وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَجَهَّزُوا إِلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا - يَعْنِي: خَيْبَرَ - فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَاتِحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَلَا يَخُرُجَنَّ مَعِي مُصَعِّبٌ وَلَا مُضَعِّفٌ "". فَانْطَلَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى أُمِّهِ، فَقَالَ: جَهِّزِينِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَنَا بِالْجِهَازِ لِلْغَزْوِ، قَالَتْ: تَنْطَلِقُ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَدْخُلُ [الْمَرْفَقَ] إِلَّا وَأَنْتَ مَعِي، قَالَ: مَا كُنْتُ لِأَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا فَنَاشَدَتْهُ بِمَا رَضَعَ مِنْ لَبَنِهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِرًّا، فَقَالَ: "" انْطَلِقِي قَدْ كُفِيتِ "". فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى إِعْرَاضَكَ عَنِّي لَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا لِشَيْءٍ بَلَغَكَ، قَالَ: "" أَنْتَ الَّذِي نَاشَدَتْكَ أُمُّكَ، وَأَخْرَجَتْ ثَدْيَهَا تُنَاشِدُكَ بِمَا رَضَعْتَ مِنْ لَبَنِهَا، أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ عِنْدَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟! بَلْ هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا بَرَّهُمَا وَأَدَّى حَقَّهُمَا "". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقَدْ مَكَثَتْ بَعْدَ هَذَا سِنِينَ مَا أَغْزُو حَتَّى مَاتَتْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَسَارَ مَعَهُ فَتًى مَنْ بَنَى عَامِرٍ عَلَى بِكْرٍ لَهُ صَعْبٍ، فَجَعَلَ يَسِيرُ فِي نَاحِيَةِ الطَّرِيقِ وَالنَّاسِ، فَوَقَعَ بَعِيرُهُ فِي حُفَيْرَةٍ فَصَاحَ: يَا آلَ عَامِرٍ، فَارْتَعَصَ هُوَ وَبَعِيرُهُ، فَجَاءَ قَوْمُهُ فَاحْتَمَلُوهُ. وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى خَيْبَرَ فَنَزَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَا الطُّفَيْلَ بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ، فَقَالَ: "" انْطَلِقْ إِلَى قَوْمِكَ وَاسْتَمِدَّهُمْ عَلَى هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَفْتَحُهَا عَلَيْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". فَقَالَ الطُّفَيْلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُبْعِدُنِي مِنْكَ! فَوَاللَّهِ لَأَنْ أَمُوتَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مِنْكَ قَرِيبٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْحَيَاةِ وَأَنَا مِنْكَ بَعِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُ لَا بُدَّ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ فَانْطَلِقْ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَعَلِّي لَا أَلْقَاكَ فَزَوِّدْنِي شَيْئًا أَعِيشُ بِهِ، قَالَ: "" أَتَمْلِكُ لِسَانَكَ؟ "". قَالَ: فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي؟! قَالَ: "" أَتَمْلِكُ يَدَكَ؟ "". قَالَ: فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟! قَالَ: "" فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ "". قَالَ ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ: وَوَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ بِخَطِّهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفْشِ السَّلَامَ، وَابْذُلِ الطَّعَامَ، وَاسْتَحْيِ اللَّهَ كَمَا تَسْتَحِي رَجُلًا مِنْ رَهْطِكَ ذِي هَيْبَةٍ، وَلْيَحْسُنْ خُلُقُكَ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Prepare yourselves for this town whose people are unjust - meaning Khaybar - for Allah, Mighty and Majestic, will conquer it for you, if Allah wills. Let no one with a refractory mount or one who is weak go out with me."** Abu Hurayrah went to his mother and said, "Equip me, for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) has ordered us to prepare for the expedition." She said, "You go, though you know I admit none to help me except you with me?" He said, "I would never stay behind from the Messenger of Allah." She bared her breast and adjured him by the milk he had suckled. Then she went secretly to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Go, you have been sufficed."** Later Abu Hurayrah came and the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) turned away from him. He said, "O Messenger of Allah, I see you turn away from me only for something that reached you." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"You are the one whom your mother adjured, baring her breast and adjuring you by what you suckled of her milk. Does one of you think that when he is with his parents, or one of them, that he is not in the path of Allah? Rather he is in the path of Allah when he treats them kindly and fulfills their right."** Abu Hurayrah said, "I remained years after this without raiding until she died." The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) set out from Madinah. A youth of Banu 'Amir on a refractory young camel rode apart from the road. His camel fell into a hollow, he cried out, "O family of 'Amir," and he and his camel trembled. His people came and carried him. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) reached Khaybar he called al-Tufayl ibn al-Harith al-Khuza'i and said: > **"Go to your people and seek their aid against this town whose people are unjust, for Allah, Mighty and Majestic, will conquer it for you, if Allah wills."