Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 26 · Chapter 4

Book of Jihad

Hadith 9395–9434

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9395

Majma al-Zawaid #9395

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ نَسِيَهُ فَهِيَ نِعْمَةٌ جَحَدَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever learns archery and then forgets it has denied a blessing. > **"Whoever learns archery and then forgets it, it is a blessing he has denied."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص تیراندازی سیکھنے کے بعد اسے بھول جائے تو یہ ایک نعمت تھی جس کا اس نے انکار کیا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے جسے شعبہ ‘ ثوری اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9396

Majma al-Zawaid #9396

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" قُومُوا فَقَاتِلُوا "". قَالَ: فَرَمَى رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""أَوْجَبَ هَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ. وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ تَأْتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فِي التَّفْسِيرِ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd al-Sulami, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said to his Companions to stand and fight, whereupon a man shot an arrow and the Prophet declared that this man had thereby made Paradise obligatory for himself. > **"Stand and fight. This one has made it obligatory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اٹھو اور جنگ کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ایک شخص نے ایک تیر پھینکا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے ( جنت کو ) واجب کر لیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان دونوں کی سند حسن ہے اس کے بقیہ طرق کتاب التفسیر میں سورۃ مائدہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ۔

9397

Majma al-Zawaid #9397

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ رَمَى رَمْيَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ - قَصَّرَ أَوْ بَلَغَ - كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ أَرْبَعِ أُنَاسٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ أَعْتَقَهُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever shoots an arrow in the path of Allah, whether it falls short or reaches its mark, shall have reward equal to freeing four persons from the sons of Isma'il. > **"Whoever shoots an arrow in the path of Allah, whether it falls short or reaches, shall have the like of the reward of one who freed four persons from the sons of Isma'il."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے خواہ وہ نشانے تک پہنچے یا نہ پہنچے ‘ تو اس شخص کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار افراد کو آزاد کرنے کی مانند اجر ملتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن بشر ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9398

Majma al-Zawaid #9398

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever shoots an arrow in the path of Allah shall have it as light for himself on the Day of Resurrection. > **"Whoever shoots an arrow in the path of Allah shall have it as light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے ‘ تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا ‘‘۔ ’’ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبدالرحمن بن فضل بن موفق کے حوالے سے نقل کی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔

9399

Majma al-Zawaid #9399

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ: "" مَنْ أَدْخَلَ هَذَا الْحِصْنَ سَهْمًا فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ». قَالَ عُتْبَةُ: فَأَدْخَلْتُ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said on the day of Qurayzah and al-Nadir that whoever put an arrow into that fortress would have Paradise made obligatory for him, whereupon Utbah said that he put three arrows into it. > **"Whoever puts an arrow into this fortress, Paradise has become obligatory for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قریظہ اور نضیر ( کے خلاف جنگ ) کے دن یہ ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس قلعے میں ایک تیر پھینک دے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی “۔ حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ( اس موقع پر ) تین تیر ( قلعے کے اندر ) داخل کیے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔

9400

Majma al-Zawaid #9400

وَعَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا أُحُدِيًّا وَهُوَ صَائِمٌ يَتَلَوَّى مِنَ الْعَطَشِ وَهُوَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ: وَيْحَكَ تَرِّسْنِي، فَتَرَّسَهُ الْغُلَامُ حَتَّى نَزَعَ بِسَهْمٍ نَزْعًا ضَعِيفًا حَتَّى رَمَى بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - قَصَّرَ أَوْ بَلَغَ - كَانَ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "" فَقُتِلَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn al-Hanafiyyah reported that he saw Abu Amr al-Ansari, may Allah be pleased with him, who had been present at Badr, al-Aqabah and Uhud, while he was fasting and writhing from thirst, telling his boy to hand him his quiver. The boy handed it to him, so he drew an arrow with a weak drawing and shot three arrows, then said that he had heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that whoever shoots an arrow in the path of Allah, whether it falls short or reaches, shall have it as light on the Day of Resurrection. The narrator added that Abu Amr was killed before sunset. > **"Whoever shoots an arrow in the path of Allah, whether it falls short or reaches, shall have it as light on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوعمرو انصاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ بدری بھی ہیں عقبی بھی ہیں احدی بھی ہیں ( یعنی انہیں غزوہ بدر بیعت عقبہ اور غزوہ اُحد میں شرکت کا شرف حاصل ہے ) انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ اور پیاس کی شدت کی وجہ سے وہ زبان موڑ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے غلام سے کہا تمہارا ستیاناس ہو تم مجھے ترکش پکڑاؤ ان کے غلام نے انہیں ترکش پکڑایا انہوں نے تیر نکالا جس ( نکالنے ) میں کمزوری تھی اور پھر انہوں نے تین تیر پھینکے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے خواہ وہ نشانے تک پہنچے یا پہنچے تو یہ چیز قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گی ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ صحابی سورج غروب ہونے سے پہلے شہید ہو گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے .

9401

Majma al-Zawaid #9401

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ - كَانَ لَهُ مِثْلُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that whoever grows a grey hair in Islam shall have it as light on the Day of Resurrection, and whoever shoots an arrow in the path of Allah, whether it misses or hits, shall have reward like freeing a slave from the descendants of Isma'il. > **"Whoever grows a grey hair in Islam shall have it as light on the Day of Resurrection, and whoever shoots an arrow in the path of Allah, whether it misses or hits, shall have the like of freeing a slave from the descendants of Isma'il."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس شخص کے مسلمان ہونے کے دوران بال سفید ہو جائیں ، تو یہ قیامت کے دن اس کے لئے نور ہوں گے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکے خوا وہ نشانے پر لگے یا نہ لگے تو یہ چیز اس کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

9402

Majma al-Zawaid #9402

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ دَرَجَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.

EnglishUnverified translation

Mu'adh, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever grows a grey hair in Islam shall have it as light on the Day of Resurrection, and whoever shoots an arrow in the path of Allah shall have a degree recorded for him by Allah. > **"Whoever grows a grey hair in Islam shall have it as light on the Day of Resurrection, and whoever shoots an arrow in the path of Allah, Allah shall record a degree for him thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے اسلام میں بال سفید ہو جائیں ، تو یہ اس شخص کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لئے ایک درجہ نوٹ کر لے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سالم بن ابوالجعد نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

9403

Majma al-Zawaid #9403

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: مُقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَ - أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ - فَبِعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn, may Allah be pleased with them both, said that a man's standing in the rank in the path of Allah is better than the world and all it contains, that whoever shoots an arrow in the path of Allah and it reaches its mark, whether it misses or hits, earns the reward of freeing a slave, and that whoever grows grey hair in the path of Allah shall have it as light on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آدمی کا اللہ کی راہ میں صف میں کھڑا ہونا اس کے لئے دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر پھینکتا ہے اور وہ ( نشانے تک ) پہنچ جاتا ہے خواہ نشانے پر لگے یا نہ لگے تو یہ غلام آزاد کرنے کی مانند ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے ( یعنی اس کے بال سفید ہو جائیں ) تو یہ چیز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9404

