Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 26 · Chapter 8

Book of Jihad

Hadith 9555–9594

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9555

Majma al-Zawaid #9555

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالزَّكَاةِ [ثَلَاثَ] مَرَّاتٍ، فَقَالَ: "" وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟ "" قَالُوا: الَّذِي يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: "" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ. الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، [وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ] وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ، وَالْحَرْقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالسُّلُّ شَهَادَةٌ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Salman al-Farisi, may Allah be pleased with him, reported: he brought the charity to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, three times, and he asked: > **"Whom do you count as martyr among you?"** They said, The one killed in the path of Allah. He said: > **"Then the martyrs of my nation are few. Being killed in the path of Allah is martyrdom, plague is martyrdom, the woman in childbed is martyrdom, burning is martyrdom, drowning is martyrdom, consumption is martyrdom, and the belly is martyrdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں زکوۃ لے کر تین مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دریافت کیا : تم لوگ شہید کسے شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے طاعون کی وجہ سے مرنا شہادت ہے نفاس کے دوران عورت کا مرنا شہادت ہے جل کر مرنا شہادت ہے ڈوب کر مرنا شہادت ہے سل کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنا شہادت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

9556

Majma al-Zawaid #9556

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ قَالَ: "" «الْبَطْنُ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, raised it to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, who said: > **"The belly and drowning are martyrdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اور ڈوب کر مرنا شہادت ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9557

Majma al-Zawaid #9557

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ الشَّهِيدُ إِلَّا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَا عَائِشَةُ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، مَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً: اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْمَوْتِ وَفِيمَا بَعْدَ الْمَوْتِ ثُمَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ فِي مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ بِأَيِّ حَتْفٍ كَانَ فَهُوَ شَهِيدٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported: she said, O Messenger of Allah, is the martyr only the one killed in the path of Allah? He said: > **"O Aishah, then the martyrs of my nation are few. Whoever says twenty-five times a day: O Allah, bless death and what is after death, then dies upon his bed, Allah grants him the reward of a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا شہید صرف وہ ہوتا ہے ‘ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس صورت میں میری امت کے شہداء کم ہوں گے جو شخص روزانہ پچیس مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے : ’’ اے اللہ ! تو موت میں اور موت کے بعد والی زندگی میں برکت نصیب فرما ‘‘۔ پھر وہ اپنے بستر پر بھی مر جائے تو اللہ تعالیٰ اسے شہید کا اجر عطا کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے جہاد کی فضیلت کے بارے میں ایسی احادیث گزر چکی ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہے ‘ تو پھر وہ جس وجہ سے بھی مرے وہ شہید شمار ہوتا ہے ۔

9558

Majma al-Zawaid #9558

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ صُرِعَ عَنْ دَابَّتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Whoever is thrown from his mount and dies is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اپنی سواری سے گر کر مر جائے وہ شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9559

Majma al-Zawaid #9559

وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ تَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ الْجِبَالِ، وَتَأْكُلُهُ السِّبَاعُ، وَيَغْرَقُ فِي الْبِحَارِ لَشَهِيدٌ عِنْدَ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ الطَّاعُونِ فِي الْجَنَائِزِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said: whoever falls from the mountain peaks, or is devoured by beasts, or drowns in the seas, is a martyr before Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص پہاڑ کے سرے سے گر کے مر جائے یا جسے درندے کھا جائیں یا جو سمندر میں ڈوب جائے وہ اللہ کے نزدیک شہید شمار ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس سے پہلے جنائز سے متعلق باب میں طاعون سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں ۔

9560

Majma al-Zawaid #9560

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ الشُّهَدَاءُ فَذُكِرَ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالنُّفَسَاءُ، فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَةَ وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّ شُهَدَاءَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أُمَنَاءُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ziyad al-Alhani reported: martyrs were mentioned before Abu Inabah al-Khawlani, and the dead of plague, the dead of the belly, and the woman in childbed were mentioned. Abu Inabah grew angry and said: the Companions of our Prophet narrated to us from our Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that he said: > **"The witnesses of Allah upon the earth are the trustees of Allah over His creation, whether they are killed or die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن زیاد الہانی بیان کرتے ہیں : ابوعنبہ خولانی کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ شہداء میں طاعون کی وجہ سے مرنے والا پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنے والا اور نفاس کے دوران مرنے والی خاتون بھی شامل ہیں ، تو ابوعنبہ غصہ میں آ گئے اور بولے : ہمارے نبی کے اصحاب نے ہمیں یہ حدیث ہمارے نبی کے حوالے سے بیان کی ہے ۔ کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ زمین میں اللہ کے شہداء اس کی مخلوق کے بارے میں اللہ کے امین ہیں ، خواہ وہ قتل ہو کے مریں یا طبعی موت مر جائیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9561

Majma al-Zawaid #9561

عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي لَأَصْحَابُ الْفُرُشِ، رُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا، وَلَمْ أَرَهُ ذَكَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim ibn Ubayd ibn Rifaah reported that Abu Muhammad, one of the students of Ibn Masud, narrated from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, who said: > **"Most of the martyrs of my nation are the owners of beds. Many a slain one between two ranks: Allah knows best his intent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبید بن رفاعہ بیان کرتے ہیں : ابومحمد نے انہیں یہ بات بتائی ہے ‘ جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ میری امت کے زیادہ تر شہداء بستر پر مرنے والے ہوں گے اور دو صفوں کے درمیان قتل ہونے والے کسی فرد کی نیت کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح نقل کی ہے میں نے انہیں اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے بظاہر یہ لگتا ہے یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9562

Majma al-Zawaid #9562

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Allah will surely aid this religion through peoples who have no share in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے بھی کرے گا جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

9563

Majma al-Zawaid #9563

وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ سُنْبَادَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قِوَامُ أُمَّتِي شِرَارُهَا» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maymun ibn Sunbad, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The uprightness of my nation lies with its worst ones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت میمون بن سنباد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میری اُمت کے نگران ( یعنی حکمران ) اُس کے بدترین لوگ ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد اور امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9564

Majma al-Zawaid #9564

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ ثِقَاتُ الرِّجَالِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Allah, blessed and exalted, aids this religion through peoples who have no share in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے بھی فرمائے گا جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

9565

Majma al-Zawaid #9565

«وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ سَيُمَتِّعُ هَذَا الدِّينَ بِنَصَارَى مِنْ رَبِيعَةَ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ "" مَا تَرَكْتُ أَعْرَابِيًّا إِلَّا قَتَلْتُهُ أَوْ يُسْلِمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقُرَشِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: had I not heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"Allah will surely give benefit to this religion through Christians of Rabiah upon the shore of the Euphrates."** I would not have left a bedouin but I would have killed him or he would accept Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہوتا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ فرات کے کنارے پر ربیعہ سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں کے ذریعے بھی اس دین کو فائدہ پہنچائے گا ‘‘۔ تو میں نے ہر دیہاتی کو یا تو قتل کروا دینا تھا یا وہ اسلام قبول کر لیتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عمر قرشی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9566

Majma al-Zawaid #9566

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: نَزَلَتْ سُورَةٌ نَحْوًا مِنْ "" بَرَاءَةٌ "" فَرُفِعَتْ فَحَفِظْتُ مِنْهَا: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَيُحَسَّنُ حَدِيثُهُ لِهَذِهِ الشَّوَاهِدِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashari, may Allah be pleased with him, reported: a chapter nearly the length of Barah was sent down, then it was lifted, and I remembered from it that Allah aids this religion through peoples who have no share in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سورت توبہ جتنی ایک سورت نازل ہوئی پھر اسے اٹھا لیا گیا مجھے اس میں سے یہ بات یاد رہ گئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا ‘‘۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ان شواہد کی وجہ سے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

