت آئے جو ان کے کپڑوں سے چمٹ رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ایک اور صاحب اترے ‘ تو پتھر انہیں بھی چبھنے لگے اور درخت ان کے کپڑوں کے ساتھ بھی الجھنے لگے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ہم ایک ایسے راستے پر آئے ‘ یہاں تک کہ ہم ایک گھاٹی پر آ گئے ‘ جس کا نام ’’ حنظل ‘‘ تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس گھاٹی کی مثال اُس دروازے کی مانند ہے ‘ جس میں بنی اسرائیل داخل ہوئے تھے ‘ جب اُن سے یہ کہا گیا : تم اس دروازے سے سجدے کی حالت میں داخل ہو ‘ اور تم لفظ ’’ حطۃ ‘‘ کہو ‘ ہم تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دیں گے ‘ آج رات جو شخص بھی اس گھاٹی سے گزرے گا ‘ اس کی مغفرت ہو جائے گی ‘ تو لوگ تیزی سے چل کر اُس کو پار کرنے لگے ‘ اس میں سے گزرنے والے آخری فرد حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے ‘ جو لوگوں میں سب سے پیچھے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگ ایک دوسرے کو سوار کروانے لگے ‘ یہاں تک کہ ہم ایک دوسرے سے مل گئے ‘ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے پڑاؤ کیا ‘ تو ہم نے بھی پڑاؤ کر لیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10178

Majma al-Zawaid #10178

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ نَاجِيَةَ أَوْ نَاجِيَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: «لَمَّا كُنَّا بِالْغَمِيمِ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرَ قُرَيْشٍ ; أَنَّهَا بَعَثَتْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي جَرِيدَةِ خَيْلٍ تَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَلْقَاهُمْ، وَكَانَ بِهِمْ رَحِيمًا. فَقَالَ: "" مَنْ رَجُلٌ يَعْدِلُنَا عَنِ الطَّرِيقِ؟ "" فَقُلْتُ: أَنَا بِأَبِي أَنْتَ، فَأَخَذْتُ بِهِمْ فِي طَرِيقٍ قَدْ كَانَ بِهَا حَزْنُ فَدَافِدَ وَعُقَابٍ، فَاسْتَوَتْ بِنَا الْأَرْضُ حَتَّى أَنْزَلَهُ عَلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ نَزَحٌ. فَأَلْقَى سَهْمًا أَوْ سَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ بَصَقَ فِيهَا، ثُمَّ دَعَا فَفَارَتْ عُيُونًا حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَوْ نَقُولُ: لَوْ شِئْنَا لَاغْتَرَفْنَا بِأَيْدِينَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jundub ibn Najiya — or Najiya ibn Jundub — may Allah be pleased with him, said: When we were at al-Ghamim, the Messenger of Allah ﷺ received news of Quraysh: they had sent Khalid ibn al-Walid with a squadron of cavalry to meet him. The Messenger of Allah ﷺ disliked meeting them, and was merciful toward them. So he said: > **"Is there a man to turn us aside from the road?"** I said: I, may my father be for you. So I took them by a road of rugged hollows and defiles until the land leveled with us and he alighted them at al-Hudaybiyya — a well nearly dry. He cast an arrow or two from his quiver, spat into it, then supplicated, and springs gushed forth — I say, or we say: had we wished, we could have scooped with our hands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن ناجیہ رضی اللہ عنہ ‘ راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : حضرت ناجیہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم ’’ غمیم ‘‘ کے مقام پر موجود تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ کو قریش کے بارے میں یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے کچھ گھڑ سواروں کے ساتھ خالد بن ولید کو بھیجا ہے ‘ تاکہ وہ نبی اکرم ﷺ کا مقابلہ کریں ، نبی اکرم ﷺ کو ان سے مقابلہ کرنا پسند نہیں تھا ، کیونکہ آپ ان کے بارے میں مہربان تھے ‘ آپ نے فرمایا : کیا کوئی شخص ہمیں راستے سے ہٹا کر لے کے چل سکتا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ‘ میں ایسا کرتا ہوں ، پھر میں اُن حضرات کو ایک اور راستے سے لے گیا ‘ جو دشوار گزار تھا ‘ اور وہاں گھاٹیاں تھیں ‘ یہاں تک کہ ہم جب ہموار زمین کے پاس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ’’ حدیبیہ ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا ‘ وہ ایک کنواں تھا جو خشک ہو چکا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ترکش میں سے ایک یا دو تیر نکالے ‘ آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈالا ‘ پھر آپ نے دعا کی ‘ تو اس میں سے چشمے جاری ہو گئے ‘ یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ہم چاہیں ‘ تو ہاتھ کے ذریعے اُس میں سے پانی لے سکتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10179

Majma al-Zawaid #10179

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ «أَنَّ الَّذِي نَزَلَ فِي الْقَلِيبِ بِسَهْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ نَاجِيَةُ بْنُ جُنْدُبِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَازِمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ سَهْمِ بْنِ مَازِنِ بْنِ سَلَامَانَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ أَفْصَى بْنِ حَارِثَةَ، وَهُوَ سَائِقُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ishaq said: The one who descended into the well with the arrow of the Messenger of Allah ﷺ on the day of al-Hudaybiyya was Najiya ibn Jundub ibn 'Umayr ibn Ma'mar ibn Hazim ibn 'Amr ibn Wathila ibn Sahm ibn Mazin ibn Salaman ibn Aslam ibn Afsa ibn Haritha — driver of the sacrificial camels of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن ‘ جو صاحب نبی اکرم ﷺ کا تیر لے کر گڑھے میں اُترے تھے ‘ وہ حضرت ناجیہ بن جندب بن عمیر بن معمر بن حازم بن عمرو بن واثلہ بن سہم بن مازن بن سلامان بن اسلم بن افصیٰ بن حارثہ تھے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے اونٹوں کو ہانک کر لے کر چلتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10180

Majma al-Zawaid #10180

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: "" لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ ""، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ: "" أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا، فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported: On the day of al-Hudaybiyah the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbade lighting fires at night for concealment. Afterwards he permitted it, saying none after them would attain their measure in virtue and precedence. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do not light a fire at night."** He (peace and blessings of Allah be upon him) later said: > **"Light fires and prepare what you need, for no people after you will reach your sa' nor your mudd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ حدیبیہ کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ رات کے وقت آگ نہ جلانا ‘ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ آگ جلاؤ اور جو چاہو کرو ‘ کیونکہ تمہارے بعد کوئی قوم ( یا دشمن ) تمہارے صاع اور تمہارے مد تک نہیں پہنچ سکے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10181

Majma al-Zawaid #10181

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ «أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الشَّجَرَةِ، وَيَوْمَ الْهَدْيِ مَعْكُوفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا يَحْمِلُكَ عَلَى أَنْ تُدْخِلَ هَؤُلَاءِ عَلَيْنَا، وَنَحْنُ كَارِهُونَ؟ قَالَ: "" هَؤُلَاءِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَجْدَادِكَ، يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Malik, from his father (may Allah be pleased with him), reported: He was present with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) on the Day of the Tree and on the day when the sacrificial animals were detained before reaching their place. A man from the polytheists said, "O Muhammad, what moves you to bring these people against us when we dislike it?" He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"These are better than you and your forefathers. They believe in Allah and the Last Day. By Him in Whose Hand is my soul, Allah is indeed pleased with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن مالک نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ درخت والے دن ( یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر ) اور ہدی والے دن ‘ جب وہ اپنے مقام تک پہنچنے سے پہلے روک دی گئی تھیں ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے ‘ مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! آپ کو کس چیز نے اس بات کی ترغیب دی کہ آپ ان لوگوں کو ہم پر لے آئیں ، جبکہ ہم اسے ناپسند کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ لوگ تم سے اور تمہارے باپ دادا سے زیادہ بہتر ہیں ‘ یہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔

10182

Majma al-Zawaid #10182

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ يَقَعُ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: "" اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "". فَأَخَذَ سُهَيْلٌ بِيَدِهِ، فَقَالَ: مَا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ، اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ، فَقَالَ: "" اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ "" فَكَتَبَ "". هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَهْلَ مَكَّةَ "" فَأَمْسَكَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو بِيَدِهِ فَقَالَ: لَقَدْ ظَلَمْنَاكَ إِنْ كُنْتَ رَسُولَهُ، اكْتُبْ فِي قَضِيَّتِنَا مَا نَعْرِفُ قَالَ: "" اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ "" فَكَتَبَ. فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ، فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ فَقُمْنَا إِلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ؟ أَوْ هَلْ جَعَلَ لَكُمْ [أَحَدٌ] أَمَانًا؟ ""، قَالُوا: لَا، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا} [الفتح: 24]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mughaffal al-Muzani (may Allah be pleased with him) reported: We were with the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) at al-Hudaybiyah beneath the tree mentioned in the Qur'an. Branches fell upon the back of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). 'Ali ibn Abi Talib (may Allah honor him) and Suhayl ibn 'Amr sat before him for the treaty. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Write: In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate."** Suhayl seized his hand and said, "We do not know al-Rahman al-Rahim. Write as we know." So he said: > **"Write: In Thy Name, O Allah."** Then he dictated, "This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has made peace upon with the people of Makkah." Suhayl seized his hand and said, "If you were His Messenger we would not have wronged you. Write as we know." So he said: > **"Write: This is what Muhammad ibn 'Abdullah ibn 'Abd al-Muttalib has made peace upon, and I am the Messenger of Allah."** While thus engaged, thirty armed youths came upon them. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) supplicated against them, Allah took away their sight, and the Companions seized them. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Did you come under the covenant of anyone? Did anyone grant you safe-conduct?"** They said, "No." So he released them. Then Allah revealed: "And He it is Who withheld their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah, after He had made you victorious over them, and Allah sees what you do" [al-Fath 24].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم حدیبیہ میں ایک درخت کی جڑ کے پاس نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے یہ وہ موقع ہے ‘ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے ‘ درخت کی شاخیں نبی اکرم ﷺ کی پشت پر آ رہی تھیں ‘ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ( مشرکین کا نمائندہ ) سہیل بن عمرو ‘ نبی اکرم ﷺ کے سامنے موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم یہ لکھو ! اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ‘ تو سہیل نے ‘ نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا : ہمیں لفظ ’’ رحمان ‘‘ اور ’’ رحیم ‘‘ کا پتہ نہیں ہے ‘ آپ ہمارے معروف طریقے کے مطابق تحریر کروائیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لکھو :’’ اے اللہ تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ لکھ دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لکھو ! یہ وہ معاہدہ ہے ‘ جو اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ اہل مکہ کے ساتھ کر رہے ہیں ، تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : ہم آپ کے ساتھ زیادتی کریں گے کہ اگر آپ اس کے رسول ہوں ، آپ ہمارے معروف طریقے کے مطابق لکھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے ‘ جو محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کر رہے ہیں ‘ ویسے میں اللہ کا رسول بھی ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا ‘ ابھی یہ حضرات یہاں موجود تھے کہ اسی دوران چالیس نوجوان نکل کر ہمارے پاس آ گئے ‘ ان کے پاس ہتھیار موجود تھے ‘ وہ ہمارے سامنے آ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان کے خلاف دعا کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی گرفت میں لے لی ‘ ہم اُٹھ کر ان کے پاس گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو ؟ کیا کسی نے تمہارے لئے امان دی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ وہی وہ ذات ہے جس نے مکہ کے قریب ( حدیبیہ میں ) ان ( کفار مکہ ) کے ہاتھ ‘ تم سے ‘ اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے ‘ اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ عطا کر دیا تھا ‘ اور تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10183

Majma al-Zawaid #10183

وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - أَنَّهُ قَالَ: «اتَّهِمُوا الرَّأْيَ عَلَى الدِّينِ - فَذَكَرَ الْحُدَيْبِيَةَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْتُبُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَالَ: "" اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ "" فَقَالُوا: لَوْ نَرَى ذَلِكَ صَدَّقْنَا، وَلَكِنِ اكْتُبْ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ قَالَ: فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَيْتُ، حَتَّى قَالَ لِي:: يَا عُمَرُ، تَرَانِي قَدْ رَضِيتُ وَتَأْبَى؟ "" قَالَ: فَرَضِيتُ». قُلْتُ: حَدِيثُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: Suspect personal opinion against the religion. Then he recalled al-Hudaybiyah: the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was writing between himself and the people of Makkah. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Write: In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate."** They said, "If we regarded that as true we would have believed. But write as you used to write: In Thy Name, O Allah." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) accepted it, but I refused, until he said to me: > **"O 'Umar, do you see that I am satisfied while you refuse?"** 'Umar said, "So I became satisfied."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : دین کے بارے میں اپنی رائے کو غلط قرار دو ! پھر انہوں نے غزوہ حدیبیہ کے متعلق پوری حدیث ذکر کی ‘ جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ’’ جب نبی اکرم ﷺ نے اپنے اور اہل مکہ کے درمیان معاہدہ تحریر کروایا ‘ تو آپ نے یہ فرمایا : تم یہ لکھو : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ جو بڑا مہربان ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ تو کفار نے یہ کہا : اگر ہم اس بات کو ٹھیک سمجھتے ہوتے تو ہم اس کی تصدیق کر دیتے ، لیکن آپ اس طرح لکھیں ، جس طرح پہلے لکھا جاتا تھا : اے اللہ ! تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے تو نبی اکرم ﷺ اس بات سے راضی ہو گئے ‘ اور میں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عمر ! تم مجھے دیکھ رہے ہو کہ میں راضی ہو چکا ہوں ‘ اور تم پھر بھی انکار کر رہے ہو ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں راضی ہو گیا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10184

Majma al-Zawaid #10184

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ النَّاسَ لِلْبَيْعَةِ، فَقَامَ أَبُو سِنَانِ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبَايِعُكَ عَلَى مَا فِي نَفْسِكَ قَالَ: "" وَمَا فِي نَفْسِكَ؟ "" قَالَ: أَضْرِبُ بِسَيْفِي بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى يُظْهِرَكَ اللَّهُ أَوْ أُقْتَلَ، فَبَايَعَهُ، وَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى بَيْعَةِ أَبِي سِنَانٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Umar (may Allah be pleased with them both) reported: On the day of al-Hudaybiyah the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) called the people to the pledge. Abu Sinan ibn Mihsan stood and said, "O Messenger of Allah, I pledge to you upon what is in your heart." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"And what is in your heart?"** He said, "That I strike with my sword before you until Allah grants you victory or I am killed." So he pledged to him upon that, and the people pledged following the pledge of Abu Sinan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلوایا ‘ تو ابوسنان بن محصن کھڑے ہوئے ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس چیز پر آپ کی بیعت کروں گا ‘ جو میرے من میں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے من میں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ کہ میں اپنے تلوار کے ذریعے آپ کے سامنے لڑائی کرتا رہوں ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے ‘ یا میں شہید ہو جاؤں ‘ تو انہوں نے اس بات پر نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی اور لوگوں نے بھی حضرت ابوسنان رضی اللہ عنہ کی بیعت کے مطابق بیعت کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