Majma al-Zawaid #9404

عَنْ ثُمَامَةَ قَالَ: كَانَ أَنَسٌ يَجْلِسُ وَيُطْرَحُ لَهُ فِرَاشٌ وَيَجْلِسُ عَلَيْهِ وَيَرْمِي وَلَدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا وَنَحْنُ نَرْمِي فَقَالَ: يَا بَنِيَّ، بِئْسَ مَا تَرْمُونَ، ثُمَّ أَخَذَ الْقَوْسَ فَرَمَى فَمَا أَخْطَأَ الْقِرْطَاسَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Thumamah reported that Anas, may Allah be pleased with him, used to sit with a mattress spread for him while his sons shot before him. One day he came out to the narrators while they were shooting and told them, O my sons, how poorly they were shooting, then took the bow himself and shot without missing the target.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثمامہ بیان کرتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہوتے تھے ان کے لئے ایک بچھونا بچھا دیا جاتا تھا وہ اس پر بیٹھ جاتے تھے ان کے بچے ان کے سامنے تیراندازی کیا کرتے تھے ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم تیراندازی کر رہے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! تم غلط تیرانداری کر رہے ہو پھر انہوں نے کمان پکڑی اور تیر پھینکا تو ان کا نشانہ خطا نہیں گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9405

Majma al-Zawaid #9405

عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَفْشَى الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ. وَأَوَّلُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُصَلَّى فِيهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَأَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ بِلَالٌ، وَأَوَّلُ مَنْ غَدَا بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَعْدٌ، وَأَوَّلُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مُهَجِّعٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَوَّلُ حَيٍّ أُلِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُهَيْنَةُ، وَأَوَّلُ مَنْ أَدَّوُا الصَّدَقَةَ طَائِعِينَ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ بَنُو عُذْرَةَ بْنِ سَعْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim reported that the first to spread the Quran from the mouth of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, the first to build a mosque in which prayer was offered was Ammar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, the first to call the adhan was Bilal, may Allah be pleased with him, the first whose horse carried him forth in the path of Allah was al-Miqdad ibn al-Aswad, may Allah be pleased with him, the first to shoot an arrow in the path of Allah was Sa'd, may Allah be pleased with him, the first of the Muslims killed on the day of Badr was Mihja', the freed slave of Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, the first tribe to make alliance with the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was Juhaynah, and the first to pay charity willingly of their own accord were the Banu Udhrah ibn Sa'd.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : جس شخص نے سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے قرآن کو پھیلایا وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، جس شخص نے سب سے پہلے مسجد بنائی اور اس میں نماز ادا کی وہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ، جس شخص نے سب سے پہلے اذان دی وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں ، جو سب سے پہلے اپنے گھوڑے کو اللہ کی راہ میں لے کر گیا وہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ہیں ، جس شخص نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہیں غزوہ بدر میں جو شخص سب سے پہلے شہید ہوا وہ مہجع ہیں ، جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور وہ پہلا قبیلہ جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ الفت کی وہ جہینہ قبیلہ ہے اور وہ پہلا قبیلہ جنہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ صدقہ ادا کیا وہ بنو عذرہ بن سعد ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند منقطع ہے ۔

9406

Majma al-Zawaid #9406

عَنْ مَرْزُوقٍ الصَّقِيلِ أَنَّهُ صَقَلَ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَا الْفَقَارِ، وَكَانَتْ لَهُ قَبِيعَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَحَلَقٌ فِي قَيْدِهِ، وَبَكْرَةٌ فِي وَسَطِهِ مِنْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو الْحَكَمِ الصَّقِيلُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Marzuq al-Saqil reported that he polished the sword of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, Dhu al-Faqar, which had a pommel of silver, rings upon its suspension, and a silver pulley-like ornament in its middle.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مرزوق صقیل بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تلوار ذوالفقار کو صیقل کیا تھا ‘ اس کے قبضے پر موجود گرہ چاندی کی تھی ‘ اور اس کے لٹکانے والے حصے میں موجود حلقہ اور اس کے درمیان میں موجود بکرہ ( نام کے حلقے ) چاندی سے بنے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوالحکم عقیل ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9407

Majma al-Zawaid #9407

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرِنِي سَيْفَكَ "" فَسَلَّهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا فِيهِ دِقَّهٌ وَضَعْفٌ فَقَالَ: ""لَا تَضْرِبَنَّ بِهَذَا وَلَكِنِ اطْعَنْ بِهِ طَعْنًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, asked to be shown his sword, so Utbah drew it and the Prophet looked at it and found thinness and weakness in it, whereupon he told him not to strike with it but to thrust with it. > **"Show me your sword. Do not strike with this, but thrust with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مجھے اپنی تلوار دکھاؤ پھر آپ نے اسے کھینچ کر دیکھا تو اس میں پتلا پن اور کمزوری تھی آپ نے فرمایا : تم اس کے ذریعے ضرب نہ لگانا بلکہ اس کے ذریعے تم چبھو دینا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔

9408

Majma al-Zawaid #9408

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفٌ قَائِمَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَقَبِيعَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ، وَكَانَ يُسَمَّى: ذَا الْفَقَارِ. وَكَانَتْ لَهُ قَوْسٌ يُسَمَّى: السَّدَّادَ. وَكَانَتْ لَهُ جُعْبَةٌ تُسَمَّى: الْجَمْعَ. وَكَانَتْ لَهُ دِرْعٌ مُوَشَّحَةٌ بِنُحَاسٍ تُسَمَّى: ذَاتَ الْفُضُولِ. وَكَانَتْ لَهُ حَرْبَةٌ تُسَمَّى: النَّبْعَاءَ. وَكَانَ لَهُ مِجَنٌّ يُسَمَّى الدَّفْنَ. وَكَانَ لَهُ تُرْسٌ أَبْيَضُ يُسَمَّى: الْمُوجَزَ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ أَدْهَمُ يُسَمَّى: السَّكِبَ، وَكَانَ لَهُ سَرْجٌ يُسَمَّى: الدَّاحَّ. وَكَانَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ تُسَمَّى: الدُّلْدُلُ، وَكَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ تُسَمَّى: الْقَصْوَى. وَكَانَ لَهُ حِمَارٌ يُسَمَّى: يَعْفُورَ. وَكَانَ لَهُ بِسَاطٌ يُسَمَّى: الْكَرَّ. وَكَانَتْ لَهُ عَنَزَةٌ تُسَمَّى: النَّمِرَ. وَكَانَتْ لَهُ رَكْوَةٌ تُسَمَّى: الصَّادِرَ. وَكَانَتْ لَهُ مِرْآةٌ تُسَمَّى: الْمِرْآةَ. وَكَانَ لَهُ مِقْرَاضٌ يُسَمَّى: الْجَامِعَ. وَكَانَ لَهُ قَضِيبٌ شَوْحَطُ يُسَمَّى: الْمَمْشُوقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, had a sword whose hilt and pommel-cap were of silver and which was called Dhu al-Faqar. He had a bow called al-Saddad, a quiver called al-Jam', a cuirass plated with brass called Dhat al-Fudul, a spear called al-Nab'a', a shield called al-Dafn, a white shield called al-Mujaz, a black horse called al-Sakb, a saddle called al-Dahh, a grey mule called al-Duldul, a she-camel called al-Qaswa, a donkey called Ya'fur, a mat called al-Karr, a small spear called al-Namir, a water vessel called al-Sadir, a mirror called al-Mir'at, scissors called al-Jami', and a staff of shawhat wood called al-Mamshuq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک تلوار تھی جس کا قائمہ چاندی کا تھا ‘ اور جس کا دستے پر موجود حلقہ چاندی کا تھا ‘ اس کا نام ’’ ذوالفقار “ تھا ۔ نبی اکرم ﷺ کی ایک کمان تھی جس کا نام ’’ سداد ‘‘ تھا آپ کا ایک ترکش تھا ، جس کا نام ” جمع ‘‘ تھا آپ کی ایک زرہ تھی ، جس پر تانبا لگا ہوا تھا ، جس کا نام ’’ ذات الفضول ‘‘ تھا ‘ آپ کا ایک نیزہ تھا ، جس کا نام ’’ نبعاء ‘‘ تھا ‘ آپ کی ایک ڈھال تھی ، جس کا نام ’’ دفن ‘‘ تھا آپ کی ایک سفید ڈھال تھی اور اس کا نام ” موجز ‘‘ تھا آپ کا ایک سیاہ گھوڑا تھا ‘ جس کا نام ” سکب ‘‘ تھا ‘ آپ کی ایک زین تھی ، جس کا نام ’’ داح ‘‘ تھا ‘ آپ کا ایک سفید خچر تھا ‘ جس کا نام ’’ دلدل ‘‘ تھا ‘ آپ کی ایک اونٹنی تھی ‘ جس کا نام ’’ قصوی ‘‘ تھا ‘ آپ کی ایک دراز گوش ( یعنی گدھا ) تھا ، جس کا نام ” یعفور ‘‘ تھا ، آپ کا ایک بچھونا تھا ، جس کا نام ” کر ‘‘ تھا ‘ آپ کا ایک نیزہ تھا ‘ جس کا نام ’’ نمرہ ‘‘ تھا ‘ آپ کا ایک پیالہ تھا ، جس کا نام ” صادر تھا ‘ آپ کا ایک آئینہ تھا ‘ جس کا نام ’’ آئینہ تھا ‘ آپ کی ایک قینچی تھی ، جس کا نام ” جامع تھا ‘ آپ کی شوحط نامی درخت سے بنی ہوئی ایک چھڑی تھی ، جس کا نام ’’ ممشوق ‘‘ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

