Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 26 · Chapter 6

Book of Jihad

Hadith 9475–9514

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9475

Majma al-Zawaid #9475

وَعَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ بِدَرْبٍ قَلَمْتَةَ إِذْ نَادَى الْأَمِيرُ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ رَجُلًا يَقُودُ فَرَسَهُ فِي عِرَاضِ الْجَبَلِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا تَرْكَبُ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ: "" سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِي أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا الْمُصَبِّحِ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: "" سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ "" أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abu al-Musabbih reported that while they were marching at Darb Qalmat, the commander Malik ibn Abdullah al-Khathami called to a man leading his horse along the mountain side, asking why he would not ride, and the man cited what he had heard from the Messenger ﷺ. > **"Whose feet become dusty in the path of Allah, they are forbidden to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو مصبح بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم درب قلمتہ میں چل رہے تھے اسی دوران امیر مالک بن عبداللہ خثعمی نے ایک شخص کو بلند آواز میں پکارا جو اپنے گھوڑے کو پہاڑ کی طرف لے کے چل رہا تھا ‘ اور یہ کہا : اے ابوعبداللہ ! آپ سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں گے تو وہ دونوں جہنم پر حرام ہوں گے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے دو طریقوں میں سے ایک روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ” دن کی ایک گھڑی کے لئے “۔ دو طریقوں میں سے ایک میں امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومصبح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے دوسری روایت کے مطابق امام احمد نے بھی یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دن کی ایک گھڑی کے لئے ‘‘۔

9476

Majma al-Zawaid #9476

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Abdullah al-Khathami, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ spoke of dusty feet. > **"Whose feet become dusty in the path of Allah, Allah forbids him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9477

Majma al-Zawaid #9477

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ "". فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْ يَوْمِئِذٍ وَنَحْنُ مِنْ وَرَاءِ الدُّرُوبِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Affan, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ spoke of dusty feet, after which the narrator said he never saw more walking men than that day while they were behind the passes. > **"Whose feet become dusty in the path of Allah, Allah forbids him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام قرار دیدے گا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اس دن سے زیادہ پیدل چلنے والے افرد کبھی نہیں دیکھے ہم اس وقت دروب سے پیچھے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

9478

Majma al-Zawaid #9478

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى قَالَ: «مَرَّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ وَهُوَ عَلَى النَّاسِ بِالصَّائِفَةِ بِأَرْضِ الرُّومِ يَقُودُ دَابَّتَهُ فَقَالَ لَهُ: ارْكَبْ فَإِنِّي أَرَى دَابَّتَكَ ظَهِيرَةً قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا النَّارَ "". قَالَ: فَنَزَلَ مَالِكٌ وَنَزَلَ النَّاسُ يَمْشُونَ فَمَا رُئِيَ يَوْمٌ أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sulayman ibn Musa reported that Malik ibn Abdullah al-Khathami, while commanding people on a summer campaign in Roman land, was leading his mount when asked to ride since his mount appeared strong-backed, and he cited the Messenger ﷺ. Thereupon Malik and the people dismounted and walked, and no day with more walkers was seen. > **"No feet of a servant become dusty in the path of Allah except that Allah forbids the Fire upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے ( شاید یہاں عربی متن میں کچھ الفاظ نقل ہونے سے رہ گئے ہیں ، مطبوعہ نسخے میں یہ الفاظ ہیں : ) وہ روم کی سرزمین میں موجود ’’ صائفہ ‘‘ نام کی جگہ پر لوگوں کے امیر تھے ‘ وہ اپنے جانور کو ہانک کر لے جا رہے تھے ۔ انہوں نے ان سے کہا آپ سوار ہو جائیں ، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں آپ کا جانور مضبوط پشت والا ( یعنی سواری کے قابل ) ہے ‘ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس بندے کے دونوں قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو جائیں ‘ اللہ تعالیٰ ان دونوں پر جہنم حرام قرار دیدے گا ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : مالک بھی نیچے اتر آیا اور دوسرے لوگ بھی نیچے اتر آئے اور پیدل چلنے لگے اس دن سے زیادہ پیدل چلنے والے افراد نہیں دیکھے گئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9479

Majma al-Zawaid #9479

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ «أَنَّ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ مَرَّ عَلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَوْ حَبِيبٌ مَرَّ عَلَى مَالِكٍ، وَهُوَ يَقُودُ فَرَسَهُ وَيَمْشِي فَقَالَ: أَلَا تَرْكَبُ فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Sulayman ibn Abi Zaynab reported that Malik ibn Abdullah al-Juhani passed by Habib ibn Maslamah, or Habib passed by Malik, while he was leading his horse on foot. Asked why he would not ride though Allah had provided him a mount, he cited the Messenger ﷺ. > **"Whose feet become dusty in the path of Allah, Allah forbids him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سلیمان بن ابوزینب بیان کرتے ہیں : مالک بن عبداللہ جہنی کا گزر حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا یا شاید حبیب کا گزر مالک کے پاس سے ہوا جو اپنے گھوڑے کو ہانک کر لے جا رہے تھے اور خود پیدل چل رہے تھے ۔ انہوں نے کہا : آپ اس پر سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ آپ کو سواری کے لئے دیا ہے ‘ تو انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن سلیمان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