10185

Majma al-Zawaid #10185

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: «قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَشَهِدْتَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: فَمَا كَانَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قَمِيصٌ مِنْ قُطْنٍ، وَجُبَّةٌ مَحْشُوَّةٌ، وَرِدَاءٌ، وَسَيْفٌ، وَرَأَيْتُ النُّعْمَانَ بْنَ مُقْرِنٍ الْمُزَنِيَّ قَائِمًا عَلَى رَأْسِهِ، وَقَدْ رَفَعَ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ رَأْسِهِ يُبَايِعُونَهُ». قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Ata' ibn Abi Rabah reported: I asked Ibn 'Umar (may Allah be pleased with them both), "Did you witness the Pledge of Ridwan with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him)?" He said, "Yes." I asked, "What was he wearing?" He said, "A cotton shirt, a stuffed cloak, a mantle, and a sword. And I saw al-Nu'man ibn Muqrin al-Muzani standing at his head, lifting the branches of the tree from above his head while the people pledged to him."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اُس وقت نبی اکرم ﷺ نے کیا پہنا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا : اون کی بنی ہوئی قمیص تھی اور ایک بھرا ہوا جبہ تھا ‘ ایک چادر تھی اور ایک تلوار تھی ۔ میں نے حضرت نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر سے درخت کی شاخیں اُٹھا رہے تھے اور نبی اکرم ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ‘ ایک حدیث غزوہ حدیبیہ کے بارے میں منقول ہے ‘ لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحییٰ بن عبداللہ تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10186

Majma al-Zawaid #10186

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: إِنِّي لَمِنْ أَحَدِ الرَّهْطِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ} [التوبة: 92] قَالَ: إِنِّي لَآخُذُ بِبَعْضِ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ تَحْتَهَا أُظِلُّهُ، قَالَ: فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ بْنَ أَنَسٍ قَالَ: عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَوْ عَنْ غَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mughaffal (may Allah be pleased with him) reported: I am one of the group whom Allah, Exalted is His praise, mentioned: "I find not whereon to mount you" [al-Tawbah 92]. I was holding some branches of the tree under which the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) took the pledge from the people, shading him. We pledged to him that we would not flee.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اُن افراد میں سے ایک تھا ، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ( اس آیت میں ) کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ میں تمہیں سواری کے لیے ‘ دینے کے لیے ( اضافی جانور ) نہیں پاتا ہوں ‘‘ انہوں نے بتایا : میں اُس درخت شاخیں پکڑے ہوئے تھا ، جس کے نیچے نبی اکرم ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے میں آپ پر سایہ کیے ہوئے تھے ‘ راوی کہتے ہیں : ہم نے آپ کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند عمدہ ہے ‘ البتہ ربیع بن انس نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ ابوالعالیہ کے حوالے سے ‘ یا اُس کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے منقول ہے ۔

10187

Majma al-Zawaid #10187

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حِينَ أَخْبَرَهُ عُثْمَانُ أَنَّ سُهَيْلًا أَرْسَلَهُ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ هَذَا الْعَامَ، وَيُخَلُّوهَا قَابِلًا ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سُهَيْلٌ سَهُلَ عَلَيْكُمُ الْأَمْرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُؤَمِّلُ بْنُ وَهْبٍ الْمَخْزُومِيُّ، تَفَرَّدَ عَنْهُ ابْنَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn al-Sa'ib (may Allah be pleased with him) reported: In the year of al-Hudaybiyah, when 'Uthman informed the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that Suhayl had been sent to him by his people to make peace that he return from them that year and they would leave it for him the next year for three days, the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Suhayl - the matter is made easy for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حدیبیہ کے سال ‘ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ سہیل کو اس کی قوم نے نبی اکرم ﷺ کی طرف بھیجا ہے ‘ تاکہ وہ آپ کے ساتھ یہ طے کر لیں کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آپ آ سکیں گے ‘ تو آپ نے فرمایا : سہیل ( آنے لگا ) ہے ‘ اب معاملہ تمہارے لئے سہل ( یعنی آسمان ) ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن وہب مخزومی ہے ‘ اس کا بیٹا عبداللہ اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ‘ اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10188

Majma al-Zawaid #10188

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ سِنِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar (may Allah be pleased with them both) reported: The truce between the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and the people of Makkah at al-Hudaybiyah was for four years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : حدیبیہ کے مقام پر ‘ نبی اکرم ﷺ اور اہل مکہ کے درمیان چار سال کا ‘ معاہدہ ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10189

Majma al-Zawaid #10189

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُمْرَةَ الْقَضَاءِ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: "" اكْشِفُوا عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَاسْعَوْا فِي الطَّوَافِ "" لِيَرَى الْمُشْرِكِينَ جَلْدَهُمْ وَقُوَّتَهُمْ، وَكَانَ يَكِيدُهُمْ لِكُلِّ مَا اسْتَطَاعَ، فَانْكَفَأَ أَهْلُ مَكَّةَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَرْتَجِزُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ، يَقُولُ. خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... أَنَا الشَّهِيدُ أَنَّهُ رَسُولُهُ قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ... فِي صُحُفٍ تُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ... كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْظًا وَحَنَقًا وَنَفَاسَةً وَحَسَدًا، خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُسُكَهُ وَأَقَامَ ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ordered 'Umrat al-Qada', he commanded his Companions: > **"Uncover your shoulders and hasten in the circumambulation."** He intended that the polytheists see their strength and vigor. The men, women, and children of Makkah gathered to look at the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and his Companions while they circumambulated the House. 'Abdullah ibn Rawahah walked before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), his sword slung over him, reciting: "Clear the way, O sons of disbelievers, from his path. I bear witness that he is His Messenger. The Most Merciful has sent down in His revelation, in scriptures recited upon His Messenger: today we shall strike you for its interpretation as we struck you for its revelation, a blow that removes heads from their resting place and makes the beloved forget his beloved." Some nobles of the polytheists absented themselves, unwilling out of rage, spite, and envy to look at the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), and went to the outskirts of Makkah. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) completed his rites and remained three days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے عمرہ قضاء کا حکم دیا ‘ تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اپنے کندھوں سے کپڑا ہٹا لو ‘ اور طواف کرتے ہوئے دوڑ کے چلو ۔ نبی اکرم ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین کو ان لوگوں کی قوت اور طاقت دکھائیں اور جہاں تک ہو سکے آپ ان کے لئے تدبیر کریں ‘ تو اہل مکہ کے مرد ‘ خواتین اور بچے اکٹھے ہوئے اور وہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو دیکھنے لگے ‘ جب یہ لوگ بیت اللہ کا طوف کر رہے تھے ‘ اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اکرم ﷺ کے آگے تلوار گلے میں لٹکا کر یہ رجز پڑھ رہے تھے : ’’ اے کفار کی اولاد ! ان ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کا راستہ چھوڑ دو ‘ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کے رسول ہیں ، رحمن نے اپنے نازل کردہ کلام میں یہ بات نازل کی ہے جو ( رحمن کا کلام ) صحیفوں میں ہے ‘ جو اس کے رسول پر تلاوت کیا گیا ‘ تو آج ہم اس ( قرآن ) کے حکم کی بنیاد پر تم پر ضرب لگائیں گے ‘ جس طرح پہلے ہم نے اس کے نزول کی بنیاد پر تم پر ضرب لگائی تھی ‘ ایسی ضرب جو سر کو تن سے جدا کر دے گی ‘ اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی ‘‘۔ مشرکین کے کچھ معززین وہاں موجود نہیں تھے ‘ وہ اپنے غصے ‘ حسد ‘ خود پسندی کی وجہ سے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ کو دیکھیں ‘ وہ مکہ کے نواحی علاقوں کی طرف چلے گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے مناسک ادا کیے اور تین دن وہاں مقیم رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10190