9409

Majma al-Zawaid #9409

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ؛ فَإِنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُنْجِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said to strive in the path of Allah, for striving in the path of Allah, the Blessed and Exalted, is a gate among the gates of Paradise through which Allah, the Blessed and Exalted, delivers from worry and grief. > **"Strive in the path of Allah, for striving in the path of Allah, the Blessed and Exalted, is a gate among the gates of Paradise through which Allah, the Blessed and Exalted, delivers from worry and grief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘ کیونکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اللہ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے پریشانی اور غم سے نجات دیتا ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر اسے نقل کیا ہے ۔ امام احمد اور دیگر حضرات کی مختلف اسانید میں سے ایک سند کے راوی ثقہ ہیں ۔

9410

Majma al-Zawaid #9410

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said to hold to jihad in the path of Allah, for it is a gate among the gates of Paradise through which Allah removes worry and grief. > **"Hold to jihad in the path of Allah, for it is a gate among the gates of Paradise through which Allah removes worry and grief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ جنت کے دروازوں سے ایک دروازہ ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پریشانی اور غم رخصت کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے ۔

9411

Majma al-Zawaid #9411

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ بِالنَّاسِ قَبْلَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَكِبُوا، فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ عَلَى أَثَرِ الدُّلْجَةِ، وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْلُو أَثَرَهُ، وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ تَأْكُلُ وَتَسِيرُ، فَبَيْنَا مُعَاذٌ عَلَى أَثَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَاقَتُهُ تَأْكُلُ مَرَّةً وَتَسِيرُ أُخْرَى عَثَرَتْ نَاقَةُ بِلَالٍ، فَكَبَحَهَا بِالزِّمَامِ فَهَبَّتْ حَتَّى تَقْرُبَ مِنْهَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَشَفَ عَنْهُ قِنَاعَهُ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْجَيْشِ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنْ مُعَاذٍ فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ""يَا مُعَاذُ "". فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" ادْنُ دُونَكَ "" فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى لَصِقَتْ رَاحِلَتَاهُمَا إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""مَا كُنْتُ أَحْسَبُ النَّاسَ مِنَّا كَمَكَانِهِمْ مِنَ الْبُعْدِ"". فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ تَرْتَعُ وَتَسِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَنَا كُنْتُ نَاعِسًا"". فَلَمَّا رَأَى مُعَاذٌ بِشْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَلْوَتَهُ لَهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَسْأَلْكَ عَنْ كَلِمَةٍ أَمْرَضَتْنِي وَأَسْقَمَتْنِي وَأَحْزَنَتْنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَلْ عَمَّا شِئْتَ"". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ لَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""بَخٍ بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ - ثَلَاثًا - وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ "" فَلَمْ يُحَدِّثْهُ بِشَيْءٍ إِلَّا أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِكَيْمَا يُتْقِنَهُ عَنْهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا حَتَّى تَمُوتَ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدْ لِي فَأَعَادَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ شِئْتَ يَا مُعَاذُ حَدَّثْتُكَ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَقِوَامِ هَذَا الْأَمْرِ وَذِرْوَةِ السَّنَامِ"". فَقَالَ مُعَاذٌ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي -. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ رَأْسَ هَذَا الْأَمْرِ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنَّ قِوَامَ هَذَا الْأَمْرِ إِقَامَةُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَإِنَّ ذُرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدِ اعْتَصَمُوا وَعَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ» "". «وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَحُبَ وَجْهٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ تَبْتَغِي فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا ثَقَّلَ مِيزَانَ عَبْدٍ كَدَابَّةٍ تُنْفَقُ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, set out with the people before the campaign of Tabuk, led them in the dawn prayer when morning came, and then the people mounted. When the sun rose the people grew drowsy after the night journey, and Mu'adh kept close to the Messenger, following his tracks, while the people's mounts scattered from them to the sides of the road, grazing and walking. As Mu'adh followed the Messenger with his she-camel alternately grazing and walking, the she-camel of Bilal, may Allah be pleased with him, stumbled, so Bilal jerked it with the rein and it sprang forward until it came near the she-camel of the Messenger. The Messenger then uncovered his face and looked around to find no one in the army nearer to him than Mu'adh, so he called out to him, O Mu'adh, and Mu'adh answered that he was at his service. The Messenger told him to draw nearer, so he drew near until their two mounts touched one another. The Messenger remarked that he had not imagined the people to be as far from them as they were, and Mu'adh explained that the people had grown drowsy and their mounts had scattered, grazing and walking, to which the Messenger replied that he too had grown drowsy. When Mu'adh saw the cheerfulness of the Messenger and his privacy with him, he asked permission to ask about a matter that had sickened, wearied and grieved him. The Messenger told him to ask whatever he wished, so Mu'adh asked him to tell him of a deed that would admit him into Paradise, saying he would ask about nothing else. The Messenger exclaimed thrice in approval and said he had asked about a momentous matter, yet one easy for whomever Allah intends good, repeating everything thrice out of eagerness that Mu'adh should master it. The Prophet then told him to believe in Allah and the Last Day, establish prayer, give zakat, and worship Allah alone without associating anything with Him until death upon that state, and repeated this thrice at Mu'adh's request. The Messenger then offered to tell him of the head of this affair, its pillar, and the peak of its hump, and upon Mu'adh's eager acceptance explained that its head is testifying that none has the right to be worshipped but Allah alone without partner and that Muhammad is His slave and Messenger, its pillar is establishing prayer and giving zakat, and the peak of its hump is jihad in the path of Allah. He added that he had been commanded to fight the people until they establish prayer, give zakat, and testify to the unity of Allah and the messengership of Muhammad, for when they do so they secure their blood and wealth except by its right, and their reckoning is upon Allah. The Messenger further swore by Him in Whose Hand is his soul that no face grows pale nor foot grows dusty in a deed seeking the degrees of Paradise after the obligatory prayer like jihad in the path of Allah, and that nothing