9480

Majma al-Zawaid #9480

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُمَا عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ spoke of dusty feet. > **"Whose feet become dusty in the path of Allah, Allah forbids them to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جنم پر حرام کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

9481

Majma al-Zawaid #9481

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ: «كُنَّا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُنْصَرِفِينَ مِنَ الصَّائِفَةِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اجْتَمِعُوا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn Qays al-Kindi reported that they were with Abu Darda returning from a summer campaign when he called people together and cited the Messenger ﷺ. > **"Whose feet become dusty in the path of Allah, Allah forbids the rest of his body to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن قیس کندی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور صائفہ سے واپس آ رہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اکٹھے ہو جاؤ ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس شخص کے پورے جسم کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ دقیقی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور مسلم بن ابراہیم نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

9482

Majma al-Zawaid #9482

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَذْكُورٌ فِي تَرْجَمَةِ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn Samit, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger ﷺ speak of path dust and Hell smoke. > **"Dust in the path of Allah and the smoke of Hell never join in the belly of a Muslim man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اکٹھے نہیں ہوں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤ حرانی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کا ذکر اس کے بیٹے محمد کے حالات میں ہوا ہے ۔

9483

Majma al-Zawaid #9483

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَجْتَمِعُ فِي مَنْخَرَيْ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ الْأَعْمَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ spoke of path dust and Hell smoke. > **"Dust in the path of Allah and the smoke of Hell never join in the nostrils of a servant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے نتھنوں میں اکٹھے نہیں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قریشی اعمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

9484

Majma al-Zawaid #9484

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْبَرُّ وَجْهُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَمَّنَهُ اللَّهُ دُخَانَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَغْبَرُّ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَمَّنَ اللَّهُ قَدَمَيْهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ ثُوَبَ - بِالْفَتْحِ وَقَالَ: بِالضَّمِّ - وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ about dusty face and dusty feet. > **"No man whose face becomes dusty in the path of Allah except that Allah secures him from the smoke of the Fire on Judgment Day. No man whose feet become dusty in the path of Allah except that Allah secures his feet from the Fire on Judgment Day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس بھی شخص کا چہرہ اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم کے دھویں سے محفوظ رکھے گا ‘ اور جس بھی شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دونوں پاؤں کو جہنم سے محفوظ رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثوب ہے ‘ جو زبر کے ساتھ ہے اور ایک قول کے مطابق پیش کے ساتھ ہے اور یہ راوی متروک ہے ۔

9485

Majma al-Zawaid #9485

وَعَنْ رَبِيعِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ مُعَتَدِلًا عَنِ الطَّرِيقِ إِذْ أَبْصَرَ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ يَسِيرُ مُعْتَزِلًا فَقَالَ [النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -]: "" أَلَيْسَ ذَاكَ فُلَانٌ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" فَادْعُوهُ "" فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَكَ اعْتَزَلْتَ عَنِ الطَّرِيقِ؟ "" قَالَ: كَرِهْتُ الْغُبَارَ. قَالَ: "" فَلَا تَعْتَزِلْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَذَرِيرَةُ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rabi ibn Zayd, may Allah be pleased with him, reported that while the Messenger ﷺ was walking along the road he saw a Quraysh youth walking apart. The Prophet ﷺ asked them to call him, asked why he had kept aside, and when the youth said he disliked dust, he counseled him. > **"Do not keep away from it, for by the One in Whose Hand is my soul, it is the fragrance of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیع بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ راستے کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے اسی دوران آپ نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو دیکھا جو راستے سے ہٹ کر چل رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا یہ فلاں شخص نہیں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے بلاؤ وہ شخص آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم راستے سے کیوں ہٹے ہوئے تھے اس نے جواب دیا : میں غبار کو ناپسند کرتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم راستے سے نہ ہٹو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ ( یعنی اللہ کی راہ کا غبار ) جنت کا ’’ ذریرہ ‘‘ ( مخصوص قسم کی خوشبو ) ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9486