9567

Majma al-Zawaid #9567

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِغَيْرِ كَذِبٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abd Allah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Allah will surely aid this religion through men who are not of its folk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ایسے افراد کے ذریعے کرے گا جو اس کے ماننے والوں میں سے نہیں ہوں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے البتہ اس میں جھوٹ نہیں پایا جاتا ہے ۔

9568

Majma al-Zawaid #9568

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَضُبِّبَ عَلَيْهِ، وَلَا يَسْتَحِقُّ التَّضْبِيبَ ; لِأَنَّهُ صَوَابٌ وَقَدْ ذَكَرَ الْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ أَنَّهُ رَوَى عَمْرٌو عَنْ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قُلْتُ: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Amr ibn Muqarrin, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Allah surely aids this religion through the wicked man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن عمرو بن مقرن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حالات میں نقل کی ہے اور اس پر تنقید کی ہے ‘ حالانکہ وہ تنقید کی مستحق نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ درست ہے ‘ امام مزی نے ابوخالد والبی کے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ عمرو نے حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں ‘ میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9569

Majma al-Zawaid #9569

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abd Allah, meaning ibn Masud, may Allah be pleased with him, said: Allah the Exalted surely aids this religion through the wicked man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ کسی گنہگار شخص کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام پایا جاتا ہے ۔

9570

Majma al-Zawaid #9570

عَنْ خُبَيْبِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ غَزْوًا لَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلَمْ نُسْلِمْ فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا لَا نَشْهَدُهُ مَعَهُمْ قَالَ: "" أَوَأَسْلَمْتُمَا؟ "" قُلْنَا: لَا. قَالَ: "" إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ "". قَالَ: فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَهُ فَقَتَلْتُ رَجُلًا وَضَرَبَنِي ضَرْبَةً فَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَكَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ فَأَقُولُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Khubayb ibn Yasaf, may Allah be pleased with him, reported: he came to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, while he intended a campaign, he and a man of his people, and they had not accepted Islam. They said, We are ashamed that our people witness a battle we do not witness with them. He said: > **"Have you two accepted Islam?"** They said, No. He said: > **"We seek no aid of polytheists against polytheists."** So they accepted Islam and witnessed the battle with him. Khubayb killed a man who had struck him a blow, then married his daughter after that. She used to say, May you never lack a man who adorned you with this sword-belt of a wound. And he would say, May you never lack a man who hastened your father to the Fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک جنگ میں حصہ لینے جا رہے تھے ‘ میں تھا ‘ اور میری قوم کا ایک فرد تھا ہم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ہم نے کہا : ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ ہماری قوم کے افراد جنگ میں شریک ہوں اور ہم ان کے ساتھ اس میں شریک نہ ہوں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم دونوں نے اسلام قبول کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم مشرکین کے خلاف مشرکین کی مدد نہیں لیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اسلام قبول کر لیا اور آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا اس نے مجھے ضرب لگائی تھی اس کے بعد میں نے اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لی وہ عورت یہ کہا کرتی تھی آپ کا واسطہ ایک ایسے شخص سے بڑا تھا ‘ جس نے آپ کو یہ زخم لگایا تو میں یہ کہتا تھا تمہارا واسطہ ایک ایسے شخص سے پڑا ہے جس نے تمہارے باپ کو جہنم کی طرف جلدی بھیج دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

9571

Majma al-Zawaid #9571

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ أُحُدٍ حَتَّى إِذَا جَاوَزَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَإِذَا هُوَ بِكَتِيبَةٍ خَشْنَاءَ فَقَالَ: "" مَنْ هَؤُلَاءِ؟ "" قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فِي سِتِّ مِائَةٍ مِنْ مَوَالِيهِ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَقَالَ: "" وَقَدْ أَسْلَمُوا؟ "" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" مُرُوهُمْ فَلْيَرْجِعُوا فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Humayd al-Saidi, may Allah be pleased with him, reported: the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, set out on the day of Uhud until he passed Thaniyyat al-Wada, and there was a rugged battalion. He said: > **"Who are these?"** They said, Abd Allah ibn Ubayy with six hundred of his clients, Jews of Qaynuqa. He said: > **"Have they accepted Islam?"** They said, No, O Messenger of Allah. He said: > **"Order them to return, for we seek no aid of polytheists against polytheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ جب آپ نے ثنیہ الوداع کو پار کیا تو وہاں ایک فوجی دستہ موجود تھا آپ نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ عبداللہ بن ابی ہے ‘ جو بنو قینقاع کے یہودیوں سے تعلق رکھنے والے اپنے چھ سو موالیوں کے ساتھ ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان سے کہو یہ واپس چلے جائیں ، کیونکہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن منذر بن ابوحمید ہے جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقاب میں کیا ہے اور یہ کہا ہے یہ سعد بن ابوحمید ہے ‘ تو انہوں نے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کر دی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9572

Majma al-Zawaid #9572

عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

A man among the Companions of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, reported: he heard the Messenger of Allah say: > **"Leave the Abyssinians while they leave you, for none shall extract the treasure of the Kabah but the one with thin shanks from among the Abyssinians."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ حبشیوں کو ان کے حال پر ) رہنے دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ، کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ حبشہ سے تعلق رکھنے والا دو پتلی پنڈلیوں والا ایک شخص نکالے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9573

Majma al-Zawaid #9573

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Abi Sufyan, may Allah be pleased with them both, reported: he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"Leave the Turks while they leave you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ ترکوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9574

Majma al-Zawaid #9574

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حِينَ جَاءَهُ كِتَابُ عَامِلِهِ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِالتُّرْكِ وَهَزَمَهُمْ، وَكَثْرَةَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ وَكَثْرَةَ مَا غَنِمَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يُكْتَبَ إِلَيْهِ: قَدْ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَ مِمَّا قَتَلْتَ وَغَنِمْتَ، فَلَا أَعْلَمَنَّ مَا عُدْتَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا قَاتَلْتَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي. قُلْتُ لَهُ: لِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَتَظْهَرَنَّ التُّرْكُ عَلَى الْعَرَبِ حَتَّى تُلْحِقَهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ» "". فَأَنَا أَكْرَهُ قِتَالَهُمْ لِذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Khudayj, may Allah be pleased with him, reported: he was with Muawiyah ibn Abi Sufyan when the letter of his governor reached him, telling that he had fallen upon the Turks, routed them, killed many of them, and taken much spoils. Muawiyah grew angry at that, then ordered it written back to him: I have understood what you mentioned of killing and spoils, but let me never learn that you returned to any of that, nor fight them until my order reaches you. Muawiyah ibn Khudayj asked him, Why, Commander of the Faithful? He said: I heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"The Turks shall surely overpower the Arabs until they drive them back to the pastures of wormwood and qaysum."** So I dislike fighting them for that reason.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اس دوران ان کے پاس ان کے ایک گورنر کا مکتوب آیا ، جس میں اس نے بتایا : اس نے ترکوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ہے اور ان میں سے بکثرت لوگوں کو قتل کر دیا ہے اور بکثرت مال غنیمت حاصل کیا ہے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر غصے میں آ گئے ‘ اور انہوں نے یہ کہا کہ اس کو خط میں لکھا جائے کہ تم نے جو قتل کیا اور جو غنیمت حاصل کی اس کا جو ذکر کیا ہے وہ مجھے سمجھ آ گئی ہے ‘ لیکن اب مجھے یہ پتہ نہ چلے کہ تم نے اس سے تجاوز کیا ہے تم ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرنا جب تک میرا حکم تمہارے پاس نہیں آ جاتا معاویہ بن خدیج کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : اے امیرالمومنین اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ترک عربوں پر ضرور غالب آ جائیں گے ‘ یہاں تک کہ وہ انہیں ” شیح ‘‘ ( ایک قسم کی گھاس ) اور قیصوم ( نامی درخت ) کے اُگنے کی جگہ تک ملا دیں گے ‘ تو میں اس وجہ سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9575