Majma al-Zawaid #10190

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الطُّفَيْلِ إِلَى خَيْبَرَ يَسْتَمِدُّ لَهُ قَوْمَهُ فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو، انْطَلِقْ فَاسْتَمِدَّ لَنَا قَوْمَكَ ""، قَالَ عَمْرٌو: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْسَلْتَنِي وَقَدْ نَشَبَ الْقِتَالُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent 'Amr ibn al-Tufayl to Khaybar to seek reinforcements from his people. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"O 'Amr, go and seek reinforcements for us from your people."** 'Amr said, "O Messenger of Allah, you send me when fighting has already broken out?" The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Are you not pleased to be the messenger of the Messenger of Allah?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عمرو بن طفیل کو خیبر کی طرف بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے لئے اپنی قوم سے کمک طلب کرے آپ نے فرمایا : اے عمرو ! تم جاؤ ‘ اور اپنی قوم سے ہمارے لئے کمک طلب کرو ۔ عمرو نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں ، جبکہ جنگ کا وقت قریب آ چکا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اللہ کے رسول کے پیغام رساں بن جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10191

Majma al-Zawaid #10191

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَجَهَّزُوا إِلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا - يَعْنِي: خَيْبَرَ - فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاتِحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَلَا يَخُرُجَنَّ مَعِي مُصَعِّبٌ وَلَا مُضَعِّفٌ "". فَانْطَلَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَ: جَهِّزِينِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَنَا بِالْجِهَازِ لِلْغَزْوِ، قَالَتْ: تَنْطَلِقُ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَدْخُلُ [الْمَرْفَقَ] إِلَّا وَأَنْتَ مَعِي، قَالَ: مَا كُنْتُ لِأَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا فَنَاشَدَتْهُ بِمَا رَضَعَ مِنْ لَبَنِهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرًّا، فَقَالَ: "" انْطَلِقِي قَدْ كُفِيتِ "". فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى إِعْرَاضَكَ عَنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِشَيْءٍ بَلَغَكَ، قَالَ: "" أَنْتَ الَّذِي نَاشَدَتْكَ أُمُّكَ، وَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا تُنَاشِدُكَ بِمَا رَضَعْتَ مِنْ لَبَنِهَا، أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟! بَلْ هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا بَرَّهُمَا وَأَدَّى حَقَّهُمَا "". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقَدْ مَكَثَتْ بَعْدَ هَذَا سِنِينَ مَا أَغْزُو حَتَّى مَاتَتْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَسَارَ مَعَهُ فَتًى مَنْ بَنَى عَامِرٍ عَلَى بِكْرٍ لَهُ صَعْبٍ، فَجَعَلَ يَسِيرُ فِي نَاحِيَةِ الطَّرِيقِ وَالنَّاسِ، فَوَقَعَ بَعِيرُهُ فِي حُفَيْرَةٍ فَصَاحَ: يَا آلَ عَامِرٍ، فَارْتَعَصَ هُوَ وَبَعِيرُهُ، فَجَاءَ قَوْمُهُ فَاحْتَمَلُوهُ. وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى خَيْبَرَ فَنَزَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَا الطُّفَيْلَ بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ، فَقَالَ: "" انْطَلِقْ إِلَى قَوْمِكَ وَاسْتَمِدَّهُمْ عَلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَفْتَحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". فَقَالَ الطُّفَيْلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُبْعِدُنِي مِنْكَ! فَوَاللَّهِ لَأَنْ أَمُوتَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مِنْكَ قَرِيبٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْحَيَاةِ وَأَنَا مِنْكَ بَعِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُ لَا بُدَّ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ فَانْطَلِقْ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَعَلِّي لَا أَلْقَاكَ فَزَوِّدْنِي شَيْئًا أَعِيشُ بِهِ، قَالَ: "" أَتَمْلِكُ لِسَانَكَ؟ "". قَالَ: فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي؟! قَالَ: "" أَتَمْلِكُ يَدَكَ؟ "". قَالَ: فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟! قَالَ: "" فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ "". قَالَ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ: وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ بِخَطِّهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفْشِ السَّلَامَ، وَابْذُلِ الطَّعَامَ، وَاسْتَحْيِ اللَّهَ كَمَا تَسْتَحِي رَجُلًا مِنْ رَهْطِكَ ذِي هَيْبَةٍ، وَلْيَحْسُنْ خُلُقُكَ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Prepare yourselves for this town whose people are unjust - meaning Khaybar - for Allah, Mighty and Majestic, will conquer it for you, if Allah wills. Let no one with a refractory mount or one who is weak go out with me."** Abu Hurayrah went to his mother and said, "Equip me, for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) has ordered us to prepare for the expedition." She said, "You go, though you know I admit none to help me except you with me?" He said, "I would never stay behind from the Messenger of Allah." She bared her breast and adjured him by the milk he had suckled. Then she went secretly to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Go, you have been sufficed."** Later Abu Hurayrah came and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) turned away from him. He said, "O Messenger of Allah, I see you turn away from me only for something that reached you." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"You are the one whom your mother adjured, baring her breast and adjuring you by what you suckled of her milk. Does one of you think that when he is with his parents, or one of them, that he is not in the path of Allah? Rather he is in the path of Allah when he treats them kindly and fulfills their right."** Abu Hurayrah said, "I remained years after this without raiding until she died." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) set out from Madinah. A youth of Banu 'Amir on a refractory young camel rode apart from the road. His camel fell into a hollow, he cried out, "O family of 'Amir," and he and his camel trembled. His people came and carried him. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) reached Khaybar he called al-Tufayl ibn al-Harith al-Khuza'i and said: > **"Go to your people and seek their aid against this town whose people are unjust, for Allah, Mighty and Majestic, will conquer it for you, if Allah wills."** Al-Tufayl said, "O Messenger of Allah, you distance me from you. By Allah, to die while near you is dearer to me than life while far from you." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"What must be must be, so go."** He said, "O Messenger of Allah, perhaps I shall not meet you again, so give me provision to live by." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do you control your tongue?"** He said, "What do I control if I do not control my tongue?" He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do you control your hand?"** He said, "What do I control if I do not control my hand?" He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Say nothing with your tongue except what is good, and stretch your hand only toward good. Spread peace, offer food, be shy before Allah as you are shy before a revered man of your kin. Let your character be good. When you do evil, do good after it, for good deeds remove evil deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بستی کے لئے تیاری کر لو ‘ جس کے رہنے والے ظالم ہیں نبی اکرم ﷺ کی مراد خیبر تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے چاہا ‘ تو وہ تمہارے لئے اس کو فتح کروا دے گا ‘ اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ نکلے ‘ جس کا سواری کا جانور دشوار ہو ( یعنی قابو میں نہ آتا ہو ) یا انتہائی کمزور ہو ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے پاس گئے ‘ اور بولے : مجھے سامان سفر فراہم کریں ‘ کیونکہ اللہ کے رسول نے جنگ کے لئے تیاری کا ہمیں حکم دے دیا ہے ‘ اس خاتون نے کہا : تم جا رہے ہو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ مجھے ہر معاملے میں تمہارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نبی اکرم ﷺ سے پیچھے نہیں رہ سکتا ، تو اس خاتون نے اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کر کے واسطہ دیا کہ انہوں نے اپنا دودھ جو انہیں پلایا ہے ( اس کے واسطے سے وہ رک جائیں ) پھر وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس چھپ کر آئیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چلی جاؤ ! تمہارا معاملہ حل ہو جائے ‘ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے ‘ یہ یقینا کسی ایسی وجہ سے ہوا ہو گا ‘ جس کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع پہنچی ہو گی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہی وہ شخص ہو ‘ جس کی ماں نے اسے اپنے دودھ کا واسطہ دیا تھا ( اور تم نے پھر بھی اس کی بات نہیں مانی ؟ ) کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب وہ اپنے ماں باپ کے پاس : اُن دونوں میں سے کسی ایک کے پاس ہوتا ہے ‘ تو وہ اللہ کی راہ میں نہیں ہوتا ؟ بلکہ وہ ( اس وقت ) اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جب وہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان دونوں کا حق ادا کرتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے بعد کئی سال تک رکا رہا ‘ میں نے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ‘ یہاں تک کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ سے نکلے ‘ آپ کے ساتھ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی روانہ ہوا ‘ ایک سخت نوجوان اونٹ پر سوار تھا ‘ وہ راستے میں ایک جگہ چل رہا تھا ‘ لوگ بھی جا رہے تھے اس کا اونٹ ایک گڑھے میں گر گیا ‘ نے پکارا : اے آل عامر ! تو وہ اور اس کا اونٹ کپکپا گئے ‘ پھر اس کی قوم کے افرادا سے اٹھا کر لے کے آئے ‘ نبی اکرم ﷺ روانہ ہو گئے ‘ یہاں تک کہ آپ خیبر آ گئے آپ نے وہاں پڑاؤ کیا ‘ آپ نے طفیل بن حارث خزاعی کو بلایا اور فرمایا : اپنی قوم کے پاس جاؤ ‘ اور اس بستی کے بارے میں کمک حاصل کرو ‘ جس کے رہنے والے ظالم ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاہا ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے عنقریب تمہارے لئے فتح کروا دے گا ‘ تو حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنے آپ سے دور کر رہے ہیں ۔ اللہ کی قسم ! جس دن میں آپ کے قریب ہوؤں ‘ اور اس دن میں مر جاؤں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ سے دور ہو کر زندہ رہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو چیز ضروری ہے ‘ تم جاؤ ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ پھر میری آپ سے ملاقات نہ ہو ‘ تو مجھے زاد راہ کے طور پر ایسی چیز عطا کر دیں ، جن کے ذریعے میں زندہ رہوں ( یعنی مجھے کوئی نصیحت کر دیں ) ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اپنی زبان کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان کا مالک نہیں ہوتا ‘ تو میں کس چیز کا مالک ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ کا مالک نہیں ہوؤں گا ‘ تو کس چیز کا مالک ہوؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ پھر تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا ‘ اور اپنا ہاتھ ‘ صرف بھلائی کی طرف بڑھانا ‘‘۔ ابن ابوکریمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے ابو عبدالرحیم نامی راوی کی تحریر میں ان کے خط میں یہ روایت پائی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سلام کو پھیلاؤ ‘ کھانا خرچ کرو ‘ اور اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ‘ جس طرح سے تم اپنے گروہ کے کسی باہیبت شخص سے حیاء کرتے ہو ‘ اور تمہارا اخلاق اچھا ہونا چاہیئے ‘ اور جب تم ( کوئی ) برائی کرو ‘ تو اچھائی بھی کر لو ‘ کیونکہ اچھائیاں ‘ برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10192