Majma al-Zawaid #9486

عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ، فَأَتَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى شَرَفٍ فَبِتْنَا عَلَيْهِ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا وَيُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ - يَعْنِي التُّرْسَ - فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النَّاسِ نَادَى: "" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ وَأَدْعُو اللَّهَ لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلٌ؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" ادْنُهْ "". فَدَنَا فَقَالَ: "" مَنْ أَنْتَ؟ "" فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالدُّعَاءِ فَأَكْثَرَ مِنْهُ قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ آخَرُ. فَقَالَ: "" ادْنُهْ "". فَدَنَوْتُ فَقَالَ: "" مَنْ أَنْتَ؟ "" فَقُلْتُ: أَبُو رَيْحَانَةَ، فَدَعَا لِي بِدُعَاءِ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ: "" حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ - أَوْ بَكَتْ - مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "" أَوْ قَالَ: "" حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ» "". لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ. قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ. قُلْتُ: رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rayhanah, may Allah be pleased with him, reported that they were with the Messenger ﷺ on an expedition and spent a night upon a hill in severe cold, so that men dug hollows and covered themselves with shields. Seeing this, the Messenger ﷺ called for one to guard them that night in return for a virtuous supplication. An Ansari volunteered, was called near, named himself, and received abundant supplication. Abu Rayhanah then volunteered second and received a lesser supplication, followed by counsel about eyes forbidden to the Fire. > **"Who will guard us tonight, that I may supplicate for him with a supplication containing virtue? The Fire is forbidden for an eye that shed tears from fear of Allah. The Fire is forbidden for an eye that stayed awake in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنگ میں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ایک دن ہم ایک ٹیلے پر پہنچے ہم نے اس پر رات گزاری ہمیں شدید سردی لگ رہی تھی ، یہاں تک کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زمین کھودی اور اس میں داخل ہو گیا اور اپنے اوپر ڈھال رکھ لی جب نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کی یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے بلند آواز میں دریافت کیا : آج رات کون ہماری پہریداری کرے گا اس کے لئے میں اللہ تعالیٰ سے ایسی دعا کروں گا ، جس میں اس کے لئے فضیلت ہو گی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ وہ قریب ہوا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ انصاری نے اپنا نام نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیان کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے دعا کی اور بکثرت دعا کی ۔ حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نے نبی اکرم ﷺ کی دعا سنی تو میں نے عرض کی : میں دوسرا فرد ہوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ۔ میں قریب ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ریحانہ ، نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے دعا کی ، لیکن یہ اس سے کم تھی ، جو آپ نے انصاری کے لئے کی تھی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جہنم اس آنکھ کے لئے حرام ہے ‘ جو اللہ کے خوف سے آنسو بہاتی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم اس آنکھ پر حرام ہو جاتی ہے ‘ جو اللہ کی راہ میں رات بھر جاگتی رہتی ہے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم تیسری آنکھ پر بھی حرام ہوتی ہے ، لیکن اس بات کا ذکر محمد بن سمیر نامی راوی نے نہیں سنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9487

Majma al-Zawaid #9487

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" مَنْ حَرَسَ مِنْ وَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مُتَطَوِّعًا لَا يَأْخُذُهُ سُلْطَانٌ لَمْ يَرَ النَّارَ بِعَيْنَيْهِ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ أَحْسَنُ حَالًا مِنْ رِشْدِينَ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Anas, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger ﷺ about one who guards behind the Muslims voluntarily for Allah, uncompelled by any ruler. > **"Whoever guards behind the Muslims in the path of Allah Almighty voluntarily, uncompelled by a ruler, his two eyes will not see the Fire except to fulfill the oath, for Allah Almighty says, There is none of you but will approach it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی پہریداری کرتا ہے اور وہ نفلی طور پر ایسا کرتا ہے اسے کسی سلطان نے نہیں پکڑا ہوتا ، تو اس کی دونوں آنکھیں آگ کو صرف قسم پورا کرنے کے لئے دیکھیں گی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حالت کے اعتبار سے رشدین سے بہتر ہے ۔

9488

Majma al-Zawaid #9488

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ أَبَدًا: عَيْنٌ بَاتَتْ تَكْلَأُ [الْمُسْلِمِينَ] فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" لَا يَرَيَانِ النَّارَ "". وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ described two eyes. > **"Two eyes the Fire will never touch: an eye that spent the night guarding the Muslims in the path of Allah, and an eye that wept from fear of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو قسم کی آنکھوں کو آگ کبھی نہیں چھوئے گی وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی حفاظت کرتے ہوئے رات گزار دے اور وہ آنکھ جو اللہ کی خشیت کی وجہ سے رو پڑے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ آگ کو نہیں دیکھیں گی ‘‘ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

9489

Majma al-Zawaid #9489

وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ.

EnglishUnverified translation

Abbas ibn Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ described two eyes. > **"Two eyes the Fire will not touch: an eye that wept in the depth of night from fear of Allah Almighty, and an eye that spent the night guarding in the path of Allah Almighty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ دو قسم کی آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی وہ آنکھ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے رات کے نصف حصے میں رو پڑے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرا دیتے ہوئے رات گزار دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ متروک ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

9490

Majma al-Zawaid #9490

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثَةٌ لَا تَرَى أَعْيُنُهُمُ النَّارَ: عَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَعَيْنٌ كَفَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو حَبِيبٍ الْعَنْقَزِيُّ وَيُقَالُ: الْقَنَوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Haydah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ described three eyes. > **"Three whose eyes will not see the Fire: an eye that guarded in the path of Allah, an eye that wept from fear of Allah, and an eye that refrained from what Allah has forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی آنکھیں آگ کو نہیں دیکھیں گی وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں پہرا دیا ہو وہ آنکھ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے رو پڑی ہو اور وہ آنکھ جو اللہ کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے ہٹی رہی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحبیب عنقزی ہے اور ایک قول کے مطابق قنوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9491

Majma al-Zawaid #9491

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ جَلَسَ عَلَى الْبَحْرِ احْتِسَابًا وَنِيَّةً احْتِيَاطًا لِلْمُسْلِمِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَسَنَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Darda, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ spoke of sitting by the sea with sincere intention to protect Muslims. > **"Whoever sits by the sea seeking reward, with good intention, as a precaution for the Muslims, Allah writes for him a good deed for every drop in the sea."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ثواب کی امید رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سمندر پر بیٹھا رہتا ہے اللہ تعالیٰ سمندر کے ہر قطرے کے عوض میں اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے اور وہ متروک سے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