Majma al-Zawaid #9575

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَسْلُبُ أُمَّتِي [مُلْكَهُمْ وَ] مَا خَوَّلَهُمُ اللَّهُ، بَنُو قَنْطُورَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud (may Allah be pleased with him) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) commanded the Muslims to leave the Turks alone so long as they leave the Muslims alone. He then warned that the first people to strip his nation of the dominion and bounty which Allah (Glorified and Exalted is He) granted them would be the sons of Qantura. > **"Leave the Turks as long as they leave you, for the first who will strip my nation of its kingdom and what Allah has granted them are the sons of Qantura."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ترکوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ، کیونکہ وہ پہلا شخص ( یا پہلے لوگ ) جو میری امت کی حکومت کو سلب کرے گا ‘ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا ہوا ہے ( اُس کو سلب کرے گا ) وہ بنوقنطوراء ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم ہے اور وہ متروک ہے ۔

9576

Majma al-Zawaid #9576

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَمْلَأُ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ فَيَصْبِرُونَ أُسُدًا لَا يَفِرُّونَ، يَضْرِبُونَ أَعْنَاقَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي كِتَابِ الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him and his father) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) foretold that Allah would fill the hands of the Muslims with non-Arabs. They would stand firm like lions, never fleeing, striking the necks of the Muslims and consuming their war booty. > **"Allah will fill your hands with non-Arabs, and they will stand firm like lions who do not flee; they will strike your necks and consume your fay."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمی لوگوں کو بھر دے گا وہ جم کر صبر کریں گے ‘ وہ فرار نہیں ہوں گے ‘ وہ تمہاری گردنیں اُڑائیں گے اور تمہارا مال فے کھائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث کتاب الفتن میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

9577

Majma al-Zawaid #9577

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) forbade wishing to encounter the enemy in battle. The reason given is that a person does not know what will result from such an encounter. > **"Do not wish to meet the enemy, for you do not know what will come of that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دشمن کا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرو ‘ کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟“ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔

9578

Majma al-Zawaid #9578

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا قَاتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا حَتَّى يَدْعُوَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with him and his father) reports that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) never fought any people until he had first invited them to Islam. This was his constant practice before any military engagement.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کسی بھی قوم کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کرتے تھے جب تک پہلے انہیں دعوت نہیں دے دیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9579

Majma al-Zawaid #9579

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى قَوْمٍ يُقَاتِلُهُمْ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِ رَجُلًا فَقَالَ: "" لَا تَدَعْهُ مِنْ خَلْفِهِ، وَقُلْ لَهُ: لَا تُقَاتِلْهُمْ حَتَّى تَدْعُوَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) dispatched Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) to fight a people, then sent a man after him with instructions not to call him back from behind but to tell him plainly that he must not fight them until he has invited them to Islam. > **"Do not fight them until you have invited them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ایک قوم کی طرف ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے بھیجا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا : تم اسے پیچھے سے نہ بلانا اور اسے کہنا : تم لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرنا جب تک پہلے انہیں دعوت نہیں دے دیتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عثمان بن یحیی قرقسانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9580

Majma al-Zawaid #9580

وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ ظَبْيَانَ قَالَ: «جَاءَنَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا وَجَدْنَا لَهُ قَارِئًا يَقْرَؤُهُ عَلَيْنَا حَتَّى قَرَأَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ: "" مِنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Marthad ibn Zabyan (may Allah be pleased with him) reports that a letter from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) reached his people, and none could read it aloud until a man of Banu Dubay'ah read it. It was addressed from the Messenger of Allah to Bakr ibn Wail with a brief call to embrace Islam and be safe. > **"From the Messenger of Allah to Bakr ibn Wail: accept Islam and you will be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مرثد بن ظبیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارے پاس اللہ کے رسول کا مکتوب آیا ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو وہ پڑھ کے ہمیں سنا سکتا یہاں تک کہ بنو ضبیعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اسے پڑھ کر سنایا : یہ اللہ کے رسول کی طرف سے بکر بن وائل کے نام ہے : تم لوگ اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9581

Majma al-Zawaid #9581

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَتَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: "" أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا "". فَمَا وَجَدُوا مَنْ يَقْرَؤُهُ لَهُمْ إِلَّا رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ فَهُمْ يُسَمَّوْنَ بَنِي الْكَاتِبِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِينَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reports that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) wrote to Bakr ibn Wail commanding them to accept Islam and be safe. None was found to read it to them except a man of Banu Dubay'ah, for which reason those people came to be called Banu al-Katib, the sons of the scribe. > **"Accept Islam and you will be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بکر بن وائل کو خط لکھا تھا : تم لوگ اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے ، انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں وہ پڑھ کر سناتا انہیں بنوضبیعہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ملا ( جس نے انہیں وہ خط پڑھ کر سنایا ) اور ان لوگوں کو بنو کاتب کہا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے پہلی روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9582

Majma al-Zawaid #9582

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ "". وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir (may Allah be pleased with him) reports that he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say that a servant will be with those whom he loves. He further reports that before his passing, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) wrote letters calling to Islam to Khosrow, to Caesar, and to every mighty ruler. > **"A servant is with those whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی اس کے ساتھ ہو گا ‘ جس سے وہ محبت رکھتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے وصال سے پہلے کسری قیصر اور ہر حکمران کو خط لکھا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی سند نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9583

Majma al-Zawaid #9583

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" أَسْلِمْ تَسْلَمْ "". قَالَ: إِنِّي أَجِدُنِي كَارِهًا. قَالَ: "" [أَسْلَمُ] وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reports that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said to a man to accept Islam and be safe. The man replied that he found himself reluctant, whereupon the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) repeated the command even in that state. > **"Accept Islam and you will be safe. Accept, even if you are reluctant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے اس نے کہا : مجھے یہ لگتا ہے کہ میں ناگواری کے عالم میں ایسا کروں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسلام قبول کر لو اگرچہ ناگواری کے عالم میں کرو ! یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9584

Majma al-Zawaid #9584

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "". فَقَالَ: خَالٌ أَنَا أَوْ عَمٌّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا بَلْ خَالٌ "". فَقَالَ: "" قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "". قَالَ: هُوَ خَيْرٌ لِي؟ قَالَ: "" نَعَمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) reports that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) visited a sick man of Banu al-Najjar and said to him, O maternal uncle, say there is no god but Allah. The man asked whether he was a paternal or maternal uncle, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, rather a maternal uncle, and repeated the call. The man asked if it would be good for him, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said yes. > **"O maternal uncle, say: there is no god but Allah. Yes, it is good for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنونجار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لائے نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے ماموں آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں انہوں نے دریافت کیا : کیا میں ماموں ہوں یا چچا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ماموں ہیں آپ نے فرمایا : آپ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں اس نے عرض کی : کیا یہ میرے لئے بہتر ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9585

Majma al-Zawaid #9585

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي قُحَافَةَ: "" أَسْلِمْ تَسْلَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr (may Allah be pleased with her and her father) reports that on the day of the Conquest of Makkah, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to her father Abu Quhafah (may Allah be pleased with him) to accept Islam and be safe. > **"Accept Islam and you will be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپ اسلام قبول کر لیں آپ سلامت رہیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9586