** Al-Tufayl said, "O Messenger of Allah, you distance me from you. By Allah, to die while near you is dearer to me than life while far from you." The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"What must be must be, so go."** He said, "O Messenger of Allah, perhaps I shall not meet you again, so give me provision to live by." He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do you control your tongue?"** He said, "What do I control if I do not control my tongue?" He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Do you control your hand?"** He said, "What do I control if I do not control my hand?" He (peace and blessings of Allah be upon him) said: > **"Say nothing with your tongue except what is good, and stretch your hand only toward good. Spread peace, offer food, be shy before Allah as you are shy before a revered man of your kin. Let your character be good. When you do evil, do good after it, for good deeds remove evil deeds."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بستی کے لئے تیاری کر لو ‘ جس کے رہنے والے ظالم ہیں نبی اکرم ﷺ کی مراد خیبر تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے چاہا ‘ تو وہ تمہارے لئے اس کو فتح کروا دے گا ‘ اور میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ نکلے ‘ جس کا سواری کا جانور دشوار ہو ( یعنی قابو میں نہ آتا ہو ) یا انتہائی کمزور ہو ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے پاس گئے ‘ اور بولے : مجھے سامان سفر فراہم کریں ‘ کیونکہ اللہ کے رسول نے جنگ کے لئے تیاری کا ہمیں حکم دے دیا ہے ‘ اس خاتون نے کہا : تم جا رہے ہو ؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ مجھے ہر معاملے میں تمہارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نبی اکرم ﷺ سے پیچھے نہیں رہ سکتا ، تو اس خاتون نے اپنی چھاتی کی طرف اشارہ کر کے واسطہ دیا کہ انہوں نے اپنا دودھ جو انہیں پلایا ہے ( اس کے واسطے سے وہ رک جائیں ) پھر وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس چھپ کر آئیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چلی جاؤ ! تمہارا معاملہ حل ہو جائے ‘ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے ‘ یہ یقینا کسی ایسی وجہ سے ہوا ہو گا ‘ جس کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع پہنچی ہو گی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہی وہ شخص ہو ‘ جس کی ماں نے اسے اپنے دودھ کا واسطہ دیا تھا ( اور تم نے پھر بھی اس کی بات نہیں مانی ؟ ) کیا تم میں سے کوئی ایک شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب وہ اپنے ماں باپ کے پاس : اُن دونوں میں سے کسی ایک کے پاس ہوتا ہے ‘ تو وہ اللہ کی راہ میں نہیں ہوتا ؟ بلکہ وہ ( اس وقت ) اللہ کی راہ میں ہوتا ہے جب وہ ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان دونوں کا حق ادا کرتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے بعد کئی سال تک رکا رہا ‘ میں نے کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا ‘ یہاں تک کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ سے نکلے ‘ آپ کے ساتھ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی روانہ ہوا ‘ ایک سخت نوجوان اونٹ پر سوار تھا ‘ وہ راستے میں ایک جگہ چل رہا تھا ‘ لوگ بھی جا رہے تھے اس کا اونٹ ایک گڑھے میں گر گیا ‘ نے پکارا : اے آل عامر ! تو وہ اور اس کا اونٹ کپکپا گئے ‘ پھر اس کی قوم کے افرادا سے اٹھا کر لے کے آئے ‘ نبی اکرم ﷺ روانہ ہو گئے ‘ یہاں تک کہ آپ خیبر آ گئے آپ نے وہاں پڑاؤ کیا ‘ آپ نے طفیل بن حارث خزاعی کو بلایا اور فرمایا : اپنی قوم کے پاس جاؤ ‘ اور اس بستی کے بارے میں کمک حاصل کرو ‘ جس کے رہنے والے ظالم ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چاہا ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے عنقریب تمہارے لئے فتح کروا دے گا ‘ تو حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنے آپ سے دور کر رہے ہیں ۔ اللہ کی قسم ! جس دن میں آپ کے قریب ہوؤں ‘ اور اس دن میں مر جاؤں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ سے دور ہو کر زندہ رہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو چیز ضروری ہے ‘ تم جاؤ ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہو سکتا ہے کہ پھر میری آپ سے ملاقات نہ ہو ‘ تو مجھے زاد راہ کے طور پر ایسی چیز عطا کر دیں ، جن کے ذریعے میں زندہ رہوں ( یعنی مجھے کوئی نصیحت کر دیں ) ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اپنی زبان کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان کا مالک نہیں ہوتا ‘ تو میں کس چیز کا مالک ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ کا مالک نہیں ہوؤں گا ‘ تو کس چیز کا مالک ہوؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ پھر تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا ‘ اور اپنا ہاتھ ‘ صرف بھلائی کی طرف بڑھانا ‘‘۔ ابن ابوکریمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے ابو عبدالرحیم نامی راوی کی تحریر میں ان کے خط میں یہ روایت پائی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سلام کو پھیلاؤ ‘ کھانا خرچ کرو ‘ اور اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ‘ جس طرح سے تم اپنے گروہ کے کسی باہیبت شخص سے حیاء کرتے ہو ‘ اور تمہارا اخلاق اچھا ہونا چاہیئے ‘ اور جب تم ( کوئی ) برائی کرو ‘ تو اچھائی بھی کر لو ‘ کیونکہ اچھائیاں ‘ برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