Majma al-Zawaid #10192

وَعَنْ حُسَيْلِ بْنِ خَارِجَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: «قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي جَلْبٍ أَبِيعُهُ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَجْعَلُ لَكَ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى أَنْ تَدُلَّ أَصْحَابِي عَلَى طَرِيقِ خَيْبَرَ "" فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَفَتَحَهَا، جِئْتُ فَأَعْطَانِي الْعِشْرِينَ ثُمَّ أَسْلَمْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Husayl ibn Kharijah al-Ashja'i (may Allah be pleased with him) reported: I came to Madinah with merchandise to sell. I was brought to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"I will give you twenty sa' of dates if you guide my Companions to the road to Khaybar."** I did so. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) reached Khaybar and conquered it, I came and he gave me the twenty. Then I embraced Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حسیل بن خارجہ اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کچھ سامان فروخت کرنے کے لئے مدینہ منورہ آیا ، مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں کھجور کے بیس صاع دوں گا ‘ اس شرط پر کہ تم میرے ساتھیوں کی خیبر کی طرف رہنمائی کرو ‘ میں نے ایسا ہی کیا ‘ جب نبی اکرم ﷺ خیبر آ گئے ‘ اور آپ نے اسے فتح کر لیا ‘ تو میں آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بیس صاع عطا کیے ‘ پھر میں نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

10193

Majma al-Zawaid #10193

وَعَنْ [نَصْرِ بْنِ] دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ «أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَهُوَ عَمُّ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ، وَكَانَ اسْمَ الْأَكْوَعِ سِنَانٌ: "" انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَخُذْ لَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ "". قَالَ: فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّا إِذَا قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا ... وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَرْحَمُكَ اللَّهُ ""، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِهِ، فَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ شَهِيدًا.» وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nasr ibn Dahr al-Aslami (may Allah be pleased with him) reported: He heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say on the march to Khaybar to 'Amir ibn al-Akwa', the uncle of Salamah ibn 'Amr ibn al-Akwa' - al-Akwa' being Sinan: > **"Dismount, O son of al-Akwa', and recite for us some of your verses."** He dismounted and recited for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him): "By Allah, were it not for Allah we would not have been guided, nor given charity, nor prayed. When a people transgress against us, and desire discord, we refuse. So send down tranquility upon us, and make firm our feet when we meet." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"May Allah have mercy on you."** 'Umar said, "It has become due, by Allah, O Messenger of Allah. Would that you had let us benefit from him." He was martyred on the day of Khaybar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نصر بن دہر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے ‘ خیبر کی طرف روانگی کے وقت ‘ نبی اکرم ﷺ کو حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا ‘ جو حضرت سلمہ بن عمرو بن اکوع رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں ، اکوع کا نام سنان تھا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) ’’ اے ابن اکوع ! تم نیچے اترو اور اپنے نغموں میں سے ہمیں حدی سناؤ ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : وہ نیچے اترے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے یہ رجز پڑھنا شروع کیا : ’’ اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ کی ذات نہ ہوتی تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ‘ ہم نے نہ تو صدقہ کرنا تھا اور نہ ہم نے نماز پڑھنی تھی ‘ ہماری یہ صورتحال ہے کہ دشمن ہمارے خلاف سرکشی پر آمادہ ہے وہ آزمائش ( یعنی جنگ ) کا ارادہ رکھتا ہے اور ہم یہ نہیں چاہتے ( اے ہمارے پروردگار ! ) تو ہم پر سکینت نازل کرنا ‘ اور ہمیں ثابت قدم رکھنا ‘ اگر ہم ( میدان جنگ میں ) دشمن کا سامنا کریں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص کے لئے ( موت یا شہادت ) واجب ہو گئی ہے ‘ اگر آپ ہمیں اس کا نفع حاصل کرنے دیتے ( یعنی اسے زندگی کی دعا دیتے ‘ تو اچھا تھا ) تو وہ صاحب غزوہ خیبر کے موقع پر شہید ہوئے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