Majma al-Zawaid #9586

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّي رَحِمَكُمُ اللَّهُ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ وَأَمَّا] مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهَا فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَأَصْبَحُوا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامِ الْقَوْمِ الَّذِينَ وَجَّهَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى: هَذَا أَمْرٌ قَدْ عَزَمَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِ فَافْعَلُوا "". فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُؤَدِّي عَنْكَ فَابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ. فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ إِلَى كِسْرَى وَبَعَثَ سَلِيطَ بْنَ عَمْرٍو إِلَى هَوْذَةَ بْنِ عَلِيٍّ صَاحِبِ الْيَمَامَةِ وَبَعَثَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى صَاحِبِ هَجَرَ وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى جَيْفَرَ وَعَبَّادِ ابْنَيْ جُلَنْدَا مَلِكَيْ عُمَانَ وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ وَبَعَثَ شُجَاعَ بْنَ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي شِمْرٍ الْغَسَّانِيِّ وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَرَجَعُوا جَمِيعًا قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَ وَهُوَ بِالْبَحْرَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah (may Allah be pleased with him) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) came out to his Companions (may Allah be pleased with them) and said that Allah had sent him as a mercy to all people, asking them to convey from him and not to differ as the disciples differed over Jesus (peace be upon him), when those near accepted and those far disliked it until Allah made each speak the tongue of his mission. The Companions replied that they would convey, so he sent Abdullah ibn Hudhafah to Khosrow, Sulayt ibn Amr to Hawdhah of Yamamah, Ala ibn al-Hadrami to al-Mundhir of Hajar, Amr ibn al-As to Jayfar and Abbad of Oman, Dihyah al-Kalbi to Caesar, Shuja ibn Wahb to al-Mundhir al-Ghassani, and Amr ibn Umayyah to the Negus. All returned before the Prophet's death except Ala, who was in Bahrain when he passed away. > **"Allah has sent me as a mercy to all people, so convey from me, may Allah have mercy on you, and do not differ as the disciples differed over Jesus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تم لوگوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے ‘ تو تم لوگ میری طرف سے ( تبلیغ کا فریضہ ) ادا کر دو اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحم کرے اور تم لوگ اس طرح اختلاف کا شکار نہ ہونا جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے حواری اختلاف کا شکار ہو گئے تھے ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی انہیں اسی چیز کی طرف دعوت دی تھی جس کی طرف میں نے تم لوگوں کو دعوت دی ہے جس شخص کا مقام قریبی ہو گا وہ جواب دے گا ( یعنی مان لے گا ) ‘ اور اسلام قبول کر لے گا ‘ اور جس کا مقام دور کا ہو گا وہ اسے ناپسند کرے گا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اس بات کی شکایت اللہ تعالیٰ سے کی تو ان سب لوگوں کا یہ عالم ہو گیا کہ ان میں سے ہر ایک فرد ان لوگوں کی زبان میں بات چیت کر سکتا تھا جن کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھیجا تھا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا اس معاملے کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پختہ کر دیا ہے ‘ تو اب تم یہ کام کرو ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم بھی آپ کی طرف سے تبلیغ کریں گے آپ ہمیں جہاں چاہیں بھجوا دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو کسری کی طرف بھجوایا سلیط بن عمرو کو ہوذہ بن علی کی طرف بھجوایا جو یمامہ کا حکمران تھا علاء بن حضرمی کو منذر بن ساوی کی طرف بھجوایا جو حجر کا حکمران تھا عمرو بن عاص کو جیفر اور عباد کی طرف بھجوایا جو جلنده کے بیٹے تھے اور عمان کے حکمران تھے ۔ آپ نے دحیہ کلبی کو قیصر کی طرف بھجوایا آپ نے سجاع بن وہب اسدی کو منذر بن حارث بن ابوشمر عنسانی کی طرف بھجوایا آپ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھجوایا نبی اکرم ﷺ کے وصال سے پہلے یہ سب لوگ واپس آ گئے تھے صرف علاء بن حضرمی نہیں آئے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے وقت وہ بحرین میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9587

Majma al-Zawaid #9587

وَعَنْ دِحْيَةَ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ بِكِتَابٍ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى قَيْصَرَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ عَلَى الْبَابِ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَزِعُوا لِذَلِكَ فَقَالَ: أَدْخِلْهُ عَلَيَّ فَأَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ بَطَارِقَتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا فِيهِ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَيْصَرَ صَاحِبِ الرُّومِ "". فَنَخَرَ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبْطٌ فَقَالَ: لَا تَقْرَأِ الْكِتَابَ الْيَوْمَ؛ لِأَنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ وَلَمْ يَكْتُبْ مَلِكَ الرُّومِ. قَالَ: فَقُرِئَ الْكِتَابُ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ، فَبَعَثَ إِلَى الْأُسْقُفِّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِمْ يَصْدُرُونَ عَنْ رَأْيِهِ وَعَنْ قَوْلِهِ، فَلَمَّا قُرِئَ الْكِتَابُ قَالَ الْأُسْقُفُّ: هُوَ وَاللَّهِ الَّذِي بَشَّرَنَا بِهِ مُوسَى وَعِيسَى الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ. قَالَ قَيْصَرُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ الْأُسْقُفُّ: أَمَّا أَنَا فَإِنِّي مُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ. قَالَ قَيْصَرُ: أَعْرِفُ أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَفْعَلَ، إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي وَقَتَلَنِي الرُّومُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Dihyah al-Kalbi (may Allah be pleased with him) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent him with a letter to Caesar of Rome. After seeking entry as the envoy of the Messenger of Allah, he was admitted among the bishops and handed the letter, which opened in the name of Allah and was addressed from Muhammad the Messenger of Allah to Caesar of Rome. Caesar's red, blue-eyed nephew objected that the writer began with himself and wrote chief rather than king, but the letter was read to the end. Caesar then questioned Dihyah privately and summoned the chief bishop, who declared this was the one foretold by Moses and Jesus whom they awaited, and that he himself believed and would follow. Caesar replied that he knew it was so, but that he could not act lest he lose his kingdom and the Romans kill him. > **"In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate: from Muhammad, the Messenger of Allah, to Caesar, the chief of Rome."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے روم کے حکمران قیصر کے پاس ایک مکتوب کے ہمراہ بھیجا میں نے ( اس کے درباریوں سے ) کہا تم لوگ اللہ کے رسول ( کے نمائندے ) کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو دربان قیصر کے پاس گیا اور اسے یہ بتایا گیا کہ دروازے پر ایک فرد موجود ہے جس کا یہ کہنا ہے کہ وہ اللہ کے رسول کا قاصد ہے وہ لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے قیصر نے کہا : اسے میرے پاس لے کے آؤ ( حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) وہ لوگ مجھے اس کے پاس لے گئے اس کے پاس اس کا ‘ بطارق ( مذہبی عالم یا پادری ) بھی موجود تھا ‘ میں نے مکتوب اُسے دیا وہ اس کے سامنے پڑھا گیا تو اس میں یہ تحریر تھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول کی طرف سے روم کے حکمران قیصر کے نام ہے ‘‘۔ تو قیصر کا بھتیجا ‘ جو سرخ رنگ ‘ نیلی آنکھوں کا مالک تھا ‘ اور اس کے بال سیدھے تھے ‘ اس نے کہا : آپ آج یہ مکتوب نہ پڑھیں ‘ کیونکہ انہوں نے مکتوب کا آغاز اپنی ذات سے کیا ہے اور آپ کو روم کا متعلقہ فرد لکھا ہے ‘ روم کا بادشاہ نہیں لکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : وہ مکتوب پڑھ لیا گیا ‘ یہاں تک کہ جب وہ مکمل ہوا تو ان لوگوں کے بارے میں قیصر نے حکم دیا وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے پھر قیصر نے مجھے بلوایا میں اس کے پاس گیا اس نے مجھ سے سوالات کیے میں نے اسے جوابات دیے پھر اس نے ایک پادری کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ اس کے پاس آیا یہ نمایاں حیثیت کا مالک شخص تھا لوگ اس کی رائے کو اہمیت دیتے تھے اور اس کے قول کو ترجیح دیتے تھے جب وہ مکتوب پڑھا گیا تو اس پادری نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہی فرد ہیں جن کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی اور جن کا ہم انتظار کر رہے تھے قیصر نے کہا پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ پادری نے کہا : میں ان کی تصدیق کروں گا ‘ اور ان کی پیروی کروں گا قیصر نے جواب دیا : میں جانتا ہوں ایسا ہی ہے ، لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا اس صورت میں میری حکومت رخصت ہو جائے گی اور رومی مجھے قتل کر دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9588

