وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَيْصَرَ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ وَعِنْدَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبْطُ الرَّأْسِ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ كَانَ فِيهِ: "" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ "". قَالَ: فَنَخَرَ ابْنُ أَخِيهِ نَخْرَةً وَقَالَ: لَا تَقْرَأْ هَذَا الْيَوْمَ. فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: لِمَ؟ قَالَ: إِنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَكَتَبَ صَاحِبَ الرُّومِ وَلَمْ يَكْتُبْ مِلْكَ الرُّومِ. فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: لَتَقْرَأَنَّهُ فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ وَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ، أَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُسْقُفِّ - وَهُوَ صَاحِبُ أَمْرِهِمْ - فَأَخْبَرَهُ وَأَقْرَأَهُ الْكِتَابَ فَقَالَ الْأُسْقُفُّ: هَذَا الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ وَبَشَّرَنَا بِهِ عِيسَى. فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ لَهُ الْأُسْقُفُّ: أَمَّا أَنَا فَمُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ: أَمَّا أَنَا إِنْ فَعَلْتُ ذَهَبَ مُلْكِي، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ. فَأَرْسَلَ قَيْصَرُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي خَرَجَ بِأَرْضِكُمْ مَا هُوَ؟ قَالَ: شَابٌّ. قَالَ: كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: هُوَ فِي حَسَبٍ مِنَّا لَا يَفْضُلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: كَيْفَ صِدْقُهُ؟ قَالَ: مَا كَذَبَ قَطُّ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِكِمْ إِلَيْهِ هَلْ يَرْجِعُ إِلَيْكُمْ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَيْكُمْ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: هَلْ يُنْكَبُ أَحْيَانًا إِذَا قَاتَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالَ: قَدْ قَاتَلَهُ قَوْمٌ فَهَزَمَهُمْ وَهَزَمُوهُ. قَالَ: هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ. قَالَ: ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ: أَبْلِغْ صَاحِبَكَ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَكِنْ لَا أَتْرُكُ مُلْكِي. قَالَ: وَأَمَّا الْأُسْقُفُّ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ أَحَدٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ فَيُحَدِّثُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَعَدَ إِلَى يَوْمِ الْأَحَدِ الْآخَرِ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ إِلَيْهِ فَيُكَلِّمُنِي وَيُسَائِلُنِي، فَلَمَّا جَاءَ الْأَحَدُ الْآخَرُ انْتَظَرُوهُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَاعْتَلَّ عَلَيْهِمْ بِالْمَرَضِ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَبَعَثُوا إِلَيْهِ لَتَخْرُجَنَّ إِلَيْنَا أَوْ لَنَدْخُلَنَّ عَلَيْكَ فَنَقْتُلَكَ فَإِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَاكَ مُنْذُ قَدِمَ هَذَا الْعَرَبِيُّ فَقَالَ الْأُسْقُفُّ: خُذْ هَذَا الْكِتَابَ وَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنْ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَاتَّبَعْتُهُ، وَأَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا عَلَيَّ ذَلِكَ فَبَلِّغْهُ مَا تَرَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ خَرَجَ دِحْيَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رُسُلُ عُمَّالِ كِسْرَى عَلَى صَنْعَاءَ بَعَثَهُمْ إِلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ صَنْعَاءَ يَتَوَعَّدُهُ يَقُولُ: لَتَكْفِيَنِّي رَجُلًا خَرَجَ بِأَرْضِكَ يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ أَوْ أُؤَدِّي الْجِزْيَةَ أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ فَبَعَثَ صَاحِبُ صَنْعَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةً وَعِشْرِينَ رَجُلًا فَوَجَدَهُمْ دِحْيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمَّا قَرَأَ [كِتَابَ] صَاحِبِهِمْ تَرَكَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً تَعَرَّضُوا لَهُ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَعَاهُمْ فَقَالَ: "" اذْهَبُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ اللَّيْلَةَ "". فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ: احْصُوَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَخْبَرُونِي كَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالُوا: مَا رَأَيْنَا مَلِكًا أَهْنَأَ مِنْهُ يَمْشِي فِيهِمْ لَا يَخَافُ شَيْئًا مُبْتَذِلًا لَا يُحْرَسُ وَلَا يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ. قَالَ دِحْيَةُ: ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ أَنَّ كِسْرَى قُتِلَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Dihyah al-Kalbi (may Allah be pleased with him) reports at length that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent him to Caesar, where he delivered a letter addressed from Muhammad the Messenger of Allah to Heraclius of Rome. Caesar's red, blue-eyed nephew with straight hair objected that the writer began with himself and wrote chief of Rome rather than king, but Caesar ordered the letter read fully, dismissed the court, admitted Dihyah privately, and consulted the chief bishop, who affirmed this was the awaited one foretold by Jesus and that he himself believed and would follow, while Caesar said doing so would cost his kingdom. Caesar then summoned Abu Sufyan, who was present in his land, and questioned him about the man risen among them: a youth of unmatched lineage, never known to lie, whose followers never return to disbelief while deserters return to him, and who meets victory and defeat in battle. To each answer Caesar said, this is a sign of prophethood, and he charged Dihyah to convey that he knew him to be a Prophet but would not abandon his kingdom. > **"From Muhammad, the Messenger of Allah, to Heraclius, the chief of Rome. Convey to your master that I know he is a Prophet, but I will not abandon my kingdom."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے قیصہ کی طرف بھیجا میں اس کے پاس آیا اور میں نے مکتوب اسے دیا اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا ، وہ سرخ رنگت نیلی آنکھوں سیدھے بالوں والا شخص تھا ۔ جب اس نے مکتوب پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا : ’’ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی طرف سے روم کے متعلقہ فرد ہرقل کے نام ہے ‘‘ راوی کہتے ہیں : تو اس کا بھتیجا ‘ جو سرخ رنگت ، نیلی آنکھوں اور سیدھے بالوں کا مالک تھا ‘ اس نے کہا : آپ اسے نہ پڑھیں قیصر نے اس سے دریافت کیا : کیوں ؟ اس نے جواب دیا : ان صاحب نے پہلے اپنا ذکر کیا ہے اور آپ کو روم کا متعلقہ فرد لکھا ہے روم کا بادشاہ نہیں لکھا قیصر نے اس سے کہا تم اسے ضرور پڑھو جب اس نے مکتوب پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے قیصر نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور پھر ایک پادری کو پیغام بھیجا جو ان کے معاملات میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا قیصر نے اسے اس بارے میں بتایا اور اسے وہ مکتوب پڑھایا تو اس پادری نے کہا : یہ وہ فرد ہیں ، جن کا ہم انتظار کر رہے تھے اور جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی قیصر نے اس سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ پادری نے اس سے کہا جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ‘ تو میں ان کی تصدیق کروں گا ‘ اور ان کی پیروی کروں گا قیصر نے اسے کہا اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری بادشاہی رخصت ہو جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم اس کے پاس سے نکل آئے پھر قیصر نے ابوسفیان کو پیغام بھیج کر بلوایا جو ان دنوں وہاں مقیم تھا ‘ اور یہ کہا کہ تم مجھے اس فرد کے بارے میں بتاؤ جن کا ظہور تمہاری سرزمین پر ہوا ہے یہ کون ہے ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : یہ ایک نوجوان ہیں اس نے دریافت کیا : تمہارے درمیان ان کا حسب کیسا ہے ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : وہ ہمارے درمیان ایسی حیثیت کے مالک ہیں کہ کوئی بھی ان پر فضیلت نہیں رکھتا قیصر نے کہا : یہ نبوت کی ایک نشانی ہے اس نے کہا : ان کی سچائی کیسی ہے ؟ ابوسفیان نے کہا : انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا قیصر نے یہ کہا یہ نبوت کی نشانی ہے قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہارا کیا کہنا ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو شخص نکل کر ان کی طرف گیا کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آیا ۔ ابوسفیان نے جواب دیا : جی نہیں قیصر نے کہا یہ نبوت کی نشانی ہے پھر قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر ان کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص نکل کر تمہاری طرف آیا ہو ‘ تو کیا وہ ان کی طرف لوٹ جاتے ہیں ؟ ابوسفیان نے جواب دیا : جی ہاں ۔ قیصر نے کہا : یہ نبوت کی نشانی ہے قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا ہوا کہ جب انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جنگ میں حصہ لیا ہو ‘ تو وہ پسپا ہو گئے ہوں ابوسفیان نے جواب دیا : لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور کبھی انہوں نے لوگوں کو پسپا کر دیا اور کبھی لوگوں نے انہیں پسپا کر دیا قیصر نے جواب دیا : یہ نبوت کی نشانی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر قیصر نے مجھے بلوایا اور بولا تم اپنے آقا تک یہ بات پہنچا دو کہ مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ وہ نبی ہیں لیکن میں اپنی حکومت ترک نہیں کروں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے ‘ تو وہ لوگ ہر اتوار کے دن اس پادری کے پاس اکٹھے ہوا کرتے تھے ۔ وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا انہیں وعظ و نصیحت کرتا تھا ۔ جب اتوار کا دن آیا تو وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس نہیں آیا اگلا اتوار آنے تک وہ بند رہا میں اس کے پاس جاتا تھا وہ مجھ سے بات چیت کرتا تھا مجھ سے سوالات کیا کرتا تھا ۔ جب اگلا اتوار آیا اور لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور انہیں یہ بتایا کہ میں بیمار ہوں ایسا چند مرتبہ ہوا تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ تم یا تو نکل کر ہمارے پاس آؤ گے یا ہم تمہارے پاس اندر آ جائیں گے اور تمہیں قتل کر دیں گے ‘ کیونکہ جب سے عرب سے تعلق رکھنے والا یہ شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی ہے پادری نے ( مجھ سے ) کہا تم یہ مکتوب لو ‘ اور اسے اپنے آقا کے پاس لے جاؤ ان کی خدمت میں سلام پیش کرنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں میں ان پر ایمان لاتا ہوں ان کی تصدیق کرتا ہوں اور ان کی پیروی کرتا ہوں لوگ مجھ پر اعتراض کر رہے ہیں ، تم نے جو چیز دیکھی ہے وہ ان تک پہنچا دینا پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا تو ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا پھر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہاں سے نبی اکرم ﷺ کی طرف روانہ ہوئے اس وقت صنعا پر کسری کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ان لوگوں کو گورنر نے نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا تھا کسری نے صنعا کے گورنر کو یہ خط لکھا تھا ، اور اسے ڈانٹا تھا کہ تم میری جگہ ان صاحب کو سنبھال لو جو تمہاری سرزمین پر ظہور پذیر ہوئے ہیں انہوں نے مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دی ہے یا تو میں اسے قبول کر لوں یا جزیہ ادا کروں ( تم ایسا کر لو ) ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ‘ اور تمہیں یہ کروں گا ‘ اور وہ کروں گا ‘ تو صنعا کے گورنر نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پچیس افراد کو بھیجا حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس پایا جب ان لوگوں نے اپنے متعلقہ فرد کا مکتوب پڑھا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پچیس دن تک ایسے ہی رہنے دیا جب پچیس دن گزر گئے تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف آئے جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلا کر فرمایا تم اپنے آقا کے پاس واپس چلے جاؤ ( یعنی صنعا کے گورنر کے پاس واپس چلے جاؤ ) اور اس سے یہ کہو کہ گزشتہ رات میرے پروردگار نے تمہارے آقا کو قتل کر دیا ہے وہ لوگ واپس چلے گئے ‘ اور گورنر کو اس بارے میں بتایا تو گورنر نے کہا تم لوگ اس رات کو یاد رکھنا پھر اس نے کہا : تم مجھے بتاؤ کہ تم نے انہیں کیسے دیکھا تو ان لوگوں نے بتایا : ہم نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا کہ جو ان سے زیادہ عوامی حیثیت کا ہو ‘ وہ لوگوں کے درمیان یوں چلتے پھرتے ہیں کہ انہیں کسی چیز سے اندیشہ نہیں ہوتا ‘ نہ ان کی حفاظت کی جاتی ہے لوگ ان کے سامنے آوازیں بلند نہیں کرتے ہیں ۔ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آئی کہ اسی رات کسری قتل ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