10194

Majma al-Zawaid #10194

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «صَبَّحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ، وَقَدْ أَخَذُوا مَسَاحِيَهُمْ [وَمَكَاتِلِهِمْ] وَغَدَوْا إِلَى حُرُوثِهِمْ [وَأَرَضِيهِمْ]، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا مُدْبِرِينَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطُّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Talhah (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came to Khaybar in the morning while they had taken their spades and baskets and gone out to their fields and lands. When they saw the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) with the army, they turned back fleeing. The Prophet of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Allah is Greatest, Allah is Greatest. Khaybar is ruined. When we descend upon the courtyard of a people, evil is the morning of those who were warned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح کے وقت خیر پہنچے ‘ وہ لوگ اپنی کدالیں اور پھاؤڑے لے کر اپنے کھیتوں اور زمینوں کی طرف جا رہے تھے ‘ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کے ساتھ لشکر موجود ہے ‘ تو وہ الٹے قدموں واپس چلے گئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! خیبر برباد ہو گیا ‘ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ‘ جنہیں ڈرایا گیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10195

Majma al-Zawaid #10195

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَلَوْ قُلْتُ: إِنَّ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَهُ] فَسَكَتَ عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ، وَذَهَبَ ذُو الضَّرْعِ إِلَى ضَرْعِهِ، وَذُو الزَّرْعِ إِلَى زَرْعِهِ، أَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Talhah (may Allah be pleased with him) reported: I was riding behind the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), my knee touching his knee. He kept silent about them until near dawn, when those with livestock went to their livestock and those with crops to their crops. Then he raided them and said: > **"When we descend upon the courtyard of a people, evil is the morning of those who were warned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے موجود تھا ‘ اگر میں یہ کہوں کہ میرا گھٹنا آپ کے گھٹنے سے مس ہو رہا تھا ( تو یہ کہہ سکتا ہوں ) نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ‘ یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا اور مال مویشی والے مال مویشی کی طرف گئے ‘ اور کھیتی باڑی کرنے والے کھیتی کی طرف گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں پر حملہ کر دیا ‘ اور آپ نے یہ فرمایا : جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو اُن لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ‘ جنہیں ڈرایا گیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

10196

Majma al-Zawaid #10196

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَيْبَرَ وَهُمْ غَادُونَ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Abi Awfa (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) raided Khaybar while they were going out in the morning. They said, "Muhammad and the khamis (army)." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Allah is Greatest. Khaybar is ruined. When we descend upon the courtyard of a people, evil is the morning of those who were warned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خیبر پر حملہ کیا ‘ وہ لوگ اس وقت غفلت کا شکار تھے ‘ ان لوگوں نے کہا : محمد ( ﷺ ) آ گئے ‘ اور ساتھ لشکر بھی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! خیبر برباد ہو گیا ‘ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں ، تو اُن لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے ‘ جنہیں ڈرایا گیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

10197

Majma al-Zawaid #10197

«وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ عَشِيَّةً إِذْ أَقْبَلَتْ غَنَمٌ لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ يُرِيدُ حِصْنَهُمْ وَنَحْنُ مُحَاصِرُوهُمْ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ رَجُلٌ يُطْعِمُنَا مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ؟ ""، قَالَ أَبُو الْيُسْرِ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" فَافْعَلْ "". قَالَ: فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ مِثْلَ الظَّلِيمِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُوَلِّيًا قَالَ: "" اللَّهُمَّ أَمْتِعْنَا بِهِ ""، قَالَ: فَأَدْرَكْتُ الْغَنَمَ وَقَدْ دَخَلَ أَوَائِلُهَا الْحِصْنَ، فَأَخَذْتُ شَاتَيْنِ مِنْ آخِرِهَا، فَاحْتَضَنْتُهُمَا تَحْتَ يَدِي ثُمَّ أَقْبَلْتُ بِهِمَا أَشْتَدُّ كَأَنَّهُ لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ حَتَّى أَلْقَيْتُهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَبَحُوهُمَا وَأَكَلُوهُمَا. فَكَانَ أَبُو الْيُسْرِ مِنْ آخَرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلَاكًا، وَكَانَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى ثُمَّ قَالَ: أُمْتِعُوا بِي - لَعَمْرِي - حَتَّى كُنْتُ آخِرَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ بَعْضِ رِجَالِ بَنِي سَلَمَةَ عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Yusr Ka'b ibn 'Amr (may Allah be pleased with him) reported: By Allah, I was with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) at Khaybar in the evening when sheep belonging to a Jewish man came toward their fortress while we were besieging them. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Who will feed us from these sheep?"** Abu al-Yusr said, "I will, O Messenger of Allah." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Then do so."** So I ran like an ostrich. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) saw me departing he said: > **"O Allah, grant us enjoyment through him."** I reached the sheep after their front had entered the fortress. I seized two sheep from the rear, clasped them under my arms, and ran as if carrying nothing, until I laid them before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). They slaughtered them and ate. Abu al-Yusr was among the last of the Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) to die. When he narrated this hadith he wept and said, "Enjoy me while you may, for by my life I am the last of them."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم خیبر میں شام کے وقت میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھا جب یہودیوں کا ایک شخص بکریاں لے کے آیا وہ قلعے میں جانا چاہ رہا تھا ہم نے ان لوگوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کون شخص ہمیں ان بکریوں میں سے خوراک فراہم کرے گا حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نکلا اور شتر مرغ کی طرح تیزی سے چلتا ہوا گیا جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے واپس آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اے اللہ تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پیچ گیا جن کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا میں نے اس کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں اپنی بغلوں میں اٹھا لیا پھر ان دونوں کو لے کر دوڑتا ہوا یوں آیا جیسے میرے پاس کوئی چیز ہی نہیں تھی ‘ یہاں تک کہ وہ دونوں بکریاں میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کر دیں ان لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور ان دونوں کا گوشت کھایا راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے آخر میں وصال کرنے والے فرد ہیں جب وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے ‘ تو رو پڑتے تھے پھر یہ فرماتے تھے تم لوگ مجھ سے نفع حاصل کر لو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے میں ان میں سے آخری فرد ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10198

Majma al-Zawaid #10198

«وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ عَمَّهُ ضَرَبَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُ، وَجَرَحَ نَفْسَهُ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ: قَتَلْتُ نَفْسِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَهُ أَجْرَانِ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa' (may Allah be pleased with him) reported: His uncle struck a man from the polytheists, killed him, and wounded himself. He began saying, "I have killed myself." That reached the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"For him are two rewards."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے چچا نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر ضرب لگا کر اسے قتل کیا اور اس کی وجہ سے وہ خود بھی زخمی ہو گئے ‘ تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا : یہ تو میں نے خودکشی کر لی نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا : اسے دگنا اجر ملے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