9492

Majma al-Zawaid #9492

وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ فَقَالَ: هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْخَيْرِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ حَرَسْتُ مَعَهُ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ مَعَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا أُدْخِلَ الْقَبْرَ حَثَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ مِنَ التُّرَابِ ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ أَصْحَابَكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: "" لَا تَسْأَلْ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ سَلْ عَنِ الْفِطْرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيِّ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Atiyyah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ sat and mentioned that a man had died, asking whether anyone had seen him upon any good deed. A man said he had guarded one night with him in Allah's path, so the Messenger ﷺ and those with him stood, prayed over him, and when he was placed in the grave the Prophet ﷺ threw soil with his hand and addressed him, then counseled Umar ibn al-Khattab. > **"Your companions think you are among the people of the Fire, and I bear witness that you are among the people of Paradise. Do not ask about the deeds of people, but ask about their natural disposition."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے آپ نے یہ بات بیان کی ایک شخص کا انتقال ہو گیا آپ نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی ایک نے اس کو کوئی نیکی کا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : جی ہاں ۔ میں نے اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں ایک رات پہرا دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھی کھڑے ہوئے آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جب اس شخص کو قبر میں اتار دیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی یہ گمان کر رہے تھے کہ تم اہل جہنم میں سے ہو اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے ہو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم لوگوں کے اعمال کے بارے میں دریافت نہ کرو بلکہ تم فطرت کے بارے میں دریافت کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق حمصی سے نقل کی ہے جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

9493

Majma al-Zawaid #9493

عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ رَافِعًا صَوْتَهُ أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنَ الْأَجْرِ بِعَدَدِ كُلِّ قَطْرَةٍ فِي الْبَحْرِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ بِالْفَرَسِ الْمُسْرِعِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ خَلِيفَةُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: فِيهِ جُهَّالٌ وَهَذَا خَبَرٌ سَاقِطٌ.

EnglishUnverified translation

Qurrah ibn Iyas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ described one loud takbir at the seashore at sunset. > **"Whoever pronounces one takbir upon the seashore at sunset, raising his voice, Allah gives him in reward ten good deeds for every drop in the sea, erases ten sins from him, and raises him ten ranks, with a hundred years march by a swift horse between each two ranks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص سمندر کے ساحل پر سورج غروب ہونے کے وقت بلند آواز میں ایک مرتبہ تکبیر کہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے کہ سمندر کے ہر ایک قطرے کے عوض میں دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کرتا ہے جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان تیز رفتار گھوڑے کی طے کی ہوئی ایک سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیفہ بن حمید ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : اس میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں اور یہ روایت ساقط ہے ۔

9494

Majma al-Zawaid #9494

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" رِبَاطُ يَوْمٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger ﷺ compared guarding to fasting and standing. > **"Guarding for a day is better than fasting a month and standing it in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دن کی پہریداری ایک مہینے کے نفلی روزوں اور نوافل سے بہتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9495

Majma al-Zawaid #9495

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَجْرِي عَلَيْهِ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ said the deed of every dead person is sealed except the guard, with another wording about security from the tempter of the grave. > **"Every dead person has his deed sealed except the one guarding in the path of Allah, for his reward flows for him till Allah raises him. And he is secured from the tempter of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر میت کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے البتہ اللہ کی راہ میں پہرا دینے والے کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ اس کے عمل کا اجر اس کے لئے اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اور اس کو قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

9496

Majma al-Zawaid #9496

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ - تَرْفَعُ الْحَدِيثَ - قَالَ: "" «مَنْ رَابَطَ فِي شَيْءٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَجْزَأَتْ عَنْهُ رِبَاطُ سَنَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْمَدَنِيِّينَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Darda, may Allah be pleased with her, raised this report to the Prophet ﷺ about guarding at Muslim coasts. > **"Whoever guards for three days at any of the coasts of the Muslims, it suffices him for a year of guarding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام درداء رضی اللہ عنہا مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جو شخص مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ایک دن پہرا دیتا ہے اس کی طرف سے ایک سال کا پہرا کفایت کر جاتا ہے ( یعنی اسے ایک سال کے پہرے کا ثواب ملتا ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9497

Majma al-Zawaid #9497

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" مَنْ حَرَسَ لَيْلَةً عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِبَادَتِهِ فِي أَهْلِهِ أَلْفَ سَنَةٍ [السَّنَةُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا، وَكُلُّ يَوْمٍ أَلْفُ سَنَةٍ]». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ: "" عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ أَبِي طَوِيلٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِنْ كَانَ ابْنُ حِبَّانَ وَثَّقَهُ فَقَدْ قَالَ فِي الضُّعَفَاءِ لَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger ﷺ about guarding one night at the seashore, explaining the year as three hundred sixty days and each day as a thousand years. > **"Whoever guards one night upon the seashore is better than his worship among his family for a thousand years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص سمندر کے ساحل پر ایک رات پہرا دیتا ہے ‘ تو یہ اس شخص کے اپنے گھر میں ایک ہزار سال تک عبادت کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ( وہ سال ایسا ہو گا ) کہ ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہو اور ہر دن ایک ہزار سال کا ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ سمندر کے ساحل پر ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن خالد ابوطویل قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے اگرچہ امام ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ لیکن انہوں نے کتاب الضعفاء میں یہ بات بیان کی ہے ۔ اس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