weighs down the scale of a servant like a mount spent upon for him in the path of Allah or mounted in the path of Allah. > **"Ask whatever you wish. Excellent, excellent, excellent, you have asked about a momentous matter, yet it is easy for whomever Allah intends good. Believe in Allah and the Last Day, establish prayer, give zakat, and worship Allah alone without associating anything with Him until you die upon that. The head of this affair is testifying that none has the right to be worshipped but Allah alone without partner and that Muhammad is His slave and Messenger, its pillar is establishing prayer and giving zakat, and the peak of its hump is jihad in the path of Allah. By Him in Whose Hand is my soul, no face grows pale nor foot grows dusty in a deed seeking the degrees of Paradise after the obligatory prayer like jihad in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک سے پہلے نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے صبح کے وقت آپ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی لوگ روانہ ہوئے جب سورج طلوع ہونے والا تھا ، تو رات کے جاگنے کی وجہ سے لوگ اونگھنے لگے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے پیچھے چلنے لگ گئے ۔ لوگوں کی سواریاں عام راستے سے ہٹ کر ادھر اُدھر بکھر گئیں وہ سواریاں کھا بھی رہی تھیں اور چل بھی رہی تھیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے تھے ان کی اونٹنی کبھی کھا لیتی تھی کبھی چل پڑتی تھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی ‘ انہوں نے اسے لگام کے ذریعے کھینچا تو وہ تیز ہوئی ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کے قریب پہنچ گئی نبی اکرم ﷺ نے کپڑا ہٹا کے دیکھا تو لشکر کا کوئی بھی فرد آپ کے پاس موجود نہیں تھا صرف حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب تھے نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکار کر فرمایا : اے معاذ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور قریب ہو جاؤ وہ نبی اکرم ﷺ کے اور قریب ہو گئے ‘ یہاں تک کہ ان دونوں کی اونٹنیاں ایک دوسرے کے پاس ہو گئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا یہ خیال نہیں تھا کہ لوگ مجھ سے اتنی دور ہوں گے جتنے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ اونگھنے لگ پڑے تھے ‘ تو سواریاں ادھر اُدھر بکھر گئیں وہ چل بھی رہی ہیں اور چر بھی رہی ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اونگھنے لگ گیا تھا ۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے مزاج کی خوشگواری دیکھی اور نبی اکرم ﷺ کو تنہا پایا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کروں جس نے مجھے مریض کر دیا ہے بیمار کر دیا ہے غمگین کر دیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جس چیز کے بارے میں چاہو دریافت کر لو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے میں نے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھنا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بہت اچھے بہت اچھے بہت اچھے تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا ) یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے نبی اکرم ﷺ اپنی بات کو تین مرتبہ دہرا رہے تھے یہ خواہش رکھتے ہوئے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اسے اہتمام کے ساتھ محفوظ کریں پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھو تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ یہاں تک کہ جب تم مرو تو اسی عالم ‘ میں ہو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اسی بات کو دہرا دیں نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ اس بات کو دہرایا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے معاذ اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں اس معاملے کے سرے اور اس معاملے کی مضبوط چیز اور اس کی کوہان کی چوٹی کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! آپ مجھے بتائیے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس معاملے کا سرا یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اس معاملے کی چوٹی ( یعنی اہم ترین چیز ) نماز قائم کرنا زکوۃ ادا کرنا ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے تو وہ مضبوطی سے تھام لیں گے اور وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، کسی بھی چہرے کی رنگت تبدیل نہیں ہوتی اور کوئی بھی قدم کسی عمل کے حوالے سے غبار آلود نہیں ہوتا ، جس کے ذریعے تم جنت کے درجات تلاش کرنا چاہو ‘ تو فرض نماز کے بعد کوئی ایسا عمل نہیں ہے ‘ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی مانند ہو اور کوئی بھی عمل بندے کے میزان کو اس طرح وزنی نہیں کرتا جو اس جانور کی مانند ہو ‘ جس پر تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو ‘ یا جسے تم اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دے دو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

9412

Majma al-Zawaid #9412

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْإِسْلَامُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ: سُفْلَى وَعُلْيَا وَغُرْفَةٌ، فَأَمَّا السُّفْلَى فَالْإِسْلَامُ دَخَلَ فِيهِ عَامَّةُ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُسْأَلُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ: أَنَا مُسْلِمٌ. وَأَمَّا الْعُلْيَا فَتَفَاضُلُ أَعْمَالِهِمْ، بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ. وَأَمَّا الْغُرْفَةُ الْعُلْيَا فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا أَفْضَلُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْقَاسِمِ وَأَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Ubayd, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that Islam is three dwellings: a lower, an upper, and a loft. The lower is Islam itself into which the generality of Muslims enter, so that none of them is asked but says that he is a Muslim. The upper is the superiority of their deeds, some Muslims being more excellent than others. The highest loft is jihad in the path of Allah, which none attain except the most excellent of them. > **"Islam is three dwellings: a lower, an upper, and a loft. As for the lower, it is Islam into which the generality of Muslims enter, so none of them is asked but says: I am a Muslim. As for the upper, it is the superiority of their deeds, some Muslims being more excellent than others. As for the highest loft, it is jihad in the path of Allah, which none attain except the most excellent of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اسلام کے تین درجہ ہیں زیریں ‘ بالائی اور بالاخانہ جہاں تک زیریں علاقے کا تعلق ہے ‘ تو وہ اسلام ہے ‘ جس میں عام مسلمان داخل ہوتے ہیں ان میں سے جس کسی سے بھی سوال کیا جائے گا ‘ تو وہ کہے گا میں مسلمان ہوں جہاں تک بالائی درجہ کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد ان کے اعمال میں تفاضل ہے بعض مسلمان دوسروں سے فضیلت رکھتے ہیں جہاں تک بالائی بالا خانے کا تعلق ہے ‘ تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے اس مقام تک صرف ان میں سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ پہنچتے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے ابوعبدالملک کی قاسم کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوعبدالملک سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9413

Majma al-Zawaid #9413

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ذُرْوَةُ سَنَامِ الْإِسْلَامِ الْجِهَادُ لَا يَنَالُهُ إِلَّا أَفْضَلُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said that the peak of the hump of Islam is jihad, which none attain except the most excellent of them. > **"The peak of the hump of Islam is jihad, which none attain except the most excellent of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام کی کوہان کی چوٹی جہاد ہے اس تک ان میں سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہی پہنچ سکتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9414