Majma al-Zawaid #9588

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ يَذْهَبُ بِكِتَابِي هَذَا إِلَى طَاغِيَةِ الرُّومِ؟ "" فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: "" مَنْ يَذْهَبْ وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ "" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُدْعَى عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ: أَنَا أَذْهَبُ بِهِ وَلِيَ الْجَنَّةُ إِنْ هَلَكْتُ دُونَ ذَلِكَ؟، قَالَ: "" نَعَمْ وَلَكَ الْجَنَّةُ إِنْ بَلَغْتَ أَوْ قُتِلْتَ، وَإِنْ هَلَكْتَ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَكَ الْجَنَّةَ "". فَانْطَلَقَ بِكِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَلَغَ الطَّاغِيَةَ فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكَ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَعَرَفَ طَاغِيَةُ الرُّومِ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، ثُمَّ عَرَضَ عَلَيْهِ كِتَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَمَعَ الرُّومَ عِنْدَهُ، ثُمَّ عَرَضَهُ عَلَيْهِمْ، فَكَرِهُوا مَا جَاءَ بِهِ، وَآمَنَ بِهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقُتِلَ عِنْدَ إِيمَانِهِ، ثُمَّ إِنِ الرَّجُلَ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْهُ وَمَا كَانَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ: "" يَبْعَثُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ "" لِذَلِكَ الرَّجُلِ الْمَقْتُولِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him and his father) reports that he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) ask thrice who would carry his letter to the tyrant of Rome, then promised Paradise to whoever would go. An Ansari named Ubaydullah ibn Abd al-Khaliq volunteered, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) assured him Paradise whether he delivered it, was killed, or perished. The envoy announced himself as the envoy of the Messenger of Allah, was admitted, and the tyrant recognized he had brought truth from a commissioned Prophet. After the Romans gathered, rejected the letter, and killed one man among them who believed, the envoy returned with the news, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said of the slain believer that Allah would raise him on the Day of Resurrection as a nation alone. > **"Who will take my letter to the tyrant of Rome? Whoever goes shall have Paradise. Allah will raise him on the Day of Resurrection as a nation alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :’’ کون میرا مکتوب روم کے سرکش لوگوں کی طرف لے کے جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے سامنے تین مرتبہ یہ چیز بیان کی اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : جو اسے لے کے جائے گا اسے جنت ملے گی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام عبیداللہ بن عبدالخالق تھا ۔ انہوں نے کہا : یہ میں لے جاؤں گا کہ اس کے عوض میں مجھے جنت مل جائے اگرچہ اس سے پہلے میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے تمہیں جنت ملے گی خواہ تم ( متعلقہ فرد تک یہ مکتوب ) پہنچا دو یا قتل ہو جاؤ اگر تم ہلاکت کا شکار ہو گئے تو بھی اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت کو واجب کر دے گا وہ نبی اکرم ﷺ کا مکتوب لے کر گئے ‘ یہاں تک کہ جب وہ سرکش افراد تک پہنچے اور انہوں نے یہ بتایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا قاصد ہوں ، تو انہوں نے اس کو اجازت دی وہ اندر داخل ہوئے روم کے سرکش لوگوں نے یہ بات جان لی کہ یہ ’’ مرسل ‘‘ نبی کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا مکتوب ان کے سامنے پیش کیا تو اس شخص نے اہل روم کو اپنے پاس اکٹھا کیا اور پھر ان کے سامنے یہ چیز رکھی تو وہ قاصد جو کچھ لے کے آیا تھا اسے ان لوگوں نے ناپسندیدہ قرار دیا ان میں سے ایک فرد اس پر ایمان لے آیا اس کے ایمان لانے کے ساتھ ہی اسے قتل کر دیا گیا پھر وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ کو وہاں کی صورت حال کے بارے میں اور اس شخص کے بارے میں بتایا اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ایک امت کے طور پر زندہ کرے گا ( راوی کہتے ہیں : ( یہ اس مقتول شخص کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9589

Majma al-Zawaid #9589

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: «قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّ أَوَّلَ يَوْمٍ رُعِبْتُ فِيهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، لَيَوْمُ قَالَ قَيْصَرُ فِي مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَحَضْرَتِهِ مَا قَالَ، قَالَ: يَعْنِي قَوْلَهُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ هُوَ لَمَشَيْتَ إِلَيْهِ حَتَّى أُقَبِّلَ رَأْسَهُ وَأَغْسِلَ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَحَضَرْتُهُ يَتَحَادَرُ جَبِينُهُ عَرَقًا مَرْكُوبَ الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَمَا زِلْتُ مَرْعُوبًا مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَسْلَمْتُ، وَفِي رِسَالَتِهِ: "" {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ - هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} [التوبة: 64 - 33] "" "" {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: 29]». قُلْتُ: لِأَبِي سُفْيَانَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Shaddad reports that Abu Sufyan (may Allah be pleased with him) said the first day he felt awe of Muhammad (peace and blessings of Allah be upon him) was when Caesar, in his kingdom and court, said that had he known him he would have walked to him to kiss his head and wash his feet, while sweat poured from his brow onto the Prophet's letter. Abu Sufyan remained in awe until he embraced Islam. The letter called the People of the Book to the common word that they worship none but Allah and take none as lords besides Him, declared that Allah sent His Messenger with guidance and the true religion to prevail over all religion, and commanded fighting those of the Book who disbelieve until they pay the tax in humiliation. > **"O People of the Book, come to a word common between us and you: that we worship none but Allah and associate nothing with Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں : حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ۔ ( اسلام قبول کرنے سے پہلے ) وہ پہلا دن جب میرے دل میں حضرت محمد ﷺ کا رعب طاری ہوا یہ وہ دن تھا ۔ جب قیصر نے اپنی بادشاہی اپنی حکومت اور اپنی موجودگی میں وہ بات کہی ۔ راوی کہتے ہیں : ان کی مراد قیصر کے یہ الفاظ تھے کہ اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ وہی ہیں ‘ تو میں پیدل چل کر ان کے پاس جاؤں گا ‘ اور ان کے سر کو بوسہ دوں گا ‘ اور ان کے پاؤں دھوؤں گا ابوسفیان کہتے ہیں : میں وہاں موجود تھا اس کی پیشانی سے پسینہ نکلا اور اس مکتوب پر گرا جو نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف بھیجا تھا ۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں مسلسل حضرت محمد ﷺ سے مرعوب رہا یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اس خط میں یہ تحریر تھا :’’ اے اہل کتاب ! اس کلمے کی طرف آگے آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنے میں سے کسی ایک کو معبود نہیں بنائیں گے اگر تم منہ پھیر لیتے ہو ‘ تو تم لوگ یہ کہہ دو کہ ہم مسلمان ہیں وہی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ یہ بات مشرکین کو ناپسند ہو ‘‘۔ ’’ تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرو جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور اس چیز کو حرام قرار نہیں دیتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور وہ دین حق کو اختیار نہیں کرتے ہیں جن کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہیں کتاب دی گئی ( یہ جنگ اس وقت تک کرتے رہو ) یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر پست ہونے کے عالم میں جزیہ دیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9590