10199

Majma al-Zawaid #10199

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «خَرَجَ مَرْحَبُ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ، وَيَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ ... إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلْهَبُ [وَأَحْجَمَتْ عَنْ صَوْلَةِ الْمُجَرِّبِ] ... كَأَنَّ حِمَايَ الْحِمَى لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ لِهَذَا؟ "". فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ، قَالَ: "" فَقُمْ إِلَيْهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ "". فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحَبِهِ دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ غَمَرَتْهُ مِنْ شَجَرِ الْعَشْرِ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ، كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ، حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ، وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ مَا فِيهَا مِنْ فَنَنٍ - حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَاهُ بِالدَّرَقَةِ، فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا، فَعَصَّبَ بِهِ فَأَمْسَكَهُ، وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah al-Ansari (may Allah be pleased with them both) reported: Marhab the Jew came out of their fortress with his weapons gathered, reciting rajaz: "Khaybar knows that I am Marhab, armed, a tried champion. At times I thrust and at times I strike, when lions advance raging." He called, "Who will duel?" The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Who is for him?"** Muhammad ibn Maslamah said, "I am for him, O Messenger of Allah, the wronged avenger. They killed my brother yesterday." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Then stand to him. O Allah, aid him against him."** When the two drew near, a tree of 'ushr came between them. Each sought shelter by it from the other, cutting with his sword what was before him, until each stood exposed to his fellow like an upright man with no branches. Marhab charged Muhammad and struck; he shielded himself with his buckler, the sword lodged in it, he held it fast, and Muhammad ibn Maslamah struck him until he killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مرحب یہودی ان کے قلعوں میں سے نکلا اس نے اپنے ہتھیار اکٹھے کیے ہوئے تھے اور یہ رجز پڑھ رہا تھا : ’’ خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ، مکمل استعداد رکھنے والا تجربہ کار بہادر ہوں ، کبھی ( نیزے یا تلوار کو ) چبھوتا ہوں اور کبھی ضرب لگاتا ہوں ‘ جب شیر آتے ہیں تو وہ ( حملہ کرنے کے لیے ) بیقرار ہوتے ہیں ‘ اور وہ تجربہ کار شخص کی بہادری سے رک جاتے ہیں ، گویا میری چراگاہ وہ چراگاہ ہے جس کے قریب نہیں جایا جا سکتا ہے ‘‘۔ وہ یہ کہہ رہا تھا کون مقابلہ کرے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون مقابلہ کرے گا ؟ تو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کا مقابلہ کروں گا ، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ‘ اور جو بکھرے ہوئے بالوں کا مالک ہے ‘ اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھ کر اس کی طرف جاؤ اے اللہ اس کے خلاف تو اس کی مدد کر جب ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے قریب آیا تو ان دونوں کے درمیان ایک درخت آ گیا اور اس درخت میں گوند تھی ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں اس درخت کے ذریعے بچنے لگا جب بھی وہ اس میں سے بچ جاتا تھا تو دوسرے کی تلوار کا وار خالی جاتا تھا ، یہاں تک کہ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے فریق کے سامنے آ گیا اور وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے شخص کی مانند ہو گیا اس میں کوئی ٹہنی نہیں تھی پھر مرحب نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر کے انہیں ضرب لگائی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال کے ذریعے اس کا بچاؤ کیا اس کی تلوار ان کی ڈھال پر لگی اور انہوں نے اس کے ذریعے وار کو روک لیا پھر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس پر ضرب لگائی اور اسے قتل کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

10200

Majma al-Zawaid #10200

وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَضْرَةِ أَهْلِ خَيْبَرَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللِّوَاءَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَنَهَضَ [مَعَهُ] مَنْ نَهَضَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "". فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ، وَنَهَضَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ، وَكَانَ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَيَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ ... إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلْهَبُ قَالَ: فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَضَرَبَهُ عَلِيٌّ عَلَى هَامَتِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ مِنْهَا بِأَضْرَاسَهُ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبَتِهِ، وَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ حَتَّى فُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَيْمُونُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah al-Aslami (may Allah be pleased with him) reported: When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) encamped before the people of Khaybar, he gave the banner to 'Umar ibn al-Khattab. Those Muslims who rose went and met the people of Khaybar, then returned. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Tomorrow I shall give the banner to a man who loves Allah and His Messenger, and whom Allah and His Messenger love."** Next day he called 'Ali while his eyes were inflamed. He spat in his eyes, gave him the banner, and the people rose with him and met the people of Khaybar. Marhab recited before them: "Khaybar knows that I am Marhab, armed, a tried champion. At times I thrust and at times I strike, when lions advance raging." They exchanged two blows. 'Ali struck him on his head until the sword bit to his molars. The camp heard the sound of his blow. The last men had not yet joined 'Ali before victory was granted to him and them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے پاس علاقے میں پڑاؤ کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے جھنڈا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا ان کے ساتھ کچھ مسلمان بھی گئے ان کا اہل خیبر کے ساتھ مقابلہ بھی ہوا لیکن وہ لوگ واپس آ گئے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا ‘ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ‘ اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں اگلے دن نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان کو آشوب چشم کی شکایت تھی نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا آپ نے ان کے ساتھ لوگوں کو بھیجا ان لوگوں کا اہل خیبر سے سامنا ہوا ان لوگوں کے درمیان مرحب یہ رجز پڑھ رہا تھا ‘ اور یہ کہہ رہا تھا : ’’ خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ، مکمل استعداد رکھنے والا تجربہ کار بہادر ہوں ، کبھی ( نیزے یا تلوار کو ) چبھوتا ہوں اور کبھی ضرب لگاتا ہوں ‘ جب شیر آتے ہیں تو وہ ( حملہ کرنے کے لیے ) بیقرار ہوتے ہیں ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں کا مقابلہ ہوا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس نے اس کے سر پر وار کیا ‘ یہاں تک کہ اس کی تلوار ان کو کاٹتی ہوئی اس کے دانتوں تک پہنچ گئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ضرب کی آواز کو اہل لشکر نے بھی سنا اور پھر ابھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جانے والے آخری فرد بھی نہیں پہنچے تھے کہ ان کے لئے شہر فتح ہو گیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

10201

Majma al-Zawaid #10201

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «حَاصَرْنَا خَيْبَرَ، فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ عُمَرُ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ، وَأَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجُهْدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي دَافِعُ اللِّوَاءِ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ "". وَبِتْنَا طَيِّبَةً أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ، فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ، وَفُتِحَ لَهُ». قَالَ بُرَيْدَةُ: وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah (may Allah be pleased with him) reported: We besieged Khaybar. Abu Bakr took the banner, returned, and no victory was granted him. Next day 'Umar took it, went out, returned, and no victory was granted him. The people suffered hardship and strain that day. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"I shall give the banner tomorrow to a man whom Allah and His Messenger love, and who loves Allah and His Messenger. He will not return until victory is granted him."** We spent the night hopeful that victory would come morrow. In the morning the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) prayed the dawn prayer, stood, called for the banner while the people stood in ranks, called 'Ali while his eyes were inflamed, spat in his eyes, handed him the banner, and victory was granted him. Buraydah said, "I was among those who craned for it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے خیبر کا محاصرہ کر لیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا پھر وہ واپس آ گئے شہر فتح نہیں ہوا اگلے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا وہ گئے ‘ اور واپس آ گئے ان کے لئے بھی شہر فتح نہیں ہوا اس دن لوگوں کو مشقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں ‘ اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور وہ فتح حاصل کیے بغیر نہیں آئے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے وہ رات اس خواہش میں گزار دی کہ کل فتح نصیب ہو جائے گی اگلے دن صبح نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے جھنڈا منگوایا لوگ صفوں میں موجود تھے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا ‘ تو ان کے لئے شہر فتح ہو گیا ۔