Majma al-Zawaid #9414

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقَ زَوْجِي غَازِيًا وَكُنْتُ أَقْتَدِي بِصَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى وَبِفِعْلِهِ كُلِّهِ، فَأَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُبَلِّغُنِي عَمَلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ؟ فَقَالَ لَهَا: "" أَتَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَقُومِي وَلَا تَقْعُدِي وَتَصُومِي وَلَا تُفْطِرِي وَتَذْكُرِي اللَّهَ تَعَالَى وَلَا تَفْتُرِي حَتَّى يَرْجِعَ؟ "" قَالَتْ: مَا أُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ طِقْتِيهِ مَا بَلَغْتِ الْعُشُورَ مِنْ عَمَلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Anas, may Allah be pleased with him, reported that a woman came to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and said that her husband had gone out as a warrior while she used to follow him in his prayer when he prayed and in all his deeds, so she asked to be told of a deed that would bring her to his deed until he returned. The Prophet asked her whether she could stand without sitting, fast without breaking fast, and remember Allah without flagging until he returned. When she replied that she could not bear that, he swore by Him in Whose Hand is his soul that even if she could bear it she would not reach a tenth of his deed. > **"Can you stand without sitting, fast without breaking fast, and remember Allah, the Exalted, without flagging until he returns? By Him in Whose Hand is my soul, even if you could bear it you would not reach a tenth of his deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا شوہر جنگ میں حصہ لینے کے لئے چلا گیا ہے میں اس کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتی تھی جب وہ نماز ادا کیا کرتا تھا ‘ اور ہر کام میں اس کی اقتداء کیا کرتی تھی اب آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جو مجھے اس کے عمل تک پہنچا دے جب تک وہ واپس نہیں آتا نبی اکرم ﷺ نے اس عورت سے ارشاد فرمایا کیا تم یہ استطاعت رکھتی ہو کہ جب تک وہ واپس نہیں آتا اس وقت تک تم مسلسل نفل پڑھتی رہو بیٹھو نہیں مسلسل نفلی روزہ رکھو کوئی روزہ چھوڑو نہیں اور مسلسل اللہ کا ذکر کرتی رہو اس میں وقفہ نہ ہو اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتی ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم اس عمل کی طاقت رکھتی بھی ہوتی تو بھی تم اس کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچتی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9415

Majma al-Zawaid #9415

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعُمَرَ وَعَمَّارٍ ابْنَيْ حَفْصٍ عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ أَجْدَادِهِمْ قَالُوا: «جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ أَفْضَلَ عَمَلِ الْمُؤْمِنِينَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَ نَفْسِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أَمُوتَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا بِلَالُ وَحُرْمَتِي وَحَقِّي لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَضَعُفَتْ قُوَّتِي وَاقْتَرَبَ أَجْلِي. فَأَقَامَ بِلَالٌ مَعَهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَقَالَةِ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَى بِلَالٌ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ: فَمَنْ يَا بِلَالُ؟ قَالَ: إِلَى سَعْدٍ فَإِنَّهُ قَدْ أَذَّنَ بِقُبَاءٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ عُمَرُ الْأَذَانَ إِلَى عُقْبَةَ وَسَعْدٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَمَّارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Muhammad, Umar and Ammar the sons of Hafs reported from their fathers from their grandfathers that Bilal, may Allah be pleased with him, came to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said, O successor of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, I heard the Messenger say that the most excellent deed of the believers is jihad in the path of Allah, and that he wished to bind himself in the path of Allah until death. Abu Bakr adjured him by Allah and by his sanctity and right, saying that he had grown old, his strength had weakened, and his end had drawn near, so Bilal remained with him. When Abu Bakr died, Umar, may Allah be pleased with him, said the like to Bilal, but Bilal refused him, so Umar asked him to whom the adhan should then go. Bilal named Sa'd, for he had called the adhan at Quba in the time of the Messenger, so Umar entrusted the adhan to Uqbah and Sa'd. > **"The most excellent deed of the believers is jihad in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن محمد ‘ عمر اور عمار جو حفص کے صاحبزادے ہیں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اہل ایمان کے عمل میں سب سے زیادہ فضیلت والا عمل ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ‘‘۔ تو میں نے یہ ارادہ کیا ہے میں اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں مخصوص کر دیتا ہوں ، یہاں تک کہ میں مر جاؤں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے بلال ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر اور اپنی حرمت اور اپنے حق کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ میری عمر زیادہ ہو گئی ہے میری قوت کمزور ہو گئی ہے میری موت کا وقت قریب آ چکا ہے ) آپ مجھے چھوڑ کر نہ جائیں ) تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ٹھہرے رہے جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے بھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے وہی بات کہی جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہی تھی لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے بلال ! پھر کون ؟ ( اذان دے گا ؟ ) انہوں نے جواب دیا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں قباء میں اذان دیا کرتے تھے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اذان دینے کی ذمہ داری حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو دے دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سہل بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9416

Majma al-Zawaid #9416

وَعَنْ جِدَارٍ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِينَا عَدُوَّنَا فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ بَيْنَ أَخْضَرَ وَأَصْفَرَ وَأَحْمَرَ وَفِي الرِّحَالِ مَا فِيهَا، فَإِذَا لَقِيتُمْ عَدُوَّكُمْ فَقُدُمًا قُدُمًا، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْ إِلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَإِذَا اسْتُشْهِدَ فَإِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تَقَعُ إِلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ وَيَمْسَحَانِ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِهِ يَقُولَانِ: قَدْ أَنَى لَكَ وَيَقُولُ: قَدْ أَنَى لَكَمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ فِي فَضْلِ الشَّهَادَةِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Jidar, a man from among the Companions of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, reported that they went out on campaign with the Messenger, and when they met their enemy he stood, praised Allah and extolled Him, then addressed the people that they stood between green, yellow and red spoils and provisions in their saddle-bags, and that when they met their enemy they should advance relentlessly, for none charges in the path of Allah but two of the wide-eyed maidens of Paradise hasten to him, and when he is martyred the first drop of his blood to fall to the earth brings him Allah's expiation of every sin, while the two maidens wipe the dust from his face saying that his time has come, and he answers that their time too has come. > **"O people, when you meet your enemy, advance, advance, for none charges in the path of Allah but two of the wide-eyed maidens of Paradise hasten to him. Your time has come."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جدار رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا جب ہم دشمن کے مد مقابل آئے تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم لوگ سبز ‘ زرد اور سرخ کے درمیان ہو اور رہائشی جگہوں کے درمیان ہو جب تم دشمن کا سامنا کرو گے تو پیش قدمی کرنا ‘ کیونکہ جو شخص اللہ کی راہ میں آگے بڑھتا ہے ‘ تو حورعین سے تعلق رکھنے والی دو حوریں لپک کر اس کی طرف آتی ہیں ، جب وہ جام شہادت نوش کرتا ہے ‘ تو اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ اس کے ہر گناہ کو ختم کر دیتا ہے وہ دونوں حوریں اس شخص کے چہرے سے غبار کو پونچھتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : تمہارا وقت ہو گیا ہے ‘ تو وہ شخص یہ کہتا ہے ‘ تمہارا بھی وقت آ گیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ شہادت کی فضیلت کے بارے میں اس کی مانند ایک روایت یزید بن شجرہ سے منقول ہے ‘ جو آگے آئے گی ۔