Majma al-Zawaid #9590

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: "" مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْعَرَبِ فَسَمِعْتَ فِيهِمُ الْأَذَانَ فَلَا تَعْرِضْ لَهُمْ، وَمَنْ لَمْ تَسْمَعْ فِيهِمُ الْأَذَانَ فَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ [فَإِنْ لَمْ يُجِيبُوا فَجَاهِدْهُمْ]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Said (may Allah be pleased with him) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent him to Yemen with orders that whenever among the Arabs he heard the call to prayer, he was not to molest them, but those among whom he did not hear it he was to invite to Islam, and if they refused, to strive against them. > **"Whomever among the Arabs you meet and hear the call to prayer among them, do not molest them; those among whom you do not hear it, invite them to Islam, and if they refuse, then strive against them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا عربوں میں سے جس بھی ( قبیلے یا آبادی ) سے سامنا ہو اور تم ان کے درمیان اذان کی آواز سنو تو تم ان کے در پے نہ ہونا اور جن میں تم اذان نہ سنو انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا اگر وہ بات نہ مانیں تو ان کے ساتھ جہاد کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9591

Majma al-Zawaid #9591

وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَيْصَرَ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ وَعِنْدَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبْطُ الرَّأْسِ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ كَانَ فِيهِ: "" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ "". قَالَ: فَنَخَرَ ابْنُ أَخِيهِ نَخْرَةً وَقَالَ: لَا تَقْرَأْ هَذَا الْيَوْمَ. فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: لِمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ وَلَمْ يَكْتُبْ مِلْكَ الرُّومِ. فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: لَتَقْرَأَنَّهُ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ وَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، أَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُسْقُفِّ - وَهُوَ صَاحِبُ أَمْرِهِمْ - فَأَخْبَرَهُ وَأَقْرَأَهُ الْكِتَابَ فَقَالَ الْأُسْقُفُّ: هَذَا الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ وَبَشَّرَنَا بِهِ عِيسَى. فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ لَهُ الْأُسْقُفُّ: أَمَّا أَنَا فَمُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: أَمَّا أَنَا إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ. فَأَرْسَلَ قَيْصَرُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي خَرَجَ بِأَرْضِكُمْ مَا هُوَ؟ قَالَ: شَابٌّ. قَالَ: كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: هُوَ فِي حَسَبٍ مِنَّا لَا يَفْضُلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: كَيْفَ صِدْقُهُ؟ قَالَ: مَا كَذَبَ قَطُّ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِكِمْ إِلَيْهِ هَلْ يَرْجِعُ إِلَيْكُمْ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَيْكُمْ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: هَلْ يُنْكَبُ أَحْيَانًا إِذَا قَاتَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالَ: قَدْ قَاتَلَهُ قَوْمٌ فَهَزَمَهُمْ وَهَزَمُوهُ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ: أَبْلِغْ صَاحِبَكَ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَكِنْ لَا أَتْرُكُ مُلْكِي. قَالَ: وَأَمَّا الْأُسْقُفُّ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ أَحَدٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ فَيُحَدِّثُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَعَدَ إِلَى يَوْمِ الْأَحَدِ الْآخَرِ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ إِلَيْهِ فَيُكَلِّمُنِي وَيُسَائِلُنِي، فَلَمَّا جَاءَ الْأَحَدُ الْآخَرُ انْتَظَرُوهُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَاعْتَلَّ عَلَيْهِمْ بِالْمَرَضِ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَبَعَثُوا إِلَيْهِ لَتَخْرُجَنَّ إِلَيْنَا أَوْ لَنَدْخُلَنَّ عَلَيْكَ فَنَقْتُلَكَ فَإِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَاكَ مُنْذُ قَدِمَ هَذَا الْعَرَبِيُّ فَقَالَ الْأُسْقُفُّ: خُذْ هَذَا الْكِتَابَ وَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَاتَّبَعْتُهُ، وَأَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا عَلَيَّ ذَلِكَ فَبَلِّغْهُ مَا تَرَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ خَرَجَ دِحْيَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رُسُلُ عُمَّالِ كِسْرَى عَلَى صَنْعَاءَ بَعَثَهُمْ إِلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ صَنْعَاءَ يَتَوَعَّدُهُ يَقُولُ: لَتَكْفِيَنِّي رَجُلًا خَرَجَ بِأَرْضِكَ يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ أَوْ أُؤَدِّي الْجِزْيَةَ أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ فَبَعَثَ صَاحِبُ صَنْعَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةً وَعِشْرِينَ رَجُلًا فَوَجَدَهُمْ دِحْيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمَّا قَرَأَ [كِتَابَ] صَاحِبِهِمْ تَرَكَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً تَعَرَّضُوا لَهُ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَعَاهُمْ فَقَالَ: "" اذْهَبُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ اللَّيْلَةَ "". فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ: احْصُوَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَخْبَرُونِي كَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالُوا: مَا رَأَيْنَا مَلِكًا أَهْنَأَ مِنْهُ يَمْشِي فِيهِمْ لَا يَخَافُ شَيْئًا مُبْتَذِلًا لَا يُحْرَسُ وَلَا يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ. قَالَ دِحْيَةُ: ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ أَنَّ كِسْرَى قُتِلَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Dihyah al-Kalbi (may Allah be pleased with him) reports at length that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent him to Caesar, where he delivered a letter addressed from Muhammad the Messenger of Allah to Heraclius of Rome. Caesar's red, blue-eyed nephew with straight hair objected that the writer began with himself and wrote chief of Rome rather than king, but Caesar ordered the letter read fully, dismissed the court, admitted Dihyah privately, and consulted the chief bishop, who affirmed this was the awaited one foretold by Jesus and that he himself believed and would follow, while Caesar said doing so would cost his kingdom. Caesar then summoned Abu Sufyan, who was present in his land, and questioned him about the man risen among them: a youth of unmatched lineage, never known to lie, whose followers never return to disbelief while deserters return to him, and who meets victory and defeat in battle. To each answer Caesar said, this is a sign of prophethood, and he charged Dihyah to convey that he knew him to be a Prophet but would not abandon his kingdom. > **"From Muhammad, the Messenger of Allah, to Heraclius, the chief of Rome. Convey to your master that I know he is a Prophet, but I will not abandon my kingdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے قیصہ کی طرف بھیجا میں اس کے پاس آیا اور میں نے مکتوب اسے دیا اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا ، وہ سرخ رنگت نیلی آنکھوں سیدھے بالوں والا شخص تھا ۔ جب اس نے مکتوب پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا : ’’ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے روم کے متعلقہ فرد ہرقل کے نام ہے ‘‘ راوی کہتے ہیں : تو اس کا بھتیجا ‘ جو سرخ رنگت ، نیلی آنکھوں اور سیدھے بالوں کا مالک تھا ‘ اس نے کہا : آپ اسے نہ پڑھیں قیصر نے اس سے دریافت کیا : کیوں ؟ اس نے جواب دیا : ان صاحب نے پہلے اپنا ذکر کیا ہے اور آپ کو روم کا متعلقہ فرد لکھا ہے روم کا بادشاہ نہیں لکھا قیصر نے اس سے کہا تم اسے ضرور پڑھو جب اس نے مکتوب پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے قیصر نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور پھر ایک پادری کو پیغام بھیجا جو ان کے معاملات میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا قیصر نے اسے اس بارے میں بتایا اور اسے وہ مکتوب پڑھایا تو اس پادری نے کہا : یہ وہ فرد ہیں ، جن کا ہم انتظار کر رہے تھے اور جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی قیصر نے اس سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ پادری نے اس سے کہا جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ‘ تو میں ان کی تصدیق کروں گا ‘ اور ان کی پیروی کروں گا قیصر نے اسے کہا اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری بادشاہی رخصت ہو جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم اس کے پاس سے نکل آئے پھر قیصر نے ابوسفیان کو پیغام بھیج کر بلوایا جو ان دنوں وہاں مقیم تھا ‘ اور یہ کہا کہ تم مجھے اس فرد کے بارے میں بتاؤ جن کا ظہور تمہاری سرزمین پر ہوا ہے یہ کون ہے ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : یہ ایک نوجوان ہیں اس نے دریافت کیا : تمہارے درمیان ان کا حسب کیسا ہے ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : وہ ہمارے درمیان ایسی حیثیت کے مالک ہیں کہ کوئی بھی ان پر فضیلت نہیں رکھتا قیصر نے کہا : یہ نبوت کی ایک نشانی ہے اس نے کہا : ان کی سچائی کیسی ہے ؟ ابوسفیان نے کہا : انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا قیصر نے یہ کہا یہ نبوت کی نشانی ہے قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہارا کیا کہنا ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو شخص نکل کر ان کی طرف گیا کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آیا ۔ ابوسفیان نے جواب دیا : جی نہیں قیصر نے کہا یہ نبوت کی نشانی ہے پھر قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر ان کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص نکل کر تمہاری طرف آیا ہو ‘ تو کیا وہ ان کی طرف لوٹ جاتے ہیں ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : جی ہاں ۔ قیصر نے کہا : یہ نبوت کی نشانی ہے قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا ہوا کہ جب انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جنگ میں حصہ لیا ہو ‘ تو وہ پسپا ہو گئے ہوں ابوسفیان نے جواب دیا : لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور کبھی انہوں نے لوگوں کو پسپا کر دیا اور کبھی لوگوں نے انہیں پسپا کر دیا قیصر نے جواب دیا : یہ نبوت کی نشانی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر قیصر نے مجھے بلوایا اور بولا تم اپنے آقا تک یہ بات پہنچا دو کہ مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ وہ نبی ہیں لیکن میں اپنی حکومت ترک نہیں کروں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے ‘ تو وہ لوگ ہر اتوار کے دن اس پادری کے پاس اکٹھے ہوا کرتے تھے ۔ وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا انہیں وعظ و نصیحت کرتا تھا ۔ جب اتوار کا دن آیا تو وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس نہیں آیا اگلا اتوار آنے تک وہ بند رہا میں اس کے پاس جاتا تھا وہ مجھ سے بات چیت کرتا تھا مجھ سے سوالات کیا کرتا تھا ۔ جب اگلا اتوار آیا اور لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور انہیں یہ بتایا کہ میں بیمار ہوں ایسا چند مرتبہ ہوا تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ تم یا تو نکل کر ہمارے پاس آؤ گے یا ہم تمہارے پاس اندر آ جائیں گے اور تمہیں قتل کر دیں گے ‘ کیونکہ جب سے عرب سے تعلق رکھنے والا یہ شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی ہے پادری نے ( مجھ سے ) کہا تم یہ مکتوب لو ‘ اور اسے اپنے آقا کے پاس لے جاؤ ان کی خدمت میں سلام پیش کرنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں میں ان پر ایمان لاتا ہوں ان کی تصدیق کرتا ہوں اور ان کی پیروی کرتا ہوں لوگ مجھ پر اعتراض کر رہے ہیں ، تم نے جو چیز دیکھی ہے وہ ان تک پہنچا دینا پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا تو ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا پھر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہاں سے نبی اکرم ﷺ کی طرف روانہ ہوئے اس وقت صنعا پر کسری کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ان لوگوں کو گورنر نے نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا تھا کسری نے صنعا کے گورنر کو یہ خط لکھا تھا ، اور اسے ڈانٹا تھا کہ تم میری جگہ ان صاحب کو سنبھال لو جو تمہاری سرزمین پر ظہور پذیر ہوئے ہیں انہوں نے مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دی ہے یا تو میں اسے قبول کر لوں یا جزیہ ادا کروں ( تم ایسا کر لو ) ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ‘ اور تمہیں یہ کروں گا ‘ اور وہ کروں گا ‘ تو صنعا کے گورنر نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پچیس افراد کو بھیجا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس پایا جب ان لوگوں نے اپنے متعلقہ فرد کا مکتوب پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پچیس دن تک ایسے ہی رہنے دیا جب پچیس دن گزر گئے تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلا کر فرمایا تم اپنے آقا کے پاس واپس چلے جاؤ ( یعنی صنعا کے گورنر کے پاس واپس چلے جاؤ ) اور اس سے یہ کہو کہ گزشتہ رات میرے پروردگار نے تمہارے آقا کو قتل کر دیا ہے وہ لوگ واپس چلے گئے ‘ اور گورنر کو اس بارے میں بتایا تو گورنر نے کہا تم لوگ اس رات کو یاد رکھنا پھر اس نے کہا : تم مجھے بتاؤ کہ تم نے انہیں کیسے دیکھا تو ان لوگوں نے بتایا : ہم نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا کہ جو ان سے زیادہ عوامی حیثیت کا ہو ‘ وہ لوگوں کے درمیان یوں چلتے پھرتے ہیں کہ انہیں کسی چیز سے اندیشہ نہیں ہوتا ‘ نہ ان کی حفاظت کی جاتی ہے لوگ ان کے سامنے آوازیں بلند نہیں کرتے ہیں ۔ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آئی کہ اسی رات کسری قتل ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