9498

Majma al-Zawaid #9498

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُجْرِيَ عَلَيْهِ عَمَلُ الصَّائِمِ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ وَيَبْعَثُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ فَقَالَ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Affan and Abu Hurayrah, may Allah be pleased with them both, reported from the Prophet ﷺ about one who dies while guarding. > **"Whoever dies while guarding in the path of Allah, the deed of a fasting person flows for him, his provision flows for him, he is safe from the tempter, and Allah will raise him on Judgment Day safe from the greatest terror."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دینے کے دوران مر جائے تو روزے دار کا عمل اس کے لئے جاری رہتا ہے اور اس کا رزق اس کے لئے جاری رہتا ہے اور وہ ( قبر کی ) آزمائش سے محفوظ رہتا ہے اور قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا ‘ تو وہ بڑی پریشانی ( یعنی قیامت کی ہولناکی ) سے محفوظ ہو گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جسے عبداللہ بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9499

Majma al-Zawaid #9499

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَجْرِ الرِّبَاطِ فَقَالَ: "" مَنْ رَابَطَ يَوْمًا حَرَسًا مِنْ وَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ لَهُ أَجْرُ مَنْ خَلْفَهُ مِمَّنْ صَامَ وَصَلَّى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ was asked about the reward of guarding and answered about one day of protection behind the Muslims. > **"Whoever guards for a day as protection behind the Muslims shall have the reward of those behind him who fasted and prayed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے پہریداری کے اجر کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مسلمانوں سے پرے ایک دن حفاظت کے لئے پہرا دیتا ہے اسے اپنے پیچھے موجود روزہ دار اور نماز پڑھنے والوں کی مانند اجر ملتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9500

Majma al-Zawaid #9500

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ رَابَطَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ سَبْعَةَ خَنَادِقَ كُلُّ خَنْدَقٍ كَسَبْعِ سَمَاوَاتٍ وَسَبْعِ أَرَضِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو طَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported: he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"Whoever guards the frontier for a day in the path of Allah, Allah places between him and the Fire seven trenches, each trench like seven heavens and seven earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن پہرا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص اور جہنم کے درمیان سات خندقیں حائل کر دے گا جن میں سے ہر ایک خندق سات آسمانوں اور سات زمینوں کی مانند ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ابوطیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9501

Majma al-Zawaid #9501

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ رَابَطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمَّنَهُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Whoever guards the frontier in the path of Allah, Allah secures him from the trial of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

9502

Majma al-Zawaid #9502

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَمَنْ تُوُفِّيَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَجَرَى عَلَيْهِ رِزْقُهُ» "". قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ الصَّوْمَ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ تَقَوَّى بِالْمُتَابَعَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Whoever fasts a day in the path of Allah, Allah distances him from the Fire by seventy autumns. Whoever dies while guarding the frontier is shielded from the trial of the grave, and his provision continues to flow for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت جتنا دور کر دیتا ہے اور جو شخص پہرا دینے کے دوران انتقال کر جاتا ہے اسے قبر کی آزمائش سے بچا لیا جاتا ہے اور اس کا رزق اس پر جاری ہوتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف روزے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے یہ روایت متابعات کے ذریعے قوی ہو جاتی ہے ۔

9503

Majma al-Zawaid #9503

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَمَامُ الرِّبَاطِ أَرْبَعُونَ يَوْمًا وَمَنْ رَابَطَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَمْ يَبِعْ وَلَمْ يَشْتَرِ وَلَمْ يُحْدِثْ حَدَثًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Complete guarding of the frontier is forty days. Whoever guards for forty days, neither buying nor selling nor committing any wrongdoing, leaves his sins behind like the day his mother bore him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مکمل پہریداری چالیس دن کی ہوتی ہے ‘ جو شخص چالیس دن پہرا دے اس دوران وہ کوئی خرید و فروخت نہ کرے اور کسی حدث کا مرتکب نہ ہو ‘ تو وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا ‘ جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے اور وہ متروک ہے ۔

9504

Majma al-Zawaid #9504

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" رِبَاطُ شَهْرٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ دَهْرٍ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَغُدِيَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ وَرِيحَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيَجْرِي عَلَيْهِ أَجْرُ الْمُجَاهِدِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Guarding the frontier for a month is better than fasting a lifetime. Whoever dies while guarding in the path of Allah is safe from the Greatest Terror; his provision is brought to him morning and evening, he breathes the scent of Paradise, and the reward of the warrior runs for him until Allah raises him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک مہینے کی پہریداری ہمیشہ نفلی روزہ رکھنے سے زیادہ بہتر ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں پہرا دینے کے دوران مر جاتا ہے وہ بڑی پریشانی سے محفوظ رہے گا اسے اس کا رزق فراہم کیا جاتا ہے اور جنت کی خوشبو ( یا ہوا ) دی جاتی ہے اور اس کے لئے مجاہد کا اجر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اسے ( قیامت کے دن ) دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9505