9417

Majma al-Zawaid #9417

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَمَاتَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ أَوْ قَعَدَ فِي مَوْلِدِهِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَّثْتُ بِهَا النَّاسَ يَطَمَئِنُّوا عَلَيْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مِائَةَ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَلَوْ كَانَ عِنْدِي مَا أُنْفِقُ بِهِ وَأُقَوِّي الْمُسْلِمِينَ، أَوْ بِأَيْدِيهِمْ مَا يُنْفِقُونَ مَا انْطَلَقَتْ سَرِيَّةٌ إِلَّا كُنْتُ صَاحِبَهَا، وَلَكِنْ لَيْسَ ذَاكَ بِيَدِي وَلَا بِأَيْدِيهِمْ وَلَوْ خَرَجْتُ مَا بَقِيَ أَحَدٌ فِيهِ إِلَّا انْطَلَقَ مَعِي وَذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ وَلَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَحْيَا ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ يُوسُفَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ash'ari, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever establishes prayer, gives zakat, and dies worshipping Allah without associating anything with Him, it is binding upon Allah to admit him into Paradise, whether he emigrated or remained in his birthplace. When a man asked whether he should convey this to the people so they might rest upon it, the Messenger explained that Allah has prepared one hundred degrees for the mujahidin in His path, between every two degrees the distance between heaven and earth, and that had he the means to spend and strengthen the Muslims, or had they the means to spend, no expedition would go forth but he would accompany it, yet neither he nor they had the means. He added that were he to go forth, none capable would remain behind but would go with him, which would be hard upon him and upon them, and that he wished to fight and be killed, then be brought to life, then fight and be killed, then be brought to life and be killed. > **"Whoever establishes prayer, gives zakat, and dies worshipping Allah without associating anything with Him, it is binding upon Allah to admit him into Paradise, whether he emigrated or remained in his birthplace. Indeed Allah has prepared one hundred degrees for the mujahidin in His path, between every two degrees as between heaven and earth. I wish to fight and be killed, then be brought to life, then fight and be killed, then be brought to life and be killed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے اور ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے ‘ خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا اپنی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہا ہو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں نے لوگوں کو یہ بات بیان کر دی تو وہ اسی بات پر مطمئن ہو جائیں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے لوگوں کے لئے ایک سو درجات بنائے ہیں جن میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے اگر میرے پاس وہ چیز ہو جسے میں خرچ کر سکوں اور مسلمانوں کو قوت دے سکوں یا ان لوگوں کے پاس وہ چیز ہو جسے وہ خرچ کر سکیں ، تو جو بھی جنگی مہم جائے میں اس میں ضرور شریک ہوں لیکن نہ میرے پاس اس کی گنجائش ہے نہ لوگوں کے پاس اس کی گنجائش ہے اگر میں نکل کھڑا ہوتا ہوں ، تو ان میں سے ہر ایک شخص میرے ساتھ نکلے گا ‘ اور یہ بات میرے لئے بھی مشکل کا باعث ہو گی اور ان کے لئے بھی مشکل کا باعث ہو گی میری یہ خواہش ہے کہ میں جنگ میں حصہ لوں اور پھر مجھے قتل کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر میں جنگ میں حصہ لوں پھر مجھے قتل کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر قتل کر دیا جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن یوسف ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9418

Majma al-Zawaid #9418

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ نَهَارَهُ، وَالْقَائِمِ لَيْلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ مَتَى يَرْجِعُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nu'man ibn Bashir, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that the example of the mujahid in the path of Allah is that of the one fasting by day and standing in prayer by night until the warrior returns, whenever he returns. > **"The example of the mujahid in the path of Allah is like that of the fasting person by day and the standing person by night until he returns, whenever he returns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال دن کے وقت روزہ رکھنے اور رات کے وقت نوافل پڑھنے والے شخص کی مانند ہے جب تک وہ ( مجاہد ) واپس نہیں آ جاتا خواہ وہ جب بھی واپس آئے “۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9419

Majma al-Zawaid #9419

وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ - رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُ الصَّائِمِ الْقَانِتِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hind, a man from among the Companions of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that the example of the mujahid in the path of Allah is that of the fasting and devout worshipper who does not flag in fasting, prayer or charity. > **"The example of the mujahid in the path of Allah is like that of the fasting and devout worshipper who does not flag in fasting, prayer or charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہند رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مثال اس روزہ دار کی مانند ہے ‘ جو نوافل پڑھتا ہے اور اپنے روزے اور نماز اور صدقے میں کوئی وقفہ نہیں کرتا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9420

Majma al-Zawaid #9420

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ النَّارَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Abasah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said that whoever fights in the path of Allah even for the time between two milkings of a she-camel, Allah forbids the Fire for his face. > **"Whoever fights in the path of Allah even for the time of milking a she-camel, Allah forbids the Fire for his face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہنے جتنے وقت کے لئے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9421

Majma al-Zawaid #9421

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مُكَاتَبًا لَهَا دَخَلَ عَلَيْهَا بِبَقِيَّةِ مُكَاتَبَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ: مَا أَنْتَ بِدَاخِلٍ عَلَيَّ غَيْرَ مَرَّتِكَ هَذِهِ، فَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: ""مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ رَهَجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah, may Allah be pleased with her, reported that a mukatab slave of hers came to her with the remainder of his contract sum, whereupon she told him that he would not enter upon her after this occasion and urged him to jihad in the path of Allah, for she had heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that no dust in the path of Allah mixes with the heart of a Muslim man but Allah forbids him to the Fire. > **"No dust in the path of Allah mixes with the heart of a Muslim man but Allah forbids him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ ان کا مکاتب غلام کتابت کی بقیہ رقم لے کر ان کے پاس آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا : اب اس مرتبہ کے بعد تم میرے ہاں نہیں آ سکو گے تم پر لازم ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جس بھی مسلمان کے دل میں اللہ کی راہ میں غبار آ جاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9422

Majma al-Zawaid #9422

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا رَجَفَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ عِذْقُ النَّخْلَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that when the heart of the believer trembles in the path of Allah, his sins fall away from him as the date-clusters of the palm fall. > **"When the heart of the believer trembles in the path of Allah, his sins fall away from him as the date-clusters of the palm fall."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب اللہ کی راہ میں مومن کا دل خوف کا شکار ہوتا ہے ، تو اس شخص کے گناہ یوں جھڑتے ہیں ‘ جس طرح کھجور کی شاخیں جھڑتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9423

