وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ فَتًى مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَقَالَ: سَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَاشِرَ عَشَرَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَرَجُلٌ آخَرُ سَمَّاهُ وَأَنَا، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا "". قَالَ: أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: "" أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَكْثَرُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ - أَوْ قَالَ: يَنْزِلَ بِهِ - أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ "". ثُمَّ سَكَتَ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا ظَهَرَ فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ فِي أَسْلَافِهِمْ، وَلَا نَقَصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَأَخَذَ بَعْضَ مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَإِذَا لَمْ يَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ "". قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَتَجَهَّزُ لِسَرِيَّةٍ أَمَّرَهُ عَلَيْهَا، فَأَصْبَحَ قَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَقَضَهَا وَعَمَّمَهُ وَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ ثُمَّ قَالَ: "" هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ "". ثُمَّ أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ: "" اغْزُوا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا "". فَهَذَا عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُنَّتُهُ فِيكُمْ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ata ibn Abi Rabah reports that he was with Ibn Umar (may Allah be pleased with him and his father) when a Basran youth asked him a question, and Ibn Umar recounted that he had been one of ten in the mosque of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), with Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, Ibn Masud, Hudhayfah, Abu Said al-Khudri, another named man, and himself (may Allah be pleased with them). An Ansari youth greeted the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and asked which believers were most excellent and most sagacious; he answered the best in character, and those who remember death most and prepare for it before it descends. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) then warned that indecency brings plague and new pains, short measure brings drought, hardship, and tyranny, withholding charity withholds rain save for the sake of beasts, breaking the covenant of Allah and His Messenger empowers enemies, and rulers who abandon the Book bring strife among their people. He then ordered Abd al-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) to ready a detachment, fixed his black turban leaving four fingers behind, praised Allah, handed him the banner, and charged all to fight disbelievers without theft, treachery, mutilation, or killing infants, declaring this the covenant and practice of the Messenger of Allah. > **"The best in character. Those who remember death most and prepare for it most. Fight together in the path of Allah: fight those who disbelieved in Allah, do not steal from spoils, do not act treacherously, do not mutilate, and do not kill an infant."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آیا اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا مجھ سمیت دس افراد تھے ہم لوگ مسجد نبوی میں تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے ( راوی کہتے ہیں : ایک اور صاحب کا انہوں نے نام لیا تھا ) اور میں تھا انصار سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان آیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور پھر وہ بیٹھ گیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل ایمان میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اس نے عرض کی : اہل ایمان میں کون زیادہ سمجھدار ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو موت کو کثرت سے یاد رکھے اور اس کے نازل ہونے سے پہلے اس کی بکثرت تیاری رکھے یہی لوگ سمجھدار ہیں پھر آپ خاموش ہو گئے پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : جب بھی کسی قوم میں فحاشی ظاہر ہوتی ہے ‘ تو ان کے درمیان طاعون اور مختلف قسم کی ایسی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں ، جو ان سے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں اور جب بھی کوئی قوم ماپنے اور وزن کرنے میں کمی کرتی ہے ‘ تو انہیں قحط سالی گرفت میں لے لیتی ہے حالات میں سختی آ جاتی ہے حکمرانوں کا ظلم ان پر ہونے لگتا ہے اور جو لوگ اپنے اموال کی زکوۃ نہیں دیتے ہیں ان پر آسمان سے بارش نازل نہیں ہوتی ‘ یہاں تک کہ اگر جانور نہ ہوں ، تو ان پر بارش ہی نازل نہ ہو اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نام کے عہد یا اس کے رسول کے نام کے عہد کو توڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ ان کی کچھ چیزوں کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور جب کسی قوم کے حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان مشکل ( یا اختلافات ) ڈال دیتا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک جنگی مہم کے لئے تیاری کریں ، جس کا امیر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا اگلے دن جب وہ صبح آئے تو انہوں نے سیاہ رنگ کا ‘ موٹے اونی کپڑے کا عمامہ باندھا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلوایا ان کا عمامہ کھولا انہیں دوبارہ عمامہ باندھا اور پیچھے کی طرف چار انگل کا شملہ چھوڑا پھر آپ نے فرمایا : اے ابن عوف اس طرح عمامہ باندھا کرو ‘ کیونکہ یہ عربوں کے رواج کے مطابق ہے اور زیادہ اچھا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں جھنڈا دیں ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر یہ فرمایا : تم سب لوگ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لو ‘ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ کرو تم خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا مثلہ نہ کرنا اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا ۔ یہ اللہ کے رسول کا عہد ہے اور تمہارے درمیان ان کی سنت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