9592

Majma al-Zawaid #9592

وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ مُقْبِلٍ الْجُذَامِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «وَفَدَ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ الْجُذَامِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا فِيهِ: "" [بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ] مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِرِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنِّي بَعَثْتُهُ إِلَى قَوْمِهِ عَامَّةً وَمَنْ دَخَلَ فِيهِمْ يَدَعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَمَنْ آمَنَ فَفِي حِزْبِ اللَّهِ وَحِزْبِ رَسُولِهِ وَمَنْ أَدْبَرَ فَلَهُ أَمَانُ شَهْرَيْنِ "". فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ أَجَابُوهُ ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلَ الْحَرَّةَ حَرَّةَ الرَّجْلَى، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَدِمَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ مِنْ عِنْدِ قَيْصَرَ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانُوا بِوَادٍ مِنْ أَوْدِيَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ: شَنَارٌ وَمَعَهُ تِجَارَةٌ أَغَارَ عَلَيْهِمُ الْهُنَيْدُ بْنُ عُوَيْصٍ - وَأَبُوهُ الضَّبْعِيُّ بَطْنٌ مِنْ جُذَامٍ - فَأَصَابُوا كُلَّ شَيْءٍ مَعَهُ، ثُمَّ إِنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِ رِفَاعَةَ نَفَذُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ وَفِي مَنْ أَقْبَلَ: النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي جِعَالٍ حَتَّى لَقُوهُمْ وَاقْتَتَلُوا، وَرَمَى قُرَّةُ بْنُ أَشْقَرَ الضَّبْعِيُّ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي جِعَالٍ بِحَجَرٍ فَأَصَابَ كَعْبَهُ وَدَمَّاهُ وَقَالَ: ابْنُ أُثَالَةَ ثُمَّ رَمَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي جِعَالٍ بِحَجَرٍ فَأَصَابَ رُكْبَتَهُ وَقَالَ: أَنَا ابْنُ أُثَالَةَ، وَقَدْ كَانَ حَسَّانُ بْنُ مِلَّةَ صَحِبَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَّمَهُ أُمَّ الْكِتَابِ وَاسْتَنْقَذُوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَرَدُّوهُ عَلَى دِحْيَةَ. ثُمَّ إِنَّ دِحْيَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَاسْتَسْقَاهُ دَمَ الْهُنَيْدِ وَأَبِيهِ عُوَيْصٍ، [وَذَلِكَ الَّذِي هَاجَ زَيْدٌ وَجُذَامٍ] فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَبَعَثَ مَعَهُ جَيْشًا وَقَدْ تَوَجَّهَتْ غَطَفَانُ وَجُذَامَ وَوَائِلُ وَمَنْ كَانَ مِنْ سَلْمَانَ وَسَعْدِ بْنِ هُذَيْلٍ حَتَّى جَاءَهُمْ رِفَاعَةُ بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ الْحَرَّةَ - حَرَّةَ الرَّجْلَى - وَرِفَاعَةُ بِكُرَاعِ الْعَمِيمِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي ضَبِيبٍ وَسَائِرُ بَنِي الضَّبِيبِ بِوَادِي مَدَارَةَ مِنْ نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا هَكَذَا وَمُنْقَطِعًا مُخْتَصَرًا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ لَمْ يُجَاوِزْهُمْ وَفِي الْمُتَّصِلِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ وَإِسْنَادُهُمَا إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Umayr ibn Muqbil al-Judhami reports from his father that Rifa'ah ibn Zayd al-Judhami came as a delegate to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), who wrote for him a charter in the name of Allah addressed to Rifa'ah, sending him to his people and all who joined them to call them to Allah and His Messenger, so that believers would be in the party of Allah and His Messenger while those who turned away would have two months of security. His people accepted, and he encamped at the lava field until Dihyah al-Kalbi passed returning from Caesar with trade goods at a valley called Shanar, where al-Hunayd ibn Uways attacked and seized all he had. Men of Rifa'ah's people, among them Numan ibn Abi Jial, pursued and fought; Qurrah ibn Ashqar struck Numan's ankle and cried out his clan name, and Numan struck his knee in return. Hassan ibn Millah, who had accompanied Dihyah earlier and taught him the Opening Chapter, helped recover what was taken and return it to Dihyah. Dihyah then told the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and sought the blood of al-Hunayd and his father, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) sent Zayd ibn Harithah with an army as Ghatfan, Judham, and others mobilized. > **"In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate: this is a writ from Muhammad, the Messenger of Allah, to Rifa'ah ibn Zayd. Whoever believes is in the party of Allah and His Messenger, and whoever turns away has security for two months."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن مقبل جذامی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت رفاعہ بن زید جذامی ایک وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے ایک مکتوب لکھوایا جس میں یہ تحریر تھا :’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے مکتوب ہے ‘ جو رفاعہ بن زید کے لئے ہے میں اسے اس کی قوم کی طرف بھیج رہا ہوں ان میں سے جو شخص ان میں داخل ہوتا ہے ( اس کی طرف بھیج رہا ہوں ) یہ ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دے گا جو شخص ایمان لے آئے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ میں شمار ہو گا ‘ اور جو منہ پھیر لے گا اسے دو مہینوں تک امان ملے گی ‘‘۔ جب حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی طرف آئے تو ان لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا پھر وہ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے رجلی کی پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا اس کے بعد وہ وہیں مقیم رہے ‘ یہاں تک کہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ قیصر کے پاس سے آ گئے جنہیں نبی اکرم ﷺ نے بھیجا تھا ۔ جب وہ لوگ اپنی وادیوں میں سے ایک وادی میں مقیم تھے جس کا نام شنار تھا ‘ اور ان کے ساتھ تجارت تھی جس پر ہنید بن عویص نے حملہ کیا تھا اس کا باپ صبھی تھا جس کا تعلق جذام کی ذیلی شاخ سے تھا انہوں نے ان کے پاس موجود ہر چیز لے لی تھی پھر حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ کی قوم کے کچھ افراد ان کی طرف گئے ‘ اور وہ لوگ ان کی طرف آ گئے آنے والوں میں ایک شخص نعمان بن ابوجعال تھے ‘ یہاں تک کہ ان کا ان لوگوں کے ساتھ سامنا ہوا اور لڑائی ہوئی تو قرہ بن اشقر ربعی نے نعمان بن ابوجعال کو پتھر مار کر اس کی پنڈلی کو زخمی کر کے خون آلود کر دیا اور کہا ابن اثالہ پھر نعمان ابوجعال نے ایک پتھر مارا اور ان کے گھٹنے پر مارا اور کہا میں ابن اثالہ ہوں حسان بن ملہ ‘ دحیہ کلبی کے ساتھ اس سے پہلے رہے تھے ۔ انہوں نے انہیں سورت فاتحہ کی تعلیم دی تھی تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا وہ انہوں نے چھڑوا لیا اور وہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا ۔ پھر حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا اور انہوں نے ہنید اور اس کے باپ عویص کا خون مانگا اس کی وجہ یہ تھی زید اور جذام میں ہیجان تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ ایک لشکر بھیجا ، انہوں نے غطفان ‘ جذام اور وائل قبیلے ‘ اور سلمان اور سعد بن ہذیل قبیلے کے افراد کی طرف رخ کیا ‘ یہاں تک کہ حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا مکتوب لے کر اُن کے پاس آ گئے ‘ اور انہوں نے رجلہ کی پتھریلی زمین پر پڑاؤ کیا حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ ’’ کراع الغمیم ‘‘ کے مقام پر تھے ان کے ساتھ بوضبیب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے اور باقی تمام بنوضبیب پتھریلی زمین کے ایک کنارے پر وادی ’’ مدارہ ‘‘ میں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح متصل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور منقطع اور مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ‘ جو ابن اسحاق سے منقول ہے انہوں نے ان سے تجاوز نہیں کیا متصل سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان دونوں کی سند ابن اسحاق تک عمدہ ہے ۔

9593

Majma al-Zawaid #9593

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ وَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: "" أَمَا إِنِّي لَوْ بُعِثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ "" .. ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجُلَنْدَا يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَبِلَهُ وَأَسْلَمَ وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَدِيَّةً فَقَدِمَتِ الْهَدِيَّةُ، وَقَدْ قُبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مَوْرَثًا فَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَبَيْنَ النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with him and his father) reports that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) wrote to a tribe of the Arabs inviting them to Islam, but they rejected the letter. When the messengers returned, he said that had he sent it to the Azd of Shanuah and Aslam on the coast of Oman they would have accepted it. He then wrote to al-Julanda inviting him to Islam, who accepted, embraced Islam, and sent a gift which arrived after the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) had passed away, whereupon Abu Bakr (may Allah be pleased with him) treated it as inheritance and divided it between Fatimah (may Allah be pleased with her) and the people. > **"Had I sent it to a people of the Azd of Shanuah and Aslam on the shore of Oman, they would have accepted it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے عربوں کے ایک قبیلے کو خط لکھا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی انہوں نے اس مکتوب کو قبول نہیں کیا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر میں یہ مکتوب عمان کے کنارے ازشنوءہ اور اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والی قوم کی طرف بھجواتا ‘ تو وہ لوگ اسے قبول کر لیتے ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے جلندہ کی طرف مکتوب بھیجا اور انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اور وہ اسلام لے آئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں انہوں نے ایک تحفہ بھجوایا وہ تحفہ آیا تو اس وقت نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو چکا تھا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ تحفہ لیا اور اسے وراثت کے طور پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔

9594

Majma al-Zawaid #9594

وَعَنْ مُجَمِّعِ بْنِ عَتَّابِ بْنِ شِمْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنْ لِي أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا وَإِخْوَةً، فَأَذْهَبُ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ أَنْ يُسْلِمُوا فَآتِيكَ بِهِمْ؟ قَالَ: "" إِنْ هُمْ أَسْلَمُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُمْ وَإِنْ هُمْ أَقَامُوا فَالْإِسْلَامُ عَرِيضٌ وَاسِعٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mujammi ibn Attab ibn Shamir reports from his father that he said to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that he had an aged father and brothers and asked leave to go to them hoping they would accept Islam and that he might bring them. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) replied that if they accepted it would be better for them, and if they remained where they were, Islam is still broad and spacious. > **"If they accept Islam it is better for them, and if they remain, Islam is broad and spacious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجمع بن عتاب بن شمر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میرے والد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں اور میرے بھائی بھی ہیں میں ان کی طرف جاتا ہوں ہو سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ، تو میں انہیں لے کر آپ کے پاس آ جاؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں ، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا وہ بھلے وہیں مقیم رہیں ، کیونکہ اسلام وسیع اور کشادہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن جابر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