Majma al-Zawaid #9423

وَعَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ «أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا هَلَكَ، فَصَلِّ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ فَاجِرٌ فَلَا تُصَلِّ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ اللَّيْلَةَ الَّتِي صَبَّحْتَ فِيهَا فِي الْحَرَسِ فَإِنَّهُ كَانَ فِيهِمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ تَبِعَهُ حَتَّى جَاءَ قَبْرَهُ فَقَعَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُ حَثَا عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ قَالَ: ""تُثْنِي عَلَيْكَ النَّاسُ سُوءًا وَأُثْنِي عَلَيْكَ خَيْرًا"". فَقَالَ عُمَرُ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعْنَا مِنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ ثَعْلَبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Mundhir, may Allah be pleased with him, reported that a man came to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and said that a certain man had died and asked him to pray over him, whereupon Umar, may Allah be pleased with him, objected that the man was dissolute and should not be prayed over. The man then asked the Messenger whether he had not seen the night in which he had entered the morning while on guard, for the deceased had been among the guards. The Messenger then stood, prayed over him, followed him to his grave, sat until the burial was finished, threw three handfuls of earth upon him, and said that people praised evil of him while he praised good of him. When Umar asked the reason, the Prophet told him to leave that aside, O son of al-Khattab, for whoever strives in the path of Allah has Paradise made obligatory for him. > **"People praise evil of you and I praise good of you. Leave us aside, O son of al-Khattab, whoever strives in the path of Allah, Paradise has become obligatory for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ فاجر شخص تھا آپ اس کی نماز جنازہ ادا نہ کریں اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس شخص کو ‘ اس رات کو ملاحظہ نہیں فرمایا تھا ‘ جس میں آپ نے حفاظت کرتے ہوئے صبح کی تھی تو حفاظت کرنے والوں میں وہ فرد بھی شامل تھا ( یعنی جب پہرا دینے کی ضرورت پیش آئی تھی تو وہ بھی پہریداروں میں سے ایک تھا ) نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ میت کے ساتھ گئے ‘ یہاں تک کہ اس کی قبر کے پاس تشریف لائے آپ وہاں تشریف فرما ہوئے جب اسے دفن کر دیا گیا تو آپ نے اس پر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے مٹی ڈالی اور پھر ارشاد فرمایا : لوگ تمہارے بارے میں بری تعریف کرتے ہیں میں تمہاری بھلائی کے ساتھ تعریف کرتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تم ہمیں رہنے دو ! جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ثعلب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9424

Majma al-Zawaid #9424

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا خَرَجَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ جُعِلَتْ ذُنُوبُهُ جِسْرًا عَلَى بَابِ بَيْتِهِ فَإِذَا خَلَّفَهُ خَلَّفَ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا فَلَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ مِنْهَا مِثْلُ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ، وَتَكَفَّلَ اللَّهُ لَهُ بِأَرْبَعٍ؛ بِأَنْ يَخْلُفَهُ فِيمَا يُخْلِفُ مِنْ أَهْلٍ وَمَالٍ، وَأَيُّ مِيتَةٍ مَاتَ بِهَا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ، وَأَيُّ رِدَّةٍ رَدَّهُ رَدَّهُ سَالِمًا بِمَا نَالَهُ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَلَا تَغْرُبُ شَمْسٌ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say that when the warrior goes out in the path of Allah his sins are made a bridge upon the door of his house, so that when he leaves it behind he leaves all his sins behind with not even a gnat's wing of them remaining upon him. Allah guarantees him four things: to guard what he leaves behind of family and wealth, to admit him into Paradise by whatever death he dies, to return him safely with whatever reward or spoils he attains by whatever return he returns, and that no sun sets but it sets with his sins. > **"When the warrior goes out in the path of Allah, his sins are made a bridge upon the door of his house, so when he leaves it behind he leaves all his sins behind with not even a gnat's wing of them remaining upon him. Allah guarantees him four things: to guard what he leaves behind of family and wealth, to admit him into Paradise by whatever death he dies, to return him safely with whatever reward or spoils he attains, and that no sun sets but it sets with his sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب اللہ کی راہ میں غازی نکلتا ہے ‘ تو اس کے گناہوں کو اس کے گھر کے دروازے پر رکھ دیا جاتا ہے جب وہ دروازہ چھوڑ کر آگے جاتا ہے ‘ تو وہ اپنے تمام گناہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور ان گناہوں میں سے مکھی کے پر جتنا کوئی گناہ بھی باقی نہیں رہتا اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے چار چیزوں کا کفیل بن جاتا ہے ایک یہ کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مال میں سے جو کچھ چھوڑ کے جا رہا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نگہبانی کرے گا ‘ اور وہ شخص جس حالت میں بھی مرا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ‘ اور وہ شخص جس بھی حالت میں واپس آیا ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے سلامتی کے ساتھ واپس لائے گا ‘ اور اسے اجر بھی حاصل ہو گا ‘ اور غنیمت بھی حاصل ہو گی ، اور جب سورج غروب ہوتا ‘ تو اس کے گناہوں سمیت غروب ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9425

Majma al-Zawaid #9425

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَخْرُجُ اللَّيْلَةَ أَوْ نَمْكُثُ حَتَّى نُصْبِحَ؟ قَالَ: "" أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَبِيتُوا فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: ضَعِيفٌ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ ordered a detachment to set out, and the men asked whether to leave that night or wait till morning. > **"Do you not love to spend the night in the harvest of Paradise?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم کی روانگی کا حکم دیا ‘ تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم رات کے وقت نکل جائیں یا ظہر جائیں ، یہاں تک کہ صبح نکلیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم جنت میں میرے چنتے ہوئے رات بسر کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ بھی ہے ۔

9426

Majma al-Zawaid #9426

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - "". ثُمَّ قَالَ بِأَصَابِعِهِ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ - الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ - فَجَمَعَهُنَّ وَقَالَ: "" وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ؟ فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، أَوْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ وَقْعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، أَوْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - "". وَاللَّهِ إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ قُتِلَ فَقَضَى فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْمَآبَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Atik, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger ﷺ speak about one who leaves his house as a warrior in the path of Allah Almighty. The Prophet ﷺ joined his three fingers, the middle, the index, and the thumb, and asked where the warriors are. > **"If he falls from his mount and dies, his reward is binding upon Allah. If a creature stings him and he dies, his reward is binding upon Allah. If he dies a natural death, his reward is binding upon Allah Almighty. By Allah, it is a phrase I never heard from any Arab before the Messenger ﷺ. If he dies, his reward is binding upon Allah, and if he is killed and fulfills his duty, he has earned the best return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی تین انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا درمیانی انگلی شہادت کی انگلی اور انگوٹھا ‘ آپ نے انہیں اکٹھا کیا اور فرمایا : جہاد کرنے والے لوگ کہاں ہیں ( پھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا : ) ’’ اگر وہ شخص اپنی سواری سے گر کے مر جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے اگر کوئی جانور اسے ڈنک مار لے اور وہ مر جائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے اگر وہ طبعی موت مر جائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ کلمہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے عربوں میں سے کسی کی زبانی نہیں سنا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اگر وہ شخص مر جائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے اور جو شخص شہید ہو اور وہ اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دے تو وہ اس چیز کو واجب کروا لیتا ہے ‘ جو ( بہتر ) انجام ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ جو مدلس ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9427

Majma al-Zawaid #9427

وَعَنْ مُعَاذٍ - يَعْنِي ابْنَ جَبَلٍ - قَالَ: «عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: مَنْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيزَهُ وَتَوْقِيرَهُ، أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَسَلِمَ وَسَلِمَ النَّاسُ مِنْهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ entrusted them with five deeds, any one of which brings the guarantee of Allah Almighty. > **"Whoever visits a sick person, or accompanies a funeral, or goes out as a warrior in the path of Allah, or enters upon a ruler intending to support and honor him, or sits in his house remaining safe while people remain safe from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے پانچ چیزوں کے بارے میں عہد لیا تھا کہ جو شخص ان میں سے کوئی ایک کام بھی کرے گا ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا جو شخص بیمار کی عیادت کرے یا جنازے کے ساتھ جائے یا اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے یا کسی حکمران کے پاس جائے اور اس کا مقصد اس کی مدد کرنا اور اس کی تعظیم کرنا ہو یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور سلامت رہے اور لوگ اس کے حوالے سے سلامت رہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9428