Majma al-Zawaid #9505

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كُلُّ عَمَلٍ يَنْقَطِعُ عَنْ صَاحِبِهِ إِذَا مَاتَ، إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ، وَيُجْرَى عَلَيْهِ رِزْقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Irbad ibn Sariyah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Every deed is cut off from its owner when he dies, except the one who guards the frontier in the path of Allah. His deed keeps growing for him, and his provision keeps flowing for him until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ہر عمل اپنے متعلقہ فرد سے منقطع ہو جاتا ہے جب وہ فرد مر جاتا ہے البتہ اللہ کی راہ میں پہرا دینے والے کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ اس کا عمل اس کے لئے بڑھتا رہتا ہے اور اس کا رزق اس کے لئے جاری رہتا ہے یہ قیامت تک ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

9506

Majma al-Zawaid #9506

وَعَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ رَأَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ وَهُوَ مُرَابِطٌ بِسَاحِلِ [حِمْصَ] فَقَالَ: مَا لَكَ [عَلَى هَذَا]؟ قَالَ: مُرَابِطٌ. قَالَ سَلْمَانُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ وَبُعِثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Shurahbil ibn al-Simt reported that he saw Salman al-Farisi, may Allah be pleased with him, guarding the frontier on the coast of Hims. He asked him what he was doing, and Salman replied that he was guarding. Salman then said he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"Guarding for a day in the path of Allah is like fasting a month and standing its nights in prayer. Whoever dies while guarding, the deed he used to do keeps flowing for him, he is safe from the tempter of the grave, and he is raised on the Day of Resurrection as a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن سمط بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حمص کے ساحل پر پہرا دے رہے تھے ‘ تو یہ کہا آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : پہرا دے رہا ہوں ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ کی راہ میں ایک دن پہرا دینا ایک ماہ کے نفلی روزوں اور قیام کی مانند ہے اور جو شخص پہرا دینے کے دوران مر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا عمل اس کے لئے جاری کرتا ہے ‘ جو عمل وہ پہلے کیا کرتا تھا ‘ اور وہ شخص ( قبر کی ) آزمائش سے محفوظ رہتا ہے اور وہ شخص قیامت کے دن شہید کے طور پر زندہ کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9507

Majma al-Zawaid #9507

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا انْتَاطَ غَزْوُكُمْ وَاسْتُحِلَّتِ الْغَنَائِمُ وَكَثُرَتِ الْغَرَائِمُ فَخَيْرُ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn al-Nuddar, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"When your campaigns come to an end, spoils are treated as lawful booty to be misused, and fines and penalties multiply, then the best of your struggle is guarding the frontier."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب تمہارے غزوات منقطع ہو جائیں اور مال غنیمت کو حلال قرار دیدیا جائے اور تاوان زیادہ ہو جائے ‘ تو تمہارا سب سے بہتر جہاد پہریداری ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ۔

9508

Majma al-Zawaid #9508

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفْضَلُ الْغُزَاةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَادِمُهُمْ، ثُمَّ الَّذِي يَأْتِيهِمْ بِالْأَخْبَارِ، وَأَخَصُّهُمْ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ الصَّائِمُ، وَمَنِ اسْتَقَى لِأَصْحَابِهِ قِرْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَبَقَهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ سَبْعِينَ دَرَجَةً أَوْ سَبْعِينِ عَامًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ مِهْرَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The most excellent of those who go forth in the path of Allah is their servant, then the one who brings them news. The most distinguished of them in rank with Allah is the fasting one. Whoever draws a waterskin for his companions in the path of Allah outstrips them toward Paradise by seventy degrees."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا شخص ان کا خادم ہوتا ہے پھر وہ شخص ہوتا ہے ‘ جو ان کے پاس ( دشمن کی ) اطلاعات لے کے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے زیادہ خاص روزہ دار ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں کے لئے ایک مشکیزہ لے کے آئے وہ ان لوگوں کے مقابلے میں جنت کی طرف ستر درجہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر سال کی سبقت لے جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن مہران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9509

Majma al-Zawaid #9509

عَنْ جَابِرٍ يُبَلِّغُ بِهِ قَالَ: "" «أَفْضَلُ الْجِهَادِ مِنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهَرِيقَ دَمُهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, conveyed from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him: > **"The most excellent struggle is that of the one whose horse is hamstrung and whose blood is shed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان تک یہ روایت پہنچی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد اس شخص کا ہے جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

9510

Majma al-Zawaid #9510

وَلَهُ فِي الْمُعْجَمِ الصَّغِيرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "". قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - "". قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهَرِيقَ دَمُهُ» "". وَرَوَى مُسْلِمٌ بَعْضَ هَذَا، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى وَالصَّغِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported: it was asked, O Messenger of Allah, which Islam is most excellent? He said: > **"The one from whose tongue and hand the Muslims are safe."** It was asked, which migration is most excellent? He said: > **"That you abandon what your Lord dislikes."** It was asked, which struggle is most excellent? He said: > **"That of the one whose horse is hamstrung and whose blood is shed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے معجم صغیر میں یہ بات منقول ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں عرض کی گئی : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ جو تمہارے پروردگار کو ناپسند ہو عرض کی گئی کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور اس کا خون بہا دیا جائے ۔ امام مسلم نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ اور معجم صغیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام احمد نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

9511

Majma al-Zawaid #9511

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - تَحْتَ عَرْشِهِ، لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَمَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd al-Sulami, may Allah be pleased with him, one of the Companions of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The slain are three. A believing man who strives with his soul and his wealth in the path of Allah until he meets the enemy and fights them till he is killed: that is the boastful martyr in the tent of Allah beneath His Throne; the Prophets surpass him only by the rank of prophethood. A believing man who wronged himself with sins and faults, then strives with his soul and wealth in the path of Allah until he meets the enemy and fights till he is killed: anguish wipes away his sins and faults, for the sword erases faults, and he enters through whichever of the gates of Paradise he wishes, for it has eight gates and Hell has seven, some better than others. And a hypocrite who strives with his soul and wealth until he meets the enemy and fights in the path of Allah till he is killed: that one is in the Fire, for the sword does not wipe away hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مقتول تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ مومن شخص جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ‘ تو ان کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہو جاتا ہے یہ وہ شہید ہے ‘ جو اللہ کے عرش کے نیچے اس کے خیمے میں موجود ہونے پر فخر کرنے والا ہو گا ‘ اور انبیاء کو صرف نبوت کے مرتبے کے حوالے سے اس پر فضیلت حاصل ہو گی ایک وہ مومن شخص جو گناہوں اور خطاؤں کے حوالے سے اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے پھر وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ‘ تو اس سے جنگ کرتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ قتل ہو جاتا ہے ‘ تو دہشت اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دے گی ، کیونکہ تلوار خطاؤں کو مٹانے والی ہوتی ہے ‘ وہ جس دروازے سے چاہے گا ، اُسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور ان میں سے بعض ‘ دوسروں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور ایک وہ منافق شخص ہے ‘ جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے ‘ تو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے ‘ یہاں تک کہ قتل ہو جاتا ہے وہ جہنم میں جائے گا ‘ کیونکہ تلوار منافقت کو نہیں مٹاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ وہ جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے گا داخل ہو جائے گا اس کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے بعض ‘ بعض سے افضل ہیں ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مثنی املوکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9512

Majma al-Zawaid #9512

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَا يُرِيدُ أَنْ يُقَاتِلَ وَلَا يُقْتَلَ، يُكَثِّرُ سَوَادَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا وَأُجِيرَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُؤَمَّنُ مِنَ الْفَزَعِ وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَحَلَّتْ عَلَيْهِ حُلَّةُ الْكَرَامَةِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَالْخُلْدِ. وَالثَّانِي خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يُقْتَلَ وَلَا يَقْتُلَ فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ كَانَتْ رُكْبَتُهُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ. وَالثَّالِثُ: خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مُحْتَسِبًا يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ وَيُقْتَلَ، فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ وَاضِعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَالنَّاسُ جَاثُونَ عَلَى الرُّكَبِ يَقُولُونَ: أَلَا افْسَحُوا لَنَا فَإِنَّا قَدْ بَذَلْنَا دِمَاءَنَا لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ قَالَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ أَوِ النَّبِيِّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَزَحَلَ لَهُمْ عَنِ الطَّرِيقِ لِمَا يَرَى مِنْ وَاجِبِ حَقِّهِمْ حَتَّى يَأْتُوا مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيَجْلِسُونَ عَلَيْهَا يَنْظُرُونَ كَيْفَ يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ لَا يَجِدُونَ غَمَّ الْمَوْتِ وَلَا يُقِيمُونَ فِي الْبَرْزَخِ وَلَا تُفْزِعُهُمُ الصَّيْحَةُ وَلَا يُهِمُّهُمُ الْحِسَابُ وَلَا الْمِيزَانُ وَلَا الصِّرَاطُ، يَنْظُرُونَ كَيْفَ يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ وَلَا يَسْأَلُونَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ وَلَا يَشْفَعُونَ فِي شَيْءٍ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ، وَيُعْطَوْنَ مِنَ الْجَنَّةِ مَا أَحَبُّوا وَيَتَبَوَّءُونَ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ أَحَبُّوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَضَعَّفَهُ بِشَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَانْ كَانَ هُوَ النَّيْسَابُورِيَّ فَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَفِيهِ أَيْضًا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The martyrs are three. A man who goes out with his soul and wealth seeking reward in the path of Allah, not intending to fight or be killed but to swell the numbers of the Muslims: if he dies or is killed, all his sins are forgiven, he is shielded from the punishment of the grave, secured from terror, married to maidens of Paradise, clothed in the robe of honor, and a crown of dignity and eternity is placed on his head. The second goes out with his soul and wealth seeking reward, intending to be killed but not to kill: if he dies or is killed, his knee is beside Ibrahim, the close friend of the Merciful, before Allah in a seat of truth near the All-Powerful King. The third goes out with his soul and wealth seeking reward, intending to kill and be killed: if he dies or is killed, he comes on the Day of Resurrection brandishing his sword upon his shoulder while the people kneel, saying, Make way for us, for we spent our blood for Allah. By Him in whose hand is my soul, were he to say that to Ibrahim or any Prophet, they would yield the path to him for the due right they see is his, until they reach pulpits of light beneath the Throne and sit upon them, watching how judgment is passed among the people. They feel no pangs of death, they do not tarry in the barrier between worlds, the Blast does not frighten them, the Reckoning, the Balance, and the Bridge do not trouble them. They only watch how judgment is passed. They ask for nothing but it is given them, they intercede for nothing but their intercession is accepted, and they are given of Paradise whatever they love and settle wherever they love of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شہید تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ہمراہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ جنگ کرنے کا یا قتل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا وہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے اگر وہ مر جاتا ہے یا قل ہو جاتا ہے ، تو اس کے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اسے قبر کے عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا ‘ اور گھبراہٹ سے امان میں رکھا جائے گا حورعین کے ساتھ اس کی شادی ہو جائے گی اور کرامت کا حلہ اسے پہنایا جائے گا اس کے سر پر وقار کا اور خلد کا تاج رکھا جائے گا “۔ دوسرا وہ شخص ہے ‘ جو ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی جان اور مال کے ہمراہ نکلتا ہے وہ قتل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اگر وہ مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے ‘ تو اس کا گھٹنا ‘ حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے ساتھ ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہو گا ‘ جو اقتدار رکھنے والے بادشاہ کے نزدیک سچائی کا ٹھکانہ ہو گا ۔ تیسرا وہ شخص ہے ‘ جو ثواب کی امید رکھتے ہوئے اپنی جان اور مال کے ہمراہ نکلتا ہے وہ یہ ارادہ رکھتا ہے کہ وہ قتل کرے گا ‘ اور قتل ہو گا ‘ اور اگر وہ مر جاتا ہے یا قتل ہو جاتا ہے ‘ تو وہ قیامت کے دن اپنی تلوار لہراتے ہوئے اسے اپنے کندھے پر رکھ کر آئے گا لوگ اس وقت اپنے گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ ( شہداء ) کہہ رہے ہوں گے : ہمارے لئے راستہ دو کیونکہ ہم نے اپنے خون اللہ کے لئے خرچ کیے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ شخص یہ بات حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام یا اللہ تعالیٰ کے نبیوں میں سے کسی اور نبی سے بھی کہے گا ‘ تو وہ بھی اس کے لئے راستہ چھوڑ دیں گے ‘ کیونکہ وہ اس کے حق سے واجب ہونے والی چیز کو دیکھیں گے ‘ یہاں تک کہ وہ شہداء عرش کے نیچے نور کے منبروں کے پاس آ جائیں گے اور ان پر بیٹھ کر یہ دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ ہو رہا ہے انہیں موت کا غم محسوس نہیں ہو گا وہ برزخ میں کھڑے نہیں ہوں گے چیخ چنگھاڑ انہیں خوف زدہ نہیں کرے گی حساب انہیں پریشان نہیں کرے گا میزان اور صراط انہیں پریشان نہیں کریں گے وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ ہو رہا ہے وہ جو چیز مانگیں گے وہ انہیں دی جائے گی وہ جس کے بارے میں شفاعت کریں گے ان کی شفاعت قبول ہو گی جنت میں سے جو وہ پسند کریں گے وہ انہیں دیا جائے گا ‘ اور جنت میں جہاں وہ چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے اپنے استاد محمد بن معاویہ کے حوالے سے اسے ضعیف قرار دیا ہے اگر تو یہ نیشا پوری ہے ، تو پھر یہ متروک ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