10202

Majma al-Zawaid #10202

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا، ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟ "" فَجَاءَ فُلَانٌ، فَقَالَ: [أَنَا، قَالَ] "" أَمِطْ "" ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: "" أَمِطْ "" ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ، هَاكَ يَا عَلِيُّ "". فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَفَدْكَ، وَجَاءَ بِعَجْوَتِهِمَا وَقَدِيدِهِمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) took the standard, shook it, then said: > **"Who will take it by its right?"** A certain man came and said, "I." He said: > **"Turn away."** Then another man came. He said: > **"Turn away."** Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"By Him Who honored the face of Muhammad, I shall give it to a man who does not flee. Come, O 'Ali."** He went until Allah granted him victory over Khaybar and Fadak, and he brought their 'ajwah dates and dried meat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جھنڈا پکڑ کر اسے ہلایا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کون اسے اس کے حق کے ہمراہ اسے لے گا ‘ تو فلاں صاحب آئے ‘ اور بولے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم رہنے دو پھر ایک اور صاحب آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم رہنے دو پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے کو عزت عطا کی ہے میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا ‘ جو فرار نہیں ہو گا اے علی تم آگے آؤ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر اور فدک کو فتح کروا دیا ‘ اور وہ ان دونوں علاقوں کی عجوہ اور قدید کھجوریں لے کے آئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

10203

Majma al-Zawaid #10203

وَعَنْ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: «أَتَيْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ عُمَرَ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ هَزَمُوا عُمَرَ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَ: "" لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ "". قَالَ: فَتَطَاوَلَ النَّاسُ لَهَا وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ قَالَ: فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً، فَقَالَ: "" أَيْنَ عَلِيٌّ؟ "". فَقَالُوا: هُوَ أَرْمَدُ، قَالَ: "" ادْعُوهُ لِي "" فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَتَحَ عَيْنِي، ثُمَّ تَفِلَ فِيهَا، ثُمَّ أَعْطَانِيَ اللِّوَاءَ. قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَإِذَا فِيهِمْ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ حَتَّى الْتَقَيْنَا، فَهَزَمَهُ اللَّهُ وَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ، وَتَحَصَّنُوا وَأُغْلِقَ الْبَابُ، فَأَتَيْنَا الْبَابَ فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى فَتَحَهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ لِينٌ.

EnglishUnverified translation

'Ali (peace be upon him) reported: We came to Khaybar. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) reached them, he sent 'Umar with the people. They soon fled before 'Umar and his companions, defeated. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"I shall send against them a man who loves Allah and His Messenger, and whom Allah and His Messenger love. He will fight them until Allah grants him victory."** The people craned their necks. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) waited a while, then said: > **"Where is 'Ali?"** They said, "His eyes are inflamed." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Call him to me."** When I came, he opened my eyes, spat in them, and gave me the banner. I went until I reached them. Marhab was reciting rajaz until we met. Allah routed him, his companions fled and fortified themselves, locking the gate. We came to the gate and I kept working it until Allah opened it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ خیبر آئے جب نبی اکرم ﷺ وہاں تشریف لائے ‘ تو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیجا لیکن تھوڑی دیر گزرنے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو پسپا ہونا پڑا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا ‘ جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھتا ہو گا اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو فتح نصیب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگ اس بات کے آرزو مند رہے ‘ اور اپنی گردنیں اٹھا کے دیکھتے رہے کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : علی کہاں ہے لوگوں نے عرض کی : انہیں آشوب چشم کی شکایت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے میرے پاس بلا کے لاؤ جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے میری دونوں آنکھیں کھولیں اور ان میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ نے مجھے جھنڈا عطا کیا میں روانہ ہوا اور ان لوگوں کے پاس آیا وہاں مرحب رجز پڑھتا ہوا آیا ‘ یہاں تک کہ جب ہم دونوں کا مقابلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے پسپا کر دیا ‘ اور اس کے ساتھی بھی پسپا ہو گئے ‘ اور قلعہ بند ہو گئے انہوں نے دروازہ بند کر لیا ہم دروازے کے پاس آئے ‘ اور مسلسل اسے کھلوانے کی کوشش کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے وہ ( شہر یا قلعہ ) فتح کروا دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن حکیم ہے ۔ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔

10204

Majma al-Zawaid #10204

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَجَبُنَ، فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ، قُتِلَ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلُونَ بِهِ مِنْهُمْ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ، ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا، فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَأَبْعَثَنَّ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبَّانَهِ، لَا يُوَلِّي الدُّبُرَ "" فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَعَثَ عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ شَدِيدُ الرَّمَدِ، فَقَالَ: "" سِرْ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُبْصِرُ مَوْضِعَ قَدَمِي، قَالَ: فَتَفِلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَعَقَدَ لَهُ اللِّوَاءَ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَى مَا أُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" عَلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ حَقَنُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: شَيْخٌ صَالِحٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَأْتِي فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah (may Allah be pleased with them both) reported: On the day of Khaybar the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent a man who showed cowardice. Muhammad ibn Maslamah came and said, "O Messenger of Allah, I have never seen the like of today. Mahmud ibn Maslamah is killed." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do not wish to meet the enemy. Ask Allah for well-being, for you know not what you will be tried with from them. When you meet them say: O Allah, You are our Lord and their Lord, our forelocks and their forelocks are in Your Hand, and it is You alone Who slay them. Then keep to the ground sitting. When they overwhelm you, rise and magnify Allah."** Then the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Tomorrow I shall send a man who loves Allah and His Messenger, and they both love him. He will not turn his back."** Next day he sent 'Ali, who suffered severe ophthalmia. He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Go."** He said, "O Messenger of Allah, I cannot see where to place my foot." He spat in his eyes, tied the banner for him, and handed him the standard. 'Ali said, "Upon what shall I fight them, O Messenger of Allah?" He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Upon their testifying that there is no deity worthy of worship except Allah and that I am the Messenger of Allah. If they do that, they have protected their blood and wealth except by its right, and their reckoning is upon Allah, Exalted is He."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب غزوہ خیبر کا موقع آیا تو نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا وہ بزدلی کا شکار ہو گیا پھر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج کے دن جیسا دن نہیں دیکھا محمود بن مسلمہ قتل ہو گئے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دشمن کا سامنے کرنے کی آرزو نہ کرو تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اس کے حوالے سے تمہیں کسی چیز میں مبتلا کیا جاتا ہے ‘ اور جب تم دشمن کا سامنا کرو تو یہ کہو اے اللہ تو ہمارا اور ان کا پروردگار ہے ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں ان کے ساتھ تو ہی لڑنے ( کی ہمت دیتا ہے ) پھر تم لوگ زمین پر بیٹھ جاؤ اگر دشمن تمہارے پاس آ جائے ‘ تو تکبیر کہہ کر اٹھ کھڑے ہو ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل میں ایسے شخص کو بھیجوں گا ‘ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ‘ اور وہ دونوں اس سے محبت رکھتے ہیں وہ پیٹھ نہیں پھیرے گا جب اگلا دن آیا تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان کو آشوب چشم کی شدید شکایت تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : روانہ ہو جاؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں تو اپنے قدموں کی جگہ بھی نہیں دیکھ سکتا ہوں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ان کے لئے جھنڈا باندھا اور جھنڈا ان کو دیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس بنیاد پر ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں جب وہ ایسا کر لیں گے ‘ تو وہ اپنی جانوں اور اپنے اموال کو محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ابوزرعہ کہتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس بارے میں دیگر احادیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