Majma al-Zawaid #9428

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا يَأْتِي عَلَى الْحَيِّ فَيُحَدِّثُهُمْ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِضَاعَتَنَا ثُمَّ قُلْتُ: لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا قَالَ: "" إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزَةً وَصِيصَتَهَا الَّتِي تَنْسِجُ بِهَا "". قَالَ: "" فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِهَا وَصِيصَتَهَا قَالَتْ: يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِي وَصِيصَتِي وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصَتِي"". قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ لَهُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصَتُهَا وَمِثْلُهَا وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ "". قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أُصَدِّقُكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Humayd ibn Hilal reported from a man of Tufawah who used to pass by their tribe and narrate. The man came to Madinah with a caravan, sold his goods, then came to the Messenger ﷺ, who showed him a house and described a woman who had gone out with a Muslim detachment, leaving twelve goats and her weaving tool behind. > **"She missed one of her goats and her tool, so she said, My Lord, You have guaranteed to guard one who goes out in Your path, yet I have lost a goat and my tool, so I adjure You by my goat and my tool. In the morning she found her goat and another like it with it, and her tool and another like it with it. Go to her and ask her if you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : طفادہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا راستہ ہمارے پاس سے گزرتا تھا وہ قبیلے میں تشریف لا کر ان لوگوں کو حدیث بیان کیا کرتے تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ایک قافلے کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ہم لوگوں نے اپنا سامان فروخت کر دیا پھر میں نے سوچا کہ مجھے ان صاحب کے پاس جانا چاہیے میں ان کے پاس جا کر ان کے حالات معلوم کرتا ہوں وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا : اس گھر میں ایک عورت ہوتی تھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک جنگی مہم کے لئے نکلی اس نے اپنے پیچھے بارہ بکریاں چھوڑیں اور اپنا کپڑا بننے کا آلہ چھوڑا ‘ جس کے ذریعے وہ بنتی تھی ‘ ( جب وہ واپس آئی ) تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو غیر موجود پایا ‘ اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کو غیر موجود پایا ‘ تو عرض کی : اے میرے پروردگار ! جو تیری راہ میں نکلتا ہے ‘ تو نے اسے یہ ضمانت دی ہے کہ تو اس کی حفاظت کرتا ہے ‘ تو میں نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کو غیر موجود پایا ہے ‘ تو میں اپنی بکری اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کے بارے میں تجھے واسطہ دیتی ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کی شدت کا ذکر کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو اس کے پاس ایک بکری اور اس کی مانند ایک مزید بکری بھی اور ایک کپڑا بننے کا آلہ اور اس کی مانند ایک مزید آلہ بھی تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس عورت کے پاس جا کر اُس سے اس بارے میں دریافت کر سکتے ہو ‘ اگر تم چاہو ‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے عرض کی : بلکہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9429

Majma al-Zawaid #9429

وَعَنْ عَائِشَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" خِصَالٌ سِتٌّ مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَفَى وَاحِدَةً مِنْهُنَّ إِلَّا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ: رَجُلٌ خَرَجَ مُجَاهِدًا فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَبِعَ جَنَازَةً فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَسْجِدٍ لِصَلَاةٍ فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَرَجُلٌ فِي بَيْتِهِ لَا يَغْتَابُ الْمُسْلِمِينَ وَلَا يَجُرُّ إِلَيْهِمْ سَخَطًا وَلَا نِقْمَةً فَإِنْ مَاتَ فِي وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported from the Prophet ﷺ about six traits, any one of which faithfully kept makes Allah guarantee Paradise for a Muslim. > **"A man who goes out as a warrior and dies on his way has guarantee from Allah. A man who follows a funeral and dies on his way has guarantee from Allah. A man who performs ablution well then goes to a mosque for prayer and dies on his way has guarantee from Allah. And a man in his house who does not backbite Muslims nor bring anger or vengeance upon them, and dies in that state, has guarantee from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ چھ کام ہیں ، جو بھی مسلمان ان میں سے جو بھی پورا کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے وہ شخص جو جہاد کرنے کے لئے نکلے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا وہ شخص جو جنازے کے ساتھ جائے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا وہ شخص جو وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کی طرف چل کے جائے اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا ‘ اور وہ شخص جو اپنے گھر میں رہے اور مسلمانوں کی غیبت نہ کرے اور ان کی طرف ناراضگی نہ لے کر جائے اور ان کی طرف انتقام نہ لے کر جائے اور اگر وہ اس دوران مر جاتا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

9430

Majma al-Zawaid #9430

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا حُرِمَ أَحَدُكُمُ الزَّوْجَةَ وَالْوَلَدَ فَعَلَيْهِ بِالْجِهَادِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Hatib, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ addressed one deprived of family comfort. > **"When one of you is deprived of wife and child, then jihad is binding upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص بیوی اور اولاد سے محروم ہو ‘ تو اس پر جہاد کرنا لازم ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حاطب ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9431

Majma al-Zawaid #9431

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةً، وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَهْبَانِيَّةٌ وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ» "". وَفِيهِ زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ described the spiritual devotion of nations, with another wording mentioning every Prophet. > **"Every nation has a monasticism, and the monasticism of this nation is jihad in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر امت کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور اس امت کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام احمد نے بھی نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ہر نبی کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زید العمی ہے جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9432

Majma al-Zawaid #9432

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ سِيَاحَةً وَإِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتَيِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ رَهْبَانِيَّةً، وَرَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي الرِّبَاطُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger ﷺ described the travel and devotion of his nation. > **"Every nation has a journey, and the journey of my nation is jihad in the path of Allah. Every nation has a monasticism, and the monasticism of my nation is guarding in the face of the enemy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر امت کی مخصوص سیاحت ہوتی ہے اور میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ہر امت کی مخصوص رہبانیت ہوتی ہے اور میری امت کی رہبانیت دشمن کے مدمقابل پہرا دینا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9433

Majma al-Zawaid #9433

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ صِفِّينَ: الْجَنَّةُ تَحْتَ الْآبَارِ، قِفُوا الظَّمْآنَ يَرِدِ الْمَاءُ مَوَارِدَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ammar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, said this on the day of Siffin to encourage steadfastness, comparing the thirsty standing firm until water reaches its watering places to the nearness of Paradise beneath the struggle.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے جنگ صفین کے دن انہوں نے ارشاد فرمایا : جنت کنووں کے نیچے ہے تم لوگ پیاسے کھڑے رہو ! پانی اپنے گھاٹ تک پہنچ جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9434

Majma al-Zawaid #9434

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمُ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ"". ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ""وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ لَا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Salam, may Allah be pleased with him, reported that while traveling with the Messenger ﷺ they heard people asking which deeds are best, and then they heard a caller in the valley pronouncing the testimony of faith. > **"Faith in Allah and His Messenger, jihad in the path of Allah, and an accepted Hajj. And I too bear witness, and I bear witness that no one testifies to it except that he is freed from polytheism."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ۔ آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ‘ جو یہ کہہ رہے تھے یا رسول اللہ ! اعمال میں کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج پھر آپ نے نشیبی حصے میں ایک آواز سنی وہ شخص یہ کہہ رہا تھا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس ( بات ) کی گواہی دے گا وہ شرک سے لا تعلق ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