9513

Majma al-Zawaid #9513

وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ «أَنْ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ لَا يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا، أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَقَالَ: «عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يُلْقَوْنَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ» "". وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nuaym ibn Hammar, may Allah be pleased with him, reported: a man asked the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, which martyrs are most excellent? He said: > **"Those who, when drawn up in the rank, do not turn their faces away until they are killed. They hasten about in the highest chambers of Paradise, and their Lord laughs toward them. When your Lord laughs toward a servant in this world, there is no reckoning upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : شہداء میں سے کون زیادہ فضیات رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ کہ جب وہ صف میں کھڑے ہوں ‘ تو ان کے چہرے مڑیں نہیں ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو جائیں یہ لوگ جنت کے بالائی بالا خانوں میں چلیں گے اور ان کا پروردگار ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے گا ‘ اور جب پروردگار دنیا میں کسی بندے کی طرف دیکھ کر مسکرا دے تو اس بندے سے حساب نہیں لیا جائے گا “۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : حضرت نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا شہداء میں کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ جو پہلی صف میں شامل ہوتے ہیں : باقی روایت حسب سابق ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

9514

Majma al-Zawaid #9514

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفْضَلُ الْجِهَادِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يَلْتَقُونَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَلَا يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا، أُولَئِكَ يَتَلَبَّطُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ إِذَا ضَحِكَ إِلَى قَوْمٍ فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبَانٍ، وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، كَمَا نَقَلَ الذَّهَبِيُّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The most excellent struggle before Allah on the Day of Resurrection is that of those who meet the enemy in the first rank and do not turn their faces away until they are killed. They roll about in the highest chambers of Paradise. Their Lord gazes at them, and when He laughs toward a people, there is no reckoning upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ان لوگوں کا ہو گا جو پہلی صف میں دشمن کا سامنا کرتے ہیں اور پھر ان کے چہرے مڑتے نہیں ہیں ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو جاتے ہیں یہ لوگ جنت کے بالائی بالا خانوں میں رہیں گے ان کا پروردگار ان کی طرف دیکھتا ہے اور جب وہ کسی قوم کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتا ہے ‘ تو ان لوگوں پر حساب دینا لازم نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عنبسہ بن سعید بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے جسے امام دارقطنی نے ثقہ قرار دیا ہے جیسا کہ امام ذہبی نے یہ بات نقل کی ہے کسی نے اسے ضعیف نہیں کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